38: آپﷺ ایسے تھے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا گیا کہ نبی اکرمﷺ کا برتاؤ اپنے ساتھیوں کے ساتھ کیسا تھا؟ انہوں نے جواب دیا کہ۔۔۔۔۔۔ آپﷺ * ہر ایک سے مسکراتے ہوئے ملتے تھے۔ * بہت نرم مزاج تھے اور طبیعت میں سختی نہ تھی۔ * سہولت آسانی کو پسند فرماتے […]

36: آپﷺ کو تلاوت کا بہت شوق تھا رسول اللہﷺ نے قرآن شریف پڑھنے کا جو وقت مقرر کر رکھا تھا اس کے علاوہ بھی ہر وقت آپ کی زبانِ مبارک تلاوتِ قرآن سے تر رہتی تھی۔ اٹھتے بیٹھتے، چلتے پھرتے، غرض ہر حال میں آپﷺ تلاوت فرماتے رہتے۔ آپ بڑی پیاری آواز میں تلاوت

36: آپﷺ کو تلاوت کا بہت شوق تھاRead More »

34: آپﷺ غیر مسلموں کی بھی عیادت کرتے صرف مسلمانوں کے ساتھ ہی آپﷺ کا یہ طرز عمل نہ تھا بلکہ غیر مسلم اور دشمنوں کے ساتھ بھی آپﷺ کا ایسا ہی برتاؤ تھا۔ آپ نے پڑھا ہو گا کہ جس راستہ سے حضور اکرمﷺ کا گزر ہوتا تھا وہیں پر ایک یہودی کا گھر

35: آپﷺ بہت عبادت گزار تھےRead More »

32: آپﷺ معاف کر دیا کرتے تھے رسول اللہﷺ کی صفات حمیدہ میں سے ایک نمایاں صفت صبر کرنا اور معاف کر دینا بھی ہے۔ آپﷺ نے ہمیشہ عفو و درگزر سے کام لیا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ “آنحضرتﷺ نے کبھی کسی سے اپنے ذاتی معاملے میں بدلہ نہیں لیا۔” قریش

33: آپﷺ بیماروں کی عیادت کرتے تھےRead More »

انتہائی نرم دل اور رحم دل ہونے کے باوجود نبی اکرمﷺ بہت ہی نڈر اور بہادر تھے۔ اللہ کے ڈر کے سوا اور کسی کا خوف آپﷺ کے دل میں نہ تھا۔ انتہائی بے خوفی کے ساتھ آپ مقابلے کے لیے نکل آتے تھے۔ ایک مرتبہ رات کے وقت مدینہ منورہ میں کچھ شور ہوا۔

31: آپﷺ بڑے بہادر تھےRead More »

29: آپﷺ برابری کا برتاؤ کرتے رسولﷺ کی نظر میں امیر غریب، چھوٹے اور بڑے، غلام اور آقا سب برابر تھے۔ آپﷺ سب کے ساتھ برابر کا سلوک کیا کرتے تھے۔ آپ جب صحابہ کے ساتھ بیٹھے ہوتے اور کوئی چیز وہاں لائی جاتی تو بغیر کسی امتیاز کے دائیں، طرف سے اس کو بانٹنا

29: آپﷺ برابری کا برتاؤ کرتے30: آپﷺ ایثار کے عادی تھےRead More »

رسول اللہﷺ مہمانوں کا بہت خیال کرتے تھے اس کام کے لیے آپﷺ نے حضرت بلال (رضی اللہ عنہ) کو خاص طور پر مقرر فرمایا تھا تاکہ مہمان کی خاطر تواضع ٹھیک سے ہو سکے۔ باہر سے جو وفد آتے آپﷺ خود ان کی خاطر مدارات فرماتے تھے۔ اگر ان کو کوئی مالی ضرورت ہوتی

آپﷺ بہت مہمان نواز تھےRead More »

انسان میں جب کوئی خاص صفت یا کمال پیدا ہو جاتا ہے تو قدرتی طور پر وہ اترانے لگتا ہے۔ یہ کوئی بری عادت نہیں ہے بلکہ اِسی کو فخر کرنا کہتے ہیں لیکن جب وہ دوسرے لوگوں کو جن میں یہ صفت یا کمال نہیں ہوتا، اپنے سے ذلیل یا کم درجہ کا سمجھنے

26: آپﷺ کو غرور پسند نہ تھاRead More »

رسول اللہﷺ کبھی سر اٹھا کر مغرورانہ انداز میں نہیں چلتے تھے، آپ ہمیشہ نظریں نیچی رکھتے تھے۔ جب دوسروں کے ساتھ چلتے تو خود پیچھے چلتے اور دوسروں کو آگے کر دیتے۔ آپﷺ بڑے خاکساری کے ساتھ بیٹھتے، کھانا کھاتے وقت غلاموں کی طرح بیٹھتے۔ آپﷺ فرمایا کرتے تھے “میں اللہ کا فرمانبردار بندہ

25: آپﷺ بہت انکسار پسند تھےRead More »

نبی اکرمﷺ سخاوت کے دریا تھے۔ سوال کرنے والے کو خالی ہاتھ واپس کرنا آپﷺ جانتے ہی نہ تھے۔ اگر اس وقت آپﷺ کے پاس کچھ نہ ہوتا تو آئندہ اُسے دینے کا وعدہ فرما لیتے۔ ایک روز عصر کی نماز پڑھ کر معمول کے خلاف آپﷺ گھر کے اندر تشریف لے گئے اور پھر

24: آپﷺ بہت سخی تھےRead More »

رسول اللہﷺ کی امانت داری اور معاملات کی صفائی کا ذکر بیان سے باہر ہے یہ اوصاف آپﷺ کی ذاتِ مبارک میں اس طرح نمایاں تھے کہ آپﷺ کے دشمن بھی ان کا انکار نہ کر سکے۔ یہی وجہ ہے کہ “صادق” اور “امین” کے لقب آپ کو اہلِ خاندان نے نہیں، دوستوں نے نیںج

23: آپﷺ معاملے کے کھرے تھےRead More »

دوسروں کے آڑے وقت میں کام آنا، ان کی مدد کرنے کے لئے تیار رہنا، یہ پیارے نبیﷺ کی ایک صفت تھی، آپﷺ خدمت خلق کے پیکر تھے۔ ایک مرتبہ حضرتِ خباب بن ارت(رضی اللہ عنہ) کسی جنگی مہم پر گئے ہوئے تھے۔ ان کے گھر میں کوئی اور مرد نہ تھا۔ عورتوں کو دودھ

22: آپﷺ دوسروں کے کام آتے تھےRead More »