پاکستان ترکی نہیں جناب

پاکستان ترکی نہیں جناب
جاوید چوہدری  جمعرات 21 جولائ 2016

طیب اردگان نے 2010ء میں فوج کا احتساب شروع کر دیا،  ترک تاریخ کا بدترین مارشل لاء 1980ء میں لگا تھا، یہ مارشل لاء جرنیلوں کے ایک گروپ نے سلیمان ڈیمرل کی حکومت کے خلاف لگایا تھا، فوج نے ملک بھر سے 5 لاکھ سرکاری اہلکاروں، سیاستدانوں اور تاجروں کو گرفتار کر لیااور انھیں خوفناک تشدد کا نشانہ بھی بنایا اور ان میں سے بے شمار لوگوں کو جعلی عدالتوں میں جعلی مقدمے قائم کر کے سزائے موت بھی دی، ترکی میں 2010ء تک ایسے لاتعداد خاندان اور لوگ موجود تھے جنھیں فوج نے30 سال قبل آمریت کی چکی میں پیساتھا، اردگان نے ان لوگوں کو انصاف دینے کا بیڑا اٹھایا،حکومت نے ملک کے تین ریٹائر جرنیلوں سمیت 300 اعلیٰ فوجی افسروں کو عدالتوں میں پیش کیا ، عدالتوں نے انھیں سزائیں سنا ئیں، یہ افسر اس وقت زندگی کے 80 سال گزار چکے تھے، عوام نے اس ٹرائل پر تالیاں بجائیں، اردگان کی مقبولیت میں اضافہ ہوا، اردگان نے اس مقبولیت کا فائدہ 2011ء کے الیکشنوں میں اٹھایا،ترکی میں جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی نے 50 فیصد ووٹ حاصل کر کے نیا ریکارڈ قائم کر دیا اور یہاں سے ایک نئے طیب اردگان نے جنم لیا۔
آپ یہ یاد رکھئے مقبولیت ایک ایسا مرض ہے جس سے تمام انسان متاثر ہوتے ہیں، یہ مرض صرف اللہ تعالیٰ کے نبیوں اورولیوں کو نقصان نہیں پہنچا تا باقی تمام انسان کبھی نہ کبھی، کسی نہ کسی طرح مقبولیت کے جراثیم کا شکار ضرور ہوتے ہیں، طیب اردگان بھی خود کو مقبولیت، اقتدار اور دولت کی ہوس سے نہ بچا سکے، یہ2011ء کے بعد تیزی سے امیر ہونے لگے اور دیکھتے ہی دیکھتے قاسم پاشا کا وہ نوجوان جس کا بچپن ٹافیاں بیچتے گزرا تھا اور جس نے زندگی کا طویل عرصہ عسرت میں گزارا تھا وہ ترکی کے رؤساء میں شمار ہونے لگا، اردگان کے پورے خاندان نے دولت کے سمندر میں چھلانگ لگا دی، یہ کمپنیاں بنانے لگے اور کمپنیاں دن دگنی اور رات چوگنی ترقی کرنے لگیں، اردگان کا بیٹا بلال اٹلی میں منی لانڈرنگ اور کرپشن کے الزامات کی زد میں آ گیا، اردگان کی خفیہ ٹیپس بھی سامنے آگئیں، یہ ٹیپس میں اپنے بیٹے کو پیسے ٹھکانے لگانے کا مشورہ دے رہے تھے۔
اردگان نے انقرہ میں1150 کمروں کا محل بھی بنالیا، یہ آج کے وقت میں دنیا کا سب سے بڑا محل ہے، اس کی مالیت 615 ملین ڈالر ہے، اردگان پر کمیشن اور کک بیکس کے الزامات بھی لگ گئے اور ان کے برادر نسبتی کا نام بھی میڈیا میں آنے لگا، یہ بھی نصف درجن کمپنیوں کے مالک ہیں، پاکستان میں میٹرو بس کا ٹھیکہ ان کی کمپنی کے پاس ہے، ترکی میں میڈیا آزاد تھا، میڈیا نے یہ اسٹوریاں دینا شروع کر دیں، اردگان میڈیا سے ناراض ہو گئے، میڈیا کے پیچھے بڑے بزنس گروپس تھے، یہ گروپس فتح اللہ گولن سے متاثر ہیں، گولن اور ترک بزنس مین دونوں2011ء تک طیب اردگان کے حامی تھے، اردگان کی ناراضگی بزنس مینوں اور فتح اللہ گولن کو ان سے دور لے گئی، اردگان نے دسمبر 2014ء میں ترکی کے بڑے اخبار ڈیلی زمان کے ایڈیٹر انچیفEkrem Dumanli اورنومبر2015ء میں دوسرے بڑے اخبار کمہوریت کے ایڈیٹر انچیف Erdem Gul کو گرفتار کرلیا،اردگان حکومت نے ستمبر اوراکتوبر 2015ء میں دو بڑے میڈیا گروپس ڈوگن اور کوزا ایپک پربھی ریڈ کیا ،پولیس نقاد صحافیوں کو اٹھا کر لے گئی اور حکومت نے کاروباری گروپوں کے خلاف بھی کریک ڈاؤن شروع کر دیا، حکومت کی ان حرکتوں نے ملک میں انتشار پیدا کر دیا، اردگان استنبول کے غازی پارک کی جگہ ایک شاپنگ مال تعمیر کرنا چاہتے تھے۔
لوگوں نے ان کا یہ منصوبہ مسترد کر دیا، 28مئی2013ء کو تقسیم اسکوائر میں احتجاج شروع ہوا، یہ احتجاج دھرنے میں تبدیل ہو گیا، پولیس نے مظاہرین پر گولیاں چلادیں جس کے نتیجے میں 11 لوگ ہلاک اور 8 ہزار سے زائد لوگ زخمی ہوگئے، حکومت نے اس دوران سوشل میڈیا اور میڈیا دونوں پر پابندی لگا دی، اردگان نے اس سے قبل 2011ء میں فوج کو مزید ٹائیٹ کرنے کے لیے آئینی اصلاحات بھی شروع کر دیں، فوج نے اعتراض کیا تو حکومت نے 17 ہائی رینک جرنیلوں سمیت 300 سے زائد افسر گرفتار کر لیے تھے، جواب میں تینوں افواج کے سربراہوں نے استعفیٰ دے دیا، یہ دنیا کی تاریخ کا انوکھا واقعہ تھا جس میں کسی ملک کی تینوں افواج کے سربراہ بیک وقت مستعفی ہو گئے ہوں چنانچہ فوج بھی اردگان سے ناراض تھی۔
طیب اردگان ملک میں صدارتی نظام نافذ کرنے میں بھی مصروف ہو گئے، اردگان نے ہمسایوں اور بین الاقوامی طاقتوں کے ساتھ بھی چھیڑ چھاڑ شروع کر دی، یہ شام کے صدر بشار الاسد کو دھمکانے لگے جس کے بعد ترکی اور شام کی سرحدی جھڑپیں شروع ہوگئیں، یہ داعش کو رقم، ٹریننگ اور علاج کی سہولتیں بھی دینے لگے، یہ اسرائیل سے بھی بھڑ گئے، یہ ایران کے ساتھ بھی الجھ پڑے، انھوں نے روس کا فوجی طیارہ بھی مار گرایا اور یہ بین الاقوامی فورمز پر بھی غیر محتاط بیانات دینے لگے، مثلاً طیب اردگان نے کہا ’’مسلمانوں نے کولمبس سے پہلے امریکا دریافت کیا تھا‘‘ مثلاً فیملی پلاننگ اسلام میں جائز نہیں، آپ زیادہ سے زیادہ بچے پیدا کریں‘‘ اور مثلاً مسجدیں ہماری بیرکیں ہیں، گنبد ہمارے ہیلمٹ ہیں اور مینار ہماری تلواریں‘‘ یہ بیانات غلط نہیں ہیں لیکن یہ کسی سربراہ حکومت کے منہ سے اچھے نہیں لگتے، فتح اللہ گولن اعتدال پسند دانشور ہیں، یہ شدت اور کرپشن کے خلاف ہیں، یہ میانہ روی اور توازن کے قائل ہیں، یہ اردگان کی ان حرکتوں سے برگشتہ ہوئے اور ان کی برگشتگی ان کے لاکھوں چاہنے والوں کو اردگان سے دور لے گئی، گولن کے مرید محکمہ تعلیم سے لے کر صحت، پولیس، عدلیہ اور فوج تک میں موجود ہیں، یہ لوگ کاروبار اور صنعت کے شعبوں میں بھی ہیں، یہ تمام ناراضگیاں، اردگان کے سکینڈل، ان کی سیاسی اور سفارتی چھیڑ چھاڑ اور ان کے غیر محتاط بیانات بارود بنے، یہ بارود پھٹا اور اس کے دھوئیں سے 15 جولائی 2016ء کی شام نے جنم لے لیا۔
ہمارے ملک کے دیوانے عبداللہ اس وقت ترک جمہوریت کی فتح کا جشن منا رہے ہیں، ہمارے سیاستدان طیب اردگان کی کامیابی کو اپنی کامیابی اور ترکش فوج کی ناکامی کو پاکستان میں مارشل لاء کے حامیوں کی ناکامی سمجھ رہے ہیں، ہمارے تجزیہ کار ترک فوج کی ناکامی کو میاں نواز شریف کی خوش قسمتی بھی قرار دے رہے ہیں، یہ سمجھتے ہیں میاں نواز شریف خوش نصیب انسان ہیں اور اللہ تعالیٰ نے انھیں ترکی سے نیک شگون بھیجے ہیں لیکن میں افسردہ ہوں، کیوں؟ کیونکہ دنیا میں طویل عرصے بعد ایک مسلمان ملک ابھرا تھا، ایک ایسا مسلمان ملک جس میں فوج، جمہوریت اور معیشت تینوں مضبوط تھیں، ہم جیسے ملک اس کی پیروی کر رہے تھے، ترکی سے قبل دنیا کے ماہرین کا خیال تھا ہم مسلمان جب بھی اسلام کو فوج، جمہوریت اور معیشت کے ساتھ چلانے کی کوشش کرتے ہیں ، ہم بری طرح ناکام ہو جاتے ہیں، یہ کہتے تھے مصر، شام، ایران اور پاکستان میں فوج مضبوط ہے مگر وہاں جمہوریت اورمعیشت کی حالت ٹھیک نہیں، ملائشیا میں جمہوریت اور معیشت ہے لیکن وہاں فوج نہیں اور متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب میں خوش حالی ہے مگر ان کے پاس جمہوریت اور فوج دونوں نہیں ہیں، ہم یہ تبصرے پڑھ کر خاموش ہو جاتے تھے۔
تاریخ میں طویل عرصے بعد ترکی ایک ایسا اسلامی ملک بن کر ابھرا جس میں معیشت بھی تھی، جمہوریت بھی اور مضبوط فوج بھی لیکن بدقسمتی کے ایک جھٹکے نے ایک ہی رات میں ان تینوں کا شیرازہ بکھیر دیا، ہم جس انقلاب کو عوامی جمہوری انقلاب کہہ رہے ہیں، آپ غور کیجیے اس نے کیا کیا؟ اس نے باسفورس کے پل پر دنیا کی سب سے بڑی اسلامی فوج کا جنازہ نکال دیا، آپ ترکی کے فوجیوں کی پھٹی ہوئی وردیاں دیکھیں، ان کو سڑکوں پر جوتے اور بیلٹس کھاتے دیکھیں اور اس کے بعد دل پر ہاتھ رکھ کر فیصلہ کریں، کیا یہ فوج اب ترکی کی حفاظت کر سکے گی؟ آپ فیصلہ کیجیے جس فوج کے 103 جرنیلوں کو سڑکوں پر ذلیل کر دیا گیا ہو اور جن کی وردیاں ان کی اپنی عوام نے سڑکوں پر پھاڑ دی ہوں اور جن کو سڑکوں پر لٹا کر جوتے مارے گئے ہوں کیا وہ فوج اپنا مورال سنبھال سکے گی؟ اور آپ یہ بھی ذہن میں رکھئے ترک فوج اس وقت چار محاذوں پر لڑ رہی ہے، آپ اس کے بعد معیشت کی حالت دیکھئے، ترکی میں ہر سال تین کروڑ 70 لاکھ سیاح آتے تھے، کیا یہ سیاح اب ترکی آئیں گے؟
آپ لیرے کی صورت حال بھی دیکھ لیجیے، یہ تین دن میں 30 فیصد نیچے آ گیا ہے، آپ سول بیورو کریسی کو بھی دیکھ لیجیے، ملک بھر سے 45 ہزار سرکاری ملازموں کو گرفتار کر لیا گیا ہے، ان میں فوج، پولیس، عدلیہ، یونیورسٹیوں اور انتظامیہ کے اعلیٰ عہدیدار بھی شامل ہیں، کیا ترکی اب ان 45 ہزار لوگوں کے بغیر سسٹم چلا سکے گا اور پیچھے رہ گئی جمہوریت تو آپ یہ ذہن میں رکھئے عوام بوتل کے جن ہوتے ہیں، یہ اگر ایک بار باہر آ جائیں تو پھر انھیں واپس بوتل میں ڈالنے کے لیے دہائیاں چاہیے ہوتی ہیں، ترک عوام آج یہ سمجھ رہے ہیں طیب اردگان اس وقت صدر اور بنالی یلدرم وزیراعظم ہیں تو یہ ہماری وجہ سے ہیں، ہم اگر 15 جولائی کی رات باہر نہ نکلتے تو فوج انھیں پھانسی لگا دیتی چنانچہ آپ فیصلہ کیجیے کیا یہ عوام اب طیب اردگان کو آرام سے حکومت کرنے دیں گے؟ کیا حکومت اب اپنی مرضی سے پالیسیاں بنا سکے گی؟ جی نہیں! چنانچہ میں سمجھتا ہوں 15 جولائی ترک تاریخ کا خوفناک ترین دن تھا، اس دن اگر فوج جیت جاتی تو بھی ترکی ہار جاتا اور اس دن جمہوریت جیت گئی ہے تو بھی ترکی ہار چکا ہے اور ترکوں نے یہ قربانی کس قیمت پر دی؟ ایک شخص کے اقتدار کے لیے!
یہ سو فیصد درست ہے طیب اردگان کو اللہ تعالیٰ نے لیڈر شپ کی بے پناہ صلاحیتیں دی ہیں، انھوں نے یورپ کے مرد بیمار کو دس برسوں میں مرد توانا بنا کر پوری دنیا کو حیران کر دیا، ترکی آج جو کچھ ہے اس کا 80 فیصد کریڈٹ طیب اردگان کو جاتا ہے لیکن سوال یہ ہے کیا طیب اردگان ترکی کے لیے ناگزیر ہیں؟ کیا یہ ملک کو اپنی پارٹی کے کسی دوسرے اہل شخص کے حوالے کر کے ترکی کو 15 جولائی سے بچا نہیں سکتے تھے؟ کیا یہ ترکی کی اس تباہی کے ذمے دار نہیں ہیں اور کیا یہ اب فتح اللہ گولن اور حزمت تحریک کو نقصان پہنچا کر دنیا کی ایک بڑی فلاحی تنظیم کو تباہ نہیں کر رہے؟ میں یہ سمجھتا ہوں ترکی کے محسن ہی نے ترکی کو تباہ کر دیا اور اب کوئی معجزہ ہی طیب اردگان اور ترکی دونوں کو بچا سکے گا، ترک فوج اور معیشت تباہ ہو چکی ہے اور جمہوریت کی فتح کا یہ جشن کسی بھی وقت نوحے میں تبدیل ہو جائے گا،ترکی واپس 1990ء کی دہائی میں چلا جائے گا۔
ہم اب آتے ہیں پاکستان کی طرف، پاکستان واقعی ترکی نہیں ہے۔