مسبوق کب ثنا پڑھے گا اور کب نہیں؟

مسبوق کب ثنا پڑھے گا اور کب نہیں؟
الجواب بعون الملک الوھاب…
مسبوق جب اپنی فوت شدہ رکعت کو امام کے سلام پھیرنے کے بعد ادا کرے گا تو اس میں بالاتفاق اولاً ثناء پڑھے گا البتہ جب مسبوق درمیانِ نماز امام کے ساتھ شریک ہوگا اس وقت ثناء پڑھے گا یا نہیں؟ اس میں فقہاء کا اختلاف ہے جہری نماز میں امام قراءت کررہا ہو تو اس میں بھی تقریباً اتفاق ہے کہ مسبوق ثناء نہیں پڑھے گا بلکہ خاموشی سے قراءت سنے گا بعض فقہاء نے جہری نمازوں میں بھی سکتات میں ثناء پڑھ لینے کا قول کیا ہے جو مرجوح ہے البتہ جہری نمازوں کی آخری رکعتیں اور سری نمازوں میں جب مسبوق شریک ہوگا تو ثناء پڑھے گا یا نہیں اس میں فقہاء کا اختلاف ہے بعض فقہاء پڑھنے کو ترجیح دیتے ہیں اور بعض فقہاء نے نہ پڑھنے کو ترجیح دی ہے۔
محیط برھانی، خانیہ، تاتارخانیہ، البحرالرائق، ہندیہ اور شامیہ میں اس بات کو ترجیح دی گئی ہے کہ مسبوق سری نمازوں میں اور جہری نمازوں کی آخری رکعات میں ثناء پڑھے گا.
اس کے بالمقابل صاحبِ نہر، مراقی الفلاح میں علامہ شرنبلالی،کبیری، درمختار، طحطاوی علی المراقی اور طحطاوی علی الدرالمختار ان حضرات نے مطلقاً ثناء نہ پڑھنے کے قول کو اختیار کیا ہے چاہے جہری نماز ہو یا سرّی، ہر حال میں جب امام قراءت کررہا ہو تو مسبوق مطلقاً خاموش رہے گا۔
نجم الفتاویٰ میں اس دوسرے قول کے مطابق فتویٰ دیا گیا تھا یہی قول نقلاً و عقلاً راجح معلوم ہوتا ہے.
علامہ طحطاوی، درمختار کے حاشیے پر فرماتے ہیں:
قال الحصکفی فی الدر: ( وقرأ ) كما كبر ( سبحانك اللهم) ۔۔۔۔ ( إلا إذا ) شرع الإمام في القراءة سواء ( كان مسبوقا ) أو مدركا ( و ) سواء كان ( إمامه يجهر بالقراءة ) أو لا ( فإنه ) ( لا يأتي به ) لما في النهر عن الصغرى أدرك الإمام في القيام يثني ما لم يبدأ بالقراءة وقيل في المخافتة يثني۔
وقال الطحطاوی فی حاشیتہ: (قولہ: وقیل فی المخافتۃ یثنی) وجہ ضعف ھذا القیل انہ اذا امتنع علی المامور قراءۃ القرآن التی ھی فرض فی الصلاۃ عند قراءۃ الامام القرآن سرا او جھرا فلان یمتنع علیہ الثناء وھو نفل اولی بجامع التخلیط والتغلیط فی کل۔
امام حصکفی درمختار میں فرماتے ہیں: اور تکبیر کہتے ہی سبحانک اللہم پڑھے گا … الّایہ کہ امام قراءت شروع کرچکا ہو چاہے یہ شخص مسبوق ہو یا مدرک ہو اور چاہے امام جہراً قراءت کررہا ہو یا سرا دونوں صورتوں میں یہ شخص ثناء نہیں پڑھے گا جیسا کہ نہر میں صغری سے نقل ہے کہ امام کو قیام میں پالے تو یہ ثناء پڑھے گا جب تک امام قراءت شروع نہ کرچکا ہو اور کہا گیا ہے کہ آہستہ یعنی سرّی نمازوں میں ثناء پڑھے گا علامہ طحطاوی اس کے حاشیے پر فرماتے ہیں: (وقیل فی المخافتۃ یثنی)اس قول کے ضعف کی وجہ یہ ہے کہ جب مامور کو امام کی قرأت کے وقت قرأت سے ہی منع کردیا گیا جو کہ نمازمیں فرض ہے چاہے نماز سری ہو یا جہری تو پھر ثناء سے تو بطریقہ اولیٰ منع کیا جائے گا کیونکہ یہ تو نفل ہےکیونکہ خلط اور غلطی کا سبب بننا دونوں میں مشترک ہے۔“
(طحطاوی علی الدر۱/۲۱۸)
النہر الفائق میں ہے:
”اطلقہ فشمل الامام والماموم الا المسبوق اذا کان الامام یجھر بالقراءۃ کما صححہ فی الذخیرۃ کذا فی البحر والاولی ان یقال الا اذا شرع الامام فی القراءۃ مسبوقا کان او مدرکا جھرا او لا لما فی الصغری ادرک الامام فی القیام او الرکوع یثنی مالم یبدا الامام بالقراءۃ وقیل فی المخافتۃ یثنی
(النھر الفائق ۲۰۸/۱)
علامہ طحطاوی رحمہ اللہ نے سری نماز میں بھی ثناء نہ پڑھنے کی عقلی وجہ بھی بیان فرمادی کہ مقتدی کو جب قراءت کرنے سے منع کیا گیا ہے تو پھر بدرجہ اولیٰ ثناء پڑھنا منع ہونا چاہیے اور یہ واضح بات ہے کہ وہ قراءت جو بعض فقہاء کے نزدیک وجوب تک کا درجہ رکھتی ہے ہمارے نزدیک منع ہے تو پھر ثناء کا درجہ تو نفل یا استحباب کا ہے اس کا جواز بے معنی اور خلافِ قیاس ہے اور یہی علامہ طحطاویؒ کے نزدیک اس قول (سری نمازمیں مسبوق کا ثناء پڑھنا) کی ضعف کی وجہ ہے۔
سری نمازوں میں قراءت کی طرح ثناء نہ پڑھنے کی دو وجہیں ہیں:
۱) انصات کا وجوب
۲) تخلیط علی الامام(امام کا غلطی میں پڑ جانا)۔
احقر کے نزدیک وہی بات راجح ہے جسے النہرالفائق، مراقی الفلاح، طحطاوی علی المراقی، درمختار اور طحطاوی علی الدر میں اختیار کیا گیا ہے۔ نیز انصات سے متعلق مختار اور مشہور قول ہی راجح ہے جسے
مسئلہ ہذا میں اکابرین کے فتاویٰ میں درج ذیل مقامات پر یہ مسئلہ درج ہے:
۱)۔ امداد الفتاویٰ (۱/۴۰۳) عنوان: حکم ثناء و تعوذ در حق مسبوق
۲)۔ کتاب الفتاویٰ (۲/۲۸۸) عنوان: مقتدی مسبوق اور ثناء
۳)۔ خیر الفتاویٰ (۲/۴۰۷) عنوان: امام جہراً قراءت کررہا ہو تو مسبوق ثناء نہ پڑھے
۴)۔ فتاویٰ دارالعلوم دیوبند (۳/۲۵۷) مسبوق ثناء کب پڑھے گا
۵)۔ فتاویٰ حقانیہ (۳/۱۸۰) مسبوق کیلئے ثناء پڑھنے کا حکم
۶)۔ فتاویٰ عثمانی (۱/۴۲۰) عنوان: مسبوق کی ثناء سے متعلق شرح وقایہ کی ایک عبارت کی تحقیق۔
۷)۔ احسن الفتاویٰ (۳/۳۸۲)
درج بالا فتاویٰ میں امداد الفتاویٰ اور کتاب الفتاویٰ کے علاوہ پانچوں مقامات پر سری نمازوںمیں مسبوق کیلئے ثناء پڑھنے کا قول اختیار کیا گیا ہے البتہ ان دو میں مطلقاً انصات کے قول کو لیا گیا ہے۔
__________________
آخر میں مسک الختام کے طور پر امداد الفتاوی سے حضرت مولانا حکیم الامت تھانوی رحمہ اللہ کے دو فتاویٰ اس ذیل میں مکمل سوال وجواب کے ساتھ نقل کئے جارہے ہیں۔
عنوان: حکم ثناء وتعوذ در حق مسبوق
سوال: فتاویٰ اشرفیہ میں ایک شخص نے سوال مسبوق کے متعلق کیا کہ جماعت سے رہی ہوئی باقی رکعتیں کس طرح پوری کرے حضور نے جواب میں فرمایا کہ بعد سلام امام وہ مسبوق اٹھے اور ثناء و تعوذ بسم اللہ پڑھ کر الحمد و سورۃ پڑھے نیز بہشتی گوہر کے تتمہ میں حضور نے ارشاد فرمایا ہے کہ مسبوق کسی وقت یعنی بعد جماعت کے ثناء وتعوذ و بسم اللہ نہ پڑھے ثناء ساقط ہوگئی اس میں کیا مصلحت ہے؟
الجواب: معلوم ہوتا ہے آپ نے بہشتی زیور کے ضمیمہ کو بالکل نہیں سمجھا اور افسوس ہے کہ عبارت بھی اس کی بعینہ نقل نہیں کی اپنی طرف سے غلط سمجھ کر خلاصہ نکال کر نقل کردیا ایسا تصرف نقل میں گناہ بھی ہے میں نے جو ثناء کا نہ پڑھنا لکھا ہے تو امام کے ساتھ شریک ہونے کی حالت میں لکھا ہے یعنی نہ نیت باندھ کر پڑھے اور نہ امام کی قراءت کے وقفات میں پڑھے یہ کہاں لکھا ہے کہ جب اپنی بقیہ نماز پڑھنے کھڑا ہو تب بھی نہ پڑھے سائل نے اس کو پوچھا ہی نہیں۔“ (امداد الفتاویٰ ۱/۴۰۳)
_____________________
دوسرا فتویٰ حضرت تھانوی رحمہ اللہ کا اس ذیل میں یہ ہے:
سوال: مسبوق رکعات جہریہ و خفیہ میں ثناء وتعوذ و تسمیہ تینوں پڑھے یا نہیں اور جب بعد فراغت کے اپنی بقیہ رکعتیں ادا کرنے کیلئے کھڑا ہو تو اس وقت ثناء وتعوذ وتسمیہ تینوں پڑھے یا صرف تعوذ و تسمیہ پر قناعت کرے جو کچھ فرق اس مسئلے کے متعلق رکعات جہریہ وسریہ میں ہو مطلع فرمائیے گا۔
الجواب: فی الدرالمختارقبل باب الاستخلاف۔۔والمسبوق منفرد حتى يثني ويتعوذ ويقرأ وإن قرأ مع الإمام لعدم الاعتداد بها لكراهتها۔
اس روایت سے دو امر مستفاد ہوئے ایک یہ کہ مسبوق امام کے ساتھ ثناء و تعوذ و تسمیہ نہ پڑھے دوسر ے یہ کہ بعد فراغ امام کے جب اپنی بقیہ نماز پڑھنے کیلئے کھڑا ہو سب چیزیں اور قراءت پڑھے اور جہری و سرّی اس حکم میں دونوں برابر ہیں لا طلاق الدلیل۔ واللہ تعالیٰ اعلم (امداد الفتاویٰ ۱/۴۰۳)
لہٰذا صورت مسئولہ میں یہی قول عقلاً ونقلاً راجح معلوم ہوتا ہے کہ سری اور جہری کسی نماز میں مسبوق بوقت شرکت ثناء نہ پڑھے تمام دلائل اور حضرت تھانوی رحمہ اللہ کے فتاویٰ درج کردئیے گئے ہیں.
=======================
واللہ اعلم بالصواب
محمد مصروف مظاہری
……..
جامعہ دارالعلوم کراچی

Admin adnan*مسبوق کب ثنا پڑھے گا اور کب نہیں* الجواب بعون الملک الوھاب… *مسبوق جب اپنی فوت شدہ رکعت کوامام کے سلام…

Posted by ‎جامعہ دارالعلوم کراچی‎ on Thursday, November 9, 2017