عاشورہ کے دن حضرت حسین ؓکی یاد میں روزہ رکھنا

نوٹ:میت کے لیے ایصال ثواب کے کسی طریقے کو’’فاتحہ‘‘کا نام نہیں دینا چاہیے،اس کے بجائے ’’دعاء کرنے یاایصال ثواب ‘‘کا لفظ استعمال کرنا چاہیے، اس لیےکہ اہل بدعت اس کو غیر شرعی مفہوم میں استعمال کرتےہیں ۔(۱)فقط،واللہ اعلم بالصواب۔
[۴۷]عاشورہ کے دن حضرت حسین ؓکی یاد میں روزہ رکھنا
۲۵۱-سوال: زید کا کہنا ہے کہ محرم کی دسویں تاریخ کو حضرت حسین ؓکی یاد میں روزہ رکھنا، عاشورہ کی نماز پڑھنا ،بچوںسے محبت کرنا ،دل سے کسی کو کھانا کھلانا، غریب اور محتاج کی مدد کرنا؛ یہی ان کی سچی اقتدا ہے، پو چھنا یہ ہے کہ کیا یہ بات صحیح ہے کہ حضرت حسین کی یاد میں روزہ رکھا جائے ؟ کیا کسی کی یاد میںروزہ رکھ سکتے ہیں؟
الجواب حامدا ومصلیا:
عاشورہ(دسویں محرم کا دن)پہلے ہی سے عظمت والا دن ہے۔(۲) حضرت حسین ؓ کی خوش قسمتی تھی کہ اس مبارک دن میں انہیں شہادت نصیب ہوئی، اس دن میں روزہ رکھنے کا تو پہلے ہی سے حکم ہے اور کوئی بھی روزہ ہو، وہ اللہ کے نام کا اور اللہ ہی کے لیے ہو سکتا ہے۔ فقط،واللہ تعالی اعلم با لصواب۔
[۴۸]محرم میں لوگوں کو شربت پلانا
۲۵۲-سوال: ہمارے یہاںپندرہ بیس دن پہلے جمعہ کی نماز میں ایک مولاناصاحب کتاب
——————————
= انتقال کے وقت اِس کی وصیت فرمائی تھی، طویل حدیث ہے، جزو مقصود ملاحظہ فرمائیں: فإذا دفنتموني فشنوا علي التراب شنا، ثم أقيموا حول قبري قدر ما تنحر جزور ويقسم لحمها، حتى أستأنس بكم، وأنظر ماذا أراجع به رسل ربي.(صحیح المسلم: ۱؍۷۶، رقم:۱۹۲- (۱۲۱)، کتاب الإیمان، باب بیان حکم عمل الکافر إذا أسلم بعدہ، ط:البدر دیوبند)
(۱)اِس لیے کہ ’’فاتحہ‘‘ کا استعمال اہل بدعت کے یہاں اُس موقع پرہوتا ہے، جب کہ سامنے کھانا یا مٹھائی رکھی جائے، اگر بتی جلائی جائےاور اُس کے سامنے بیٹھ کر قرآنِ کریم کی مخصوص سورت یا آیت پڑھی جائے، اوران سب میں یہ عقیدہ کار فرما ہوتا ہے کہ مردے کی روح گھر میں ہر جمعرات کو آتی ہے، اور صاحب خانہ سے فریاد کرتی ہے، حالاں کہ یہ بات قطعا غلط ہے،ـــــــــــــــــــــ ضابطہ یہ ہے کہ ایک لفظ کے کئی مفہوم ہوں، ایک صحیح اور دوسرا غلط،تو احوط یہ ہے کہ اس لفظ کو استعمال ہی نہ کیا جائے،کما یفھم من قولہ تعالیٰ:يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَقُولُوا رَاعِنَا وَقُولُوا انْظُرْنَا.(۲-البقرۃ:۱۰۴)
(۲)عن ابن عباس رضي اللہ عنهما، أن النبي صلى اللہ عليه وسلم لما قدم المدينة، وجدهم يصومون يوما، يعني عاشوراء، فقالوا: هذا يوم عظيم، وهو يوم نجى اللہ فيه موسى، وأغرق آل فرعون، فصام موسى شكرا لّٰلہ، فقال «أنا أولى بموسى منهم» فصامه وأمر بصيامه.(صحیح البخاري:۱؍۴۸۱، رقم الحدیث:۳۳۹۷،کتاب الانبیاء،باب قول اللہ تعالى: {وهل أتاك حديث موسى}،ط:البدر-دیوبند)