حرم کی پاسبانی کے لیے

حرم کی پاسبانی کے لیے

تحریر یاسر محمد خان

سلطنت عثمانیہ ٹوٹ کر بکھری تو مسلمان ملک الگ الگ ہوگئے۔ سعودی عرب نے تمام مسلم دنیا کے لیے مرکزی حیثیت حاصل کرلی۔ ساری دنیا کے مسلمان اس مقدس سرزمین کی طرف راہنمائی کے لیے دیکھنے لگے۔ سعودی عرب میں آلِ سعود نے مسلمان ملکوں کی اُن کے کڑے وقتوں میں بھرپور مدد کی۔ لبنان کی خانہ جنگی کا 1969ء میں خاتمہ ہوا۔ اس میں مرکزی رول سعودی عرب نے ادا کیا۔ متحارب گروپوں کو قائل کیا اور اُن میں اتحاد قائم ہوگیا۔ عراق کے کویت پر حملے کے کڑے وقت میں سعودی عرب نے کویت کا ہر ممکن ساتھ دیا۔ اُس کی آزادی کے لیے راہ ہموار کی۔ افغانستان میں روسی جارحیت ہوئی تو سعودیہ نے افغان جہاد میں سرگرم کردار ادا کیا۔ اس ملک کو روسی استعمار سے نجات دلوائی۔ افریقی مسلمان ملکوں میں قحط آیا تو سعودی عرب نے اپنے خزانوں کے منہ کھول دیے۔ خوراک، اجناس وافر مہیا کیں اور یوں مصیبت کا شکار مسلمانوں کی اَشک شوئی کے لیے نہایت درجہ درد مندی دکھائی۔ پاکستان کے قیام کے بعد سے سعودیہ کے ہم پر احسانات ان گنت رہے۔ مہاجرین کی آبادکاری میں سعودی بھائیوں نے کھلے دل سے امداد کی۔

نوازائیدہ مملکت کو اپنے پائوں پر کھڑا کرنے کے لیے اُن کی مدد ہر دم حاضر رہی۔ 1965ء میں جب دُشمن ہماری آزادی کے درپے ہوا تو سعودی بھائی سب سے آگے تھے۔ ہماری جیت میں اُن کا کردار مرکزی تھا۔ ہماری فتح پر سعودی عرب میں خوشیاں منائی گئیں۔ 1998ء میں ہم نے ایٹمی دھماکے کیے تو تمام دنیا ہماری مخالف بن گئی۔ یہاں بھی سعودی عرب آگے آیا اور ہماری گرتی ہوئی اکانومی کو سنبھالا دیا۔ جب جب بھی آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک ہمارے درپے ہوئے ہمیں سعودی عرب سے ہمیشہ ٹھنڈی ہوا کے جھونکے آئے اور ہمارے عذابوں کو کم کرنے کے لیے اس مقدس زمین سے امداد آپہنچی۔

٭ حوثیوں کا اگلا ٹارگٹ اُس راستے پر کنٹرول تھا جس سے سعودی عرب دنیا بھر کو تیل سپلائی کرتا ہے۔ اگر حوثی اس مشن میں کامیاب ہوجاتے ہیں تو سعودی عرب کی اکانومی پر اس کے نہایت منفی اثرات پڑتے۔ ٭ یمن میں حوثیوں کو ہٹانے کے لیے آپریشن ’’ڈیزرٹ اسٹارم‘‘ اپنی پوری رفتار سے جاری ہے۔ ٭ پاکستان اور ترکی کو آگے آنا چاہیے اور مشرقِ وسطیٰ میں قیام امن کے لیے اپنا بھرپور رول ادا کرنا چاہیے۔ ٭

ہمارے زلزلوں، سیلابوں میں سعودی عرب دنیا بھر میں سب سے پہلے آیا اور ہمیں دوبارہ اپنے پائوں پر کھڑا کیا۔ 17 لاکھ پاکستانی تارکین وطن حجاز مقدس میں رزق کمارہے ہیں۔ اپنے کنبوں کی کفالت کررہے ہیں۔ سعودی عرب میں اُن کی خدمات کا بھرپور صلہ مل رہا ہے۔ یہ پاکستانی ہماری معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کا کردار ادا کررہے ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ میں 1979ء ایرانی انقلاب کے بعد سے حالات میں یکسر تبدیلی آگئی۔ اُسی سال ایک گروہ نے خانہ کعبہ پر قبضے کی کوشش کی اور اپنے انجام کو پہنچا۔ ایران عراق جنگ سالوں تک چلتی رہی جس میں دونوں ملکوں کا بہت نقصان ہوا۔ 2010ء میں مشرقِ وسطیٰ میں زلزلے آنا شروع ہوگئے۔ عرب اسپرنگ نے بعض ملکوں میں شخصی حکومتوں کا خاتمہ کردیا۔ وہاں خوفناک جنگی کشمکش پیدا ہوگی۔

عراق پہلے ہی امریکی حملوں کے بعد تین حصوں میں تقسیم ہوکر رہ گیا ہے۔ علیحدگی پسند طاقت پکڑگئے ہیں اور ایران کی مدد انہیں حاصل ہے۔ لیبیا میں معمر قذافی کے بعد خانہ جنگی چل رہی ہے۔ اُس ملک کا داخلی امن تار تار ہوکر رہ گیا ہے۔ شام میں بشار الاسد اور مخالفوں کے درمیان گھمسان کی لڑائیاں ہورہی ہیں۔ اسرائیل نے فلسطین اور لبنان میں جو مظالم ڈھائے وہ اس گہرے غبار میں چھپ گئے ہیں۔ اُدھر مصر میں امریکی آشیرباد پر مرسی حکومت کا خاتمہ کرکے جنرل سیسی اقتدار پر قابض ہوگیا ہے۔ وہاں آتش فشاں کے دہانے سے مسلسل لاوا نکل رہا ہے۔ سارے مشرقِ وسطیٰ میں آگ کے شعلے بلند ہورہے ہیں۔ اسلحے کے سوداگروں کی چاندی ہوگئی ہے۔ وہ دھڑا دھڑ مسلمان ملکوں کو اسلحہ بیچے جارہے ہیں۔ یمن میں 3 دہائیوں پر پھیلی شخصی حکومت کے بعد چند ماہ تک امن رہا۔ پھر حوثی قبائلیوں نے اقتدار پر قبضہ کرلیا اور حکومت کو چلتا کردیا۔

حوثی قبائلیوں کی حالیہ کارروائیوں کی تاریخ جانے بغیر یمن کی تازہ صورتحال کو سمجھا نہیں جاسکتا۔ ایک جامع رپورٹ کے مطابق یہ فرقہ شمالی یمن میں 1982ء تک ایک تہائی آبادی کا حامل تھا۔ 1980ء میں یمن میں تیل دریافت ہوا اور 2001ء میں اس کی پیداوار 4 لاکھ 40 ہزار بیرل یومیہ ہوگی۔ 2014ء تک آتے آتے اس میں حیرت ناک کمی دیکھنے میں آئی اور یہ ایک لاکھ بیرول یومیہ تک رہ گئی۔ اس کی بڑی وجہ جنوبی اور شمالی یمن میں زبردست کشمکش تھی جو پچھلے چار پانچ برسوں میں اپنی انتہا کو پہنچ گئی ہے۔ اپریل 2003ء میں یمنی تحویل سے 10 دہشت گرد فرار ہوگئے اور انہوں نے حوثیوں کے علاقے میں پناہ لے لی۔ 2004ء میں حوثیوں کی کارروائیوں میں تیزی آگئی۔ جون سے اگست تک سینکڑوں افراد ہلاک ہوگئے۔ ستمبر 2004ء میں حوثی راہنما حسین ال حوثی یمنی حملے ہلاک ہوگیا۔ مارچ اور اپریل 2005ء میں یمنی فوج اور حوثیوں کے درمیان جنگ میں 200 افراد ہلاک ہوگئے۔ جولائی 2005ء میں پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں میں 40 افراد ہلاک ہوگئے۔ مارچ 2006ء میں حکومت نے حسین ال حوثی کے 600 گرفتار حامیوں کو ایک امن معاہدے کی رو سے رہا کردیا۔ جنوری سے مارچ 2007ء کے دوران حوثیوں نے امن معاہدے کو تار تار کردیا۔ سیکورٹی حکام نے سینکڑوں حوثیوں کو قتل کردیا۔ جون 2007ء میں عبدالمالک ال حوثی نے دوبارہ سیز فائر پر اتفاق کیا۔ جولائی 2007ء میں صنعا میں خودکش دھماکے ہوئے۔ غیرملکیوں سمیت یمنی باشندے بھی جاں بحق ہوگئے۔ جنوری 2008ء میں یمنی فوج اور حوثیوں کے درمیان دوبارہ جھڑپیں شروع ہوگئیں۔ جون 2009ء میں یمنی حکومت نے 176 گرفتار اراکین کو رہا کردیا۔ اگست 2009ء میں یمنی فوج نے شمالی صدا میں حوثیوں کے خلاف بھرپور کارروائی کا آغاز کیا جس کے نتیجے میں ہزاروں افراد کا انخلا شروع ہوگیا۔ سب سے پہلے اکتوبر 2009ء میں یمن سعودی عرب بارڈر پر سعودی فوج اور حوثیوں کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔ فروری 2010ء میں ایک بار پھر یمن اور حوثیوں کے درمیان سیز فائر ہوا۔ مارچ 2010ء میں 178 مغویوں کو رہا کردیا گیا۔ ستمبر 2010ء میں حکومتی پیش قدمی کے بعد جنوبی شب واہ سے ہزاروں شہریوں کا انخلا شروع ہوگیا۔ دسمبر 2010ء میں یمن اور حوثیوں کے درمیان لڑائی میں 300 افراد مارے گئے۔ مارچ 2010ء میں صدر صالح نے خانہ جنگی کے خطرے کے پیش نظر ملک میں ایمرجنسی کا نفاذ کردیا۔ مئی 2011ء میں قبائل اور فوج کے درمیان جھڑپوں میں تیزی آگئی۔ درجنوں افراد ہلاک ہوگئے۔ ایرپورٹ بند ہوگئے۔ ہزاروں افراد صنعا سے نقل مکانی کرگئے۔ جون 2011ء میں صدر صالح کے راکٹ حملے میں زخمی ہوگئے اور سعودی عرب میں علاج کے لیے 3 ماہ مقیم رہے۔ نومبر 2011ء میں صدر صالح نے اقتدار چھوڑ دیا۔ ہادی منصور نئے صدر منتخب ہوگئے۔ مئی 2012ء میں یمن کو 4 ارب ڈالرز کی امداد ملی۔ جون 2012ء میں یمنی فوج نے تین اہم صوبوں شقر، زنجی بار اور جار کو خالی کروایا۔ فروری 2014ء میں حوثیوں نے امران صوبے میں فوجوں کو پسپا کرکے کلی اقتدار سنبھال لیا۔ اگست 2014ء میں حوثیوں نے دارالحکومت کا گھیرائو کرلیا۔ ستمبر 2014ء میں حوثیوں نے دارالحکومت کا مکمل کنٹرول اپنے ہاتھ میں لے لیا۔ جنوری 2015ء میں حوثیوں نے نئے آئین کو ماننے سے انکار کردیا اور سرکاری ٹی وی پر قبضہ کرلیا۔ فروری 2015ء میں حوثیوں نے تمام اختیارات اپنے قبضے میں لیے ہوئے 5 رکنی کمیٹی بنائی جس نے صدر ہادی منصور کی جگہ لے لی۔ وہ گھر میں قید کردیے گئے جہاں سے وہ نکل کر سعودی عرب فرار ہوگئے۔ (باقی صفحہ5پر) مارچ 2015ء میں حوثیوں نے جنوبی یمن کی طرف پیش قدمی شروع کردی۔ حوثیوں کا اگلا ٹارگٹ اُس راستے پر کنٹرول تھا جس سے سعودی عرب دنیا بھر کو تیل سپلائی کرتا ہے۔ اگر حوثی اس مشن میں کامیاب ہوجاتے ہیں تو سعودی عرب کی اکانومی پر اس کے نہایت منفی اثرات پڑتے۔

امریکا جس نے 2012ء میں یمن کو 353 ملین ڈالرز، 2013ء میں 316.23 ملین ڈالرز اور 2014ء میں 22.4 ملین ڈالرز کی امداد دی، وہ یمن کی سمندری حدود کی حفاظت کرتا رہا ہے۔ امریکیوں نے متعدد بار ایرانی ساخت کا اسلحہ پکڑا ہے جو ایران سے حوثیوں کی کمک کے لیے آرہا تھا۔ جنوری 2013ء میں صدر اوباما نے کانگریس کو خط لکھا اور بتایا کہ ایران مسلسل حوثیوں کو اسلحہ بارود مہیا کررہا ہے جس سے علاقائی امن کوشدید خطرات کا سامنا ہے۔ امریکا نے یمن میں اپنے لیے خطرات دیکھ کر اپنا انسداد دہشت گردی کا فوجی اڈا بند کردیا۔ اپنا سفیر واپس بلالیا اور یوں مارچ 2015ء میں 10 عرب ملکوں نے مل کر حوثیوں کے بڑھتے ہوئے شِکروں کا راستہ روک لیا ہے۔ 40 ہزار عرب فوجیوں کی ایک سپاہ بنائی جائے گی جو عرب ملکوں کے مفادات کے لیے باطل قوتوں سے ٹکرائے گی۔ ایسی فوج اسرائیل کی کارروائیوں پر بھی کنٹرول رکھے گی۔ یمن میں حوثیوں کو ہٹانے کے لیے آپریشن ’’ڈیزرٹ اسٹارم‘‘ اپنی پوری رفتار سے جاری ہے۔ حوثیوں کے اسلحہ ڈپو اُن کی چھائونیوں اور کمین گاہوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ پاکستان نے سعودی عرب کی حفاظت کے لیے اپنی فوج کی خدمات حاضر کردی ہیں۔ یہ حجاز مقدس کے ایک ایک انچ کی حفاظت کریں گی۔ پاکستان اور ترک قیادت کے درمیان اس جنگ کے بارے میں ہم آہنگی پائی گئی ہے۔

پاکستان اور ترکی کو آگے آنا چاہیے اور مشرقِ وسطیٰ میں قیام امن کے لیے اپنا بھرپور رول ادا کرنا چاہیے۔ یہ ملک مسلم دنیا میں بلند مقام پر فائز ہیں۔ ان کی کاوشوں سے جنگی آگ کے شعلوں کو سرد کیا جاسکتا ہے۔ یہ ملک ایران کو بھی قائل کریں کہ فرقہ وارانہ لڑائیوں میں مسلمان ملکوں کو سوائے نقصان میں اور کچھ نہیں ملے گا۔ اسرائیل مزید مضبوط ہوتا جائے گا۔ امریکا سمیت اسلحے کے سوداگر اربوں ڈالرز اور پائونڈز اکٹھے کرلیں گے۔ مسلمان ملکوں کو تباہی اور بربادی کے سوا کچھ ہاتھ نہیں آئے گا۔

پاکستان نے مشکل کی اس گھڑی میں سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔ ہم اگر خود کو حجاز مقدس کے دفاع کے لیے محدود رکھیں تو بہت بہتر ہوگا۔ عرب دنیا اتحاد کرکے جو پالیسی بناتی ہے وہ اس پر گامزن ہے۔ یمن میں ابھی بھی پاکستانی پھنسے ہوئے ہیں، انہیں وہاں سے فی الفور نکالا جائے۔ جنگ پھیلتی جارہی ہے اور اس میں اب تک مجموعی طور پر ایک ہزار افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ ایک لاکھ یمنی بے جانماں ہوچکے ہیں۔ سارے مشرق وسطیٰ میں بڑے پیمانے پر تباہی دیکھنے میں آرہی ہے۔ عالمی برادری کو اس انسانی المیے پر متحرک ہونے کی ضرورت ہے۔ حوثی باغیوں نے سعودی عرب کی سرحد میں گھس کر سعودی فوجیوں کو نشانہ بنایا تھا۔ اُن کو بے دست و پاکرنا ضروری ہے۔ مسلم دنیا اس وقت ایک ہنگامی صورت حال میں ہے۔ پاکستان کو ہر بین الاقوامی فورم میں اپنا اثر و رسوخ استعمال کرنا چاہیے۔ مشرقِ وسطیٰ میں خونِ مسلم بہہ رہا ہے، اسے روکنا ہوگا۔ حرم کی پاسبانی کے لیے کل عالم اسلام کو ایک ہونا ہوگا۔ اسی میں مادّی اُمت کی دینی اور دنیاوی فلاح ہے۔