جاوید چوہدری

ہم نے اگر اب بھی
جاوید چوہدری پير 18 نومبر 2013
قائد اعظم محمد علی جناح نے 1946ء کے الیکشن کے لیے ووٹ مانگنا شروع کیے‘ آپ نے پورے ہندوستان کا دورہ کیا‘ قائداعظم انتخابی مہم کے سلسلے میں کراچی بھی آئے‘ کراچی شہر ان دنوں فرقہ وارانہ تقسیم کا شکار تھا‘ مسلمان سنی اور شیعہ دو حصوں میں تقسیم تھے اور یہ دونوں کراچی کے ہندو سیٹھوں کی سازش کی وجہ سے غیر ضروری بحث میں الجھے ہوئے تھے‘ کراچی کے ہندو سیٹھ ہندوستان کی تقسیم نہیں چاہتے تھے‘ سیٹھوں نے مسلمانوں پر سرمایہ کاری کی‘ مسلمان پہلے کانگریسی مسلمان اور لیگی مسلمانوں میں تقسیم ہوئے اور پھر شیعہ اور سنی کی تفریق شروع ہو گئی۔
قائداعظم ان دنوں کراچی آئے اور مسلمانوں سے آل انڈیا مسلم لیگ کو سپورٹ کرنے کی اپیل کرنے لگے‘ مسلم لیگ کی ایک کھلی میٹنگ میں ایک صاحب کھڑے ہوئے اور قائداعظم سے کہا ’’ ہم آپ کو ووٹ نہیں دیں گے‘‘ قائداعظم نے پوچھا ’’کیوں؟‘‘ وہ بولے ’’ آپ شیعہ ہیں اور ہم سنی‘ ہم کسی شیعہ کو ووٹ نہیں دیں گے‘‘ قائداعظم ایک لمحے کے لیے مسکرائے اور اس کے بعد فرمایا ’’ آپ پھر یقیناً گاندھی کو ووٹ دیں گے‘ کیا گاندھی سنی ہیں؟‘‘ یہ بات سن کر حاضرین ہنس پڑے جب کہ وہ صاحب شرمندہ ہو گئے‘ قائداعظم شیعہ گھرانے میں پیدا ہوئے تھے ‘ دشمن تحریک پاکستان کے دوران قائداعظم کی کردار کشی کے لیے دوسرے الزامات کے ساتھ ساتھ ان کے مسلک کا مسئلہ بھی اٹھاتے رہتے تھے‘ قائداعظم ان الزامات پر ہنس پڑتے تھے کیونکہ وہ خود کو صرف مسلمان کہتے تھے‘ وہ تفرقہ بازی اور مذہبی تقسیم کو مسلمانوں کے لیے زہر قاتل سمجھتے تھے مگر قائداعظم کو کیا معلوم تھا ان کے بنائے ہوئے ملک میں ایک ایسا وقت بھی آئے گا جب یہ زہر ملک کی تمام رگوں میں پھیل جائے گا‘ لوگ صرف مسلک کی بنیاد پر دوسروں کے گلے کاٹیں گے۔
آپ اگر سنی والدین کے گھر پیدا ہو گئے ہیں یا آپ کے والدین اہل تشیع ہیں تو آپ نام اور شناختی کارڈ کی بنیاد پر قاتل یا مقتول بن جائیں گے‘ ہم آج کے پاکستان کو دیکھتے ہیں تو ہمیں یہ ملک ملک کم اور جنگل زیادہ دکھائی دیتا ہے‘ ایک ایسا جنگل جس میں آپ کی پیدائش یہ طے کرتی ہے آپ شکاری ہوں گے یا شکار۔ آپ شیر کی کھچار میں پیدا ہو گئے تو آپ جنگل کے بادشاہ ہیں اور آپ اگر ہرن ہیں تو پھر آپ بادشاہ سلامت کا نوالہ بنیں گے خواہ آپ کچھ بھی کر لیں‘ خواہ آپ جس قانون کا چاہیں سہارا لے لیں‘ دنیا کے کسی معاشرے‘ کسی ملک میں جب پیدائش انسان کا مستقبل طے کرنے لگے‘ یہ آپ کو مظلوم یا ظالم بنانے لگے اور آپ کا شناختی کارڈ یا نام آپ کی زندگی یا موت کا ضامن ہو جائے تو پھر اس ملک یا اس معاشرے کو معاشرہ یا ملک کہلانے کا حق نہیں رہتا اور ہم اس فیز میں داخل ہو چکے ہیں جس میں شیعہ پر صرف پیدائش کی وجہ سے کافر اور سی پر صرف سنی ہونے کی وجہ سے قاتل کا الزام لگ جاتا ہے‘ جس میں چند تنگ نظر اور نام نہاد علماء کرام کی کتابیں اور تقریریں انسانیت‘ جذبات‘ قانون اور آئین کی جگہ لے چکی ہیں‘ جس میں کوئی نامعلوم شخص عالم کے بھیس میں نامعقول بات کرتا ہے اور پورے ملک میں آگ لگ جاتی ہے‘ جس میں کوئی ایسا ناعاقبت اندیش شخص جس کے پاس کسی سکہ بند مدرسے کی سند تک نہیں ہوتی وہ اپنے نام کے ساتھ مولانا‘ مفتی یا علامہ کا لاحقہ لگا کر کوئی زہریلی بات کر دیتا ہے اور ملک نفرت کی آگ میں جلنے لگتا ہے۔
یہ کتابیں کون لکھ رہا ہے‘ یہ شایع کہاں ہو رہی ہیں اور کیا ان پر کسی فرقے کے علماء کرام کو اتفاق بھی ہے؟ ہم لوگ یہ تحقیق کیے بغیر نفرت کا کاروبار شروع کر دیتے ہیں اور اسی طرح جو صاحب یہ سب کچھ فرما رہے ہیں کیا ان کی کوئی فقہی اور علمی حیثیت بھی ہے؟ ہم یہ دیکھنا اور سوچنا بھی گوارہ نہیں کرتے‘ صرف کسی شخص کے نام کے ساتھ فاروقی‘ صدیقی یا عثمانی اور دوسری طرف نقوی‘ شیرازی اور حسینی کافی ہو تا ہے‘ کیا یہ ملک اس لیے بنا تھا کہ ہم ایک دوسرے کا گلہ کاٹیں‘ ایک دوسرے کی مسجدوں اور امام بارگاہوں کی بے حرمتی کریں اور (نعوذ باللہ) قرآن مجید کو آگ لگا دیں‘ اگر یہ آزادی ہے تو پھر غلامی ہی ٹھیک تھی‘ ہم کم از کم اس غلامی میں ایک تو تھے‘ ہم سنی اور شیعہ کے بجائے مسلمان تو تھے۔
قوم نے 15 نومبر کو ٹیلی ویژن پرراولپنڈی کا سانحہ دیکھا تو اس کا سر شرم سے جھک گیا‘ جس ملک میں محرم اور ربیع الاول کے مہینے فوج کے بغیر نہ گزارے جا سکیں یا لوگوں کو جس ملک میں عبادت کے لیے رائفل کی ضرورت پڑ جائے‘ کیا اس ملک کے ٹوٹنے میں کوئی کسر رہ جاتی ہے؟ ہماری ریاست اگر دس محرم کے جلوس اور بارہ ربیع الاول کے اجتماعات کی حفاظت نہیں کر سکتی تو یہ امریکی‘ روسی اور بھارتی یلغار کیسے روکے گی؟ یہ طالبان کا مقابلہ کیسے کرے گی‘ کیا ہمیں مسجدوں اور امام بارگاہوں کو بچانے کے لیے بھی ڈرونز کی مدد لینا ہوگی‘ کیا ہمیں اس کے لیے بھی سی آئی اے اور پینٹا گان کی سپورٹ درکار ہو گی؟ خدا کی پناہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے شہر راولپنڈی میں درجن بھر افراد قتل کردیے گئے‘ ڈیڑھ سو دکانوں کو آگ لگا دی گئی‘ قرآن مجیدکے نسخے جل گئے‘ اور ریاست منہ دیکھتی رہ گئی‘ ریاست ہجوم کو قابو کر سکی اور نہ ہی حملہ آور کو روک سکی۔
حملہ آوروں نے پولیس کی رائفلیں چھین لیں ‘ کیا ہماری پولیس اس قدر کمزور ہے اور جو پولیس اپنی رائفلوں کی حفاظت نیں کر سکتی وہ عام شہریوں کا خاک تحفظ کرے گی‘ حکومت مذہبی اشتعال روکنے کے لیے کرفیو لگانے پر مجبور ہو گئی‘ راولپنڈی کے شہری تین دن تک گھروں میں محصور رہے‘ چوتھے دن کرفیو اٹھایا گیا تو ہزاروں لوگ مسجد کے گرد جمع ہو گئے‘ فوج واپس آ گئی‘ کیا فوج کا یہ کام ہے؟ اور یہ فوج کب تک ہماری مسجدوں کی حفاظت کرے گی‘ ہمیں ماننا پڑے گا‘ اسلام کے نام پر بننے والا ملک آج اسلام ہی کے نام پرٹوٹ رہا ہے‘ ہم نے یہ ملک مذہبی آزادی کے لیے بنایا تھا لیکن آج ہمیں یہ ملک بچانے کے لیے مذہب اور آزادی دونوں کو پابند کرنا ہو گا‘ ہمیں مذہب کی حدود کا تعین بھی کرنا ہوگا اور ان حدوں کو نافذ بھی کرنا ہو گا‘ ریاست کو فوراً چند بڑے فیصلے کرنا ہوں گے‘ ملک سے تمام متنازعہ کتابیں جمع کر لی جائیں‘ یہ کتابیں لائبریریوں تک سے اٹھا لی جائیں اور اس کے بعد ان کتابوں کی اشاعت‘ ان کا حوالہ دینا اور ان کی کاپی رکھنا سنگین جرم قرار دے دیا جائے اور جو شخص اس قانون کی خلاف ورزی کرے اس کے خلاف دہشت گردی کا مقدمہ قائم کیا جائے۔
ملک میں دس سال کے لیے مذہبی اجتماعات پر پابندی لگا دی جائے‘ کوئی مذہبی جلسہ ہونا چاہیے اور نہ ہی کوئی جلوس یا ریلی نکلنی چاہیے‘ مذہب سے متعلق تمام رسومات عبادت گاہوں کے اندر ادا کی جائیں‘ لاؤڈ اسپیکر پر پابندی لگا دی جائے‘ کوئی شخص لاؤڈ اسپیکر پر تقریر کر سکے گا اور نہ ہی خطبہ دے سکے ‘ شہر کی تمام مساجد کے لیے اذان اور نماز کے اوقات طے کر دیے جائیں‘ شہر کی تمام مساجد میں ایک ہی وقت پر اذان ہو تاہم نمازوں میں پانچ دس منٹ کا فرق رکھ دیا جائے تا کہ لوگوں کو سہولت ہو سکے‘ علماء کرام کی تقریروں کی کیسٹیں اور سی ڈیز پر بھی پابندی لگا دی جائے‘ آج سے بیس سال قبل اسپیشل برانچ اور سی آئی ڈی کے اہلکار مسجدوں اور امام بارگاہوں پر نظر رکھتے تھے‘ حکومت یہ بندوبست دوبارہ شروع کر دے‘ حکومت کو ایسے نام رکھنے پر بھی پابندی لگا دینی چاہیے جن سے کسی کے مسلک کا اندازہ ہوتا ہو‘ کون سنی ہے‘ کون شیعہ‘ کون بریلوی‘ کون وہابی اور کون دیوبندی اس کا اندازہ نام سے نہیں ہونا چاہیے‘ چھتوں پر مسالک کے جھنڈے لہرانے پر بھی پابندی لگا دی جائے اور جو اس کی خلاف ورزی کرے اس کے لیے سخت سزا تجویز کی جائے۔
مذہبی رہنما اور مدارس کے طلباء گاؤن اور پگڑی استعمال کر سکیں لیکن گاؤن اور پگڑی کا رنگ پورے ملک میں ایک ہونا چاہیے‘ پگڑی اور گاؤن سے کسی کے فرقے یا مسلک کا اندازہ نہیں ہونا چاہیے اور کسی مسجد یا مدرسے کا گیٹ بند نہیں ہوگا‘ ملک کے زیادہ تر مدارس اور مساجد کے سامنے بھاری بھرکم گیٹ لگے ہیں‘ یہ گیٹ سیکیورٹی کے نام پر بند رہتے ہیں‘ ان گیٹس کے دوسری طرف کیا ہو رہا ہے؟ وہاں کون کون لوگ موجود ہیں اور وہ کیا کر رہے ہیں‘ ریاست جانتی ہے اور نہ ہی اردگرد کے لوگ۔ یہ سلسلہ بھی بند ہونا چاہیے‘ مدارس کی نصابی کتابیں بھی حکومت کی سرپرستی میں شایع ہونی چاہئیں‘ مدارس میں کیا پڑھایا جاتا ہے‘ ریاست کو کانوں کان خبر نہیں ہوتی‘ مساجد اور امام بارگاہوں کے اندر قائم چھوٹے مدارس کو بھی سسٹم کے اندر لایا جائے ‘ مسجد کے مدرسے کا باقاعدہ بورڈ ہو اور اس بورڈ میں دوسرے فرقوں کے لوگ بھی شامل ہوں اور ملک کی تمام مساجد اور امام بارگاہوں کو فوری طور پر رجسٹر کیا جائے اور حکومت کی اجازت کے بغیر مسجد بن سکے اور نہ ہی امام بارگاہ اور نہ ہی کسی عبادت گاہ میں حکومت کی اجازت کے بغیر امام‘ خطیب یا مؤذن مقرر ہو سکے‘ ہمارے ملک میں کسی بھی جگہ کوئی بھی عبادت گاہ بنا دی جاتی ہے اور ریاست کی ٹانگیں کانپنے لگتی ہیں۔
یہ فیصلے انتہائی کٹھن بلکہ مشکل ہیں لیکن ہمیں یہ فیصلے کرنا ہوں گے‘ ہم نے اگر ان میں دیر کر دی تو پھر ہم یہ فیصلے کرنا بھی چاہیں گے تو بھی نہیں کر سکیں گے کیونکہ آگ ماچس کی تیلی یا موم بتی کے دھاگے تک ہو تو اسے ایک پھونک یا دامن کے ایک پلو سے بجھایا جا سکتا ہے لیکن یہ جب ماچس کی تیلی اور موم بتی کے دھاگے سے نکل جائے‘ یہ بھانبڑ بن جائے تو پھر سارا شہر مل کر بھی یہ آگ نہںم بجھا سکتا اور ہم ماچس کی جلتی ہوئی تیلی اور بھوسے کے ڈھیر کے درمیان کھڑے ہیں‘ ہم نے اگر اب بھی تیلی نہ بجھائی تو پھر ہمیں جلنے اور جل جل کر مرنے سے کوئی نہیں بچا سکے گا‘ ہم برباد ہو جائیں گے۔
ویہار
جاوید چوہدری ہفتہ 16 نومبر 2013
میری منیر بھٹی سے پہلی ملاقات لاہور ائیر پورٹ پر ہوئی‘ میں اسلام آباد آ رہا تھا اور یہ کراچی جا رہے تھے‘ فلائٹیس لیٹ تھیں‘ یہ بھی ائیر پورٹ پر مارے مارے پھر رہے تھے اور میں بھی وقت گزارنے کے لیے کبھی ایک کونے میں بیٹھتا تھا اور کبھی دوسرے کونے میں گھس جاتا تھا‘ یہ میرے پاس آئے، بیٹھے‘ گفتگو شروع کی اور ہم دوست بن گئے، منیر بھٹی کی کہانی دلچسپ بھی تھی اور حیران کن بھی‘ یہ اندرون لاہور کے رہنے والے تھے‘ والد پر جوانی میں روحانیت کا دورہ پڑا‘ یہ ان کی والدہ اور ان لوگوں کو اللہ کے آسرے پر چھوڑ کر جوگی بن گئے اور پھر کبھی واپس نہ آئے‘ والدہ نے محنت مزدوری کر کے اپنے تین بچے پالے‘ منیر بھٹی تیسرے نمبر پر تھے‘ ان کے بھائی اور بہن ان سے بڑے تھے‘ یہ پڑھائی میں ’’بیک بینچر‘‘ تھے‘ یہ ایڑیاں گھسا گھسا کر پڑھتے رہے‘ گھر چھوٹا تھا‘ گلی سے لے کر دہلیز تک اور دہلیز سے لے کر بستر تک غربت ہی غربت تھی‘ عزیز رشتے دار سب ساتھ چھوڑ چکے تھے‘ پورے محلے میں کوئی ادھار تک دینے والا نہیں تھا‘ یہ گرتے پڑتے تھرڈ ائیر تک پہنچ گئے‘ یہ گورنمنٹ کالج میں پڑھتے تھے‘ یہ ایک دن کالج کی سیڑھیوں پر بیٹھے تھے‘ یہ سوچنے لگے ’’میرا مستقبل کیا ہے؟‘‘ اس سوال کا کوئی جواب نہیں ملا‘ یہ ستر کی دھائی کے آخری سال تھے‘ ان دنوں بینک کی نوکری اچھی جاب سمجھی جاتی تھی‘ نوجوان بی اے کے بعد بینک جوائن کر لیتے تھے‘ انھیں ماہانہ ساڑھے چھ سو روپے ملتے تھے‘ منیر بھائی کے ذہن میں بھی بینک کی نوکری تھی ’’لیکن کیا ساڑھے چھ سو روپے سے میری غربت ختم ہو جائے گی؟‘‘ یہ ان کا اگلا سوال تھا‘ اس کا جواب ’’ناں‘‘ تھا‘ اس کے بعد انھوں نے سوچا‘ پھر میرے پڑھنے کا کیا فائدہ؟‘‘۔
اور یہ سوال انھیں عملی زندگی کی طرف لے گیا‘ انھوں نے کالج کی سیڑھیوں پر بیٹھے بیٹھے بزنس مین بننے کا فیصلہ کر لیا‘ انھوں نے اپیب کاپی‘ کتابیں اور پین کالج کی سڑھیوں پر چھوڑا اور پرانی انار کلی آ گئے‘ اس وقت ان کا کل اثاثہ تین سو روپے تھے‘ یہ ایک پرنٹنگ پریس پر گئے‘ اس سے اپنی خیالی کمپنی کا لیٹر پیڈ بنوایا‘ فرم کا نام پاکستان ایکسپورٹ کمپنی رکھا‘ کمپنی کی مہر بنوائی‘ تین سو روپے نقد ادا کیے اور دو سو روپے ادھار کر کے گھر واپس آ گئے‘ گھر آتے وقت ان کا سینہ فخر سے پھولا ہوا تھا‘ یہ خود کو بتا رہے تھے‘ میں صبح جب کالج گیا تھا تو میں ایک عام نالائق طالبعلم تھا مگر میں اب گھر واپس آیا ہوں تو میں ایک کمپنی کا مالک ہوں‘ مینیجنگ ڈائریکٹر پاکستان ایکسپورٹ کمپنی‘ ماں اور بھائی نے بہت لعن طعن کی مگر یہ ڈٹے رہے‘ یہ اپنی ذاتی کمپنی کے ایم ڈی سے کم پر کام کرنے کے لیے تیار نہیں تھے لیکن اب سوال یہ تھا‘ یہ کمپنی جس کا کل اثاثہ پانچ لیٹر پیڈ اور ایک مہر کے سوا کچھ نہیں‘ یہ کرے گی کیا اور اس کے لیے سرمایہ کہاں سے آئے گا؟ یہ منیر بھٹی کی زندگی کا سب سے بڑا اور اہم سوال تھا اور یہ اس اہم ترین سوال کے جواب میں نکل کھڑے ہوئے۔
منیر بھٹی کے چند عزیز کپڑے کا کاروبار کرتے تھے‘ یہ لوگ فیصل آباد سے کپڑا خریدتے تھے‘ رنگ کرواتے تھے اور آگے بیچ دیتے تھے‘ منیر بھٹی ان عزیزوں کے پاس چلے گئے‘ انھوں نے انھیں پلہ نہ پکڑایا لیکن انھیں لائین مل گئی‘ یہ فیصل آباد پہنچ گئے اور فیکٹریوں اور ملوں میں دھکے کھانے لگے‘ یہ ان دھکوں میں کپڑے کا کام سمجھ گئے‘ یہ جان گئے دھاگا کہاں سے ملتا ہے‘ کپڑا کہاں بنتا ہے‘ اس کپڑے کی رنگائی کہاں ہوتی ہے اور یہ کس کس مارکیٹ میں بیچا اور خریدا جاتا ہے‘ یہ تمام تفصیل سمجھ گئے‘ یہ ان کے لیے بہت بڑا شاک تھا‘ کپڑے کا سارا کاروبار ادھار‘ زبانی اور کچی چٹوں پر چلتا ہے‘ آپ اگر ایک بار سوتر منڈی میں اپنا ’’ویہار‘‘ قائم کر لیں تو آپ پر خزانوں کے دروازے کھل جاتے ہیں‘ منیر بھٹی نے ویہار (اعتماد) پر کام شروع کر دیا‘ یہ ادھار پر تھوڑا سا مال خریدتے‘ یہ مال خریدی ہوئی قیمت پر آگے بیچ دیتے اور بیوپاری کو وقت پر ادائیگی کر دیتے‘ بیوپاری آہستہ آہستہ ان پر اعتماد کرنے لگے‘ یہ اس کے بعد تھوڑا سا منافع لینے لگے‘ کریڈٹ کی لمٹ بڑھنے لگی‘ بیوپاری شروع میں انھیں ہفتے میں ادائیگی کے وعدے پر مال دیتے تھے مگر یہ مدت بڑھتے بڑھتے تین ماہ تک چلی گئی‘ یوں ان کا ادائیگیوں کا سرکل بڑھنے لگا‘ یہ تین ماہ کے ادھار پر مال لیتے تھے‘ تھوڑا سا منافع رکھ کر وہ مال نقد بیچ دیتے تھے۔
یہ رقم نئی خریداری پر لگا دیتے تھے‘ نیا مال خریدتے‘ اس سے منافع کماتے اور جن سے 90 دن میں ادائیگی کا وعدہ کیا ہوتا انھیں 45 سے 60 دن میں رقم ادا کر دیتے‘ یوں بیوپاری اور خریدار دونوں مطمئن ہو جاتے‘ یہ ’’ویہار‘‘ بڑھا تو انھوں نے کپڑے کی ایکسپورٹ پر توجہ دی‘ انھیں ایک جرمن کمپنی مل گئی‘ کمپنی نے آرڈر دینا شروع کر دیے اور یوں ان پر ڈالر برسنے لگے‘ یہ تین چار سال میں امیر لوگوں میں شمار ہونے لگے لیکن یہ منیر بھٹی کی منزل نہیں تھی‘ کسی نے انھیں بتایا یورپ اور امریکا میں جینز کی پتلونوں کی بہت مانگ ہے‘ یورپ اور امریکا کی کمپنیاں چھوٹے ممالک سے جینز کی پتلونیں بنواتی ہیں اور یہ پتلونیں ان کے ’’آوٹ لیٹس‘‘ پر مہنگی بکتی ہیں‘ منیر بھٹی نے ’’ڈینم پینٹس‘‘ کی فیکٹری لگانے کا فیصلہ کر لیا‘ یہ فیصلہ ان کے پچھلے فیصلوں سے زیادہ مشکل تھا لیکن یہ اس فیصلے پر ڈٹ گئے‘ انسان کا یہ کمال ہے یہ جب اپنی کسی ایک خامی یا کمی پر قابو پا لیتا ہے تو پھر اس کی کوئی خامی‘ خامی اور کوئی کمی‘ کمی نہیں رہتی‘ یہ پھر دنیا کی مشکل سے مشکل ترین مشکل کو بھی مشکل نہیں رہنے دیتا‘ دنیا کی مشکلیں انسان کا امتحان نہیں ہوتیں۔
اس کا اصل امتحان اس کی پہلی مشکل ہوتی ہے‘ آپ جب یہ مشکل گرا لیتے ہیں تو پھر آپ کے حوصلے آپ کے اعتماد اور آپ کی انرجی میں کئی ہزار گنا اضافہ ہو جاتا ہے اور یوں آپ فرہاد کی طرح پتھروں کے سینے سے دودھ کی نہر نکال دیتے ہیں‘ منیر بھٹی نے بھی اپنی زندگی کی پہلی اور سب سے بڑی مشکل کو شکست دے دی تھی‘ یہ غربت پر فتح پا چکے تھے لہٰذا اب کوئی مشکل ان کے لیے مشکل نہیں تھی‘ انھوں نے ڈینم پینٹس کا کارخانہ لگایا اور دنیا کے مشہور ترین برینڈز کی جینز بنانا شروع کر دیں‘ یہ کپڑے کے کاروبار سے نکل کر جینز کے بزنس میں آ گئے اور اس میں بھی انھوں نے کمال کر دیا‘ انھوں نے ایک کے بعد دوسری فیکٹری بنائی اور یہ ایک کے بعد دوسرے‘ دوسرے بعد تیسرے‘ چوتھے اور پانچویں ملک میں جینز ایکسپورٹ کرنے لگے‘ یہاں تک کہ ان کے ملازمین کی تعداد پانچ ہزار تک پہنچ گئی‘ یہ ملک کے سب سے بڑے جینز ایکسپورٹر بن گئے‘ یہ جب مجھے ملے تو یہ اس وقت ’’ڈینم پینٹس‘‘ کے ایکسپورٹر تھے۔
میری ان سے ملاقاتیں شروع ہو گئیں‘ میں ان کی فیکٹری بھی گیا‘ ان کے ملازمین سے بھی ملا اور ان کے گھر بھی گیا‘ یہ بھی اسلام آباد میں مجھے ملتے رہے‘ لاہور میں نہر کے کنارے ان کا دس کنال کا خوبصورت بنگلہ تھا‘ یہ بنگلہ خالی پڑا تھا‘ بھٹی صاحب نے اس بنگلے میں میرے ’’سیشنز‘‘ شروع کر دیے‘ میں مہینے میں ایک بار لاہور جاتا‘ یہ تین چار سو پڑھے لکھے لوگوں کو جمع کرتے اور ہم لوگ مختلف موضوعات پر گفتگو کرتے‘ یہ سیشنز کامیاب ہونے لگے تو بھٹی صاحب نے پروفیسر احمد رفیق اختر صاحب اور بلال قطب کے سیشنز بھی شروع کر دیے یوں یہ بھوت بنگلہ آہستہ آہستہ انٹلیکچول فورم میں تبدیل ہو گیا‘ میں نے ایک دن بھٹی صاحب کو مشورہ دیا ’’آپ اس گھر میں کوئی تعلیمی ادارہ کیوں نہیں بنا لیتے‘‘ بھٹی صاحب بولے ’’ہاں اس میں کوئی حرج نہیں‘ میں سارا دن فارغ رہتا ہوں‘ بچے کاروبار سنبھال چکے ہیں‘ میں اگر یہاں کالج بنا لوں تو میرا دل بھی لگا رہے گا اور لوگوں کو اچھی تعلیم بھی ملے گی‘‘ بھٹی صاحب نے اس منصوبے پر کام شروع کر دیا‘ انھوں نے اپنے سابق کالج گورنمنٹ کالج کی فرنچائز لی‘ گھر کو کالج میں تبدیل کیا‘ اسیٹ آف دی آرٹ کلاس روم بنائے اور کلاسز شروع کرا دیں‘ یہ منصوبہ کامیاب ہو گیا‘ منیر بھٹی کو نئی زندگی مل گئی اور یوں ایک ایسا نوجوان جس نے غربت کی وجہ سے تعلیم ادھوری چھوڑ دی تھی‘ وہ نوجوانوں کو تعلیم فراہم کرنے لگا‘ کالج کے تجربے نے انھیں حوصلہ دیا اور یہ یونیورسٹی بنانے کا خواب دیکھنے لگے‘ نئی یونیورسٹی کا چارٹر مشکل تھا۔
چنانچہ انھوں نے بہائو الدین ذکریا یونیورسٹی کے ساتھ مل کر لاہور میں اس کا کیمپس بنا لیا‘ انھوں نے شہر کے تین حصوں میں شاندار عمارتیں بنائیں اور داخلے کھول دیے‘ تین ہزار طالبعلموں نے ان کے کیمپس میں داخلہ لے لیا‘ میں یونیورسٹی کے پہلے دن ان کے کیمپس گیا تو وہاں نوجوان لڑکیوں اور لڑکوں کو دیکھ کر بڑی خوشی ہوئی‘ منیر بھٹی بھی بہت خوش تھے‘ یہ سمجھ رہے تھے ان کی اصل زندگی اب شروع ہوئی ہے‘ یہ تعلیم کے اس سلسلے کو آہستہ آہستہ آگے پھیلاتے جائینگے‘ یہ لاہور میں بیس ادارے بنائینگے‘ پھر پورا پنجاب کور کرینگے اور اس کے بعد ملک کے مختلف شہروں اور قصبوں میں اسکول‘ کالج اور یونیورسٹیاں بنائینگے‘ ان کا کہنا تھا ’’ میں سیٹھ منیر بھٹی بن کر نہیں مرنا چاہتا‘ میں ماسٹر منیر بھٹی کے نام سے مرنا چاہتا ہوں‘‘ میرے منہ سے آمین نکلا کیونکہ یہ ’’ویہار‘‘ کا بندہ ہے اور اگر اس نے کپڑے کے ویہار کو تعلیم کے ننگے بدن کی پوشاک بنا لیا تو یہ واقعی کمال ہو گا اور یہ اگر اس میں کامیاب نہیں ہوتے تو بھی کوئی خرابی نہیں کیونکہ یہ بہرحال مقابلے میں تو اترے‘ انھوں نے چراغ جلانے کی کوشش تو کی‘ یہ آلو پیاز مہنگے کرنے والے بیوپاری تو نہیں رہے۔
قوم وقت سے پہلے ہی پریشان ہوگئی
جاوید چوہدری بدھ 13 نومبر 2013
آپ اندرا گاندھی کی مثال لیجیے‘ یہ بھارت کی پانچویں وزیراعظم تھیں‘ بھارت کے سب سے بڑے سیاسی خاندان نہرو فیملی سے تعلق رکھتی تھیں‘ یہ دو بار انڈیا کی وزیراعظم رہیں‘ یہ 31 اکتوبر 1984ء کو دہلی میں اپنے سکھ گارڈز ستونت سنگھ اور بیانت سنگھ کے ہاتھوں قتل ہو گئیں‘ یہ اندوہناک واقعہ تھا‘ اس واقعے پر جہاں پورے بھارت کے لوگ غمزدہ ہو گئے‘ وہاں دہلی‘ ممبئی اور دوسرے ہندو اکثریتی شہروں میں وسیع پمائنے پر سکھوں کا قتل عام شروع ہو گیا‘ دہلی شہر میںتین ہزار سکھ مار دیے گئے جب کہ سکھ آبادیوں کو جلا دیا گیا‘ عورتوں کو سر عام بے عزت کیا گیا اور مردوں کے گلوں میں ٹائر ڈال کر انھیں آگ لگا دی گئی‘ فسادات کے اس زمانے میں ہندوستان کے مسلمان علما نے اندرا گاندھی کو انتہائی دلچسپ ٹریبوٹ پیش کیا‘ علماء ہند نے اردو میں ایک کتابچہ شایع کیا اور کتابچہ پورے ہندوستان میں تقسیم کرا دیا‘ میں اس وقت طالب علم تھا‘ یہ کتابچہ بھارت سے اسمگل ہو کر پاکستان پہنچ گیا‘ میں نے اپنے ایک استاد کی میز پر یہ میگزین دیکھا‘ مجھے اچھی طرح یاد ہے اس کتابچے کے سرورق پر اندرا گاندھی کی نعش کی تصویر چھپی تھی‘ اندرا گاندھی گردن تک سفید کفن میں ملبوس تھیں‘صرف ان کا چہرہ ننگا تھا‘ ناک کے نتھنوں میں روئی کے پھاہے پھنسے ہوئے تھے۔
اس تصویر کے اوپر اردو کا ایک شعر لکھا تھا‘ مجھے وہ شعر آج تک یاد ہے ’’رتبہ شہید عشق کا گر جان جائیے…… قربان جانے والے کے قربان جائیے‘‘ اس شعر کے نیچے کفن میں لپٹی لاش کی تصویر تھی اور تصویر کے نیچے لکھا تھا ’’ سیدہ اندرا گاندھی شہید‘‘ یہ کتابچہ ہندوستان کے ایک نامور دارالعلوم کی انتظامیہ نے شایع کیا تھا‘ میں فساد خلق کی وجہ سے اس دارالعلوم کا نام تحریر نہیں کر رہا‘ میں نے اپنے استاد سے اس ٹائٹل کے بارے میں پوچھا‘ انھوں نے مسکرا کر جواب دیا ’’اس میں کیا حرج ہے‘ عربی میں سید محترم اور سیدہ محترمہ کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے جب کہ ہندوستان کے ہندو اندرا گاندھی کو شہید قرار دے رہے ہیں‘ مسلمان اس سے انکار کر کے ان کے جذبات کی توہین نہیں کرنا چاہتے‘‘ میرا ذہن بھی کچا تھا اور میں ان دنوں جلد بھڑک بھی جاتا تھا‘ میں نے ان سے عرض کیا ’’ جناب ہندوستان کے علما کو یہ جھک مارنے کی کیا ضرورت تھی‘ آپ یہ کتابچہ شایع ہی نہ کرتے‘ پورا ہندوستان اندرا گاندھی کو فرشتہ کہتا یا شہید آپ بس خاموش رہتے‘‘ میرے استاد نے اس کے جواب میں لمبی چوڑی توجیہہ بیان کر دی مگر میں نے ان سے اتفاق نہ کیا‘ میرا خیال تھا‘ اندرا گاندھی تاریخ میں دفن ہو جائیں گی لیکن یہ کتابچہ ہمیشہ زندہ رہے گا۔
مجھے بعض اوقات اپنے مذہب پر بہت ترس آتا ہے‘ دنیا میں اس وقت ڈیڑھ ارب مسلمان ہیں اور ڈیڑھ ارب ہی شیخ الاسلام‘ مجدد‘ غوث‘ ابدال اور مفتی اعظم ہیں‘ آپ کسی مسلمان بھائی کے پاس بیٹھ جائیں آپ کو محسوس ہو گا پورے عالم اسلام میں اس سے بڑا کوئی مذہبی رہنما‘ کوئی صوفی اور کوئی مفتی نہیں‘ ہم شرابی کبابی بادشاہوں کو ظل الٰہی کا خطاب دینے والے لوگ ہیں‘ ہم سے بڑا دیالو کون ہوگا؟ ہم میں تو ایسے ایسے لوگ موجود ہیں جو (نعوذ باللہ) یہ دعویٰ تک فرما دیتے ہیں ہم روز اللہ تعالیٰ سے مخاطب ہوتے ہیں اور اللہ تعالیٰ ہمیں ہمارے سوالوں کے جواب دیتا ہے اور سننے والوں کے پاس خاموشی کے سوا کوئی چارہ نہیں ہوتا‘ میرے پاس چند دن قبل ایک میاں بیوی تشریف لائے‘ بیوی کا دعویٰ تھا میرا خاوند امام مہدی (نعوذ باللہ) تعینات ہو چکا ہے‘ میں نے خاوند کی طرف دیکھا‘ وہ اس وقت سگریٹ کا لمبا کش لگا کر ناک سے دھواں نکال رہا تھا‘ میں نے امام مہدی (جعلی) سے پوچھا ’’ آپ نے اسلام کی اب تک کیا خدمت کی‘‘ وہ فرمانے لگے ’’ میں نے اوبامہ سمیت دنیا کے دس سربراہان کو خط لکھ دیے ہیں‘ تم مجھ پر فوراً ایمان لے آئو ورنہ میرا لشکر تم پر حملہ کر دے گا‘‘ میں نے استغفار پڑھا اور دونوں کو بڑی مشکل سے دفتر سے نکالا۔
نبی اکرمؐ آخری نبی ہیں‘ یہ ہمارا ایمان ہے اور کوئی مسلمان اس وقت تک مسلمان نہیں ہو سکتا جب تک یہ اس بات پر ایمان نہ لے آئے مگر آپ نبی اکرمؐ کے ظہور سے لے کر آج تک کی تاریخ اٹھا کر دیکھ لیجیے‘ آپ کو عالم اسلام میں نہ صرف سیکڑوں جھوٹے نبی میںپ گے بلکہ آپ ان کے گرد لاکھوں عقیدت مندوں کا مجمع بھی دیکھیں گے‘ دنیا میں حضرت موسیٰ ؑ کے بعد یہودیوں میں کوئی دوسرا موسیٰ نہیں آیا‘ عیسائیوں میں کسی عیسیٰ ثانی نے جنم نہیں لیا مگر اسلام کے ٹھوس اور بے لچک قوانین کے باوجود جعلی نبیوں کا سلسلہ بند نہیں ہو رہا‘ عالم اسلام میں ہر دو تین سال بعد کوئی نہ کوئی جعلی نبی نکل آتا ہے اور لوگ اس کے ہاتھ پر بیعت بھی کر لیتے ہیں‘ دنیا کا کوئی عیسائی‘ کوئی یہودی حضرت موسیٰ ؑ اور حضرت عیسیٰ ؑ کی زیارت کا دعویٰ نہیں کرتا مگر ہمارے علماء کرام جلسوں میں کھڑے ہو کر دعویٰ کر دیتے ہیں نبی اکرمؐ (معاذ اللہ) ہوائی سفر کا ٹکٹ مانگ رہے ہیں‘ آپ میں سے کوئی فرزند توحید ہے جو اپنے رسول ؐ کو ٹکٹ دے سکے‘ ہمیں تذکروں کی ہر دوسری تیسری کتاب میں نبی اکرمؐ کی زیارت اور ان سے مکالمات مل جاتے ہیں‘ آپ حد ملاحظہ کیجیے۔
جوش ملیح آبادی صاحب نے بھی اپنی اس کتاب میں زیارت کا دعویٰ فرما دیا تھا جس کتاب کو کوئی شریف اور نابالغ مسلمان نہیں پڑھ سکتا‘ میں ہرگز ہرگز ان واقعات کی صحت سے انکار نہیں کرتا‘ ہم میں یقینا ایسے صاحب کردار لوگ ہوں گے جنھیں آپؐ کی زیارت نصیب ہوتی ہو گی لیکن اس دعویٰ کی شرعی حثیت کیا ہے؟ اور کیا ہم صرف ان دعوئوں کی بنیاد پر کسی شخص کے کردار سے آنکھ بند کر سکتے ہیں یقینا نہیں! مگر ہمارے علما آج تک ان دعوئوں اور ان جھوٹے نبیوں اور امام مہدیوں پر پابندی نہیں لگا سکے‘ یہ مذہب حقیقتاً مظلوم ہے کیونکہ آپ صرف اسلامی نام رکھ کر کوئی بھی فتویٰ جاری کر سکتے ہیں‘ آپ کسی بھی شخص کو کسی بھی وقت سو پچاس حجوں اور دس پندرہ لاکھ نمازوں کا ثواب ’’عنایت‘‘ کر سکتے ہیں‘ آپ کسی بھی وقت کسی بھی حکمران کو مجاہد اسلام‘ کسی کو بھی خلیفۃ المسلمین‘ کسی کو بھی امام دوران اور کسی کو بھی مفتی اعظم ڈکلیئر کر سکتے ہیں اور سننے والوں کے پاس واہ واہ کے سوا کوئی چارہ نہیں ہوگا اور رہ گئی شہادت تو ہم میں سے کوئی بھی شخص‘ کوئی بھی سیاسی جماعت‘ کوئی بھی گروپ اور کوئی بھی ادارہ کسی بھی وقت کسی بھی شخص کو شہادت کا اعزاز دے سکتا ہے اور کسی کو اعتراض کی جرأت نہیں ہو سکتی‘ آپ ہمارا کمال ملاحظہ کیجیے۔
جنرل ضیاء الحق نے ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دی‘ پاکستان پیپلز پارٹی کے مفتیوں نے بھٹو صاحب کو شہید قرار دے دیا‘ جنرل ضیاء الحق فضائی حادثے میں مارے گئے تو چند نامعلوم مفتیوں نے انھیں بھی شہید ڈکلیئر کر دیا‘ کسی نے بھٹو کی شہادت پر اعتراض کیا اور نہ ہی کسی نے جنرل ضیاء الحق کی شہادت کو چیلنج کیا ‘کہا جاتا ہے کہ بھٹو صاحب کے صاحبزادوں نے الذوالفقاربنائی‘ یہ جس کو قتل کرتی تھی وہ بھی شہید تھا اور ریاست الذوالفقار کے جس ’’مجاہد‘‘ کو گولی مارتی تھی وہ بھی شہید ہوتا تھا‘ بلوچستان میں بغاوت کے دوران ریاست نے جن بلوچوں کو مارا وہ بھی شہید تھے اور بلوچوں کے ہاتھوں جو سرکاری اہلکار مارے گئے وہ بھی شہید تھے‘ بنگالیوں نے ہمیں مارا‘ ہم بھی شہید تھے اور ہم نے جن بنگالیوں کو مارا وہ بھی شہید تھے‘ میاں نواز شریف اور جنرل مشرف سمیت پاکستان کا ہر حکمران ڈھاکا میں مکتی باہنی کے ان شہداء کی یادگار پر بھی گیا اور وہاں اس نے پھولوں کی چادر بھی چڑھائی۔
پولیس کی گولی سے مرنے والا مرتضیٰ بھٹو بھی شہید تھا اور ان کے ساتھیوں کی گولیوں کا نشانہ بننے والے پولیس اہلکار بھی شہید‘ پولیس مقابلوں میں مرنے والے ڈاکو بھی شہید ہوتے ہیں اور ڈاکوئوں کی گولی کا شکار ہونے والے پولیس اہلکار بھی‘ ایم کیو ایم کے کارکن بھی شہید ہیں اور کراچی میں ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بننے والے چار سو پولیس اہلکار بھی شہید‘ نواب اکبر بگٹی کو سابق صدر زرداری بھی شہید کہتے ہیں اور میاں نواز شریف بھی اور دونوں کی نظر میں اکبر بگٹی کے ساتھ غار میں مرنے والے فوجی آفیسر بھی شہید تھے اور لال مسجد میں مرنے والی بچیاں اور ان کی حفاظت کے دوران مرنے والے بچے بھی شہید ہیں اور ان بچوں کی جوابی فائرنگ کا نشانہ بننے والے فوجی اہلکار بھی شہید‘بے نظیر بھٹو بھی شہید ہیں اور ان کو شہید کرنے والے بھی شہید‘ ہمارے ملک میں جب شہادت کا ٹائٹل اتنا آسان‘ اتنا عام ہے تو پھر ہم سید منور حسن اور مولانا فضل الرحمن پر اعتراض کیوں کر رہے ہیں؟ہم جب اس ملک میں کسی بھی شخص کو کسی بھی وقت شہید کا درجہ دے سکتے ہیں تو پھر مولانا فضل الرحمن کتے کو بھی شہید کہہ سکتے ہیں‘ ہم اعتراض کرنے والے کون ہوتے ہیں؟ ہم چیخ کیوں رہے ہیں؟۔
ہم بہت دلچسپ قوم ہیں‘ ہمارا ہر دوسرا معاہدہ صلح حدیبیہ یا میثاق مدینہ ہوتا ہے خواہ یہ این آر او‘ سی او ڈی یا مری ڈکلیئریشن ہی کیوں نہ ہو‘ ہماری ہرسیاسی معافی فتح مکہ کی عام معافی ہوتی ہے خواہ یہ سوئس اکائونٹس‘ حج کرپشن اور این آئی سی ایل کی معافی ہی کیوں نہ ہو ‘ ہمارا ہر مرنے والا شہید ہوتا ہے خواہ یہ مسجدوں میں نمازیوں کو قتل کرتے ہوئے ہی کیوں نہ مارا جائے‘ ہمارا مفاد قومی مفاد ہوتا ہے خواہ یہ اٹھارہویں ترمیم ہی کیوں نہ ہو اور ہمارا ہر حکمران حضرت عمر فاروقؓ ثانی ہوتا ہے خواہ یہ جعلی ریفرنڈم یا پی سی او کی کوکھ ہی سے جنم کیوں نہ لے اور ہمارا ہر سرکاری عہدیدار مجاہد ہوتا ہے خواہ یہ باقی زندگی جیل ہی میں کیوں نہ سڑتا رہا ہو اور ہمارے ملک کا ہر داڑھی والا مولانا ہوتا ہے خواہ اس نے زندگی میں کوئی نماز نہ پڑھی ہو‘ ملک میں جب ٹماٹر‘ پیاز مہنگے اور دینی اعزاز سستے ہو جائیں گے تو پھر کتوں کو بھی شہید کہا جائے گا اور ریاست کے دشمنوں کو بھی شہادت کی مسند پر بٹھایا جائے گا‘ آپ پریشان کیوں ہوتے ہیں‘ ہم نے تو ابھی گری ہوئی دیواروں‘ ٹوٹی ہوئی سڑکوں اور شکستہ پلوں کو بھی شہادت کا درجہ دینا ہے‘ ہم نے تو ابھی ٹرین کے ڈبوں اور گرائونڈ ہوئے جہازوں کو بھی شہادت کے رتبے پرفائز کرنا ہے‘ قوم وقت سے پہلے ہی پریشان ہو گئی‘ آپ صبر کریں‘ شہادتوں کے ابھی بے شمار مقامات آپ کا انتظار کر رہے ہیں۔
میز کی دوسری طرف
جاوید چوہدری پير 11 نومبر 2013
دنیا کا نامور نفسیات دان سگمنڈ فرائڈ یہودی تھا‘ اس کا والدجیکب فرائڈ اُون کا کاروبار کرتا تھا‘ یہ لوگ آسٹریا میں رہتے تھے‘ سگمنڈ فرائڈ کا والدسرپر یہودیوں کی مخصوص ٹوپی رکھتا تھا‘ فرائڈ بچپن میں اپنے والد کے ساتھ کہیں جا رہا تھا‘ یہ لوگ فٹ پاتھ پر آہستہ آہستہ چل رہے تھے‘ وہاں سے اچانک جرمن نوجوانوں کا ایک گروپ گزرا‘ انھوں نے فرائڈ کے والد کو دیکھا تواس کے سر سے ٹوپی نوچی‘ سڑک پر پھینکی‘ ننگی گالیاں دیں‘ تھپڑ اور ٹھڈے مارے اور فرائڈ کے والد کو فٹ پاتھ پر گرا کر چلے گئے‘ فرائڈ کا والد اٹھا‘ اس نے سڑک سے ٹوپی اٹھائی‘ جھاڑی‘ سر پر رکھی اور بیٹے کا ہاتھ پکڑ کر چل پڑا‘ فرائڈ نے گھر واپس پہنچ کر والد سے پوچھا ’’ ہمارے ساتھ بہت برا سلوک ہوا مگر آپ خاموش رہے‘‘ کیوں؟‘ والد نے اثبات میں سرہلایا اور بولا ’’ بیٹا‘ میں اگر چاہتا تو میں بھی ان سے بھڑ جاتا‘ میں گالی کا جواب گالی سے دیتا‘ پانچ تھپڑوں کے جواب میں ایک تھپڑ مار دیتا اور ان میں سے کسی ایک کو جکڑ کر نیچے دبا لیتا لیکن میں اگر ایسا کرتا تو تم پوری زندگی لوگوں سے بھڑتے رہتے اور میں یہ نہیں چاہتا ہوں‘‘ فرائڈ غور سے والد کی طرف دیکھنے لگا، والد نے کہا’’ بیٹا تم اس ملک میں اقلیت ہو‘ تم مار کھانے کے لیے تیار رہو اس وقت تک جب تک تمہارا نام مارنے والوں کے تھپڑوں اور ٹھڈوں سے بڑا نہیں ہو جاتا‘‘۔
فرائڈ کا والد پڑھا لکھا اور سمجھدار شخص تھا‘فرائڈ بھی دانشور اور نفسیات دان تھا چنانچہ وہ فرد کی غلطی‘ فرد کے ظلم کو فرد کا ظلم اور غلطی سمجھتا تھا‘ وہ اسے اجتماعی ظلم اور غلطی نہیں بناتا تھا‘ یہ فرق ایک ان پڑھ اور پڑھے لکھے شخص کا فرق ہوتا ہے‘ ان پڑھ پر کوئی ایک پنجابی‘ کوئی ایک سندھی‘ کوئی ایک پشتون یا کوئی ایک بلوچی ظلم کرے تو وہ دل میں پوری کمیونٹی کے خلاف نفرت پال لیتا ہے‘ وہ اس ظلم کا بدلہ ہر بلوچی‘ ہر پشتون‘ ہر سندھی اور ہر پنجابی سے لیتا ہے جب کہ پڑھا لکھا شخص یہ سمجھتا ہے تمام لوگ ایک جیسے نہیں ہوتے‘ اگر کوئی ایک شخص برا ہے تو ضروری نہیں اس شخص کے قبیلے کا ہر شخص برا ہو گا‘ قبیلے میں اچھے لوگ بھی ہوں گے اور یہ بھی ضروری نہیں میں جس قبیلے یا خاندان سے تعلق رکھتا ہوں‘ اس کے سارے لوگ بھی اچھے ہوں گے‘ میرے قبیلے کے لوگ بھی برے اور ظالم ہو سکتے ہیں ا ور یہ ورژن ہی سچا اور اصل ہوتا ہے‘ ہمارے دائیں بائیں سترہ مزاج کے لوگ ہوتے ہیں‘ ہمارے بہن بھائی بھی برے‘ ظالم اور بدمعاش ذہنیت کے مالک ہو سکتے ہیں اور یہ بھی سچ ہے دنیا کا برے سے برا شخص بھی چوبیس گھنٹے برا نہیں ہوتا‘ ہم اپنے ساتھ ہونے والے واقعات کی بنیاد پر دوسرے کے بارے میں رائے بناتے ہیں‘ ایک شخص مرتے ہوئے زخمی کو خون پہنچانے کے لے گن پوائنٹ پر موٹر سائیکل چھین لیتا ہے‘ یہ زخمی کے لیے فرشتہ اور موٹر سائیکل مالک کے لیے شیطان ہو گا‘ زخمی پوری زندگی اسے دعائیں دے گا جب کہ موٹر سائیکل کا مالک موٹر سائیکل واپس ملنے کے باوجود اسے ہمیشہ اپنی بددعاؤں میں یاد رکھے گا‘ یہ حقیقت ہے لیکن ایسی حقیقتوں تک پہنچنے کے لیے آپ کا پڑھا لکھا‘ سمجھ دار‘ دانشور اور نفسیات دان ہونا ضروری ہوتا ہے ‘ ہم میں نفسیات دان‘ دانشور‘ سمجھ دار اور پڑھے لکھے لوگ کتنے ہوتے ہیں؟ ہم میں سے زیادہ تر لوگ زخمی ہوتے ہیں یا پھر چھینے جانے والی موٹر سائیکل کے مالک اور ہم صرف اپنے ساتھ ہونے والے کسی ایک واقعے کی بنیاد پر پوری زندگی کی فلاسفی بناتے ہیں اور مرنے تک اس کے ساتھ چپکے رہتے ہیں‘ ہم فرد کے ظلم کو فرد کا ظلم اور فرد کی مہربانی کو فرد کی مہربانی نہیں سمجھتے‘ ہم اسے اجتماعی شکل دے دیتے ہیں۔
ہماری ریاست اور طالبان کے درمیان بھی یہی معاملہ ہے اور ہم جب تک اس معاملے کی نفسیاتی گتھیاں نہیں سلجھائیں گے‘ ہم اس وقت تک یہ معاملہ سلجھا نہیں سکیں گے‘ آپ ایک لمحے کے لیے طالبان بن جائیں‘ آپ میز کی اس سائیڈ سے اٹھ کر دوسری سائیڈ پر چلے جائیں‘ طالبان بھی ایک لمحے کے لیے پاکستانی ریاست بن جائیں‘ یہ بھی ایک لمحے کے لیے میز کی اس سائیڈ سے دوسری سائیڈ پر آ جائیں‘ تصویر کی دونوں سائیڈیں سامنے آ جائیں گی‘ طالبان کون ہیں‘ یہ لوگ ڈرون‘ امریکی یلغار اوراداروں کے چند ناعاقابت اندیش لوگوں کے ستائے ہوے لوگ ہیں‘ آپ خود سوچئے آپ کے گھر پر جب ڈرون حملہ ہو گا اور آپ اپنے بے گناہ والدین‘ بہن‘ بھائیوں اور عزیز رشتے داروں کی نعشوں کے ٹکڑے اٹھائیں گے تو کیا آپ کا ذہنی توازن درست رہے گا؟ آپ اگر سگمنڈ فرائڈ کی طرح بہت زیادہ پڑھے لکھے اور سمجھ دار نہیں ہیں‘ تو کیا آپ ڈرون حملہ کرنے اور ڈرون حملوں میں مدد دینے والوں سے بدلہ نہیںلینا چاہیں گے؟ یہ حقیقت ہے دکھ انسان کو انسان نہیں رہنے دیتا‘ یہ انسان کو درندہ بنا دیتا ہے اور انسان انتقام میں اپنی جان تک کی پروا نہیں کرتا‘ آپ یہ بھی سوچئے اگر کوئی شخص یا ادارہ آپ کے بھائی‘ والد یا بیٹے کو اچانک اٹھا لے جائے‘ اس پر انسانیت سوز تشدد کیا جائے اور آپ کو اس کی کٹی پھٹی لاش ملے یا پھرپانچ پانچ دس دس سال تک آپ کو اس کی کوئی خبر نہ ملے تو کیا آپ ذہنی طور پر نارمل رہیں گے؟
آپ یہ بھی سوچئے جب ریمنڈ ڈیوس آپ کے سامنے سے مسکراتا ہوا واپس چلا جائے گا یا پھر امریکی کمانڈوز ملک کے بڑے بڑے شہروں میں دندناتے پھریں گے اور ہماری ریاست انھیں روک نہیں سکے گی تو کیا آپ نارمل رہ سکیں گے‘ آپ یہ بھی سوچئے آپ دین دار شخص ہیں‘ آپ قرآن مجید اور مسجد کو جان سے زیادہ اہمیت دیتے ہیں اور آپ کی نظروں کے سامنے لال مسجد کی بچیوں کو فاسفورس بموں سے اڑا دیا جائے گا اور ریاست چھ سال میں یہ تعین نہیں کر سکے گی لال مسجد آپریشن کا حکم یا اجازت کس نے دی تھی تو کیا آپ نارمل رہ سکیں گے؟ کیا آپ پولیس سے انتقام نہیں لیں گے اور کیا آپ سیاستدانوں‘ فوج‘ آئی ایس آئی اور تماشہ دیکھنے والے عام شہریوں کو ملزم نہیں سمجھیں گے؟ آپ یہ بھی سوچئے آپ جب ذاتی یا ریاستی مفادات کے لیے عام لوگوں کو جہاد کے نام پر اکٹھا کریں گے‘ آپ انھیں ٹریننگ دے کر افغانستان اور کشمیر بھجوائیں گے اور آپ کے مفادات جب پورے ہو جائیں گے تو آپ انھیں تنہا چھوڑ دیں گے یا پھر آپ ان کے وجود تک سے منکر ہو جائیں گے تو کیا یہ لوگ اسے دھوکہ نہیں سمجھیں گے اور یہ اس دھوکے کا بدلہ لینے کی کوشش نہیں کریں گے؟ اور آپ یہ بھی سوچئے ہم جب 60 سال تک ملک کے ایک طبقے کو جان بوجھ کر شعور‘ تعلیم اور آگہی سے محروم رکھیں گے‘ ہم انھیں مسجدوں کے چندوں اور مخیر حضرات کے صدقوں پر پلنے دیں گے تو کیا یہ لوگ ایک دن جمع ہو کر ہمارا گلا نہیں پکڑیں گے؟ یہ ہم سے اپنی مرضی کا چندہ نہیں مانگیں گے‘ یہ وہ حقیقتیں ہیں جن تک ہماری ریاست اس وقت تک نہیں پہنچ پائے گی جب تک یہ میز کی دوسری طرف بیٹھے لوگوں کے ساتھ نہیں بیٹھتی‘ یہ ان کے درد او ردکھ کے پھوڑے نہیں دیکھتی‘ یہ ان کے زخموں کا مطالعہ نہیں کرتی۔
میری طالبان سے بھی ایک درخواست ہے‘ آپ بھی ایک لمحے کے لیے میز کی اس سائیڈ پر آ جائیے اور آپ ریاست کے ساتھ بیٹھ کر دیکھئے کیا چند لوگوں کی زیادتی کا بدلہ پورے معاشرے سے لینا جائز ہے؟ کیا چند لوگوں کے ظلم کی وجہ سے پورے پورے ادارے مجرم ہو گئے؟ کیا آپ ان اداروں میں کام کرنے والے بے گناہوں کو بھی سزا دیں گے؟ کیا آپ سڑک پر چلتے ہوئے ان لوگوں کو بھی نشانہ بنائیں گے‘ جو اپنی بچیوں‘ اپنے بچوں کے لیے رزق تلاش کرنے کے لیے گھر سے نکلے ہیں؟ کیا آپ زندگی کے ہاتھوں مرے ہوئے لوگوں کو ماریں گے‘ آپ اس بوسیدہ اور ظالمانہ نظام کے شکنجے میں پھنسے ہوئے معصوم لوگوں کو بھی مجرم سمجھتے ہیں اور کیا آپ اس ریاست کو بھی توڑنا چاہتے ہیں جو لا الٰہ الااللہ کے نام پر وجود میں آئی تھی‘ ہم سب اس اسلامی جمہوریہ پاکستان میں اسلامی نظام نافذ کرنا چاہتے ہیں لیکن یہ اسلام بے گناہ اور معصوم لوگوں کو مارنے سے نافذ نہیں ہو سکے گا‘ آپ ملک کے کسی ایک شہر کو مدینہ بنا دیں‘ آپ اسے امن‘ شانتی اور سکون کا گہوارہ بنا دیں‘ یہ پوری ریاست اسلامی ہو جائے گی‘ آپ آئیے بلدیاتی الیکشن لڑیئے‘ کسی ایک شہر میں اپنی انتظامی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیجیے‘ یہ پورا ملک آپ کا ہو جائے گا‘ آپ اگر12ہزار3سو 52 کلو میٹر دور بیٹھے امریکا اور اس کے بھجوائے ہوئے ڈرونز کا بدلہ معصوم اور بے گناہ پاکستانیوں سے لیتے رہے تو اسلامی نظام کا خواب خواب ہی رہے گا‘ یہ کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہو گا اور ایک آخری بات‘ آپ کو معلوم ہے نبی اکرمؐ نے فتح مکہ کے وقت حضرت ابو سفیانؓ کے گھر کو دارالامان کیوں قرار دیا تھا؟ اس کی درجنوں وجوہات ہو سکتی ہیں مگر ایک وجہ ایک چھوٹے سے احسان کا بدلہ بھی تھا‘ اسلام کے ابتدائی دنوں میں ابوجہل نے مکہ کے بچوں کے ہاتھ میں پتھر دیے اور یہ پتھر نبی اکرمؐ پر برسانے کا حکم دیا‘ بچوں نے پتھر مارنا شروع کر دیے‘ آپؐ دوڑ پڑے‘ بچے پتھر لے کر پیچھے پیچھے دوڑنے لگے‘ آپؐ کے راستے میں ابوسفیان کا گھر آگیا‘ ابوسفیان نے آپؐ کو اپنے گھر میں پناہ دی اور بچوں کو ڈانٹ کر بھگا دیا‘ یہ وہ احسان تھا جسے نبی اکرمؐ نے پوری زندگی یاد رکھا چنانچہ آپؐ نے فتح مکہ کے دن حضرت ابو سفیانؓ کے گھر کو دارالامان قرار دے دیا اور آپ یہ بھی ذہن میں رکھیں نبی اکرمؐکی سب سے بڑی دشمن وہ ہندہ جس نے حضرت امیر حمزہؓ کا کلیجہ چبایا تھا وہ اسی گھر میں رہتی تھی‘ میری طالبان سے درخواست ہے‘ اس ریاست نے بھی آپ پر بہت احسان کیے ہیں‘ یہ تین چوتھائی عمر آپ کو پناہ دیتی رہی‘ آپ نبی اکرمؐ کی سنت ادا کرتے ہوئے اسے دارالامان قرار دے دیں‘ آپ اس گھر کے عام اور بے گناہ لوگوں کی جان بخشی کر دیں‘ اللہ آپ کو اجر دے گا۔
ظالم
جاوید چوہدری ہفتہ 9 نومبر 2013
آپ پہلی مثال لیجیے۔
محترمہ بے نظیر بھٹو اور آصف علی زرداری کے لیے پوری دنیا کھلی تھی، محترمہ1997ء میں ملک سے باہر گئیں، یہ دنیا کے تین بڑے محفوظ اور شاندار شہروں دبئی، لندن اور نیویارک کی شہری تھیں‘ تینوں شہروں میں ان کے گھر تھے‘ دبیہ میں محل جیسا گھر تھا‘ لندن میں بھی فلیٹ تھا اور سرے محل بھی اور نیویارک مین ہٹن میں بھی شاندار اپارٹمنٹ تھا‘ یہ تینوں شہر دہشت گردی‘ پلوشن‘ گندگی اور شہری مسائل سے پاک ہیں‘ محترمہ اپنے بچوں کے ساتھ گھر سے نکلتی تھیں‘ پارکس‘ بیچز‘ پلے لینڈز‘ میوزیمز‘ اسٹیڈیمز اور ریستورانوں میں جاتی تھیں اور انھںل کسی جگہ گارڈز اور پروٹوکول کی ضرورت نہیں پڑتی تھی‘ یہ بلاخوف وخطر لندن کی انڈر گرائونڈ ٹرین میں سفر کرتی تھیں‘ نیویارک کی ٹیکسیوں میں بیٹھ جاتی تھیں اور عام جہازوں میں لمبے لمبے سفر کرتی تھیں‘ ان کے بچے دبئی کے امریکن اسکولوں میں پڑھتے تھے‘ ماحول صاف ستھرا تھا‘ گھر کلین تھے‘ لوگ مہذب تھے اور پڑھے لکھے اور کلچرڈ لوگوں کی کمپنی بھی حاصل تھی‘ دنیا کے مشہور صحافی اور دانشور محترمہ کے دوست تھے‘ یہ دنیا کے شاندار تعلیمی اداروں میں لیکچر بھی دیتی تھیں‘ یہ امریکی اخبارات کے صفحہ اول پر شائع ہوتی تھیں۔
یہ نیوز ویک اور ٹائم کی کور اسٹوریز میں بھی آتی تھیں‘ دنیا کے ان شاندار شہروں میں ان کا سرمایہ بھی محفوظ تھا‘ عزت بھی‘ جان بھی اور نخرے بھی لیکن پھر محترمہ نے یہ آرام‘ یہ تحفظ‘ یہ صاف ستھرا ماحول‘ فیملی لائف اور یہ پروٹوکول چھوڑ دیا‘ یہ تمام سہولتیں چھوڑ کر اس ملک میں واپس آ گئیں جہاں ان کی جان کو بھی خطرہ تھا‘ جہاں ان کے خلاف درجنوں مقدمے بھی درج تھے‘ جہاں جنرل پرویز مشرف ان کی شکل تک نہیں دیکھنا چاہتا تھا‘ جہاں گرد بھی تھی‘ بُو بھی تھی‘ جہالت بھی تھی‘ دہشت بھی تھی‘ ظلم بھی تھا‘ پولیس بھی تھی‘ نیب بھی تھی‘ خاندان کی سیاست بھی تھی اور بیت اللہ محسود بھی تھا اور سب سے بڑھ کر محترمہ اپنے بچوں‘ اپنی ہمشیرہ‘ اپنی والدہ اور اپنے خاوند سے بھی دور تھیں‘ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے محترمہ نے گھاٹے کا یہ سودا کیوں کیا؟ یہ آرام‘ سیکیورٹی‘ فیملی لائف‘ پیسہ اور بین الاقوامی عزت چھوڑ کر اس ملک میں کیوں آئیں جس میں کوئی شخص‘ کوئی ادارہ انھیں جان کی ضمانت دینے کے لیے تیار نہیں تھا‘ یہ پاکستان میں واپس کیوں آئیں؟ میں آپ کو اس سوال کا جواب اگلی کہانی کے بعد دوں گا۔
آپ دوسری مثال لیجیے۔
آپ میاں نواز شریف اور ان کے خاندان کی مثال لیجیے‘ جنرل پرویز مشرف نے10 دسمبر 2000ء کو شریف فیملی کو سعودی عرب جلاوطن کر دیا‘ میاں نواز شریف اور ان کے خاندان کو سعودی عرب میں دنیا جہاں کی مادی اور روحانی سہولتیں حاصل تھیں‘ جدہ میں سرور پیلس تھا‘ یہ اس محل میں بادشاہوں جیسی زندگی گزار رہے تھے‘ یہ سعودی عرب میں سربراہ مملکت کے برابر پروٹوکول لے رہے تھے‘ یہ بادشاہ سلامت سے ملاقات کرتے تھے‘ انھیں شاہی جہازوں اور ہیلی کاپٹروں کی سہولت بھی حاصل تھی‘ یہ سعودی عرب میں کاروبار بھی کر رہے تھے‘ انھوں نے وہاں اسٹیل مل لگا لی تھی‘ مل میں سیکڑوں لوگ ملازم تھے‘ یہ جمعہ کی نماز خانہ کعبہ میں ادا کرتے تھے‘ یہ کسی بھی وقت طواف کر سکتے تھے‘ یہ پورے خاندان کے ساتھ رمضان کا مہینہ مسجد نبویؐ میں گزارتے تھے‘ یہ روضہ رسولؐ کے بالکل ساتھ بیٹھ کر نوافل ادا کرتے تھے‘ ان کے لیے خانہ کعبہ بھی کھل جاتا تھا اور روضہ رسولؐ بھی اور شاہی خاندان نے ان کے لیے اپنے دروازے اور خزانے دونوں کھول رکھے تھے‘ یہ 2006ء میں لندن شفٹ ہو گئے‘ لندن میں بھی انھیں دنیا بھر کی سہولتیں حاصل تھیں‘ یہ وہاں کاروبار کرنے لگے‘ کاروبارایک ڈیڑھ سال میں ایک آدھ بلین پائونڈ تک پہنچ گیا‘ پارک لین کے مہنگے ترین علاقے میں ان کے فلیٹس تھے‘ آکسفورڈ اسٹریٹ کی بغل میں ان کا دفتر تھا‘ یہ سیکیورٹی‘ خوف اور پریشانی کے بغیر ہائیڈ پارک میں پھرتے تھے۔
جس ریستوران میں چاہتے‘ جس وقت چاہتے کھانا کھاتے تھے اور کسی قسم کا خوف ان کا دامن نہیں پکڑتا تھا چنانچہ دیکھا جائے تو یہ میاں برادران کی زندگی کا شاندار ترین وقت تھا‘ آرام‘ خوشحالی‘ سکون‘ شانتی‘ واک اور بے خوفی تھی لیکن پھر میاں برادران نے بھی یہ شاندار ماحول اور دنیا کی بہترین سہولتیں چھوڑ دیں اور یہ بھی اس ملک میں واپس آ گئے جس میں ان کی جان‘ ان کا مال‘ ان کا اقتدار ہر وقت خطرے میں رہتا ہے‘ یہ جس میں بلٹ پروف گاڑی کے بغیر دفتر سے گھر اور گھر سے دفتر نہیں جا سکتے‘ یہ جس میں عید کی نماز بھی گھر میں پڑھنے پر مجبور ہیں‘ یہ جس میں ذاتی دوستوں سے لے کر فوج تک ہر ادارے کو مشکوک نظروں سے دیکھتے ہیں‘ یہ جس میں روز میڈیا کے نالائق اینکرز کے جاہل سوالوں کا سامنا کرتے ہیں‘ یہ جس میں عاقبت نااندیش لوگوں کو ٹیلی ویژن پر اپنی نقلیں اتارتے دیکھتے ہیں اور یہ جس میں اب اپنے خلاف نعرہ بازی دیکھ رہے ہیں‘ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے میاں برادران نے بھی گھاٹے کا یہ سودا کیوں کیا؟ یہ بھی آرام‘ سیکیورٹی‘ فیملی لائف‘ پیسہ اور بین الاقوامی عزت چھوڑ کر اس ملک میں کیوں آ گئے جس میں کوئی شخص‘ کوئی ادارہ انھیں جان تک کی ضمانت نہیں دے سکتا‘ میں اس سوال کا جواب بھی آپ کو اگلی کہانی کے بعد دوں گا۔
آپ اب تیسری اور آخری مثال لیجیے۔
آپ جنرل پرویز مشرف کی مثال لیجیے‘ جنرل صاحب نے 18 اگست 2008ء کو صدارت سے استعفیٰ دیا اور یہ 24 مارچ2009ء کو دبئی اور لندن شفٹ ہو گئے‘ انھیں بھی دبئی اور لندن میں ہیڈ آف اسٹیٹ کاا سٹیٹس حاصل تھا‘ متحدہ عرب امارات کا شاہی خاندان جنرل مشرف کی بہت عزت کرتا تھا‘ یہ شاہ کے خصوصی جہاز اور ہیلی کاپٹروں میں شہزادوں اور شہزادیوں کی تقریبات میں جاتے تھے‘ یہ جِم جاتے تھے‘ ٹینس کھیلتے تھے‘ سگار پیتے تھے‘ مشروبات مغرب سے لطف اندوز ہوتے تھے اور روزانہ سوئمنگ کرتے تھے‘ یہ دبئی میں کسی بھی وقت‘ کسی بھی ریستوران میں چلے جاتے تھے اور انھیں کوئی خطرہ نہیں ہوتا تھا‘ یہ لندن میں بھی بہت مزے سے تھے‘ ایجویئر روڈ پر ان کا فلیٹ تھا‘ یہ پیدل چلتے ہوئے آکسفورڈ اسٹریٹ اور ہائیڈ پارک چلے جاتے تھے‘ اٹلی کے جزیروں میں چھٹیاں مناتے تھے‘ مونٹی کارلو کے کسینو میں شامیں گزارتے تھے‘ یہ امریکا کی یونیورسٹیوں میں لیکچر دیتے تھے اور لاکھوں ڈالر معاوضہ حاصل کرتے تھے‘ صدر بش اور صدر اوبامہ کے رابطے میں رہتے تھے‘ سعودی عرب کا شاہی خاندان جنرل پرویز مشرف کا ضامن تھا‘ یہ کسی بھی وقت جنرل کیانی‘ صدر آصف علی زرداری اور میاں نواز شریف کو فون کر دیتا تھا اور یہ لوگ جنرل پرویز مشرف کے بارے میں اپنی پالیسی تبدیل کرنے پر مجبور ہو جاتے۔
یہ دبئی میں بیٹھ کر اپنی لولی لنگڑی پارٹی بھی چلا رہے تھے‘ یہ اینکرز کو پاکستان سے بلا کر انٹرویو دیتے تھے اور ٹھیک ٹھاک ریٹنگ حاصل کرتے تھے‘ یہ ٹیلی فون انٹرویو بھی دیتے تھے اور ان کا ہر انٹرویو میڈیا اور سیاست میں نئے گرداب پیدا کرتا لیکن پھر جنرل پرویز مشرف بھی یہ سارا آرام‘ عیش‘ مزے‘ خوشحالی‘ فراغت اور آسائش چھوڑ کر اس پاکستان میں آ گئے جس میں کوئی شخص‘ کوئی ادارہ انھیں جان کی گارنٹی نہیں دے سکتا‘ جس میں ان کے گھر کی حفاظت کے لیے پانچ سو کمانڈوز چاہئیں‘ جس میں یہ بلٹ پروف جیکٹ اور بلٹ پروف گاڑی کے بغیر عدالت نہیں پہنچ سکتے اور جس میں عدلیہ سے لے کر سیاسی جماعتوں تک تمام ادارے ان کے مخالف ہیں‘ جس میں انھیں وکیل تک نہیں ملتا اور جس میں انھیں آرٹیکل سکس کے تحت سزائے موت دینے کے مطالبات ہو رہے ہیں اور یہ جس میں طالبان کے سب سے بڑے ٹارگٹ ہیں‘ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے جنرل پرویز مشرف نے بھی گھاٹے کا یہ سودا کیوں کیا؟ یہ بھی آرام‘ سیکیورٹی‘ فیملی لائف‘ پیسہ اور بین الاقوامی عزت چھوڑ کر اس ملک میں کیوں آ گئے جس میں کوئی شخص‘ کوئی ادارہ انھیں جان تک کی ضمانت نہیں دے سکتا‘ اب اس سوال کے جواب کا وقت آ گیا ۔
یہ ملک اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا عطیہ ہے‘ اس ملک میں کوئی نہ کوئی ایسی خفیہ‘ کوئی نہ کوئی ایسی پوشیدہ خوبی موجود ہے جو دبئی‘ لندن‘ نیویارک اور سعودی عرب میں بھی نہیں‘ یہ خوبی اتنی بڑی‘ اتنی لازم اور اتنی شاندار ہے کہ ملک کے دو بڑے سیاسی خاندان اور جنرل پرویز مشرف جیسا شخص بھی دنیا بھر کا آرام‘ سکون اور آسائشیں تیاگ کر پاکستان آ جاتے ہیں اور سڑکوں پر دھکے کھاتے ہیں‘ میاں برادران نے تو اس ملک کے لیے خانہ کعبہ کے طواف اور مسجد نبویؐ کی زیارتیں تک قربان کر دیں‘ یہ محل چھوڑ کر اس ملک میں آ گئے جہاں ان کے اقتدار‘ پسےن اور جان تک کی ضمانت نہیں‘ جس میں یہ روز جیتے اور روز مرتے ہیں‘ جس میں ان کے اردگرد ہزاروں سوراخ ہیں اور ہر سوراخ سے ہر وقت خطرے کے سانپ اندر جھانکتے رہتے ہیں‘ یہ پوشیدہ خوبی‘ یہ خفیہ سہولت کاد ہے؟ ہم شاید اس زندگی میں اس کا اندازہ نہ لگا سکیں مگر یہ حققتں ہے یہ لوگ اس سہولت‘ اس خوبی کے لیے پوری دنیا قربان کر سکتے ہیں اور یہ دنیا بھر کی سہولتیں تیاگ سکتے ہیں‘ اب یہاں ایک اور سوال پیدا ہوتا ہے‘ یہ لوگ جس ملک کے بغیر رہ نہیں سکتے اور یہ جسے دنیا کی تمام سہولتوں اور آرام سے زیادہ اہمیت دیتے ہیں‘ یہ اس ملک کو ٹھیک کیوں نہیں کرتے؟ یہ اسے نیویارک‘ لندن اور دبئی کیوں نہیں بناتے؟ میں جب بھی یہ سوچتا ہوں‘ میں پریشان ہو جاتا ہوں کیونکہ یہ عجیب بات ہے آپ ماں سے شدید محبت کرتے ہوں‘ آپ اسے جب تک دیکھ نہ لیں آپ کو نیند نہ آتی ہو مگر آپ اپنی بیمار ماں کا علاج نہ کرائیں‘ آپ اسے دوا نہ دیں‘ آپ ایسے لوگوں کو کیا کہیں گے‘ دنیا میں ایسے لوگوں کے لیے ظالم سے بہتر کوئی لفظ نہیں۔
جنرل مشرف جیت گئے
جاوید چوہدری جمعرات 7 نومبر 2013
پائیلو کوئیلو دنیا کا معروف مصنف ہے‘ یہ برازیل سے تعلق رکھتا ہے‘ اس نے 1988ء میں دنیا کا مشہور ترین ناول ’’الکیمسٹ‘‘ تحریر کیا‘ اس ناول کی اب تک 15 کروڑ کاپیاں فروخت ہو چکی ہیں‘ یہ 80زبانوں میں ترجمہ ہو چکا ہے‘ یہ روحانیت کے پس منظر میں لکھا گیا مختصر سا ناول ہے‘ میں نے یہ ناول چار بار پڑھا اور اس نے ہر بار دامن دل اور رکاب خیال تھام لی‘ میں نے اس کی سی ڈی گاڑی میں لگا رکھی ہے اور میں روزگھر سے دفتر جاتے اور دفتر سے گھر واپس آتے الکیمسٹ سنتا ہوں‘ اس ناول میں درجنوں کے حساب سے ’’ون لائنر‘‘ ہیں‘ ’’ون لائنر‘‘ ایسے فقرے ہوتے ہیں جو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ضرب المثل یا محاورا بن جاتے ہیں اور یہ محاورے آنے والے زمانوں میں اس مصنف‘ اس رائیٹر کا تعارف بن جاتے ہیں۔’’ یہ دنیا ایک اسٹیج ہے‘‘۔’’آپ گلاب کو کوئی سا نام دے لیں‘ گلاب گلاب ہی رہتا ہے‘‘۔ ’’بادشاہ مر گیا لیکن بادشاہ ہمیشہ زندہ رہے گا‘‘۔ یہ وہ چند ’’ون لائنر‘‘ ہیں جو تاریخ میں شیکسپیئر کا حوالہ بن گئے اور ہم میں کوئی شخص شیکسپیئر کو پڑھے یا نہ پڑھے لیکن یہ شیکسپیئر کی ان لائنوں سے ضرور واقف ہو گا۔ ’’ الکیمسٹ‘‘ میں بھی درجنوں ایسے ’’ون لائنر‘‘ موجود ہیں جو آہستہ آہستہ پائیلو کوئیلو کا حوالہ بنتے جا رہے ہیں۔ ’’انسان زندگی کے کسی بھی دور میں اپنے خواب پورے کر سکتا ہے‘‘۔
’’ انسان جب کوئی چیز حاصل کرنا چاہے تو پوری کائنات اس سازش میں اس کی حصے دار بن جاتی ہے‘‘۔ یہ دو فقرے الکیمسٹ کا بنیادی خیال ہیں‘ یہ پورا ناول ان دو فقروں کے گرد گھومتا ہے‘ پائیلو کوئیلو اپنے مرکزی کردار سنتیاگو کے ذریعے اپنے قارئین کو پیغام دیتا ہے آپ میں اگر جنون اور جستجو موجود ہے تو آپ دنیا میں کچھ بھی کر سکتے ہیں حتیٰ کہ آپ عین جوانی میں روحانیت کے عظیم خزانے تک بھی پہنچ سکتے ہیں‘ اس ناول کے بے شمار واقعات میں سے ایک واقعہ آپ کی نظروں کو جکڑ لیتا ہے‘ ایک شخص ناول کے مرکزی کردار کو بتاتا ہے‘ میں سردار کے قلعے میں گیا تو اس نے چمچ میں تیل ڈالا‘ وہ چمچ میرے ہاتھ میں پکڑائی اور مجھے حکم دیا تم یہ چمچ لے کر نکلو‘ پورا محل دیکھو‘ واپس آئو اور مجھے محل کے بارے میں بتائو لیکن خبردار چمچ کا تلر نہیں گرنا چاہیے‘ وہ چمچ لے کر نکلا‘ محل دیکھا‘ واپس آیا تو چمچ خالی تھی‘ تیل راستے میں گر چکا تھا‘ وہ دوسری بار چمچ میں تیل ڈال کر محل دیکھنے نکلا‘ اس بار اس کی ساری توجہ چمچ پر تھی‘ اس نے تیل نہیں گرنے دیا مگر وہ محل نہ دیکھ سکا‘ پائیلو کوئیلو اس مثال کے ذریعے یہ بتانا چاہتا تھا ہم نے زندگی میں دنیا کی رونق بھی دیکھنی ہے اور روح کا تیل بھی بچا کر رکھنا ہے‘ ہمیں زندگی کو بیلنس میں رکھنا چاہیے‘ ہم دنیا کی رونق میں اتنا نہ کھو جائیں کہ ہماری واحد چمچ کا تیل گر جائے اور ہم چمچ کو بھی اتنا بچا کر نہ رکھیں کہ ہم رونق دیکھے بغیر دنیا سے رخصت ہو جائیں۔
ہماری زندگی توازن کا نام ہے‘ شدت کا نہیں‘ شدت انا اور ضد کی اولاد ہے اور ہم جب ضد اور انا کی دلدل میں دھنس جاتے ہیں تو ہمارا وجود شدت کے کیچڑ سے لتھڑ جاتا ہے اور ہم باقی زندگی یہ کیچڑ صاف کرتے کرتے گزار دیتے ہیں‘ ہم اگر تاریخ کا مطالعہ کریں تو ہمیں معلوم ہو گا دنیا کے تمام بڑے بحران انا‘ ضد اور ہٹ دھرمی سے پیدا ہوئے‘ دنیا کے نامور لوگ اگر تاریخ کے نازک موڑ پر ذرا سی پسپائی اختیار کر لیتے‘ یہ اپنے رویے میں ذرا سی نرمی پیدا کر لیتے یا پھر یہ معذرت کرلیتے تو شاید نمرود کی خدائی‘ فرعون کی سلطنت‘ بغداد کی ریاست‘ نپولین کا اقتدار اور ہٹلر کا غرور زیادہ دیر تک قائم رہتا‘ یہ لوگ غیر طبعی انجام تک نہ پہنچتے‘ ضد‘ انا اور ہٹ دھرمی زوال کا پہلا سنگ میل ہوتی ہے‘ دوسرا سنگ میل فوکس کی کمی یا کام پر عدم توجہ ہوتی ہے‘ اللہ تعالیٰ نے ہم سب کو کوئی نہ کوئی ذمے داری‘ کوئی نہ کوئی کام سونپ رکھا ہوتا ہے‘ آپ اگر وہ کام سرانجام دینے کے بجائے اپنے آپ کو دوسرے غیر ضروری کاموں میں الجھا لیں گے تو آپ کو عزت‘ اقتدار یا منصب دینے والی قوتیں آپ سے ناراض ہو جاتی ہیں اور آپ یوں زوال کا نشانہ بن جاتے ہیں‘ فرض کیجیے‘ آپ چوکیدار ہیں لیکن آپ چوکیداری کے بجائے ساری رات عبادت کرتے رہتے ہیں‘کیا یہ ٹھیک ہوگا‘ آپ جہاز کے پائلٹ ہیں مگر آپ جہاز کو ’’آٹو پائلٹ‘‘ پر ڈال کر نماز شروع کر دیتے ہیں یا آپ ٹرین ڈرائیور ہیں اور آپ ٹرین کو ٹریک پر چڑھا کر وضو شروع کر دیتے ہیں‘ کیا یہ ٹھیک ہو گا؟ دنیا آپ کے اس نیک ترین فعل کو بھی اچھی نظر سے نہیں دیکھے گی اور آپ کو عبادت کے باوجود احتساب کا سامنا بھی کرنا پڑے گا اور آپ اپنی جاب‘ اپنی ذمے داری سے بھی فارغ ہو جائیں گے‘ یہ حقیقت ہے اور جو لوگ اس حقیقت کو سامنے رکھ کرزندگی گزارتے ہیں‘ وہ فائدے میں رہتے ہیں۔
آپ چمچ کے تیل اور زوال کی ان دو جوہات کو سامنے رکھیں اور اس کے بعد حکومت اور اپوزیشن کی موجودہ لڑائی کا تجزیہ کریں‘ وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے 30 اکتوبر کو سینیٹ میں ڈرون حملوں اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہلاکتوں کا ڈیٹا پیش کیا‘ حکومتی جواب کے مطابق امریکا نے 2008ء سے 2013ء تک 317 ڈرون حملے کیے جن میں 2160 شدت پسنداور67 شہری ہلاک ہوئے جب کہ 2012ء اور2013ء کے ڈرون حملوں میں کوئی شہری شہید نہیں ہوا‘ یہ ڈیٹا وزارت دفاع نے پیش کیا تھا‘ وزارت دفاع اس وقت وزیراعظم میاں نواز شریف کے پاس ہے ‘ وزیراعظم وزیر دفاع کی حیثیت سے سینیٹ میں پیش نہیں ہو سکتے تھے چنانچہ وزیر داخلہ سینیٹ میں آ گئے‘ ڈیٹا غلط تھا‘ اپوزیشن نے اعتراض شروع کیا‘ چوہدری نثار کو یہ اعتراض اچھا نہ لگا‘ یہ ناراض ہو کر بیٹھ گئے‘ اپوزیشن اس رویے پر مزید ناراض ہو گئی ‘معاملہ الزام تراشی سے آگے نکلا اور یوں اپوزیشن پچھلے دو دن سے پارلیمنٹ ہائوس کے لان میں سینیٹ کا اجلاس منعقد کر رہی ہے۔
اس اجلاس کی کارروائی ٹیلی ویژن چینلز پر براہ راست دکھائی جاتی ہے جب کہ حکومت کا اجلاس ایوان میں ہو رہا ہے‘ یہ پاکستان کی پارلیمانی تاریخ کا اس نوعیت کا پہلا واقعہ ہے جس میں سینیٹ کے دو اجلاس ہو رہے ہیں‘ ایک اجلاس اندر اور دوسرا باہر اور اس انوکھے واقعے کی وجہ معمولی سی ضد‘ معمولی سی انا ہے‘ اپوزیشن کی خواہش ہے چوہدری نثار علی خان اپنے رویے پر معذرت کریں جب کہ چوہدری نثار کا کہنا ہے‘ میں نے کوئی غلطی نہیں کی‘میں معذرت کیوں کروں اور یہ ضد پوری دنیا میں ہماری جگ ہنسائی کا باعث بن رہی ہے‘ آپ یہ بھی ملاحظہ کریں‘ یہ کھیل کس وقت ہو رہا ہے؟ یہ کھیل اس وقت ہو رہا ہے‘ جب امریکا نے شمالی وزیرستان میں ڈرون حملہ کر کے حکیم اللہ محسود کو مار دیا اور اس حملے کی وجہ سے طالبان اور حکومت کے مذاکرات معطل ہو گئے‘ ملک میں مہنگائی میں پچاس فیصد اضافہ ہو چکا ہے‘ بجلی 70 فیصد اور پٹرول 14فیصدمہنگا ہوگیا۔
حکومتی نااہلی معراج تک پہنچ چکی ہے اور حکومت نے اپنے پہلے دو ماہ میں میں چھ کھرب چھتیس ارب کے نوٹ چھاپ دیے مگر اپوزیشن ان ایشوز پر آواز اٹھانے کے بجائے اپنا سارا زور چوہدری نثار کی انا کو جھکانے پر لگا رہی ہے‘ کاش اپوزیشن ڈرون حملے رکوانے کے لیے ایوان سے باہر بیٹھی ہوتی‘ کاش اس نے سابق آمر جنرل پرویز مشرف کے خلاف آرٹیکل سکس کے نفاذ کے لیے لان میں خیمے لگائے ہوتے‘ کاش یہ مہنگائی کے خلاف ایوان سے واک آئوٹ کرتی‘ کاش یہ لوگ نیٹو سپلائی روکنے کے لیے سینیٹ کی کارروائی ملتوی کراتے اور کاش یہ سڑک پر بیٹھ کر امریکا کے خلاف تقریریں کرتے اور کاش وزیر داخلہ چوہدری نثار غلط اعداد و شمار پر ڈٹے رہنے کے بجائے امریکا کے خلاف ڈٹے ہوتے‘ کاش یہ بھی ڈرون حملوں پر ڈٹے ہوتے اور کاش یہ اپنی حکومت کی غریب مار پالیسیوں پر ڈٹ گئے ہوتے‘ افسوس آپ لوگوں نے احتجاج بھی کیا تو صرف اپنی انا کو گنے کا رس پلانے کے لیے کیا‘ افسوس آپ صرف اپنی ضد کا شملہ اونچا رکھنے کے لیے سڑک پر بیٹھ گئے۔
یہ تماشا اب بند ہونا چاہیے‘ عوام نے آپ کو اس لیے اقتدار کے ایوانوں میں نہیں بھیجا کہ آپ وہاں انا کا کھیل کھیلنا شروع کر دیں‘ عوام نے آپ کے ہاتھ میں اپنے اعتماد کی چمچ اس لیے دی تھی کہ آپ ان کے مفادات کے تیل کی حفاظت کریں مگر آپ اپنی انا کی رونق میں اس قدر گم ہو گئے ہیں کہ آپ کو عوام کے مفادات کے تیل کی پروا ہے اور نہ ہی اعتماد کی چمچ کی اور آپ کے اس کھیل کا فائدہ کس کو پہنچ رہا ہے؟ ملک کی بچھڑی ہوئی آمرانہ روحوں کو۔ آپ کو یاد ہو گا ‘18اگست 2008ء کو جنرل پرویز مشرف نے صدارت کے عہدے سے مستعفی ہوتے ہوئے کہا تھا‘ جنرل مشرف کے آخری الفاظ تھے ’’ پاکستان کا خدا حافظ‘‘ ہم لوگ اس وقت ان کی بات پر ہنستے تھے لیکن پاکستان پیپلزپارٹی کے دور میں لوگوں کو جنرل مشرف کی بات پر آدھا یقین آ گیا اور آج عوام انائوں‘ ضد اور نااہلیت کے اس کھیل میںجنرل مشرف کی بات پر پورا یقین کر رہے ہیں‘ ہمیں وقت گزرنے کے ساتھ جنرل پرویز مشرف کامیاب ہوتے اور اپنے خواب ٹوٹتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔آج جمہوریت ہارتی اور آمریت جیتتی ہوئی نظر آتی ہے‘ جنرل مشرف نے 2008ء میں پاکستان کو خدا حافظ کہا تھا‘ زرداری صاحب نے اس خدا حافظ کو آدھا پورا کر دیا‘ باقی خدا حافظ میاں صاحب کے حواری انا کے بانس پر چڑھ کر پورا کر رہے ہیں‘ آج کے حکمرانوں نے کل کے حکمرانوں کے خلاف نعرے لگا کر پانچ سال گزار دیے اور کل کے حکمران آج کے حکمرانوں کے خلاف خیمے میں اجلاس منعقد کر کے پاکستان کا تماشہ بنا رہے ہیں‘ اس ملک کا واقعی خدا ہی حافظ ہے۔

آخری بادشاہ
جاوید چوہدری بدھ 6 نومبر 2013
اور پھر ہندوستان کے آخری شہنشاہ بہادر شاہ ظفر کو میکنن میکنزی بحری جہاز میں بٹھا دیا گیا‘ یہ جہاز17 اکتوبر 1858ء کو رنگون پہنچ گیا‘ شاہی خاندان کے 35 مرد اور خواتین بھی تاج دار ہند کے ساتھ تھیں‘ کیپٹن نیلسن ڈیوس رنگون کا انچارج تھا‘ وہ بندر گاہ پہنچا‘ اس نے بادشاہ اور اس کے حواریوں کو وصول کیا‘ رسید لکھ کر دی اور دنیا کی تیسری بڑی سلطنت کے آخری فرمانروا کو ساتھ لے کر اپنی رہائش گاہ پر آ گیا‘ نیلسن پریشان تھا‘ بہادر شاہ ظفر قیدی ہونے کے باوجود بادشاہ تھا اور ننلسی کا ضمیر گوارہ نہیں کر رہا تھا وہ بیمار اور بوڑھے بادشاہ کو جیل میں پھینک دے مگر رنگون میں کوئی ایسا مقام نہیں تھا جہاں بہادر شاہ ظفر کو رکھا جا سکتا‘ وہ رنگون میں پہلا جلا وطن بادشاہ تھا‘ نیلسن ڈیوس نے چند لمحے سوچا اور مسئلے کا دلچسپ حل نکال لیا‘ نیلسن نے اپنے گھر کا گیراج خالی کرایا اور تاجدار ہند‘ ظل سبحانی اور تیموری لہو کے آخری چشم و چراغ کو اپنے گیراج میں قید کر دیا‘ بہادر شاہ ظفر17 اکتوبر 1858ء کو اس گیراج میں پہنچا اور 7 نومبر 1862ء تک چار سال وہاں رہا‘ بہادر شاہ ظفر نے اپنی مشہور زمانہ غزل لگتا نیں ہے دل میرا اجڑے دیار میں‘کس کی بنی ہے عالم ناپائیدار میں اورکتنا بدنصیب ہے ظفردفن کے لیے‘ دو گز زمین بھی نہ ملی کوئے یار میں‘اسی گیراج میں لکھی تھی‘ یہ آج7 نومبر کا خنک دن تھا اور سن تھا 1862ء۔
بدنصیب بادشاہ کی خادمہ نے شدید پریشانی میں کیپٹن نیلسن ڈیوس کے دروازے پر دستک دی‘ اندر سے اردلی نے برمی زبان میں اس بدتمیزی کی وجہ پوچھی‘ خادمہ نے ٹوٹی پھوٹی برمی میں جواب دیا‘ ظل سبحانی کا سانس اکھڑ رہا ہے‘ اردلی نے جواب دیا‘ صاحب کتے کو کنگھی کر رہے ہیں‘ میں انھیں ڈسٹرب نہیں کر سکتا‘ خادمہ نے اونچی آواز میں رونا شروع کر دیا‘ اردلی اسے چپ کرانے لگا مگر آواز نیلسن تک پہنچ گئی‘ وہ غصے میں باہر نکلا‘ خادمہ نے نیلسن کو دیکھا تو وہ اس کے پاؤں میں گر گئی‘ وہ مرتے ہوئے بادشاہ کے لیے گیراج کی کھڑکی کھلوانا چاہتی تھی‘ بادشاہ موت سے پہلے آزاد اور کھلی ہوا کا ایک گھونٹ بھرنا چاہتا تھا‘ نیلسن نے اپنا پسٹل اٹھایا‘ گارڈز کو ساتھ لیا‘ گیراج میں داخل ہو گیا۔
بادشاہ کی آخری آرام گاہ کے اندر بو‘ موت کا سکوت اور اندھیرا تھا‘ اردلی لیمپ لے کر بادشاہ کے سرہانے کھڑا ہو گیا‘ نیلسن آگے بڑھا‘ بادشاہ کا کمبل آدھا بستر پر تھا اور آدھا فرش پر‘ اس کا ننگا سر تکیے پر تھا لیکن گردن ڈھلکی ہوئی تھی‘ آنکھوں کے ڈھیلے پپوٹوں کی حدوں سے باہر ابل رہے تھے‘ گردن کی رگیں پھولی ہوئی تھیں اور خشک زرد ہونٹوں پر مکھیاں بھنبھنا رہی تھیں‘ نیلسن نے زندگی میں ہزاروں چہرے دیکھے تھے لیکن اس نے کسی چہرے پر اتنی بے چارگی‘ اتنی غریب الوطنی نہیں دیکھی تھی‘ وہ کسی بادشاہ کا چہرہ نہیں تھا‘ وہ دنیا کے سب سے بڑے بھکاری کا چہرہ تھا اور اس چہرے پر ایک آزاد سانس جی ہاں صرف ایک آزاد سانس کی اپیل تحریر تھی اور یہ اپیل پرانے کنوئیں کی دیوار سے لپٹی کائی کی طرح ہر دیکھنے والی آنکھ کو اپنی گرفت میں لے لیتی تھی‘ کیپٹن نیلسن نے بادشاہ کی گردن پر ہاتھ رکھا‘ زندگی کے قافلے کو رگوں کے جنگل سے گزرے مدت ہو چکی تھی‘ ہندوستان کا آخری بادشاہ زندگی کی حد عبور کر چکا تھا‘ نیلسن نے لواحقین کو بلانے کا حکم دیا‘ لواحقین تھے ہی کتنے ایک شہزادہ جوان بخت اور دوسرا اس کا استاد حافظ محمد ابراہیم دہلوی‘ وہ دونوں آئے۔
انھوں نے بادشاہ کو غسل دیا‘ کفن پہنایا اور جیسے تیسے بادشاہ کی نماز جنازہ پڑھی‘ قبر کا مرحلہ آیا تو پورے رنگون شہر میں آخری تاجدار ہند کے لیے دوگز زمین دستیاب نہیں تھی‘ نیلسن نے سرکاری رہائش گاہ کے احاطے میں قبر کھدوائی اور بادشاہ کو خیرات میں ملی ہوئی مٹی میں دفن کر دیا‘ قبر پر پانی کا چھڑکاؤ ہورہا تھا ‘ گلاب کی پتیاں بکھیری جا رہی تھیں تو استاد حافظ ابراہیم دہلوی کے خزاں رسیدہ ذہن میں 30 ستمبر 1837ء کے وہ مناظر دوڑنے بھاگنے لگے جب دہلی کے لال قلعے میں 62 برس کے بہادر شاہ ظفر کو تاج پہنایاگیا‘ ہندوستان کے نئے بادشاہ کو سلامی دینے کے لیے پورے ملک سے لاکھ لوگ دلی آئے تھے اور بادشاہ جب لباس فاخرہ پہن کر‘ تاج شاہی سر پر رکھ کر اور نادر شاہی اور جہانگیری تلواریں لٹکا کر دربار عام میں آیا تو پورا دلی تحسین تحسین کے نعروں سے گونج اٹھا‘ نقارچی نقارے بجانے لگے‘ گویے ہواؤں میں تانیں اڑانے لگے‘ فوجی سالار تلواریں بجانے لگے اور رقاصائیں رقص کرنے لگیں‘ استاد حافظ محمد ابرہیم دہلوی کو یاد تھا بہادر شاہ ظفر کی تاج پوشی کا جشن سات دن جاری رہا اور ان سات دنوں میں دلی کے لوگوں کو شاہی محل سے کھانا کھلایا گیا مگر سات نومبر 1862ء کی اس ٹھنڈی اور بے مہر صبح بادشاہ کی قبر کو ایک خوش الحان قاری تک نصیب نہیں تھا۔
استاد حافظ محمد ابراہیم دہلوی کی آنکھوں میں آنسو آ گئے‘ اس نے جوتے اتارے‘ بادشاہ کی قبر کی پائینتی میں کھڑا ہوا اور سورۃ توبہ کی تلاوت شروع کر دی‘ حافظ ابراہیم دہلوی کے گلے سے سوز کے دریا بہنے لگے‘ یہ قرآن مجید کی تلاوت کا اعجاز تھا یا پھر استاد ابراہیم دہلوی کے گلے کا سوز کیپٹن نیلسن ڈیوس کی آنکھوں میں آنسو آ گئے‘ اس نے ہاتھ اٹھایا اور اس غریب الوطن قبر کو سلووٹ پیش کر دیا اور اس آخری سیلوٹ کے ساتھ ہی مغل سلطنت کا سورج ہمیشہ ہمیشہ کے لیے غروب ہو گیا‘ آپ اگر کبھی رنگون جائیں تو آپ کو ڈیگن ٹاؤن شپ کی کچی گلوسں کی بدبودار جھگیوں میں آج بھی بہادر شاہ ظفر کی نسل کے خاندان مل جائیں گے‘ یہ آخری مغل شاہ کی اصل اولاد ہیں مگر یہ اولاد آج سرکار کے وظیفے پر چل رہی ہے‘ یہ کچی زمین پر سوتی ہے‘ ننگے پاؤں پھرتی ہے‘ مانگ کر کھاتی ہے اور ٹین کے کنستروں میں سرکاری نل سے پانی بھرتی ہے مگر یہ لوگ اس کسمپرسی کے باوجود خود کو شہزادے اور شہزادیاں کہتے ہیں‘ یہ لوگوں کو عہد رفتہ کی داستانیں سناتے ہیں اور لوگ قہقہے لگا کر رنگون کی گلیوں میں گم ہو جاتے ہیں۔
یہ لوگ‘ یہ شہزادے اور شہزادیاں کون ہیں؟ یہ ہندوستان کے آخری بادشاہ کی سیاسی غلطیاں ہیں‘ بادشاہ نے اپنے گرد نااہل‘ خوشامدی اور کرپٹ لوگوں کا لشکر جمع کر لیا تھا‘ یہ لوگ بادشاہ کی آنکھیں بھی تھے‘ اس کے کان بھی اور اس کا ضمیر بھی‘ بادشاہ کے دو بیٹوں نے سلطنت آپس میں تقسیم کر لی تھی‘ ایک شہزادہ داخلی امور کا مالک تھا اور دوسرا خارجی امور کا مختار‘ دونوں کے درمیان لڑائی بھی چلتی رہتی تھی اور بادشاہ ان دونوں کی ہر غلطی‘ ہر کوتاہی معاف کر دیتا تھا‘ عوام کی حالت انتہائی ناگفتہ بہ تھی‘ مہنگائی آسمان کو چھو رہی تھی‘ خوراک منڈیوں سے کٹائی کے موسموں میں غائب ہو جاتی تھی‘ سوداگر منہ مانگی قیمت پر لوگوں کو گندم‘ گڑ اور ترکاری بیچتے تھے‘ ٹیکسوں میں روز اضافہ ہوتا تھا‘ شہزادوں نے دلی شہر میں کبوتروں کے دانے تک پر ٹیکس لگا دیا تھا‘ طوائفوں کی کمائی تک کا ایک حصہ شہزادوں کی جیب میں چلا جاتا تھا۔
شاہی خاندان کے لوگ قتل بھی کر دیتے تھے تو کوئی ان سے پوچھ نہیں سکتا تھا‘ ریاست شاہی دربار کے ہاتھ سے نکل چکی تھی‘ نواب‘ صوبیدار‘ امیر اور سلطان آزاد ہو چکے تھے اور یہ مغل سلطنت کو ماننے تک سے انکاری تھے‘ فوج تلوار کی نوک پر بادشاہ سے جو چاہتی تھی منوا لیتی تھی‘ عوام بادشاہ اور اس کے خاندان سے بیزار ہو چکے تھے‘ یہ گلیوں اور بازاروں میں بادشاہ کو ننگی گالیاں دیتے تھے اور کوتوال چپ چاپ ان کے قریب سے گزر جاتے تھے جب کہ انگریز مضبوط ہوتے جا رہے تھے‘ یہ روز معاہدہ توڑتے تھے اور شاہی خاندان وسیع تر قومی مفاد میں انگریزوں کے ساتھ نیا معاہدہ کر لیتا تھا۔
انگریز بادشاہ کے وفاداروں کو قتل کر دیتے تھے اور شاہی خاندان جب احتجاج کرتا تھا تو انگریز بادشاہ کو یہ بتا کر حیران کر دیتا تھا ’’ظل الٰہی وہ شخص آپ کا وفادار نہیں تھا‘ وہ ننگ انسانیت آپ کے خلاف سازش کر رہا تھا‘‘ اور بادشاہ اس پر یقین کر لیتا تھا‘ بادشاہ نے طویل عرصے تک اپنی فوج بھی ٹیسٹ نہیں کی تھی چنانچہ جب لڑنے کا وقت آیا تو فوجیوں سے تلواریں تک نہ اٹھائی گئیں‘ ان حالات میں جب آزادی کی جنگ شروع ہوئی اور بادشاہ گرتا پڑتا شاہی ہاتھی پر چڑھا تو عوام نے لاتعلق رہنے کا اعلان کر دیا‘ لوگ کہتے تھے ہمارے لیے بہادر شاہ ظفر یا الیگزینڈرا وکٹوریا دونوں برابر ہیں‘ مجاہدین جذبے سے لبریز تھے لیکن ان کے پاس قیادت نہیں تھی۔
بادشاہ ڈبل مائینڈڈ تھا‘ یہ انگریز سے لڑنا بھی چاہتا تھا اور اپنی مدت شاہی بھی پوری کرنا چاہتا تھا چنانچہ اس جنگ کا وہی نتیجہ نکلا جو ڈبل مائینڈ ہو کر لڑی جانے والی جنگوں کا نکلتا ہے‘ شاہی خاندان کو دلی میں ذبح کر دیا گیا جب کہ بادشاہ جلاوطن ہو گیا‘بادشاہ کیپٹن نیلسن ڈیوس کے گیراج میں قید رہا‘ گھر کے احاطہ میں دفن ہوا اور اس کی اولاد آج تک اپنی عظمت رفتہ کا ٹوکرا سر پر اٹھا کر رنگون کی گلیوں میں پھر رہی ہے‘ یہ لوگ شہر میں نکلتے ہیں تو ان کے چہروں پر صاف لکھا ہوتا ہے‘ جو بادشاہ اپنی سلطنت‘ اپنے مینڈیٹ کی حفاظت نہیں کرتے‘ جو عوام کا اعتماد کھو بیٹھتے ہیں‘ ان کی اولادیں اسی طرح گلیوں میں خوار ہوتی ہیں‘ یہ عبرت کا کشکول بن کر اسی طرح تاریخ کے چوک میں بھیک مانگتی ہیںلیکن ہمارے حکمرانوں کو یہ حقیقت سمجھ نہیں آتی‘ یہ خود کو بہادر شاہ ظفر سے بڑا بادشاہ سمجھتے ہیں۔
آپ اگر امریکا کے دوست ہیں
جاوید چوہدری پير 4 نومبر 2013
ہنری کسنجر امریکا کے مشہور سفارتی دانشور ہیں‘ یہ رچرڈ نکسن کے دور میں امریکا کے وزیر خارجہ تھے‘ ہنری کسنجر نے 1970ء میں جنرل یحییٰ خان کے ساتھ مل کر امریکا اور چین کی دوریاں ختم کیں‘ یہ 20 جنوری1977ء تک امریکا کے وزیر خارجہ رہے‘ ذوالفقار علی بھٹو کو گورنر ہاؤس لاہور میں ’’ ہم تمہیں بدترین مثال بنا دیں گے‘‘ کی دھمکی بھی ہنری کسنجر ہی نے دی تھی‘ ہنری کسنجر تاریخ میں متنازعہ رہنے کے باوجود ایک ایماندار اور جرأت مند سفارت کار ہیں۔
بھارت نے 11 مئی 1998ء کو ایٹمی دھماکے کیے جن کے بعد پاکستان کی باری تھی‘ مئی 1998ء میں پاکستان کے ایک سفارت کار ہنری کسنجر سے ملاقات کے لیے گئے اور ان سے پوچھا ’’ پاکستان کو کیا کرنا چاہیے‘‘ ہنری کسنجر نے فوراً جواب دیا ’’ آپ لوگوں کو ایٹمی دھماکہ کرنا چاہیے‘‘ میں کہانی آگے بڑھانے سے قبل آپ کو یہ بتاتا چلوں‘ ہنری کسنجر پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے شدید مخالف تھے اور یہ اس مخالفت میں اس قدر آگے چلے گئے تھے کہ انھوں نے ایٹمی پروگرام رول بیک نہ کرنے پر ذوالفقار علی بھٹو کو ’’بدترین مثال‘‘ بنانے کی دھمکی دے دی تھی لیکن جب رائے مانگی گئی تو انھوں نے ایماندارانہ رائے دی‘ انھوں نے کہا’’ پاکستان کو بھارت کے ایٹمی دھماکوں کے بعد خود کو ایٹمی قوت ڈکلیئر کرنا چاہیے‘‘ پاکستانی سفارتکار نے جواب میں کہا ’’ لیکن اس کے نتیجے میں امریکا پاکستان کا دشمن بن جائے گا‘‘ ہنری کسنجر نے اس جواب کے جواب میں اپنی تاریخی بات دُہرائی‘انھوں نے کہا ’’ آپ اگر امریکا کے دشمن ہیں تو آپ خطرے میں ہیں لیکن آپ اگر اس کے دوست ہیں تو پھر آپ انتہائی خطرے میں ہیں‘‘۔
ہنری کسنجر کے یہ الفاظ امریکا کی فارن پالیسی ہے‘ آپ اگر امریکا کے دشمن ہیں تو آپ کیوبا کی طرح بچ جائیں گے لیکن آپ اگر امریکا کے دوست ہیں تو پھر آپ اس سے بچ نہیں سکیں گے اور جمعہ یکم نومبر کے دن ہمارے ساتھ یہی ہوا‘ ہم نے ایک بار پھر امریکی دوستی کا تاوان ادا کیا‘ میاں نواز شریف 23 اکتوبر کو صدر بارک حسین اوبامہ سے ملے‘ حکومت اس ملاقات کے بعد ڈرون حملوں کے بارے میں ضرورت سے زیادہ پرامید ہو گئی‘ حکومت کا خیال تھا امریکا اب اس وقت تک ڈورن حملہ نہیں کرے گا جب تک حکومت اور طالبان کے درمیان مذاکرات کامیاب نہیں ہوتے‘ یہ مذاکرات پاکستان کے ساتھ ساتھ امریکا کے لیے بھی انتہائی اہم ہیں۔
امریکا نے 2014ء میں افغانستان سے نکلنا ہے‘ یہ واپسی کے دوران پاکستان کے راستے پانچ لاکھ کنٹینر لے جائے گا اور یہ کنٹینر اسی وقت پاکستان سے گزر سکتے ہیں جب طالبان اور حکومت کے درمیان مضبوط امن معاہدہ ہو ‘ ہماری حکومت کا خیال تھا امریکا اپنی اس مجبوری کا احساس کرے گا اور یوں مذاکرات کامیاب ہو جائیں گے‘حکیم اللہ محسود پاکستان کے لیے اہم ترین شخص تھا‘ طالبان کے 69 گروپ یا دھڑے ہیں‘ ان میں سے 25 اہم اور بڑے گروپ ہیں‘ یہ تمام گروپ حکیم اللہ محسود کا احترام بھی کرتے تھے اور اس کی قیادت کو بھی تسلیم کرتے تھے چنانچہ حکومت صرف ایک شخص سے مذاکرات اور ایک ہی شخص سے معاہدہ کرتی مگر حکیم اللہ محسود کی ہلاکت کے بعد تحریک طالبان پاکستان دھڑوں میں تقسیم ہو گئی اور حکومت اگر اب مذاکرات کرتی ہے تو اسے سوسے زائد طالبان لیڈروں سے رابطہ کرنا پڑے گا اور یہ اتنے ہی معاہدے کرے گی ‘ امریکا نے پاکستان کی مجبوری اور درخواست دونوں کو درخور اعتناء نہ سمجھا اور حکیم اللہ محسود کو اس وقت قتل کر دیا جب وہ حکومت پاکستان کی پناہ میں آ چکا تھا اور مذاکرات کا عمل بس شروع ہوا چاہتا تھا‘ یہ قتل محض ایک قتل نہیں‘ یہ پاکستان اور طالبان کے درمیان اعلان جنگ ہے اور اب پاکستان کو خود کو بچانے کے لیے طالبان سے لڑنا ہو گا اور اس لڑائی میں ریاست کو زیادہ نقصان پہنچے گا۔
ہماری ریاست کو اب لڑنے کے لیے تیار ہو جانا چاہیے مگر ہمیں اس لڑائی سے پہلے قوم کے سامنے سچ بولنا چاہیے‘ ہمیں کم از کم اس لڑائی کی بنیاد سچائی پر رکھنی چاہیے‘ ہمیں سب سے پہلے یہ ماننا چاہیے پاکستان نے امریکا کے ساتھ ڈرون کا معاہدہ کیا تھا‘ یہ معاہدہ 2004ء میں ہوا تھا‘ اس کی فائل آج بھی وزارت دفاع میں موجود ہے‘پاکستان کی چار شخصیات یہ فائل دیکھ چکی ہیں‘ آئی ایس آئی کے سابق ڈی جی جنرل احمد شجاع پاشا‘ امریکا میں پاکستان کے سفیر حسین حقانی‘ شیری رحمن اور ماضی میں دفتر خارجہ کے امریکا ڈیسک کے انچارج۔ یہ صاحب آج کل سینٹرل ایشیا کے کسی ملک میں سفیر ہیں‘ یہ فائل جس عہدیدار کو بھی دکھائی گئی اس سے گارنٹی لی گئی‘ وہ اس کی فوٹو کاپی بنائے گا اور نہ ہی اس کی تصویر ۔ یہ فائل آخری بار شیری رحمن کو دکھائی گئی تھی‘ اس فائل میں وہ معاہدہ موجود تھا پاکستان نے جس کے تحت امریکی ڈرون کو پاکستان میں پارک ہونے اور اڑنے کی اجازت دی لیکن یہ بھی حقیقت ہے ہماری سیاسی قیادت وزارت دفاع یا دفتر خارجہ سے جب بھی ڈرون کی اجازت کے بارے میں پوچھتی ہے‘ اسے یہ جواب دیا جاتا ہے ’’ ہمارا امریکا کے ساتھ کوئی معاہدہ نہیں‘‘ اورہماری سیاسی قیادت اسے سچ مان لیتی ہے۔
یہ لوگ جب امریکی قیادت کے سامنے بیٹھتے ہیں تو امریکی قیادت معاہدے کی بات کر کے ہمارے لیڈروں کو پریشان کر دیتی ہے‘ ڈرون کے بارے میں مشکوک کردار حسین حقانی نے بھی ادا کیا‘ حسین حقانی 13 اپریل 2008ء کو امریکا میں پاکستان کے سفیر بنے‘ یہ اس وقت تک ایک ’’ غریب پاکستانی‘‘ تھے‘ ان کے پاس اس وقت ڈھنگ کا سوٹ تک نہیں تھا‘ آصف علی زرداری نے اپنے اکاؤنٹ سے اسے دس سوٹ لے کر دیے، یوں حسین حقانی کو امداد میں دس سوٹ ملے‘ ان کی اہلیہ فرح نازکی اصفہانی فیملی کبھی ملک کے امیر ترین خاندانوں میں شمار ہوتی تھی مگر اب اس کی وہ حیتھی نہیں ہے۔ فرح ناز اصفہانی پانچ برسوں میں جب بھی کراچی جاتی تھیں‘ یہ اپنی دوستوں کے گھر میں رہتی تھیں مگر حسین حقانی نے اب واشنگٹن کے انتہائی مہنگے علاقے میں گھر خریدلیا‘ یہ گھر کس کے پیسے سے خریدا گیا؟ لوگ اسے ڈرون حملوں سے جوڑتے ہیں کیونکہ ہمارے سفیر امریکا میں پاکستان کی نمایندگی کرنے کے بجائے پاکستان میں امریکا کی وکالت کرتے تھے۔
امریکی حکومت پاکستانی سفارت خانے کے سیکرٹ فنڈ کے بارے میں بھی تحقیقات کر رہی ہے‘ امریکی حکومت کو شک ہے پاکستانی سفیر کو ہر سال دو ملین ڈالر کا سیکرٹ فنڈ ملتا تھا۔ مجھے دفتر خارجہ کے ایک صاحب نے بتایا یہ فنڈ شیری رحمن نے سفیر بننے کے بعد ختم کیا‘ یہ فنڈ اگر موجود تھا تو اس کا حساب کون لے گا‘ حسین حقانی سے یہ کون پوچھے گا یہ ڈرون پالیسی پر قوم سے ساڑھے تنے سال جھوٹ کیوں بولتے رہے اور یہ امریکا میں کس کی نمایندگی کرتے رہے‘ ہمیں جنگ سے قبل قوم کو ڈرون معاہدے کے بارے میں اعتماد میں لینا ہو گا اور معاہدہ کرنے والوں کو بھی قوم کے سامنے پیش کرنا ہوگا‘ ہمیں امریکا کی دوستی سے بھی اب نکلنا ہوگا کیونکہ ہم نے 65 برس کی دوستی میں امریکا سے کچھ حاصل نہیں کیا‘ یہ اب ثابت ہو چکا ہے ‘ہم نے کولڈ وار سے لے کر دہشت گردی کی جنگ تک صرف امریکا کی غلامی کی اور غلامی میں روٹی کے ٹکڑوں کے سوا کچھ نہیں ملا کرتا اور ہمیں یہ بھی نہیں ملے‘ ہمیں قوم کو یہ بھی بتانا ہوگا امریکا نے جون 2004ء میں نیک محمد اور یکم نومبر کو حکیم اللہ محسود پر حملہ کرکے پاکستان کو اس جنگ میں دھکیل دیا ہم جس سے بچنا چاہتے تھے‘ جون 2004ء میں نیک محمد کی ہلاکت کے بعد طالبان نے ملک میں خود کش حملے شروع کر دیے اور حکیم اللہ محسود کی ہلاکت کے بعد ہم حالت جنگ میں چلے جائیں گے اور شاید امریکا کا منصوبہ ہو‘ یہ ہمیں طالبان کے خلاف کرائے کا سپاہی بنانا چاہتا ہو تاکہ یہ اپنی فوجیں نکال کر لے جائے اور ہم پاکستان اور افغانستان میں طالبان کے ساتھ لڑتے رہیں‘ ہمیں قوم کو اس سازش کے بارے میں بھی اعتماد میں لینا ہو گا‘ ورنہ دوسری صورت میں یہ جنگ بھی دھوکہ ہو گی اور دھوکوں کی بنیادوں پر لڑی جانے والی جنگیں ہمیشہ خسارے کا سودا ثابت ہوتی ہیں۔
ہمیں اب امریکا سے دوستی کا نیا چارٹر بھی سائن کرنا چاہیے‘ وہ چارٹر جس میں جلی حروف سے لکھا ہو‘ آپ اگر امریکا کے دشمن ہیں تو آپ بچ جائیں گے لنکا آپ اگر اس کا دوست بننے کی غلطی کربیٹھے تو پھر آپ اس کے ہاتھوں سے بچ نہیں سکیں گے‘ تاریخ کا قبرستان آپ کا مقدر ہو گا‘‘۔
فیصلے نہ دیں
جاوید چوہدری ہفتہ 2 نومبر 2013
میرے پاس ایک صاحب بیٹھے تھے‘یہ اچھے بھلے پڑھے لکھے اور کاروباری شخص تھے مگر یہ بھی اسی گفتگومیں کود پڑے جس سے ہم روز الجھتے ہیں اور ڈپریشن لے کر گھر چلے جاتے ہیں‘ میرے ایک ترکی دوست نے پاکستانی قوم کے بارے میں بڑی دلچسپ آبزرویشن دی‘ اس نے کہا ’’پاکستانی چوبیس گھنٹے کے سیاسی دانشور ہیں‘ میں جہاں بھی جاتا ہوں وہاں سیاسی گفتگو شروع ہو جاتی ہے اور اس گفتگو کا نوے فیصد مواد افواہوں‘ آبزرویشن اور لوگوں کی ذاتی خواہشات پر مبنی ہوتا ہے‘ ‘ میں نے اس سے اتفاق کیا‘ وہ بولا’’ آپ پاکستان کے مقابلے میں دنیا کے کسی ملک مںگ چلے جائیں‘ لوگ سیاست پر بہت کم بات کرتے ہیں‘ یہ دفترمیں صرف دفتر کی بات کریں گے‘ شام کو کسی ریستوران یا کافی شاپ میں بیٹھ کر کتابوں‘ فلموں اور اپنی گزری چھٹیوں کے بارے میں بات کریں گے اور ہفتے اور اتوار کے دن اسپورٹس‘ صحت اور کھانے کے بارے میں گفتگو ہو گی‘یہ لوگ صرف الیکشن کے دنوں میں سیاسی بات چیت کرتے ہیں مگر آپ ہر وقت اس کام میں جتے رہتے ہیں‘‘ میں نے اس بات سے بھی اتفاق کیا‘ ہم لوگ واقعی چوبیس گھنٹے کے سیاسی جانور ہیں‘ ہم میں سے جب بھی دو لوگ اکٹھے ہوں گے۔
یہ سیاسی گفتگو شروع کر دیں گے اور گفتگو کے دوران دونوں کا لہجہ قطعی ہو گا‘وہ صاحب بھی سیاسی گفتگو میں کود پڑے‘ میں نے جب زیادہ ریسپانس نہ دیا تو انھوں نے میرے ایک دوست کے بارے میں پوچھا ’’ یہ کیسا انسان ہے‘‘ میں نے عرض کیا ’’ وہ شخص انتہائی برا‘ واہیات‘ بدتمیز‘ کرپٹ‘ ظالم‘ نالائق‘ غدار اور کافر ہے‘‘ وہ حیرت سے میری طرف دیکھنے لگے‘ میں نے ان سے عرض کیا ’’ میرے بھائی آپ مجھ سے یہی سننا چاہتے تھے‘‘ وہ پریشان ہو گئے‘ ہماری قومی عادت ہے ہم جب بھی کسی تیسرے شخص کے بارے میں رائے لیتے ہیں تو ہم اس کے بارے میں بری بات سننا چاہتے ہیں‘ ہم چاہتے ہیں اس کی ذات کے ایسے گھنائونے پہلو ہمارے سامنے رکھے جائیںجن سے دنیا واقف نہیں اور میں نے اپنے اس دوست کی دلی خواہش پوری کر دی‘ وہ پہلے حیران ہوا‘ پھر اس کے چہرے پر طمانیت کے آثار آئے اوروہ اس کے بعد مسکرا کر بولا ’’کیا آپ تھوڑی سی وضاحت کر دیں گے‘‘ میں نے عرض کیا ’’وضاحت کی کیا ضرورت ہے‘ اس میں وہ تمام خرابیاں موجود ہیں جو دنیا کے برے لوگوں میں ہوتی ہیں‘ دنیا کے تمام بڑے بحرانوں‘ تمام بڑے حادثوں اور تمام مہلک سانحوں کا ذمے دار بھی یہ شخص ہے‘ دنیا میں سونامی بھی اس کی وجہ سے آتے ہیں‘ عراق اور افغانستان پر حملے بھی اس کی وجہ سے ہوئے تھے اور دنیا میں کیمیائی ہتھیاروں کا موجد بھی یہی ہے‘‘ میرے دوست کا قہقہہ نکل گیا۔
ہم ملالہ کے معاملے میں بھی اسی رویئے کا شکار ہیں‘ میں ابلاغیات کا طالب علم ہوں‘ میں اکیس سال سے صحافت سے وابستہ ہوں اورسولہ سال سے کالم لکھ رہا ہوں‘ میں اچھی طرح جانتا ہوں لوگ کس وقت کیا پڑھنا چاہتے ہیں‘ یہ کس بات پر تالی بجائیں گے اور کس پر نعرے لگائیں گے چنانچہ میرے لیے لوگوں کی خواہشات کو سیراب کرنا قطعی مشکل نہیں‘ آپ آدھ گھنٹے کے لیے نسیم حجازی بن جائیں اور داد سے جھولی بھر لیں مگر سوال یہ ہے کیا صحافیوں‘ کالم نگاروں اور لکھاریوں کا کام لوگوں کی خواہشوں کا منہ میٹھا کرنا ہوتا ہے؟ کیا ہمارا کام وہ لکھنا ہے جو لوگ پسند کرتے ہیں یا پھرلوگوں کا ذہنی افق وسیع کرنا‘ انھیں تصویر کے پیچھے جھانکنے کی ٹریننگ دینا ہے۔ لکھاری اور حلوائی میں فرق ہونا چاہیے‘ حلوائی برسات کے موسم میں پکوڑے بناتے ہیں‘ شادیوں کے سیزن میں لڈو کی مقدار بڑھا دیتے ہیں اورسردیوں میں گجریلے پر سرمایہ کاری شروع کر دیتے ہیں‘ ہمارا کام یہ نہیں ہے‘ ہمارا کام لوگوں کو ایجوکیٹ کرنا‘ ان کو چیزوں کا اصل ویو دکھانا ہوتا ہے۔
یہ ہمارا فرض بھی ہے اور ذمے داری بھی۔ آپ خود سوچئے میرے لیے کتنا آسان ہے میں بھی قلم کو لوگوں کی نفرت کے بہاؤ میں بہنے دوں‘ میں بھی تلوار لے کر ملالہ کے سر پر کھڑا ہو جائوں‘ میں بھی اس کی کھانسی‘ اس کی مسکراہٹ اور اس کی ملاقاتوں سے پاکستان اور اسلام دشمنی نکالنا شروع کر دوں‘ میں بھی یہ لکھنے لگوں‘ ملالہ ایک عالمی سازش ہے اور اس سازش میں امریکا کے ساتھ ساتھ برطانیہ‘ اسرائیل اور بھارت بھی شامل ہیں‘ ملالہ سرے سے پاکستانی نہیں‘ یہ پولینڈ‘ اسرائیل یا امریکا سے تعلق رکھتی ہے اور امریکا نے پاکستان کو بدنام کرنے کے لیے اسے ہمارے ملک میں لانچ کیا وغیرہ وغیرہ اور ٹنوں کے حساب سے لوگوں کی داد سمیٹوں‘ لوگ میرے لیے تالیاں بجائیں اور واہ واہ کے ڈونگرے برسائیں لہٰذا پھر مجھے آپ لوگوں کی گالیاں کھانے کی کیا ضرورت ہے‘ مجھے خود کو امریکی جاسوس کہلانے یا ملک دشمن کا ٹائیٹل لےن کی کیا ضرورت ہے لیکن میں سوچتا ہوں میں جس دن یہ سوچ کر لکھوں گا۔
عوام کو یہ پسند آئے گا یا یہ سوچ کر لفظوں کو اپنی لغت سے خارج کرنے لگوں گا کہ لوگ انھیں پسند نہیں کریں گے تو اس دن میری ذمے داری‘ میرا فرض مصلحت کی صلیب پر چڑھ جائے گا‘ میں اس دن لکھاری نہیں رہوں گا گا‘لکھاریوں کو کبھی عوامی پاگل پن کا حصہ نہیں بننا چاہیے‘ انھیں اپنی رائے کا کھل کر اظہار کرنا چاہیے لیکن اس کا ہرگز ہرگز یہ مطلب نہیں ہماری رائے سو فیصد درست ہوتی ہے‘ ہماری رائے بھی غلط ہو سکتی ہے‘ یہ کالم ہیں‘ یہ مذہبی صحیفے نہیں ہیں لیکن اس کا ہرگز ہرگز یہ مطلب بھی نہیں ہوتا ہمیں جو رائے پسند نہیں‘ وہ بکائو ہوگی یا وہ کفریہ تحریر ہو گی یا پھرہم لوگ کسی غیر ملکی ایجنڈے کو کیری کر رہے ہیں‘ ہماری رائے ایک آزاد رائے ہوتی ہے جس سے ہر قاری کا متفق ہونا ضروری نہیں‘ آپ اسے محض ایک رائے سمجھیں‘ ایک ویو‘ ایک پہلو سمجھیں اور اس کی بنیاد پر لکھنے والے کے ایمان‘ ایمانداری یا حب الوطنی کا فیصلہ نہ کریں‘ آپ کوکوئی رائے اچھی لگتی ہے تو بہت خوب‘اچھی نہیں لگتی تو اس سے بھی زیادہ خوب مگر اس کا ہرگز ہرگز یہ مطلب نہیں آپ کو جو رائے پسند نہیں آپ اسے ملک دشمن یا خلاف اسلام قرار دے دیں‘ یہ زیادتی ہو گی۔
ہم اب آتے ہیں ملالہ ایشو کے ایک دوسرے پہلو کی طرف‘ یورپ اور امریکا سمیت ساری مغربی دنیا ایک تضاد کا شکار ہے‘ ان کی حکومتی پالیسیاں دوسرے ممالک کے بارے میں ظالمانہ ہوتی ہیں لیکن ان کے عوام‘ ان کے لکھاریوں اور ان کے میڈیا کا رویہ معتدل اور منصفانہ ہوتا ہے‘ یہ لوگ مظلوموں بالخصوص مظلوم عورتوں اور بچوں کو بہت اہمیت دیتے ہیں‘ یہ عزم و ہمت کا مظاہرہ کرنے والے لوگوں کو بھی پسند کرتے ہیں چنانچہ دنیا کے کسی کونے سے جب بھی ملالہ جیسی کوئی بچی یورپ یا امریکا کے میڈیا تک پہنچتی ہے تو ان کا معاشرہ اسے ہاتھوں پر اٹھا لےتک ہیں‘ ان کا میڈیا‘ ان کی این جی اوز‘ ان کی سول سوسائٹی‘ ان کے پارلیمنٹیرینز اور آخری اسٹیج پر ان کی حکومتیں اس کو وی آئی پی اسٹیٹس دیتی ہیں‘ آپ کو یقین نہ آئے تو آپ انٹرنیٹ پر چلے جائیں ‘ آپ کو ایتھوپیا‘ افغانستان‘ ایران‘ یمن‘ سری لنکا‘ چاڈ‘ عراق‘ لبنان‘ فلسطین‘ بوسنیا‘ سربیا‘ کیوبا‘ چلی اور تھائی لینڈ کی بے شمار ایسی خواتین‘ بچے‘ بچیاں اور مظلوم ملیں گے جنھیں یورپ اور امریکا نے ملالہ جتنی اہمیت دی‘ آن سونگ سوچی برما کی سیاسی لیڈر ہے‘ یہ 21 سال برما میں قید رہی‘اس کی رہائی کی تحریک بیس سال یورپ میں چلتی رہی اور یورپ کا بچہ بچہ اس کے نام سے واقف ہے۔
لیلیٰ خالد فلسطینی مجاہدہ تھی لیکن ہم تک اس کا نام مغربی میڈیا کے ذریعے پہنچا‘ نیلسن مینڈیلا کو گوروں نے قید کیا تھا لیکن اس کو ہیرو بھی گوروں نے بنایا‘ ہالی ووڈ نے اس پر پانچ فلمیں بنائیں اور یہ چالیس سال سے میڈیا میں ہیں‘ افغانستان میں عورتوں کے قتل پر پورے مغربی میڈیا نے سیکڑوں رپورٹیں بنائیں اور ایران اور ترکی کی خواتین کو نوبل انعام بھی دیا گیا‘ مغربی عوام مظلوم لوگوں کے لیے دل کے دروازے کھول دیتے ہیں مگر ان کی حکومتیں ظالم ہیں‘ ہمارے ملک میں ملالہ جیسی لڑکی پہلی بار سامنے آئی ہے اور یورپ اور امریکا نے پہلی بار ہماری کسی بچی کو اتنی اہمیت دی چنانچہ ہم مغرب کے رویے کو مشکوک نظروں سے دیکھ رہے ہیں‘ ہم اس میں سازش تلاش کر رہے ہیں‘ آپ ملالہ کو ایک لمحے کے لیے سائیڈ پر رکھ دیںاور ڈرون حملے کا نشانہ بننے والے شمالی وزیرستان کے رفیق الرحمن اور اس کے دو بچوں کی مثال لیجیے‘ ایمنسٹی انٹرنیشنل اس علاقے تک پہنچی جہاں آج تک ہماری ریاست داخل نہیں ہو سکی۔
ایمنسٹی نے رفیق الرحمن کے خاندان کو رپورٹ کا حصہ بنایا‘ امریکی کانگریس مین ایلن گریسن نے نہ صرف رفیق الرحمن اور اس کے بچوں کو امریکا بلایا بلکہ میڈیا کے سامنے بھی پیش کیا اور دنیا بھر کا میڈیا ان لوگوں کو بھرپور کوریج دے رہا ہے اور یہ لوگ امریکا میں بیٹھ کر امریکا کو قاتل اور ظالم قرار دے رہے ہیں اور لوگ ان کی بات ہمدردی سے سن رہے ہیں‘ یہ ہمدردی ‘یہ برداشت مغربی کلچر کا حصہ ہے لیکن یہ کیونکہ ہمارے لیے نئی بات ہے چنانچہ ہم ملالہ کے حق میں کوئی بات سننے کے لیے تیار نہیں ہیں‘ آپ ملالہ‘ اس کی کوریج اور اس کی کتاب کو ایک واقعہ سمجھ کر دیکھیں‘ آپ کو یہ بری نہیں لگے گی‘ آپ اسے کفر اور اسلام کی جنگ بنا رہے ہیں اور آپ کے اس فیصلے کی وجہ سے ملک میں کشیدگی پیدا ہو رہی ہے‘ آپ سولہ سال کی بچی کے خلاف فیصلے نہ دیں‘ دل بڑا کریں‘ یہ ہماری بچی ہے۔
ملالہ بیچاری
جاوید چوہدری جمعرات 31 اکتوبر 2013
حضرت علی کرم اللہ وجہہُ مسجد نبوی میں علم بانٹ رہے تھے‘ خاتون پریشانی میں بھاگتی ہوئی آئی اور عرض کیا ’’ حضور میرا تین سال کا بچہ کنوئیں کے قریب کھڑا ہے‘ میں اس کی طرف جاتی ہوں تو وہ کنوئیں کی طرف دوڑ پڑتا ہے‘ آپ میری رہنمائی کریں‘ میں اپنے بچے کو کیسے بچائوں‘‘ حضرت علیؓ مسکرائے اور خاتون کو حکم دیا ’’ تم اس کا کوئی ہم عمر بچہ لے جائو‘ وہ بچہ تمہارے بیٹے کو کنوئیں سے ہٹا لے گا‘‘ عورت نے ہمسائے کا بچہ لیا اور کنوئیں پر پہنچ گئی‘ بچے نے بچے کو دیکھا تو وہ قہقہے لگاتا ہوا اپنے ہم عمر کے پاس آ گیا اور یوں خاتون بیٹے کو زندہ سلامت لے کر گھر چلی گئی‘ بچوں کو صرف بچے سمجھ سکتے ہیں‘ آپ کبھی تجربہ کر کے دیکھ لیں‘ آپ اپنے دو تین یا چار سال کے بچے کو کسی ایسی جگہ لے جائیں جہاں مختلف قومیتوں کے بچے موجود ہوں‘ آپ اپنے دیسی بچے کو ان بچوں میں چھوڑ دیں۔
آپ یہ دیکھ کر حیران رہ جائیں گے آپ کا بچہ چند لمحوں میں ان اجنبی بچوں میں ’’مکس اپ‘‘ ہو جائے گا‘ یہ بچے مختلف قومیتوں اور مختلف نسلوں کے مختلف زبانیں بولنے والے بچے ہوں گے لیکن یہ نہ صرف ایک دوسرے کے ساتھ کمیونی کیشن کر رہے ہوں گے بلکہ یہ ایک دوسرے کو اپنے اپنے کھیل بھی سکھا رہے ہوں گے‘ یہ کیوں ہوتا ہے؟ اس کی وجہ سیکھنے کی صلاحیت ہے‘ بچوں میں سیکھنے کی بے تحاشہ صلاحیت ہوتی ہے‘ یہ صلاحیت اس وقت تک پیدا نہیں ہوتی جب تک انسان میں لچک نہ ہو اور لچک اس وقت پیدا ہوتی ہے جب آپ خود کو تعصبات‘ رنگ و نسل‘ ملک و قوم اور خاندان و قبیلے سے بالاتر کر لیتے ہیں‘ بچے کیونکہ تعصبات سے بالاتر ہوتے ہیںلہٰذا ان میں لچک ہوتی ہے اور یہ لچک انھیں سیکھنے کی صلاحیت‘ سیکھنے کا فن ودیعت کرتی ہے‘ آپ اگر بچوں کی اس جبلت کو سمجھنا چاہتے ہیں تو آپ کو بچہ بننا پڑتا ہے‘ آپ بڑے رہ کر کبھی بچوں کی خصلت کو نہیں سمجھ سکتے۔
ہم بزرگ لوگ ملالہ کے معاملے میں یہ غلطی کر رہے ہیں‘ ملالہ گل مکئی کے نام سے جب بی بی سی اردو میں مضامین لکھتی تھی تو اس وقت اس کی عمر صرف 12 سال تھی‘ ملالہ نے آج جب دنیا کے 27 بڑے میڈلز اور اعزازات لیے تو یہ فقط 16سال کی بچی ہے اور آپ اگر سولہ سال کی سواتی بچی سے یہ توقع کریں گے‘ یہ مفتی تقی عثمانی‘علامہ طاہر القادری یا پھر اشفاق احمد جتنی ذہین‘ دانشور اور فطین ہو گی اور اس کی تحریر میں اتنی پختگی ہو گی تو آپ اپنے اور اس بچی دونوں کے ساتھ ظلم کریں گے‘ آپ اگر اس بچی کو اپنی تیرہ اور سولہ سال کی بچیوں کے درماین کھڑا کر کے دیکھیں گے تو آپ کو یہ بچی ہزاروں لاکھوں بچیوں سے زیادہ قدر آور دکھائی دے گی‘ ہماری بچیاں اس عمر میں گڑیوں سے کھیلتی ہیں‘ یہ خط تک نہیں لکھ سکتیں اور یہ چھوٹے چھوٹے تقریری مقابلوں میں سر ٹیفکیٹ حاصل کرتی ہیں تو ہم اپنے دوستوں کو یہ سر ٹیفکیٹ بڑے فخر سے دکھاتے ہیں مگرملالہ نے اس عمر میں نہ صرف حالات کا ڈٹ کر مقابلہ کیا بلکہ یہ بچوں کی بین الاقوامی سطح کی لیڈر بھی بن گئی‘ آپ ٹیلی ویژن چینلز سے ملالہ کی تین چار سال پرانی فوٹیج نکلوا کر دیکھ لیجیے۔
یہ اس وقت سوات کی ایک غیر معروف بارہ سالہ بچی تھی ‘ آپ اس پرانی فوٹیج میں اس کا اعتماد‘ اس کی گفتگو دیکھ کر حیران رہ جائیں گے‘ آج اس بچی نے اپنے اعتماد سے پوری دنیا کی توجہ حاصل کر لی لیکن ہم سولہ سال کی اس بچی کی لکھی ہوئی کتاب سے اسلام تلاش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں‘ مجھے بھی اس کتاب کے بعض اقتباسات پر اعتراض ہے مگر آپ دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیے جب ہمارے بچے مذہب‘ ملک اور سیاسی شخصیات کے بارے میں سوال کرتے ہیں تو کیا ان کے سوال ملالہ کے سوالوں سے زیادہ خطرناک نہیں ہوتے اور کیا ہم انھںو ڈرا دھمکا کر چپ نہیں کرواتے؟ ہم اگر اپنے بچوں کا ایک سوال لکھ دیں یا ہم اپنے بچوں کو یہ سوال دوسروں کے سامنے پوچھنے کی اجازت دے دیں توکیا ہمارے بچوں پر کفر کے فتوے نہیں لگ جائیں گے؟ لیکن کیونکہ یہ بچے ہمارے بچے ہیں چنانچہ ہم ان کے وکیل بن جاتے ہیں اور ملالہ کیونکہ ہماری بچی نہیں لہٰذا ہم اپنی ساری انرجی اسے کافر‘ غیر محب وطن اور غدار ثابت کرنے پر لگا رہے ہیں۔
میرے ایک عزیز دوست کل ٹیلی ویژن پر ملالہ کی کتاب کا حوالہ دیتے ہوئے فرما رہے تھے ’’ ملالہ نے اپنی کتاب میں قائداعظم کو قائداعظم کے بجائے جناح لکھا‘‘ میں ان کی بات پر حیران رہ گیا کیونکہ قائداعظم کو صرف ہم قائداعظم کہتے ہیں‘ دنیا قائداعظم کو جناح کہتی ہے‘ بالکل اسی طرح جس طرح ہندوستان موہن داس کرم چند گاندھی کو باپو مگر دنیا گاندھی کہتی ہے ‘ کرسٹینا لیمب اس کتاب کی اصل رائیٹر ہے اور یہ رائیٹر پاکستانی نہیں برطانوی ہے چنانچہ یہ جب بھی لکھے گی جناح ہی لکھے گی‘ آپ سٹینلے والپرٹ سے لے کرجی الانا تک تمام انگریز مصنفوں کی کتابیں پڑھ لیں‘ ان سب نے قائداعظم کو جناح لکھا۔ ہمیں ملالہ کی پاکستانیت اور مذہب مشکوک نظر آتا ہے مگر ہمیں یہ دکھائی نہیں دیتا‘ یہ بچی دنیا کے جس فورم پر گئی‘ یہ پاکستانی لباس میں ملبوس تھی۔
اس نے سواتی قمیض اور شلوار پہن رکھی تھی اور اس کے سر پر دو پٹہ بھی تھا اور اس نے دنیا کے ہر فورم‘ ہر جگہ پر پاکستان اور پاکستانی بچوں کی بات کی اور یہ اس ملک کی بچی کر رہی ہے جس کے صدور اور وزراء اعظم ملک میں شلوار قمیض اور ویسٹ کوٹ پہن کر پھرتے ہیں مگر اوبامہ اور ڈیوڈ کیمرون سے سوٹ میں ملاقات کرتے ہیں‘ یہ بچی بڑے بڑے فورمز پر فی البدیہہ بات کرتی ہے مگر ہمارے وزیراعظم صدر اوبامہ کے سامنے دس فقرے بولنے کے لیے بھی کاغذ ساتھ لے جاتے ہیں‘ ہمارے وزراء اعظم‘ ہمارے صدور عالمی شخصیات سے ملاقات کے لیے اپنے بچوں کو ساتھ لے جاتے ہیں‘ یہ بلاول بھٹو‘ بختاور بھٹو‘ آصفہ بھٹو‘ حمزہ شہباز شریف اور سلیمان شہباز شریف کی ان کے ساتھ تصویریں کھینچواتے ہیں‘ یوسف رضا گیلانی اور راجہ پرویز اشرف اپنے پورے پورے خاندان کو وائیٹ ہائوس‘ 10 ڈائوننگ اسٹریٹ اور چینی صدر کی رہائش گاہ پر لے جاتے تھے‘ ہم نے کبھی اعتراض نہیں کیا مگر ہمیں اپنے ٹیلنٹ‘ اپنے اعتماد اور اپنی سٹرگل کے ذریعے بکنگھم پیلس‘ وائیٹ ہائوس اور 10ڈائوننگ اسٹریٹ پہنچنے والی بچی پر بہت اعتراضات ہیں۔
آپ ملالہ یوسف زئی پر اعتراض کر رہے ہیں‘ آپ ہزار بار کریں کیونکہ یہ وہ واحد حق ہے جو اس ملک میں ہر شخص کو منوں کے حساب سے حاصل ہے اور ہم میں سے ہر شخص یہ حق اپنے کوٹے سے زیادہ استعمال کرتا ہے‘ ہم ایسی قوم ہیں جو دوسروں کے وضو‘ نماز اور تلاوت تک میں نقص تلاش کر لیتی ہے‘ ہم میں سے ننانوے فیصد لوگوں کی گفتگو ’’ نہیں‘‘ سے شروع ہوتی ہے‘ آپ کسی شخص سے کچھ پوچھ لیں‘ یہ پہلے نہیں کہے گا اور اس کے بعد بات شروع کرے گا لہٰذا اعتراضات کی اس زمین پر آپ کو بھی ہر قسم کے اعتراض کی کھلی چھٹی ہے لیکن آپ دل پر ہاتھ رکھ کر جواب دیجیے‘ دنیا نے ملالہ کو جتنے ایوارڈز دیے ہیں‘ آپ کا نام اگر ان میں سے کسی ایک ایوارڈ کے لیے پیش ہو جاتا تو کیا آپ یہ قبول نہ کرتے‘ کیا آپ کو خوشی نہ ہوتی اور اگر آپ کے بچے یا بچی کو ملکہ برطانیہ ملاقات کی دعوت دے تو کیا آپ یہ دعوت ٹھکرا دیں گے‘ آج جو لوگ ملالہ کو برا بھلا کہہ رہے ہیں مجھے یقین ہے ان میں سے اکثریت نے وائیٹ ہائوس‘ بکنگھم پیلس اور 10 ڈائوننگ اسٹریٹ کے سامنے تصویر کھینچوائی ہو گی اور اگر یہ سانحہ اب تک نہیں ہوا تو یہ ان ملکوں کی سیر سے صرف لطف اندوز ہوچکے ہیں جو آج ملالہ کو عزت دینے کے بعد ان کی نظر میں برے ہو چکے ہیں۔
ہم مردہ پرست قوم ہیں‘ ہم تو اس وقت تک ولی کو ولی نہیں مانتے جب تک وہ پانچ من مٹی میں دفن نہیں ہو جاتا‘ اس کی قبر پر چادر نہیں ڈال دی جاتی اور اس کے مزار کے گرد دس بیس ملنگ نہیں بیٹھ جاتے اور اس ملک میں 16سال کی بچی کی یہ ہمت‘ یہ جرأت کہ یہ یو این میں خطاب کر جائے‘ یہ صدر اوبامہ کے سامنے بیٹھ جائے اور صدر اوبامہ اپنی بیگم اور اپنی بیٹیوں کو بلا کر ان کی اس سے ملاقات کرائے‘ ملکہ برطانیہ اسے دعوت دے اور یہ سولہ سال کی عمر میں بیسٹ سیلر کتاب کی مالک بن جائے‘ یہ کیسے ممکن ہے؟ ہم یہ کیسے برداشت کر سکتے ہیں‘ یہ احساس کمتری میں گندھا ہوا ایسا معاشرہ ہے جو دوسروں کی منڈیر پر چراغ تک برداشت نہیں کرتا‘ ہم تو ایسے لوگ ہیں کہ ہمارے ہمسائے کی مرغی دو انڈے دے دے تو ہم اسے مغربی سازش قرار دے دیتے ہیں یا پھر اس مرغی کو نیلا تھوتھا کھلا دیتے ہیں‘ ہم ملالہ کو کیسے برداشت کریں گے؟ ملالہ ایک بے چاری پاکستانی بچی ہے‘ ہم لوگ اس بچی کا اسکول بچا نہیں سکے مگر ہم اس کے گل مکئی ہونے‘ نوبل انعام تک پہنچنے اور دنیا کی نوجوان ترین مقبول مصنفہ ہونے پر بہت دکھی ہیں‘ میں حیران ہوں ہم نے اب تک سولہ سال کی اس بچی پر کفر کا فتویٰ کیوں نہیں لگایا اور ہم نے اسے را کا ایجنٹ قرار کیوں نہیں دیا‘مجھے لگتا ہے ہم یہ بھی کر گزریں گے لیکن اس کے باوجود ہمارے جذبہ انتقام کی تسلی نہیں ہو گی کیونکہ دنیا میں نفرت کی آگ بجھائی جا سکتی ہے حسد کی نہیں۔ یہ بچی ہے‘ آپ اگر اسے سمجھنا چاہتے ہیں تو آپ اسے اپنے بچوں میں رکھ کر دیکھیں‘ اسے اپنی انا اور ضد کے گز سے نہ ماپیں۔

ڈاکٹروں کی شکل میں یہ خونی درندے
جاوید چوہدری بدھ 30 اکتوبر 2013
آپ سب سے پہلے ڈسکہ کا واقعہ ملاحظہ کیجیے‘ کامران افضل 25 سال کا خوبصورت جوان تھا‘ آپ کے جوان بھائی‘ صاحبزادے یا کزن کی طرح جوان‘ یہ بھی آپ اور میرے بچوں کی طرح زندگی میں بہت کچھ کرنا چاہتا تھا مگر پھر عین جوانی میں اس کی زندگی کی ڈور کٹ گئی‘ اس کو اپینڈکس کا درد ہوا‘ اس کا بھائی اسے مقامی اسپتال لے گیا‘ ڈسکہ کے اس اسپتال کا نام شاہد ہاسپٹل تھا‘ ڈاکٹر شاہد فاروق اس اسپتال کے مالک تھے‘ ڈاکٹر شاہد نے مریض کا معائنہ کیا اور فوری آپریشن کا حکم جاری کر دیا‘ نوجوان کامران افضل کو آپریشن تھیٹر میں لے جایا گیا‘ آپریشن شروع ہوا تو طویل ہوتا چلا گیا‘ کامران افضل کا بھائی عام شہری‘ عام انسان تھا لیکن وہ جانتا تھا اپینڈکس کا آپریشن ایک آدھ گھنٹے میں مکمل ہو جاتا ہے لیکن اس کے بھائی کا آپریشن طویل سے طویل ہوتا جا رہا تھا‘ بہر حال قصہ مختصر خدا خدا کر کے آپریشن مکمل ہوا‘ ڈاکٹر شاہد فاروق آپریشن تھیٹر سے نکلا اور مریض کو ڈس چارج کر کے گھر بھجوا دیا‘ کامران افضل گھر پہنچ کر تڑپنے لگا‘ اس کے پیٹ میں شدید درد تھا‘ کامران کے گھر والے اسے لے کر دوبارہ اسپتال پہنچ گئے‘ ڈاکٹر نے دوبارہ آپریشن کیا اور مریض کو ایک بار پھر ڈسچارج کر دیا گیا مگر اس کی حالت نہ سنبھلی‘ کامران افضل کے گھر والے اسے فوری طور پر شیخ زید بن سلطان اسپتال لاہور لے گئے۔
وہاں ڈاکٹروں نے اس کی جان بچانے کی سرتوڑ کوشش کی مگر کامران افضل جان کی بازی ہار گیا‘ مرحوم کے بھائی کو کسی نے بتایا پنجاب حکومت نے پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن کے نام سے ایک ادارہ بنا رکھا ہے‘ یہ ادارہ ڈاکٹروں کی زیادتی اور نااہلی کا ازالہ کرتا ہے‘ مرحوم کے بھائی نے پنجاب ہیلتھ کرئک کمیشن میں درخواست دے دی‘ کمیشن نے تحقیقات شروع کیں تو حیران کن انکشافات سامنے آئے‘ پتہ چلا ڈاکٹر شاہد فاروق سمبڑیال کے تحصیل اسپتال کا سرجن ہے‘ اس نے ڈسکہ میں پرائیویٹ اسپتال بنا رکھا ہے لیکن اس اسپتال میں آپریشن کی بنیادی سہولتیں تک موجود نہیں‘ اس کا اسسٹنٹ شبیر حسین ٹیوب ویل آپریٹر ہے اور یہ ٹیوب ویل آپریٹر نہ صرف مریض کو بے ہوشی کا ٹیکہ لگاتا ہے بلکہ آپریشن کے دوران ڈاکٹر کی معاونت بھی کرتا ہے‘ میڈیکل بورڈ بیٹھا‘ اس نے کامران افضل کے کیس کا جائزہ لیا تو انکشاف ہوا‘ ڈاکٹر نے آپریشن کے دوران مریض کے جسم میں ڈرین نہیں لگائی تھی جس کی وجہ سے گندہ خون جسم سے باہر نہیں نکل سکا اور یہ پیٹ میں پیپ کا باعث بن گیا۔
یہ انکشاف بھی ہوا ڈاکٹر نے آپریشن کے دوران بڑی آنت اور چھوٹی آنت کے درمیان موجود والو بھی کاٹ دیا تھا‘ قدرت نے ہمارے جسم میں بڑے دلچسپ سسٹم بنا رکھے ہیں‘ ہمارے جسم کا فضلہ جب چھوٹی آنت سے بڑی آنت میں داخل ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ نے وہاں ایک والو لگا رکھا ہے‘ یہ والو بڑی آنت کے فضلے کو واپس نہیں جانے دیتا چنانچہ ہمارے جسم کی گندگی اس والو کی وجہ سے آگے سے آگے چلتی ہے اور یوں جسم سے خارج ہو جاتی ہے مگر ڈاکٹر شاہد فاروق نے مظلوم کامران افضل کی آنت کا یہ والو کاٹ دیا اور اس ظلم کی وجہ سے کامران افضل کا فضلہ واپس پیٹ میں جانے لگا اور یہ انفیکشن کا باعث بن گیا اور کامران اس انفیکشن کی وجہ سے دنیا سے رخصت ہو گیا‘ کمیشن کی رپورٹ آئی‘ شاہد اسپتال بند کر دیا گیا‘ پانچ لاکھ روپے جرمانہ کیا گیا اورڈاکٹر شاہد فاروق کے خلاف مقدمہ قائم کرنے کا حکم دے دیا گیا۔
آپ اب ملتان کے محلے نواب پورہ کی مظلوم خاتون آمنہ بی بی کا واقعہ بھی ملاحظہ کیجیے‘ آمنہ بی بی کی عمر 22 سال ہے‘ یہ حاملہ تھی‘ اس کا خاوند محمد سجاد اسے معائنے کے لےب مدثر سرجیکل سینٹر لے گیا‘ چیک اپ کے دوران ڈاکٹر تنویر احمد‘ ڈاکٹر اللہ داد اور ڈاکٹر ناہیدہ صادق نے محمد سجاد کو بتایا آپ کی بیوی کا فوری آپریشن کرنا ہوگا‘ اگر دیر ہوگئی تو زچہ و بچہ دونوں کی جان خطرے میں پڑ جائے گی‘ محمد سجاد نے وہی فیصلہ کیا جو اس مرحلے میں ہر خاوند کرتا ہے‘ اس نے آپریشن کی اجازت دے دی‘ آپریشن شروع ہوا تو ظلم کی انتہا ہو گئی‘ آمنہ بی بی کے جسم کو قصائی کی طرح کاٹ دیا گیا‘ خون بہا اور اس کے دونوں گردے جواب دے گئے‘ مریضہ کو فوری طور پر نشتر اسپتال پہنچا دیا گیا وہاں اسے ڈیالسیس پر شفٹ کر دیا گیا‘ محمد سجاد نے بھی مدثر سرجیکل سینٹرکے خلاف شکایت کر دی‘ میڈیکل کمیشن بنا تو ہوش ربا انکشافات ہوئے‘ پتہ چلا اسپتال کی مالکہ ناہید صادق ایل ایچ وی ہے‘ یہ سرے سے ڈاکٹر نہیں‘ اسپتال کا مرکزی ڈاکٹر تنویر احمد کبھی میڈیکل کالج نہیں گیا‘ یہ سو فیصد جعلی ڈاکٹر ہے اور پیچھے رہ گیا ڈاکٹر اللہ داد تو یہ اسپتال کا ہیلپر ہے‘ یہ بھی ڈاکٹر نہیں‘ انکوائری شروع ہوئی‘ کیس فائنل ہونے لگا تو ڈاکٹر ناہید صادق (جعلی) نے ایک اصل ڈاکٹر محترم ڈاکٹر الیاس کا سرٹیفکیٹ پیش کر دیا‘ ڈاکٹر الیاس نے لکھ کر دے دیا ’’ یہ آپریشن میں نے کیا تھا اور میں ایک کوالی فائیڈ سرجن ہوں‘‘ کیس ٹرن لے گیا مگر مزید تفتیش کے دوران یہ سر ٹیفکیٹ غلط ثابت ہوگیا‘ پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن نے مدثر سرجیکل سینٹرکے ساتھ بھی وہی سلوک کیا جو شاہد اسپتال کے ساتھ کیا تھا۔
یہ صرف دو مثالیں ہیں جب کہ اس وقت ملک میں ایسی ہزاروں لاکھوں شکایات موجود ہیں جن میں ڈاکٹروں نے مریضوں کے ساتھ قصائی یا سفاک قاتل سے زیادہ خوفناک سلوک کیا‘ استاد‘ ڈاکٹر اور لکھاری معاشرے کا ضمیر بھی ہوتے ہیں اور محسن بھی‘ جب یہ لوگ قاتل ہو جائیں‘ جب یہ ظلم پر اتر آئیں تو اس کے بعد معاشرے کے پاس کچھ نہیں بچتا اور ہم میں سے زیادہ تر لوگ ان تینوں کے ڈسے ہوئے ہیں‘ آپ لکھاریوں کو دیکھ لیں‘ یہ قوم کا ذہنی افق وسیع کرنے کے بجائے انھیں تنگ نظر بنا رہے ہیں‘ آج ہمارے ملک میں ہر وہ تحریر بک رہی ہے جو انسان کو انسان کے خلاف نفرت کا درس دیتی ہے‘ استاد کا کام انسان کو علم سے سرفراز کرنا ہوتا ہے لیکن ہمارے استاد‘ ہمارے تعلیمی ادارے بدقسمتی سے جہالت کا مرکز بن چکے ہیں اور پیچھے رہ گئے ڈاکٹر۔ ڈاکٹروں کو مسیحا کہا جاتا ہے‘ کیوں؟ کیونکہ یہ لوگ موت کی دہلیز پر بیٹھے مریضوں کے جسم میں دوبارہ زندگی پھونک دیتے ہیں مگر افسوس ہمارے ملک میں جعلی ڈاکٹر مریضوں کی رگوں سے رہی سہی زندگی بھی کھینچ لیتے ہیں‘ ہمارے ملک میں سفید کوٹ پہن کر ہزاروں درندے پھر رہے ہیں اور جو غریب‘ جو مظلوم ان کے ہتھے چڑھ جاتا ہے یہ اسے کاٹ کر رکھ دیتے ہیں‘ ڈاکٹروں کے ساتھ ساتھ اس ظلم میں دو اور طبقے بھی شامل ہیں‘ حکومت جس نے طبی سہولتوں پر توجہ نہیں دی چنانچہ صحت حکومت کے ہاتھ سے نکل کر تاجر پیشہ لوگوں کے ہاتھوں میں چلی گئی۔
ملک کے ہر شہر‘ ہر قصبے اور ہر گائوں میں پرائیویٹ کلینکس اور پرائیویٹ اسپتال قائم ہیں اور یہ اسپتال غریبوں کو دونوں ہاتھوں سے کاٹ رہے ہیں‘ حکومت نے پرائیویٹ کلینکس اور اسپتالوں کو ریگولائز کرنے کی کوشش بھی نہیں کی‘ ملک کے کسی بھی حصے میں کوئی بھی شخص اسپتال بنا لے اور یہ خواہ فرش صاف کرنے والوں کو سفید کوٹ پہنا کر مریضوں کے سامنے بٹھا دے‘ کوئی شخص‘ کوئی ادارہ اس سے نہیں پوچھتا۔ دوسرے مجرم عوام ہیں‘ یہ قریب ترین کلینک اور ہمسایہ اسپتال کو جینوئن سمجھ لیتے ہیں اور اپنے عزیزوں اور رشتے داروں کو ان جعلی ڈاکٹروں اور جعلی اسپتالوں کی قربان گاہ پر چڑھا دیتے ہیں‘ ہم ٹماٹر اور پیاز چھان پھٹک کر خریدیں گے مگر سٹیتھو اسکوپ پکڑ کر آنے والے ہر شخص کو ڈاکٹر مان لیں گے اور وہ خواہ ہماری آنکھیں نکال دے یا گردہ کاٹ دے ہم اسے اللہ کی رضا کے کھاتے میں ڈال کر گھر بیٹھ جائیں گے‘ ہمارے محلوں‘ ہمارے علاقوں میں کوئی بھی شخص‘ کسی بھی وقت کوئی کلینک یا اسپتال بنا لے‘ ہم اس کے بارے میں تحقیق نہیں کریں گے چنانچہ ہمارے محلوں‘ہماری گلیوں میںعلاج کے نام پر روزانہ قتل ہو رہے ہیں اور ہم اللہ کی ’’مرضی‘‘ پر خاموش بیٹھے ہیں۔
پنجاب حکومت نے اکتوبر 2011ء میں پنجاب کیئر کمیشن بنایا‘ یہ کمیشن پرائیویٹ اسپتالوں کو لائسنس بھی دیتا ہے‘ ان کے معیار بھی چیک کرتا ہے‘ مریضوں کی شکایات کا ازالہ بھی کرتا ہے اور جعلی ڈاکٹروں کے خلاف کارروائی بھی کرتا ہے‘ اس کمیشن نے دو برسوں میں 184 لائسنس جاری کیے‘ 173 شکایات وصول کیں‘ 18 شکایات پر فیصلے جاری کیے اور 47 کیس نبٹائے لیکن یہ مظالم کے اس طویل و عریض میدان کی چند چٹانیں ہیں‘ ظلم کے اس میدان میں ایسی ہزاروں لاکھوں چٹانیں موجود ہیں مگر شاید یہ چٹانیں حکومت کی ترجیحات میں شامل نہیں‘ حکومت کو چاہیے‘ یہ ایسے ہیلتھ کیئر کمیشن پورے ملک میں قائم کرے‘ ان کا سائز اور دائرہ کار بڑھائے‘ یہ کمیشن پانچ لاکھ روپے تک جرمانہ کر سکتا ہے‘ اسے کم از کم ایک کروڑ روپے جرمانہ کرنے اور مجرموں کی تمام منقولہ اور غیر منقولہ جائیدادیں ضبط کرنے کا اختیار حاصل ہونا چاہیے‘ اس کے پاس عدالتی اختیار بھی ہونا چاہیے تا کہ یہ مجرموں کو موقع پر سزا دے سکے کیونکہ یہ ظلم کی انتہائی شکل ہے‘ آپ کسی بھی شخص کو آپریشن تھیٹر میں کاٹ دیں اور بعد ازاں پانچ لاکھ روپے جرمانہ ادا کر کے گھر چلے جائیں‘ یہ جعلی ڈاکٹر اور جعلی سرجن درندے ہیں اور ان کے ساتھ وہ سلوک ہونا چاہیے جو مہذب ملکوں میں درندوں کے ساتھ ہوتا ہے‘ انھیں عبرت کا نشان بنائیں۔
نوٹ: وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہبازشریف نے اے حمید مرحوم کی بیوہ مسز ریحانہ حمید کے لیے دس لاکھ روپے امداد کا اعلان کر دیا ہے‘ میں پوری لکھاری برادری کی طرف سے ان کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔
باڈی لینگویج
جاوید چوہدری پير 28 اکتوبر 2013
تاریخ کا مشہور واقعہ ہے‘ ظہیر الدین بابر نے ایک دن اپنے سرداروں کو کھانے کی دعوت دی‘ کھانے کے بعد حلوہ سرو کیا گیا‘ خادم ابھی حلوہ لگا رہے تھے کہ بابر کے سرداروں میں موجود ایک سردار نے خنجر نکالا اور خنجر سے حلوہ کھانا شروع کر دیا‘ سردار کی یہ حرکت بادشاہ کے نوٹس میں آ گئی‘ بادشاہ نے سردار کی طرف غور سے دیکھا‘ بابر کو سردار کے چہرے پر بغاوت نظر آئی‘ اس نے اپنے خصوصی خادم کو اشارہ کیا‘ قریب بلایا‘ آنکھ سے سردار کی طرف اشارہ کیا اور اس کے بعد اس کے کان میں کوئی حکم صادر کیا‘ سردار خنجر سے حلوہ کھا رہا تھا‘ سردار کا تعلق افغان قبیلہ’’سور‘‘ سے تھا‘ وہ بھانپ گیا اس کے قتل کا پروانہ جاری ہو چکا ہے‘ اس نے حلوہ ختم کیا‘ شاہی دستر خوان سے ضروری بہانہ کر کے اٹھا‘ اپنی پوشاک اپنے خادم کو پہنائی‘ گھوڑے پر بیٹھا اور شاہی لشکر سے نکل گیا۔
بادشاہ کے سپاہیوں نے اس کے خادم کو سردار سمجھ کر قتل کر دیا‘ یہ سردار آگے چل کر ہندوستان کا بادشاہ بنا‘ اس کا نام شیر شاہ سوری تھا اور اس نے نہ صرف مغل سلطنت کی اینٹ سے اینٹ بجا دی بلکہ اس نے ہمایوں کو بھاگنے اور ہندوستان کے تمام راجاؤں مہاراجوں کو اپنی اطاعت پر بھی مجبور کر دیا‘ یہ صرف پانچ سال بادشاہ رہا مگر اس کے بنائے ہوئے نظام‘ اس کی بنائی ہوئی جی ٹی روڈ اور اس کی ترتیب دی ہوئی زمین کی تقسیم آج تک قائم ہے‘ ہندوستان کے لوگ آج پانچ سو سال بعد بھی زمین کو بارانی‘ چاہی اور نہری تین حصوں میں تقسیم کرتے ہیں‘ ہم اس شاہی دعوت کی طرف واپس آتے ہیں‘ بابر مضبوط اعصاب کا تگڑا بادشاہ تھا‘ اس کی محفل میں کسی شخص کو کھانسنے تک کی جرأت نہیں ہوتی تھی‘ یہ بلا کا قیافہ شناس بھی تھا‘ یہ چہرہ دیکھ کر انسان کی نیت بھانپ جاتا تھا‘ اس کے دستر خوان پر جب اس کی موجودگی میں ایک معمولی سردار نے خنجر سے حلوہ کھانا شروع کر دیا تو یہ اچنبھے کی بات تھی‘ بابر نے اس سردار کے چہرے پر بغاوت کے آثار بھی پڑھ لیے اور یہ بھی جان لیا یہ شخص اعصابی لحاظ سے مجھ سے زیادہ مضبوط ہے اور میں نے اگر اسے نہ کچلا تو یہ مجھے کچل دے گا‘ شیر شاہ سوری بھی قا فہ شناس تھا‘ یہ بادشاہ کے اشارے کو سمجھ گیا‘ یہ جان گیا میرے قتل کا حکم جاری ہو چکا ہے چنانچہ یہ وہاں سے نکل گیا اور یہ آنے والے وقتوں کا ہیرو بن گیا۔
یہ قیافہ شناسی کا ایک چھوٹا سا واقعہ ہے‘ قیافہ شناسی ایک قدیم فن ہے‘ یہودی عالم اس فن کے ماہر ہوتے تھے‘ شاید اسی لیے مکہ اور مدینہ کے یہودی ربی اس وقت نبی اکرمؐ کی عظمت کو پہچان جاتے تھے، یہ جب بچے تھے‘ اس کے بعد ہندوستان‘ سری لنکا اور بنگال کے قیافہ شناس اس فن کے استاد تھے‘ ان کے سامنے سیکڑوں لوگوں کو شاہی لباس پہنا کر کھڑا کر دیا جاتا تھا مگر یہ سیکڑوں لوگوں میں سے بادشاہ کو شناخت کرلیتے تھے‘ یہ صرف ماتھا دیکھ کر انسان کی موت کے دن کا تعین کر دیتے تھے‘ یہ ایک دن کی حاملہ عورت کو پہچان لیتے تھے‘ چین کے قیافہ شناس بھی بہت مشہور تھے‘ تاتاری بادشاہ ان کی خدمات حاصل کرتے تھے‘ آج کے دور میں بھی یہ فن موجود ہے اور اس کے ماہر آپ کے چہرے پر نظر ڈال کر آپ کو حیران کر دیتے ہیں‘ یہ فن اب دوسری جنریشن میں داخل ہو گیا‘ یہ دوسری جنریشن باڈی لینگویج کہلاتی ہے‘ قیافہ شناسی اور باڈی لینگویج باریک اور جامع فن ہے اور یہ فن سیکھنے کے لیے انسان کو کئی دہائیوں کی تپسیا چاہیے مگر اس کے چند اصول بہت سادہ اور عام ہیں مثلا گونگے چہروں کے مالک وہ انسان جن کے چہروں پر کوئی تاثر نہیں ابھرتا یہ انتہائی گہرے ہوتے ہیں۔
ان کی منصوبہ بندی جامع‘ بے لچک اور سخت ہوتی ہے‘ یہ فیصلے کرنے کے بعد اسے واپس نہیں لیتے خواہ یہ ان کی وجہ سے برباد ہی کیوں نہ ہو جائیں‘ جو لوگ دوسروں کو بولتے ہوئے غور سے سنتے ہیں‘ جو میٹنگز کے دوران خاموشی سے دوسروں کو دیکھتے ہیں اور ان کی آنکھیں سکینر کی طرح ایک شخص سے دوسرے کی طرف موو کرتی رہتی ہیں اور پھر ریڈار کی طرح آخری شخص سے واپس پہلے کی طرف آتی ہیں‘ یہ اپنی ذات میں خوفناک آمر ہوتے ہیں‘ یہ پاور شیئرنگ پر یقین نہیں رکھتے‘ یہ کسی کو اپنے سامنے اونچی آواز میں بولتے اور اختلاف کرتے برداشت نہیں کرسکتے‘ یہ خادم قسم کے لوگوں کو پسند کرتے ہیں اور ان کے اردگرد ہمیشہ خادمین کی قطاریں کھڑی رہتی ہیں‘ جو لوگ انتہائی بلندی پر پہنچ کر بھی ہر چھوٹے بڑے معاملے میں ہر قسم کے لوگوں سے مشورہ کرتے ہیں‘ جو چلتے چلتے اپنے گارڈ‘ اپنے خانسامے اور اپنے ڈرائیور سے یہ پوچھ لیں گے ’’ تم بتاؤ کیا امریکا ایران پر حملہ کر دے گا‘‘ یہ لوگ ہمیشہ چونکا دینے والا فیصلہ کرتے ہیں اور جو لوگ ہنس مکھ ہوں یا خوفناک حد تک سیریس‘ یہ لوگ بڑے فیصلے سے قبل ہمیشہ اپنی روٹین تبدیل کر دیتے ہیں‘ سنجیدہ شخص مسکرانا شروع کر دے گا‘ یہ لطیفے سنے یا سنائے گا اور قہقہے لگائے گا یا پھر اچانک کوئی غیر متعلقہ میٹنگ بلا لے گا اور اس ایشو پر بے تحاشہ انٹرسٹ شو کرے گا جس کو اس نے کبھی اہمیت نہیں دی‘ یہ اس رشتے دار سے ملنے چلا جائے گا یا اس دوست کو بلا لے گا جس سے یہ دس بیس سال میں کبھی نہیں ملا‘ یہ پرانی فائلیں منگوا لے گا اور ساری فائلوں پر احکامات جاری کر دے گا اور اگر یہ شخص خوش دل اور خوش مزاج ہے تو یہ اچانک سیریس ہو جائے گا اور اس کی سنجیدگی کئی دنوں‘ کئی ہفتوں تک پھیل جائے گی ‘ ان دونوں صورتوں میں امکان ہوتا ہے یہ شخص اپنی زندگی کا کوئی انتہائی اہم اور خوفناک فیصلہ کرنے والا ہے‘ قیافہ شناسی بہرحال ایک طویل فن ہے اور ہم اس ایک کالم میں اس کا احاطہ نہیں کر سکتے مگر ہم قیافہ شناسی کی بنیاد پر موجودہ سیاسی حالات کے بارے میں چند اندازے ضرور لگا سکتے ہیں۔
میں میاں نواز شریف کو بڑے عرصے سے ٹی وی پر غور سے دیکھ رہا ہوں‘ میں نے کابینہ کے اجلاسوں کی فوٹیج بھی دیکھی‘ اے پی سی کی جھلکیاں بھی‘ میاں نواز شریف کا قوم سے خطاب بھی دیکھا‘ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ان کی تقریر بھی دیکھی اور صدر اوبامہ کے ساتھ ان کی ملاقات اور پریس بریفنگ بھی دیکھی‘ چار ماہ کی اس فوٹیج کی بنیاد پر میرا خیال ہے میاں نواز شریف اندر ہی اندر غصے سے کھول رہے ہیں‘ یہ غصہ ان سے عنقریب بڑے اور حیران کن فیصلے کروائے گا‘ مثلاً میرا خیال ہے میاں نواز شریف دہشت گردی کے خلاف پاکستانی جنگ چھیڑ دیں گے‘ یہ بھارت اور افغانستان کے ساتھ شارٹ ٹرم امن ڈیل کریں گے اور اس کے بعد شدت پسندوں کے خلاف ملٹری آپریشن شروع کر دیں گے‘ یہ اس سلسلے میں ملٹری آپریشنز کے ماہر آرمی چیف کا تعین کریں گے‘ ایک خالص فوجی ہمارا اگلا آرمی چیف ہو گا‘ یہ جنرل کیانی کی طرح دھیما‘ پڑھاکو اور فلسفی نہیں ہو گا‘ یہ لڑاکا‘ جنیل حکمت عملی کا ماہر اور جنگ زدہ علاقوں کا تجربہ کار جرنیل ہو گا‘ میاں نواز شریف شدت پسندوں کے خاتمے کو اپنا سیاسی مقصد بنا لیں گے‘ میاں نواز شریف کی کابینہ کی میٹنگز کے دوران باڈی لینگویج اچھی نہیں ہوتی‘ یہ بار بار پہلو بدلتے ہیں‘ یہ لوگوں کے چہروں کو غور سے دیکھتے ہیں اور بات کرتے ہوئے اپنے پرانے دوستوں سے نظریں چراتے ہیں‘ یہ سائنز ثابت کرتے ہیں‘ یہ اپنے وزراء کی کارکردگی سے مطمئن نہیں ہیں۔
یہ انھیں وقت دیں گے مگر یہ انھیں جلد بدل دیں گے‘ میرا خیال ہے میاں نواز شریف کے زیادہ تر وزراء اگلے سال کے شروع میں تبدیل ہو جائیں گے یا پھر ان وزراء کے نیچے تگڑے وزیر مملکت اور سیکریٹری لگا دیے جائیں گے اور یہ دونوں براہ راست وزیراعظم کو جواب دہ ہوں گے اور وفاقی وزراء فقط نمائشی بن کر رہ جائیں گے‘ میاں صاحب پارٹی اور حکومت کے دروازے اہل لوگوں کے لیے کھول دیں گے‘ یہ شاید جنرل پرویز مشرف کی ساری معاشی ٹیم کو ہائر کر لیں‘ شوکت ترین کو وزیر خزانہ بنا دیں اور اسحاق ڈار کو وزیر خارجہ‘ یہ شاید امریکا کے معاملات کو عمران خان کے حوالے کر دیں‘ یہ خیبر پختونخواہ اور بلوچستان کی حکومت کو صوبائی اسمبلی کی قرارداد کے ذریعے نیٹو سپلائی بند کرنے کی اجازت دے دیں‘ یہ شاید مقامی قبائلیوں کو ڈرون گرانے کا موقع بھی دے دیں‘ یہ کراچی کو بھی صاف کر دیں گے اور مجھے محسوس ہوتا ہے‘ یہ سابق صدر آصف علی زرداری کا احتساب بھی کر گزریں گے لیکن اس کے لیے دو اڑھائی سال انتظار کریں گے‘ یہ میڈیا کو بھی موجودہ شکل میں نہیں رہنے دیں گے اور مجھے محسوس ہوتا ہے یہ اگر دو اڑھائی برسوں میں یہ سب کچھ نہ کر سکے تو یہ خود ہی حکومت چھوڑ دیں گے‘ یہ الیکشن کمیشن کو نئے الیکشن کرانے کی دعوت دے دیں گے اور یہ ان کا حیران کن فیصلہ ہو گا۔
مسلمان
جاوید چوہدری ہفتہ 26 اکتوبر 2013
دن 14 اگست کا تھااور سن 610ء‘ رمضان المبارک کی اٹھارہویں تاریخ تھی‘ ہجرت کو ابھی بارہ سال باقی تھے‘ ہمارے رسولؐ غار حرا میں اللہ تعالیٰ کی عبادت فرما رہے تھے‘ حضرت جبرائیل امین ؑ تشریف لائے اور فرمایا ’’ پڑھ‘‘۔ دوجہانوں کے مالک نے جواب دیا ’’میں پڑھنا نہیں جانتا‘‘ حضرت جبرائیل ؑ نے رحمت اللعالمین کو سینے سے لگایا‘ زور سے بھینچا‘ آپؐ کو تکلیف ہوئی‘ حضرت جبرائیل ؑ نے آپ کو چھوڑا اور فرمایا ’’ پڑھ‘‘ مالک دو جہاں نے دوسری بار جواب دیا ’’ مجھے پڑھنا نہیں آتا‘‘ فرشتے نے دوسری بار سینے سے لگایا‘ دبایا اور فرمایا ’’پڑھ‘‘ مالک دو جہاں نے فرمایا ’’کیا پڑھوں‘‘ فرشتے نے تیسری بار سینے سے لگایا‘ بھینچا اور اس کے بعد ہمارے رسولؐ پر پہلی وحی اتری ’’ پڑھ اپنے رب کے نام سے جس نے پیدا کیا‘ جس نے پیدا کیا انسان کو جمے ہوئے خون سے‘ پڑھ اور آپؐ کا رب بڑا کریم ہے جس نے علم سکھایا قلم کے واسطے‘ اسی نے سکھایا انسان کو جو وہ نہیں جانتا تھا‘‘ یہ دنیا کے آخری نبیؐ اور آخری دین کے لیے اللہ تعالیٰ کا پہلا پیغام تھا‘ آپ اگر اسلام کو سمجھنا چاہتے ہیں یا اللہ تعالیٰ کی کبریائی کو محسوس کرنا چاہتے ہیں تو آپ اور مجھ جیسے گنہگار کے لیے پہیہ دو وحی کافی ہیں‘ اللہ تعالیٰ نے پہلی وحی میں انسان کو چار پیغام دیے‘ اللہ کے نام سے پڑھئے یعنی پڑھنا مسلمان کے لیے اللہ کا پہلا حکم ہے اور ہم میں سے جو مسلمان پڑھتا نہیں وہ اللہ کے پہلے حکم کی عدولی کرتا ہے چنانچہ ہم اگر مسلمان ہیں تو ہمیں روز مطالعہ کرنا چاہیے۔
دوسرا پیغام‘ انسان کو اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا اور پیدا بھی جمے ہوئے خون سے کیا یعنی ایسی چیز سے پیدا کیا جس سے شاید پیدائش ممکن نہ ہو‘ گویا انسان کی پیدائش اللہ تعالیٰ کا عظیم معجزہ ہے‘ خالق اپنی مخلوق کا ذمے دار ہوتا ہے اور ہماری زندگی‘ ہمارے رزق‘ ہمارے عروج و زوال اور ہمارے اتار اور چڑھائو ہر چیز اللہ تعالیٰ کی امانت ہے اور ہمیں زندگی کے تمام معاملات کے لیے صرف اور صرف اللہ تعالیٰ سے رجوع کرنا چاہیے‘ تیسرا پیغام‘ آپ کا رب بڑا کریم ہے‘ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مسلمانوں کے لیے تیسرا پیغام تھا‘ اللہ تعالیٰ کریم ہے‘ بڑا ہی کریم ہے یعنی ہمیں صرف اور صرف اللہ تعالیٰ سے کرم مانگنا چاہیے اور اللہ کرم کرتا ہے اور اسلام کی پہلی وحی کا چوتھا اور آخری پیغام پھر علم سے متعلق تھا ’’ جس نے علم سکھایا اور قلم کے واسطے‘ اسی نے سکھایا انسان کو جو وہ نہیں جانتا تھا‘‘ اس پیغام میں اللہ تعالیٰ نے حکم دیا صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہے جو انسان کو علم عنایت کرتی ہے‘ علم والے اللہ تعالیٰ کے خصوصی بندے ہوتے ہیں اور اللہ تعالیٰ جب انھیں علم دیتا ہے تو ان پر فرض ہو جاتا ہے یہ اس علم کو قلم کے ذریعے آگے پھیلائیں یعنی کتابیں لکھںہ چنانچہ ہم میں سے ہر وہ شخص جو علم اور تجربے کے باوجود کتاب نہیں لکھتا وہ بھی اللہ تعالیٰ کی حکم عدولی کرتا ہے۔
ہمارے رسولؐ پر پہلی وحی 14 اگست 610ء کو نازل ہوئی تھی‘ آپ ؐ گھبرا گئے‘ گھر واپس تشریف لائے اور حضرت خدیجہؓ سے فرمایا ’’ مجھے کمبل اوڑھا دو‘ مجھے کمبل اوڑھا دو‘ مجھے ڈر لگ رہا ہے‘‘ حضرت خدیجہؓ نے کمبل اوڑھا دیا اور آپؐ کو دلاسا دیا ’’ خدا کی قسم اللہ تعالیٰ آپ کو کبھی بے آبرو نہیں کرے گا کیونکہ آپؐ رشتہ داروں کے ساتھ صلہ رحمی کرتے ہیں‘ کمزوروں اور ناتوانوں کا بوجھ اٹھاتے ہیں‘ مفلس اور ناداروں کو اپنی نیک کمائی سے حصہ دیتے ہیں‘ مہمان نوازی کرتے ہیں‘ مصیبت زدہ کی مدد کرتے ہیں اور آپؐ لوگوں کی دستگیری کرتے ہںں‘‘ حضرت خدیجہ ؓ کے یہ الفاظ انسانیت کا چارٹر ہیں‘ یہ وحی کے بعد کسی انسان کا نبی اکرمؐ کو پہلا ٹریبوٹ تھا‘ میری آپ خواتین و حضرات سے درخواست ہے‘ آپ اگر دنیا میں آبرومندانہ زندگی گزارنا چاہتے ہیں تو آپ ان الفاظ کو فریم کروا کر اپنی دیوار پر لگا لیں یا میز پر رکھ لیں اور ان چھ احکامات کو اپنی زندگی کا معمول بنا لیں اللہ تعالیٰ آپ کو کبھی مخلوق میں بے آبرو نہیں ہونے دے گا‘ یہ ہم عام انسانوں کے لیے کامیابی اور عزت کا فارمولہ ہے‘ میں واپس وحی کے سلسلے کی طرف آتا ہوں۔
نبی اکرمؐ پر پہلی وحی کے نزول کے بعدکچھ عرصے تک دوسری وحی نازل نہیں ہوئی جس کی وجہ سے آپؐ مضطرب اور پریشان رہتے تھے یہاں تک کہ ایک دن آپؐ غار حرا کی طرف تشریف لے جا رہے تھے ‘ راستے میں حضرت جبرائیل امین ؑ تشریف لے آئے‘ آپؐپر لرزہ طاری ہو گیا‘ آپؐ گھر تشریف لے آئے اور حضرت خدیجہؓ سے فرمایا ’’ مجھے چادر اوڑھا دو‘ مجھے چادر اوڑھا دو‘‘ آپؐ لیٹ گئے‘ چادر اوڑھ لی اور آپؐ پر دوسری وحی نازل ہو گئی‘ دوسری وحی کے الفاظ تھے ’’ اے چادر اوڑھ کر لیٹنے والے اٹھیئے اور خبردار کیجیے اور اپنے رب کی بڑائی کا اعلان کیجیے‘ اپنا لباس پاک رکھئے اور گندگی سے دور رہیے‘ احسان کسی فائدے کی خاطر نہ کیجیے اور اپنے رب کے لیے صبر کیجیے‘‘ یہ دوسری وحی آپ اور میرے جیسے گنہگاروں کے لیے دوسرا چارٹر تھا‘ اللہ تعالیٰ نے ہم مسلمانوں کے لیے چار احکامات جاری کیے‘ ہم اللہ تعالیٰ کی بڑائی بیان کریں‘ ہم ہر وقت اٹھتے‘ بیٹھتے‘ چلتے پھرتے اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا اعتراف کریں اور اس کی بڑائی‘ اس کے کرم پر شکر ادا کریں‘ دوسرا حکم لباس کی صفائی اور گندگی سے پرہیز تھا۔
اللہ تعالیٰ کو گندے لوگ اور گندگی پسند نہیں چنانچہ اس نے حکم جاری کیا آپ اگر مسلمان ہیں تو آپ کا لباس صاف ہونا چاہیے اور آپ کو گندگی نہیں پھیلانی چاہیے‘ اس حکم سے ہم پر صفائی اور گندگی سے پرہیز فرض ہوگیا‘ تیسرا حکم لوگوں پر بے لوث ہو کر احسان کریں‘ آپ کو جب بھی کسی پر احسان کرنے کا موقع ملے آپ بے لوث ہو کر احسان کریں اور چوتھا حکم صبر تھا‘ صبر روزے جیسی کیفیت ہوتی ہے‘ آپ کے سامنے کھانا اور مشروبات پڑے ہوتے ہیں مگر آپ صرف اللہ کی رضا کے لیے کھانے اور پینے کی کسی چیز کو ہاتھ نہیں لگاتے‘ زندگی میں آپ کو اسی طرح دوسروں سے بدلہ لنےھ‘ اپنی انا کا جھنڈا بلند کرنے‘ لوگوں کو خریدنے اور دوسرں کو رگیدنے کا پورا پورا موقع ملتا ہے‘ اللہ تعالیٰ نے آپ کو وسائل اور طاقت بھی دے رکھی ہوتی ہے مگر آپ اس کے باوجود صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے خاموش رہتے ہیں‘ آپ اپنے ہاتھ‘ اپنی جیب اور اپنی طاقت کو قابو میں رکھتے ہیں تو آپ صابر کہلاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ آپ کو اس صبر کا میٹھا پھل عنایت کرتا ہے‘ یہ چاروں احکامات اور اس سے قبل علم‘ قلم اور اللہ تعالیٰ کریم ہے یہ نبی اکرمؐ پر نازل ہونے والی پہلی دو وحیوں کے پیغامات ہیں‘ اسلام ان دو وحیوں سے شروع ہوتا ہے اور آخری وحی( حجتہ الوداع کے موقع پر نازل ہوئی‘ترجمہ:آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین کامل کر دیا اور تم پر اپنی نعمت پوری کردی اور تمہارے لیے دین اسلام کو پسند کیا) پر ختم ہوتا ہے۔
حضرت جبرائیل امین ؑ نے ان دو وحیوں کے بعد نبی اکرمؐ کو وضو کرنے کا طریقہ اور نماز سکھائی اور اس کے بعد نماز مسلمانوں پر فرض ہو گئی‘ مسلمان شب معراج تک صرف دو نمازیں پڑھتے تھے‘ فجر کے وقت دو رکعت نماز اور مغرب کے وقت دو رکعت نماز باقی تین نمازیں معراج کے دوران فرض ہوئیں چنانچہ اگر یہ جسارت نہ ہو (میں اگر غلطی پر ہوں تو اللہ تعالیٰ مجھے معاف فرمائے) تو اللہ تعالیٰ نے نماز سے قبل مسلمان کو علم‘ قلم‘ اللہ تعالیٰ کے کرم‘ اللہ تعالیٰ کی بڑائی کو تسلیم کرنا‘ لباس کی صفائی اور گندگی سے پرہیز‘ بے لوث احسان اور صبر کا حکم دیا تھا اور ان احکامات کے بعد دنیا کے پہلے مسلمان کو وضو اور نماز کا طریقہ سکھایا تھا‘ آپ وحی کے اس آرڈر کو سامنے رکھ کر سوچئے اگر مسلمان پڑھ نہیں رہا‘ یہ روز کتاب نہیں پڑھتا‘ یہ آخری سانس تک اللہ تعالیٰ کے پھیلائے ہوئے علم نہیں سیکھتا‘ یہ اپنے علم اور تجربے کو قلم کے سپرد نہیں کرتا‘ یہ روز ہر سانس کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی بڑائی بیان نہیں کرتا‘ یہ لباس کی صفائی کا خیال نہیں رکھتا۔
یہ گندگی سے پرہیز نہیں کرتا‘ یہ روز لوگوں پر بے لوث احسان نہیں کرتا اوریہ قدرت کے باوجود روز صبر نہیں کرتا تو کیا یہ صرف وضو اور نماز کی بنیاد پر اچھا اور مکمل مسلمان ہو سکتا ہے اور ہم اگر نماز اور وضو کے علاوہ باقی خوبیاں تلاش کریں تو کیا یہ ہمیں اپنے مخالفوں میں نہیں ملتیں؟ کیا یہ حقیقت نہیں‘ دنیا کا اسی فیصد علم یورپ‘ امریکا اور مشرق بعید کے غیر اسلامی ممالک میں ہے‘ دنیا کی نوے فیصد کتابیں یورپ اور امریکا میں شائع ہوتی ہیں‘ یہ لوگ علم اور قلم کے سچے عاشق ہیں‘ یہ اللہ تعالیٰ کے کرم سے بھی مستفید ہو رہے ہںر‘ یہ اس کی بڑائی کا کھوج بھی لگا رہے ہیں‘ یہ لباس اور ماحول دونوں کی صفائی کو مذہب کا درجہ بھی دیتے ہیں‘ یہ پوری دنیا کے محسن بھی ہیں اور یہ انفرادی اور قومی دونوں سطح پر ہم سے زیادہ صابر بھی ہیں اور اگر یہ حقیقت ہے تو پھر ہمارے پاس کیا بچتا ہے؟ وضو اور نماز اور کیا صرف یہ دونوں پورا اسلام ہو سکتے ہیں؟ جی نہیں! اور یہ فیصلہ بھی کیجیے جس دن ان لوگوں نے وضو کر لیا اور نماز پڑھ لی کیا یہ اس دن ہم سے زیادہ اللہ تعالیٰ کے مقرب نہیں ہو جائیں گے؟ اور اگر یہ ہو گئے تو پھر ہماری 14سو سال کی تپسیا‘ ہماری چودہ سو سال کی مسلمانی کہاں جائے گی؟۔
آپ ایک لمحے کے لیے صرف سوچئے گا۔
(نوٹ: یہ میری ذاتی رائے ہے جس کے غلط ہونے کے امکانات بھی ہیں‘ جہاں آپ کو غلط لگے میری رہنمائی کریں)
ریحانہ آنٹی بنام میاں شہباز شریف
جاوید چوہدری جمعرات 24 اکتوبر 2013
پاکستان بنا تو ملک میں دو ہی کاروبار تھے‘ پراپرٹی کلیم اور پرمٹ۔ بھارت سے آنے والے پاکستانی کراچی اور لاہور میں بحالیات کے محکمے میں جاتے‘ بھارت میں موجود اپنی پراپرٹی کے جھوٹے سچے کلیم جمع کراتے تھے اور حکومت کلیم کی روشنی میں انھیں پاکستان میں زمین جائیداد الاٹ کر دیتی تھی‘ یہ جائیداد انڈیا نقل مکانی کرنے والے ہندوئوں‘ سکھوں اور پارسیوں کی متروک املاک ہوتی تھی‘ یہ اس دور کا مقبول ترین کاروبار تھا اورلاکھوں لوگوں نے اس کا بھرپور فائدہ اٹھایا‘ لوگوں نے جعلی کلیم میں یہ تک لکھ کر دے دیا ’’ ہمارے رام پور میں پودینے کے باغ تھے‘‘ اور حکومت نے اس دعوے کے بدلے انھیں اصلی باغ الاٹ کر دیے‘ اس دور میں کلیم بنانے‘ کلیم کی تصدیق کرنے اور بیان حلفی تک لکھنے والے لکھ پتی ہو گئے‘ دوسرا کاروبار لومز کے پرمٹ تھا‘ برطانوی دور سے دھاگے اور کپڑے کی صنعت پر حکومت کی اجارہ داری تھی‘ حکومت لومز لگانے کے باقاعدہ پرمٹ جاری کرتی تھی‘ یہ پرمٹ بازار میں ہزاروں روپے میں بک جاتے تھے‘ 1947ء کے ایک ہزار روپے آج کے دس لاکھ روپے کے برابر تھے‘ آپ اس دور میں پانچ دس ہزار روپے میں صدر کے علاقے میں بڑے سائز کا مکان خرید سکتے تھے۔
اس دورمیں صنعت کار پرمٹوں کے لیے سارا سارا دن وزراء اور سیکریٹریوں کے دفتروں کے سامنے بیٹھے رہتے تھے‘ قدرت اللہ شہاب اس دور میں اہم ترین عہدوں پر فائز رہے‘ یہ اپنے دوستوں کو پرمٹ جاری کراتے رہتے تھے‘ شہاب صاحب نے درجنوں لوگوں کو لومز کے پرمٹ جاری کرائے‘ شہاب صاحب نے ایک بار دعویٰ کیا ’’ مجھے پرمٹ لینے والوں میں سے صرف ایک شخص ملا جس نے یہ پرمٹ واپس کیا‘ وہ شخص میرے پاس آیا‘ پرمٹ میرے سامنے رکھا اور کہا‘ شہاب صاحب میں لوم نہیں لگا سکتا چنانچہ میں یہ پرمٹ حکومت کو واپس کرنا چاہتا ہوں‘‘ شہاب صاحب اس ایمانداری پر حیران رہ گئے اور یہ اس واقعے کی وجہ سے پوری زندگی اس شخص کا احترام کرتے رہے‘ وہ شخص اس وقت غربت‘ بے روزگاری اور مسائل کے انتہائی مشکل دور سے گزر رہا تھا‘ وہ اگر چاہتا تو وہ یہ پرمٹ بازار میں بیچ کر ہزاروں روپے کما سکتا تھا مگر غربت اور ہجرت کے باوجود اس کے ضمیر نے گوارہ نہ کیا اور وہ پرمٹ واپس کرنے کے لیے سرکاری دفتر پہنچ گیا‘ شہاب صاحب نے اس سے پرمٹ واپس لے لیا مگر اپنی دوستی کاہاتھ اس کی طرف بڑھا دیا اور یہ ہاتھ پھر کبھی واپس نہیں آیا۔
وہ پرمٹ واپس کرنے والے شخص ملک کے نامور لکھاری مرحوم اے حمید تھے‘ پاکستان میں بے شمار لکھاری گزرے ہیں‘ گزر رہے اور گزرتے رہیں گے لیکن ان میں اے حمید صاحب جیسا کوئی شخص ہوا اور نہ ہی ہو گا‘ وہ ان تھک لکھنے والے تھے‘ وہ روز لکھتے تھے اور روز کمال کر دیتے تھے‘ ہم لوگ بھی لکھتے ہیں مگر ہم اپنی تحریر میں نمی‘ خوشبو‘ ٹرین کے ڈبوں کی ٹھک ٹھک اور گرامو فون کی ہلکی مہین سی چی چی پیدا نہیں کر سکتے مگر اللہ تعالیٰ نے اے حمید صاحب کو جزئیات نگاری کا یہ پرفیکٹ فن ودیعت کر رکھا تھا‘ آپ کو ان کی تحریر میں گرتی ہوئی برف کی ٹھنڈک‘ آسمان کو چومتے ہوئے چیڑھ کے درختوں کی نم ہوائیں‘ لنکا کے گھنے جنگلوں کی صبحیں‘ بنگال کی گہری سیاہ آنکھوں میں ٹوٹتے خوابوں کی سسکیاں‘ سفید براق شرٹ پر کوئلے کی استری کی مہک‘ سماوار میں ابلتی ہوئی کشمیری چائے کے بلبلوں کی پھک پھک‘ تازہ کشمیری کلچوں کی دم توڑتی حدت اور ریڈیو سلون پر مناڈے کی آواز سے قبل ہلکی ہلکی سی ٹیں ٹیں اپنے اردگرد انگڑائیاں لیتی محسوس ہوتی تھی‘ دنیا کا ہر رائیٹر تحریر میں منظر کشی کرتا ہے لیکن اے حمید صاحب کی منظر کشی کا کوئی جواب نہیں تھا۔
قاری کو یوں محسوس ہوتا تھا یہ منظر کسی رائیٹر نے تخلیق نہیں کیا بلکہ اس منظر نے مصنف کو جنم دیا ہے‘ میں آج تک امرتسر نہیں گیا‘ میں نے سلون کے گھنے جنگلوں میں گرتی ہوئی بارش کی آواز بھی نہیں سنی‘ میں نے گرم ساحلوں کی ریت پر پکے ہوئے ناریل کو گرتے ہوئے بھی نہیں سنا‘ میں نے جنگلوں سے گزرتی ہوئی ٹرین کے پائیدان پر کھڑے ہو کر ٹھنڈی ہوائوں کو اپنے جسم سے لپٹتے اور لپٹ لپٹ کر گھاس میں بکھرتے ہوئے بھی نہیں دیکھا‘ میں نے بنگال کے سیاہ لمبے سانپ اور بنگالنوں کی سانپوں جیسی لمبی لمبی چوٹیاں بھی نہیں دیکھیں‘ میں کشمیری چائے کو بھی اپنا معمول نہیں بنا سکا‘ میں نے کبھی تنور سے نکلے ہوئے گرم کشمیری کلچے بھی نہیں کھائے اور میں کشمیری ختائیوں کے خستہ پن سے بھی محروم رہا ہوں لیکن اس کے باوجود یہ سارے ذائقے‘یہ سارے سواد میرے حافظے کا حصہ ہیں اور شاید اگر میری یادداشت بھی چلی جائے تو بھی یہ ذائقے میرے حافظے کی دیواروں سے چپکے رہیں گے‘ بالکل اس طرح جس طرح پرانے مندروں اور کائی کا رشتہ متروک ہونے کے باوجود بھی قائم رہتا ہے اور یہ اے حمید صاحب کی تحریروں کا کمال تھا‘ یہ جو بھی لکھتے تھے اور جو بھی ان کو پڑھتا تھا وہ ان دیکھے دیسوں کا باسی ہو جاتا تھا اور وہ اس کے بعد امرتسر‘ سلون اور بنگال کو اپنے اندر سے نکال نہیں سکتا تھا۔
اے حمید صاحب سیلانی طبیعت کے مالک تھے‘ یہ جوانی میں ان دیکھے دیسوں کی تلاش میں نکل کھڑے ہوئے‘ پاکستان بننے کے بعد ان کا سفر ختم ہو گیا مگر تلاش جاری رہی‘ مرحوم نے اس تلاش کو اپنا فن بنا لیا اور اس فن نے ملک میں سیکڑوں لکھاری بھی پیدا کیے اور ہزاروں لاکھوں فن نواز بھی۔ اے حمید کی تحریروں نے چار نسلوں کے ذوق کی آبیاری کی‘ پاکستان بننے سے قبل کی نسل‘ پاکستان بنانے والی نسل‘ پاکستان کو بگاڑنے والی نسل اور ہم جیسی کنفیوز نسل۔ یہ پاکستان کے ان چند لکھاریوں میں شامل تھے جو آٹھ سال سے لے کر 80 سال تک کے لوگوں کے لےل لکھتے تھے‘ اے حمید صاحب کے تین جنون تھے‘ لکھنا‘ روز لکھنا‘ چائے اور کشمیری کلچے کھانا اور اپنی بیگم ریحانہ سے عشق کرنا‘ اے حمید صاحب اپنی بیگم سے عشق کرتے تھے‘ انھوں نے پوری زندگی اپنی بیگم کو ہتھیلی کی مہندی بنا کر رکھا‘ ایک بار میرے دوست عرفان جاویداور اے حمید صاحب کسی ریستوران میں بیٹھے تھے‘ حمید صاحب گفتگو کر رہے تھے‘ انھوں نے اچانک گھڑی کی طرف دیکھا اور اٹھ کھڑے ہوئے‘ عرفان نے وجہ پوچھی تو حمید صاحب نے مسکرا کر جواب دیا ’’میں پانچ بجے اپنی بیگم کے ساتھ چائے پیتا ہوں‘ پانچ بجنے والے ہںھ‘ ریحانہ میرا انتظار کر رہی ہو گی‘ میں گھر واپس جا رہا ہوں‘‘ اور وہ چند سیکنڈ بعد باہر نکل گئے‘ ہم سب اپنی بیویوں کا احترام کرتے ہیں‘ ہم میں سے کچھ لوگ اپنی بیوی سے محبت بھی کرتے ہوں گے لیکن اے حمید صاحب اپنی بیگم کے عاشق تھے اور یہ عشق آخری وقت تک قائم رہا۔
اے حمید صاحب 29 اپریل 2011ء کو انتقال کر گئے‘ ان کی آخری زندگی مشکل میں گزری‘ اگر پنجاب حکومت مہربانی نہ کرتی تو شاید اے حمید صاحب علاج اور دواء کے بغیرہی فوت ہو جاتے‘ پنجاب حکومت نے ان کے علاج کی ذمے داری اٹھا لی چنانچہ یہ آرام سے دنیا سے رخصت ہو گئے مگر ان کے جانے کے بعد ان کی بیگم عسرت اور مالی پریشانیوں میں زندگی گزاررہی ہیں‘ یہ علیل بھی ہیں اور بڑی حد تک تنہا بھی‘ یہ غربت اور یہ بیماری اس ملک کے ہر اس دانشور ‘اس لکھاری اور اس عالم کے خاندان کا مقدر ہے جس نے بہتی گنگائوں میں ہاتھ نہیں دھوئے‘ جس نے پرمٹ اور کلیم واپس کر دیے اور جس نے اس ملک میں دکانداری اور تجارت کے بجائے لکھنے‘ پڑھنے اور پڑھانے کو ذریعہ عزت بنایا‘ اے حمید صاحب اگر لکھنے پڑھنے کے بجائے لاہور میں کشمیری چائے یا کشمیری کلچوں کی دکان کھول لیتے تو شاید آج ریحانہ آنٹی بہتر زندگی گزار رہی ہوتیں‘ ریحانہ آنٹی کو تین غلطیوں کی سزا مل رہی ہے‘ ان کے خاوند نے 1947ء میں پرمٹ واپس کر دیا تھا ‘حمید صاحب نے پوری زندگی کسی صاحب اقتدار عقیدت مند کی عقیدت سے فائدہ نہیں اٹھایا اور تین‘ اے حمید سچے اور کھرے لکھاری تھے اور اس ملک میں لکھاری بھی بھوکے مرتے ہیں اور سچے اور کھرے لوگ بھی اور مرحوم سچے بھی تھے‘ کھرے بھی اورلکھاری بھی چنانچہ ان کی بیوہ اس سلوک کی انتہائی حق دار ہے۔
مجھے کل ایک دوست نے ریحانہ آنٹی کی صورتحال بتائی تو میری آنکھوں میں آنسو آگئے‘ حمید صاحب نے لاکھوں صفحے لکھے تھے‘اگر ان کے خاندان کو صرف ایک ہزار صفحوں کی رائیلٹی مل جاتی تو حمید صاحب کا یہ حال نہ ہوتا‘ یورپ اور امریکا کے لکھاری ایک کتاب لکھ کر جزیرے خرید لیتے ہیں مگر ہمارے ادیب پوری زندگی لکھنے کے باوجود اپنی دواء کا خرچ پورا نہیں کر سکتے‘ہمارے ملک میں ان پڑھ کھلاڑی ہیرو اور جعلی ڈگری ہولڈر قانون ساز ہیں جب کہ اے حمید صاحب جیسے لوگ نشانہ عبرت ہیں‘ کیا ہم اپنے ضمیر کو اپنا منہ دکھا سکتے ہیں؟ میری میاں شہباز شریف سے درخواست ہے‘ آپ ریحانہ آنٹی کے لیے چند لمحے نکالیں‘ آپ ان کے پاس جائیے‘ ان کی بات سنیے اور ان کی اتنی مدد کر دیجیے جس سے ان کی آخری زندگی آرام سے گزر سکے اور یہ اس معاشرے‘ اس ملک کو بددعائیں دیتے ہوئے دنیا سے رخصت نہ ہوں‘ ادیب معاشرے کا ادب بھی ہوتے ہیں اور احترام بھی اور جو معاشرے اے حمید جیسے ادیبوں کو احترام اور ادب نہیں دیتے ان معاشروں کو اوباما اور گورڈن برائون جیسے لوگوں کے سامنے کشکول پھیلانا پڑتے ہیں کیونکہ علم‘ قلم اور کتاب اللہ کا انعام ہوتی ہے اور اس انعام کی قدر نہ کرنے والے معاشروں کی سزا بھیک ہوتی ہے‘ وہ معاشرے بھکاری بن کر در در پھرتے ہیں اور ہم در در پھر رہے ہیں۔
چھری کانٹا
جاوید چوہدری بدھ 23 اکتوبر 2013
پاکستان کی ایک کاروباری شخصیت فوجی حکمرانوں اور سیاسی بادشاہوں دونوں کے ساتھ کام کر چکی ہے‘ میں نے جنرل اسلم بیگ سے لے کر جنرل پرویز مشرف تک اور ملک معراج خالد سے لے کر میاں نواز شریف تک ملک کی تمام اہم شخصیات کو ان کے ساتھ بیٹھتے‘ ان سے مشورہ کرتے اور مشکل وقت میں ان سے مدد مانگتے دیکھا‘ یہ ملک کی واحد کاروباری شخصیت ہیں جو ملک میں سیاستدانوں اور حکمرانوں سے زیادہ مقبول بھی ہیں اور بعض معاملات میں طاقتور بھی‘ میں نے ان سے ایک بار پوچھا ’’آپ نے فوجی اور سیاسی حکمرانوں میں کیا فرق پایا‘‘ انھوں نے اس کی ایک انوکھی توجیہہ پیش کی‘ ان کا کہنا تھا ’’ فوجی حکومتوں اور سیاسی حکمرانوں میں چھری‘ کانٹے اور پلیٹ کا فرق ہے‘‘ میں نے پوچھا ’’کیا مطلب‘‘ انھوں نے جواب دیا ’’فوج اپنے کیڈٹس کو سب سے پہلے کاکول اکیڈمی میں چھری کانٹے سے کھانا کھانا سکھاتی ہے‘ فوجی افسر آنے والی زندگی میں اس چھری کانٹے کو اپنی زندگی کا حصہ بنا لیتے ہیں۔
یہ لوگ جب اقتدار میں آتے ہیں تو بھی یہ چھری کانٹے کا استعمال ترک نہیں کرتے ‘ یہ کبھی پوری ڈش‘ پوری دیگچی یا پوری دیگ ہڑپ کرنے کی کوشش نہیں کرتے جب کہ ان کے مقابلے میں ہمارے عام شہریوں کو کھانا کھانے کی تمیز نہیں سکھائی جاتی‘ آپ کسی دعوت میں چلے جائیں‘ آپ کو سوٹڈ بوٹڈ‘ پڑھے لکھے اور مہذب لوگ کھانے پر جھپٹتے دکھائی دیں گے‘ لوگ پلیٹ کوکھانے کا ڈھیر بنالیں گے‘ یہ اس پلیٹ کو میز تک پہنچانے کا تردد بھی نہیں کریں گے‘ یہ بوفے اسٹینڈ پر کھانے کی پراتوں پر کھڑے ہو کر کھانا شروع کر دیں گے‘ آدھا کھانا فرش پر گر ے گا‘ شرٹ پر سالن کے چھینٹے ہوں گے‘ چاول کے دانے داڑھی میں پھنس جائیں گے اور ہاتھ قورمے سے تر ہوں گے‘ یہ لوگ جب ترقی کر کے سیاست میں آ جاتے ہیں تو آپ کو یہ رویہ حکومت میں بھی دکھائی دیتا ہے‘ یہ لوگ اقتدار کے ایوان میں داخل ہوتے ہی دیگوں پر بھوکوں کی طرح پل پڑتے ہیں‘ یہ اپنی ضرورت سے زیادہ پلیٹ بھر لیتے ہیں اور بوفے اسٹینڈ پر کھڑے کھڑے دونوں ہاتھ پلیٹ میں ڈال لیتے ہیں۔
چنانچہ ان کا کھایا پیا دور سے نظر آ جاتا ہے‘‘ ان کا کہنا تھا‘ آپ ایوب خان سے لے کر جنرل پرویز مشرف تک چاروں فوجی ڈکٹیٹروں کے اثاثے جمع کر لیں اور اس کے بعد آپ کسی ایک سیاسی خاندان کے اثاثوں کی تفصیل اکٹھی کرلیں‘ آپ کو اس سیاسی خاندان کے اثاثے چاروں فوجی آمروں کے مجموعی اثاثوں سے زیادہ ملیں گے‘‘ ان کا کہنا تھا ’’ میں ہرگز یہ دعویٰ نہیں کرتا فوجی آمر یا ان کے ساتھی کرپٹ نہیں ہوتے‘ یہ بھی کرپٹ ہوتے ہیں مگر یہ لوگ جب بھی کھاتے ہیں‘ یہ چھری کانٹے سے کھاتے ہیں‘ یہ پوری دیگ اجاڑنے کی کوشش نہیں کرتے‘ یہ خاندان کے لیے اثاثے بناتے ہیں اور نہ ہی بیرون ملک محلات تعمیر کرتے ہیں‘ ان کی کرپشن چند کروڑ تک محدود ہوتی ہے جب کہ سویلین حکمران پورا خزانہ کھاجاتے ہیں‘‘ ان کا کہنا تھا ’’ آپ کسی ملٹری ڈکٹیٹر کے بعد یہ نہیں سنیں گے خزانہ خالی ہے جب کہ ہر سویلین حکومت کے آخر میں خزانہ خالی ہو جاتا ہے‘ کیوں؟‘‘۔
میں نے ان سے پوچھا ’’ کیا ملک میں پانچویں مارشل لاء کا امکان ہے‘‘ انھوں نے قہقہہ لگایا اور بولے ’’ یہ فیصلہ میاں نواز شریف نے کرنا ہے‘ اگرمیاں نواز شریف دو ڈھائی سال میں ڈیلیور نہ کرسکے تو پورے ملک کے عوام کراچی کے لوگوں کی طرح فوج کا مطالبہ کریں گے اور یہ مارشل لاء پچھلے مارشل لائوں سے مختلف ہو گا کیونکہ یہ فوجی حکمران جب بھی واپس جانے لگیں گے‘ عوام ان کے قدموں میں بیٹھ کر درخواست کریں گے‘ آپ خدا کے لیے واپس نہ جائیں‘‘ میں نے ان سے عرض کیا ’’ آزاد عدلیہ اور آزاد میڈیا کے ہوتے ہوئے پانچواں مارشل لاء ممکن نہیں ہوگا‘‘ انھوں نے ایک اور قہقہہ لگایا اور دعویٰ کیا ’’ مجھے خطرہ ہے آزاد عدلیہ اور آزاد میڈیا بھی مارشل لاء کا مطالبہ کرنے والوں میں شامل ہو جائے گا‘ آپ جب پروگرام نہیں کر سکیں گے‘ جب آپ کی ڈی ایس این جی اور رپورٹرز کو سڑکوں سے اٹھا لیا جائے گا‘جب ہر میڈیا گروپ میں ولی خان بابر جیسے درجنوں رپورٹروں کی تصویریں لگی ہوں گی اور پولیس آپ کے دفتروں‘ آپ کے کیمروں کی حفاظت نہیں کر سکے گی اور جب حکومت عدالت کے کسی فیصلے پر عملدرآمد نہیں کرا سکے گی تو کیا جج اور میڈیا فوج کو دعوت نہیں دیں گے‘‘ وہ خاموش ہو گئے‘ مجھے اس تبصرے سے اختلاف تھا مگر میں خاموش رہا۔
ہم اس تھیوری سے ہزار اختلاف کر سکتے ہیں‘ ہمیں کرنا بھی چاہیے‘ آج کے دور میں مارشل لائوں کا انتظار کرنا یا فوجی حکمرانوں کی اخلاقیات کی تعریف کرنا بے وقوفی بھی ہے اور نالائقی بھی لیکن اس کے باوجود یہ حقیقت ہے لوگ آج جنرل پرویز مشرف کے دور کو یاد کر رہے ہیں‘ ہم لوگوں کو لاکھ یقین دلائیں آج کے حالات جنرل پرویز مشرف کی پالیسیوں کا نتیجہ ہیں مگر لوگ یقین کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے‘ لوگ کہتے ہیں مشرف کے دور میں مہنگائی بھی کم تھی‘ لاء اینڈ آرڈر بھی کنٹرول میں تھا‘ بے روزگاری اور لوڈ شیڈنگ بھی نہیں تھی‘ ڈالر بھی 60 روپے کا تھا اور ملک معاشی لحاظ سے بھی ترقی کر رہا تھا‘ ہم لوگ انھیں بتاتے ہیں وہ ترقی مصنوعی تھی‘ لوگ اس کے جواب میں کہتے ہیں‘ اگر وہ ترقی مصنوعی تھی تو یہ حکومتیں چند دن کے لیے مصنوعی ترقی کرلیں‘ یہ چھ سال میں کیوں کچھ نہیں کر سکے؟ اور ہمارے پاس اس کا کوئی جواب نہیں ہوتا۔
مجھے ایک کورین کمپنی کا نمائندہ بتا رہا تھا‘ کوریا کے قومی دن کی تقریب میں ایک تگڑے وفاقی وزیر نے مشاہد حسین سید سے پوچھا ’’ شاہ جی کیا ہم دسمبر نکال جائیں گے‘‘ مشاہد حسین سید نے قہقہہ لگا کر جواب دیا ’’ آپ دو دسمبر نکال لیں گے لیکن تیسرے پر پھنس جائیں گے‘‘ اور یہ سوال اور جواب حکومت کے چوتھے مہینے میں ہو رہے ہیں‘ آپ اس سے حکومت کے مستقبل کا اندازہ لگا سکتے ہیں‘ پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ ن کی حکومتوں کے بارے میں بہترین اور جامع تبصرہ چوہدری شجاعت حسین نے کیا‘ چوہدری صاحب نے کہا ’’پاکستان پزلچ پارٹی کی حکومت کچھ کرنا نہیں چاہتی تھی اور پاکستان مسلم لیگ ن کی حکومت سے کچھ ہو نہیں رہا‘‘ یہ تبصرہ قرین قیاس ہے کیونکہ پچھلی حکومت کرپٹ تھی اور موجودہ حکومت نااہل ہے‘ پاکستان مسلم لیگ ن کے پاس مخلص اور تجربہ کار وزراء موجود ہیں مگر بحرانوں کے اس دور مںک صرف سیاسی تجربہ اور ذاتی اخلاص کافی نہیں‘ آپ کو اہلیت بھی چاہیے اور بدقسمتی سے میاں صاحب نے اپنے وزراء کو جو وزارتیں عنایت کی ہیں ان میں سے اسحاق ڈار کے سوا کسی شخص کو اپنے پورٹ فولیو کا تجربہ نہیں‘ خواجہ آصف بجلی کے بارے میں کچھ نہیں جانتے۔
چوہدری نثار داخلہ کے ایشوز نہیں سمجھتے‘ خواجہ سعد رفیق کو ریلوے کے بارے میں معلومات نہیں‘ شاہد خاقان عباسی کو پٹرولیم کی سمجھ نہیں اور میرے انتہائی محترم دوست رانا تنویز دفاعی پیداوار کے بارے میں نہیںجانتے چنانچہ ان لوگوں نے جب سے وزارتیں سنبھالی ہیں بیورو کریسی نے انھیں آگے لگا لیا اور یہ روزانہ کی بنیادوں پر ایسی غلطیاں کر رہے ہیں جن سے عوام کے معاشی مسائل میں اضافہ ہو رہا ہے اور لوگ چار ماہ میں غصے سے کھول رہے ہیں‘ میاں صاحب جانتے تھے یہ 2013ء میں ملک کی باگ ڈور سنبھالیں گے چنانچہ یہ اگر 2009ء یا 2010ء میں وزارتوں کا فیصلہ کر لیتے اور مستقبل کے وزراء کو ٹریننگ اور پلاننگ کا ٹاسک دے دیتے تو میاں صاحب کے وزراء آج اپنی اپنی وزارت کے ماہر بھی ہوتے اور یہ ڈیلیور بھی کر رہے ہوتے مگر آپ نے پرانے بادشاہوں کی طرح اقتدار کا ہما اڑایا اور یہ بدنصیب پرندہ جس جس کے سر پر بیٹھ گیا‘ آپ نے اسے پوشاک فاخرہ پہنا کر مسائل کے سمندر میں دھکا دے دیا اور ان بے چارے وزیروں کے ساتھ پوری قوم بھی بھنور میں پھنس گئی‘ یہ ایک المیہ ہے لیکن اس سے بڑا المیہ وزراء کے اعتراضات ہیں‘ میاں صاحب کے وزراء اپنی نااہلی کے استروں کو مالا میں پرو کر وزیر اطلاعات و نشریات پرویز رشید کے گلے میں ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں‘ یہ گلہ کر رہے ہیں‘ پرویز رشید میڈیا کو ہینڈل نہیں کر پا رہے۔
ہمیں شیخ رشید‘ محمد علی درانی یا قمر زمان کائرہ جیسا مجاہد صفت وزیر اطلاعات چاہیے جو ریت میں کشتیاں چلا دے‘ یہ لوگ پرویز رشید کو ہٹوانا چاہتے ہیں مگر حکومت پرویز رشید کو ہٹا کر مزید غلطی کرے گی کیونکہ میڈیا اگر اس وقت حکومت کو تھوڑی بہت سپورٹ دے رہا ہے تو اس کی بڑی وجہ پرویز رشید ہیں‘ یہ کالم نگاروں اور اینکرز کے ذاتی دوست ہیں اور یہ لوگ پرویز رشید کی حیا کی وجہ سے خاموش ہیں‘ حکومت نے جس دن حیا کا یہ پردہ اٹھا دیا حکومت چھ ماہ میں وہاں پہنچ جائے گی جہاں پرویز مشرف سات سال اور آصف علی زرداری چار سال بعد پہنچے تھے‘ حکومت یہ بھول رہی ہے دنیا کی بہترین میڈیا اسٹرٹیجی پرفارمنس ہے‘ آپ نے جس دن پرفارم کرنا شروع کر دیا‘ آپ کو کسی میڈیا منیجر کی ضرورت نہیں رہے گی‘ آپ آج ڈالر کو ساٹھ روپے پر لے آئیں‘ بجلی کی قیمت نصف کر دیں یا پٹرول کی قیمت کنٹرول کر لیں ملک کا پورا میڈیا آپ کا پی آر او بن جائے گا لیکن آپ اگر بیڈ گورننس اور نااہلیت کے انبار لگاتے جائیں گے تو آپ خواہ گوئبلز کو بھی اپنا ایڈوائزر بنا لیں لوگ آپ کے کلمے پر بھی یقین نہیں کریں گے مگر حکومت اپنا فوکس ٹھیک کرنے کی بجائے میڈیا کو فوکس کر رہی ہے اور یہ وہ غلطی ہے جس کا شکار ماضی کی تمام حکومتیں ہوتی رہیں اور آخر میں عزت سادات سے بھی محروم ہو گئیں۔
میاں صاحب کو چاہیے یہ خود دیگ میں ہاتھ ڈالیں اور نہ کسی کو ڈالنے دیں اور یہ اس رکھوالی کے ساتھ ساتھ اچھے ’’کُک‘‘ کا بندوبست بھی کریں کیونکہ ہمارے ملک کو اس وقت ایمانداری سے زیادہ اہلیت کی ضرورت ہے‘ آپ کے پاس اگر اہل لوگ ہوں گے تو آپ ملک چلا لیں گے ورنہ دوسری صورت میں آپ کے ساتھ ساتھ جمہوریت بھی رخصت ہو جائے گی اور چھری کانٹے والے واپس آ جائیں گے اور یہ لوگ اگر پانچویں بار آئے تو بیس پچیس سال تک واپس نہیں جائیں گے کیونکہ انھیں اس بار عوام کی حمایت حاصل ہو گی۔
خواجہ سعد رفیق کے لیے
جاوید چوہدری پير 21 اکتوبر 2013
فلوٹنگ ٹرین ریلوے کی چوتھی جنریشن ہے‘ یہ ٹرین طاقتور مقناطیس سے چلائی جاتی ہے‘ ٹرین ٹریک پر موجود ہوتی ہے‘ طاقتور مقناطیسی لہریں سامنے سے آتی ہیں اور ٹرین کو کھینچ کر منزل تک لے جاتی ہیں‘ جاپان نے 30 اگست 2013ء کو اس فلوٹنگ ٹرین کا پہلا کامیاب تجربہ کیا‘ ٹرین کی اسپیڈ581 کلو میٹر فی گھنٹہ تھی‘ یہ ٹرین 43 کلو میٹرلمبے ٹریک پر چلائی گئی اور یہ 9 منٹ میں منزل پر پہنچ گئی۔
جاپان حکومت نے کامیاب تجربے کے بعد فلوٹنگ ٹرین کی منظوری دے دی‘ اپریل 2014ء میں پٹڑیاں بچھانے کا کام شروع ہو جائے گااور جاپان ریلوے 2027ء میں فلوٹنگ ٹرین مسافروں کے لیے کھول دے گا‘ یہ ٹرین 92 فٹ لمبی ہو گی‘ اس کے 16 کمپارٹمنٹ ہوں گے اور اس میں ہزار مسافر سفر کرسکیں گے‘ یہ ٹرین شروع میں ٹوکیو سے ناگویا تک چلائی جائے گی‘ جاپان کے ان دونوں شہروں کے درمیان 360 کلو میٹر کا فاصلہ ہے‘ فلوٹنگ ٹرین ہزار مسافروں کو 40 منٹ میں ٹوکیو سے ناگویا پہنچائے گی‘ جاپان کی بجلی کی ٹرین اس وقت یہ فاصلہ 90 منٹ میں طے کر رہی ہے‘ یہ فلوٹنگ ٹرین ریلوے کی چوتھی جنریشن ہے۔
ریلوے کی پہلی نسل اسٹیم انجن تھی‘ اسٹیم انجن رچرڈٹریوی تھک نے فروری 1804ء میں ایجاد کیا جس کے بعد ریلوے کی بنیاد رکھی گئی‘ 1896ء میں ڈیزل انجن ایجاد ہواتو ریل کا سفر مزید آرام دہ اور سبک رفتار ہو گیا‘ بجلی کا انجن ڈیزل انجن سے قبل یعنی 1837ء میں بنایاگیا اور پہلی الیکٹرک ٹرین 1879 میں چلائی گئی لیکن اس نے باقاعدہ ریلوے کی شکل پچاسویں دہائی کے وسط میں پائی اور یہ دیکھتے ہی دیکھتے دنیا کے تمام ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک میںچھا گئی‘ دنیا میں اس وقت ریلوے کے پانچ ماڈل ہیں‘ جاپانی ریلوے‘ چینی ریلوے‘ برٹش ریلوے‘ سوئس ریلوے اور انڈین ریلوے۔ جاپان‘ چین‘ برٹش اور سوئس ریلوے تقریباً سو فیصد بجلی پر منتقل ہو چکے ہیں جب کہ بھارتی ریلوے تیزی سے بجلی پر شفٹ ہو رہا ہے۔
دنیا کے زیادہ تر ترقی پذیر ممالک بھی بجلی کے آپشن پر جا رہے ہیں کیونکہ بجلی کی ٹرین ڈیزل ٹرین سے سستی بھی ہوتی ہے‘ سبک رفتار بھی اور اس کی مینٹیننس کاسٹ بھی تین چوتھائی کم ہوتی ہے‘ بلٹ ٹرین بجلی کی ٹرین کا جدید ترین ورژن ہے‘ دنیا کی پہلی بلٹ ٹرین 1964ء میں بنی تھی اور دنیا میں اس وقت تیز ترین بلٹ ٹرین فرانس میں چلائی جاتی ہے اور اس کی رفتار574 کلو میٹر فی گھنٹہ تک جا سکتی ہے جب کہ جاپان نے 2013ء میں فلوٹنگ ٹرین ایجاد کر کے ریلوے کو چوتھی جنریشن میں داخل کر دیا‘ یہ ٹرین پہلی تین قسم کی ٹرینوں سے سستی ہو گی اور یہ فاصلوں اور وقت دونوں کو کم کر دے گی۔
آپ ان ٹرینوں اور ریلویز کو دیکھئے اور اس کے بعد پاکستانی ریلوے کی طرف آئیے‘ میں وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق کا دل سے مداح ہوں‘ یہ ان تھک‘ مخلص اور جذباتی انسان ہیں‘ یہ زندگی میں کچھ کر گزرنا بھی چاہتے ہیں‘ ہم اگر حکومت کے گزشتہ چار مہینوں کا جائزہ لیں تو خواجہ سعد رفیق ان تین چار وزراء کی فہرست میں آتے ہیں جو کچھ نہ کچھ کرتے نظر آتے ہیں‘ خواجہ سعد رفیق نے سو دنوں میں ریلوے کی آمدنی میں دو ارب روپے اضافہ کر دیا اور یہ بھی درست ہے اگر خواجہ سعد رفیق نہ ہوتے تو ریلوے حکومت کے ابتدائی سو دنوں میں بند ہو چکا ہوتا مگر خواجہ سعد رفیق کی محنت اور پوٹینشل کے باوجود ہمیں ماننا پڑے گا‘ریلوے کے بارے میں ہماری اپروچ درست نہیں‘ پاکستان 2013ء میں ریل کی دوسری جنریشن میں سسک رہا ہے۔
ہم آج بھی ڈیزل انجن کے دور میں زندہ ہیں‘ پاکستان کا کوئی سیکشن بجلی پرنہیں چل رہا‘ صدر ایوب خان کے دور میں خانیوال سیکشن بجلی پر منتقل ہوا تھا‘ ایوب خان راولپنڈی سے کراچی تک ٹرین کو بجلی پر شفٹ کرنا چاہتے تھے مگر ایوب خان کے ساتھ ہی یہ منصوبہ بھی رخصت ہو گیا اورہم نے خانیوال سیکشن کی بجلی کی تاریں تک چوری کر کے بیچ دیں‘ ہم روز ریلوے کی موت کا رونا روتے ہیں‘ ہم روز قوم کو بتاتے ہیں ‘1975 ء تک پاکستا ن ریلویز کے پاس الیکٹرک ڈیزل اور اسٹیم سسٹم پر مشتمل 1026 انجن تھے جن میں سے اب صرف 522 باقی رہ گئے ہیں اور ان میں سے صرف 80 انجن چلنے کے قابل ہیں اور ریلوے 33 ارب روپے خسارے میں ہے ‘ پاکستان دنیا کے ان چند ممالک میں شمار ہوتا ہے جن میں کوئی فریٹ ٹرین نہیں چلتی وغیرہ وغیرہ اور ہم جب اس زوال کی وجوہات تلاش کرتے ہیں تو ہم اس شکست کو کبھی ریلوے ملازمین کے کھاتے میں ڈال دیتے ہیں‘ کبھی نااہل حکومتوں کے نامہ اعمال میں لکھ دیتے ہیں اور کبھی ناقص پالیسیوں کو اس کا ذمے دار ٹھہرا دیتے ہیں جب کہ حقیقت یہ ہے یہ تینوں ریلوے کی موت کے ذمے دار نہیں ہیں۔
ریلوے کے زوال کی اصل وجہ پرانی اور متروک ٹیکنالوجی ہے‘ دنیا ریل کی چوتھی نسل میں داخل ہو چکی ہے جب کہ ہم دوسری جنریشن کو پیوند لگانے کی کوشش کر رہے ہیں‘ آپ پوری دنیا کے ریلوے کا ڈیٹا نکال کر دیکھ لیجیے‘ آپ کو دنیا کا ہر وہ ملک پاکستان جیسی صورتحال کا شکار دکھائی دے گا جس کا ریلوے ڈیزل انجن پر چل رہا ہے‘ ڈیزل انجن خاص حد سے زیادہ رفتار سے ٹرین نہیں کھینچ سکتا‘ اس میں جھٹکے بھی لگتے ہیں اور اس کا سفر بھی آرام دہ نہیں ہوتاچنانچہ لوگ ٹرین سے سفر نہیں کرتے‘ ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے اور ہیوی مینٹیننس کاسٹ کی وجہ سے بھی ریلوے ’’برڈن‘‘ میں چلا جاتا ہے اور یوں ریلوے کا وہی حال ہوتا ہے جو اس وقت پاکستان ریلوے کا ہے۔ ہم جنوبی کوریا سے 55 پرانے انجن خرید رہے ہیں‘ ہمیں یہ انجن سستے مل رہے ہیں‘ کیوں؟ کیونکہ کوریا اپنے ریلوے کو بجلی پر شفٹ کر رہا ہے اور اس کے پاس یہ انجن فالتو ہیں‘ کوریا جیسے ممالک تک ڈیزل انجن سے باہر نکل رہے ہیں جب کہ ہم یہ بیماری پالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
آپ ان حالات میں ایک لمحے کے لیے سوچئے اگر خواجہ سعد رفیق کامیاب ہو جاتے ہیں‘ یہ تمام ٹرینیں چلا لیتے ہیں لیکن سوال یہ ہے پانچ یا دس سال بعد کیا ہو گا‘ دنیا میں جب ڈیزل چار گنا مہنگا ہو جائے گا اور ڈیزل انجن کی ٹیکنالوجی ایک سوبائیس سال پرانی ہو جائے گی تو کیا ہمارا ریلوے ایک بار پھر بستر مرگ پر نہیں پہنچ جائے گا؟ ہم اس وقت کیا کریں گے؟ کیا ہم ایک بار پھر قوم کی رگوں سے سرمایہ نکال کر ریلوے پر نہیں لگائیں گے؟ ہم یقینا پورا ریلوے کباڑ میں فروخت کریں گے‘ الیکٹرک ٹرین کی ٹیکنالوجی خریدیں گے اور یہ ٹیکنالوجی اس وقت تک دو تین گنا مہنگی ہو چکی ہو گی‘ ہم نے اگر مستقبل میں الیکٹرک ٹرین پر جانا ہے تو ہم یہ کام آج ہی سے شروع کیوں نہیں کر لیتے‘ ہم ریلوے کو ایک ہی بار الیکٹرک بنانے کا فیصلہ کیوں نہیں کرلیتے۔
خواجہ سعد رفیق کے پاس ریلوے کو زندہ کرنے کا ایک گولڈن چانس موجود ہے‘ امریکا 2014ء میں افغانستان سے نکل رہا ہے‘ امریکی فوج انخلاء سے قبل دو سے چار لاکھ کنٹینر افغانستان سے نکالے گی‘ یہ کنٹینر بارہ برسوں میں افغانستان پہنچائے گئے جب کہ یہ ایک برس میں افغانستان سے نکلیں گے اور اس پورے ’’ریجن‘‘ میں اتنے ٹرک اور ٹرالر موجودنہیں امریکا جن کے ذریعے سال میں دو سے چار لاکھ کنٹینر افغانستان سے کراچی پورٹ تک پہنچا سکے اور امریکا اگر یہ کوشش بھی کرے تو بھی ہماری سڑکیں مکمل طور پر تباہ ہو جائیں گے اور ان کی بحالی کے لیے ہمیں کم از کم چار بلین ڈالر درکار ہوں گے چنانچہ امریکا اور پاکستان کے پاس ریلوے واحد آپشن بچتا ہے‘ ہم اگر امریکا کو قائل کر لیں‘ یہ ریل کی پٹڑی بچھائے‘ بجلی کی ٹرین چلائے‘ اپنے تمام کنٹینرز نکالے اور اس کے معاوضے میں یہ سسٹم ہمارے حوالے کر دے تو پاکستان ریلوے دوبارہ زندہ ہو سکتا ہے۔
امریکا کے پاس ٹیکنالوجی موجود ہے‘ یہ ایک سال میں ریل کا متبادل سسٹم بنا سکتا ہے‘ خواجہ صاحب کو کمر کس کر اس آپشن پر کام کرنا چاہیے‘ ریلوے مسافر ٹرینوں کے ذریعے کبھی اپنے قدموں پر کھڑا نہیں ہو سکے گا‘ مسافر ٹرینیں جاپان‘ برطانیہ‘ فرانس اور بھارت میں بھی خسارے میں چل رہی ہیں‘ ریلوے کی ریڑھ کی ہڈی گڈز ٹرین یا فریٹ ٹرین ہوتی ہیں‘ ہم اگر نئی قانون سازی کریں اور ملک کے تمام کنٹینرز ٹرین کے ذریعے کراچی سے آئیں اور کراچی جائیں اور ریلوے موجودہ 80 انجنوں میں سے 60 انجن فریٹ ٹرینوں پر لگا دے جب کہ باقی انجنوں سے مین لائین کی مسافر ٹرینیں چلائی جائیں تو حالات بہتر ہوسکتے ہیں‘ ریلوے کی تمام زمینیں فوری طور پر نیلام کر دی جائیں‘ ریلوے فوج کے بعد ملک کا سب سے بڑا لینڈ لارڈ ہے‘ اس کے پاس ہزاروں ایکڑ کمرشل زمین موجود ہے‘ خواجہ صاحب کی آدھی انرجی ان زمینوں کے قبضے چھڑانے پر ضایع ہو رہی ہے‘ یہ زمینیں مستقبل میں بھی اسی طرح وزراء کی انرجی کھاتی رہیں گی چنانچہ ہمیں یہ مسئلہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ختم کر دینا چاہیے‘ ریلوے زمینیں فروخت کرے‘ زمینوں کی نیلامی سے حاصل ہونے والی رقم سے اپنے قرضے ادا کرے اور ہم اگر اپنے تمام سائیڈ روٹس یا برانچ ٹرینز پرائیویٹائز کر دیں تو اس سے بھی ریلوے کا برڈن کم ہو سکتا ہے۔
دنیا بہت آگے نکل گئی ہے‘ دنیا اس افغانستان میں ریلوے سروس شروع کر رہی ہے جس کے بارے میں کہا جاتا تھا چاند پر پٹڑی بچھائی جا سکتی ہے مگر افغانستان میں نہیں اور دنیا نے سعودی عرب‘ یو اے ای اور افریقہ کے انتہائی دور دراز علاقوں میں ریل سروس شروع کر دی ہے مگر ہم 2013ء میں اپنی ٹرین کو وقت پر کراچی سے لاہور نہیں پہنچا سکتے‘ کیا ہمارے پاس اس کا کوئی جواز موجود ہے؟ نالائقی کے سوا۔
ملالہ کے لیے
جاوید چوہدری پير 14 اکتوبر 2013
ڈاکٹر عبدالسلام نوبل انعام یافتہ پاکستانی سائنس دان تھے‘ یہ قادیانی مذہب کے ساتھ تعلق رکھتے تھے اور یہ پاکستانی آئین کے مطابق اقلیت اور غیر مسلم تھے لیکن یہ غیر مسلم ہونے کے باوجود پاکستانی تھے اور ان کا نوبل انعام پاکستان کا اعزاز تھا‘ ڈاکٹر صاحب کی کہانی انتہائی دلچسپ تھی‘ ڈاکٹر عبدالسلام ساہیوال کے ایک گاؤں میں پیدا ہوئے‘ والد جھنگ میں معمولی ملازم تھے‘ ڈاکٹر صاحب کا بچپن انتہائی غربت میں گزرا‘ ابتدائی تعلیم جھنگ سے حاصل کی‘ اعلیٰ تعلیم کے لیے گورنمنٹ کالج میں داخل ہوگئے‘ پنجاب حکومت نے دوسری جنگ عظیم کے دوران عوام پر وار ٹیکس لگا رکھا تھا‘ 2 ستمبر1945ء کو جنگ ختم ہو گئی‘ پنجاب حکومت نے وار ٹیکس ختم کر دیا مگر یہ ٹیکس ختم ہوتے ہوتے بھی صوبائی خزانے میں ٹھیک ٹھاک رقم جمع ہو گئی‘ اس وقت پنجاب کے وزیراعظم خضر حیات ٹوانہ تھے‘ ٹوانہ صاحب نے یہ فنڈ انگریز سرکار کے حوالے کرنے کے بجائے یہ رقم پنجاب کے ذہین طالب علموں کی تعلیم پر خرچ کرنے کا فیصلہ کیا‘ ڈاکٹر عبدالسلام اس وقت گورنمنٹ کالج سے ریاضی میں ایم ایس سی کر رہے تھے اور یہ پنجاب کے ذہین طالب علموں کی فہرست میں شامل تھے‘ پنجاب حکومت نے انھیں بھی وظیفہ دے دیا‘ یہ اس وظیفے سے کیمبرج یونیورسٹی گئے‘ انھوں نے وہاں سے فزکس اور ریاضی میں ایم ایس سی اور پی ایچ ڈی کی۔
یہ 1951ء میں پاکستان آئے اور گورنمنٹ کالج لاہور میں ملازمت اختیار کر لی‘ یہ ریسرچ کرنا چاہتے تھے لیکن ہمارے معاشرے کا کمال ہے یہ سینہ ٹھونک کر اہل لوگوں کے سامنے کھڑا ہو جاتا ہے‘ گورنمنٹ کالج کی انتظامیہ بھی ڈاکٹر صاحب کے خلاف سینہ سپر ہو گئی‘ ڈاکٹر صاحب نے پرنسپل سے درخواست کی، آپ مجھے ایک چھوٹی سی لیبارٹری بنا دیں میں وہاں ریسرچ کرنا چاہتا ہوں، پرنسپل نے اس درخواست پر ’’عمل‘‘ کرتے ہوئے انھیں فٹ بال ٹیم کا کوچ بنا دیا‘ ڈاکٹر صاحب نے احتجاج کیا تو انھیں ہاسٹل کا وارڈن بنا دیا گیا‘ ڈاکٹر صاحب تنگ آ گئے اور یہ1954ء میں انگلینڈ شفٹ ہو گئے‘ ہمیں ماننا پڑے گا ہمارے دشمن معاشرے علم‘ ذہانت‘ برداشت اور اعلیٰ ظرفی میں ہم سے بہت آگے ہیں‘ یہ ذہین لوگوں کو مذہب سے بالاتر ہو کر پذیرائی دیتے ہیں۔
ڈاکٹر عبدالسلام کو بھی غیر مسلم برطانیہ نے عزت‘ نوکری اور ریسرچ کا بھرپور ماحول دیا‘ ڈاکٹر صاحب نے اس ریسرچ کی بنیاد پر 1979ء میں فزکس کا نوبل انعام حاصل کیا‘ یہ پاکستان اور سائنس دونوں کے لیے اعزاز کی بات تھی مگر پاکستان میں یہ اعزاز قادیانیت کی نذر ہوگیا‘ ہم نے اس اعزاز کو مرتد قرار دے کر قبول کرنے سے انکار کر دیا اور یوں ڈاکٹر صاحب جان‘ عزت اور علم بچانے کے لیے غیر ملک میں پناہ لینے پر مجبور ہو گئے‘ اٹلی نے کروڑوں ڈالر خرچ کر کے ٹرائیسٹ میں نظری طبیعات کا ادارہ بنایا اور ڈاکٹر عبدالسلام کو اس انسٹی ٹیوٹ کا پہلا ڈائریکٹر تعینات کر دیا اور ڈاکٹر صاحب آخری عمر تک اس انسٹی ٹیوٹ میں دنیا بھر کے سائنس دانوں کو فزکس اور نوبل انعام لینے کی ٹریننگ دیتے رہے‘ شاعر مشرق علامہ اقبال کے صاحبزادے ڈاکٹر جاوید اقبال ایک بار ڈاکٹر صاحب سے ملاقات کے لیے ٹرائیسٹ گئے‘ ڈاکٹر صاحب نے انھیں گلے لگایا اور رونا شروع کر دیا‘ ان کا کہنا تھا دنیا بھر سے لوگ مجھ سے ملنے آتے ہیں مگر آپ پہلے پاکستانی ہیں جو مجھ سے ملاقات کے لیے آئے‘ کاش میں اپنے ملک جا سکتا۔
ہم مسلمان ہیں‘ ہم نبی اکرمؐ کو آخری نبی مانتے ہیں اور میرے سمیت اس ملک کا ہر شخص دل سے یہ سمجھتا ہے ہمارا ایمان اس وقت تک مکمل نہیں ہو سکتا جب تک ہم اللہ اور اس کے رسولؐ کو اپنے آپ‘ اپنی آل اولاد اور زمین جائیداد سے زیادہ اہمیت نہ دیں ‘قادیانیوں کو غیر مسلم بھی سمجھتے ہیں لیکن یہ اس کے باوجود پاکستانی شہری ہیں اور انھیں اس ملک کی دوسری اقلیتوں کی طرح تمام حقوق حاصل ہیں مگر ہم مذہب‘ عقائد اور نظریات میں اس قدر آگے چلے جاتے ہیں کہ ہم ان لوگوں کی شہریت تک سے منحرف ہو جاتے ہیں‘ ہم انھیں پاکستانی اور بعض اوقات انسان تک ماننے سے انکار کر دیتے ہیں اور ہمارا یہ رویہ صرف چند اقلیتوں تک محدودنہیں بلکہ ہم کسی بھی شخص کو کسی بھی وقت اپنی نفرت اور حسد کی صلیب پر چڑھا دیتے ہیں اور اس کے بدن میں نفرت کی کیلیں ٹھونک دیتے ہیں۔
ملالہ یوسف زئی ہمارے اس رویئے کا تازہ ترین نشانہ ہے‘ یہ بچی انتہائی ذہین‘ بہادر اور سمجھ دار ہے‘ آپ اس کی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی تقریر نکال کر دیکھ لیں‘ آپ کو 16 سال کی بچی میں میاں نوازشریف‘ من موہن سنگھ اور صدر اوبامہ سے زیادہ اعتماد دکھائی دے گا‘ دنیا کے عظیم ترین فورم پر اتنے اعتماد کے ساتھ بات کرنا بہادری اور جرأت کا کام ہے اور ملالہ یوسف زئی اس نعمت سے مالا مال ہے‘ آپ اس کے عالمی ٹیلی ویژن چینلز پر انٹرویوز بھی ملاحظہ کیجیے اور آپ اس کی دنیا کے بڑے بڑے لیڈروں سے ملاقاتیں بھی دیکھئے‘ آپ کو یہ بچی اعتماد‘ بہادری اور عزم کی عظیم تصویر دکھائی دے گی‘ یہ 2009 سے عالمی فورمز پر پاکستانی بچوں کا کیس لڑ رہی ہے‘ یہ ہر فورم پر پاکستان کی سچی نمایندگی کر رہی ہے‘ یہ دنیا کو بتا رہی ہے پاکستان‘ اصل پاکستان ملالہ یوسف زئی ہے‘ آل سینٹس چرچ‘ قصہ خوانی بازار‘ علمدار روڈ اور پریڈ گراؤنڈ مسجد راولپنڈی میں پڑی نعشیں نہیں ‘ یہ بچی اپنی ہمت‘ جرأت اور اعتماد کی بنیاد پر اب تک دنیا کے 25 بڑے میڈلز اور اعزازات حاصل کر چکی ہے جب کہ یہ امن کے نوبل انعام کے انتہائی قریب بھی پہنچی‘ اسے نوبل انعام نہیں ملا اور اس پر ’’ہم‘‘ خوش اور ہمارے ’’دشمن‘‘ اداس ہیں‘ دنیا کے بڑے بڑے لوگ ملالہ یوسف زئی کو نوبل انعام نہ ملنے پر شرمندہ ہیں‘ دنیا اداس ہے مگر ہماری سازشی تھیوریز ہی ختم نہیں ہو رہیں۔
ہم نے شروع میں ملالہ یوسف زئی پر حملے کو جھوٹا قرار دے دیا’ ہم نے یہ کہنا شروع کر دیا ملالہ کو سرے سے گولی ہی نہیں لگی‘ برطانیہ نے جب اس معصوم بچی کے علاج کی پیش کش کی تو ہم نے اسے بھی یہود و نصاریٰ کی سازش قرار دے دیا‘ یہ بچی اگر سوات یا راولپنڈی میں علاج کی سہولت نہ ہونے کی وجہ سے مر جاتی تو شاید یہ عین اسلامی ہوتامگر اس کا کوئین ایلزبتھ ہاسپٹل برمنگھم میں علاج غیر اسلامی ہو گیا اور یہ فتویٰ کون لوگ جاری کر رہے تھے؟ وہ جو اپنے لیے ڈسپرین تک بیرون ملک سے منگواتے ہیں‘ علاج کے بعد حکومت پاکستان نے اس کے والد کو برمنگھم میں ایجوکیشنل اتاشی بنا دیا‘ یہ تعیناتی بھی اسلام کے خلاف سازش قرار پا گئی یعنی ملالہ کے والد کو خود کو سچا مسلمان اور کھرا پاکستانی ثابت کرنے کے لیے ملالہ کو پاکستان لانا چاہیے تھا اور کسی خودکش حملے میں خود اور ملالہ دونوں کو شہید کروانا چاہےھ تھا‘ یہ بھی کہا گیا ملالہ کو پاکستانی اور عالمی میڈیا نے بنایا‘ یہ میڈیااسٹنٹ ہے؟ کیا ملالہ کو جنرل اسمبلی میں تقریر کا اعتماد بھی میڈیا نے دیا تھا؟ اور یہ بھی میڈیا کی سازش ہے جس کے ذریعے ملالہ سی این این اور بی بی سی پر اعتماد کے ساتھ بات کررہی ہے اور پاکستان اور سوات کا نام لے رہی ہے اور کیا ملالہ کے سر پر چادر اور بدن پر پاکستانی شلوار قمیض بھی میڈیا اسٹنٹ ہے‘ خدا خوفی کریں‘ یہ بچی سو فیصد جینوئن‘ بااعتماد اور ذہین ہے اور یہ ہر لحاظ سے نوبل انعام کی حق دار تھی‘ کاش ملالہ کو یہ انعام مل جاتا تو ہم اقوام عالم میں سرخ رو ہو جاتے‘ یہ الگ بات ہے اس کے بعد ملالہ یوسف زئی بھی ڈاکٹر عبدالسلام کی طرح باقی زندگی یورپ یا امریکا میں گزارتی اور دنیا بھر کے لوگ اس سے ملاقات کے لیے آتے مگر یہ اپنے پاکستانی بھائیوں اور بہنوں کا راستہ دیکھتی رہتی۔
ہم خود کو آخر سماجی حسد سے کب آزاد کریں گے‘ ہم چیزوں‘ واقعات اور عالمی اعزازات کو ان کی اصل ماہیت میں دیکھنا کب شروع کریں گے‘ ہم خود کو اس معاشرتی احساس کمتری سے کب باہر نکالیں گے اور ہم کب تک ملک کے ہر کامیاب شخص کو قادیانی‘ را کا ایجنٹ‘ یہودی اور عیسائی ٹاؤٹ اور میڈیا اسٹنٹ قرار دیتے رہیں گے اور اگر ہمارے ملک کے تمام کامیاب لوگ برے ہیں‘ غیر ملکی ایجنٹ ہیں یا میڈیا اسٹنٹ ہیں تو کیا پھر وہ لوگ سچے مسلمان اور کھرے پاکستانی ہیں جو مسجدوں میں نمازیوں پر بم پھاڑتے ہیں‘ قبرستانوں میں جنازوں کے دوران حملے کرتے ہںٹ یا پھر جنہوں نے تبدیلی کے خلاف مزاحمت کرتے سیکڑوں ہزاروں سال گزار دیے‘ ہم آج تک اچھی کوالٹی کا لوٹا نہیں بنا سکے‘ ہمارے تندورچی دن میں سیکڑوں بار تندور کے اندر جھانکنے کی وجہ سے ٹی بی کے مریض ہو جاتے ہیں‘ ہم آج تک اپنے پبلک ٹوائلٹس کو قابل استعمال نہیں بنا سکے اور ہم آج تک ایسے وضو خانے نہیں بنا سکے جن میں بیٹھ کر ہم اپنے اور دوسروں کے کپڑے گیلے کیے بغیر وضو کر سکیں مگر ملالہ کی اچیومنٹ بری بھی ہے‘ غلط بھی اور شعائر اسلام کے خلاف بھی‘ اگر اس ملک میں ایک بچی کے لیے اپنے اسکول‘ اپنی تعلیم کے لیے جدوجہد غلط ہے تو پھر اس ملک میں کوئی چیز ٹھیک نہیں‘ ہمیں پھر اس ملک کو پاکستان نہیں کہنا چاہیے‘کیوں؟ کیونکہ ملک اس وقت تک صرف ستان رہتے ہیں جب تک انھیں تعلیم کے وضو کے ذریعے پاک نہ کر دیا جائے اور ملالہ تعلیم بالخصوص بچیوں کی تعلیم کے ذریعے زمین کے اس ٹکڑے کو پاکستان بنانے کی کوشش کر رہی ہے مگرہم اسے صرف ستان دیکھنا چاہتے ہیں۔
کنگ کینسر
جاوید چوہدری ہفتہ 12 اکتوبر 2013
باباجی اچانک ٹھیک ہو گئے اور میرا دوست اس معجزے پر حیران ہو گیا جب کہ ہم سب بھی سرپرائز میں چلے گئے‘ آپ خود سوچئے‘ آپ کے والد اسی سال کے بزرگ ہوں‘ یہ دس سال سے صاحب فراش ہوں‘ آپ انھیں کبھی ایک ڈاکٹر کے پاس لے کر جاتے ہوں اور کبھی دوسرے ڈاکٹر کے کلینک پر‘ آپ انھیں ہر مہینے دو تین دن کسی پرائیویٹ اسپتال میں رکھتے ہوں‘ آپ نے گھر پر نرس اور ڈاکٹر رکھا ہو اور یہ دونوں روزانہ آپ کے والد کا چیک اپ کرتے ہوں‘ آپ بیرون ملک سے ان کے لیے ادویات منگواتے ہوں‘ آپ اپنے والد سے بے انتہا محبت کرتے ہوں اور آپ انھیں کبھی تنہا نہ چھوڑتے ہوں مگر آپ کے والد صحت یاب نہ ہوں‘ یہ جسم کے ایک حصے میں درد کی شکایت کرتے ہوں اور کبھی دوسرے حصے میں اور آپ ان کی وجہ سے ہمیشہ پریشان رہتے ہوں لیکن پھر ایک دن وہ اچانک ٹھیک ہو جاتے ہوں‘ وہ اٹھ کر چلنا بھی شروع کر دیتے ہوں‘ کھانا پینا بھی‘ ہنسنا بھی اور پڑھنا لکھنا بھی تو کیا آپ حیران نہیں ہوں گے اور اس سارے کارنامے کا سہرا آپ کے ایک عام جاننے والے کے سر پر بندھتا ہو تو آپ کی حیرت یقینا سرپرائز میں تبدیل ہو جائے گی اور میرا دوست اور ہم سب دوست اس معجزے پرسرپرائزڈ تھے۔
یہ معجزہ ہوا کیسے؟ آپ اس سے قبل وہ واقعہ سنئے جس کے بطن سے اس معجزے نے جنم لیا‘ میرا دوست والد کو لے کر ڈاکٹر کے کلینک پر جا رہا تھا‘ راستے میں اسے اچانک باس کا فون آگیا‘ باس نے اسے ایمرجنسی میں آفس طلب کر لیا‘ یہ مجبوری واقعی مجبوری تھی اور میرے دوست نے ہر صورت بینک بند ہونے سے قبل آفس پہنچنا تھا‘ اسے سمجھ نہیں آ رہی تھی وہ والد کو کہاں چھوڑ کر جائے‘ کلینک اور گھر دونوں دور تھے جب کہ آفس اس جگہ سے نزدیک تھا‘ وہ چند لمحوں کے لیے سڑک پر رک گیا‘ اس نے سڑک کے دائیں بائیں پلازوں کی طرف دیکھا‘ اسے اچانک یاد آیا یہاں اس کے ایک جاننے والے کا دفتر ہے‘ اس نے فون پر اس سے رابطہ کیا‘ اس کا جاننے والا اس وقت دفتر میں موجود تھا‘ اس نے اسے اپنی مجبوری بتائی‘ والد کو گاڑی سے اتارا‘ جاننے والے کے دفتر میں بٹھایا اور اس سے درخواست کی آپ ایک گھنٹے کے لیے میرے والد کو اپنے پاس بٹھا لیں‘ میں آفس سے واپس آتا ہوں‘ اس کے جاننے والے نے کرسی کھینچی اور اس کے والد کے پاس بیٹھ گیا۔
میرا دوست اپنے دفتر چلا گیا‘ وہ گھنٹے کی بجائے ڈیڑھ گھنٹے بعد واپس آیا تو اس نے ایک عجیب منظر دیکھا‘ اس کے والد کمرے میں ٹہل رہے تھے اور قہقہے لگا رہے تھے جب کہ اس کا جاننے والا کرسی پر آرام سے بیٹھ کر باباجی کو دیکھ رہا تھا‘ دوست اس کایا کلپ پر حیران ہو گیا‘ اس نے جاننے والے کا شکریہ ادا کیا‘ والد کو ساتھ لیا اور کلینک چلا گیا‘ اس کے والد نے اسے راستے میں بتایا ’’ تمہارا یہ دوست بہت اچھا ہے‘ میں کل اس سے دوبارہ ملنے آئوں گا‘‘ دوست نے یہ بات سنی ان سنی کر دی‘ اس نے ڈاکٹر سے معائنہ کروایا اور والد کو گھر لے گیا‘ والد کی وہ رات نسبتاً اچھی گزری‘ میرا دوست اگلے دن دفتر چلا گیا‘ وہ شام کو واپس آیا تو اس کی بیوی نے بتایا‘ ابا جی دوپہر کے وقت آپ کے اس دوست کے پاس چلے گئے تھے جن کے پاس آپ انھیں کل چھوڑ کر گئے تھے‘ دوست حیران ہوا مگر خاموش رہا‘ اگلے دن بابا جی دوبارہ وہاں چلے گئے اور یوں یہ معمول بن گیا۔
باباجی وہاں جاتے‘ دو‘ تین گھنٹے وہاں گزارتے اور واپس آ جاتے‘ میرے دوست نے والد کے مزاج میں اس دوران بڑی تبدیلی دیکھی‘ اس کے والد خوش باش رہنے لگے‘ ان کی ادویات بھی چھوٹنے لگیں اور ڈاکٹروں کے پھیرے بھی کم ہو گئے‘ میرا دوست اس معجزے پر حیران تھا‘ وہ ایک دن شکریہ ادا کرنے کے لیے اپنے جاننے والے کے پاس چلا گیا‘ اس نے دوست کا شکریہ ادا کیا اور اس کے بعد پوچھا ’’تم نے میرے والد پر کیا جادو کیا‘ یہ ہر وقت تمہاری تعریف کرتے رہتے ہیں‘ یہ خوش بھی بہت ہیں اور یہ صحت یاب بھی ہو رہے ہیں‘ تمہارے پاس کیا جادو ہے‘‘ میرے دوست کے دوست نے حیرت سے اس کی طرف دیکھا اور جواب دیا ’’جادو‘ کیا مطلب‘ تمہارے والد جب بھی میرے پاس آتے ہیں‘ میں تو ان کے سامنے ایک لفظ نہیں بولتا‘‘ میرا دوست مزید حیران ہو گیا‘ اس نے پوچھا ’’ کیا تم واقعی کوئی لفظ نہیں بولتے‘‘ اس نے جواب دیا ’’ ہاں میں دو دو‘ تین تین گھنٹے خاموش بیٹھا رہتا ہوں‘‘ میرے دوست نے پوچھا ’’ پھر میرے والد تمہاری اتنی تعریف کیوں کرتے ہیں‘‘ میرے دوست کے دوست نے قہقہہ لگایا اور بولا ’’ تمہارے والد کو باتیں کرنے والا نہیں‘ باتیں سننے والا شخص چاہیے اور میں پوری توجہ سے دو دو گھنٹے ان کی باتیں سنتا ہوں اور یہ توجہ میرا جادو ہے‘‘ میرا دوست حیرت کی انتہا کو چھونے لگا۔
اس نے دوست سے کہا ’’لیکن میں تو اپنے والد کو بہت وقت دیتا ہوں‘‘ دوست کے دوست نے جواب دیا ’’ آپ یقینا وقت دیتے ہوں گے مگر آپ ان کی بات نہیں سنتے‘ آپ انھیں بتانے اور سمجھانے میں لگ جاتے ہو اور بزرگوں کو سمجھانے اور بتانے والے لوگ نہیں چاہیے ہوتے ‘ انھیں صرف اور صرف توجہ سے سننے و الے چاہئیں‘ آپ کسی بزرگ کی بات توجہ سے سننا شروع کر دیں‘ وہ چند لمحوں میں آپ کا دوست بن جائے گا اور آپ کسی بزرگ کو سمجھانا شروع کر دو‘ وہ چند لمحوں میں آپ سے اکتا جائے گا‘‘ میرا دوست اپنے دوست سے جادو کا یہ فارمولا لے کر میرے پاس آیا‘ ہم نے یہ نسخہ مختلف دوستوں کے ساتھ شیئر کیا‘ ہم سب نے تجربہ کیا اور ننانوے فیصد وہ نتائج حاصل ہوئے جن کا دعویٰ اس فلسفے کے بانی نے کیا تھا‘ ہم حیران رہ گئے۔
آپ نے کبھی سوچا ہم اللہ تعالیٰ کو اللہ تعالیٰ کیوں مانتے ہیں؟ اس کی ہزاروں لاکھوں وجوہات ہو سکتی ہیں اور ان ہزاروں لاکھوں وجوہات میں سے ایک وجہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہمیں برداشت کرنا‘ ہمیں سننا بھی ہے‘ اللہ ہماری زندگی کی واحدقوت ہے جو ہماری بات غور اور توجہ سے سنتی ہے اور یہ اس کے جواب میں ہمیں کوئی نصیحت نہیں کرتی‘ اللہ تعالیٰ ہمیں روزانہ کی بنیاد پر برا بھلا بھی نہیں کہتا اور یہ ہمیں بار بار سمجھانے کی کوشش بھی نہیں کرتا‘ ہم میں سے کون ہے جو اللہ کے سامنے بہت معمولی باتوں پر گڑگڑاتا نہیں‘ جو اللہ تعالیٰ کے سامنے ناانصافی‘ زیادتی‘ بے روزگاری‘ بیماری اور سماجی مسائل کا رونا نہیں روتا اور اللہ تعالیٰ جواب میں اس کو خط لکھتا ہو‘ اس سے گفتگو کرتا ہو یا پھر ٹیلی فون‘ فیکس یا ای میل کے ذریعے اس کے اعتراضات کے جواب دیتا ہو‘ اللہ تعالیٰ یا قدرت ہم سب کے اعتراضات‘ دعائوں اور دلائل کے جواب میں مکمل خاموشی اختیار کرتی ہے اور یہ خاموشی وہ مقناطیسی کشش ہے جو ہمارے دلوں کو قدرت یا اللہ تعالیٰ سے جوڑے رکھتی ہے‘ ہم جب بھی اللہ تعالیٰ سے رابطہ کرتے ہیں‘ ہمیں پورا یقین ہوتا ہے اللہ تعالیٰ ہماری پکار‘ ہماری بات پوری توجہ سے سن رہا ہے اور یہ یقین ہم میں حوصلہ بھی پیدا کرتا ہے اور ہمت بھی‘ اللہ تعالیٰ کی یہ خاموشی اور اللہ تعالیٰ کی یہ توجہ خدا کے خدا ہونے کی دلیل ہے‘ توجہ اور خاموشی اللہ تعالیٰ کی سنت ہے اور ہم میں سے جو شخص اس سنت پر عمل کرتا ہے اس کی ذات میں مقناطیسیت پیدا ہو جاتی ہے اور یہ مقناطیسیت جادو کی طرح دوسروں پر اثر کرتی ہے۔
ہم سب پوری زندگی دوسروں کی سنتے رہتے ہیں‘ والدین سے لے کر استاد تک اور محلے والوں سے لے کر مولوی صاحب تک اور ہمسائے سے لے کر ڈاکٹرصاحب تک دنیا کے تمام لوگ ہمیں کچھ نہ کچھ بتاتے رہتے ہیں‘ ہمیں کچھ نہ کچھ سمجھانے کی کوشش کرتے رہتے ہیں‘ ہم یہ سب کچھ سن کر تنگ آ جاتے ہیں اور پھر ہمارے دل میں ایک خوفناک خواہش سر اٹھاتی ہے‘ کاش کوئی ہماری بات بھی سن لے‘ کاش کوئی ہم پر بھی توجہ دے دے‘ ہم لوگوں سے بات کرنے کی کوشش کرتے ہیں مگر یہ ہمارے ساتھ بحث شروع کر دیتے ہیں‘ یہ ہمارے سامنے آرگومنٹس کے انبار لگا دیتے ہیں اور یوں ہماری بات کرنے کی خواہش‘ خواہش ہی رہ جاتی ہے اور ادھوری خواہشیں کینسر ہوتی ہیں‘ خواہشوں کا صرف ایک ہی حل ہے‘ آپ انھیں پورا کریں یا پھر مار دیں‘ آپ انھیں ادھورا نہ رہنے دیں کیونکہ ادھوری خواہشیں چند ماہ میں بیماری بن جائیں گی اور ہمارے تمام بزرگ اس بیماری کا شکار ہوتے ہیں‘ ان کے اندر توجہ کے حصول کی شاہی خواہش موجود ہوتی ہے‘ ایک کنگ کینسر جوہمارے بزرگوں کو زندہ رہنے دیتا ہے اور نہ ہی آرام سے مرنے دیتا ہے‘ یہ جی جی کر مرتے ہیں اور مر مر کر جیتے ہیں اور میرے دوست کا دوست اس عارضے کو سمجھ گیا تھا‘ اس نے توجہ اور خاموشی کو اپنا ہنر بنا لیا۔
پرفارمنس
جاوید چوہدری بدھ 9 اکتوبر 2013
بادشاہ حلف اٹھانے کے بعد دانشور کے پاس گیا‘ گھٹنوں کو ہاتھ لگایا اور عرض کیا ’’ مجھے یہ سلطنت مشکل حالات میں ملی ہے‘ ملک غربت‘ جہالت‘ ناانصافی اور چور بازاری کے کیچڑ میں دھنس چکا ہے‘ فوج مضبوط اور عوام کمزور ہیں‘ کابینہ کا فیصلہ بھی جرنیل کرتے ہیں‘ دشمن ہماری سرحدوں پر بیٹھے ہیں‘ یہ کسی بھی وقت ہم پر حملہ کر دیں گے‘ میں اگر دشمن سے نہیں نمٹتا تو یہ سلطنت کو تباہ کر دیں گے‘ میں ان سے نمٹ لیتا ہوں تو میری فوج مجھے کھا جائے گی اور میں اگر ان دونوں سے بچ گیا تو میں عوام کے غیظ و غضب سے کیسے بچوں گا‘ یہ بھوکے‘ ننگے‘ بے آسرا لوگ میری تکا بوٹی کر دیں گے اور میں اگر ان سے بھی محفوظ رہا تو میرے اقتدار کے بھوکے بھائی مجھے آرام سے نہیں بیٹھنے دیں گے‘‘ دانشور نئے بادشاہ کی بات سن کر ہنس پڑا۔
دنیا میں قدیم دور سے اتالیق‘ دانشور اور سیانے چلے آ رہے ہیں‘ یہ لوگ معاشرے کی دانش ہوتے ہیں اور ان کا وجود اور ان کی تعداد معاشرے کی اصل طاقت ہوتی ہے‘ یہ لوگ رومن ایمپائر کے سیزر کے زمانوں میں بھی تھے‘ یہ ایران کے شاہوں کے وقت بھی ہوتے تھے اور یہ چین‘ عرب‘ منگولیا اور ازبک ادوار میں بھی تھے اور یہ آج یورپ اور امریکا کے زمانوں میں بھی موجود ہیں‘ یہ لوگ قدیم زمانوں سے معتبر چلے آ رہے ہیں اور بادشاہ ہوں یا فقیر لوگ ان کے دربار میں آتے ہیں‘ ان سے مشورہ کرتے ہیں اور اپنی اپنی زندگی خوبصورت اور مطمئن بنا لیتے ہیں‘ دنیا کے تمام دانشور آدھے ولی ہوتے ہیں‘ ولایت کی تین نشانیاں ہوتی ہیں‘ بے حرصی‘ بے خوفی اور مٹھاس اور یہ تینوں خوبیاں دانشوروں میں بھی پائی جاتی ہیں‘ دنیا کا کوئی دانشور اس وقت تک دانشور نہیں ہو سکتا وہ جب تک خود کو لالچ اور خوف سے پاک نہ کر لے اور اس کی زبان‘ اس کے لفظوں میں چاشنی پیدا نہ ہو جائے لہٰذا دانشور ولایت کی دہلیز پر کھڑے ہوتے ہیں۔
یہ ایک قدم اٹھا کر ولی بن سکتے ہیں‘ آپ اس سلسلے میں یونان کے قدیم دانشوروں اور ہندوستان کے اولیاء کرام کی مثال بھی لے سکتے ہیں‘ ہندوستان کے تمام اولیاء کرام یہ خواہ حضرت داتا گنج بخشؒ ہوں‘ حضرت معین الدین چشتی اجمیری ؒ ہوں‘ حضرت نظام الدین اولیاء ؒ ہوں یا پھر بابا فرید گنج شکرؒ ہوں یہ تمام اولیاء کرام اپنے زمانوں کے دانشور بھی تھے اور ہندوستان کے بادشاہ دانش سیکھنے کے لیے ان کے پاس حاضر ہوتے تھے‘ اسی طرح یونان کے بقراط‘ سقراط‘ افلاطون اور ارسطو دانشور بھی تھے اور ولی بھی اور مشرقی یورپ کے بادشاہ اور شہزادے مشورے کے لیے ان کے پاس بھی حاضر ہوتے تھے‘ آج بھی جدید دنیا دانشوروں سے بھری پڑی ہے اور برطانیہ کے وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون ہوں‘ امریکی صدر اوبامہ ہوں‘ جرمن چانسلر اینجلا مرکل ہوں یا پھر جاپان کے وزیراعظم شنزو ایبے ہوں یہ دانشوروں کے پاس جاتے اور ان سے عقل کی باتیں سیکھتے ہیں‘ کل اسرائیل کے چیف ربی عفودیا یوسف کا انتقال ہوگیا۔
یہ اسرائیلی حکمرانوں کے مرشد کہلاتے تھے‘ گولڈا مائر سے لے کر بنجمن نیتن یاہو تک اسرائیل کے تمام حکمران ان کی محفل میں بیٹھتے تھے اور ان سے جہاں بانی اور تفکر کے گر سیکھتے تھے‘ ہمارے ملک میں جہاں ہر شعبے میں ’’ڈی جنریشن‘‘ ہوئی وہاں ہم دانش‘ دانش وری اور دانشوروں کے زوال کا شکار بھی ہیں‘ ہم جس طرف دیکھتے ہیں ہمیں تاحد نظر کوئی دانشوردکھائی نہیں دیتا اور اگر نظر آتا ہے تو یہ مریدوں اور شاگردوں سے کہیں کمزور‘ کہیں حریص اور کہیں زیادہ کڑوا ہوتا ہے‘ ہم حقیقتاً اپنی تاریخ کے بدترین دور سے گزر رہے ہیں‘ ایک ایسے دور سے جس میں موت کا منظر عرف مرنے کے بعد کیا ہو گا جیسی کتابیں ریکارڈ توڑ رہی ہیں اور پیر کامل بالی ووڈ کی فلموں سے زیادہ بزنس کر رہی ہے۔
میں نئے رومی بادشاہ کی طرف واپس آتا ہوں‘ دانشور نے بادشاہ کی بات سنی اور صرف ایک لفظ کا جواب دیا ’’پرفارمنس‘‘ بادشاہ نے تاج اتار کر تکریم پیش کی اور محل میں واپس چلا گیا‘ اس نے ملک کے مسائل کی فہرست بنوائی‘ اس میں سے عوامی مسائل الگ کیے‘ ان مسائل میں سے انتہائی غریب طبقوں کے مسئلوں کی الگ فہرست بنوائی‘ خزانے کا جائزہ لیا اور اگلے دن انتہائی غریب طبقے کے تمام مسائل حل کرنے کا اعلان کر دیا‘ اس نے سرکاری زمینیں غریبوں میں تقسیم کر دیں‘ غریبوں کو دس سال کے لیے ٹیکس فری کر دیا‘ جو غریب کوئی ہنر سیکھ جاتا اسے سرکاری رقم سے ورکشاپ یا دکان بنا کر دی جاتی‘ غریبوں کو پکے مکان بنا کر دیے گئے‘ امیروں کو ان غریبوں کا استاد بنا دیا گیا اور ان کا سرکاری ملازمتوں میں کوٹہ رکھ دیا گیا‘ بادشاہ نے اس کے بعد درمیانے طبقے پر توجہ دی‘ اس نے ان کی مراعات ان کی ’’آئوٹ پٹ‘‘ سے وابستہ کر دیں‘ یہ جس قدر پرفارم کرتے تھے انھیں اس قدر سبسڈی ملتی‘ یہ اس کے بعد امیروں کی طرف آیا۔
اس نے امیروں کو دشمن کے بجائے دوست بنا لیا‘ اس نے ملک میں سرمایہ کاری کو فروغ دیا‘ جو سرمایہ کار سو لوگوں کو ملازمت دیتا‘ اسے ٹیکس میں سہولت مل جاتی‘ جو جاگیردار پچھلے سال سے زیادہ فصل دیتا‘ اس کی سہولتوں میں اضافہ کر دیا جاتا اور جو دکاندار اپنی نئی برانچ کھولتا اس کا ٹیکس بھی کم ہو جاتا اور بادشاہ اس کے بعد سرکاری ملازموں اور وزراء کی طرف آیا‘ اس نے ان کی ترقی پرفارمنس سے منسلک کر دی‘ جو پرفارم کرتا وہ برقرار رہتا اور جو مطلوبہ نتائج نہ دیتا وہ خواہ بادشاہ کا سگا بھائی ہی کیوں نہ ہوتا وہ عہدے سے فارغ ہو جاتا‘ بادشاہ نے خود بھی سادگی اختیار کر لی‘ وہ محل سے چھائونی میں شفٹ ہوگیا‘ اس نے انتہائی غریب خاندانوں سے دو ہزار ذہین بچے جمع کیے‘ انھیں محل میں رکھا اور ان کی تعلیم و تربیت شروع کر دی۔
بادشاہ کے ان اقدامات نے عوام کا دل موہ لیا اور وہ عوام کے دلوں میں دھڑکنے لگا‘ یہ پاپولیرٹی بادشاہ کو مضبوط سے مضبوط بناتی چلی گئی یہاں تک کہ ایک بار پڑوسی ملک نے اس ملک پر حملہ کر دیا‘ پورا ملک ہتھیار لے کر میدان جنگ میں کود پڑا‘ دشمن نے جب اپنے سامنے انسانوں کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر دیکھا تو اس کے چھکے چھوٹ گئے‘ فوج نے بادشاہ کو معزول کرنے کی کوشش کی تو عوام نے تمام چھائونیوں کا گھیرائو کر لیا اور بادشاہ کو ایک بار محلاتی سازشوں کے ذریعے ہٹانے کی کوشش کی گی تو شہزادوں کے لیے عوام سے جان بچانا مشکل ہو گیا کیونکہ بچہ بچہ اپنے بادشاہ‘ اپنے حکمران کے ساتھ کھڑا تھا مگر یہاں پر ایک سوال پیدا ہوتا ہے‘ بادشاہ عوام کو بڑے پیمانے پر سبسڈی دے رہا تھا‘ اس نے عوام کے لیے خزانوں کے دروازے کھول دیے تھے پھر حکومت ریونیو کہاں سے حاصل کرتی تھی؟
بادشاہ نے اس کے لیے تین کام کیے‘ وہ آمدنی کے لیے قدرتی وسائل کی طرف چلا گیا‘ اس نے دیکھا ملک میں کوئلے کے وسیع ذخائر ہیں‘ ملک میں سونے اور ہیروں کی کانیں بھی ہیں‘ ملک میں دریا اور سمندر بھی ہیں اور ملک میں سیکڑوں ہزاروں تفریحی مقامات بھی ہیں‘ بادشاہ نے یہ تمام وسائل پرائیویٹائز کر دیے‘ اس نے کانیں غیر ملکی کمپنیوں کے حوالے کر دیں‘ یہ کمپنیاں زمین سے قدرتی وسائل نکالتیں‘ آدھا سرکاری خزانے میں جمع کرا دیتیں اور آدھا خود لے جاتیں‘ اس نے دریائوں اور سمندر سے گزرنے والے جہازوں پر ٹیکس لگا دیا اور اس نے تفریحی مقامات بھی غیر ملکی کمپنیوں کے حوالے کر دیے‘ یہ کمپنیاں وہاں سے سرمایہ جمع کرتیں اور ایک خاص حصہ سرکار کو دے دیتیں‘ دو‘ اس نے ٹیکس کا نظام شفاف بنا دیا‘ اس نے اعلان کر دیا‘ آپ غریب ہیں تو آپ کے لیے ٹیکس معاف ہے لیکن آپ اگر اتنے امیر ہو چکے ہیں کہ آپ اثاثے بنا سکتے ہیں یا روپیہ پیسہ جمع کر سکتے ہیں تو آپ اس کا صرف دس فیصد سرکاری خزانے میں جمع کرا دیں‘ ریاست آپ اور آپ کے اثاثوں کی حفاظت کرے گی‘ لوگ خوشی خوشی ٹیکس دینے لگے اور اس کا تیسرا کام انصاف تھا‘ اس کی عدالتیں آزاد‘ خود مختار اور ایماندار تھیں‘ یہ روزانہ کے مقدموں کا فیصلہ روزانہ کرتی تھیں یوں لوگوں کو انصاف مل رہا تھا اور اس کی وجہ سے معاشرہ خوشحال اور مطمئن تھا‘ان اقدامات کی وجہ سے عوام بادشاہ کو دل کھول کر دعائیں دے رہے تھے‘ عوام جب مطمئن‘ خوش حال اور سکھی ہوتے ہیں تو یہ حکمرانوں کے لیے دل سے دعا کرتے ہیں اور یہ دعائیں برکت بن کر معاشرے میں نظر آتی ہیں‘ عوام کی دعائوں نے حکومت کے ہر کام میں برکت پیدا کر دی لہٰذا یوں پورا ملک خوشحال اور خوش ہو گیا۔
نوٹ: یہ کہانی آج کے وزیراعظم میاں نواز شریف کے لیے لکھی گئی ہے‘ یہ اگر چاہیں تو یہ کہانی حقیقت بن سکتی ہے کیونکہ کہانی اور حقیقت میں صرف عمل کا فرق ہوتا ہے‘ آپ آج عمل شروع کر دیں‘ آپ کی کہانی کتاب سے نکل کر حقیقت بن جائے گی اور آپ آج عمل چھوڑ دیں آپ کی تمام حقیقتیں کہانی بن کر کتابوں کے ٹھنڈے صفحوں کا رزق بن جائیں گی‘ اس عوامی مینڈیٹ کی طرح آپ جس کے کندھوں پر بیٹھ کر اقتدار کی مسند تک پہنچے مگر یہ مینڈیٹ صرف سو دن بعد کہانی بننا شروع ہوگیا‘ کیوں؟ کیونکہ آپ عمل نہیں کر رہے‘ آپ صرف لفظوں سے کھیل رہے ہیں۔
میاں نوازشریف کے بعد
جاوید چوہدری پير 7 اکتوبر 2013
چیف آف آرمی اسٹاف جنرل اشفاق پرویز کاننی نے 29 نومبر 2013ء کو ریٹائر ہونے کا اعلان کر دیا اور اس اعلان کے ساتھ ہی میاں نوازشریف کی لیڈر شپ کا اصل امتحان شروع ہو گیا‘ ہم میاں صاحب کی طرف آنے سے قبل لفظ لیڈر شپ کاپوسٹ مارٹم کریں گے۔
لیڈر شپ کی تین اسٹیج ہوتی ہیں‘ ان تینوں اسٹیجز سے قبل ایک صفر اسٹیج آتی ہے‘ اس اسٹیج پر کسی گروپ‘ معاشرے یا قوم کو لیڈر کی ضرورت نہیں ہوتی‘ آپ فرض کیجیے آپ دس لوگ ہیں‘ آپ کے پاس دس بکریاں‘ دس گھر اور دس کھیت ہیں‘ آپ کو آپ کی ضرورت کے مطابق پانی اور خوراک بھی مل رہی ہے اور آپ اپنے چھوٹے بڑے اختلافات بھی خود نبٹا لیتے ہیں‘ آپ کو اس صورتحال میں کسی لیڈر کی ضرورت نہیں ہوتی‘ آپ اپنے معاملات خود چلا لیں گے مگر فرض کیجیے آپ دس لوگ ہیں لیکن بکریاں چھ‘ گھر آٹھ‘ کھیت سات اور خواتین بارہ ہیں‘ پانی اور خوراک کی مقدار بھی کم ہے اور آپ کو موسم بھی ڈسٹرب کرتے رہتے ہیں چنانچہ آپ دس لوگ روزانہ لڑتے اور جھگڑتے ہیں۔
آپ کو اب کمیونٹی کومسائل سے نکالنے کے لیے لیڈر کی ضرورت ہو گی‘ یہ لیڈر شپ کی پہلی اسٹیج ہو گی‘ یہ لیڈر آپ کے لیے عدل کا نظام وضع کرے گا‘ یہ حقدار کو حق دے گا اور ناحق کی سرزنش کرے گا‘ یہ لوگوں کو مسائل بڑھانے سے بھی روکے گا‘ عدل لیڈر شپ کی پہلی اسٹیج ہوتی ہے‘ انصاف کے قیام کے بعد لیڈر شپ کی دوسری اسٹیج شروع ہوتی ہے‘ آپ کی کمیونٹی کو اب ایک ایسے شخص کی ضرورت ہے جو آپ کے وسائل میں اضافہ کرے‘ جو پانی‘ خوراک‘ زمین‘ مال مویشیوں‘ گھروں‘ کھیتوں اور افرادی قوت میں اتنا اضافہ کر دے کہ تمام لوگوں کی ضرورت پوری ہو سکے‘ وسائل میں اضافہ لیڈر شپ کی دوسری اسٹیج ہوتی ہے‘لیڈرشپ کی اس اسٹیج کے بعد تیسری اور آخری اسٹیج آتی ہے‘ اس تیسری اسٹیج کو وژنری لیڈر شپ کہا جاتا ہے۔
آپ کا لیڈر آنے والے زمانوں کا تجزیہ کرتا ہے‘ وہ یہ دیکھتا ہے ہماری آبادی جب دس سے پندرہ ہو جائے گی تو ہمیں کتنی زمین‘ کتنے کھیت‘ کتنے گھر‘ کتنی بکریاں‘ کتنا پانی اور کتنی خوراک درکار ہوگی؟ اگر ہمارے کھیت بنجر ہو گئے یا کسی سال بارش نہ ہوئی یا جانور مر گئے یا دوسری کمیونٹی کے لوگوں نے ہم پر حملہ کر دیا تو ہمارا مستقبل کیا ہوگا؟ وہ اس ’’ کیا‘‘ پر کام کرتا ہے‘ وہ مستقبل کو ذہن میں رکھ کر ایسی پالیسیاں بناتا ہے جن کے نتیجے میں حال کے مسائل بھی ختم ہوتے رہتے ہیں‘ وسائل میں بھی اضافہ ہوتا ہے اور مستقبل کے تمام چلنجزد بھی ایڈریس ہوجاتے ہیں اور یوں کمیونٹی کو حال سے مستقبل میں جاتے ہوئے مسائل کا سامنا نہیں کرنا پڑتا‘ یہ لیڈر شپ کی تین اسٹیج ہیں۔
آپ اب ان تین اسٹیجز کو سامنے رکھئے‘ پاکستان کے حالات کا جائزہ لیجیے اور اس کے بعد فیصلہ کیجیے آپ کو اس وقت کس قسم کی لیڈر شپ درکار ہے‘ آپ جوں جوں غور کریں گے‘ آپ کو محسوس ہو گا ہمیں اس وقت ایک ایسا شخص چاہیے جس میں تین لیڈروں کی خوبیاں ہوں‘ یہ پہلی قسم کی لیڈر شپ کی طرح معاشرے میں انصاف قائم کرے‘ دوسری قسم کی لیڈر شپ کی طرح ضرورت کے مطابق وسائل پیدا کرے اور تیسری قسم کی لیڈر شپ کی طرح قوم کو مستقبل کے چیلنجز کے لیے تیار کرے‘ اب سوال یہ ہے کیا پاکستان میں کوئی ایسی لیڈر شپ موجود ہے؟ بدقسمتی سے اس کا جواب ناں ہے‘ قوم نے 2008ء میں ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کو موقع دیا مگر پاکستان پیپلز پارٹی بری طرح ناکام ہو گئی اور آج ان کے گلے میں پانچ سال پورے کرنے کے دعوے کے سوا کوئی تمغہ نہیں اور اس میں بھی ان سے زیادہ فوج اور میاں نواز شریف کا کمال تھا‘ جنرل اشفاق پرویز کیانی اور میاں نواز شریف نے حکومت کا پھینکا ہوا ہر کیچ ڈراپ کر دیا اور یوں صدر آصف علی زرداری پانچ سال پورے کر گئے۔
قوم نے اس کے بعد میاں نواز شریف اور عمران خان کو توقع سے زیادہ مینڈیٹ دیا‘ میاں نواز شریف کو وفاق اور پنجاب مل گیا جب کہ عمران خان کو خیبر پختونخواہ میں جادو جگانے کا موقع ملا مگر آج کی تاریخ تک دونوں حکومتیں ناکام ہیں‘ آج حکومت کے سو دن بعد پشاور کے لوگ کہتے ہیں‘ اے این پی کی حکومت کم از کم ہمارے جنازوں میں تو آ جاتی تھی‘ یہ لوگ ہماری نعشیں ننگی زمین پر چھوڑ کراسلام آباد بھاگ جاتے ہیں جب کہ میاں نواز شریف ملکی صورتحال پر کنفیوژن کا شکار ہیں‘ یہ جو باکس بھی کھولتے ہیں‘ اس کے اندر سے بلائیں نکل آتی ہیں‘ ہمیں یہ ماننا پڑے گا میاں صاحب کے پاس دوسری جماعتوں کے مقابلے مںی زیادہ ایماندار‘ محب وطن اور تجربہ کار لوگ ہیں مگر دنیا بہت آگے جا چکی ہے‘ دنیا میں پانچ برسوں میں آئی فون کے سات ورژن آ چکے ہیں اور تین برسوں میں لیپ ٹاپ ٹچ اسکرین پر شفٹ ہوچکا ہے اور ہم اس قدر گلوبلائزڈ ہو چکے ہیں کہ ہم فیس بک‘ ٹویٹر‘ وائبر اور وٹس ایب کے ذریعے پوری دنیا میں ہر وقت ’’ان‘‘ رہتے ہیں‘ میڈیا بے مہار بھی ہے اور اس کی رسائی وہاں تک ہے حکومت کو جہاں پہنچنے میں دس دن لگ جاتے ہیں‘ آپ میڈیا کی رفتار ملاحظہ کیجیے‘ حکومت نے 9 ستمبر2013ء کو اے پی سی بلوائی‘ یہ آج دن تک مذاکرات کے لیے طالبان سے رابطہ نہیں کر سکی جب کہ میڈیا تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان سے روز رابطہ کرتا ہے اور روز ان کی خبریں نشر اور شایع کرتا ہے چنانچہ میاں صاحب کی ٹیم ایمانداری‘ تجربے اور حب الوطنی کے باوجود کوئی کمال نہیں کر سکی‘ یہ بجلی اور گیس کے چور بھی نہیں پکڑ سکی اور ڈالر بھی حکومت کے کنٹرول سے باہر ہے ۔
ہماری سیاسی جماعتوں کی حالت کیا ہے‘ آپ اس کے لیے چند مثالیں ملاحظہ کیجیے‘ بلوچستان حکومت 9 جون 2013ء کو بنی‘ یہ آج 122 دن گزرنے کے باوجود کابینہ نہیں بنا سکی‘ وزیراعلیٰ ملک سے باہر جاتے ہیں تو پوری بلوچستان حکومت غائب ہو جاتی ہے‘ ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت یعنی آصف علی زرداری یو اے ای شفٹ ہو چکے ہیں‘زرداری صاحب نے عجمان میں فارم ہاؤس بنالیا ہے اور یہ اب وہاں سے ریموٹ کنٹرول کے ذریعے پارٹی چلائیں گے‘ سندھ حکومت کے وزیراعلیٰ اور وزراء کے درمیان اختلافات چل رہے ہیں اور پاکستان مسلم لیگ ق دو چوہدریوں اور ایک مشاہد حسین سید تک محدود ہو چکی ہے اور یہ تینوں ایک دوسرے کا منہ دیکھ کر دن گزار دیتے ہیں‘فوج ان حالات میں اپنا امیج بہتر بناتی جا رہی ہے‘ جنرل کیانی نے چھ برسوں میں فوج کو سیاست سے الگ رکھ کر واقعی کمال کیا اور مزید ایکسٹینشن نہ لے کر مزید کمال کر دیا‘ یہ ایکسٹینشن لے لیتے تو فوج کے امیج کو بہت زک پہنچتی‘ جنرل کیانی نے باعزت رخصتی کے ذریعے میاں نواز شریف کے لیے گورننس کے مزید مسائل پیدا کر دیے ہیں‘ وہ حکومت جو آج تک چیئرمین نیب‘ وزیر خارجہ‘ وزیر دفاع اور امریکا میں پاکستانی سفیر نہیں لگا سکی اس کے لیے نئے آرمی چیف اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کا تقرر خاصا مشکل مرحلہ ہو گا۔
میاں نواز شریف چھ برسوں سے میرٹ میرٹ کی گردان کر رہے ہیں‘ یہ اگر آج کسی جونیئر جنرل کو آرمی چیف بناتے ہیں تو ان کی کریڈیبلٹی کو مزید نقصان پہنچے گا‘ فوج چھ برسوں سے ٹھیک کھیل رہی ہے‘ اس نے اگلی صف سیاسی حکومتوں کے لیے خالی کر دی ہے مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ہمارے سیاستدانوں کی نااہلیت کھل رہی ہے اورلوگ یہ کہنے پر مجبور ہو رہے ہیں مسئلہ فوج نہیں‘ سیاستدان ہیں‘ لوگ آج جنرل مشرف کا دور بھی یاد کر رہے ہیں‘ ہمیں بھی ماننا پڑے گا جنرل پرویز مشرف کی ٹیم دونوں سیاسی حکومتوں کے مقابلے میں اہل بھی تھی اور اس نے ان سے کئی گنا زیادہ ڈیلیور بھی کیا اوریہ اب ’’پچھلی حکومت کا کیا دھرا‘‘ کے الزام لگا کر اپنی نااہلیت نہیں چھپا سکتے‘ ہمیں آج یہ بھی ماننا ہو گا اگر میاں نواز شریف اور عمران خان ناکام ہوئے تو ملک میں دو بڑے واقعات ہوں گے‘ میاں صاحب اور عمران خان کو بھی آصف علی زرداری کی طرح عجمان میں فارم ہاؤس بنانے پڑیں گے اور یہ بھی ریموٹ کنٹرول کے ذریعے اپنی پارٹی چلائیں گے چنانچہ میاں صاحب اور خان صاحب کو ابھی سے یو اے ای میں فارم ہاؤس کے لیے جگہ تلاش کر لینی چاہیے اور مجھے دوسرے امکان کے بارے میں لکھتے ہوئے بھی شرم آ رہی ہے‘ مجھے خطرہ ہے اگر یہ صورتحال اسی طرح جاری رہی تو شاید قوم جی ایچ کیو کے سامنے جمع ہو جائے اور فوج سے ہاتھ جوڑ کر عرض کرے آپ ٹیک اوور کرلیں‘ ہماری ان سے جان چھڑائیں اور خدا نہ کرے یہ وقت آئے کیونکہ اگریہ وقت آگیا تو یہ پھر بیس تیس سال تک جائے گانھیں۔
دوست
جاوید چوہدری ہفتہ 5 اکتوبر 2013
وہ دونوں دوست تھے اور دونوں وقت کے عظیم فلسفی دیوجانس کلبی کے سامنے حاضر ہو گئے۔ دیوجانس کلیم ڈھائی ہزار سال قبل یونان کا ایک ایسا فلسفی تھا جس کی سوچ نے آنے والے زمانوں کے ذہنوں پر گہرے اثرات مرتب کیے۔یہ درویشی اور ایمان کی ان حدوں تک پہنچ چکا تھا جہاں انسان کو پانی پینے کا پیالہ بھی عیاشی اور اصراف محسوس ہونے لگتا ہے۔ دیو جانس کلبی عین جوانی میں یہ راز پا گیا دنیا کی ہر چیز مایا ہے اور انسانی زندگی میں اس کی کوئی حیثیت نہیں ۔ اس نے گھر بار چھوڑ دیا‘ وہ عزیز رشتے داروں اوردوستوں کے بوجھ سے آزاد ہو گیا اور آخر میں اس نے سماج کو بھی تیاگ دیا۔ اس نے خدا کی زمین کو بستر اور آسمان کو اپنا لحاف بنا لاش‘ اس کا زیادہ تر وقت ایتھنز کے مضافات میں گزرتا تھا۔ وہ زندگی کے آخری حصے میں مذہب کی بندش سے بھی آزاد ہوگیا ٗ اس کا خیال تھا متولیوں نے مذہب کو تجارت بنا دیا ہے اور وہ اس تجارت کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں۔ وہ لاتعلق‘ گستاخ اور کھردرا انسان تھا مگر لوگ اس کے باوجود اس کا پیچھا کرتے تھے۔ یہ اسے جنگلوں ٗ میدانوں ٗ ویرانوں اور ندیوںپر تلاش کرلیتے تھے ٗ وہ لوگوں سے بھاگتا تھا مگر علم اور دانش کے متوالے اسے گھیر کر بھٹز جاتے تھے اور وہ جب تک تھک نہیں جاتا تھا لوگ علم کے موتی چنتے رہتے تھے۔
ایک دن عجیب واقعہ پیش آیا ٗ ایتھنز کے دو دوست اس کے پاس آئے ٗ ایک دوست انتہائی امیر تھا ٗ اس کے تجارتی قافلے سینٹرل یورپ سے سینٹرل ایشیا تک جاتے تھے‘ وہ تجارتی کشتیوں اور شہر کے مضافات میں وسیع باغوں کا مالک تھا جب کہ دوسرا دوست غریب تھا ‘ وہ نان نفقہ چلانے کے لیے کندھے پر چمڑے کی مشک رکھ کر گھر گھر پانی بیچتا تھا۔ دنیا میں واٹر سپلائی سے قبل پینے کا پانی تجارت ہوتا تھا ٗ شہروں اور قصبوں میں ہزاروں ماشکی ہوتے تھے ٗ یہ لوگ میٹھے کنویں سے پانی کی مشکیں بھرتے ‘لوگوں کے گھروں تک پانی پہنچاتے اور معاوضہ وصول کرتے۔ میونسپل کمیٹیوں نے بھی ماشکی ملازم رکھے ہوتے تھے‘ یہ لوگ راستوں کی گرد بٹھانے کے لیے گلیوں اور سڑکوں پر پانی کا تروکا کرتے تھے۔ یہ مشک بھر کر سڑک پر آتے ٗ مشک کا منہ ہلکا سا کھولتے اور سڑک پر پانی کا چھڑکائو کرتے جاتے‘ اس چھڑکائو سے گرد بیٹھ جاتی تھی۔ یہ سسٹم پرانے زمانوں سے 1980ء کی دہائی تک جاری رہا۔
میں نے خود اپنی آنکھوں سے ماشکی دیکھے مگر معاشرے کی دوسری مثبت روایات کی طرح ماشکی بھی اب ماضی کا قصہ بن چکے ہیں اور مجھے یقین ہے آج کے نوجوانوں کے لیے مشک اور ماشکی دونوں لفظ اجنبی ہوں گے۔ میں دیو جانس کلبی کے ایتھنز کی طرف واپس آتا ہوں۔میںدوبار ایتھنز شہر گیا اور میں نے یونان کی قدیم شاندار تہذیب کا اپنی آنکھوں سے مطالعہ کیا ‘میں اس جگہ بھی گیا جہاں سقراط بیٹھتا تھا اور اس مقام پر بھی جہاں سقراط کے عظیم شاگرد افلاطون نے اکیڈمی بنائی تھی۔ میں ماضی کے ایک کالم میں غلطی سے افلاطون کی اکیڈمی کو سقراط کی درسگاہ لکھ گیا۔ میرے انتہائی پڑھے لکھے بیورو کریٹ دوست سیرت جوڑا نے اس غلطی کی نشاندہی کی‘ مجھے اپنی یادداشت پر ضرورت سے زیادہ بھروسہ تھا چنانچہ میں نے غلطی کوغلطی ماننے سے انکار کر دیامگر چند دن بعد جب پرانی ڈائریاں نکالیں اور نوٹس دیکھے تو سیرت جوڑا کی بات درست نکلی‘ وہ واقعی افلاطون کی اکیڈمی تھی ٗ سقراط اس جگہ بیٹھ کر اپنے شاگر دسے بات چیت کرتا تھا‘ وہ جب زہر کا پیالہ پی کر مر گیا تو افلاطون نے اس میٹنگ پوائنٹ پر دنیا کی پہلی اکیڈمی بنائی اور یہ آگے چل کر افلاطون سے منسوب ہوئی۔ میں غلط تھا ٗ میں نے غلط لکھ دیا جب کہ سیرت صاحب بیوروکریٹ ہونے کے باوجود سچے ثابت ہوئے‘ میں اس غلطی پران سے شرمندہ ہوں۔
دیوجانس کلبی کے پاس دو دوست آئے ٗ ایک انتہائی امیر شخص تھا جب کہ دوسرا ایتھنز کا ماشکی اور انتہائی غریب ۔امیر شخص نے کلبی کو اپنا اور اپنے دوست کا تعارف کروایا۔ دیوجانس کلبی نے ان کی طرف دیکھا اور طویل قہقہہ لگا یا۔ امیر یونانی نے قہقہے کی وجہ پوچھی‘ دیو جانس کلبی نے فرمایا’’ ایک امیر ہے اور دوسرا غریب ٗدونوں ایک دوسرے کے دوست کیسے ہو سکتے ہیں؟‘‘ امیر یونانی نے عرض کیا ’’اے وقت کے عظیم فلسفی !میں آپ کی بات سمجھ نہیں سکا‘‘ دیوجانس کلبی نے جواب دیا‘‘ امیر دوست کے ہوتے ہوئے اگردوسرا دوست غریب ہے تو اس کا مطلب ہے امیرشخص بہت گھٹیا ہے اور یہ دل سے اس کو اپنا دوست نہیں سمجھتا‘‘ امیر یونانی ساکت ہو کر رہ گیا ٗ دیو جانس کلبی نے کہا ’’تم اگر اسے واقعی اپنا دوست سمجھتے ہو تو پھر جائو اسے بھی اپنے جیسا امیر بنائو‘میں تمہارے خلوص پر تمہیں مبارک باد پیش کروں گا‘‘ وہ شخص رکا ٗ اس نے غریب دوست کا ہاتھ پکڑا اور ایتھنز واپس چلاگیا۔
دیوجانس کلبی کا تجزیہ ایک حد تک درست تھا؟ اور دوسری حد تک غلط ۔ ہم پہلے غلط کا تجزیہ کرتے ہیں۔ ہمارے ملک میں لاکھ لوگوں میں سے صرف ایک شخص زندگی میں اپنی کلاس تبدیل کر پاتا ہے‘ صرف ایک شخص جاہلوں میں رہ کر اعلیٰ تعلیم حاصل کرتا ہے ٗ صرف ایک شخص غربت سے امارت تک پہنچتا ہے ٗ صرف ایک شخص ناکامیوں کے کیچڑ سے کامیابی کے خشک پتھرپر پائوں رکھتا ہے اور لاکھوں میں سے صرف ایک شخص اپنے والدین کے لائف اسٹائل سے جان چھڑاپاتا ہے۔ اگر یہ شخص اپنی کامیابی کے شیش محل میں اپنے جاہل ٗ نالائق اور سست رشتے داروں اور دوستوں کوبسانے کی غلطی کر بیٹھے تو یہ لوگ چند دنوں میں شیش محل کو بھی برباد کر دیتے ہیں اور کامیاب انسان کو بھی پاگل کر دیتے ہیں اور یہ پاکستانی معاشرے کی عام مثال ہے۔ ہم میں سے کوئی ایک شخص اللہ کے کرم اور اپنی محنت سے کامیاب ہو تا ہے اور آخر میں اپنے کسی نالائق بھائی ٗ لالچی بہنوئی اور ظالم سالے کے شکنجے میں پھنس جاتا ہے اور اپنی بے وقوفیوں پر ماتم کرتا ہوا دنیا سے رخصت ہو جاتاہے۔ یہ اپروچ سو فیصد غلط ہے ۔ ہم اب آتے ہیں دیو جانس کلبی کے فلسفے کی طرف ٗ ہم اگر زندگی میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو پھر ہم پر فرض ہو جاتاہے ہم کامیابی کی یہ ــ’’جھاگ‘‘ اپنے عزیزوں ٗ رشتہ داروں اور دوستوں کے دودھ کو بھی لگائیں ٗ اگرہم کامیاب ہونگے اور ہمارے رشتے دار اور دوست ناکام تو آپ خود تصور کیجیے ہم کیسے مطمئن زندگی گزار سکیں گے؟
چنانچہ ہم پر فرض ہے ہم اپنے گردونواح میں موجود لوگوں کی حالت تبدیل کریں اور دیوجانس کلبی کا یہ مطلب تھا۔ اس کی نظر میں امیر دوست کے ہوتے ہوئے غریب ہونا زیادتی تھی‘ یہ بات بھی سو فیصد درست ہے ۔ اب سوال یہ ہے ہم دیو جانس کلبی کے فارمولے پر کیسے عمل کر سکتے ہیں؟ آپ کبھی اپنے کسی عزیز ٗ رشتہ دار اور دوستوں کے ساتھ اپنی کامیابی شیئر نہ کریں‘ آپ انھیں اپنے ادارے ٗ اپنی دولت میں حصے دار نہ بنائں ‘ آپ انھیں صرف وہ فارمولہ ٹرانسفر کردیں جس پر عمل کر کے آپ کامیاب ہوئے ‘ آپ کو جس فارمولے نے امیر بنایا تھا۔ آپ کے دوست اگر آپ سے مچھلی پکڑنے کا طریقہ سیکھ گئے تو یہ چند ماہ میں اپنے قدموں پر کھڑے ہو جائیں گے اور یوں آپ اس کا رشتہ دار یا دوست ہونے پر شرمندہ ہوں گے اور نہ وہ شرمندگی محسوس کریں گے۔ آپ دوستوں میں تلی ہوئی مچھلیاں تقسیم نہ کریں‘ آپ انھیں کانٹے خرید دیں اورانھیںایک مچھلی پکڑا دیں‘ آپ کی ذمے داری ختم ہو جائے گی۔ آپ کو اگر اپنے دوستوں اور رشتے داروں میں سیکھنے کا پوٹینشل دکھائی نہ دے تو آپ ان کی اولاد پر توجہ دیں ‘آپ کو ان میں کوئی نہ کوئی ہونہار بچہ مل جائے گا‘ آپ اس کی مدد کریں‘ اسے پڑھائیں ٗ لکھائیں اورسیکھائیں ۔ وہ اپنے خاندان کا بوجھ اٹھائے گا اور یوں آپ کا حق دوستی ادا ہو جائے گا ۔
آپ دیو جانس کلبی کے فقرے کو ذہن میں رکھیں اور اس کے بعد میاں نواز شریف ٗ آصف علی زرداری اور عمران خان کے قوم سے خطاب کے ابتدائی فقرے ملاحظہ کیجیے۔ یہ ہمیشہ عوام سے میرے بھائیو ٗ میری بہنو ٗ میری مائوں ٗ میرے دوستواور میرے بچو کہہ کر مخاطب ہوتے ہیں ‘ میں جب بھی ان کے منہ سے یہ لفظ سنتا ہوں مجھے دیو جانس کلبی یاد آ جاتا ہے اور میں سوچتا ہوں وہ شخص جس کے پاوں میں جوتا نہیں ٗ وہ بوڑھی عورت جس کے سرپر چادر نہیں اور وہ بچہ جو برسوں سے بے روزگار ہے کیا وہ واقعی میاں نواز شریف کا بچہ ٗ آصف علی زرداری کی ماں اور عمران خان کی بہن ہے ٗ اگر ہاں تو پھر ان کے والد ہونے ٗان کے بےٹا ہونے اور ان کے بھائی ہونے پر ایک لاکھ افسوس ہے۔ یہ کیسے بھائی ہیں جن کی بہنوں کے سر پر چادر نہیں‘ یہ کیسے بیٹے ہیں جن کی مائوں کے پائوں میں جوتے نہیں اور یہ کیسے والد ہیں جن کے بچے بھوک مٹانے کے لیے گردے بیچنے پر مجبور ہیںاوریہ سفید سنگ مرمر کے محلوں میں رہتے ٗ ذاتی جہاز اڑاتے ہیںاور لندن ٗ نیویارک ٗ سعودی عرب اور دوبئی میں ڈالر گنتے پھرتے ہیں۔ یہ امیرلوگ اپنے غریب بچوں ٗ بہنوں ٗ مائوں اور دوستوں کی حالت بدلیں یا پھر یہ سیاست چھوڑ دیں کیونکہ گندگی اور شہد دونوں ایک ہتھیلی پر نہیں رہ سکتے ‘ آپ پانی اور آگ کو ایک برتن میں اکٹھا نہیں کر سکتے اور آپ کیکر کے درختوں پر ریشم کے کیڑے نہیں پال سکتے۔آپ اگران کے دوست ہیں تو پھر دوست نظر آئیں‘ آپ دوستی کے صرف دعوے نہ کریں۔
یہ جب تک بغاوت نہیں کر دیتے
جاوید چوہدری جمعرات 3 اکتوبر 2013
ہماری زندگی کے بعض واقعات آکٹوپس کی طرح ہمارے دماغ میں پنجے گاڑھ لیتے ہیںا ور ہم پوری کوشش کے باوجود ان واقعات سے جان نہیں چھڑا پاتے‘ آپ کی زندگی میں بھی ایسے واقعات ہوں گے جنہوں نے آپ کی نفسیات پر دیرپا اثرات چھوڑے اور اگر آپ کی ذات کا نفسیاتی تجزیہ کیا جائے تو آج آپ جو کچھ ہیں اس کی بڑی وجہ وہ واقعات ہیں‘ ہماری زندگی کے زیادہ تر رویے ان واقعات پر ’’بیس‘‘ کرتے ہیں‘ ہم کس طرح سوچتے ہیںاور کس طرح ’’بی ہیو‘‘ کرتے ہیں‘ اس کی بنیاد چند واقعات ہوتے ہیں‘ میری زندگی میں بھی ایسے چند واقعات ہیں جنہوں نے آگے چل کر میرے رویئے‘ میرے ردعمل اور میرے ’’ بی ہیویئر‘‘ طے کر دیے‘ ان واقعات میں بہاولپور کا ایک واقعہ بھی شامل ہے‘ میں نے صحافت میں ایم اے اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور سے کیا تھا‘ میں ایک روز بازار سے گزر رہا تھا‘ بازار میں مجمع لگا تھا‘ سیکڑوں لوگ دائرہ بنا کر کھڑے تھے‘ میں تجسس کی وجہ سے دائرے میں داخل ہوگیا‘ دائرے کے درمیان لڑائی ہو رہی تھی‘ دو نوجوانوں کو چار پانچ لوگ پیٹ رہے تھے اور ڈیڑھ سو لوگ تماشہ دیکھ رہے تھے۔
میں بھی تماشائیوں میں شامل ہو گیا‘ میں آگے بڑھنے سے پہلے آپ کو انسان کی نفسیات بھی بتاتا چلوں‘ ہم میں سے نوے فیصد لوگ ان لوگوں جیسے بن جاتے ہیں جن میں یہ رہتے ہیں‘ آپ آج عبادت گزاروں میں بیٹھنا شروع کر دیں آپ 45 دن بعد ان جیسا ہو جائیں گے‘ آپ جواریوں‘ شرابیوں‘ چوروں اور فراڈیوں میں بیٹھ جائیں آپ کو پکا فراڈیا‘ چور‘ شرابی یا جواری بننے میں صرف 45 دن لگیں گے‘ آپ اگر کوئی حرکت 45 دن تک مسلسل دیکھیں تو آپ کا زاویہ نظر بدل جاتا ہے اور آپ نئے اسٹائل میں چلے جاتے ہیں‘ ہم کیونکہ تماشہ دیکھنے والی قوم ہیں چنانچہ ہمارے معاشرے کا ہر شخص ہر قسم کے تماشے کا حصہ بن جاتا ہے اور میں بھی اس دن اس تماشے میں شامل ہوگیا‘ ہمارے دیکھتے ہی پولیس آ گئی‘ پولیس نے لڑنے والوں کو پکڑا اور سڑک پر ہی انصاف شروع کر دیا‘ لڑکوں کو مجمعے کے سامنے بٹھایا گیا‘ مار کھانے والوں سے لڑائی کی وجہ پوچھی گئی‘ انھوں نے بتایا یہ لڑکے بار بار ہمارے محلے کا چکر لگاتے تھے‘ ہم نے منع کیا تو لڑائی ہو گئی‘ ہم آج یہاں سے گزر رہے تھے تو انھوں نے ہمیں مارنا شروع کر دیا۔
پولیس نے دوسرے فریق سے لڑائی کی وجہ پوچھی‘ انھوں نے بتایا‘ ہم ان کے محلے سے گزر کر کالج جاتے ہیں‘ انھوں نے ہمیں گلی میں روک کر مارا تھا اور آج ہم نے ان سے انتقام لے لیا‘ مارنے والی ٹیم میں ایک اجنبی نوجوان بھی شامل تھا‘ وہ چپ چاپ ایک سائیڈ پر بیٹھا تھا‘ پولیس نے مارنے والی دونوں ٹیموں سے پوچھا ’’ یہ کس کے ساتھ ہے؟‘‘ دونوں نے اس کی طرف دیکھا اور انکار میں سر ہلا دیا‘ پولیس کے ساتھ ساتھ مجمع بھی حیران رہ گیا کیونکہ ایک نوجوان پچھلے بیس منٹوں سے لڑائی میں شامل تھا‘ یہ مار کھانے والی پارٹی کو مسلسل مار رہا تھا مگر اس کا دونوں فریقوں میں سے کسی کے ساتھ تعلق نہیں تھا‘ پولیس نے اس سے پوچھا ’’ تم کون ہو‘‘ اس نے اطمینان سے جواب دیا ’’ میں یہاں سے گزر رہا تھا‘ میں نے دیکھا یہ پانچ لڑکے ان دو لڑکوں کو مار رہے ہیں‘ میں نے سوچا جب ان دونوں کو مار پڑ رہی ہے تو میں بھی دو تین ہاتھ سیدھے کر لیتا ہوں چنانچہ میں نے بھی انھیں مارنا شروع کر دیا‘‘ یہ جواب سن کر پولیس‘ مجمعے اور لڑائی گروپ تینوں کی ہنسی چھوٹ گئی۔
یہ واقعہ ہمارے معاشرے کا مکمل نفسیاتی عکس ہے‘ ہم ایک تماش بین قوم ہیں‘ ہم لڑائی مار کٹائی کو بھی تماشے کی طرح دیکھتے ہیں‘ دو‘ ہمارے ملک میں اگر کسی کو مار پڑ رہی ہو تو بے شمار لوگ صرف ہاتھ سیدھا کرنے کے لیے اس جنگ میں کود پڑتے ہیں اور یہ بھی مار کھانے والے کو مارنا شروع کر دیتے ہیں اور تین ہمیں جس بات کو سنجیدگی سے لینا چاہیے ہم اس پر ہنس پڑتے ہیں ‘میں شروع شروع میں اس تجزیے کو خام سمجھتا تھا لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ محسوس ہوا یہ ہماری قومی عادت ہے‘ میںآج پورے یقین سے کہتا ہوں یہ تین نتائج ہماری قومی پالیسی ہیں‘ ہمارا معاشرہ ہو‘ حکومت ہو یا ریاست ہو ہم تماش بین بھی ہیں‘ مارے کو مزید مارنے کے لیے تیار بھی رہتے ہیں اور ہمیں ظلم اور زیادتی کی جن وارداتوں پر سنجیدہ ہونا چاہیے‘ ہم انھیں ہنسی مذاق میں بھی اڑا دیتے ہیں‘ آپ بجلی اور پٹرول کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کا معاملہ ہی دیکھ لیجیے‘ حکومت نے تین ماہ میں بجلی کی قیمتوں میں 30فیصد جب کہ پٹرولیم مصنوعات میں 14 فیصد اضافہ کر دیا‘ حکومت کا موقف اس معاملے میں بہت دلچسپ ہے۔
واپڈا کے مطابق بجلی کا 22 فیصد حصہ لائین لاسز اور چوری میں ضایع ہو جاتا ہے گویا ہماری سولہ ہزار میگاواٹ میں سے ساڑھے تین ہزار میگاواٹ بجلی راستے ہی میں غائب ہو جاتی ہے‘ صوبہ خیبر پختونخواہ بجلی چوری کا سب سے بڑا مرکز ہے‘ صوبے کے 121 فیڈرز پر بل کولیکشن سات سے بیس فیصد ہے یعنی ان 121 فیڈرز سے بجلی سو فیصد حاصل کی جاتی ہے مگر 93 سے 80 فیصد لوگ بل نہیں دیتے‘ فاٹا میں بل کولیکشن صفر ہے‘ کرک میں ایک علاقے کے سو فیصد لوگ بل نہیں دیتے‘ حکومت بل لینے کی کوشش کرے تو مقامی لوگ واپڈا کے اہلکاروں کی پھینٹی لگا دیتے ہںں اور اغواء کرنا پڑے تو انھیں اغواء بھی کر لیتے ہیں‘ گومل زام ڈیم سے واپڈا کے آٹھ اہلکار اغواء کر لیے گئے‘ حکومت نے انھیں دو سال بعد تین کروڑ روپے تاوان دے کر چھڑوایا‘اس واقعے کے بعد واپڈا کا کون سا اہلکار بل وصول کرے گا یا بجلی کاٹے گا‘ واپڈا ان اسی فیصد نادہندگان کا بوجھ بل دینے والے بیس فیصد صارفین پر شفٹ کر دیتا ہے‘ کراچی شہر میں 6 لاکھ کنڈے ہیں‘ ان کنڈوں کے ذریعے روز بجلی چوری ہوتی ہے۔
پاور پلانٹس حکومت سے سستا فرنس آئل لیتے ہںے‘ مارکیٹ میں بیچ دیتے ہیں اور یوں جتنا فرنس آئل لیا جاتا ہے بجلی اس کے مقابلے میں کم بنتی ہے‘ حیدرآباد کے ایک انجینئر بچل داس نے میٹر کنٹرول کرنے کا طریقہ ایجاد کر لیا‘ یہ واپڈا کے ملازمین کے ساتھ مل کر صارف کے مٹرھ میں ایک چپ لگا دیتا ہے اور صارف ریموٹ کنٹرول کے ذریعے اپنا میٹر کنٹرول کرتا ہے‘ یہ جب چاہتا ہے میٹر بند کر دیتا ہے اور جب چاہتا ہے اسے آہستہ کر لیتا ہے‘ ملک میں اس وقت ایسے ہزاروں میٹر موجود ہیں‘ واپڈا اس چوری سے واقف ہے مگر اس میں چوری کو روکنے کی اہلت‘ نہیں‘ واپڈا کے اہلکار میٹر کا خفیہ کوڈ بین دے دیتے ہیں اور صارفین اپنے لیب ٹاپ کے ذریعے بھی اپنا میٹر کنٹرول کر لیتے ہیں۔
میٹر کو موبائل سے کنٹرول کرنے کی ٹیکنالوجی بھی آ چکی ہے‘ واپڈا کے پاس اس کا بھی کوئی توڑ موجود نہیں چنانچہ واپڈا کے ان بے بس صارفین پر بوجھ بڑھتا جا رہا ہے جو وقت پر بل ادا کر رہے ہیں یا جو حکومت کا ہر ظلم چپ چاپ سہہ جاتے ہیں‘ پانی اور بجلی کی وزارت کا اصل کام لائین لاسز اور چوری روکنا تھا‘ اس کی اصل ذمے داری قوم کو سستی بجلی بھی فراہم کرنا تھی‘ یہ ڈیم بناتی‘ متبادل انرجی کے سستے ذریعے تلاش کرتی اور ڈیزل اور فرنس آئل پر انحصار کم کرتی مگر یہ 22 فیصد لاسز اور چوری روک رہی ہے اورنہ ہی بجلی کے متبادل اور سستے ذرایع پیدا کر رہی ہے‘ قوم دس سال سے وزارت کے اعلیٰ عہدیداروں کے منہ سے سن رہی ہے ہم فلاں ڈیم بنا رہے ہیں‘ ہمیں وہاں سے تین روپے یونٹ بجلی مل جائے گی اور یہ مسئلہ فلاں تاریخ کو حل ہو جائے گا وغیرہ وغیرہ مگر عملی طور پر کوئی ٹھوس چیز سامنے نہیں آ رہی اور پانی اور بجلی کی وزارت اور اس کے ذیلی ادارے مار کھانے والوں کو مزید جوتے اور تھپڑ مار رہے ہیں۔
یہ درست ہے حکومت بارہ روپے یونٹ بجلی بنا رہی ہے اور یہ اسے آٹھ سے دس روپے میں فروخت نہیں کر سکتی مگر کیا واپڈا کاروباری ادارہ ہے؟ اور کیا یہ ادارہ اور یہ وزارت اس لیے بنائی گئی تھی کہ یہ قوم کے ساتھ تجارت کرے‘ یہ بجلی خریدے اور اپنا منافع لے کر آگے بیچ دے‘ اگر اس کا یہ کام تھا تو پھر یہ کامیاب ہو چکا ہے اور اگر واپڈا اور اس کے سولہ ہزار ملازمین نے قوم کو سستی بجلی فراہم کرنی تھی‘ اس نے بجلی کی چوری اور لاسز روکنا تھے اور اس نے مہنگائی کے ہاتھوں پٹتے عوام کو بچانا تھا تو پھر یہ وزارت اور اس کے ادارے ناکام ہو چکے ہیں مگر افسوس حکومت ان اداروں کے احتساب کے بجائے اس عوام کو پھینٹا لگا رہی ہے جو دہشت گردوں کے ہاتھوں قتل ہو رہے ہیں‘ جو بے روزگاری کے ہاتھوں ذلیل ہو رہے ہیں‘ جو مہنگائی کی وجہ سے بچے اور گردے بیچ رہے ہیں‘ جو ڈینگی کا شکار ہوتے ہیں تو انھیں موٹرسائیکل یا سوزوکی کار بیچنا پڑ جاتی ہے اور جو مقدمے میں الجھتے ہیں تو زندگی عدالتوں کے دھکے کھاتے کھاتے گھس جاتی ہے اور جنھیں اب مسجد میں پناہ ملتی ہے اور نہ ہی چرچ میں‘ ہمارے ملک کا عجیب دستور ہے۔
ہم میں سے جو شخص ریاست کو تسلیم کرتا ہے‘ جو اپنے بل اور ٹیکس وقت پر ادا کرتا ہے حکومت اس کے گلے کا طوق بڑھا دیتی ہے لیکن جو ریاست کو تسلیم نہیں کرتا‘ جو ٹیکس دیتا ہے اور نہ ہی بل ادا کرتا ہے اور جو واپڈا کے ملازمین کو اغواء کر لیتا ہے‘ جو ٹرانسمیشن لائنیں اڑا دیتا ہے‘ ٹرانسفارمر تباہ کر دیتا ہے یا جرنیل سمیت 50 ہزار لوگ مار دیتا ہے‘ ریاست اس کے ساتھ مذاکرات بھی کرتی ہے‘ اس کے بل بھی معاف کر تی ہے‘ اس کے کنڈے بھی برداشت کرتی ہے اور اسے تاوان بھی دیتی ہے‘ کیا بل دینے والوں کا یہ قصور ہے یہ ریاست اور حکومت کو تسلیم کر رہے ہیں‘ اگر ہاں تو پھر ریاست کے ہر ادارے کو عوام پر ہاتھ سیدھے کرنے کا حق حاصل ہے‘ آپ غریب عوام کو مارتے چلے جائیں ‘ اس وقت تک مارتے چلے جائیں یہ جب تک آخری سانس نہیں لے لیتے یا یہ بغاوت نہیں کر دیتے۔
آپ ماننے والوں کو مزید ماریں‘ یہ اس سلوک کے حق دار ہیں۔
اب کے مار تو
جاوید چوہدری پير 30 ستمبر 2013
آپ اگر زندگی میں استاد چاہتے ہیں تو آپ کوئی بابا‘ کوئی ٹیچر یا کوئی اتالیق تلاش نہ کریں‘ آپ بازار سے لطیفوں کی کوئی کتاب خریدیں‘ اس کتاب کے پہلے صفحے پر استاد محترم لکھیں اور اس کے بعد اس کتاب کو اپنا استاد مان لیں‘ آپ کو زندگی میں کسی سیانے‘ کسی مشیر کی ضرورت نہیں رہے گی‘ آپ جب بھی کسی مسئلے کا شکار ہوں‘ آپ بس اس کتاب کا مطالعہ شروع کر دیں‘ آپ کو چند صفحات بعد اپنے مسئلے کا حل مل جائے گا‘ یہ میرا تجربہ بھی ہے اور مشاہدہ بھی‘ ہم جن لطائف کو غیر سنجیدہ یا مذاق سمجھتے ہیں یہ دراصل انتہائی سنجیدہ اور فلسفے سے بھرپور ہوتے ہیں‘ آپ کسی لطیفے پر ہنسنے کے بعد اس کا سنجیدگی سے جائزہ لیں‘ آپ کو اس میں دانائی اور سمجھ داری کا کوئی نہ کوئی حیران کن پہلو ملے گا‘ دنیا میں جس طرح مذہب کی کتابوں‘ روحانی دستاویزات اور دانش کے مکتوبات میں نیکی اور خدائی پیغام کو واقعات کے ذریعے لوگوں تک پہنچایا جاتا ہے بالکل اسی طرح معاشرے اپنی دانش لطائف میں چھپا دیتے ہیں‘ لوگ ان لطائف کو ہنسی مذاق کی بات سمجھ کر لوک دانائی کو قہقہوں میں اڑا دیتے ہیں مگر یہ ہنسی مذاق کی باتیں نہیں ہوتیں‘ یہ عملی زندگی کے کامیاب ترین سبق ہوتے ہیں اور آپ اگر زندگی میں دس پندرہ لطیفے پلے باندھ لیں تو آپ کو باقی زندگی کسی قسم کی رہنمائی یا دانش کی ضرورت نہیں رہتی۔
میں نے برسوں پہلے لطیفہ سنا تھا کوئی صاحب اپنے لان میں دھوتی باندھ کر‘ اوپر شرٹ پہن کر اور گلے میں ٹائی لٹکا کر بیٹھے تھے‘ کسی نے پوچھا آپ نے دھوتی کیوں باندھ رکھی ہے‘ انھوں نے ہنس کر جواب دیا ’’ میں اپنے لان میں بیٹھا ہوں یہاں کس نے آنا ہے‘‘ پوچھنے والے نے پوچھا ’’ لیکن اوپر شرٹ اور ٹائی کیوں پہن رکھی ہے‘‘ انھوں نے جواب دیا ’’ ہو سکتا ہے کوئی آ ہی جائے‘‘ میں نے قہقہہ لگایا اور لطیفے کو پلے باندھ لیا‘ مجھ سے جب بھی کوئی شخص ملاقات کا وقت لیتا ہے تو میں دھوتی کے اوپر ٹائی لگا لیتا ہوں یعنی میں اپنے معمول کے کام جاری رکھتا ہوں کیونکہ مجھے یقین ہوتا ہے‘ یہ شخص اول تو آئے گا نہیں اور اگر آ گیا تو یقینا لیٹ ہو گا اور میرا یہ اندازہ ننانوے فیصد درست نکلتا ہے‘ میں اپنی اسی پالیسی کی وجہ سے ہمیشہ کوفت اور خفت سے بچ جاتا ہوں‘ میرے کام کا ہرج نہیں ہوتا‘ میں اسی طرح کسی سے ملنے جاتا ہوں تو میں احتیاطاً دھوتی ساتھ لے جاتا ہوں یعنی گھر سے وقت گزارنے کا کوئی نہ کوئی بندوبست کرکے نکلتا ہوں‘ کتاب ساتھ لے جاتا ہوں‘ لیپ ٹاپ یا تسبیح ساتھ لے جاتا ہوں یا پھر اپنے دفتر کا کوئی ادھورا کام ساتھ لے جاتا ہوں اور یہ بندوبست نوے فیصد کیسز میں میرے کام آتا ہے‘ میں نے برسوں پہلے باپ اور بیٹے کا وہ لطیفہ پڑھا تھا جس میں وہ دونوں گدھے پر سوار ہوتے ہیں ‘ لوگ اعتراض کرتے ہیں۔
یہ کتنے ظالم ہیں‘ چھوٹے سے گدھے پر دو لوگوں کا بوجھ ڈال رکھا ہے‘ باپ بیٹے کو گدھے پر بٹھا کر خود پیدل چلنے لگتا ہے تو لوگ بیٹے سے کہتے ہیں‘ جوان ہو کر خود گدھے پر بیٹھا ہے اور بوڑھے باپ کو پیدل چلا رہا ہے‘ بیٹا باپ کو سوار کر دیتا ہے اور خود پیدل چلنے لگتا ہے‘ دیکھنے والے باپ کو برا بھلا کہنے لگتے ہیں‘ خود گدھے پر بیٹھا ہے اور بیٹے کو پیدل چلا رہا ہے‘ دونوں پیدل چلنے لگتے ہیں تو لوگ کہتے ہیں کس قدر بے وقوف ہیں‘ سواری ہونے کے باوجود پیدل چل رہے ہیں اور آخر میں دونوں تنگ آ کر گدھے کو کندھوں پر اٹھا لیتے ہیں تو لوگ پاگل ای اوئے‘ پاگل ای وئے کے نعرے لگانے لگتے ہیں‘ میں نے اس لطیفے سے سیکھا‘ دنیا ایک ایسی جج ہے جسے آپ کی کوئی دلیل مطمئن نہیں کر سکتی‘ آپ اگر اچھی زندگی گزارنا چاہتے ہیں تو آپ دوسروں کی رائے پر توجہ دیے بغیر اپنے راستے میں چلتے رہیں‘ آپ اچھی اور مطمئن زندگی گزاریں گے ورنہ آپ دوسری صورت میں اپنے آپ کو جسٹی فائیڈ کرتے کرتے کھپ جائیں گے‘ میں نے بچپن میں لطیفہ پڑھا‘ ایک شخص ٹرین میں پٹ رہا تھا اور ہر بار پٹتے پٹتے کہتا تھا‘ اپنے باپ کی اولاد ہے تو میرے بیٹے کو مار کر دکھا‘ مارنے والے نے بیٹے کو بھی جڑ دی‘ اس نے کہا اگر تم نسلی ہو تو میری بیوی کو مار کر دکھاؤ‘ اس نے بیوی کو بھی لگا دی۔
وہ اس طرح خود بھی مار کھاتا رہا اور اپنے پورے خاندان کو بھی پٹواتا رہا‘ مارنے والا مار مار کر تنگ آ گیا تو اس نے پوچھا‘ تم اپنے ساتھ اپنے پورے خاندان کو کیوں پٹوار رہے ہو‘ اس نے جواب دیا تا کہ یہ گھر جا کر یہ نہ کہہ سکیں‘ ابا کو مار پڑی تھی‘ میں نے اس لطےفر سے جانا‘ ہمارے اردگرد بے شمار ایسے لوگ ہوتے ہیں جو اپنی خفت چھپانے کے لیے اپنے عزیزوں‘ رشتے داروں اور دوستوں کو بھی اپنی ناکامی میں گھسیٹ لیتے ہیں‘ میں نے بے شمار طالب علم دیکھے جو نہ خود پڑھتے تھے اور نہ ہی اپنے کسی دوست کو پڑھنے دیتے تھے‘ میں نے ایسے لوگ بھی دیکھے ہیں جو خود کام کرتے ہیں اور نہ ہی کسی دوست کو کرنے دیتے ہیں اور میں نے نشے کے شکار زیادہ تر لوگوں کے دوستوں کو بھی نشئی دیکھا‘ کیوں؟ کیونکہ یہ لوگ ’’میرے بچے کو بھی مار‘‘ کی کیٹگری سے تعلق رکھتے ہیں‘ ان کی کوشش ہوتی ہے‘ یہ اگر ناکام ہیں تو ان کے کسی عزیز‘ رشتے دار یا دوست کو بھی کامیاب نہیں ہونا چاہیے تا کہ دوست ان کے بارے میں یہ نہ کہہ سکیں ’’ ابا کو مار پڑی تھی‘‘۔
میں نے اس طرح طوطے کے لطیفے سے سیکھا‘ انسان کو کبھی اپنی اوقات سے بڑا مسئلہ پیدا نہیں کرنا چاہیے‘ طوطے نے جہاز میں ائیر ہوسٹس کو چھیڑا‘ خاتون ہنس پڑی‘ مسافر نے بھی طوطے کی نقل میں ائیر ہوسٹس کو چھیڑ دیا‘ ائیر ہوسٹس نے مسافر اور طوطے دونوں کو جہاز سے باہر پھینک دیا‘ مسافر نیچے گر رہا تھا تو طوطے نے اس سے پوچھا ’’ کیا تمہیں اڑنا آتا ہے‘‘ مسافر نے جواب دیا ’’ نہیں‘‘ طوطے نے قہقہہ لگا کر کہا ’’ پھر تمہیں ائرا ہوسٹس سے پنگا لینے کی کیا ضرورت تھی‘‘ میں نے گاؤں کے شریف چوہدری سے بھی سبق سیکھا‘ چوہدری صاحب نے دعویٰ کیا‘ گاؤں کے لوگ بہت بدتمیز ہیں مگر یہ میری دل سے عزت کرتے ہیں‘ پوچھنے والے نے پوچھا ’’ لیکن آپ پھر دس دس بندقوں والے ساتھ کیوں رکھتے ہیں‘‘ چوہدری صاحب نے جواب دیا ’’ لوگ ان بندوق والوں کی وجہ سے تو میری دل سے عزت کرتے ہیں‘‘ میں نے اس لطیفے سے سیکھا ‘ہمارے جیسے منافق معاشروں میں عزت کرانے کے لیے صرف شرافت کافی نہیں ہوتی‘ آپ کا مضبوط ہونا بھی ضروری ہوتا ہے اور بچے نے دوسرے بچے سے کہا ‘میرے دادا جی کی زمنر اتنی وسیع تھی کہ گھوڑے دوڑتے تھے مگر پوری زندگی دوڑنے کے باوجود زمین کا دوسرا کنارہ نہیں آتا تھا‘ دوسرے بچے نے کہا‘ میرے دادا جی کے پاس اتنی لمبی لاٹھی تھی کہ وہ زمین پر کھڑے ہو کر آسمان کے تارے سیدھے کر لیتے تھے‘ پہلے نے پوچھا لیکن تمہارے دادا جی اتنی بڑی لاٹھی رکھتے کہاں تھے۔
دوسرے نے جواب دیا‘ تمہارے دادا جی کی زمین پر۔ میں نے اس سے سیکھا‘ آپ کبھی شیخی نہ ماریں کیونکہ آپ اگر اس فیلڈ میں سیر ہیں تو دنیا کی لاٹھی سوا سیر ہے اور آپ دنیا کا مقابلہ نہیں کر سکیں گے‘ آپ حقیقت کی دنیا میں رہیں‘ آپ کبھی مار نہںل کھائیں گے‘ کوے نے بزرگ کوے کو راکٹ دکھایا اور پوچھا ’’ اس کی اسپیڈ اتنی تیز کیوں ہے‘‘ بزرگ کوے نے جواب دیا ’’ بیٹا جس کی دم پر آگ لگی ہو‘ اس کی اسپیڈ اتنی ہی تیز ہوتی ہے‘‘ معلوم ہوا‘ آپ کی دم پر جب تک آگ نہیں لگے گی آپ راکٹ نہیں بنیں گے اور غریب شخص نے مولوی صاحب کو ختم قرآن کی دعوت دی‘ مولوی صاحب نے سائل کی غربت سے اندازہ لگایا‘ یہ ’’فیس‘‘ ادا نہیں کر سکے گا لہٰذا اس نے پڑوس کے محلے کو دور قرار دے دیا‘ دوسرے شہر کے سیٹھ نے بلایا تو مولوی صاحب نے فرمایا ’’ہاں‘ ہاں دس منٹ کی بات ہے‘ میں ابھی پہنچ جاؤں گا‘‘ پتہ چلا کہ اگر انسینٹو ہو تو دوریاں کم ہو جاتی ہیں اور اگر نہ ہو تو قربتیں بھی فاصلوں میں تبدیل ہو جاتی ہیں۔
یہ وہ چند لطائف ہیں جو حقیقت میں ہمارے معاشرے کے استاد ہیں اور ہم ان سے عملی زندگی کے سبق سیکھ سکتے ہیں‘ آپ اب وہ لطیفہ بھی سنیے جو موجودہ حکومت کا فلسفہ ہے اور یہ لوگ دن رات اس پر کاربند نظر آتے ہیں‘ لکھنو کے کسی بانکے کو مار پڑ رہی تھی‘ وہ مار کھاتا تھا‘ اٹھتا تھا اور مارنے والے سے کہتا تھا ’’اب کے مار تو‘‘ مارنے والا ایک اور جڑ دیتا تھا‘ یہ سلسلہ اس وقت تک جاری رہا جب تک مارنے والا تھک نہ گیا اور اس نے مار کھانے والے کے سامنے ہاتھ جوڑ دیے اور لہو لہان بانکا سینہ تان کر گھر واپس چلا گیا‘ ہماری حکومت اس بانکے کی طرح بی ہیو کر رہی ہے‘ میاں نواز شریف کی حکومت 7 جون 2013 کو معرض وجود میں آئی۔
حکومت نے آتے ہی طالبان کی طرف مذاکرات کا ہاتھ بڑھا دیا مگر طالبان نے سو دنوں میں ایک سو بیس حملے کر دیے اور ان میں اب تک اڑھائی ہزار کے قریب لوگ شہید ہو چکے ہیں‘ حکومت نے مذاکرات کا مینڈیٹ حاصل کرنے کے لیے اے پی سی بلا لی‘ ملک کی 12بڑی جماعتوں نے حکومت کو مذاکرات کا بلینک چیک دے دیا مگر اس کے جواب میں طالبان تباہی مچاتے جا رہے ہیں‘ پشاور میں ایک ہفتے میں تین بم دھماکے ہوئے جن میں 142 لوگ مارے گئے‘ تازہ ترین واقعہ قصہ خوانی بازارمیں پیش آیا‘ کار بم دھماکے میں 45 لوگ مارے گئے مگر حکومت کا ایک ہی ریسپانس ہے ’’اب کے مار تو‘‘ اورطالبان اگلے دن ایک اور مار دیتے ہیں‘ یہ حقیقت ثابت کر رہی ہے ریاستیں جب کمزور ہوتی ہیں تو یہ ’’اب کے مار تو‘‘ کو قومی پالیسی بنا لیتی ہیں‘ یہ قاتلوں کے تھکنے کا انتظار کرنے لگتی ہیں تا کہ یہ مارتے مارتے تھک جائیں اور ہم نیچے سے اٹھ کر سہنا پھلائیں اور دنیا سے کہیں ’’ دیکھا ڈر گیا ناں‘‘۔ ہماری حکومت مذاکرات کی کامیابی کے لیے طالبان کے تھکنے کا انتظار کر رہی ہے اور یہ ہماری قومی پالیسی ہے ’’اب کے مار تو‘‘۔

اللہ مائنڈ کر جاتا ہے
جاوید چوہدری ہفتہ 28 ستمبر 2013
’’اور میں اس دن قدرت کے راز تک پہنچ گیا‘ میں نے ایک لمبی سانس لی‘ ایک طویل قہقہہ لگایا اور اٹھ کر گھر آ گیا‘ مجھے اپنے طویل قہقہے اور لمبی سانس سے آئن اسٹائن‘ نیوٹن اور لوئی پاسچر کی مسرت کی خوشبو آ رہی تھی‘ میں نے اس دن جانا‘ سرشاری کی وہ کون سی کیفیت تھی جس میں ارشمیدس پانی کے ٹب سے نکلا اور میں نے پالیا‘ میں نے پا لیا کے نعرے لگاتا ہوا ننگا گلی میں آگیا‘ لوئی پاسچر کپڑے پھاڑ کر لیبارٹری سے باہر آگیا اور دیوانہ وار قہقہے لگاتا رہا یا نیوٹن سیب اٹھا کر گائوں میں دوڑ پڑا یا آئن اسٹائن سڑک پر ایک ٹانگ پر ناچنے لگا۔
قدرت کا راز پا جانا اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہوتی ہے اور یہ نعمت انسان کو چند لمحوں کے لیے پاگل کردیتی ہے‘ میری کیفیت بھی اس وقت ویسی تھی‘ میں نیم پاگل ہو چکا تھا‘ میں مسلسل قہقہے لگا رہا تھا اور لمبی لمبی سانسیں لے رہا تھا‘ میرے گھر والے پریشان ہو گئے‘ ان کا خیال تھا مجھے نقصانات‘ دھوکوں‘ خرابیوںاور پریشانیوں نے پاگل کر دیا ہے ‘ میں دیوانہ ہو گیا ہوں‘ مجھے آپ بھی اس وقت دیکھتے تو آپ بھی یہی سمجھتے مگر میں اس لمحے کا ارشمیدس تھا‘ میں اس لمحے لوئی پاسچر‘ نیوٹن اور آئن اسٹائن تھا‘ میں گھر آیا‘ میں نے وضو کیا‘ جائے نماز بچھائی اور سجدے میں گر گیا‘ میں نے اللہ سے اپنے شرک‘ اپنے کفر اور اپیپ بے وقوفیوں کی معافی مانگنا شروع کی اور اس وقت تک سجدے میں گرا رہا جب تک اللہ تعالیٰ نے مجھے معاف نہ کر دیا‘‘۔
وہ جب یہ کہانی سنا رہے تھے تو ان کی آنکھوں میں آنسو تھے‘ وہ ٹشو سے بار بار آنکھوں کے کونے صاف کرتے تھے اور منہ ہی منہ میں کوئی کلمہ دہراتے تھے‘ مجھے اس کلمے کے صرف دو لفظ سمجھ آتے تھے‘ اللہ اور شکر‘ میں نے ان سے پوچھا ’’آپ کو کیسے معلوم ہوا آپ کواللہ تعالیٰ نے معاف کر دیا ہے‘‘ ان کے چہرے پر مسکراہٹ آ گئی‘ یہ مسکراہٹ بارش سے بعد کی دھوپ جیسی تھی‘نکھری‘ تازہ اور چمکدار‘ وہ بولے ’’ انسان کا دل اللہ کا مرکز ہوتا ہے‘ اللہ آپ کے دل میں رہتا ہے‘ یہ جب آپ سے ناراض ہوتا ہے تو آپ کا دل بھاری ہو جاتا ہے‘ آپ کو یوں محسوس ہوتا ہے آپ کے سینے پر جیسے کوئی بھاری پتھر رکھ دیا گیا ہو اور آپ اس پتھر کے بوجھ تلے دب رہے ہیں‘ آپ کے اندر جب تک یہ کیفیت رہے آپ جان لیں اللہ آپ سے ناراض ہے لیکن آپ سے اللہ تعالیٰ جوں ہی راضی ہوتا ہے آپ کے دل کا بوجھ ختم ہو جاتا ہے۔
آپ کو محسوس ہوتا ہے آپ کے سینے کا پتھر اٹھا لیا گیا ہے اور آپ اندر سے ہلکا پھلکا محسوس کرنے لگتے ہیں اور میں نے اپنے سینے کا بوجھ اترتا ہوا محسوس کیا‘‘ وہ رکے اور لمبا سانس لیا‘ ان کا سانس ٹھنڈی چائے کے طویل گھونٹ جیسا تھا‘ وہ بولے ’’ میں سجدے سے اٹھا‘ میں نے بیوی سے پوچھا‘ کیا گھر میں کوئی ایسی چیز باقی ہے جسے بیچ کر چند ہزار روپے مل سکیں‘‘ اس نے مجھے عجیب نظروں سے دیکھا‘ اس کی نگاہوں میں تاسف تھا‘وہ ٹھیک سوچ رہی تھی کیونکہ میں پچھلے چھ ماہ میں گھر کی ہر قیمتی چیز بیچ چکا تھا‘ میری بیوی نے چپ چاپ ہاتھ سے سونے کی چوڑیاں اتاریں اور میرے حوالے کر دیں‘ میں بازار گیا اور میں نے چوڑیاں بیچ دیں‘ مجھے بائیس ہزار روپے ملے‘ میں نے تین ہزار روپے خیرات کر دیے اور انیس ہزار روپے لے کر سوتر منڈی چلا گیا‘ منڈی میں اس دن مندی چل رہی تھی‘ میں نے تین لاکھ روپے کا دھاگہ خرید لیا۔
میں نے 18 ہزار روپے بیعانہ دیا‘ باقی رقم کے لیے تین دن کی مہلت لی‘ ایک ہزار روپے کا کھانا لیا اور گھر آ گیا‘میں پندرہ سال سے کاروبار کر رہا تھا‘ میں ہرسودے کے بعد پریشان ہوتا تھا‘ میرے دل میں نقصان کی پھانس سی پھنسی رہتی تھی لیکن یہ میری زندگی کاپہلا سودا تھا جس کے بعد میرے اندر شک یا اندیشے کے سانپ نے پھن نہیں پھلایا کیونکہ مجھے یقین تھا یہ سودامجھے دوبارہ قدموں پر کھڑا کر دے گا‘ میں نے کھانا اپنے بچوں کے سامنے رکھا تو ان کے آنسو نکل آئے‘ انھیں تین دن بعد کھانا نصیب ہوا تھا‘ ہم لوگ اطمینان سے سو گئے‘ اگلے دن اٹھے تو حقیقتاً ایک نیا دن تھا‘ میرا مال گودام میں پڑا پڑا مہنگا ہو چکا تھا‘ مجھے اسی دکاندار نے پچیس ہزار روپے منافع کی پیش کش کر دی مگر میں نے انکار کر دیا‘ شام تک منافع لاکھ روپے ہوگیا اور اگلے دن ڈیڑھ لاکھ روپے‘ آپ ذرا تصور کرو‘ میں نے صرف اٹھارہ ہزار روپے بیعانہ دیا تھا اور مجھے اس پر ڈیڑھ لاکھ روپے فائدہ ہو رہا تھا‘ میں نے مال بیچ دیا۔
دس ہزار روپے خیرات کی‘ دو ہزار کا کھانا لیا‘ گھر پہنچا اور اگلے دن پانچ لاکھ روپے کا تیار کپڑا خرید لیا‘ میں نے ایک لاکھ روپے ایڈوانس دیے اور باقی ادائیگی کے لیے تین دن کی مہلت لے لی‘ تم یقین کرو گے‘ مجھے اس سودے میں اڑھائی لاکھ روپے بچ گئے مگر یہ منافع اصل منافع نہیں تھا‘ میرااصل منافع ایک کانٹریکٹ تھا‘ مجھ سے اگلے دن جینز بنانے والی ایک فیکٹری نے سپلائی کے لیے کانٹریکٹ کرلیا‘اس کمپنی کو امریکا سے جینز کا بہت بڑا ٹھیکہ ملا تھا‘ میں نے چھ ماہ تک انھیں روزانہ کپڑا سپلائی کرنا تھا‘ وہ مجھے ایڈوانس رقم دیتے تھے اور میں انھیں کپڑا سپلائی کردیتا تھا‘ اللہ تعالیٰ نے کرم کیا اور میں ایک مہینے میںاپنے قدموں پر کھڑا ہو گیا‘ میں نے قرضے بھی ادا کرنا شروع کر دیے‘ میں نے اپنی بیوی کی چوڑیاں بھی واپس کر دیں اور میں زندگی میں پوری طرح بحال بھی ہو گیا اور آج…‘‘ وہ رکے‘ لمبا سانس لیا اور بولے ’’اور میں آج فیصل آباد کا بڑا صنعت کار ہوں‘‘ وہ خاموش ہو گئے۔
ہمارے درمیان خاموشی کے کئی دور چپ چاپ گزر گئے‘ وہ اس دوران ہاتھ ملتے رہے‘ آسمان کی طرف دیکھ کر اللہ کا شکر ادا کرتے رہے اور اپنی گیلی آنکھیں صاف کرتے رہے‘ وہ ایک دلچسپ کردار تھے‘ وہ جوانی میں لکھ سے ککھ پتی ہوئے ‘ محل سے فٹ پاتھ پر آئے اور دفتر کی ہر چیز بک گئی اور نوبت فاقوں تک آ گئی مگر انھوں نے پھر 18 ہزار روپے سے دوبارہ اسٹارٹ لیا اور وہ ملک کے بڑے کاروباری بن گئے‘ میں ان سے وہ فارمولا معلوم کرنا چاہتا تھا جس نے انھیں 18 ہزار سے 18 کروڑ اور پھر 18 ارب تک پہنچادیا اور مجھے انھوں نے یہ کہانی سنا دی‘ میں اب وہ راز جاننا چاہتا تھا مگر ان پر رقت طاری تھی‘ وہ آنکھیں صاف کرتے تھے‘ ہاتھ ملتے تھے اور لمبے لمبے سانس لیتے تھے‘ وہ بڑی دیر تک اس کیفیت میں رہے اور پھر اچانک سر اٹھا کر بولے ’’ میں بھی دراصل اپنے برے وقت میں وہی غلطی کر رہا تھا جو دنیا کے زیادہ تر لوگ کرتے ہیں‘ میں اپنے دوستوں‘ عزیزوں‘ رشتے داروں‘ جاننے والوں اور مخیر حضرات کے پاس جا تا تھا‘ میں ان سے مدد مانگتا تھا‘ میرے کچھ دوستوں نے میری مدد کی بھی مگر برے وقت میں ہر مدد برائی ثابت ہوتی ہے‘ میراوہ سرمایہ بھی ڈوب گیا یہاں تک کہ میرے جاننے والوں نے مجھ سے منہ موڑ لیا‘ یہ مجھے دیکھ کر راستہ بدل لیتے تھے یا پھر مجھے پہچاننے سے انکار کر دیتے تھے‘ میں ان کے رویے پر کڑھتا تھا مگر میں پھر ایک دن قدرت کے راز تک پہنچ گیا‘ میں اپنا مسئلہ سمجھ گیا‘ مجھے محسوس ہوا۔
یہ مصیبت اللہ کی طرف سے بھیجی گئی ہے اور میں جب اس کے حل کے لیے لوگوں کے پاس جاتا ہوں تو اللہ تعالیٰ مائنڈ کر جاتا ہے‘ یہ کہتا ہے یہ کس قدر بے وقوف انسان ہے‘ یہ آج بھی میرے پاس آنے کے بجائے‘ یہ مجھ سے مدد مانگنے کی بجائے لوگوں کے دروازوں‘ لوگوں کی دہلیزوں پر جا رہا ہے چنانچہ اللہ تعالیٰ مر ی سختی میں اضافہ کر دیتا ہے‘ مجھے معلوم ہوا میں جب تک اللہ کے سامنے نہیں گڑگڑائوں گا‘ میں جب تک اس سے مدد نہیں مانگوں گا میری سختی ختم نہیں ہو گی چنانچہ میں نے وضو کیا اور اللہ کے در پر ماتھا ٹیک دیا اور اللہ تعالیٰ نے مرںے سر سے مصیبتوں کی دھوپ ہٹا دی‘ اس نے میرے راستے کھول دیے‘‘ حاجی صاحب نے لمبی آہ بھری اور بولے ’’ آپ مصیبت میں جب بھی کسی انسان کی طرف دیکھتے ہیں تو اللہ مائنڈ کر جاتا ہے اور آپ کی مصیبت میں اضافہ ہو جاتا ہے لہٰذا میری نصیحت پلے باندھ لو برے وقت میں کبھی کسی انسان کے دروازے پر دستک نہ دو‘ صرف اور صرف اللہ سے رجوع کرو‘ تمہاری مصیبت ختم ہو جائے گی‘ یہ قدرت کا بڑا راز تھا اور اللہ تعالیٰ نے مجھ پر کرم کیا اور یہ راز مجھ پر کھول دیا‘‘ وہ چلے گئے لیکن جاتے جاتے مجھے بھی ارشمیدس بنا گئے۔
آٹھ سکینڈ
جاوید چوہدری جمعـء 27 ستمبر 2013
بلوچستان کے ساتوں شمالی اضلاع میں زندگی 24 ستمبر 2013ء کی سہ پہر چار بج کر 28 منٹ تک معمول کے مطابق چل رہی تھی‘ وقت آواران سے خضدار‘ نوشکی‘ گوادر اور کیچ تک صدیوں سے ٹھہرا ہوا ہے‘لوگ آج بھی سورج دیکھ کر وقت کا تعین کرتے ہیں‘ آج بھی بھیڑ بکریاں اور اونٹ ان کے رزق کا واحد ذریعہ ہیں‘ یہ آج بھی ریڈیو کوکیمونیکیشن کا سب سے بڑا ذریعہ سمجھتے ہیں‘ یہ آج بھی اس وقت تک ڈاکٹر کے پاس نہیں جاتے جب تک انھیں ملک الموت کھلی آنکھوں سے نظر نہ آئے‘ یہ آج بھی اجنبیوں کو مشکوک نظروں سے دیکھتے ہیں اور یہ آج بھی کھلے پائنچوں کی شلواریں پہنتے ہیں اور اونٹنی کے دودھ میں خشک روٹی بھگو کر کھاتے ہیں‘ آپ ان اضلاع میں جائیں تو آپ کو محسوس ہوگا سورج آفرینش کے ابتدائی لمحوں میں طلوع ہوااور اس کے بعد کبھی غروب نہیں ہوا اور یہ لوگ طوفان نوح سے پہلے کے زمانوں میں ٹھہر سے گئے‘ دنیا‘ زمانہ اور تاریخ کروٹیں لیتی رہی مگر یہ پہیے ‘گلہ بانی اور ہل کے زمانے سے آگے نہ جا سکے۔
بلوچستان میں زندگی آج بھی ہزاروں سال پرانی رفتار سے چلتی رہتی مگر پھر زمین کی تہوں میں دورنیچے دس کلو میٹر گہرائی میں ایک بھونچال نے انگڑائی لی‘ زمین کی تہیں ٹوٹیں‘ چٹانوں کے سینے شق ہوئے‘ مایع دھاتیں دائیں سے بائیں ہوئیںاور بلوچستان کے سات اضلاع زلزلے سے لرز اٹھے‘ چار بج کر 29 منٹ پر زلزلہ آیا‘ ریکٹر اسکیل پر اس کی شدت سات اعشاریہ آٹھ تھی‘ زمین چند لمحوں کے لیے اڑن کھٹولہ بنی‘ تین لاکھ لوگوں نے کھلی آنکھوں سے قضا کو آسمان سے نیچے اترتے دیکھا‘ یہ کیفیت صرف آٹھ سیکنڈ رہی‘ جی ہاں صرف آٹھ سیکنڈ‘ آٹھ سکینڈ بعد زمین کے دل مضطرب کو قرار آ گیا مگر آواران سے کیچ تک اور خضدار سے گوادر تک دنیا بدل چکی تھی‘ شاہ اور گدا ایک ہو چکے تھے‘ سردار اور غلام دونوں کے گھر زمین کا پیوند بن چکے تھے اور امیر اور غریب دونوں کے اہل خانہ پناہ کی تلاش میں گلیوں اور بازاروں میں دیوانہ وار دوڑ رہے تھے‘ حویلی اور کچا کوٹھا دونوں زمین بوس ہوچکے تھے‘ میر اور میراثی دونوں دوسروں کی مدد کے محتاج تھے‘ وہ بھی جو دوسرے صوبوں کے لوگوں سے نفرت کرتے تھے اور وہ بھی جنھیں پاکستان کا محب سمجھ کر نفرت کا نشانہ بنایا جاتا تھا‘ وہ دونوں لاچار ہو چکے تھے‘ وہ دونوں بے بس تھے۔
یہ زلزلہ‘آٹھ سیکنڈ کا یہ زلزلہ صرف زلزلہ نہیں تھا‘ یہ قدرت کا لائوڈ اور کلیئر پیغام تھا‘ یہ پیغام بتا رہا تھا‘ انسان کتنا ہی مضبوط‘ کتنا ہی لاتعلق اور کتنا ہی انا پرست کیوں نہ ہو جائے یہ قدرت کے آٹھ سیکنڈ کے فیصلے کی مار ہے‘ آٹھ سیکنڈ پورے خطے کا جغرافیہ بدل سکتے ہیں‘ امیروں کو غریب اور غریبوں کو غریب تر بنا سکتے ہیں‘ سرداروں کو لاچار اور لاچاروں کو بے بس بنا سکتے ہیں‘ یہ پیغام بتا رہا تھا‘ انسان انسان کا محتاج ہے اور انسان کی انا‘ انسان کی ضد کو کبھی اتنا بلند نہیں ہونا چاہیے کہ اسے دوسرے انسان دکھائی نہ دیں یا یہ ان کے وجود کا بیری ہو جائے یا یہ اپنی انا کو دوسروں کی عزت کا لہو پلانے لگے‘ انسان کو دکھ اور تکلیف کے وقت دوسرے انسانوں کی ضرورت ہوتی ہے اور ہم اگر دوسرے انسانوں کی طرف کھلنے والے دروازے بند کر دیں گے تو ہم پھر تنہا رہ جائیں گے اور تنہا انسانوں کے دکھ روگ بن جاتے ہیں‘ یہ پیغام بتا رہا تھا قومیں قدرتی آفتوں کو نہیں روک سکتیں‘ ہم بارشیں نہیں روک سکتے‘ ہم سونامی اور بحری طوفانوں کو باز نہیں رکھ سکتے‘ ہم زلزلے بھی نہیں روک سکتے اور ہم آسمان سے اترنے والی بلائوں کو بھی نہیں ٹال سکتے مگر قدرتی آفتوں کے بعد قوموں کا ریسپانس کیا ہوتا ہے۔
یہ ان قوموں کے مزاج‘ ان کی روایات‘ ان کی اخلاقیات اور ان کے ڈسپلن کا فیصلہ کرتا ہے‘ زلزلے کہاں نہیں آتے‘ جاپان میں ہرسال چار سے ساڑھے چھ ریکٹر اسکیل کے ہزار سے پندرہ سو زلزلے آتے ہیں‘ ہم اگر انھیں روزانہ پر تقسیم کریں تو تین سے چار زلزے روزانہ بنتے ہیں جب کہ جاپان میں چار ریکٹر اسکیل سے کم شدت کے زلزلے درجنوں کے حساب سے روزانہ آتے ہیں‘ گیارہ مارچ 2011ء کو جاپان میں انتہائی خوفناک سونامی آیا تھا‘ ریکٹر اسکیل پر اس کی شدت نو درجے تھی‘ اس سونامی نے 10 میٹر اونچی لہریں پیدا کیں اور ان لہروں نے پورے جاپان کا انفراسٹرکچر برباد کر دیا‘ جاپان کی تمام بڑی پورٹس‘ تمام بڑی شاہراہیں‘ پل‘ ریل کا نظام اور ٹیلی فون اور ٹیلی ویژن سسٹم ختم ہو گیا‘ ڈیڑھ لاکھ عمارتیں زمین بوس ہو گئیں‘ سات لاکھ عمارتیں تباہ ہو گئیں‘ 44 لاکھ گھر گر گئے‘ بجلی اور پانی کا نظام درہم برہم ہو گیا اور جاپان کے دو ایٹمی بجلی گھر بھی تباہ ہو ئے‘ اس سونامی میں جاپان کے پندرہ ہزار 8 سو نوے لوگ ہلاک ہو گئے‘ چھ ہزار زخمی ہوئے جب کہ لاکھوں کروڑوں لوگوں کو کئی دن فٹ پاتھوں‘ سڑکوں اور شاپنگ سینٹروں کے برآمدوں میں گزارنا پڑے‘ عالمی بینک کے مطابق جاپان کا اس سونامی میں 235 ارب ڈالر کا نقصان ہوا اور یہ آج تک کی تاریخ میں آسمانی آفت کے ہاتھوں دنیا کا سب سے بڑا نقصان تھا مگر آپ جاپانی حکومت اور معاشرے کا ریسپانس ملاحظہ کیجیے۔
جاپانی حکومت نے سونامی کے بعد ہر قسم کی عالمی امداد لینے سے انکار کر دیا‘ جاپانی وزیراعظم ناٹوکان نے قوم اور عالمی برادری کو پیغام دیا ہم اپنے ملک کو خود بحال کریں گے‘ جاپانی قوم چار دن سڑکوں پر بیٹھی رہی مگر کسی نے کوئی دکان لوٹی اور نہ ہی خوراک اور پانی کے لیے چھینا جھپٹی کی‘ حکومت چند گھنٹوں میں تمام متاثرہ علاقوں تک پہنچی اور اس نے متاثرین کے لیے امدادی کارروائیاں شروع کر دیں اور ایک مہینے بعد‘ جی ہاں صرف ایک ماہ بعد جاپان میں حالات معمول پر آ چکے تھے جب کہ چار ماہ بعد جاپان کے تمام سسٹم دوبارہ ٹریک پر تھے‘ جاپان نے اس سونامی کے دوران محسوس کیا ایٹمی بجلی گھر خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں چنانچہ حکومت نے ایٹمی بجلی گھر بند کرنا شروع کر دیے‘ حکومت نے آخری ایٹمی بجلی گھر 14 ستمبر 2013ء کو بند کر دیا اور بجلی کا سارا نظام اس دوران تھرمل اور ہائیڈرو سسٹم پر منتقل کر دیا لیکن ملک میں کسی جگہ لوڈشیڈنگ نہیں ہوتی‘ جاپان نے سونامی کے باوجود نہ صرف چند ماہ میں اپنی تباہ حال ٹرانسمیشن لائنیں بحال کر لیں بلکہ پورا سسٹم متبادل نظام پر شفٹ کر لیا اور کسی شہری کو کسی قسم کی کوفت نہیں ہوئی جب کہ آواران کے زلزلے کے بعد ہماری حکومت 25 گھنٹے تک متاثرہ علاقوں تک نہیں پہنچ سکی‘ ہم آج تک متاثرہ علاقوں کا مواصلاتی رابطہ بحال نہیں کر سکے۔
ہم وہاں ڈاکٹرز‘ ادویات‘ پانی‘ خوراک اور خیمے نہیں پہنچا پارہے اور سیکیورٹی کی صورتحال یہ ہے آواران کے راستے میں ڈاکٹروں کی ٹیم پر راکٹ فائر کر دیا گیا جب کہ کل این ڈی ایم اے کے چیئرمین میجر جنرل سعید علیم اورجی او سی33 ڈویژن میجر جنرل سمریز سالک کے ہیلی کاپٹر پر بھی راکٹ داغ دیا گیا‘ لوگ زلزلے کا شکار ہونے کے باوجود عیحدرگی پسندوں سے اس قدر خوفزدہ ہیں کہ یہ امدادی سامان لینے کے لیے تیار نہیں ہیں‘ انھیں خطرہ ہے فوج جب علاقے سے جائے گی تو علیحدگی پسند فوج اور امدادی ٹیموں سے ادویات‘ خیمے‘ کمبل اور خوراک لینے والوں کو گولی مار دیں گے‘ ہمیں آٹھ سیکنڈ کے زلزلے نے یہ پیغام بین دے دیا ہمارے نظام ٹھیک نہیں ہیں‘ ہم فالٹ لائین پر ہیں مگر ہماری تیاری فالٹ لائین جیسی نہیں‘ ہماری نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے پاس پورے ملک کے نقشے ہی موجود نہیں ہیں‘ ان کے پاس ہنگامی روٹس ہی نہیں ہیں‘ آپ ہماری تیاری کا عالم ملاحظہ کیجیے۔
چاروں صوبوں میں نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے صوبائی دفاتر ہیں‘ یہ دفاتر پرونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی یا پی ڈی ایم اے کہلاتے ہیں‘ ان کا انچارج ڈائریکٹر جنرل ہوتا ہے مگر بلوچستان حکومت نے بلوچستان کے لیے ڈی جی ہی تعینات نہیں کیا تھا‘ 24 ستمبر کو زلزلہ آیا اور حکومت نے 25 ستمبر کو ڈی جی تعینات کیا‘ یہ ہماری تیاری تھی‘ یہ آٹھ سیکنڈ ہمیں یہ پیغام بھی دے گئے‘ ہمارے پاس فوج کے سوا کوئی ادارہ نہیں چنانچہ ملک میں آگ لگ جائے تو ہم فوج کو آگ بجھانے کی ذمے داری سونپ دیتے ہیں‘ سیلاب آ جائے‘ دہشتگردی شروع ہو جائے‘ کراچی کے حالات خراب ہو جائیں‘ الیکشن کرانے ہوں‘ ووٹر لسٹیں تیار کرانی ہوں‘ بچوں کو پولیو ویکسین پلانی ہو‘ بجلی کے میٹر چیک کرنے ہوں‘ ایکسیڈنٹ کے بعد زخمیوں کو اسپتال پہنچانا ہو‘ سکندر جیسے شخص سے نمٹنا ہو یا پھر زلزلہ زدگان تک پہنچنا ہو تو قوم فوج کی طرف دیکھنے لگتی ہے‘ باقی ادارے کہاں ہیں‘ یہ کیا کر رہے ہیں‘ آپ انتہا دیکھئے‘وزیراعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک چار مہینے تک کابینہ نہ بنا سکے۔
رقبے کے لحاظ سے ملک کا سب سے بڑا صوبہ کابینہ کے بغیر چل رہا ہو‘ وزیراعلیٰ مشکل ترین گھڑی میں لندن میں بیٹھے ہوں‘ میر حاصل بزنجو اور اختر مینگل بھی ملک سے باہر ہوں اور فوج ان علاقوں میں زلزلہ زدگان کی مدد کر رہی ہو جہاں ریسکیو ٹیموں پر میزائل داغے جا رہے ہوں‘ کیا یہ سیاسی بے حسی‘ معاشرتی نالائقی اور نظام کی خرابی نہیں‘ یہ آٹھ سیکنڈ صرف آٹھ سیکنڈ نہیں تھے‘ یہ قوم کے لیے آئینہ تھے‘ یہ ہمیں ہماری اوقات اور ریاست کے کمالات بتا گئے ہیں‘ یہ ثابت کر گئے ہیں‘ ہم بحیثیت انسان چیونٹی سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتے اور ہمارا نظام ریت کی ایک ایسی دیوار ہے جو مشکلات کی آندھی کی ایک پھونک برداشت نہیں کر سکتی‘ ہم اپنے آپ کو بھی سہارا نہیں دے سکتے مگر ہم اس کمزوری کے باوجود پورے عالم اسلام کے ٹھیکیدار ہیں‘ ہم امریکا‘ یورپ اور اسرائیل کو حکم دیتے ہیں تم اپنا قبلہ درست کر لو ورنہ ہم آ رہے ہیں۔
واہ کیا بات ہے ہماری۔
خون کے دھبے
جاوید چوہدری بدھ 25 ستمبر 2013
شیئر
ٹویٹ
تبصرے
مزید شیئر

www.facebook.com/javed.chaudhry
ہمارے پائوں میں کوئی لچیلی سی چیز تھی‘ یہ ربڑ کی ڈیڑھ انچ لمبی اور چوتھائی انچ موٹی نلکی تھی اور یہ ہمارے پائوں کی حرکت کے ساتھ کبھی دائیں چلی جاتی تھی اور کبھی بائیں‘ یہ کبھی ایک شخص کے پائوں سے الجھتی تھی اور کبھی دوسرے کے پائوں سے لپٹتی تھی اور پائوں ذرا سا کھسکتا تھا تو نلکی نئے پائوں کی تلاش میں فرش پر لڑھکنے لگتی تھی‘ میں بڑی دیر سے نلکی کی تڑپ دیکھ رہا تھا اور یہ تڑپ آہستہ آہستہ میرے تجسس میں اضافہ کرتی جا رہی تھی‘ نلکی آخری بار بشپ کے پائوں سے ٹکرائی تو میں نیچے جھکا اور میں نے وہ نلکی اٹھا لی‘ وہ نلکی نہیں تھی‘ وہ جلی ہوئی ربڑ کا باریک گول لمبا ٹکڑا تھا‘ ربڑ کے ٹکڑے پر راکھ اور سیاہی کی تہہ تھی اور اس سے عجیب قسم کی بو آ رہی تھی‘ میں نے جیب سے ٹشو نکالا اور ربڑ کے ٹکڑے کو صاف کرنا شروع کر دیا۔
سیاہی اور راکھ اترنے لگی‘ ربڑ کا ٹکڑا صاف ہوا‘ میں نے اسے غور سے دیکھا تو مجھے کرنٹ لگا اور ربڑ کا وہ ٹکڑا دوبارہ فرش پر گر گیا‘ وہ ربڑ کا ٹکڑا یا نلکی نہیں تھی وہ کسی معصوم بچے کی انگلی تھی‘ شاید پہلی انگلی‘ انگلی بم دھماکے میں جڑ سے کٹ گئی اور پچھلے دن سے لوگوں کے پائوں سے لپٹ لپٹ کر انصاف کی دہائی دے رہی تھی‘ یہ کبھی ایک شخص کے قدموں پر دستک دیتی تھی اور کبھی مایوس ہو کر دوسرے پائوں کی زنجیر عدل ہلا دیتی تھی مگر جب زندگی سستی اور موت ارزاں ترین ہوتی ہے تو کٹی انگلیوں کی آواز کوئی نہیں سنتا‘ دیواروں‘ دروازوں اور کھڑکیوں کے شیشوں سے لپٹے لہو کی پکار بھی کسی کو سمجھ نہیں آتی اور فرش سے چپکے خون کے دھبوں کی سسکیاں بھی کسی کے کانوں تک نہیں پہنچتیں‘ دنیا بھر کے قبرستان گونگے اور بہرے ہوتے ہیں۔
شاید اسی لیے آج تک کسی زندہ انسان نے کسی قبرستان کی آواز نہیں سنی حتیٰ کہ وہ لوگ بھی کسی قبر‘ کسی مردے کی سسکی سنے بغیر گھر واپس آ جاتے ہیں جو اپنے کسی انتہائی قریبی عزیز کو دفن کرنے کے لیے قبرستان جاتے ہیں‘ وہ اپنے ہاتھوں سے اپنے والد‘ اپنے بھائی یا اپنے بیٹے کی نعش قبر میں اتارتے ہیں‘ اپنے ہاتھوں سے قبر پر مٹی ڈالتے ہیں‘ پانی کا چھڑکائو کرتے ہیں‘ تازہ پتیاں بکھیرتے ہیں‘ وہ بھی قبروں کی آواز سنے بغیر واپس آ جاتے ہیں‘ انھیں بھی موت کی آواز نہیں آتی اور جب شہر‘ بازار اور مکان قبرستان بن جائیں اور ان کے در و دیوار زندہ خون کی لو کا بہروپ بھر لیں تو پھر احساس‘ شرم اور ضمیر تینوں مر جاتے ہیں‘ وہاں پھر زندہ لوگ زندہ نہیں رہتے‘ وہ زندہ قبریں بن جاتے ہیں‘ چلتی پھرتی‘ کھاتی پیتی‘ دوڑتی بھاگتی‘ گاڑیوں سے اترتی چڑھتی زندہ قبریں اور لوگ جب زندہ قبریں بن جائیں تو پھر یہ چھوٹے بچوں کی کٹی انگلیوں کے نوحے اور معصوم اور بے گناہ بچیوں کی انتڑیوں کی سسکیاں نہیں سنتے‘ یہ خون کے دھبوں پر اس طرح پھرتے ہیں جس طرح جانور اپنے ہم جنسوں کی نعشوں پر دیوانہ وار دوڑتے ہیں۔
یہ پشاور کے آل سینٹس چرچ کی واحد انگلی نہیں تھی‘ چرچ کی دیواریں اور فرش انسانی المیے کی زندہ گواہ تھیں‘ چرچ میں اتوار کے دن سروس کے بعد اس وقت دو خود کش دھماکے ہوئے جب مسیحی برادری لنگر سے کھانا لے رہی تھی‘ پہلا دھماکہ پونے بارہ بجے ہوا‘ نعشوں کے انبار لگ گئے‘ جو لوگ بچ گئے انھوں نے اٹھنے کی کوشش کی تو دوسرے خودکش حملہ آور نے بھی خود کو اڑا لیا اور اس کے ساتھ ہی مذہب‘ پاک سرزمین اور انسانیت تینوں کا جنازہ نکل گیا‘ میں اگلی صبح کو ہائی گیٹ کے 130سال پرانے چرچ میں تھا‘ گیٹ سے لے کر برآمدے تک خون کے دھبے تھے‘ ہم جہاں پائوں رکھتے تھے وہاں کسی بے گناہ کے خون کا نشان ہوتا تھا‘ فرش پر خون آلود کپڑوں کی دھجیاں بھی بکھری تھیں‘ چرچ کے اندرونی دروازے کے قریب جوتوں کا انبار لگا تھا‘ یہ مرنے والوں کے جوتے تھے‘ دنیا میں جہاں بھی بم پھٹتے ہیں وہاں مرنے والوں کے جوتوں کا انبار لگ جاتا ہے‘ کیوں؟ کیونکہ جوتے موت کا بھیانک سگنل ہوتے ہیں۔
انسان کی روح کو جب جسم سے زبردستی نکالنے کی کوشش کی جاتی ہے تو یہ رگ و پے میں تڑپتی ہے‘ یہ جسم میں رہنے کے لیے موت کی منتیں کرتی ہے‘ جسم اس وقت روح کا ساتھ دیتا ہے‘ یہ ذبح شدہ مرغ کی طرح تڑپتا ہے‘ انسان زمین پر سر پٹختا ہے اور ایڑھیاں رگڑتا ہے‘ یہ انسانیت کا مشکل ترین لمحہ ہوتا ہے‘ یہ لمحہ جب گزر جاتا ہے تو یہ زمین پر آڑھے ترچھے جوتے‘ کپڑے کی چند دھجیاں اور ٹھنڈے پڑے بدن کی چند خراشیں چھوڑ جاتا ہے‘ یہ جوتے‘یہ دھجیاں اور یہ خراشیں ظلم کا نوحہ ہوتی ہیں اور یہ نوحہ جب تک انصاف کے کانوں تک نہیں پہنچتا‘ اس کی سسکیاں‘ اس کی آہیں نہیں بجھتیں‘ ان کی لو نیچی نہیں ہوتی اور وہاں چرچ میں جوتے بھی تھے‘ تڑپتے جسموں کی خراشیں بھی‘ ٹھنڈے پڑتے لہو کے دھبے بھی اور جسم کے چھوٹے چھوٹے چیتھڑے بھی اور دیواروں‘ دروازوں اور کھڑکیوں پر قاتل چھروں کے نشان بھی اور بے حسی‘ بے پروائی اور دہشت کے سامنے پسپائی کی ریاستی پالیسیوں کی علامتیں بھی‘ میں نے دنیا میں درجنوں چرچ دیکھے ہیں‘ میں ویٹی کن سٹی کے سینٹ پیٹرز بسیلیکا سے یونان کے میٹروا چرچوں تک گیا ہوں۔
میں نے بیجنگ کے کلیسا گھروں سے مارکوٹی کے قدیم چرچ تک دنیا کی بے شمار مسیحی عبادت گاہیں دیکھی ہیں مگر میں نے جو مناظر پشاور کے چرچ میں دیکھے وہ خوفناک بھی تھے‘ دل شکن بھی اور انسانیت سوز بھی‘ میرے اردگرد آہیں تھیں‘ سسکیاں تھیں اور ماتم کرتے ہوئے مسیحیوں کی چیخیں تھیں‘ لوگ آتے تھے‘ خواتین بال کھولتی تھیں‘ نوجوان گریبان پھاڑتے تھے اور بزرگ کمر پر ہاتھ رکھ کر دہرے ہوتے تھے اور خون کے ہر نشان کو اپنے پیاروں کی آخری یاد گار سمجھ کر اس کے سرہانے بیٹھ کر ماتم کرتے تھے‘ بشپ آف پشاور اور بشپ آف لاہور دونوں سوگوار بٹھےن تھے‘ چرچ کے پادری کی آنکھیں رو رو کر سوجی ہوئی تھیں اور چرچ کے گرد آباد مسلم آبادی کے چہروں پر دکھ کی گہری لکیریں تھیں‘ صحن‘ برآمدے اور سروس ہال میں خون اور گوشت کی بو رچی تھی‘ انسانی گوشت اور خون کی بو ناقابل برداشت ہوتی ہے‘ آپ کتنے ہی سنگدل اور شقی القلب کیوں نہ ہوں‘ آپ انسانی خون کی بو اور گوشت کی بدبو برداشت نہیں کر سکتے۔
آپ کا معدہ آپ کے حلق میں الٹنے لگتا ہے اور آپ زمین پر دہرے ہو جاتے ہیں‘ میں بار بار اپنے ضمیر اور معدے کو سنبھالتا تھا اور میری آنکھیں ان دونوں کو سنبھالتے سنبھالتے گیلی ہو جاتی تھیں‘ پاکستان کیا ہو چکا ہے‘ چرچ کی ہر دیوار‘ ہر کھڑکی‘ ہر دروازہ اور فرش کا ایک ایک انچ اس کی گواہی دے رہا تھا‘ ہمارا قومی مقدر کوہاٹی گیٹ کے آل سینٹس چرچ کی فضائوں میں لکھا تھا اور یہ ہوا کی ہرکروٹ کے ساتھ دائیں سے بائیں اور بائیں سے دائیں ہوتا تھا‘ چرچ میں ایسوسی ایٹ پریس آف امریکا کا ایک نامہ نگار کھڑا تھا‘ وہ کیمرے پر لواحقین کے تاثرات نوٹ کرتا تھا اور خالی آنکھوں سے میری طرف دیکھتا تھا اور میں اس سے نظریں چراتا تھا‘ اس کی نظروں میں تیرتے سوالوں کے جواب کے لیے حوصلے اور ہمت کی ضرورت تھی اور یہ دونوں میرے پاس نہیں تھے۔
ہماری مسجدیں‘ امام بارگاہیں‘ قبرستان اور عیدگاہیں محفوظ نہیں تھیں‘ ہم لوگوں کو بسوں سے اتارتے تھے‘ ان کے شناختی کارڈ چیک کرتے تھے اور اگر ان میں سے کوئی شیعہ یا پنجابی نکل آئے تو ہم اسے گولی مار کر اس کی نعش سڑک پر پھینک دیتے تھے‘ ہم گوروں کو اپنے ملک میں آنے کی سزا دیتے تھے‘ ہم یو این اداروں کے غیر ملکی کارکنوں کو اغواء کر لیتے تھے اور انھیں بھاری تاوان لے کر چھوڑتے تھے‘ ہم سینما گھروں‘ اسٹیڈیمز‘ مارکیٹوں اور اسکولوں کو بھی تمدن میں داخل ہونے کی سزا دیتے تھے اور ہم کھلاڑیوں کو پاکستان میں قدم رکھنے کے جرم میں موت کا حق دار ٹھہراتے تھے‘دنیا اسے ہمارا ذاتی فعل سمجھ کر خاموش رہی تھی مگر ہم نے اقلیتوں کی عبادت گاہوں کو چھیڑ کر اپنے ظلم کو بین الاقوامی بنا دیا ہے یہاں تک کہ امریکی صدر اوباما اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں یہ کہنے پر مجبور ہو گئے ہم ان ممالک میں ڈرون حملے کرتے ہیںجن کی حکومتیں دہشت گردوں کا مقابلہ نہیں کر پاتیں‘ کوہاٹی گیٹ کے چرچ نے دنیا کو پیغام دے دیا پاکستانی ریاست کمزور ہو چکی ہے چنانچہ اگردنیا ہمارے ملک پر ڈرون حملے کرتی ہے تو یہ حق بجانب ہے ‘ چرچ کے سانحے نے ڈرون کو شہہ دے دی اور امریکا اب اس سے پیچھے نہیں ہٹے گا خواہ ہم اب مزید دس اے پی سی بلوا لیں یا مزید چودہ ایسے اعلامئے جاری کر دیں‘ ہم نے چرچ کے سانحے کے ذریعے پوری دنیا کو اپنا مخالف بنا لیا اور دنیا اب چرچ کے محافظوں کو چھوڑے گی اور نہ ہی چرچ پر حملہ آوروں کو۔
ہماری رگوں میں دوڑتا لہو‘ ایک گولی‘ ایک خودکش حملے سے فرش‘ دیوار اور کھڑکی کا دھبہ بن جاتا ہے‘ رگوں کے لہو کو فرش کا دھبہ بننے میں ایک سیکنڈ لگتا ہے مگر اس دھبے کو دھونے کے لیے ندامت کی ہزاروں برساتیں درکار ہوتی ہیں‘ ہم نے کبھی سوچا‘ بے گناہوں کے قتل تاریخ کو نوحوں پر مجبور کر دیتے ہیں اور ہم تاریخ کو نہ صرف بین پرلے آئے ہیں بلکہ ہم نے اس کے بال بھی کھول دیے ہیں اور ہم اگر دس سال بھی لگے رہیں تو ہم اب تاریخ کے کھلے بال باندھ نہیں سکیں گے‘ہم چرچ سے باہر نکلے تو ایک عیسائی بچے نے میرا ہاتھ پکڑ کر پوچھا ’’ میرا باپ عیسائی تھا‘ کیا اسے اس لیے مار دیاگیا‘‘ میں نے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا اور کہا ’’ بیٹا نہیں‘ وہ سچا پاکستانی تھا اس لیے ماراگیا‘ پاکستان میں اب پاکستان اور پاکستانی دونوں غیر محفوظ ہو چکے ہیں۔‘‘

یہ لوگ کسی کے نہیں ہیں
جاوید چوہدری پير 23 ستمبر 2013
ممتاز بھٹو پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں سندھ کے وزیراعلیٰ تھے‘ یہ مئی 1972ء کو وزیراعلیٰ بنے اور20 دسمبر 1973ء تک اس عہدے پر فائز رہے‘ ممتاز بھٹو نے بھی عام پاکستانی سیاستدانوں کی طرح ایک منہ زور شخص پال رکھا تھا‘ اس کا نام قلندرو تھا‘ یہ نسلاً سندھی تھا۔ قلندرو سمجھتا تھا کہ اس کے پیچھے کیونکہ صوبے کا طاقتور ترین شخص ہے چنانچہ یہ کسی کی پروا نہیں کرتا تھا‘ یہ تھانوں سے لوگ اٹھا کر لے جاتا تھا‘ یہ فوجی دستوں کو بھی للکار دیتا تھا اور اس کی دست درازیوں سے پارٹی کے سینئر عہدیدار بھی محفوظ نہیں تھے‘ قلندرو کی حرکتیں جب حدیں کراس کرنے لگیں تو آئی بی نے اس کی فائل تیار کی اور وزیراعظم کو بھجوا دی‘ ذوالفقار علی بھٹو نے فائل پڑھنے کے بعد اس پر ایک خوبصورت بلکہ شاندار فقرہ لکھا اور فائل ممتاز بھٹو کو بھجوا دی‘ بھٹو صاحب نے لکھا ’’ ممتاز یاد رکھو‘ دنیا کا کوئی شخص‘ کوئی غنڈہ یا کوئی مافیا اپنے سرپرست یا آقا کے لیے کام نہیں کرتا‘ یہ صرف اور صرف اپنے لیے کام کرتا ہے‘‘ ممتاز بھٹو نے چیئرمین بھٹو کی رائے کو کتنی اہمیت دی‘ تاریخ اس سلسلے میں خاموش ہے مگر بھٹو صاحب کا یہ فقرہ آج بھی بول رہا ہے۔
ہم لوگ ہمیشہ اپنے دشمنوں‘ اپنے مخالفوں کے لیے شیر پالتے ہیں یا سیکیورٹی گارڈز رکھتے ہیں لیکن یہ بھول جاتے ہیں‘ گارڈ ہو‘ فوج ہو‘ شیر ہو یا پھر وار لارڈز ہوں یہ لوگ ہمارے لیے کام نہیں کرتے‘ یہ صرف اور صرف اپنے وفادار ہوتے ہیں‘ یہ اپنے اپنے مفادات کے چوکیدار ہوتے ہیں اور ہم جب اس حقیقت تک پہنچتے ہیں تو پانی اس وقت تک سر سے بہت اونچا جا چکا ہوتا ہے‘ قلندرو جیسے لوگ ان خون آشام بلاؤں کی طرح ہوتے ہیں جنھںی لوگ روزانہ مخالفوں کا خون پلاتے اور گوشت کھلاتے ہیں اور پھر ایک دن جب مخالف ختم ہو جاتے ہیں تو یہ بلائیں اپنے ہی آقا کی شہ رگ پر دانت گاڑھ دیتی ہیں اور اس کے وجود کا ایک ایک ریشہ‘ ایک ایک نس کھا جاتی ہیں اور اس کے بعد کسی دوسرے آقا کی تلاش میں نکل کھڑی ہوتی ہیں۔
ہم انفرادی طور پر نہیں بلکہ بحیثیت قوم بھی اس المیے کا شکار ہیں‘ آپ صرف افغان پالیسی کی مثال لے لیجیے‘ ہم نے افغان جنگ کے دوران ملک میں چند گروپ پروان چڑھائے‘ یہ ہمارے مفت کے سپاہی تھے‘ جنرل ضیاء الحق اور ان کے رفقاء مفت کے ان سپاہیوں کے خون کے بدلے امریکا سے اقتدار کا پروانہ اور ڈالر وصول کرتے رہے اور ان ڈالروں اور اقتدار کے بدلے افغانستان میں امریکاکی جنگ لڑتے رہے‘ امریکا اپنے مذموم مقاصد کے لیے ازبکستان‘ چیچنیا‘ سعودی عرب‘ یمن‘ سوڈان‘ یو اے ای اور مصر سے بھی مجاہدین پاکستان بھجواتا رہا‘ ہم اپنے لوگوں کے ساتھ ساتھ غیر ملکی مجاہدین کو بھی سپورٹ کرتے رہے‘ یہ لوگ سچے بھی تھے‘ کھرے بھی‘ بہادر بھی اور اپنے مقصد میں واضح بھی مگر یہ لوگ یہ نہیں جانتے تھے یہ امریکا اور پاکستان کے فوجی آمروں کے ہاتھوں استعمال ہو رہے ہیں‘ یہ مزید استعمال ہوتے مگر اچانک سوویت یونین نے جنگ بندی کا اعلان کر دیا‘ روس نے اپنی فوجیں سمیٹیں اور یہ دریائے آمو کے پار واپس چلا گیا۔
روسی ٹینکوں کی واپسی کے ساتھ ہی امریکا بھی اپنے روتے بلکتے بچے چھوڑ کر واپس بھاگ گیا‘ ہمارے جرنیلوں اور امریکی امداد پر پلنے والے افغان سرداروں نے کبھی اس صورتحال کے بارے میں سوچا ہی نہیں تھا‘ان کا خیال تھا‘ یہ جنگ دنیا کی آخری سانس تک جاری رہے گی اور یوں ان کا نان نفقہ چلتا رہے گا مگر روس اور پھر امریکا کی اچانک واپسی نے ان کی خواہشوں کی بساط الٹ دی اور یہ کنفیوژن کا شکار ہو گئے‘ جنرل ضیاء الحق اس بوکھلاہٹ میں جان سے گئے جب کہ افغان سردار ایک دوسرے کے ساتھ دست و گریبان ہو گئے اور افغانستان دوزخ کا دھانہ بن گیا‘ اس گرم دوزخ نے ایک بار پھر دنیا کو اپنی جانب متوجہ کر لیا‘ ہم لوگ کیونکہ پوری دنیا کے ٹھیکیدار ہیں‘ ہم سے اپنا گھر چلتا نہیں‘ ہم آج تک چار صوبے سنبھال نہیں سکے مگر ہم ہر لمحہ پوری امت کی رہنمائی کا تاج سر پر سجانے کے لیے تیار ہیں لہٰذا ہم ایک بار پھر افغانستان کے نانا جی بن گئے۔
ہم نے افغانوں کو افغانوں کے ذریعے مارنے کا فیصلہ کیا‘ جنرل نصیر اللہ بابر میدان میں کودے اور انھوں نے طالبان انقلاب کی بنیاد رکھ دی‘ یہ ہماری دوسری بڑی غلطی تھی‘ ہم نے سترا ور اسی کی دہائی میں جس طرح یہ سوچ کر جہاد کا علم اٹھایا تھا کہ روس اور امریکا ہمارے خطے میں ’’انگیج‘‘ ہو چکے ہیں اور یہ اب کبھی واپس نہیں جائیں گے‘ ہم نے بالکل اسی طرح نوے میں یہ سوچ کر طالبان کی پرورش شروع کی‘ یہ لوگ ڈیورنڈ لائن سے دوسری طرف رہیں گے اور یہ اگر وہاں اپنی مرضی کا اسلام بھی نافذ کر لیتے ہیں تو بھی یہ اسلام پشاور‘ اسلام آباد‘ لاہور اور کراچی سے بہت دور رہے گا‘ ہم نے طالبان فارمولہ بناتے وقت یہ بھی سوچ لیا تھا امریکا اور روس اب کبھی واپس اس خطے مںح نہیں آئیں گے اور یہ افغانستان کے طالبان ہمیشہ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کے دست نگر رہیں گے‘ ہم ڈوریاں ہلائیں گے اور یہ لوگ ہماری کٹھ پتلیاں بن کر ہماری ڈھال کا کام کریں گے‘ افغانستان میں طالبان کی حکومت بنی تو اسلام پسند سوچ کے حامی پاکستانی نوجوان بھی جلال آباد جانے لگے‘ ہم یہ ہجرت دیکھ کر بھی بہت خوش ہو گئے کیونکہ ہمارا خیال تھا یہ لوگ افغانستان میں بس جائیں گے اور یوں ہماری جان چھوٹ جائے گی مگر پھر نائن الیون ہو گیا‘ امریکا ایک بار پھر ہمارے خطے میں آیا۔
طالبان حکومت ختم ہوئی اور طالبان ہزاروں لاکھوں کی تعداد میں پاکستان میں پناہ گزین ہو گئے‘ تاجکستان‘ ازبکستان اور ایران بھی افغانستان کے ہمسائے تھے لیکن یہ ممالک سمجھ دار تھے‘ انھوں نے اپنی سرحدیں ٹائیٹ کر رکھی تھیں جب کہ ہمارے بارڈر خالہ جی کا ویڑا تھے اور یہ لوگ خالہ جی کے گھر آ گئے‘ ہم نے تیسری غلطی نائن الیون کے بعد کی‘ ہم نے پاکستان کی سیاسی اہمیت بڑھانے کے لیے ان لوگوں کو پاکستان آنے دیا‘ یہ لوگ قبائلی علاقوں میں جمع ہو گئے‘ہمارا خیال تھا ہم قبائلی علاقوں میں فوج بھیجیں گے‘ افغانستان سائیڈ سے نیٹو ان لوگوں کو مارے گی اور پاکستانی سائیڈ سے پاک فوج ان کے خلاف آپریشن کرے گی اور یوں یہ لوگ بھی ختم ہو جائیں گے اور امریکا بھی ہمارا احسان مند ہو جائے گا‘ ہم نے اس دوران طالبان کو گڈ طالبان اور بیڈ طالبان دو حصوں میں تقسیم بھی کر دیا‘ ہم گڈ طالبان کو ریاستی‘ سیاسی اور عسکری قوت سمجھتے تھے جب کہ ہماری نظر میں بیڈ طالبان ہمارے دشمن تھے‘ ہم نے ان دونوں قسموں کے طالبان کو پاکستان کے قبائلی علاقوں میں جمع ہونے دیا‘ ہم نے اس دوران ملک میں پیدا ہونے والے شدت پسند گروہوں‘ فرقہ وارانہ تنظیموں اور جرائم پیشہ عناصر کو بھی قبائلی علاقوں کی طرف دھکیل دیا۔
ہمارا خیال تھا یہ تمام لوگ‘ تمام گروپ ایک جگہ ہوں گے تو ہم جب چاہیں گے انھیں گھیر لیں گے اور مار دیں گے‘ یہ لوگ قبائلی علاقوں میں جمع ہوئے‘ جنرل پرویز مشرف دنیا کو یہ لوگ دکھا کر امریکا سے ڈالر اور اقتدار مانگتے رہے اور دنیا جنرل مشرف کو یہ دونوں چیزیں دیتی رہی مگر پھر گیم ہمارے ہاتھ سے نکل گئی‘ دنیا اور مجاہدین ہماری منافقت تک پہنچ گئے‘ طالبان جان گئے ان کے اصل دشمن روس یا امریکا نہیں وہ لوگ ہیں جو 1977ء سے ان کا فائدہ اٹھا رہے ہیں چنانچہ یہ لوگ اپنی پناہ گاہوں سے نکلے اور انھوں نے ہمارا گھیراؤ کر لیا‘ عالمی طاقتیں بھی ہمارے دوہرے کردار کو سمجھ گئیں چنانچہ وہ دن آ گیا جب پشاور جیسے شہر میں مسیحی برادری کی 83 نعشیں پڑی ہیں اور پوری دنیا ہمیں خون سے بھری آنکھوں سے دیکھ رہی ہے۔
آج ہمارا جی ایچ کیو محفوظ ہے اور نہ ہی مہران بیس اور کامرہ بیس اور نہ ہی ہماری مسجدیں‘ بارگاہیں‘ قبرستان‘ پولیس لائینز اور اسپتال‘ پورا ملک مقتل بن چکا ہے اور ہم مقتل میں انسانی نعشوں کی باقیات جمع کرنے تک محدود ہو چکے ہیں‘ ہم اپنے ہی پالے ہوئے شیروں‘ اپنی ہی بلاؤں اور اپنے ہی مافیاز کا شکار بن رہے ہیں اور ہمارے اتحادی ہماری منافقت کا تماشا دیکھ رہے ہیں‘ ہم نے جنھیں دوسروں کے لیے پالا تھا وہ آج ہماری گردن دبوچ کر بیٹھے ہیں اور ہم حیرت سے کبھی دائیں دیکھتے ہیں اور کبھی بائیں۔
ہم 1977ء میں جب افغان پالیسی بنا رہے تھے تو ہمیں اس وقت سوچنا چاہیے تھا‘ ہم جس شیر کو تازہ انسانی گوشت پر پال رہے ہیں اسے جس دن ہمارے دشمن کی گردن نہیں ملے گی‘ یہ اس دن کیا کرے گا‘ یہ اس دن ہمیں دبوچ لے گا‘ ہمیں 1994ء میں طالبان انقلاب کی بنیاد رکھتے ہوئے بھی سوچنا چاہیے تھا یہ لوگ اگر افغانستان میں کامیاب ہو گئے تو پاکستان ان کا اگلا ٹارگٹ ہو گا اور دنیا انھیں کبھی نیو کلیئر بم تک نہیں پہنچنے دے گی اور یوں ہمارا ملک ’’ پراکسی وار‘‘ کا مرکز بن جائے گا اور ہمیں نائن الیون کے بعد امریکا کی حمایت کرتے وقت بھی سوچنا چاہیے تھا‘ ہم جب امریکا کے ساتھ مل کر امریکا کے دشمنوں کو ماریں گے یا امریکا کے دشمنوں کو پاکستانی علاقوں میں پناہ دیں گے یا فرقہ پرست تنظیموں کو ان کے ساتھ ملنے کا موقع دیں گے تو ان کی طاقت میں تین چار گنا اضافہ ہو جائے گا اور یہ جب ہم پر بھرپور حملے کرینگے تو ہم کہاں جائیں گے کیونکہ اس وقت تک امریکا بھی ہمارا دشمن‘ ہمارا مخالف ہو چکا ہو گا اور آج یہی ہو رہا ہے۔
ہمارے اپنے ہی پالے ہوئے قلندرو ہمارے سامنے کھڑے ہیں اور ہمارے اندر ان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالنے کی جرأت نہیں‘ کیوں؟ کیونکہ ہم آج بھی اپنے ساتھ ’’ گیم‘‘ کر رہے ہیں‘ ہم نے آج بھی آگ کے ساتھ کھیلنے کا کھیل ترک نہیں کیا‘ ہم آج بھی انھیں جیل توڑنے اور اپنے ساتھی لے جانے کا موقع دے رہیں اور ہمارا خیال ہے یہ اس ’’ احسان‘‘ کے بدلے ہماری فوج کو معاف کر دیں گے مگر ہم یہ بھول رہے ہیں دنیا کا یہ قلندرو صرف اپنا غلام ہوتا ہے‘ یہ کسی دوسرے کو اپنا آقا نہیں مانتا‘ یہ احسان کے باوجود میجر جنرل ثناء اللہ نیازی کو شہید کر دیتا ہے اور چرچ تباہ کر کے پوری اسٹیٹ کو اسٹیک پر لگا دیتا ہے‘ یہ لوگ کسی کے نہیں ہیں‘ یہ صرف اور صرف اپنے ہیں‘ ہمیں آج یہ مان لینا چاہیے‘ ہمیں آج پہلی بار صحیح اور ایماندارانہ فیصلہ کرنا چاہیے ورنہ دوسری صورت میں تاریخ کا قبرستان ہو گا اور ہم ہوں گے۔
نسخہ
جاوید چوہدری ہفتہ 21 ستمبر 2013
بابا جی نے تانبے کو سونا بنانے کا فن سیکھ لیا تھا اور ہم یہ فن جاننے کے لیے روز ان کے پاس بیٹھ جاتے تھے‘ کامران کی بارہ دری کی دیواریں آہستہ آہستہ بھربھرا رہی تھی‘ پرندے دیواروں کا چونا چگنے کے لیے صبح سویرے بارہ دری پہنچ جاتے تھے اوررات تک اس اجڑے دیار کی گری چھتوں اور رکوع میں جھکی دیواروں پرپھرتے رہتے تھے‘ بابا رات کے وقت راوی کے اس سنسان ٹاپو پر آ تا تھا‘ وہ مشرق کے رخ بیٹھ کر آلتی پالتی مارتا تھا اور سورج کی پہلی کرن تک وہاں دم سادھ کر بیٹھا رہتا تھا‘ فجر کے وقت جوں ہی پرندوں کی چونچیں کھلتی تھیں‘ وہ ایک لمبا سانس لیتا تھا‘ ایک ٹانگ پر کھڑا ہوتا تھا‘ باز کی طرح دونوں بازو کھولتا تھا۔
دوسری ٹانگ سیدھی کر کے آہستہ آہستہ پیچھے کی طرف پھیلاتا تھا اور اڑتے ہوئے پرندے کے آسن میں کھڑا ہو جاتا تھا‘ وہ سورج چڑھنے تک اس آسن میں رہتے تھے اور اس کے بعد سیدھے ہوتے تھے اور چائے کا ایک بڑا مگ پیتے تھے‘ ہم ان کے سیدھے ہونے سے قبل ان کے لیے چائے بنا دیتے تھے‘ وہ چائے بھی نام کی چائے ہوتی تھی‘ بابا جی دو گھونٹ پانی میں دو گھونٹ دودھ اور چائے کے چار چمچ پسند کرتے تھے‘ وہ میٹھے سے نفرت کرتے تھے چنانچہ ہم ان کی چائے میں چینی نہیں ڈالتے تھے‘ وہ اس کے بعد اپنی پتیلی اٹھاتے‘ پانی میں اترتے اور شڑاپ شڑاپ کرتے ہوئے جنگل میں غائب ہو جاتے‘ ہم روز سوچتے بابا جی کیسے جانتے ہیں پانی کس کس جگہ کم ہے اور وہ چل کر دریا پار کر سکتے ہیں‘ ہم روز سوچتے تھے اور ہمیں اس کا جواب نہیں ملتا تھا‘ ہم کشتی کھولتے اور چپو چلا کر کنارے پر پہنچ جاتے‘ ہم بابا جی کے تین شاگرد تھے۔
شاگرد بھی ہم نے خود ہی طے کر لیا تھا‘ بابا جی نے ہمیں کبھی شاگرد نہیں مانا تھا بلکہ مجھے بعض اوقات محسوس ہوتا تھا وہ شاید ہمارے وجود ہی سے لاتعلق ہیں‘ وہ ہم سے دس دس دن بات نہیں کرتے تھے اور اگر کبھی بولنا ضروری ہوتا تھا تو ان کی بات چند لفظوں تک محدود ہوتی تھی‘ وہ سارا دن راوی کے جنگلوں میں غائب رہتے اور شام کے وقت اپنی گڈری اور میلی کچیلی پتیلی کے ساتھ کامران کی بارہ دری پہنچ جاتے ‘ ہم تینوں ان کے پہنچنے سے پہلے بارہ دری میں ہوتے تھے‘ بابا جی آتے‘ ہم پر ایک نگاہ ڈالتے‘ مشرق کے رخ بیٹھتے اور دم سادھ لیتے‘ مجھے بابا جی کا پتہ دھرم پورہ کے بابا جی نے دیا تھا‘ یہ ان کے شاگرد رہے تھے‘ میں انھیں ڈھونڈتا ڈھونڈتا کامران کی بارہ دری پہنچا اور میں نے انھیں پا لیا مگر وہ میرے وجود ہی سے لاتعلق تھے‘ بالکل ان دونوں شاگردوں کی طرح جو مجھ سے پہلے ان کے مرید ہوئے اور جنھںں بابا جی کی سیوا کرتے دو سال بیت چکے تھے۔
میں کہانی کو مختصر کرتا ہوں‘ بابا جی مدراس کے رہنے والے تھے‘ بچپن میں جوگیوں کے ہتھے چڑھے اور پھر پوری زندگی جوگ میں گزار دی‘ پچیس تیس سال قبل لاہور آئے اور راوی کے کناروں کو مسکن بنا لیا‘ وہ سارا دن جنگل میں غائب رہتے اور شام کے وقت کامران کی بارہ دری آ جاتے اور صبح دس بجے تک وہاں رہتے‘ دھرم پورے والے بابا جی کا کہنا تھا‘ یہ بابا جی تانبے کو سونا بنانا جانتے ہیں‘ انھوں نے خود ایک بار تانبے کی ڈلی سونا بنا کر انھیں گفٹ کر دی‘ میں ان دنوں کیمیا گری کے بارے میں کتابیں پڑھ رہا تھا‘ سائنس کہتی تھی کوئی دھات اپنا جون تبدیل نہیں کرتی مگر کیمیا گری کہتی تھی ہم جس طرح ہوا کو مائع اور مائع کو ٹھوس بناسکتے ہیں بالکل اسی طرح لوہے کو تانبا اور تانبے کو سونے میں تبدیل کیا جا سکتا ہے اور میں ان دنوں اس بات کو سچ سمجھتا تھا اور سچائی کی یہ تلاش مجھے اس باباجی تک لے گئی‘ بابا دنیا جہاں کی نعمتوں اور ضرورتوں سے مبریٰ تھا‘ وہ کپڑے روڑی سے نکال کر پہن لیتا تھا‘ جوتے وہ پہنتا نہیں تھا‘ وہ کھاتا کیا تھا‘ ہم اس کے بارے میں کچھ نہیں جانتے تھے‘ ہم بس اسے کڑوی چائے کا ایک کپ پیتے دیکھتے تھے اور وہ اس کے بعد اپنی پتیلی لے کر جنگل میں غائب ہو جاتا تھا۔
میں کہانی کو مزید مختصر کرتا ہوں‘ یہ سردی کی سرد رات تھی‘ میں اس رات بابے کے پاس اکیلا تھا‘ کامران کی بارہ دری میں بارش ہو رہی تھی‘ بابا جی بارش میں آسن لگا کر بیٹھے تھے اور میں چھتری تان کر ان کے سر پر کھڑا تھا‘ بابا جی نے اچانک ایک لمبی ہچکی لی‘ ان کا سانس اکھڑا اور انھوں نے غصے سے میری طرف دیکھا‘ میں نے زندگی میں کبھی اتنی خوفناک اور گرم آنکھیں نہیں دیکھیں‘ میرے پورے جسم میں حرارت دوڑ گئی اور میں سردیوں کی بارش میں پسینے میں شرابور ہو گیا‘ بابا تھوڑی دیر تک میری طرف دیکھتا رہا‘ اس نے پھر میرا ہاتھ پکڑ کر اپنے سر سے چھتری ہٹائی‘ گیلی زمین سے اٹھا اور دیوار کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھ گیا‘ میں بھی آہستہ آہستہ چلتا ہوا اس کے قریب پہنچا‘ چھتری بند کی اور ٹیک لگا کر دیوار کے ساتھ بیٹھ گیا‘ بابے نے لمبا سانس لیا اور بولا ’’ کاکا تم چاہتے کیا ہو‘‘ میں نے عرض کیا ’’ کیاآپ کو واقعی سونا بنانا آتا ہے‘‘ بابے نے خالی خالی آنکھوں سے میری طرف دیکھا اور ہاں میں سر ہلا کر بولا ’’ ہاں میں نے جوانی میں سیکھا تھا‘‘ میں نے عرض کیا ’’کیا آپ مجھے یہ نسخہ سکھا سکتے ہیں‘‘ بابے نے غور سے میری طرف دیکھا اور پوچھا ’’ تم سیکھ کر کیا کرو گے‘‘ میں نے عرض کیا ’’ میں دولت مند ہو جائوں گا‘‘ بابے نے قہقہہ لگایا‘ وہ ہنستا رہا‘ دیر تک ہنستا رہا یہاں تک کہ اس کا دم ٹوٹ گیا اور اسے کھانسی کا شدید دورہ پڑ گیا۔
وہ کھانستے کھانستے دہرا ہوا اور تقریباً بے حالی کے عالم میں دیر تک اپنے ہی پائوں پر گرا رہا‘ وہ پھر کھانستے کھانستے سیدھا ہوا اور پوچھا ’’ تم دولت مند ہو کر کیا کرو گے‘‘ میں نے جواب دیا ’’ میں دنیا بھر کی نعمتیں خریدوں گا‘‘ اس نے پوچھا ’’نعمتیں خرید کر کیا کرو گے‘‘ میں نے جواب دیا ’’میں خوش ہوں گا‘ مجھے سکون ملے گا‘‘ اس نے تڑپ کر میری طرف دیکھا اور کہا ’’گویاتمہیں سونا اور دولت نہیںسکون اور خوشی چاہیے‘‘ میں خاموشی سے اس کی طرف دیکھتا رہا‘ اس نے مجھے جھنجوڑا اور پوچھا ’’ کیا تم دراصل سکون اور خوشی کی تلاش مںن ہو؟‘‘ میں اس وقت نوجوان تھا اور میں دنیا کے ہر نوجوان کی طرح دولت کو خوشی اور سکون سے زیادہ اہمیت دیتا تھا مگر بابے نے مجھے کنفیوز کر دیا تھا اور میں نے اسی کنفیوژن میں ہاں میں سر ہلا دیا‘ بابے نے ایک اور لمبا قہقہہ لگایا اور اس قہقہے کا اختتام بھی کھانسی پر ہوا‘ وہ دم سنبھالتے ہوئے بولا ’’ کاکا میں تمہیں سونے کی بجائے انسان کو بندہ بنانے کا طریقہ کیوں نہ سکھادوں‘میں تمہیں دولت مند کی بجائے پرسکون اور خوش رہنے کا گر کیوں نہ سکھادوں‘‘ میں خاموشی سے اس کی طرف دیکھتا رہا‘ وہ بولا ’’ انسان کی خواہشیں جب تک اس کے وجود اور اس کی عمر سے لمبی رہتی ہیں۔
یہ اس وقت تک انسان رہتا ہے‘ تم اپنی خواہشوں کو اپنی عمر اور اپنے وجودسے چھوٹا کر لو‘ تم خوشی بھی پائو جائو گے اور سکون بھی اور جب خوشی اور سکون پا جائو گے تو تم انسان سے بندے بن جائوگے‘‘ مجھے بابے کی بات سمجھ نہ آئی‘ بابے نے میرے چہرے پر لکھی تشکیک پڑھ لی‘ وہ بولا ’’ تم قرآن مجید میں پڑھو‘ اللہ تعالیٰ خواہشوں میں لتھڑے لوگوں کو انسان کہتا ہے اور اپنی محبت میں رنگے خواہشوں سے آزاد لوگوں کو بندہ‘‘ بابے نے اس کے بعد کامران کی بارہ دری کی طرف اشارہ کیا اور بولا ’’ اس کو بنانے والا بھی انسان تھا‘ وہ اپنی عمر سے لمبی اور مضبوط عمارت بنانے کے خبط میں مبتلا تھا‘ وہ پوری زندگی دولت بھی جمع کرتا رہا مگر اس دولت اور عمارت نے اسے سکون اور خوشی نہ دی‘ خوش میں ہوں‘ اس دولت مند کی گری پڑی بارہ دری میں برستی بارش میں بے امان بیٹھ کر‘‘ میں نے بے صبری سے کہا ’’ اور میں بھی‘‘ اس نے قہقہہ لگایا اور جواب دیا ’’ نہیں تم نہیں! تم جب تک تانبے کوسونا بنانے کا خبط پالتے رہو گے تم اس وقت تک خوشی سے دور بھٹکتے رہو گے۔
تم اس وقت تک سکون سے دور رہو گے‘‘ بابے نے اس کے بعد زمین سے چھوٹی سی ٹہنی توڑی اور فرش پر رگڑ کر بولا ’’ لو میں تمہیں انسان کو بندہ بنانے کا نسخہ بتاتا ہوں‘ اپنی خواہشوں کو کبھی اپنے قدموں سے آگے نہ نکلنے دو‘ جو مل گیا اس پر شکر کرو‘ جو چھن گیا اس پر افسوس نہ کرو‘ جو مانگ لے اس کو دے دو‘ جو بھول جائے اسے بھول جائو‘ دنیا میں بے سامان آئے تھے‘ بے سامان واپس جائو گے‘سامان جمع نہ کرو‘ ہجوم سے پرہیز کرو‘ تنہائی کو ساتھی بنائو‘ مفتی ہو تب بھی فتویٰ جاری نہ کرو‘ جسے خدا ڈھلے دے رہا ہو اس کاکبھی احتساب نہ کرو‘ بلا ضرورت سچ فساد ہوتا ہے‘ کوئی پوچھے تو سچ بولو‘ نہ پوچھے تو چپ رہو‘ لوگ لذت ہوتے ہیں اور دنیا کی تمام لذتوں کا انجام برا ہوتا ہے‘ زندگی میں جب خوشی اور سکون کم ہو جائے تو سیر پر نکل جائو‘ تمہیں راستے میں سکون بھی ملے گا اور خوشی بھی‘ دینے میں خوشی ہے‘ وصول کرنے میں غم‘ دولت کو روکو گے تو خود بھی رک جائو گے‘ چوروں میں رہو گے تو چور ہو جائو گے۔
سادھوئوں میں بیٹھو گے تو اندر کا سادھو جاگ جائے گا‘ اللہ راضی رہے گا تو جگ راضی رہے گا‘ وہ ناراض ہو گا تو نعمتوں سے خوشبو اڑ جائے گی‘ تم جب عزیزوں‘ رشتے داروں‘ اولاد اور دوستوں سے چڑنے لگو تو جان لو اللہ تم سے ناراض ہے اور تم جب اپنے دل میں دشمنوں کے لیے رحم محسوس کرنے لگو تو سمجھ لو تمہارا خالق تم سے راضی ہے اور ہجرت کرنے والا کبھی گھاٹے میں نہیں رہتا‘‘ بابے نے ایک لمبی سانس لی‘ اس نے میری چھتری کھولی‘ میرے سر پر رکھی اور فرمایا’’ جائو تم پر رحمتوں کی یہ چھتری آخری سانس تک رہے گی‘ بس ایک چیز کا دھیان رکھنا کسی کو خود نہ چھوڑنا‘ دوسرے کو فیصلے کا موقع دینا‘ یہ اللہ کی سنت ہے‘ اللہ کبھی اپنی مخلوق کو تنہا نہیں چھوڑتا‘ مخلوق اللہ کو چھوڑتی ہے اور دھیان رکھنا جو جا رہا ہو اسے جانے دینا مگرجو واپس آ رہا ہو‘ اس پر کبھی اپنا دروازہ بند نہ کرنا‘ یہ بھی اللہ کی عادت ہے‘ اللہ واپس آنے والوں کے لیے ہمیشہ اپنا دروازہ کھلا رکھتا ہے‘ تم یہ کرتے رہنا‘ تمہارے دروازے پر میلا لگا رہے گا‘‘ میں واپس آ گیا اور پھر کبھی کامران کی بارہ دری نہ گیا کیونکہ مجھے انسان سے بندہ بننے کا نسخہ مل گیا تھا۔
پی آئی اے
جاوید چوہدری جمعرات 19 ستمبر 2013
میں اپنی عملی زندگی کو مختلف حصوں میں تقسیم کروں تو اس کے دو بڑے حصے بنیں گے ‘ ایک‘ وہ حصہ میں جس میں صرف ملازم ہوتا تھا‘ میں مختلف اخباری اداروں میں ملازمت کرتا تھا‘ میں نے لاہو کے ایک اخبار میں چودہ سو روپے ماہانہ پر صحافت شروع کی اور مجھے یہ معاوضہ یونیورسٹی میں ٹاپ کرنے اور گولڈ میڈل حاصل کرنے کے بعد ملا‘ مںس اس کے بعد مختلف اداروں میں مختلف پوزیشنوں پر دھکے کھاتا رہا یہاں تک کہ میں نے کالم نگار بننے کا فیصلہ کر لیا‘ کالم نگاری نسبتاً آزاد ملازمت ہے‘ آپ کو اس کے لیے دفتر نہیں جانا پڑتا‘ آپ گھر میں بیٹھ کر کالم لکھتے ہیں‘ اخبار یہ کالم شایع کر دیتا ہے اور آپ کو ہر مہینے ایک لگا بندھا معاوضہ مل جاتا ہے‘ میں کالم نگاری کے شعبے میں آیا اور یوں ملازمت کے بندھنوں سے آزاد ہو گیا‘ دو‘ میری عملی زندگی کاوہ حصہ میں نے جس میں کاروبار شروع کیا۔
میں نے اپنی کمپنی بنائی‘ اپنے بھائی کو یونیورسٹی سے اٹھوایا اور کاروبار میں لگا دیا‘ وہ اس ادارے‘ اس کمپنی کا باس تھا اور میں اس کا اسسٹنٹ‘ میں اپنے خاندان میں بڑا ہوں‘ میرے بھائی میری والد کی طرح عزت کرتے ہیں‘ میں انھیں ڈانٹ بھی لیتا ہوں اور مہینوں ان سے ناراض بھی رہتا ہوں مگر خاندان میں میرے احترام میں کمی نہیں آتی اور یہ اللہ تعالیٰ کی ہزاروں نعمتوں میں سے ایک گراں قدر نعمت ہے‘ ہمارا کام چل پڑا تو ہم نے دوسری کمپنی بنائی اور سب سے چھوٹے بھائی کو بھی یونیورسٹی سے اٹھوا کر اس کام میں لگا دیا‘ میں اب اس بھائی کا اسسٹنٹ بھی بن گیا‘ یہ دونوں چند برسوں میں نہ صرف اپنے قدموں پر کھڑے ہو گئے بلکہ یہ دن رات ترقی بھی کر رہے ہیں‘ میرا بیٹا یونیورسٹی میں پڑھ رہا ہے‘ میں اب اسے دفتر لے جاتا ہوں اور دفتر کا بوجھ آہستہ آہستہ اس کے سر‘ اس کے کندھوں پر ڈالتا جا رہا ہوں‘ مرسے دوست میرے اس آئیڈیا کے خلاف ہیں۔
یہ سمجھتے ہیں تعلیم کو اولیت دینی چاہیے‘ پہلے تعلیم پھر کام‘ میں بھی اس فلسفے کا حامی تھا مگر ہم نے جب اپنا کام شروع کیا اور مختلف کاموں‘ مختلف شعبوں کے لیے لوگ بھرتی کرنا شروع کیے تو یہ فلسفہ جڑوں سے اکھڑ گیا کیونکہ ہمارا نظام تعلیم نوجوانوں کو صرف ڈگری دیتا ہے‘ یہ ان میں قابلیت‘ اہلیت اور اخلاقاات پیدا نہیں کرتا‘ یہ انھیں ہنر (اسکل)‘ کام کرنے کا طریقہ‘ ملازمت تلاش کرنے اور ڈیوٹی سرانجام دینے کا طریقہ نہیں سکھاتا اور یہ انھیں ٹیم اسپرٹ‘ اداروں کی حفاظت‘ ان کی گروتھ اور ان کے معاشرے پر اثرات کے بارے میں بھی ٹریننگ نہیں دیتا چنانچہ یہ لوگ جب ڈگری لے کر یونیورسٹی سے نکلتے ہیں تو ان کے ہاتھ میں کاغذ کے ایک ٹکڑے کے سوا کچھ نہیں ہوتا اور یہ کاغذ کا ٹکڑا زندگی کے لیے انتہائی ناکافی ہوتا ہے۔
اصل تعلیم یونیورسٹی کے گیٹ کے باہر سے شروع ہوتی ہے اور ہم اپنے بچوں کو اس کی تعلیم‘ اس کی ٹریننگ نہیں دیتے جب کہ میں نے اپنے بھائیوں اور اپنے بچوں کو وہ اصل تعلیم دینا شروع کر دی‘ میں انھیں کھینچ کر خوابوں اور خیالوں کے آسمان سے حقائق کی زمین پر لے آیا اور میں اس میں بڑی حد تک کامیاب ہو گیا‘ میری آپ تمام احباب سے درخواست ہے آپ اپنے بچوں کی تعلیم کو دو حصوں میں تقسیم کردیں‘ کالج اور یونیورسٹی کی تعلیم اور معاشرے کی عملی تعلیم‘ آپ کو اگر اپنے بچے کے ایک دو سیمسٹر منقطع بھی کرنا پڑیں تو آپ کر دیں‘آپ ڈگری مکمل ہونے سے قبل اس سے ملازمت کروائیں‘ اسے دفتر‘ کسی دکان میں ملازم رکھیں تاکہ وہ زمینی حقائق سے واقف ہو سکے‘ آپ کے بچے نے اگر یہ کر لیا تو یہ دوسرے بچوں کی نسبت زیادہ ترقی کرے گا‘ زیادہ کامیاب ہوگا۔
میں واپس موضوع کی طرف آتا ہوں‘ میں جب ملازم تھا تو مجھے ادارے اور مالکان بہت ظالم‘ مطلبی‘ مفاد پرست اور بے انصاف محسوس ہوتے تھے‘ میں اپنے کام‘ اپنی ذمے داری کو دوسروں کا کام اور دوسروں کی ذمے داری بھی سمجھتا تھا مگر میں نے جب کاروبار شروع کیا تو میری رائے 360 کے زاویئے پر تبدیل ہو گئی‘ مجھے معلوم ہوا دنیا کا کوئی کام سیٹھ کا کام نہیں ہوتا‘ یہ اس ادارے اور اس کے ملازمین کا کام ہوتا ہے اور کوئی کمپنی‘ کوئی ادارہ اور کوئی فیکٹری کسی ایک شخص یا خاندان کی نہیں ہوتی‘یہ اس کے ملازمین اور معاشرے کی ہوتی ہے اور اگر ملازمین کام نہیں کریں گے‘ یہ دفتر کو اپنے گھر جتنی اہمیت نہیں دیں گے تو ادارہ آگے نہیں بڑھے گا اور اگر ادارے کی گروتھ رک جائے گی تو ادارے کا مالک ملازمین کو تنخواہیں‘ مراعات اور یوٹیلٹی بلز کہاں سے دے گا‘ دنیا کا کوئی سیٹھ‘ کوئی صنعت کار‘ کوئی سرمایہ صرف ملازمین کے نخرے برداشت کرنے‘ ان کی گالیاں کھانے‘ ان کی ہڑتالیں سہنے‘ ان کی کام چوریاں‘ ان کی نالائقیاں اور ان کی دھاندلیاں برداشت کرنے کے لیے ادارے نہیں بناتا‘ آپ اگر سست ہوں گے‘ نالائق بھی ‘ کرپٹ بھی‘ بہانے باز بھی اور آپ نے اگر پچھلے دس پندرہ برسوں میں سکھا بھی کچھ نہیں ہو گا تو آپ کو تنخواہیں اور مراعات کیوں دی جائیں گی؟
یہ مقابلے کا دور ہے‘ آپ اگر مقابلہ نہیں کریں گے تو زمانہ آپ کو دوڑ سے باہر کر دے گا‘ یہ دنیا کی تلخ ترین حقیقت ہے مگر ہمارے لوگ یہ حقیقت ماننے کے لیے تیار نہیں ہیں‘ یہ آج بھی سترہویں صدی میں زندہ ہیں جس میں یہ سمجھا جاتا تھا آپ کے دو ہاتھ اور دو پائوں فرکٹریاں یا کان ہیں اور آپ اس کان‘ اس فیکٹری کے ذریعے زندگی گزار لیں گے‘ وقت اور حالات بدل چکے ہیں‘ یہ صلاحیت اور اہلیت کا زمانہ ہے‘ آپ اگر باصلاحیت اور اہل ہیں تو آپ ہمالیہ کی چوٹی اور گوپی کے صحرا میں بھی امریکا سے پیسے کما لیں گے اور آپ اگر نالائق اور نااہل ہیں تو آپ جلد یا بدیر سڑک پر آ جائیں گے‘ ہمارے لوگوں کو اس حقیقت کا ادارک نہیں ہو رہا‘ یہ آج بھی سرکاری نوکری کی تلاش میں سرگرداں ہیں‘ کیوں؟ کیونکہ سرکاری نوکری برف کی کان ہے‘ آپ اگر ایک بار اس کان میں داخل ہو گئے تو آپ پھر پوری زندگی عیش کرتے ہیں‘ آپ دفتر جائیں یا نہ جائیں‘ آپ کام کریں یا نہ کریں‘ آپ کو تنخواہ بھی مل جاتی ہے اور مراعات بھی اور آپ وقت کے ساتھ ساتھ سینئر بھی ہو جاتے ہیں اور آپ کو اس سینئر ’’ہڈ حرامی‘‘ کا باقاعدہ الائونس بھی ملتا ہے‘ ہم نے کبھی سوچا ہماری اس سوچ کا کیا نتیجہ نکلا‘ اس کا نتہجے ریلوے‘ پی آئی اے‘ اسٹیل مل‘ پی ٹی سی ایل‘ پوسٹ آفس‘ واپڈا اور او جی ڈی ایل جیسے اداروں کے جنازے کی شکل مںم نکلا‘ آپ ان اداروں کے ملازمین کی تعداد اور مراعات دیکھئے اور اس کے بعد کارکردگی دیکھئے‘ کارکردگی صفر‘ منافع زیرو اور تنخواہیں اور مراعات کروڑوں روپے اور یہ کروڑوں روپے اربوں میں تبدیل ہو کر حکومت کے کندھوں پر آگرتے ہیں اور حکومت ترقیاتی منصوبوں کی رقم ان اداروں پر صرف کرنے پر مجبور ہو جاتی ہے۔
آپ صرف پی آئی اے کی مثال لیجیے‘ پی آئی اے کے صرف 32 طیارے اڑ رہے ہیں مگر ملازمین اٹھارہ ہزار ہیں‘ گویا ایک طیارہ 562 ملازمین کو پال رہا ہے اور حکومت اس پرورش کی وجہ سے پی آئی اے کو ہر مہینے 3 ارب روپے دینے پر مجبور ہے‘ پی آئی اے بینکوں کی مقروض بھی ہے اور یہ ہر سال 12 ارب روپے سود ادا کرتی ہے‘ اب سوال یہ ہے اگر اٹھارہ ہزار لوگ مل کر 32 طیارے نہیں چلا سکیں گے تو ریاست ان کا بوجھ کتنی دیر برداشت کرے گی‘ کیا پی آئی اے اٹھارہ ہزار لوگوں کی مالی امداد کے لیے بنائی گئی تھی؟ آپ دل پر ہاتھ رکھ کر جواب دیجیے اگر یہ ادارہ پی آئی اے کے کسی ملازم کی ذاتی ملکیت ہوتا تو کیا وہ ہر مہینے تین ارب روپے کا نقصان برداشت کرتا؟
یہ یقینا اسے تالہ لگا کر گھر بیٹھ جاتا‘ ہم پی آئی اے کو چلنے بھی نہیں دے رہے اور مراعات بھی حاصل کررہے ہیں‘ کیا دنیا میں ایسا ہوتاہے؟ اگر ہاں تو پھر ٹھیک ہے آپ فلائیٹس چودہ چودہ گھنٹے لیٹ کریں‘ آپ جہازوں کے واش رومز تک صاف نہ کریں‘ آپ مسافروں کو باسی کھانا کھلائیں‘ آپ جہازوں کے پرزے نکال کر بیچ دیں‘ آپ پٹرول چوری کر لیں‘ آپ فلائٹ اڑا کر سیٹ پر سو جائیں‘ آپ ہوٹلوں کے کمبل اور تولیے چوری کر لیں‘ آپ کریو کی وردی پہن کر اسمگلنگ کریں‘ آپ مسافروں کو جہاز میں بٹھا کر ہڑتال پر چلے جائیں‘ آپ مسافروں کے جھگڑوں کو عالمی خبر بنا دیں‘ آپ کاغذوں میں جہازوں کے پرزے منگوائیں‘ جہاز کھڑے رہنے دیں اور پرزوں کے کروڑوں روپے جیب میں ڈال لںا اور آپ فلائٹ کے دوران مسافروں کے ساتھ بدتمیزی کریں اور قوم اس کا تاوان برداشت کرتی رہتی ہے‘ ہم سب مل کر آپ کو ہر مہینے تین ارب روپے دیتے رہتے ہیں اور اس وقت تک دیتے رہتے ہیں جب تک ہمارا جنازہ نہیں نکل جاتا‘ یہ اگر غلط ہے تو پھر ہمیں بڑے فیصلے کرنا ہوں گے‘ ہم خود اضافی عملہ فارغ کر دیں‘ ادارے کو کرپشن سے پاک کریں‘ اپنی پرفارمنس بہتر بنائیں اور پی آئی اے کوذاتی ملکیت سمجھیں تو حالات ٹھیک ہو جائیں گے اور اس بہتری کا فائدہ پی آئی اے کے ہر ملازم کو ہوگا‘ ہم اگر یہ نہیں کرتے تو پھر پی آئی اے کے ہر اس ملازم کو نوکری سے فارغ ہو جانا چاہیے جس نے پرفارم نہیں کیا یا جو گدھ بن کر پچھلے کئی برسوں سے اسے نوچ رہا ہے ہم نانا جی کی دکان سے فاتحہ کے لیے لڈو کب تک اٹھاتے رہیں گے‘ ہم کب تک ادھار کا چارہ کھلا کر قومی بھینس کا دودھ پیتے رہیں گے‘ ہمیں اب خدا خوفی بھی کرنی چاہیے۔
کاٹیں گے بھی ہم ہی
جاوید چوہدری بدھ 18 ستمبر 2013
بیگم نجمہ حمید پرانی مسلم لیگی ہیں‘ یہ پنجاب کی سیٹ پر 2009ء میں سینیٹ میں پہنچیں‘ ان کے ایک عزیز اسلام آباد میں کاروبار کرتے ہیں‘ عزیز کو چند ماہ قبل بھتے کی کال موصول ہوئی‘ فون کال افغانستان سے آئی تھی‘ پولیس سے رابطہ کیا گیا مگر پولیس انھیں تحفظ فراہم نہ کر سکی چنانچہ وہ بے چارے دبئی چلے گئے‘ دبئی میں ان کی جان تو بچ گئی مگر ان کا کاروبار‘ ان کے عزیز رشتے دار‘ دوست اور زندگی کی کھٹی میٹھی یادیں پاکستان میں رہ گئیں اور یہ اثاثے کتنے بڑے ہوتے ہیں یہ صرف وہی جان سکتا ہے جس نے جلاوطنی کا عذاب سہا ہو‘ ان صاحب کی جان تو بچ گئی مگر وہ ملک اور اپنے آبائی معاشرے سے دوری کی نفسیاتی تکلیف میں مبتلا ہو گئے‘ یہ دکھ موت کے خوف سے زیادہ تکلیف دہ تھا چنانچہ یہ بھتے کے تین کروڑ روپے ادا کرنے کے لیے رضامند ہوگئے مگر ان کا خیال تھا یہ کیونکہ ایک بار بھتہ دینے سے انکار کر چکے ہیں لہٰذا یہ لوگ بھتہ وصول کرنے کے باوجود ان سے رعایت نہیں کریں گے‘ یہ قتل کر دیے جائیں گے یا پھر انھیں بھتے کے ساتھ ساتھ بغاوت کی قیمت بھی ادا کرنی پڑے گی۔
عزیز نے بیگم نجمہ حمید سے رابطہ کیا اور ان سے عرض کیا ‘میں رقم دینے کے لیے تیار ہوں آپ مجھے زندگی کی ضمانت لے دیں‘ بیگم نجمہ حمید یہ معاملہ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ میں لے گئیں‘ سینیٹر طلحہ محمود اس کمیٹی کے سربراہ ہیں جب کہ وزیراطلاعات و نشریات سیٹر پرویز رشید اور سینیٹر شاہی سید سمیت 13 سینیٹرز اس کے رکن ہیں‘ منگل 17 ستمبر کو کمیٹی کا اجلاس ہوا‘ کمیٹی نے آئی جی اسلام آباد سکندر حیات کو بھی طلب کر رکھا تھا‘ اجلاس کے دوران نجمہ حمید نے آئی جی سے مطالبہ کیا ’’میرے عزیز بھتے کے تین کروڑ دینے کے لیے تیار ہیں‘ کیا پولیس اس ادائیگی کے بعد انھیں تحفظ دے گی‘‘ یہ ایک عجیب مطالبہ تھا‘ آئی جی نے جواب دیا ’’ یہ کالز کیونکہ افغانستان سے آتی ہیں لہٰذا ہم کچھ نہیں کر سکتے‘‘ یہ جواب سن کر نجمہ حمید روتی ہوئی اجلاس سے واک آئوٹ کر گئیں جب کہ شاہی سید نے وہاں ایک تاریخی فقرہ بولا‘ انھوں نے کہا ’’کیا ہم بھتے کو قانونی شکل دینے کے لیے جمع ہوئے ہیں‘‘۔
ہم اگر چند لمحوں کے لیے جذباتیت کو ایک طرف رکھ دیں تو ہمیں بیگم نجمہ حمید اور آئی جی سکندر حیات دونوں کی باتیں درست محسوس ہوں گی‘ ریاست کی رٹ کی حالت یہ ہے بھتہ خور وفاقی دارالحکومت میں تاجروں‘ صنعت کاروں اور سرکاری اہلکاروں کو براہ راست ٹیلی فون کرتے ہیں‘ یہ ان کے گھر خط اور رقعے دے جاتے ہیں اور بعض اوقات اپنے لوگ بھجوا دیتے ہیں‘ تاجر‘ صنعت کار اور سرکاری اہلکار تھانے میں شکایت کرتے ہیں مگر پولیس درخواست جمع کرنے کے سوا کچھ نہیں کر پاتی‘ حالت یہ ہے اکوڑہ خٹک میں ایک غیر ملکی کمپنی کو سال بھر سے ٹیلی فون کالز آ رہی ہیں‘ یہ کالز باقاعدہ ریکارڈ کی گئیں‘ کمپنی کے غیر ملکی سربراہ یہ کالز لے کر وزارت داخلہ کے پاس بھی گئے مگر کچھ نہ ہو سکا‘ فوج نے البتہ سنجیدگی دکھائی‘ بریگیڈیئر صاحب ان کے دفتر جاتے رہے مگر ایک خاص حد کے بعد یہ سرگرمی بھی آگے نہیں بڑھ سکی‘ فیکٹری پر دو بار میزائل بھی داغے گئے اور ان کے دو اہلکار اغواء بھی ہوئے اور یہ باقاعدہ تاوان ادا کر کے رہا ہوئے‘ کمپنی اب صرف سیکیورٹی پر سالانہ 28 کروڑ روپے خرچ کر رہی ہے۔
کمپنی کا کہنا ہے ہم اکیاسی فیصد ٹیکس دیتے ہیں اور اس کے بعد 28 کروڑ روپے سیکیورٹی اور 30 کروڑ روپے سالانہ جنریٹرز پر خرچ کرتے ہیں اور اس کے بعد یہ دھمکیاں اور میزائل حملے بھی برداشت کرتے ہیں‘ ہم اب پاکستان میں کام کیسے کریں گے۔آپ اسلام آباد کے پہلے ملٹی اسٹوری مال کی مثال بھی لیجیے‘ یہ مال سعودی عرب کے ایک دوسرے بڑے گروپ نے بنوایا اور یہ پاکستان میں اس نوعیت کا پہلا کمپلیکس تھا‘ کمپنی ملک کی معاشی صورتحال کی وجہ سے چھ سال میں صرف آدھا منصوبہ مکمل کر سکی‘ مال مکمل ہو گیا اور کھل بھی گیا مگر مال کے پاکستانی پارٹنر کو فون آگیا‘ یہ پریشان ہو گئے‘ بھتے کی رقم کے بارے میں متنازعہ خبریں مشہور ہیں‘ بعض لوگ یہ رقم ایک ارب بتاتے ہیں‘ بعض پچاس کروڑ اور بعض 12 کروڑ۔ یہ افواہ بھی گردش کر رہی ہے یہ صاحب دس کروڑ روپے ادا کر چکے ہیں۔
یہ خبریں یہ باتیںابھی تک غیر مصدقہ ہیں لیکن اس کے باوجود یہ صورتحال انتہائی الارمنگ ہے‘ اسلام آباد کی سبزی منڈی اور پیرودہائی میں بھتہ نیم قانونی شکل اختیار کر چکا ہے‘ ایک سید بادشاہ سبزی منڈی کی ہر ریڑھی سے تیس سے سو روپے روزانہ وصول کرتے ہیں‘ سبزی منڈی میں دو ہزار ریڑھیاں ہیں‘ آپ روزانہ کے بھتے کا اندازہ لگا لیجیے‘ پیرودہائی اڈے کی تمام ریڑھیوں‘ دکانوں اور بسوں سے بھی بھتہ لیا جاتا ہے اور یہ بھتہ باقاعدہ اوپر تک تقسیم ہوتا ہے اور کوئی اس بھتہ مافیا کا ہاتھ نہیں روک سکتا‘ اسلام آباد ہائی کورٹ کے ایکشن کے بعد ایس ایس پی اسلام آباد ڈاکٹر رضوان نے سبزی منڈی میں دیانت دار پولیس اہلکار تعینات کر دیے ہیں‘ نوجوان پولیس آفیسر اے ایس پی شاکر بڑی حد تک صورتحال کنٹرول کرچکے ہیں مگر جب تک بڑے مجرم گرفتار نہیں ہوںگے یہ معاملہ ٹھیک نہیں ہوگا۔
راولپنڈی کی صورتحال اس سے کہیں زیادہ ابتر ہے‘ 18 ماہ کے دوران بھتے کے 45 بڑے واقعات رپورٹ ہوئے‘ ان واقعات میں تاجروں نے 65 کروڑ روپے ادا کیے جب کہ اربوں روپے کے واقعات ابھی تک رپورٹ ہی نہیں ہوئے‘ چار تاجر بھتہ نہ دینے کے جرم میں جان سے ہاتھ دھو چکے ہیں۔یہ وفاقی دارالحکومت اور راولپنڈی کی صورتحال ہے‘ آپ اس صورتحال سے چھوٹے شہروں کے حالات کا بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں‘ چھوٹے قصبوں اور شہروں میں بھی سیکڑوں گروپ بن چکے ہیں‘ یہ لوگ طالبان کے ظہور سے قبل جگا ٹیکس لیتے تھے لیکن طالبان کے آنے کے بعد ان لوگوں نے داڑھیاں رکھ لی ہیں اور یہ اب مختلف مذہبی تنظیموں کی آڑ میں لوگوں سے لاکھوں کروڑوں روپے وصول کر رہے ہیں اور ریاست ان کا ہاتھ نہیں روک پا رہی‘ ملک کے حالات جب یہ ہوں تو بیگم نجمہ حمید کو یقینا اپنے عزیز کی جان بخشی کے لیے سینیٹ کی اسٹینڈنگ کمیٹی برائے داخلہ کے سامنے واویلا کرنا پڑے گا۔
آپ اب پولیس کے موقف کی طرف آئےت‘ قوم کو سینیٹ کی اسٹینڈنگ کمیٹی میں آئی جی اسلام آباد کا بیان برا محسوس ہوا لیکن یہ بیان تلخ ہونے کے باوجود حقیقت پر مبنی ہے‘ ملک کی صورتحال انتہائی گنجلک اور پیچیدہ ہو چکی ہے‘ پولیس کی حالت یہ ہے اس کے پاس کال ٹریس کرنے کے آلات موجود نہیں ہیں‘ یہ سہولت صرف آئی ایس آئی اور آئی بی کے پاس ہے اور پولیس اگر کالز کا ڈیٹا حاصل کرنا چاہے تو یہ ان اداروں کو تحریری خط لکھتی ہے‘ یہ ادارے تحریری درخواست پر دفتری کارروائی مکمل کرتے ہیں اور یوں پولیس کی پندرہ دن بعد ڈیٹا تک رسائی ہوتی ہے اور اس وقت تک مغوی اور اغواء کار بہت دور جا چکے ہوتے ہیں‘ پولیس میں بھتہ اغواء اور اغواء برائے تاوان سے نبٹنے کے لیے کوئی خصوصی یونٹ موجود نہیں‘ پولیس سارا دن ناکوں پر کھڑی رہتی ہے‘ یہ گاڑیوں کی تلاشی لیتی رہتی ہے‘ ان سے سیاہ کاغذ اتارتی ہے‘ خاندانی اور عائلی جھگڑے نبٹاتی ہے‘ چوروں اور ڈاکوئوں کا پیچھا کرتی ہے‘ وی آئی پی کو سیکیورٹی دیتی ہے‘ جلسے اور جلوس روکتی ہے۔
طاقتوروں کے تھپڑ کھاتی ہے اور آخر میں جب سونے کا وقت آتا ہے تو انھیں بھتہ کنٹرول کرنے اور تاجروں کو تحفظ دینے کی ذمے داری سونپ دی جاتی ہے اور یہ ذمے داری سونپنے کے بعد انھیں پیدل تاجر کے گھر روانہ کر دیا جاتا ہے‘ پولیس رائفل اٹھائے تو رائفل کا دستہ غائب ہوتا ہے‘گولی چلانے لگے تو گولی سے بارود نہیں نکلتا اور یہ مجرموں کا پیچھا کرنے لگے تو اس کی غیر سرکاری گاڑی کا پٹرول ختم ہو جاتا ہے اور آپ ساتھ ہی اس سے توقع کرتے ہیں یہ افغانستان سے آنے والی بھتے کی ٹیلی فون کالز بھی ٹریس کرے گی اور یہ دنیا کے جدید ترین اسلحہ سے لیس اور گاڑیوں پر خود کش بمبار بٹھا کر پھرنے والے لوگوں سے نبٹے گی؟ کیا یہ ممکن ہے؟
ہمیں تسلیم کرنا ہو گا ہماری اسٹیٹ کمزور ہو چکی ہے اور جو شخص یہ کمزوری بھانپ جاتا ہے وہ ہاتھ میں ڈنڈا اٹھاتا ہے اور پوری ریاست چپ چاپ اس کے آگے چل پڑتی ہے اور بیگم نجمہ حمید اس ملک میں اپنے عزیز کے لیے تحفظ مانگ رہی ہیں جس میں طالبان جی ایچ کیو‘ پی ایس مہران اور کامرہ ائیر بیس پر حملہ کر دیتے ہیں اور ریاست کے لیے عزت بچانا مشکل ہو جاتاہے‘ ریاست ایک خط اور ایک ٹیلی فون کال پر سزائے موت پر عملدرآمد روک دیتی ہے۔
وزیراعظم قوم سے خطاب میں طالبان کو مذاکرات کی دعوت دیتے ہیں مگر طالبان اس دعوت پر کسی قسم کی گرمجوشی کا اظہار نہیں کرتے اور ملک کی بارہ بڑی سیاسی جماعتیں مل کر متحارب گروپوں سے مذاکرات کا فیصلہ کرتی ہیں مگر چھ دن بعد نہ صرف سوات کے جی او سی میجر جنرل ثناء اللہ نیازی‘ کرنل توصیف اور لانس نائیک عرفان ستار کو راستے میں مائینز بچھا کر اڑا دیا جاتا ہے بلکہ تحریک طالبان پاکستان اس کی ذمے داری بھی قبول کر لیتی ہے اور اس کے بعد طالبان یہ بیان جاری کرتے ہیں’’ مذاکرات ابھی شروع نہیں ہوئے‘ ہم فوج پر حملے جاری رکھیں گے‘‘ ملک کے حالات یہ ہوں اور ہم توقع کریں پولیس کے بے بس جوان کسی تاجر کو تحفظ دیں گے‘کیا یہ مطالبہ بے وقوفوں کے اجتماع میں فاش قہقہہ محسوس نہیں ہوتا‘ ہم سڑے ہوئے گندے خربوزوں کے ڈھیر پر بیٹھے ہیں اور ہم بدبو کا شکوہ بھی کر رہے ہیں‘ ہم کس قدر بے وقوف ہیں اور کیا ہم جیسے بے وقوفوں کے ساتھ یہ سلوک نہیں ہونا چاہیے؟ پانی ہمیشہ پہاڑ کی چوٹی سے نیچے آتا ہے‘ ہم جانتے تھے لیکن ہم نے اس کے باوجود اپنی عمر بھر کی چنی ہوئی کپاس پہاڑ کے دامن میں رکھ دی‘ پانی اب نیچے آ رہا ہے مگر ہم اسے قبول نہیں کر رہے؟ ہم اپنی بے وقوفیوں کی فصل کاٹنے کے لیے تیار کیوں نہیں ہیں‘ اگر فصل ہم نے بوئی تھی تو کاٹیں گے بھی ہم ہی‘ اس کے نتائج بھی ہم ہی بھگتیں گے مگر شاید ہم اس کے لیے تیار نہیں ہیں۔
مذاکرات سے پہلے
جاوید چوہدری پير 16 ستمبر 2013
کیپٹن ہڈسن مہم کا انچارج تھا‘ آخری مغل بادشاہ زندہ تھا‘ ہندوستان کے 25 کروڑ لوگ بادشاہ کا احترام کرتے تھے مگر ہڈسن جانتا تھا ریاست موجود ہے‘ بادشاہ‘ اس کے وزیر اور مشیر بھی موجود ہیں اور مغل سلطنت کا سکہ بھی چل رہا ہے مگر ریاست کی رٹ ختم ہو چکی ہے‘ پولیس ’’ڈس فنکشنل‘‘ ہو چکی ہے‘ فوج میں جان نہیں رہی‘ ملک کے جسٹس سسٹم کو آخری سانس لیے دہائیاں گزر چکی ہیں‘ لوگ اول انصاف کے لیے عدالت نہیں جاتے اور مجبوری کے عالم میں اگر جانا پڑ جائے تو جج پانچ پانچ دس دس سال تک فیصلہ نہیں کر پاتے اور اگر فیصلہ ہو جائے تو اس پر عمل نہیں ہوتا‘ سرکار کے تمام عہدے باقاعدہ نیلام ہوتے ہیں‘ آپ کوتوال بننا چاہتے ہیں تو مرزا مغل سے رابطہ کریں‘ نذرانہ دیں اور کوتوال بن جائیں۔
آپ منشی یا میر منشی بننا چاہتے ہیں تو آپ چھوٹے شہزادے مرزا خضر سے ملیں‘ طلائی سکوں کی تھیلی ان کے سامنے رکھیں اور سرکاری پروانہ لے کر دہلی شہر میں نکل آئیں‘ آپ اگر طاقتور ہیں تو آپ گھوڑے پر سوار ہو کر شہر میں نکلیں اور دس بیس لوگوں کے سر اتار کر گھر چلے جائیں‘ آپ کو کوئی نہیں پوچھے گا اور آپ اگر کمزور‘ مسکین یا غریب ہیں تو مرنا آپ کا مقدر ہے‘ آپ غربت اور بے روزگاری کے ہاتھوں مریں یا پھر کسی شہزادے‘ کسی سرکاری اہلکار کے ترکی گھوڑے کے سموں تلے کچلے جائیں‘ آپ کو بہرحال مرنا ہوگا۔
کیپٹن ہڈسن جانتا تھا ریاست جب اس حد تک کمزور ہو جائے تو لاکھوں کی فوج بھی ملک کو نہیں بچا سکتی‘ 22 ستمبر 1857ء کو بھی یہی ہوا‘ بادشاہ جنگ آزادی کے آخری مرحلے میں شہزادوں کے ساتھ ہمایوں کے مقبرے میں پناہ گزین ہو گیا‘ چھ ہزار سپاہی اور بھاری اسلحہ اس کے ساتھ تھا‘ یہ چھ ہزار سپاہی بادشاہ پر جان دینے کے لیے تیار تھے مگر ہڈسن جانتا تھا‘ اگر کمانڈر میں جان نہ ہو‘ اگر یہ سینہ تان کر سامنے کھڑا نہ ہو تو جانثار ترین سپاہی بھی ساتھ چھوڑ جاتے ہیں چنانچہ اس نے ایک عجیب حرکت کی‘ اس نے صرف تین دیسی سپاہی لیے‘ وہ گھوڑے پر بیٹھا اور سیدھا ہمایوں کے مقبرے پہنچ گیا‘ ضعیف‘ بیمار اور نشے کے ہاتھوں لاچار بادشاہ چھڑی کے سہارے کھڑا تھا‘ وہ اس حد تک کمزور ہو چکا تھا کہ اس کے کندھوں‘ اس کے سر میں لباس فاخرہ اور تاج تیموری اٹھانے کی ہمت نہیں تھی‘ ہندوستان کی عظیم سلطنت اپنے ہی قدموں میں گر کر ختم ہو رہی تھی‘ ہڈسن بادشاہ کے سامنے ’’حاضر‘‘ ہوا‘ جھک کر سلام پیش کیا اور شہنشاہ کو پیش کش کی‘ آپ اگر سرینڈر کر دیں تو میں آپ اور ملکہ عالیہ کی جان بخشی کی ضمانت دیتا ہوں‘‘
آخری مغل شہنشاہ بہادر شاہ ظفر کی عمر اس وقت 82 سال تھی‘ وہ کمر تک قبر میں پہنچ چکا تھا مگر زندگی کی ہوس نے اسے سمجھوتے پر مجبور کر دیا‘ اس نے یہ پیش کش قبول کر لی‘ اس نے اپنی دونوں تلواریں نیاموں سے نکالیں اور کیپٹن ہڈسن کے حوالے کر دیں‘ ایک نادر شاہ درانی کی وہ تاریخی تلوار تھی جو اس نے دہلی سے رخصت ہوتے وقت احمد شاہ رنگیلا کو تحفے میں پیش کی تھی اور دوسری جہانگیر کی وہ تلوار تھی جو ہر مغل بادشاہ کو تاج پوشی کے وقت پیش کی جاتی تھی‘ ہڈسن نے یہ دونوں تلواریں اٹھائیں اور فاتحانہ انداز سے قلعے سے باہر نکل گیا‘ بادشاہ کی تلواریں ہڈسن کے ہاتھ میں دیکھ کر چھ ہزار جانثاروں کے حوصلے زمین سے لگ گئے‘ وہ بادشاہ کی تلواروں میں اپنا مستقبل صاف دیکھ رہے تھے‘ ہڈسن نے دونوں تلواریں کمپنی سرکار کے دفتر پہنچائیں‘ سو مقامی سپاہی ساتھ لیے‘ دوبارہ ہمایوں کے مقبرے پہنچا‘ نوے سپاہیوں کو چھ ہزار مغل فوجیوں کو غیر مسلح کرنے پر لگایا‘ دس مقامی بندے ساتھ لیے‘ دونوں مغل شہزادوں مرزا مغل‘ مرزا خضر اور بہادر شاہ ظفر کے بااثر پوتے مرزا ابوبکر کو گرفتار کیا‘ شہزادوں کو کھلی بگھی میں بٹھایا اور دہلی میں نکل کھڑا ہوا‘ دہلی کے عوام جمع ہو گئے‘ دیکھتے ہی دیکھتے چار ہزار تماشائی جمع ہو گئے‘ لوگ شاہی بگھی کے پیچھے پیچھے چل پڑے ‘ کسی کو شہزادوں کی حمایت میں نعرہ تک لگانے کی جرأت نہ ہوئی‘ یہ قافلہ کوتوالی پہنچ گیا‘
ہڈسن نے شہزادے نیچے اتارے‘ انھیں عوام کے سامنے الف ننگا کیا‘ چار ہزار لوگوں کے سامنے انھیں گولی ماری اور ان کی نعشیں سڑک پر پھینک کر چلا گیا‘ تینوں شہزادوں کی نعشیں کئی دنوں تک سڑک پر پڑی رہیں‘ انھیں گدھ نوچتے اور جانورکاٹتے رہے مگر دہلی شہر میں کسی کو ان کی نعش اٹھانے‘ جنازہ پڑھنے اور دفن کرنے کی جرأت نہ ہوئی‘ دوسری طرف ہڈسن کے نوے سپاہیوں نے چھ ہزار مغل سپاہیوں کو غیر مسلح کیا‘ یہ انھیں ہانک کر شاہی قلعے لے کر آئے اور پھر انھیں سرے عام پھانسی دے دی گئی‘ ان بدنصیبوں مںش سے صرف وہ بچ سکے جن کے لیے اس وقت گورا فوج کو رسی نہ مل سکی‘ بہادر شاہ ظفر کی دونوں تلواریں آج بھی برطانیہ کے شاہی خاندان کے پاس ہیں اور یہ تلواریں انھیں روز بتاتی ہیں ریاست جب کمزور ہوتی ہے تو بادشاہ چھ ہزار مسلح سپاہیوں کے باوجود دشمن کے تین سپاہیوں کے سامنے سرینڈر کر دیتے ہیں‘ ہڈسن کے دس سپاہیوں نے بھی ثابت کر دیا‘ ریاست میں جان نہ ہو تو دس سپاہی شہزادوں کو چار ہزار لوگوں کے سامنے ننگا کر کے گولی مار سکتے ہیں اور کسی کو ان کا ہاتھ روکنے کی جرأت نہیں ہوتی اور انگریز فوج کے نوے سپاہیوں نے دنیا بھر کے فاتین کو پیغام دے دیا ریاست میں توانائی نہیں بچتی تو چھ ہزار مسلح فوجی دشمن کے نوے فوجیوں کے سامنے ہتھیار ڈال دیتے ہیں اور جان بچانے کے لیے جان گنوا بیٹھتے ہیں۔
یہ 22 ستمبر 1857ء کا ہندوستان تھا‘ ایک کیپٹن ہڈسن نے مغل سلطنت کا ہزار سالہ سورج ہمایوں کے مقبرے میں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے دفن کر دیا‘ آپ اگر دہلی میں ہمایوں کے مقبرے پر جائیں تو آپ کو اس کی ہر دیوار پر تاریخ کا یہ سبق لکھا ملے گا اگر ریاست اپنی رٹ کھو بیٹھے تو دشمن کی صفوں میں پھوٹنے والی بغاوتیں بھی ریاست کو ڈوبنے سے نہیں بچا سکتیں‘ ہم پاکستانی ریاست کے باسی دنیا کی تاریخ سے سبق نہیں سیکھتے‘ نہ سیکھیں مگر ہم 1857ء سے تو بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں‘ ہم ہمایوں کے مقبرے کی دیواروں اور کوتوالی کے پتھریلے راستے پر لکھی تاریخ سے تو کچھ سیکھ سکتے ہیں اور یہ تاریخ آج چیخ چیخ کر کہہ رہی ہے ریاست کی رٹ حکمرانوں‘ بادشاہوں اور فوجوں سے زیادہ مضبوط ہوتی ہے اور ریاست اگر یہ رٹ کھو دے تو دنیا کی سب سے بڑی فوج اور ساڑھے نو ہزار جوہری بم بھی سوویت یونین کو ٹوٹنے سے نہیں بچا سکتے‘ ہمارے حکمران اگر آج صرف 1857ء کی جنگ آزادی کا تجزیہ کر لیں تو انھیں اس میں دہشت گردی کے خلاف جنگ کے سارے رنگ نظر آ جائیں گے‘ یہ چند لمحوں میں جان جائیں گے‘ ملک میں شدت پسندوں کے گروپ کیوں بن رہے ہیں۔
یہ لوگ ملک کے مختلف حصوں میں قابض کیوں ہو رہے ہیں‘ انھیں خود کش بمبار اور خودکش حملہ آور کیوں مل رہے ہیں‘ یہ 69 گروپ کیوں بن چکے ہیں اور ان میں سے ہر گروپ فوجی بریگیڈ کی شکل کیوں اختیار کر چکا ہے‘ صنعت کار پرچیوں اور ٹیلی فونوں پر انھیں کروڑوں روپے کیوں دے دیتے ہیں‘ ہماری پولیس اور فوج ان کا راستہ کیوں نہیں روک پاتی اور ریاست اپنی تمام تر طاقت کے باوجود ان کے سامنے سرینڈر کیوں کر رہی ہے‘ آپ چند لمحوں میں جان جائیں گے ریاست جب جی ایچ کیو کی حفاظت نہ کر سکے‘ یہ پی ایس مہران‘ کامرہ ائیر بیس اور آرڈیننس فیکٹری کو نہ بچا سکے‘ ملک میں جب خفیہ اداروں‘ پولیس اسٹیشنز اور ٹریننگ کیمپوں پر کامیاب حملے ہو جائیں‘ شدت پسند جب سرکاری اہلکاروں کو دفتروں سے اغواء کر کے لے جائیں اور ریاست اپنے لوگوں کو چھڑا نہ سکے اور طالبان جب گومل زام ڈیم پر کام کرنے والے سات اہلکاروں کو اٹھا کر لے جائیں اور ریاست دو سال تک انھیں رہا نہ کرا سکے اور آخر میں رہائی کے لیے اڑھائی کروڑ روپے ادا کرنے پر مجبور ہو جائے تو پھر جی او سی مالاکنڈ میجر جنرل ثناء اللہ پر حملہ کیوں نہیں ہوگا اور یہ لیفٹیننٹ کرنل توصیف اور لانس نائیک عرفان کے ساتھ شہید کیوں نہیں ہوں گے۔
ریاست کی حالت یہ ہے سندھ حکومت خواہش اور کوشش کے باوجود کراچی کو جرائم پیشہ عناصر سے پاک نہیں کر پا رہی‘ ایک اکیلا سکندر چھ گھنٹے تک پورے اسلام آباد کے سسٹم کی دھجیاں بکھیر جاتا ہے‘ لاہور میں پانچ سال کی بچی کو اغواء کر کے درندگی کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور شام کے وقت اسپتال میں پھینک دیا جاتا ہے اور ریاست تین دن گزرنے کے بعد بھی مجرم تلاش نہیں کرپاتی اور وفاقی دارالحکومت کی سبزی منڈی اور پیرودہائی اڈے سے روزانہ پانچ لاکھ روپے بھتہ وصول کیا جاتا ہے اور حکومت وفاقی دارالحکومت میں یہ بھتہ کنٹرول نہیں کر پاتی‘ میرے آبائی ضلع گجرات میں ڈاکٹروں سے بھتہ طلب کیا جاتا ہے اور انکار کرنے والے ڈاکٹروں کو ان کے کلینک میں گولی مار دی جاتی ہے مگر پولیس اور ضلیک انتظامیہ نام اور پتے معلوم ہونے کے باوجود ملزموں کو گرفتار نہیں کر پاتی‘ مجرم جیلوں سے بھاگ جاتے ہیں اور انتظامیہ بے بسی سے ایک دوسرے کی شکلیں دیکھتی رہ جاتی ہے‘ مجرم عدالت میں کھڑے ہو کر جج سے کہتے ہیں ہمیں آپ کا ایڈریس اور بچوں کے اسکولوں کا علم ہے‘ آپ فیصلہ دیں اور پھر ہمارا انصاف دیکھیں اور جج مقدمے سے دستبردار ہو جاتے ہیں۔
ریاست کی حالت یہ ہے ایک کال اور ایک خط کے بعد حکومت پھانسی کی سزا پر عملدرآمد روک دیتی ہے اور پولیس اور فوج کے اپنے اہلکار سیکیورٹی کے بغیر گھر اور دفتر سے نہیں نکل سکتے‘ ملک کی جب یہ حالت ہو گی تو طالبان یقینا میجر جنرل کو شہید کر کے ذمے داری بھی قبول کریں گے اور فاٹا سے فوج کی واپسی اور طالبان ساتھیوں کی رہائی کا مطالبہ بھی اور ریاست کے پاس یہ مطالبات ماننے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہو گا‘ ریاست جب کمزور پڑتی ہے تو یہ دس دس فوجیوں کے سامنے گھٹنے ٹیک دیتی ہے جب کہ طالبان کے 69 گروپ ہیں اور ان کی تعداد سوا لاکھ ہے‘ ہم ان کے سامنے کب تک ٹھہریں گے؟ ہم اگر آج بھی سنبھل جائیں‘ہم مذاکرات سے پہلے ریاست کی رٹ پر توجہ دیں‘ لڑنے والوں سے لڑیں اور صلح کرنے والوں سے صلح کریں‘ یہ ملک بچ جائے گا ورنہ دوسری صورت میں ہمارے حکمران بہادر شاہ ظفر بن جائیں گے اور پاکستان 1857ء کا ہندوستان‘ ہم شہزادوں کے سر اور تلواریں دے کر جان بچائیں گے۔
جواب چائے
جاوید چوہدری جمعرات 12 ستمبر 2013
امیر تیمور نے چودھویں صدی کے شروع میں بخارا فتح کیا‘ یہ بخارا پہنچا تو اسے زیادہ مزاحمت کا سامنا نہیں کرنا پڑا‘ تیمور نے وجہ معلوم کی تو پتہ چلا‘ یہ جنگ بخارا کے عوام نے چائے کی وجہ سے ہار دی ‘ بخارا میں ایک خاص قسم کا قہوہ پیا جاتا تھا‘ یہ سیاہ رنگ کی پتی سے بنتا ہے اور یہ پرانے زمانوں سے شاہراہ ریشم کے راستے چین سے بخارا پہنچتا تھا اور بخارا سے لے کر ملتان تک پورا علاقہ اس قہوے کا عادی تھا‘ یہ لوگ سارا دن یہ قہوہ پیتے تھے‘ چولہوں پر پتیلوں میں ہر وقت یہ قہوہ ابلتا رہتا تھا اور خاندان بھر کے لوگ سارا دن چھوٹے پیالوں میں یہ قہوہ پیتے تھے‘ امیر تیمور بخارا پہنچا اور امیر بخارا نے عوام سے لڑنے کی درخواست کی تو عوام نے جواب دیا ہم پہلے قہوہ پئیں گے اور پھر جنگ لڑیں گے‘ قہوہ ختم نہ ہو سکا لیکن جنگ ختم ہو گئی اور تیمور نے پورا شہر نیست و نابود کر دیا‘ اس واقعے سے پشتو کا ایک محاورہ بنا‘ مجھے یہ محاورہ تو یاد نہیں مگر اس کا مفہوم یاد ہے ’’ ہم پہلے چائے پئیں گے پھر جنگ لڑیں گے‘‘ یہ محاورہ آج بھی بخارا سے لے کر افغانستان اور افغانستان سے لے کر پشاور تک ان تمام علاقوں میں بولا جاتا ہے جہاں چائے یا قہوہ کثرت سے پیا جاتا ہے‘ افغان چائے کے معاملے میں دنیا کے دوسرے ممالک سے بہت آگے ہیں‘۔
افغانستان میں چائے کا بے تحاشہ استعمال ہوتا ہے‘ یہ لوگ کینیا سے درآمد شدہ بلیک اور گرین ٹی ابالتے ہیں اور یہ جب تک جاگتے رہتے ہیں یہ اس قہوے کے گھونٹ بھرتے رہتے ہیں‘ یہ سفر کے دوران بھی تھرماس میں چائے ڈال کر گھر سے روانہ ہوتے ہیں‘عام افغانی دن میں قہوے کے چالیس پچاس پیالے پی جاتے ہیں‘ قہوہ نوشی کے اس کثرت استعمال کی وجہ سے افغانوں کو عام لوگوں کی نسبت پیشاب زیادہ آتا ہے چنانچہ قہوے کے بعد ان کی دوسری ضرورت پیشاب خانہ یا ٹوائلٹ ہوتی ہے اور باقی دنیا اور اس کے تقاضے ان دونوں ضرورتوں کے بعد آتے ہیں‘ یہ اپنے پیشاب کو چائے کا رد عمل سمجھتے ہیں چنانچہ افغانستان میں پیشاب کو ’’جواب چائے‘‘ کہا جاتا ہے‘ یہ جواب چائے کثرت استعمال اور تیزی سے بولنے کی وجہ سے ’’جاب چائے‘‘ بن چکا ہے لیکن اصل لفظ ’’ جواب چائے‘‘ ہے اور یہ انتہائی خوبصورت اور پرمغز لفظ ہے‘ دنیا میں ہر شخص روزانہ اس مرحلے سے گزرتا ہے مگر کسی شخص‘ کسی قوم نے پیشاب کا اتنا شاعرانہ‘ سائنسی اور صوتی لذتوں سے بھرپور نام نہیں دیا‘ یہ نام نیوٹن کے اس معروف فلسفے کی انتہائی جامع اور خوبصورت تشریح ہے نیوٹن نے جس میں ثابت کیا تھا آپ اگر کوئی ایکشن کریں گے تو اس کا ری ایکشن ضرور ہو گا‘ یہ ری ایکشن دوگنی قوت میں ہو گا اور اس مخالف سمت میں ہوگا جس میں آپ کھڑے ہوں گے‘ نیوٹن پوری زندگی دنیا کو یہ حقیقت فزکس کے ذریعے سمجھانے کی کوشش کرتا رہا مگر افغان نیوٹن کی پیدائش سے دو ہزار سال قبل نہ صرف اس حقیقت سے واقف ہو چکے تھے بلکہ یہ پیشاب کو جواب چائے کا نام دے کر نیوٹن سے آگے نکل گئے۔
ہم زندگی میں جو کرتے ہیں‘ جو بوتے ہیں اور ہمیں جو کرنا چاہیے مگر ہم وہ نہیں کرتے اور ہمیں جو بونا چاہیے اور ہم وقت پر وہ نہیں بوتے‘قدرت ہماری زندگی میں اس کا بدلہ‘ اس کا جواب ضرور دیتی ہے‘ یہ جواب قدرت کی طرف سے ’’جواب چائے‘‘ ہوتا ہے اور ہم یہ جواب چائے بھگت کر دنیا سے رخصت ہوتے ہیں‘ یہ ہو نہیں سکتا ہم پوری زندگی ظلم کرتے رہیں‘ بددیانتی‘ زیادتی اور نالائقی کا مظاہرہ کرتے رہیں اور ہم اور ہماری اولاد اس کا ’’جواب چائے‘‘ بھگتے بغیر عزت سے دنیا سے چلی جائے‘ ہماری اولاد ہمارا بویا ضرور کاٹتی ہے اور آپ اگر قدرت کا یہ اصول سمجھنا چاہتے ہیں تو پھر آپ کوسابق صدر آصف علی زرداری کا آخری انٹرویو دیکھنا چاہیے‘ یہ انٹرویو ملک کے نامور صحافی سہیل وڑائچ نے کیا‘ وہ اپنی گفتگو‘ لہجے اور ڈیل ڈول سے جتنے سادہ لگتے ہیں‘ یہ اس سے کہیں زیادہ زیرک‘ ذہین‘ محنتی اور باکردار صحافی ہیں۔
قوم نے سابق صدر کو اس کے انٹرویو میں کہتے سنا ’’ پولیس اور فوج مجھے سیکیورٹی فراہم نہیں کر سکتی‘ میں اپنی سیکیورٹی کا خود بندوبست کروں گا‘‘صدر پاکستان کے یہ الفاظ ان کی گورننس کے پچھلے پانچ برسوں کا ’’جواب چائے‘‘ ہے‘ آپ نے اگر پانچ برسوں میں گورننس پر توجہ دی ہوتی‘ آپ نے اگر لاء اینڈ آرڈر کا مسئلہ حل کیا ہوتا‘ آپ نے اگر ملک سے دہشت گردی ختم کر دی ہوتی‘ آپ نے اگر پولیس‘ رینجرز اور فوج پر توجہ دی ہوتی‘ آپ نے اگر ملک کو پرامن بنا دیا ہوتا تو آج آپ کو اپنی حفاظت کی ذمے داری خود نہ اٹھانا پڑتی‘ یہ ریاست عام شہریوں کے ساتھ ساتھ آپ کو بھی سیکیورٹی فراہم کرتی اور آپ لاہور میں مال روڈ پر گارڈز کے بغیر پیدل پھرتے‘ آپ ایم ایم عالم روڈ پر کھانا کھاتے اورآپ اپنی گاڑی خود ڈرائیو کر کے بلاول ہاؤس جاتے‘ آپ کراچی شہر میں اکیلے نکل جاتے‘ آپ سی ویو پر جاتے‘ آپ صدر کے شاپنگ سٹرم وں میں اکیلے پھرتے اور آپ ایک گاڑی میں اکیلے کراچی سے لاڑکانہ چلے جاتے اور آپ کو راستے میں کسی شخص سے کسی قسم کا خوف نہ ہوتا مگر آپ نے کیونکہ اس پر توجہ ہی نہیں دی‘ آپ نے کیونکہ سیکیورٹی کو مسئلہ ہی نہیں سمجھا چنانچہ آج آپ کو پولیس اور فوج تک پر بھروسہ نہیں‘ آپ لاہور شہر میں نکل سکتے ہیں اور نہ ہی کراچی میں اور آپ نہ ہی اکیلے گڑھی خدا بخش اورلاڑکانہ جا سکتے ہیں۔
آپ اس لیاری تک میں قدم نہیں رکھ سکتے جسے بھٹو کا قلعہ کہا جاتا تھا اور آج بھی جس کے بارے میں دعویٰ کیا جاتا ہے‘لیاری سے صرف بھٹو کا کھمبا جیت سکتا ہے‘ آپ اس ملک میں کوئی ایک ایسی جگہ بتائیے آپ جہاں محفوظ ہیں‘ آپ کو جہاں ذاتی سیکیورٹی نہیں چاہیے‘ یہ آپ کا اپنا ملک ہے اور آپ ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کے سربراہ ہیں لیکن آپ اپنے ملک کی کسی گلی میں محفوظ نہیں ہیں‘ آپ لندن‘ پیرس اور نیو یارک جیسے اجنبی شہروں میں جاتے ہیں تو آپ کو وہاں سیکیورٹی درکار ہوتی ہے اور نہ ہی پروٹوکول‘ آپ مین ہیٹن کی گلیوں اور ریستورانوں میں اکیلے چلے جاتے ہیں‘ آپ لندن کی آکسفورڈ اسٹریٹ میں پیدل شاپنگ کرتے ہیں اور آپ دوبئی میں اپنی گاڑی خود ڈرائیو کرتے ہیں‘ آپ کو وہاں کسی شخص سے کوئی خطرہ نہیں ہوتا مگر آپ کو اپنے ملک میں اپنے لوگوں پر یقین ہے اور نہ ہی پولیس اور فوج پر اور یہ آپ کی گورننس کا ’’جواب چائے‘‘ ہے‘ کاش آپ نے ملک پر توجہ دی ہوتی‘ آپ نے اس ملک کو اپنا ملک اور اس کے عوام کو اپنے عوام سمجھا ہوتا یا آپ نے اہل ترین لوگوں کو اہم ترین پوزیشنوں پر تعینات کیا ہوتا تو آج یہ صورتحال نہ ہوتی۔
آج یوسف رضا گیلانی کا بیٹا اغواء نہ ہوتا اور اس کی بازیابی کے لیے انھیں میاں نواز شریف‘ میاں شہباز شریف اور مولانا سمیع الحق کی منتیں نہ کرنا پڑتیں اور راجہ پرویز اشرف کو عوام سے منہ نہ چھپانا پڑتا‘ یہ عزت‘ آبرو اور اعتماد کے ساتھ اسلام آباد کی سڑکوں پر نکلتے اور لوگ ان کے ہاتھ چومتے لیکن آپ کیونکہ صرف پانچ سال پورے کرتے رہے ہیں اور آپ ان پانچ برسوں میں اپنے ذاتی مفادات کی دیواریں پکی کرتے رہے چنانچہ آج آپ کو اپنے ہی ملک میں سیکیورٹی بھی چاہیے اور پروٹوکول بھی‘ آپ ’’جواب چائے‘‘ کی انتہا ملاحظہ کیجیے‘ چوہدری شجاعت حسین ملک پر دس سال بلاشرکت غیرے حکمران رہے لیکن یہ آج پنجاب حکومت سے اسلام آباد میں اپنی رہائش گاہ کی حفاظت کے لیے پولیس مانگتے ہیں اور وزیراعلیٰ پنجاب انھیں دوبارہ 3 سب انسپکٹر اور 13 کانسٹیبل فراہم کر دیتے ہیں‘ پنجاب حکومت چوہدری صاحب کو تیرہ سال سیکیورٹی فراہم کرتی رہی‘ حکومت نے دو دن قبل پنجاب پولیس ان کے گھر سے واپس لے لی تھی‘ حکومت چوہدری شجاعت کو یہ ’’حفاظتی اسکواڈ‘‘ کن خدمات کے عوض فراہم کر رہی ہے؟ پولیس شہر سے جیب تراش تو پکڑ نہیں سکتی مگر وی وی آئی پیز کے دروازوں پر یونیفارم پہن کر کھڑی ہو جاتی ہے‘ چوہدری شجاعت کا کیا کنٹری بیوشن تھا جس کے عوض انھیں یہ وی وی آئی پی سہولتیں دی جارہی ہیں‘ کیا ان کا یہ کنٹری بیوشن تھا جس کے جواب چائے میں آج ملک کے سابق صدر کو پولیس اور فوج تک پر اعتماد نہیں اور یہ ذاتی محافظوں کی تلاش میں سرگرداں ہیں۔
خدا خوفی کریں اور آج سے اپنے کارناموں‘ اپنی کارکردگی کا ’’جواب چائے‘‘ بھگتیں‘ آپ اگر ملک کو13برسوں میں امن نہیں دے سکے تو پھر آپ کو اس ملک پر حکومت کرنے‘ سیاست کرنے اور اس ملک میں رہنے کا کوئی حق نہیں‘ یہ ملک مزید وائسرائے برداشت نہیں کر سکتا کہ آپ اپوزیشن کے دن محلات‘ دوبئی‘ سعودی عرب‘ لندن اور نیویارک میں گزاریں‘ الیکشن سے قبل ملک میں آئیں‘ اپنے اپنے شہیدوں اور جرنیلوں کے جھنڈے اٹھائیں‘ الیکشن جیتیں‘ پانچ سال ملک کو دونوں ہاتھوں سے لوٹیں اور لوٹنے کی آئینی مدت پوری کر کے ذاتی محافظوں کی حفاظت میں ملک سے باہر چلے جائیں یا اپنے محلات میں دوبارہ محصور ہو جائیں اور عوام کو اپنے اقتدار کی ’’جواب چائے‘‘ بھگتنے کے لیے سڑکوں پر کھلا چھوڑ دیں‘ میاں نواز شریف صدر زرداری کی آج کی حالت سے سبق سیکھیں کیونکہ اگر انھوں نے بھی ملک کی سمت درست نہ کی تو یہ بھی اپنی حفاظت کے لیے ذاتی فوج بھرتی کرنے پر مجبور ہو جائیں گے اور ملک ذاتی افواج کی چھاؤنی بن جائے گا جس میں ہر طاقتور دوسرے کے سرپر بندروق رکھ کر بیٹھ جائے گا اور یہ ہم سب کی نالائقیوں کا ’’جواب چائے‘‘ ہو گا۔
اللہ کے کرم کے دروازے
جاوید چوہدری ہفتہ 7 ستمبر 2013
ملک ریاض پچھلے بیس برسوں سے ’’لائم لائٹ‘‘ میں ہیں‘ یہ ہر حکومت میں متنازعہ ہوتے ہیں‘ یہ میڈیا‘ پارلیمنٹ‘ بیورو کریسی اور سیاسی جماعتوں میں زیر بحث رہتے ہیں‘ لوگ ان پر تنقید کرتے ہیں‘ حکومتیں انھیں نقصان پہنچانے کی کوشش کرتی ہیں‘ ان کے وارنٹ بھی جاری ہو جاتے ہیں اور ان کی گرفتاری کے لیے چھاپے بھی شروع ہو جاتے ہیں مگر پھر ایک خاص حد کے بعد یہ تمام کارروائیاں رک جاتی ہیں اور پھر ان کے خلاف کارروائی کا حکم دینے والے‘ ان کے خلاف چھاپے مارنے والے‘ ان پر تنقید کرنے والے اور انھیں برا بھلا کہنے والے ان کے دوست بن جاتے ہیں‘ یہ ان کے ڈرائنگ روم‘ ان کے دفتر اور ان کے ڈائننگ روم میں بیٹھے ہوتے ہیں‘ میں نے اپنی بیالیس سال کی عمر اور 20 سالہ صحافتی کیریئر میں کسی شخص کو ان سے زیادہ متنازعہ اور ان سے زیادہ دبائو میں نہیں دیکھا مگر یہ اس کے باوجود قائم رہتے ہیں‘ یہ کھڑے رہتے ہیں‘ یہ ایک وقت میں کسی سیاسی جماعت کے ولن ہوتے ہیں اور دوسرے وقت میں وہی جماعت اور اس کی قیادت انھیں اپنا ہیرو مان لیتی ہے۔
ان پر زمینوں پر قبضے اور قتل تک کے مقدمے درج ہوتے ہیں مگر یہ ہر بحران سے بڑی آسانی سے نکل آتے ہیں‘ محترمہ بے نظیر بھٹو ہوں‘ میاں نواز شریف ہوں یا پھر جنرل پرویز مشرف ہوں ملک کا ہر حکمران اپنے اقتدار کا آغاز ملک ریاض کے خلاف کارروائی سے کرتا ہے مگر چند دنوں بعد ملک ریاض اس کے سب سے قریبی دوست ہوتے ہیں‘ کیوں؟ یہ وہ سوال ہے جو اس تحریر کا محرک بنا‘ میں اگر ملک ریاض کو قریب سے نہ جانتا تو شاید میں بھی ملک کے ہزاروں لاکھوں لوگوں کی طرح اس غلط فہمی کا شکار ہو جاتا کہ یہ لوگوں کو خرید لیتے ہیں یا ملک کے بڑے بڑے لوگ ان کے ’’ پے رول‘‘ پر ہیں یا یہ سیاست اور بیورو کریسی کو ٹھیکیداری نظام کے تحت چلا رہے ہیں وغیرہ وغیرہ مگر میں جس ملک ریاض کو جانتا ہوں یہ اس کی سلامتی‘ اس کے بچائو اور اس پر اللہ کے کرم کی ہرگز وجہ نہیں‘ پیسہ یا رسوخ ملک ریاض کے تمام سیاسی‘ فوجی‘ کاروباری اور بیوروکریٹ دوستوں کا ایشو نہیں ہوتا‘ محترمہ بے نظیر بھٹو‘ میاں نواز شریف‘ چوہدری شجاعت حسین اور جنرل پرویز مشرف کو صرف پیسوں کے لیے ملک ریاض سے دوستی کی کیا ضرورت تھی؟
یہ لوگ خود کھربوں میں کھیلتے ہیں یا کھیلتے تھے اور یہ صرف ایک دستخط کے ذریعے ملک ریاض کی کل دولت سے دوگنا پیسہ کما سکتے ہیں یا کما سکتے تھے پھر انھیں صرف پیسوں کے لیے ملک ریاض کو دوست بنانے کی کیا ضرورت ہے؟ یہ اثر و رسوخ میں بھی ملک ریاض سے بہت آگے ہیں‘ آپ خود سوچئے جن لوگوں کے لیے سعودی شاہ سے لے کر امریکی صدر تک کے دروازے کھل جاتے ہیں یا جو پورے ملک کا قانون یا آئین بدل سکتے ہیں یا جو ایک حکم کے ذریعے اپنی مرضی کے شخص کو آرمی چیف‘ چیف جسٹس‘ چیئرمین نیب‘ آئی جی اور چیف سیکریٹری بنا سکتے ہیں یا جو کسی شخص کو بھی وزارت‘ سفارت اور صدارت دے سکتے ہیں‘ ان لوگوں کو رسوخ کے لیے ملک ریاض کو دوست بنانے کی کیا ضرورت ہے اور یہ لوگ دانش وری اور دانش مندی میں بھی ملک ریاض سے بہت آگے ہیں‘ یہ دنیا کے کسی بھی دانش ور‘ ماہر اور ذہین شخص کی سروسز حاصل کر سکتے ہیں۔
محترمہ بے نظیر بھٹو نے مارک سیگل جیسے شخص کو اپنا پبلک ریلیشنز آفیسر بنا رکھا تھا اور جان کیری میاں نواز شریف کی لابنگ کر رہے ہیں اور دنیا بھر کے ذہین اور فطین لوگ جنرل پرویز مشرف کا جھنڈا اٹھا کر پھرتے تھے لہٰذا پھر ان لوگوں کو میٹرک پاس ملک ریاض کی کیا ضرورت ہے؟ اور ملک ریاض کسی سیاسی جماعت کو ایک دو کروڑ ووٹ بھی لے کر نہیں دے سکتے چنانچہ پھر ان تعلقات اور آفتوں سے بچائو کی وجہ کیا ہے؟۔
یہ وجہ بہت دلچسپ اور دنیا کا قدیم ترین نسخہ ہے‘ ملک ریاض ملک میں سب سے زیادہ چیریٹی کرنے والے شخص ہیں‘ یہ دنیا کے ہر شخص کو انکار کر سکتے ہیں مگر اللہ کے نام پر پھیلے ہاتھ کو واپس نہیں کرتے‘ انھوں نے چیریٹی کو باقاعدہ سسٹم کی شکل دے دی ہے‘ ملک ریاض نے دو فنڈز بنا رکھے ہیں‘ یہ ایک فنڈ میں بینکوں سے حاصل ہونے والا سارا منافع ڈال دیتے ہیں‘ یہ منافع ویلفیئر کے مختلف کاموں پر خرچ ہو جاتا ہے‘ دوسرا فنڈ ان کے روزانہ کے منافع یا اخراجات سے منسلک ہے‘ ان کی کسی بھی اسکیم میں جہاں بھی ایک کروڑ روپے کی ٹرانزیکشن ہوتی ہے‘ یہ اس میں سے دو لاکھ روپے الگ کر دیتے ہیں اور یہ رقم سیدھی اس فنڈ میں چلی جاتی ہے‘ یہ اس فنڈ سے بعد ازاں چیریٹی اسپتال چلاتے ہیں‘ ملک بھر میں قائم 55 دستر خوان چلاتے ہیں‘ اولڈ ہومز‘ آرفن ہومز اور غریب بچوں کے اسکول چلاتے ہیں اور غریب بچیوں کو جہیز فراہم کرتے ہیں‘ اس فنڈ میں 48 کروڑ روپے ہیں‘ یہ فنڈ روزانہ خرچ ہوتا ہے مگر یہ کم نہیں ہوتا‘ اس میں کسی نہ کسی طرف سے رقم آ جاتی ہے اور یوں ضرورت مندوں کی مدد کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔
ملک ریاض کے دو تازہ ترین کارناموں نے مجھے حیران کر دیا اور یہ کارنامے اس کالم کی دوسری بڑی بنیاد ہیں‘ ہمارے ملک میں ہارٹ اٹیکس کے بعد برین ہیمرج دوسری بڑی ایمرجنسی ہے‘ ہم روز خبریں سنتے یا پڑھتے ہیں فلاں شخص کے دماغ کی نس پھٹ گئی اور وہ دنیا سے رخصت ہو گیا‘ برین ہیمرج کے ساٹھ فیصد کیسوں میں ہلاکت ہو جاتی ہے جب کہ باقی چالیس فیصد مریض فالج کا شکار ہو جاتے ہیں اور یہ باقی زندگی بستر پر سسک سسک کر جان دے دیتے ہیں‘ ملک ریاض نے لاہور میں برین ہیمرج ایمرجنسی بنا دی ہے‘ ان کی والدہ کا نام بیگم اختر رخسانہ تھا‘ ملک ریاض نے ان کے نام سے لاہور اور راولپنڈی میں میموریل اسپتال بنائے ہیں‘ لاہور کے بیگم اختر رخسانہ میموریل اسپتال کے لیے نیورالوجسٹ ڈاکٹر قاسم بشیر کی خدمات حاصل کی گئی ہیں‘ یہ امریکا میں کام کرتے تھے‘ ملک صاحب انھیں وہاں سے پاکستان لے آئے ہیں‘ ڈاکٹر صاحب نے دماغ کی پھٹی ہوئی نسیں بند کرنے اور دماغ کو خون سپلائی کرنے والی رگیں کھولنے کا طریقہ ایجاد کر لیا ہے۔
یہ اینجیو پلاسٹی کی طرح برین ہیمرج کے شکار مریض کی رگ میں باریک تار ڈالتے ہیں‘ یہ تار دماغ میں پہنچ کر پھٹی ہوئی نس کو بند کر دیتی ہے اور خون کی بند سپلائی کھول دیتی ہے‘ اس طریقہ علاج کی وجہ سے مریض کی جان بھی بچ جاتی ہے اور یہ مفلوج ہونے سے بھی محفوظ رہتا ہے‘ برین ہیمرج کا شکار شخص اگر حملے کے تین گھنٹے کے اندر بیگم اختر رخسانہ میموریل اسپتال پہنچ جائے تو اس کی جان بچ جاتی ہے‘ یہ پاکستان میں اس نوعیت کا پہلا سینٹر ہے‘ میری لاہور کے گرد و نواح میں رہنے والے لوگوں سے درخواست ہے اگر آپ کے کسی عزیز کو برین ہیمرج ہو جائے یا آپ کو اطلاع ملے تو آپ اس مریض کو فوری طور پر ملک ریاض کے اسپتال پہنچا دیں‘ اسپتال مںل مریض کا مفت علاج ہو گا‘ میری ملک کے دوسرے مخیر حضرات یا وہ حضرات جو چیریٹی اسپتال چلا رہے ہیں ان سے درخواست ہے آپ اپنے ڈاکٹروں کو ڈاکٹر قاسم بشیر کے پاس بھجوائیں‘ ڈاکٹروں کو ٹریننگ دلوائیں اور اپنے اسپتالوں میں برین ہیمرج یونٹ قائم کروائیں اس سے ہزاروں لاکھوں لوگوں کا بھلا ہو گا اور اللہ تعالیٰ آپ کو اجر عطا کرے گا۔
ملک ریاض کا دوسرا کارنامہ گونگے بہرے بچوں کی سماعت اور گویائی لوٹانا ہے‘ دنیا میں سماعت سے محروم بچے گویائی کی نعمت سے بھی محروم ہوتے ہیں‘ یہ بچے اگر سن سکیں تو یہ بولنا بھی سیکھ لیتے ہیں‘ مانچسٹر کے ایک ڈاکٹر اور ایک برطانوی کمپنی نے اس طبی مسئلے کا حل ایجاد کر لیا ہے‘ انھوں نے ایک ایسا آلہ ایجاد کر لیا ہے جس کے ذریعے قوت سماعت سے محروم بچے سننے کے قابل بن جاتے ہیں‘ ملک صاحب اس ڈاکٹر کو پاکستان بلاتے رہتے ہیں‘ یہ ڈاکٹر بچوں کے کان میں آلہ لگا دیتا ہے اور یوں سماعت سے محروم بچے سننے کے قابل ہو جاتے ہیں‘ اس علاج پر شروع میں 22 لاکھ روپے خرچ آتا تھا لیکن یہ اب چودہ پندرہ لاکھ روپے میں ممکن ہو چکا ہے‘ ملک صاحب یہ علاج فری کرواتے ہیں‘ یہ اب تک درجن بھر بچوں کو سماعت کی نعمت لوٹا چکے ہیں۔
آپ کا بچہ بیں اگر سماعت سے محروم ہے اور آپ اس کا علاج افورڈ نہیں کر سکتے تو آپ بیگم اختر رخسانہ اسپتال لاہور میں ڈاکٹر جواد سے رابطہ کر سکتے ہیں‘ یہ لوگ یقینا آپ کی مدد کریں گے‘ ملک کے دوسرے مخیر حضرات بھی یہ ٹیکنالوجی حاصل کر کے ایسے سینٹر بنوا سکتے ہیں‘ ہم لوگ اگر ہزار بچوں کو بھی ٹھیک کرا دیں تو یہ کمال ہو گا‘ ملک ریاض ملک میں پہلی ہیلی کاپٹر ایمبولینس سروس بھی شروع کر رہے ہیں‘ یہ دو ایمبولینس ہیلی کاپٹر خرید چکے ہیں اور یہ ہیلی کاپٹر شروع میں موٹر وے پر حادثات کے لیے فری سروس فراہم کریں گے‘ یہ آہستہ آہستہ اس سروس کو دوسرے علاقوں تک بھی پھیلا دیں گے‘ ملک کے دیگر مخیر حضرات بھی ایسی ہیلی کاپٹر سروس شروع کر سکتے ہیں جس کا عام لوگوں کو فائدہ ہو گا۔
ملک ریاض چیریٹی کے معاملے میں اس قدر کھلے دل کے انسان ہیں کہ میں نے 4 اگست 2013ء کو کاروان علم فائونڈیشن کے لیے کالم لکھا تھا‘ فائونڈیشن کو طلبہ کے اسکالر شپس کے لیے 3 کروڑ روپے چاہیے تھے‘ ملک ریاض نے ان تمام طالب علموں کی ذمے داری اٹھا لی‘ یہ ان بچوں کو براہ راست وظیفہ دیں گے اور یہ وہ نسخہ ہے جس کی وجہ سے ملک ریاض ہر مصیبت سے بھی بچ جاتے ہیں اور ان کے بڑے سے بڑے دشمن بھی ان کے دوست بن جاتے ہیں‘ ہمارے ملک میں ملک ریاض جیسے درجنوں امیر لوگ ہیں مگر یہ حوصلے میں ان سے بہت پیچھے ہیں چنانچہ کوئی ایک مصیبت انھیں زمین کے ساتھ لگا دیتی ہے جب کہ ملک ریاض مسائل کے ہر قسم کے کیچڑ سے سلامت نکل جاتے ہیں‘ آپ بھی برین ہیمرج کا ایک سینٹر بنائیں یا کسی ایک گونگے بہرے بچے کو آواز کی لذت سے روشناس کروائیں آپ پر بھی اللہ تعالیٰ کے کرم کے دروازے کھل جائیں گے کیونکہ اللہ تعالیٰ انسانوں پر مہربانی کرنے والوں کو کبھی اپنی مہربانی سے محروم نہیں کرتا۔
چوہدری نثار کے لیے
جاوید چوہدری جمعرات 5 ستمبر 2013
آپ اگر کراچی میں ہیں تو آپ کو اصل خطرہ قاتلوں‘ ڈکیتوں اور جرائم پیشہ لوگوں کے بجائے موٹر سائیکل سے ہو گا‘ کراچی شہر میں بیس لاکھ موٹر سائیکل ہیں‘ پندرہ لاکھ رجسٹرڈ اور پانچ لاکھ ان رجسٹرڈ‘ا سمگلڈ‘ چوری شدہ یا پھر دوسرے شہروں کی نمبر پلیٹ یافتہ۔ یہ موٹر سائیکل شہر کی نوے فیصد وارداتوں میں استعمال ہوتے ہیں‘ کراچی میں ٹریفک کاایشو رہتا ہے‘ شاہراہوں پر کسی بھی وقت ٹریفک پھنس جاتی ہے اور یہ ٹریفک پانچ پانچ گھنٹے الجھی رہتی ہے چنانچہ جرائم پیشہ افراد گاڑی استعمال نہیں کرسکتے‘ یہ جانتے ہیں‘ یہ واردات کے بعد فرار ہونے کی کوشش کریں گے‘ گاڑی کسی بڑی شاہراہ پر پہنچے گی اور اس دوران اگر ٹریفک بلاک ہو گئی تو یہ پکڑے جائیں گے لہٰذا موٹر سائیکل ان کے لیے جرم کا مفید ترین ذریعہ رہ جاتا ہے‘ یہ دو دو‘ تین تین کی ٹولیوں میں موٹر سائیکلوں پر آتے ہیں۔
کسی بھی سڑک پر ٹارگٹ کو روکتے ہیں‘ اسے گولی مارتے ہیں‘ موٹر سائیکل پر سوار ہوتے ہیں اور کراچی کی گلیوں میں غائب ہو جاتے ہیں‘ یہ لوگ کریکر‘ بم اور گرنیڈ بھی موٹر سائیکلوں کے ذریعے پھینکتے ہیں‘ یہ بازاروں‘ مارکیٹوں‘ شاپنگ سینٹروں‘ مسجدوں اور امام بارگاہوں مںہ فائرنگ بھی موٹر سائیکلوں کے ذریعے کرتے ہیں‘ یہ موٹر سائیکل پر آتے ہیں‘فائرنگ کرتے ہیں اور موٹر سائیکل پر سوار ہو کر غائب ہو جاتے ہیں‘ کراچی کی نوے فیصد بینک ڈکیتیاں اور موبائل فون‘پرس اور گاڑیاں چھیننے کی وارداتیں بھی موٹر سائیکلوں کے ذریعے ہوتی ہیں‘ اغواء برائے تاوان کے مجرم بھی موٹر سائیکل پر آتے ہیں‘ یہ لوگ دو تین موٹر سائیکلوں پر آتے ہیں‘ مغوی کو اس کی اپنی گاڑی میں بٹھاتے ہیں‘ دو لوگ اس کے ساتھ گاڑی میں بیٹھ جاتے ہیں‘ گاڑی چل پڑتی ہے اور موٹر سائیکل سوار گاڑی کے دائیں بائیں چلتے رہتے ہیں۔
یہ لوگ اس وقت تک سڑک پر اس طرح پھرتے رہتے ہیں جب تک یہ خطرے سے باہر نہیں ہو جاتے‘یہ لوگ خطرے سے باہر نکلنے کے بعد مغوی کو اپنی گاڑی میں ڈالتے ہیں اور یہ اسے اپنے خفیہ ٹھکانے پر لے جاتے ہیں‘ تاوان کی رقم بھی موٹر سائیکلوں پر وصول کی جاتی ہے‘ ایک ٹیم رقم وصول کرتی ہے‘ یہ راستے میں رقم دوسری موٹر سائیکل ٹیم کے حوالے کر دیتی ہے‘ دوسری ٹیم پانچ دس کلو میٹر کا فاصلہ طے کر کے یہ رقم تیسری ٹیم کے حوالے کر دیتی ہے اور یوں تاوان کی رقم موٹر سائیکل پر سفر کرتی ہوئی شہر کے تیسرے چوتھے حصے میں غائب ہو جاتی ہے اور پرس نکلوانے‘ جیبیں خالی کروانے‘ خواتین سے زیور اتروانے اور لوگوں کے شاپنگ بیگ چھیننے کی وارداتیں بھی موٹر سائیکل کے ذریعے ہوتی ہیں‘ کراچی میں اندازے کے مطابق روزانہ ایسی پندرہ سو وارداتیں ہوتی ہیں چنانچہ حکومت اگر صرف موٹر سائیکل کو کنٹرول کر لے تو یہ کراچی میں امن قائم کر سکتی ہے مگر سوال یہ ہے حکومت موٹر سائیکل کو کنٹرول کیسے کرے گی‘ ہم اس کے لیے ایمسٹرڈیم اور کوپن ہیگن ماڈل سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔
ہالینڈ کے سب سے بڑے شہر ایمسٹرڈیم میں ساڑھے پانچ لاکھ اور ڈنمارک کے دارالحکومت کوپن ہیگن میں اڑھائی لاکھ سائیکل ہیں‘ یہ سائیکل عام سڑکوں پر چلتے تھے اور یہ روزانہ حادثوں کا باعث بنتے تھے‘ حکومت نے اس مسئلے کے حل کے لیے ملک کی تمام بڑی شاہراہوں کے ساتھ سائکلن ٹریک بنا دیے اور سائیکل سواروں کو پابند کر دیا یہ صرف اس ٹریک پر سائیکل چلائیں گے‘ یہ ٹریک سے باہر نکلیں گے اور نہ ہی کوئی گاڑی سائیکل ٹریک پر آ سکے گی‘ ایمسٹرڈیم اور کوپن ہیگن میں اس قانون پر سختی سے عمل کیا جاتا ہے‘ ہم کراچی شہر میں بھی اس ماڈل سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں‘ ہم تمام مرکزی اور چھوٹی سڑکوں کی ایک لین موٹر سائیکلوں کے لیے وقف کر دیں‘ ہم کنکریٹ کی تین تین فٹ اونچی رکاوٹوں کے ذریعے اس لین کو مرکزی شاہراہ سے الگ کر دیں‘ موٹر سائیکل لین کے شروع اور آخر میں کیمرے لگا دیے جائیں‘ یہ کیمرے ہر موٹر سائلکو اور موٹر سائیکل سوار کو مانیٹر کریں۔
موٹر سائیکل لین کے آخر میں ٹرننگ پوائنٹس ہوں‘ گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کے ٹریفک سگنلز میں فاصلہ ہو‘ گاڑیاں موٹر سائیکل کے ٹرننگ پوائنٹس سے کم از کم سو فٹ پیچھے رکیں‘ موٹر سائیکلوں کے اشارے پہلے کھلیں‘ یہ ٹرننگ پوائنٹس سے پہلے گزریں اور گاڑیوں کے سگنلز ان کے گزرنے کے بعد کھلیں‘ کراچی شہر میں کوئی شخص ڈرائیونگ لائسنس کے بغیر موٹر سائیکل نہ چلا سکے‘ جو اس قانون کی خلاف ورزی کرے‘ اس کا موٹر سائیکل ضبط کر لیا جائے‘ نادرا موٹر سائیکلوں کے لیے خصوصی کارڈ جاری کرے‘ یہ کارڈ ہر موٹر سائیکل پر آویزاں ہو‘ یہ چپ کی شکل میں موٹر سائیکل کی نمبر پلیٹ پر بھی لگایا جا سکتا ہے‘ اس کارڈ یا چپ میں موٹر سائیکل اور موٹر سائیکل سوار دونوں کا ڈیٹا موجود ہو‘ کیمرے یہ ڈیٹا پڑھ سکتے ہوں‘ شہر میں موجود موٹر سائیکلوں کی غیر قانونی مارکیٹیں فوراً بند کر دی جائیں اور موٹر سائیکلوں کی غیر قانونی تجارت‘ چوری اور اسمگلنگ کی سخت سزائیں طے کر دی جائیں اور جو شخص ان جرائم میں گرفتار ہو جائے اسے ہر صورت سزا ملے‘ حکومت اگر یہ کر لے تو کراچی میں بڑی حد تک امن قائم ہو سکتا ہے۔
موٹر سائیکل کے بعد موبائل فون سمز اور اسلحہ بھی کراچی میں بدامنی کے ذرایع ہیں‘ آپ ملک میں کسی بھی جگہ سے کسی بھی نیٹ ورک کی سم خرید سکتے ہیں‘ یہ سہولت دنیا کے کسی دوسرے ملک میں موجود نہیں‘ آپ وہاں جب تک اپنا اصل شناختی یا پاسپورٹ پیش نہیں کرتے‘ آپ کو موبائل فون کی سم نہیں ملتی اور آپ ایک وقت میں زیادہ سے زیادہ دو سمز رکھ سکتے ہیں مگر پاکستان میں آپ جتنی چاہیں سمز خرید لیں آپ کو کوئی نہیں پوچھتا‘ آپ کسی دوسرے کے نام سے سم خریدیں اور استعمال کرنا چاہیں تو بھی کوئی آپ کو نہیں روکے گا‘ دنیا میں ایسا نہیں ہوتا‘ آپ وہاں ایک وقت میں زیادہ سے زیادہ دو موبائل فون سمز ایکٹو کروا سکتے ہیں اور آپ اگر کسی دوسرے کے نام سے سم حاصل کریں یا استعمال کریں تو آپ کو جرمانہ ادا کرنا پڑ جاتا ہے یا موبائل فون کمپنی آپ کو دوبارہ سم جاری نہیں کرتی‘ ہم پاکستان میں بھی ایسا بندوبست کر سکتے ہیں‘ ہم کڑا قانون بنائیں‘ ون سم‘ ون پرسن‘ ون ٹائم کا ضابطہ بنائیں اور کبھی کبھی استعمال ہونے والی تمام سمز بند کر دیں‘ ہم قانون بنا دیں جو سم پندرہ دن تک استعمال نہیں ہوگی یا جو موبائل فون دن میں ایک آدھ کال کے لیے کھلے گا اور پھر بند کر دیا جائے گا وہ مانیٹرنگ میں چلا جائے گا اور موبائل کمپنیاں اس کا ڈیٹا وزارت داخلہ سے شیئر کریں گی۔
کراچی شہر میں چالیس لاکھ غیر قانونی سمز ہیں‘ حکومت فوری طور پر یہ سمز بند کر دے ‘ حکومت دوسرے موبائل یا دوسری سم پر ٹیکس بھی لگا دے‘ یہ اقدامات موبائل فونز اور سمز کو ضابطے میں لے آئیں گے‘ آپ اسی طرح اسلحے کے لیے بھی کڑے قوانین بنائیں‘ کراچی کے تمام اسلحہ لائسنس منسوخ کردیں‘ سیکیورٹی کمپنیوں اور گارڈز کو لائسنس جاری کیے جائیں اور اس کے لیے بھی ان کے پاس شوٹنگ سر ٹیفکیٹ ہونا چاہیے‘ پاکستان کے 95 فیصد گارڈز نے زندگی میں کبھی رائفل نہیں چلائی ہوتی‘ یہ صرف کندھے پر رائفل لٹکا کر گھروں اور دفتروں کے باہر بیٹھے رہتے ہیں اور یہ اسے ڈیوٹی کہتے ہیں‘ ملک میں آئے روز ایسے حادثے ہوتے رہتے ہیں جن میں گارڈز سے غلطی سے رائفل یا ریوالور چل جاتا ہے اور کوئی عام شہری گولی کی زد میں آ جاتا ہے یا گارڈز ہنگامی حالات میں رائفل کو ڈنڈے کے طور پر استعمال کرتا ہے کیوں؟ کیونکہ اس بے چارے کو رائفل چلانی نہیں آتی اور اگر آتی بھی ہو تو ملک کی زیادہ تر رائفلوں میں گولیاں نہیں ہوتیں یا پھر یہ سال سال بھر چلا کر چیک نہیں کی جاتیں۔
اگر گارڈز کے لیے شوٹنگ سر ٹیفکیٹ ضروری ہو گا تو اس سے ملک میں روزگار کے نئے ذرایع بھی پیدا ہوں گے‘ گارڈز کی اہلیت میں بھی اضافہ ہو گا اور اسلحہ بھی کنٹرول ہو جائے گا‘ ملک میں غیر قانونی اسلحہ کے خلاف کڑی سزائیں بھی طے کی جائیں گی‘ ہم اگر غیر قانونی اسلحے کو دہشت گردی کے زمرے میں لے آئیں اور ان مجرموں کا فیصلہ بھی دہشت گردی کی خصوصی عدالتیں کریں تو اس سے بھی اسلحہ کنٹرول ہو جائے گا‘ ملک میں اسلحے کی نمائش پر سخت پابندی ہونی چاہیے‘ سرکاری ملازم اور سیکیورٹی فورسز بھی اسلحے کو غلاف میں چھپا کر رکھیں‘ اس سے لوگوں میں اسلحے کی ترغیب ختم ہو جائے گی اور ہمیں یہ بھی تسلیم کرنا ہوگا جرم کو بہرحال پولیس ہی کنٹرول کر سکتی ہے۔
آپ رینجرز اور فوج کو لاکھ اختیارات دے دیں مگر جرم روکنے کا کام یا ملزموں کو کیفر کردار تک پہنچانے کی ذمے داری بہرحال پولیس ہی کو ادا کرنا پڑتی ہے‘ رینجرز اور فوج حملہ کر سکتی ہے‘ اسے قانون‘ دفعات اور عدالتی نظام کا علم نہیں ہوتا چنانچہ یہ مجرم کو مارنے یا گرفتار کرنے کے بعد پھنس جاتی ہے‘ آپ پولیس پر فوکس کریں‘ آپ پولیس کو اچھے سربراہان دیں اور یہ سربراہان پروفیشنل سطح پر پولیس کی ٹریننگ اور احتساب کریں‘ پولیس اچھی ہو گی تو ملک میں امن قائم ہو جائے گا اور اگر پولیس اچھی نہیں ہو گی تو رینجرز اور فوج پورے اختاہرات کے باوجود جرم ختم نہیں کر سکے گی کیونکہ اگر ایسا ممکن ہوتا تو ملک میں چار مارشل لاء ناکام نہ ہوتے‘ امریکا عراق اور افغانستان میں پولیسنگ سسٹم بنانے پر مجبورنہ ہوتا‘ ہم رینجرز اور فوج کے ذریعے کراچی کوزیادہ دیر تک سنبھال نہیں سکیں گے چنانچہ آپ وہ کریں جو دنیا کر رہی ہے‘ وہ نہ کریں جس میں دنیا ناکام ہو چکی ہے اور یہ میری چوہدری نثار صاحب سے درخواست ہے۔

سنجیدگی
جاوید چوہدری بدھ 4 ستمبر 2013
حاجی صاحب بے انتہا کنجوس تھے‘ وہ دمڑی کے لیے چمڑی قربان کر دیتے تھے‘ ایک دن کوئی مسکین‘ غریب اور پریشان حال شخص حاجی صاحب کے پاس پہنچ گیا اور حاجی صاحب کو اپنے مسائل‘ اپنے مصائب بتانے لگا‘ حاجی صاحب نے اس کے مسائل سنے تو ان کا دل بھر آیا‘ انھوں نے جیب سے رومال نکالا اور دھاڑیں مار کر رونے لگے‘ مسکین شخص کو محسوس ہوا حاجی صاحب کا دل پسیج گیا ہے‘ یہ جیب سے ابھی رقم نکالیں گے یا اپنے منیجر کو بلوائیں گے اور میری مدد فرما دیں گے مگر حاجی صاحب نے روتے روتے منہ پر رومال رکھا‘ گھنٹی بجائی‘ منیجر کو بلوایا اور ضرورت مند کی طرف اشارہ کر کے بولے ’’ اس بدبخت کو جوتے مار کر باہر نکال دو‘ اس نے رُلا رُلا کر میرا برا حال کر دیا ہے۔‘‘
یہ لطیفہ بھی مسائل کے حل کا ایک طریقہ ہے‘ آپ روئیں دھویں اور آخر میں سائل کو دھکے دے کر باہر نکال دیں‘ نفسیات دان اس حل کو سرجن کی پریشانی کہتے ہیں‘ میڈیکل سرجن غلط جگہ سے مریض کا پیٹ پھاڑ دے‘ دس گھنٹے خون روکنے کی کوشش کرتا رہے اور آخر میں یہ کہہ کر لواحقین کو جواب دے دے آپ اپنے مریض کو لے جائیں۔ اس بدبخت نے میرے دس گھنٹے ضایع کر دیے یا پھر یہ کہہ کر اپنی جان چھڑا لے‘ زندگی اور موت اللہ کے ہاتھ میں ہے‘ ہم صرف کوشش کر سکتے ہیں اور میں نے کوشش میں کوئی کسر نہیں چھوڑی باقی اللہ تعالیٰ جانے اور آپ جانیں‘ دعا کیجیے گا۔ یہ عذر ہو سکتا ہے درست ہو مگر سوال یہ ہے اس کوشش‘ اس مہارت کا نتیجہ کیا نکلا‘ حاجی کی دھاڑوں یا رونے دھونے کا ضرورت مند کو کیا فائدہ ہوا؟
حاجی صاحب اگر آدھ گھنٹہ رونے کے بجائے ضرورت مند کو صرف سو روپے عنایت کر دیتے تو کم از کم اس کی ایک دن کی خوراک پوری ہو جاتی‘ وہ ایک دن آرام سے سو جاتا مگر سرجن ٹینشن یا حاجی صاحب کی فلاسفی پر عمل کرنے والے لوگ اپنے رونے دھونے‘ اپنی سنجیدگی اور اپنے غورو فکر کو عملی مہربانی سے زیادہ اہمیت دیتے ہیں‘ یہ سمجھتے ہیں ہماری سنجیدگی‘ ہماری رقیق القلبی وہ ایڑیاں ہیں جو بنجر زمین سے زم زم جاری کر دیں گی جب کہ حقیقت اس کے برعکس ہوتی ہے‘ مسائل حل کرنے سے حل ہوتے ہیں سنجیدگی سے نہیں‘ آپ دھوپ میں سارا دن منہ بنا کر ایک ٹانگ پر کھڑے رہیں‘ مسائل کی دیوار اپنی جگہ قائم رہے گی‘ آپ اس کے برعکس خواہ قہقہے لگاتے رہیں‘ خواہ ہنستے اور مسکراتے رہیں لیکن مسائل کی دیوار پر ہتھوڑے مارتے رہیں تو یہ دیوار ایک نہ ایک دن گر جائے گی اور آپ کو اس میں سے گزرنے کا راستہ مل جائے گا اور یہ مسائل کے حل کا پریکٹیکل طریقہ ہے مگر شاید میاں نوازشریف اس حقیقت سے واقف نہیں ہیں‘ یہ عمل کے بجائے سنجیدگی کی طرف چلے گئے ہیں۔
قوم نے 5 جون 2013سے میاں نواز شریف کے چہرے پر مسکراہٹ نہیں دیکھی‘ میاں صاحب کے اکثر مشیر اور وزیر ان کی سنجیدگی کا کریڈٹ سمیٹنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں‘ یہ فرماتے ہیں میاں صاحب قوم کے غم کی وجہ سے مسکرانا بھول گئے ہیں‘ میاں صاحب بھی اس آرگومنٹ سے مطمئن ہیں‘ یہ 3 ستمبر 2013کو کراچی کے دورے پر تھے‘ یہ اس شام کراچی کے تاجروں اور صنعت کاروں سے ملے‘ میاں صاحب نے اس ملاقات کے دوران بھی فرمایا ’’ لوگ مجھ سے پوچھتے ہیں آپ مسکراتے کیوں نہیں ہیں‘ میرا جواب ہوتا ہے جب تک لوگوں کے چہروں پر خوشیاں نہ آ جائیں میں کیسے خوش ہو سکتا ہوں‘‘ میاں صاحب کا یہ جواب اور سنجیدگی سر آنکھوں پر مگر سوال یہ ہے آپ کی سنجیدگی کا قوم کو اب تک کیا فائدہ ہوا ؟
قوم کو مسائل کا حل چاہیے مگر آپ مسائل حل کرنے کے بجائے سنجیدہ رہ کر ان میں اضافہ کر رہے ہیں‘ آپ نے حکومت کے دوسرے ہفتے جی ایس ٹی میں ایک فیصد اضافہ کر دیا‘ اس اضافے سے خورو نوش کی اشیا میں بیس فیصد اضافہ ہو گیا‘ آپ نے بجلی کے نرخ سو فیصد بڑھا دیے‘ اس سے بل دو گنا ہو گیا اور آپ نے اب پٹرولیم کی مصنوعات میں پانچ فیصد اضافہ کر دیا ‘ اس سے مہنگائی کی نین لہر آئے گی اور یہ لہر عام لوگوں کے رہے سہے چولہے بھی بجھا دے گی‘ آپ ڈالر اب تک کنٹرول نہیں کر سکے‘ ڈالر کی قیمت ایک سو پانچ روپے تک پہنچ چکی ہے‘ آپ دہشت گردی پر قابو نہیں پا سکے‘ حکومت کے ستر دنوں میں دہشت گردی کی اسی وارداتیں ہوئیں اور ان میں اب تک چار سو لوگ مارے جا چکے ہیں‘ کراچی کی صورتحال پوری قوم کے سامنے ہے‘ کراچی میں وزیراعظم کی موجودگی میں پولیس‘ رینجرز‘ نیوی اورعام شہری قتل کیے جا رہے ہیں اور حکومت کو اپنے سامنے نو گو ایریاز نظر آ رہے ہیں مگر حکومت ’’ سنجیدگی‘‘ کے سوا کچھ نہیں کر پا رہی چنانچہ آپ کی سنجیدگی کا ملک اور قوم کو کیا فائدہ ہوا؟
حکومت اس سنجیدگی کے بجائے قہقہے لگا لے مگر یہ قوم کو کسی ایک شعبے‘ کسی ایک سیکٹر میں ریلیف دے دے عوام خوش ہو جائیں گے‘حکومت کی سنجیدگی کی اصل حالت یہ ہے اس نے بجلی کی پیداوار ایک دن میں ساڑھے سولہ ہزار میگاواٹ تک پہنچا دی‘ اس نے لوڈشیڈنگ دو دن کے لیے پچاس فیصد کر دی اور آج تک اس کامیابی کا جشن منا رہی ہے جب کہ لوڈ شیڈنگ کا شکار قوم اپنے ہاتھوں میں دوگنے بل اٹھا کر حیرت سے یہ جشن دیکھ رہی ہے‘ حکومت کی حالت یہ ہے‘ ڈی جی رینجرز سندھ میجر جنرل رضوان اختر سپریم کورٹ میں کھڑے ہو کر اعتراف کرتے ہیں کراچی کے دہشت گردوں کے پاس نیٹوفورسز کا لوٹا ہوا اسلحہ ہے اور ہمارے ہاتھ بندھے ہوتے ہیں‘ ڈی آئی جی سائوتھ امیر احمدشیخ عدالت میں اعتراف کرتے ہیں پولیس ڈی مورلائزڈ ہو چکی ہے‘ ہم پر سیاسی دبائو ہے اور ہم اگر ایمانداری سے کام کریں تو ہمارے تبادلے کر دیے جاتے ہیں‘ ایڈیشنل آئی جی غلام قادر تھیبو پریس کانفرنس میں اعتراف کرتے ہیں۔
پولیس کے 119 اہلکار ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بن چکے ہیں اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کے وزیراعظم کیمروں کے سامنے اعتراف کرتے ہیں کراچی میں واٹر بورڈ کے ملازمین کو انسپکٹر اور ڈی ایس پیز کی وردیاں پہنا کر ’’کام‘‘ چلایا جا رہا ہے اور میڈیا وزیراعظم کی موجودگی میں دو دن سے چیخ رہا ہے‘ کراچی میں روزانہ چوری‘ ڈاکا زنی اور بھتوں کے ذریعے 83 کروڑ روپے وصول کیے جا رہے ہیں لیکن وزیراعظم فرماتے ہیں میں اس وقت تک نہیں مسکرائوں گا جب تک قوم خوش نہیں ہوگی‘ قوم کم از کم ایسے حالات میں تو خوش نہیں ہو سکتی‘ آپ خود سوچئے جس ملک کی ساٹھ فیصد آبادی خط غربت سے نیچے زندگی گزار رہی ہو‘ اس میں پٹرول اگر 110 روپے لیٹر بکے گا‘ یا ڈالر 105 روپے ہو گا یا بجلی کی فی یونٹ قیمت 14 روپے ہو گی تو قوم کیسے خوش ہو گی‘ آپ مانیں یا نہ مانیں مگر آپ وہ حاجی صاحب ہو چکے ہیں جو ضرورت مندوں کی آہ و بکا سن کر رونا شروع کر دیتے ہیں‘ آپ بے شک غیر سنجیدہ رہیں مگر آپ عملی قدم اٹھائیں‘ آپ کسی ایک سائیڈ سے قوم کو خوش خبری دینا شروع کر دیں‘ آپ اس کا کوئی ایک مسئلہ حل کر دیں‘ قوم خوش ہو جائے گی۔
یہ آپ کے غیر سنجیدہ چہرے کو بھی قبول کرلے گی مگر آپ اگر ان کے مسائل میں اضافہ کرتے رہے تو یہ آپ کی سنجیدگی کو مذاق سمجھنے لگے گی‘ عوام اسے اپنی توہین سمجھنے لگیں گے‘ آپ وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کو کراچی میں بٹھا دیں‘ انھیں کراچی کے لیے تین مہینے دیں اگر یہ تین مہینوں میں کراچی کو پرامن شہر نہیں بناتے تو آپ ان سے وزارت داخلہ کا قلم دان واپس لے لیں‘ آپ آئی ایس آئی‘ آئی بی اور ایم آئی کو کراچی کو صاف کرنے کا ٹاسک دیں اوراگر یہ ادارے کامیاب نہیں ہوتے یا ان کے سربراہان قوم کی توقع پر پورے نہیں اترتے تو آپ انھیں ’’پری میچور ریٹائرمنٹ‘‘ دے دیں‘ آپ وزارت قانون کو حکم جاری کریں یہ چھ مہینے کے اندر بڑے ملزموں کو کیفرکردار تک پہنچائیں اور یہ اگر ناکام ہوجائیں تو آپ وزیر اور سیکریٹری کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے فارغ کر دیں اور آپ پانی اور بجلی کی وزارت اور پٹرولیم کی وزارت کو حکم جاری کریں بجلی اور پٹرول کی قیمتیں ایک خاص حد سے اوپر نہیں جائیں گی‘ وزارت خسارے یا سبسڈی پوری کرنے کے لیے متبادل ذرایع پیدا کرے۔
یہ پٹرول کی تجارت کرے یا بجلی کی نئی انڈسٹری قائم کرے مگر عوام کو ریلیف ملنی چاہیے اور آپ پولیس کے ایماندار‘ اہل اور ماہر لوگوں کو فورس کی کمان دیں اور حکم جاری کریں ملک میں امن و امان کا مسئلہ پیدا نہیں ہونا چاہیے اور آپ طالبان کے ساتھ مذاکرات یا جنگ کا فوری فیصلہ کریں اور یہ مسئلہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے حل کریں‘ قوم آپ کا چہرہ نہیں آپ کی کوششوں کو سنجیدہ دیکھنا چاہتی ہے کیونکہ اگر سنجیدگی ہی معیار ہے تو آپ کسی اسپتال تشریف لے جائیں‘ آپ کسی مارکیٹ میں چلے جائیں یا آپ ہمارا کوئی ٹاک شو دیکھ لیں آپ کو وہاں وزیراعظم سے زیادہ سنجیدہ چہرے مل جائیں گے‘ ہم اینکرز اس قدر سنجیدہ ہیں کہ ہم لائیو شو مںم لوگوں کو زندہ بچے گفٹ کر دیتے ہیں اور صرف دعا کروا کر پوری قوم کی ہچکیاں بندھا دیتے ہیں چنانچہ ہم سے زیادہ سنجیدہ کون ہو گا؟ وزیراعظم کو وزیراعظم ہونا چاہیے‘ رمضان ٹرانسمشنک کا اینکر نہیں‘ آپ فیصلے کریں قوم کے چہروں پر خود بخود خوشیاں آ جائیں گی اور آپ نے اگر بروقت فیصلے نہ کیے تو آپ کی سنجیدگی مذاق بن جائے گی اور تاریخ آپ اور آپ کی قوم دونوں پر قہقہے لگائے گی۔

ہمیں مکالمے کی ضرورت ہے
جاوید چوہدری پير 2 ستمبر 2013
یکم ستمبر ازبکستان کا قومی دن تھا‘ یہ ملک یکم ستمبر 1991ء کو آزاد ہوا تھا‘ یہ لوگ 31 اگست کی شام آزادی کی تقریبات شروع کرتے ہیں‘ اہم ترین تقریب تاشقند میں ہوتی ہے‘ صدر اسلام کریموف تقریب کا آغاز کرتے ہیں‘ یہ تقریب تاشقند کے سب سے بڑے پارک میں ہوتی ہے‘ میں اس تقریب میں شرکت کے لیے تاشقند آیا تھا‘ ہم نے31 اگست کی شام چھ بجے تقریب کی جگہ پہنچنا تھا‘ ہمارے کارڈز پر لکھا تھا آپ اپنے ساتھ موبائل فون‘ پرس‘ کیمرہ اور چابیاں نہ لائیں لہٰذا ہمارے پاس پاسپورٹ اور کارڈ کے علاوہ کچھ نہیں تھا‘ گاڑیاں پانچ کلو میٹر دور روک لی گئیں‘ سیکیورٹی کے پہلے حصار پر ہمارے پاسپورٹ اور دعوتی کارڈ چیک کیے گئے‘ ازبکستان میں شناختی کارڈ نہیں ہوتے‘ شہریوں کو بالغ ہونے پر پاسپورٹ جاری کر دیے جاتے ہیں‘ یہ پاسپورٹ لوگوں کا شناختی کارڈ ہوتا ہے اور یہ اسے ہر جگہ بطور شناختی کارڈ استعمال کرتے ہیں۔
آج سے چند سال پہلے تک بچوں کے نام اور تفاصیل ماؤں کے پاسپورٹ پر درج ہوتی تھیں لیکن حکومت اب بچوں کو بھی پاسپورٹ جاری کر دیتی ہے تاہم کوئی ازبک شہری پاسپورٹ پر بیرون ملک سفر نہیں کر سکتا‘ شہریوں کو غیر ملکی سفر سے قبل رجسٹریشن آفس جانا پڑتا ہے اور وہاں سے پاسپورٹ پر غیر ملکی سفر کے لیے اجازت کی مہر لگوانی پڑتی ہے‘ اس قانون کی وجہ سے یہ دنیا میں جس جگہ جاتے ہیں ازبکستان حکومت ان سے واقف ہوتی ہے‘ حکومت شہریوں کے بارے میں تمام ہدایات بھی اس پاسپورٹ پر درج کر دیتی ہے‘ آپ اگر شادی شدہ ہیں تو آپ کے پاسپورٹ پر شادی کی باقاعدہ مہر لگے گی اور آپ اور آپ کے خاوند کے بارے میں اس پر تفصیلات درج ہوں گی اور آپ اگر طلاق یافتہ ہیں تو اس کی تفصیل بھی پاسپورٹ پر درج ہو گی‘ ازبک پاسپورٹ بنیادی طور پر پاسپورٹ نہیں‘ یہ معاشرتی نامہ اعمال ہے اور اس کی وجہ سے شہریوں کا ہر جھوٹ پکڑا جاتا ہے۔
میں نے اور ڈاکٹر رازق داد نے پاسپورٹ اور دعوتی پاس دکھا کر سیکیورٹی کا پہلا حصار عبور کیا‘ پولیس اور فوج نے گاڑیاں لگا کر پورا علاقہ ٹریفک اور آمد و رفت کے لیے بند کر دیا تھا‘ شرکاء کے لیے شٹل سروس کا بندوبست تھا‘ لوگ منی بسوں پر بیٹھ کر پارک کے قریب پہنچے‘ وہاں سکینر لگے تھے‘ ہمارا پاسپورٹ اور کارڈ دوبارہ چیک ہوا‘ ہم سکین کیے گئے اور اس کے بعد دو کلو میٹر سفر طے کر کے تیسرے حصار تک پہنچے‘ وہاں بھی پاسپورٹ اور کارڈ چیک ہوا اور ہماری جسمانی تلاشی بھی ہوئی‘ اس کے بعد سیکیورٹی کا چوتھا‘ پانچواں اور چھٹا حصار آیا اور اس پر بھی ہماری باریک بینی سے تلاشی ہوئی‘ تقریب میں شریک ہونے والا ہر شخص اس عمل سے گزرا‘ یہاں تک کہ ہم تقریب کے مقام پر پہنچ گئے۔
تقریب کے مقام پر لوہے کے بلند پائپوں پر لوہے کی مچانیں بنا کر عارضی اسٹیڈیم بنایا گیا تھا‘ ہر نشست مارک تھی اور ہر قطار کے آخر میں سیکیورٹی کے لوگ بیٹھے تھے‘ اسٹیڈیم میں دس ہزار لوگ تھے مگر ہر طرف ڈسپلن اور صفائی دکھائی دیتی تھی‘ لوگ سوٹ بوٹ پہن کر آئے تھے‘ خواتین نے بھی بہترین اور صاف ستھرے کپڑے پہن رکھے تھے‘ اسٹیڈیم میں پانی اور کھانے پینے کی اشیاء لے جانے کی ممانعت تھی چنانچہ وہاں کوئی شخص منہ ہلاتا یا کھاتا پیتا دکھائی نہیں دیا‘ اسٹیڈیم میں چاروں طرف بڑی بڑی سیکرینیں اور ہیوی لائیٹس لگی تھیں‘ کیمروں کا بندوبست بھی تھا اور تمام چینلز تقریب کی لائیو کوریج بھی کر رہے تھے‘ اسکولوں‘ کالجوں اور یونیورسٹیوں کے نوجوان ‘ بچیاں اور بچے مختلف ثقافتی لباس پہن کر کھڑے تھے‘ شام آہستہ آہستہ رات کی طرف بڑھ رہی تھی‘ سورج مغرب کی گود میں گم ہو رہا تھا‘ شام ساڑھے سات بجے جوں ہی سورج کی آخری کرن نے رات میں پناہ لی‘ سیکڑوں نوجوان لوہے کے پندرہ پندرہ فٹ بلند پائپوں پر جھنڈے لہراتے ہوئے اسٹیڈیم میں داخل ہو گئے۔
اس کے ساتھ ہی صدر اسلام کریموف بھی اسٹیڈیم میں داخل ہوئے اور تمام شرکاء نے کھڑے ہو کر ان کا استقبال کیا‘ تقریب کا باقاعدہ آغاز ہوا‘یہ تقریب اسلامی ممالک کے برعکس صدر کی تقریر سے شروع ہوئی‘ ہم لوگ اپنی سرکاری تقریبات کا آغاز ہمیشہ تلاوت قرآن پاک سے کرتے ہیں مگر ازبک حکومت شاید یہ تکلف نہیں کرتی چنانچہ یہ تقریب صدارتی خطاب سے شروع ہوئی‘ صدر اسلام کریموف نے خطاب شروع کیا اور اس کے بعد اٹھک بیٹھک کا عجیب سلسلہ شروع ہو گیا‘ صدر کی تقریر کے ہر پیرا گراف کے بعد تمام شرکاء نشستوں سے کھڑے ہوتے اور دیر تک تالیاں بجاتے اور صدر جب تک اگلا پیرا گراف شروع کرتے شرکاء تالیاں بجاتے رہتے‘ صدر جوں ہی اگلا پیرا گراف شروع کرتے شرکاء تالیاں بجانا بند کرتے اور نشستوں پر بیٹھ جاتے‘ صدردو منٹ بعد دوبارہ خاموش ہوتے اور تمام شرکاء نشستوں پر کھڑے ہو کر تالیاں بجانا شروع کر دیتے‘ یہ سلسلہ آدھ گھنٹہ جاری رہا یہاں تک کہ صدر کی تقریر ختم ہوئی اور شرکاء نے دیر تک تالیاں بجا کر ان کا شکریہ ادا کیا‘ میرے لیے صدر کی تقریر پر بار بار کھڑا ہونا انوکھا تجربہ تھا‘ صدر کی تقریر کے بعد قومی ترانہ بجایا گیا۔
اس کی دھن اور بعض الفاظ پاکستانی ترانے سے ملتے جلتے ہیں‘ مجھے دھن کے اکثر مقامات پر پاک سرزمین شاد باد کا گمان ہوا‘ یہ شاید اردو اور ازبک زبان کے صوتی اشتراک کی وجہ سے تھا‘ اردو زبان میں ہزاروں ازبک الفاظ موجود ہیں اور ان میں سے چند لفظ ہمارے اور ازبک ترانے میں بھی ہیں‘ ترانے کے بعد آزادی کی تقریب شروع ہوئی‘ غبارے چھوڑے گئے‘ غباروں کے ساتھ کپڑوں کی لمبی پٹیاں بندھی تھیں‘ یہ پٹیاں فضا میں خوبصورت رنگین لکیریں بنا رہی تھیں‘ اسٹیڈیم میں مختلف بینڈز اور طائفے آتے رہے اور اپنی پرفارمنس دیتے رہے‘ یہ طائفے ازبکستان کی مختلف ثقافتوں کی نمایندگی کر رہے تھے‘ حکومت نے اٹلی کے کسی مشہور بینڈ کو خصوصی دعوت دے رکھی تھی‘ اس بینڈ نے شائقین کو مبہوت کر دیا‘ ان کی پرفارمنس ختم ہوئی تو لوگوں نے نشستوں پر کھڑے ہو کر تالیاں بجائیں‘ اسٹیڈیم میں نوجوان لڑکیاں‘ لڑکے اور بچے خوبصورت ازبک لباس پہن کر ناچ رہے تھے‘ موسیقی کی لے بلند ہوتی تھی تو پورا اسٹیڈیم ہاتھ ہلانے لگتا تھا‘ لوگوں نے تقریب کے درمیان میں کرسیوں سے اٹھ کر ناچنا شروع کر دیا‘ میرے آگے ایک خاندان بیٹھا تھا‘ خاندان میں نوجوان لڑکیاں اور لڑکے شامل تھے‘ ان کی ماں بار بار انھیں اٹھنے اور اٹھ کر ناچنے کا حکم دے رہی تھی مگر بچے شرما جاتے تھے یہاں تک کہ ماں نے انھیں گھورنا شروع کر دیا۔
وہ ماں کی ناراضی سے پریشان ہو کر اٹھے‘ نشستوں کا بلاک عبور کر کے کھلی جگہ پر پہنچے اور موسیقی کی لے پر ناچنا شروع کر دیا‘ انھیں دیکھ کر دوسرے لوگ بھی اٹھے اور وہ بھی ان میں شامل ہو گئے‘ آخر میں بچوں کی ماں اور والد بھی ان میں شامل ہو گئے‘ میں نے غور کیا تو لوگ نشستوں کے تمام بلاکس میں کھڑے ہو کر ناچ رہے تھے‘ ہم لوگ بھی سیٹ سے اٹھ کر آگے گئے وہاں سے ازبک صدر اور ان کی کابینہ دکھائی دے رہی تھی‘ ہم یہ دیکھ کر حیران رہ گئے‘ ازبک صدر اپنی پوری کابینہ کے ساتھ ناچ رہے تھے‘ اب منظر کچھ یوں تھا صدر اور ان کی کابینہ ناچ رہی تھی‘ اسٹیڈیم میں موجود نصف سے زائد لوگ ناچ رہے ہیں‘نشستوں پر بیٹھے لوگ ٹانگیں اور بازو ہلا رہے ہیں جب کہ اسٹیڈیم کے درمیان فنکار اچھل کود کر رہے ہیں اور فضا میں اس سارے عمل کے دوران غبارے چھوڑے جا رہے ہیں اور روشنیوں سے آسمان پر تصویریں بنائی جا رہی ہیں۔
رقص کے اس سلسلے کے آخر میں آتش بازی شروع ہو گئی‘ آسمان آتشی رنگوں سے رنگین ہو گیا‘ اسٹیڈیم کے دائرے میں موجود توپ نما مشینیں آن ہوئیں اور ان میں سے چمکیلے کاغذوں کی چھوٹی چھوٹی پتیاں نکلنے لگیں‘ پتیوں نے چند لمحوں میں پورے اسٹیڈیم کو ڈھانپ لیا‘ اب وہاں موسیقی تھی‘ دس ہزار ناچتے ہوئے مرد و زن‘ بچے اور بوڑھے تھے‘ آسمان پر آتش بازی کے آتشیں رنگ تھے‘ لرزتی کانپتی روشنیاں تھیں اور کاغذ کی کھربوں تتلیاں تھیں اور پھر آخری لمحہ آ گیا‘ موسیقی نے آخری سانس لی اور اناؤنسر نے تقریب کے خاتمے کا اعلان کر دیا‘ شرکاء خاص نظم و نسق کے ساتھ اٹھے اور واپسی کا سفر شروع ہو گیا‘ آتے ہوئے کوئی ہڑبونگ مچی اور نہ ہی جاتے ہوئے کسی نے کسی کو دھکا دیا‘ پوری تقریب عزت اور آبرو کے ساتھ اختتام پذیر ہو گئی۔
ہم ازبکستان کے قومی دن کی تقریب سے واپس آتے ہوئے پاکستان کی وہ تمام تقریبات یاد کر رہے تھے جو ہم نے بچپن اور جوانی میں دیکھی تھیں‘ ہم ہر سال 23 مارچ اور 14 اگست کا دن جوش اور جذبے سے منایا کرتے تھے‘ 23 مارچ کو اسلام آباد میں مارچ ہوتا تھا‘ افواج پاکستان صدر کو سلامی پیش کرتی تھیں مگر پھر دہشت گردی کے خوف سے یہ تقریب ختم کر دی گئی‘ ہم 14 اگست کو عید کی طرح مناتے تھے‘ بچے پاکٹ منی جمع کر کے جھنڈے اور جھنڈیاں خریدتے تھے‘ ملک کے تمام چھوٹے بڑے شہروں میں جشن آزادی منایا جاتا تھا‘ جلوس نکلتے تھے‘ جلسے ہوتے تھے اور قومی نغمے گائے اور سنائے جاتے تھے‘ اسلام آباد میں بڑی تقریب ہوتی تھی‘ صبح کے آٹھ بجے ٹریفک روک دی جاتی تھی‘ جھنڈا لہرانے کی تقریب ہوتی تھی۔
قومی ترانہ بجایا جاتا تھا اور اس کے بعد ملی نغموں کا مقابلہ ہوتا تھا مگر ہم سے یہ خوشیاں چھن گئیں اور وزیراعظم اب وزیراعظم ہاؤس میں پولیس اور فوج کے کڑے پہرے میں پرچم لہراتے ہیں‘ کنونشن سینٹر کے محفوظ مورچے میں زبردستی بٹھائے ہوئے لوگوں کے سامنے بیس سال پرانی تقریر کرتے ہیں اوربس تقریب ختم‘ ہم اب آتش بازی کرتے ہیں اور نہ ہی جشن مناتے ہیں‘ موسیقی اور لوک رقص گناہ بن چکا ہے‘ ازبک صدر ہزاروں لوگوں کی موجودگی میں ناچ رہا تھا اور پوری قوم ٹیلی ویژن پر اسے ناچتے دیکھ رہی تھی اور ہم لوگ سوچ رہے تھے کیا ہمارے صدر یا وزیراعظم یہ جسارت کر سکتے ہیں‘ ناچنا تو دور یہ لوگ اگر کسی لوک فنکار سے ہاتھ ملا لیں یا یہ اس کی تعریف کر دیں یا اپنی کرسی سے اٹھ کر کسی فنکار کا استقبال کر لیں تو شاید قوم انھیں سنگ سار کر دے مگر حضرت امام بخاریؒ اور امام ترمذیؒ کی سرزمین کا صدر اپنی پوری کابینہ کے ساتھ اسٹیڈیم میں سرے عام ناچ رہا تھا‘ قوم گا کر‘ ناچ کر آزادی کا جشن منا رہی تھی اور کسی کو کوئی اعتراض نہیں تھا‘ ہمارے بچپن میں تمام شہروں میں میلے لگتے تھے‘ میلوں میں لوک فنکار فن کا مظاہرہ کرتے تھے‘ ملک کے تمام چائے خانوں‘ بسوں اور وینوں مںد پاکستانی گلو کاروں کے گانے چلتے تھے‘ درگاہوں پر قوالیاں ہوتی تھیں اور اسکولوں‘ کالجوں میں بیت بازی‘ موسیقی اور گلوکاری کے مقابلے ہوتے تھے‘ کالجوں میں ڈرامیٹک کلب اور بزم ادب ہوتی تھیں مگر ہم نے یہ سارا کلچر برباد کر دیا‘ اس کا کیا نتیجہ نکلا؟ آج شادی بیاہ کی تقریبات سے لے کر فوجی بینڈ تک بھارتی دھنیں بجاتے ہیں‘ کیا یہ ہمارا قومی مقصد تھا؟
دنیا سعودی عرب سمیت شدت سے توازن کی طرف بڑھ رہی ہے‘ ریاض میں ہر سال جنادریہ کا میلہ ہوتا ہے‘ جس میں وہ سب کچھ ہوتا ہے جو ہمارے ملک میں بیس تیس سال پہلے ہوتا تھا مگر ہم معاشرے کو اس سطح پر لے آئے ہیں جس میں اب ہر شخص کا اپنا اسلام ہے اور وہ اپنے ذاتی اسلام کو دوسروں پر نافذ کرنا عین عبادت سمجھتا ہے اور جو اس کا ذاتی اسلام قبول نہیں کرتا وہ اسے قابل گردن زنی سمجھتا ہے‘ دنیا کھل رہی ہے‘ یہ برداشت بڑھا رہی ہے‘ یہ آرٹ اور کلچر کی طرف بڑھ رہی ہے مگر ہم اسے غاروں کی طرف دھکیل رہے ہیں‘ ہم اسے بنیاد کے ان پتھروں کی طرف لے جا رہے ہیں جن سے نکلنے کے لیے انسان کو دس ہزار سال لگ گئے تھے‘ میں ہرگز ہرگز یہ نہیں کہتا ہم غلط ہیں‘ ہو سکتا ہے ہمارا نظریہ سو فیصد درست ہو مگر سوال یہ ہے اگر یہ درست ہے تو پھر آج 67 سال بعد اس کے نتائج اتنے بھیانک کیوں نکل رہے ہیں؟ ہم آج اپنے ہی لوگوں کے گلے کیوں کاٹ رہے ہیں‘ ہمارے معاشرے کو توازن اور مکالمے کی جتنی ضرورت آج ہے‘ اتنی کبھی نہیں تھی لہٰذا آئیے بات کریں‘ مکالمہ کریں‘ اس سے راستے کھلیں گے۔
سمرقند کی شام اور صنم ماروی کے آنسو
جاوید چوہدری ہفتہ 31 اگست 2013
سمرقند میں خنکی تھی‘ ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی‘ شرکاء نے گرم کوٹ پہن رکھے تھے مگر میں اور ڈاکٹر رازق داد ہاف سلیو شرٹس میں ٹھٹھر رہے تھے‘ میں پاکستان سے آیا تھا اور پاکستان میں 30 اگست کو درجہ حرارت 35 ڈگری سینٹی گریڈ تھا‘ میرے گمان میں بھی نہیں تھا سمر قند میں اس وقت سردی شروع ہو چکی ہو گی‘ ڈاکٹر صاحب تاشقند سے آئے تھے اور تاشقند میں بھی جمعہ کے دن گرمی تھی لہٰذا ہم سادگی میں مارے گئے مگر سمرقند کے لوگ ہماری طرح سادہ نہیں تھے‘ یہ کوٹ اور مفلر لے کر ریگستان پہنچے تھے اور خاصے مطمئن اور خوش تھے جب کہ ہم لوگ بار بار ٹانگیں ہلا کر اور ہاتھ مل کر خود کو گرم کرنے کی کوشش کر رہے تھے‘ ازبکستان میں ہر سال انٹرنیشنل میوزک فیسٹول ہوتا ہے۔
اس میں دنیا جہاں سے بہترین موسیقار اور گلوکار شریک ہوتے ہیں‘ 30 اگست کی شام سمرقند میں نواں انٹرنیشنل میوزک فیسٹول تھا‘ فیسٹول کے لیے ریگستان اسکوائر میں اسٹیج لگایا گیا تھا‘ ریگستان سمرقند کے اس علاقے کو کہتے ہیں جس میں ماضی کے تین عظیم مدارس ہیں‘ یہ تین مدارس سامنے اور دائیں بائیں واقع ہیں‘ ان کے درمیان اسکوائر یا خالی جگہ ہے جب کہ سامنے کی سائیڈ خالی ہے‘ آپ اس جگہ کو لاہور کی بارہ دری سمجھ لیں‘ آپ جب لاہور کی بارہ دری میں پہنچتے ہیں تو آپ کے دائیں جانب شاہی قلعے کا بلند و بالا دروازہ آتا ہے‘ بائیں جانب بادشاہی مسجد جب کہ سامنے راجہ رنجیت سنگھ کی مڑھی یا گردوارہ ہے اور ان تینوں کے درمیان سنگ مرمر کی سفید بارہ دری ہے اور اس کے گردا گرد گھاس کے قطعات ہیں‘ ریگستان بھی ایک ایسا ہی علاقہ ہے۔
اس کے تین اطراف مدارس کے اونچے گیٹ‘ مینار اور گنبد ہیں جب کہ درمیان میں خالی جگہ ہے‘ یہ خالی جگہ جمعہ کی شام انٹرنیشنل میوزک فیسٹیول کا اسٹیج تھی‘ انٹری کی سائیڈ پر شرکاء اور تماشائیوں کی کرسیاں لگی تھیں جب کہ سامنے ہزاروں مربع فٹ کے اسٹیج پر پھول‘ رنگین کپڑے اور قالین بچھے تھے‘ ریگستان میں شام اتر رہی تھی‘ شام کے رنگ پورے ماحول کو رومان پرور بنا رہے تھے‘ شرکاء محدود تعداد میں تھے‘ اس کی وجہ دنیا کے حالات ہیں‘ تقریب میں مختلف ممالک کے سفیر‘ اعلیٰ سرکاری عہدیدار اور 52 ممالک کے سو سے زائد فنکار موجود تھے چنانچہ انتظامیہ نے محدود کارڈز اور پاس جاری کیے تھے‘ قوم یہ تقریب ٹی وی پر براہ راست دیکھ رہی تھی‘ یہ فیسٹول تین دنوں سے جاری تھا‘ 30 اگست کی شام اس کا آخری دن تھا‘ ہم اختتامیہ تقریب کے مہمان تھے۔
میں صبح کی فلائٹ سے تاشقند پہنچا اور ڈاکٹر رازق داد کے ساتھ ائیر پورٹ سے بائی روڈ سمرقند روانہ ہو گیا‘ تاشقند اور سمرقند کے درمیان چار سو کلو میٹر کا فاصلہ ہے‘ سڑک اچھی ہے مگر ہماری موٹروے کا مقابلہ نہیں کرتی‘ راستے میں چھوٹے چھوٹے قصبے اور دیہات آئے‘ ہم مفتلن جگہوں پر رکتے ہوئے شام چھ بجے سمرقند پہنچ گئے‘ دیہات میں پسماندگی اور غربت دکھائی دیتی ہے مگر یہ ہمارے دیہات کے مقابلے میں صاف ستھرے ہیں‘ سڑکوں اور گلیوں میں کوڑا دکھائی نہیں دیتا‘ محلوں میں کاغذ‘ شاپنگ بیگز اور ریپر بھی اڑتے نظر نہیں آتے‘ گھروں کے باہر اور اندر بھی ترتیب اور صفائی ملتی ہے تاہم لوگ واش روم کے معاملے میں زیادہ صاف نہیں ہیں‘ ہوٹلوں اور ریستورانوں کے اندر واش روم بنانے کا رجحان نہیں‘ یہ ہندوستان کے پرانے شہروں کی طرح رہائشی علاقے سے ذرا ہٹ کر واش روم بناتے ہیں اور یہ بہت گندے اور بدبودار ہوتے ہیں‘ یہ واش روم میں صابن بھی نہیں رکھتے۔
یہ اس میں خاصے پاکستانی واقع ہوئے ہیں تاہم یہ خوراک کے معاملے میں صاف ستھرے ہیں‘ آپ کو چھوٹے چھوٹے علاقوں کے ریستورانوں میں بھی اچھی خوراک ملتی ہے‘ یہ گوشت خور اور پھلوں کے شیدائی ہیں‘ آپ کو ہر جگہ باربی کیو ملتا ہے‘ یہ کھانے کے بعد پھل کھاتے ہیں‘ ازبکستان کو پھلوں کا گھر کہا جاتا ہے‘ آپ کو سڑکوں‘ گلیوں اور بازاروں میں تازہ پھلوں کے ڈھیر ملتے ہیں‘ شام کے وقت لوگ گاڑیوں کی ڈکیاں فروٹ سے بھر کر گھر آتے ہیں‘ یہ لوگ کھانے کے درمیان چائے پیتے ہیں‘ یہ پانی میں سیاہ چائے کی پتی ڈال کر قہوہ بناتے ہیں اور یہ قہوہ کھانے کے دوران پیتے رہتے ہیں‘ یہ یقیناً معدے کے لیے اچھا ہوتا ہو گا اور یہ گوشت کو ہضم کرنے میں معاون ہوتا ہو گا‘ ان کے ڈرائیور بہت ایکٹو ہوتے ہیں‘ آپ رینٹ پر کار لیں‘ ڈرائیور آپ کا محافظ بھی بن جائے گا‘ گائیڈ بھی اور میزبان بھی‘ یہ آپ کے ساتھ میز پر بیٹھ کر کھانا کھاتا ہے اور یہ اور اس کے مہمان دونوں مائینڈ نہیں کرتے‘ یہ گاڑیوں کو پٹھان کی سائیکل کی طرح سجا کر رکھتے ہیں‘ گاڑی کے اندر ہر جگہ چمکیلے کاغذ اور پلاسٹک کے کور چڑھے ہوتے ہیں۔
یہ سیٹوں پر بھی تین تین قسم کے کور چڑھا کر رکھتے ہیں‘ ڈکی کے فرش پر قالین بچھاتے ہیں اور ڈیش بورڈ کو کپڑے‘ قالین کے ٹکڑے یا موم کے کاغذ سے ڈھانپ کر رکھتے ہیں‘ سوسائٹی بے خوف ہے‘ لوگ سڑکوں پر بلاخوف پھرتے ہیں بالخصوص لوگ شام کے وقت فیملی کے ساتھ گھروں سے نکلتے ہیں‘ گارڈنز اور پارکوں میں بیٹھ جاتے ہیں اور فواروں کے پانی سے کھیلتے ہیں‘ نوجوان لڑکے اور لڑکیاں شام کے وقت اکثر جگہوں پر ناچتے ہوئے بھی دکھائی دیتے ہیں اور کوئی ان کی طرف نفرت سے نہیں دیکھتا‘ شہر کی تمام گاڑیاں ٹیکسیاں ہیں‘ آپ کسی خالی گاڑی کو ہاتھ دیں وہ آپ سے پانچ دس ہزار سم (دو چار امریکی ڈالر) لے کر آپ کو منزل مقصود تک پہنچا دے گی‘ لوگوں کی اکثریت مذہبی ہے مگر یہ لوگ شدت پسند نہیں ہیں‘ یہ دوسرے کے عقیدے کو برا نہیں کہتے‘ مسجدیں ہیں مگر اذان کی آواز مسجد کی حدود سے باہر نہیں جاتی‘ علماء کرام مسجد میں تقریر نہیں کر سکتے‘ وعظ ٹولواں میں دیا جاتا ہے اور اس میں بھی کوئی ایسی بات نہیں کی جا سکتی جس میں مذہبی شدت ہو یا اختلاف کو ہوا دیتی ہو۔
سمر قند کے میوزک فیسٹول میں ان 52 ممالک کے جھنڈے لہرا رہے تھے جن کے فنکار اس میلے میں شریک تھے‘ جھنڈوں کی دوسری قطار میں پاکستان کا جھنڈا بھی موجود تھا جس کا مطلب تھا فیسٹول میں پاکستان کا کوئی بینڈ بھی موجود ہے‘ میں پاکستانی فنکاروں کی تلاش میں نکل کھڑا ہوا‘ قطاروں میں مختلف ملکوں کے فنکار بیٹھے تھے۔ میں ان مختلف لوگوں کے درمیان اپنے مختلف لوگ تلاش کر رہا تھا اور پھر وہ مجھے مل گئے‘ یہ صنم ماروی اور اس کا خاوند تھا اور ان کے ساتھ ان کے سازندے تھے‘ صنم کے لہجے میں صوفیوں کا رچائو اور آواز میں ماضی کی گم گشتہ آوازوں کی تڑپ ہے‘ یہ صرف گاتی نہیں ہے یہ انسان کو ٹائم مشین پر بٹھا کر ان زمانوں میں لے جاتی ہے جن میں انسان صحرا کی ریت میں پانی اور محبت دونوں تلاش کرتا تھا‘ جن میں محبت انسان کو چڑھے دریا پار کرنے پر مجبور کر دیتی تھی یا پھر بھنبھور کے اجڑے شہروں میں سسی بنا کر بگولے کی طرح تڑپاتی تھی یا پھر کان میں جوگیوں کے مندرے ڈال کر ہاتھ میں کشکول پکڑا دیتی تھی۔
دنیا میں ہزاروں سزائیں ہیں اور ہر سزا انسان کی روح کی جڑیں تک ہلا دیتی ہے لیکن یقین کیجیے محبت کی سزا دنیا کی سخت ترین سزا ہے‘ اس سزا میں انسان کے جسم کے ساتھ ساتھ اس کی روح کی کھال بھی کھینچی جاتی ہے اور یہ منہ سے اف تک نہیں کر سکتا‘ اس کے پائوں بھنور بن جاتے ہیں اور آنکھیں ہزاروں سال سے پانی کو ترستی ہوئی زمین۔ دنیا کا ہر عاشق آدھا ولی ہوتا ہے کیونکہ ولایت محبت کی دوسری منزل ہوتی ہے اور یہ شخص یہ منزل چند دنوں میں طے کر لیتا ہے‘ آپ محبت کی کوئی لوک داستان پڑھ لیں‘ آپ کو عاشق کسی نہ کسی درگاہ‘ کسی نہ کسی صوفی کے پاس جاتا ہوا ضرور ملے گا اور وہ صوفی اس کے لیے سارے دروازے کھول دے گا‘ کیوں؟ کیونکہ ولایت محبت کا پہلا اسٹیشن ہے اور مسافر اس وقت تک دوسرے اسٹیشن تک نہیں جا سکتا وہ جب تک پہلے اسٹیشن سے نہ گزر جائے اور یہ بھی حقیقت ہے عاشق اس اسٹیشن پر چند ماہ سے زیادہ نہیں ٹھہرتا‘ یہ کانوں کی مندریاں اتار کر آگے چل پڑتا ہے‘ اپنی اصل منزل کی طرف اور صنم ماروی کی آواز میں محبت کے اس سفر کی گونج ہے‘ میں اس کے پاس پہنچا‘ وہ ہاتھ جوڑ کر کھڑی ہوگئی۔
ملک سے ہزاروں میل دور‘ ایک میوزک فیسٹول میں ایک پاکستانی مداح کی موجودگی نے اسے نہال کر دیا تھا‘ وہ خوش بھی تھی اور شاداں بھی‘ ہم دیر تک صوفیانہ کلام پر بات کرتے رہے‘ وہ گزشتہ شب اپنی پرفارمنس دے چکی تھی‘ اس پرفارمنس کے دوران مجمعے میں اردو سمجھنے والا کوئی شخص موجود نہیں تھا مگر میوزک سے پیار کرنے والوں نے نشست سے اٹھ کر اس کے لیے تالیاں بجائی تھیں اور وہ اس پذیرائی پر خوش تھی‘ ہم بیٹھ گئے‘ تقریب شروع ہوئی‘ نویں نمبر پر ماروی کے گروپ کو اسٹیج پر بلایا گیا‘ یہ لوگ اپنا ایوارڈ لینے کے لیے اسٹیج پر گئے‘ ہم دو پاکستانیوں نے ان کے لیے دیوانہ وار تالیاں بجانا شروع کر دیں‘ ہماری دیوانگی دیکھ کر تمام شرکاء بھی تالیاں بجانے لگے اور یوں ماروی ایوارڈ لے کر واپس آئی تو اس کی آنکھوں میں آنسو تھے‘ یہ خوشی کے آنسو تھے یا پھر یہ اجنبی زمین پر دو پاکستانیوں کو دیکھ کر اس کی پلکوں تک پہنچے تھے‘ میں سمرقند کی ٹھنڈی ہوتی شام میں اس کا اندازہ نہ کر سکا‘ دنیا آج تک جس طرح فنکاروں کے فن کی وجہ دریافت نہیں کر سکی یہ اسی طرح انسان کے آنسوئوں کی وجوہات بھی نہیں سمجھ سکی‘ میں بھی نہیں سمجھ سکا۔
بلاصلاحیت قوم
جاوید چوہدری جمعرات 29 اگست 2013
دیوان سنگھ مفتون متحدہ ہندوستان کے نامور صحافی تھے‘ یہ ہندوستان میں ’’ریاست‘‘ کے نام سے میگزین نکالتے تھے‘ یہ اپنے دور کا مشہور رسالہ تھا‘ مفتون صاحب ہندوستان میں بے باک صحافت کے بانی بھی تھے اور لیڈر بھی‘ انھوں نے غربت میں آنکھ کھولی‘ یہ بچپن میں یتیم بھی ہو گئے چنانچہ یہ باقاعدہ تعلیم حاصل نہ کر سکے‘ والدہ نے بچپن میں انھیں کپڑے کی دکان پر ملازم کروا دیا‘ یہ چھوٹی سی دکان تھی‘ مالک نے اس کا ایک حصہ کسی درزی کو کرائے پر دے رکھا تھا‘ یہ درزی کوٹ پتلون سینے کا ماہر تھا‘ شہر کے زیادہ تر رئیس اس سے سوٹ سلواتے تھے‘ درزی کے گاہکوں میں ایک کنجوس سکھ رئیس بھی شامل تھا‘ یہ سردار ہمیشہ اس سے کوٹ سلواتا تھا مگر وہ پیسے دیتے وقت حیل و حجت سے کام لیتا تھا‘ درزی اس سے بہت تنگ تھا مگر اپنی شرافت کی وجہ سے خاموش رہتا تھا‘ درزی کو ایک بار کسی کام کے سلسلے میں دوسرے شہر جانا پڑ گیا‘ سکھ رئیس کا کوٹ سلنے کے لیے آیا ہوا تھا‘ یہ مخمل کا انتہائی مہنگا اور خوبصورت کپڑا تھا۔
درزی نے کپڑا اپنے بیٹے کو دیا اور چھٹی چلا گیا‘ بیٹے نے کوٹ سی دیا‘ درزی واپس آیا‘ اس نے کوٹ دیکھا تو اس کے دماغ کو آگ لگ گئی‘ بیٹے نے کوٹ کے بٹن دوسرے رنگ کے دھاگے سے لگا دیے تھے‘ درزی نے جوتا اتارا اور بےٹن کو بھر ے بازار میں جوتے مارنا شروع کر دیے‘ بیٹے نے روتے ہوئے باپ سے کہا ’’ ابا تم مجھے ایسے شخص کی وجہ سے مار رہے ہو جس نے کبھی ہمیں پورے پیسے نہیں دیے‘‘ باپ بیٹے کی پشت پر جوتا مار کر بولا ’’ بدبخت مجھے کپڑے کے مالک سے کوئی دلچسپی نہیں‘ میں کپڑے کی وجہ سے غصے میں ہوں‘ تمہیں اتنے خوبصورت کپڑے پر بھی رحم نہیں آیا‘‘ دیوان سنگھ مفتون نے یہ واقعہ بیان کرنے کے بعد لکھا‘ میں نے اس درزی کی بات ہمیشہ کے لیے پلے باندھ لی‘ میں نے زندگی میں کبھی معاوضے کے لالچ میں کام نہیں کیا‘ میں نے ہمیشہ کام کو صرف کام سمجھا اور یہ میری کامیابی کا واحد گُر تھا۔ یہ واقعہ پروفنلیں ازم کی ایک مثال ہے‘ آپ جب تک اپنے کام کو معاوضے‘ ماحول اور مالکان کے رویے سے الگ نہیں کرتے آپ زندگی میں اس وقت تک پروفیشنل ہو سکتے ہیں اور نہ ہی کامیاب۔
طارق باجوہ اس وقت ایف بی آر کے چیئرمین ہیں‘ یہ سن اسی کی دہائی میں سول سروسز اکیڈمی میں زیر تربیت تھے‘ اکیڈمی کے سربراہ افسروں کو مختلف کام سونپ دیتے تھے‘ ڈی جی نے طارق باجوہ کو شیروانی سلوانے کی ذمے داری سونپ دی‘ باجوہ صاحب کے ایک کزن کے پاس امپورٹیڈ کپڑا تھا‘ یہ کپڑا ذرا سا چمکیلا تھا‘ یہ دونوں دھنی رام روڈ کے ایک درزی کے پاس گئے‘ یہ درزی ہندوستان سے ہجرت کر کے لاہور آیا تھا اور شیروانی سینے کا ماہر تھا‘ باجوہ صاحب نے اسے ناپ دیا اور درخواست کی آپ کپڑے کی چمکیلی سائیڈ اندر کی طرف کر دیں‘ ماسٹر صاحب نے کپڑا واپس کیا اور کہا‘ ناں صاحب ناں میں یہ نہیں کر سکتا‘ میرا نام خراب ہو جائے گا‘ لوگ کہیں گے درزی اتنا نالائق تھاکہ کپڑا الٹا سی دیا‘ باجوہ صاحب نے کہا ’’آپ کو کیا اعتراض ہے‘ ہم خود الٹا سلوا رہے ہیں اور آپ کو اس کا پورا معاوضہ ملے گا‘‘ ماسٹر نے انکار میں سر ہلایا اور جواب دیا ’’صاحب میں تھوڑے سے پیسوں کے لیے اپنے پیشے سے بددیانتی نہیں کر سکتا‘‘ یہ پروفیشنل ازم تھا مگر بدقسمتی سے اب ملک کے کسی شعبے میں یہ پروفیشنل ازم دکھائی نہیں دیتا‘ ملک میں اس وقت ایک کروڑ 45 لاکھ تعلیم یافتہ بے روزگار موجود ہیں مگر آپ کو شہر میں پنکچر لگانے‘ ٹونٹی ٹھیک کرنے‘ کرسی میز بنانے‘ پینٹ کرنے اور ٹائپ کرنے والا نہیں ملتا۔
آپ کو ملک میں اچھا پی اے ملتا ہے اور نہ ہی وفاقی سیکریٹری‘ پروفیشنل ازم اور مہارت کی حالت یہ ہے حکومت تاریخ میں پہلی بار لاء سیکریٹری کی پوسٹ کے لیے اشتہار دینے پر مجبور ہو گئی‘ کیوں؟ کیونکہ پوری بیورو کریسی دناح کی ساتویں جوہری طاقت کو ایک ایماندار اور اہل لاء سیکریٹری فراہم کرنے میں ناکام ہے اور یہ صرف ایک محکمے کا حال نہیں‘ پوری بیورو کریسی نالائقی کے اس دور سے گزر رہی ہے‘ مجھے کسی نے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کا ایک واقعہ سنایا‘ انھوں نے اپنے پریس سیکریٹری کو پریس ریلیز بنانے کی ہدایت کی‘ یہ سارا دن لگا رہا مگر شام تک پریس ریلیز نہ بن سکی‘ حکومت ’’بیرونی امداد‘‘ لینے پر مجبور ہو گئی‘ ایک صحافی نے مدد کی‘ یوں حکومت پریس ریلیز جاری کرنے میں کامیاب ہوئی‘ وزیراعظم نے پریس سیکریٹری بدل دیا‘ نیا سیکریٹری اعلیٰ تعلیم یافتہ تھا‘ وزیراعظم خوش تھے‘ یہ ان کے مسائل ختم کر دے گا‘ وزیراعظم نے دو دن بعد اسے بلا کر کہا آپ میری طرف سے میڈیا کو ایک پریس ریلیز جاری کر دیں۔
اس نے حیرت سے پوچھا ’’سر یہ پریس ریلیز کیا ہوتی ہے‘‘ اور وزیر اعظم سر پکڑ کر بیٹھ گئے‘ ہماری پروفیشنل ازم اور دفتری مہارت کے ایسے ہزاروں واقعات ہیں‘ آپ ملک میں علم اور دانش کا اندازہ اس بات سے لگا لیجیے‘ ایک شخص سکھر سے اسلام آباد آیا‘ اس نے پانی سے گاڑی چلانے کا دعویٰ کیا‘ تین بڑی سیاسی جماعتوں کے نامور سیاستدان اس کے سفارشی بنے‘ ملک کے چار بڑے سائنسی اداروں نے اس کے کارنامے کی تصدیق کی‘ ہمارے میڈیا نے اس کی تعریف میں پروگرام کر دیے اور پوری دنیا ہمارے کمال پر قہقہے لگاتی رہی‘ آپ پروفیشنل ازم کی حالت ملاحظہ کیجیے‘ میرے پاس چند دن قبل انفارمیشن منسٹری کے چار نوجوان افسر آئے‘ یہ سی ایس ایس کرنے کے بعد انفارمیشن اکیڈمی میں زیر تربیت تھے‘ یہ آئے‘ میرے دفتر میں بیٹھے اور انھوں نے مجھ سے کہا ’’سر آپ پہلے اپنا تعارف کروا دیں‘‘ میں نے ان سے عرض کیا ’’ میں کالم لکھتا ہوں اور ٹی وی پروگرام کرتا ہوں‘‘ ان کا اگلا سوال تھا ’’ آپ کس اخبار میں کالم لکھتے ہیں اور کس چینل پر پروگرام کرتے ہیں‘‘ میں نے قہقہہ لگایا اور ان سے پوچھا ’’ آپ لوگ اخبار پڑھتے ہیں‘‘ انھوں نے انکار میں سر ہلا دیا‘ میں نے پوچھا ’’کیا ٹی وی دیکھتے ہیں‘‘۔
انھوں نے جواب دیا ’’ہماری اکیڈمی کی کیبل کٹ چکی ہے چنانچہ ٹی وی دیکھنے کا موقع نہیں ملتا‘‘ میں نے پوچھا ’’ آپ آج کل کون سی کتاب پڑھ رہے ہیں‘‘ خواتین خاموش رہیں جب کہ نوجوان بولا ’’صوفی ز ورلڈ‘‘ میں نے عرض کیا ’’ یہ پرانی کتاب ہے آپ نے کوئی تازہ کتاب نہیں پڑھی‘‘ میرے سوال پر وہ چاروں ناراض ہو گئے‘ میرا معاون اس وقت تک میز پر چائے رکھ چکا تھا‘ وہ چاروں اٹھ کر جانے لگے‘ میں نے ان سے درخواست کی ’’ آپ چائے پی لیں‘‘ خاتون افسر نے چمک کر جواب دیا ’’ہم نے آپ سے چائے نہیں مانگی تھی‘‘ میں نے ان سے معذرت کی‘ گیٹ تک آیا اور انھیں جھک کر رخصت کر دیا‘ یہ بیورو کریسی کی نئی پود ہے‘ یہ آئے گی تو سیکریٹری کی تلاش کے لیے یقینا اشتہار چھاپے جائیں گے۔
یہ حکومت کی صورتحال ہے پرائیویٹ سیکٹر اس سے کہیں زیادہ خوفناک حالت کا شکار ہے‘ آپ چھوٹی سی جاب کا اشتہار دیتے ہیں‘ آپ کو چار ہزار سی وی مل جاتے ہیں‘ آپ ان میں سو لوگوں کو شارٹ لسٹ کرتے ہیں‘ ان کے انٹرویو کرتے ہیں‘ ان میں سے تین چار لوگوں کو ٹرائل پر رکھ لتےر ہیں اور یہ چاروں آپ کو چار دن میں تارے دکھا دیتے ہیں‘ آپ ڈرائیور رکھنا چاہتے ہیں‘ لوگ دس سال پرانا ڈرائیونگ لائسنس اور ڈرائیونگ سرٹیفکیٹ لے کر آ جائیں گے‘ آپ اسے ڈرائیونگ سیٹ پر بٹھا دیں ‘ وہ پہلے ہی دن آپ کی گاڑی مار دے گا‘ آپ کو اگر نسبتاً بہتر ڈرائیور مل گیا تو وہ گاڑی صاف کرنے سے انکار کر دے گا یا گاڑی لے کر اپنے رشتے داروں سے ملاقات کے لیے چلا جائے گا۔
آپ اس کو ڈانٹیں گے تو وہ چابی آپ کی میز پر رکھ دے گا‘ آپ کے ساتھ اگر یہ نہیں ہوتا اور آپ کو خوش قسمتی سے اچھا ڈرائیور مل گیا تو وہ اسکولوں کی چھٹیوں کے دوران نہایت عاجزی اور انکساری کے ساتھ کام کرے گا مگر جوں ہی بچوں کے اسکول شروع ہوں گے وہ چھٹی لے کر گائوں چلا جائے گا اور آپ اسے تلاش ہی کرتے رہ جائیں گے‘ آپ کا اکائونٹینٹ آپ کی چیک بکس لے کر غائب ہو جائے گا‘ ریسپشنسٹ فون پر کلائنٹس کے ساتھ بدتمیزی کرے گا‘ گارڈ اہم مہمانوں کو روک لے گا اور غیر اہم لوگ منہ اٹھا کر آپ کے کمرے تک پہنچ جائیں گے‘ ملازمین کام عین درمیان میں چھوڑ کر غائب ہو جائیں گے اور آپ سر پیٹ کر رہ جائیں گے‘ آپ آپریشن کے لیے جائیں گے تو سرجن آپ کا تندرست گردہ نکال دے گا یا صحت مند آنکھ میں لیزر مار دے گا۔
آپ کو غلط انجیکشن لگا دیا جائے گا یا پھر قینچی یا تولیہ آپ کے پیٹ میں سی دیا جائے گا اور آپ خدانخواستہ کسی مکینک کے ہتھے چڑھ گئے تو آپ کے پاس گاڑی بیچنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہو گا اور آپ کسی گھر میں چلے جائیں آپ کو گھر کی چھت اور دیواروں پر سیم ملے گی اور باتھ روموں سے بو آئے گی‘ یہ ملک کے ماہر ترین مستریوں اور پلمبروں کا کمال ہو گا‘ یہ کیا ہے‘ یہ ملک میں پروفیشنل ازم اور مہارت کا منہ بولتا ثبوت ہے اور ہم اس مہارت کی وجہ سے آج اس لیول پر آ گئے ہیں کہ ہمیں لاء سیکریٹری کے لیے باقاعدہ اشتہار دینا پڑ گیا‘ مجھے خطرہ ہے یہ صورتحال اسی طرح جاری رہی تو وہ وقت آ جائے گا جب ہمیں صدر‘ وزیراعظم‘ آرمی چیف اور چیف جسٹس کے لیے اشتہار دینا پڑے گا اور ہم اٹھارہ کروڑ لوگوں کو چیف جسٹس‘ آرمی چیف‘ وزیراعظم اور صدر نہیں ملے گا اور اگر ملا تو ہم خود سے کہیں گے ہم اس کے بغیر ہی ٹھیک تھے‘ ہمیں اس کی کیا ضرورت تھی‘ کاش ہم لوگوں کو سمجھا سکیں‘ آپ جب تک دھنی رام روڈ کے درزی کی طرح پروفیشنل نہیں ہوتے آپ اس وقت تک خوش حال اور کامیاب نہیں ہو سکتے۔
حکومت کی ہوا خراب نہیں ہونی چاہیے
جاوید چوہدری بدھ 28 اگست 2013
شیئر
ٹویٹ
تبصرے
مزید شیئر

فلمی دنیا میں ایک لفظ رائج ہے ’’ہوا‘‘ یہ لفظ فلم کے مقدر کا فیصلہ کرتا ہے‘ فلم جب شوٹنگ کے عمل سے گزرتی ہے تو اس کے بارے میں ایک ’’ہوا‘‘ بندھ جاتی ہے اور یہ ہوا بعد ازاں اس کی کامیابی یا ناکامی کا فیصلہ کرتی ہے‘ مثلاً ایک فلم ساز مارکیٹ میں آتا ہے‘یہ فلم ساز اس فلم کی پہلی ہوا ہوتا ہے‘ وہ ڈائریکٹر ہائر کرتا ہے‘یہ ڈائریکٹر فلم کی دوسری ہوا ہوتا ہے‘ ڈائریکٹر کہانی نویس‘ مکالمہ نگار‘ شاعر‘ موسیقار‘ گلوکار‘ اداکار‘ لوکیشن اور بجٹ کا فیصلہ کرتا ہے‘ یہ اس فلم کی تیسری ہوا ہوتی ہے‘ فلم کی فلم بندی شروع ہوتی ہے اور یہ لوگ شوٹنگ کے دوران جوں جوں محنت کرتے ہیں یا پھر یہ غلطیاں یا خرابیاں کرتے ہیں ان سے فلم کی ’’ہوا‘‘ مضبوط یا کمزور ہوتی چلی جاتی ہے اور یوں فلم لانچ ہونے سے قبل ہی اس فلم کی ’’ہوا‘‘ اس کا مستقبل طے کر دیتی ہے‘ فلمی دنیا میں یہ فقرہ عام ہے‘ فلاں فلم کی کہانی کمزور ہے مگر اس کی ہوا اچھی ہے یعنی فلم کی کہانی کمزورہے لیکن یہ اس کے باوجود کامیاب ہو جائے گی یا یہ ہیوی کاسٹ‘ بڑے ڈائریکٹر اور ہیوی پروڈیوسر کے باوجود فیل ہو جائے گی۔
یہ ’’ہوا‘‘ نوے فیصد کیسوں میں درست ثابت ہوتی ہے اور فلم لانچ ہونے سے قبل اسٹوڈیو کے کارکن‘ فلمی میگزین کے تجزیہ نگار اور بزرگ اداکار جو پیش گوئی کر دیتے ہیں وہ عموماً من و عن سچ ثابت ہو جاتی ہے‘ حکومت اور سیاسی پارٹیوں کی بھی ایک ’’ہوا‘‘ ہوتی ہے اور یہ ’’ہوا‘‘ آگے چل کر عموماً سچ ثابت ہو جاتی ہے‘ہمارے ملک میں روزانہ بیسیوں افواہیں جنم لیتی ہیں مگر بدقسمتی سے یہ افواہیں آگے چل کر سچ ثابت ہو جاتی ہیں اور یہ میری بیس سال کی مختصر صحافت کا تجزیہ ہے‘ عام لوگ‘ سیاسی ورکر اور میڈیا کسی حکومت کے بارے میں شروع میں جو کہہ دیتا ہے وہ آہستہ آہستہ سچ ثابت ہونے لگتا ہے‘ لوگ حکومت کی ’’ہوا‘‘ کا فیصلہ اس کی ابتدائی تقرریوں اور ٹیم کی بنیاد پر کرتے ہیں‘ حکومت اگر شروع میں کرپٹ اور نااہل لوگوں کو اعلیٰ عہدوں پر فائز کر دے یا یہ ذاتی مفاد کی بنیاد پر فیصلے کرنے لگے تو اس کی ہوا چند دنوں میںخراب ہو جاتی ہے اور یہ اس کے بعد اس کو ٹھیک کرنے کی جتنی چاہے سعی کر لے یہ ہوا درست نہیں ہوتی کیونکہ ہوا ساکھ ہوتی ہے اور ساکھ عورت کی عصمت کی طرح ہوتی ہے‘ یہ ایک بار چلی جائے تو پھر یہ واپس نہیں آتی۔
ہم اس معاملے میں صدر آصف علی زرداری کی مثال دے سکتے ہیں‘ زرداری صاحب تین بار اقتدار کے ایوانوں میں داخل ہوئے‘ یہ 1988ء میں محترمہ بے نظیر بھٹو کے شوہر کی حیثیت سے اقتدار میں آئے‘ بدقسمتی سے اس وقت ان کی ہوا خراب ہو گئی‘ لوگوں نے انھیں مسٹر ٹین پرسنٹ کہنا شروع کر دیا‘ یہ 1993ء میں محترمہ کے ساتھ دوسری بار ایوان اقتدار میں آئے‘ ان کی ہوا بھی ان کے ساتھ ہی وزیراعظم ہائوس میں داخل ہوگئی‘ زرداری صاحب نے اپنی ساکھ کو سہارا دینے کے لیے اس بار میڈیا کے گروئوں کو اپنا دوست بنا لیا‘ یہ میڈیا گرو زرداری صاحب کے لیے لابنگ کرتے رہے مگر ہوا خراب تھی چنانچہ اس کوشش کا اثر الٹ ہوا‘ زرداری صاحب کے ساتھ ساتھ ان کے صحافی دوستوں کی ساکھ بھی برباد ہو گئی‘ زرداری صاحب 2008ء میں پوری طاقت کے ساتھ تیسری بار اقتدار میں آئے‘ یہ اس بار بدلے ہوئے انسان تھے ‘ ہم مانیں یا نہ مانیں مگر یہ حقیقت ہے زرداری صاحب نے اس مرتبہ کرپشن نہیں کی تاہم ان کے دوستوں‘ ان کی پارٹی کے عہدیداروں اور رشتے داروں نے کوئی کسر نہیں چھوڑی لیکن کیونکہ ہوا خراب تھی چنانچہ ملک میں بجلی کے نرخ بڑھے‘ پٹرول کی قیمت میں اضافہ ہوا یا پھر موبائل فون کال اور ایس ایم ایس پر ٹیکس لگا۔
عوام نے اسے فوراً زرداری صاحب کے اکائونٹ میں ڈال دیا‘ لوگ اسے زرداری ٹیکس قرار دے دیتے تھے‘ صدر آصف علی زرداری ساکھ کے معاملے میں کس قدر بدقسمت ہیں آپ اس کا اندازہ اس واقعے سے لگا لیجیے‘ میرے ایک دوست نانگا پربت کے بیس کیمپ گئے‘ یہ مقامی پورٹر کے ساتھ دو دن پیدل سفر کر کے بیس کیمپ پہنچے‘ کیمپ کے قریب زمین کا ایک چھوٹا سا قطعہ تھا‘ کسی نے لکڑی کے ذریعے اس کی حد بندی کر رکھی تھی‘ میرے دوست نے پورٹر سے پوچھ لیا ’’ یہ کس کی زمین ہے‘‘ پورٹر نے فوراً جواب دیا ’’ یہ آصف علی زرداری کا پلاٹ ہے‘‘ میرا دوست یہ سن کر حیران رہ گیا‘آپ تصور کیجیے لوگوں نے نانگا پربت کے بیس کیمپ پر بھی زرداری کے نام پلاٹ ’’الاٹ‘‘ کر دیا‘ اسی طرح مجھے کوئی صاحب بتا رہے تھے صدر آصف علی زرداری نے چاند پر زمین خرید لی ہے‘ یہ سن کر میری ہنسی نکل گئی‘ میں نے اس سے کہا ’’ صدر کو چاند پر پلاٹ خریدنے کی کیا ضرورت ہے تاہم راولپنڈی کے ایک شخص نے چاند پر زمین ضرور خریدی ہے‘‘ اس نے جواب دیا ’’ یہ صدر آصف علی زرداری کا فرنٹ مین ہے‘‘۔ اسی طرح پانچ سال تک صدر الدین ہاشوانی کے بارے میں یہ افواہ گردش کرتی رہی صدر زرداری نے ان سے ان کے ہوٹل مانگ لیے ہیں چنانچہ یہ اپنی منقولہ اور غیر منقولہ جائیداد بچانے کے لیے ملک سے چلے گئے ہیں۔
میاں منشاء‘ عقیل کریم ڈھیڈی اور طارق سہگل کے بارے میں بھی ایسی ہی افواہیں گردش کرتی رہیں مگر پھر معلوم ہوا یہ تمام لوگ پانچ برسوں میں کئی بار صدر آصف علی زرداری سے ملے اور صدر ان کی ’’ جائز‘‘ ضرورتیں بھی پوری کرتے رہے‘ مجھے ایک بزنس ٹائی کون نے بتایا‘ میں ایک بار میاں منشاء‘ طارق سہگل اور عقیل کریم ڈھیڈی کو صدر کے پاس لے کر گیا‘ صدر نے میرے سامنے ان سے پوچھا ’’ آپ کو مجھ سے‘ میری حکومت یا میرے خاندان سے کوئی تکلیف تو نہیں ‘‘ تینوں یک زبان ہو کر بولے ’’ ناں سائیں ناں‘ ہمیں کوئی تکلیف نہیں‘‘ صدر کو ایک بار کسی نے کہا ’’ آپ صدر الدین ہاشوانی کو کیوں تنگ کر رہے ہیں‘‘ صدر نے اسی وقت اپنے موبائل سے ہاشوانی صاحب کو فون ملایا اور ان سے پوچھا ’’ سائیں خیریت ہے‘‘ ہاشوانی صاحب نے گرم جوشی سے جواب دیا ’’گاڈ از ویری کائنڈ‘‘ اور اس کے بعد یہ دونوں بڑی دیر تک گپ شپ کرتے رہے‘ یہ اصل حقیقت تھی مگر لوگ یہ حقیقت ماننے کے لیے کل تیار تھے اور نہ ہی آج تیار ہیں اور اس کی وجہ زرداری صاحب کی ’’ہوا‘‘ ہے‘ زرداری صاحب کی ہوا اس قدر خراب ہے آپ کسی کو یہ بتائیں زرداری صاحب نماز پڑھتے ہیں تو لوگ آپ کو خوشامدی یا چاپلوس قرار دے دیں گے اور میرے اس کالم پر بھی ’’بِک گیا‘ بِک گیا‘‘ کے فتوے جاری ہو جائیں گے۔
میاں نواز شریف کو صدر زرداری کی ’’ہوا‘‘ سے سبق سیکھنا چاہیے‘ میاں صاحب کو وہ غلطیاں نہیں کرنی چاہئیں جن کی وجہ سے صدر زرداری کی ساکھ اتنی خراب ہوئی کہ لوگ نانگا پربت پر ایک کنال زمین کو بھی صدر زرداری کا پلاٹ قرار دے دیتے ہیں‘ حکومت کی شروعات اچھی ہیں‘ وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے 45 دنوں میں بجلی کے گردشی قرضے ادا کر کے اور آئی ایم ایف سے سات ہفتوں میں چھ اعشاریہ چھ بلین ڈالر قرض لے کر حکومت کی اچھی ہوا بندھا دی‘ خواجہ آصف نے بھی کسی نہ کسی حد تک لوڈ شیڈنگ کنٹرول کر لی‘ بجلی کی پیداوار بھی ساڑھے سولہ ہزار میگاواٹ تک پہنچ گئی‘ حکومت نے ایف بی آر اور سی ڈی اے جیسے محکمے بھی بہت اچھے لوگوں کے حوالے کیے۔
چیئرمین ایف بی آر طارق باجوہ اور چیئرمین سی ڈی اے ندیم حسن آصف دونوں کی ساکھ اچھی ہے‘ لوگ انھیں ایماندار بھی سمجھتے ہیں‘ ماہر بھی‘ محنتی بھی اور قانون پسند بھی‘ چوہدری نثار علی بھی اپنی تمام تر ضد اور انا کے باوجود ایماندار اور محنتی انسان ہیں اور حکومت نے اب تک جتنے منصوبے لانچ کیے ہیں‘ یہ ٹھیک بھی ہیں اور ملک کی ضرورت بھی اوریہ بھی حکومت کی ساکھ میں اضافہ کریں گے مگر ان تمام مثبت پہلوئوں کے باوجود لوگوں کا خیال ہے حکومت بوکھلاہٹ کا شکار ہے‘ یہ ہر انگریزی بولنے والے اور پاور پوائنٹ پریذنٹیشن دینے والے سے متاثر ہو جاتی ہے اور کستوری سمجھ کر اس کے پیچھے پیچھے چل پڑتی ہے اور آخر میں پتہ چلتا ہے اس ارسطو نے سوٹ کرائے پر لیا تھا‘ حکومت چاند پر جانے کا اعلان کر دیتی ہے مگر اسے بعد میں معلوم ہوتا ہے ہمارے پاس اتنی بڑی سیڑھی ہی نہیں‘ یہ گوادر فری پورٹ‘ گڈانی پاور کوریڈور‘ کاشغر گوادر روٹ اور کراچی لاہور موٹروے بنانے کا اعلان کر دیتی ہے لیکن یہ بھول جاتی ہے‘ کیا ہمارے پاس اس کے لیے ہیومن ریسورس بھی موجود ہے۔
ملک کی حالت یہ ہے وزارتوں کی اسی فیصد سمریاں نامکمل ڈرافٹس کی وجہ سے کابینہ سے واپس آ جاتی ہیں‘ حکومت کو سمریاں بنانے کے لیے لوگ نہیں مل رہے‘ وزیراعظم کے لیے پریس سیکریٹری نیںٹ مل رہا اور وزارتوں کے لیے سیکریٹری اور ایڈیشنل سیکریٹری نہیں مل رہے مگر سپنے دیوار چین سے طویل اور ہمالیہ سے اونچے ہیں اورسپنوں کی طوالت اور یہ لمبائی حکومت کی ہوا خراب کر رہی ہے‘مجھے خطرہ ہے جس طرح کرپشن کے الزامات نے صدر زرداری کی ہوا خراب کر دی تھی ‘ بالکل اسی طرح ٹیم کی کمی‘ ہیومن ریسورس کا خلاء میاں نواز شریف کی ساکھ تباہ کردے گا اور یہ بحران آگے چل کر حکومت کا تابوت ثابت ہو گا چنانچہ میاں صاحب کو اپنی ہوا پر توجہ دینی چاہیے‘ ان کی ہوا خراب نہیں ہونی چاہیے۔
پہلے خود کلمہ پڑھ لو
جاوید چوہدری پير 26 اگست 2013
مصر میں مئی اور جون2012ء میں دو مرحلوں میں صدارتی الیکشن ہوئے‘ اخوان المسلمون نے ملک کی لبرل فورسز کو شکست دی اور یہ جماعت 84 سال کی جہد مسلسل اور تاریخی قربانیوں کے بعد اقتدار میں آ گئی‘ محمد مرسی مصر کے صدر بن گئے‘ یہ پڑھے لکھے‘ ایماندار‘ پرہیز گار اور سادہ انسان ہیں‘ یہ قاہرہ کے محلے العدوہ کے چھوٹے سے مکان میں رہتے تھے اور محلے کی مسجد میں نماز پڑھتے تھے‘ یہ 30 جون 2012ء کو صدر بنے اور صدر بننے کے بڑے عرصے تک اسی مکان میں رہتے اور اسی مسجد میں نماز پڑھتے رہے۔
اخوان المسلمون حقیقتاً دنیا کی بڑی تحریک ہے‘ یہ تحریک حسن البنا نے 1928ء میں شروع کی‘ حسن البنا 1949ء میں 43 سال کی عمر میں قاہرہ کی ایک بڑی شاہراہ پر شہید کر دیے گئے‘ ان کی شہادت کے بعد اخوان المسلمون کی شہادتوں کی لائین لگ گئی‘ اسلام اور جمہوریت کے لیے سید قطب جیسے لوگوں نے بھی جان کا نذرانہ پیش کر دیا‘ شاہ احمد فواد پاشا کے دور سے لے کر جمال عبدالناصر تک اور انور سادات سے لے کر حسنی مبارک تک مصر کے ہر حکمران نے الاخوان کے ہزاروں نوجوان گرفتار کیے‘ ان کو تشدد کا نشانہ بنایا‘ شہدخ ہوئے تو انھیں لاوارث قبروں میں دفن کر دیا اور بچ گئے تو انھیں جیلوں میں ڈال کر بھنگ‘ چرس‘ مارفین اور ہیروئن کا عادی بنا دیا مگر تحریک کا زور نہ ٹوٹا‘ یہ آگے سے آگے بڑھتی رہی یہاں تک کہ یہ 84 سال کی طویل اور خون آلود جدوجہد کے بعد مسند اقتدار تک پہنچ گئی۔
محمد مرسی صدر بن گئے‘ تحریک سچی بھی تھی‘ شاندار بھی اور مخلص بھی مگر وقت بدل چکا تھا‘ دنیا میں اکیسویں صدی کی جنریشن آ چکی ہے‘ یہ سوشل میڈیا‘ ای میل‘ ٹچ اسکرین‘ ای بکس‘ جینز‘ گیٹ ٹو گیدر اور چنک فوڈ کی فری جنریشن ہے‘ یہ جنریشن اس وقت دنیا کے 245 ممالک میں موجود ہے اور ہم اس سے سو اختلاف کریں‘ ہم خواہ انھیں چکن کہیں‘ بد اخلاق‘ بے لحاظ‘ سست‘ بدتہذیب یا لادین کہیں مگر ہم ان کے وجود سے انکار نہیں کر سکتے‘ یہ لوگ کروڑوں کی تعداد میں ہیں‘ یہ مختلف ملکوں میں رہتے ہیں‘ مختلف عقائد اور مذاہب کے ماننے والے ہیں اور یہ مختلف زبانیں بولتے ہیں مگر یہ اس کے باوجود اپنے والدین سے زیادہ ایک دوسرے سے رابطے میں رہتے ہیں‘ یہ روزانہ والد سے اتنی بار مخاطب نہیں ہوتے جتنا یہ فیس بک‘ ٹویٹر اور ایس ایم ایس کے ذریعے دنیا کے دوسرے کونے میں موجود اپنے ان دیکھے دوستوں سے منسلک ہوتے ہیں۔
یہ فری ورلڈ کے فری لوگ ہیں‘ یہ جہاں حسنی مبارک کی آمریت ماننے سے انکار کر دیتے ہیں‘ یہ وہاں محمد مرسی کی اسلامی اصلاحات بھی تسلیم نہیں کرتے‘ یہ دنیا کا انکاری گروپ ہے‘ یہ ہر زبردستی اور ہر جبر کے خلاف بغاوت کر دیتا ہے‘ اس گروپ نے پہلے حسنی مبارک کو فارغ کرایا‘ یہ پھر محمد مرسی کو لے آئے لیکن یہ جلد ہی اس سے بھی اکتا گئے‘ محمد مرسی نے بھی حالات کا درست تجزیہ نہیں کیا‘ انھیں چاہیے تھا یہ ترکی کی جسٹس پارٹی‘ عبداللہ گل اور طیب اردگان کی طرح آہستہ چلتے‘ یہ پہلے گورننس پر توجہ دیتے‘ عوامی مسائل حل کرتے‘ قاہرہ‘ اسماعیلیہ‘ اسوان اور شرم الشیخ کے عوامی مسائل حل کرتے‘ ملک میں امن قائم کرتے اور معیشت کو ترقی دیتے اور اس کے بعد مگرمچھوں کے منہ میں ہاتھ ڈالتے مگر انھوں نے عوام پر توجہ کے بجائے ان اداروں کے گریبان میں ہاتھ ڈال دیا جو جمہوریت سے بھی مضبوط ہیں اور انھیں غرا ملکی حمایت بھی حاصل ہے۔
محمد مرسی فوج سے بھی بھڑ گئے‘ انھوں نے عدلیہ کے خلاف بھی محاذ کھول لیا اور انھوں نے سوشل میڈیا کے انکاری گروپ کو بھی اپنے خلاف صف آراء کر لیا چنانچہ کشمکش شروع ہوئی اور اس کشمکش کا نتیجہ انارکی نکلا‘ مصر میں فسادات شروع ہوگئے‘ التحریر اسکوائر دوبارہ آباد ہوا‘ فوج واپس آئی اور اس نے 3جولائی 2013ء کو محمد مرسی کی حکومت کا تختہ الٹ دیا‘ فوج اور اخوان کے نوجوانوں میں تصادم ہوا اور اب تک مصر کے ہزاروں نوجوان‘ خواتین اور بچے شہید ہو چکے ہیں‘ ہم روز انٹرنیٹ پر مصری شہیدوں کی تصویریں دیکھتے ہیں اور خون کے آنسو روتے ہیں۔
مصر پاکستان سے پانچ ہزار کلو میٹر کے فاصلے پر ہے‘ یہ درست ہے مسلمان فاصلوں کے باوجود ایک دوسرے کے بھائی ہوتے ہیں اور افغان کے پاؤں میں کاٹا چبھتا ہے تو امریکا میں آباد مسلمان کے منہ سے سسکی نکل جاتی ہے مگر اس کے باوجود ایک اور حقیقت بھی ہے اور ہم جب تک اس حقیقت کو نہیں مانتے اس وقت تک ہمارے اور اسلامی دنیا کے مسائل ختم نہیں ہو سکتے اور وہ حقیقت قومیت ہے‘ مصرمصر ہے‘ پاکستان پاکستان ہے‘ مصری مصری ہیں اور پاکستانی پاکستانی۔
ہمارے ملک کا ایک بڑا طبقہ مصر کے حالات اور اخوان المسلمون پر ڈھائے جانے والے مظالم پر بے چین ہے، میں بھی ان لوگوں میں شامل ہوں ‘ میرا بس نہیں چلتا ورنہ میں تلوار لے کر اپنے مصری بھائیوں کی حمایت میں نکل کھڑا ہوں‘ میرے جیسے لوگ ملک میں اخوان کی حمایت میں جلوس نکال رہے ہیں‘ یہ جلسے بھی کر رہے ہیں‘ یہ چندے بھی جمع کر رہے ہیں‘ یہ میڈیا اور سوشل میڈیا پر مصری فوج کے خلاف اشتہاری مہم بھی چلا رہے ہیں اور یہ قوم سے خطاب کے دوران میاں نواز شریف کی طرف سے اخوان کی حمایت میں بیان نہ دینے پر تبریٰ بھی کر رہے ہیں مگر عجیب بات ہے یہ لوگ یہ مہم‘ یہ سرگرمیاں اس ملک میں چلا رہے ہیں جس میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ان کے اپنے پچاس ہزار بہن بھائی شہید ہو چکے ہیں‘ ہمارے ملک میں روز کسی نہ کسی جگہ بم پھٹتا ہے‘ خود کش حملہ ہوتا ہے یا پھر فوج‘ ایف سی‘ رینجرز‘ پولیس یا کسی پاکستانی خفیہ ادارے کے دفتر پر اٹیک ہوتا ہے اور اس میں ہمارے اپنے بھائی‘ بیٹے اور دوست شہید ہو جاتے ہیں‘ پاکستان کی کتنی ہی ماؤں کی گود سونی ہو گئی‘ کتنے ہی سہاگ اجڑ گئے‘ کتنے ہی بچے یتیم ہو گئے‘ ملک کے کتنے تاجر‘ سوداگر‘ دوکاندار کوڑی کوڑی کو محتاج ہو گئے‘ ہماری مسجدیں‘ قبرستان اور امام بارگاہ غیر محفوظ ہو چکے ہیں‘ مسجدوں کے اندر نماز کے دوران حملے ہوتے ہیں اور قرآن مجید تک خون میں تر ہو جاتے ہیں۔
حکومت اسپتالوں‘ اسکولوں اور عبادت گاہوں کے گرد حفاظتی دیواریں بنانے پر مجبور ہو چکی ہے‘ ملک کے ہر دوسرے گھر کے سامنے گارڈز کھڑے ہیں‘ آپ اگر تھوڑے سے بھی خوش حال ہیں تو آپ کی سیکیورٹی کا بجٹ آپ کی خوراک سے زیادہ ہو جائے گا‘ ملک میں شناختی کارڈ چیک کر کے گولی ماردی جاتی ہے‘ لوگ معاشرتی ضمیر جگانے کے لیے لاشیں سڑک پر رکھنے پر مجبور ہیںمگر ہم میں سے کوئی اس صورتحال پراحتجاج نہیں کر رہا‘ آپ بدقسمتی کی انتہا دیکھئے‘ ہمیں پانچ ہزار کلو میٹر دور اخوان پر ٹوٹنے والے مظالم تو نظر آ رہے ہیں لیکن ہمیں اپنے صحن میں پڑی لاشیں‘ اپنے عوام کے چہروں پر خوف اور اپنے پیاروں کا بہتا ہوا خون دکھائی نہیں دے رہا‘ مجھ سمیت اخوان کے کسی حامی نے حکومت کو دہشت گردی کے خلاف جامع پالیسی بنانے کے لیے مجبور نہیں کیا۔
ہم نے اپنے شہیدوں کے لیے کوئی میڈیا کمپین کی اور نہ ہی کوئی ریلی نکالی‘ ہم پانچ ہزار کلو میٹر دور شہید ہونے والے اخوانوں کی غائبانہ نماز جنازہ پڑھ لیتے ہیں مگر ہم نے آج تک کوئٹہ‘ پشاور‘ کراچی اور اسلام آباد میں مرنے والے کسی پاکستانی شہید کا غائبانہ جنازہ نہیں پڑھا‘ ہم نے مرنے والوں اور شہیدوں کو پولیس‘ فوج اور ایف سی‘ شیعہ‘ سنی‘دیو بندی اور بریلوی مُردوں میں تقسیم کر دیا ہے‘ ہم مصر میں مرنے والے ہر مسلمان خواہ وہ شیعہ ہو یا سنی کا ماتم کرتے ہیں لیکن ہم نے پاکستان میں شیعہ لاشوں کی ذمے داری اہل تشیع پر چھوڑ دی ہے اور سنی لاشوں کو اہل سنت کی ملکیت قرار دے دیا ہے‘ ملک کی حالت یہ ہے فوج کے افسر پولیس کے مُردوں کے جنازے میں شریک نہیں ہوتے اور پولیس فوج کے جنازوں میں‘ فوجی شہیدوں کو فوج دفن کرتی ہے‘پولیس کے مُردے پولیس دفن کرتی ہے‘ سنیوں کے جنازے میں شیعہ شریک نہیں ہوتے اور شیعہ جنازوں میں سنی شامل نہیں ہوتے لیکن ہم اخوان کے معاملے میں ایک ہیں۔
ہم پارلیمنٹ سے شکوہ کرتے ہیں‘ اخوان کی ہلاکتوں پر اس نے اب تک قرارداد مذمت پاس کیوں نہیں کی مگر ہمیں اپنے صحن میں پڑی لاشیں نظر نہیں آتیں‘ کیوں؟ کیا ہم ایسی قوم نہیں بن گئے جو اپنے گھر میں لاشیں چھوڑ کر پرائے ماتم میں شریک ہو جاتی ہے‘ اسلام قریبی رشتے داروں کو صدقے اور خیرات کا سب سے بڑا حق دار قرار دیتا ہے مگر ہم اپنی ہمدردی تک ہزاروں کلو میٹر دور آباد لوگوں میں بانٹ رہے ہیں‘ اخوان ہمارے بھائی ہیں اور کاش ہم مصری بھائیوں کے لیے سلطان صلاح الدین ایوبی بن سکیں مگر ہمیں سب سے پہلے اپنے بھائیوں کا ہاتھ پکڑنا چاہیے‘ہمیں انھیں کندھا پیش کرنا چاہیے‘ ہم کیسے صلاح الدین ایوبی ہیں ‘ہمارے صحن میں لاشیں پڑی ہیں مگر ہم مصری فوج سے لڑنے کے لیے تڑپ رہے ہیں‘ ہم کیسے محمد بن قاسم ہیں ہم اپنی بہنوں کے چہروں پر تیزاب پھینک دیتے ہیں مگر اغیار کے دیبل فتح کرنے کی قسمیں کھاتے ہںی‘ ہماری بچیاں ہمارے خوف سے باہر نہیں نکلتیں مگر ہم فرانس میں حجاب کی تحریک کے لیے جان دینے کے لیے تیار ہیں اور ہمارے ہمسائے میں دس دس دن کھانا نہیں پکتا مگر ہم اپنی عورتوں کے زیور اتار کر چیچنیا کے مسلمانوں کو بھجوا دیتے ہیں‘ آپ کو اگر عالم اسلام کا اتنا درد ہے تو خدا کے لیے پہلے اپنے آپ کو مسلمان تو بنا لو‘ پہلے خود کلمہ پڑھ لو‘ فرعون کو بعد میں مسلمان کر لیں گے۔
مظلوم اسلام
جاوید چوہدری ہفتہ 24 اگست 2013
سکندر ایشو کا آخری پہلو اسلام تھا‘ سکندر دوبئی میں رہتا تھا‘ یہ وہاں بری سوسائٹی میں پھنس گیا‘ اس نے نشہ شروع کر دیا‘ یہ عادت اسے ہیروئن تک لے گئی‘ علاج ہوا‘ یہ ٹھیک ہو گیا لیکن ہیروئن اس کے دماغ‘ اس کے مزاج اور اس کے رویوں پر اپنا اثر چھوڑ چکی تھی‘ یہ مستقل نفسیاتی مریض بن گیا‘ یہ باریش تھا مگر اس نے داڑھی منڈوا دی‘ یہ شراب بھی پیتا تھا‘ چرس کا عادی بھی تھا‘ یہ نیند کی گولیاں بھی کھاتا تھا اور یہ سگریٹ بھی پیتا تھا‘ اس نے دو شادیاں کیں‘ اس کی پہلی بیوی کا تعلق دوبئی سے تھا اور یہ عمر میں بھی اس سے زیادہ تھی‘ دوسری شادی پاکستان میں کی مگر یہ اپنی بیوی سے اکثر جھگڑتا رہتا تھا‘ یہ بیوی پر تشدد بھی کرتا تھا‘ یہ پیسے کے معاملے میں بھی تنگ تھا‘ ماں اس سے اس قدر تنگ تھی کہ اس نے اسے عاق کر دیا۔
یہ زخمی ہوا اور اسپتال میں زندگی اور موت کی سرحد پر جا کھڑا ہوا تو بھی اس کے خاندان کا کوئی فرد اس سے ملاقات کے لیے نہیں آیا‘ اس کے بھائی اور دوست بھی اس سے نالاں تھے چنانچہ کوئی بھائی‘ کوئی دوست اس کی مدد کے لیے نہیں آیا‘ اس کا اقدام بھی انتہائی قابل مذمت اور زیادتی پر مبنی ہے‘ دنیا کا کوئی نظام‘ کوئی روایت اور کوئی اخلاقیات یہ اجازت نہیں دیتی‘ آپ غیر قانونی اسلحہ خریدیں‘ اپنے دو معصوم بچوں اور بیوی کو کرائے کی گاڑی میں بٹھائیں اور وفاقی دارالحکومت کی مرکزی سڑک پر مولا جٹ بن کر کھڑے ہو جائیں‘ آپ اپنے بچوں کو اپنی ڈھال بنائیں‘ ہوائی فائرنگ کریں‘ ٹیلی ویژن کیمروں کی طرف دیکھ کر ہلاتھ ہلائیں اور پولیس کے سامنے اسلام نافذ کرنے کا مطالبہ کریں اور یوں درجنوں لوگوں کی زندگی خطرے میں ڈال دیں‘ یہ اقدام کسی بھی طرح اخلاقی یا قانونی نہیں تھا۔ آپ سکندر کے رویوں کا جائزہ لیجیے‘ یہ کسی بھی طرح اسلامی محسوس نہیں ہوں گے‘ نشہ اسلام میں حرام ہے۔
رشتے داروں کے ساتھ بدتمیزی بالخصوص والدہ کے ساتھ برا رویہ خالصتاً غیراسلامی اور غیراخلاقی ہے‘ بیوی پر تشدد کرنا‘ بچوں کو ڈھال بنا کر دہشت پھیلانا‘ فائرنگ کرنا اور پوری ریاست کو پانچ گھنٹوں تک یرغمال بنائے رکھنا‘ یہ تمام اقدامات بھی اسلامی یا اخلاقی نہیں ہںا‘ دوسرا سکندر پانچ گھنٹے سڑک پر کھڑا رہا‘ ٹیلی ویژن چینلز کے کیمرے اسے مسلسل دکھاتے رہے‘ اس دوران یہ لفنگوں کی طرح سگریٹ پیتا اور دھواں اگلتا رہا‘ اس نے کوئی نماز ادا نہیں کی‘ یہ حرکت بھی غیراسلامی ہے لیکن آپ اس کے مطالبات ملاحظہ کیجیے‘ اس کا فرمان تھا ’’ میں پاکستان میں اسلام نافذ کرنا چاہتا ہوں‘ میں اس وقت تک سڑک سے نہیں ہٹوں گا جب تک ملک میں شریعت نافذ نہیں ہوتی اور یہ حکومت ختم ہونی چاہیے‘‘ ہم نے اسے اور اس کی بیگم کو رات پونے گیارہ بجے لائیو شو میں بھی لیا‘سکندر کی بیوی کنول اور اس کا رویہ انتہائی ناشائستہ تھا‘ یہ تقریباً گالیاں دے رہا تھا‘ ہم اس رویئے کو بھی اسلامی قرار نہیں دے سکتے مگر یہ اس کے باوجود اسلام نافذ کرنا چاہتا تھا‘ مجھے سکندر کو دیکھ کر اسلام پر بہت رحم آیا۔
مجھے اس وقت اللہ تعالیٰ کا آخری دین مظلوم لگا‘ آپ تصور کیجیے‘ وہ شخص جو اپنے پانچ فٹ دس انچ کے قد پر اسلام نافذ نہیں کر سکا‘ جو اپنی ماں کے ساتھ بدتمیزی کرتا تھا اور جو نشوں کا عادی تھا‘ وہ نہ صرف غیرقانونی رائفل کے ذریعے اسلام نافذ کرنے کا مطالبہ کر رہا تھا بلکہ وہ یہ حکم بیر دے رہا تھا عوام کی اکثریت نے ووٹ کے ذریعے جو حکومت قائم کی تھی اسے ختم کر دیا جائے‘ کیا یہ تضاد نہیں؟ اور کیا اسلام کا سکندر جیسے شخص کے ہاتھ میں آ جانا اسلام کے ساتھ زیادتی نہیںاور کیا یہ مذہب اس قسم کے واقعات کے بعد مظلوم اور قابل ترس نہیں بن جاتا۔
اسلام پر صرف سکندر نے ظلم نہیں کیا بلکہ اس معاشرے کا ہر وہ شخص جو پوری زندگی اپنی سوچ‘ اپنی فکر‘ اپنی روٹین‘ اپنے رویوں اور اپنے معاملات کو مسلمان نہیں کر سکا‘ جس کی اخلاقیات تک نے کلمہ نہیں پڑھا اور وہ بزور بازو اٹھارہ کروڑ لوگوں پر اسلام نافذ کرنا چاہتا ہے وہ شخص ظالم بھی ہے اور اسلام کا ملزم بھی‘آپ تصور کیجیے جس ملک میں مسجد سے لوٹے‘ گلاس اور پنکھے چوری ہو جاتے ہیں‘ ہم جس میں آج تک کوئی صاف ستھرا استنجہ خانہ نہیں بنا سکے‘ ہم وضو خانہ ڈیزائن نہیں کر سکے‘ ہم مولوی کو یہ نہیں سمجھا سکے لاؤڈ اسپیکر بھی فضائی آلودگی ہے اور لوگ اس کی وجہ سے اسلام سے دور ہو رہے ہیں‘ ہم آج تک کوئی جدید اسلامی سینٹر نہیں بنا سکے اور جس میں ہم آج بھی تصویر اور ٹیلی ویژن کو حرام قرار دیتے ہیں اور آخر میں چرسی سکندر رائفل لہرا کر حکم دیتا ہے اسلام نافذ کرو‘ کیا یہ زیادتی نہیں؟
ہم اٹھارہ کروڑ لوگ ہیں اور ملک میں اسلام بھی اٹھارہ کروڑ ہیں‘ میں اور میرا ہمسایہ دونوں ایک خدا‘ ایک رسول اور ایک قرآن مجید کو مانتے ہیں لیکن دونوں کا اسلام مختلف ہے اور ہم ایک دوسرے کو کافر بھی سمجھتے ہیں‘ ہم مسجدوں میں نماز پڑھتے ہیں لیکن میری مسجد‘ نقوی صاحب کی مسجد‘ بریلوی صاحب کی مسجد اور دیوبندی صاحب کی مسجد میں زمین آسمان کا فرق ہے‘ ہم ایک خدا کے سامنے سجدے کے بعد ہمسائے کی مسجد اور اس مسجد کے نمازیوں کو کافر قرار دے دیتے ہیں‘ ہم آج تک یہ فیصلہ نہیں کر سکے اسلام شروع کہاں سے ہوتا ہے مگر ہم اس کے نفاذ کے لیے رائفل لے کر باہر آجاتے ہیں‘ اسلام سلامتی ہے اور سلامتی اس وقت تک آپ کے دروازے کے اندر پائوں نہیں رکھتی جب تک آپ کی زبان پر مسکراہٹ‘ دل میں وسعت اور دماغ میں برداشت نہیں ہوتی‘ آپ جب تک ہتھیار نیچے نہیں رکھ دیتے اور آپ جب تک دوسرے کے خدا اور عقیدے کو برداشت نہیں کرتے مگر ہم آج تک یہ نہیں سمجھ سکے۔
نبی اکرمؐ کی حیات مبارکہ 63 برس تھی‘ آپؐ نے ان 63 برسوں میں سے چالیس برس عام انسان کی حیثیت سے گزارے‘ آپؐ نے ان چالیس برسوں میں جو کریڈیبلٹی حاصل کی وہ بعثت کے بعد اسلام کا اصل سرمایہ تھی‘ آپؐ چالیس برس تک دنیا کے جاہل ترین معاشرے میں صداقت‘ امانت‘ سچائی‘ شرافت‘ سادگی‘ صبر‘ برداشت‘ شائستگی اور حیا کاشت کرتے رہے اور جب یہ فصل پک کر تیار ہو ئی تو اللہ تعالیٰ نے آپؐ پر اپنا آخری دین اتار دیا‘ اس وقت آپؐ کی کریڈیبلٹی اس معراج پر تھی کہ اسلام سے انکار کرنے والے لوگ بھی یہ ضرور کہتے تھے‘ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی جھوٹ نہیں بولا‘ یہ صادق بھی ہیں اور امین بھی۔ آپؐ کی کریڈیبلٹی ملاحظہ کیجیے‘ مکہ کے جاہل‘ رسول اللہ ﷺ کے کریکٹر کی گواہی دے رہے ہیں‘ اسلام میں کریکٹر کے چالیس سال پہلے آتے ہیں اور لا الٰہ الااللہ بعد میں مگر ہم کریکٹر پر توجہ دینے کی بجائے ایک ہاتھ میں کلاشنکوف لہراتے ہیں‘ دوسرے ہاتھ سے سگریٹ منہ میں رکھتے ہیں۔
کیمروں کی طرف دیکھ کر مسکراتے ہیں اور پھر اعلان کرتے ہیں ’’اسلام نافذ کرو گے تو میں جائوں گا‘‘ بھائی صاحب! آپ پہلے اپنی ان انگلیوں پر تو اسلام نافذ کر لیں جن میں آپ نے چرس سے بھرا ہوا سگریٹ پکڑ رکھا ہے‘ آپ پہلے اس کندھے پر تو اسلام نافذ کر لیں جس پر آپ نے رائفل لٹکا رکھی ہے اور آپ پہلے ان ہونٹوں پر تو اسلام نافذ کر لیں جن کے ذریعے آپ بے گناہوں کو گالیاں دے رہے ہیں‘ آپ کو طہارت کا طریقہ تو آتا نہیں مگر اسلام آپ پورا نافذ کرنا چاہتے ہیں۔ پورے مدینہ شہر میں ایک مسجد تھی مگرہم نے ہر محلے میں مسجد بنا رکھی ہے اورہم اس مسجد میں بیٹھ کر دوسرے محلے کی مسجد اور اس کے نمازیوں کے اسلام کو چیلنج کرتے ہیں‘ ہم انھیں کافر قراردے دیتے ہیں‘ نماز ہم پڑھتے نہیں‘ پڑھتے ہیں تو زکوٰۃ نہیں دیتے‘ زکوٰۃ دیتے ہیں تو روزے نہیں رکھتے اور اگر یہ تمام کام کر بھی لیں تو شائستگی اور صفائی ہمارے قریب سے نہیں گزرتی‘ ہم اس رسولؐ کو مانتے ہیں جنھوں نے دنیا سے رخصت ہونے سے پہلے دانت صاف کیے تھے۔
جنھوں نے زندگی کا کوئی لمحہ ضایع نہیں کیا‘ جو اپنے ہاتھ سے جوتے گانٹھتے تھے‘ جو اپنی صاحبزادی کو دیکھنے کے لیے بہانے بہانے سے ان کے گھر جاتے رہتے تھے‘ جو یتیم کے سر پر ہاتھ رکھتے تھے تو ان کی آنکھوں میں آنسو آ جاتے تھے‘ جو اس قدر ایماندار تھے کہ ان پر ایمان نہ لانے والوں‘ ان کو کعبے کے سائے سے اٹھا دینے والوں اور ان پر سجدوں کے دوران اوجڑیاں رکھنے والوں کو بھی جب امانت رکھوانا ہوتی تو وہ بے اختیار ’’محمد ؐ‘ محمد ؐ‘‘ پکار اٹھتے تھے۔ ایک بدو مسجد نبویؐ کے کونے میں پیشاب کر رہا تھا‘ صحابہؓ اسے روکنے کے لیے دوڑے تو آپؐ نے ان سے کہا نہیں پہلے اسے فارغ ہو لینے دو۔ غیرمسلم مہمان آئے تو آپؐ نے انھیں مسجد نبوی میں ٹھہرا دیا‘ ایک مہمان کا پیٹ خراب تھا‘ اس نے بسترخراب کر دیا‘ صحابہؓ نے اگلے دن اللہ کے آخری نبیؐ کو وہ گندا بستر دھوتے دیکھا‘ یہ ہے اسلام۔ ایک بے روزگار شخص آیا‘ آپؐ نے اس کا پیالہ اور کمبل فروخت کا ‘ کلہاڑا منگوایا۔
اس میں دستہ ٹھوکا اور فرمایا جائو لکڑیاں کاٹو اور آزاد اور خودمختار زندگی گزارو‘یہ ہے اسلام۔آپ ؐ نے فرمایا‘ جب بھی چلو‘ راستے کے دائیں جانب چلو‘ نظریں جھکا کر رکھو اور راستے کے اینٹ پتھر ہٹاتے ہوئے چلو‘یہ ہے اسلام۔ ایک دن بڑھیا نے کوڑا نہ پھینکا تو اس کی خیریت معلوم کرنے چلے گئے اور فتح مکہ کے دوران اسلام کے سب سے بڑے دشمن ابو سفیان کے گھر کو دارالامان قرار دے دیا اور جب وہ حبشی سامنے آیا جس نے حضرت حمزہ ؓ کا کلیجہ نکالا تھا تو اسے بھی معاف کر دیا اور جب دنیا سے پردہ فرمایا تو اس پورے کرہ ارض پر کوئی ایسا شخص نہیں تھا جو یہ کہتا‘ محمدؐ نے میرا دل دکھایا تھا‘ یہ ہے اسلام‘ مگر ہم لوگ چرس پی کر بلیو ایریا میں رائفل لہرا کر اسلام نافذ کرنا چاہتے ہیں‘ ہمارے کریکٹر کی حالت یہ ہے سکندر کی ماں اسے عاق کر دیتی ہے مگر وہ رائفل لہرا کر ریاست کو حکم دیتا ہے ’’فوراً اسلام نافذ کرو‘‘ کیا اس ملک میں اسلام پر اس سے زیادہ ظلم ہو سکتا ہے‘ مجھے سکندر کے ہاتھ میں رائفل اور ہونٹوں پر اسلام دیکھ کریہ مذہب بے چارہ بھی لگتا ہے اور مظلوم بھی۔
کیس اسٹڈی
جاوید چوہدری جمعرات 22 اگست 2013
سکندر کے ایشو کے دو زاویئے ہیں اور ہمیں قومی سطح پر ان دونوں زاویوں پر بیک وقت توجہ دینی ہو گی‘ پہلا زاویہ ڈاکٹر طاہرالقادری اینگل ہے‘ آپ کو یاد ہو گا ڈاکٹر طاہرالقادری14 جنوری2013ء کو ملین مارچ لے کر اسلام آباد پہنچے تھے‘ یہ پاکستان کی تاریخ کا اپنی نوعیت کا انوکھا واقعہ تھا‘ علامہ طاہرالقادری بلا شبہ بلا کے مقرر ہیں‘ یہ معتدل مزاج کے لبرل مذہبی اسکالر بھی ہیں‘ یہ مذاہب اور عقائد کے درمیان توازن اور ہم آہنگی کے قائل بھی ہیں اور یہ عیسائیوں‘ ہندوئوں اور سکھوں کے ساتھ ساتھ شیعہ‘ سنی اور دیوبندی مکاتب فکر کے ماننے والوں کے لیے بھی قابل قبول ہیں‘ یہ عام لوگوں سے لے کر پڑھے لکھے اسکالر طبقے میں بھی مقبول ہیں اور یہ ڈاکٹر ذاکر نائیک کی طرح بیرون ملک بھی پڑھے اور سنے جاتے ہیں‘ یہ میڈیا کو استعمال کرنا بھی جانتے ہیں اور پاکستان میں بھی ان کی ٹھیک ٹھاک ’’فالونگ‘‘ موجود ہے، ڈاکٹر طاہرالقادری ان تمام خوبیوں کے ساتھ 14 جنوری2013ء کومیں اسلام آباد پہنچ گئے۔
ان کے مطالبات بھی بڑی حد تک درست اور جائز تھے اور لوگ ان مطالبات کی حمایت بھی کر رہے تھے مگر ڈاکٹرطاہرالقادری اس کے باوجود بری طرح ناکام ہو گئے اور یہ اسلام آباد سے ایک باعزت فرارکے لیے ان لوگوں کے ساتھ ایک ناقابل عمل معاہدہ کرنے پر مجبور ہو گئے جنھیں یہ کوفی بھی قرار دے رہے تھے‘ لشکر یزید بھی اور ظالم‘ فاسق اور فاجربھی‘ اب سوال یہ ہے ڈاکٹر طاہر القادری اسلام آباد کیوں آئے یا کیوں لائے گئے یا ان کی آمد سے کیا حاصل ہوا؟ ہم یہ بحث نہیں چھیڑتے کہ علامہ طاہر القادری خود تشریف لائے تھے یا انھیں کوئی اور لے کر آیا تھا‘ ہم صرف اس ’’ملین مارچ‘‘ کے ان نتائج کی بات کرتے ہیں جو آگے چل کر سکندر کے اعلان بغاوت سے ’’میچ‘‘ کریں گے‘ علامہ طاہر القادری کی آمد اور رخصتی سے چند باتیں ثابت ہوئیں‘ ایک‘ پاکستان میں مدارس اور مذہبی طبقہ آج بھی بھرپور اسٹریٹ پاور‘ موبلائزیشن اور نظم و ضبط کا منبع ہے‘ دو‘ لوگ ان کا ساتھ بھی دیتے ہیں‘ یہ ان کے ساتھ بھی چل پڑتے ہیں‘ ان کی تقریر بھی سنتے ہیں۔
ان کے جوش خطابت کی داد بھی دیتے ہیں اور انھیں چندے بھی دے دیتے ہیں لیکن یہ مولوی حضرات کو حکمرانی سونپنے کے لیے تیار نہیں ہیں‘ یہ انھیں بطور سیاسی لیڈر قبول نہیں کرتے اور اگر انھیں مقبول ترین اور معتدل ترین ڈاکٹر طاہرالقادری اور غیر مقبول ترین آصف علی زرداری میں سے کسی کے انتخاب کا موقع دیا جائے تو یہ آصف علی زرداری کا ساتھ دیں گے‘ یہ پورا نظام 15 جنوری 2013ء کو علامہ طاہر القادری کے ایک جھٹکے کے فاصلے پر کھڑا تھا‘ لوگ اگر علامہ صاحب کا ساتھ دیتے تو یہ چند قدم بڑھا کر ’’ظلم کی حکومت‘‘ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ختم کر دیتے مگر لوگوں نے ان کا اس حد تک ساتھ نہیں دیا اور یوں علامہ صاحب کو لاہور اور بعد ازاں کینیڈا ناکام لوٹنا پڑ گیا‘ تین‘ صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم راجہ پرویز اشرف کی حکومت بدنامی اور ناکامی کی انتہا کو چھو رہی تھی‘ عدلیہ‘ فوج اور میڈیا ان کے خلاف تھے۔
سپریم کورٹ نہ صرف صدر اور وزیراعظم دونوں کے خلاف فیصلے جاری کر چکی تھی بلکہ علامہ صاحب کے انقلاب کے عین درمیان وزیراعظم راجہ پرویز اشرف کے خلاف فرد جرم بھی عائد کر دی گئی مگر ان تمام تر اختلافات اور ناراضی کے باوجود سپریم کورٹ‘ فوج اور میڈیا نے علامہ صاحب کا ساتھ نہیں دیا‘ گویا اس کا مطلب یہ ہوا میڈیا‘ فوج اور عدلیہ بھی مولوی کا انقلاب قبول کرنے کے لیے تیار نہیں‘ یہ ادارے بدترین حکومت کے باوجود کسی غیر جمہوری مہم جوئی کو سپورٹ نہیں کریں گے اور چار‘ آپ کتنے ہی سچے کیوں نہ ہوں‘ آپ کا ایجنڈا کتنا ہی واضح کیوں نہ ہو اور آپ میڈیا کو جتنے چاہیں اشتہارات دے لیں مگر آپ اینکرز کو متاثر نہیں کر سکتے اور کالم نگار اور معتبر ٹیلی ویژن میزبان آپ کا ساتھ نہیں دیں گے‘ یہ آپ کی غیر جمہوری حرکات کو سپورٹ نہیں کریں گے۔
میں آج بھی یہ سمجھتا ہوں علامہ طاہر القادری پاکستانی معاشرے کی ایک بہت بڑی کسک اسٹڈی تھے اور علامہ صاحب کے تین روزہ انقلاب نے پوری دنیا کی آنکھیں کھول دیں اور امریکا اور یورپ اس واقعے کے بعد اپنی پالیسی تبدیل کرنے پر مجبور ہو گیا‘ یہ جان گیا پاکستان میں اب غیر جمہوری تبدیلیاں ممکن نہیں اور اگر ایسی کوشش کی گئی تو میڈیا اور عدلیہ اسے قبول نہیں کرے گی‘ امریکا یہ بھی جان گیا مذہبی اسکالرز خواہ کتنے ہی لبرل کیوں نہ ہوں پاکستانی معاشرہ ان کی حکمرانی ماننے کے لیے تیار نہیں‘ یہ نظام ان کے ہاتھ میں نہیں دے گا‘ سکندر ملک بھی ایک کیس اسٹڈی یا پاکستانی نظام کا ’’ٹیسٹر‘‘ تھا اور ہو سکتا ہے کسی نے اسے نظام کی طاقت یا خامیوں کا اندازہ لگانے کے لیے لانچ کیا ہو‘ دنیا یا کوئی طاقت یہ جاننا چاہتی ہو ہماری ریاست کس قدر طاقتور ہے۔
یہ کس تیزی سے حرکت میں آ سکتی ہے اور اگر کوئی عام شخص رائفل لے کر سڑک پر آ جائے تو ریاست اس سے کیسے نمٹنے گی وغیرہ وغیرہ‘ سکندر ہماری ریاست کا ’’ٹیسٹ‘‘ ہو سکتا ہے اور اس ٹیسٹ کے بعد کچھ چیزیں ثابت ہو گئیں مثلاً یہ ثابت ہو گیا کوئی بھی دہشت گرد یا مسلح شخص دس سال سے داخلی جنگ کی شکار ساتویں جوہری طاقت کے دارالحکومت میں داخل ہو سکتا ہے اور یہ دو رائفلوں کے ذریعے پورے ملک کی توجہ حاصل کر سکتا ہے‘ مثلاً یہ ثابت ہو گیا ہماری پولیس اب خود مختار نہیں رہی‘ یہ غیر متوقع واقعات میں بالائی احکامات کا انتظار کرتی ہے اور وزیر داخلہ یا وزیراعظم انھیں کتنا ہی نامعقول حکم دے دیں یہ اسے من و عن مان لیتی ہے اور یہ گرائونڈ پر فیصلہ نہیں کرتی‘ مثلاً یہ ثابت ہو گیا ہماری پولیس مہارت کے شدید بحران کا شکار ہے‘ ان کے پاس شارپ شوٹرز ہیں‘ اسنائپرز ہیں‘ ہلمٹ ہیں‘ا سٹن گنز ہیں اور نہ ہی راستوں کو روکنے کا کوئی معقول بندوبست‘ مثلاً یہ ثابت ہو گیا۔
ہماری پولیس ایسے واقعات کے دوران میڈیا کے لوگوں کو کرائم سین سے دور رکھ سکتی ہے اور نہ ہی عام لوگوں کو جمع ہونے سے باز‘ مثلاً یہ ثابت ہو گیا پاکستان میں کوئی غیر معقول واقعہ پانچ پانچ گھنٹے ٹیلی ویژن پر لائیو چل سکتا ہے اور کوئی ادارہ اسے روک نہیں سکتا‘ ریاست کی رٹ اس معاملے میں بھی جواب دے چکی ہے‘ مثلاً یہ ثابت ہو گیا اداروں کے درمیان کوآرڈینیشن موجود نہیں‘ فوج سیاسی حکومت یا سول ایڈمنسٹریشن کی درخواست پر آگے نہیں بڑھتی‘ یہ پولیس یا ضلعی انتظامیہ کا ساتھ نہیں دیتی‘ اس قسم کا سگنل ڈی آئی خان جیل کے واقعے کے دوران بھی انتہا پسندوں اور عالمی طاقتوں کو ملا تھا کیونکہ دہشت گرد کنٹونمنٹ کے اندر سے گزر کر جیل پہنچے تھے اور یہ 216 کلو میٹر کا فاصلہ طے کر کے واپس قبائلی علاقوں میں گئے تھے اور کسی نے ان کو روکنے کی جرأت نہیں کی۔
اس سے ثابت ہوا فوج سول اداروں یا سیاسی حکومتوں کو سپورٹ نہیں کر رہی‘ مثلاً یہ ثابت ہو گیا پولیس ارکان اسمبلی سے قانون نہیں منوا سکتی اور نبیل گبول ہوں یا زمرد خان ہوں یہ پولیس احکامات روند کر مجرم تک پہنچ سکتے ہیں اور کوئی انھیں روک نہیں سکتا‘ مثلاً یہ بھی ثابت ہو گیا ہماری پولیس میڈیا اور عدلیہ کے نفسیاتی دبائو میں ہے‘ یہ میڈیا کے کیمروں اور سپریم کورٹ کے سوموٹو ایکشن کے خوف سے اب عام روٹین کی کارروائی بھی نہیں کرتی اور مثلاً یہ بھی ثابت ہو گیا ہمارے ملک میں ایک عام گمنام شخص دو رائفلیں لے کر سڑک پر آ کر گمنامی کے اندھیرے سے شہرت کی چکا چوند میں آ سکتا ہے‘ یہ مقبول ہو سکتا ہے‘ سکندر کی کیس اسٹڈی سے ہمارے تمام اندرونی اور بیرونی دشمن بڑے بڑے نتائج تک پہنچ گئے ہیں اور ہمیں اس ایشو کا یہ زاویہ بھی نظر میں رکھنا ہوگا۔
سکندر کے ایشو کا دوسرا زاویہ عام انسان کی فرسٹریشن ہے‘ ہم فرض کر لیتے ہیں سکندر کو کسی نے لانچ نہیں کیا‘ یہ ڈرامہ حقیقتاً اس کی اپنی اختراء تھا‘ یہ اپنی فلم کا خود ڈائریکٹر‘ مصنف‘ کیمرہ مین اور فنانسر تھا اور یہ اس فلم کا ڈسٹری بیوٹر بھی خود ہی تھا‘ ہم یہ مان لیتے ہیں لیکن اس کے بعد ایک نیا زاویہ ہمارے سامنے آ جائے گا‘ اس کا مطلب ہو گا ہمارے ملک میں لوگ ذہنی طور پر اس قدر ڈسٹرب ہو چکے ہیں کہ یہ رائفل اٹھا کر اپنے معصوم بچوں اور گھریلو بیوی کے ساتھ سڑک پر آ جاتے ہیں اور یہ دو رائفلوں کے ذریعے پورے ملک میں اسلام بھی نافذ کرنا چاہتے ہیں‘ حکومت کا خاتمہ بھی اور اقلیتوں کو ان کے حقوق بھی دلانا چاہتے ہیں‘ یہ مہنگائی‘ بے روزگاری‘ ناانصافی اور ظلم و زیادتی کے خلاف اکیلے باہر نکلنے پر تیار ہو گئے ہیں اور یہ اس معاملے میں اپنی اور اپنے خاندان کی جان تک کی پرواہ نہیں کرتے‘ زمرد خان کی انٹری اور حرکت بھی آگے چل کر اس زاویئے کو سپورٹ کرتی ہے۔
زمرد خان کا وہاں آنا‘ پولیس کے روکنے کے باوجود سکندر تک جانا اور پھر جان کی پرواہ نہ کرتے ہوئے اس پر جھپٹ پڑنا بھی اسی نفسیات کو ظاہر کرتا ہے‘ زمرد خان پانچ گھنٹے طویل تماشہ دیکھ کر تھک گیا تھا‘ اسے یقین ہو گیا تھا پولیس سکندر کو نہیں پکڑ سکتی چنانچہ اس نے میدان میں کودنے کا فیصلہ کر لیا اور یہ کر گزرا‘ اس وقت ملک کے زیادہ تر لوگ زمرد خان کی کیفیت سے گزر رہے تھے‘ یہ لوگ بھی وہاں جا کر سکندر کو دبوچنا چاہتے تھے‘ بلیو ایریا میں موجود ہر شخص کے اندر اس وقت ایک زمرد خان کلبلا رہا تھا اور زمرد خان نے جوں ہی یہ کارنامہ سرانجام دیا لوگوں نے اسے کندھوں پر اٹھا لیا‘ لوگوں کی یہ حرکت ثابت کرتی ہے معاشرے کا اداروں سے یقین اٹھ چکا ہے‘ لوگ اب ملک کے مسائل خود حل کرنا چاہتے ہیں‘ سکندر بن کر یا زمرد خان بن کر اور یہ سوچ انتہائی خطرناک ہے کیونکہ دنیا کے انقلابوں اور خانہ جنگیوں نے اسی سوچ کی کوکھ سے جنم لیا تھا اور ہم نے اگر توجہ نہ دی تو یہ معاشرہ سکندروں اور زمرد خانوں میں تقسیم ہو جائے گا‘ یہ دونوں آمنے سامنے کھڑے ہوں گے اور خانہ جنگی شروع ہو جائے گی اور یہ ملک روانڈا بن جائے گا‘ کیا ہم یہ چاہتے ہیں؟۔
تو پھر سکندر معصوم ہے
جاوید چوہدری پير 19 اگست 2013
’’اولمپس ہیز فالن‘‘ ہالی ووڈ کی ایک شاندار فلم ہے‘ یہ فلم وائٹ ہاؤس پر قبضے کے موضوع پر بنائی گئی‘ فلم میں دکھایاگیا ‘ کوریا کے وزیراعظم امریکی صدر سے ملاقات کے لیے وائٹ ہاؤس آتے ہیں‘ وائٹ ہاؤس پر اچانک فضائی حملہ ہو جاتا ہے‘ صدر کا سیکیورٹی اسٹاف امریکی صدر‘ مہمان وزیراعظم اور کوریائی وفد کو وائٹ ہاؤس کے جوہری بم پروف مورچے میں شفٹ کر دیتا ہے‘ کوریا کا وزیراعظم جوہری مورچے میں پہنچتے ہی جیب سے ریوالور نکال لیتا ہے‘ اس کے اسٹاف اور وفد میں شامل لوگ بھی اسلحہ نکالتے ہیں‘ صدر کے باڈی گارڈز کو گولی مارتے ہیں اور وائٹ ہاؤس کے انتہائی حساس مقام پر قبضہ کر لیتے ہیں‘ یہ لوگ امریکی صدر اور اہم ترین وزراء کو یرغمال بنا لیتے ہیں۔
اس کے ساتھ ہی کوریائی وزیراعظم کے موٹر کیڈ سے مسلح کمانڈوز نکلتے ہیں اور یہ وائٹ ہاؤس پر فائرنگ شروع کر دیتے ہیں‘ واشنگٹن کی گلیوں سے ہیوی ٹرکس نکلتے ہیں اور یہ بھی وائٹ ہاؤس پرحملہ آور ہو جاتے ہیں اور یوں چند لمحوں میں امریکا کی طاقت کا محور وائٹ ہاؤس ملبے کا ڈھیر بن جاتا ہے‘ ادھر دہشت گرد صدر اور وزیر دفاع سے جوہری ہتھیاروں کے کوڈز حاصل کر لیتے ہیں اور یوں پوری دنیا جوہری خطرات کا شکار ہو جاتی ہے‘ اس فلم میں مزید کیا ہوتا ہے؟ یہ زیادہ ضروری نہیں کیونکہ اس فلم کا انجام بھی عام فلموں کی طرح ہوتا ہے‘ یہ بحران ہیرو کو جنم دیتا ہے‘ یہ ہیرو زمرد خان کی طرح تنہا دہشت گردوں سے ٹکراتا ہے اور ہیرو آخر میں جیت جاتا ہے مگر یہ فلم روایتی اختتام کے باوجود شاندار ہے‘ یہ ناظر کی توجہ کو مقناطیس کی طرح جکڑ لیتی ہے۔
ہم لوگ جس وقت سکندر کے ڈرامے کو بلیو ایریا کی سڑک پرپروان چڑھتا دیکھ رہے تھے ‘مجھے اس وقت ’’اولمپس ہیز فالن‘‘ یاد آ رہی تھی اور ایک سوال بار بار سر اٹھا رہا تھا‘ یہ شخص اگر بلیو ایریا تک پہنچ سکتا تھا اور وفاقی دارالحکومت کو دو رائفلوں کے ذریعے یرغمال بنا سکتا تھا تو کیا چار ‘پانچ یا دس مسلح لوگ ایوان صدر‘ وزیراعظم ہاؤس یا پارلیمنٹ پر قبضہ نہیں کر سکتے اور اگرایسا ہو جائے تو کیا ہماری وہ پولیس جو 15 اگست کو سکندر سے نہیں نمٹ سکی یا ہمارے وہ سیکیورٹی ادارے جو آج تک جی ایچ کیو‘ مہران بیس‘ کامرہ ائیر بیس اور دو مئی کے واقعات کا کوئی ٹھوس جواب نہیں دے سکے یہ اس نوعیت کا قبضہ چھڑا لیں گے؟ اور اگر چھڑا لیا تو اس میں کتنا وقت لگ جائے گا؟ ہماری سیکیورٹی کا یہ عالم ہے پارلیمنٹ ہاؤس‘ ایوان صدر اور وزیراعظم ہاؤس کے نیچے سے نالے گزرتے ہیں اور آج تک کسی نے ان نالوں کی حفاظت کے لیے کوئی بندوبست نہیں کیا۔
یہ دہشت گردوں کی مہربانی ہے آج تک انھوں نے ان نالوں پر توجہ نہیں دی‘ وزیراعظم اور صدر کی آمد و رفت کے دوران ہر روٹ پر 175 پولیس اہلکار تعانات کیے جاتے ہیں‘ ان اہلکاروں نے کندھوں پر رائفلیں بھی لٹکا رکھی ہوتی ہیں لیکن ان کے پاس گولیاں نہیں ہوتیں‘ اگر ہوتی ہیں تو یہ دس دس سال پرانی ہیں اور کسی نے آج تک انھیں ٹیسٹ نہیں کیا‘ یہ رائفلیں بھی ٹیسٹ شدہ نہیں ہیں اور اگر ہوئی ہیں تو سوال یہ ہے کیا ان اہلکاروں کو رائفل چلانی بھی آتی ہے؟ جی نہیں ان میں سے کسی شخص کے پاس شوٹنگ سر ٹیفکیٹ نہیں‘آپ کو یقین نہ آئے تو آج چیک کر لیں‘ آپ حیران رہ جائیں گے یہ صرف نمائشی سپاہی ہیں اور ان کی اہلیت وردی اور سیلوٹ کے بعد دم توڑ جاتی ہے۔
آپ وی آئی پی روٹ کا جغرافیائی جائزہ بھی لے لیجیے‘ میاں نواز شریف کے وزیراعظم بننے کے بعد مری جانے والا راستہ بھی وی آئی پی روٹ بن چکا ہے‘ میاں نواز شریف اکثر اسلام آباد سے مری چلے جاتے ہیں‘ ان کے راستے میں بھی پولیس اہلکار کھڑے ہوتے ہیں لیکن وزیراعظم کے سیکیورٹی اسٹاف نے کبھی ان اہلکاروں سے آگے جھانک کر نہیں دیکھا‘ وزیراعظم کے راستے میں بھنگ کے آٹھ آٹھ فٹ اونچے پودوں کا پورا جنگل ہے‘ راستے میں جھاڑیاں اور درخت بھی ہیں ‘ بھنگ اور جھاڑیوں کے ان جنگلوں میں بیسیوں توپیں چھپائی جا سکتی ہیں اور اگر خدانخواستہ کسی سکندر نے بھنگ کے ان قدرتی مورچوں کے استعمال کا فیصلہ کر لیا تو ہم دنیا میں کس کس کو منہ دکھائیں گے؟ یہ حقیقت ہے اسلام آباد پولیس کے پاس شارپ شوٹرز یا اسنائپرز نہیں ہیں۔
پولیس تو رہی ایک طرف ہمارے چڑیا گھر تک میں اسٹن گن (بے ہوش کرنے والی رائفل) نہیں‘ سکندر انسان تھا‘ کل اگرچڑیا گھر کا کوئی شیر یا چیتا شہر میں نکل آیا تو ریاست تماشہ دیکھنے کے علاوہ کچھ نہیں کرسکے گی‘ اداورں کے درمیان کوآرڈینیشن بھی موجود نہیں‘ ایس ایس پی آئی جی کی طرف دیکھتا رہا‘ آئی جی چیف کمشنر کے حکم کا منتظر رہا‘ چیف کمشنر وزیر داخلہ کے احکامات کا منتظر رہا اور وزیر داخلہ فوج کو بلائیں یا نہ بلائیں کے مخمصے کا شکار رہے‘ کیا سکندر کو گرفتار کرنے کے لیے اتنے لمبے چوڑے بیورو کریٹک پراسیس کی ضرورت تھی؟ یہ مسئلہ کو ہسار تھانے کے لیول پر حل ہو جانا چاہیے تھا لیکن کیونکہ ہم نے آج تک کسی کو اختیار نہیں دیا چنانچہ سکندر کا ایشو براہ راست وزیراعظم تک چلا گیا اور وزیراعظم نے احکامات جاری نہیں کیے چنانچہ ڈرامہ طول پکڑتا رہا اور آخر میں یہ ایشو بھی میڈیا کے گلے میں ڈال دیا گیا۔
ملک کے سینئر صحافی میڈیا کے لیے ضابطہ اخلاق کے متمنی ہیں‘ میڈیا کو بھی قانون اور ضابطے کا پابند ہونا چاہیے‘ہم سب یہ چاہتے ہیں مگر یہ کرے گا کون؟ اس کا جواب کون دے گا؟ میں 15 اگست کی رات خود ’’موقع واردات‘‘ پر گیا تھا‘ میں نے وہاں پولیس کے کردار کو بھی سراہا اور میڈیا کے کارکنوں سے بھی کیمرے پیچھے لے جانے اور اپنی حفاظت کا خیال رکھنے کی درخواست کی اور ان لوگوں نے میری بات پر عمل بھی کیا‘ میں نے پولیس سے سکندر ملک سے ملاقات کی درخواست بھی کی مگرایس پی نے انکار کر دیا اور میں نے اس حکم پر عمل بھی کیا‘میں15 اگست کی رات آن ائیر میڈیا کے کردار تنقیدکرتا رہا مگر پھرپروگرام کے دوران ایک عجیب واقعہ پیش آیا‘ مجھے کسی اجنیر نمبر سے ایک ایس ایم ایس آیا‘ سکندر اور اس کی بیگم سرینڈر کرنے کے لیے تیار ہیں مگر یہ گارنٹی چاہتے ہیں‘ میں نے ایس ایم ایس کرنے والے سے کنول اور سکندر کا ڈائریکٹ نمبر مانگا‘ مجھے نمبر مل گیا‘ میرے پروڈیوسر نے کال ملا دی اور یوں ہمارا کنول اور سکندر سے رابطہ ہو گیا‘ ہماری یہ گفتگو لائیو چلتی رہی‘ گفتگو کے دوران معلوم ہوا کنول اور سکندر ذہنی لحاظ سے بیلنس نہیں ہیں‘ ان کی بات میں ربط اور تسلسل بھی نہیں تھا اور یہ اپنے اس اقدام کا کوئی ٹھوس جواز بھی پیش نہیں کر پائے تھے‘ یہ اسلام نافذ کرنا چاہتے تھے‘ حکومت کا خاتمہ چاہتے تھے اور اقلیتوں کو حقوق دلانا چاہتے تھے لیکن یہ ہوگا کیسے؟
ان کے پاس اس کا کوئی جواب نہیں تھا‘ میں نے دونوں کو دو آپشن دیے‘ ہمارے پاس وفاقی وزیر خرم دستگیر موجود ہیں‘ آپ ان کی گارنٹی لے سکتے ہیں اور ہم اس گارنٹی پر عمل کروائیں گے‘ دوسرا آپ اٹھارہ کروڑ لوگوں میں سے کسی شخص کا نام لیں ہم وہ شخص آپ کے پاس لے آتے ہیں مگر ان کا کہنا تھا ہمارے لیے ایس ایس پی ڈاکٹر رضوان کی گارنٹی کافی ہے‘ انھوں نے انکشاف کیا ‘ڈاکٹر رضوان مذاکرات کے لیے کسی جگہ کا بندوبست کر رہے ہیں اور ہم ان کے ساتھ اس جگہ چلے جائیں گے‘ یہ بات ابھی جاری تھی کہ زمرد خان ان تک پہنچ گئے‘ سکندر نے فون بند کا ‘ یہ گاڑی سے باہر نکلا اور ہمارے ساتھ اس کی گفتگو کے تین منٹ بعد یہ واقعہ پیش آ گیا‘ میڈیا کو اس واقعے کو ہائپ نہیں دینی چاہیے تھی اور ہمیں بھی ان دونوں کو ٹیلی فون پر نہیں لینا چاہےچ تھا لیکن کیا صرف میڈیا نے غلط کیا؟ جی نہیں!
وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے 16 اگست کی شام پریس کانفرنس میں اعتراف کیا اس واقعے کی طوالت کے دو ذمے دار ہیں‘ میں (وزیر داخلہ) اور میڈیا‘ چوہدری صاحب نے پریس کانفرنس میں اپنی ذمے داری بھی قبول کی مگر حکومت کی بے انصافی دیکھئے یہ میڈیا کو تو نوٹس جاری کر رہی ہے مگر وزیر داخلہ چوہدری نثار سے کوئی نہیں پوچھ رہا‘ آپ پولیس چیف کیوں بن گئے اور آپ نے اپنے مورچے میں بیٹھ کر پولیس کو غیر دانشمندانہ احکامات کیوں جاری کیے تھے‘ آپ نے پولیس کو اپنا کام کیوں نہیں کرنے دیا اور آپ نے اگر ذمے داری قبول کرلی ہے تو کیا آپ کا اعتراف کافی ہے؟ کیا آپ کو غیر دانش مندانہ اقدام کی کوئی سزا نہیں ملنی چاہیے اور اگر اعتراف ہی سزا ہے تو پھر ہم بھی اپنی غلطی مان لیتے ہیں‘ معاملے کو مس ہینڈل کرنے والے پولیس اہلکار بھی اپنی غلطی تسلیم کر لتےہ ہیں اور سکندر اور کنول بھی اپنی غلطی کا اعتراف کر لیتے ہیں اور آپ ان تمام کرداروں کو بھی چوہدری نثار کی طرح باعزت معافی دے دیں‘ یہ کیا انصاف ہے چوہدری نثار غلطی کے اعتراف کے باوجود وزیر داخلہ ہیں مگر شریک جرم میڈیا‘ سکندر ‘ کنول اور پولیس کو سزا دی جا رہی ہے اور عوام کے ہیرو زمرد خان کو برا بھلا کہا جا رہا ہے‘ یہ انصاف ہے تو پھر ہم اس انصاف کو نہیں مانتے‘ آپ تمام شرکاء جرم کا احتساب کریں بشمول وزیرداخلہ ‘ یہ ڈرامہ ان کی غلطی سے طویل ہوا تھا اور اگر آپ چوہدری نثار کو ’’اعتراف جرم‘‘ کے باوجود معاف کر دیتے ہیں تو پھر سکندر اور کنول کو بھی چھوڑ دیں کیونکہ پھر یہ معصوم ہیں۔
قدرت کے سگنل
جاوید چوہدری ہفتہ 17 اگست 2013
اسلام آباد کا ’’اغوا کار‘‘ سکندر پاکستانی معاشرے‘ پاکستان مسلم لیگ ن کی حکومت‘ وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے آخری غیبی امداد تھا‘ یہ قدرت کی طرف سے ہمارا آخری ’’مدد گار‘‘ تھا اور ہم نے اگر اس مددگار کی مدد نہ لی تو شاید چوہدری نثار کو وزارت چلانے کے لیے لندن شفٹ ہونا پڑ جائے اور یہ ایجویئر روڈ کے کسی فلیٹ میں بیٹھ کر سکائپ کے ذریعے اسلام آباد پولیس کو احکامات جاری کریں لیکن اس کے لیے چوہدری صاحب کو پہلے کمپیوٹر سیکھنا ہو گا‘ سکندر غیبی امداد کیسے تھا؟یہ آپ اس واقعے سے جان لیں گے‘ اللہ کا کوئی بندہ سیلاب میں پھنس گیا‘ پانی اس کے گھر میں داخل ہو گیا‘ ہمسائے اس کی مدد کے لیے اس کے گھر پہنچ گئے مگربندے نے یہ کہہ کر انکار کر دیا ’’ میرا مالک اللہ ہے‘ یہ مجھے بچا لے گا‘ تم لوگ میری فکر نہ کرو‘‘ ہمسائے اس کی منتیں کرتے رہے مگر وہ نہ مانا‘ وہ مایوس ہو کر چلے گئے‘ پانی گھر کی دوسری منزل تک پہنچ گیا‘ اللہ کا بندہ چھت پرچڑھ گیا۔
فوج کی ریسکیو ٹیم نے اسے دیکھا تو وہ کشتی لے کر پہنچ گئی مگر اس کا کہنا تھا ’’میرا مالک اللہ تعالیٰ ہے‘ یہ مجھے بچا لے گا‘ تم لوگ میری فکر نہ کرو‘‘ ریسکیو ورکر بھی اس کی منتیں کرتے رہے مگر وہ نہ مانا‘ اس دوران پانی کا نیا ریلا آ گیا‘ ریسکیو ورکرز کی کشتی ڈولنے لگی چنانچہ وہ واپس چلے گئے‘ وہ شخص ممٹی پر چڑھ کر بیٹھ گیا‘ محلے کے تین تیراک نوجوان جان خطرے میں ڈال کر اس تک پہنچے اور اس سے ہاتھ پکڑنے کی درخواست کی مگر وہ نہ مانا‘ وہ توکل میں ڈوبا ہوا شخص تھا‘ وہ کسی انسان کی مدد لینے کے لیے تیار نہیں تھا‘ تیراک بھی واپس چلے گئے‘ پانی کا شدید ریلا آیا‘ ممٹی بھی پانی میں ڈوب گئی‘ ممٹی پر انٹینا لگا تھا‘ اللہ کا وہ متوکل بندہ انٹینے کے ڈنڈے کے ساتھ چپک گیا اور آہستہ آہستہ اوپر تک پہنچ گیا‘ فوج کا ہیلی کاپٹر آیا‘ ہیلی کاپٹر سے رسا پھینکا گیا اور ریسکیو ورکر لائوڈ اسپیکر کے ذریعے اس سے رسا پکڑنے کی درخواست کرنے لگے مگر اس کا کہنا تھا‘ اللہ میرا مالک ہے اور وہی مجھے بچائے گا‘ اس دوران پانی کا آخری ریلا آیا اور اس شخص کو بہالے گیا۔
اس نے چند غوطے کھائے اور اس کی روح قفس عنصری سے پرواز کر گئی‘ وہ سیدھا اللہ کے دربار میںپیش ہو گیا‘ اس نے اللہ تعالیٰ سے شکوہ کیا ’’یا باری تعالیٰ میں تمہارا متوکل بندہ تھا‘ میں نے تمہارے آسرے پر کسی فانی انسان کی مدد نہیں لی‘ مجھے یقین تھا تم مجھے بچا لو گے مگر تم نے میری کوئی مدد نہیں کی‘ میں مر گیا‘ لوگ اب تم پر توکل نہیں کیا کریں گے‘‘ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ’’ اے بے وقوف انسان! تمہارے پاس ہمسائے کو کس نے بھیجا تھا‘ ریسکیو کی کشتی‘ تیراک لڑکے اور آخرمیں ہیلی کاپٹر تم تک کس نے پہنچایا تھا‘ ہم بار بار تمہاری مدد کرتے رہے لیکن شاید تم چاہتے تھے میں اورمیرے فرشتے خود وہاں پہنچ کر تمہیں اپنے ہاتھوں سے پانی سے نکالیں‘ یہ کیسے ممکن تھا؟ اے بے وقوف انسان! ہم اپنے بندوں کی مدد کے لیے بندے بھیجا کرتے ہیں‘ ہمارے یہ بندے ہمارے معجزے ہوتے ہیں مگر تم نے ہمارا کوئی معجزہ‘ کوئی بندہ اور کوئی مدد قبول ہی نہ کی اور ہم انکار کرنے والوں کو پسند نیں کیا کرتے‘‘ وہ شخص خاموش ہو گیا۔
آپ اس واقعے کے بعد اگر 15 اگست 2013ء کو اسلام آباد میں ہونے والے سانحے کا ٹھنڈے دل سے تجزیہ کریں تو آپ تسلیم کریں گے‘ سکندر قدرت کا آخری ہیلی کاپٹر تھا‘ اس شخص نے دو رائفلوں کے ذریعے پورے ملک کو پانچ گھنٹے کے لیے پاگل کر دیا‘ یہ اسلحہ سمیت اسلام آباد پہنچا اور ریڈ زون کے سامنے کھڑے ہو کر پوری اسٹیٹ کی طاقت کو للکارتا رہا اور ہم جوہری طاقت یہ تماشا دیکھتے رہے‘ یہ شخص قدرت کا سگنل تھا‘قدرت نے اس کے ذریعے ہمیں یہ پیغام دیا‘ آپ کی سیکیورٹی بہت کمزور ہے‘ آپ کی پولیس‘ خفیہ ادارے اور حکومت اس قدر کمزور ہے کہ ایک نیم پاگل شخص دورائفلوں کے ذریعے پورے ملک کی مت مار سکتا ہے‘قدرت نے اس سے قبل ڈی آئی خان جیل‘ بنوں جیل‘ جی ایچ کیو پر حملے‘ مہران نیول بیس‘ کامرہ ائیر بیس پر دہشت گردانہ حملے‘ دو مئی کے واقعے‘ گورنر پنجاب کے قتل‘ شہباز تاثیر‘ علی حیدر گیلانی کے اغواء‘ مساجد اور جنازہ گاہوں پر حملوں اور شیعہ سنی فسادات کے ذریعے بھی ہمیں ہماری کمزوریاں سمجھا دی تھیں۔
قدرت نے ہمیں ہر زاویئے سے بتا دیا تھا ‘ آپ نااہل بھی ہیں‘ کمزور بھی اور نالائق بھی اور آپ اگر عزت کے ساتھ زندہ رہنا چاہتے ہیں تو آپ ہنگامی بنیادوں پر اپنا سسٹم ٹھیک کر لیں‘ آپ اپنی سیکیورٹی پر توجہ دیں مگر ہم ہرواقعے کے بعد اپنا سر ریت میں چھپا لیتے تھے یا آنکھیں بند کر کے اللہ سے غیبی امداد کی درخواست کرتے رہتے تھے یہاں تک کہ ’’ایک تھا سکندر اسلام آباد کے اندر‘‘ جیسا آخری سگنل آ گیا‘ قدرت نے آخری سائرن بجا دیا‘ سکندر کا رائفلوں کے ساتھ اسلام آباد پہنچنا‘ بلیو ایریا کی مرکزی سڑک پر ہوائی فائرنگ کرنا اور پھر دنیا کے سامنے پانچ گھنٹے تک ہمارا تھیٹر چلنا‘یہ ثابت کرتا ہے ہم نا اہل بھی ہیں‘ نالائق بھی اور بے وقوف بھی‘ یہ ثابت کرتا ہے ہم وفاقی دارالحکومت تک کی حفاظت نہیں کر سکتے‘ ہمارے اداروں کے پاس مجرموں کو بے ہوش کرنے والی ’’سٹن گن‘‘ تک موجودنہیں اور اگر ہے تو بھی یہ کارآمد نہیں یا پھر یہ ہماری پولیس کو چلانا نہیں آتی‘ پولیس کے پاس ’’شارپ شوٹرز‘‘ بھی نہیں ہیں کیونکہ پولیس نے جب سکندر پر فائرنگ شروع کی تو یہ فائرنگ پوائنٹیڈ نہیں تھی۔
یہ اندھی فائرنگ تھی اور اس فائرنگ کی زد میں اس کے اپنے افسر اور اہلکار بھی آ گئے‘ پولیس زمرد خان اور نبیل گبول کو بھی مجرم کے پاس جانے سے نہیں روک سکی‘ یہ اس کا فون بھی بلاک نہیں کر سکی‘ ہماری حکومت کے پاس چینلز کی لائیو کوریج روکنے کا بھی کوئی بندوبست نہںں تھا اور یہ بھی معلوم ہو گیا وزیر داخلہ چھٹی پر ہوں یا ان سے رابطہ ممکن نہ ہو تو ریاست معطل ہو جاتی ہے‘ یہ ایٹ دی اسپاٹ فیصلہ نہیں کر سکتی‘ دو مئی کے واقعے نے ثابت کر دیا ہمارے ملک میں اسامہ بن لادن چھائونی ایریا میں چھ سال چھپ کر بیٹھ سکتا ہے ‘ امریکی ہیون کاپٹر افغانستان سے ایبٹ آباد پہنچ سکتے ہیں اور یہ آپریشن کر کے واپس جا سکتے ہیں اور ہمیں ان کی کانوں کان خبر نہیں ہوتی‘ مہران بیس کے 22 مئی 2011ء کے واقعے نے ثابت کر دیا چند دہشت گرد ہماری تمام فورسز کو 16 گھنٹے انگیج رکھ سکتے ہیں اور ہم ان سے اپنے اورین جہاز تک نہیں بچا سکتے۔
10 اکتوبر 2009ء کو جی ایچ کیو پر حملے نے ثابت کر دیا ہم اپنے فوجی ہیڈ کوارٹر کو بھی نہیں بچا سکتے اور ہم حملہ آوروں سے مذاکرات کے لیے ملک اسحاق کو جیل سے راولپنڈی لانے پر مجبور ہو جاتے ہیں‘ بنوں جیل‘ ڈی آئی خان جیل اور کوئٹہ پولیس لائینز کے واقعات نے ثابت کر دیا ہم اپنی جیلیں بچا سکتے ہیں اور نہ ہی پولیس لائینز اور 6 اگست 2013ء کو مچھ اور چلاس کے واقعات اور کوئٹہ میں ہزارہ کمیونٹی کے قتل عام نے ثابت کر دیا‘ ہمارے ملک میں نفرتیں پنجابی بلوچ‘ سنی شیعہ اور طالبان بیورو کریسی دشمنی میں تبدیل ہو چکی ہیں اور ہماری ریاست ان لوگوں کا مقابلہ نہیں کر سکتی‘ یہ واقعات محض واقعات نہیں ہیں‘ یہ قدرت کے سگنلز ہیں اور یہ سگنلز ہمیں فوری اور حتمی فیصلوں کا پیغام دے رہے ہیں‘ اب چوہدری نثار کی پریس کانفرنسوں یا دعوئوں سے کام نہیں چل سکے گا‘ آپ کو اب کام کرنا ہو گا اور کام بھی اسی وقت اسٹارٹ کرنا ہو گا‘ آپ اگر لیٹے ہیں تو بیٹھ جائیں‘ بیٹھے ہیں تو کھڑے ہو جائیں‘ اگر کھڑے ہیں تو چل پڑیں اور اگر چل رہے ہیں تو دوڑ پڑیں اور اگر دوڑ رہے ہیں تو سرپٹ بھاگیں۔
آپ پانچ بجے کے بعد غائب ہو کر ملک کا کوئی مسئلہ حل نہیں کر سکیں گے‘ عوام آپ سے صرف تین مہینوں میں اکتا گئے ہیں‘ آپ نے اگر فوری طور پر اپنا قبلہ ٹھیک نہ کیا تو عوام چھ مہینے بعد سڑکوں پر آ جائیں گے اور یہ آپ کو اتنی رعایت بھی نہیں دیں گے جتنی انھوں نے پاکستان پلزا پارٹی کو دی تھی اور رہ گئے زمرد خان‘ انھوں نے بہادری کا ثبوت دیا‘ یہ اگر سکندر پر نہ جھپٹتے تو یہ ڈرامہ اگلے دن تک جاری رہتا‘ زمرد خان کا اقدام قابل تعریف تھا مگر انھوں نے مجرم پر جھپٹ کر قوم کو نئی راہ بھی دکھا دی‘ عوام میں سے اب ہر شخص زمرد خان بننے کی کوشش کرے گا اور یہ جان سے بھی جائے گا اور پولیس فورس کا رہا سہا بھرم بھی توڑ دے گا‘ چوہدری نثار زمرد خان کے واقعے کو بھی قدرت کا سگنل سمجھیں اور یہ فوری طور پر قانون بنا دیں۔
ملک میں آئندہ جو بھی شخص پولیس کی لگائی ہوئی پٹی یا رسی پھلانگے گا یا یہ مجرم تک پہنچنے کی کوشش کرے گا وہ اسی وقت گرفتار کر لیا جائے گا اور اسے کم از کم سات سال قید با مشقت کی سزا سنا دی جائے گی‘ ہم نے اگر آج یہ نہ کیا تو کل کو ملک میں ہزاروں زمرد خان ہوں گے اور یہ زمرد خان ملک کو انارکی کی طرف لے جائیں گے۔ چوہدری صاحب بھی ایسے واقعات میں قوم کے سامنے آیا کریں اور زمرد خان بھی پولیس کی رسی سے باہر رہا کریں‘ زندگی کھیل نہیں اور اگر ہے بھی تو اس میں غلطی کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی‘ یہ ضروری نہیں آپ ہر بار گریں تو قدرت آپ کو دوبارہ اٹھنے کا موقع دے دے۔

ماسکو یا چین
جاوید چوہدری جمعرات 15 اگست 2013
قوموں کی تباہی کی دوسری بڑی وجہ کرپشن ہوتی ہے‘ کرپشن اور غربت دونوں جڑواں بہنیں ہیں‘ دنیا میں جہاں کرپشن ہو گی وہاں غربت بھی ہو گی اور جہاں غربت ہوگی وہاں کرپشن بھی ہو گی‘ آپ اگر کسی معاشرے کو امیر بنانا چاہتے ہیں تو آپ وہاں سے کرپشن ختم کر دیں‘ وہاں سے غربت ختم ہو جائے گی‘ آپ اگر اسی طرح کسی معاشرے کو غریب بنانا چاہتے ہیں تو آپ وہاں کرپشن کا کلچر پروان چڑھا دیں‘ دنیا کی امیر ترین سوسائٹی بھکاری بن جائے گی‘ آپ روس کی مثال لے لیجیے‘ سوویت یونین کے دور میں روس دنیا کا واحد ملک تھا جس میں سو فیصد تعلیم ‘ سو فصد روزگار‘ سو فیصد امن اور سو فیصد انصاف تھا‘ آپ کو پورے ملک میں کوئی بھکاری ملتا تھا اور نہ ہی عصمت فروش‘ آپ اس دور میں ایک روبل دیتے تھے اور آپ کو دو ڈالر ملتے تھے لیکن پھر وہاں کرپشن شروع ہو گئی‘ سوسائٹی کرپٹ ہوتی چلی گئی‘ یہاں تک کہ سوویت یونین کے تارپور ہل گئے اور اس کے بعد روس کی یہ حالت ہوگئی آپ ایک امریکی ڈالر دیتے تھے اور آپ کو اس کے بدلے میں پانچ ہزار روبل ملتے تھے۔
یورپ‘ امریکا‘ مشرق بعید‘ مشرق وسطیٰ اور بھارت کے قحبہ خانے روسی خواتین سے بھر گئے‘ آج بھی آپ کو یورپ کی ہر تیسری عصمت فروش عورت روسی ملے گی یا پھر اس کا تعلق سوویت یونین کے کسی سابق ملک سے ہو گا‘ بے روزگاری انتہا کو چھو رہی ہے‘ تعلیم کا یہ حال ہے روس نے جولائی 2013ء میں 700 اسکول بند کر دیے‘ جرائم کی حالت یہ ہے آج ریڈ مافیا دنیا کا سب سے بڑا مافیاہے‘ یہ سسلی اور کولمبیا کے مافیاز کو پیچھے چھوڑ چکا ہے‘ ریڈ مافیا نے ماسکو میں ’’ٹیلی فونک جسٹس سسٹم‘‘ متعارف کروا دیا ہے‘ آپ کسی بھی عدالت سے اپنے حق میں فیصلہ کروانا چاہتے ہیں تو آپ ریڈ مافیا سے رابطہ کریں‘ یہ آپ سے رقم وصول کریں گے‘ آپ کے سامنے جج کو فون کریں گے‘ اسے ہدایت جاری کریں گے‘ اگر جج مان گیا تو درست ورنہ دوسری صورت میں آپ کے فیصلے سے قبل جج دنیا سے رخصت ہو جائے گا۔
اس صورتحال کی وجہ سے روسی امیر سے امیر تر ہو رہے ہیں‘ ماسکو اس وقت دنیا کے ارب پتیوں کی جنت کہلاتا ہے‘ دنیا کے 96 ارب پتی اس وقت روس یا ماسکو میں ہیں جب کہ دوسری طرف غریب اس قدر غریب ہو رہا ہے کہ اسکول اور کالج کی بچیاں دوران تعلیم عصمت فروش بن جاتی ہیں‘ دنیا کی ستر فیصد ’’پورنو گرافکس سائیٹس‘‘ روس سے اسٹارٹ ہوتی ہیں‘ آپ کو ماسکو کے ریڈ اسکوائر میں سوویت یونین کے سابق فوجی پوری یونیفارم میں میڈلز کے ساتھ بھیک مانگتے دکھائی دیتے ہیں‘ کرپشن کی حالت یہ ہے صدر پیوٹن سمیت نوے فیصد ارکان اسمبلی سیاست کے ساتھ ساتھ کاروبار کر رہے ہیں اور روس کے ہر چھوٹے بڑے ٹھیکے میں صدر پیوٹن یا اس کی فیملی کا حصہ ہوتا ہے۔
آپ اگر تھوڑا سا ماضی میں چلے جائیں تو آپ کو نائیجیریا کے جنرل سانی اباچہ‘ زائرے کے صدر موبوتو‘ انڈونیشیا کے صدر سوہارتو‘ فلپائن کے مارکوس اور ان کی کرپٹ بیگم املیڈا مارکوس اور بھارت کی مایاوتی‘جے للیتا اور لالو پرشاد جیسے کرپشن کے ’’روشن‘‘ ستارے دکھائی دیں گے‘ جنرل سانی اباچہ کو ایک دور میں دنیا کے کرپٹ ترین سربراہ مملکت کااعزاز حاصل تھا‘ ان کی ذاتی دولت چھ ارب ڈالر سے زائد تھی‘ یہ پانچ سو جائیدادوں کے مالک تھے ‘ یہ بچوں کی ویکسین تک سے 88 ملین ڈالرلیتے تھے‘ جنرل اباچہ نے ذاتی کمپنی بنائی‘ حکومت سے ویکسین کے لیے 111 ملین ڈالر وصول کیے‘ ذاتی کمپنی کے ذریعے 23 ملین ڈالر کی ویکسین فراہم کی اور 88 ملین ڈالر جیب میں ڈال لیے‘ یہ پوری پوری رات داشتائوں میں بھی گھرے رہتے تھے‘ زائرے کے صدر موبوتو کو ’’مین آف ٹین بلین ڈالر‘‘ کہا جاتا تھا‘ یہ زائرے سے گزرنے والی ہوائوں تک سے اپنا حصہ وصول کرتے تھے‘ فلپائن کے مارکوس اور ان کی بیگم املیڈا کرپشن کے شہنشاہ تھے۔
املیڈا مہنگے جوتے خریدنے کے خبط میں مبتلا تھی‘ احتساب کے دوران اس کے گھر سے چار ہزار جوتے برآمد ہوئے ‘ یہ جوتے آج بھی عجائب گھر میں رکھے ہوئے ہیں‘ انڈونیشیا کے صدر سوہارتو کی کرپشن الف لیلوی داستان ہے‘ صدر سوہارتو کے تین بیٹے‘ تین بیٹیاں‘ دو پوتے اور ایک سوتیلا بھائی دس سال تک انڈونیشیا کو دونوں ہاتھوں سے لوٹتے رہے‘ سوہارتو خاندان 1250 کمپنیوں میں حصے دار تھا اور اس کے اثاثے 25 ارب ڈالر کے برابر تھے‘ آپ حد ملاحظہ کریں انڈونیشیا کا آئل بزنس صدر سوہارتو کی داشتائوں نے آپس میں تقسیم کر رکھا تھا‘ بھارت کی مایا وتی‘ جے للیتا اور لالوپرشاد بھی کیا خوب لوگ ہیں‘ جے للیتا ایکٹریس تھی‘ چار مرتبہ تامل ناڈو کی وزیراعلیٰ منتخب ہوئی ‘ 1997ئمیں اس کے گھر پر چھاپا پڑا تو اس کے گھر سے 28 کلو جیولری‘ 91 قیمتی گھڑیاں‘ ساڑھے دس ہزار ساڑیاں اور ساڑھے سات سو جوتے برآمد ہوئے‘مایا وتی دلت قوم کی غریب خاتون تھی۔
یہ بھی چار مرتبہ اتر پردیش کی وزیراعلیٰ بنی اور اس نے صرف پارٹی چندے کی مد میں اتنی رقم جمع کر لی کہ اس نے ساڑھے 26 کروڑ روپے ٹیکس ادا کیا‘ یہ ٹیکس بھارت کے امیر ترین بزنس مین مکیش امبانی کے ادا کردہ ٹیکس سے بھی زیادہ تھا‘ رہ گیا بہار کا لالو پرشاد تو اس کے بارے میں لطیفہ مشہور تھا‘ جاپانیوں نے لالوپرشاد سے کہا آپ بہار ہمارے حوالے کر دیں ہم اسے چھ ماہ میں جاپان بنا دیں گے‘ لالو پرشاد نے جواب میں کہا‘ آپ جاپان مجھے دے دیں میں اسے چھ ماہ میں بہار بنا دوں گا اور آپ اس کے بعد پاکستان کی مثال لیجیے‘ پاکستان اس وقت کرپٹ ترین ممالک کی فہرست میں 34 ویں نمبر پر ہے‘ حکومت کے اپنے اعداد و شمار کے مطابق ملک میں ہر روز 7 ارب روپے کرپشن کی نذر ہو جاتے ہیں‘ یہ دنیا کے ان چند ممالک میں شمار ہوتا ہے جس کے صدر‘ سابق وزیراعظم‘ کابینہ کے وزراء‘ وزراء اعلیٰ اور گورنرز تک پر کرپشن کے الزامات ہیں‘ صدر آصف علی زرداری کے خلاف سپریم کورٹ تک حکم جاری کر چکی ہے۔
دنیا میں کرپش صرف بالائی طبقے تک محدود نہیں رہتی‘ حکمران جب کرپٹ ہوتے ہیں تو اس کا جراثیمی اثر چند دنوں میں انتہائی نچلے طبقوں تک پہنچ جاتا ہے‘ آپ اگر ایوان اقتدار میں چور بٹھا دیں گے تو آپ عوام کو ڈاکو بننے سے نہیں روک سکیں گے‘ اگر صدر پیوٹن کرپشن کرے گا تو پھر ماسکو شہر میں ریڈ مافیا ضرور بنے گا اور یہ مافیا ججوں کو ٹیلی فون کر کے مرضی کے فیصلے بھی کروائے گا‘ آپ اگر معاشرے کو کرپشن کے گند سے نکالنا چاہتے ہیں تو پھر آپ کو مچھلی کا سر صاف کرنا ہوگا‘ معاشرہ خود بخود ٹھیک ہو جائے گا‘ ہم اس سلسلے میں چین کی مثال لے سکتے ہیں‘ آج سے 20 سال پہلے چین نے ملک کو کرپشن سے پاک کرنے کا فیصلہ کیا‘ چین نے موت کو کرپشن کی سزا بنا دیا اور اس کے بعد سیاسی نظام کو کرپشن سے پاک کرنا شروع کر دیا‘ چینی اس معاملے میں کس قدر سخت ہیں‘ آپ اس کا اندازہ چند مثالوں سے لگا لیجیے‘ وائس ایڈمرل وینگ شوئی صدر جیانگ زی من کے انتہائی قریبی دوست تھے۔
پولیس نے ان کے گھر ریڈ کیا اور ان کے فریج‘ واشنگ مشین اور مائیکرو ویو سے 20 ملین ڈالر برآمد کر لیے‘ صدر کو معلوم ہوا تو اس نے خود اپنے دوست کی موت کے پروانے پر دستخط کیے‘ چین نے کمیونسٹ پارٹی کے سات لاکھ ارکان کا احتساب کرایا‘ ڈیڑھ لاکھ لوگ کرپٹ پائے گئے‘ یہ سب لوگ سیاست سے فارغ کر دیے گئے‘ ان میں سے ایک لاکھ لوگوں کو سزا بھی ہوئی‘ بینک آف چائنہ کا صدر کرپشن میں ملوث پایا گیا‘ اسے گولی مار دی گئی‘ شنگھائی کے میئر اور ڈپٹی میئر نے رشوت لی‘ دونوں کو سزائے موت ہوئی اور بیجنگ کے وائس میئر پر الزام لگا اسے بھی گولی مار دی گئی‘ چین نے سیاستدانوں کے بعد ایک لاکھ 47 ہزار سرکاری اہلکاروں کے خلاف تحقیقات کروائیں اور جو افسر کرپٹ ثابت ہوئے ان کو گولی مار دی گئی‘ چار ہزار کرپٹ سرکاری افسر چین سے فرار ہو گئے‘ چین اب ان کا پیچھا کر رہا ہے‘ احتساب کا یہ عمل تھا جس نے آج چنو کو دنیا کی معاشی سپر پاور بنا دیا‘ آج اگر چین امریکا سے سے اپنا سرمایہ نکال لے تو امریکا پندرہ دن میں دیوالیہ ہو جائے گا۔
ہم نے بھی اندرونی اور بیرونی تنازعوں کے بعد معاشرے کو کرپشن سے پاک کرنے کا فیصلہ کرنا ہے اور یہ کام ریاست کے سر یعنی حکمرانوں سے ہو گا‘ ہم اگر ایوان اقتدار‘ پارلیمنٹ ہائوس اور سیاسی جماعتوں کو کرپشن سے پاک نہیں کریں گے‘ وہاں سے اقرباء پروری اور خاندان غلاماں کی سوچ صاف نہیں کریں گے تو ملک ترقی نہیں کر سکے گا‘ہمارے ملک میں کرپشن اس انتہا کو چھو رہی ہے جس میں مسجد کے لوٹوں اور خیراتی کولر کے گلاسوں تک کو زنجیر سے باندھنا پڑ رہا ہے چنانچہ اگر میاں نواز شریف صدر زرداری کے سوئس اکائونٹس سے رقم نہ نکلوا سکے یا یہ راجہ پرویز اشرف اور یوسف رضا گیلانی سے کرپشن نہ اگلوا سکے اور یہ جمہوریت کے نام پر خاموش رہے تو پھر یہ اپنے خاندان‘ اپنے دوستوں اور اپنے پرانے ساتھیوں کا ہاتھ بھی نہیں روک سکیں گے اور اگر ایسا ہو گیا‘ اگر ہم کرپشن کو برداشت کر گئے تو پھر اس ملک کے ہر شہر میں ریڈ مافیاز بن جائیں گے اور ہر بڑے شخص کا صاحبزادہ یوسف رضا گیلانی کے صاحبزادے کی طرح اغواء کاروں کے نرغے میں ہو گا۔
ہم نے روس بننا ہے یا چین ہم نے آج کے دن یہ فیصلہ بھی کرنا ہے اور یہ فیصلہ بھی میاں نواز شریف کریں گے۔
چین یا پھر لائبیریا
جاوید چوہدری بدھ 14 اگست 2013
تبت ہمالیہ کی انتہائی بلندیوںپر واقع ہے‘ یہ علاقہ سال کے سات ماہ برف میں دفن رہتا ہے‘یہ دنیا کی چھت بھی کہلاتا ہے‘ یہ علاقہ بدھ مت کا دارالحکومت ہے‘ بدھوں کا سب سے بڑا مذہبی پیشوا دلائی لامہ تبت میں رہتا تھا‘ بدھ لوگ تبت کو آزاد خطہ سمجھتے ہیں مگر چین اسے اپنا اٹوٹ انگ قرار دیتا ہے چنانچہ چین نے 1950ء میں تبت پر حملہ کیا‘ تبت کو فتح کیا اور اسے چین کا حصہ ڈکلیئر کر دیا‘ دلائی لامہ تبت کی فتح کے بعد 1959ء میں لہاسا سے نکلا‘ بھارت آیا اور ہمیشہ ہمیشہ کے لیے انڈیا میں آباد ہو گیا اور اس نے دھرم شالا میں اپنی جلاوطن حکومت بنا لی‘ دنیا بالخصوص امریکا اور یورپ دلائی لامہ کو سپورٹ کر رہا ہے‘ دلائی لامہ کو 1989ء میں امن کا نوبل انعام بھی دیا گیا۔
سوال یہ ہے بھارت نے دلائی لامہ کو پناہ کیوں دی‘ اس کی وجہ سکم‘ اکسائی چین اور تبت کے چند علاقے ہیں‘ بھارت ان علاقوں کو اپنا حصہ قرار دیتا ہے‘ تبت پر قبضے کے بعد بھارت اور چین کے درمیان تنازعہ شروع ہوگیا‘ بھارت نے دلائی لامہ کو پناہ دی‘ اس کی جلاوطن حکومت کو تسلیم کیا اور سرحدی علاقوں پر قبضہ کر کے بیٹھ گیا‘ چین نے اپنے علاقوں کی واپسی کے لیے 1962ء میں بھارت پر حملہ کر دیا‘ دونوں ملکوں کے درمیان جنگ ہوئی‘ چین یہ جنگ جیت گیا‘ اس نے بھارت کے بہت بڑے رقبے پر قبضہ کرلیا لیکن پھر چین نے سوچا بھارت ان علاقوں کے حصول کے لیے تیاری کرے گا‘ فوج اور اسلحہ جمع کرے گا‘ سرحد پر جھڑپیں ہوں گی اور یوں دونوں ملک ایک لمبی اور خوفناک جنگ میں پھنس جائیں گے‘ یہ جنگ دونوں ملکوں کے مفاد میں نہیں ہوگی چنانچہ چین نے ایک عجیب فیصلہ کیا‘ اس نے بھارت کے مقبوضہ علاقے واپس کر دیے اور اپنی فوجیں میک موہن لائین سے واپس بلوا لیں مگر اس کے باوجود 38 ہزار مربع کلو میٹر کا متنازعہ علاقہ ابھی تک چین کے قبضے میں ہے جب کہ بھارت نے 1987ء میں 90 ہزار مربع کلو میٹر کے متنازعہ علاقے میں ارونا چل پردیش کے نام سے نئی ریاست بنا لی۔
چین اور بھارت کے درمیان اس وقت ساڑھے تین ہزار مربع کلو میٹر علاقے کا تنازعہ چل رہا ہے‘ بھارت اور چین اپنی اپنی پوزیشن پر ڈٹے ہوئے ہیں اور یہ دونوں اپنے موقف سے ایک انچ پیچھے ہٹنے کے لیے تیار نہیں مگر اس کے باوجود دونوں ملکوں کے درمیان تجارت کا حجم سو ارب ڈالر تک پہنچ چکا ہے‘ بھارت اور چین کی اسٹیٹ آئل کمپنیاں ایک دوسرے کی پارٹنر بھی بن چکی ہیں‘ یہ دونوں مل کر عرب ممالک‘ ایشیا اور افریقہ میں تیل کے معاہدے کرتی ہیں اور یہ تیل نکالنے کے لیے مشترکہ بولی بیب دیتی ہیں‘ اس ’’جوائنٹ وینچر‘‘ کی وجہ سے نہ صرف بھارت اور چین کی تیل کی ضروریات پوری ہو رہی ہیں بلکہ دونوں ہر سال 50 ارب ڈالر کا مالی فائدہ بھی اٹھاتے ہیں۔
آپ فرض کیجیے اگر چین اور بھارت ساٹھ کی دہائی میں یہ اہم فیصلہ نہ کرتے‘ چین میک موہن لائین کے پار بھارتی علاقوں پر قبضہ جاری رکھتا اور بھارت تبت میں ترنگا لہرانے کا اعلان کرتا رہتا تو آج کیا صورتحال ہوتی‘ دونوں جوہری طاقتیں اب تک ایٹم بم استعمال نہ کر چکی ہوتیں؟ اور کیا دنیا کی ایک چوتھائی آبادی گوشت‘ ہڈیوں اور خون کا ملغوبہ نہ بن چکی ہوتی لیکن دونوں ممالک نے سمجھ داری کا ثبوت دیا‘ دونوں انپے اصولی موقف پر بھی قائم ہیں اور ساتھ ساتھ وقت کے تقاضوں کو بھی نبھا رہے ہیں‘ چین بھارت میں قائم دلائی لامہ کی جلاوطن حکومت پر خاموش ہے اور بھارت تبت پر ترنگا لہرانے کے لیے کسی مناسب وقت کا انتظار کر رہا ہے اور یوں دونوں ملک معاشی لحاظ سے آگے بڑھ رہے ہیں۔
آپ اگر دنیا کی ترقی یافتہ اور ترقی پذیر قوموں کا ڈیٹا جمع کریں تو آپ یہ دیکھ کر حیران رہ جائیں گے‘ دنیا کا ہر وہ ملک جس میں تنازعے ہیں اور کرپشن موجود ہے‘ وہ تباہ ہو گیا خواہ قدرت نے اسے کتنے ہی وسائل سے کیوں نہ نواز رکھا ہو اور دنیا کا ہر وہ ملک جس نے کرپشن اور اندرونی اور بیرونی تنازعوں پر قابو پا لیا‘ وہ ترقی کر گیا خواہ اس کے پاس ایک انچ زرعی زمین نہ ہو یا اس کی مٹی میں مٹی کے سوا کچھ نہ ہو‘ آپ کو اگر یقین نہ آئے تو آپ الجیریا کی مثال لے لیجیے‘ الجیریا ہر سال دس ارب ڈالر کا پٹرول بیچتا تھا مگر پھر 1992ء میں وہاں ایک صدر قتل ہوگیا‘ خانہ جنگی شروع ہوئی‘ یہ انارکی 2002ء تک جاری رہی اور اس میں ایک لاکھ لوگ مارے گئے‘ پورا ملک برباد ہوگیا‘ 2002ء میں صدر عبدالعزیز لیکا نے متحارب گروپوں سے مذاکرات کیے‘ باغیوں کو عام معافی دی‘ معاہدے ہوئے‘ معافی تلافی ہوئی اور الجیریا میں امن قائم ہوگیا‘ آج الجیریا ایک بار پھر دس ارب ڈالر کا تیل بیچ رہا ہے اور لوگ سکھ کی زندگی گزار رہے ہیں۔
دنیا میں سب سے زیادہ ہیرے اور قیمتی لکڑی لائبیریا میں پائی جاتی ہے‘ لائبیریا کا ایک ایک سردار سال میں دو دو ارب ڈالر کے ہیرے بیچ دیتا تھا لیکن پھر یہ ملک خانہ جنگی کا شکار ہوا‘ اس نے ہمسایوں کے ساتھ بھی لڑائی چھیڑ لی اور یوں وہ وقت آگیا جب دارالحکومت کے لوگ دو سال تک پانی اور بجلی کے بغیر زندگی گزارنے پر مجبور ہو گئے‘ وار لارڈز نے بچوں کی فوج بنالی‘ دس سال کے بچوں کو گولی مارنے اور دس دس سال کی بچیوں کو عصمت فروشی کی تربیت دے دی گئی‘ لائبیریا میں وار لارڈز مخالف قبیلے کے لوگوں کو دو آپشن دیتے تھے‘ آپ سر عام اپنی بہن یا والدہ کے ساتھ منہ کالا کریں پھر اپنا ایک بازو کٹوا دو اور پورا شہر کھلی آنکھوں سے دونوں آپشن پر عمل ہوتا دیکھتا تھا‘ یہاں تک کہ دنیا اس ملک کو عالمی قبرستان کا نام دینے پر مجبور ہوگئی‘ انگولا سے روزانہ بیس لاکھ بیرل تیل نکلتا تھا‘ یہ دنیا میں ہیروں کا دوسرا بڑا سینٹر بھی تھا‘ آج سے دس سال قبل اس کی فی کس آمدنی چین‘ بھارت‘ انڈونیشیا اور پاکستان سے زیادہ تھی مگر پھر یہ بھی خانہ جنگی اور بیرونی تنازعوں میں الجھ گیا اوریہ تنازعے‘ اس کے 20 لاکھ لوگ کھا گئے‘ملکی معیشت کو 40 ارب ڈالر کا نقصان ہوا اور یہ ملک بھی آج دنیا کا قبرستان بن چکا ہے‘ کافی دنیا کی دوسری بڑی تجارت اور نیل دنیا کا سب سے بڑا دریا ہے۔
یہ دریا بھی ایتھوپیا سے نکلتا ہے اور کافی بھی ایتھوپیا میں دریافت ہوئی تھی‘ کافے ایتھوپیا کا ایک چھوٹا سا گائوں ہے‘ اس گائوں میں کافی دریافت ہوئی اور دنیا نے کافے کی وجہ سے اس مشروب کو کافی کا نام دے دیا مگر یہ ملک بھی نیل اور کافی کے باوجود دنیا کا پسماندہ ترین خطہ ہے‘ کیوں؟ کیونکہ یہ بھی تیس سال تک اندرونی اور بیرونی تنازعوں کا شکار رہا‘ ایتھوپیا میں نفرت کی صورتحال یہ تھی‘ باغیوں نے بادشاہ اور اس کے خاندان کو قتل کیا‘ انھیں زمین میں دفن کیا اوراوپر ’’پبلک ٹوائلٹ‘‘ بنوا دیے‘ یوگنڈا کی فی کس آمدنی 1980ء مںے 949 ڈالر تھی‘ خانہ جنگی شروع ہوئی اور پانچ سال بعد اس کی فی کس آمدنی 31 ڈالر رہ گئی‘ عیدی امین اپنے کتوں اور شیروں سمیت سعودی عرب میں پناہ لینے پر مجبور ہوگیا‘ اریٹریا کا اسمارہ دنیا کا واحد مقام تھا جہاں مصنوعی سیاروں کے براہ راست سگنلز آ سکتے تھے اور امریکا سمیت پوری دنیا ٹیلی کام کے جدید نظام کے لیے اریٹریا کی محتاج تھی مگر یہ ملک بھی اندرونی اور بیرونی تنازعوں کا شکار ہوا اور کوڑی کوڑی کا محتاج ہوگیا۔
عراق دنیا میں تیل پیدا کرنے والا ساتواں بڑا ملک تھا مگر پھر صدام حسین نے اسے ایران‘ کویت اور امریکا سے لڑا دیا‘ اس نے ملک کو کرد اور عرب اور شیعہ اور سنی کے تنازعے میں الجھا دیا چنانچہ آج یہ ملک تیل کی دولت سے مالامال ہونے کے باوجود دنیاکا غیر محفوظ ترین ملک ہو چکا ہے‘ آپ اسرائیل کی مثال بھی لے لیجیے‘ امریکا نے پچاس برسوں میں اسرائیل کو 3 کھرب ڈالر امداد دی‘ امریکا اسے ہر سال سو ارب ڈالر براہ راست دیتا ہے‘ یہ معاشی لحاظ سے خوش حال ترین ملکوں میں بھی شمار ہوتا ہے‘ فی کس آمدنی 30 ہزار ڈالر ہے اور یہ اسلحہ بنےیل والا دنیا کا نواں بڑا ملک بھی ہے مگر یہ بھی تنازعوں کی وجہ سے آج تک اپنے قدموں پر کھڑا نہیں ہو سکا‘ یہ آج بھی امداد کا محتاج ہے۔
آپ ان ملکوں کی مثال لیجیے اور اس کے بعد فیصلہ کیجیے کیا ہم آج کے دور میں اندرونی اور بیرونی تنازعات کے متحمل ہو سکتے ہیں‘ کیا ہم فاٹا میں اپنے لوگوں سے لڑ سکتے ہیں‘ کیا ہم خودکش حملے برداشت کر سکتے ہیں‘ کیا ہم بیک وقت افغانستان‘ ایران اور بھارت تین ملکوں سے جنگ لڑ سکتے ہیں اور یہ جنگ بھی ان حالات میں لڑی جائے جب کراچی ہمارے کنٹرول سے باہر ہو‘ جب بلوچستان میں ہزارہ اور پنجابیوں کو سر عام مارا جا رہا ہو‘ جب خیبر پختونخواہ میں ہر روز بم پھٹتے ہوں‘ ایم پی اے قتل ہوتے ہوں‘ جب ملک میں مسالک کے درمیان لڑائی کرانے کی کوشش ہو رہی ہو اور جب کوئی اجمل قصاب اٹھ کر بھارت اورپاکستان کے تعلقات کو 20 سال پیچھے لے جائے اور جب وزیراعظم‘ صدر اور آرمی چیف عید کی نماز بھی گھروں میں پڑھنے پر مجبور ہو جائیں‘ کیا ہم ان حالات میں بیرونی محاذ کھول سکتے ہیں‘ اگر ہاں تو پھر آئیے بندوق اٹھاتے ہیں اور ملک کے اندر اور باہر دونوں محاذوں پر لڑائی شروع کر دیتے ہیں۔
ہم ملک کے اندر سنی اور شیعہ‘ سندھی‘ بلوچی‘ پٹھان‘ پنجابی اور مہاجر کو مارتے ہیں اور پھر بھارتی‘ افغانوں اور ایرانیوں کو قتل کردیتے ہیں اور اس جنگ کے آخر میں انگولا‘ لائبیریا اور ایتھوپیا بن جاتے ہیں اوریوں تاریخ کے اندھے صفحوں میں گم ہو جاتے ہیں‘ ہمیں اگر یہ منظور نہیں تو پھر ہمیں چین کی طرح بڑا فیصلہ کرنا ہوگا‘ ہمیں اندرونی اور بیرونی دونوں محاذ فوری طور پر بند کرنا ہوں گے‘ ہمیں باعزت طریقے سے افغانستان‘ ایران اور بھارت کے جائز مطالبات مان لینے چاہئیں‘ ہمیں ملک کے تمام اندرونی تنازعوں کے خاتمے کا اعلان بھی کردینا چاہیے‘ طالبان سے بھی مذاکرات کرنے چاہئیں اور بی ایل اے سے بھی اور ان مذاکرات کے نتائج ہماری قومی پالیسی ہونی چاہیے‘ ہم اگر آج یہ کر لیتے ہںت تو ہم دس سال بعد چین ہوں گے اور اگر ہم نے یہ وقت ضایع کر دیا تو پھر ہم پانچ سال کے اندر اندر لائبیریا ہوں گے‘ ہمارے ہر محلے کی ایک فوج ہو گی‘ اس فوج کا سپہ سالار دس پندرہ سال کا بچہ ہو گا اور یہ بچہ روزانہ محلہ میں ایک پھانسی گھاٹ سجائے گا۔
آئیے ہم فیصلہ کریں‘ چین یا پھر لائبیریا۔
چند قدم پیچھے ہٹ جائیں
جاوید چوہدری پير 12 اگست 2013
آپ کو یاد ہو گا21 جولائی2013ء کو لندن جاتے ہوئے پی آئی اے کے طیارے کا انجن فیل ہو گیا‘ ماسکو ائیر پورٹ قریب ترین تھا چنانچہ پائلٹ وہاں ایمرجنسی لینڈنگ پر مجبور ہوگیا‘ اس کے بعد ایک دلچسپ اسٹوری شروع ہوئی‘ آپ اس اسٹوری میں اپنا مستقبل دیکھ سکتے ہیں‘ جہاز اترنے کے بعد روسی انجینئرز نے طیارے کا معائنہ کیا‘ طیارے کا انجن مکمل فیل ہو چکا تھا‘ یہ فلائٹ اڑ نہیں سکتی تھی‘ مسافروں کو لاؤنج میں جانے کی اجازت دے دی گئی‘ اسلام آباد ائیر پورٹ پر مانچسٹر جانے والی فلائٹ تیار کھڑی تھی۔
پی آئی اے نے ماسکو میں پھنسے مسافر نکالنے کے لیے یہ فلائٹ روس روانہ کر دی‘ فلائٹ میں مانچسٹر کے مسافر بھی موجود تھے‘ یہ فلائٹ شام کے وقت ماسکو میں لڈن کر گئی‘ اس وقت تک خراب جہاز کے مسافروں کو ماسکو ائیر پورٹ پر آٹھ گھنٹے ہو چکے تھے‘ رمضان کا مہینہ تھا‘ مسافر روزہ رکھ کر ائیرپورٹ پر پریشان پھر رہے تھے‘ مانچسٹر کی فلائٹ ماسکو پہنچی تو مسافروں نے شکر ادا کیا مگر اصل امتحان اس کے بعد شروع ہوا۔
پی آئی اے نے ماسکو میں پھنسے مسافر مانچسٹر کی فلائٹ میں شفٹ کر دیے‘ طیارہ پرواز کے لیے تیار ہوا تو ماسکو سول ایوی ایشن کے افسر طیارے میں پہنچے اور انھوں نے پائلٹ کو جہاز اڑانے سے روک دیا‘ ان کا کہنا تھا’ ’ آپ جب تک دونوں فلائٹس کے لینڈنگ چارجز‘ پٹرول‘ خراب جہاز کے معائنے اور فلائنگ چارجز ادا نہیں کر تے آپ ماسکو سے پروازنہیں کر سکتے‘‘ پائلٹ بین الاقوامی قوانین کے مطابق کریڈٹ شیٹ پر دستخط کے لیے تیار تھا مگر ماسکو سول ایوی یشن کا کہنا تھا ’’ ہم نقد رقم چاہتے ہیں‘ ہم پاکستان کے ساتھ کریڈٹ کے لیے تیار نہیں ہیں‘‘ پائلٹ کے پاس نقد رقم کہاں سے آتی‘ اس نے ماسکو میں پی آئی اے کے عملے سے رابطہ کیا‘ ان کے پاس بھی رقم موجود نہیں تھی‘ ماسکو میں پاکستانی سفیر سے رابطہ کیا گیا‘ سفیر نے سفارتی عملے کا ایک سینئر رکن ائیر پورٹ کی طرف بھگادیا‘ یہ رکن سفارت کار بھی تھا اور اس کے پاس ائیر پورٹ کے اندر داخل ہونے کا خصوصی کارڈ بھی موجود تھا۔
یہ ائیر پورٹ پہنچا مگر ائیر پورٹ حکام نے اسے اندر داخل نہ ہونے دیا‘ حکام کا اصرار تھا ’’ ہم مذاکرات کے لیے تیار نہیں ہیں‘ آپ صرف رقم ادا کریں‘‘ اب صورتحال یہ تھی‘ ہمارا ایک طیارہ خراب تھا‘ دوسرے میں مانچسٹر اور لندن کے مسافر بیٹھے تھے‘ ائیر پورٹ حکام اس طاارے کو اڑنے نہیں دے رہے تھے‘ ہمارا سفارت کار ائیرپورٹ کے دروازے پر کھڑا تھا‘ اسے مذاکرات کے لیے ائیرپورٹ کے اندر داخل ہونے کی اجازت نہیں مل رہی تھی اور مسافر تین گھنٹے سے جہاز کے اندر تھے‘ طیارے کے اندر حبس ہو رہا تھا‘ مسافر چیخ رہے تھے اور فضائی عملہ پریشانی کے عالم میں کبھی کاک پٹ میں جاتا اور کبھی مسافروں سے صبر کی درخواست کرتا تھا‘ ہمارے سفارتخانے نے اس دوران روسی دفتر خارجہ سے رابطہ کیا۔
ان کی منت کی‘ روسی دفتر خارجہ نے سول ایوی ایشن سے درخواست کی اور یوں ہمارے سفارت کار کو تین گھنٹے بعد ائیرپورٹ کے اندر داخل ہونے کی اجازت ملی‘ یہ سول ایوی ایشن کے حکام تک پہنچا اور اس نے مذاکرات شروع کر دیے‘ ماسکو حکام نقد ادائیگی کے علاوہ کسی آپشن پر تیار نہیں تھے‘ مذاکرات طول پکڑتے رہے‘ مسافر بے چین ہوتے رہے یہاں تک کہ ہمارا سفیر مذاکرات میں شامل ہوگیا‘ پاکستانی سفارت خانہ ’’ساورن گارنٹی‘‘ دینے کے لیے تیار ہوگیا‘ بانڈ تیار ہوا‘ ہمارے سفارتی عملے نے اس بانڈ پر دستخط کیے اور یوں چار گھنٹے کی طویل خواری کے بعد ہمارے طیارے کو اڑنے کی اجازت مل گئی‘ لندن کے مسافروں کواس وقت تک ماسکو میں بارہ گھنٹے ہو چکے تھے جب کہ مانچسٹر کے مسافر چار گھنٹے سے جہاز کے اندر محصور تھے۔
ہمارا خراب جہاز اس وقت بھی ماسکو میں کھڑا ہے ‘ روزانہ کی بنیاد پر اس کے لینڈنگ چارجز میں اضافہ ہو رہا ہے‘ مجھے خطرہ ہے یہ جہاز جس دن ٹھیک ہو جائے گا اس دن حکومت پاکستان کو اقوام متحدہ کی گارنٹی کی ضرورت پڑ جائے گی‘ ہم بان کی مون سے ماسکو سول ایوی ایشن کو فون کروائیں گے‘ جنرل اسمبلی بانڈ پر دستخط کرے گی اور یوں ہمیں یہ جہاز اڑانے کی اجازت ملے گی بصورت دیگر ہمارا جہاز ضبط ہو جائے گا‘میرے دوست اور نج کاری کے وزیر مملکت انجینئر خرم دستگیر بھی لندن کی اس فلائٹ میں موجود تھے‘ یہ بھی بارہ گھنٹے ماسکو میں پھنسے رہے ‘ یہ اس واقعے کے عینی شاہد ہیں‘ میں نے عید سے قبل ان سے اس واقعے کی تصدیق چاہی تو انھوں نے کانوں کو ہاتھ لگایا اور یہ کہہ کر نکل گئے’’ ہمارے ملک کی اس سے بڑی بے عزتی نہیں ہو سکتی‘‘ یہ وزیر ہیں چنانچہ یہ ایسے واقعات کی تصدیق نہیں کر سکتے مگر دونوں فلائٹس کے مسافر اور پی آئی اے کا عملہ ذلت کی اس داستان کے ایک ایک لمحے کے گواہ ہیں۔
وزیراعظم میاں نواز شریف (یہ ملک کے وزیر دفاع بھی ہیں اور پی آئی اے وزارت دفاع کا ذیلی ادارہ ہے) انجینئر خرم دستگیر‘ مسافروں‘ پی آئی اے کے عملے اور ماسکو میں پاکستانی سفارتی حکام سے اس واقعے کی تحقیقات کروا سکتے ہیں‘ اس واقعے کی جامع رپورٹ بھی بنوائی جا سکتی ہے تاکہ ہم اس رپورٹ کی بنیاد پر اپنے مستقبل کا لائحہ عمل طے کرسکیں۔
دنیا ہمارے بارے میں یہ رائے رکھتی ہے‘ یہ ہمارے طیاروں تک کو اڑنے کی اجازت نہیں دیتی‘ دوسرے ممالک کی سول ایوی ایشن ہم سے نقد رقم مانگتی ہے مگر ہم اس کے باوجود دنیا فتح کرنے کے خواب دیکھتے ہیں‘ آپ کی جیب میں اگر سبز پاسپورٹ ہے اور آپ خواہ ملک کے کتنے ہی اہم شخص کیوں نہ ہوں‘ آپ دنیا بھر کے ائیرپورٹس پر ذلیل ہوتے ہیں‘ آپ کی دس دس بار تلاشی لی جاتی ہے‘ آپ کے پاسپورٹ کو بار بار کھول کر چیک کیا جاتا ہے اور ملک کے اندر بھی آپ پر نظر رکھی جاتی ہے‘ ہم اس سلوک پر کتنا ہی احتجاج کر لیں مگر یہ حقیقت ہے ہم اس سلوک کے خود ذمے دار ہیں‘ ملک جب اس قدر کمزور ہو جائیں کہ شدت پسند جیلیں توڑ کر چار چار سو ملزمان کو بھگا لے جائیں‘ پولیس کے کڑے پہرے کے بغیر نماز ممکن نہ رہے ‘ پولیس لائین‘ جی ایچ کیو‘ نیول کمپلیکس اور کامرہ ائیر بیس تک دہشت گردوں سے محفوظ نہ رہیں اور وزیراعظم اپنی پرائیویٹ رہائش گاہ جاتی عمرہ (رائے ونڈ فارم ہاؤس) اور صدر بلاول ہاؤس میں عید کی نماز ادا کرنے پر مجبور ہو جائیں تو دنیا اس ملک کی خاک عزت کرے گی؟
دنیا کو جب یہ معلوم ہو جائے گا ہم ڈرون حملے روک سکتے ہیں اور نہ ہی اسامہ بن لادن‘ ڈاکٹر ایمن الظواہری اور ملا عمر کو اور ہماری عدالتوں کو دہشت گردوں کو سزا تک سنانے کی جرأت نہیں ہوتی اور ہمارے ملک میں گورنر اپنے سرکاری گارڈ کے ہاتھوں قتل ہو جاتا ہے ‘عدالت ملزم کو سزا سنا دیتی ہے مگر ریاست میں اس سزا پر عملدرآمد کی ہمت نہیں ہوتی تو دنیا ہمارے بارے میں کیا رائے رکھے گی؟ کیا یہ ہمارے ساتھ وہ سلوک نہیں کرے گی جو ہمارے سیکڑوں مسافروں کے ساتھ ماسکو ائیر پورٹ پر ہوا اور ہمارا ایک وزیر مملکت بھی اس سلوک کا نشانہ بنا‘ روس نے اسے بھی عام مسافروں سے زیادہ اہمیت نہیں دی‘ آپ فرض کیجیے کل کو اگر ہمارے صدر یا وزیراعظم کا طیارہ ماسکو میں ہنگامی لینڈنگ پر مجبور ہوجاتا ہے اور ماسکو سول ایوی ایشن اس طیارے کو بھی نقد ادائیگی کے بغیر پرواز کی اجازت نہیں دیتی تو ہم کیا کریں گے‘ ہم کس کو منہ دکھائیں گے؟ کیا ہم اس کے بعد بھی جوہری طاقت ہونے کا دعویٰ کر سکیں گے؟۔
ہمیں فوری طورپر چند بڑے فیصلے کرنا ہوں گے‘ ہمیں ایران‘ افغانستان اور بھارت کے ساتھ اپنے مسئلے حل کرنا ہوں گے‘ ہمیں اگر وقتی طور پر اپنے اصولی موقف سے چندقدم پیچھے بھی ہٹنا پڑے تو ہمیں ہٹ جانا چاہیے‘ ہمیں عارضی طور پر افغانستان‘ ایران اور بھارت کی بات مان لینی چاہیے تا کہ یہ ملک ہمارے ان لوگوں کو سپورٹ کرنا بند کر دیں جو اس ریاست کو کمزور کر رہے ہیں‘ جو ہمارے باغیوں کو اسلحہ‘ مہارت اور پناہ گاہیں فراہم کر رہے ہیں‘ اگر امریکا ویتنام‘ روس افغانستان اور چین بھارت کے ساتھ معاملات ’’سیٹل‘‘ کرسکتے ہیں‘ یہ بقا کے لیے پسپائی اختیار کر سکتے ہیں تو ہم کیوں نہیں کر سکتے؟ ہم اپنے ہمسایوں کے ساتھ پرامن تعلقات استوار کیوں نہیں کر سکتے؟ آپ سرحدوں کی نشاندہی کیجیے‘ ہاٹ لائین قائم کیجیے‘ خود فائر کریں اور نہ دوسروں کو فائرنگ پر مجبور کریں‘ دنیا کو بین الاقوامی بارڈر بنانے دیں اور اس بارڈر کی تکریم کریں‘ اگر چین سکم کے ایشو پر بھارت سے معاملات طے کر سکتا ہے تو پھر ہم کیوں نہیں کر سکتے؟
کیا ہم چین سے بڑا ملک ہیں؟ کیا ہم چین سے بڑی معیشت ہیں؟ ہمیں چند قدم پیچھے ہٹ جانا چاہیے تا کہ ہمارے بیرونی محاذ بند ہوسکیں اور ہم یکسوئی سے اپنے اندرونی حالات پر توجہ دے سکیں‘ ہم اپنی مسجدوں‘ پولیس لائینز اور مارکیٹوں کو محفوظ بنا سکیں‘ ہم فوج کو اندرونی سیکیورٹی پر لگا سکیں اور ہم اپنا بین الاقوامی امیج بہتر بنا سکیں‘ آپ یقین کیجیے ہم نے اگر فوری فیصلے نہ کیے تو آج جو صدر اور وزیراعظم عید اور جمعہ کی نمازیں گھروں میں پڑھ رہے ہیں‘ یہ کل کو ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے حکومت پر مجبور ہو جائیں گے‘ وزیراعظم لندن اور صدر دوبئی میں بیٹھ کر سکائپ کے ذریعے احکامات جاری کریں گے اور سیکریٹری اور آئی جی مورچوں میں بیٹھ کر’’ اوکے سر‘‘ کا جواب دیں گے‘ ہم اگر ایسا ملک چاہتے ہیں تو پھر ہمیں ضد اور انا کی کاشتکاری اسی طرح جاری رکھنی چاہیے لیکن ہم اگر عزت اور امن سے زندہ رہنا چاہتے ہیں تو پھر ہمیں چند قدم پیچھے ہٹ جانا چاہیے‘ اتنے قدم جتنے ایک لمبی جست کے لیے ضروری ہوتے ہیں کیونکہ زندگی صرف بدروحنین نہیں ہوتی‘ یہ حدیبیہ بھی ہوتی ہے اور شعب ابی طالب بھی اور ہمیں یہ حقیقت ماننا ہوگی۔
کیا چوہدری نثار کو کوئی خطرہ نہیں
جاوید چوہدری بدھ 7 اگست 2013
چوہدری نثار علی خان اس وقت دنیا کی ساتویں جوہری طاقت کے وزیر داخلہ ہیں‘ میرا ان سے لو اینڈ ہیٹ (محبت اور نفرت) کا تعلق ہے‘ میں انھیں پسند کرتا ہوں مگر چوہدری صاحب مجھ سے نفرت کرتے ہیں‘ اس نفرت کی وجہ بہت دلچسپ ہے‘ چوہدری نثار علی خان اور ملک ریاض کے درمیان اختلافات تھے‘ ملک میں جن دنوں ڈاکٹر ارسلان افتخار اور ملک ریاض کا تنازعہ چل رہا تھا‘ چوہدری نثار ان دنوں مراے ٹی وی پروگرام میں تشریف لائے‘ یہ لائیو شو تھا‘ اس شو میں چوہدری صاحب نے دعویٰ کیا ’’ میرے پاس ملک ریاض کی کرپشن اور زمین پر قبضوں کی دو سو فائلیں ہیں‘‘ چوہدری صاحب نے اس دعوے کے بعد اعلان کیا‘ وہ اگلے ہفتے یہ دو سو فائلیں لے کر دوبارہ اس پروگرام میں آئںب گے اور یہ ثبوت قوم کے سامنے رکھیں گے‘‘ بات طے ہو گئی لیکن شاید چوہدری صاحب مصروف ہو گئے اور وہ یہ اپنا وعدہ نہ نبھا سکے‘ یہ دوبارہ پروگرام میں تشریف نہیں لائے اور یوں یہ معاملہ سلجھ نہ سکا‘ ملک ریاض نے اس انٹرویو پر احتجاج کیا‘ ان کا کہنا تھا’’ یہ یک طرفہ انٹرویو تھا۔
صحافتی اصولوں کے مطابق میرا موقف بھی سامنے آنا چاہیے تھا‘ آپ نے چوہدری نثار کا دعویٰ پوری قوم کو سنا دیا لیکن مجھے جواب تک کا موقع نہیں دیا‘‘ ملک ریاض کی یہ بات درست تھی‘ قانون‘ آئین اور اخلاقیات سو بچوں کے قاتل جاوید اقبال کو بھی صفائی کا موقع دیتی ہے چنانچہ ملک ریاض کو موقع نہ دینا زیادتی تھی مگر میں چونکہ چوہدری نثار کی عقیدت میں گرفتار تھا لہٰذا میرا خیال تھا چوہدری نثار جب تک دو سو فائلیں لے کر سامنے نہیں آتے ہمیں اس وقت تک ملک ریاض کو پروگرام میں دعوت نہیں دینی چاہیے‘ ہم چوہدری صاحب سے رابطے کی کوشش کرتے رہے‘ میرا اسٹاف ہر دوسرے دن ان کے دفتر پیغام چھوڑتا رہا مگر چوہدری صاحب شاید مصروف تھے‘ یوں یہ معاملہ پانچ ماہ تک لٹکا رہا‘ لوگ اس دوران ملک ریاض کے موقف کا مطالبہ کرتے رہے ‘ ان لوگوں میں پاکستان مسلم لیگ ن کے سینئر ارکان بھی شامل تھے‘ یہاں تک کہ ہم لوگ ملک ریاض کا موقف ریکارڈ کرنے پر مجبور ہو گئے‘ مگر ہم لوگوں نے اس معاملے میں ملک ریاض سے ذرا سی زیادتی کی۔
ہم نے چوہدری نثار کے برعکس ان کا پروگرام لائیو نہیں کیا‘ ہم نے پروگرام ریکارڈ کیا اور اس پروگرام سے بھی‘ ساڑھے چار منٹ کے قابل اعتراض حصے کاٹ دیے‘ یہ پروگرام 15 نومبر 2012ء کو آن ائیر ہوا‘ چوہدری نثار اس پروگرام کے بعد ناراض ہو گئے‘ انھوں نے اپنے پی اے کے ذریعے میرے ایسوسی ایٹ پروڈیوسر کو ایک پیغام لکھوایا جس میں چوہدری صاحب کا کہنا تھا‘ جاوید چوہدری کو شرم آنی چاہیے اور یہ شرمناک صحافت ہے اور میں کبھی اس کا منہ نہیں دیکھوں گا وغیرہ وغیرہ‘ میں نے پیغام سنا تو میں نے ہنس کر ٹال دیا‘ میں اس کے باوجود چوہدری نثار علی خان کی عزت کررہا ہوں اور شاید اس وقت تک کرتا رہوں گا جب تک ان میں وہ خوبیاں موجود رہیں گی جن کا میں ابھی تذکرہ کروں گا۔
چوہدری نثار ان سیاستدانوں میں شمار ہوتے ہیں جو 1999ء سے لے کر 2007ء تک آٹھ برسوں میں ڈگمگائے نہیں‘ مجھے جنرل پرویز مشرف نے خود بتایا‘ ہم چوہدری نثار کو وزیراعظم بنانا چاہتے تھے لیکن یہ ’’انٹرسٹڈ‘‘ نہیں تھے‘ یہ کوشش صدر آصف علی زرداری نے بھی کی مگر چوہدری صاحب ان کے ٹریپ میں نہیں آئے‘ یہ اپوزیشن لیڈر تھے تو یہ پولیس سیکیورٹی اور بلٹ پروف گاڑی کے بغیر اسلام آباد میں پھرتے تھے‘ ان کے ساتھ اسٹاف کا کوئی شخص بھی نہیں ہوتا تھا‘ مجھے انھوں نے ایک بار اس خطاب کے چند نکات بھی سنائے جو میاں نواز شریف نے وزیراعظم بننے کے بعد قوم سے کرنا تھا‘ میں دل سے سمجھتا ہوں اگر میاں نواز شریف اقتدار سنبھالنے کے بعد وہ خطاب کرتے یا یہ آج چوہدری نثار کے نقطوں پر مبنی تقریر کر دیں تو معاملات ٹھیک ہو جائیں ‘ ملک کی سمت درست ہو جائے کیونکہ بہرحال اس ملک کے کسی نہ کسی لیڈر کو یہ تقریر کرنا ہوگی اور ملک کو ان لائینز پر چلانا ہو گا جن کا اظہار چوہدری نثار نے تین سال قبل کیا تھا‘ میں نے وہ نقطے لکھ لیے تھے اور میں آیندہ کسی وقت یہ نقطے آپ کے گوش گزار کروں گا‘ چوہدری نثار کا تازہ ترین اقدام بھی قابل ستائش ہے۔
انھوں نے وزراء کالونی میں سرکاری رہائش گاہ نہیں لی‘ یہ قانوناً وزراء کالونی میں سابق وزیر داخلہ رحمن ملک کی مورچہ نما رہائش گاہ حاصل کر سکتے ہیں‘ یہ ان کی بلٹ پروف گاڑیاں اور وزیراعظم کے برابر پروٹوکول بھی لے سکتے ہیں مگر انھوں نے یہ نہیں لیا‘ یہ اسلام آباد میں اپنی ذاتی رہائش گاہ میں مقیم ہںا اور وزیر داخلہ ہائوس ‘ امور کشمیر کے وفاقی وزیر برجیس طاہر کو الاٹ کر دیا گیا ہے‘چوہدری نثار علی خان کا یہ اقدام قابل ستائش ہے‘ ملک کی حالت انتہائی ناگفتہ بہ ہے‘ ہماری ساٹھ فیصد آبادی خط غربت سے نیچے زندگی گزار رہی ہے‘ لوگ پیٹ کا دوزخ بھرنے کے لیے بچے بچت رہے ہیں‘ ہم 65 برسوں میں سیلاب تک کنٹرول نہیں کر سکے‘ آج بھی کراچی جیسا شہر پانی میں ڈوبا ہوا ہے‘ ہماری سیکیورٹی کی حالت یہ ہے کہ سابق چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل طارق مجیدکے داماد عامر ملک کو اگست 2010ء میں لاہور سے اغواء کر لیا گیا اور شنید ہے جنرل طارق مجید کا داماد تاوان ادا کر کے چھڑوایا گیا‘ 2 فروری 2009ء کو کوئٹہ سے یونیسیف بلوچستان کے سربراہ جان سلوکی اغواء ہوئے‘ ریاست اسے بھی نہیں چھڑوا سکی اور یہ بھی4 اپریل 2009ء کوادائیگی کے بعد رہا ہوئے‘ ہمارے سیکیورٹی اداروں کے لوگ روز اٹھا لیے جاتے ہیں اور ریاست ان کی رہائی کے لیے ادائیگی پر مجبور ہو جاتی ہے۔
سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کا بیٹا علی حیدر گیلانی الیکشن مہم کے دوران ملتان سے اغواء ہوا اور آج تک برآمد نہیں ہو سکا‘ اغواء کار گیلانی فیملی کو باقاعدہ فون بھی کرتے ہیں اور اب انھوں نے اپنی شناخت بھی ظاہر کر دی ہے مگر ریاست انھیں بھی برآمد نہیں کر سکی‘دہشت گرد کوئٹہ سے پنجاب جانے والی مسافر کوچز سے 24 مسافر اغواء کرتے ہیں‘ ان کے شناختی کارڈ چیک کرتے ہیں اور14 مسافروں کو پنجابی ہونے کی وجہ سے گولی مار دیتے ہیں‘چلاس میں کل دہشت گردوں نے سرے عام فائرنگ کر کے کرنل غلام مصطفی‘ کیپٹن اشفاق عزیزاور ایس ایس پی دیامرہلال خان کو شہید کر دیا‘ طالبان گاڑیوں پر بنوں جیل آتے ہیں‘ جیل توڑتے ہیں‘ تین ساڑھے تین گھنٹے جیل میں رہتے ہیں اور 284 لوگ ساتھ لے کر قبائلی علاقے میں پناہ لے لیتے ہیں‘ بنوں جیل چار چھائونیوں سے صرف دس منٹ کے فضائی فاصلے پر واقع ہے‘ طالبان ڈی آئی خان جیل پر حملہ کرتے ہیں‘ کنٹونمنٹ کی دیوار توڑ کر جیل تک پہنچتے ہیں اور 253 لوگوں کو لے کر چلے جاتے ہیں اور ریاست ان کا بال تک بیکا نہیں کر سکتی اور آج اسلام آباد میں یہ افواہ گردش کر رہی ہے اگلی جیل وہ ہو گی جس میں شکیل آفریدی بند ہے۔
طالبان یہ جیل توڑ کر شکیل آفریدی کو نکالیں گے اور منہ مانگا معاوضہ لے کر اسے امریکا کے حوالے کر دیں گے یا پھر طالبان کے بھیس میں امریکی جیل توڑ کر شکیل آفریدی کو لے جائیں گے‘ خفیہ اداروں نے ایسی ٹیلی فونک گفتگو بھی ریکارڈ کی جس میں وفاقی دارالحکومت سمیت ملک کے بڑے شہروں کو نشانہ بنانے کی ہدایات دی جا رہی تھیں‘ کراچی شہر میں خوف زندگی کا حصہ بن چکا ہے اور راولپنڈی اسلام آباد میں بھی بھتے کی پرچیاں تقسیم ہو رہی ہیں اور تاجر اور دکاندار جان بچانے کے لیے رقم دینے پر مجبور ہو رہے ہیں‘ یہ ہیں ہماری ریاست کے حالات‘ ریاست کی حالت یہ ہے جی ایچ کیو کا محاصرہ ختم کرانے کے لیے لاہور کی جیل میں مقید ایک قیدی کو راولپنڈی لایا جاتا ہے‘ حملہ آوروں سے اس کے ذریعے مذاکرات کیے جاتے ہیں جب کہ پولیس دہشت گردوں کا راستہ روکنے کے لیے تیار نہیں‘ فوج اجتماعی فیصلوں کی منتظر ہے اور سیاستدان پانچ پانچ سال لگانے میں مصروف ہیں لیکن ان حالات میں وزراء سرکاری رہائش گاہیں‘ مراعات‘ سیکیورٹی‘ بلٹ پروف گاڑیاں اور پروٹوکول سمیٹنے میں مصروف ہیں۔
ہماری موجودہ حکومت نے بھی پرانی حکومت سے کچھ نہیں سیکھا‘ یہ بھی اسی طرز عمل کا تعاقب کر ر ہے ہیں جس نے پاکستان پیپلز پارٹی کے تابوت میں کیل ٹھونک دیے تھے‘ ان حالات میں چوہدری نثار کا اقدام واقعی قابل ستائش ہے‘ کیا چوہدری نثار کی جان کو کوئی خطرہ نہیں؟ یہ خطرہ موجود ہے لیکن اگر اس کے باوجود ملک کا وزیر داخلہ ذاتی رہائش گاہ میں رہ سکتا ہے‘ یہ پروٹوکول اور سیکیورٹی کے بغیر ’’موو‘‘ کر سکتا ہے تو پھر باقی وزراء ایسا کیوں نہیں کر سکتے؟ یہ سرکاری رہائش گاہیں کیوں نہیں چھوڑ سکتے؟ یہ ذاتی گھروں میں کیوں نہیں رہ سکتے اور یہ قوم کو سرکاری گاڑیوں کا خرچ معاف کیوں نہیں کر سکتے؟ آپ دنیا کی تقلید نہ کریں‘ آپ کم از کم چوہدری نثار کی روایت پر ہی عمل کر لیں‘ آپ قوم پر تھوڑا سا رحم کر دیں‘ قوم آپ کو دعائیں دے گی ورنہ دوسری صورت میں قوم آپ کے ہر دشمن کو اپنا ہیرو بنا لے گی‘ یہ عدنان رشید جیسے لوگوں کو اپنا لیڈر مان لے گی اور اس وقت نہ سرکاری رہائش گاہیں آپ کے کام آئیں گی اور نہ ہی بلٹ پروف گاڑیاں۔
شرمناک
جاوید چوہدری پير 5 اگست 2013
برطانیہ کے ایک بادشاہ کو سیکڑوں سال قبل عجیب آئیڈیا آیا اور یہ آئیڈیا آگے چل کر دنیا کا سب سے زیادہ بولا جانے والا تیسرا لفظ بن گیا‘ وہ ملکہ کے ساتھ بیٹھ کر میوزک سن رہا تھا‘ آتش دان روشن تھے‘ کمرے کے اندر حدت تھی‘ غلام دس پندرہ منٹ بعد آتش دان میں صندل کی خشک ٹہنی ڈال دیتا تھا جس کے ساتھ ہی کمرہ صندل کی خوشبو سے مہک اٹھتا تھا‘ کھڑکیوں کے پردے کھلے تھے‘ بادشاہ اور ملکہ کھڑکیوں کے پار برف گرتے دیکھ رہے تھے۔
شاہی باغ کے درخت سفید برف کا غلاف اوڑھ چکے تھے‘ غلام چوبی فرش پر آہستہ آہستہ چل رہے تھے اور ان کے قدموں کی چاپ موسیقی میں گھل کر ماحول کو مزید رنگین‘ مزید کیف انگیز بنا رہی تھی‘ سازندے مخصوص شاہی لے میں آلات موسیقی بجا رہے تھے‘ یہ لے بادشاہ نے خصوصی طور پر تیار کروائی تھی‘ اس میں عیش‘ عشرت اور رومانس کی ایک لمبی لے کے بعد اچانک تلواروں کی جھنکار‘ فوجی ڈھول کی تھپ تھپ اور توپوں کی چنگھاڑ سنائی دیتی تھی اور چند سیکنڈ بعد رومانس‘ عشرت اور عیش کی دھنیں واپس آ جاتی تھیں‘ یہ لے بادشاہ کے مزاج کی عکاس تھی‘ یہ سننے والے کو یاد کرواتی تھی‘ ان کے ظل الٰہی عام دنوں میں رومان پرور لیکن جنگی حالات میں سخت گیر ہیں۔
بادشاہ نے ملکہ کے چہرے کی طرف دیکھا‘ ملکہ کمرے کی گرمی‘ مشروب مغرب کی تلخی‘ موسیقی کی رومانویت اور بادشاہ سلامت کی نیت کی وجہ سے گلنار ہو رہی تھی‘ اس کے ماتھے پر ہلکا ہلکا پسینہ تھا‘ ہونٹ ہولے ہولے کپکپارہے تھے‘ ہاتھوں میں مسرت انگین لرزش تھی اور اس کے دل کے آخری لوپ پر ہلکی ہلکی گدگدی ہو رہی تھی‘ وہ چند سکینڈ بعد کرسی پر پہلو بدلتی تھی‘ بادشاہ سلامت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالتی تھی‘ ان کی آنکھوں میں تیرتے پیغام پڑھتی تھی اور اس کے ساتھ ہی اس کی آنکھوں کا نیلا پن گہرا ہو جاتا تھا‘ بادشاہ کو اس کی یہ ادا دنیا کی قیمتی ترین نعمت لگتی تھی اور وہ شوق کے اس مرحلے کو وصل کی بے لگام تند خواہشوں تک پھیلائے رکھتا تھا۔
بادشاہ ملکہ کی نیلی ہوتی آنکھوں کو دیکھ رہا تھا کہ اچانک اس کے ذہن میں عجیب آئیڈیا آ گیا‘ بادشاہ نے سوچا برطانیہ میں ہزاروں لاکھوں گھر ہیں اور ہر گھر میں میاں بیوی بھی ہیں اور ان کے درمیان ’’تعلقات ‘‘بھی ہیں مگر یہ لوگ ان ازدواجی تعلقات میں بادشاہ کو شامل نہیں کرتے اور یہ ہماری بادشاہت کی توہین ہے‘ بادشاہ اپنی مسند سے اٹھا‘ غصے سے شاہی میز تک گیا‘ چاندی کی ہتھوڑی اٹھائی اور سونے کی پلیٹ پر دے ماری‘ یہ بادشاہ کی کال بیل تھی‘ برطانیہ کے شاہی محل میں بادشاہ کے دفتر‘ خواب گاہ‘ دربار اور کوریڈور میں صندل کے چوکھٹے میں سونے کی دو فٹ گول پلیٹ لٹک رہی ہوتی تھی‘ اس کے ساتھ چاندی کی چھوٹی سی ہتھوڑی ہوتی تھی‘ بادشاہ جب احکامات لکھوانے کے لیے اے ڈی سی کو بلانا چاہتا تھا یا وہ کسی غلام‘ کسی خادم کو کمرے میں طلب کرنا چاہتا تھا تو وہ چاندی کی ہتھوڑی سونے کی پلیٹ پر دے مارتا تھا اور یوں ٹن کی خوفناک آواز پورے محل میں گونج اٹھتی تھی اور اس آواز کے ساتھ ہی ایک ہزار دو سو نو ملازمین کے بدن میں سراسیمگی پھیل جاتی تھی‘ یہ سراسیمگی اس وقت بھی ملازمین میں پھیل گئی‘ اے ڈی سی بھاگتا ہوا بادشاہ کے میوزک روم میں پہنچ گیا‘ بادشاہ نے فرمایا ’’ جوڈیشل آرڈر لکھو‘‘ اے ڈی سی نے کاغذ نکال لیا۔
بادشاہ نے فرمایا ’’ آج سے ملک کا کوئی شخص بادشاہ کی تحریری اجازت کے بغیر ازدواجی تعلق قائم نہیں کر سکے گا‘ پوری رعایا پہلے تحریری اجازت لے گی‘‘ اے ڈی سی نے کن اکھیوں سے بادشاہ کی طرف دیکھا‘ سرجھکایا‘ آرڈر لکھا اور رائل لاء ڈیپارٹمنٹ کے حوالے کر دیا‘ دنیا کی تاریخ میں اس آرڈر کے بعد دلچسپ واقعہ پیش آیا‘ برطانیہ میں ایک نیا ڈیپارٹمنٹ بن گیا اور پورے ملک میں اس ڈیپارٹمنٹ کی شاخیں کھول دی گئیں‘ اس قصبے یا شہر کے لوگ دفتر کے سامنے لائین بنا کر کھڑے ہو جاتے تھے‘ اپنا اور اپنی بیوی کا نام لکھواتے تھے اور تھوڑی سی فیس ادا کر کے دفتر سے ایک سر ٹیفکیٹ حاصل کرتے تھے‘ یہ ازدواجی تعلقات کا شاہی پروانہ ہوتا تھا‘ یہ لوگ یہ پروانہ اپنے گھر کے دروازے پر آویزاں کردیتے تھے‘ اس پروانے کا نام ’’فارنی کیشن انڈر دی کانسینٹ آف کنگ‘‘ تھا‘پروانے کے اس نام کا مخفف آگے چل کر ایک غلیظ گالی بن گیا‘ میں ان سطروں میں یہ گالی نہیں لکھ سکتا لیکن آپ کی سہولت کے لیے مخفف کے ابتدائی حروف الگ کر دیتا ہوں اور آپ یہ حروف جوڑ کر وہ لفظ (گالی) خود بنا لیجیے‘ آپ فارنی کیشن کا ’’ایف‘‘ انڈر کا ’’یو‘‘ کانسینٹ کا ’’سی‘‘ اور کنگ کا ’’ کے‘‘ الگ کر لیجیے اور یوں وہ لفظ بن جائے گا‘ جو دنیا میں اس وقت تیسرے نمبر پر سب سے زیادہ بولا جانے والا لفظ ہے ‘یہ لفظ ہر امریکی شہری اوسطاً سو مرتبہ روزانہ بولتا ہے۔
دنیا میں سب سے زیادہ ’’ہیلو‘‘ بولا جاتا ہے‘ یہ لفظ چھ براعظموں میں ہر وہ شخص بولتا ہے جو فون استعمال کرتا ہے‘ آپ دنیا کے کسی ملک میں فون کریں‘ آپ کو دوسری طرف سے ہیلو کی آواز آئے گی‘ دنیا کے اکثر لسانی ماہرین کا خیال ہے ہیلو کا لفظ ہیل سے نکلا اور ہیل کا مطلب دوزخ ہوتا ہے‘ گراہم بیل نے1876ء میں ٹیلی فون ایجاد کیا‘ وہ ٹیسٹنگ کے مراحل کے دوران اپنے ایک دوست کو ٹیلی فون کیا کرتا تھا‘ دوست کو آواز نہیں آتی تھی تو وہ اس آلے کو ’’ہیل‘‘ قرار دیتا تھا‘ یہ ہیل آہستہ آہستہ ہیلو بن گیا اور یہ ہیلو آنے والے دنوں میں ٹیما فون کے ساتھ چپک گیا‘ یہ ہیلو اب عام زندگی میں سلام بن چکا ہے‘ لوگ ایک دوسرے سے مخاطب ہوتے وقت ہیلو بھی کہتے ہیں اور ہائے بھی‘ ہائے کے لفظ کا پس منظر بھی انتہائی فحش ہے‘ یہ پس منظر پھر کسی دن بیان کروں گا‘ دنیا میں ہیلو کے بعد سب سے زیادہ ’’شِٹ‘‘ کا لفظ استعمال ہوتا ہے‘ شِٹ بھی غلیظ لفظ ہے مگر یہ لفظ اب امریکی ا ور یورپی دنیا سمیت تمام معاشروں کا حصہ بن چکا ہے ‘یہ مذہبی عبادت گاہوں سے لے کر عدالتوں تک میں استعمال ہوتا ہے‘ تیسرا بین الاقوامی لفظ وہ ہے جس نے بادشاہ کے ’’فارنی کیشن‘‘ سر ٹیفکیٹ سے جنم لیا تھا‘ چوتھا لفظ گاڈ ہے ‘ پانچواں جیسز (یسوع یعنی حضرت عیسیٰ ؑ) چھٹا لفظ او یا اوخ ہے اور ساتواں لفظ اوکے ہے اور سوری‘ تھینک یو اور ایکسکیوزمی جیسے لفظ ان کے بعد آتے ہیں جب کہ ان دس لفظوں کے بعد ایسی بیس غلیظ گالیاں ہیں جو لوگوں کے معمول کا حصہ ہیں اور یہ گالیاں اب کثرت استعمال کی وجہ سے سننے اور بولنے والے کو غلیظ محسوس نہیں ہوتیں۔
ہم اگر پاکستانی معاشرے کی لسانی روایات کا تجزیہ کریں تو ہمیں اس میں بھی دس مشترکہ لفظ ملتے ہیں‘ ان دس لفظوں میں دو ایسی گالیاں بھی شامل ہیں جو بہن اور ماں کے لفظوں سے شروع ہوتی ہیں اوریہ ہمارے معمول کا حصہ ہیں‘ ہم یہ گالیاں ایک سو دس مواقع پر استعمال کرتے ہیں اور ان موقعوں میں بچھڑے ہوئے دوست سے اچانک ملاقات‘ بچے کے امتحان میں کامیابی‘ عید کا چاند نظر آ جانا اور کرکٹ ٹیم کی جیت بھی شامل ہے جب کہ باقی آٹھ لفظوں میں یا اللہ‘ السلام و علیکم‘ ہور(اور)‘ بس کر‘ مہنگائی‘ جان دے (جانے دو) اوئے اور شرم جیسے الفاظ شامل ہیں‘ شرم کا لفظ ہمارے معمول کا اس قدر حصہ ہے کہ ہم گھر سے لے کر مسجد اور اسکول سے لے کر عدالت تک میں اس کا کھلا استعمال کرتے ہیں‘ ہمارے والدین اپنے بچوں کو سر عام بے شرم کہتے ہیں اور کوئی ان کی طرف چونک کر نہیں دیکھتا‘ شرم ناک کا لفظ بھی عام استعمال ہوتا ہے‘ ہمارا میڈیا‘ ہمارے علماء کرام ا ور ہمارے اساتذہ بھی یہ لفظ کھلم کھلا استعمال کرتے ہیں‘ عوام یہ لفظ اکثر اوقات اخبارات کی ہیڈ لائینز میں بھی پڑھتے ہیں‘ ہمارے لیڈر بھی یہ لفظ استعمال کرتے ہیں اور اینکر پرسن بھی‘ ملک میں مہنگائی تک کو شرم ناک کہا جاتا ہے‘ ہم اکثر اوقات وکلاء کو یہ لفظ عدالتوں میں بولتے اور پٹیشنز میں استعمال کرتے بھی دیکھتے ہیں‘ پچھلے پانچ برسوں کے دوران سپریم کورٹ کی مختلف سماعتوں میں بھی شرم ناک کا لفظ بولا گیا اور شاید کسی فیصلے کا حصہ بھی ہو‘ یہ لفظ اب ہماری روٹین کا حصہ بن چکا ہے‘ بالکل اسی طرح جس طرح شِٹ اور ہیل کے لفظ امریکی اور یورپی تہذیب کا حصہ ہیں۔
عمران خان نے شاید اس روزمرہ روٹین میں شرم ناک کا لفظ بول دیا مگر سپریم کورٹ نے اس پر سوموٹو نوٹس لے لیا‘ عمران خان کو 2 اگست کو سپریم کورٹ نے طلب کیا اور عمران خان نے کورٹ میں کھڑے ہو کر حیرت سے چیف جسٹس سے کہا ’’مجھے پہلی بار معلوم ہوا شرم ناک گالی ہے‘‘ عمران خان درست کہہ رہے ہیں‘ ہمارے ملک کے ننانوے اعشاریہ ننانوے فیصد لوگ اب شرم ناک کو گالی اور قابل تعزیز جرم نہیں سمجھتے ‘ یہ اب معمول کا لفظ ہے لیکن سپریم کورٹ نے اس کے باوجود نوٹس لے کر اچھا فیصلہ کیا‘ معزز جج حضرات کو چاہیے یہ اب اس لفظ پر پابندی بھی لگا دیں تا کہ ہماری زبان صاف ہو سکے اور سیاستدانوں کے ساتھ ساتھ عوام‘ اینکر پرسنز‘ صحافی‘ وکلاء اور جج حضرات بھی یہ لفظ استعمال نہ کر سکیں‘ عدالت اگر تھوڑی سی مہربانی کرے تو یہ مزید ایسے دس بیس لفظوں پر پابندی لگا سکتی ہے جن کی وجہ سے یہ معاشرہ خراب ہو رہا ہے‘ چیف جسٹس کو اس معاملے میں آگے بڑھنا چاہیے‘ پوری قوم ان کا ساتھ دے گی کیونکہ قوم ان شرم ناک لفظوں کی وجہ سے بے شرم ہو رہی ہے اور یہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے عوام کے ساتھ زیادتی ہے۔
کاروان علم فاؤنڈیشن
جاوید چوہدری ہفتہ 3 اگست 2013
عبدالرشید نے کراچی میں پرانی سبزی منڈی کے قریب چھوٹے سے مکان میں آنکھ کھولی‘ والد سبزی منڈی میں مزدوری کرتا تھا‘ عبدالرشید بچپن ہی سے ذہین تھا‘ وہ ہر سال کلاس میں اول آتا‘ وہ تیسری جماعت میں تھا تو والدہ کو پیٹ کا کینسر ہو گیا اور وہ پانچ سال تک اس موذی مرض سے لڑنے کے بعد انتقال کر گئی‘ عبدالرشید نے میٹرک کا امتحان اعلیٰ نمبروں سے پاس کیا تو اس کی شادی کر دی گئی‘ عبدالرشید نے ایف ایس سی کا امتحان بھی اچھے نمبروں سے پاس کر لیا‘ اس نے ایف ایس سی کے بعد سبزی منڈی میں کاروبار شروع کر دیا‘ کاروبار چل پڑا تو اس نے وفاقی اردو یونیورسٹی میں شام کی کلاسز میں داخلہ لے لیا‘ عبدالرشید بزنس ایڈمنسٹریشن کے آخری سمیسٹر تک پہنچ گیا لیکن قدرت ابھی تک اس سے ناراض تھی‘ وہ ایک دن موٹر سائیکل پر یونیورسٹی جا رہا تھا‘ راستے میں اس کا حادثہ ہو گیا‘ اس نے ہلمٹ نہیں پہن رکھا تھا‘ اس کے سر‘ ریڑھ کی ہڈی اور جسم کے مختلف حصوں پر گہری چوٹیں آئیں‘ وہ کئی روز تک قومے میں رہا‘ جب ہوش آیا تو اس کا پورا جسم بے جان ہو چکا تھا‘ وہ صرف چہرے کو حرکت دے سکتا تھا۔
عبدالرشید نے دو سال ’’موت‘‘ کی حالت میں بستر پر گزار دیے‘ یہ دو سال قیامت سے کم نہیں تھے‘ گھر میں دو وقت کا چولہا جلانا مشکل تھا‘ علاج معالجہ کیسے ہوتا؟ یہ وہ لمحات تھے جب قدرت نے اس کی ناخواندہ دیہاتی بیوی کو جذبے اور سوچ سے نوازہ‘ اس کی بیوی نے اسے دوبارہ زندگی کی طرف لانے کا عزم کر لیا‘ وہ اس کی غمگسار تو تھی ہی وہ اس کی ڈاکٹر، فزیو تھراپسٹ اور ماہر نفسیات بھی بن گئی‘ وہ اسے باقاعدگی سے دوا کھلاتی‘ اعضاء کو متحرک کرنے کی ورزش کرواتی اور اس کا حوصلہ بڑھاتی‘ بیوی کی محنت رنگ لائی‘ عبدالرشید کے اعضاء نے حرکت شروع کر دی حتیٰ کہ ایک ٹانگ کے سوا اس کا سارا جسم تندرست ہو گیا‘ بیوی اس کے بعد اس کی اسناد لے کر جامعہ کراچی پہنچ گئی‘ یونیورسٹی نے عبدالرشید کو فوڈ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی میں داخلہ دے دیا مگر وہ ٹانگ سے معذوری‘ نفسیاتی دبائو اور جسمانی کمزوری کی وجہ سے پبلک ٹرانسپورٹ سے یونیورسٹی نہیں جا سکتا تھا۔
یونیورسٹی آنے جانے کے لیے اسے روزانہ کسی کی مدد کی ضرورت پڑتی تھی‘ اسے ادویات کے لیے بھی پیسوں کی بھی ضرورت تھی‘ اس نے صدر پاکستان‘ چاروں صوبوں کے وزراء اعلیٰ اور کئی فلاحی اداروں کو خطوط لکھے مگر 18کروڑ لوگوں کے اس ملک میں کوئی اس کی مدد کے لیے تیار نہ ہوا‘ مایوس ہو کر اس نے تعلیم کا سلسلہ ختم کرنے کا فیصلہ کر لیا مگر پھر قدرت کو اس پر ترس آ گیا‘ وہ ایک دن اسکوٹر پر لفٹ لے کر یونیورسٹی جا رہا تھا‘ راستے میں اس نے اسکوٹر والے کو اپنی ساری کہانی سنائی‘ اسکوٹر والے نے اسے کاروان علم فائونڈیشن کے بارے میں بتایا اور اس نے بے دلی سے کاروان علم فائونڈیشن کو خط لکھ دیا‘ کاروان علم فائونڈیشن کا نمائندہ ایک ہفتے کے اندر اس کے گھر پہنچ گیا‘ اسے فوری طور پر ایک خصوصی موٹر سائیکل فراہم کر دی گئی‘ ادویات اور تعلیمی اخراجات کے لیے معقول ماہوار وظیفہ بھی لگا دیا گیا اور یوں عبدالرشید سہارے کے بغیر خود موٹر سائیکل پر یونیورسٹی جانے لگا‘ ادویات ملیں تو وہ جلد تندرست بھی ہو گیا‘ دو سال تک اسے وظیفہ فراہم کیا گیا اور اس سال اپریل میں اس نے فوڈ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی میں ایم ایس سی کی ڈگری مکمل کر لی ہے‘ یہ باہمت نوجوان اب کاروان علم فائونڈیشن کے تعاون سے سی ایس ایس کے امتحان کی تیاری کر رہا ہے۔
دوسری کہانی وہاڑی کے ڈاکٹر محمد اسلم کی ہے‘ اس کا والد عطاء محمد فوج میں لانس نائیک تھا‘ اس کا کورٹ مارشل ہوا اور وہ ملازمت سے محروم ہو گیا‘ ملازمت سے محرومی‘ مقدمے بازی اور بے روزگاری نے والد کو نشے کی لت میں مبتلا کر دیا اور یوں بچوں کی پرورش اور تعلیم و تربیت کی ذمے داری اس کی بیوی کے کندھوں پر آ گئی‘ والدہ نے بیٹوں کو سرکاری اسکول میں داخل کروا دیا، محمد اسلم بڑا بیٹا تھا‘ وہ چوتھی جماعت میں تھا تو والدہ اسے بسکٹ اور ٹافیوں کے پیکٹ بنا کر دیتی تھی‘ وہ یہ پیکٹ اسکول بیگ میں رکھ کر اسکول جاتا اور یہ اشیاء آدھی چھٹی کے وقت اپنے دوستوں کو فروخت کر دیتا‘ اس نوجوان نے بچپن ہی سے خود کفالت کا سبق سیکھ لیا‘ ڈاکٹر محمد اسلم نے ہر جماعت پرانی کتابیں پڑھ کر پاس کی‘ وہ ہر کلاس میں اول آتا‘ اس نے چھٹی جماعت میں ایک ڈاکٹر کے کلینک پر شام کے اوقات میں ملازمت بھی کرلی۔
وہ خود پرانی کتابوں سے پڑھتا تھا لیکن وہ پیسے کمانے کے لیے اسکول فیلوز کی نئی کتابیں راتوں کو جاگ کر جلد کرتا تھا‘ وہ نویں جماعت میں پہنچا تو اس کی قابلیت اور گھریلو حالات دیکھ کر کلاس انچارج بدر محمود حسن نے اسے اپنے گھر رکھ لیا‘ وہ اسکول کے بعد اسے گھر پر پڑھا تے‘ کپڑے‘ کھانا اور رہائش بھی فراہم کرتے تھے‘ اس شفیق استاد کی دو سالہ محنت رنگ لائی اور ڈاکٹر محمد اسلم نے میٹرک کے امتحان میں 850 میں سے704 نمبر حاصل کر لیے مگر وہ ایف ایس سی میں داخلہ نہ لے سکا‘ اس نے سبزی کی دکان پر ملازمت کی اور وہ گرمیوں میں برف بیچنے لگا‘ اس دوران چھوٹے بھائی نے حالات سے دل برداشتہ ہو کر درزی کا کام سیکھ لیا تھا‘ وہ گھر چلانے کے قابل ہوا تو ڈاکٹر محمد اسلم نے کراچی کے ایک معروف مدرسے میں داخلہ لے لیا‘ کراچی میں فرقہ وارانہ فسادات ہوئے‘ ڈاکٹر محمد اسلم شدید زخمی ہو گیا‘ وہ کئی دن تک اسپتال میں زیر علاج رہا‘ حالت بہتر ہوئی تو یہ واپس وہاڑی آ گیا‘ اس نے ڈسپنسر کلاس میں داخلہ لے لیا۔
وہاڑی کے ایک نیک سیرت ڈاکٹر احمد مسعود اکبر نے اسے اپنے کلینک پر ملازمت دے دی اور گھر میں رہائش کے لیے ایک کمرہ بھی دے دیا‘ یوں اس باہمت نوجوان نے ڈسپنسر ڈپلومہ کیا‘ ایک سا ل بعد ایف ایس سی میں گورنمنٹ کالج میں داخلہ لے لیا اور یوں یہ میٹرک کرنے کے سات سال بعد ایف ایس سی کا امتحان امتیازی نمبروں سے پاس کر گیا‘ اس کا نام نشتر میڈیکل کالج ملتان کی داخلہ لسٹ میں بھی آ گیا‘ اسکول اور کالج کے اساتذہ اکرام نے اس کے داخلہ کا بندوبست کر دیا مگر اسے میڈیکل کالج کے روز مرہ تعلیمی اخراجات اور ہاسٹل میں رہائش کے لیے پسو ں کی ضرورت تھی‘ یہ بھی کاروان علم فائونڈیشن پہنچا‘ فائونڈیشن نے اسے پانچ سال تک مالی اعانت فراہم کی‘ یہ ڈاکٹر بن گیا اور یہ اب نشتر میڈیکل کالج میں ملازمت کے ساتھ ساتھ ہارٹ سرجری میں اسپیشلائزیشن کر رہا ہے۔
میرے پاس ایسی سیکڑوں کہانیاں ہیں اور ہر کہانی کا اختتام کاروان علم فائونڈیشن پر ہوتا ہے‘ یہ فائونڈیشن محض ایک ادارہ نہیں‘ یہ ایک تحریک بھی ہے‘ یہ فائونڈیشن دس سال سے عبدالرشید اور ڈاکٹر اسلم جیسے طلبہ کو وظائف دے رہی ہے فائونڈیشن کا دعویٰ ہے پاکستان کی کوئی یونیورسٹی‘ میڈیکل کالج‘ انجینئرنگ یونیورسٹی اور کوئی کالج ایسا نہیں جہاں اس کے تعاون سے طلبہ تعلیم حاصل نہ کر رہے ہوں‘ کاروان علم فائونڈیشن ضرورت مند طلبہ کو سالانہ فیس‘ سمیسٹر فیس‘ کرایہ ہاسٹل‘ ماہوار خرچ طعام‘ کتب اور آمد و رفت کے لیے وظائف دیتی ہے‘ فائونڈیشن یتیم اور خصوصی طلبہ کو ترجیہی بنیادوں پر وظائف دیتی ہے‘ ادارے نے تین نابینا نوجوان محمد عامر کمالوی‘ محمد حماد ملک اور توصیف پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دے دی ہے‘ یہ کمیٹی پنجاب کے تعلیمی اداروں میں خصوصی طلبہ کے تعلیمی اخراجات معاف کروانے کی کوششیں کر رہی ہے‘ کاروان علم فائونڈیشن نے حکومت پنجاب کو پیش کش کی ہے اگر حکومت خصوصی طلبہ کے اخراجات معاف کر دے تو فائونڈیشن انھیں طعام اور دیگر ضروریات کے لیے وظائف دے گی۔
اس پیش کش کے نتیجے میں پنجاب یونیورسٹی لاہور اور بہائوالدین زکریا یونیورسٹی ملتان نے خصوصی طلبہ کے اخراجات معاف کر دیے ہیں جب کہ حکومت پنجاب نے تمام سرکاری تعلیمی اداروں میں خصوصی طلبہ کی فیس معاف کرنے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دے دی ہے‘ یہ ادارہ اب تک 3678 طلبہ کو ساڑھے چھ کروڑ روپے کے وظائف دے چکا ہے‘ ان میں 713 یتیم طلبہ اور 106 خصوصی طلبہ بھی شامل ہیں‘ ایم بی بی ایس کے885، ڈاکٹر آف ڈینٹسٹ سرجری کے36، ڈاکٹر آف فزیو تھراپی کے32، ڈاکٹر آف ویٹرنری سائنسز کے89، ڈی فارمیسی کے56، ایم ایس سی کے92، ایم اے کے68، ایم کام کے26، ایم بی اے کے43، ایم فل کے05، بی ایس سی انجینئرنگ کے1020، بی کام آنرز کے134، بی ایس آنرز کے299، بیچلر آف بزنس ایڈمنسٹریشن کے 29، اے سی سی اے کے 04، چارٹرڈ اکائونٹنسی کے 04، بی ایس ایڈ، بی ایڈ کے 11، ایل ایل بی کے09، بی اے آنرز کے21، بی اے کے51، سی ایس ایس کا 01، بی ٹیک کے 05، ڈپلومہ ایسوسی ایٹ انجینئرنگ کے123، ایف ایس سی کے412، ایف اے کے58، آئی کام کے32، ڈی کام کے05، آئی سی ایس کے15 طلبہ شامل ہیں۔
کاروان علم فائونڈیشن نے کبھی حکومت یا غیر ملکی این جی او سے کوئی فنڈ نہیں لیا‘ یہ خالصتاً اہل خیر کی معاونت سے چل رہی ہے‘ کاروان علم فائونڈیشن کے پاس515 زیر کفالت اور297 نئے طلبہ کی درخواستیں زیر غور ہیں‘ ان طلبہ کو 2013ء اور 2014 میں وظائف دینے کے لیے تین کروڑ روپے چاہیے‘ الحمد للہ پاکستان میں ہزاروں ایسے صاحب دل موجود ہیں جو اکیلے تین کروڑ فراہم کر کے 812 طلبہ کا مستقبل بچا سکتے ہیں‘ مجھے امید ہے کاروان علم فائونڈیشن کو یہ رقم مل جائے گی اور علم کا کاروان اسی طرح رواں دواں رہے گا‘ کاروان علم فائونڈیشن کو زکوٰۃ و عطیات ملک کے کسی بھی حصے سے میزان بینک کے اکائونٹ نمبر0240-0100882859 میں جمع کروائے جا سکتے ہیں‘ یا19/21 ایکٹر اسکیم سمن آباد لاہور پر ارسال کیے جا سکتے ہیں‘ مزید تفصیلات کے لیے فون نمبر 042-37522741-42یا موبائل نمبر 0321-8461122پر رابطہ کیا جا سکتا ہے‘ ادارے کی ویب سائٹ کا ایڈریس www.kif.com ہے‘ یہ اچھا ادارہ ہے‘ احباب سے معاونت کی درخواست کی جاتی ہے۔

انارکی
جاوید چوہدری بدھ 31 جولائ 2013
یہ جولائی کی 30 تاریخ تیم اور وقت تھا رات کے گیارہ بجے‘ ڈیرہ اسماعیل خان میں سو سے ڈیڑھ سو مسلح افراد داخل ہوئے‘ یہ 60 سے 70 گاڑیوں اور موٹرسائیکلوں پر سوار تھے‘ گاڑیوں پر جھنڈے لگے تھے جن پر اللہ اکبر لکھا تھا‘ یہ لوگ شہر کے کنٹونمنٹ ایریا‘ پولیس لائین اورضلعی عدالتوں کے قریب سے گزر کر ڈسٹرکٹ جیل ڈیرہ اسماعیل خان پہنچے‘ جیل میں ان کے اڑھائی سو ساتھی قید تھے‘ انھوں نے سب سے پہلے خود کش حملے کے ذریعہ حفاظتی مورچہ اڑایا‘ اس کے بعد ٹاور پر راکٹ فائر کیا‘ ٹاوردو سپاہیوں سمیت اڑ گیا‘ بارود سے بھری گاڑیاں جیل کے گرد کھڑی کیں‘ جیل کا مرکزی گیٹ بارود لگا کر اڑا دیا‘ جیل میں اس وقت 145مسلح اہلکار موجود تھے‘ یہ لوگ ریاست کی کمزوری سے واقف تھے ‘ یہ سرنڈر کرگئے‘ مرکزی گیٹ کے بعد جیل کے دو دروازے تھے‘ پولیس اہلکاروں نے یہ دونوں گیٹ کھول دیے۔
حملہ آور جیل کے اندر داخل ہو گئے‘ جیل میں بارود لگایا اور دھماکے شروع ہو گئے‘ دھماکوں کی آواز سے شہر لرز اٹھا‘ لوگوں نے گھروں اور دکانوں کو تالے لگائے اور دبک کر بیٹھ گئے‘ جیل سے دو منٹ کے فاصلے پر پولیس لائین تھی‘ لائین میں 150 پولیس اہلکار اور بھاری ہتھاےر موجود تھے لیکن جیل پر حملہ اس قدر شدید تھا کہ یہ پولیس اہلکار بھی دم سادھ کر بیٹھ گئے‘ پیچھے رہ گئی فوج تو یہ آرڈر کا انتظار کرنے لگی‘ حملہ آوروں کے ہاتھ میں اپنے ساتھیوں کی فہرست موجود تھی‘ انھوں نے میگا فون پر اپنے ساتھیوں کے نام دہرانا شروع کر دیے‘ ساتھی ایک ایک کر کے گیٹ پر جمع ہونے لگے‘ حملہ آوروں نے کال کوٹھڑی میں موجود چند مجرم تلاش کیے اور انھیں گولی مار دی‘ یہ سلسلہ ایک سے ڈیڑھ گھنٹہ جاری رہا‘ اس کے بعد جیل کے ڈیڑھ سو سال پرانے ریکارڈ کو آگ لگائی گئی‘ حملہ آوروں نے اپنے 243 ساتھی لیے‘ انھیںگاڑیوں میں سوار کیا اور یہ لوگ ڈی آئی خان سے روانہ ہو گئے‘ حملہ آوروں نے 216 کلومیٹر کا فاصلہ طے کیا‘ یہ شمالی وزیرستان کے علاقے میر علی پہنچے اور وہاںجشن شروع ہو گیا۔
طالبان اس واقعے کی ذمے داری قبول کر چکے ہیں‘ میڈیا کی اطلاعات کے مطابق یہ حملہ پاکستان ائیرفورس کے سابق اہلکار اور طالبان لیڈر عدنان رشید نے کیا‘ عدنان رشید جنرل پرویز مشرف پر دسمبر 2003ء کے حملے میں ملوث تھا‘ یہ 2004ء کے اوائل میں گرفتار ہوا‘ اسے اکتوبر 2005ء میں موت کی سزا ہوئی‘ یہ بنوں جیل میں بند تھا‘ عدنان رشید نے قید میں جیل توڑنے کا منصوبہ بنایا‘ جیل سے آپریشن کی نگرانی کی اور 15 اپریل 2012ء کو بنوں جیل پر حملہ کرا دیا‘ طالبان حملے کے بعد عدنان رشید سمیت 384 قیدیوں کو ساتھ لے گئے‘ عدنان رشید ڈی آئی خان جیل میں بھی رہا لہٰذا یہ جیل کی اندرونی صورتحال سے پوری طرح واقف تھاچنانچہ اس نے اپنے ساتھیوں کو چھ ماہ ٹریننگ دی‘ جیل میں موبائل فون بھجوائے اور 30 جولائی 2013ء کی رات ڈی آئی خان جیل پر حملہ کر دیا‘ اس حملے پر اس کے ایک کروڑ 15 لاکھ روپے خرچ ہوئے‘ ہمارے اداروں اور حکومت کو حملے کی پیشگی اطلاع بھی تھی۔
ڈی آئی خان جیل اور بنوں جیل کے حملے نے چار چیزیں ثابت کر دیں‘ ایک‘ دنیا میں جیل مجرموں کے لیے مشکل ترین ٹارگٹ ہوتی ہے لیکن پاکستان میں کوئی بھی گروپ ایک کروڑ روپے اور چھ ماہ کی ٹریننگ سے یہ مشکل ترین ٹارگٹ اچیو کر سکتا ہے اور ہماری ریاست اس حملے کو روک نہںک سکتی لہٰذا آج اگر کوئی گروپ اس سے بھی مشکل ٹارگٹ تک پہنچنا چاہے تو یہ اس کے لیے ناممکن نہیں ہوگا‘ دو‘ ہماری پولیس اور دوسرے ادارے نفسیاتی طور پر شکست تسلیم کر چکے ہیں اور یہ مزاحمت کے لیے تیار نہیں ہیں اور یہ اس میں بڑی حد تک ’’جسٹی فائیڈ‘‘ بھی ہیں کیونکہ مزاحمت کے نتیجے میں یہ جان سے جاتے ہیں اور حکمران جنازے تک میں شریک نہیں ہوتے‘ ان کے لواحقین کو ان کی شہادت کے بعد امدادی رقم نہیں ملتی اور ان کے بچے اور بیوائیں گلیوں میں رل جاتی ہیں‘ یہ لوگ روز اپنی آنکھوں سے شہید ساتھیوں کے لواحقین کا انجام دیکھتے ہیں اور آپ اس کے بعد بھی اگر یہ توقع رکھیں یہ لوگ ریاست یا ڈیپارٹمنٹ کے لیے جان دیں گے تو یہ حماقت ہو گی ‘ تین‘ ریاست اپنی ناکامی‘ کمزوری یا خامی تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں۔
ڈیپارٹمنٹ ایک دوسرے پر ذمے داری ڈال دیتے ہیں اور صوبائی حکومتیں وفاق کو ذمے دار ٹھہرا دیتی ہیں اور وفاقی حکومت اٹھارہویں ترمیم کھول کر بیٹھ جاتی ہے‘ حکومتیں اور ڈیپارٹمنٹس میڈیا کے ذریعے بھی مسئلے حل کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور چار‘ ہم ڈیزاسٹرز سے کچھ نہیں سیکھ رہے‘ 15 اپریل 2012ء کو بنوں جیل ٹوٹی‘ 384 قیدی فرار ہوئے‘ ہم انکوائری کمیٹی بناکر چپ بیٹھ گئے‘ حکومت نے ڈی آئی خان سانحے کے بعد بھی درمیانے اور نچلے درجے کے چند افسر معطل کر دیے ہیں‘ یہ افسر ایک دو ماہ میں دوبارہ تعینات ہو جائیں گے اور یوں ہم اس ڈیزاسٹر سے بھی کچھ نہیں سیکھیں گے‘ ہم 65 برسوں سے سیلابوں میں ڈوب رہے ہیں مگر ہم نے آج تک سیلابوں سے بچائو کے لیے کوئی حکمت عملی نہیں بنائی‘ ہم جیلوں کو دہشت گردی سے محفوظ بنانے کے لیے خاک پالیسی بنائیں گے اور ہم اس سستی کی وجہ سے آپریشن تھیٹر تک پہنچ چکے ہیں مگر ہم یہ ماننے کے لیے تیار نہیں ہیں‘ ہم چور کو چارپائی کے نیچے تلاش کرنے کے بجائے اسرائیل اور امریکا میں تلاش کرتے ہیں اور یہ بھول جاتے ہیں انسان ہو یا قومیں یہ ہر حال میں اپنا بویا ضرور کاٹتی ہیں اور ہم اپنی بوئی ہوئی فصل کاٹ رہے ہیں اور ہم نے اگر سنجیدگی اختیار نہ کی تو ہماری نسلیں بھی یہ فصلیں کاٹیں گی۔
میں اب جیلوں اور دہشت گردی کے ایشو کے حل کی طرف آتا ہوں‘ جیلوں کے مسئلے کے تین حل ہیں‘ حکومت خطرناک ملزموں کے لیے فوری طور پر خصوصی جیل بنا دے‘ یہ جیل کنٹونمنٹ کے اندر ہونی چاہیے اور اس کا انتظام پولیس کے بجائے فوج کے پاس ہونا چاہیے‘ ملزمان اگر اپنے لواحقن یا وکیل سے ملنا چاہیں تو انھیں ویڈیو کانفرنسنگ کی سہولت دے دی جائے‘ ان کے مقدمات بھی عدالت کے بجائے جیل میں سنے جائیں‘ جج ان کے سامنے نہ آئیں‘ یہ کالے شیشوں کے پیچھے بیٹھ کر وکیلوں کی بحث سنیں اور ثبوت دیکھیں‘ ان کے خلاف فیصلوں پر بھی کسی ایک جج کے دستخط نہیں ہونے چاہئیں‘سزائوں کے احکامات وزارت قانون‘ ہائی کورٹ یا سپریم کورٹ کی طرف سے جاری ہوں تا کہ ججز اپنی اور اپنی فیملی کے تحفظ کے بارے میں مطمئن ہو جائیں‘ دو‘ ہمارے ملک میں جیلیں کم اور ملزم زیادہ ہیں‘ ایک ایک جیل میں تین تین چار چار ہزار قیدی بند ہیں‘ جیلیں پرانی اور ناقص بھی ہیں‘ یہ اتنے ملزموں کا بوجھ برداشت نہیں کر سکتیں‘ حکومت فوری طور پر جیلوں پر بوجھ کم کرے‘ چھوٹے جرائم میں قید ملزموں کے فوری فیصلے کیے جائیں‘ سزائوں کو قید سے جرمانوں‘ جائیداد کی ضبطی اور پاسپورٹ کی معطلی پر شفٹ کر دیا جائے۔
زیر التواء مقدمات کے لیے ریٹائر ججوں کو ایک سال کے لیے دوبارہ بھرتی کر لیا جائے‘ ہر جج کے حوالے پانچ سو سے ہزار مقدمے کر دیے جائیں اور اسے پابند کیا جائے یہ ایک سال میں یہ سارے مقدمات نبٹا دے گا‘ ججز نہ ملیں تو وکلاء کی مدد لی جائے‘ جیلوں میں کورٹ روم بنائے جائیں‘ یہ لوگ دن رات کام کریں اور حکومت کی چھوٹے مقدمات سے جان چھڑا دیں‘ حکومت بھی جو سزا معاف کر سکتی ہے‘ یہ معاف کردے تا کہ جیلیں صاف ہو سکیں‘ چوری‘ ڈکیتی‘ فراڈ‘ قتل اور زنا کے مجرموں سے مقدمے اور جیل کے اخراجات بھی وصول کیے جائیں‘ یہ کتنی زیادتی ہے جرم مجرم کرتا ہے مگر اس کے مقدمے اور جیل میں رہائش اور خوراک کے اخراجات حکومت اور ٹیکس پیئر ادا کرتے ہیں‘ یہ اخراجات بھی مجرم کو ادا کرنے چاہئیں‘ یہ اگر ادا نہیں کر سکتا تو حکومت اس سے مزدوری یا مشقت لے اور اس سے اخراجات پورے کرے اور تین‘ جیلوں کے اردگرد موجود آبادیاں فوراً ختم کر دی جائیں‘ جیل کے ایک کلومیٹر کے دائرے میں کوئی عمارت‘ کوئی دیوار اور کوئی درخت نہیں ہونا چاہیے تا کہ ہنگامی صورتحال میں پولیس یا فوج کے لیے آپریشن ممکن ہو سکے‘ حکومت آباد کاروں کو پلاٹس الاٹ کرے یا گھر بنا کر دے دے مگر یہ آبادیاں فوری طور پر ختم ہونی چاہئیں۔
ہم اب آتے ہیں دہشت گردوں کے حملوں کے حل کی طرف‘ حکومت تمام بڑے شہروں میں فوج‘ رینجرز اور ایف سی کے جوانوں پر مشتمل ’’ ریپڈ ایکشن فورس‘‘ بنا دے‘ یہ فورس ہر وقت تیار رہے اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں چند منٹوں میں ایکٹو ہو جائے‘ ان کوخصوصی اختیارات حاصل ہوں اور یہ ایکشن کے لیے کسی ایک شخص کے حکم کی پابند ہو‘ دو‘ آپ پورے ملک میں جاسوسی کا نیٹ ورک قائم کر دیں‘ یہ نیٹ ورک اضافی خرچ کے بغیر ایک ماہ میں قائم ہو سکتا ہے‘ آپ ملک کے تمام پنشنرز کی مدد لیں‘ آپ ان کو دو‘ دو گھنٹے کے لیے ملازم رکھ لیں اور ان کی پنشن کو تنخواہ ڈکلیئر کر دیں‘ یہ لوگ جہاں رہتے ہیں‘ آپ انھیں اس علاقے کی نگرانی سونپ دیں‘ یہ دائیں بائیں نظر رکھں اور انھیں جوں ہی کوئی مشکوک شخص نظر آئے یہ فوراً حکومت کو اطلاع دے دیں اور ہمارے ادارے الرٹ ہو جائیں‘ آپ اس طریقے سے فوری طور پر پورے ملک میں جاسوسی کا نیٹ ورک بنا سکتے ہیں اور اس نیٹ ورک میں ایک کروڑ لوگ شامل ہوں گے۔ہم خانہ جنگی کا شکار ہیں‘ اس خانہ جنگی کا جو عموماً انقلاب کے دوران ہوتی ہے‘آپ دنیا کے تمام انقلابات اور خانہ جنگیوں کا مطالعہ کریں‘ آپ کو معلوم ہو گا جیلیں صرف انقلاب یا انارکی میں ٹوٹتی ہیںاور ہمارے ملک میں آج جیلیں ٹوٹ رہی ہیں‘ اس کا کیا مطلب ہے؟ اس کا مطلب ہے ہم انارکی کا شکار ہو چکے ہیں اور ایک جوہری ملک میں انارکی کا کیا نتیجہ نکل سکتا ہے؟ کیا آپ اس سے واقف ہیں‘ نہیں واقف تو جاننا شروع کر دیں کیونکہ یہ وقت کی آواز ہے اور وقت کی آواز نہ سننے والوں کو وقت خارج کر دیتا ہے۔
بے اصولی کے سر پر اصولوں کی پگڑی
جاوید چوہدری پير 29 جولائ 2013
یہ 26 جولائی 2013ء کا معجزہ تھا‘ پاکستان مسلم لیگ ن کا وفد ایم کیو ایم کے ہیڈ کوارٹر نائین زیرو پہنچا‘ وفد میں پاکستان مسلم لیگ ن کے صدارتی امیدوار ممنون حسین‘ وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر اسحاق ڈار اور وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر پرویز رشید شامل تھے‘ اس وفد کا نائین زیرو پہنچنا اور ایم کیو ایم کے جید رہنماؤں ڈاکٹر فاروق ستار‘سینیٹر بابرخان غوری‘ حیدر عباس رضوی اور ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کی طرف سے وفد کا استقبال قوم کے لیے حیران کن واقعہ تھا کیونکہ قوم کو 12 مئی 2013ء کی شام الطاف حسین کے وہ الفاظ یاد ہیں جن کے ذریعے انھوں نے میاں نواز شریف کو پیغام دیا تھا ’’ کراچی کا مینڈیٹ پسند نہیں تو اسے پاکستان سے الگ کیوں نہیں کر دیتے‘‘
قوم کو 29 دسمبر 2010ء کی وہ شام بھی یاد تھی جب وسیم اختر اور حیدر عباس رضوی نے پارلیمنٹ کے سامنے میاں نواز شریف‘ میاں شہباز شریف اور چوہدری نثار علی کے بارے میں جن بے باک خیالات کا اظہار کیا تھا اور پوری قوم نے یہ اظہار ٹیلی ویژن چینلز کے ذریعے براہ راست سنا تھا‘ آپ ان دونوں واقعات کو فراموش بھی کر دیں تو بھی آپ 7 جولائی 2007ء کو لندن میں ہونے والی اے پی سی نہیں بھول سکتے‘ میں خود اس اے پی سی میں شریک تھا اور میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا اور کانوں سے سنا تھا‘ میاں نواز شریف نے تمام شرکاء کو قائل کیا ہم میں کوئی پارٹی مستقبل میں ایم کیو ایم سے اتحاد نہیں کرے گی‘
پاکستان پیپلز پارٹی نے اس تجویز کی مخالفت کی‘ جہانگیر بدر‘ مخدوم امین فہیم اور ڈاکٹر صفدر عباسی نے اس تجویز کو غیر سیاسی قرار دیا مگر میاں نواز شریف نے اس پر اصرار کیا‘ یہ تجویز منظور ہوئی اور اس پر میاں نواز شریف اور میاں شہباز شریف سمیت تمام شرکاء نے دل کھول کر تالیاں بجائیں‘ آپ یہ بھی فراموش کر دیں تو بھی آپ اس حقیقت کو کیسے بھلائیں گے جس کا اظہار 26 جولائی کی شام الطاف حسین نے سید ممنون حسین کے لیے ووٹ مانگنے کے لیے آنے والے وفد سے کیا تھا‘ الطاف حسین نے وفد سے ٹیلی فونک خطاب کیا اور فرمایا ’’ ہم کبھی کسی کے پاس چل کر نہیں گئے‘ جس کو ہماری ضرورت پڑتی ہے وہ خود چل کر ہمارے پاس آتا ہے‘ آصف علی زرداری اور پیپلز پارٹی ہمارے پاس چل کر آئی اور اب پاکستان مسلم لیگ ن کی قیادت نائین زیرو آئی‘ شکر ہے ہمیں کسی کے پاس نہیں جانا پڑا‘‘ الطاف حسین کی یہ بات سو فیصد درست تھی اور آپ اس حقیقت سے اب کیسے منہ موڑیں گے؟۔
میں نے26 جولائی کی شام جوں ہی اسحاق ڈار‘ پرویز رشید اور ممنون حسین کو نائین زیرو پہنچتے دیکھا‘ میں نے اٹھ کر فوراً ایم کیو ایم اور صدر آصف علی زرداری کو سیلوٹ کیا‘ مجھے پہلی مرتبہ آصف علی زرداری اور الطاف حسین سو فیصد سچے دکھائی دیے‘ آصف علی زرداری بھی یہی کہتے تھے‘ ایم کیو ایم سیاسی حقیقت ہے اور ہم جب تک اس حقیقت کے لیے مفاہمت کے دروازے نہیں کھولیں گے‘ ہم اس وقت تک ملک میں جمہوریت اور کراچی میں امن قائم نہیں کر سکیں گے‘ مجھے چوہدری شجاعت حسین‘ شوکت عزیز اور جنرل پرویز مشرف بھی سچے محسوس ہوئے‘ یہ بھی کہتے تھے کراچی ایم کیو ایم کا ہے اور ہم ایم کیو ایم کی اجازت کے بغیر کراچی میں قدم رکھ سکتے ہیں اور نہ ہی وفاق میں حکومت چلا سکتے ہیں.
جنرل پرویز مشرف نے 12 مئی 2007ء کو اسلام آباد میں مکے لہرا کر ایم کیو ایم کو یہ ٹریبیوٹ پیش کیا تھا ’’ عوامی طاقت کا مظاہرہ دیکھنا ہے تو کراچی میں دیکھیں‘‘ شوکت عزیز بھی ایم کیو ایم کی سیاسی حقیقت اور چوہدری شجاعت حسین بھی الطاف بھائی کے سیاسی تدبر سے واقف تھے چنانچہ یہ بھی نائین زیرو جاتے اور الطاف حسین کا ٹیلی فونک خطاب سنتے رہے‘ آصف علی زرداری‘ شوکت عزیز اور چوہدری شجاعت حسین لندن میں بھی الطاف بھائی سے ملاقات کر چکے ہیں اور یہ ان کی حلیم سے بھی مستفید ہو چکے ہیں‘
قوم کو رحمن ملک‘ وزیراعظم یوسف رضا گیلانی اور وزیراعظم راجہ پرویز اشرف بھی سچے نظر آتے ہیں کیونکہ یہ بھی ایم کیو ایم کی مددلیتے تھے اور اس مدد کے عوض ایم کیو ایم کا ہر مطالبہ مان لیتے تھے اور اس مطالبے میں ڈاکٹر ذوالفقار مرزا کی قربانی بھی شامل تھی اور قوم کو وہ الطاف حسین بھی سو فیصد سچے نظر آتے ہیں جنھیں 2008ء کی مفاہمت کے بعد یہ کہہ کر کراچی تک محدود کر دیا گیا تھا پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ ن کبھی ایم کیو ایم کو حکومت میں شامل نہیں کرے گی لیکن پھر 2 اپریل 2008ء کو صدر آصف علی زرداری نائین زیرو جانے اور وہاں کھڑے ہو کر یہ اعلان کرنے پر مجبور ہو گئے ’’ایم کیو ایم سے مل کر پاکستان بچائیں گے‘‘ اور آج پاکستان مسلم لیگ ن بھی اپنی وہ پھنکی ہوئی گاجر کھانے پر مجبور ہو گئی جس کے بارے میں اس کا کہنا تھا ہم سیاست چھوڑ دیں گے لیکن ایم کیو ایم کی طرف ہاتھ نہیں بڑھائیں گے مگر صرف ایک مجبوری نہ صرف انھیں نائین زیرو لے گئی بلکہ انھیں یہ طعنہ بھی سننے پر مجبور کر دیا ’’ہم کبھی کسی کے پاس چل کر نہںب گئے‘ جس کو ہماری ضرورت پڑتی ہے وہ خود چل کر ہمارے پاس آتا ہے‘‘ اور ان لوگوں کے پاس بے بسی سے ایک دوسرے کی طرف دیکھنے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا‘ آپ نے اگر یہ سب کچھ ہی کرنا تھا تو پھر پاکستان پیپلز پارٹی اور صدر آصف علی زرداری میں کیا کمی‘ کیا خرابی تھی‘ وہ بھی ڈالر کنٹرول نہیں کر پا رہے تھے‘
ان کے دور میں ڈالر ساٹھ سے سو روپے ہو گیا اور آپ کی شاندار معاشی پالیسیوں کے نتیجے میں بھی ڈالر اوپر چڑھ رہا ہے‘ وہ بھی قرض لے کر ملک چلا رہے تھے اور آپ بھی آئی ایم ایف کے بیل آؤٹ پیکیج پر تالیاں بجا رہے ہیں‘ وہ بھی لوڈ شیڈنگ ختم کرنے کے اعلان کر رہے تھے‘ آپ بھی اعلانات سے کام چلا رہے ہیں‘ ان پر بھی کرپشن کے الزامات تھے اور آپ نے بھی ایک ہی ماہ میں بارہ سو سی سی ہائی برڈ گاڑیوں‘ نندی پور پاور پلانٹ اور 480 ارب روپے کے سرکلر ڈیٹ میں کرپشن کے الزامات جھولی میں ڈال لیے‘ ان کے دور میں اقبال زیڈ احمد جیسے لوگوں کا نام گونجتا تھا اور آج ہر طرف میاں منشاء‘ میاں منشاء ہو رہی ہے‘ ان کے دور میں بھی ڈرون حملے ہوتے تھے‘ پاکستان دہشت گردی کی لپیٹ میں تھا‘ بیڈ گورننس انتہا کو چھو رہی تھی‘ لاء اینڈ آرڈر ریاست کی مٹھی سے کھسک رہا تھا اور سرکاری سسٹم اپنی بنیادوں پر بیٹھ رہا تھا اور آج بھی یہی ہو رہا ہے‘ آپ پچھلے دو ماہ کے بم دھماکوں‘ خود کش حملوں‘ اغواء برائے تاوان کی وارداتوں‘ چوریوں اور ڈکیتیوں کا ڈیٹا نکال کر دیکھ لیں آپ کو صدر آصف علی زرداری اور میاں نواز شریف کے دور میں زیادہ فرق دکھائی نہیں دے گا‘ بیانات اور اعلانات کی زبان تک ایک ہے‘ وہ بھی مفاہمت کی گود ہری ہونے کا انتظار کر رہے تھے اور یہ بھی اب ’’ ہم سب کو ساتھ لے کر چلنا چاہتے ہیں‘‘ کے اصول سے اولاد نرینہ کے طلب گار ہیں‘ وہ بھی خوشحالی اور امن کے چاند جیب میں رکھ کر پھر رہے تھے اور یہ بھی وعدوں کے ستارے گرہ میں باندھ کر اچھل کود کر رہے ہیں اور قوم کو یوں محسوس ہوتا ہے صرف نام بدلے ہیں مقدرنہیں‘
کل تک اصل اقتدار ایوان صدر میں تھا اور وزراء اعظم‘ وفاقی کابینہ‘ گورنرز اور تین صوبوں کے وزراء اعلیٰ اس اقتدار کی کٹھ پتلیاں اور آج اصل اقتدار وزیراعظم ہاؤس میں بیٹھا ہے اور صدر‘ وفاقی کابینہ‘ گورنرز اور دو وزراء اعلیٰ اس اقتدار کے ’’ اے ڈی سی‘‘ بن چکے ہیں‘آپ کو یاد ہو گا پچھلے سال جون جولائی میں لوڈ شیڈنگ ہوتی تھی تو وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف جلوس نکال دیتے تھے‘ یہ مینارپاکستان پر خیمہ لگا کر بیٹھ جاتے تھے اور اپنے تمام وزراء اور سیکریٹریوں کے ہاتھوں میں کھجور کے پنکھے دے دیتے تھے‘ یہ راجہ پرویز اشرف کو راجہ رینٹل کہتے تھے اور صدر آصف علی زرداری کو گوالمنڈی چوک میں الٹا لٹکانے کا اعلان کرتے تھے لیکن آج لوڈ شیڈنگ ہوتی ہے تو میاں شہباز شریف بھی راجہ پرویز اشرف کی ایجاد کردہ تسلیاں قوم کے سامنے رکھ دیتے ہیں‘ کیا یہ وہ تبدیلی تھی جس کے بارے میں میاں نواز شریف نے فرمایا تھا ’’ آپ نے غلط ووٹ دیے تو ملک بیس سال پیچھے چلا جائے گا‘‘ میاں صاحب ملک واقعی بیس سال پیچھے جا چکا ہے کیونکہ آپ نے 20 سال قبل ملک کو نائین زیرو پر چھوڑا تھا اور آج اسے دوبارہ اسی نائین زیرو پر کھڑا کر دیا ہے‘آپ قوم کو وہیں لے آئے ہیں جہاں سے آپ نے اپنی اصولی سیاست شروع کی تھی‘ آپ کو بہت بہت مبارک ہو۔
الطاف حسین نے 26 جولائی کی شام پاکستان مسلم لیگ ن کے وفد سے ماضی کی گستاخیوں پر معذرت بھی کی‘ الطاف حسین نے 29 دسمبر 2010ء کے اس واقعے کا حوالہ دیا جس میں حیدر عباس رضوی اور وسیم اختر نے میاں صاحبان کی شان میں گستاخی کی ‘ الطاف حسین نے اس واقعے پر معذرت کی اور ماضی کی تلخیاں بھلانے کی درخواست کی‘ میں بھی اس کالم کے ذریعے الطاف حسین اور ایم کیو ایم سے میڈیا کی غلطیوں پر معذرت کرنا چاہتا ہوں‘ہم لوگ بلاوجہ اصولوں کی گٹھڑی سر پر اٹھا کر پھر رہے تھے‘ ہمیں دراصل ان سیاستدانوں نے گمراہ کر رکھا تھا‘ ہم چوہدری شجاعت حسین سے لے کر میاں نواز شریف تک ہر اس لیڈر کی بات کو درست سمجھ بیٹھے تھے جو ایم کیو ایم کو کراچی کا اصل مسئلہ قرار دیتے تھے اور یہ اعلان کرتے تھے ہم مر جائیں گے لیکن ان سے ہاتھ نہیں ملائیں گے‘
ہم لوگ ان کی باتوں میں آ گئے‘ مجھے آج ماضی کے اس رویے پر شرمندگی ہے چنانچہ میں اپنی اصلاح کر رہا ہوں‘ میں بھی آج سے ایم کیو ایم کو ساںسی قوت تسلیم کرتا ہوں اور الطاف بھائی اور ان کے کارکنوں سے معذرت کرتا ہوں‘ میں آیندہ احتیاط کروں گا اور مجھے اس احتیاط کے بدلے ایم کیو ایم کے ووٹ بھی درکار نہیں ہیں کیونکہ انسان نے اگر سمجھوتہ ہی کرنا ہے تو پھر اسے دلیری دکھانی چاہیے‘ اتنی دلیری جتنی آصف علی زرداری پانچ سال اور چوہدری شجاعت دس سال سے دکھا رہے ہیں‘ انسان کو میاں نواز شریف کی طرح بے اصولی کے سر پر اصولوں کی پگڑی نہیں باندھنی چاہیے‘ اسے اقدار کی سیاست‘ اقدار کی سیاست کا ڈھنڈورا نہیں پیٹنا چاہیے۔
کونسل آف ایلڈرز
جاوید چوہدری ہفتہ 27 جولائ 2013
شیخ حفیظ صاحب میرے بزرگ دوست ہیں‘ یہ زندگی کی 76 بہاریں دیکھ چکے ہیں‘ شیخ صاحب نے بھرپور زندگی گزاری‘ جوانی میں یورپ گئے اور پورا یورپ ٹرینوں‘ بسوں اور پیروں پر دیکھ ڈالا‘ برطانیہ میں تعلیم حاصل کرنے کی کوشش کی‘ ناکام رہے‘ پاکستان واپس آئے‘ مختلف جابز کیں‘ ان سے تھک گئے تو بینک میں ملازمت کر لی‘ یہ ان کی آخری ملازمت تھی‘ یہ پوری زندگی کے لیے بینکر بن کر رہ گئے‘ یہ 1997ء میں ایک بڑے بینک سے سینئر نائب صدر کے عہدے سے ریٹائر ہوئے اور16 برسوں سے ریٹائر زندگی گزار رہے ہیں‘ یہ جوانی میں رمل کے شوق میں بھی مبتلا ہو گئے‘ رمل کا علم سیکھا اور مہارت حاصل کر لی‘ یہ کتابیں پڑھنے کے بھی شیدائی ہیں‘ یہ ہومیو پیتھک ڈاکٹر بھی ہیں اور یہ برسوں سے شوگر کی دوا بنانے میں بھی مصروف ہیں غرض آپ جس زاویے سے دیکھیں آپ شیخ صاحب کو ایک دلچسپ اور شاندار انسان پائیں گے۔
میری ان سے پہلی ملاقات 1999ء میں ہوئی‘ میں اس وقت تازہ تازہ ’’مشہور‘‘ ہوا تھا اور یہ ’’مشہوری‘‘ مجھ سے روزانہ بے شمار غلطیاں کرواتی تھی‘ پھر شیخ صاحب ملے اور انھوں نے میری نکیل پکڑ لی‘ یہ زندگی کے ہر معاملے میں میری رہنمائی کرنے لگے‘ ان کا پہلا سبق بہت دلچسپ تھا‘ ان کا کہنا تھا آپ جتنے بھی طاقتور ہو جائیں‘ آپ جتنے بھی کامیاب ہو جائیں‘ آپ وقت کو واپس نہیں پلٹ سکتے مثلاً آپ ساٹھ سال کی عمر میں دنیا کے امیر ترین شخص ہو جائیں اور آپ اپنی ساری دولت خرچ کر دیں تو بھی آپ بیس پچیس سال کے جوان نہیں ہو سکیں گے چنانچہ آپ جوانی کے کام جوانی ہی میں کرو‘ انھیں بڑھاپے کے لیے بچا کر نہ رکھو‘ ان کا کہنا تھا ’’میں دنیا دیکھنا چاہتا تھا‘ میں افریقہ‘ امریکا‘ جنوبی ایشیا اور آسٹریلیا دیکھنا چاہتا تھا مگر میں پھر جاب میں پھنس گیا اور ہمیشہ یہ سوچتا رہا میں جب معاشی لحاظ سے آزاد ہو جاؤں گا تو میں اپنی یہ خواہش پوری کروں گا‘ میں پچاس پچپن سال کی عمر میں خوش حال ہوگیا مگر اس وقت تک میرا جسم بوڑھا بن چکا تھا‘ میں شوگر کا مریض ہو چکا تھا۔
مجھے بلڈ پریشر کی بیماری بھی لگ چکی تھی لہٰذا میں ’’افورڈ‘‘ کرنے کے باوجود ملک سے باہر نہیں جا سکتا تھا‘ زندگی کے ہر شوق کی ایک عمر ہوتی ہے‘ اگر یہ عمر گزر جائے تو پھر آپ ’’افورڈ‘‘ کرنے کے باوجود وہ شوق پورا نہیں کر سکتے ‘ میرا مشورہ ہے آج کے دن میں زندہ رہنا سیکھو کیونکہ کل آ جائے گا لیکن آج دوبارہ نہیں آئے گا‘‘ اور میں نے یہ سیکھ لیا‘ میں نے اپنے شوق کی فہرست بنائی‘ ان کے سامنے عمر کے وہ حصے لکھے جن میں یہ ممکن ہیں اور پھر ان کی تکمیل میں جت گیا‘ اس فہرست میں سفر‘ جاگنگ‘ ایکسرسائز‘ریستوران‘ جینز‘ فلمیں‘دنیا بھر کے کامیاب لوگوں سے ملاقاتیں اور کتابیں شامل ہیں‘ ان کا دوسرا سبق ’’واک‘‘ تھا‘ میں لیٹ سوتا ہوں چنانچہ صبح نہیں اٹھ سکتالہٰذا میں واک کی روٹین نہیں بنا پاتا تھا‘ شیخ صاحب نے یہ ’’متھ‘‘ توڑ دی‘ انھوں نے بتایا‘ واک کا کوئی وقت اور کوئی جگہ نہیں ہوتی‘ آپ گاڑی میں جوگر رکھو اور جہاں موقع ملے‘ جو گرز پہنو اور واک شروع کر دو‘ میں نے یہ شروع کر دیا اور یوں ایک مہینے میں واک میری زندگی کا معمول بن گئی۔
شیخ حفیظ نے بتایا‘ فیملی سپریم ہوتی ہے‘ ان کا کہنا تھا ’’میرے تمام عزیز ایک ایک کر کے میری زندگی سے نکل گئے‘ دوست ساتھ چھوڑ گئے یا دور چلے گئے‘ میں اس جاب سے ریٹائر ہو گیا جس کے لیے میں نے خون‘ پسینہ اور زندگی کے قیمتی ترین دن اور رات دیے تھے‘ یوں میری زندگی سے ہر وہ چیز رخصت ہو گئی جس کو میں اہم سمجھتا تھا اور آخر میں صرف فیملی رہ گئی‘ میرے ساتھ اب صرف میرے بچے ہیں چنانچہ جس چیز نے آخری سانس تک آپ کا ساتھ نبھانا ہے اس پر کسی قسم کا ’’کمپرومائز‘‘ نہیں ہونا چاہیے‘ اسے سپریم رہنا چاہیے‘‘ میں نے یہ بات بھی پلے باندھ لی‘ میں فیملی پر کمپرومائز نہیں کرتا‘ شیخ صاحب نے سکھایا ’’ وعدہ نہیں توڑنا‘ اگر ایک بار کمٹمنٹ کر لی تو پھر اسے ٹوٹنا نہیں چاہیے اور آپ کی اس عادت کا پوری دنیا کو علم ہونا چاہیے‘ دوست بہت کم ہونے چاہئیں لیکن شاندار ہونے چاہئیں‘ اللہ تعالیٰ کو ہر وقت راضی رکھیں کیونکہ اگر وہ آپ کے ساتھ ہے تو پھر کوئی فرق نہیں پڑتا کون کون آپ کے خلاف ہے۔
بچت کو آپ کے اخراجات سے زیادہ نہیں ہونا چاہیے‘آپ 75 فیصد خرچ کریں صرف 25 فیصد بچائیں کیونکہ آپ اپنی خواہشوں اور حسرتوں کو دبا کر بچت کرتے ہیں اور یہ بچت کسی بھی وقت ضایع ہو سکتی ہے‘ لوگوں سے توقعات وابستہ نہ کریں‘ ان پر اعتبار کرنے سے پہلے کم از کم تین بار انھیں ٹیسٹ کر لیں‘ آپ اپنے راستے پر سیدھا چلتے رہیں‘ یہ نہ دیکھیں آپ کو کون کیا کہہ رہا ہے‘ کون آپ کے راستے میں روڑے اٹکا رہا ہے‘آپ کسی الزام کا جواب نہ دیں کیونکہ جو لوگ آپ کو جانتے ہیں ان کی نظر میں ان الزامات کی کوئی حیثیت نہیں اور جو آپ سے واقف نہیں ہیں وہ آپ کی وضاحت کو اعتراف جرم یا دال میں کالا سمجھیں گے‘‘ شیخ صاحب نے سمجھایا‘بے غرض ہو جائو‘ لوگوں کی محتاجی سے نکل جائو گے اور انسان کا کام انسان کی سب سے بڑی پبلک ریلیشننگ ہوتا ہے‘‘ شیخ صاحب نام نہاد روحانیت کے بھی سخت خلاف ہیں‘ میں ایک وقت میں بزرگوں کی تلاش میں رہتا تھا‘ مجھے جس شخص کے سر میں راکھ نظر آتی تھی‘ میں اس میں پیر کامل تلاش کرنا شروع کر دیتا تھا۔
شیخ صاحب نے یہ ’’ متھ‘‘ بھی توڑ دی‘ یہ میرے ساتھ بزرگوں کی محفلوں میں جاتے اور انھوں نے ایک ایک کر کے تمام بزرگ بھگا دیے‘ انھوں نے ثابت کر دیا آسمان کے نیچے اور زمین کے اوپر تمام انسان‘ انسان ہیں اور ہم میں سے ہر شخص خطا‘ طمع اور خوف کا پتلا ہے‘ انھوں نے سمجھایا محنت سے بڑا محسن‘ نیک نیتی سے بڑا استاد اور مہارت سے بڑی کوئی جاب نہیں ہوتی‘ شیخ صاحب نے مزید دو دلچسپ چیزیں سکھائیں‘ انھوں نے بتایا‘ دوستیاں ہمیشہ اس وقت خراب ہوتی ہیں جب کوئی دوست آپ سے اپنا راز شیئر کرتا ہے اور آپ اس راز کے استعمال کی غلطی کر بھتےت ہیں‘ یہ مثال دیتے ہیں‘ فرض کرو آپ کا کوئی دوست آپ کو یہ بتا دیتا ہے‘ اس کے پاس اتنی رقم ہے اور آپ بعد ازاں اس سے ادھار مانگ لیتے ہیں‘ ادھار کا یہ مطالبہ آپ کا تعلق ہمیشہ کے لیے خراب کر دے گا‘ آپ کا دوست جب کوئی راز شیئر کرے تو آپ اس سے کبھی کوئی مطالبہ نہ کرو کیونکہ یہ مطالبہ بددیانتی ہو گا۔
انھوں نے دوسری بات سمجھائی آپ اپنے کسی عزیز‘ دوست یا کولیگ کے ساتھ کتنے ہی ناراض ہوں لیکن وہ شخص جب کسی ایمرجنسی میں آپ کو فون کرے تو آپ اپنی ناراضی کا اظہار نہ کریں‘ آپ فوری طور پر اس کی مدد کریں اور کام ہونے کے بعد وہ اگر شکریہ ادا کرنے آئے تو آپ ہلکے پھلکے انداز میں اسے سمجھا دیں تم نے فلاں وقت میرے ساتھ بڑی زیادتی کی تھی‘ میں تم سے ناراض تھا مگر مجھ سے تمہاری تکلیف دیکھی نہیں گئی اور میں اختلاف اور ناراضی کے باوجود تمہارے ساتھ چل پڑا‘ شیخ صاحب نے سمجھایا آپ کبھی دل کے کمزور یا بے حوصلہ شخص کے لیے اسٹینڈ نہ لیں کیونکہ وہ شخص اپنے دعوے سے منحرف ہو جائے گا‘ وہ مخالف پارٹی سے صلح کر لے گا مگر آپ لوگوں سے اپنے تعلقات خراب کر بیٹھو گے‘آپ ہمیشہ ایسے بہادر اور بااصول لوگوں کے ساتھ کھڑے ہوں جو اپنے اسٹینڈسے پیچھے نہ ہٹیں ٗجو آپ کو میدان میں اکیلا نہ چھوڑجائیں‘ انھوں نے سمجھایا‘ عزت اوردولت میں جب بھی کسی ایک کے انتخاب کا وقت آئے تو دولت کی قربانی دو کیونکہ دولت زندگی میں باربارآتی ہے مگر عزت ایک بارچلی جائے توپھرکبھی واپس نہیں آتی‘ ان کا کہنا تھا کہ اپنے بچوں بالخصوص بیٹیوں کی تمام جائز ضروریات پوری کیاکرو‘ ان کا کوئی مطالبہ یاتقاضا مسترد نہ کرو کیونکہ بچے والدین کی محبت کو پوری زندگی یاد رکھتے ہیں۔
شیخ صاحب میرے عملی استاد ہیں ‘ یہ تجربہ کار بھی ہیں‘ عالم بھی اور اس سے کہیں زیادہ نکو نیت بھی لہٰذا میں جب بھی کسی مسئلے کا شکار ہوتاہوں یا کسی کنفیوژن میں پھنس جاتا ہوں یا کوئی فیصلہ نہیں کر پاتا تو میں شیخ صاحب سے رابطہ کرتا ہوں اور اونچی آواز میں کہتا ہوں ’’بابا جی گیدڑ آ گئے ہیں‘‘ اور شیخ صاحب کا قہقہہ نکل جاتاہے‘ گیدڑ شیخ صاحب کی ایک دلچسپ اصطلاح ہے‘ یہ کہا کرتے ہیںوسوسے اور اندیشے گیدڑ ہیں‘ یہ انسان کو اکثر گھیر لیتے ہیں اورآپ اگر ان پر قابو پانا سیکھ جائیں تو آپ مسائل کے گرداب سے نکل آتے ہیں آپ اگر یہ فن نہیں سیکھتے توگیدڑ آپ کی صلاحیتیں کھا جاتے ہیں‘ میں ان کے قہقہے کے بعد اپنا مسئلہ ان کے سامنے رکھتا ہوں اور وہ اس کے دو حل تجویز کرتے ہیں‘ ایک حل علمی ہوتاہے‘ یہ پڑھی لکھی رائے ہوتی ہے اوردوسرا حل تجربہ ہوتا ہے‘ شیخ صاحب مجھے بتاتے ہیں‘ وہ زندگی کے کس حصے میں اس قسم کے مسئلے کا شکارہوئے تھے‘ انھوں نے غلط فیصلہ کیا تھا اور اس کا انھیں کیا خمیازہ بھگتنا پڑا تھا‘ وہ اپنے کسی نہ کسی جاننے والے یا دوست کا حوالہ بھی دیتے ہیں اور یوں ہم حل پر پہنچ جاتے ہیں‘ میں اکثر اپنے دوستوں یا جاننے والوں کوبتاتاہوں‘ میری عمرہزار سال ہے‘میں بیالیس سال کا ہوں‘ میرا استاد 76 سال کا اور ہماری کتابیں880 سال کی ہیں اور یہ ہزار سال کا تجربہ مجھے راستے سے بھٹکنے نہیں دیتا۔
یہ میری زندگی کا تجربہ ہے‘ ہمارے دوست اورہمارے سیاستدان بھی اس تجربے سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں‘ آپ کی زندگی میں بھی بے شمار تجربہ کار لوگ موجود ہوں گے‘ آپ ان میں ستر پچھتر سال کے پڑھے لکھے ٗ تجربہ کار ٗ ذہین‘نیک اور بے لوث لوگ چنیں اور آپ انھیں اپنا استاد بنا لیں‘ یہ آپ کو زندگی کے بے شمار مسائل سے بچائے رکھیں گے‘ یہ آپ کوغلط مشیروں‘ غلط لوگوں اور غلط فیصلوں سے بھی محفوظ رکھیں گے آپ اگرحکمران ہیں تو آپ ایک ’’کونسل آف ایلڈرز‘‘ بنا لیں‘ یہ تجربہ کار بزرگوں کی ایک ایسی خفیہ کونسل ہو جو آپ کو مشکل وقت میں مشورے دے‘ آپ ان مشوروں پر عمل کریں اور اپنی ذات اور اپنے ملک دونوں کو مسائل سے نکال لیں‘ عربی کہاوت ہے ’’مشورے کا وقت آئے تو کبھی ذہین شخص سے مشورہ نہ کریں ٗ تجربہ کار کی مدد لیں‘‘۔
ہم عزت نہیں دیں گے
جاوید چوہدری جمعرات 25 جولائ 2013
چوہدری محمد سرور کا تعلق ٹوبہ ٹیک سنگھ کے قصبے پیر محل سے تھا‘ یہ آج سے 35سال قبل بے روزگاری اور غربت کی وجہ سے برطانیہ چلے گئے‘ یہ اسکاٹ لینڈ کے شہر گلاسکو آئے اور مزدوری شروع کر دی‘ یہ ٹرکوں اور بحری جہازوں سے سامان اتارتے تھے‘ یہ محنتی شخص ہیں‘ ان کا فوکس کلیئر تھا چنانچہ ان پر ترقی کے دروازے کھل گئے‘ یہ کیش اینڈ کیری کے مالک بن گئے‘ یہ اس وقت اسکاٹ لینڈ اور برطانیہ کے خوش حال شہریوں میں بھی شمار ہوتے ہیں‘ یہ 1990ء کے دہائی میں سیاست میں داخل ہوئے‘ لیبر پارٹی جوائن کی‘ 1997ء میں پہلی بار گلاسکو کے علاقے گوان سے ہائوس آف کامنز کے رکن بنے اور اس کے بعد 2001ء اور2005ء میں دوسری اور تیسری بار ایم پی منتخب ہوگئے.
ان کا حلقہ خالصتاً گوروں پر مشتمل ہے‘ ان کے نوے فیصد ووٹروں کا تعلق گوری قوم سے ہے لیکن یہ لوگ 12 برسوں تک ایک ایشیائی باشندے کو ووٹ دیتے رہے ‘ یہ چوہدری سرور کی کامیابی کی دلیل تھی‘ چوہدری سرور نے برطانیہ شفٹ ہونے کے بعد پاکستان سے رابطہ رکھا‘ یہ اپنے آبائی علاقے میں فلاح و بہبود کے بے شمار منصوبے چلا رہے ہیں‘ یہ پاکستان کی تقریباً تمام حکومتوں کے ساتھ بھی رابطے میں رہے‘ یہ میاں نواز شریف کے مشیر بھی تھے‘ محترمہ بے نظیر بھٹو سے بھی ان کا رابطہ تھا‘ یہ جنرل پرویز مشرف کے ساتھ بھی ملتے رہے اور ان کا چوہدری صاحبان سے بھی تعلق تھا‘ یہ ان تمام سیاستدانوں اور حکومتوں کو مشورے بھی دیتے رہے اور ان کی مدد بھی کرتے رہے‘ یہ تواتر کے ساتھ پاکستان آتے تھے اور اکثر اوقات اپنے ساتھ برطانوی ارکان پارلیمنٹ بھی لاتے تھے‘ میری ان سے صرف دو ملاقاتیں ہوئیں‘ میں 1999ء میں اسکاٹ لینڈ گیا اور گلاسکو میں ان کے دفتر میں ان سے ملاقات کی.
ان سے دوسری ملاقات 2007ء میں برطانوی پارلیمنٹ میں ہوئی ‘ اس کے بعد ان سے رابطہ ٹوٹ گیا‘ آج کل اخبارات میں خبریں آ رہی ہیں میاں نواز شریف نے چوہدری سرور کو گورنر پنجاب بنانے کا فیصلہ کر لیا‘ چوہدری صاحب کو گرین سگنل بھی دے دیا گیا جب کہ چوہدری صاحب نے اس عہدے کے لیے اپنی برطانوی شہریت چھوڑنے کا اعلان بھی کر دیا ‘ میرے چند دوست میاں نواز شریف کے اس فیصلے سے اتفاق نہیں کرتے‘ ان میں جناب عطاء الحق قاسمی صاحب بھی شامل ہیں‘ قاسمی صاحب میرے استاد بھی ہیں اور پیر بھی‘ میں زندگی میں سیکڑوں ہزاروں لوگوں سے ملا ہوں لکنا مجھے ان میں قاسمی صاحب جیسا کوئی دوسرا شخص نہیں ملا‘امیر تیمور اپنے ایک استاد کے بارے میں کہتا تھا‘ مجھ سے اگر میری پوری سلطنت بھی چھن جائے تو بھی میرے لیے یہ کافی ہیں کیونکہ مجھے جتنی خوشی ان کے قرب میں ملتی ہے اتنی یہ ساری سلطنت نہیں دیتی‘ قاسمی صاحب بھی ایک ایسے ہی انسان ہیں‘ آپ اگر ان کے حلقے میں شامل ہیں تو پھر آپ کو خوشی کے لیے کسی دوسرے انسان کی ضرورت نہیں رہتی‘ قاسمی صاحب بھی میاں صاحب کے اس فیصلے سے متفق نہیں ہیں لیکن میں قاسمی صاحب سے تمام تر عقیدت کے باوجود اس فیصلے کو سراہتا ہوں۔
چوہدری سرور جیسے لوگ دوسرے ملکوں کے شہری ہونے کے باوجود دل سے پاکستانی ہیں‘ برطانیہ جیسے ملکوں کی شہریت چھوڑنا‘ وہاں اپنا جما جمایا کاروبار چھوڑ دینا اور برطانیہ جیسے ملکوں کی سیاست چھوڑ کر ایک ایسے ملک میں آ جانا جس میں آپ کو جوانی میں روزگار‘ عزت اور ترقی کے مواقع نہ ملے ہوں اور جس میں ہر شخص آپ کی واپسی کو مشکوک نظروں سے بھی دیکھتا ہو اور آپ کو غیر ملکی ایجنٹ قرار دینے کے بہانے بھی تلاش کرتا ہو اور جس میں آپ کے اپنے بھائی آپ کو تسلیم نہ کرتے ہوں‘ کتنا مشکل فیصلہ ہے‘ یہ اندازہ صرف وہی لگا سکتا ہے جو اس عمل سے گزر رہا ہو‘ چوہدری سرور جیسے لوگ حقیقتاً قابل عزت ہیں کیونکہ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے محنت کر کے ان معاشروں میں اپنا مقام بنایا جن میں آج بھی ایشیائی باشندوں کو دل سے قبول نہیں کیا جاتا‘ جن میں لوگ آپ کو آپ کے منہ پر پاکی یا بلیکی کہتے ہیں‘ یہ لوگ اس لےو بھی قابل عزت ہیں کہ یہ محنت اور ایمانداری سے اوپر آئے اور انھوں نے کامیابی کے بعد بھی اپنے علاقے‘ رشتے داروں‘ دوستوں اور ملک کو یاد رکھا‘ یہ لوگ اس لیے بھی قابل عزت ہیں کہ یہ محنت جدید ترین ملکوں میں کرتے ہیں۔
روپیہ پیسہ وہاں کماتے ہیں مگر اپنی رقم کا ایک بڑا حصہ اپنے ملک بھجواتے ہیں‘ آج بھی ہمارے زرمبادلہ کا بڑا حصہ تارکین وطن کی رقوم ہیں‘ یہ لوگ اگر آج یہ رقم بھجوانا بند کر دیں تو ہماری مالی مشکلات میں اضافہ ہو جائے اور یہ لوگ اس لیے بھی قابل عزت ہیں کہ یہ امریکا‘ برطانیہ‘ فرانس اور جرمنی جیسے ملکوں میں ترقی کی مثال بنے‘ آپ چوہدری سرور کی طرح بیسٹ وے کے مالک سر انور پرویز کی مثال لیں‘ یہ میٹرک پاس ہیں‘ یہ برطانیہ میں بس ڈرائیور بھرتی ہوئے مگر آج یہ برطانیہ کی دوسری بڑی کیش اینڈ کیری کے مالک ہیں‘ یہ پاکستان میں بھی بیسٹ وے سیمنٹ اور یو بی ایل کے مالک ہیں‘ ملکہ برطانیہ نے انھیں سر کا خطاب دیا‘یہ بڑی اچیومنٹ ہے ‘ اس اچیومنٹ کے بعدیہ اگر سائوتھ افریقہ‘ مراکش‘ ملائشیا یا ترکی میں سرمایہ کاری کرتے تو شاید ان کا سرمایہ زیادہ محفوظ رہتا اور یہ منافع بھی زیادہ کماتے مگر یہ پاکستان آئے اور انھوں نے یہاں اربوں ڈالر کی انویسٹمنٹ کی‘ یہ پاکستان میں فائونڈیشن بھی چلا رہے ہیں‘ یہ فائونڈیشن ہزاروں طالب علموں اور بیماروں کے لیے کام کر رہی ہے۔
اب سوال یہ ہے اگر برطانیہ انور پرویز کی کامیابی کو تسلیم کر رہا ہے‘ یہ ان کے لیے شاہی محل کے دروازے بھی کھول دیتا ہے اورسر کا خطاب بھی دیتا ہے تو ہم انھیں عزت کیوں نہیں دیتے‘ ہم انھیں کوئی ایسا عہدہ پیش کیوں نہیں کرتے جس پر بیٹھ کر یہ ملک کی رہنمائی بھی کریںاور ملک کا امیج بھی بہتر بنائیں‘ امریکا کے چوہدری رشید‘ کامران خان اور شاہد خان بھی ایسے ہی پاکستانی ہیں‘ چوہدری رشید شکاگو میں کاروبار کرتے ہیں اور واشنگٹن میں رہتے ہیں‘ کامران خان بھی کاروباری شخصیت ہیں جب کہ شاہد خان فوربس کی فہرست میں شامل ہونے والے پہلے امریکی پاکستانی ہیں‘ چوہدری رشید اور کامران خان امریکا کے سابق صدر بل کلنٹن کے ذاتی دوست بھی ہیں اور یہ بل کلنٹن کو2000ء میں اس وقت پاکستان لائے جب امریکی صدر نے ملٹری ڈکٹیٹر جنرل پرویز مشرف کی موجودگی میں پاکستان آنے سے انکار کر دیا تھا اور یہ بھارت سے واپس جا رہا تھا مگر یہ لوگ بل کلنٹن کو پاکستان لے کر آئے اور امریکی صدر نے پاکستانی قوم سے خطاب کرتے ہوئے اعتراف کیا ’’ میں نے اس وقت جو ٹائی پہن رکھی ہے۔
یہ میرے ان پاکستانی دوستوں نے گفٹ کی تھی‘‘ شاہد خان کی کامیابی نے بھی پوری دنیا کو حیران کر دیا‘ یہ گاڑیوں کے بمپر بنا رہے ہیں اور دنیا کی بڑی کار ساز اورٹرک ساز کمپنیاں ان کی خریدار ہیں‘ یہ اس قدر کامیاب بزنس مین ہیں کہ فوربس جیسے میگزین اور امریکی حکومت ان کی کامیابی کو تسلیم کرنے پر مجبور ہو گئی‘ اگر بین الاقوامی میگزین اور حکومتیں ان لوگوں کو عزت دے رہی ہیں‘ یہ ان کی اچیومنٹس کا اعتراف کر رہی ہیں تو ہم اپنے ان لوگوںکو عزت کیوں نہیں دیتے جو اس ملک میں پیدا ہوئے‘ جو دھکے کھاتے ہوئے دوسری دنیائوں میں گئے اور وہاں ایڑیاں رگڑ رگڑ کر اپنی کامیابی اور ترقی کے چشمے جاری کر دیے۔
آپ برطانیہ سے پیرس چلے جائیں‘ وہاں سے سعودی عرب اور دوبئی نکل جائیں اور وہاں سے جرمنی‘ اسپین‘ اٹلی‘ جاپان اور امریکا چلے جائیں آپ کو چوہدری سرور جیسے درجنوں ایسے پاکستانی ملیں گے جو ہمارے لیے اعزاز ہیں اور ہم ان کے ساتھ کھڑے ہو کر خود کو پاکستانی کہلاتے ہوئے فخر محسوس کر تے ہیں‘ ہم نے کبھی سوچا انور پروز‘ چوہدری سرور‘ کامران خان‘ چوہدری رشید اور شاہد خان جیسے لوگ صرف دوسرے ملکوں میں کیوں ترقی کرتے ہیں‘ یہ پاکستان میں اس بلندی کو کیوں نہیں چھو پاتے؟ اس کی وجہ ہمارے رویئے ہیں‘ ہم لوگ ترقی کرنے والوں کے خلاف ہیں‘ ہم ایک خاص حد سے اوپر اٹھنے والے لوگوں کی ٹانگیں کاٹنا فرض سمجھتے ہیں چنانچہ آپ ملک کی پینسٹھ سال کی تاریخ نکال کر دیکھ لیجیے‘ آپ کو اس ملک میں کوئی شخص دس روپے سے کھرب پتی ہوتا یا دکان سے بزنس ایمپائر کا مالک بنتا نظر نہیں آئے گا‘ پاکستانی سیٹھ بن جاتے ہیں لیکن بزنس ٹائن کون نہیں بن پاتے‘ کیوں؟ کیونکہ آپ جب ذاتی زندگی سے اٹھ کر اس لیول پر پہنچتے ہیں جہاں آپ ملک کو روزگار‘کاروبار کے جدید ٹرینڈز اور نیا شعبہ دے سکتے ہںگ تو پوری حکومتی مشینری اور پورا معاشرہ آپ کے خلاف کھڑا ہو جاتا ہے اور اس کے نتیجے میں چوہدری سرور جیسے لوگوں کا حوصلہ ٹوٹ جاتا ہے اوریہ ریورس گیئر لگا دیتے ہیں‘ آپ اپنے مقابلے میں چین کو دیکھئے چین میں 2006ء میں کوئی ارب پتی نہیں تھالیکن آج وہاں 95 ارب پتی ہیں‘ یہ چینی سسٹم اور معاشرے کی کامیابی ہے۔
چوہدری سرور گورنر شپ کے لیے آئیڈیل ترین امیدوار ہیں اور میں میاں نواز شریف کے اس فیصلہ کو سراہتا ہوں کیونکہ یہ علامتی عہدہ ہے اور اس علامتی عہدے پر چوہدری سرورکی موجودگی سے ملک کی نیک نامی میں بھی اضافہ ہو گا اور تارکین وطن کی حوصلہ افزائی بھی‘ ہمارے گورنر ہائوسز میں ماضی میں ایسے ایسے لوگوں کا قبضہ رہا ہے کہ تاریخ کو بھی ان کا نام لکھتے ہوئے شرم آتی ہے‘ ہم نے ان میں سے کسی شخص کی تعیناتی پر اعتراض نہیں کیا تھا مگر ہمیں چوہدری سرور قابل قبول نہیں‘ کیوں؟کیا چوہدری سرور غلام مصطفی کھر یا لطیف کھوسہ سے چھوٹے انسان ہیں؟ کیا ان کی ذات پر ان لوگوں سے زیادہ داغ ہیں؟ یقیناً نہیں‘ یہ پروفائل میں ان دونوں بلکہ اسی فیصد سابق گورنرز سے زیادہ معتبر ہیں لہٰذا پھر ہم ان پر اعتراض کیوں کر رہے ہیں‘ ہم اس شخص کو عزت کیوں نہیں دینا چاہتے جسے برطانیہ کا سسٹم بیس سال تک عزت دیتا رہا‘ جسے گوروں نے مان لیا؟ کیوں‘ آخر کیوں؟۔

ساکھ بچنی چاہیے
جاوید چوہدری بدھ 24 جولائ 2013
مجھے چنددن قبل ایک صاحب نے امریکا سے فون کیا‘ وہ بہت گھبرائے ہوئے تھے‘ میں نے وجہ پوچھی تو انھوں نے بتایا ’’میں امریکا میں کام کرتا ہوں‘ میری فیملی پاکستان میں رہتی ہے‘ میں نے ڈی ایچ اے اسلام آباد میں ایک کمرشل پلاٹ خریدا‘ میری خواہش تھی میں ریٹائرمنٹ کے بعد پاکستان واپس آ جاؤں‘ کمرشل پلاٹ پر پلازہ بنائوں‘ یہ پلازہ کرائے پر دے دوں اور اس کے بعد اطمینان سے زندگی گزار لوں‘‘ وہ سانس لینے کے لیے رکے‘ ان کی آواز میں گھبراہٹ کے ساتھ ساتھ ڈپریشن بھی تھا‘ وہ بولے ’’ مگر میرا خواب درمیان ہی میں رہ گیا‘ میں پاکستانی میڈیا پر دیکھ رہا ہوں‘ سپریم کورٹ ڈی ایچ اے کے خلاف کارروائی کر رہی ہے‘ اس کے اکائونٹس منجمد ہو چکے ہیں جس کے بعد یوں محسوس ہوتا ہے یہ اتھارٹی ختم ہو جائے گی اور میرے سمیت ہزاروں لاکھوں لوگ برباد ہو جائیں گے‘ میں نے اپنا پلاٹ سیل پر لگا دیا مگر کوئی شخص مراا پلاٹ خریدنے کے لیے تیار نہیں‘ پراپرٹی ڈیلرز کا کہنا ہے ڈی ایچ اے کے ہزاروں پلاٹس مارکیٹ میں آ گئے ہیں مگر کوئی انھیں خریدنے کے لیے رضا مند نہیں‘ مجھے لگتا ہے میری عمر بھر کی کمائی ضایع ہو گئی‘ آپ بتائیے میں کیا کروں‘‘ وہ خاموش ہو گیا۔
میرے پاس اس کے سوال کا کوئی جواب نہیں تھا‘ کاروبار میں ساکھ کی حیثیت وہی ہوتی ہے جو جسم میں سر کی ہوتی ہے‘ سر نہیں تو جسم نہیں‘ کاروباری ادارے‘ کاروباری شخصیات دہائیاں لگا کر تھوڑی تھوڑی ساکھ‘ تھوڑی تھوڑی عزت جمع کرتی ہیں مگر پھر کوئی چھوٹی سی غلطی‘ کوئی چھوٹا سا حادثہ اس ساکھ کو چند لمحوں میں ہوا میں اڑا دیتا ہے‘ آپ دنیا کے کسی سافٹ ڈرنک کا مونو گرام لیں‘ آپ بوتل میں سیاہ رنگ کا پانی بھریں‘ بوتل پر یہ مونو گرام چھاپیں اور یہ بوتل مارکیٹ میں رکھ دیں‘ لوگ اسے چند لمحوں میں خرید لیں گے‘ کیوں؟ کیونکہ کمپنی کا مونو گرام مارکیٹ میں اپنی ساکھ قائم کر چکا ہے‘ لوگوں کو اس مونوگرام پر یقین ہے‘ آپ آج جعلی کاغذات پر بیرون ملک جانے والے لوگوں کی کہانیاں سنیں آپ یہ جان کر حیران رہ جائیں گے ان میں سے اکثر لوگ برطانیہ کا جعلی پاسپورٹ بنا کر یورپ یا امریکا پہنچے اور یہ ممالک ان کو پناہ دینے پر مجبور ہو گئے‘ اس کی وجہ برطانیہ کے پاسپورٹ کی کریڈیبلٹی تھی۔
برطانیہ دنیا کا واحد ملک تھا جس کے سفارت خانے میں جب کوئی جعلی پاسپورٹ تصدیق کے لیے بھجوایا جاتا تھا تو جواب ملتا تھا ہمارا پاسپورٹ جعلی بن ہی نہیں سکتا‘ برطانیہ کا خیال تھا ہم نے اگر کسی ایک پاسپورٹ کو مشکوک قرار دے دیا تو پھر ہمارے تمام پاسپورٹ مشکوک ہو جائیں گے اور یہ ہمارے ملک کی توہین ہے اور یہ ہے وہ ساکھ جس کی حفاظت برطانیہ جیسا ملک بھی کرتا ہے‘ پاکستان اس وقت ساکھ کے شدید بحران سے گزر رہا ہے دنیا کو ہمارے کسی ادارے‘ کسی یونیورسٹی اور کسی سر ٹیفکیٹ پر یقین نہیں رہا‘ ہماری کریڈیبلٹی کا یہ عالم ہے ہمارے جہاز جرمنی کے راستے یورپ داخل ہوتے ہیں‘ ہماری فلائیٹس جوں ہی جرمنی کے قریب پہنچتی ہیں جرمن ائیر فورس کے دو طیارے اس کے اوپر اور نیچے پرواز کرتے ہیں اور یہ طیارے جب تک ہمارے جہاز کو کلیئر نہیں کرتے ہماری فلائیٹس جرمنی اور یورپ میں داخل نہیں ہو سکتں ‘ دنیا ہمارے پاسپورٹس اور ہمارے نوٹوں تک پر یقین نہیں کرتی‘ اسے ہمارے اسٹیٹ بینک تک پر یقین نہیں‘ اس بے یقینی کے عالم میں ہمارے چند اداروں نے بڑی مشکل سے اپنی ساکھ بنائی‘ ہم ملک ریاض کو لاکھ برا کہیں‘ ہم ان پر ہزار مرتبہ الزامات لگائیں اور ہم انھیں ہر روز عدالتوں میں گھسیٹیں لیکن یہ ماننا پڑے گا۔
انھوں نے بہرحال ڈیلیور کیا‘ انھوں نے ملک میں جدید ترین ہائوسنگ کی بنیاد رکھی اور آج بحریہ ٹائون پاکستانی نوٹ سے زیادہ کریڈیبل ہے‘ ڈی ایچ اے کی ساکھ بھی سی ڈی اے‘ ایل ڈی اے اور کے ڈی اے سے سیکڑوں گنا زیادہ ہے‘ آج اگر ملک کے وزراء اعظم‘ گورنرز‘ وزراء اعلیٰ‘ آرمی چیف اور سابق چیف جسٹس تک جب اپنا گھر بنانا چاہتے ہیں تو یہ سیدھا ڈی ایچ اے جاتے ہیں‘ آپ تحقیق کر لیں آپ کو ملک کے 90 فیصد اہم لوگوں اور ان کے خاندانوں کے گھر ڈی ایچ اے میں ملیںگے‘ تارکین وطن بھی سی ڈی اے پر یقین نہیں کرتے‘ یہ ڈی ایچ اے اور بحریہ ٹائون کا رخ کرتے ہیں‘ ہمیں فوج اور ملک ریاض سے لاکھ اختلاف کے باوجود یہ حقیقت ماننی ہو گی چنانچہ ہمیں کوشش کرنی چاہیے ہم چند لوگوں کو سزا دیتے ہوئے اداروں کو تباہ نہ کریں‘ ان کی ساکھ خراب نہ کریں کیونکہ اگر یہ ادارے تباہ ہوئے تو اس کا نقصان براہ راست ملک کو پہنچے گا‘ اس سے لاکھوں لوگ ڈوب جائیں گے۔
میں اب ڈی ایچ اے کے تازہ ترین ایشو کی طرف آتا ہوں‘ حکومت کا ایک ادارہ ہے ای او بی آئی (ایمپلائز اولڈ ایج بینیفٹ انسٹی ٹیوشن)۔قانون کے مطابق ملک کے وہ تمام پرائیویٹ اور کمرشل ادارے جن میں پانچ سے زائد ملازمین ہیں وہ اپنے ملازمین کی تنخواہوں کا پانچ فیصد اور ملازمین ایک فیصد اس ادارے میں جمع کرواتے ہیں‘ یہ ادارہ اس رقم کو مختلف اسکیموں میں انویسٹ کر دیتا ہے‘ اس سے شیئرز خریدے جاتے ہیں‘ کمرشل پراپرٹی خریدی جاتی ہے اور اس انویسٹمنٹ سے جتنا منافع ہوتا ہے یہ منافع ان ملازمین کو بڑھاپے میں ادا کیا جاتا ہے یا ان ملازمین کے لواحقین کے کام آتا ہے‘ ای او بی آئی نے 2011ء میں ڈی ایچ اے اسلام آباد سے 22 ارب روپے میں 221 کنال کمرشل زمین خریدی‘ ڈی ایچ اے نے یہ زمین ڈویلپ کر کے جنوری 2013ء تک ای او بی آئی کے حوالے کرنی تھی‘ ڈی ایچ اے کا دعویٰ ہے اس نے ای او بی آئی کو مارکیٹ سے کم قیمت میں یہ زمین فروخت کی اور اس کی قیمت میں اس وقت 20 سے 30 فیصد اضافہ ہو چکا ہے۔
یہ معاملہ مارچ 2013ء میں سپریم کورٹ میں آیا اور سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے اس سودے کو مشکوک قرار دے دیا‘ ڈی ایچ اے کو حکم دیا 19 جولائی تک 22 ارب روپے عدالت میں جمع کرا دیے جائیں‘ ڈی ایچ اے نے موقف اختیار کیا ہمارے پاس اتنی رقم موجود نہیں‘ عدالت نے 19 جولائی کو ڈی ایچ اے کے تمام اکائونٹس منجمد کرنے کا حکم جاری کر دیا اور یوں ایک بحران پیدا ہو گیا‘ اب صورتحال یہ ہے ڈی ایچ اے اور ای او بی آئی دونوں سرکاری ادارے ہیں‘ دونوں ایک ہی حکومت کے ماتحت ہیں‘ ان دونوں کے درمیان ڈیل ہوئی‘ یہ ڈیل غلط تھی یا درست‘ اس کا فیصلہ ابھی باقی ہے کیونکہ فریقین کے موقف میں ٹھیک ٹھاک اختلاف پایا جاتا ہے مگر حتمی فیصلے سے قبل ڈی ایچ اے کے وہ ہزاروں پلاٹ ہولڈرز ڈیپریشن میں چلے گئے جنہوں نے اس اسکیم میں سرمایہ کاری کر رکھی ہے۔
اس فیصلے کا نقصان ڈی ایچ اے کے ان پندرہ سے بیس ہزار ملازمین کو بھی ہورہا ہے جن کی تنخواہیں اکائونٹس منجمد ہونے کے بعد بند ہو چکی ہیں اور یہ اب تنخواہ کے بغیر عید کریں گے اور اس کا نقصان وہ تمام وینڈرز‘ ٹھیکے دار اور ڈویلپمنٹ فرمیں بھی اٹھا رہی ہیں جو اس وقت ڈی ایچ اے کے ساتھ وابستہ ہیں‘ یہ ممکن ہے اس سودے میں گڑ بڑ ہوئی ہو‘ یہ ڈیل واقعی غلط ہو اور چند لوگوں نے اس ڈیل میں پیسے بنالیے ہوں لیکن سوال یہ ہے اس میں ڈی ایچ اے کے ملازمین‘ پرائیویٹ کمپنیوں اور پلاٹ ہولڈرز کا کیا قصور ہے‘ انھیں کس جرم کی سزا مل رہی ہے؟ سپریم کورٹ ہر لحاظ سے سپریم ہے اور ہم سب کے لیے اس کے احکامات پر عمل واجب ہے لیکن ہمیں اب کچھ بڑے فیصلے کرنا ہوں گے‘ ہمیں یہ فیصلہ کرنا ہوگا ہمیں اس نوعیت کے ایشوز کوکیسے ہینڈل کرناچاہیے‘ سپریم کورٹ ملک کی آخری عدالت ہے‘ یہ ایشو اس عدالت تک نہیں پہنچنے چاہئیں‘ اگر یہ ممکن نہ ہو تو پھر چیف جسٹس کو چاہیے یہ سماعت سے قبل ایسی شکایات کے جائزے کے لیے ایماندار لوگوں پر مشتمل کمیشن بنا دیا کریں۔
یہ کمیشن رپورٹ تیار کریں اور اس رپورٹ کی روشنی میں ملزموں کے خلاف کارروائی کی جائے‘ ملزموں کو کیفرکردار تک پہنچا دیا جائے مگر یہ کارروائی بند کمرے میں ہو‘ ان کی اوپن سماعت نہ ہو تاکہ اداروں اور ان کی ساکھ متاثر نہ ہو‘ ہمیں فیصلہ کرنا ہوگا ہم کمپنیوں اور اداروں کے اکائونٹس سیز نہ کریں کیونکہ اس سے ادارے بیٹھ جاتے ہیں اور ہم اگر ان اداروں کو دوبارہ اٹھانا یا کھڑا کرنا چاہیں تو یہ ممکن نہیں ہوتا کیونکہ ساکھ عورت کی عصمت کی طرح ہوتی ہے‘ یہ اگر ایک بار چلی جائے تو یہ دوبارہ واپس نہیں آتی‘ صدر ریگن نے امریکا کے ایک کار ساز ادارے کی ساکھ بچانے کے لیے بینک کو کانگریس سے گارنٹی لے دی تھی‘ کیا ہم اتنا نہیں کر سکتے کہ ہم ایسے مقدمے جن کا تعلق اداروں کی ساکھ سے ہو ہم ان کی کھلی سماعت پر پابندی لگا دیں۔
ہم انھیں وکیلوں کی بحث اور دلائل کی بھینٹ چڑھنے سے بچا لیں اور ہمیں یہ فیصلہ بھی کرنا ہوگا کہ سرکاری ادارے سرمایہ کاری کر سکتے ہیں یا نہیں‘ یہ کاروبار میں رقم لگا سکتے ہیں یا نہیں‘ اگر ہاں تو پھر ہمیں اس کے لیے واضح قانون سازی کرنا ہوگی اور اگر نہیں تو پھر اس قانون کا اطلاق تمام اداروں پر ہونا چاہیے‘ پھرکوئی ادارہ بشمول ڈویلپمنٹ اتھارٹیز ہائوسنگ اسکیم نہ بنا سکے‘ ہم اس سیکٹر کو پوری طرح پرائیویٹ کمپنیوں کے سپرد کر دیں تا کہ بانس اور بانسری دونوں ختم ہو جائیں‘ یہ ایشو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے دفن ہو جائے‘ ہم نے ای او بی آئی کو اگر سرمایہ کاری کی اجازت دے رکھی ہے تو پھر ہمیں اس ادارے کو کھل کر بزنس کی اجازت دینی چاہیے‘ ہمیں صرف یہ دیکھنا چاہیے اس کی سرمایہ کاری سے منافع ہوا یا نہیں اور اگر نہیں ہوا تو پھر صرف ذمے داروں کا احتساب ہونا چاہیے ‘ پورے ادارے کا نہیں‘ ساکھ ہر حال میں قائم رہنی چاہیے کیونکہ اس کے نقصان سے پورا ملک متاثر ہوتاہے۔
پتہ نہیں
جاوید چوہدری پير 22 جولائ 2013
ہماری فلائٹ اسلام آباد سے لاہور ’’ ڈائی ورٹ‘‘ ہو گئی‘ اسلام آباد میں بارش‘ آندھی اور طوفان تھا اور اسلام آباد دنیا کے ان چند دارالحکومتوں میں شمار ہوتا ہے جن میں بارش کے دوران لینڈنگ نہیں ہو سکتی‘ آپ دنیا کے کسی کونے میں چلے جائیں آندھی ہو‘ طوفان ہو‘ بارش ہو یا پھر برفباری ائیر پورٹس پر جہاز اترتے بھی ہیں اور وہاں سے اڑتے بھی ہیں مگر ایٹمی طاقت کے ایٹمی دارالحکومت میں یہ ممکن نہیں لہٰذا معمولی بارش کے بعد ائیر لائینز کا شیڈول تبدیل ہو جاتا ہے‘ فلائیٹس لاہور شفٹ کردی جاتی ہیں اور اس کے بعد لاہور کا ائیر پورٹ بھی ’’چوک‘‘ ہو جاتا ہے۔
مسافر جہازوں میں پھنس کر رہ جاتے ہیں جب کہ مسافروں کو لینے کے لیے ائیر پورٹ پہنچنے والے لواحقین پریشانی کے عالم میں پارکنگ ایریا اور کوریڈورز میں خوار ہوتے رہتے ہیں‘ یہ کھیل برسوں سے جاری ہے اور ہر ہفتے دس دن بعد اسلام آباد میں اس قسم کی صورتحال پیدا ہو جاتی ہے‘ اس صورتحال کا حل ’’ آٹولینڈنگ سسٹم‘‘ ہے‘ یہ سسٹم ائیر پورٹس پر اترنے والے جہازوں کی رہنمائی کرتا ہے اور جہاز آندھیوں اور طوفانوں میں بھی ائیرپورٹس پر اتر جاتے ہیں‘ آج کے دور میں یہ سسٹم دو تین کروڑ روپے میں آ جاتا ہے مگر کیونکہ عام شہری کسی حکومت کی ترجیح میں شامل نہیں ہیں چنانچہ ملک کے کسی حکمران نے اس جانب توجہ نہیں دی اور اس عدم توجہ کی وجہ سے اسلام آباد کے فضائی مہمان برسوں سے خواری بھگت رہے ہیں۔
میں نے ایک بار ورلڈ بینک کی اس ٹیم کو لاہور ائیر پورٹ پر ذلیل ہوتے دیکھا جو پاکستان کو قرض دینے اسلام آباد آ رہی تھی‘ اسلام آباد سے فلائیٹ لاہور ’’ڈائی ورٹ‘‘ ہو گئی‘ یہ لوگ لاہور ائیرپورٹ پر پھنس گئے‘ ان کے پاس پاکستانی کرنسی نہیں تھی‘ ائیر پورٹ کے اندر ڈالر نہیں چل رہا تھا جب کہ لاؤنج میں ’’ اے ٹی ایم‘‘ مشین بھی نہیں تھی‘ لاہور میں اس دن موبائل سروس بھی بند تھی لہٰذا وہ لوگ بے چارگی کے عالم میں کبھی اٹھتے تھے اور کبھی بیٹھ جاتے تھے‘ میں نے انھیں ناشتے کی پیش کش کی مگر شاید ان کے ادارے نے انھیں اجنبی پاکستانیوں سے پرہیز کا مشورہ دے رکھا تھا چنانچہ انھوں نے مجھے مشکوک نظروں سے دیکھ کر معذرت کر لی‘ میں نے قہقہہ لگایا اور انھیں زبردستی کافی کے کپ پکڑا دیے‘ کافی پی کر انھیں حوصلہ ہوا اور وہ ناشتے پر رضا مند ہو گئے‘ میری ان سے گپ شپ شروع ہوئی تو میں ان کے سربراہ کو ائیر پورٹ منیجر کے دفتر لے گیا اور سرکاری فون سے ان کی فنانس منسٹری اور امریکن ایمبیسی میں بات کروادی۔
مجھے اس شخص کو لاؤنج سے منیجر کے دفتر لانے کے لیے جتنی جدوجہد کرنی پڑی یہ الگ داستان ہے‘ بہر حال قصہ مختصر فنانس منسٹری نے پنجاب حکومت سے درخواست کی ‘یوں ڈیڑھ گھنٹے بعد حکومت کا نمایندہ ان کی مدد کے لیے لاؤنج پہنچ گیا مگر یہ لوگ پاکستان کے بارے میں کیا تاثر لے کر گئے ہوں گے‘ یہ جاننے کے لیے کسی راکٹ سائنس کی ضرورت نہیں‘ آپ بارش کے کسی موسم میں لاہور ائیر پورٹ چلے جائیں اور اسلام آباد جانے والے گوروں سے ملک کے بارے میں تاثرات سن لیں مجھے یقین ہے آپ کو شرم آجائے گی‘ حکومت شاید نندی پوری پاور پلانٹ کا مسئلہ حل نہ کر سکے کیونکہ اس میں لمبی چوڑی ’’ کک بیکس‘‘ کے الزامات ہیں مگر میاں نواز شریف جو وزیراعظم کے ساتھ ساتھ وزیر دفاع بھی ہیں۔
یہ اسلام آباد ائیر پورٹ پر آٹو لینڈنگ سسٹم لگانے کا حکم دے کر ہزاروں مسافروں کو خواری سے ضرور بچا سکتے ہیں‘ لاہور ائیر پورٹ پر بھی میاں نواز شریف نے ہی یہ سسٹم لگوایا تھا‘ وہ پچھلی حکومت میں اسلام آباد سے لاہور جا رہے تھے مگر ان کا طیارہ بارش کی وجہ سے لاہور لینڈ نہ کر سکا میاں صاحب نے حکم دیا اور ایک ہفتے میں لاہور میں آٹو لینڈنگ سسٹم لگ گیا‘ میاں صاحب اس بار اسلام آباد پر بھی مہربانی کر دیں کیونکہ اس سسٹم کی کمی کے باعث اسلام آباد میں مسافر بھی خوار ہوتے ہیں اور فضائی حادثے بھی ہوتے ہیں‘ ان حادثوں میں 28 جولائی2010ء کا ائیر بلیوکا حادثہ بھی شامل ہے جس میں 152 مسافر جاں بحق ہو گئے تھے‘ ائیر بلیو کے چیئرمین شاہد خاقان عباسی ہیں‘ یہ اس وقت پٹرولیم کے وزیر ہیں‘ یہ انتہائی پڑھے لکھے اور ذہین انسان ہیں‘ میاں صاحب اس معاملے میں ان سے بھی رہنمائی لے سکتے ہیں‘ یہ میاں صاحب کو لینڈنگ سسٹم کے بارے میں رائے دے سکتے ہیں۔
پاکستان میں اس سال اللہ کا بہت کرم ہوا‘ بارشیں ہوئیں‘ ان کی وجہ سے جہاں لوڈ شیڈنگ میں کمی ہوئی وہاں عام آدمی کی زندگی مزید مشکل ہوگئی‘ بالخصوص لاہور بارش کے پانی میں ڈوب گیا‘ سیالکوٹ‘ گوجرانوالہ‘ نارووال‘ کامونکی اور گجرات میں بھی بارشوں نے تباہی مچا دی‘ درجنوں دیہات زیر آب آ گئے اور سیکڑوں ایکڑ اراضی پر کھڑی فصلیں تباہ ہوگئیں‘ ہم دنیا کی دلچسپ ترین قوم ہیں‘ ہم بارشوں کے موسم میں ڈوب کر مر جاتے ہیں اور عام دنوں میں پانی کی کمی کی وجہ سے‘ ہم آج تک خشک سالی کا کوئی حل نکال سکے اور نہ ہی بارشوں اور سیلابوں کا‘ ہمارے ملک میں اپریل‘ مئی اور جون۔ اکتوبر‘ نومبر‘ دسمبر اور جنوری میں لوگ خشک سالی کی وجہ سے نقل مکانی کرتے ہیں اور حکومت ان کی مدد پر مجبور ہو جاتی ہے جب کہ جولائی‘ اگست اور ستمبر میں ہمارے چالیس اضلاع پانی میں ڈوب جاتے ہیں اور ہم دنیا کے سامنے کشکول رکھنے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔
ہم دونوں قسم کی صورتحال کا کوئی حل تلاش کیوں نہیں کرتے‘ پیرس میں جنوری1910ء میں سیلاب آیا تھا جس سے فرانس کی معیشت کو ڈیڑھ بلین ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑا‘ اس سیلاب کوایک سو تین سال گزر چکے ہیں‘ سیلاب اس کے بعد بھی آئے مگر فرانس نے پھر کسی سیلاب کو تباہی نہںم مچانے دی‘ اسے کوئی عمارت گرانے یا کسی کی جان لینے کا موقع نہیں دیا مگر ہم ہر سال ہزاروں لوگ مروا بیٹھتے ہیں اور خود کو دنیا کی ذہین ترین قوم بھی کہتے ہیں‘ کیا ہم عجیب لوگ نہیں ہیں؟ ہم آسانی سے یہ مسئلہ حل کر سکتے ہیں‘ ہم جھیلوں‘ تالابوں‘ جوہڑوں اور چھوٹے ڈیموں کے ماڈل کی طرف چلے جائیں‘ ہم ہر شہر میں جھیلیں بنوائیں‘ ہر بستی‘ ہر محلے اور ہر ٹاؤن میں جھیل ہو‘ دیہات میں تالاب ہوں اور ہر ضلع میں دو تین ڈیم ہوں‘ آپ ملک کے کسی پرانے گاؤں میں چلے جائیں آپ کو اس کے درمیان پانی کا تالاب یا جوہڑ ملے گا‘ یہ جوہڑ کس نے بنوایا؟ یہ جوہڑ انگریز دور میں حکومت نے بنوائے تھے‘ انگریزوں نے شہروں اور قصبوں میں بھی پانی کے تالاب‘ جھیلیں‘ پانی کی گزر گاہیں اور ڈیم بنوائے تھے۔
یہ بندوبست برساتوں میں دیہات اور شہروں کو ڈوبنے سے بچاتا تھا‘ آج بھی یورپ‘ امریکا اور افریقہ میں یہ ماڈل چل رہا ہے‘ اس ماڈل کے چار فوائد ہوتے ہیں‘ بارش اور سیلاب کا زور ٹوٹ جاتا ہے‘ یہ آبی ذخائر زیر زمین پانی کا لیول نہیں گرنے دیتے‘ ان کا پانی فصلوں‘ باغوں اور پارکوں کی آب پاشی کے کام آتا ہے اور چار یہ ذخائر دیہات اور شہروں کی خوبصورتی میں اضافہ کرتے ہیں‘ اسلام آباد میں ملٹی پروفیشنل ہاؤسنگ اسکیم کے نام سے ایک ریئل اسٹیٹ فرم کام کر رہی ہے‘ اس فرم نے بی17 میں ایک ہاؤسنگ اسکیم بنا رکھی ہے‘ انھوں نے اس اسکیم میں ایک خوبصورت ڈیم بنایا‘ یہ ڈیم بارش کے پانی سے بھر جاتا ہے‘ اس ڈیم نے نہ صرف اسکیم کو خوبصورت بنا دیا بلکہ یہ اسکیم کی آبی ضرورت بھی پوری کر رہا ہے‘ یہ لوگ اگر پرائیویٹ فرم ہو کر یہ کام کر سکتے ہیں تو سی ڈی اے‘ ایل ڈی اے یا کے ڈی اے ملک کے بڑے شہروں میں اس قسم کے ڈیم یا آبی ذخائر کیوں نہیں بنا سکتیں‘ ہم لاہور کا پانی لاہور کی جھیلوں میں جمع کیوں نہیں کر سکتے؟ کسی کے پاس اس سوال کا جواب موجود ہے؟۔
ہماری حکومتوں کو جب بھی اس قسم کے مشورے دیے جاتے ہیں تو ہمارے سرکاری دفتروں کے بابو اس کے جواب میں بڑی دلچسپ دلیل دیتے ہیں‘ یہ کہتے ہںے کھڑا پانی بدبو پھیلاتا ہے‘ ہم اگر پانی کے تالاب بنائیں گے تو ان کی بدبو لوگوں کو رہنے نہیں دے گی‘ یہ درست ہے کھڑا پانی ماضی میں بدبو پھیلایا کرتا تھا یا پھر یہ ہمارے جیسے ملکوں میں بدبو میں پھیلاتا ہے مگر ترقی یافتہ قوموں نے اس کا حل نکال لیا ہے‘ یہ لوگ ہفتے میں ایک دن کھڑے پانی پر پھٹکڑی کا چھڑکاؤ کرتے ہیں اور پانی کی بو غائب ہو جاتی ہے‘ ہم بھی پھٹکڑی استعمال کر سکتے ہیں اور یوں ہمارے تالابوں سے بو نہیں آئے گی‘ ہمارے بابو مچھروں اور مکھیوں کے ذریعے بھی حکومت کو ڈراتے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کھڑے پانی میں مچھر پیدا ہوتے ہیں اور یہ مچھر آگے چل کر ڈینگی جیسے مہلک امراض کا ذریعہ بنتے ہیں‘ یہ اعتراض بھی درست ہے لیکن سوال یہ ہے اگر ہمارے سائنس دان‘ اگر ہمارے زرعی ماہرین مل کر مچھروں اور مکھیوں کا کوئی مستقل حل تلاش نہیں کر سکتے تو پھر ان اداروں اور ان سائنس دانوں کی کیاضرورت ہے؟ آپ زرعی ماہرین اور سائنس دانوں کو ہدایت دیں یہ گھاس کی کوئی ایسی قسم یا کوئی ایسا پودا دریافت کریں یا لیبارٹری میں پیدا کریں جس کی موجوگی مچھروں اور مکھیوں کو بھگا دے‘ یہ لوگ ایسے پودے ایجاد کریں‘ یہ پودے پانی کے تالابوں کے کنارے اگا دیے جائںی اور یوں یہ مسئلہ بھی حل ہو جائے گا‘ مکھیاں‘ مچھر اور چوہے یورپ اور امریکا میں بھی تھے اور یہ وہاں ایسی بیماریاں بھی پھیلاتے تھے جن کے باعث کروڑوں لوگ لقمہ اجل بن جاتے تھے۔
یورپ کا طاعون آج بھی تاریخ کا بدترین باب ہے مگر پھر ان قوموں نے اس کا علاج دریافت کرلیا‘ آج یورپ اور امریکا چوہوں سے بھی پاک ہے اور مکھی اور مچھر سے بھی اور اگر یہ ہیں بھی تو بھی یہ زیادہ مہلک نہیں ہیں‘ ہمارے ملک میں مکھیوں اور مچھروں کی بھر مار ہے مگر ہم نے آج تک ان کا کوئی سدباب نہیں کیا؟ ہم ڈینگی سے بچنے کے لیے پانی کے تالاب بند کر دیں گے‘ سوئمنگ پولز پر پابندی لگا دیں گے اور فوارے بند کر دیں گے مگر ہم مچھروں کا کوئی علاج دریافت نہیں کریں گے؟ ہم کیسے لوگ ہیں؟ ہم نے بارش جیسی رحمت کو بھی زحمت بنا دیا۔
ہمارے لاہور جیسے شہر پانی میں ڈوب جاتے ہیں مگر حمزہ شہباز شریف پانی میں چہل قدمی فرما کر‘ تصویر بنوا کر اور یہ تصویر اخبارات میں شایع کر کے اپنا فرض ادا کر دیتے ہیں‘ یہ اس پانی کا کوئی حل نہیں نکالتے‘ یہ تالاب اور جھیلیں نہیں بنواتے‘ وہ جھیلیں اور تالاب جو زحمت کو رحمت بنا سکیں اور خلق خدا بھی اپنے نمایندوں کو دعا دے سکے‘ ملک بھی خوبصورت ہو سکے اور ملک کے لوگ بھی بارش کے موسموں میں اپنا بوریا بستر اٹھا کر پناہ گاہیں تلاش نہ کریں‘ یہ اہل یورپ کی طرح اپنی بالکونیوں میں بیٹھ کر ابر رحمت کا نظارہ کر سکیں‘ پتہ نہیں ہم قدرتی مسائل کا لانگ ٹرم سلوشن کب نکالیں گے‘ ہم اپنے مسئلے خود کب حل کریں گے۔
سیاحت
جاوید چوہدری ہفتہ 20 جولائ 2013
برج اسٹریٹ لندن کے علاقے ویسٹ منسٹر کی قدیم شاہراہ ہے‘ یہ سڑک 1750ء میں بنی اور یہ آج تک قائم ہے‘ یہ سڑک برطانوی پارلیمنٹ اور کنٹری ہال کو آپس میں ملاتی ہے لکنھ اس سڑک کا پروفائل صرف یہاں تک محدودنہیں بلکہ اس کا ایک اور کمال بھی ہے جس نے اسے رہتی دنیا تک امر کر دیا‘ اس سڑک پر دنیا کا پہلا زیبرا کراس بنا تھا اور یہ وہ کراس تھا جس نے دنیا میں پیدل چلنے والے عام لوگوں کے حقوق کی بنیاد رکھی.
برج اسٹریٹ میں دنیا کا پہلا زیبرا کراس 1868ء میں بنا‘ اس کا آئیڈیا ریلوے کے ایک انجینئر جان پیک نائٹ نے دیا تھا‘ اس نے زیبرا کراس بنوایا اور لندن کی ایک کمپنی نے اس کے دونوں کناروں پر سبز اور سرخ لائٹ لگا دی‘ سرخ اور سبز رنگ کا انتخاب اس لیے کیا گیا کہ یہ دونوں رنگ دھند اور رات کے اندھیرے میں دور سے نظر آ جاتے ہیں‘ سرخ اور سبز لائٹ جلانے کے لیے گیس کی مدد لی جاتی تھی‘ گیس جلانے اور لائیٹس آن اور آف کرنے کے لیے پولیس کے کانسٹیبل دو شفٹوں میں کراس پر تعینات کر دیے گئے۔
یہ کانسٹیبل آگے چل کر ٹریفک پولیس کا محکمہ بن گئے‘ یہ تجربہ کامیاب ہو گیا مگر بدقسمتی سے 1869ء میں ٹریفک سگنل کی گیس لیک کر گئی‘ پول کو آگ لگ گئی اور کانسٹیبل اس آگ کی زد میں آگیا‘ اس حادثے کے نتیجے میں لندن میونسپل کمیٹی نے سگنل فوری طور پر بند کر دیا اور یوں تاریخ کا پہلا باقاعدہ زیبرا کراس ختم ہو گیا یہاں تک کہ 1911ء میں لندن کے ایک عام شخص نے ٹائم اخبار کو خط لکھا اور ایڈیٹر کو بتایا لندن میں گاڑیوں میں اضافہ ہو گیا ہے جن کی وجہ سے حادثے ہو رہے ہیں اور ان حادثوں میں روزانہ درجنوں لوگ زخمی یا فوت ہو جاتے ہیں‘ اس مسئلے کا کوئی فوری اور مستقل حل ہونا چاہیے‘ ایڈیٹر کو یہ خط ’’ کلک‘‘ کر گیا اور یوں ٹائمز نے ٹریفک سگنلز اور زیبرا کراسنگ کو اپنا صحافتی فرض بنا لیا‘ حکومت میڈیا کے دبائو میں آئی اور 1949ء میں لندن میں ایک بار پھر زیبرا کراسنگ شروع ہوگئی‘ لندن کی دیکھا دیکھی پوری دنیا میں زیبرا کراسنگ بنی اور آج یہ سولائزیشن کی ایک بڑی علامت ہے۔
مجھے برج اسٹریٹ کا پہلا زیبرا کراسنگ دیکھنے کا شوق تھا مگر ہر بار کوئی نہ کوئی مصروفیت آڑے آ جاتی تھی لیکن اس سال میں پکا پروگرام بنا کر لندن پہنچا‘ ہم 14 جولائی کو لندن پہنچے اور 19 جولائی تک لندن رہے‘ میرے دوست میاں گلزار مجھے ایبے روڈ کے زیبرا کراسنگ پر لے گئے‘ ان کا خیال تھا یہ دنیا کا پہلا زیبرا کراسنگ ہے‘ ان کا خیال ایک لحاظ سے ٹھیک بھی تھا کیونکہ لندن آنے والے زیادہ تر لوگ اسی زیبرا کراسنگ پر کھڑے ہو کر تصویر بنواتے ہیں اور فٹ پاتھ کی بائونڈری وال پر اپنا نام اور پیغام لکھتے ہیں مگر یہ غلط ہے‘ دنیا کا پہلا زیبرا کراسنگ برج اسٹریٹ ہی پر بنایا گیا‘ ایبے روڈ پر لارڈز کرکٹ گرائونڈ کے قریب موجود سگنل کی مقبولیت کی وجہ دنیا کا مشہور بینڈ بیٹلز(Beatles) تھا‘ یہ بینڈ 1969ء میں اس زیبرا کراسنگ سے گزرا تھا اور اس نے اس کے بعد اپنے مشہور البم کا نام ایبے روڈ رکھ دیا‘ یہ زیبرا کراسنگ اس البم کی یاد گار ہے‘ میوزک کے شیدائی شروع شروع میں اس جگہ اس البم کی یاد منانے کے لیے آتے تھے اور یوں یہ کراسنگ آہستہ آہستہ دنیا کا پہلا زیبرا کراسنگ مشہور ہوگیا‘ میں دونوں زیبرا کراسنگ پر گیا اور چند لمحوں کے لیے خوش ہوگیا۔
یہ یادگاریں یہ سیلی بریشنز علامتی ہوتی ہیں‘ یہ آپ کی زندگی میں کوئی اہم کردار ادا نہیں کرتیں‘ یہ آپ کو اچھی جاب لے کرنہیں دیتیں‘ یہ آپ کو دو کلو گرام چینی نہیں دیتیں اور یہ آپ کے خاندانی تعلقات پر بھی اچھے اثرات مرتب نہیں کرتیں لیکن اس کے باوجود یہ بہت اہم ہوتی ہیں کیونکہ یہ ایک آدھ لمحے کے لیے آپ کو خوشی دیتی ہیں‘ یہ آپ کو انسان کی اس تاریخ سے روشناس کرا دیتی ہیں جن پر ننگے پائوں چل کر یہ آج کے جدید دور تک پہنچا مگر ہم بدقسمتی سے ان چھوٹی چھوٹی خوشیوں سے محروم ہیں‘ ہم انھیں فضول اور وقت کا زیاں سمجھتے ہیں‘ ہمیں سمجھنا بھی چاہیے کیونکہ جس ملک کے دارالحکومت اسلام آباد کے سو سے زائد ٹریفک سگنل دو برسوں سے خراب چلے آ رہے ہوں اور ان سگنلز پر روزانہ دس پندرہ ایکسیڈنٹ ہو جاتے ہوں اور ان حادثوں میں درجنوں لوگ زندگی اور اعضاء سے محروم ہو جاتے ہوں مگر کیی شخص کے کانوں پر جوں تک نہ رینگتی ہو اس ملک میں قدیم زیبرا کراسنگ تلاش کرنا اور اس کراسنگ پر کھڑے ہو کر تصویر کھینچوانے کے لیے لمبا سفر کرنا واقعی عجیب اور فضول کام لگے گا‘ چوہدری نثار علی اس وقت پاکستان کے وزیر داخلہ ہیں‘ یہ اچھے اور بھلے انسان ہیں‘ میری ان سے درخواست ہے یہ چیئرمین سی ڈی اے‘ آئی جی اسلام آباد اور ایس ایس پی ٹریفک کو بلا کر ہدایت کریں یہ لوگ اسلام آباد کے تمام ٹریفک سگنل فوری طور پر ٹھیک کرا دیں‘ مجھے یقین ہے چوہدری صاحب کے ایک حکم پر جوہری ملک کے جوہری دارالحکومت کے سگنل درست ہو جائیں گے اور یوں درجنوں بلکہ سیکڑوں لوگوں کی جانیں بچ جائیں گی۔
ہم اس ملک میں چھوٹی چھوٹی سیلی بریشنز کا بندوبست بھی کر سکتے ہیں مثلاً آبپارہ اسلام آباد کا قدیم ترین اور مشہور علاقہ ہے‘ اس علاقے کو آبپارہ کیوں کہا جاتا ہے‘ یہ کہانی بذات خود بہت دلچسپ ہے‘ ساٹھ کی دہائی میں جب اسلام آباد کی بنیاد رکھی جا رہی تھی تو حکومت نے چھوٹے ملازمین کی رہائش کے لیے جی تھری اور جی فور میں سرکاری کوارٹرز بنوائے‘ یہ کوارٹرز مختلف خاندانوں کو الاٹ کر دیے گئے‘ آباد کاری کے چند دن بعد ان کوارٹرز میں ایک بچی پیدا ہوئی‘ یہ بچی وفاقی دارالحکومت میں پیدا ہونے والی پہلی بچی تھی‘ اس بچی کا نام آبپارہ تھا چنانچہ سی ڈی اے نے اس بچی کے نام پر اس علاقے کا نام آبپارہ رکھ دیا‘ حکومت اس بچی اور اس مکان کو تلاش کر سکتی ہے اور اس گھر کو میوزیم کا درجہ دے کر‘ اس میں اس بچی (جو اس وقت بزرگ ہو چکی ہو گی) کی تصویریں اور اسلام آباد کے ابتدائی دنوں کی پینٹنگز لگا کر شہر اور بیرون شہر کے لوگوں کے لیے دلچسپی کا سامان پیدا کر سکتی ہے‘ اس طرح اسلام آباد کا نام عارف والا کے ایک ہیڈ ماسٹرعبدالرحمن نے تجویز کیا تھا’ ہم اسلام آباد کی کوئی عمارت ان کے نام سے منسوب کر سکتے ہیں اور اس عمارت کو بھی اسلام آباد کی تاریخ اور ہیڈ ماسٹر عبدالرحمن کی تصویروں کی یاد گار بنا سکتے ہیں۔
اسی طرح اسلام آباد میں مہاتما بدھ کے دور کا برگد درخت بھی موجود ہے‘ ہم اس درخت کو بھی سیاحت کا مرکز بنا سکتے ہیں‘ مارگلہ روڈ پر ایف ٹین اور ایف الیون کے درمیان عین سڑک پر چار پانچ سو سال پرانا درخت ہے‘ ہم اس درخت کو بھی تصویر کھینچوانے کا ذریعہ بنا سکتے ہںا‘ ہم اسی طرح کراچی کی ایمپریس روڈ‘ لاہور کے تین سو سال پرانے حمام‘ انارکلی کے مقبرے‘ قطب الدین ایبک کے مزار‘ سرگنگا رام کی حویلی‘ بھنگیوں کی توپ سے وابستہ یادوں‘ ٹھٹھہ میں محمد بن قاسم کی تعمیر کردہ مسجد‘ راجہ داہر کے قلعے‘ پشاور کے قصہ خوانی بازار‘ ٹلہ جوگیاں اور راج کٹاس کو بھی سیاحت کا مرکز اور تصویریں بنوانے کی جگہ بنا سکتے ہیں‘ گورے اگر دنیا کے پہلے زیبرا کراسنگ اور ایبے روڈ کے ٹریفک سگنل کو تفریح کا ذریعہ بنا سکتے ہیں تو ہم سیاحت کے ان عظیم خزانوں کو خوشیوں کا مرکز کیوں نہیں بنا سکتے۔
ہم بیرونی دنیا اور پاکستان کے متجسس لوگوں کی توجہ ان مقامات کی طرف مبذول کیوں نہیں کرا سکتے اور اس کام کے لیے سرمایہ بھی نہیں چاہیے‘ بس معمولی سی توجہ اور تھوڑی سی کوشش کی دیر ہے اور ہم اور ہمارے لوگ تھوڑی تھوڑی خوشیاں جمع کرلیں گے لیکن سوال یہ ہے جو قوم کے ٹو جیسے پہاڑ اور نانگا پربت جیسی چوٹیوں کو نہیں بیچ سکی اور جو موہن جو داڑو‘ ہڑپہ‘ ٹیکسلا اور کٹاس ویلی کے ذریعے دنیا کو اپنی طرف متوجہ نہیں کر سکی وہ قوم آبپارہ یا قصہ خوانی بازار سے کیا کمال کر لے گی‘ دنیا رابن ہڈ اور ہیری پورٹر کے فرضی کرداروں کو بیچ رہی ہے‘ دیوار پر ایک چھوٹی سی بالکونی بنا کر اسے جولیٹ کے نام منسوب کر کے ہر سال تیس لاکھ سیاح اکھٹے کر لیتی ہے۔
کوپن ہیگن کے سمندر کے کنارے جل پری کے چھوٹے سے مجسمے کے گرد پچاس لاکھ لوگ اکٹھے کر لیتی ہے‘ روم کے تریوی فواروں کے گرد ایک کروڑ لوگوں کو جمع کر لیتی ہے اور ڈیلفی اور اولمپک کے پتھروں کو سیاحت کا ویٹی کن سٹی بنا دیتی ہے مگر ہم آج تک سسی کے بھنبھور‘ سوہنی کے گجرات اور رانجھے کے مڈھ کو پاکستانیوں کی توجہ کا مرکز نہیں بنا سکے‘ ہم آج تک دنیا کے قدیم ترین شہر موہن جو داڑو کو سیاحت کا ’’ ویو کارڈ‘‘ نہیں بنا سکے‘ دنیا پرانی مٹی کو سونے کے بھائو بیچ رہی ہے جب کہ ہم سیاحت کے سونے کو تاریخ کی گلیوں میں روند رہے ہیں اور اس کے نتیجے میں بھوکے مر رہے ہیں‘ سیاحت دنیا کی تیسری بڑی انڈسٹری ہے مگر ہم یہ انڈسٹری جیب میں ڈال کر پریشان پھر رہے ہیں‘ ہم اسے پاکستان اور دنیا دونوں کی مارکیٹوں میں فروخت نہیں کر پا رہے اور یہ میرے اس سفر کا حاصل تھا۔
دنیا کا خوبصورت ترین قبرستان
جاوید چوہدری بدھ 17 جولائ 2013
مارکوٹی 14 ویں صدی عیسوی کا گاؤں تھا‘ یہ گاؤں اطالوی باشندوں نے 1326ء میں آباد کیا‘ گاؤں میں آج بھی چودھویں صدی کی سیڑھیاں اور چرچ موجود ہے‘ گلیاں تنگ اور مکان چھوٹے ہیں‘ آپ گلی میں داخل ہوتے ہیں تو مکان تہہ در تہہ اوپر پہاڑ پر چڑھنے لگتے ہیں‘ ہر مکان کی بالکونی جھیل کی طرف کھلتی ہے جب کہ صحن جنگل اور پہاڑ کا حصہ محسوس ہوتا ہے‘ مارکوٹی کا قبرستان شاید دنیا کا خوبصورت ترین قبرستان ہو‘ یہ قبرستان بھی چودھویں صدی میں بنا‘ یہ بھی تہہ در تہہ اوپر پہاڑ پر چڑھتا چلا جاتا ہے۔
میں قبرستان پہنچا تو اس کی لوکیشن اور قبروں کی خوبصورتی نے میرا سانس کھینچ لیا اور میں دم بخود ہو کر رہ گیا‘ اس قبرستان کی ہر قبر آرٹ کا نمونہ تھی‘ آپ قبرستان کے درمیان کھڑے ہو جائیں تو آپ کو محسوس ہو گا قبروں کے درمیان خوبصورتی اور آرٹ کا مقابلہ ہو رہا ہے‘ قبروں کے تعویز انتہائی دلکش اور سنگ مزار انتہائی قیمتی ہیں‘ ہر قبر پر خوبصورت پھول لگے ہیں اور صاحب قبر کا نام نہایت ہی دل آویز اور پرکشش رسم الخط میں تحریر ہے‘ قبروں پر مجسمے بھی ایستادہ ہیں اور ہر مجسمہ آرٹ کا شہ پارہ ہے‘ بعض پرانی قبروں پر مزار بھی بنے ہیں اور یہ مزار بھی پرکشش اطالوی طرز تعمیر کا نمونہ ہیں‘ آپ جوں جوں چودھویں صدی سے اکیسویں صدی کی قبروں کی طرف سفر کرتے ہیں آپ کو آرٹ بھی تبدیل ہوتا ہوا محسوس ہوتا ہے‘ مثلاً 2006ء میں فوت ہونے والی خاتون کی قبر پر شیشے کی پلیٹیں لگی تھیں‘ یہ پلیٹیں ایستادہ تھیں اور شروع سے آخر کی طرف ان کی اونچائی بڑھتی چلی جاتی تھی۔
آپ ان پلیٹوں کے سامنے موم بتی جلاتے تھے تو اس ایک موم بتی کا عکس دو درجن شیشوں میں ڈولتا ہوا نظر آتا تھا اور اس موم بتی کا شعلہ جب ہوا سے لرزتا تھا تو آپ کو تمام شیشوں میں آگ سی لگی ہوئی محسوس ہوتی تھی‘ یہ قبر کیتھرائن نام کی کسی خاتون کی تھی اور یہ چند لمحوں کے لیے ہر گزرنے والے کے قدم جکڑ لیتی تھی‘ میں نے مختلف قبروں کے کتبے پڑھے تو معلوم ہوا قبرستان کے زیادہ تر مُردے آرٹسٹ‘ مجسمہ ساز‘ شاعر‘ مصنف اور اداکار ہیں اور یہ قبریں انھوں نے خود ڈیزائن کی ہیں‘ قبرستان کی باؤنڈری وال چھوٹی ہے‘ ہر قبر سے جھیل کا رنگ بدلتا پانی اور ہوا کی تال پر جھومتا ہوا جنگل نظر آتا ہے‘ یہ قبرستان بارش اور دھند میں مزید خوبصورت ہو جاتا ہوگا‘ میں شام کے وقت وہاں پہنچا‘ سورج پہاڑوں کے سبزے میں گم ہو رہا تھا‘ آسمان کی لالی جھیل میں آہستہ آہستہ گھل رہی تھی‘ جھیل میں تیرتی موٹر بوٹس پانی کی لکیریں چھوڑتی ہوئی کناروں کی طرف بڑھ رہی تھیں اور سرد ہوا اوپر سے نیچے کی طرف دوڑ رہی تھی‘ میں نے دائیں بائیں دیکھا چرچ کے گھڑیال نے شام کے نو بجنے کا اعلان کیا۔
مارکوٹی کی سرخ چھتوں پر گزرے دن کی حسرتیں چپکی تھیں‘ قبرستان کی بغل میں چار سو چار سیڑھیوں کا وہ سلسلہ تھا جو نہایت خاموشی اور عقیدت سے اوپر پہاڑ کی طرف بڑھتا تھا اور آپ کی نظروں کے سامنے جنگل میں گم ہو جاتا تھا اور میرے آمنے سامنے اور دائیں بائیں قبریں ہی قبریں تھیں اور ہر قبر آرٹ کا نمونہ تھی‘ مجھے جھرجھری آئی اور زندگی ایک لمحے کے لیے جی ہاں ایک لمحے کے لیے رک سی گئی اور مجھے محسوس ہوا جیسے مارکوٹی کی قبروں نے میرے قدم باندھ دیے ہیں اور میں خوبصورت مجسموں کے درمیان ایک بدصورت مجسمہ ہوں۔
ادھوری خواہشوں اور ناتمام حسرتوں کا گندمی مجسمہ جو زندگی کی تلاش میں اس قبرستان تک پہنچا اور اپنے کاسئہ تن کی بچی کھچی زندگی قبروں کے خوبصورت جنگل میں لٹا بیٹھا‘ مارکوٹی کا قبرستان حقیقتاً زندہ شہروں سے زیادہ خوبصورت اور دلفریب تھا‘ یہ قبرستان اس قدر دلفریب تھا کہ دیکھنے والے کے دل میں مر جانے اور اس قبرستان میں دفن ہونے کی خواہش انگڑائی لینے لگتی تھی‘ میں نے جھر جھری لی اور سیڑھیوں کی طرف چل پڑا‘ یہ سیڑھیاں مارکوٹی گائوں میں اترتی تھیں۔
مجھے مارکوٹی کے قبرستان میں ایک اور انوکھی چیز نظر آئی‘ قبرستان میں مُردوں کی دیوار تھی‘ دیوار پر ہر مُردے کے لیے ڈیڑھ بائی ڈیڑھ فٹ کی جگہ مختص تھی‘ دیوار پرسنگی تختیاں لگی تھیں‘ تختیوں پر لواحقین نے مُردے کا نام بھی کندا کروا رکھا تھا‘ مُردے کی تصویر بھی لگا رکھی تھی اور پھول لگانے اور موم بتی جلانے کی جگہ بھی بنا رکھی تھی‘ تختیوں پر مُردوں کا پروفائل اور قبر کا نمبر بھی لکھا تھا‘ یہ ایک اچھا آئیڈیا ہے‘ ہماری حکومت کو چاہیے یہ ملک میں ماڈل قبرستان بنوائے اور ہر قبرستان میں ایک ایسی دیوار بنوا دے جس پر قبرستان میں دفن لوگوں کا پروفائل آ جائے‘ ہمارے قبرستان بدقسمتی سے بے ترتیبی کا عظیم نمونہ ہوتے ہیں اور یہ نمونے مُردوں کی زندگی اور آخرت دونوں کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔
آپ ملک کے کسی قبرستان میں داخل ہو جائیں آپ کو اس میں ترتیب‘ سلیقے اور خوبصورتی کی کمی نظر آئے گی‘ یہ بے ترتیبی ثابت کرتی ہے ہم انسان کو زندگی میں عزت دیتے ہیں اور نہ ہی مرنے کے بعد‘ ہم اگر اپنے قبرستانوں کو بہتر بنا لیں تو یہ بھی کمال ہو گا‘ میری چیئرمین سی ڈی اے ندیم حسن آصف سے درخواست ہے‘ یہ کسی دن اسلام آباد کے قبرستان میں تشریف لے جائیں‘ یہ وہاں چند لمحے گزاریں‘ قبروں کے کتبے پڑھیں‘ ان پر درج فرعونوں کے نام پڑھیں اور پھر اس کے بعد اس قبرستان کی صورتحال دیکھیں تو انھیں بھی ان مُردوں پر رحم آ جائے گا‘ اس قبرستان میں آٹھ سابق چیئرمین سی ڈی اے بھی دفن ہیں‘ ان حضرات نے کیونکہ اپنی آخری آرام گاہ پر توجہ نہیں دی چنانچہ یہ بھی آج اس خرابے میں حشر کا انتظار کر رہے ہیں۔
دنیا کی ہر قوم کا کوئی نہ کوئی ہنر‘ کوئی نہ کوئی آرٹ ہوتا ہے‘ سوئس قوم کا آرٹ اس کا ریلوے اور گھڑیاں ہیں‘ سوئس واچ کی ایک کمپنی 1853ء میں بنی‘ اس کمپنی نے اس سال اپنے 160 سال مکمل کیے جب کہ سوئس ریلوے نے 1871ء میں پہاڑ کی چوٹیوں تک ٹرین پہنچا دی تھی‘ میں پچھلے سفر کے دوران ’’ یون فرون‘‘ گیا تھا‘ یہ انٹر لاکن کے قریب ساڑھے دس ہزار فٹ بلند مقام ہے‘ اس بلندی پر زندہ گلیشیئر موجود ہے جس پر جون اور جولائی میں بھی برف باری ہوتی رہتی ہے۔
سوئٹزر لینڈ نے 1870ء میں اور1871ء میں اس گلیشیئر تک ٹرین پہنچا دی‘ یہ ٹرین کئی میل تک پہاڑ کے اندر اونچائی کی طرف چلتی ہے اور لوگوں کو حیران کر دیتی ہے‘ ہم لوگ اس بار ریگی ٹاپ گئے‘ یہ چھ ہزارفٹ اونچا پہاڑ ہے‘ یہاں پہنچنے کے لیے آپ کو پہلے لوزرن جانا پڑتا ہے‘ لوزرن بھی اپنی خوبصورت جھیل کی وجہ سے پوری دنیا میں مشہور ہے‘ ہم پہلے لوزرن گئے۔
وہاں سے شپ کے ذریعے پہاڑ کے دامن مںو پہنچے‘ وہاں سے کیبل کار کے ذریعے ریگی پہاڑ کی پہلی منزل تک گئے‘ یہ منزل بھی جھیل سے تقریباً تین ہزار فٹ کی بلندی پر تھی اور آپ اس بلندی تک کیبل کار کے ذریعے پہنچتے ہیں‘ آپ پہلی منزل سے ٹرین لیتے ہیں‘ یہ ٹرین پہاڑ پر چڑھنا شروع ہوتی ہے اور عقل کو حیران کر دیتی ہے‘ یہ ٹرین دو تین منزلوں پر رک کر ساڑھے چھ ہزار فٹ کی بلندی پر ریگی ٹاپ پہنچ جاتی ہے‘ یہ اس علاقے کی بلند ترین چھوٹی ہے‘ آپ پر چوٹی پر پہنچ کر حیرتوں کے نئے دروازے کھل جاتے ہیں‘ آپ چوٹی پر کھڑے ہو کر نیچے گہرائی مں دو مختلف شہر اور دو طویل جھیلیں دیکھتے ہیں‘ آپ کو شہروں‘ ان کی جھیلوں اور اپنے درمیان بادل بھی لہراتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں‘ ریگی ٹاپ کے دوسری طرف تاحد نظر گھنا جنگل ہے‘ اس جنگل میں جگہ جگہ خوبصورت ہٹس اور جانوروں کے باڑے ہیں‘ آپ کو آبشاریں‘ جھرنے اور ندیاں بھی ملتی ہیں‘ جنگل میں پیدل چلنے والوں کے لیے ٹریک اور کیمپنگ سائیٹس بھی ہیں‘ ریگی ٹاپ پر ایک فور اسٹار ہوٹل‘ ریستوران‘ کافی شاپ اور تین چار دکانیں بھی ہیں‘ شام سات بجے تک ہر آدھ گھنٹے بعد یہاں ٹرین پہنچتی ہے اور واپسی پر مسافروں کو لے کر نیچے چلی جاتی ہے۔
یہ ٹرین واپسی پر مسافروں کو لوزرن جھیل کے کنارے چھوڑ دیتی ہے‘ آپ وہاں سے بحری جہاز کے ذریعے لوزرن شہر پہنچ جاتے ہیں یا پھر آپ اس ٹرین کے ذریعے گولڈاؤ شہر چلے جاتے ہیں اور وہاں سے ٹرین کے ذریعے دوسرے سوئس علاقوں کی طرف نکل جاتے ہیں‘ یہ ریل نیٹ ورک انسانی معجزہ ہے۔
میری تجویز ہے خواجہ سعد رفیق کو وقت نکال کر سوئس ریلوے کا مطالعہ بھی کرنا چاہیے اور سوئٹزرلینڈ آ کر ان ٹرینوں پر سفر بھی کرنا چاہیے‘ ہم اگر سوئس ریلوے کو کاپی کر لیں‘ ہم مری‘ کاغان اور سوات تک ریل پہنچا دیں تو اس سے ریونیو میں بھی اضافہ ہو گا اور سیاحت کو بھی فروغ ملے گا‘ اگر سوئٹزر لینڈ کے لوگ یہ کارنامہ 1871ء میں کر سکتے ہیں تو ہم 2013ء میں کیوں نہیں کر سکتے‘ آپ اپنے انجینئرز سوئٹزرلینڈ بھجوائیں‘ یہ لوگ یہ آرٹ سیکھیں اور ہم دس پندرہ برسوں میں اپنے ریلوے کو سوئس ریلوے کے مد مقابل کھڑا کر دیں‘ آخر ہم میں اور سوئس کے لوگوں میں کیا فرق ہے؟ یہ بھی ہماری طرح انسان ہیں اور اگر وہ یہ کر سکتے ہیں تو ہم کیوں نہیں کر سکتے؟
ہم بھی سوئس لوگوں کی طرح کسی ایک شعبے کو اپنی اسپیشلٹی بنا لیں‘ ہم اس میں مہارت حاصل کر لیں اور پوری دنیا میں اس شعبے کی علامت بن جائیں‘ اگر سوئس لوگ چاکلیٹ‘ دودھ‘ گھڑی‘ بینکنگ اور ریل کو اپنی علامت بنا سکتے ہیں تو ہم میں کیا کمی ہے؟ ہم کیوں نہیں کر سکتے؟ سوئس لوگوں نے جھیلوں کے ذریعے بھی اپنے ملک کو خوبصورت اور قابل کاشت بنا لیا ہے‘ ہم بھی پاکستان کو جھیلوں کا ملک بنا سکتے ہیں‘ ہم فیصلہ کرلیں ہم نے آج سے بارش کا پانی ضایع نہیں کرنا‘ ہم پہاڑوں کی اترائیوں میں پانی جمع کریں‘ ہم شہروں کے گرد بھی مصنوعی جھیلیں بنا لیں تو اس سے شہروں کی خوبصورت میں بھی اضافہ ہو گا‘ زراعت بھی بڑھے گی اور زمین میں پانی کا لیول بھی بلند ہو جائے گا‘ آرلینڈو میں قانون ہے ہر رہائشی علاقے میں مصنوعی جھیل ضرور ہو گی‘ یہ جھیل بارش کے پانی سے بھر جاتی ہے اور یہ علاقے میں ہریالی کا ذریعہ بنتی ہے‘ ہم بھی ایسا قانون بنا کر اپنے مسائل کم کر سکتے ہیں اور اس میں زیادہ زور بھی نہیں لگانا پڑے گا لیکن کیا کیجیے انسان اگر کچھ نہ کرنا چاہے تو اس سے دیوتا بھی کچھ نیںڑ کروا سکتے اور اگر یہ کرنا چاہے تو یہ دوزخ میں بھی انگور کی بیل اگا سکتا ہے‘ سوئس لوگ ایسے لوگ ہیں جب کہ ہم نے دیوتاؤں کو بھی بے بس کر دیا ہے۔
ھیں مسلسل دھوکے میں رکھا جاتا ہے، جس سے معاملات ومسائل میں پیچیدگیوں کے علاوہ عوام کے ریاستی اداروں پر عدم اعتماد میںبھی اضافہ ہوا جیسا کہ ڈرون کے معاملہ میں حکومت کی دہری پالیسی نے عوام اور حکومت کے درمیان بداعتمادی پیدا کی ہے۔چہارم، میڈیا کو یک طرفہ پروپیگنڈا کرنے کے بجائے عوام تک صحیح اطلاعات اور معلومات کی غیر جانبدارانہ انداز میں رسائی کو یقینی بناناچاہیے۔ جساا کہ اوپر بیان کیا گیا ہے کہ ہر تجزیہ نگار امریکا کے بارے میں منفی باتیں کرکے اپنی مقبولیت بڑھانے کی تو کوشش کررہاہے ، مگر یہ بتانے کی جرأت نہیں کرتاکہ اس دوران پاکستان سے کیا غلطیاںسرزدہوئیں۔ متوشش شہریوں کا کہنا ہے کہ حکمران اور منصوبہ سازبیشک جھوٹ بول کر عوام کو بیوقوف بناتے رہیں،لیکن ذرایع ابلاغ کوکم ازکم اس قسم کے رویے سے گریز کرتے ہوئے عوام کو صحیح معلومات مہیا کرنا چاہیے اور جھوٹ کی بیخ کنی کرتے رہنا چاہیے۔
سوئس مزاج
جاوید چوہدری ہفتہ 13 جولائ 2013
ڈاکٹر احمد دلدار ہومیو پیتھک ڈاکٹر ہیں‘ یہ بیک وقت پاکستان اور سوئٹزرلینڈ میں پریکٹس کرتے ہیں‘ چار پانچ ہفتے سوئٹزر لینڈ میں رہتے ہیں اور چار پانچ پاکستان میں‘ یہ فیصل آباد کے رہنے والے ہیں اور سوئٹزرلینڈ میں چھور کنٹون کے چھوٹے سے شہر پورنٹری مںر رہتے ہیں‘ یہ فرنچ کنٹون ہے‘ فرانس کے بارڈر پر واقع ہے‘ پورنٹری شہر کی آبادی پانچ ہزار لوگوں پر مشتمل ہے‘ یہ پہاڑوں میں گھرا ہوا پرسکون اور خوبصورت شہر ہے‘ ڈاکٹر احمد دلدار اس ٹائون بلکہ اس کنٹون کے تیسرے پاکستانی ہیں‘ ایک پاکستانی دس بچوں کا والد ہونے کے باوجود اولڈ پیپل ہوم میں پڑا ہے‘ دوسرا اپنی چھوٹی سی فیملی کے ساتھ ڈالی موئونٹ میں رہائش پذیر ہے جب کہ تیسرے ڈاکٹر صاحب ہیں‘ ڈاکٹر صاحب ڈرائیونگ سوئٹزر لینڈ میں سیکھی تھی‘ یہ فریضہ کسی سوئس خاتون نے سرانجام دیا تھا۔
خاتون نے نئی نئی گاڑی خریدی تھی اور وہ اس گاڑی پر پارٹ ٹائم ڈرائیونگ سکھاتی تھی‘ خاتون نے ڈرائیونگ کے دوران ڈاکٹر صاحب کو گاڑی خریدنے کا واقعہ سنایا‘ خاتون کا کہنا تھا یہ گاڑی کے لیے قرضہ لینے بینک گئی‘ بینک نے اس سے گارنٹی مانگی‘ اس کے پاس والدہ کے سوا کوئی گارنٹی نہیں تھی‘ یہ والدہ کے پاس گئی‘ والدہ نے اس سے پوچھا بینک تمہیں کتنے فیصد سود پر قرض دے رہا ہے‘ اس نے بتایا ’’ تین فیصد پر‘‘ والدہ نے اسے پیش کش کی ’’ تم مجھے چار فیصد سالانہ ادا کر دو‘ میں تمہیں قرض دے دیتی ہوں‘‘ والدہ کا کہنا تھا‘ تم گارنٹی کے بغیر کسی بینک سے قرض نہیں لے سکو گی‘ میں تمہیں گارنٹی کے بغیر قرضہ دوں گی اور یہ ایک فیصد اس ’’ اندھے اعتماد‘‘ کی قیمت ہے‘ خاتون کا کہنا تھا اس نے والدہ کی پیش کش قبول کر لی اور یوں چار فیصد سالانہ سود پر یہ گاڑی خرید لی۔
یہ واقعہ بنیادی طور پر سوئس مزاج کا آئینہ دار ہے‘ سوئس لوگ بزنس مائینڈڈ ہںد‘ یہ کاروبار کا کوئی موقع ضایع نہیں کرتے‘ باپ بیٹے کے ساتھ‘ ماں بیٹی‘ بھائی بھائی اور سسر داماد کے ساتھ کاروبار کرتا ہے اور اس کاروبار پر فخر بھی کرتا ہے‘ یہ مزاج سوئٹزر لینڈ کی کامیابی کا پہلا گُر ہے‘ یہ مانگا تانگا ملک ہے‘ یہ ملک جرمنی‘ فرانس‘ آسٹریا اور اٹلی کے ’’ فضول‘‘ علاقوں کو جمع کر کے بنایا گیا‘ اس میں معدنیات ہیں‘ زمین ہے اور نہ ہی سمندر‘ یہ ملک سال کے سات ماہ برف میں دفن رہتا ہے اور باقی پانچ ماہ برف میں دفن ہونے کی تیاری کرتا رہتا ہے چنانچہ دیکھا جائے تو سوئس لوگوں کے پاس زندہ رہنے کے لیے کچھ نیںد بچتا لیکن ان لوگوں نے اپنی اس محرومی کو اپنی طاقت بنا لیا‘ انھوں نے کٹے پھٹے‘ ادھار لیے مشکل علاقوں کو دنیا کا خوبصورت ترین خطہ بنا لیا‘ یہ چھوٹی چھوٹی انڈسٹری میں گئے اور پوری دنیا کی توجہ کھینچ لی‘ سوئس گھڑیاں پوری دنیا میں مشہور ہیں۔
اس ملک میں دس ڈالر سے لے کر دس ملین ڈالر تک کی گھڑیاں بنتی اور بکتی ہیں‘ یہ ہیروں کے کاروبار میں آئے اور سوئس ہیرے اور زیورات شاہی خاندانوں کے لیے اعزاز بن گئے‘ یہ بینکنگ سیکٹر میں آئے اور پوری دنیا کے آمروں اور کرپٹ عمائدین کی دولت کھینچ لی‘ سوئس چاکلیٹ‘ سوئس مکھن‘ سوئس پنیر اور سوئس دودھ صحت اور ذائقے کا معیار بن گیا اور سوئس ریلوے کی پوری دنیا میں کوئی نظیر نہیں ملتی‘ ہم نے 1857ء میں سور کی چربی کے خلاف ہندوستان میں جنگ لڑی تھی اور ہم 1871ء میں جب بہادر شاہ ظفر کی موت کا ماتم کر رہے تھے سوئٹزر لینڈ اس وقت تک مائونٹین ریلوے (پہاڑی ریلوے) مکمل کر چکا تھا‘ اس نے پہاڑوں کی چوٹیوں اور گلیشیئرز تک ریل کی پٹڑی‘ انجن اور ڈبے پہنچا دیے‘ ہم کراچی سے لاہور تک ٹرین نہیں پہنچا پاتے جب کہ سوئس ٹرینیں ایک سیکنڈ کی تاخیر کے بغیر چوٹیوں تک پہنچ جاتی ہیں‘ دنیا میں ٹرینیں مختلف نامو ںسے پکاری جاتی ہیں لیکن سوئس ٹرینیں وقت سے پکاری اور جانی جاتی ہیں‘ یہ دس بج کر پانچ منٹ کی ٹرین ہے اور یہ نو بج کر ایک منٹ کی ٹرین اور یہ ٹرینیں وقت پر آئیں گی اور مقررہ وقت پر جائیں گی خواہ مسافر موجود ہو یا نہ ہو۔
سوئس مزاج کی بعض عادتیں‘ بعض چیزیں حیران کن بھی ہیں اور قابل تقلید بھی مثلاً ریاست ریٹائرمنٹ کے بعد بوڑھوں کو پنشن دیتی ہے‘ یہ پنشن ہر بوڑھے مرد و زن کو ملتی ہے مگر ریاست یہ پنشن فری نہیں دیتی‘ حکومت ریٹائرمنٹ کے بعد بابوں اور مائیوں کو دوبارہ ملازم رکھتی ہے‘ انھیں ان کے علاقے میں چھوٹی موٹی ملازمت دے دی جاتی ہے اور اس کے عوض انھیں پنشن دی جاتی ہے‘ مثلاً حکومت کسی مائی کو محلے کی جاسوسی کا فریضہ سونپ دے گی‘ یہ مائی سارا دن کھڑکی میں بیٹھ کر محلے میں آنے اور جانے والوں پر نظر رکھے گی‘ کسی بابے کو ریلوے اسٹنشں پر بیٹھ کر مسافروں کی حرکات سکنات نوٹ کرنے کی ذمے داری سونپ دی جائے گی‘ کسی ریٹائر شخص کو صبح کے وقت ایک گھنٹے کے لیے ٹریفک کنٹرول کرنے کا ٹاسک دے دیا جائے گا‘ کسی کو محلے کی صفائی کا خیال رکھنے کا فرض دے دیا جائے گا‘ کسی کو محلے بھر کے کتوں کا ڈیٹا جمع کرنے پر لگا دیا جائے گا اور کسی کو سوشل سروس‘ دوسروں کو زبان سکھانے یا بچے کھلانے کی ذمے داری دے دی جائے گی۔
اس سے بابے اور مائیاں بیکاری سے بھی بچ جاتے ہیں‘ یہ ایکٹو بھی رہتے ہیں اور ریاست پر بوجھ بھی کم ہو جاتا ہے‘ سوئس بابے اورمائیاں بھی خود کو ایکٹو رکھنے کے لیے چھوٹے موٹے کاروبار کرتی رہتی ہیں‘ مجھے مارکوٹی کی تمام دکانوں اور ریستورانوں پر مائیاں نظر آئیں اور یہ بڑھاپے میں ٹھیک ٹھاک کام کر رہی تھیں‘ دنیا جوہری جنگ کے خطرے سے بڑی حد تک نکل چکی ہے لیکن سوئس لوگوں اور ریاست نے اس کا بھرپور بندوبست کر رکھا ہے‘ سوئٹزر لینڈ کے تمام گھروں اور میونسپل کیٹیو ں میں ایسے تہہ خانے ہیں جن میں یہ لوگ چھ ماہ تک چھپ کر رہ سکتے ہیں‘ تمام سوئس بچے فوجی ٹریننگ لیتے ہیں‘ سوئٹزر لینڈ کی آبادی 74 لاکھ ہے لیکن تمام لوگ فوجی انداز میں رائفل چلانا جانتے ہیں لہٰذا اگر جنگ ہو جائے تو تمام بالغ سوئس لوگ فوجی بن جائیں گے‘ تمام گھروں میں ایک چھوٹا سا دفتر ہوتا ہے جس میں گھر کی فائلیں‘ فیکس مشین اور کمپیوٹر ہوتا ہے‘ یہ گھر کا دفتر ہوتا ہے جس میں گھر کا تمام ریکارڈ‘ بل اور باقی چیزیں رکھی جاتی ہیں۔
یہ لوگ ہماری طرح ضرورت کے وقت شناختی کارڈ تلاش نہیں کرتے رہ جاتے‘ مجھے ڈالی موئونٹ میں ایک عجیب چیز دیکھنے کا اتفاق ہوا‘ حکومت نے فلیٹس میں رہنے والوں کو چھوٹے فارم ہائوس الاٹ کر رکھے ہیں‘ یہ فارم ہائوس فلیٹس کے قریب ہوتے ہیں‘ تین سے پانچ مرلے کے ہوتے ہیں‘ الاٹی اس فارم ہائوس میں چھوٹا سا لکڑی کا ہٹ بنا سکتا ہے‘ لکڑی یا تار کی دو تین فٹ اونچی فینس لگا سکتا ہے اور باربی کیو کی ایک انگیٹھی بنا سکتا ہے‘ لوگوں نے ان فارم ہائوسز میں سبزیاں اور پھل اگا رکھے ہیں‘ ہر فارم ہائوس میں انگور کی بیلیں‘ سٹرابری کے پودے اور موسمی سبزیاں اگی تھیں‘ یہ لوگ شام کے وقت اپنے فارم ہائوسز میں باغبانی کرتے ہیں اور چھٹی کے دن خاندان کے ساتھ بار بی کیو۔ یہ فارم ہائوس کی پانی کی ضرورت بارش سے پوری کرتے ہیں‘ ہٹ کی چھت کے ساتھ پرنالے لگے ہیں اور پرنالوں کے نیچے بڑے بڑے ڈرم پڑے ہیں‘ بارش کا پانی ڈرموں میں جمع ہوتا ہے اور یہ پانی بعد ازاں پودوں کے کام آتا ہے‘ مجھے یہ آئیڈیا انوکھا بھی لگا اور پریکٹیکل بھی‘ ہم کم از کم اسلام آباد میں ایسا ضرور کر سکتے ہیں۔
سوئٹزر لینڈ میں عام لوگوں کا بہت خیال رکھا جاتا ہے‘ لوگوں کے آرام کے لیے رات کے وقت ائیر پورٹس تک بند کر دیے جاتے ہیں‘ زیورچ اور جنیوا شاید دنیا کے واحد انٹرنیشنل ائرو پورٹس ہیں جہاں رات کے وقت کوئی جہاز لینڈ کرتا ہے اور نہ ہی ٹیک آف۔ یہ رات کے وقت ملک سے بھاری اور شور کرنے والی ٹریفک بھی نہیں گزرنے دیتے‘ آپ فلیٹس کی عمارت میں رات کے وقت فلش سسٹم بھی نہیں چلا سکتے‘ سیڑھوں پر دھپ دھپ کر کے بھی نہیں چڑھ سکتے اور آپ کا کتا بھی رات کے وقت نہیں بھونک سکتا‘ اوور اسپیڈنگ پر بھاری جرمانہ ہوتا ہے اور یہ پاکستانی روپوں میں ڈیڑھ دو لاکھ روپے بنتا ہے‘ یہ لوگ صفائی کو پورا ایمان سمجھتے ہیں‘ پہاڑوں کی چوٹیوں تک ڈسٹ بن اور کچرا گھر بنے ہیں اور میونسپل کمیٹیوں کی گاڑیاں روزانہ ان کی صفائی کرتی ہیں‘ میں مارکوٹی میں جس جگہ رہ رہا ہوں‘ یہ پہاڑی علاقہ ہے۔
پہاڑ پر کچرا گھر بنے ہیں‘ یہ کچرا گھر اوپر سے بظاہر ’’ڈسٹ بن‘‘ محسوس ہوتے ہیں لیکن یہ اندر سے ’’ ٹنل‘‘ ہیں‘ یہ ٹنلز تین فٹ قطر کے پائپوں کے ذریعے ایک دوسرے سے منسلک ہیں‘ یہ ٹنلز پہاڑ کے نچے تک چلی جاتی ہیں‘ آپ پہاڑ کے اوپر ’’ڈسٹ بن‘‘ میں کچرا پھینکتے ہیں اور یہ کچرا چند سیکنڈ میں نیچے سڑک تک آ جاتا ہے‘ صبح کے وقت کمیٹی کا ٹرک آتا ہے‘ یہ لوگ ٹنل کے سرے پر پائپ لگاتے ہیں اور یہ پائپ چند سیکنڈ میں پورا کچرا کھینچ لیتا ہے‘ گھاس کاٹنا لازم ہے اور اگر کسی کے لان میں گھاس بڑی ہو اور وقت پر نہ کٹی ہو تو جرمانہ ہو جاتا ہے‘ آپ کو پورے ملک میں کوئی فقیر نظر نہیں آتا‘ آپ کسی جگہ پھیلا ہوا ہاتھ نہیں دیکھتے‘ لوگ چادر سے باہر پائوں نہیں نکالتے‘ روپے کی قدر کرتے ہیں‘ کاروبار کو نوکری پر فوقیت دیتے ہیں‘ دوسرے انسان کا احترام کرتے ہیں‘ چار پانچ زبانیں سیکھنا فرض سمجھتے ہیں۔
پیدل چلنا اعزاز سمجھتے ہیں اور ملک کا ماں باپ سے زیادہ احترام کرتے ہیں‘ سوئٹزر لینڈ سوشیالوجی کا عجائب گھر ہے‘ آپ جب تک اس کا مطالعہ نہیں کرتے آپ اس وقت تک ’’ ماڈرن لیونگ‘‘ کو نہیں سمجھ سکتے اور ان کی ماڈرن لیونگ کاروبار ہے‘ یہ کاروبار کرتے ہیں خواہ یہ ماں یا باپ ہو یا پھر بیٹا اور بیٹی۔ یہ بیٹی کو بھی گاڑی خریدنے کے لیے قرضہ دیتے ہیں تو ایک فیصد اضافی سود وصول کرتے ہیں اور اس میں کسی قسم کا عار محسوس نہیں کرتے‘ اس سے والدین اور اولاد کا رشتہ کمزور نہیں پڑتا یہ مزید مضبوط ہو جاتا ہے اور یہ وہ سوئس مزاج ہے جس نے سوئٹزر لینڈ کو سماجی جنت بنا دیا۔
مارکوئی
جاوید چوہدری منگل 9 جولائ 2013
لوگا نو سوئٹزرلینڈ کا درمیانے سائز کا شہر ہے‘یہ اٹلی کی سرحد پر واقع ہے میلان یہاں سے آدھ گھنٹے کے فاصلے پر ہے‘ اس شہر میں دوخوبصورت جھیلیں ہیں‘ ایک شہر کے وسط میں ہے‘ لوگا نو شہر اس جھیل کے گردا گرد آباد ہے جب کہ دوسری اس سے ذرا ہٹ کر دائیں جانب ہے‘یہ سرسبز پہاروں کے درمیان ہے‘ ان پہاڑوں پر چھوٹے چھوٹے گاؤں ہیں‘ان دیہات میں علاقے کے متموول ترین لوگ رہتے ہیں‘ ان کے دولت مند ہونے کی وجہ یہ علاقہ اور اس کا جغرافیہ ہے‘ لوگا نو بنیادی طور پر سیاحوں کا علاقہ ہے‘یہاں سوئٹزرلینڈ کا سب سے اچھا موسم ہوتاہے‘ مہینے کے زیادہ تر دنو ں میں سورج چمکتا رہتا ہے.
درجہ حرارت بھی باقی ملک کے مقابلے میں نسبتاً زیادہ ہوتا ہے اور بارشیں بھی کم ہوتی ہیں‘ یورپ میں ایسا موسم ‘ایسا علاقہ جنت سمجھا جاتا ہے‘چنانچہ دیہات کے لوگوں نے سیاحوں کی سہولت کے لیے پہاڑوں کی اترائیوں پر جھیل کے رخ خوبصورت ولازاور ہوٹل بنا رکھے ہیں ‘جھیل کے ساتھ ساتھ پانی کے سامنے اطالوی ریستوران بھی ہیں ‘یہ ولاز سات دن کے لیے کرائے پر مل جاتے ہیں‘ ان میں ڈرائنگ‘ ڈائننگ کے ساتھ ساتھ دو دو‘ تین تین بیڈرومز ہوتے ہیں سوئمنگ پول، چھوٹاسالان‘ گیراج اور باربی کیو کا رنر بھی ہوتا ہے‘ کھڑکیوں سے سارا دن جھیل نظر آتی رہتی ہے‘ آپ کے چاروں اطراف پہاڑوں پر ولاز بنے ہیں‘ ولاز کی سرخ چھتیں سبزے میں چھوٹے چھوٹے سرخ دھبے ہیں‘ یہ دھبے رات کے وقت ستارے بن جاتے ہیں ‘یہ ستارے جھیل کے پانی میں گھل کر آپ کو چند لمحوں کے لیے زندگی کے تمام دکھوں سے آزاد کر دیتے ہیں۔
جھیل پر موٹر بوٹس کی کمپنیاں بھی موجود ہیں‘ یہ کمپنیاں موٹر بوٹس کرائے پر دیتی ہیں‘ آپ سارا دن ان موٹر بوٹس کو جھیل میں دوڑتے اور پانی اڑاتے بھی دیکھتے ہیں‘ جھیل کے کنارے پر واقع گھروں میں موٹر بوٹس کی باقاعدہ گودی موجود ہے‘ یہ لوگ ذاتی موٹر بوٹس اس گودی پر باندھ دیتے ہیں اور یہ جب شہر جانا چاہتے ہیں یا دوسرے پہاڑوں پر آباد لوگوں سے ملنا چاہتے ہیں تو یہ اپنی موٹر بوٹ کی مدد لیتے ہیں یہ موٹر بوٹس پہاڑوں کی ٹرانسپورٹ ہیں۔
مار کوئی اس خوبصورت علاقے کا ایک چھوٹا سا گاؤں ہے‘ یہ گاؤں پہاڑ پرجھیل کے بائیں جانب آباد ہے اور یقیناً صدیوں سے آباد ہوگا کیونکہ اس گاؤں کی گلیاں چھوٹی اور مکان چٹانوں پر پتھروں سے بنے ہیں‘گاؤں کے دائیں بائیں اور اوپر نیچے مختلف سائز کے ولاز ہیں ۔ میں سات دنوں کے لیے 37 نمبر کے ولا میں مقیم ہوں‘ ولا کا مین دروازہ پہاڑ کی طرف کھلتا ہے‘ آپ دروازہ کھولتے ہیں تو ایک بلند سبز پہاڑ آپ کو سلام کرتا ہے‘ ولاکی بیک سائیڈ پر برآمدہ ہے اور اس برآمدے سے آپ کو پوری جھیل نظر آتی ہے‘پورے مکان کو مختلف قسم کی بیلوں نے ڈھانپ رکھا ہے‘ آپ جس طرف دیکھتے ہیں ‘آپ کو بیلیں اور بیلوں پر مختلف رنگ کے پھول نظر آتے ہیں‘ برآمدے کے بعد چھوٹا سا لان ہے اور جہاں لان ختم ہوتا ہے وہاں سے جھیل کے مناظر شروع ہو جاتے ہیں‘ لان کی سائیڈ سے سیڑھیاں اوپر جاتی ہیں اور ان سیڑھیوں کے آخر میں چھوٹا سا صاف ستھرا سوئمنگ پول ہے‘ اس مکان کی مالکہ کوئی اطالوی بیوہ ہے‘ یہ خاتوں یقیناً اعلی ذوق کی مالک ہو گی کیونکہ اس گھر کی ایک ایک چیز سے سلیقہ ، نفاست ، ڈھنگ اور خوبصورتی جھلکتی ہے اور یہ سب کچھ اعلی ذوق کے بغیر ممکن نہیں ‘مکان کی بالائی منزل پر یہ خاتون رہتی ہے‘ جب کہ نچلا حصہ وقتی سیاحوں کے لیے وقف ہے.
ہمارے پہنچنے سے قبل خاتون چھٹیوں پر روانہ ہو چکی تھی چنانچہ ابھی تک اس سے ملاقات نہیں ہو سکی‘ مارکوئی محض گاؤں نہیں بلکہ یہ بعض اوقات مجھے جزیرہ محسوس ہونے لگتا ہے کیونکہ یہ عام آبادی سے کٹا ہوا ہے‘ لوگانو شہر اس سے بیس منٹ کی ڈرائیو پر ہے‘مارکوئی میں صرف ایک بس آتی ہے اور اس کے اسٹاپ پر بھی جلی حروف میں لکھا ہے اس کا آنا اور جانا قطعی نہیں‘ چنانچہ آپ اس بس پر انحصار کی غلطی نہ کریں اور ساتھ میں لکھاہے ’’ہم آپ کے صبر کی داد دیتے ہیں‘‘ ہمارے مکان سے قریب ترین مارکیٹ چھ کلو میٹر دور ہے لہذا ہمیں دودھ لینے کے لیے چھ کلو میٹر نیچے جانا پڑتا ہے اور وہا ں سے پیدل واپس آنا پڑتا ہے اور یہ مارکیٹ بھی شام چھ بجے بند ہو جاتی ہے‘ گاؤں تک چھوٹی سی سنگل سڑک آتی ہے اور اس پر بھی ہر آدھے کلومیٹرپر ایسا مقام آجاتا ہے جس سے ایک وقت میں صرف ایک گاڑی گزر سکتی ہے۔ مکان ساتھ ساتھ ہیں مگر مکین کوسوں دور ہیں‘ کوئی ہمسائے کی طرف آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھتا زیادہ تر لوگ چھٹیاں گزارنے آتے ہیں اور چھٹیاں گزارنے کا پہلا اصول بلاوجہ علیک سلیک سے پرہیز ہے‘یہاں البتہ سیاح خاندانوں کے کتے ہمسایوں پر بھونک کر ان کی خیریت ضرور پوچھتے ہیں۔ مارکوئی کے کوے مری اور نتھیا گلی کے کوؤں کے خاندان سے تعلق رکھتے ہیں ‘ ان کے گلے بھی بیٹھے ہوئے ہیں اوریہ بیٹھے ہوئے گلوں کے ساتھ گاؤں کاسکوت توڑتے رہتے ہیں۔ صبح اور شام جھیل پر بگلوں کی ڈاریں آتی ہیں اور ماحول پر سفیدی پھیر کر چلی جاتی ہیں۔
اس گاؤں کی واحد تفریح ریستوران ہیں‘ شام کے وقت ریستوران آباد ہو جاتے ہیں ‘گورے گلاس سامنے رکھ کر اپنی ہم عمر خاتون کے کانوں میں گھس جاتے ہیں‘ ساز بجتے رہتے ہیں‘ پلیٹیں آتی ہیں اور چمچوں اور کانٹوں کی آوازمیں ساز سے الجھتی رہتی ہیں‘ یہ ہنگامہ بھی رات دس بجے ختم ہو جاتا ہے اور اس کے بعد مارکوئی پر گہر اسکوت طاری ہو جاتا ہے‘ ہر چیز گہری نندی میں چلی جاتی ہے‘ اس شہر میں سورج کیونکہ ساڑھے نو بجے غروب ہوتا ہے چنانچہ دس بجے پوری طرح اندھیرا نہیں پھیلتا‘یہ رات سے قبل کی صورتحال ہوتی ہے جس میں ہر چیز نیلی ہو جاتی ہے‘مارکوئی دس بجے پہلے نیلا پڑتا ہے اور پھر یہ نیلاپن آہستہ آہستہ سیاہی میں تحلیل ہو جاتا ہے‘ میں اس نیلے پن کو سیاہی میں تحلیل ہوتا دیکھنے کے لیے ہرشام نو بجے جھیل کے کنارے بیٹھ جاتا ہوں‘ جوں ہی رات کے دس بجتے ہیں ،ریستورانوں کے دروازے کھلتے ہیں لوگ نکلتے ہیں اور آہستہ آہستہ اپنے گھروں کی طرف چل پڑتے ہیں‘ پرندوں کی آوازیں بھی ایک ایک کر کے خاموش ہونے لگتیں ہیں‘ اور اس کے ساتھ ہی پورا منظر نیلا ہو جاتا ہے‘یہ نیلاہٹ آہستہ آہستہ نرم پڑتی ہے رات کی سیاہی اس کا گہراؤ کرتی ہے اور پھر پورا مارکوئی اندھیرے میں گم ہو جاتا ہے۔ پہاڑ سونے چلے جاتے ہیں مگر ان کے بدن کے ستارے رات بھر جھیل میں نہاتے رہتے ہیں اور یہ یہاں کا قیمتی ترین منظر ہوتا ہے۔
مارکوئی کا دوسرا قیمتی ترین منظر صبح کے وقت جاگنا ہے‘ میں نے برآمدے میں بیٹھ کر مارکوئی کی صبح کاذب کو صبح صادق میں ڈھلتے ہوئے دیکھا اور بے اختیار جوش ملیح آبادی کو داد دینے پر مجبور ہو گیا‘ جوش صاحب نے فرمایا تھا’’ اللہ تعالی کے وجود کو تسلیم کرانے کے لیے صبح کی دلیل کافی ہے‘‘ اور مارکوئی کی صبح اللہ تعالی کے وجود کی دلیل ہے ‘ ایسی صبحیں میں نے اس سے قبل صرف 5 جگہوں پر دیکھی تھیں‘ جھیل سیف الملوک پر، فیری میڈوز میں ‘یونان میں ڈیلفی کے مند ر کے سامنے ، سوئٹزرلڈنر کے سٹروکن میں اور اٹلی کے جزیرے کیپری میں ‘ مارکوئی میری ایسی چھٹی صبح تھی جس کے بعدنہ صرف خدا کے نہ ہونے کا ابہام ختم ہو جاتا ہے بلکہ آپ کو محسوس ہوتا ہے پوری کائنات آپ کے سامنے دوبارہ جنم لے رہی ہے‘ آپ کے کانوں میں’’کن‘‘ کی آواز آتی ہے اور اس کے ساتھ ہی نئی نویلی کائنات آپ کی آنکھوں کے سامنے روشن ہو جاتی ہے‘ میں روشنی پھیلنے کے بعد جھیل کے ساتھ ساتھ چل پڑتا ہوں اور چلتا چلتا دور تک نکل جاتا ہوں‘ مارکوئی کے بعدملاوی گاؤں آتا ہے‘ میں اس گاؤں کے ریستوران میں کافی پیتا ہوں اور پھر واپسی کا سفر شروع ہو جاتا ہے۔
غالب سے کسی نے پوچھا تھا ’’ عیش کیا ہوتا ہے‘‘ غالب نے جواب دیا’’آپ کا شوق اگر آپ کے رزق کا وسیلہ بن جائے تو دنیا میں اس سے بڑی کوئی عیاشی نہیں ‘‘ میں جب بھی اللہ تعالی کی نعمتیں گنتا ہوں تو میری پلکیں فوراً سجدہ ریز ہو جاتیں ہیں اور دل دھک دھک کے بجائے شکر شکر کی آواز دینے لگتا ہے ‘مطالعہ اورتحریر میرا شوق تھا‘ اللہ تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکر ہے اس نے میرے شوق کو میرے رزق کا وسیلہ بنا دیا‘ خوش حالی کی دعا کی تو اس نے ٹی وی کو تمول کا ذریعہ بنا دیا‘ دنیا دیکھنے کی تمنا تھی اللہ تعالی نے کرم فرمایا وسائل میں اضافہ ہوا‘ دنیا کے دروازے کھلے ، ہمت اورحوصلہ عطا ہوا اور میں کام کے ساتھ ساتھ دنیا دیکھتا جارہا ہوں اور اس دنیا سے سیکھتا جا رہا ہوں‘ طبیعت میں آزادی ہے‘ چنانچہ اللہ تعالی نے کبھی کوئی ایسا موقع نہیں آنے دیا کہ کسی شخص کا کوئی احسان‘ کوئی مہربانی اور عنایت اس کے سامنے جھکنے پر مجبور کر دے ۔
انسانی تعلقات میں جب بھی کوئی ایسا مرحلہ آنے لگتا ہے جس کا نتیجہ غلامی کی شکل میں نکل سکتا ہے تو اللہ تعالی کی ذات کوئی ایسا بہانہ پیدا کر دیتی ہے جس کی نتیجے میں احسان کا بار آگے سرک جاتا ہے اور میں صاف بچ جاتا ہوں‘ یہ اللہ تعالی کی ہزاروں نعمتوں کا ابتد ا ئیہ ہے‘۔مارکوئی کی جھیل کے کنارے بیٹھ کر اللہ تعالی کی یہ تمام نعمتیں یاد آگئیں جن کا میں اہل تھا اور نہ ہی حق دار مگر اللہ تعالی کو مجھ پر رحم آگیا اور اس نے اپنی رحمت کے دروازے مجھ پر کھول دیے‘ میری آنکھوں میں آنسو آگئے اور میں سیدھا ہوا اور بینچ پر سجدہ ریز ہو گیا‘ پوری کائنات اس وقت میرے ساتھ ساتھ شکر ادا کررہی تھی۔
آرلینڈو… حاصلِ سفر
جاوید چوہدری ہفتہ 6 جولائ 2013
آرلینڈو میں ڈزنی ورلڈ کے علاوہ دو بڑی کیان ں ہیں‘ سی ورلڈ کے تین پارک ہیں‘ ایک پارک آبی حیات اور رولر کوسٹرز پر مشتمل ہے‘ ا س پارک میں بڑے بڑے ایکیورم ہیں‘ ان ایکیورمز میں مختلف قسم کی ہزاروں بلکہ لاکھوں مچھلیاں ہیں‘ اس میں شارک‘ ڈولفن اور شمو مچھلیوں کے لائیو شو بھی ہوتے ہیں‘ پانی کے بڑے بڑے تالابوں کے سامنے اسٹیڈیم بنے ہیں‘ اسٹیڈیمز میں پچاس ساٹھ ہزار لوگ بیٹھ جاتے ہیں اور سامنے تالاب اور تالاب کے اسٹیج پر ڈولفن اور شارک مچھلیوں کے شو ہوتے ہیں۔
ڈولفن مچھلیاں ٹرینرز کو اپنے اوپر بٹھا کر تالاب کا چکر لگاتی ہیں‘ پانی سے دس دس فٹ اوپر اچھل کر دکھاتی ہیں‘ تماشائی تالیاں بجاتے ہیں تو یہ ان کی طرف اپنے گلپھڑے ہلاتی ہیں‘ شارک مچھلیوں کا شو بھی حیران کن اور قابل ستائش ہے‘ اس پارک میں پینگوئن کا غار بھی ہے‘ اس غار کا درجہ حرارت منفی دس ہوتا ہے‘ پینگوئن قدرتی ماحول اور درجہ حرارت میں انجوائے کرتے ہیں‘ سی ورلڈ کا دوسرا پارک بش گارڈن کہلاتا ہے‘ یہ جنگل سفاری ہے‘ یہ آرلینڈو کے مضافات میں ہے۔
آپ کو ایک گھنٹہ ڈرائیو کر کے یہاں پہنچنا پڑتا ہے‘ بش گارڈن گھنا جنگل ہے جس میں خطرناک جانور قدرتی ماحول میں رہتے ہیں‘ جنگل میں سفاری ٹرین چلتی ہے جس میں سوار ہو کر لوگ جانوروں کو قدرتی ماحول میں دیکھتے ہیں‘ ان کا تیسرا پارک ’’واٹر پارک‘‘ ہے‘ اس میں پانی کے کھیل‘ جھولے اور رائیڈز ہیں‘ سی ورلڈ میں آپ شارک مچھلیوں کے ساتھ گہرے پانی میں تیر بھی سکتے ہیں مگراس کے لیے آپ کو دو مہینے قبل وقت لینا پڑتا ہے‘ سی ورلڈ بھی ایک حیرت کدہ ہے اور آپ جب تک کھلی آنکھوں سے یہ حیرت کدہ نہیں دیکھتے آپ کو اس کا یقین نہیں آئے گا۔
آرلینڈو کی تیسری بڑی کمپنی یونیورسل اسٹوڈیوز ہے‘ یونیورسل اسٹوڈیوز فلم سازی کی ایک بڑی کمپنی ہے‘ یہ کمپنی اب تک ہزاروں فلمیں بنا چکی ہے‘ یونیورسل اسٹوڈیوز نے بھی آرلینڈو میں دو پارک بنا رکھے ہیں‘ پہلا پارک ایڈونچر لینڈ کہلاتا ہے اور دوسرا یونیورسل اسٹوڈیوز‘ یونیورسل اسٹوڈیوز میں بیس کے قریب تھری ڈی اور فور ڈی اسٹوڈیوز ہیں جن میں جدید سائنسی بصری شو چلتے ہیں اور ہر شو انسان کے دماغ کی نسوں میں اتر جاتا ہے اور آپ اس کے سحر میں گرفتار ہو جاتے ہیں جب کہ ایڈونچر لینڈ میں رولرکوسٹرز اور رائیڈز ہیں‘ یہ انتہائی تیز اور پریشان کن رائیڈز ہیں‘ ان رائیڈز کے دوران آپ کا دماغ سن ہو کر رہ جاتا ہے‘ میں جھولوں سے ڈرتا ہوں لیکن میں نے اس کے باوجود یونیورسل اسٹوڈیوز‘ سی ورلڈ اور ڈزنی ورلڈ کی تمام رائیڈز اور رولر کوسٹرز سے بھرپور ’’فائدہ‘‘ اٹھایا‘ اس کی وجہ وہ اناؤنس منٹ بنی جو گھمبیر آواز میں ہر رائیڈ کے دروازے پر کی جاتی تھی‘ کسی بوڑھے امریکی کی آواز میں تماشائیوں کو بتایا جاتا تھا ’’ آپ اگر کمزور دل کے مالک ہیں‘ آپ کو اگر جھولوں کے دوران چکر آتے ہیں‘ آپ دل کے مریض ہیں‘ بلڈ پریشر کے عارضے میں مبتلا ہیں یا پھر آپ تازہ تازہ سرجری کے عمل سے گزرے ہیں تو آپ اس رائیڈ سے پرہیز کریں کیونکہ اس سے آپ کے مرض میں اضافہ ہو سکتا ہے‘‘ وغیرہ وغیرہ
میں نے جب پہلی بار یہ اناؤنس منٹ سنی تو مجھے خیال آیا آج سے دس پندرہ سال بعد میں بھی عمر کے اس حصے میں داخل ہو جاؤں گا جس میں یہ امراض عام ہوتے ہیں اور میں اگر اس وقت چاہوں بھی تو میں شاید یہ ایڈونچر نہ کر سکوں چنانچہ یہ ’’عیاشی‘‘ آج ہو سکتی ہے‘ میں یہ سوچ کر میدان میں کود گیا اور میں نے اپنے بچوں کا بھرپور ساتھ دیا یہاں تک کہ میں ہر رائیڈ پراپنے بچوں سے پہلے پہنچ جاتا تھا‘ یہ میری زندگی کا دلچسپ ترین تجربہ تھا‘ ایک ایسا تجربہ جس میں آپ بچوں کے ساتھ بچے بن جاتے ہیں‘ جس میں آپ تمام فکریں‘ تمام اندیشے اور تمام خوف ’’ڈسٹ بن‘‘ میں پھینک دیتے ہیں اور جس میں آپ کی زندگی سے گزرا ہو کل اورآنے والا کل دونوں خارج ہو جاتے ہیں اور آپ صرف اور صرف آج میں زندہ رہتے ہیں‘ صرف آج میں اور میں نے آرلینڈو میں آج کا فارمولہ سیکھ لیا‘ میں جان گیا جس شخص کا آج اچھا نہیں ہوتا اس کا گزرا ہوا کل بھی خراب ہوتا ہے اور آنے والے کل کے اچھے ہونے کے تو سرے سے امکانات ہی نہیں ہیں۔
آپ اگر آرلینڈو کو فضا سے دیکھیں تو یہ جھیلوں اور جنگلوں کا خوبصورت امتزاج دکھائی دیتا ہے‘ ہم لوگ جمعرات کی صبح آلینڈو سے سوئٹزرلینڈ کے لیے نکلے‘ زیورچ ہماری اگلی منزل ہے‘ ہم زیورچ سے لوگان چلے جائیں گے‘ یہ اٹلی کے بارڈر پر خوبصورت سوئس شہر ہے‘ اس کی جھیل انتہائی خوبصورت اور پرسکون ہے‘ میں آج سے چھ سال قبل اس شہر سے گزرا تھا‘ مجھے اس کی جھیل پر آدھ گھنٹہ رکنے کا موقع ملا‘ میں نے اس وقت فیصلہ کیا اگر اللہ تعالیٰ نے موقع دیا تو میں فیملی کو اس جگہ لے کر آؤں گا اور ہم چند دن اس جگہ پر گزاریں گے‘ اللہ تعالیٰ نے کرم کیا اور بے شمار دوسری خواہشوں کی طرح یہ خواہش بھی پوری ہو گئی‘ ہم لوگانو کی طرف روانہ ہو گئے۔
آرلینڈو سے جہاز اڑا اور ہم نے کھڑکیوں سے نیچے جھانک کر دیکھا تو نیچے انتہائی دل فریب نظارہ تھا‘ دور دور تک چھوٹی بڑی جھیلیں بکھری ہوئی تھیں‘ ان جھیلوں کے گرداگرد ہزاروں ایکڑ طویل جنگل تھے اور ان جنگلوں کے درمیان کہیں کہیں آبادیاں تھیں‘ یہ آبادیاں آرلینڈو شہر تھا‘ امریکی آباد ہونا اور اپنی آبادی کو خوبصورت بنانا جانتے ہیں‘ یہ سبزے کے درمیان چھوٹے چھوٹے محلے آباد کرتے ہیں‘ ان محلوں میں دنیا جہاں کی سہولتیں ہوتی ہیں‘ یہ محلے جب ایک خاص حد کو چھونے لگتے ہیں تو یہ نئی آبادی آباد کر لیتے ہیں چنانچہ آپ اگر نیویارک‘ شکاگو‘ لاس اینجلس سے باہر نکل جائیں تو آپ کو امریکا کا ہر شہر کھلا اور پھیلا ہوا ملتا ہے اور آپ کو ایک مقام سے دوسرے مقام تک جانے میں آدھ گھنٹہ لگ جاتا ہے‘ ان کے زیادہ تر شہرڈیڑھ ڈیڑھ‘ دو دو گھنٹے کی ڈرائیو جتنے طویل ہوتے ہیں‘ آرلینڈو بھی ایک ایسا ہی شہر ہے‘ مجھے اس شہر میں تین باتیں مختلف نظر آئیں‘ ہو سکتا ہے امریکا کی دوسری ریاستوں میں بھی ایسا ہوتا ہو لیکن یہ میرے لیے نئی باتیں تھیں۔
میں نے شہر میں سرخ رنگ کی بسیں دیکھیں‘ معلوم کرنے پر پتہ چلا یہ بلڈ بسیں ہیں‘ ان بسوں کے اندر بیڈز لگے ہیں‘ یہ مختلف سڑکوں‘ مارکیٹوں اور محلوں میں کھڑی ہو جاتی ہیں‘ یہ لوگوں کو خون کا عطیہ دینے کی ترغیب دیتی ہیں‘ لوگ گزرتے گزرتے بس کے قریب رک جاتے ہیں اور بس کا عملہ انھیں بس میں لٹا کر ان سے ایک یا دو بوتل خون کا عطیہ لے لیتا ہے‘ بس میں خون کو اسٹور کرنے کا بھرپور انتظام موجود ہوتا ہے‘ یہ بسیں بعد ازاں یہ خون اسپتالوں کو پہنچا دیتی ہیں۔
دوسری بات مجھے اسپتالوں کے نام‘ وارڈز کے نام اور کمرے مختلف لوگوں سے منسوب ملے‘ پتہ چلا پرائیویٹ لوگ اسپتالوں کو ڈونیشن دے کر یہاں اپنے نام کی تختی لگوا سکتے ہیں‘ لوگ اسپتالوں میں اپنے نام کی وارڈز اور کمرے بھی بنوا سکتے ہیں اور پوری زندگی ان کمروں کا معاشی بوجھ بھی اٹھا سکتے ہیں‘ تیسری بات اسکولوں کی عمارتیں‘ کھیل کے میدان اور کلاس رومز بھی لوگوں سے منسوب تھے‘ پتہ چلا یہ رومز‘ کھیل کے میدان اور عمارتیں بھی پرائیویٹ لوگوں نے بنوائی تھیں‘ یہ تینوں اچھی روایات ہیں‘ ہم بھی پاکستان میں یہ روایات شروع کر سکتے ہںں‘ ہم مخیرحضرات کی حوصلہ افزائی کریں اور یہ لوگ سرکاری اسکولوں اور اسپتالوں کی ذمے داری اٹھا لیں‘ ہم اس کے بدلے یہ اسپتال اور اسکول یا ان کا کوئی ایک شعبہ ان کے نام منسوب کر سکتے ہیں‘ اس سے ان کا نام بھی زندہ رہے گا اور عام اور غریب لوگوں کا بھلا بھی ہو جائے گا اور یہ آرلینڈو کا تفریح سے زیادہ بڑا حاصل تھا‘ حاصل سفر۔
ڈزنی ورلڈ
جاوید چوہدری پير 1 جولائ 2013
فلوریڈا امریکا کی ریاست ہے اور آرلینڈو اس کا شہر‘ یہ شہر‘ شہر کم اور جادونگری زیادہ ہے‘ اس کا درجہ حرارت پینتیس سینٹی گریڈ تک چلا جاتا ہے‘ سورج صبح کے وقت ہی تپنا شروع ہو جاتا ہے‘ آرلینڈو شہر کیونکہ ماحولیاتی آلودگی سے پاک ہے چنانچہ دھوپ براہ راست جلانے لگتی ہے‘ یہ سوئیوں کی طرح آپ کی جلد میں اترنے لگتی ہے‘ آپ ہیٹ اور سن بلاک کے بغیر باہر نہیں نکل سکتے لیکن اس کے باوجود شہر میں تقریباً روزانہ بارش ہوتی ہے‘ شامیں اور راتیں انتہائی خوش گوار ہوتی ہیں‘ آپ کو گرمیوں کے دنوں میں اس شہر میں پوری دنیا اور پورے امریکا کے لوگ ملتے ہیں۔
لوگ یہاں کیوں آتے ہیں؟ یہ میں آپ کو اگلی سطروں میں عرض کروں گا‘ سرے دست میں آپ کو آرلینڈو کے بارے میں بتاتا چلوں‘ یہ سنگترے اور بلیو بیری کا شہر ہے‘ آپ شہر سے باہر نکلیں تو آپ کو سنگتروں اور بلیو بیری کے سیکڑوں باغ ملتے ہیں‘ یہ شہر ’’اورنج انڈسٹری‘‘ کہلاتا تھا‘ سنگترے کے باغوں میں اب کمی ہو گئی ہے لیکن یہ اس کے باوجود اب بھی ’’اورنج سٹی‘‘ کہلاتا ہے‘ یہ کھلا شہر ہے‘ آپ کو ایک افق سے دوسرے افق تک وسعت اور کھلا پن محسوس ہوتا ہے‘ شہر پر جب بادل اترتے ہیں تو منظر انتہائی خوبصورت ہوتا ہے‘ آبادی پھیلی ہوئی ہے‘ مکان دور دور ہیں لہٰذا آپ کو تنگی یا رش کا احساس نہیں ہوتا‘ لوگ صفائی پسند ہیں‘ آپ کو شہر کے کسی حصے میں گندگی نظر نہیں آتی‘ گرمی کی وجہ سے ہر عمارت میں سوئمنگ پول ہے اور لوگ اس میں نہاتے دکھائی دیتے ہیں‘ ہر عمارتی بلاک کا کلب ہے جس میں سوئمنگ پول‘ جم‘ پلے ایریا اور چھوٹی سی دکان ہوتی ہے۔
شہر کی انتظامیہ نے گرمی کا زور توڑنے اور خوبصورتی میں اضافے کے لیے مصنوعی جھیلیں بنا رکھی ہیں‘ ہر عمارتی بلاک تعمیر کے دوران مٹی کھودتا ہے اور اس گڑھے کو جھیل بننے دیتا ہے چنانچہ ہر عمارتی بلاک میں چھوٹی سی جھیل ہے‘ یہ جھیلیں بارش کے پانی سے بھرتی ہیں‘ ان کی وجہ سے درجہ حرارت بھی کم ہوتا ہے‘ خوبصورتی میں بھی اضافہ ہوتا ہے‘ سبزہ بھی اگتا ہے اور زیر زمین پانی کا لیول بھی مینٹین رہتا ہے‘ آرلینڈو شہر میں دو ہزار ایسی چھوٹی بڑی جھیلیں ہیں اور ان کی نسبت سے اگر اسے جھیلوں کا شہر کہا جائے تو یہ بھی غلط نہیں ہوگا۔
یہ شہر ماضی میں کسی فوجی افسر کے نام پر جرجین ہوتا تھا لیکن پھر کسی غلطی کی وجہ سے اس کے سارے فوجی اعزاز واپس لے لیے گئے‘ لوگوں نے محسوس کیا اگر ہمارے شہر کا نام جرجین رہے گا تو ہماری نسلیں پوری زندگی وضاحت کرتی رہیں گی چنانچہ انھوں نے شہر کا نام بدل دیا۔ آرلینڈو کا لفظ شیکسپیئر کے ڈرامے ’’ ایز یو لائیک‘‘ سے لیا گیا ہے اور یوں یہ شہر آر لینڈو ہو گیا‘ امریکی اسے اوٹاؤن بھی کہتے ہیں۔
آرلینڈو دنیا میں تفریح کی وجہ سے پہچانا جاتا ہے‘ یہ تفریح کا ویٹی کن سٹی یا دارالحکومت بھی کہلاتا ہے‘ اس شہر میں ڈزنی لینڈ کے نام سے دنیا کا سب سے بڑا تفریحی پارک ہے‘ یہ پارک کارٹون کریکٹر میکی ماؤس کے خالق والٹ ڈزنی نے بنوایا‘ یہ پچیس ہزار ایکڑ پر محیط ایک ماڈرن جادونگری ہے‘ ڈزنی ورلڈ کے لیے اس جگہ کے انتخاب کی چار بڑی وجوہات تھیں‘ پہلی وجہ اس کا موسم ہے‘ آرلینڈو گرم خطہ ہے اور گوری قومیں گرمیوں میں گرم جگہوں کی تلاش میں رہتی ہیں چنانچہ یہ جگہ پورے امریکا کو ’’سوٹ‘‘ کرتی تھی‘ دو‘ یہ امریکا کا وسطی مقام ہے‘ امریکی شمال‘ جنوب اور مشرق اور مغرب سے بڑی آسانی سے یہاں آ سکتے تھے‘ تیسری وجہ فلوریڈا میں زمین کی خریدوفروخت پر ٹیکس نہیں تھا چنانچہ والٹ ڈزنی نے بڑی آسانی سے ہزاروں ایکڑ زمین خرید لی اور چوتھی وجہ ‘ یہ شہر سمندر کے قریب ہے‘ آرلینڈو سے ساڑھے تین گھنٹے کی ڈرائیو پر امریکا کی سب سے اچھی بیچ میامی موجود ہے۔
امریکی عوام گرمیوں میں ساحلوں کی تلاش میں رہتی ہے چنانچہ یہ شہر ’’ ٹو ان ون‘‘ ثابت ہوا‘ ڈزنی ورلڈ چار پارکوں کا مجموعہ ہے‘ میجک کنگڈم‘ اینیمل کنگڈم‘ ایپ کوٹ اور ہالی ووڈ اسٹوڈیوز۔ میجک کنگڈم میں درجنوں جھولے اور رائیڈز ہیں‘ ہر رائیڈ دل دہلا دیتی ہے اور ہر شو انسان کی توجہ کھینچ لیتا ہے‘ اینیمل کنگڈم ایک طویل جنگل ہے‘ یہ جنگل بنیادی طور پر سفاری اور چڑیا گھر ہے‘ آپ کو فلک بوس درختوں کے درمیان دنیا کے تمام چھوٹے بڑے جانور ملتے ہیں‘ آپ کو جنگل سفاری پری بھی لے جایا جاتا ہے اور انتہائی برق رفتار’’ رائیڈ‘‘ کے ذریعے ’’ ماؤنٹ ایورسٹ‘‘ پر بھی۔ ایپ کوٹ جدید ترین رائیڈز اور شوز کا مجموعہ ہے‘ اس پارک میں ایک طویل جھیل بھی ہے‘ اس جھیل کے گرد دنیا کی بڑی بڑی سولائزیشنز کے محلے بنے ہیں‘ ان محلوں میں ریستوران‘ شاپنگ سینٹرز اور کافی ہاؤسز ہیں‘ شام کے وقت اس جھیل کے گرد چکر لگانا زندگی کا خوبصورت ترین تجربہ ہے‘ ہالی ووڈ اسٹوڈیوز فلموں کی دنیا ہے‘ اس کے مختلف اسٹوڈیوز میں ہالی ووڈ کی بڑی فلموں اور شوز کی میکنگ دکھائی جاتی ہے‘ ڈزنی ورلڈ میں ان کے علاوہ واٹر پارکس بھی ہیں جن میں پانی کے کھیل کھیلے جاتے ہیں‘ ان پارکس میں دریا بھی ہیں‘ جھیلیں بھی‘ فوارے بھی اور موسیقی اور روشنیوں کی آبشاریں بھی‘ ڈزنی ورلڈ کو پوری طرح دیکھنے کے لیے کم از کم دس دن چاہئیں کیونکہ ہر چیز آپ کی توجہ کھینچ لیتی ہے اور آپ گھنٹوں اس کے سحر میں گم رہتے ہیں۔
میں بچوں کے ساتھ آرلینڈو آیا ہوں‘ ہم صبح آٹھ بجے ڈزنی ورلڈ کے لیے نکل جاتے ہیں اور رات گیارہ بجے آتش بازش کے شو کے بعد واپس آتے ہیں‘ ڈزنی کے ہر پارک میں آتش بازی کا مظاہرہ ہوتا ہے اور ہجوم یہ تماشا دیکھ کر پاگل ہو جاتا ہے‘ آرلنڈوو دنیا کی سب سے بڑی تفریحی منزل ہے‘ ہر سال یہاں چھ کروڑ لوگ آتے ہیں‘ ڈزنی ورلڈ ہر سال چھ سے آٹھ ارب ڈالر کماتی ہے‘ روزانہ دو کروڑ ڈالر کے ٹکٹ فروخت ہوتے ہیں اور روزانہ پچاس ہزار سے ایک لاکھ لوگ ان پارکس کی وزٹ کرتے ہیں‘ لوگوں کے اس رش کی وجہ سے شہر میں ایک ہزار ہوٹل‘ ایک لاکھ 13 ہزار کمرے‘ 26 ہزار ویکیشن ہاؤسز اور 16 ہزار عارضی ویکیشن ہاؤسز ہیں‘ یہ تعداد دنیا میں سب سے زیادہ ہے۔
شہر میں پانچ ہزار ایک سو 80 ریستوران ہیں‘ ڈزنی ورلڈ کے ملازمین کی تعداد 62 ہزار ہے‘ اس میں روزانہ کتنے کپڑے دھلتے ہیں؟ آپ اگر روز ایک ٹب کپڑے دھوئیں اور 68 سال تک دھوتے رہیں تو یہ ڈزنی ورلڈ کے ایک دن کے کپڑوں کے برابر ہوں گے‘ ڈزنی ورلڈ میں 272 بسیں چلتی ہں ‘ روزانہ تیس ہزار گاڑیاں آتی ہیں‘ یہ کمپنی دنیا کی سب سے بڑی پرائیویٹ پارکنگ کی مالک بھی ہے‘ دنیا میں سب سے زیادہ کوک اور پانی ان پارکس میں پیا جاتا ہے‘ دنیا کا سب سے بڑا پرائیوٹ ڈیٹا ہاؤس ڈزنی ورلڈ کے پاس ہے اور دنیا میں سب سے زیادہ قہقہے‘ مسکراہٹیں اور حیرت سے بھری ہوئی چیخیں اس جگہ سنی اور سنائی جاتی ہیں‘ آرلینڈو دنیا کا سب سے بڑا تفریحی پارک بن چکا ہے‘ اس میں اس قسم کی 95 اٹریکشنز ہیں‘ آپ اگر یہ سب دیکھنا چاہیں تو آپ کو 67 دن اور ساڑھے آٹھ گھنٹے درکار ہوں گے۔
اللہ تعالیٰ اگر وسائل دے‘ آپ کی ٹانگوں میں جان ہو اور آپ کو اولاد کی نعمت نصیب ہوئی ہو تو آپ کو زندگی میں کم از کم ایک بار آرلینڈو ضرور جانا چاہیے اور آپ کو ڈزنی ورلڈ بھی دیکھنی چاہیے کیونکہ ورلڈ‘ ڈزنی ورلڈ کے بغیر مکمل نہیں ہوتی‘ آپ اس کی سیر کے بغیر انسانی عقل کے کمالات‘ انسان کی جدت سازی‘ سائنس کے عروج اور انجینئرنگ کی معراج کو نہیں سمجھ سکتے‘ ڈزنی ورلڈ میں سیکڑوں تھیٹرز‘ رائیڈز اور شوز ہیں اور آپ ہر شو کے بعد یہ کہنے پر مجبور ہو جاتے ہیں‘ یہ سب سے اعلیٰ تھا لیکن آپ اگلا شو شروع ہوتے ہی پچھلا بھول جاتے ہیں اور یہ ڈزنی ورلڈ کا کمال ہے۔
تاریخ سے کوئی سبق نہیں سیکھتا (آخری حصہ)
جاوید چوہدری اتوار 23 جون 2013
یہ درست ہے کوئی شخص‘ کوئی لیڈر اور کوئی حکومت دس دن‘ دس ماہ یا دس سال میں راولپنڈی کو واشنگٹن نہیں بنا سکتی‘ کوئی دیوار چین بھی نہیں بنا سکتا‘ کوئی دم توڑتے پاکستان ریلوے کو سوئس ریلوے بھی نہیں بنا سکتا‘ کوئی شخص دس دنوں میں ساڑھے چھ ہزار میگاواٹ کا شارٹ فال بھی ختم نہیں کر سکتا‘ کوئی حکومت دس دنوں میں کوئٹہ اور پشاور کو محفوظ بھی نہیں بنا سکتی اور کوئی وزیر داخلہ دس ماہ میں کراچی شہر کا گند بھی صاف نہیں کر سکتا لیکن یہ بھی حقیقت ہے آپ اگر قوم کو اپنی سنجیدگی‘ اپنے اخلاص اور اپنے وژن کا یقین دلانا چاہیں تو دس دن بہت ہوتے ہیں اور پوری دنیا کی تاریخ لیڈروں کے دس ابتدائی دنوں کے کارناموں سے بھری پڑی ہے‘ ہم اس سلسلے میں نیلسن منڈیلا کی مثال دے سکتے ہیں‘ نیلسن منڈیلا 27 سال انگریزوں کی جیل میں رہا۔
ان 27سالوں میں قید تنہائی کے چھ سال بھی شامل تھے‘ جیل میں اس سے انتہائی انسانیت سوز سلوک کیا گیا‘ اس نے27 سال تیسرے درجے کے قیدی کی حیثیت سے جیل کاٹی اور اسے کسی جگہ بی کلاس یا سرور پیلس کی سہولت نہیں ملی ‘ یہ نیلسن منڈیلا فروری 1990ء کو جیل سے نکلا‘ اس نے اپریل 1994ء میں الیکشن جیتا اور اس نے ابتدائی دس دنوں میں جنوبی افریقہ کی سمت طے کر دی‘ اس نے کیا کیا؟اس کی ابتدا صدارت کے پہلے دن سے ہوتی ہے‘ یہ اپنے ذاتی گھر کے ذاتی بیڈ روم سے نکلا‘ اس کیپ ٹائون میں معمول کے مطابق گارڈ کے بغیر جاگنگ کی جس میں فٹ پاتھوں اور سڑکوں پر لاشیں پڑی تھیں اور دہشت گرد گھات لگا کر گولی مار رہے تھے‘ یہ مئی 1994ء کو ایوان صدر میں داخل ہوا تو اس نے پہلا آرڈر دیا ایوان صدر اور آفس میں موجود تمام گورے افسر اپنے پرانے عہدوں پر کام کریں گے‘ کسی گورے کو نوکری سے نہیں نکالا جائے گا‘ اس کا دوسرا آرڈر سیکیورٹی گارڈز سے متعلق تھا۔
اس نے حکم دیا میری سیکیورٹی کی ذمے داری انہی گورے افسروں کے پاس رہے گی جو انگریز صدر کی حفاظت کرتے تھے‘ اس کا تیسرا آرڈر تھا ’’میں اپنے مہمانوں کو خود چائے بنا کر دوں گا‘ کوئی ویٹر مجھے اور میرے مہمانوں کو سرو نہیں کرے گا‘‘ اس کاچوتھا آرڈر تھا میں اپنے ذاتی گھر میں رہوں گا اور شام کے وقت نائٹ اسٹاف کے سوا کوئی میری ڈیوٹی نہیں دے گا‘ اس کا پانچواں آرڈر تھا ملک میں موجود تمام گورے جنوبی افریقہ کے شہری ہیں اور جو انھیں تنگ کرے گا اس کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی ہوگی‘ اس کا چھٹا آرڈر تھا آج سے میرا کوئی سیاسی اور ذاتی مخالف نہیں ہوگا‘ مں اپنے تمام مخالفوں کے پاس گارڈز کے بغیر جاؤں گا‘ اس کا ساتواں آرڈر تھا ملک کی سرکاری میٹنگ میں میرے خاندان اور میرے دوستوں میں سے کوئی شخص شامل نہیں ہوگا اور اس کا آٹھواں حکم تھا میں اس ملک کا ایک عام شہری ہوں چنانچہ میرے ساتھ وہ قانونی سلوک کیا جائے جو عام شہری کے ساتھ ہوتا ہے۔
یہ آٹھ احکامات تھے جنھیں جاری ہونے میں دس منٹ لگے اور بدترین خانہ جنگی کے شکار جنوبی افریقہ کا مستقبل پہلے ہی دن طے ہو گیا‘ 1994ء تک ساؤتھ افریقہ دنیا کا خطرناک ترین ملک تھا مگرنیلسن منڈیلا کے اقتدار سنبھالنے کے محض ایک سال بعد 1995ء میں ساؤتھ افریقہ میں رگبی کا ورلڈ کپ اور 2003ء میں کرکٹ کا ورلڈ کپ منعقد ہوا اور یہ آج دنیا کے ترقی یافتہ اور پرامن ترین ممالک میں شمار ہوتا ہے‘ نیلسن منڈیلا جنوبی افریقہ کا بانی تھا مگر یہ 5 سال کی صدارت کے بعد 2004ء میں سیاست سے ریٹائر ہو گیا اور یہ آج بھی معمولی درجے کے ایک چھوٹے سے گھر میں رہتا ہے‘ یہ درست ہے اس کے ابتدائی آٹھ احکامات سے جنوبی افریقہ میں دیوار چین بنی‘ یہ برطانیہ بنا‘ یہ واشنگٹن بنا اور نہ ہی ان احکامات سے ان کا ریلوے‘ اسٹیل مل‘ ائیر لائین‘ واپڈا اور معیشت ٹھیک ہوئی مگر ان آٹھ احکامات نے جنوبی افریقہ کو قوم بنا دیا اور چار سال بعد جنوبی افریقہ کے 80 فیصد مسائل حل ہوگئے یا پھر یہ حل ہوناشروع ہوگئے۔
آپ دوبئی کے حکمران محمد بن راشد المختوم کو لے لیجیے‘ ملائشیا کے مہاتیر محمد‘ جنوبی کوریا کے لی میونگ باک‘ جاپان کے کیجورو شیدھارا‘ جرمنی کے چانسلر کونارڈا دینار ‘لیبیا کے کرنل قذافی کے ابتدائی دس سال‘ ترکی کے طیب اردگان اور عبداللہ گل‘ وینزویلا کے ہیوگو شاویز اور ایران کے احمدی نژاد کو دیکھ لیجیے‘ آپ انڈیا کے جواہر لال نہرو‘ اندرا گاندھی اور من موہن سنگھ کو دیکھ لیجیے‘ آپ ان کے ابتدائی احکامات نکالیے‘ ان کی فلاسفی کا مطالعہ کیجیے‘ آپ کو کسی میں فرعون کا کروفر نہیں ملے گا‘ آپ کو ان میں سے کوئی شخص پانچ پانچ وزراء اعظم ہائوسز اور دور غلامی کا پروٹوکول انجوائے کرتا دکھائی نہیں دے گا‘ آج بھی دنیا کی ساتویں بڑی معیشت برطانیہ کا وزیراعظم کمرشل فلائٹسآ پر دوسرے ممالک کے دورے پر جاتا ہے اور اس کی اہلیہ عام بس اور ٹرین میں سفر کرتی ہے اور اس کے خاندان کا کوئی شخص سرکاری گاڑی اور ڈرائیور استعمال نہیں کر سکتا۔
ہم وزیر داخلہ چوہدری نثار سے سو اختلافات کے باوجود اگر ان کے کل کے اقدامات کی تعریف نہیں کریں گے تو یہ زیادتی ہو گی‘ وزیر داخلہ نے کل تمام وزراء اور اہم شخصیات سے سیکیورٹی واپس لے لی‘ یہ انقلابی حکم ہے لیکن کل ہی کے اخبار میں خبر چھپی تھی مری میں میاں نواز شریف کی ذاتی رہائش گاہ کو بھی وزیر اعظم ہائوس ڈکلیئر کر دیا گیا اور اس پر پچاس رینجرز تعینات کر دیے گئے ہیں‘ یہ حکومت کے ابتدائی پندرہ دنوں میں تیسرا وزیراعظم ہائوس ہے‘ ایک اسلام آباد میں‘ دوسرا لاہور اور تیسرا اب مری میں‘ آپ پندرہ دنوں میں ملک کے 65 سال کے مسئلے حل نہیں کر سکتے ہیں‘ نہ کریں لیکن آپ وزیر اعظم ہائوسز کی تعداد تو کم کر سکتے ہیں۔
آپ وزیراعظم کی دونوں ذاتی رہائش گاہوں کو ذاتی رہنے دیں اور ان پر سرکار کا ایک پیسہ خرچ نہ ہونے دیں‘ امریکا سے لے کر ترکی تک دنیا کے کسی ترقی یافتہ یا ترقی پذیر ملک میں ذاتی رہائش گاہوں کو سرکاری حیثیت نہیں دی جاتی اور ذاتی دوروں یا چھٹیوں کے دوران صدور اور وزراء اعظم کا پروٹوکول بھی پچاس فیصد کم ہو جاتا ہے‘ آپ حکومت کے ابتدائی دس دنوں میں یہ تو کر سکتے ہیں‘ آپ یہ اعلان تو کر سکتے ہیں ملک میں وزیر کو بھی اتنی ہی سیکیورٹی ملے گی جتنی عام شہری کو نصیب ہوتی ہے‘ وزیراعظم خود کو ان لوگوں کے برابر تو کھڑا کر سکتا ہے یہ جن کے ووٹوں سے منتخب ہوتا ہے‘ اس کے لیے تو پانچ سال ضروری نہیں ہیں۔
میں 21 سال سے صحافت میں ہوں اور میں 21 برسوں سے ملک کے ہر صدر‘ وزیراعظم اور آرمی چیف کو اس نوعیت کے مطالبوں پر منہ بناتے اور یہ کہتے سن رہا ہوں’’ یہ سستی شہرت کے گھٹیا طریقے ہیں‘ اس سے ملک کی معیشت اور سسٹم پر کوئی فرق نہیں پڑتا‘ یہ سمبل ازم ہے اور ہمیں علامتوں کی بجائے اصل کی طرف جانا چاہیے‘‘وغیرہ وغیرہ‘ یہ بات ہو سکتا ہے درست ہو مگر یہ بھی حقیقت ہے جدید اور ترقی یافتہ دنیا کے تمام حکمران اسی سمبل ازم پر عمل پیرا ہیں‘ آپ ماضی سے لے کر حال اور حال سے لے کر مستقبل تمام زمانوں کا تجزیہ کر لیں آپ دنیا کی دس ہزار سال کی ریکارڈڈ ہسٹری میں صرف اس قوم کوترقی کرتا دیکھیں گے جس کے حکمران سادگی کی ان علامتوں پر عمل پیرا ہوں گے‘ آپ رومن ایمپائر کو دیکھ لیجیے‘ جس زمانے میں سیزرز کھر درے کرتے پہن کر روم کی گلیوں میں اکیلے پھرتے تھے اور کوئی بھی شخص روک کر ان پر تنقید کر سکتا تھا اور وہ سرکار کے ایک ایک پیسے کا حساب دینے کے پابند ہوتے تھے روم اس وقت رومن ایمپائر تھا اور دنیا کے چھ براعظم اس کے ماتحت تھے۔
اسی طرح یونان کی سلطنت ہو‘ ایران کے کسریٰ ہوں یا پھر اسلامی ریاستیں ہوں آپ کو تاریخ کا ہر وہ دور سنہری نظر آئے گا جس میں حکمران نیلسن منڈیلا کی طرح ’’ بی ہیو‘‘ کرتے دکھائی دیں گے اور تاریخ کے ہر اس دور میں پاکستان جیسی ابتری‘ بے چینی‘ دہشت گردی‘ لاقانونیت اور قتل و غارت گری نظر آئے گی جس میں حکمران فرعون ہوں گے یا وہ خود کو خدا اور ووٹ دینے والوں کو حقیر مخلوق سمجھتے ہوں گے‘ یہ درست ہے سمبل ازم سے ملکی معیشت پر کوئی فرق نہیں پڑتا‘ حضرت عمر فاروقؓ کے کرتے کی دوسری چادر‘ بیٹے کو کوڑے مارنے‘ سر کے نیچے اینٹ رکھ کر دھوپ میں سونے یا غلام کو اونٹ پر بٹھا کر خود نیلر پکڑ کر بیت المقدس میں داخل ہونے سے اسلامی ریاست کے بجٹ ڈیفیسٹ یا شارٹ فال پر کوئی فرق نہیں پڑا ہو گا یا حضرت عمر بن عبدالعزیزؓ کا ذاتی گھر کی ٹپکتی چھت کی مرمت یا قرطبہ کے بانی بادشاہ عبدالرحمن الداخل کا اپنے ہاتھوں سے مسجد قرطبہ کی تعمیر یا محمد تغلق کی سادگی۔
جہانگیر کی زنجیر عدل یا اورنگ زیب عالمگیر کی قرآن مجید کی کتابت یا مووزے تنگ کے پوری زندگی تین مرلے کے مکان میں رہنے یا مہاتیر محمد کے چھوٹی گاڑی چلا کر سبزی خریدنے یا نیلسن منڈیلا کے ابتدائی آٹھ احکامات سے ان ملکوں کی معیشت پر کوئی فرق نہیں پڑا ہوگا لیکن ہم اگر دل پر ہاتھ رکھ کر فیصلہ کریں تو ہمیں ماننا پڑے گا ان کے ادوار ختم ہو گئے اور شاید ان کے ٹھوس اقدامات بھی تاریخ کے ورقوں میں کہیں گم ہو گئے ہوں لیکن ان کا ہر سمبل آج بھی زندہ ہے، دنیا حضرت عمر فاروق ؓ کو ان کے ٹیکس ٹوجی ڈی پی کی بجائے ان کے دوسری چادر کے جوازکی وجہ سے جانتی ہے اور لوگ نیلسن منڈیلا کو معاشی پالیسیوں کی بجائے اس کی سادگی‘ اس کی عاجزی اور اس کی قربانیوں سے پہچانتے ہیں اور یہ ان کی قربانیوں ان کی عاجزی اور ان کی سادگی جیسے سمبل ازم کا نتیجہ تھا ان کے گرد جمع ہجوم قوم بن گئے اور مورخ ان کا نام لکھنے سے پہلے اپنے قلم کو عرق گلاب سے غسل دیتے ہیں۔
تاریخ کا شاندار ترین عہد فرعونوں کا دور تھا‘ یہ وہ زمانہ تھا جس میں ریاست عوام کو کھانا تک فراہم کرتی تھی۔ فرعون کے اپنے دسترخوان پر لاکھوں لوگ کھانا کھاتے تھے اوررہ گئی ترقی تو دنیا آج تک اہراموں کی تکنیکس نہیں سمجھ سکی مگرپھر اس فرعون اور اس کی سلطنت دریائے نیل میں غرق ہو گئی کیونکہ وہ متکبر حکمران تھے اور وہ ہمارے حکمرانوں کی طرح اقتدار کے بعد اپنا آپ بھول جاتے تھے‘ وہ خدائی کا دعویٰ کر جاتے تھے لیکن ہم اور ہمارے جیسے حکمران تاریخ سے سبق نہیں سیکھتے‘ یہ خود کو عقل کل اور قدرت کا رشتہ دار سمجھتے ہیں مگر آخر میں یہ بھی اسی انجام کا شکار ہو جاتے ہیں جس سے ماضی کے فرعون دوچار ہوئے تھے اور پیچھے‘ جی ہاں پیچھے صرف عبرت کی کہانیاں رہ جاتی ہیں۔
تاریخ سے کوئی سبق نہیں سیکھتا
جاوید چوہدری بدھ 19 جون 2013
یہ بھی تاریخ کی ایک بھولی بسری داستان ہے‘ محترمہ بے نظیر بھٹو 1988ء میں پہلی بار وزیراعظم بنیں‘ میاں نواز شریف اُس وقت پنجاب کے وزیراعلیٰ تھے‘ دونوں کے درمیان لڑائی جاری تھی‘ بے نظیر بھٹو لاہور نہیں جا سکتی تھیں اور میاں نواز شریف اسلام آباد نہیں آتے تھے‘ راولپنڈی اس دور میں مشکل اور اہم ترین شہر تھا‘ یہ شہر پنجاب میں آتا ہے لیکن آدھ کلومیٹر بعد وفاقی دارالحکومت شروع ہو جاتا ہے لہٰذا آپ اگر دو قدم راولپنڈی میں رکھ دیں تو آپ پر پنجاب کے قوانین لاگو ہوتے ہیں اور آپ اگر ایک قدم اسلام آباد میں رکھ دیں تو آپ وفاق کے ماتحت ہو جاتے ہیں چنانچہ تاریخ میں جب بھی پنجاب اور وفاق کی حکومتوں کے درمیان تنازعہ شروع ہوتا تھا راولپنڈی اہمیت اختیار کر جاتا تھا اور پنجاب حکومت راولپنڈی میں اپنے بااعتماد بیوروکریٹس تعینات کر دیتی تھی۔
1988ء میں بھی یہی ہوا‘ میاں نواز شریف نے سعید مہدی کو کمشنر راولپنڈی بنادیا ‘میاں نواز شریف ان پر بے انتہا اعتماد کرتے تھے‘ محترمہ بے نظیر بھٹو1989ء میں اٹک کے دورے پر گئیں‘اس زمانے میں چوہدری قمرزمان اٹک کے ڈی سی تھے‘ یہ آج کل سیکریٹری داخلہ ہیں‘ کمشنر اور ڈی سی پروٹوکول کے مطابق وزیراعظم کے میزبان تھے‘ وہ رمضان کا مہینہ تھا‘ دورے سے قبل ناہید خان نے سعید مہدی کو فون پر بتایا‘ محترمہ روزے سے نہیں ہوں گی چنانچہ آپ اٹک کے ریسٹ ہاؤس میں ان کے لنچ کا بندوبست کر دیں لیکن اس لنچ کی اطلاع کسی کو نہیں ہونی چاہیے.
سعید مہدی نے ڈی سی کو فون کیا‘ دونوں نے اٹک کے ریسٹ ہاؤس میں بے نظیر بھٹو کے لنچ کا بندوبست کر دیا اور علاقے کو پولیس کی مدد سے سیل کر دیا‘ محترمہ اٹک آئیں‘ لنچ کے وقت انھیں اٹک کے ریسٹ ہاؤس میں لے جایا گیا‘ سعید مہدی ان کے ساتھ تھے‘ محترمہ نے مہدی صاحب کو ساتھ لیا اور ریسٹ ہاؤس کے برآمدے میں واک کرنے لگیں‘ واک کرتے کرتے محترمہ نے سعید مہدی سے پوچھا ’’ کیا آپ نواز شریف کے استاد رہے ہیں‘‘ مہدی صاحب نے بتایا ’’ جی نہیں‘ میں تعلیم سے فارغ ہونے کے بعد پنجاب یونیورسٹی میں پڑھاتا تھا‘ میاں صاحب اس وقت گورنمنٹ کالج میں پڑھتے تھے‘‘ محترمہ نے پوچھا ’’ پھر ان کا استاد کون تھا‘‘ مہدی صاحب نے بتایا ’’ میراخیال ہے ڈاکٹر صفدر محمود انھیں تاریخ پڑھاتے تھے‘‘ محترمہ نے ان کی طرف غور سے دیکھا اور کہا ’’ میاں صاحب نے تاریخ پڑھنے کے باوجود تاریخ سے کچھ نہیں سیکھا‘‘ سعید مہدی خاموش رہے لیکن بڑے عرصے بعد انھوں نے مجھے بتایا ’’ میں نے اس وقت دل ہی دل میں سوچا ‘ بی بی تاریخ سے ہمارے ملک کا کوئی حکمران سبق نہیں سیکھتا‘‘۔
ہمارا المیہ یہی ہے ہم تجربوں‘ مشاہدوں اور گزرے ہوئے وقت سے کچھ نہیں سیکھتے‘ ہم میں سے ہر شخص خود کو قدرت کا رشتہ دار سمجھتا ہے اور یہ خیال کرتا ہے وقت نے سکندر اعظم سے لے کر جلال الدین اکبر تک اور چنگیز خان سے لے کر حسنی مبارک‘ صدام حسین اور کرنل قذافی تک دنیا بھر کے فرعونوں کے ساتھ جو سلوک کیا وہ میرے ساتھ نہیں ہوگا‘ قدرت میرے ساتھ رعایت کرے گی‘ مجھے زوال آئے گا اور میں نہ ہی مروں گا‘ ہم یہ بھی سمجھتے ہیں ہم جو غلطیاں کر رہے ہیں‘ ان کے وہ نتائج نہیں نکلیں گے جو ماضی کے لوگوں کی غلطیوں کے نکلے‘ کوئی غیبی ہاتھ آئے گا اور ہماری جلائی ہوئی آگ کو برف بنا دے گا‘ ہم لوگوں کی عزت‘ غیرت اور حمیت کو ٹھڈے ماریں گے مگر قدرت ان کے دلوں میں ہمارے لیے رحم ڈال دے گی لیکن چند دن بعد معلوم ہوتا ہے آسمان کے نیچے کوئی ذی روح قدرت کا رشتے دار نہیں.
دنیا میں جنم لینے اور سانس لینے والے ہر شخص کو اپنی غلطیوں‘اپنے تکبر اور اپنی کوتاہ فہمی کی فصل خود کاٹنا پڑتی ہے‘ اس زمین پر حضرت امام حسینؓ شمر کے ہاتھوں شہید ہو جاتے ہیں اور تاریخ کی سیاہی اپنے چہرے پرملنے والے بھی سال چھ مہینے بعد قبر کی مٹی بن جاتے ہں اور پیچھے صرف تکبر اور غلطیوں کی ایسی راکھ رہ جاتی ہے جو وقت کی گلیوں میں دیوانہ وار اڑتی ہے اور لوگوں کو پکار پکار کر کہتی ہے بدنصیبو! سنو اسی گلی میں کل ایک ایسا شخص تھا جو خود کو تمہاری طرح خدا سمجھتا تھا مگر آج اس شخص کا کوئی نشان ہے اور نہ ہی نام‘ تاریخ کی راکھ وقت کی گلیوں میں سرپٹ دوڑتی اور بال کھول کھول کر چیختی ہے لیکن کوئی زندہ شخص اس کی آواز‘ اس کی پکار نہیں سنتا‘ لوگ اپنے کان لپیٹ کر عارضی کرسیوں اور وقتی عہدوں کو اپنے جسم کا حصہ بنانے میں مصروف رہتے ہیں۔
ہم چند دوستوں نے نئی حکومت آنے کے بعد کچھ وزارتوں کا ’’زائچہ‘‘ بنایا تھا‘ ہم نے اندازہ لگایا تھا پاکستان مسلم لیگ ن کی جس شخصیت کو واٹر اینڈ پاور کی وزارت ملے گی وہ چھ ماہ میں راجہ پرویز اشرف بن جائے گا اور عوام اور اس کی اپنی پارٹی اس کے ساتھ وہ سلوک کرے گی جو لوگوں نے راجہ پرویزاشرف کے ساتھ کیا تھا لیکن اس وزیر اور راجہ پرویز اشرف میں ایک فرق ہو گا‘ راجہ پرویز اشرف کا ’’باس‘‘ آصف علی زرداری جیسا دوست نواز شخص تھا جو ساتھیوں اور دوستوں کو بے یارومدد گار نہیں چھوڑتا چنانچہ صدر نے راجہ پرویز اشرف کو وزیراعظم بنا دیا لیکن پانی اور بجلی کے اگلے وزیر کو یہ سہولت حاصل نہیں ہوگی‘ یہ پارٹی اور عوام دونوں کے سامنے جواب دہ ہوگا‘ ہمارا خیال تھا اگلا وزیر داخلہ رحمان ملک کی ایکسٹینشن ہوگا‘ یہ بھی رحمان ملک کی طرح بڑے بڑے دعوے کرے گا مگربعد ازاں یہ بھی اسٹنٹ مین بن کر رہ جائے گا.
ہمارا خیال تھا وزیر خزانہ بھی چھ ماہ میں بری طرح پھنس جائے گا‘ یہ معیشت کی سمت درست کرنے کا اعلان کر بیٹھے گا اور چھ ماہ میں ’’ڈس کریڈٹ‘‘ ہو کر رہ جائے گا‘ ہمارا خیال تھا ریلوے کی وزارت جس کے پاس جائے گی وہ دو مہینے میں حاجی غلام احمد بلور کی طرح نیم دیوانہ ہو جائے گا اور بار بار ریلوے کی فاتحہ پڑھے گا‘ ہمارا خیال تھا وزیر خارجہ بار بار تبدیل ہو گا‘ وزیراعظم ہر وزیر خارجہ کو ملکی وقار بلند کرنے کا ٹاسک دیں گے لیکن وہ انگریزی سیکھ کر چلتا بنے گا‘ ہمارا خیال تھا حکومت وزیر قانون‘ سیکریٹری قانون اور اٹارنی جنرل بھی بار بار تبدیل کرے گی‘ عدلیہ نئی حکومت سے جواب مانگے گی‘ وزیر قانون غلط بیانی کرے گا‘ اٹارنی جنرل غلط اسٹینڈ لے گا اور سیکریٹری قانون اپنی کھال بچانے کے لیے دائیں بائیں ہو جائے گا اور یوں یہ وزارت بھی بحران کا شکار ہو جائے گی اور ہمارا خیال تھا وزیر اطلاعات و نشریات پر بھی برے سائے منڈلاتے رہیں گے.
حکومت شروع میں کسی دھیمے اور شائستہ شخص کو وزیراطلاعات بنائے گی‘ وہ فاصلہ رکھنے کی پالیسی اپنائے گا‘ ٹی وی پروگراموں میں ’’ون آن ون ‘‘ آنے کی ضد کرے گا اور یوں حکومت چھ ماہ میں کسی نہ کسی قمر زمان کائرہ کو تلاش کرنے پر مجبور ہو جائے گی‘ اگراسے کائرہ نہ ملا تو حکومت شیخ رشید کے ساتھ اتحاد کر لے گی‘ ہمارا خیال تھا حکومت پر یہ وقت چھ ماہ میں آئے گا لیکن ہمارا خیال غلط ثابت ہوا اور حکومت دوسرے ہی ہفتے بدقسمتی کا شکار ہوگئی‘ خواجہ آصف بڑی تیزی سے راجہ پرویز اشرف بنتے جا رہے ہیں‘ ان کے دو تین بیانات نے انھیں واپس قلعہ میں پناہ لینے پر مجبور کر دیا‘ اخباری خبروں کے مطابق انھوں نے قومی اسمبلی میں بھی اپنی پارٹی کے ارکان اور وزراء سے درشت لہجے میں گفتگو شروع کر دی‘ ان میں ناصر بوسال‘ کیپٹن صفدر اور سردار محمد یوسف بھی شامل ہیں.
خواجہ صاحب نے انھیں نہ صرف ڈانٹ دیا تھا بلکہ ان کی طرف سے منہ بھی موڑ لیا‘خواجہ آصف ایک شاندار انسان ہیں‘ ہماری دعا ہے یہ خبر غلط نکلے‘ چوہدری نثار شام کے بعد غائب ہو جاتے ہیں اور وزارت اپنے وزیر کا پتہ پوچھتی رہ جاتی ہے‘ کوئٹہ اور خیبر پختونخواہ میں حملوں نے بھی چوہدری نثار پر دباؤ بڑھا دیا‘ یہ اب صرف جذباتی تقریر کر کے جان نہیں چھڑا سکیں گے‘ اسحاق ڈار اور خواجہ سعد رفیق ان چند وزراء میں شامل ہیں جو آج بھی فون سنتے ہیں اور کال بیک بھی کرتے ہیں‘ اسحاق ڈار میڈیا پر حکومت کا مقدمہ بھی لڑ رہے ہیں‘ گو بیورو کرییں نے بجٹ میں ان سے چند ایسی غلطیاں کرا دیں جن کی وجہ سے بجٹ مذاق بن گیا مگر یہ اس کے باوجود مردانہ وار لڑ رہے ہیں‘ خواجہ سعد رفیق فیلڈ میں نظر آ رہے ہیں‘ یہ دو دن قبل ٹرین کے ذریعے لاہور سے راولپنڈی بھی آئے اور راستے میں مسافروں سے بھی ملتے رہے‘ وزیر قانون زاہد حامد قلم دان سنبھالتے ہی تبدیل ہو رہے ہیں‘ وزارت خارجہ مشیر خارجہ طارق فاطمی کو تسلیم نہیں کر رہی‘ حکومت شروع ہی میں ان کے رویئے سے پریشان ہو چکی ہے اور رہ گیا میرا عزیز ترین دوست پرویز رشید تو یہ بھی وزارت اطلاعات کی غلام گردشوں میں گم ہو چکا ہے‘ یہ ابھی تک وزارت اور قوم کو کوئی خوشخبری نہیں سنا سکا۔
دنیا کی ہر حکومت کے ابتدائی دس دن انتہائی اہم ہوتے ہیں‘ آپ اگر دس دنوں میں کوئی بڑی تبدیلی نہیں لا سکتے تو پھر آپ دس ہزار دنوں میں بھی کچھ نہیں بدل سکیں گے‘ دنیا کی ہر تبدیلی کا آغاز انسان کے 80 کلوگرام کے جسم سے ہوتا ہے‘ آپ اگر اپنا چھ فٹ کا جسم‘اپنا آٹھ سو گرام دماغ اور اپنا تین سو گرام دل نہیں بدل سکتے‘ آپ اگر خود کو غرور سے نہیں بچا سکتے تو پھر آپ دنیا میں کچھ تبدیل نہیں کرسکتے‘ ہم اگر اپنے چھ فٹ کے جسم پر اسلام نافذ نہیں کر سکتے تو پھر ہم چھ براعظموں پر پھیلی اس دنیا میں کوئی تبدیلی نہیں لا سکتے اور ہماری حکومت نے بدقسمتی سے یہ دس دن ضایع کر دیے‘ یہ آج کے دن تک کوئی بڑی اور واضح تبدیلی نہیں لا سکی.
مجھے یقین ہے حکومت کے وکیل میرے اس نقطے سے اختلاف کریں گے‘ یہ فرمائیں گے ہمیں حکومت کو وقت دینا چاہیے ‘ ہمیں انتظار کرنا چاہیے وغیرہ وغیرہ لیکن ہمارے پاس انتظار کے سوا ہے ہی کیا؟ اور ہم اگر حکومت کو وقت نہ بھی دیں تو کیا فرق پڑتا ہے؟ حکومت ان اعتراضات کے باوجود اسی طرح جاری و ساری رہے گی مگر اس کے باوجود یہ حقیقت ہے حکومت کو ابتدائی دنوں میں جو کرنا چاہیے تھا یہ وہ نہیں کرسکی اور یوں محسوس ہوتا ہے صرف وزیراعظم اور وزراء بدلے ہیں‘ سسٹم ‘ خرابیاں اور بری خبریں اسی جگہ قائم ہیں!سوال یہ ہے حکومت دس دنوں میں کیا کرسکتی تھی؟ یہ میں کل عرض کروں گا‘ میں آپ کو کل بتاؤں گا دنیا کے بڑے بڑے حکمرانوں نے دس دنوں میں کیا کیا تھا اور ان کا کیا کیا نتیجہ نکلا تھا۔
(جاری ہے)
3114
جاوید چوہدری منگل 18 جون 2013
میاں نواز شریف نے وہ کام کیا جو تبت کے دیوتا نے اڑھائی ہزار سال قبل اپنے مسکین داس کے ساتھ کیا تھا‘ وہ داس بڑا بھائی تھا اور وہ دیوتا کو مانتا تھا‘ اس نے دیوتا کی مورتی بنا رکھی تھی‘ وہ روز اس مورتی کے سامنے ماتھا ٹیکتا تھا‘ اسے ہار پہناتا تھا اور اس کے پاؤں میں پھول چڑھاتا تھا جب کہ دوسرا بھائی دیوتا اور اس کی مورتی کی توہین کرتا تھا‘ وہ دیوتا کا مذاق بھی اڑاتا تھا اورموقع دیکھ کر کبھی کبھار مورتی کو تھپڑ اور جوتا بھی لگا دیتا تھا‘ دونوں بھائیوں کے درمیان اس معاملے پر اکثر جھگڑا رہتا تھا‘ ایک دن چھوٹے بھائی نے مورتی کی طرف دیکھ کر اعلان کیا ’’ میں کل صبح اٹھتے ہی تمہاری مورتی توڑ دوں گا‘ تم اسے بچا سکتے ہو تو بچا لو‘‘ بڑا بھائی پریشان ہو گیا‘ وہ مورتی کے سامنے بیٹھا اور گڑگڑا کر دیوتا سے دعا مانگنے لگا‘ دعا کے دوران اسے اونگھ آ گئی‘ دیوتا نیند کے دوران اس کے خواب میں آیا اور اس نے اپنے داس سے کہا ’’ تمہارا چھوٹا بھائی بہت بدتمیز ہے‘ یہ کل صبح واقعی میری مورتی توڑ دے گا‘ میں تمہیں حکم دیتا ہوں، تم میری مورتی بچاؤ‘ اگر تم نہ بچا سکے تو میں کل تمہاری ٹانگیں توڑ دوں گا‘‘
داس ڈر گیا‘ اس نے دیوتا کے پاؤں پکڑ لیے اور اس سے عرض کیا ’’ جناب میں تو آپ کو ماننے والا ہوں‘ میں نے ہمیشہ آپ کی اطاعت کی‘ میں نے ہر روز آپ کی عبادت کی جب کہ میرا بھائی ہمیشہ آپ کی توہین کرتا ہے مگر آپ اسے سزا دینے کے بجائے میری ٹانگیں توڑ دیں گے‘ کیوں؟ آپ نے اگر انتقام ہی لینا ہے تو آپ اس گستاخ سے لیں‘ آپ میری ٹانگیں کیوں توڑیں گے؟‘‘ دیوتا نے افسوس میں سر ہلایا اور دکھی آواز میں بولا ’’ میں اسے کیسے روک سکتا ہوں‘ وہ تو مجھے مانتا ہی نہیں‘‘۔وزیراعظم میاں نواز شریف اور وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے بھی تنخواہ دار طبقے کے ساتھ دیوتا جیسا سلوک کیا‘ یہ بھی ان لوگوں کی ٹانگیںتوڑ رہے ہیں جو انھیں ہمیشہ مانتے رہے ہیں اور مستقبل میں بھی مانتے رہیں گے۔
پاکستان میں اگر کوئی طبقہ پوری ایمانداری سے ٹیکس دیتا ہے تو یہ تنخواہ دار بالخصوص پرائیویٹ نوکریاں کرنے والے لوگ ہیں‘ ان بے چاروں کو تنخواہ بعد میں ملیی ہے اور ٹیکس پہلے کاٹ لیا جاتا ہے‘ ان میں زیادہ مظلوم وہ لوگ ہیں جن کی تنخواہیں 60 لاکھ روپے سالانہ سے زیادہ ہیں‘ حکومت اس بجٹ سے قبل ان کی تنخواہوں سے 25 فیصد ٹیکس کاٹتی تھی گویا آپ اگر ماہانہ پانچ لاکھ روپے تنخواہ لیتے ہیں تو آپ کو عملاً 3 لاکھ 75 ہزار ملتے تھے‘ آپ کا سوا لاکھ روپے ٹیکس کٹ جاتا تھا‘ یہ لوگ اس سلوک پر ہمیشہ خاموش رہے کیونکہ یہ انتہائی پڑھے لکھے‘ سمجھ دار اور محب وطن لوگ ہیں‘ یہ لوگ جانتے ہیں قوموں اور معاشروں کے لیے ٹیکس ضروری ہوتا ہے‘ اگر لوگ ٹیکس نہیں دیں گے تو اسکول‘ اسپتال اور سرکاری ادارے نہیں چلیں گے‘ سڑکیں‘ پل اور ڈیم نہیں بنیں گے اور بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت عام غریب لوگوں کو امداد نہیں ملے گی.
یہ لوگ ہمیشہ اپنی تنخواہوں سے چپ چاپ ٹیکس کٹوا دیتے تھے‘ انھوں نے کبھی ٹیکس چوری کے وہ راستے اختیار نہیں کیے جو اس سسٹم نے جاگیرداروں‘ سرمایہ کاروں اور سیاستدانوں کے لیے کھلے چھوڑ رکھے ہیں مگر اس خاموشی‘ اس قربانی کے باوجود حالیہ بجٹ میں ان کے ساتھ زیادتی ہوئی‘ ان کا ٹیکس تیس پینتیس فیصد کر دیا گیا‘ وزیر خزانہ سے اس بارے میں سوال کیا گیا تو اسحاق ڈار نے جواب دیا ’’ یہ صرف تین ہزار ایک سوچودہ لوگ ہیں‘ ہم ریاست کو31 سو لوگوں کا غلام نہیں بنا سکتے‘‘ ڈار صاحب کی بات درست ہو گی‘ ریاست کو یقیناً کسی گروپ‘ کسی مافیا کا غلام نہیں بننا چاہیے لیکن یہاں پر چند سوال پیدا ہوتے ہیں‘ یہ اٹھارہ کروڑ لوگوں کا ملک ہے‘ اس ملک میں صرف تین ہزارایک سو چودہ ایسے لوگ ہیں جو سالانہ 60 لاکھ روپے یا اس سے زائد تنخواہ لیتے ہیں‘ کیا یہ شرح افسوس ناک نہیں؟
کیا اس کا یہ مطلب نہیں ہم اٹھارہ کروڑ لوگ 65 برسوں میں صرف اکتیس سو ایسے لوگ پیدا کر سکے ہیں جو اپنی تعلیم‘ مہارت اور محنت سے اس سطح پر پہنچے کہ یہ اپنی تنخواہ کا پچیس فیصد حصہ ریاست کو دے سکیں‘ کیا یہ شرم ناک نہیں؟ دو‘کیا یہ وہ لوگ نہیں ہیں جو ننانوے فیصد سیلف میڈ‘ انتہائی پڑھے لکھے اور ماہر ہیں‘ یہ اپنی اپنی فیلڈ میں اس سطح پر پہنچے ہیں جہاں پرائیویٹ ادارے انھیں ماہانہ پانچ لاکھ سے زائد تنخواہ دینے پر مجبور ہوئے؟ یہ لوگ یقیناً اپنے اداروں کو ماہانہ کروڑوں روپے کما کر دیتے ہیں اور ریاست اس کمائی پر بھی ٹسکم وصول کرتی ہے‘ یہ لوگ اداورں کو مہینے میں اتنا سرمایہ کما کر دیتے ہیں کہ مالکان ایک دن کی کمائی انھیں بطور تنخواہ ادا کرتے ہیں‘ یہ تمام لوگ پرائیویٹ ملازم ہیں‘ یہ پوری پارلیمنٹ اور پچاس ہزار زمینداروں اور جاگیرداروں سے زیادہ ٹیکس دیتے ہیں مگر ریاست اس کے بدلے میں انھیں کوئی سہولت نہیں دیتی‘ اس ملک میں اس میٹرک پاس سرکاری چپڑاسی کو بھی‘ جو ایک پیسہ ٹیکس نہیں دیتا ‘ تعلیم‘ صحت‘ سرکاری ٹرانسپورٹ اور چھٹیوں کی مفت سہولت حاصل ہے لیکن یہ اکتیس سو لوگ اپنے بچوں کو اپنی جیب سے تعلیم دلواتے ہیں‘ اس فیس پر بھی ٹیکس کٹواتے ہیں‘ یہ سر درد سے لے کر کینسر تک ہر مرض کا علاج ذاتی جیب سے کرواتے ہیں اور اس پر بھی ٹیکس دیتے ہیں‘ یہ گاڑی بھی ذاتی استعمال کرتے ہیں‘ بجلی اور گیس کے بل بھی دیتے ہیں‘یہ بیچارے اپنی سیکیورٹی تک کا بندوبست خود کرتے ہیں اور ان پر بھی ٹیکس کٹواتے ہیں اور ریاست کسی جگہ انھیں سپورٹ نہیں کرتی‘ ان اکتیس سو لوگوں میں کوئی ایک ایسا شخص نہیں جو جاہل ہو‘ جو کرپٹ ہو یا جو ریاست کی مدد نہ کرتا ہو جب کہ ان کے مقابلے میں آپ پارلیمنٹ کو دیکھ لیجیے.
2012-13ء کے اعداد و شمار کے مطابق پارلیمنٹ کے 305 ارکان کے پاس نیشنل ٹیکس نمبر نہیں تھا‘69فیصد ارکان اسمبلی نے ٹیکس جمع نہیں کرایا‘ 2011ء میں صدر آصف علی زرداری سمیت34 وزراء نے ٹیکس ریٹرن ہی جمع نہیں کروائی او ان میں وزیرداخلہ رحمن ملک بھی شامل تھے اورپاکستان پیپلز پارٹی کے رکن قومی اسمبلی کریم احمد خواجہ نے 3ہزارچھ سوچھتیس‘ حاجی سیف اللہ خان بنگش نے چار ہزار چھتیس‘ بی این پی کی نسیمہ احسان نے چار ہزار 2 سو 80 اور سینیٹر مشاہد حسین سید نے 82 روپے ٹیکس جمع کرایا تھا لیکن آپ ان کی مراعات دیکھیں تو حیران رہ جائیں گے‘ ہمارے وزراء تنخواہ دار طبقے کے ٹیکسوں سے دس دس گاڑیوں کے فلیٹ میں سفر کرتے تھے‘ یہ بلٹ پروف گاڑیوں کے مزے بھی لوٹتے تھے‘ یہ چارٹر ہوائی جہازوں میں بھی سفر کرتے تھے‘ ان کی بجلی‘ گیس‘ ٹیلی فون اور علاج فری تھا اور یہ آج بھی فری ہے‘ 2011-12ء میں 15 ارکان اسمبلی اور اہم ملکی شخصیات نے غیر ممالک سے 12 کروڑ روپے میں اپنا علاج کرایا‘ یہ رقم سرکاری خزانے سے ادا ہوئی جب کہ ان کا ٹیکس ہزاروں روپے میں تھا.
پاکستان میں آج بھی ہزار ہزار مربعے کے مالک جاگیردار ٹیکس نہیں دیتے‘ کاروباری طبقے کا ٹیکس بھی عوام کے سامنے ہے اور آج تک سیاسی جماعتوں کے فنڈز اور چندوں کا اصلی آڈٹ نہیں ہو سکا‘ میاں نواز شریف کل تک دعویٰ کرتے تھے ہم فوج اور آئی ایس آئی کا بجٹ قومی اسمبلی میں ڈسکس کرائیں گے لیکن یہ کم از کم اس بجٹ میں نہیں ہو سکا مگر دیوتاؤں کی طاقت ماننے والے اکتیس سو داسوں پر ٹیکس بڑھا دیا گیا اور وزیرخزانہ نے فرمایا ہم ریاست کو تین ہزار لوگوں کا غلام نہیں بنا سکتے، گویا ریاست ان پانچ لاکھ ڈاکٹروں‘ ایک لاکھ وکیلوں‘ دس لاکھ ٹھیکیداروں‘ پچاس ہزار جاگیرداروں اور دو ہزار سیاستدانوں کی غلام بن سکتی ہے جو ایک ایک دن میں دس دس لاکھ روپے کما لیتے ہیں اور ریاست کو دھیلا نہیں دیتے مگر ان اکتیس سو لوگوں کی گردن سے چھری نہیں اٹھا سکتی جو اس معاشرے کے رول ماڈل ہیں‘ جو روز اپنی ایڑھیوں سے چشمہ رواں کرتے ہیں اور پورے معاشرے کی پیاس بجھاتے ہیں۔
حکومت اگر کراچی شہر میں ٹی ٹی پستولوں پر ٹیکس لگا دیتی‘ یہ ٹول پلازوں سے گزرنے والی بڑی گاڑیوں کے ٹول میں سو فیصد اضافہ کر دیتی‘ یہ جاگیرداروں سے ٹیکس وصول کر لیتی‘ یہ سیاسی جماعتوں کے اکاؤنٹس کا آڈٹ کرا دیتی‘ یہ غیر ملکی اثاثوں پر ٹیکس لگا دیتی‘ یہ کنال سے بڑے گھروں اور فارم ہاؤسز پر ٹیکس لگا دیتی‘ یہ غیر ملکی سفر پر ٹیکس بڑھا دیتی‘ یہ ارکان اسمبلی کے ٹیکس میں سو فیصد اضافہ کر دیتی‘ یہ بڑے لوگوں کے کتوں کو ٹیکس نیٹ میں لے آتی‘ یہ مجروں پر ٹیکس لگا دیتی‘ یہ ویسٹ کوٹوں‘ کلف کے لگے سوٹوں پر ٹیکس لگا دیتی اور یہ سرکاری ملازموں کی تنخواہوں اور مراعات کو ان کی کارکردگی سے وابستہ کر دیتی تو یہ یقیناً اربوں روپے ٹیکس جمع کر لیتی لیکن کیونکہ اسحاق ڈار صاحب کے پیٹی بھائی اس ریاست کو تسلیم ہی نہیں کرتے چنانچہ جب بھی ٹانگیں توڑنے کی باری آتی ہے تو حکومت ان بے چارے اکتس سو لوگوں کو مزید چھوٹا کر دیتی ہے.
یہ انھیں اپنے بازوؤں پر چک مارنے پر مجبور کر دیتی ہے جو ریاست کو دیوتا مانتے ہیں‘ جو اس کے گلے میں ہار ڈالتے ہیں‘ یہ اس سزا کے حق دار بھی ہیں کیونکہ یہ اس ریاست کو ریاست مانتے ہیں‘ یہ دل سے اس پاک سرزمین کو شاد باد کہتے ہیں‘ یہ بے چارے کوئٹہ کے پہاڑوں پر چڑھ کر شہر پر میزائل نہیں پھینکتے‘ یہ گیس پائپ لائن نہیں اڑاتے اور یہ قائداعظم کی رہائش گاہ کو آگ نہیں لگاتے‘ یہ ملک سے محبت کرنے والے محنتی لوگ ہیں جب کہ ریاست صرف لوٹنے والوں کا احترام کرتی ہے‘ یہ صرف مارنے اور جلانے والوں کو مانتی ہے‘ یہ ہڑتال کرنے والے سرکاری ملازموں کی سن لے گی‘ اس کے پاس ان اکتیس سو لوگوں کے لیے وقت ہو گا اور نہ ہی رحم‘ جن میں ہر شخص کامیابی اور محنت کی عظیم مثال ہے‘ جس نے اپنی محنت سے اس ملک کی معاشی فلاسفی بدل کر رکھ دی جس میں آج بھی سیاستدان کو سیاست اور وزیر کو وزارت کے ہجے نہیں آتے‘ جس میں مسجد کمیٹی کے رکن چندہ‘ انکم سپورٹ پروگرام کے متولی غریبوں کے ہزار روپے اور مذہبی امور کے بابو حاجیوں کا زادہ راہ کھا جاتے ہیں اور ریاست خاموشی سے لٹیروں کا منہ دیکھتی رہ جاتی ہے۔

دعا چیک ہے
جاوید چوہدری ہفتہ 15 جون 2013
میں نے ایک دن خواجہ صاحب سے پوچھا ’’ ہمارا نصیب اگر تحریر ہے تو پھر دعا کی کیا ضرورت رہ جاتی ہے‘‘ وہ مسکرائے اور دیر تک میرے چہرے کی طرف دیکھتے رہے‘ یہ سوال زیادہ تر لوگوں کے ذہن میں اٹھتا ہے اور یہ مدت تک پریشان رہتے ہیں‘ ہماری زندگی‘ ہماری موت‘ ہماری ترقی‘ ہماری خوش حالی‘ ہماری شادی‘ ہماری اولاد‘ ہمارا رزق‘ ہماری عزت اورہمارا برا وقت اور ہمارے مسائل اگر یہ تمام چیزیں ہماری پیدائش سے قبل لوح محفوظ پر درج ہو چکی ہیں‘ اگر ابن فلاں‘ ابن فلاں اور ابن فلاں کی حیات کا ایک ایک سیکنڈ درج ہے تو پھر کوشش اور دعا کی کیا گنجائش رہ جاتی ہے۔
آپ قدرت کے فیصلے کو تسلیم کیجیے‘ سر نیچے کیجیے اور صابر اورشاکر رہ کر زندگی گزار دیجیے‘ آپ کو نماز کے دوران‘ درگاہوں میں‘ ذکر اذکار کے بعد اور خانہ کعبہ اور مسجد نبوی میں گڑ گڑا کر دعا کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ آپ کو آنکھوں میں آنسو بھر کر‘ بھرائی ہوئی آواز مںا اپنے خالق‘ اپنے رب کو آواز دینے کی کیا ضرورت ہے؟ یہ سوال ہر ذہن میں اٹھتا ہے مگر زیادہ تر لوگ گستاخی اور خوف کی وجہ سے خاموش رہتے ہیں‘ میں بھی اس سوال کا جواب چاہتا تھا‘ خواجہ صاحب ایک دن تشریف لائے تو میں نے ڈرتے ڈرتے یہ سوال ان کے سامنے رکھ دیا۔
وہ مسکرائے اور میرے چہرے کو دیر تک دیکھتے رہے اور اس کے بعد فرمایا ’’ اللہ کا سسٹم دو حصوں میں تقسیم ہے‘ ایک حصہ فائنل ہے اور دوسرا حصہ آپشنل‘ فائنل سب کے لیے مشترکہ ہوتا ہے مثلاً دنیا کا ہر ذی روح پیدا ہوتا ہے اور مرتا جاتا ہے‘ دنیا کے ہر انسان کو ہوا‘ خوراک اور روشنی چاہیے‘ گرمی اور سردی نبی کو بھی لگتی ہے اور اگر پتھر نبی اکرمؐ کے جسد اطہر کو بھی لگیں گے تو خون بہے گا‘ پتھر لگے تو دندان مبارک شہید ہوں گے‘ غم آئے گا تو آپؐ کو محسوس ہو گا‘ نبی اکرم ؐ کو بھی ڈر اور خوف کا احساس ہو گا اور ولی بھی اس سے مکمل رہائی نہیں پا سکے گا‘ درجہ حرارت پچاس سینٹی گریڈ سے اوپر جائے گا تو ہر جاندار کی سروائیول خطرے میں پڑ جائے گی‘ پانی آپ کو بھی چاہیے اور نبی کو بھی‘ کھانا آپ کو بھی درکار ہے اور نبی کو بھی‘ آکسیجن آپ کے لیے بھی ضروری ہے اور نبی کے لیے بھی اور روشنی ہم سب کو بھی چاہیے اور نبی کو بھی‘ اللہ کے سسٹم میں مشرق‘ مشرق رہتا ہے اور مغرب‘ مغرب اور اللہ تعالیٰ یہ سسٹم کسی کے لیے تبدیل نہیں کرتا‘ ہم سب اس سسٹم کو فائنل جان کر اس کے ساتھ سمجھوتے پر مجبور ہوتے ہیں جب کہ دوسرا حصہ آپشنل ہے‘ یہ حصہ اللہ تعالیٰ کی نوازشات پر مبنی ہے‘ اللہ رزق ہر جاندار کو دیتا ہے۔
یہ فائنل ہے لیکن اس رزق کی کوالٹی اور کوانٹٹی کیا ہوگی‘ یہ اللہ کی خصوصی نوازش میں آتا ہے‘ ایک انسان گاؤں میں نہر کے کنارے پانی میں بہتا ہوا تربوز توڑتا ہے اورخول میں منہ ڈال کرتربوز کھا جاتا ہے‘ یہ رزق ہے‘ دوسرے انسان کو فائیو اسٹار ہوٹل میں باوردی بیرا‘ انتہائی شاندار ماحول میں‘ قیمتی ڈائننگ ٹیبل پر اور چمکتی سفید پلیٹ میں تربوز پیش کرتا ہے اور وہ فرانس کے کانٹے کے ساتھ تربوز کی قاشیں کھاتا ہے‘ یہ اللہ کی مہربانی‘ یہ اس کی نوازش ہوتی ہے‘ ایک شخص بدن پر چیتھڑے لپیٹ کر گاؤں کے جوہڑ میں نہاتا ہے اور پانی سے باہرآتا ہے تو اس کے جسم پر غلاظت لگی ہوتی ہے اور دوسرا فائیو اسٹار ہوٹل کے سوئمنگ پول میں صاف پانی میں غوطہ زنی کرتا ہے اور