ایمانیات (مسلمانوں کے بنیادی عقائد)

ایمان کی حقیقت

س… ایمان کیا ہے؟ حدیث کی روشنی میں وضاحت کریں۔

ج… حدیث جبرائیل میں حضرت جبرائیل علیہ السلام کا پہلا سوال یہ تھا کہ اسلام کیا ہے؟ اس کے جواب میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلام کے پانچ ارکان ذکر فرمائے۔ حضرت جبرائیل علیہ السلام کا دوسرا سوال یہ تھا کہ: ایمان کیا ہے؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ: “ایمان یہ ہے کہ تم ایمان لاوٴ اللہ پر، اس کے فرشتوں پر، اس کی کتابوں پر، اس کے رسولوں پر، قیامت کے دن پر اور ایمان لاوٴ اچھی بری تقدیر پر۔”

ایمان ایک نور ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تصدیق سے دل میں آجاتا ہے، اور جب یہ نور دل میں آتا ہے تو کفر و عناد اور رسومِ جاہلیت کی تاریکیاں چھٹ جاتی ہیں اور آدمی ان تمام چیزوں کو جن کی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دی ہے، نورِ بصیرت سے قطعی سچی سمجھتا ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ: “تم میں سے کوئی شخص موٴمن نہیں ہوسکتا ہے یہاں تک کہ اس کی خواہش اس دین کے تابع نہ ہوجائے جس کو میں لے کر آیا ہوں۔” آپ کے لائے ہوئے دین میں سب سے اہم تر یہ چھ باتیں ہیں جن کا ذکر اس حدیث پاک میں فرمایا ہے، پورے دین کا خلاصہ انہی چھ باتوں میں آجاتا ہے:

۱:…اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے کا یہ مطلب ہے کہ اللہ تعالیٰ کو ذات و صفات میں یکتا سمجھے، وہ اپنے وجود اور اپنی ذات و صفات میں ہر نقص اور عیب سے پاک اور تمام کمالات سے متصف ہے، کائنات کی ہر چیز اسی کے ارادہ و مشیت کی تابع ہے، سب اسی کے محتاج ہیں، وہ کسی کا محتاج نہیں، کائنات کے سارے تصرفات اسی کے قبضہ میں ہیں، اس کا کوئی شریک اور ساجھی نہیں۔

۲:…فرشتوں پر ایمان یہ کہ فرشتے، اللہ تعالیٰ کی ایک مستقل نورانی مخلوق ہے، وہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نہیں کرتے بلکہ جو حکم ہو، بجا لاتے ہیں، اور جس کو جس کام پر اللہ تعالیٰ نے مقرر کردیا ہے وہ ایک لمحہ کے لئے بھی اس میں کوتاہی نہیں کرتا۔

۳:…رسولوں پر ایمان یہ کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کی ہدایت اور انہیں اپنی رضامندی اور ناراضی کے کاموں سے آگاہ کرنے کے لئے کچھ برگزیدہ انسانوں کو چن لیا، انہیں رسول اور نبی کہتے ہیں۔ انسانوں کو اللہ تعالیٰ کی خبریں رسولوں کے ذریعے ہی پہنچتی ہیں، سب سے پہلے نبی حضرت آدم علیہ السلام تھے، اور سب سے آخری نبی حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ آپ کے بعد قیامت تک کسی کو نبوت نہیں ملے گی، بلکہ آپ ہی کا لایا ہوا دین قیامت تک رہے گا۔

۴:…کتابوں پر ایمان یہ کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبیوں کی معرفت بندوں کی ہدایت کے لئے بہت سے آسمانی ہدایت نامے عطاکئے، ان میں چار زیادہ مشہور ہیں: تورات، جو حضرت موسیٰ علیہ السلام پر اتاری گئی، زبور جو حضرت داوٴد علیہ السلام پر نازل کی گئی، انجیل جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر نازل کی گئی اور قرآن مجید جو حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل کیا گیا۔ یہ آخری ہدایت نامہ ہے جو خدا تعالیٰ کی طرف سے بندوں کے پاس بھیجا گیا، اب اس کی پیروی سارے انسانوں پر لازم ہے اور اس میں ساری انسانیت کی نجات ہے، جو شخص اللہ تعالیٰ کی اس آخری کتاب سے روگردانی کرے گا وہ ناکام اور نامراد ہوگا۔

۵:…قیامت پر ایمان یہ کہ ایک وقت آئے گا کہ ساری دنیا ختم ہوجائے گی زمین و آسمان فنا ہوجائیں گے، اس کے بعد اللہ تعالیٰ سب کو زندہ کرے گا اور اس دنیا میں لوگوں نے جو نیک یا برے عمل کئے ہیں، سب کا حساب و کتاب ہوگا۔ میزانِ عدالت قائم ہوگی اور ہر شخص کی نیکیاں اور بدیاں اس میں تولی جائیں گی، جس شخص کے نیک عملوں کا پلہ بھاری ہوگا اسے اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کا پروانہ ملے گا اور وہ ہمیشہ کے لئے اللہ تعالیٰ کی رضا اور قرب کے مقام میں رہے گا جس کو “جنت” کہتے ہیں، اور جو شخص کی برائیوں کا پلہ بھاری ہوگا اسے اللہ تعالیٰ کی ناراضی کا پروانہ ملے گا اور وہ گرفتار ہوکر خدائی قیدخانے میں جس کا نام “جہنم” ہے، سزا پائے گا، اور کافر اور بے ایمان لوگ ہمیشہ کے لئے جہنم میں رہیں گے۔ دنیا میں جس شخص نے کسی دوسرے پر ظلم کیا ہوگا، اس سے رشوت لی ہوگی، اس کا مال ناحق کھایا ہوگا، اس کے ساتھ بدزبانی کی ہوگی یا اس کی بے آبروئی کی ہوگی، قیامت کے دن اس کا بھی حساب ہوگا، اور مظلوم کو ظالم سے پورا پورا بدلا دلایا جائے گا۔ الغرض خدا تعالیٰ کے انصاف کے دن کا نام “قیامت” ہے، جس میں نیک و بد کو چھانٹ دیا جائے گا، ہر شخص کو اپنی پوری زندگی کا حساب چکانا ہوگا اور کسی پر ذرا بھی ظلم نہیں ہوگا۔

۶:…”اچھی اور بری تقدیر پر ایمان لانے” کا مطلب یہ ہے کہ یہ کارخانہٴ عالم آپ سے آپ نہیں چل رہا، بلکہ ایک علیم و حکیم ہستی اس کو چلا رہی ہے۔ اس کائنات میں جو خوشگوار یا ناگوار واقعات پیش آتے ہیں وہ سب اس کے ارادہ و مشیت اور قدرت و حکمت سے پیش آتے ہیں۔ کائنات کے ذرہ ذرہ کے تمام حالات اس علیم و خبیر کے علم میں ہیں اور کائنات کی تخلیق سے قبل اللہ تعالیٰ نے ان تمام حالات کو، جو پیش آنے والے تھے، “لوحِ محفوظ” میں لکھ لیا تھا۔ بس اس کائنات میں جو کچھ بھی وقوع میں آرہا ہے وہ اسی علم ازلی کے مطابق پیش آرہا ہے، نیز اسی کی قدرت اور اسی کی مشیت سے پیش آرہا ہے۔ الغرض کائنات کا جو نظام حق تعالیٰ شانہ نے ازل ہی سے تجویز کر رکھا تھا، یہ کائنات اس طے شدہ نظام کے مطابق چل رہی ہے۔

نجات کے لئے ایمان شرط ہے

س…ہم نے سن رکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ آخر میں دوزخ سے ہر اس آدمی کو نکال لے گا جس کے دل میں رائی کے برابر ایمان ہوگا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں یہ پسند نہیں کرتا کہ کسی موحد کو مشرک کے ساتھ رکھوں۔ تو کیا آج کل کے عیسائی اور یہودیوں کو بھی دوزخ سے نکال دے گا؟ کیونکہ وہ بھی اللہ کو مانتے ہیں، لیکن ہمارے رسول کو نہیں مانتے، اور حضرت عیسیٰ اور حضرت عزیر کو خدا کا بیٹا تصور کرتے ہیں۔ تو کیا عیسائی اور یہودی “رائی برابر ایمان والوں” میں ہوں گے یا نہیں؟

ج… دائمی نجات کے لئے ایمان شرط ہے، کیونکہ کفر اور شرک کا گناہ کبھی معاف نہیں ہوگا اور ایمان کے صحیح ہونے کے لئے صرف اللہ تعالیٰ کو ماننا کافی نہیں، بلکہ اس کے تمام رسولوں کا ماننا بھی ضروری ہے اور جو لوگ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خدا تعالیٰ کا آخری نبی نہیں مانتے وہ خدا تعالیٰ پر بھی ایمان نہیں رکھتے، کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم، اللہ تعالیٰ کے رسول اور آخری نبی ہیں، اور اللہ تعالیٰ نے آپ کے رسول اور خاتم النبیین ہونے کی شہادت دی ہے، پس جو لوگ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت و نبوت اور ختم نبوت پر ایمان نہیں رکھتے وہ اللہ تعالیٰ کی شہادت کو جھٹلاتے ہیں اور جو شخص اللہ تعالیٰ کی بات کو جھوٹی کہے وہ اللہ تعالیٰ کو ماننے والا نہیں، پس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کو قبول کرنا شرطِ نجات ہے، غیرمسلم کی نجات نہیں ہوگی۔

مسلمان کی تعریف

س… مسلمان کی تعریف کیا ہے؟

ج… آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لائے ہوئے دین کو ماننے والا مسلمان ہے، دینِ اسلام کے وہ امور جن کا دین میں داخل ہونا قطعی تواتر سے ثابت اور عام و خاص کو معلوم ہو، ان کو “ضروریاتِ دین” کہتے ہیں۔ ان “ضروریاتِ دین” میں سے کسی ایک بات کا انکار یا تاویل کرنے والا کافر ہے۔

س… قرآن اور حدیث کے حوالہ سے مختصراً بتائیں کہ مسلمان کی تعریف کیا ہے؟ یہ بات پھر عرض کروں گا کہ صرف قرآن شریف اور حدیث شریف کے حوالے سے بتائیں، دوسرا کوئی حوالہ نہ دیں، ورنہ لوگوں کو پھر موقع ملے گا کہ یہ ہمارے فرقہ کے بزرگ کا حوالہ نہیں۔

ج… ایمان نام ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لائے ہوئے دین کو بغیر کسی تحریف و تبدیلی کے قبول کرنے کا اور اس کے مقابلہ میں کفر نام ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کی کسی قطعی و یقینی بات کو نہ ماننے کا۔ قرآن کریم کی بے شمار آیات میں “ما انزل الی الرسول” کے ماننے کو “ایمان” اور “ما انزل الی الرسول” میں سے کسی ایک کے نہ ماننے کو “کفر” فرمایا گیا ہے۔ اسی طرح احادیث شریفہ میں بھی یہ مضمون کثرت سے آیا ہے، مثلاً: صحیح مسلم (جلد:۱ ص:۳۷) کی حدیث میں ہے: “اور وہ ایمان لائیں مجھ پر اور جو کچھ میں لایا ہوں اس پر۔” اس سے مسلمان اور کافر کی تعریف معلوم ہوجاتی ہے۔ یعنی جو شخص محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لائے ہوئے دین کی تمام قطعی و یقینی باتوں کو من و عن مانتا ہو وہ مسلمان ہے، اور جو شخص قطعیاتِ دین میں سے کسی ایک کا منکر ہو یا اس کے معنی و مفہوم کو بگاڑتا ہو، وہ مسلمان نہیں، بلکہ کافر ہے۔

مثال کے طور پر قرآن مجید نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم النبیین فرمایا ہے، اور بہت سی احادیث شریفہ میں اس کی یہ تفسیر فرمائی گئی ہے کہ آپ کے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا، اور ملتِ اسلامیہ کے تمام فرقے (اپنے اختلافات کے باوجود) یہی عقیدہ رکھتے آئے ہیں، لیکن مرزا غلام احمد قادیانی نے اس عقیدے سے انکار کرکے نبوت کا دعویٰ کیا، اس وجہ سے قادیانی غیرمسلم اور کافر قرار پائے۔

اسی طرح قرآن کریم اور احادیث شریفہ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے آخری زمانے میں نازل ہونے کی خبر دی گئی ہے، مرزا قادیانی اور اس کے متبعین اس عقیدے سے منحرف ہیں، اور وہ مرزا کے “عیسیٰ” ہونے کے مدعی ہیں، اس وجہ سے بھی وہ مسلمان نہیں۔ اس طرح قرآن کریم اور احادیث شریفہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کو قیامت تک مدارِ نجات ٹھہرایا گیا ہے، لیکن مرزا قادیانی کا دعویٰ ہے کہ: “میری وحی نے شریعت کی تجدید کی ہے، اس لئے اب میری وحی اور میری تعلیم مدارِ نجات ہے۔” (اربعین نمبر:۴ ص:۷، حاشیہ) غرض کہ مرزا قادیانی نے بے شمار قطعیاتِ اسلام کا انکار کیا ہے، اس لئے تمام اسلامی فرقے ان کے کفر پر متفق ہیں۔

ابتدائی وحی کے تین سال بعد عمومی دعوت و تبلیغ کا حکم ہوا

س… زمانہٴ فترة وحی میں تبلیغ اسلام کی دعوت جاری رہی یا نہیں؟ جبکہ ایک صاحب کا کہنا ہے کہ ․․․․․․․․․ صاحب کی رائے میں پہلی وحی کے بعد تین سال تک آپ کو ٹریننگ دی جاتی رہی اور اس کے بعد تبلیغ کا حکم ہوا۔ امید ہے کہ آپ جواب سے نوازیں گے۔

ج… ابتدائی وحی کے نزول کے بعد تین سال تک وحی کا نزول بند رہا، یہ زمانہ “فترة وحی” کا زمانہ کہلاتا ہے۔ اس وقت تک دعوت و تبلیغ کا عمومی حکم نہیں ہوا تھا۔ “زمانہٴ فترت” کے بعد سورہٴ مدثر کی ابتدائی آیات نازل ہوئیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دعوت و انذار کا حکم دیا گیا، اس “فترة وحی” میں بہت سی حکمتیں تھیں۔ ․․․․․․․․․ صاحب نے “ٹریننگ” کی جو بات کی، وہ ان کی اپنی فکری سطح کے مطابق ہے۔

گونگے کا اظہارِ اسلام

س… ہمارے ہاں ایک گونگا ہے جس کے ماں باپ مرچکے ہیں اور وہ پیدائش سے اب تک ہندو رہا ہے، اور اب وہ مسلمان ہونا چاہتا ہے، اس کی عمر ۲۸ سال ہے، جبکہ وہ ان پڑھ ہے، مسئلہ یہ ہے کہ اس کو کلمہ کس طرح پڑھایا جائے جبکہ وہ سن بھی نہیں سکتا؟ ایک مولوی صاحب فرماتے ہیں کلمہ طیبہ لکھ کر پانی میں گھول کر پلادیا جائے، مسلمان ہوجائے گا!

ج…کلمہ گھول کر پلانے سے تو مسلمان نہیں ہوگا، البتہ اگر وہ اشارے سے توحید و رسالت کا اقرار کرے تو مسلمان ہوجائے گا۔

ہر مسلمان غیرمسلم کو مسلمان کرسکتا ہے

س… کیا کوئی عام مسلمان (جو روزے نماز کا پابند ہو) کسی غیرمسلم کو مسلمان بناسکتا ہے؟ اور اگر بناسکتا ہے تو اس کا طریقہٴ کار کیا ہے؟

ج… غیرمسلم کو کلمہ شہادت پڑھادیجئے، اور جس کفر میں وہ گرفتار تھا اس سے توبہ کرادیجئے، بس مسلمان ہوجائے گا! اس کے بعد اسے اسلام کی ضروری باتوں کی تعلیم دیجئے۔

دین اور مذہب میں کیا فرق ہے؟

س… مذہب اور دین میں کیا فرق ہے؟ نیز یہ کہ اسلام مذہب ہے یا دین؟

ج… دین اور مذہب کا ایک ہی مفہوم ہے، آج کل بعض لوگ یہ خیال پیش کر رہے ہیں کہ دین اور مذہب الگ الگ چیزیں ہیں، مگر ان کا خیال غلط ہے۔

صراطِ مستقیم سے کیا مراد ہے؟

س… اکثر بزرگوں نے صراطِ مستقیم کو صرف مسجد تک محدود رکھا، نیک کام صرف روزہ، زکوٰة اور نماز کو قرار دیا، جو شخص نماز نہیں پڑھتا اس کو کافر کہنا کیا درست ہے؟ ایک مسلمان کا دوسرے مسلمان کو کافر قرار دینا کیا صحیح ہے؟ نماز فرض ہے، فرض کریں اگر کوئی شخص دریا میں ڈوب رہا ہے اور چیخ چیخ کر بچاوٴ بچاوٴ پکار رہا ہے اور یہ ہمارا فرض ہے کہ ہم اس کو بچالیں اور ایک فرض نماز ہے اگر دو منٹ ہم نے صرف کر دئیے تو قضا ہوجائے گی، کیا ہم ایسے میں مصلیٰ بچھاکر دریا کے کنارے نماز ادا کریں گے؟ یا اس ڈوبتے ہوئے انسان کی زندگی بچائیں گے؟

خداوند کریم نے قرآن کریم میں فرمایا ہے کہ، ترجمہ … دکھا ہم کو سیدھا راستہ، یہ سورہٴ فاتحہ میں آیا ہے، جسے الحمد شریف کہا جاتا ہے، جو ہر ایک نماز میں پڑھی جاتی ہے، جس کے نہ پڑھنے سے نماز نامکمل ہوتی ہے جسے ہم ہر نماز میں پانچ وقت پڑھتے ہیں کہ دکھا ہم کو سیدھا راستہ، کیا ہم غلط راستے پر ہیں؟ اگر نہیں تو ہم کون سا صحیح راستہ مانگ رہے ہیں؟ اس کا مطلب ہے کہ صراطِ مستقیم کوئی اور ہے، سیدھی راہ کوئی اور ہے جو جنت کی طرف جاتی ہے؟ کیا ہم اس راہ پر چل رہے ہیں جو صرف مسجد تک جاتی ہے؟

براہ کرم آپ ہمیں وہ طور اور طریقے بتائیں جن پر عمل کرکے ہم سیدھے راستے یعنی صراطِ مستقیم پر چل سکتے ہیں۔

ج… قرآن کریم نے جہاں ہمیں یہ دعا سکھائی ہے: “دکھا ہمیں سیدھا راستہ”، وہیں اس سیدھی راہ کی یہ کہہ کر وضاحت بھی کردی ہے: “راہ ان لوگوں کی کہ انعام فرمایا آپ نے ان پر، نہ ان پر غضب ہوا اور نہ وہ گمراہ ہوئے۔”

اس سے معلوم ہوا کہ صراطِ مستقیم نام ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم، صحابہ کرام اور بزرگانِ دین کے راستہ کا، اسی صراطِ مستقیم کا مختصر عنوان اسلام ہے اور قرآن کریم اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاک ارشادات اسی کی تشریح کرتے ہیں، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ سے پاکر جتنے اعمال امت کو بتائے ہیں اور جس جس وقت کے لئے جو جو عمل بتایا، اپنے اپنے درجہ کے مطابق ان سب کا بجالانا ضروری ہے، اور ان میں سے کسی ایک کو بھی معمولی اور حقیر سمجھنا درست نہیں، اگر ایک ہی وقت میں کئی عمل جمع ہوجائیں تو ہمیں یہ اصول بھی بتادیا گیا ہے کہ کس کو مقدم کیا جائے گا اور کس کو موٴخر؟ مثلاً: آپ نے جو مثال لکھی ہے ایک شخص ڈوب رہا ہے تو اس وقت اس کو بچانا پہلا فرض ہے، اسی طرح اگر کوئی شخص نماز پڑھ رہا ہو اور اس کے سامنے کوئی نابینا آدمی کنویں یا کسی گڑھے میں گرنے لگے تو نماز کو توڑ کر اس کی جان بچانا فرض ہے۔

اس تفصیل سے معلوم ہوا کہ صراطِ مستقیم مسجد تک محدود نہیں اور وہ شخص احمق ہے جو اسلام کو مسجد تک محدود سمجھتا ہے، لیکن اس کے یہ معنی نہیں کہ مسجد والے اعمال ایک زائد اور فالتو چیز ہیں، بلاشبہ اسلام صرف نماز، روزے اور حج و زکوٰة کا نام نہیں، لیکن اس کے یہ معنی نہیں کہ یہ چیزیں غیرضروری ہیں، نہیں! بلکہ یہ اسلام کے اعلیٰ ترین شعائر اور اس کی سب سے نمایاں علامتیں ہیں، جو شخص دعویٴ مسلمانی کے ساتھ نماز اور روزے کا بوجھ نہیں اٹھاتا اس کے قدم “صراطِ مستقیم” کی ابتدائی سیڑھیوں پر بھی نہیں، کجا کہ اسے صراطِ مستقیم پر قرار و ثبات نصیب ہوتا۔

رہی یہ بات کہ جب ہم صراطِ مستقیم پر قائم ہیں تو پھر اس کی دعا کیوں کی جاتی ہے کہ: “دکھا ہم کو سیدھی راہ”، اس کا جواب یہ ہے کہ یہاں دو چیزیں الگ الگ ہیں۔ ایک ہے صراطِ مستقیم پر قائم ہوجانا اور دوسری چیز ہے صراطِ مستقیم پر قائم رہنا۔ یہ دونوں باتیں بالکل جدا جدا ہیں، بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ ایک شخص آج صراطِ مستقیم پر ہے لیکن خدانخواستہ کل اس کا قدم صراطِ مستقیم سے پھسل جاتا ہے اور وہ گمراہی کے گڑھے میں گر جاتا ہے۔ قرآن کریم کی تلقین کردہ دعا “اھدنا الصراط المستقیم” حال اور مستقبل دونوں کو جامع ہے اور مطلب یہ ہے کہ چونکہ آئندہ کا کوئی بھروسہ نہیں، اس لئے آئندہ کے لئے صراطِ مستقیم پر قائم رہنے کی دعا کی جاتی ہے کہ: “اے اللہ! جس طرح آپ نے محض اپنے لطف و کرم سے ہمیں اپنے مقبول بندوں کے راستہ صراطِ مستقیم پر ڈال دیا ہے، آئندہ بھی ہمیں مرتے دم تک اسی پر قائم رکھئے۔”

آپ نے دریافت کیا ہے کہ جو شخص نماز نہیں پڑھتا اس کو کافر کہنا کیا درست ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ جو شخص نماز نہیں پڑھتا لیکن وہ نماز کی فرضیت کا قائل ہو اور یہ سمجھتا ہو کہ میں اس اعلیٰ ترین فریضہٴ خداوندی کو ترک کرکے بہت بڑے گناہ کا مرتکب ہو رہا ہوں اور میں قصور وار اور مجرم ہوں، ایسے شخص کو کافر نہیں کہا جائے گا اور نہ اسے کوئی کافر کہنے کی جرأت کرتا ہے۔

لیکن یہ شخص اگر نماز کو فرض ہی نہ سمجھتا ہو اور نہ نماز کے چھوڑنے کو وہ کوئی گناہ اور جرم سمجھتا ہو، تو آپ ہی فرمائیے کہ اس کو مسلمان کون کہے گا؟ کیونکہ اس کو مسلمان سمجھنے کے معنی یہ ہیں کہ خدا اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے جو مسلمانوں پر نماز فرض ہونا ذکر فرمایا ہے، وہ نعوذ باللہ! غلط ہے، کیا خدا اور رسول کی بات کو غلط کہہ کر بھی کوئی شخص مسلمان رہ سکتا ہے․․․؟

آپ نے دریافت فرمایا ہے کہ کیا ایک مسلمان کا دوسرے مسلمان کو کافر کہنا صحیح ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ ہرگز صحیح نہیں، بلکہ گناہِ کبیرہ ہے، مگر یہ اچھی طرح سمجھ لینا چاہئے کہ مسلمان کون ہوتا ہے؟

حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے خدا تعالیٰ سے پاکر جو دین امت کو دیا ہے، اس پورے کے پورے دین کو اور اس کی ایک ایک بات کو ماننا اسلام ہے، اور ماننے والے کو مسلمان کہتے ہیں اور دینِ اسلام کی جو باتیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمائی ہیں ان میں سے کسی ایک بات کو نہ ماننا یا اس میں شک و تردد کا اظہار کرنا کفر کہلاتا ہے۔ پس جو شخص دینِ اسلام کی کسی قطعی اور یقینی بات کو جھٹلاتا ہے یا اس کا مذاق اڑاتا ہے وہ مسلمان نہیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لائے ہوئے پورے دین کو ماننے کا مختصر عنوان کلمہ طیبہ “لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ” ہے۔ مسلمان یہ کلمہ پڑھ کر خدا تعالیٰ کی توحید اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت و نبوت کا اقرار کرتا ہے، اور اس اقرار کے یہی معنی ہیں کہ وہ خدا کے ہر حکم کو مانے گا اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہر فرمان کو خدا کا فرمان سمجھے گا، اس کلمہ طیبہ کے پڑھ لینے کے باوجود جو شخص آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی بات کو نعوذ باللہ! غلط کہتا ہے وہ اپنے اس اقرار میں قطعاً جھوٹا ہے، اس لئے ایسے شخص کو مسلمان کہنا، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تکذیب ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ نہ کسی مسلمان کو کافر کہنے کی اجازت ہے اور نہ کسی بے ایمان کافر کو مسلمان کہنے کی گنجائش ہے۔ قرآن کریم میں ہے:

ترجمہ:…”اے نبی! کہہ دیجئے کہ حق تمہارے رب کی طرف سے آچکا، اب جس کا جی چاہے (اس حق کو مان کر) موٴمن بنے اور جس کا جی چاہے (اس کا انکار کردے) کافر بنے۔ (مگر یہ یاد رکھے کہ) بے شک ہم نے (ایسے) ظالموں کے لئے (جو حق کا انکار کرتے ہیں) آگ تیار کر رکھی ہے۔”

(الکہف:۲۹)

کیا امتِ محمدیہ میں غیرمسلم بھی شامل ہیں؟

س… کیا امتِ محمدیہ میں غیرمسلم بھی شامل ہیں؟ ایک صاحب نے بتایا کہ امتِ محمدیہ کی مغفرت کی دعا نہیں کرنی چاہئے، بلکہ یہ کہنا چاہئے کہ امتِ مسلمہ کی مغفرت کر، کیونکہ کافر بھی امتِ محمدیہ میں شامل ہیں۔

ج… آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی امت اس اعتبار سے تو کافر بھی ہیں کہ آپ کی دعوت اور آپ کا پیغام ان کے لئے بھی ہے، مگر جب “امتِ محمدیہ” کا لفظ بولا جاتا ہے تو اس سے مراد وہی لوگ ہوتے ہیں جنہوں نے آپ کی دعوت پر لبیک کہی، آپ کے پیغام کی تصدیق کی اور آپ پر ایمان لائے، اس لئے “امتِ محمدیہ” کے حق میں دعائے خیر کرنا بالکل درست ہے اور ان صاحب کی بات صحیح نہیں۔

تحریف شدہ آسمانی کتب کے ماننے والے اہل کتاب کیوں؟

س… خدا تعالیٰ کی طرف سے نازل کردہ چاروں کتابوں میں سے کسی ایک کتاب میں بھی تبدیلی یا اس میں اپنی مرضی سے کچھ گھٹا یا بڑھاکر اگر اس کی پیروی کی جائے تو کیا اس صورت میں پیروی کرنے والے اہل کتاب کہے جائیں گے؟

ج… قرآن کریم تو تحریفِ لفظی سے محفوظ ہے، اس لئے قرآن کریم کے بارے میں تو یہ سوال غیرمتعلق ہے، پہلی کتابوں میں تحریف ہوئی ہے، مگر چونکہ وہ لوگ اصل کتاب کو ماننے کے مدعی ہیں اس لئے ان کو اہل کتاب تسلیم کیا گیا ہے۔

مسلمانوں کو اہل کتاب کہنا کیسا ہے؟

س… حالانکہ مسلمان کتاب سماوی کے حامل ہیں اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو آخری نبی مانتے ہیں، تو کیا اس وجہ سے ان کو اہل کتاب کہنا شرعاً یا لغتاً کسی بھی نوع سے درست ہے یا نہیں؟

ج… “اہل کتاب” اصطلاحی لفظ ہے، جو قرآن کریم سے پہلے کی منسوخ شدہ کتابوں کے ماننے والوں پر بولا جاتا تھا، مسلمانوں پر نہیں۔

حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے والدین شریفین کے ایمان پر بحث کرنا جائز نہیں

س… مولانا صاحب! ایک بہت اہم مسئلہ ہے جو تین چار روز سے مجھے بے حد پریشان کئے ہوئے ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے محلے میں ایک صاحبہ ہیں تین چار روز پہلے وہ ہمارے گھر بیٹھی فرما رہی تھیں کہ رسولِ خدا کی والدہ (نعوذ باللہ!) کافر تھیں، کیونکہ رسول اکرم سے پہلے اسلام نہیں تھا۔

ج… یہ مسئلہ بہت نازک اور حساس ہے۔ محققین نے اس میں گفتگو کرنے سے منع کیا ہے۔ امام سیوطی نے تین رسائل اس مسئلہ پر لکھے ہیں جن میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے والدین شریفین کا ایمان ثابت کیا ہے، اگر کسی کو ان کی تحقیق پر اطمینان نہ ہو تب بھی خاموشی بہتر ہے۔ ان محترمہ سے کہئے کہ ان سے قبر میں اور حشر میں یہ سوال نہیں کیا جائے گا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے والدین شریفین کے بارے میں ان کا عقیدہ کیا تھا؟ اس لئے وہ اس غلط بحث میں پڑ کر اپنا ایمان خراب نہ کریں اور نہ اہل ایمان کے جذبات کو بے ضرورت مجروح کریں۔

انگریز امریکن وغیرہ کفار رحمتوں کے زیادہ حقدار یا مسلمان؟

س… کیا یورپ ایشیا اور امریکن اقوام پر اللہ تعالیٰ کی رحمتیں نازل نہیں ہوتیں کہ وہاں کا عام آدمی خوشحال ہے۔ نیک، ایماندار اور انسان نظر آتا ہے، ہم مسلمانوں کی نسبت خدائی احکامات (حقوق العباد) کا زیادہ احترام کرتا ہے۔ کیا وہ اللہ (جو رحمت للعالمین ہے) کی رحمتوں سے ہماری نسبت زیادہ مستفید نہیں ہو رہا ہے؟ حالانکہ ان کے ہاں کتے، تصاویر، دونوں کی بہتات ہے۔ کیا ہم صرف اس وجہ سے رحمت کے حق دار ہیں کہ ہم مسلمان ہیں؟ چاہے ہمارے کرتوت دین اور اسلام کے نام پر بدنما دھبّہ ہی کیوں نہ ہوں؟ رحمت کا حق دار کون ہے؟ پاکستانی؟ جو حقوق العباد کے قاتل اور چینی انگریز کے پیروکار ہیں! جواب سے آگاہ فرماویں۔

ج… حق تعالیٰ شانہ کی رحمت دو قسم کی ہے: ایک عام رحمت، دوسری خاص رحمت۔ عام رحمت تو ہر عام و خاص اور موٴمن و کافر پر ہے، اور خاص رحمت صرف اہل ایمان پر ہے۔ اول کا تعلق دنیا سے ہے اور دوسری کا تعلق آخرت سے۔ کفار جو دنیا میں خوشحال نظر آتے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کی ساری اچھائیوں کا بدلہ دنیا ہی میں دے دیا جاتا ہے اور ان کے کفر اور بدیوں کا وبال آخرت کے لئے محفوظ کرلیا جاتا ہے۔ اس کے برعکس مسلمانوں کو ان کی برائیوں کی سزا دنیا میں ہی دی جاتی ہے۔ بہرحال کافروں اور بدکاروں کا دنیا میں خوشحال ہونا ان کے مقبول ہونے کی علامت نہیں۔ دوسرا کافروں کو دنیا میں خوش رکھنا ایسا ہے جس طرح سزائے موت کے قیدی کو جیل میں اچھی طرح رکھا جاتا ہے۔

نسخ قرآن کے بارہ میں جمہور اہل سنت کا مسلک

س…مسئلہ یہ ہے کہ مولانا محمد تقی صاحب عثمانی مدظلہ “علوم القرآن” ص:۱۶۴ پر رقم طراز ہیں کہ: “جمہور اہل سنت کا مسلک یہ ہے کہ قرآن کریم میں ایسی آیات موجود ہیں جن کا حکم منسوخ ہوچکا ہے۔ لیکن معتزلہ میں سے ابومسلم اصفہانی کا کہنا یہ ہے کہ قرآن کریم کی کوئی آیت منسوخ نہیں ہوئی بلکہ تمام آیات اب بھی واجب العمل ہیں۔ ابومسلم کی اتباع میں بعض دوسرے حضرات نے بھی یہی رائے ظاہر کی ہے۔ اور ہمارے زمانے کے اکثر تجدد پسند حضرات اسی کے قائل ہیں۔ چنانچہ جن آیتوں میں نسخ معلوم ہوتا ہے یہ حضرات ان کی ایسی تشریح کرتے ہیں جن سے نسخ تسلیم نہ کرنا پڑے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ موقف دلائل کے لحاظ سے کمزور ہے اور اسے اختیار کرنے کے بعد بعض قرآنی آیات کی تفسیر میں ایسی کھینچ تان کرنی پڑتی ہے جو اصولِ تفسیر کے بالکل خلاف ہے۔” یہ تو تھا تقی صاحب کا بیان۔ ادھر حضرت مولانا انور شاہ صاحب کشمیری “فیض الباری” ج:۳ ص:۱۴۷ پر فرماتے ہیں:

“انکرت النسخ راساً وادعیت ان النسخ لم یرد فی القراٰن راساً۔”

آگے اس کی تشریح فرماتے ہیں:

“اعنی بالنسخ کون الاٰیة منسوخة فی جمیع ماحوتہ بحیث لا تبقی معمولة فی جزئیّ من جزئیاتھا فذالک عندی غیر واقع وما من اٰیة منسوخة الا وھی معمولة بوجہ من الوجوہ وجھة من الجھات۔”

(فیض الباری ج:۳ ص:۱۴۷)

برائے کرم یہ بتائیں کہ مولانا محمد انور شاہ صاحب کے بارے میں کیا تاویل کریں گے؟ کیا یہ صریح نسخ کا انکار نہیں ہے؟ واللہ! میرا ان کے بارے میں حسن ظن ہی ہے، صرف اپنے ناقص ذہن کی تشفی چاہتی ہوں۔ نیز ناچیز لڑکیوں کو پڑھاتی ہے تو اس قسم کے مسائل میں توجیہ بہت مشکل ہوتی ہے۔ برائے کرم یہ بتائیں کہ انور شاہ کشمیری رحمہ اللہ کے نزدیک مندرجہ ذیل آیت کی کون سی جزئی پر عمل باقی ہے:

“یٰٓاَیھا الذین اٰمنوا اذا ناجیتم الرسول فقدموا بین یدی نجواکم صدقة، ذالک خیر لکم واطھر، فان لم تجدوا فان الله غفور رحیم۔” (المجادلة:۱۲)

میرے کہنے کا مقصود یہ ہے کہ اِدھر مولانا محمد تقی صاحب کا فرمان ہے کہ بجز معتزلہ یا ان کے ہم مشرب کے کسی نے نسخ کا انکار نہیں کیا، اور اُدھر دیوبند کے جلیل القدر اور چوٹی کے بزرگ یہ فرمائیں:

“ان النسخ لم یرد فی القراٰن راساً۔”

تو توجیہ مجھ جیسی ناقص العقل والدّین کے لئے بہت مشکل ہے، اس الجھن کو حل فرماکر ثوابِ دارین حاصل کریں۔

ج… معتزلہ کے مذہب اور حضرت شاہ صاحب نور اللہ مرقدہ کے مسلک کے درمیان فرق یہ ہے کہ معتزلہ تو نسخ فی القرآن کے سرے سے منکر ہیں۔ جیسا کہ آج کل قادیانی اور نیچری بھی یہی رائے رکھتے ہیں، ان کے نزدیک قرآن کریم میں جو حکم ایک بار نازل کردیا گیا اس کی جگہ پھر کبھی دوسرا حکم نازل نہیں ہوا، حضرت شاہ صاحب دیگر اہل حق کی طرح نسخ فی القرآن کے قائل ہیں، مگر وہ یہ فرماتے ہیں کہ آیاتِ منسوخہ کو جو قرآن کریم میں باقی رکھا گیا اس میں حکمت یہ ہے کہ ان آیات کے مشمولات میں کسی نہ کسی وقت کوئی نہ کوئی جزئی معمول بہ ہوتی ہے، یہ نہیں ہوا کہ کسی آیت کو اس طرح منسوخ کردیا جائے کہ اس کے مشمولات و جزئیات میں سے کوئی فرد کسی حال میں بھی معمول بہ نہ رہے، مثلاً: آیتِ فدیہٴ صوم کا حکم ان لوگوں کے حق میں منسوخ ہے جو روزے کی طاقت رکھتے ہوں، خواہ ان کو روزے میں تکلیف و مشقت برداشت کرنا پڑتی ہو۔ مگر شیخ فانی وغیرہ کے حق میں روزے کا فدیہ اب بھی جائز ہے اور وہ اسی آیت کے تحت مندرج ہے۔ اس لئے یہ آیت اپنے بعض مشمولات کے اعتبار سے تو منسوخ ہے جیسا کہ احادیث صحیحہ میں اس کی تصریح موجود ہے، لیکن اس کے بعض جزئیات اب بھی زیر عمل ہیں۔ اس لئے یہ بالکلیہ منسوخ نہیں، بلکہ بعض اعتبارات و جزئیات کے اعتبار سے منسوخ ہے۔ اس کی دوسری مثال آیاتِ مناجات ہے:

“یٰٓاَیھا الذین اٰمنوا اذا ناجیتم الرسول․․․الخ۔”

جو آپ نے نقل کی ہے، آیت میں جو حکم دیا گیا ہے وہ پہلے واجب تھا، جسے منسوخ کردیا گیا اور اس کے نسخ کی تصریح اس کے مابعد کی آیت میں موجود ہے۔ مگر اس کا استحباب بعد میں بھی باقی رہا، اس لئے اس آیت میں بھی “نسخ بالکلیہ” نہیں ہوا، بلکہ اپنے بعض مشمولات و جزئیات کے اعتبار سے یہ آیت بعد میں بھی معمول بہا رہی۔

الغرض حضرت شاہ صاحب نور اللہ مرقدہ کے ارشاد: “ان النسخ لم یرد فی القراٰن راساً” کا یہ مطلب نہیں کہ قرآن کریم میں نازل ہونے کے بعد کبھی کوئی حکم منسوخ نہیں ہوا، جیسا کہ معتزلہ کہتے ہیں، بلکہ مطلب یہ ہے کہ قرآن کریم کی جو آیات منسوخ ہوئیں ان میں “نسخ من کل الوجوہ” یا “نسخ بالکلیہ” نہیں ہوا کہ ان آیات کے مشمولات و جزئیات میں سے کوئی جزئیہ کسی حال اور کسی صورت میں بھی معمول بہا نہ رہے، بلکہ ایسی آیات میں “نسخ فی الجملہ” ہوا ہے، یعنی یہ آیات اپنے بعض محتویات و مشمولات کے اعتبار سے اگرچہ منسوخ ہیں، مگر ان کے بعض جزئیات و مشمولات بدستور معمول بہا ہیں۔ حضرت شاہ صاحب کے ارشاد کی یہ تشریح خود ان کی اس عبارت سے واضح ہے جو آپ نے نقل کی ہے، چنانچہ فرماتے ہیں:

“ان النسخ لم یرد فی القراٰن راساً، اعنی بالنسخ کون الاٰیة منسوخة فی جمیع ماحوتہ بحیث لا تبقیٰ معمولة فی جزئی من جزئیاتھا۔ فذالک عندی غیر واقع وما من اٰیة منسوخة الا وھی معمولة بوجہ من الوجوہ من الجہات۔”

ترجمہ:…”بے شک قرآن کریم میں نسخ بالکلیہ واقع نہیں ہوا اور اس نسخ بالکلیہ سے میری مراد یہ ہے کہ کوئی آیت اپنے تمام مشمولات کے اعتبار سے منسوخ ہوجائے کہ اس کی جزئیات میں سے کوئی جزئی بھی معمول بہ نہ رہے، ایسا نسخ میرے نزدیک واقع نہیں، بلکہ جو آیت بھی منسوخ ہے وہ کسی نہ کسی وجہ اور کسی نہ کسی جہت سے معمول بہا ہے۔

اس ضمن میں آیتِ فدیہ کی مثال دینے کے بعد فرماتے ہیں:

“وبالجملة جنس الفدیة لم ینسخ بالکلیة فھی باقیة الی الاٰن فی عدة مسائل ولیس لھا ماخذ عندی غیر تلک الاٰیة فدل علیٰ انھا لم تنسخ بمعنی عدم بقاء حکمھا فی محل ونحوہ۔”

ترجمہ:…”خلاصہ یہ ہے کہ جنس فدیہ بالکلیہ منسوخ نہیں ہوا بلکہ فدیہ متعدد مسائل میں اب تک باقی ہے اور ان مسائل میں فدیہ کا مأخذ میرے نزدیک اس آیت کے سوا نہیں، پس اس سے پتہ چلتا ہے کہ یہ آیت بایں معنی منسوخ نہیں ہوئی کہ اس کا حکم کسی محل میں بھی باقی نہ رہا ہو۔”

متعدی امراض اور اسلام

س… کیا جذام والے سے اسلام نے رشتہ ختم کردیا ہے؟ اگر نہیں تو اس کے مریض سے جینے کا حق کیوں چھینا جاتا ہے؟ اور یہ کیوں کہا جاتا ہے کہ: “اس سے شیر کی طرح بھاگو اور اس کو لمبے بانس سے کھانا دو”؟

ج… جو شخص ایسی بیماری میں مبتلا ہو جس سے لوگوں کو اذیت ہوتی ہو، اگر لوگوں کو اس سے الگ رہنے کا مشورہ دیا جائے تو یہ تقاضائے عقل ہے، باقی بیماری کی وجہ سے اس کا رشتہ اسلام سے ختم نہیں ہوگا، اس بیماری پر اس کو اجر ملے گا۔ اسلام تو مرض کے متعدی ہونے کا قائل نہیں، لیکن اگر جذامی سے اختلاط کے بعد خدانخواستہ کسی کو یہ مرض لاحق ہوگیا تو ضعیف الاعتقاد لوگوں کا عقیدہ بگڑے گا اور وہ یہی سمجھیں گے کہ یہ مرض اس کو جذامی سے لگا ہے، اس فسادِ عقیدہ سے بچانے کے لئے لوگوں سے کہا گیا ہے کہ: اس سے شیر کی طرح بھاگو (لمبے بانس سے کھانا دینے کا مسئلہ مجھے معلوم نہیں، نہ کہیں یہ پڑھا ہے)۔ الغرض جذام والے کی تحقیر مقصود نہیں بلکہ لوگوں کو ایذائے جسمانی اور خرابیٴ عقیدہ سے بچانا مقصود ہے۔ اگر کوئی شخص قوی الایمان اور قوی المزاج ہو وہ اگر جذامی کے ساتھ کھاپی لے تب بھی کوئی گناہ نہیں، چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جذامی کے ساتھ ایک برتن میں کھانا کھایا ہے۔

اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت سے انبیاء علیہم السلام کی معیت نصیب ہوگی، ان کا درجہ نہیں!

س… کیا آپ مندرجہ ذیل آیتِ کریمہ کی پوری تشریح بیان فرمائیں گے؟:

“ومن یطع الله والرسول فاولئک مع الذین انعم الله علیھم من النبیین والصدیقین والشہداء والصلحین وحسن اولئک رفیقا۔” (النساء:۶۹)

بعض لوگ کہتے ہیں کہ اس کا ترجمہ یہ ہے کہ: “جو بھی اللہ تعالیٰ کی اور محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اطاعت کرے گا وہ ان لوگوں میں شامل ہوگا جن پر اللہ تعالیٰ نے انعام کیا ہے یعنی انبیاء (علیہم السلام) اور صدیقین اور شہداء اور صالحین میں، اور یہ لوگ بہت ہی اچھے رفیق ہیں۔” اور اس کی تشریح یہ بتلاتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت سے نبی، صدیق، شہید اور صالح کا درجہ مل سکتا ہے۔

ج…یہ تشریح دو وجہ سے غلط ہے، ایک تویہ کہ نبوت ایسی چیز نہیں جو انسان کو کسب و محنت اور اطاعت و عبادت سے مل جائے، دوسرے اس لئے کہ اس سے لازم آئے گا کہ اسلام کی چودہ صدیوں میں کسی کو بھی اطاعتِ کاملہ کی توفیق نہ ہوئی۔

آیت کا مطلب یہ ہے کہ جو لوگ اپنی استطاعت کے مطابق اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت میں کوشاں رہیں گے، گو ان کے اعمال کم درجے کے ہوں، ان کو قیامت کے دن انبیاء کرام، صدیقین، شہداء اور مقبولانِ الٰہی کی معیت نصیب ہوگی۔

ولی اور نبی میں کیا فرق ہے؟

س… اولیاء اور انبیاء میں فرق کس طرح واضح کیا جائے؟

ج… نبی براہ راست خدا تعالیٰ سے احکام لیتا ہے، اور “ولی” اپنے نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) کے تابع ہوتا ہے۔

کوئی ولی، غوث، قطب، مجدد، کسی نبی یا صحابی کے برابر نہیں

س…حضرت، ولی، قطب، غوث، کوئی بڑا صاحبِ تقویٰ، عالم دین، امام وغیرہ ان سب میں سے کس کے درجہ کو پیغمبروں کے درجہ کے برابر کہا جاسکتا ہے؟

ج… کوئی ولی، غوث، قطب، امام، مجدد، کسی ادنیٰ صحابی کے مرتبہ کو بھی نہیں پہنچ سکتا، نبیوں کی تو بڑی شان ہے، علیہم الصلوٰة والسلام۔

کیا گوتم بدھ کو پیغمبروں میں شمار کرسکتے ہیں؟

س…تعلیم یافتہ جدید ذہن کے لوگ گوتم بدھ کو بھی پیغمبروں میں شمار کرتے ہیں، یہ کہاں تک درست ہے؟

ج… قرآن و حدیث میں کہیں اس کا ذکر نہیں آیا، اس لئے ہم قطعیت کے ساتھ کچھ نہیں کہہ سکتے۔ شرعی حکم یہ ہے کہ جن انبیاء کرام علیہم السلام کے اسمائے گرامی قرآن کریم میں ذکر کئے گئے ہیں ان پر تو تفصیلاً قطعی ایمان رکھنا ضروری ہے، اور باقی حضرات پر اجمالاً ایمان رکھا جائے کہ اللہ تعالیٰ شانہ نے بندوں کی ہدایت کے لئے جتنے انبیاء کرام علیہم السلام کو مبعوث فرمایا، خواہ ان کا تعلق کسی خطہ ارضی سے ہو، اور خواہ وہ کسی زمانے میں ہوئے ہوں، ہم سب پر ایمان رکھتے ہیں۔

کسی نبی یا ولی کو وسیلہ بنانا کیسا ہے؟

س…قرآن شریف میں صاف صاف آیا ہے کہ جو کچھ مانگنا ہے مجھ سے مانگو، لیکن پھر بھی یہ وسیلہ بنانا کچھ سمجھ میں نہیں آتا۔

ج… وسیلہ کی پوری تفصیل اور اس کی صورتیں میری کتاب “اختلافِ امت اور صراطِ مستقیم” حصہ اول میں ملاحظہ فرمالیں۔ بزرگوں کو مخاطب کرکے ان سے مانگنا تو شرک ہے، مگر خدا سے مانگنا اور یہ کہنا کہ: “یا اللہ! بطفیل اپنے نیک اور مقبول بندوں کے میری فلاں مراد پوری کردیجئے”، یہ شرک نہیں۔

صحیح بخاری ج:۱ ص:۱۳۷ میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی یہ دعا منقول ہے:

“اللّٰھم انا کنا نتوسل الیک بنبینا صلی الله علیہ وسلم فتسقینا وانا نتوسل الیک بعم نبینا فاسقنا۔”

ترجمہ:…”اے اللہ! ہم آپ کے دربار میں اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ توسل کیا کرتے تھے، پس آپ ہمیں بارانِ رحمت عطا فرماتے تھے۔ اور (اب) ہم اپنے نبی کے چچا (عباس) کے ذریعہ توسل کرتے ہیں تو ہمیں بارانِ رحمت عطا فرما۔”

اس حدیث سے توسل بالنبی صلی اللہ علیہ وسلم اور توسل باولیاء اللہ دونوں ثابت ہوئے، جس شخصیت سے توسل کیا جائے اسے بطور شفیع پیش کرنا مقصود ہوتا ہے۔

بحق فلاں دعا کرنے کا شرعی حکم

س… بحق فلاں اور بحرمت فلاں دعا کرنا کیسا ہے؟ کیا قرآن و سنت سے اس کا ثبوت ملتا ہے؟

ج… بحق فلاں اور بحرمت فلاں کے ساتھ دعا کرنا بھی توسل ہی کی ایک صورت ہے، اس لئے ان الفاظ سے دعا کرنا جائز اور حضرات مشائخ کا معمول ہے۔ “حصن حصین” اور “الحزب الاعظم” ماثورہ دعاوٴں کے مجموعے ہیں، ان میں بعض روایات میں “بحق السائلین علیک، فان للسائل علیک حقا۔” وغیرہ الفاظ منقول ہیں، جن سے اس کے جواز و استحسان پر استدلال کیا جاسکتا ہے، ہماری فقہی کتابوں میں اس کو مکروہ لکھا ہے، اس کی توجیہ بھی میں “اختلافِ امت اور صراطِ مستقیم” میں کرچکا ہوں۔

توفیق کی دعا مانگنے کی حقیقت

س… توفیق کی تشریح فرمادیجئے! دعاوٴں میں اکثر خدا سے دعا کی جاتی ہے کہ اللہ فلاں کام کرنے کی توفیق دے۔ مثال کے طور پر ایک شخص یہ دعا کرتا ہے کہ اللہ مجھے نماز پڑھنے کی توفیق دے، مگر وہ صرف دعا ہی پر اکتفا کرتا ہے اور دوسروں سے یہ کہتا ہے کہ: “جب سے توفیق ہوگی تب میں نماز شروع کروں گا۔” اس سلسلے میں وضاحت فرمادیجئے تاکہ ہمارے بھائیوں کی آنکھوں پر پڑا ہوا توفیق کا پردہ اتر جائے۔

ج…توفیق کے معنی ہیں کسی کارِخیر کے اسباب من جانب اللہ مہیا ہوجانا، جس شخص کو اللہ تعالیٰ نے تندرستی عطا فرما رکھی ہے اور نماز پڑھنے سے کوئی مانع اس کے لئے موجود نہیں، اس کے باوجود وہ نماز نہیں پڑھتا بلکہ صرف توفیق کی دعا کرتا ہے، وہ درحقیقت سچے دل سے دعا نہیں کرتا بلکہ نعوذ باللہ! دعا کا مذاق اڑاتا ہے، ورنہ اگر وہ واقعی اخلاص سے دعا کرتا تو کوئی وجہ نہ تھی کہ وہ نماز سے محروم رہتا۔

کسبِ معاش کے آداب

س…قرآن و سنت کی رُو سے مستقبل کی منصوبہ بندی (اپنی ذات کے لئے) کیسی ہے؟ یعنی جائز ذرائع سے مستقبل کے لئے دولت کا جمع کرنا، اپنی آئندہ نسلوں کے لئے سہولیات اور آسانیاں بہم پہنچانا، فراوانیٴ رزق کے لئے کوششیں کرنا، جبکہ ہمارا عقیدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی ہمارا رازق اور خالق ہے۔ میری مراد یہ نہیں کہ انسان ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھا رہے، بلکہ بہتر مستقبل کی منصوبہ بندی اور اس کے لئے کوششیں کرنا ہے۔ مولانا صاحب اس سے ہمارے معاشرے میں کافی برائیاں پیدا ہو رہی ہیں۔

ج… جو شخص حلال ذریعہ سے مال کمائے اور شریعت نے مال کے جو حقوق مقرر فرمائے ہیں، وہ بھی ٹھیک طور پر ادا کرتا رہے، اسی کے ساتھ یہ کہ مال کمانے میں ایسا منہمک نہ ہو کہ آخرت کی تیاری سے غفلت اور فرائضِ شرعیہ کی بجاآوری میں سستی واقع ہوجائے۔ ان تین شرائط کے ساتھ اگر مال کماکر اولاد کے لئے چھوڑ جائے تو کوئی گناہ نہیں، لیکن اگر ان تین میں سے کسی ایک شرط میں کوتاہی کی تو یہ کمایا ہوا مال اس شخص کے لئے قبر میں بھی اور حشر میں بھی وبال بن جائے گا۔ مال کے بارے میں کتاب و سنت کی تعلیمات کا خلاصہ میں نے ذکر کردیا، اس کی شرح کے لئے ایک دفتر چاہئے۔

اسباب کا اختیار کرنا توکل کے خلاف نہیں

س…کسی نفع و نقصان کو پیش نظر رکھ کر کوئی آدمی کوئی قدم اٹھائے اور بیماری کے حملہ آور ہونے سے پہلے احتیاطی تدابیر اختیار کرنا کیا توکل کے خلاف تو نہیں؟ اور یہ کہ اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرنے کا صحیح مفہوم سمجھادیجئے۔

ج… توکل کے معنی اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرنے کے ہیں، اور بھروسہ کا مطلب یہ ہے کہ کام اسباب سے بنتا ہوا نہ دیکھے بلکہ یوں سمجھے کہ اسباب کے اندر مشیتِ الٰہی کی روح کارفرما ہے، اس کے بغیر تمام اسباب بیکار ہیں:

عقل در اسباب می دارد نظر

عشق می گوید مسبّب رانگر

مطلقاً ترکِ اسباب کا نام توکل نہیں، بلکہ اس بارے میں تفصیل ہے کہ جو اسباب ناجائز اور غیرمشروع ہوں ان کو توکل برخدا بالکل ترک کردے، خواہ فوراً یا تدریجاً، اور جو اسباب مشروع اور جائز ہیں ان کی تین قسمیں ہیں اور ہر ایک کا حکم الگ ہے:

۱:…وہ اسباب جن پر مسبّب کا مرتب ہونا قطعی و یقینی ہے، جیسے کھانا کھانا، ان اسباب کا اختیار کرنا فرض ہے اور ان کا ترک کرنا حرام ہے۔

۲:…ظنی اسباب: جیسے بیماریوں کی دوا دارو، اس کا حکم یہ ہے کہ ہم ایسے کمزوروں کو ان اسباب کا ترک کرنا بھی جائز نہیں، البتہ جو حضرات قوتِ ایمانی اور قوتِ توکل میں مضبوط ہوں ان کے لئے اسباب ظنّیہ کا ترک جائز ہے۔

۳:…تیسرے وہمی اور مشکوک اسباب: (یعنی جن کے اختیار کرنے میں شک ہو کہ مفید ہوں گے یا نہیں) ان کا اختیار کرنا سب کے لئے خلافِ توکل ہے، گو بعض صورتوں میں جائز ہے، جیسے جھاڑ پھونک وغیرہ۔

اسباب پر بھروسہ کرنے والوں کا شرعی حکم

س… رزق کے بارے میں یہاں تک حکم ہے کہ جب تک یہ بندے کو مل نہیں جاتا وہ مر نہیں سکتا، کیونکہ خدا نے اس کا مقدر کردیا ہے۔ خدا کی اتنی مہربانیوں کے باوجود جو لوگ انسانوں کے آگے ہاتھ باندھے کھڑے رہتے ہیں، ڈرتے رہتے ہیں کہ کہیں ملازمت سے نہ نکال دئیے جائیں، تو اس وقت ڈر، خوف وغیرہ رکھنے والے کیا مسلمان ہیں؟ جن کا ایمان خدا پر کم اور انسانوں پر زیادہ کہ یہ خوش ہیں تو سب ٹھیک ورنہ زندگی اجیرن ہے۔

ج… ایسے لوگوں کی اسباب پر نظر ہوتی ہے، اور اسباب کا اختیار کرنا ایمان کے منافی نہیں، بشرطیکہ اسباب کے اختیار کرنے میں اللہ تعالیٰ کے کسی حکم کی خلاف ورزی نہ کی جائے، ناجائز اسباب کا اختیار کرنا البتہ کمالِ ایمان کے منافی ہے۔

کیا عالمِ ارواح کے وعدہ کی طرح آخرت میں دنیا کی باتیں بھی بھول جائیں گی؟

س… ہمارے امام صاحب فرماتے ہیں کہ انسان کی چار دفعہ حالت بدلے گی۔ (۱)دنیا میں آنے سے پہلے عالمِ ارواح میں اللہ سے وعدہ۔ (۲)عالمِ دنیا میں قیام۔ (۳)عالمِ قبر۔ (۴)عالمِ آخرت جنت یا دوزخ۔ مولوی صاحب ہم کو عالمِ ارواح میں اپنی روح کی موجودگی کا علم اب ہوا ہے، اور جو روحوں نے اللہ سے بندگی کا وعدہ کیا اس میں ہماری روح بھی شامل تھی، لیکن ہم کو تو پتہ نہ چلا، ہمیں تو اس دنیا میں بتایا گیا کہ تم نے اللہ سے وعدہ کیا تھا تو جس طرح عالمِ ارواح کا ہمیں احساس نہیں ہوا تو کہیں ایسا تو نہیں ہے کہ جزا و سزا، قبر و آخرت کا ہمیں اس طرح پتہ نہ چلے جس طرح عالمِ ارواح میں ہمیں کچھ پتہ نہ چلا؟

ج… عالمِ ارواح کی بات تو آپ کو بھول گئی، لیکن دنیا کی زندگی میں جو کچھ کیا وہ نہیں بھولے گا۔

کشف و الہام اور بشارت کیا ہے؟

س…کشف، الہام اور بشارت میں کیا فرق ہے؟ حضرت محمد کے بعد کسی کو کشف، الہام یا بشارت ہونا ممکن ہے؟ قرآن و حدیث کے حوالے سے واضح کیجئے گا۔

ج… کشف کے معنی ہیں کسی بات یا واقعہ کا کھل جانا۔ الہام کے معنی ہیں دل میں کسی بات کا القا ہوجانا۔ اور بشارت کے معنی خوشخبری کے ہیں، جیسے کوئی اچھا خواب دیکھنا۔

۲:…آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کشف و الہام اور بشارت ممکن ہے، مگر وہ شرعاً حجت نہیں، اور اس کے قطعی و یقینی ہونے کا دعویٰ کیا جاسکتا ہے نہ کسی کو اس کے ماننے کی دعوت دی جاسکتی ہے۔

کشف یا الہام ہوسکتا ہے، لیکن وہ حجت نہیں

س… اگر کوئی شخص یہ دعویٰ کرے کہ مجھے کشف کے ذریعہ خدا نے حکم دیا ہے کہ فلاں شخص کے پاس جاوٴ اور فلاں بات کہو، ایسے شخص کے بارہ میں شریعت کیا کہتی ہے؟

ج… غیر نبی کو کشف یا الہام ہوسکتا ہے، مگر وہ حجت نہیں، نہ اس کے ذریعہ کوئی حکم ثابت ہوسکتا ہے، بلکہ اس کو شریعت کی کسوٹی پر جانچ کر دیکھا جائے گا، اگر صحیح ہو تو قبول کیا جائے گا ورنہ ردّ کردیا جائے گا۔ یہ اس صورت میں ہے کہ وہ سنتِ نبوی کا متبع اور شریعت کا پابند ہو، اگر کوئی شخص سنتِ نبوی کے خلاف چلتا ہو تو اس کا کشف و الہام کا دعویٰ شیطانی مکر ہے۔