بڑا پاگل خانہ

بڑا پاگل خانہ

رنگ و نور ۔۔۔سعدی کے قلم سے (شمارہ 552)

اللہ تعالیٰ ہمارے’’اوقات‘‘اور’’لمحات‘‘ میں خیر اور برکت عطاء فرمائے…

اَللّٰھُمَّ اِنَّانَسْئَلُکَ صَلَاحَ السَّاعَاتِ وَالْبَرَکَۃَ فِی الْأَوْقَاتِ

عجیب دنیا

جو لوگ پاگل ہوجاتے ہیں… وہ کئی قسم کے ہوتے ہیں… ہر پاگل کی اپنی قسمت… بعض پاگلوں کو اُن کے گھر والے سنبھال لیتے ہیں… بعض پاگل طاقتور ہوجاتے ہیں تو اُن کا پاگل پن بھی عقلمندی قرار پاتا ہے…جبکہ بعض پاگلوں کو… پاگل خانوں میں ڈال دیا جاتا ہے… اللہ تعالیٰ حفاظت فرمائے…یہ پاگل خانے جیل بھی ہوتے ہیں اور ہسپتال بھی ہیں…آج انہی پاگل خانوں کے بارے میں بات کرنی ہے اور ایک بڑے پاگل خانے کا تعارف کرانا ہے… مگر پہلے ہم سب ’’پاگل پن‘‘ سے حفاظت کی مسنون دعاء پڑھ لیں…

اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُبِکَ مِنَ الْجُذَامِ وَالْبَرَصِ وَالْجُنُوْنِ وَسَیِّیِٔ الْاَسْقَامِ

یا اللہ! میں آپ کی حفاظت چاہتا ہوں… کوڑھ، برص، پاگل پن اور گندی بیماریوں سے… یہ دعاء حضرت آقا محمد مدنی ﷺنے اپنی امت کو سکھائی ہے یاد کرائی ہے…

عجیب ماحول

کسی پاگل خانے کو دیکھنے کا موقع نہیں ملا … البتہ پاگل خانوں کے واقعات عربی اور اردو میں کافی پڑھے ہیں…پاگل خانوں کی تاریخ بھی بہت پرانی ہے…خلیفہ ہارون الرشید کا واقعہ مشہور ہے کہ انہوں نے ایک پاگل خانے کا دورہ کیا تھا …اور وہاں کے ایک پاگل نے ان کو اپنے سوالات سے بیوقوف بنادیا تھا… عربی زبان میں پاگلوں کے واقعات پر کافی مواد موجود ہے…

کہتے ہیں کہ جو شخص بھی’’اور یجنل پاگل‘‘ ہوتا ہے وہ پاگل خانے ہی میں خوش رہتا ہے اور وہ کبھی بھی پاگل خانے سے نہیں نکلنا چاہتا… ہاں! جو نقلی پاگل ہوں وہ پاگل خانے میں خوش نہیں رہتے… پاگل خانے کا ماحول عجیب ہوتا ہے… ہر پاگل خود کو دنیا کا سب سے عقلمند انسان سمجھتا ہے…کوئی پاگل بادشاہ ہوتا ہے تو کوئی وزیر اعظم… ہر پاگل کا اپنی ذات کے بارے میں کوئی نہ کوئی بڑا دعویٰ ضرور ہوتا ہے… مگر غامدیوں کے نظریات کی طرح یہ دعوے بھی بدلتے رہے ہیں… پاگل کو کیا شرم کہ … ایک دن و ہ سپہ سالار بن جائے اور اگلے دن میراثی اور فنکار…اس نے خود ہی سوچنا ہے،خود ہی دعویٰ کرنا ہے… خود ہی فیصلہ کرنا ہے اور خود ہی اپنا دعویٰ بدلنا ہے…کہتے ہیں کہ… جب برصغیر کی تقسیم ہو رہی تھی تو پاگل خانوں میں بھی ماحول گرم تھا…ہر پاگل اپنے آپ کو کوئی مشہور لیڈر قرار دیتا … چھوٹے پاگل اس کے گردجمع ہوجاتے… اچانک کوئی دوسرا پاگل اس کے خلاف محاذ کھول دیتا …پھر کچھ پاگل فیصلہ کرنے والے بن جاتے… اور یوں پورے پورے علاقے، صوبے اور ضلعے پاگلوں کے درمیان تقسیم ہوجاتے…تب سارے پاگل خوش کہ ہم نے بڑا کام کرلیا…پاگلوں کے ہاں گنتی کا بڑا مقام ہے… آپ کسی بھی پاگل سے مل لیں وہ ضرور کوئی نہ کوئی چیز’’ گن ‘‘رہا ہوگا شمار کر رہا ہوگا…مگر گنتی اس کی اپنی ہوگی…ایک ڈاکٹر صاحب نے اپنا قصہ لکھا ہے کہ ایک دن میں پاگل خانے اپنی ڈیوٹی پر گیا…جیسے ہی اندر داخل ہوا تو میرے کانوں سے آواز گونجی…بیس،بیس ،بیس … میں حیران ہوا اور اندازہ لگانے لگا … جلدہی پتا چل گیا کہ پاگلوں کے بڑے کمرے میں سے آواز آرہی ہے… اور سارے پاگل مل کر کہہ رہے ہیں… بیس، بیس ، بیس … پہلے تو میں نے نظر انداز کیا مگر جب ان کی آواز نہ رکی تو مجھے تجسس ہوا … وہاں دیوار کے ساتھ ایک چھوٹا ساسوراخ تھا، جس سے نگرانی کرنے والے چھپ کر پاگلوں پر نظر رکھتے تھے… میں اس سوارخ تک پہنچا اور آنکھ لگا کر دیکھنے لگا… اچانک اندرسے جھاڑو کا تیزتنکا میری آنکھ میں لگا…اور پاگلوں کی آواز گونجی اکیس ،اکیس، اکیس… یعنی وہ مجھ سے پہلے اس طرح کے بیس شکار کر چکے تھے اور میں ان کا اکیسواں شکار تھا… اب یہ پاگل خوشی اور فخر سے مرے جارہے تھے اور چلّا رہے تھے اکیس، اکیس…پاگلوں کی فتوحات، ان کی شکست، ان کی رعایا، ان کی مقبولیت یہ سب خیالی معاملات ہوتے ہیں… مگر وہ ان کو حقیقی سمجھتے ہیں اور ان میں مست رہنا چاہتے ہیں…

ویلکم ٹو بڑا پاگل خانہ

اب آجائیں اس دنیا کے سب سے بڑے پاگل خانے کی طرف…یہ ہے فیس بک…پورا کا پورا ماحول پاگل خانے والا ہے بلکہ اس سے بھی بدتر…یہاں ایک خیالی سلطنت قائم ہے…ایک یہودی گماشتہ اس سلطنت کا سامری ہے، سلطان ہے… یہاں ہر شخص گم ہے، مست ہے اور مدہوش ہے… کہیں کوئی بادشاہ ہے اور اس کی رعایا … کہیں کوئی دانشور ہے اور اس کے فین اور پنکھے … کہیں گنتی چل رہی ہے… میرے اتنے فالوور تیرے اتنے فالوور… کہیں کوئی فخر سے پھٹ رہا ہے کہ مجھے اتنے لائکس ملے اور فلاں کو اتنے کم… کہیں کوئی کسی کی دم پکڑ کر کھینچ رہا ہے تو کوئی کسی کے منہ پر کالک مل رہا ہے…یہاں کوئی مرد،عورت بن کر ہزاروں پاگلوں کو بے وقوف بنارہا ہے تو کوئی عورت… مرد بن کر اپنی سہیلیوں کا کردار چیک کر رہی ہے… یہاں نقلی خیالات، نقلی عقائد، نقلی بادشاہت، نقلی مقبولیت… اور نقلی بحث مباحثے گرم ہیں… قیمتی سے قیمتی افراد اس پاگل خانے میں داخل ہوکر دو ٹکے کے رہ جاتے ہیں… بھکاریوں کی طرح ایک ایک ’’لائک‘‘ کو ترستے … بے عزت عورتوں کی طرح ایک ایک کی گالی سہتے … اور بے کار لوگوں کے ساتھ اپنا قیمتی وقت ضائع کرتے…ہر بے عزت اس پاگل خانہ میں باعزت ہے… کیونکہ اس کے فالوورز زیادہ ہیں … یہ فالوورز کون ہیں؟ کہاں ہیں؟ کیوں فالوورز ہیں؟… پاگلوں کو ان باتوں کے سوچنے کی فرصت نہیں… یہاں  ہر پاگل دوسروں کو بے وقوف اور خود کو عقلمند سمجھتا ہے… اور سامری کے اس گندے ہول میں ہر شخص پھنسا ہوا… اپنی زندگی کے بہترین لمحات برباد کررہا ہے…مگر کوئی نہیں سوچتا کہ وہ کیا کررہا ہے؟ کیوں کررہا ہے؟ اور اس سے کیا پارہا ہے؟ اور اس میں کیا لگا رہا ہے؟… کاش امت مسلمہ کے قیمتی دماغ جب اس پاگل خانے میں دوچار گھنٹے گزارکر نکلا کریں تو صرف گھڑی دیکھ کر خود سے پوچھیں کہ… زندگی کے ایک سو بیس منٹ کا کیا حساب ہوگا؟… یہی وقت عبادت میں لگتا تو کتنے فرائض اور نوافل ادا ہوجاتے… تلاوت میں لگتا تو کتنا قرآن یاد ہوجاتا… کسی کو دعوت دینے یا کسی کی ذہن سازی میں لگتا تو کتنے افراد بدل جاتے… اپنے جسم کے پٹھے اورمسلز مضبوط کرنے میں لگتا تو جسم کتنا آسودہ ہوجاتا… اپنی بوڑھی ماں اور بوڑھے باپ کے قدموں میں بیٹھ کر یہ وقت ان کادل خوش کرنے میںلگتا تو میری قسمت کو کتنے چاند لگ جاتے… یہی وقت خدمت خلق میں لگتا تو میرے لئے آخرت کا کیا ذخیرہ بن جاتا… یہی وقت اپنی بیوی سے باتیں کرنے میں گزرتا تو اس اللہ کی بندی کے دل کے کتنے زخم دُھل جاتے… یہی وقت اپنی اولاد کی تربیت میںلگتا تو صدقہ جاریہ کا درخت کتنا تنا ور ہوجاتا… مگر کچھ بھی نہ ہوا دوچار گھنٹے پاگل خانے میں… کسی کی دم کھینچنے، کسی کی دم پکڑنے، کسی کا منہ چڑانے… کسی کو ہنسانے… اور چند پاگلوں کے لائکس سمیٹنے اور کچھ لوگوں کے بدبو دار فضلے کو سونگھنے اور پھر اس بدبو پرتبصرے کرنے میں گزر گئے… اور یوں زندگی کے یہ قیمتی لمحات ایک یہودی قبرستان میں دفن ہوگئے… انا للہ وانا الیہ راجعون…

پرکشش

فیس بک کا پاگل خانہ… ایک سامری کے دماغ کا جادو ہے… اور جادو میںکشش ہوتی ہے …یا پھروہ دماغ کو چھوٹا کردیتا ہے… چھوٹے بچے ویڈیو گیم پر بہت سے آدمی مار ڈالتے ہیں… سانپوں کے مقابلے جیت جاتے ہیں… کاروں کی ریس میں زیادہ نمبر لے جاتے ہیں… حالانکہ سب کچھ خیالی ہوتاہے… مگر چونکہ بچے کا دماغ چھوٹا ہوتا ہے تو اس لیے وہ خوشی محسوس کرتا ہے… کسی عقلمند یا ذمہ دار شخص کو ان چیزوں سے خوشی یافتح کا احساس نہیں ہوتا… فیس بک پر آتے ہی… انسان کا دماغ چھوٹا ہوجاتا ہے اور وہ ان چیزوں میں خوشی اور کشش محسوس کرتا ہے جو اس کے کسی کام کی نہیں… نہ دنیا میں ، نہ آخرت میں… پر ویز مشرف کو فیس بک پر … چالیس لاکھ فالوورز ملے تو اس کا دماغ لرز گیا… وہ بھاگتا ہوا پاکستان پہنچا مگر ایئر پورٹ پر چالیس فالوورز بھی نہیں پہنچے تھے… فیس بک کے فالوورز نے تو فیس بک پر ہی ملنا تھا … ان کا ائیر پورٹ پر کیا کام؟…

مجھے خود ایک بار تجربہ ہوا… کسی قریبی کے فیس بک اکاؤنٹ سے عرب علماء اور دانشوروں کے صفحات میں جااُترا… وہاں علمی بحثیں چل رہی تھیں… میں نے ایک دانشور کے ساتھ سینگ اڑا دیئے… کچھ دیر مقابلہ چلا وہ ناک آؤٹ ہوگیا … میں نے کہا کہ اب اپنی پوسٹ ہٹاؤ… اس نے جیسے ہی ہٹائی میرا دل خوشی اور احساس فتح سے بھر گیا حالانکہ یہ کون سی فتح تھی اور کیسی خوشی؟ مگر فیس بک تو انسان کو بہت چھوٹا بنا دیتی ہے… پھر اسی طرح دوتین بارہوا… اب جب ان واقعات کو سوچتا ہوں تو خود پر شرم آتی ہے… ایک بیو قوف کے ساتھ میرااتنا وقت برباد ہوگیا… میں نہیںجانتا کہ وہ کون ہے… مجھے نہیں معلوم کہ اس کے مزید کتنے نظریات غلط ہیں؟… مجھے نہیں علم کہ وہ اپنی غلطی تسلیم کرکے پھر باز آیا یا اگلے دن پھر اس نے وہی پوسٹ لگادی… مجھے نہیں علم کہ اس نے کوئی فائدہ اُٹھایا یا صرف مجھے پھنسانے کے لئے … اپنی ہار مان لی تاکہ میں روز اس کے ساتھ پاگل پن کھیل سکوں؟… یہی وقت جو میں نے اس کے ساتھ لگایا … اگر کسی سامنے، زندہ یا دور جاننے والے فرد کی تربیت پر لگاتا تو میرے لئے کتنا اچھا ہوتا… مگر ستم یہ ہے کہ جن کے پاس اپنے شاگردوںاپنے بچوں اور اپنے والدین کے لئے وقت نہیں… وہی فیس بک کے پاگل خانے میں بھرپور وقت گذارتے ہیں… اور اب فیس بک کی دیکھا دیکھی اس طرح کے کئی مزید پاگل خانے بھی قائم ہوچکے ہیں… اللہ تعالیٰ ہم سب کی حفاظت فرمائے…

آئینہ

لوگ طرح طرح کے دھوکوں میں… اپنا وقت فیس بک وغیرہ پر ضائع کررہے ہیں…پہلے جو لوگ نیٹ پر گندی تصویریں، فلمیں دیکھتے تھے …ان کو کم ازکم اتنا احساس تو ہوتا تھا کہ ہم نے غلط کام کیا ہے… چنانچہ وہ توبہ، استغفار بھی کرلیتے تھے…مگر فیس بک کے پاگل خانے میں… کئی افراد تو خود کو گویاعبادت میں مشغول سمجھتے ہیں … وہ سوچتے ہیں کہ انہوں نے اتنے چوہے مارے، اتنے گیدڑ شکار کئے… اور اتنے لوگ سدھارے … چنانچہ وہ اپنی زندگی کے قیمتی لمحات ضائع ہونے پر توبہ استغفار بھی نہیں کرتے… اور یوں پاگل پن کا مرض بڑھتا جاتا ہے…

اس لئے مناسب سمجھا کہ…سامری کے اس جادو کو توڑنے کے لئے…سلیمانی آئینہ دکھایا جائے شاید کئی افراد اس میں اپنا اصل چہرہ اور اصل مقصد دیکھ کر…پاگل خانے سے باہر نکل آئیں … باقی نصیب اپنا اپنا…آج کے یہ چند الفاظ بس اسی مقصد کے تحت لکھے ہیں کہ… آپ کی توجہ اس پہلو کی طرف بھی مبذول ہوجائے…

یا اللہ! ان الفاظ کو…میرے لئے اور پڑھنے والوں کے لئے نافع بنا دیجئے…

دواء کے بنڈل

لوگ پوچھ سکتے ہیں کہ… فیس بک اگر پاگل خانہ ہے تو پھر آپ لوگوں کی نشریات وہاں کس لئے لگائی جاتی ہیں… جواب یہ ہے کہ…ہمارے رفقاء پاگل خانے کی دیوار تک جاتے ہیں… اور وہاں سے صحت مندغذا اور دوائوں کے پیکٹ… اندر پاگل خانے میں پھینکتے ہیں… تاکہ اگر کوئی ان کو کھائے تو وہ پاگل خانے سے باہر نکل آئے … ہاں البتہ پاگل خانے کی دیوار تک جانے میں بھی … ان رفقاء میں سے بعض کے دماغ پر تھوڑی دیر کا’’پاگل پن‘‘ آجاتا ہے اور وہ ’’لائکس‘‘ اور’’ کمنٹس‘‘ شمار کرنے لگتے ہیں… یا تھوڑی دیر کسی مباحثے میں لگ جاتے ہیں…حالانکہ ان کو اس سے بھی بچنا چاہئے…

نہ حسد نہ دل آزاری

جو لوگ’’ فیس بک‘‘پر مقبول ہیں…ہمیں ان سے کوئی حسد نہیں… اللہ تعالیٰ ہمیں ایسی مقبولیت… اور ایسی مقبولیت کے شوق سے محفوظ رکھے…اس لئے آج جو کچھ لکھا گیا وہ کسی حاسدانہ جذبے کے تحت نہیں ہے…اسی طرح کسی کی دل آزاری بھی مقصود نہیں…انسان اپنی زندگی میں بار بار پھسلتا ہے، غلطی کرتا ہے…فیس بک پر مشغول افراد بھی ان معروضات پر غو ر فرمالیں … اگر اپنی غلطی کا احساس ہو تو تو بہ کرلیں اور شکر کریں کہ زندگی کے قیمتی اوقات بچ گئے…

اگر آپ کو اپنی غلطی محسوس نہ ہو تو ہمیں کوئی شکوہ نہیں…البتہ ایک کام میں آپ سب سے تعاون مانگتا ہوں… فیس بک کو مارک زکر برگ کی سلطنت کہا جاتا ہے… حالانکہ یہودیوں کے لئے ’’سلطنت‘‘حرام ہے… آپ سب اتنا تعاون کریں کہ… فیس بک کو… مارک زکر برگ کا پاگل خانہ کہا کریں… ٹھیک ہے نا؟… ان شاء اللہ…

لا الہ الا اللّٰہ، لا الہ الا اللّٰہ، لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ

اللّٰھم صل علی سیدنا محمد والہ وصحبہ وبارک وسلم تسلیما کثیرا کثیرا

لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ

٭…٭…٭