دُوسری شادی

دُوسری شادی حتی الوسع نہ کی جائے، کرے تو عدل کرے

س… کیا پہلی بیوی کے ہوتے ہوئے دُوسری شادی کرسکتا ہوں؟ آیا اس میں بیوی کی رضامندی ضروری ہے یا کہ شرعاً ضرورت نہیں؟ اس بارے میں جواب تفصیل سے دیں۔

ج… دُوسری شادی کے لئے پہلی بیوی کی رضامندی شرعاً شرط نہیں، لیکن دونوں بیویوں کے درمیان عدل و مساوات رکھنا ضروری ہے۔ چونکہ عورتوں کی طبیعت کمزور ہوتی ہے اور گھریلو جھگڑا فساد سے آدمی کی زندگی اجیرن ہوجاتی ہے، اس لئے عافیت اسی میں ہے کہ دُوسری شادی حتی الوسع نہ کی جائے، اور اگر کی جائے تو دونوں کو الگ الگ مکان میں رکھے اور دونوں کے حقوق برابر ادا کرتا رہے، ایک طرف جھکاوٴ اور ترجیحی سلوک کا وبال بڑا ہی سخت ہے، حدیث شریف میں ہے کہ:

”جس کی دو بیویاں ہوں اور وہ ان کے درمیان برابری نہ کرے تو وہ قیامت کے دن ایسی حالت میں آئے گا کہ اس کا آدھا دھڑ ساقط اور مفلوج ہوگا۔“ (مشکوٰة شریف ص:۲۷۹)

دُوسری شادی کرکے پہلی بیوی سے قطع تعلق کرنا حرام ہے

س… ایک شخص شادی شدہ جس کے تین بچے ہیں، دُوسری شادی کا خواہش مند ہے، پہلی بیوی سے شروع ہی سے ذہنی ہم آہنگی نہیں ہے، جس کی وجہ سے گھر میں سکون نہیں ہے، دُنیا کی نظر میں دونوں ساتھ رہتے ہیں مگر تین سال سے دونوں میں علیحدگی ہوچکی ہے، اس عرصے میں اس شخص کو ایک ایسی لڑکی ملی ہے جس میں ایک اچھی اور گھریلو بیوی کی تمام خوبیاں موجود ہیں اور وہ اس لڑکی سے شادی کرنا چاہتا ہے تاکہ باقی زندگی سکون سے گزار سکے۔ (اس شخص کی شادی ۲۰ برس کی عمر میں خاندانی دباوٴ کے تحت ہوئی تھی) یہ شخص صاحبِ حیثیت ہے اور دونوں بیویوں کی ذمہ داری اُٹھاسکتا ہے اور خرچہ برداشت کرسکتا ہے۔ اب مسئلہ لڑکی کا ہے کہ وہ مندرجہ ذیل وجوہات کی بنا پر کوئی فیصلہ کرنے سے قاصر ہے۔ مہربانی فرماکر آپ بتائیے کہ کیا دُوسری بیوی جو (عام طور پر لوگوں کی نظر میں بُری تصوّر کی جاتی ہے) اللہ تعالیٰ کے نزدیک بھی پہلی بیوی کا ”حق مارنے“ کی وجہ سے مجرم تصوّر کی جائے گی؟ کیا ہمارا مذہب ایسی صورت میں دُوسری شادی کی اجازت دیتا ہے؟

ج… دُوسری شادی میں شرعاً کوئی عیب نہیں، لیکن پہلی بیوی کے برابر کے حقوق ادا کرنا شوہر کے ذمہ فرض ہے، اگر دُوسری شادی کرکے پہلی بیوی سے قطع تعلق رکھے گا تو شرعاً مجرم ہوگا۔ البتہ یہ صورت ہوسکتی ہے کہ وہ پہلی بیوی سے فیصلہ کرلے کہ میں تمہارے حقوق ادا کرنے سے قاصر ہوں، اگر تمہاری خواہش ہو تو میں تمہیں طلاق دے سکتا ہوں، اور اگر طلاق نہیں لینا چاہتی ہو تو حقوق معاف کردو۔ اگر پہلی بیوی اس پر آمادہ ہو کہ اسے طلاق نہ دی جائے وہ اپنے شب باشی کے حقوق چھوڑنے پر آمادہ ہے تو اس کو خرچ دیتا رہے، شب باشی اس کے پاس نہ کرے۔ اس صورت میں گنہگار نہیں ہوگا۔ پھر بھی جہاں تک ممکن ہو دونوں بیویوں کے درمیان عدل و مساوات کا برتاوٴ کرنا لازم ہے۔

اسلام میں چار سے زائد شادیوں کی اجازت نہیں

س… مجھے کسی صاحب نے بتایا ہے کہ شریعتِ اسلام میں چار سے زیادہ شادیوں کی اجازت ہے۔

ج… جن صاحب نے آپ کو یہ بتایا کہ اسلام میں چار سے زیادہ شادیوں کی اجازت ہے، اس نے بالکل غلط کہا ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شادیاں بلاشبہ چار سے زائد تھیں، مگر یہ صرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خصوصیت تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ کسی صحابی، تابعی، اِمام، محدث اور بزرگ کو چار سے زیادہ شادیوں کی اجازت نہیں اور نہ کسی نے کی ہیں۔ ان صاحب نے یہ بات بالکل غلط اور مہمل کہی ہے۔

عورت کتنی شادیاں کرسکتی ہے؟

س… اسلام میں مرد تو چار شادیاں کرسکتا ہے اور عورت کتنی کرسکتی ہے؟

ج… شرعاً و عقلاً عورت ایک ہی شوہر کی بیوی رہ سکتی ہے، زیادہ کی نہیں۔