گناہوں سے توبہ

گناہ سے توبہ اور معافی

س… ایک بچہ مسلمان گھر میں پیدا ہوتا ہے اور اسی گھر میں پل کر جوان ہوتا ہے، اس کے دل میں دین کی محبت بھی ہوتی ہے، لیکن شیطان کے بہکانے پر گناہ بھی کرلیتا ہے حتیٰ کہ وہ گناہِ کبیرہ میں ملوث ہوجاتا ہے، لیکن گناہِ کبیرہ کرنے کے بعد اس کے دل کو سخت ٹھوکر لگتی ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہوکر توبہ کرلیتا ہے اور سچی توبہ کرلیتا ہے۔ کیا اس کی توبہ قبول ہوسکتی ہے یا نہیں؟ جبکہ اس کو شرعی سزا دنیا میں نہ دی جائے اور نہ اس کے اقبالِ جرم کے علاوہ گناہ کا کوئی ثبوت موجود ہے۔

ج… آدمی سچی توبہ کرلے تو اللہ تعالیٰ گناہگار کی توبہ قبول فرماتے ہیں اور جس شخص سے کوئی گناہ سرزد ہوجائے اور کسی بندے کا حق اس سے متعلق نہ ہو اور کسی کو اس گناہ کا پتہ بھی نہ ہو تو اس کو چاہئے کہ کسی سے اس گناہ کا اظہار نہ کرے بلکہ اللہ تعالیٰ کی جناب میں توبہ و استغفار کرے۔

اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو سزا کیوں دیتے ہیں؟

جبکہ وہ والدین سے زیادہ شفیق ہیں

س… جب بھی سزا و جزا کا خیال آتا ہے میں سوچتی ہوں کہ ہم تو اللہ کے بندے ہیں اور اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو اتنا چاہتا ہے کہ والدین جو کہ اولاد سے محبت کرتے ہیں اس سے کہیں زیادہ۔ اگر یہ مان لیا جائے تو ہم دنیا میں دیکھتے ہیں کہ والدین اولاد کی معمولی پریشانی اور تکلیف پر تڑپ اٹھتے ہیں، اولاد کتنی ہی سرکش و نافرمان ہو، والدین ان کے لئے دعا ہی کرتے ہیں، تکلیف اولاد کو ہو، دکھ ماں محسوس کرتی ہے، والدین اولاد کو دکھی کبھی نہیں دیکھ سکتے۔ آپ نے یہ واقعہ ضرور پڑھا ہوگا کہ ایک شخص اپنی محبوبہ کے کہنے پر اپنی ماں کو قتل کرکے اس کا دل لے جارہا تھا، راہ میں اسے ٹھوکر لگی ماں کا دل بولا: بیٹا! کہیں چوٹ تو نہیں لگی؟ یہ واقعہ اولاد کی محبت کی پوری عکاسی ہے۔

اب ہم دیکھتے ہیں اللہ تعالیٰ نے دنیا بنائی جس میں امیر، غریب، خوبصورت، بدصورت، اپاہج و معذور ہر قسم کے لوگ بنائے، لوگوں کو خوشیاں اور دکھ بھی دئیے، چند احکامات بھی دئیے، کچھ کو مسلمانوں میں پیدا کیا، کچھ کو کفار میں، مرنے کے بعد عذاب و ثواب رکھا، جزا جتنی خوبصورت، سزا اتنی ہی خطرناک، رونگٹے کھڑے کردینے والی، مسلسل اذیت دینے والی سزائیں جن کی تلافی بھی اس وقت ناممکن ہوگی، جاں کنی، قبر و حشر، غرض ہر جگہ عذاب و ثواب کا چکر․․․ مجھے تو یہ دنیا بھی عذاب ہی لگتی ہے، میں جب بھی یہ کچھ سوچتی ہوں مجھے ایسا لگتا ہے اللہ نے انسانوں کو کھلونوں کی مانند بنایا ہے جن سے وہ کھیلتا ہے اور کھیل کے انجام کے بعد سزا و جزا۔

آپ دل پر ہاتھ رکھ کر کہیں کہ ہر کوئی دنیا کو سرائے سمجھ سکتا ہے؟ دنیا کی رنگینی کو چھوڑ کر زندگی کون گزارسکتا ہے؟ پھر جو انسان کو بنایا اور اتنی پابندی کے ساتھ دنیا میں بھیجا، علاوہ ازیں دکھ سکھ دئیے، اگر والدین سے زیادہ اللہ محبت کرنے والے ہیں تو وہ بندوں کے دکھ پر کیوں نہیں تڑپتے؟ والدین جو سکھ دے سکتے ہیں دیتے ہیں، کیا اللہ تعالیٰ کا دل نہیں تڑپتا جب وہ دکھ دیتے ہیں بندوں کو؟ عذاب دے کر وہ خوش کیسے رہ سکتا ہے؟ جو کفار کے گھر پیدا ہوئے انہیں کس جرم کی سزا ملے گی؟ ہر شخص تو مذہب کا علم نہیں رکھتا۔ جب بھی عذاب کے بارے میں سوچتی ہوں میرے ذہن میں یہ سب کچھ ضرور آتا ہے، للہ! مجھے سمجھائیے کہیں یہ میری سوچ میرے لئے تباہ کن ثابت نہ ہو۔ (ایک خاتون)

ج… آپ کے سوال کا جواب اتنا تفصیل طلب ہے کہ میں کئی دن اس پر تقریر کروں تب بھی بات تشنہ رہے گی۔ اس لئے مختصراً اتنا سمجھ لیجئے کہ بلاشبہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر والدین سے زیادہ رحیم و شفیق ہے۔ حدیث میں ہے کہ حق تعالیٰ نے اپنی رحمت کے سو حصے کئے، ایک حصہ دنیا میں نازل فرمایا، حیوانات اور درندے تک جو اپنی اولاد پر رحم کرتے ہیں وہ اسی رحمتِ الٰہی کے سو میں سے ایک حصے کا اثر ہے، اور یہ حصہ بھی ختم نہیں ہوا، بلکہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس حصہ رحمت کو بھی باقی ننانوے حصوں کے ساتھ ملاکر اپنے بندوں پر کامل رحمت فرمائیں گے۔

اس کے بعد آپ کے دو سوال ہیں۔ ایک یہ کہ دنیا میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے بندوں پر تکلیفیں اور سختیاں کیوں آتی ہیں؟ اور دوم یہ کہ آخرت میں گناہ گاروں کو عذاب کیوں ہوگا؟

جہاں تک دنیا کی سختیوں اور تکلیفوں کا تعلق ہے یہ بھی حق تعالیٰ شانہ کی سراپا رحمت ہیں۔ حضرات عارفین اس کو خوب سمجھتے ہیں۔ ہم اگر ان پریشانیوں اور تکلیفوں سے نالاں ہیں تو محض اس لئے کہ ہم اصل حقیقت سے آگاہ نہیں، بچہ اگر پڑھنے لکھنے میں کوتاہی کرتا ہے تو والدین اس کی تأدیب کرتے ہیں، وہ نادان سمجھتا ہے کہ ماں باپ بڑا ظلم کر رہے ہیں۔ اگر کسی بیماری میں مبتلا ہو تو والدین اس سے پرہیز کراتے ہیں، اگر خدانخواستہ اس کے پھوڑا نکل آئے تو والدین اس کا آپریشن کراتے ہیں، وہ چیختا ہے اور اس کو ظلم سمجھتا ہے، بعض اوقات اپنی نادانی سے والدین کو برا بھلا کہنے لگتا ہے۔ ٹھیک اسی طرح حق تعالیٰ کی جو عنایتیں بندے پر اس رنگ میں ہوتی ہیں بہت سے کم عقل ان کو نہیں سمجھتے، بلکہ حرفِ شکایت زبان پر لاتے ہیں، لیکن جن لوگوں کی نظرِ بصیرت صحیح ہے وہ ان کو الطافِ بے پایاں سمجھتے ہیں، چنانچہ حدیث میں ہے کہ: “جب اہل مصائب کو ان کی تکالیف و مصائب کا اجر قیامت کے دن دیا جائے گا تو لوگ تمنا کریں گے کہ کاش! یہ اجر ہمیں عطا کیا جاتا، خواہ دنیا میں ہمارے جسم قینچیوں سے کاٹے جاتے۔” (ترمذی ج:۱ ص:۶۲)۔ لہٰذا بندہٴ موٴمن کو حق تعالیٰ شانہ کی رحیمی و کریمی پر نظر رکھنی چاہئے، دنیا کے آلام و مصائب سے گھبرانا نہیں چاہئے بلکہ یوں سمجھنا چاہئے کہ یہ داروئے تلخ ہماری صحت و شفا کے لئے تجویز کیا گیا ہے۔ اگر بالفرض ان آلام و مصائب کا کوئی اور فائدہ نہ بھی ہوتا، نہ ان سے ہمارے گناہوں کا کفارہ ہوتا، نہ یہ ہماری ترقیٴ درجات کا موجب ہوتے اور نہ ان پر اجر و ثواب عطا کیا جاتا تب بھی ان کا یہی فائدہ کیا کم تھا کہ ان سے ہماری اصل حقیقت کھلتی ہے، کہ ہم بندے ہیں، خدا نہیں! خدانخواستہ ان تکالیف و مصائب کا سلسلہ نہ ہوتا تو یہ دنیا بندوں سے زیادہ خدا کہلانے والے فرعونوں سے بھری ہوئی ہوتی۔ یہی مصائب و آلام ہیں جو ہمیں جادہٴ عبدیت پر قائم رکھتے ہیں اور ہماری غفلت و مستی کے لئے تازیانہٴ عبرت بن جاتے ہیں اور پھر حق تعالیٰ تو محبوبِ حقیقی ہیں اور ہم ان سے محبت کے دعویدار․․․! کیا محبوبِ حقیقی کو اس ذرا سے امتحان کی بھی اجازت نہیں، جس سے محب صادق اور غلط مدعی کے درمیان امتیاز ہوسکے․․․؟ اور پھر اس پر بھی نظر رکھنی چاہئے کہ حق تعالیٰ شانہ کا کوئی فعل خالی از حکمت نہیں ہوتا، اب جو ناگوار حالات ہمیں پیش آتے ہیں ضرور ان میں بھی کوئی حکمت ہوگی اور یہ بھی ظاہر ہے کہ ان میں حق تعالیٰ شانہ کا کوئی نفع نہیں، بلکہ صرف اور صرف بندوں کا نفع ہے، گو اپنے ناقص علم و فہم سے ہم اس نفع کو محسوس نہ کرسکیں۔ الغرض ان مصائب و آلام میں حق تعالیٰ شانہ کی ہزاروں حکمتیں اور رحمتیں پوشیدہ ہیں اور جس کے ساتھ جو معاملہ کیا جارہا ہے وہ عین رحمت و حکمت ہے۔

رہا آخرت میں مجرموں کو سزا دینا! تو اول تو ان کا مجرم ہونا ہی سزا کے لئے کافی ہے، حق تعالیٰ شانہ نے تو اپنی رحمت کے دروازے کھلے رکھے تھے، اس کے لئے انبیاء کرام علیہم السلام کو بھیجا تھا، اپنی کتابیں نازل کی تھیں اور انسان کو بھلے برے کی تمیز کے لئے عقل و شعور اور ارادہ و اختیار کی نعمتیں دی تھیں۔ تو جن لوگوں نے اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ نعمتوں کو اللہ تعالیٰ کی بغاوت، انبیاء کرام علیہم السلام کی مخالفت، کتبِ الٰہیہ کی تکذیب اور اللہ تعالیٰ کے مقبول بندوں کے مقابلہ میں خرچ کیا، انہوں نے رحمت کے دروازے خود اپنے ہاتھ سے اپنے اوپر بند کرلئے، آپ کو ان پر کیوں ترس آتا ہے․․․؟

علاوہ ازیں اگر ان مجرموں کو سزا نہ دی جائے تو اس کے معنی اس کے سوا اور کیا ہیں کہ خدا کی بارگاہ میں موٴمن و کافر، نیک و بد، فرمانبردار و نافرمان، مطیع اور عاصی ایک ہی پلے میں تلتے ہیں، یہ تو خدائی نہ ہوئی اندھیر نگری ہوئی! الغرض آخرت میں مجرموں کو سزا اس لئے بھی قرینِ رحمت ہوئی کہ اس کے بغیر مطیع اور فرمانبردار بندوں سے انصاف نہیں ہوسکتا۔

یہ نکتہ بھی ذہن میں رہنا چاہئے کہ آخرت کا عذاب کفار کو تو بطورِ سزا ہوگا، لیکن گناہ گار مسلمانوں کو بطورِ سزا نہیں بلکہ بطورِ تطہیر ہوگا، جس طرح کپڑے کو میل کچیل دور کرنے کے لئے بھٹی میں ڈالا جاتا ہے، اسی طرح گناہ گاروں کی آلائشیں دور کرنے کے لئے بھٹی میں ڈالا جائے گا، اور جس طرح ڈاکٹر لوگ آپریشن کرنے کے لئے بدن کو سن کرنے والے انجکشن لگادیتے ہیں کہ اس کے بعد مریض کو چیرپھاڑ کا احساس تک نہیں ہوتا، بہت ممکن ہے کہ حق تعالیٰ شانہ گناہ گار مسلمانوں پر ایسی کیفیت طاری فرمادیں کہ ان کو درد و الم کا احساس نہ ہو، اور بہت سے گناہ گار ایسے ہوں گے کہ حق تعالیٰ شانہ کی رحمت ان کے گناہوں اور سیاہ کاریوں کے دفتر کو دھوڈالے گی اور بغیر عذاب کے انہیں معاف کردیا جائے گا۔ الغرض جنت پاک جگہ ہے اور پاک لوگوں ہی کے شایانِ شان ہے، جب تک گناہوں کی گندگی اور آلائش سے صفائی نہ ہو وہاں کا داخلہ میسر نہیں آئے گا، اور پاک صاف کرنے کی مختلف صورتیں ہوں گی، جس کے لئے جو صورت تقاضائے رحمت ہوگی وہ اس کے لئے تجویز کردی جائے گی۔ اس لئے اکابر مشائخ کا ارشاد ہے کہ آدمی کو ہمیشہ ظاہری و باطنی طہارت کا اہتمام رکھنا چاہئے اور گناہوں سے ندامت کے ساتھ توبہ و استغفار کرتے رہنا چاہئے۔ حق تعالیٰ شانہ محض اپنے لطف و کرم سے اس ناکارہ کی، آپ کی اور تمام مسلمان مردوں اور عورتوں کی بخشش فرمائیں۔

رہا آپ کا یہ شبہ کہ دنیا کو کون سرائے سمجھ سکتا ہے اور دنیا کی رنگینی کو چھوڑ کر کون زندگی گزار سکتا ہے؟ میری بہن! یہ ہم لوگوں کے لئے جن کی آنکھوں پر غفلت کی سیاہ پٹیاں بندھی ہیں، واقعی بہت مشکل ہے، اپنے مشاہدہ کو جھٹلانا اور حق تعالیٰ شانہ کے وعدوں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات پر اپنے مشاہدہ سے بڑھ کر یقین لانا خاص توفیق و سعادت کے ذریعہ ہی میسر آسکتا ہے۔ لیکن کم سے کم اتنا تو ہونا چاہئے کہ ہم آپس میں ایک دوسرے کی بات پر جتنا یقین و اعتماد رکھتے ہیں کم سے کم اتنا ہی یقین و اعتماد اللہ تعالیٰ اور اس کے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد پر رکھیں۔ دیکھئے! اگر کوئی معتبر آدمی ہمیں یہ خبر دیتا ہے کہ فلاں کھانے میں زہر ملا ہوا ہے، تو ہم اس شخص پر اعتماد کرتے ہوئے اس زہر آمیز کھانے کے قریب نہیں پھٹکیں گے، اور بھوکوں مرنے کو زہر کھانے پر ترجیح دیں گے۔ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں دنیا کو یکسر چھوڑنے کی تعلیم نہیں فرماتے، بلکہ صرف دو چیزوں کی تعلیم فرماتے ہیں۔ ایک یہ کہ دنیا میں رہتے ہوئے کسبِ حلال کرو، جن جن چیزوں کو اللہ تعالیٰ نے حرام اور ناجائز قرار دیا ہے ان سے پرہیز کرو، کیونکہ یہ زہر ہے جو تمہاری دنیا و آخرت کو برباد کردے گا اور اگر غفلت سے اس زہر کو کھاچکے ہو تو فوراً توبہ و ندامت اور استغفار کے تریاق سے اس کا تدارک کرو۔

اور دوسری تعلیم یہ ہے کہ دنیا میں اتنا انہماک نہ کرو کہ آخرت اور ما بعد الموت کی تیاری سے غافل ہوجاوٴ، دنیا کے لئے محنت ضرور کرو، مگر صرف اتنی جس قدر کہ دنیا میں رہنا ہے، اور آخرت کے لئے اس قدر محنت کرو جتنا کہ آخرت میں تمہیں رہنا ہے۔ دنیا کی مثال شیرے کی ہے، جس کو شیریں اور لذیذ سمجھ کر مکھی اس پر جابیٹھتی ہے، لیکن پھر اس سے اٹھ نہیں سکتی، تمہیں شیرہٴ دنیا کی مکھی نہیں بننا چاہئے۔

اور آپ کا یہ شبہ کہ جو لوگ کافروں کے گھر میں پیدا ہوئے انہیں کس جرم کی سزا ملے گی؟ اس کا جواب میں اوپر عرض کرچکا ہوں کہ جس طرح اللہ تعالیٰ نے سیاہ و سفید کی تمیز کرنے کے لئے بینائی عطا فرمائی ہے، اسی طرح صحیح اور غلط کے درمیان امتیاز کرنے کے لئے عقل و فہم اور شعور کی دولت بخشی ہے، پھر صحیح اور غلط کے درمیان امتیاز کرنے کے لئے انبیاء کرام علیہم السلام کو بھیجا ہے، کتابیں نازل فرمائی ہیں، شریعت عطا فرمائی ہے، یہ سب کچھ اس لئے ہے تاکہ بندوں پر اللہ تعالیٰ کی حجت پوری ہوجائے، اور وہ کل عذر نہ کرسکیں کہ ہم نے کافر باپ دادا کے گھر جنم لیا تھا اور ہم آنکھیں بند کرکے انہی گمراہوں کے نقش قدم پر چلتے رہے۔

اس مختصر سی تقریر کے بعد میں آپ کو مشورہ دوں گا کہ بندے کا کام بندگی کرنا ہے، خدائی کرنا یا خدا تعالیٰ کو مشورے دینا نہیں! آپ اس کام میں لگیں جو ہمارے سپرد کیا گیا ہے، اور ان معاملات میں نہ سوچیں جو ہمارے سپرد نہیں۔ ایک گھسیارہ اگر رموزِ مملکت و جہاں بانی کو نہیں سمجھتا تو یہ مشتِ خاک اور قطرہٴ ناپاک رموزِ خداوندی کو کیا سمجھے گا․․․؟ پس اس دیوار سے سر پھوڑنے کا کیا فائدہ، جس میں ہم سوراخ نہیں کرسکتے اور جس کے پار جھانک کر نہیں دیکھ سکتے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں سلامتیٴ فہم نصیب فرمائیں اور اپنی رحمت کا مورد بنائیں۔

توبہ سے گناہ کبیرہ کی معافی

س… کیا توبہ کرنے سے تمام کبیرہ گناہ معاف ہوجاتے ہیں؟ اگر معاف ہوجاتے ہیں تو کیا قتل بھی معاف ہوجاتا ہے؟ کیونکہ قتل کا تعلق حقوق العباد سے ہے، اس مسئلہ پر یہاں پر بعض مولانا صاحب اس کے قائل ہیں کہ توبہ سے قتل بھی معاف ہوجاتا ہے، لیکن بعض کہتے ہیں کہ قتل حقوق العباد میں سے ہے، حقوق اللہ تو معاف ہوجاتے ہیں لیکن حقوق العباد معاف نہیں ہوتے۔ اس سلسلے میں آپ وضاحت فرمائیں۔

ج… قتلِ ناحق ان سات کبیرہ گناہوں میں سے ایک ہے جن کو حدیث میں “ہلاک کرنے والے” فرمایا ہے، یہ حق اللہ بھی ہے اور حق العبد بھی، تاہم جس سے یہ کبیرہ گناہ سرزد ہوگیا ہو اس کو اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس نہیں ہونا چاہئے، اللہ تعالیٰ سے معافی مانگے اور ہمیشہ مانگتا رہے، مگر چونکہ اس قتل سے حق العبد بھی متعلق ہے اس لئے مقتول کے وارثوں سے معاف کرانا بھی ضروری ہے۔

اپنے گناہوں کی سزا کی دعا کے بجائے معافی کی دعا مانگیں

س… مجھ پر اپنے گناہوں کی زیادتی کی وجہ سے جب بھی رقت طاری ہوجاتی ہے بے اختیار دعا کرتی ہوں کہ خدا مجھے اس کی سزا دے دے، مجھے سزا دے دے۔ کیا مجھے ایسی دعا کرنا چاہئے یا یہ غلط ہے؟

ج… ایسی دعا ہرگز نہیں کرنی چاہئے، بلکہ یہ دعا کرنی چاہئے کہ خواہ میں کتنی ہی گناہ گار ہوں اللہ تعالیٰ مجھے معاف فرمائیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ کی رحمت اتنی وسیع ہے کہ ان کی رحمت کا ایک چھینٹا دنیا بھر کے گناہوں کو دھونے کے لئے کافی ہے، اور پھر اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کرنا کہ وہ مجھے گناہوں کی سزا دے، اس کے معنی ہیں کہ ہم اللہ تعالیٰ کی سزا کو برداشت کرسکتے ہیں۔ توبہ! توبہ! ہم تو اتنے کمزور ہیں کہ معمولی تکلیف بھی نہیں سہارسکتے اس لئے اللہ تعالیٰ سے ہمیشہ عافیت مانگنی چاہئے۔

بار بار توبہ اور گناہ کرنے والے کی بخشش

س… آپ سے یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ دنیا میں کئی ایسے مسلمان بھی ہیں جو پنج وقتہ نماز قائم کرتے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ ایسے صغیرہ و کبیرہ گناہ کرتے ہیں جن کو اسلام منع کرتا ہے اور پھر یہ لوگ گناہ کرکے توبہ کرتے ہیں، اور پھر دوبارہ وہی کام کرتے ہیں جس سے توبہ کی تھی اور یہ سلسلہ یونہی چلتا رہتا ہے۔ میں آپ سے یہ پوچھتا ہوں کہ ایسے لوگوں کا جن میں، میں بذاتِ خود شامل ہوں روزِ قیامت میں کیا حشر ہوگا؟

ج… گناہ تو ہرگز نہیں کرنا چاہئے، ارادہ یہی ہونا چاہئے کہ کوئی گناہ نہیں کروں گا، لیکن اگر ہوجائے تو توبہ ضرور کرلینی چاہئے، اگر خدانخواستہ دن میں ستربار گناہ ہوجائے تو ہر بار توبہ بھی ضرور کرنی چاہئے، یہاں تک کہ آدمی کا خاتمہ توبہ پر ہو ایسا شخص مغفور ہوگا۔

کیا بغیر سزا کے مجرم کی توبہ قبول ہوسکتی ہے

س… کیا بغیر سزا کے اسلام میں توبہ ہے؟ مثلاً: اگر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی حیاتِ طیبہ کو دیکھیں تو کئی واقعات سے پتہ چلتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے مجرم کو سزا کا حکم دیا پھر اس کی مغفرت کے لئے دعا کی۔

ج… اگر مجرم کا معاملہ عدالت تک نہ پہنچے اور وہ سچے دل سے اللہ تعالیٰ کے سامنے توبہ کرلے تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول کرنے والے ہیں، لیکن عدالت میں شکایت ہوجانے کے بعد سزا ضروری ہوجاتی ہے، بشرطیکہ جرم ثابت ہوجائے، اس صورت میں توبہ سے سزا معاف نہ ہوگی اس لئے اگر کسی سے قابل سزا گناہ صادر ہوجائے تو حتی الوسع اس کی شکایت حاکم تک نہیں پہنچانی چاہئے، اس پر پردہ ڈالنا چاہئے اور اس کی توبہ قبول کرنی چاہئے۔

بغیر توبہ کے گناہ گار مسلمان کی مرنے کے بعد نجات

س… اگر کوئی شخص بہت گناہ گار ہو اور وہ توبہ کئے بغیر مرجائے تو ایسے شخص کی نجات کا کوئی راستہ ہے؟ جبکہ اس کی اولاد بھی نہ ہو۔

ج… موٴمن کو بغیر توبہ کے مرنا ہی نہیں چاہئے، بلکہ رات کے گناہوں سے، دن طلوع ہونے سے پہلے، اور دن کے گناہوں سے رات آنے سے پہلے توبہ کرتے رہنا چاہئے۔ جو مسلمان توبہ کئے بغیر مرجائے اس کا معاملہ اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے، چاہے اپنے فضل سے بغیر سزا کے معاف کردے، یا سزا کے بعد اسے رہا کردے۔

فرعون کا ڈوبتے وقت توبہ کرنے کا اعتبار نہیں

س… ایک شخص کہتا ہے کہ جب فرعون مع اپنے لشکر کے دریائے نیل میں غرق ہوا اور ڈوبنے لگا تو اس نے کہا کہ اے موسیٰ میں نے تیرے رب کو مان لیا، تیرا رب سچا اور سب سے برتر ہے، پھر بھی موسیٰ علیہ السلام نے اسے بذریعہ دعا کیوں نہیں اپنے رب سے بچوایا؟ اب وہ شخص کہتا ہے کہ بروزِ قیامت موسیٰ علیہ السلام سے سوال کیا جائے گا کہ جب فرعون نے توبہ کرلی اور مجھے رب مان لیا تو اے موسیٰ تو نے کیوں نہیں اس کے حق میں دعا کرکے اسے بچایا؟ وہ اپنی بات پر مصر ہے کہ ضرور یہ سوال روزِ محشر موسیٰ علیہ السلام سے کیا جائے گا۔ اس شخص کا بیان نوٹ کرکے میں نے آپ تک پہنچایا ہے، اب آپ اپنے حل سے ضرور نوازیں کہ آیا وہ شخص گناہ گار ہوگا؟ وہ ٹھیک کہتا ہے یا کہ غلط؟

ج… فرعون کا ڈوبتے وقت ایمان لانا معتبر نہیں تھا، کیونکہ نزع کے وقت کی نہ توبہ قبول ہوتی ہے نہ ایمان! اس شخص کا موسیٰ علیہ السلام پر اعتراض کرنا بالکل غلط اور بے ہودہ ہے، اس کو اس خیال سے توبہ کرنی چاہئے، وہ نہ صرف گناہ گار ہو رہا ہے بلکہ ایک جلیل القدر نبی پر اعتراض کفر کے زمرہ میں آتا ہے۔

صدقِ دل سے کلمہ پڑھنے والے انسان کو اعمال کی کوتاہی کی سزا

س… کیا جس مسلمان نے صدقِ دل سے کلمہ طیبہ پڑھا ہو، رسالت وغیرہ پر ایمان ہو مگر زندگی میں قصداً کئی نمازیں اور فرائض اسلام ترک کئے ہوں، تو ایسا مسلمان اپنی سزا بھگت کر جنت میں جاسکے گا یا ہمیشہ دوزخ کا ہی ایندھن بنا رہے گا؟

ج… نماز چھوڑنا اور دیگر احکامِ اسلام کو چھوڑنا سخت گناہ اور معصیت ہے، احادیث میں نماز چھوڑنے والے کے لئے سخت وعیدیں آئی ہیں اور ان احکام پر عمل نہ کرنے کی وجہ سے انسان فاسق ہوجاتا ہے اور آخرت میں عذاب میں مبتلا ہونے کا اندیشہ ہے، لیکن اس کے باوجود اگر ایسے بدعمل شخص کا عقیدہ صحیح ہو، توحید و رسالت پر قائم ہو، ضروریاتِ دین کو مانتا ہو، وہ آخرکار جنت میں جائے گا خواہ سزا سے پہلے یا سزا پانے کے بعد، لیکن اگر کسی کا عقیدہ ہی خراب ہو، کفر اور شرک میں مبتلا ہو، یا ضروریاتِ دین کا انکار صریح بلاتاویل کرے، تو ایسے شخص کی نجات کبھی نہ ہوگی، وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے جہنم کی آگ میں رہے گا، کبھی اس کو دوزخ کے عذاب سے رہائی نہیں ملے گی۔

نماز، روزوں کی پابند مگر شوہر اور بچوں سے لڑنے والی

بیوی کا انجام

س… ایک عورت جو بہت ہی نماز، روزہ کی پابند ہے، کسی حالت میں بھی روزہ نماز نہیں چھوڑتی ہے، یہاں تک کہ بیماری کی حالت میں روزہ رکھتی ہے اور صبح شام قرآن مجید کی تلاوت کرتی ہے، اس کے سات بچے ہیں، جو کہ سب ہی اعلیٰ تعلیم پارہے ہیں مگر وہ عورت بہت ہی غصے والی ہے اور ضدی بھی، بعض موقع پر بچوں اور شوہر سے لڑپڑتی ہے یہاں تک کہ غصہ کی وجہ سے ان لوگوں سے ماہ دو ماہ تک بولنا ترک کردیتی ہے، یہاں تک کہ شوہر اور بچوں کو مرنے کی بددعائیں دیتی رہتی ہے، مگر اپنی نماز بدستور پڑھتی ہے، غصہ اتنا زیادہ ہے کہ شوہر اور بچوں کی ہر بات پر جو صحیح بھی ہوتی ہے تو بھی غصہ میں آجاتی ہے، اس کی مرضی کے خلاف اگر کوئی بات ہوجاتی ہے قیامت برپا کردیتی ہے، جبکہ مسلمان کو تین روز سے زیادہ غصہ رکھنا حرام ہوتا ہے تو کیا ڈیڑھ دو ماہ غصہ رکھ کر نماز، روزہ اور کوئی عبادت قبول ہوتی ہے یا نہیں؟ اور ایسی حالت میں نماز، روزہ ہوسکتا ہے کہ نہیں؟ جبکہ ایک مسئلہ میں آپ فرماتے ہیں کہ بغیر عذر کے مسجد اور جماعت کا ترک کرنا گناہ کبیرہ ہے، یہاں تو غصہ حرام ہے اور اس حرام کے ساتھ نماز روزہ اور کسی عبادت کی کیا حیثیت ہوسکتی ہے؟

ج… نماز روزہ تو اس خاتون کا ہوجاتا ہے اور کرنا بھی چاہئے، لیکن اتنا زیادہ غصہ اس کی نیکی کو برباد کردیتا ہے۔ حدیث میں ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا گیا کہ: ایک عورت نماز روزہ بہت کرتی ہے مگر ہمسائے اس سے نالاں ہیں۔

فرمایا: “وہ دوزخ میں ہے۔” عرض کیا گیا کہ: ایک عورت فرائض کے علاوہ نفلی نماز تو زیادہ نہیں پڑھتی مگر اس کے ہمسائے اس سے بہت خوش ہیں۔ فرمایا: “وہ جنت میں ہے۔”

خصوصاً کسی خاتون کی اپنے شوہر اور اپنے بچوں سے بدمزاجی تو سو عیبوں کا ایک عیب ہے، ایسی عورت کا آخرت میں تو انجام ہوگا سو ہوگا اس کی دنیا بھی اس کے لئے جہنم سے کم نہیں اور اگر اس کے شوہر صاحب اور بچے (جو بالغ ہوں) نماز روزے کے پابند نہیں تو جو انجام اس عورت کا ہوگا وہی ان کا بھی ہوگا۔

سچی توبہ اور حقوق العباد

س… اگر انسان گناہِ کبیرہ کرتا ہے، مثال کے طور پر زنا یا شراب پیتا ہے، کسی کا حق مارتا ہے، کسی کا دل توڑتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کو نیک ہدایت دیتا ہے وہ ان گناہوں سے توبہ کرتا ہے اور آئندہ کے لئے پرہیز کرتا ہے، کیا اس کے گناہ معاف ہوجائیں گے؟

میں بچپن میں تقریباً ۱۵ سال کی عمر تک نانی کے ساتھ رہا، میں نے اپنی نانی کا دل دکھایا، انہیں تنگ کیا، انہوں نے مجھے بددعا دی اور نانی کا انتقال ہوئے ۷ سال ہوگئے ہیں، اب میں ۲۲ سال کا ہوں، میں چاہتا ہوں اللہ تعالیٰ مجھے معاف فرمائے۔

ج… سچی توبہ سے سب گناہ معاف ہوجاتے ہیں، البتہ حقوق ذمہ رہ جاتے ہیں، پس اگر کسی کا مالی حق اپنے ذمہ ہو تو اس کو ادا کردے یا صاحبِ حق سے معاف کرالے، اور اگر غیرمالی حق ہو (جیسے کسی کو مارنا، گالی دینا، غیبت کرنا وغیرہ) تو اس کی زندگی میں اس سے معاف کرائے، اور اس کے مرنے کے بعد اس کے لئے دعا و استغفار کرتا رہے، انشاء اللہ معافی ہوجائے گی۔

گناہ گار دوسروں کو گناہ سے روک سکتا ہے

س… میں ایک گناہ گار آدمی ہوں، انتہائی گناہ کئے ہیں او رکر رہا ہوں۔ لیکن میری فطرت یہ ہے کہ میں جو گناہ کرتا ہوں اگر وہی گناہ کسی اور کو کرتے ہوئے دیکھتا ہوں تو اسے خدا کا خوف دلاتا ہوں کہ تم کو ایسے گناہ نہیں کرنے چاہئیں، حالانکہ میں خود اس گناہ میں مبتلا ہوتا ہوں۔ ایک دفعہ کسی کتاب میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد نظر سے گزرا:

“ایک آدمی قیامت کے دن لایا جائے گا اور آگ میں ڈال دیا جائے گا، تو اس کی انتڑیاں آگے سے نکل پڑیں گی، دوسرے جہنمی اس سے پوچھیں گے اے فلاں! تو، تو ہمیں نیکی کی تلقین کیا کرتا تھا پھر اس عذاب میں؟ وہ کہے گا: ہاں! میں تمہیں نیکی کی تلقین کرتا تھا مگر خود اس کے قریب نہ جاتا تھا اور برائیوں سے تم کو روکتا تھا اور خود برائیاں کرتا تھا۔”

مندرجہ بالا ارشاد گرامی پڑھنے کے بعد میں نے لوگوں کو ہدایت کرنا بند کردی ہے، اب جب کسی کو گناہ میں مبتلا دیکھتا ہوں تو بھی اسے منع نہیں کرتا کہ میں خود گناہ گار ہوں، اگر میں اسے منع کروں گا تو میرا قیامت والے دن وہی حشر ہوگا۔ آپ وضاحت فرمادیں کہ میں کیا کروں؟ گناہوں سے متعدد بار توبہ کی ہے مگر پھر وہی گناہ سرزد ہوجاتے ہیں، درجنوں قسموں کا کفارہ میرے سر پر ہے، ہر گناہ کے لئے قسم کھاتا ہوں مگر وہ گناہ کسی نہ کسی صورت میں ہوجاتا ہے، غرض کہ دل بالکل کالا ہوچکا ہے اور شیطان کے راستے پر گامزن ہوں، خدا میری حالت پر رحم کرے، اور آپ بھی دعا کریں اور کچھ ہدایت و نصیحت فرمادیں۔

ج… گناہ گار اگر دوسروں کو گناہ سے روکے تو یہ بھی نیکی کا کام ہے، دوسروں کو گناہ سے باز رکھنے کا کام تو نہیں چھوڑنا چاہئے، البتہ خود گناہ کو چھوڑنے کی ہمت ضرور کرنی چاہئے۔

اس کے لئے آپ مجھ سے نجی خط و کتابت کریں، اللہ تعالیٰ کی توفیق شامل حال ہوئی تو انشاء اللہ آپ کو سچی توبہ کی توفیق ہوجائے گی، گناہوں سے پریشان نہیں ہونا چاہئے البتہ ان کے تدارک کا اہتمام کرنا چاہئے۔