بشریتِ انبیاء علیہم السلام

بشریتِ انبیاء علیہم السلام

س… جناب مکرمی مولانا صاحب! السلام علیکم، بعدہ عرض ہے کہ آپ کا رسالہ “بینات” شاید پچھلے سال یعنی ۱۹۸۰ء کا ہے، اس کا مطالعہ کیا، جس میں چند جگہ کچھ اس قسم کی باتیں دیکھنے میں آئیں کہ جن کی وضاحت ضروری ہے، کیونکہ میں نے دیگر حضرات کی کتابوں کا مطالعہ بھی کیا ہے، جس سے آپ کی بات اور ان حضرات کی بات میں بڑا فرق ہے، یا تو آپ ان کے خلاف ہیں؟ یا ان کی تحریروں کو نظر انداز کر رہے ہیں۔

مثلاً: نمبر:۱ صفحہ:۳۷۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ذات کے لحاظ سے نہ صرف نوعِ بشر میں داخل ہیں، بلکہ افضل البشر ہیں، نوعِ انسان کے سردار ہیں، آدم علیہ السلام کی نسل سے ہیں، “بشر اور انسان دونوں ہم معنی لفظ ہیں۔”

لیکن جب میں دوسرے حضرات کی تصانیف کو سامنے رکھتا ہوں تو زمین و آسمان کا فرق محسوس ہوتا ہے، آخر اس کی کیا وجہ؟ حالانکہ شاہ ولی اللہ صاحب محدث دہلوی فرماتے ہیں کہ:

“تحقیق امت نے اجماع کیا اس پر کہ شریعت کی معرفت میں سلف پر اعتماد کیا جائے، پس تابعین نے اعتماد کیا صحابہ کرام پر اور تبع تابعین نے تابعین پر، اس طرح ہر طبقہ میں علماء نے اپنے پہلوں پر اعتماد کیا۔” (عقد الجید ص:۳۶ مطبع دہلی)

امید ہے کہ اگر دین کا سمجھدار طبقہ یا کم از کم وہ حضرات جو تبلیغ دین میں قدم رکھتے ہیں وہ تو اس طریقہ کو اختیار کریں تاکہ دین میں تواتر قائم رہے، اب مندرجہ بالا مسئلہ میں آپ نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم صرف بشر ہیں مگر افضل ہیں، انسانوں کے سردار اور آدم علیہ السلام کی نسل میں سے ہیں، یعنی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی حقیقت بشر ہے۔ مگر․․․

حکیم الامت جناب مولانا اشرف علی صاحب تھانوی نے اپنی تصنیف “نشر الطیب” میں پہلا باب ہی نورِ محمدی صلی اللہ علیہ وسلم پر لکھا ہے، جس میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش اللہ تعالیٰ نے نور سے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے نور سے ساری کائنات کی پیدائش کا اظہار کیا ہے، اور اس ضمن میں چند احادیث بھی روایت کی ہیں، جن میں یہ ذکر بھی ہے کہ: “حضور صلی اللہ علیہ وسلم آدم علیہ السلام کے پیدا ہونے سے چودہ ہزار برس پہلے اپنے رَبّ کے پاس نور تھے۔”

اور یہ بھی ہے کہ: میں اس وقت نبی تھا جبکہ آدم علیہ السلام ابھی پانی اور مٹی کے درمیان تھے۔

اور جناب رشید احمد گنگوہی فرماتے ہیں: امداد السلوک میں اور احادیث متواترہ سے ثابت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سایہ نہ رکھتے تھے اور ظاہر ہے کہ نور کے سوا تمام اجسام سایہ رکھتے ہیں۔

حضرت مجدد الف ثانی علیہ الرحمة نے (دفتر سوم مکتوب نمبر:۱۰۰ میں) فرمایا جس سے چند باتوں کا اظہار ہوتا ہے:

۱:…حضور صلی اللہ علیہ وسلم ایک نور ہیں کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “خلقت من نور الله” میں اللہ کے نور سے پیدا ہوا ہوں۔

۲:…آپ صلی اللہ علیہ وسلم نور ہیں اور آپ کا سایہ نہ تھا۔

۳:…آپ صلی اللہ علیہ وسلم نور ہیں جس کو اللہ تعالیٰ نے حکمت و مصلحت کے پیش نظر خوبصورت انسان ظہور فرمایا۔

مطلب یہ کہ مجدد صاحب بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حقیقت کو نور ہی مانتے ہیں، لیکن قدرتِ خداوندی نے مصلحت کے تحت شکل انسانی میں ظہور کیا۔

رسالہ “التوسل” جو مولوی مشتاق احمد صاحب دیوبندی کی تصنیف ہے اور مولوی محمود الحسن صاحب، مفتی کفایت اللہ صاحب اور مفتی محمد شفیع صاحب علمائے دیوبند کی تصدیقات سے موٴید ہے، اس میں لکھا ہے کہ: “قد جائکم من الله نور وکتاب مبین۔” میں نور سے مراد حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور کتاب سے مراد قرآن مجید ہے۔ نور اور سراج منیر کا اطلاق حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات پر اسی وجہ سے ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نورِ مجسم اور روشن چراغ ہیں۔

نور اور چراغ ہمیشہ ذریعہ وسیلہ صراطِ مستقیم کے دیکھنے اور خوفناک طریق سے حالت حیات میں بھی وسیلہ ہے اور بعد وفات بھی وسیلہ ہے، بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دنیا میں تشریف لانے سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جد امجد عبدالمطلب کو قریش مصیبت کے وقت اسی نور کے سبب حل مشکلات کا وسیلہ بنایا کرتے تھے۔ (التوسل صفحہ: ۲۲۔ تفسیر کبیر ج:۳ ص:۵۶۶)۔

“قد جائکم من الله نور وکتٰب مبین۔ ان المراد بالنور محمد صلی الله علیہ وسلم وبالکتٰب القراٰن۔” (تفسیر کبیر ج:۱۱ ص:۱۸۹)۔

آپ سے عرض ہے کہ آپ بتائیں کہ یہ عقائد درست ہیں؟

نوٹ:…ان حضرات کے عقائد سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی حقیقت نور ثابت ہے جو آدم علیہ السلام سے پہلے پیدا ہوا۔

ج… حکیم الامت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی قدس سرہ کے حوالے سے آپ نے جو اصول نقل کیا ہے کہ: “شریعت کی معرفت میں سلف پر اعتماد کیا جائے” یہ بالکل صحیح ہے۔ لیکن آنجناب کا یہ خیال صحیح نہیں کہ راقم الحروف نے نور و بشر کی بحث میں اس اصول سے انحراف کیا ہے، میں نے جو کچھ لکھا ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بیک وقت نور بھی اور بشر بھی، اور یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نور اور بشر ہونے میں کوئی منافات نہیں کہ ایک کا اثبات کرکے دوسرے کی نفی کی جائے، بلکہ آپ صفتِ ہدایت اور نورانیتِ باطن کے اعتبار سے نورِ مجسم ہیں اور اپنی نوع کے اعتبار سے خالص اور کامل بشر ہیں۔

بشر اور انسان ہونا کوئی عار اور عیب کی چیز نہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف اس کا انتساب خدانخواستہ معیوب سمجھا جائے، انسانیت و بشریت کو خدا تعالیٰ نے چونکہ “احسن تقویم” فرمایا ہے، اس لئے بشریت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے کمالِ شرف ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا انسان ہونا انسانیت کے لئے موجبِ صد عزت و افتخار ہے۔

میرے علم میں نہیں کہ حضراتِ سلف صالحین میں سے کسی نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بشریت کا انکار کرکے آپ کو دائرہ انسانیت سے خارج کیا ہو۔ بلاشبہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بشریت میں بھی منفرد ہیں، اور شرف و منزلت کے اعتبار سے تمام کائنات سے بالاتر اور: “بعد از خدا بزرگ توئی قصہ مختصر!” کے مصداق ہیں، اس لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اکمل البشر، افضل البشر اور سید البشر ہونا ہر شک و شبہ سے بالاتر ہے، کیوں نہ ہو جبکہ خود فرماتے ہیں:

“انا سید ولد آدم یوم القیامة ولا فخر!”

(مشکوٰة ص:۵۱۱، ۵۱۳)

ترجمہ:…”میں اولاد آدم کا سردار ہوں گا قیامت کے دن، اوریہ بات بطورِ فخر نہیں کہتا!”

قرآن کریم میں اگر ایک جگہ:

“لقد جائکم من الله نور و کتاب مبین۔”

فرمایا ہے (اگر نور سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ گرامی مراد لی جائے) تو دوسری جگہ یہ بھی فرمایا ہے:

“قل سبحان ربی ھل کنت الا بشرا رسولا۔”

(بنی اسرائیل:۹۳)

ترجمہ:…”آپ فرمادیجئے کہ: سبحان للہ! میں بجز اس کے کہ آدمی ہوں مگر پیغمبر ہوں اور کیا ہوں؟”

“قل انما انا بشر مثلکم یوحی الی انما الٰھکم الہ واحد۔” (الکہف:۱۱۰)

ترجمہ:…”آپ کہہ دیجئے کہ میں تو تم ہی جیسا بشر ہوں، میرے پاس بس یہ وحی آتی ہے کہ تمہارا معبود ایک ہی معبود ہے۔”

“وما جعلنا لبشر من قبلک الخلد، افان مت فھم الخالدون۔” (الانبیاء:۳۴)

ترجمہ:…”اور ہم نے آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) سے پہلے کسی بھی بشر کے لئے ہمیشہ رہنا تجویز نہیں کیا، پھر اگر آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کا انتقال ہوجائے، تو کیا یہ لوگ دنیا میں ہمیشہ کو رہیں گے؟”

قرآن کریم یہ اعلان بھی کرتا ہے کہ انبیاء علیہم السلام ہمیشہ نوعِ بشر ہی سے بھیجے گئے:

“ما کان لبشر ان یوٴتیہ الله الکتاب والحکمة والنبوة ثم یقول للناس کونوا عبادا لی من دون الله۔”

(آل عمران:۷۹)

ترجمہ:…”کسی بشر سے یہ بات نہیں ہوسکتی کہ اللہ تعالیٰ اس کو کتاب اور فہم اور نبوت عطا فرماوے، پھر وہ لوگوں سے کہنے لگے کہ میرے بندے بن جاوٴ خدا تعالیٰ کو چھوڑ کر۔”

“وما کان لبشر ان یکلمہ الله الا وحیا او من ورایٴِ حجاب او یرسل رسولا فیوحی باذنہ ما یشاء۔”

(الشوریٰ:۵۱)

ترجمہ:…”اور کسی بشر کی یہ شان نہیں کہ اللہ تعالیٰ اس سے کلام فرماوے مگر (تین طریق سے) یا تو الہام سے، یا حجاب کے باہر سے، یا کسی فرشتے کو بھیج دے کہ وہ خدا کے حکم سے جو خدا کو منظور ہوتا ہے پیغام پہنچادیتا ہے۔”

اور انبیاء کرام علیہم السلام سے یہ اعلان بھی کرایا گیا ہے:

“قالت لھم رسلھم ان نحن الا بشر مثلکم ولکن الله یمن علی من یشاء من عبادہ۔” (ابراہیم:۱۱)

ترجمہ:…”ان کے رسولوں نے ان سے کہا کہ ہم بھی تمہارے جیسے آدمی ہیں، لیکن اللہ اپنے بندوں میں سے جس پر چاہے احسان فرمادے۔”

قرآن کریم نے یہ بھی بتایا کہ بشر کی تحقیر سب سے پہلے ابلیس نے کی، اور بشرِ اول حضرت آدم علیہ السلام کو سجدہ کرنے سے یہ کہہ کر انکار کردیا:

“قال لم اکن لاسجد لبشر خلقتہ من صلصال من حماءٍ مسنون۔” (الحجر:۳۳)

ترجمہ:…”کہنے لگا میں ایسا نہیں کہ بشر کو سجدہ کروں جس کو آپ نے بجتی ہوئی مٹی سے، جو سڑے ہوئے گارے سے بنی ہے، پیدا کیا ہے۔”

قرآن کریم یہ بھی بتاتا ہے کہ کفار نے ہمیشہ انبیاء کرام علیہم السلام کی اتباع سے یہ کہہ کر انکار کیا کہ یہ تو بشر ہیں، کیا ہم بشر کو رسول مان لیں؟

“فقالوا ابشرا منا واحدا نتبعہ انا اذا لفی ضلال وسعر۔” (القمر:۲۴)

ترجمہ:…”پس کہنے لگے: کیا ہم ایسے شخص کی اتباع کریں گے جو ہماری جنس کا آدمی ہے اور اکیلا ہے، تو اس صورت میں ہم بڑی غلطی اور جنون میں پڑجائیں گے۔”

“وما منع الناس ان یوٴمنوا اذ جائھم الھدی الا ان قالوا ابعث الله بشر رسولا۔ قل لو کان فی الارض ملٰئکة یمشون مطمئنین لنزلنا علیھم من السماء ملکا رسولا۔” (بنی اسرائیل:۹۴، ۹۵)

ترجمہ:…”اور جس وقت ان لوگوں کے پاس ہدایت پہنچ چکی اس وقت ان کو ایمان لانے سے بجز اس کے اور کوئی بات مانع نہ ہوئی کہ انہوں نے کہا: کیا اللہ تعالیٰ نے بشر کو رسول بناکر بھیجا ہے؟ آپ فرمادیجئے: اگر زمین میں فرشتے رہتے ہوتے کہ اس میں چلتے بستے تو البتہ ہم ان پر آسمان سے فرشتے کو رسول بناکر بھیجتے۔”

ان ارشادات سے واضح ہوتا ہے کہ انبیاء کرام علیہم السلام انسان اور بشر ہی ہوتے ہیں، گویا کسی نبی کی نبوت پر ایمان لانے کا مطلب ہی یہ ہے کہ ان کو بشر اور رسول تسلیم کیا جائے، اسی لئے تمام اہل سنت کے ہاں رسول کی تعریف یہ کی گئی ہے:

“انسان بعثہ الله لتبلیغ الرسالة والاحکام۔”

(شرح عقائد نسفی)

ترجمہ:…”رسول وہ انسان ہے جس کو اللہ تعالیٰ اپنے پیغامات اور احکام بندوں تک پہنچانے کے لئے مبعوث فرماتے ہیں۔”

جس طرح قرآن کریم نے انبیاء کرام علیہم السلام کی بشریت کا اعلان فرمایا ہے، اسی طرح احادیث طیبہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی بغیر کسی دغدغہ کے اپنی بشریت کا اعلان فرمایا ہے، چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جہاں یہ فرماتے ہیں کہ سب سے پہلے میرا نور تخلیق کیا گیا (اگر اس روایت کو صحیح تسلیم کرلیا جائے) وہاں یہ بھی فرماتے ہیں:

۱:…”اللّٰھم انما انا بشر فای المسلمین لعنتہ او سببتہ فاجعلہ لہ زکوٰة واجراً۔”

(مسلم ج:۲ ص:۳۲۳ عن عائشہ)

ترجمہ:…”اے اللہ! میں بھی ایک انسان ہی ہوں، پس جس مسلمان پر میں نے لعنت کی ہو، یا اسے برا بھلا کہا ہو، آپ اس کو اس شخص کے لئے پاکیزگی اور اجر کا ذریعہ بنادے۔”

۲:…”اللّٰھم انی اتخذ عندک عھداً لن تخلفنیہ فانما انا بشر فای الموٴمنین اٰذیتہ، شتمتہ، لعنتہ، جلدتہ فاجعلھا لہ صلوٰة وزکوٰة وقربة تقربہ بھا الیک یوم القیامة۔” (مسلم ج:۲ ص:۳۲۴ عن ابی ہریرہ)

ترجمہ:…”اے اللہ! میں آپ کے یہاں سے ایک عہد لینا چاہتا ہوں، آپ اس کے خلاف نہ کیجئے! کیونکہ میں بھی ایک انسان ہی ہوں، پس جس موٴمن کو میں نے ایذا دی ہو، گالی دی ہو، لعنت کی ہو، اس کو مارا ہو، آپ اس کے لئے اس کو رحمت و پاکیزگی بنادیجئے کہ آپ اس کی وجہ سے اس کو قیامت کے دن اپنا قرب عطا فرمائیں۔”

۳:…”اللّٰھم انما محمد (صلی الله علیہ وسلم) بشر یغضب کما یغضب البشر۔ الحدیث۔”

(عن ابی ہریرہ مسلم ج:۲ ص:۳۲۴)

ترجمہ:…”اے اللہ! محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) بھی ایک انسان ہی ہیں، ان کو بھی غصہ آتا ہے جس طرح اور انسانوں کو غصہ آتا ہے۔”

۴:…”انی اشترطت علی ربی فقلت: انما انا بشر ارضی کما یرضی البشر واغضب کما یغضب البشر۔” (مسلم ج:۲ ص:۳۲۴ عن انس)

ترجمہ:…”میں نے اپنے رب سے ایک شرط کرلی ہے، میں نے کہا کہ: میں بھی ایک انسان ہی ہوں، میں بھی خوش ہوتا ہوں، جس طرح انسان خوش ہوتے ہیں اور غصہ ہوتا ہوں جس طرح دوسرے انسان غصہ ہوتے ہیں۔”

۵:…”انما انا بشر وانہ یأتینی الخصم فلعل بعضھم ان یکون ابلغ من بعض، فاحسب انہ صادق، فاقضی لہ، فمن قضیت لہ بحق مسلم فانما ھی قطعة من النار فلیحملھا او یذرھا۔”

(صحیح بخاری ج:۱ ص:۳۳۲، مسلم ج:۲ ص:۷۴ عن ام سلمہ)

ترجمہ:…”میں بھی ایک آدمی ہوں اور میرے پاس مقدمہ کے فریق آتے ہیں، ہوسکتا ہے کہ ان میں سے بعض زیادہ زبان آور ہوں، پس میں اس کو سچا سمجھ کر اس کے حق میں فیصلہ کردوں، پس جس کے لئے میں کسی مسلمان کے حق کا فیصلہ کردوں وہ محض آگ کا ٹکڑا ہے، اب چاہے وہ اسے اٹھالے جائے، اور چاہے چھوڑ جائے۔”

۶:…”انما انا بشر مثلکم انسیٰ کما تنسون فاذا نسیت فذکرونی۔”

(صحیح بخاری ج:۱ ص:۵۸، صحیح مسلم ج:۱ ص:۲۱۲ عن ابن مسعود)

ترجمہ:…”میں بھی تم جیسا انسان ہی ہوں، میں بھی بھول جاتا ہوں، جیسے تم بھول جاتے ہو، پس جب میں بھول جاوٴں تو مجھے یاد دلادیا کرو۔”

۷:…”انما انا بشر اذا امرتکم بشیٴ من دینکم فخذوا بہ، واذا امرتکم بشیٴ من رائی فانما انا بشر۔” (صحیح مسلم ج:۲ ص:۲۶۴ عن رافع بن خدیج)

ترجمہ:…”میں بھی ایک انسان ہی ہوں، جب تم کو دین کی کسی بات کا حکم کروں تو اسے لے لو اور جب تم کو (کسی دنیوی معاملے میں) اپنی رائے سے بطور مشورہ کوئی حکم دوں تو میں بھی ایک انسان ہی ہوں۔”

۸:…”الا ایھا الناس! فانما انا بشر یوشک ان یأتی رسول ربی فأجیب ․․․․․ الخ۔”

(صحیح مسلم ج:۲ ص:۲۷۹ عن زید بن ارقم)

ترجمہ:…”سنو! اے لوگو! پس میں بھی ایک انسان ہی ہوں، قریب ہے کہ میرے رب کا قاصد (یہاں سے کوچ کا پیغام لے کر) آئے تو میں اس کو لبیک کہوں۔”

قرآن کریم اور ارشاداتِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے واضح ہوتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صفتِ نور کے ساتھ موصوف ہونے کا یہ مطلب نہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بشریت کی نفی کردی جائے، نہ ان نصوصِ قطعیہ کے ہوتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بشریت کا انکار ممکن ہے۔

میں نے یہ بھی لکھا تھا کہ بشریت کوئی عار اور عیب کی چیز نہیں، جس کی نسبت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب کرنا سوءِ ادب کا موجب ہو، بشر اور انسان تو اشرف المخلوقات ہے، اس لئے بشریت آپ کا کمال ہے، نقص نہیں، اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اشرف المخلوقات میں سب سے اشرف و افضل ہونا خود انسانیت کے لئے مایہٴ افتخار ہے۔

“اس لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا بشر، انسان اور آدمی ہونا نہ صرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے طرہٴ افتخار ہے، بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بشر ہونے سے انسانیت و بشریت رشکِ ملائکہ ہے۔” (اختلاف امت اور صراطِ مستقیم ج:۱ ص:۳۵)

یہی عقیدہ اکابر اور سلف صالحین کا تھا، چنانچہ قاضی عیاض رحمہ اللہ “الشفاء بتعریف حقوق المصطفیٰ (صلی الله علیہ وسلم)” القسم الثانی ص:۱۵۷، مطبوعہ ملتان میں لکھتے ہیں:

“قد قدمنا انہ صلی الله علیہ وسلم وسائر الانبیاء والرسل من البشر۔ وان جسمہ وظاھرہ خالص للبشر یجوز علیہ من الآفات والتغیرات والآلام والاسقام وتجرع کأس الحمام ما یجوز علی البشر وھذا کلہ لیس بنقیصة، لأن الشیٴ انما یسمی ناقصاً بالاضافة الیٰ ما ھو اتم منہ واکمل من نوعہ، وقد کتب الله تعالیٰ علیٰ اھل ھذہ الدار: فیھا یحیون وفیھا یموتون ومنھا یخرجون وخلق جمیع البشر بمدرجة الغیر۔”

ترجمہ:…”ہم پہلے ذکر کرچکے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور دیگر انبیاء و رسل نوعِ بشر میں سے ہیں، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا جسم مبارک اور ظاہر خالص بشر کا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جسمِ اطہر پر وہ تمام آفات و تغیرات اور تکالیف و امراض اور موت کے احوال طاری ہوسکتے تھے۔ جو انسان پر طاری ہوتے ہیں اور یہ تمام امور کوئی نقص اور عیب نہیں، کیونکہ کوئی چیز ناقص اس وقت کہلاتی ہے جبکہ اس کی نوع میں سے کوئی دوسری چیز اتم و اکمل ہو، دار دنیا کے رہنے والوں پر اللہ تعالیٰ نے یہ بات مقدر فرمادی کہ وہ زمین میں جئیں گے، یہیں مریں گے اور یہیں سے نکالے جائیں گے، اور تمام انسانوں کو اللہ تعالیٰ نے تغیر کا محل بنایا ہے۔”

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تکالیف کی چند مثالیں پیش کرنے کے بعد ص:۱۵۸، ۱۵۹ لکھتے ہیں:

“وھکذا سائر انبیائہ مبتلی ومعافی وذلک من تمام حکمتہ لیظھر شرفھم فی ھذہ المقامات، ویبین امرھم، ویتم کلمتہ فیھم، ولیحقق بشریتھم، ویرتفع الالتباس من اھل الضعف فیھم، لئلا یضلوا بما یظھر من العجائب علیٰ ایدیھم، ضلال النصاریٰ بعیسیٰ بن مریم۔ قال بعض المحققین: وھذہ الطواری والتغیرات المذکورة انما تختص باجسامھم البشریة المقصودة بھا مقاومة البشر ومعانات بنی اٰدم لمشاکلة الجنس واما یواطئھم فمنزھة غالباً عن ذالک معصومة منہ متعلقة بالملأ الاعلیٰ والملٰئکة لاخذھا عنھم وتلقیھا الوحی منھم۔” (الشفاء بتعریف حقوق المصطفیٰ ج:۲ ص:۱۵۷، ۱۵۹)

ترجمہ:…”اسی طرح دیگر انبیاء کرام علیہم السلام کہ وہ تکالیف میں بھی مبتلا ہوئے اور ان کو عافیت سے بھی نوازا گیا، اور یہ حق تعالیٰ کی کمالِ حکمت تھی تاکہ ان مقامات میں ان حضرات کا شرف ظاہر ہو، اور ان کا معاملہ واضح ہوجائے اور اللہ تعالیٰ کی بات ان کے حق میں پوری ہوجائے، اور تاکہ اللہ تعالیٰ ان کی بشریت کو ثابت کردے اور امت کے اہل ضعف کو ان کے بارے جو التباس ہوسکتا تھا وہ اٹھ جائے، تاکہ ان عجائبات کی وجہ سے جو ان حضرات کے ہاتھ پر ظاہر ہوتے ہیں، گمراہ نہ ہوجائیں۔ جس طرح نصاریٰ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں گمراہ ہوئے۔ بعض محققین نے فرمایا ہے کہ: یہ عوارض اور تغیرات مذکورہ ان بشری اجسام کے ساتھ مخصوص ہیں جن سے مقصود بشریت کی مقاومت اور بنی آدم کی مشقتوں کا برداشت کرنا ہے، تاکہ ہم جنسوں کے ساتھ مشاکلت ہو، لیکن ان کی ارواح طیبہ ان امور سے متأثر نہیں ہوتیں، بلکہ وہ معصوم و منزہ اور ملأ اعلیٰ اور فرشتوں سے تعلق رکھتی ہیں، کیونکہ وہ فرشتوں سے علوم اخذ کرتی ہیں، اور ان سے وحی اخذ کرتی ہیں۔”

الغرض آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نور ہونے کے یہ معنی ہرگز نہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بنی نوعِ انسان میں داخل نہیں۔ آپ نے جو حوالے نقل کئے ہیں ان میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے نور کی صفت کا اثبات کیا گیا ہے، مگر اس سے چونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بشریت کا انکار لازم نہیں آتا اس لئے وہ میرے مدعا کے خلاف نہیں، اور نہ میرا عقیدہ ان بزرگوں سے الگ ہے۔

حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی نے “نشر الطیب” میں سب سے پہلے نورِ محمدی (علیٰ صاحبہ الصلوٰة والتسلیمات) کی تخلیق کا بیان فرمایا ہے، اور اس کے ذیل میں وہ احادیث نقل کی ہیں جن کی طرف آپ نے اشارہ کیا ہے۔ لیکن حضرت نے نورِ محمدی صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریح بھی فرمادی ہے، چنانچہ پہلی روایت حضرت جابر رضی اللہ عنہ کی مسند عبدالرزاق کے حوالے سے یہ نقل کی ہے:

“آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا: اے جابر! اللہ تعالیٰ نے تمام اشیاء سے پہلے تیرے نبی کا نور اپنے نور سے (نہ بایں معنی کہ نورِ الٰہی اس کا مادہ تھا، بلکہ اپنے نور کے فیض سے) پیدا کیا ․․․․․ پھر جب اللہ تعالیٰ نے اور مخلوق کو پیدا کرنا چاہا تو اس نور کے چار حصے کئے، ایک حصہ سے قلم پیدا کیا، دوسرے سے لوح اور تیسرے سے عرش، آگے حدیث طویل ہے۔”

اس کے فائدہ میں لکھتے ہیں:

“اس حدیث سے نورِ محمدی (صلی اللہ علیہ وسلم) کا اول الخلق ہونا باولیت حقیقیہ ثابت ہوا کیونکہ جن جن اشیاء کی نسبت روایات میں اولیت کا حکم آیا ہے، ان اشیاء کا نورِ محمدی (صلی اللہ علیہ وسلم) سے متأخر ہونا اس حدیث میں منصوص ہے۔”

اور اس کے حاشیہ میں تحریر فرماتے ہیں:

“ظاہراً نورِ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) روح محمدی (صلی اللہ علیہ وسلم) سے عبارت ہے، اور حقیقت روح کی اکثر محققین کے قول پر مادہ سے مجرد ہے، اور مجرد کا مادیات کے لئے مادہ ہونا ممکن نہیں۔ پس ظاہراً اس نور کے فیض سے کوئی مادہ بنایا گیا اور اس مادہ سے چار حصے کئے گئے ․․․․ الخ۔ اور اس مادہ سے پھر کسی مجرد کا بننا اس طرح ممکن ہوا کہ وہ مادہ اس کا جزو نہ ہو، بلکہ کسی طریق سے محض اس کا سبب خارج عن الذات ہو۔”

دوسری روایت جس میں فرمایا گیا ہے کہ: بے شک میں حق تعالیٰ کے نزدیک خاتم النبیین ہوچکا تھا، اور آدم علیہ السلام ہنوز اپنے خمیر ہی میں پڑے تھے ․․․․ اس کے حاشیہ میں لکھتے ہیں:

“اور اس وقت ظاہر ہے آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کا بدن تو بنا ہی نہ تھا، تو پھر نبوت کی صفت آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کی روح کو عطا ہوئی تھی، اور نورِ محمدی (صلی اللہ علیہ وسلم) اسی روحِ محمدی (صلی اللہ علیہ وسلم) کا نام ہے، جیسا اوپر مذکور ہوا۔”

اس سے واضح ہے کہ حضرت تھانوی کے نزدیک نورِ محمدی (صلی اللہ علیہ وسلم) سے مراد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پاک اور مقدس روح ہے، اور اس فصل میں جتنے احکام ثابت کئے گئے ہیں وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی روحِ مقدسہ کے ہیں، اور ظاہر ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پاک روح کے اول الخلق ہونے سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بشریت کا انکار لازم نہیں آتا۔

اور حضرت تھانوی کی تشریح سے یہ بھی معلوم ہوا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نور کے خدا تعالیٰ کے نور سے پیدا کئے جانے کا یہ مطلب نہیں کہ نورِ محمدی (صلی اللہ علیہ وسلم) نعوذ باللہ! نورِ خداوندی کا کوئی حصہ ہے، بلکہ یہ مطلب ہے کہ نورِ خداوندی کا فیضان آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی روحِ مقدسہ کی تخلیق کا باعث ہوا۔

آپ نے قطب العالم حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی کی “امداد السلوک” کا حوالہ دیا ہے کہ:

“احادیث متواترہ سے ثابت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سایہ نہیں رکھتے تھے، اور ظاہر ہے کہ نور کے سوا تمام اجسام سایہ رکھتے ہیں۔”

“امداد السلوک” کا فارسی نسخہ تو میرے سامنے نہیں، البتہ اس کا اردو ترجمہ جو حضرت مولانا عاشق الٰہی میرٹھی نے “ارشاد الملوک” کے نام سے کیا ہے، اس کی متعلقہ عبارت یہ ہے:

“آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بھی تو اولادِ آدم ہی میں ہیں، مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ذات کو اتنا مطہر بنالیا تھا کہ نورِ خالص بن گئے، اور حق تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نور فرمایا۔ اور شہرت سے ثابت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا سایہ نہ تھا، اور ظاہر ہے کہ نور کے علاوہ ہر جسم کے سایہ ضرور ہوتا ہے۔ اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے متبعین کو اس قدر تزکیہ اور تصفیہ بخشا کہ وہ بھی نور بن گئے، چنانچہ ان کی کرامات وغیرہ کی حکایتوں سے کتابیں پُر اور اتنی مشہور ہیں کہ نقل کی حاجت نہیں۔ نیز حق تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ: “جو لوگ ہمارے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے ان کا نور ان کے آگے آگے دوڑتا ہوگا۔” اور دوسری جگہ فرمایا ہے کہ: “یاد کرو اس دن کو جبکہ موٴمنین کا نور ان کے آگے اور داہنی طرف دوڑتا ہوگا، اور منافقین کہیں گے کہ ذرا ٹھہر جاوٴ تاکہ ہم بھی تمہارے نور سے کچھ اخذ کریں۔” ان دونوں آیتوں سے صاف ظاہر ہے کہ حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی متابعت سے ایمان اور نور دونوں حاصل ہوتے ہیں۔” (ارشاد الملوک مطبوعہ سہارنپور ص:۱۱۴، ۱۱۵)

اس اقتباس سے چند امور بالکل واضح ہیں:

اول:…آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اولادِ آدم علیہ السلام میں سے ہونا تسلیم کیا گیا ہے، اور آدم علیہ السلام کا بشر ہونا قرآن کریم میں منصوص ہے۔

دوم:…آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے جس نورانیت کا اثبات کیا گیا ہے، وہ وہ ہے جو تزکیہ و تصفیہ سے حاصل ہوتی ہے، اور جس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا مرتبہ اس قدر اکمل و اعلیٰ تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم “نورِ خالص” بن گئے تھے۔

سوم:…جسم اطہر کا سایہ نہ ہونے کو متواتر نہیں کہا گیا، بلکہ “شہرت سے ثابت” کہا گیا ہے۔ بہت سی روایات ایسی ہیں کہ زبان زد عام و خاص ہوتی ہیں، مگر ان کو تواتر یا اصطلاحی شہرت کا مرتبہ تو کیا حاصل ہوتا، خبر آحاد کے درجہ میں ان کو حدیث صحیح یا قابل قبول ضعیف کا درجہ بھی حاصل نہیں ہوتا، بلکہ وہ خالصتاً بے اصل اور موضوع ہوتی ہیں، سایہ نہ ہونے کی روایت بھی حد درجہ کمزور ہے، یہ روایت مرسل بھی ہے اور ضعیف بھی اس درجہ کی کہ اس کے بعض راویوں پر وضعِ حدیث کی تہمت ہے۔

(اس کی تفصیل حضرت مفتی محمد شفیع صاحب کے مضمون میں ہے جو آخر میں بطورِ تکملہ نقل کر رہا ہوں۔)

چہارم:…احادیث کی تصحیح و تنقیح حضراتِ محدثین کا وظیفہ ہے، حضراتِ صوفیاء کرام کا اکثر و بیشتر معمول یہ ہے کہ وہ بعض ایسی روایات جو عام طور سے مشہور ہوں ان کی تنقیح کے درپے نہیں ہوتے، بلکہ برتقدیر صحت اس کی توجیہ کردیتے ہیں۔ یہاں بھی شیخ قطب الدین مکی قدس سرہ نے (جن کے رسالہ مکیہ کا ترجمہ حضرت گنگوہی نے کیا ہے) اس مشہور روایت کی یہ توجیہ فرمائی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ عالی پر نورانیت اور تصفیہ کا اس قدر غلبہ تھا کہ بطورِ معجزہ آپ کا سایہ نہیں تھا ․․․․․ بہرحال اگر سایہ نہ ہونے کی روایت کو تسلیم کرلیا جائے تو یہ بطورِ معجزہ ہی ہوسکتا ہے۔ گویا غلبہ نورانیت کی بنا پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم اطہر پر روح کے احکام جاری ہوگئے تھے، اور جس طرح روح کا سایہ نہیں ہوتا اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم اطہر کا بھی سایہ نہیں تھا، لیکن اس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بشریت کی نفی لازم نہیں آتی، ایک تو اس لئے کہ شیخ خود آپ کی بشریت کی تصریح فرما رہے ہیں۔ دوسرے نور کی یہ صفت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام متبعین اہل ایمان کے لئے ثابت فرما رہے ہیں، ظاہر ہے کہ اس نور کی بشریت سے منافات ہو تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام متبعین کی بشریت کا انکار لازم آئے گا۔ تیسرے ام الموٴمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حالات کو سب سے زیادہ جانتی ہیں، وہ فرماتی ہیں:

“کان بشراً من البشر۔ رواہ الترمذی۔”

(مشکوٰة ص:۵۲۰)

ترجمہ:…”آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بھی انسانوں میں سے ایک انسان تھے۔”

سایہ نہ ہونے کی روایت کے بارے میں فتاویٰ رشیدیہ سے ایک سوال و جواب یہاں نقل کرتا ہوں۔

“سوال:… سایہ مبارک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا پڑتا تھا یا نہیں؟ اور جو ترمذی نے نوادر الاصول میں عبدالملک بن عبداللہ بن وحید سے انہوں نے ذکوان سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا سایہ نہیں پڑتا تھا، سند اس حدیث کی صحیح ہے یا ضعیف یا موضوع؟ ارقام فرماویں۔

جواب:… یہ روایت کتب صحاح میں نہیں، اور “نوادر” کی روایت کا بندہ کو حال معلوم نہیں کہ کیسی ہے؟ “نوادر الاصول” حکیم ترمذی کی ہے، نہ ابوعیسیٰ ترمذی کی، فقط والله اعلم!

رشید احمد گنگوہی عفی عنہ۔”

اس اقتباس سے معلوم ہوجاتا ہے کہ سایہ نہ ہونے کی روایت حدیث کی متداول کتابوں میں نہیں۔

امام ربانی مجدد الف ثانی قدس سرہ کے حوالے سے آپ نے تین باتیں نقل کی ہیں:

“۱:…حضور صلی اللہ علیہ وسلم ایک نور ہیں، کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: “خلقت من نور الله۔” میں اللہ کے نور سے پیدا ہوا ہوں۔

۲:…آپ صلی اللہ علیہ وسلم نور ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا سایہ نہ تھا۔

۳:…آپ صلی اللہ علیہ وسلم نور ہیں، جس کو اللہ تعالیٰ نے حکمت و مصلحت کے پیش نظر بصورت انسان ظاہر فرمایا۔”

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نور سے پیدا ہونے اور سایہ نہ ہونے کی تحقیق اوپر عرض کرچکا ہوں، البتہ یہاں اتنی بات مزید عرض کردینا مناسب ہے کہ: “خلقت من نور الله” کے الفاظ سے کوئی حدیث مروی نہیں، مکتوبات شریفہ کے حاشیہ میں اس کی تخریج کرتے ہوئے شیخ عبدالحق محدث دہلوی قدس سرہ کی “مدارج النبوة” کے حوالے سے یہ روایت نقل کی گئی ہے:

“انا من نور الله والموٴمنون من نوری۔”

ترجمہ:…”میں اللہ کے نور سے ہوں، اور موٴمن میرے نور سے ہیں۔”

مگر ان الفاظ سے بھی کوئی حدیث ذخیرہٴ احادیث میں نظر سے نہیں گزری، ممکن ہے کہ یہ حضرت جابر رضی اللہ عنہ کی حدیث (جو “نشر الطیب” کے حوالے سے گزرچکی ہے) کی روایت بالمعنی ہو، بہرحال اگر یہ روایت صحیح ہو تو اس کی شرح وہی ہے جو حضرت حکیم الامت تھانوی کی “نشر الطیب” سے نقل کرچکا ہوں۔

سب جانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا نور اجزاء و حصص سے پاک ہے، اس لئے کسی عاقل کو یہ تو وہم بھی نہیں ہوسکتا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا نور، نورِ خداوندی کا جز اور حصہ ہے، پھر اس روایت میں اہل ایمان کی تخلیق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نور سے ذکر کی گئی، اگر جزئیت کا مفہوم لیا جائے تو لازم آئے گا کہ تمام اہل ایمان نورِ خداوندی کا جز ہوں، اس قسم کی روایات کی عارفانہ تشریح کی جاسکتی ہے، جیسا کہ امام ربانی نے کی ہے، مگر ان پر عقائد کی بنیاد رکھنا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ․․․ نصوصِ قطعیہ کے علی الرغم ․․․ نوعِ انسان سے خارج کردینا کسی طرح بھی جائز نہیں۔

تیسری بات جو آپ نے حضرت مجدد رحمہ اللہ سے نقل کی ہے، اول تو وہ ان دقیق علوم و معارف میں سے ہے کہ جو عقولِ متوسطہ سے بالاتر ہیں، اور جن کا تعلق علوم مکاشفہ سے ہے، جو حضرات تصفیہ و تزکیہ اور نورِ باطن کے اعلیٰ ترین مقامات پر فائز ہوں وہی ان کے افہام و تفہیم کی صلاحیت رکھتے ہیں، عام لوگ ان دقیق علوم کو سمجھنے سے قاصر ہیں، ان لوگوں کو اگر ظاہر شریعت سے کچھ مس ہوگا تو ان اکابر کی شان میں گستاخی کریں گے (جس کا مشاہدہ اس زمانے میں خوب خوب ہو رہا ہے)، اور جن لوگوں کو ان اکابر سے عقیدت ہوگی وہ ظاہر شریعت اور نصوصِ قطعیہ کو پس پشت ڈال کر الحاد و زندقہ کی وادیوں میں بھٹکا کریں گے: “فان الجاھل إما مفرط وإما مفرِّط”، اس لئے اکابر کی وصیت یہ ہے کہ:

نکتہ ہا چوں تیغ پولاد است تیز

چوں نداری تو سپر واپس گریز

پیش ایں الماس بے اسپر میا

کز بریدن تیغ را نبود حیا

چہ شبہا نشستم دریں سیر گم

کہ دہشت گرفت آستینم کہ قم

محیط است علم ملک بر بسیط

قیاس تو بروے نہ گردد محیط

نہ ادراک در کنہ ذاتش رسد

نہ فکرت بغور صفاتش رسد

دوسرے، آپ نے حضرت مجدد کا حوالہ نقل کرنے میں خاصے اختصار سے کام لیا ہے، جس سے فہمِ مراد میں التباس پیدا ہوتا ہے، حضرت مجدد فرماتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تخلیق حق تعالیٰ کے علمِ اضافی سے ہوئی ہے:

“ومشہود می گردد کہ علم جملی کہ از صفات اضافیہ گشتہ است نوریست کہ در نشاة عنصری بعد از انصباب از اصلاب بار حام متکثرہ بمقتضائے حکم و مصالح بصورت انسانی کہ احسن تقویم است ظہور نمودہ و مسمّیٰ بمحمد و احمد شدہ۔”

ترجمہ:…”اور ایسا نظر آتا ہے کہ علم اجمالی جو کہ صفاتِ اضافیہ میں سے ہوگیا ہے، ایک نور ہے جو کہ نشاة عنصری میں بہت سی پشتوں اور رحموں میں منتقل ہوتا ہوا حکم و مصالح کے تقاضے سے انسانی صورت میں جلوہ گر ہوا، اور محمد و احمد کے پاک ناموں سے موسوم ہوا۔ صلی اللہ علیہ وسلم وآلہ وسلم تسلیماً کثیراً کثیراً کثیراً۔”

حضرت امام ربانی کے اقتباس سے مندرجہ ذیل امور واضح ہوئے:

ا:…آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تخلیق حق تعالیٰ کے علمِ اجمالی سے ․․․ صفتِ اضافیہ کے مرتبہ میں ․․․ ہوئی۔

۲:…یہ صفتِ اضافیہ ایک نور تھا، جس کو انسانی قالب عطا کیا گیا۔

۳:…چونکہ انسانی صورت سب سے خوبصورت سانچہ ہے، اس لئے حکمتِ خداوندی کا تقاضا ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو انسان اور بشر کی حیثیت سے پیدا کیا جائے۔ اگر بشری ڈھانچے سے بہتر کوئی اور قالب ہوتا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی انسانی شکل میں پیدا نہ کیا جاتا۔ اس سے واضح ہے کہ حضرت امام ربانی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بشریت کے منکر نہیں، اور نہ وہ نور، بشریت کے منافی ہے جس کا وہ اثبات فرما رہے ہیں۔

آپ نے رسالہ “التوسل” اور “تفسیر کبیر” کے حوالے سے لکھا ہے کہ آیتِ کریمہ : “قد جائکم من الله نور وکتاب مبین۔” میں “نور” سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ گرامی مراد ہے۔

اس آیت میں “نور” کی تفسیر میں تین قول ہیں۔ ایک یہ کہ اس سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مراد ہیں۔ دوم یہ کہ اسلام مراد ہے۔ اور سوم یہ کہ قرآن کریم مراد ہے۔ اس قول کو امام رازی نے اس بنا پر کمزور کہا ہے کہ معطوفین میں تغایر ضروری ہے، لیکن یہ دلیل بہت کمزور ہے۔ بعض اوقات ایک چیز کی متعدد صفات کو بطورِ عطف ذکر کردیا جاتا ہے، چنانچہ حضرت حکیم الامت تھانوی نے “بیان القرآن” میں اسی کو اختیار کیا ہے۔

بہرحال “نور” سے مراد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہوں، یا اسلام ہو، یا قرآن کریم، بہرصورت یہاں “نور” سے “نورِ ہدایت” مراد ہے جس کا واضح قرینہ آیت کا سباق ہے۔

“یہدی بہ الله من اتبع رضوانہ سبل السلام ویخرجھم من الظلمات الی النور باذنہ ویھدیھم الی صراط مستقیم۔” (المائدہ:۱۶)

ترجمہ:…”اس کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ ایسے شخصوں کو، جو رضائے حق کے طالب ہوں، سلامتی کی راہیں بتلاتے ہیں (یعنی جنت میں جانے کے طریقے کہ عقائد و اعمال خاصہ ہیں، تعلیم فرماتے ہیں۔ کیونکہ پوری سلامتی بدنی و روحانی جنت ہی میں نصیب ہوگی) اور ان کو اپنی توفیق (اور فضل) سے (کفر و معصیت کی) تاریکیوں سے نکال کر (ایمان و طاعت کے) نور کی طرف لے آتے ہیں، اور ان کو (ہمیشہ) راہِ راست پر قائم رکھتے ہیں۔” (بیان القرآن)

امام رازی فرماتے ہیں:

“وتسمیة محمد والاسلام والقرآن بالنور ظاھرة لان النور الظاھر ھو الذی یتقوی بہ البصر علیٰ ادراک الاشیاء الظاھرة۔ والنور الباطن ایضاً ھو الذی تتقوی بہ البصیرة علیٰ ادراک الحقائق والمعقولات۔”

(تفسیر کبیر ج:۱۱ ص:۱۸۹)

ترجمہ:…”آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور اسلام اور قرآن کو نور فرمانے کی وجہ ظاہر ہے، کیونکہ ظاہری روشنی کے ذریعہ آنکھیں ظاہری اشیاء کو دیکھ پاتی ہیں، اسی طرح نورِ باطن کے ذریعہ بصیرت حقائق و معقولات کا ادراک کرتی ہے۔”

علامہ نسفی “تفسیر مدارک” میں لکھتے ہیں:

“او النور محمد صلی الله علیہ وسلم لانہ یہتدی بہ کما سمی سراجاً۔” (ج:۱ ص:۳۱۶)

ترجمہ:…”یا نور سے مراد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ ہدایت ملتی ہے، جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو چراغ کہا گیا ہے۔”

قریب قریب یہی مضمون تفسیر خازن، تفسیر بیضاوی، تفسیر صاوی، روح البیان اور دیگر تفاسیر میں ہے۔

اسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے میں نے لکھا تھا:

“جس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی نوع کے اعتبار سے بشر ہیں، اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم صفت ہدایت کے لحاظ سے ساری انسانیت کے لئے مینارہٴ نور ہیں۔ یہی نور ہے جس کی روشنی میں انسانیت کو خدا تعالیٰ کا راستہ مل سکتا ہے، اور جس کی روشنی ابد تک درخشندہ و تابندہ رہے گی، لہٰذا میرے عقیدے میں آپ بیک وقت نور بھی ہیں اور بشر بھی۔”

میری ان تمام معروضات کا خلاصہ یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بشریت دلائل قطعیہ سے ثابت ہے، اس لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے نور کی صفت ثابت کرتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو انسانیت اور بشریت کے دائرے سے خارج کردینا ہرگز صحیح نہیں۔ جس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت و نبوت کا اعتقاد لازم ہے، اسی طرح آپ کی انسانیت و بشریت کا عقیدہ بھی لازم ہے، چنانچہ میں فتاویٰ عالمگیری کے حوالے سے یہ نقل کرچکا ہوں:

“ومن قال لا ادری ان النبی صلی الله علیہ وسلم کان انسیًّا او جنّیًّا یکفر، کذا فی الفصول العمادیة (ج:۲ ص:۳۶)، وکذا فی البحر الرائق (ج:۵ ص:۱۳۰)۔” (فتاویٰ عالمگیری ج:۲ ص:۲۶۳)

ترجمہ:…”اور جو شخص یہ کہے کہ میں نہیں جانتا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم انسان تھے یا جن، وہ کافر ہے۔”

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نور ہیں یا بشر؟

س… کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان اس بارہ میں کہ زید کہتا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو عام انسانوں کی طرح لفظ بشریت سے پکارا جائے۔ عمرو کہتا ہے کہ یہ غلط ہے، بلکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کے حضور میں درجہ بشریت میں بھی اور نورانیت میں بھی ہیں۔ آیا ان دونوں میں کون حق پر ہے؟

ج… آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنی نوع کے لحاظ سے بشر ہیں، اور قرآن کریم کے الفاظ میں “بشر مثلکم” ہیں۔ ہادیٴ راہ ہونے کی حیثیت سے نور اور سراپا نور ہیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم انسان ہیں اور بشر انسان ہی کو کہتے ہیں، آپ کو انسان ماننا فرض ہے اور آپ کی انسانیت کا انکار کفر ہے، اس سے معلوم ہوا کہ اگر زید آپ کے نور ہونے کا بھی قائل ہے تو اس کا موقف بھی صحیح ہے اور اگر بشریت اور نورانیت میں تضاد سمجھتا ہے تو اس کا موقف غلط ہے، آپ بشر کامل ہیں اور صفتِ ہدایت کے اعتبار سے نورِ کامل ہیں۔

مسئلہ حیات النبی صلی اللہ علیہ وسلم

س… مسئلہ حیات النبی کے سلسلہ میں مولانا اللہ یار خاں کی کتاب “حیاتِ انبیاء” پڑھی اور اس کے بعد یہ مسئلہ صراحتاً شیخ القرآن نے اپنی تفسیر “جواہر القرآن” میں بیان فرمایا ہے، لیکن مولانا اللہ یار خان نے حیات کی کیفیت روح کا جسم اطہر یعنی بدن عنصری کے ساتھ منوانے کے لئے دلائل دئیے ہیں، حالانکہ شیخ القرآن نے جسم مثالی کو تسلیم کروایا ہے۔ براہِ کرم اس کی وضاحت فرمادیں اور بتائیں کہ یہ مسئلہ ایمانیات سے ہے؟

ج… میرا اور میرے اکابر کا عقیدہ یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنے روضہٴ مطہرہ میں حیاتِ جسمانی کے ساتھ حیات ہیں، یہ حیات برزخی ہے، مگر حیاتِ دنیوی سے بھی قوی تر ہے۔ جو حضرات اس مسئلہ کے منکر ہیں، میں ان کو اہل حق میں سے نہیں سمجھتا، نہ وہ علمائے دیوبند کے مسلک پر ہیں۔