آ سہیلی بوجھ پہیلی

آ سہیلی بوجھ پہیلی

(کہہ مُکرنیاں)

عادل اسیر دہلوی

(1)

پڑھنے لکھنے میں کام آئے
ابّو جی بازار سے لائے
جس کے لئے بے چین تھی آپی
اے سکھی کاغذ
نا سکھی کاپی

(2)

گوداموں میں مال چھپائے
پہرا دے اور کچھ نہ بتائے
پتھر دل سے پڑ گیا پالا
اے سکھی بنیا
نا سکھی تالا

(3)

جانے کیا کچھ سوچ رہا ہے
بیٹھا ہے تو بیٹھا ہوا ہے
جیسے کوئی آوارہ بادل
اے سکھی گونگا
نا سکھی پاگل

(4)

جھوٹے کے بھی ہاتھ میں آئے
سچّا بھی وہ کام میں لائے
ساتھ رکھیں اُسے چور اور ڈاکو
اے سکھی پیسہ
نا سکھی چاقو

(5)

اپنوں کا وہ ساتھ چھڑائے
تن میں من میں آگ لگائے
دُوری بنا دے ہر اک قُربت
اے سکھی دشمن
نا سکھی غُربت

(6)

صبح سویرے اُٹھ کر بیٹھوں
جلدی جلدی کپڑے پہنوں
بن کر دیکھوں چھیل چھبیلا
کیوں بھئی سرکس
نا بھئی میلہ

(7)

دیکھوں تو مرا جی للچائے
نئے رنگ اور سواد میں آئے
ناریل ، چاکلیٹ ، آم اور کافی
اے سکھی بسکٹ
نا سکھی ٹافی

(8)

کوٹ پینٹ کی شان بڑھائے
سردی بھی کچھ دُور بھگائے
گلے میں جس کو باندھے بھائی
اے سکھی مفلر
نا سکھی ٹائی

(9)

سارے گھر میں شور مچائے
کوئی اس کو روک نہ پائے
بجا رہا ہے ننّھا راجہ
اے سکھی سیٹی
نا سکھی باجہ

(10)

کُٹنی نے جب چُغلی کھائی
چاچا جی نے مار لگائی
تھّپڑ کی ہر تھاپ پہ ناچی
اے سکھی کٹنی
نا سکھی چاچی

(11)

ٹپ ٹپ کر کے جل تھل کر دے
سارے گھر کو پاگل کر دے
ہر کمرے کو کر دے آنگن
اے سکھی نالا
نا سکھی ساون

(12)

آنکھوں کی وہ شوبھا بڑھائے
جو بھی دیکھے دیکھتا جائے
پھیلے ہے وہ آنکھیں مَل مَل
اے سکھی سرمہ
نا سکھی کاجل

(13)

جب بھی کھانا سامنے آئے
آس پاس وہ منڈلائے
بچوں کو وہ لگے ہے ہوّا
اے سکھی کُتّا
نا سکھی کوّا

(14)

کھیت میں اپجے جڑ کہلائے
بچّہ بوڑھا شوق سے کھائے
گھر میں وہ آتی ہے اکثر
اے سکھی مولی
نا سکھی گاجر

(15)

خوب ہرے پتّوں کی سبزی
خون بڑھانے والی سبزی
شوق سے کھائے ہر اک بالک
اے سکھی شلجم
نا سکھی پالک

(16)

چاول سبزی گوشت پکائے
بک جائیں تو سیٹی بجائے
گرم ہے اب بھی دیکھ لو چھو کر
اے سکھی چولھا
نا سکھی کُوکر

(17)

روٹی کا وہ ساتھ نبھائے
ہر لُقمے کا سواد بڑھائے
جس کے بنا بے کار ہے برتن
اے سکھی چٹنی
نا سکھی سالن

(18)

روٹی کو وہ گول بنائے
چاروں جانب اس کو گھمائے
لکڑی کا ہے اُس کا تن من
اے سکھی چکلا
نا سکھی بیلن

(19)

پاس نہ اُس کو کوئی بٹھائے
دہ بیٹھے تو خود اُٹھ جائے
اچھّوں کی صحبت سے چھوٹا
اے سکھی اَن پڑھ
نا سکھی جھوٹا

(20)

پیڑوں پر بھی وہ چڑھ جائے
شہد کا چھتّہ توڑ کے کھائے
بھاتے نہیں ہیں اُس کو آلو
اے سکھی بند
نا سکھی بھالو

(21)

جب جنگل میں بھاگے ہے وہ
دوڑ میں سب سے آگے ہے وہ
شیر بھی اُس سے دوڑ نہ جیتا
اے سکھی ہرنی
نا سکھی چیتا

(22)

ریل سے اترے باہر آئے
گھر تک کیسے پہنچا جائے
ہم نے اسٹیشن پر مانگا
اے سکھی رکشا
نا سکھی تانگا

(23)

نّنھے کو بھی دل سے بھائے
کُر کُر کر کے خوب چبائے
چائے سے جس کو کھائیں آپا
اے سکھی بسکٹ
نا سکھی پاپا

(24)
گرمی کی وہ پیاس بجھائے
سردی میں بھی چھُوٹ نہ پائے
بُوجھ سکے تو بُوجھ سیانی
اے سکھی شربت
نا سکھی پانی

(25)

ایک انوکھی چیز ہے ایسی
دُنیا میں نہیں کوئی ویسی
جس سے گھر آنگن میں جھانکیں
اے سکھی کھڑکی
نا سکھی آنکھیں

(26)

بھاری بھر کم بوجھ اُٹھائے
پیٹھ پہ اپنی سیر کرائے
ہم سب کا وہ پیارا ساتھی
اے سکھی گھوڑا
نا سکھی ہاتھی

(27)

نرم ملائم جی للچائے
منہ میں میرے پانی آئے
دیکھ کے اس کا پیارا جلوہ
اے سکھی لڈّو
نا سکھی حلوہ

(28)

میں جو کروں وہ کر کے دکھائے
نقل اُتارے شور مچائے
اُچھلے کودے باہر اندر
اے سکھی بچہّ
نا سکھی بندر

(29)

گھر کی حفاظت خوب کرے ہے
کام میں سالوں سال چلے ہے
جس کو سنبھال کے رکھّے بھابی
اے سکھی بٹوا
نا سکھی چابی

(30)

پھول اور پودوں کو نہلائے
پیڑ کے پتوں کو چمکائے
بدلے سارے باغ کا عالم
اے سکھی مالی
نا سکھی شبنم

(31)

تیزی بڑوں کو اپنی دکھائے
بچوں پر بھی رعب جمائے
کانپے جس سے تھر تھر لائف
اے سکھی ٹیچر
نا سکھی نائف

(32)

دشمن سے بھی لڑ جائے ہے
جھگڑا ہو تو اَڑ جائے ہے
جس سے ڈر کر بھاگے گھوڑا
اے سکھی لاٹھی
نا سکھی کوڑا

(33)

جب بھی کھائیں بھوک مٹائے
سارے بدن میں طاقت لائے
جس کے آگے بھائے نا بوٹی
اے سکھی حلوہ
نا سکھی روٹی

(34)

دانت ہمارے چمک رہے ہیں
اچھی طرح سے صاف کیے ہیں
اس کو سمجھ مت پیاری صابُن
اے سکھی منجن
نا سکھی داتُن

(35)

کھیت میں جا کر چارا کھایا
دودھ دہی کا کام بنایا
صبح کو اٹھ کر جنگل جائے
اے سکھی بکری
نا سکھی گائے

(36)

بھیک مانگ کر روٹی کھائے
کام کاج سے جان چرائے
عادت سے ہے اپنی حقیر
اے سکھی مفلس
نہیں فقیر

(37)

ابّو اُس کو کام میں لائیں
دھار اُس کی ہاتھ بچائیں
ڈاڑھی بنائیں جس سے اکثر
اے سکھی قینچی
نا سکھی ریزر

(38)

خوش خط مجھ کو لکھنا سکھایا
ساتھ قلم کا خوب نبھایا
لے کر آئے وہ خوش بختی
اے سکھی کاغذ
نا سکھی تختی

(39)

چاچا چاچی کو وہ بھائے
خالہ نمک لگا کر کھائے
خوش ہوتے ہیں کھا کر خالو
اے سکھی مُولی
نا سکھی آلُو

(40)

بارش میں وہ ناچ دکھائے
دوڑے جھومے پر پھیلائے
چڑیا گھر میں جس کا شور
اے سکھی کویل
نا سکھی مور

(41)

نرم ، ملائم ، میٹھا آیا
گھر کے سب افراد نے کھایا
ابُّو لائے بھر کر تھیلا
اے سکھی چیکو
نا سکھی کیلا

(42)

مکتب لے کر مجھ کو جائے
چُھٹی میں گھر واپس لائے
سرپٹ دوڑے جیسے گھوڑا
اے سکھی موٹر
نا سکھی رکشا

(43)

پانی بھرنے کے کام آئے
پنہاری جو سر پہ اُٹھائے
پنگھٹ سے بھر کر لاؤں جا کر
اے سکھی لوٹا
نا سکھی گاگر

(44)

صبح سویرے وہ اُٹھ جائے
شور مچا کر سب کو جگائے
دادا سے کیا بولا پوتا
اے سکھی مُرغی
نا سکھی طوطا

(45)

ٹھنڈی ٹھنڈی پُروا لائے
گرمی کو وہ دُور بھگائے
گھوم رہا ہے جیسے پاگل
اے سکھی پنکھا
نا سکھی بادل

(46)

کھیتوں میں ہریالی لائے
باغوں میں خوشبو بکھرائے
بھیگ گیا ہے جس سے انگرکھا
اے سکھی شبنم
نا سکھی برکھا

(47)

کپڑے دھوئے مُنہ بھی دُھلائے
برتن گندے صاف کرائے
میل نکالے سارا چُن چُن
اے سکھی دھوبی
نا سکھی صابُن

(48)

پہن کے پانی میں گھُس جائے
باتھ رُوم میں خوب نہائے
مُنّے پر لگتا ہے اچھّا
اے سکھی کُرتا
نا سکھی کچھّا

(49)

جب بھی خُود میں آگ لگائے
پیٹ کی سب کے آگ بجھائے
ہر گھر میں اُسے میں نے دیکھا
اے سکھی ماچس
نا سکھی چولھا

(50)

پیارے پیارے کھیل دکھائے
کھیل دکھا کر دل بہلائے
خوش ہوتی ہیں دیکھ کے باجی
اے سکھی سرکس
نا سکھی ٹی وی

(51)

ایک بڑی مشکل سے بچایا
احسان اُس نے کیا خُدایا
کھانے سے مجھے جس نے روکا
اے سکھی چُغلی
نا سکھی دھوکا

(52)

موسیقی کا ماہر بھی تھا
صوفی بھی تھا شاعر بھی تھا
کوئی اُس کا نام تو بوجھو
اے سکھی غالب
نا سکھی خسرو

(53)

مٹّی کے بِل میں رہتا ہے
سردی گرمی کو سہتا ہے
جس سے سب جاتے ہیں کانپ
اے سکھی بچھُّو
نا سکھی سانپ

(54)

بستر پر جب ہوتے ہیں ہم
ہم کس کے لیے پھر روتے ہیں ہم
ہم کو سُنائے روز کہانی
اے سکھی خالہ
نا سکھی نانی

(55)

ہر ضد میری پوری کر دیں
ٹافی بسکٹ جیب میں بھر دیں
گودی سے نا اُن کی اُتروں
اے سکھی چاچا
نا سکھی ماموں

(56)

رنگوں کی بوچھار میں آئے
پیار محبت ساتھ وہ لائے
مل کر کھیلیں آ ہمجولی
اے سکھی ناٹک
نا سکھی ہولی

(57)

پھُول کلااٹئے رنگ برنگے
ڈھیر لگا دے کلیاں غنچے
ہر اک شے پر لائے نکھار
اے سکھی مالن
نہیں بہار

(58)

بارش کا جب موسم آئے
ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا کھلائے
جس میں بیٹھ کے ننّھا جھولا
اے سکھی رکشا
نا سکھی جوُنلا

(59)

رات گئے میں سامنے آؤں
جگمگ جگمگ روپ دکھاؤں
پہچانو تو کون ہوں بابُو
کیوں بھئی تارا
نا بھئی جگنو

(60)

نفرت کو وہ دل سے مٹائے
میل جول کی بات سکھائے
غصّے کو دیتا ہے اُتار
اے سکھی پیسہ
نا سکھی پیار

(61)

وقت پہ کھانا پینا چھوڑا
مکتب سے بھی مُنہ کو موڑا
جس کی وجہ سے ہو گئے فیل
اے سکھی سستی
نا سکھی کھیل

(62)

گرمی کی وہ پیاس بجھائے
سردی کا احساس مٹائے
تن میں من میں چستی لائے
اے سکھی کافی
نا سکھی چائے

(63)

کڑوے مُنہ کا وہ آتا ہے
سرکاٹو تو کف لاتا ہے
کھائیں لگا کے نمک اور زیرا
اے سکھی لیمو
نا سکھی کھیرا

(64)

علم کی دولت لے کر آئیں
ممکن ہے انعام بھی پائیں
صبح سویرے جاتے ہیں سب
اے سکھی دفتر
نا سکھی مکتب

(65)

ہر کھانے کی شان ہے اُس سے
چٹخارے کی جان ہے اُس سے
میٹھے کی وہ کھولے چمک
اے سکھی چینی
نہیں نمک

(66)

دشمن سے بھی اچھّا نہیں ہے
دانائی سے رشتہ نہیں ہے
کمزوروں کو جس نے رگڑا
اے سکھی غصّہ
نا سکھی جھگڑا

(67)

پڑھتے پڑھتے سر چکرائے
پھر بھی مجھ کو سمجھ نہ آئے
ایک ایک سبق ہے اُس کا عذاب
اے سکھی ہندی
نہیں حساب

(68)

دنیا میں تبدیلی لائے
جینے کا ہر ڈھنگ سکھائے
فائدے اُس کے بے حساب
اے سکھی پیسہ
نہیں کتاب

(69)

کاپی کتابوں کا رکھوالا
منگوایا ہے رنگ برنگا
دیکھ رہی ہوں اُس کا رستہ
اے سکھی فائل
نا سکھی بستہ

(70)

میٹھی چیزیں کھائیں گے ہم
نئے نئے کپڑے لائیں گے ہم
جب بھی ہوگی اُس کی دید
اے سکھی میلہ
نا سکھی عید

(71)

تہذیبوں کی شان ہے اُس میں
سارا ہندوستان ہے اُس میں
دنیا بھر میں جس کی خوشبو
اے سکھی انگلش
نا سکھی اردو

(72)

مرزا غالب کو للچائے
علاّمہ کے من کو بھائے
بُوجھ سہیلی اُس کا نام
اے سکھی حُقّہ
نا سکھی آم

(73)

سامنے میرے لہرائے ہے
جھلمل جھلمل بَل کھائے ہے
اے سکھی پردہ
نا سکھی چلمن

(74)

سونے جیسا رنگ بکھیرے
ملے وہ گھر میں تیرے میرے
لپ لپ کرتی جیسے ناگ
اے سکھی گرمی
نا سکھی آگ

(75)

نیکی کی وہ راہ لگائے
جوُیٹ فریب سے ہم کو بچائے
ہر مسلم کو اُس پر ناز
اے سکھی مُلاّ
نہیں نماز

***
تدوین اور ای بک: اعجاز عبید