نماز کے اوقات

نماز کا بیان – سبق نمبر 1:

عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، أَنَّهُ قَالَ:

سُئِلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ وَقْتِ الصَّلَوَاتِ، فَقَالَ « وَقْتُ صَلَاةِ الْفَجْرِ مَا لَمْ يَطْلُعْ قَرْنُ الشَّمْسِ الْأَوَّلُ، وَوَقْتُ صَلَاةِ الظُّهْرِ إِذَا زَالَتِ الشَّمْسِ عَنْ بَطْنِ السَّمَاءِ، مَا لَمْ تَحْضُرِ الْعَصْرُ، وَوَقْتُ صَلَاةِ الْعَصْرِ مَا لَمْ تَصْفَرَّ الشَّمْسُ، وَيَسْقُطْ قَرْنُهَا الْأَوَّلُ، وَوَقْتُ صَلَاةِ الْمَغْرِبِ إِذَا غَابَتِ الشَّمْسُ، مَا لَمْ يَسْقُطِ الشَّفَقُ، وَوَقْتُ صَلَاةِ الْعِشَاءِ إِلَى نِصْفِ اللَّيْلِ » (رواه البخارى ومسلم واللفظ لمسلم)

حضرت عبداللہ ابن عمرو ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے نماز کے اوقات کے بارے میں دریافت کیا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ کہ فجر کی نماز کا وقت تو اس وقت تک رہتا ہے جب تک کہ سورج کا ابتدائی کنارہ نمودار نہ ہو، (یعنی صبح کو سورج جب طلوع ہونے لگے اور افق پر اس کا کنارہ ذرا بھی نمودار ہو جائے تو فجر کا وقت ختم ہو جاتا ہے) اور ظہر کا وقت اس وقت تک ہوتا ہے جب آفتاب بیچ آسمان سے مغرب کی جانب ڈھل جائے اور جب تک کہ عصر کا وقت نہیں آ جاتا اور عصر کی نماز کا وقت اس وقت تک رہتا ہے جب تک کہ سورج زرد نہ پڑ جائے اور اس سورج کا پہلا کنارہ ڈوبنے لگے اور مغرب کی نماز کا وقت اس وقت ہوتا ہے جب آفتاب ڈوب کر بالکل غائب ہو جائے اور اس وقت تک رہتا ہے جب تک شفق غائب نہ ہو، اور عشاء کی نماز کا وقت آدھی رات تک ہے۔

’اوقات نماز‘ سے مراد وہ اوقات ہیں جنہیں شریعت نے نماز کی ادائیگی کے لئے مقرر کیا ہے۔ ان کی تین اقسام ہیں :

1۔ فرض و واجب (نمازوں) کے اوقات:

جیسے فرض نمازوں کے اوقات، یہ پانچ اوقات ہیں :

پہلا:

صبح کا وقت ہے جس کا آغاز صبح صادق سے ساتھ ہوتا ہے، اور طلوعِ آفتاب تک باقی رہتا ہے۔

دوسرا:

ظہر کا وقت جو زوال آفتاب سے شروع ہوتاہے اور اس وقت تک باقی رہتاہے جب تک کہ ہر شے کا سایہ اس کے مثل (برابر) نہ ہوجائے۔

تیسرا:

عصر کا وقت ہے جس کا آغاز اس وقت ہوتا ہے جب ہر شے کا سایہ اس کے مثل (برابر) ہوجائے اور یہ غروب آفتاب تک رہتاہے۔

چوتھا:

مغرب کا وقت ہے جو غروب شمس سے شروع ہوتا ہے اور شفق کی لالی ختم ہونے تک رہتاہے۔

پانچواں :

عشاء کا وقت ہے جو شفق کی سرخی کے اختتام کے ساتھ شروع ہوتا ہے اور صبح صادق کے طلوع تک باقی رہتاہے۔

2. مستحب (نمازوں) کے اوقات:

جیسے مسنون نمازوں کے اوقات، جو کہ بہت زیادہ ہیں ۔ کچھ تو شرعی طور پر مقرر ہیں جیسے وتر، جس کا وقت نماز عشاء کے بعد سے لے کر طلوع فجر تک ہوتا ہے اور کچھ ایسے ہیں جن کے اوقات کی شرعی طور پر تحدید نہیں کی گئی جیسے دیگر عام نوافل۔

نماز کے اوقات نماز سے جو اعلیٰ مقاصد اور منافع وابستہ ہیں ، اور اللہ کے خوش نصیب بندں کے لیے اس میں جو لذتیں ہیں ان کا تقاضا تو یہ تھا کہ زندگی کے اگر سارے لمحات نہیں تو کم از کم دن رات کے اکثر اوقات نماز میں صرف کرنے ضروری قرار دئیے جاتے، لیکن چونکہ حکمت الٰہی نے انسانوں پر اور بھی بہت سی ذمہ داریاں ڈالی ہیں ، اس لئے دن رات میں صرف پانچ وقت کی نمازیں فرض کی گئی ہیں ۔ اور ان کے اوقات ایسی حکمت سے مقرر کئے گئے ہیں کہ نماز سے جو مقاصد وابستہ ہیں وہ بھی پورے ہوں اور دوسری ذمہ داریوں کی ادائیگی میں بھی خلل نہ پڑے۔ صبح نیند سے اٹھنے کے وقت (یعنی صبح صادق کے بعد طلوع آفتاب سے پہلے) فجر کی نماز فرض کی گئی ہے تا کہ صبح کو سب سے پہلا کام بارگاہِ قدوسیت میں حاضری و اظہار نیاز اور بندگی کے میثاق کی تجدید ہو، پھر دوپہر یعنی زوال آفتاب تک کوئی نماز فرض نہیں کی گئی تا کہ ہر شخص اپنے حالات کے مطابق اپنے کام کاج اور دوسری ذمہ داریوں کو اس طویل وقفہ میں انجام دے سکے۔ پورے آدھے دن کے اس وقفہ کے کے بعد ظہر کی نماز فرض کی گئی اور اس میں بھی یہ سہولت دی گئی کہ خواہ اول وقت ادا کی جائے یا اپنے حالات کے مطابق گھنٹہ ڈیڑھ گھنٹہ تاخیر کر کے پڑھی جائے۔ بہرحال یہ لازم قرار دیا گیا ہے کہ اس طویل وقفہ کے بعد نماز ظہر ادا کی جائے تا کہ غفلت یا بارگاہ خداوندی سے غیر حاضری کی مدت اس سے زیادہ طویل نہ ہو، پھر شام کے آثار شروع ہونے کے وقت عصر کی نماز فرض کی گئی تا کہ اس خاص وقت میں بھی جو اکثر لوگوں کے لیے اپنے اپنے کاموں سے فرصت پانے اور تفریحی مشاغل مشغول ہونے کا وقت ہوتا ہے، ایمان والے بندے اپنے ظاہر و باطن سے رب قدوس کی بارگاہ میں حاضر اور اس کی عبادت میں مشغول ہوں ۔ پھر دن کے ختم ہونے پر غروب آفتاب کے بعد مغرب کی نماز فرض کی گئ، تا کہ دن کے خاتمہ اور رات کے آغاز کے وقت ہم پھر بارگاہ قدوسیت میں حاضر ہو کر اس کی حمد و تسبیح اور بندگی کے عہد کی تجدید کریں ۔ اس کے بعد سونے کے وقت سے پہلے عشاء کی نماز لازم کی گئی، تا کہ روزانہ کی زندگی کا ہمارا آخری عمل یہی ہو، اور ہم اپنے مالک سے رابطہ نیاز قائم کر کے اور ایمان و عبدیت کے عہد کی تجدید کر کے سوئیں اور ہماری سہولت کے لیے پانچوں نمازوں کے ان وقتوں میں کافی وسعت بھی دی گئی ہے اپنے وقتی حالات کے مطابق ہم اول وقت بھی پڑھ سکتے ہیں اور درمیانی وقت میں بھی اور آخرت وقت میں بھی۔

اس پوری تفصیل پر غور کر کے ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ ظہر سے لے کر عشاء تک کی نمازوں کے درمیانی وقفے تو اتنے مختصر مختصر ہیں کہ ایک سچے مومن کے لیے جو نماز کی قدر و قیمت سے واقف ہو اور اس کی لذت سے آشنا ہو، ظہر پڑھنے کے بعد عصر کا، عصر کے بعد مغرب کا اور مغرب کے بعد عشاء کا منتظر اور اس کے لیے فکر مند رہنا قدرتی طور پر بالکل ناگزیر ہے اور اس طرح گویا اس پورے وقفہ میں اس کا دل اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ اور نماز سے متعلق ہی رہے گا۔ البتہ فجر سے ظہر تک کا وقفہ خاصا طویل ہے اور جیسا کہ اوپر عرض کیا گیا، اس کو اس لئے اتنا طویل رکھا گیا ہے کہ بندے اپنی دوسری ضروریات اور دوسرے کاموں کو اس وقفہ میں اطمینان سے انجام دے سکیں تاہم اس کی ترغیب دی گئی ے ک جن خوش نصیب بندوں سے ہو سکے وہ اس وقفہ کے درمیان چاشت کی چند رکعتیں پڑھ لیا کریں ۔ اسی طرح رات کے سونے کو انسان کی ایک فطری اور حقیقی ضرورت قرار دے کر عشاء سے فجر تک کوئی نماز فرض نہیں کی گئی ہے، اور یہ وقفہ سب سے زیادہ طویل رکھا گیا ہے لیکن یہاں بھی اس کی ترغیب دی گئی ہے کہ اللہ کے بندے آدھی رات گزرنے کے بعد کسی وقت اٹھ کر تہجد کی چند رکعتیں پڑھ لیا کریں ، رسول اللہ ﷺ نے اس کی بڑی بڑی فضیلتیں بیان فرمائی ہیں اور خود آپ ﷺ کا یہ ایسا دائمی معمول تھا کہ سجر میں بھی قضا نہیں ہوتا تھا۔ چاشت اور تہجد کے متعلق رسول اللہ ﷺ کے ترغیبی ارشادات ان شاء اللہ اپنے موقع پر آئیں گے، یہاں تو یہ تمہیدی اشارے صرف نماز پنجگانہ کے بارے میں کیے گئے یں ۔ اس کے بعد اس سلسلہ میں رسول اللہ ﷺ کی احادیث پڑھی جائیں ۔

تشریح ….. رسول اللہ ﷺ نے اس حدیث میں سائل کے سوال کے جواب میں اکثر نمازوں کا آخری اور انتہائی وقت ہی بیان فرمایا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ سائل غالباً یہی دریافت کرنا چاہتا ہے کہ ان پانچوں نمازوں کے وقتوں میں کہاں تک وسعت ہے اور ہر نماز کس وقت تک پڑھی جا سکتی ہے اور اس کا آخری وقت کیا ہے؟ ابتدائی وقت غالباً اس کو معلوم ہو گا۔ واللہ اعلم۔ مغرب کی نماز کے بارہ میں اس حدیث میں فرمایا گیا ہے کہ ” اس کا وقت اس وقت تک رہتا ہے جب تک شفق غائب نہ ہو “۔ اس شفق کی تعین اور تحقیق میں ہمارے ائمہ کی رائیں کچھ مختلف ہیں ، اتنی بات تو لوگ عام طور سے جانتے ہیں کہ غروب آفتاب کے بعد مغرب کی جانت کچھ دیر تک سرخی رہتی ہے

(1)، اس کے بعد وہ سرخی ختم ہو جاتی ہے اور اس کی جگہ کچھ دیر تک سفیدی رہتی ہے

(2)، پھر وہ سفیدی بھی غائب ہو جاتی ہے اور سیاہی آ جاتی ہے۔ پس اکثر ائمہ کی تحقیق تو یہ ہے کہ شفق غروب آفتاب کے بعد والی سرخی کا نام ہے اس لئے ان حضرات کے نزدیک سرخی ختم ہونے پر مغرب کا وقت ختم ہو کر عشاء کا وقت آ جاتا ہے۔ اور امام ابو حنیفہؒ کا مشہور قول یہ ہے کہ غروب آفتاب کے بعد والی سرخی اور اس کے بعد والی سفیدی دونوں کو شفق کہا جاتا ہے اس لئے ان کے قول کے مطابق مغرب کا وقت اس وقت ختم ہوتا ہے، جب مغربی افق پر سفیدی بھی باقی نہ رہے اور سیاہی آ جائے اور اسی وقت ان کے نزدیک عچاء کا وقت آتا ہے، لیکن امام ابو حنیفہؒ سے ایک روایت دوسرے ائمہ کی تحقیق کے مطابق بھی منقول ہے، اور وہی اس مسئلہ میں ان کے دونوں مشہور شاگردوں امام ابو یوسفؒ اور امام محمدؒ کی بھی تحقیق ہے۔ اسی لیے بہت سے اکابر احناف نے اسی پر فتویٰ بھی دیا ہے۔ عشاء کا آخری وقت اس حدیث میں اور اس کے علاوہ بھی بعض دوسری حدیثوں میں آدھی رات تک بتایا گیا ہے لیکن دوسری بعض احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ صبح صادق تک عشاء کا وقت باقی رہتا ہے اس لئے جن حدیثوں میں عشاء کا وقت آدھی رات تک بتایا گیا ہے، ان کا مطلب یہ سمجھا گیا ہے کہ آدھی رات تک عشاء کی نماز پڑھنا جائز ہے اور اس کے بعد پڑھنامکروہ ہے۔ واللہ اعلم۔