طلاق سے متعلق حکومت کا مجوزہ قانون


طلاق سے متعلق حکومت کا مجوزہ قانون
قوموں کی بدبختی اور زوال کے اسباب میں سے ایک سبب یہ بھی ہوتا ہے کہ وہ اپنے حقیقی مسائل سے غافل ہوجائیں اور اپنی صلاحیتیں ایسے کاموں میں صرف کرنے لگیں ، جن کا کوئی فائدہ نہیں، اس وقت ہمارا ملک اسی صورت حال سے گذر رہا ہے، ملک کی معیشت مسلسل انحطاط پذیر ہے، شرح ترقی گھٹتی جارہی ہے، کارخانے بند ہورہے ہیں، ہمارے وزیر اعظم شاید آدھی دنیا کا سفر کرچکے ہیں لیکن سرمایہ کاری میں اضافہ تو کجا، ہمارا سفرتنزل کی طرف جاری ہے، روزگار کے مواقع گھٹتے جارہے ہیں، ملک کی دولت چند ہاتھوں میں سمٹ آئی ہے ، بڑے بڑے سرمایہ دار اور صنعت کار بینکوں سے بھاری قرض حاصل کرکے عوام کی گاڑھی کمائی کو ڈبو رہے ہیں، امن و قانون کی صورت حال اتنی ابتر ہوچکی ہے کہ پوری دنیا ہم پر خندہ زن ہے، یہ اور اس طرح کی بہت سی ناکامیاں ہیں ،جو دوپہر کی دھوپ کی طرح معمولی سمجھ بوجھ رکھنے والے پر بھی واضح اور عیاں ہیں۔
بجائے اس کے کہ حکومت ان حقیقی مسائل پر توجہ کرتی، اپنے نفرت کے ایجنڈے کو بڑھاتے ہوئے اقلیتوں اور دلتوں کو پریشان کرنے اور فرقہ وارانہ بنیاد پر اپنے ووٹ بینک کو مضبوط کرنے کی بے فائدہ کوششوں میں لگی ہوئی ہے، ایسی ہی نامسعود اور ناروا کوششوں میں ایک مطلقہ خواتین سے متعلق مجوزہ قانون ہے جسے ’’مسلم خواتین سے متعلق حقوق کے تحفظ کابل ۲۰۱۷ء‘‘ کا نام دیاگیا ہے، بل میں کہا گیا ہے کہ طلاق بدعت (ایک ساتھ تین طلاق) اور اس کی مماثل طلاق کی وہ تمام شکلیں جو فوری طورپر اثر انداز ہوں اور جن میں رجعت کی گنجائش نہیں ہو، باطل اور غیر قانونی ہوں گی، خواہ زبانی طلاق دی جائے یا تحریر کے ذریعہ یا کسی اور ذریعہ سے، اور اگر کوئی شخص ایسا کرتا ہے تو اس کو تین سال کی جیل ہوگی اور اس کے علاوہ جرمانہ ہوگا، نیز اس مطلقہ عورت اور اس کے زیر کفالت بچوں کا نفقہ طلاق دینے والے شخص پر ہوگا اور مجسٹریٹ اس کو طے کرے گا، نابالغ بچوں کی نگہداشت و پرورش کا حق بھی عورت کو حاصل ہوگا، نیز مجرم کے خلاف ناقابل ضمانت وارنٹ جاری ہوگا اور یہ قابل دست اندازی پولس گا۔
غور کیا جائے تو یہ مجوزہ قانون شریعت ِاسلامی میں مداخلت بھی ہے اوردستور کی روح کے مغائر بھی ،نامنصفانہ بھی ہے اور خود عورتوں کے مفاد کے خلاف بھی، نیزتضادات کا حامل بھی ۔
اس میں ایک پہلو تو شریعت اسلامی میں مداخلت کا ہے اور یہ مداخلت ایک آدھ مسئلہ تک محدود نہیں ہے ؛ بلکہ یہ کئی جہتوں سے شریعت کے عائلی قوانین کو متاثر کرتا ہے ، جس کو درج ذیل نکات میں سمجھا جاسکتا ہے :
(۱) اولاً یہ قانون ’’طلاق ِبدعت ‘‘جس سے خود اس بل کی توضیحات کے مطابق ایک ساتھ دی گئی تین طلاقیں مراد ہیں، باطل، کالعدم اور غیر مؤثر قرار دیتا ہے، یعنی تین طلاق دینے کی صورت میں ایک طلاق بھی نہیں پڑے گی، یہ ایسی بات ہے جس کے غلط ہونے پر مسلمانوں کے تمام مکاتب ِفکر متفق ہیں ، ایک ساتھ دی گئی تین طلاق کا کیا اثر مرتب ہوگا؟ اس میں فقہاء کے درمیان اس بارے میںضرور اختلاف ہے کہ یہ تینوں طلاقیں واقع ہوں گی یا ایک ہی طلاق واقع ہوگی؟ جمہور اہل سنت کے نزدیک تینوں طلاقیں واقع ہوجائیں گی، اہل حدیث اور شیعہ حضرات کے نزدیک ایک طلاق واقع ہوگی لیکن اس میں کوئی اختلاف نہیں کہ ایسا نہیں ہوگا کہ ایک ساتھ دی گئی تینوں طلاقیں بالکل ہی بے اثر ہوجائیں گی، اور ایک طلاق بھی واقع نہیں ہوگی، اور یہ بات عقل عام کے بھی خلاف ہے کہ کوئی شخص اپنے حق طلاق کا استعمال کرتے ہوئے ایک طلاق دے تو وہ تو واقع ہوجائے اور تین طلاق دے تو ایک بھی واقع نہیں ہو۔
(۲) مجوزہ قانون کے مطابق طلاق بدعت کے ساتھ ساتھ اس کے مماثل طلاق کی وہ تمام صورتیں بے اثر ہوں گی، جن سے فوری طورپر رشتۂ نکاح ختم ہوجاتا ہو اور رجعت کی گنجائش باقی نہیں رہتی ہو،گویاطلاق بائن بھی واقع نہیں ہوگی، اس کے دُور رس اثرات پڑیں گے ، اگر نکاح کے بعد رُخصتی کی نوبت نہیں آئی اور کوئی ایسی صورت پیدا ہوگئی ، جس کی وجہ سے نوبت طلاق کی آگئی ، خواہ یہ صورت لڑکی والوں کی طرف پیدا ہوئی ہو یا لڑکا اور اس کے گھر والوں کی طرف سے، تو ایسی صورت میں اگر اس نے ایک طلاق دے دی تو یہ بھی طلاق بائن میں شامل ہے، قانون کی رو سے یہ طلاق بھی کالعدم ہوگی ۔
(۳) اگر شوہر تین طلاق سے بچتے ہوئے فوری طورپر رشتۂ نکاح ختم کرنا چاہے تو اس کی صورت یہی ہے کہ ایک طلاق بائن دے دی جائے تاکہ نکاح ختم ہوجائے لیکن دونوں فریق کی رضامند ی سے دوبارہ نکاح کی گنجائش باقی رہے، اکثر سنجیدہ فیصلہ کے تحت اسی طرح طلاق دی جاتی ہے، اگر باہمی تعلقات خراب ہوگئے خاندان اور سماج کے لوگوں نے محسوس کیا کہ اس رشتہ کو ختم کردیا جائے تو شوہر سے یہی طلاق دلوائی جاتی ہے اور عورت کو اس کا فائدہ پہنچتا ہے کہ وہ اپنی ذات کے بارے میں آزاد رہتی ہے، شوہر اپنی رضامندی کے بغیر اس کو اپنے نکاح میں واپس نہیں لاسکتا، اس قانون کی رو سے یہ طلاق غیر معتبر ہوجائے گی اور چاہے عورت راضی نہ ہو مرد کو حق حاصل ہوگا، وہ اس کو واپس آنے پر مجبور کرے ۔
(۴) بعض دفعہ شوہر و بیوی آپسی رضامندی سے’خلع‘ کا معاملہ طے کرتے ہیں، خلع کے ذریعہ واقع ہونے والی طلاق بھی طلاق بائن ہے، مجوزہ قانون میں طلاق بائن کی ایسی صورت کومستثنیٰ کرنے کی کوئی صراحت نہیں ہے جو عورت کی رضامندی سے دی گئی ہو ،؛اس لئے عدالتیں اس طلاق کو بھی کالعدم قرار دے سکتی ہیں اور اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ عورت نے اپنے لئے نجات و آزادی کا جو راستہ نکالا تھا، وہ بند ہوکر رہ جائے گا اور اسے ناپسندیدگی کے باوجود اس رشتہ کو باقی رکھنا پڑے گا۔
(۵) طلاق بائن ہی کی ایک صورت ’ایلاء‘ ہے، یعنی اگر شوہر چار ماہ یا اس سے زیادہ یا ہمیشہ کے لئے بیوی کے ساتھ شوہر و بیوی کے مخصوص تعلقات قائم نہ کرنے کی قسم کھالے اور اس پر عمل کرنے لگے، یہاں تک کہ چار ماہ گزر جائے تو اس کی بیوی پر آپ سے آپ ایک طلاق بائن واقع ہوجائے گی تاکہ وہ شوہر کے اس تکلیف دہ عمل سے نجات پاسکے، چوں کہ طلاق کی اس صورت میں بھی رجعت کی گنجائش نہیں ہے، اس لئے بظاہر اِس پر بھی اِس قانون کا اطلاق ہوگا، اس کو بھی کالعدم سمجھا جائے گا اور عورت شوہر کے ظالمانہ رویہ کے باوجود اس کی قید ِنکاح سے آزاد نہیں ہوسکے گی۔
(۶) اس مجوزہ قانون میں یہ بات بھی کہی گئی ہے کہ طلاق کی صورت میں ایک شادی شدہ مسلمان عورت اپنے نابالغ بچوں کی نگہداشت اور پرورش کی حقدار ہوگی، اسلام نے یقینا حق پرورش کے معاملہ میں ماں کو باپ پر ترجیح دی ہے لیکن شریعت میں اصل اہمیت بچہ کے مفاد کی ہے، اسی لئے عام حالات میں لڑکی کے بالغ ہونے تک حق پرورش ماں کو دیا گیا ہے، کیوں کہ وہ زیادہ بہتر طورپر بیٹی کے مسائل کو سمجھ سکتی ہے، اس کی عزت و آبرو کی حفاظت کرسکتی ہے اور اس کی تربیت کا فریضہ انجام دے سکتی ہے، لڑکے چھ سات سال تک ماں کے زیر پرورش رہیں گے، اس کے بعد باپ کو حق پرورش حاصل ہوگا، کیوں کہ اس عمر کے بعد باپ زیادہ بہتر طورپر بچے کی تربیت کا فریضہ انجام دے سکتا ہے، اور یہ مشاہدہ ہے کہ لڑکے عام طور پر ماں کے قابو میں نہیں رہتے، البتہ اگر بالغ ہونے کے بعد بھی لڑکی کو باپ کے حوالہ کرنا اس کے مفاد میں نہیں ہو، یا لڑکے کو سات آٹھ سال تک ماں کے پاس رکھنا یا اس کے بعد اس کے باپ کے حوالہ کردینا کسی وجہ سے بچہ کے مفاد میں نہیں ہوتو بچہ کے مفاد کو ترجیح دی جائے گی، اس اُصول کو شریعت میں اس قدر اہمیت دی گئی ہے کہ اگر شوہر و بیوی کے درمیان اس شرط پر خلع ہو کہ بیوی بچہ کے حق پرورش سے دستبردار ہوجائے گی؛ حالاںکہ بچہ ابھی بہت چھوٹا ہو اور ماں کے بغیر نہیں رہ سکتا ہو، تب بھی بچہ کے مفاد کو ترجیح دیتے ہوئے یہ معاہدہ کالعدم ہوجائے گا اور ماں کو حق پرورش حاصل رہے گا ؛ البتہ بچہ جب بھی ماں باپ میں سے ایک کے زیر پرورش ہو تو دوسرے فریق کو وقتاً فوقتاً بچوں سے ملاقات کا حق حاصل رہے گا۔
شرعاً حق پرورش بعض دفعہ ماں کے علاوہ باپ ہی کو نہیں، بلکہ دوسرے رشتہ داروں جیسے نانی، دادی، بہن، خالہ اور پھوپھی وغیرہ کو بھی حاصل ہوتا ہے اور جب عورت کسی ایسے مرد سے نکاح کرلے جو زیر پرورش لڑکے یا لڑکی کا محرم رشتہ دار نہ ہو تو ماں کا حق پرورش ختم ہوجاتا ہے، کیوں کہ ایسی صورت میں بچے کو ماں کے زیر پرورش رکھنا بچوں کے مفاد میں نہیں ہوتا لیکن اس مجوزہ قانون کے رو سے مطلقاً ماں کو پرورش کا حقدار قرار دے دیا گیا ہے، اس سے باپ اور دوسرے حقداروں کے حقوق متأثر ہوں گے اور خود بچوں کو نقصان پہنچے گا ۔
(۷) اس مجوزہ قانون میں مطلقہ اوراس کے بچوں دونوں کانفقہ مرد پر عائد کیا گیا ہے، حالاں کہ طلاق کے بعدعورت کانفقہ سابق شوہر پر واجب نہیں ہوتا، ہاں، بچے چوں کہ اسی کی اولاد ہیں، اس لئے ان کا نفقہ باپ کے ذمہ ہوگا اور جب تک حق پرورش حاصل ہونے کی بناپر عورت ان بچوں کی پرورش کرے گی تو پرورش کی اُجرت اس مرد کے ذمہ واجب ہوگی۔
(۸) مجوزہ قانون کی دفعہ :۴؍ میں فوری اثر کے ساتھ پڑنے والی ناقابل رجعت طلاق پر تین سال کی جیل کی سزا اور اس کے علاوہ جرمانہ کی بات کہی گئی ہے، ایک تواس لئے یہ سزا غیرمنصفانہ ہے کہ ایک ساتھ تین طلاق دینا شریعت میں ضرور ناپسندیدہ عمل ہے اور یہ گناہ کے دائرہ میں آتا ہے لیکن طلاق بائن ایسا عمل نہیں ہے جو بہرحال گناہ کے دائرہ میں آتا ہو، یا فقہاء کی اصطلاح میں طلاق بدعت ہو، اس لئے اس پر سزا دینا شرعاً ناقابل قبول ہے ۔
(۹) مجوزہ مسودہ قانون میں اگرچہ مقاصد و اسباب کے تحت بین القوسین طلاق بدعت کے ساتھ ایک وقت اور ایک ہی بار میں تین طلاق کا ذکر آیا ہے لیکن عدالتیں عام طورپر قانون کے متن کو پیش نظر رکھتی ہیں ،اس میں اس کی صراحت نہیں ہے اور صورت حال یہ ہے کہ طلاق بدعت صرف یکبارگی تین طلاق تک محدود نہیں بلکہ فقہاء نے حالت حیض میں طلاق دینے کو بھی بدعت قرار دیا ہے، چاہے ایک ہی طلاق دی جائے تو عدالتیں اس سلسلہ میں غلط فہمی کا شکار ہوسکتی ہیں اور وکلاء جو الفاظ کی بازی گری سے اپنے کیس کو ثابت کرنے میں مہارت رکھتے ہیں. وہ ایسے شخص کے لئے بھی اس طرح کی سزا کا مطالبہ کرسکتے ہیں ،جس نے اس دوسرے پہلوسے طلاق بدعت دی ہو۔
یہ تو اس مجوزہ قانون کا شرعی پہلو ہے ، اب اس بات کو دیکھئے کہ از روئے انصاف یہ قانون کس حد تک قابل قبول ہے اور کہیں یہ خود تضادکا حامل تو نہیں ہے، اس سلسلہ میں چند نکات کو پیش نظر رکھنا چاہئے :
(۱) اس قانون کی رو سے ایک ساتھ دی گئی تین طلاقیں بالکل نامعتبراور کالعدم ہیں ، جن کا کوئی اثر مرتب نہیں ہوگا ، یعنی ایک بھی طلاق نہیں پڑے گی تو سوال یہ ہے کہ جوعمل وجود ہی میں نہیں آیا اور قانون کی رو سے عورت اس سے متاثر ہی نہیں ہوئی ، تو پھر اس پر سزا دینے کے کیا معنی ہوں گے ، اگر کسی شخص نے فضاء میں فائرنگ کی اوراس کی فائرنگ سے کسی شخص کی جان نہیں گئی تو کیا ایسے شخص کو قتل کی سزا دی جائے گی؟
(۲) اس قانون کی روسے ایک طرف مرد کو تین سال کے لئے جیل بھیجا جائے گا اور دوسری طرف اس پر عورت اور اس کے بچوں کے نفقہ کی ذمہ داری ہوگی، یہ کھلا ہوا تضاد ہے، جب وہ جیل میں ہوگا اور محنت و مزدوری نہیں کرے گا تو وہ عورت اور بچوں کی کفالت کس طرح کرے گا؟ خاص طورپر یہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ تین طلاق دینے کے واقعات زیادہ تر کم تعلیم یافتہ، غریب اور معمولی روزگار کے حامل لوگوں کے یہاں پیش آتے ہیں، جوبے چارے روز کماتے اور روز کھاتے ہیں۔
(۳) یہ بات بھی نامنصفانہ ہے کہ دنگے فساد میں شامل ہونے والے اور مذہبی مقامات کو نقصان پہنچانے والے کو تو دو سال کی سزا ہو، کرپشن اور چار سو بیسی کرنے والے کو ایک سال کی سزا ہو لیکن تین طلاق دینے والے کو تین سال کی سزا دی جائے اور اس کے علاوہ جرمانہ بھی عاید کیا جائے ، یہ نہایت غیر متوازن، مبالغہ آمیز اور غیر منصفانہ سزا ہے۔
(۴) اس سزا کو مزید سخت کرنے کے لئے اس کو ناقابل ضمانت اور قابل دست اندازی پولس قراردیا گیا ہے، حالاںکہ یہ کوئی ایسا جرم نہیں ہے، جس میں کسی کو جسمانی مضرت پہنچائی گئی ہو یا عزت و آبرو پر ہاتھ ڈالا گیا ہو، کیااس میں کوئی معقولیت ہے؟
(۵) پھر اس قانون میں یہ بات نہیں کہی گئی ہے کہ عورت کے دعویٰ کرنے پر کارروائی کی جائے گی، مجوزہ قانون مطلق ہے، بظاہر اس کا تقاضا ہے کہ اگر اس شخص کا پڑوسی یا کوئی بدخواہ بلا کسی ثبوت کے یاعورت اور اس کے گھر کے لوگ مرد کے خلاف پولیس میں شکایت کردیں تو اس بیچارے کو ہتھکڑی لگ جائے، ایسا بے قید قانون ظلم و زیادتی کے دروازے کو کھول دے گا۔
(۶) یہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ تین طلاق کے کالعدم ہونے کا مطلب یہ ہے کہ جب شوہر تین سال کی سزا کاٹ کر آئے گا، تو پھر وہ اس عورت کے ساتھ ازدواجی زندگی بسر کرے گا ، غور کیجئے !جو مرد اپنی بیوی کی طرف سے تین سال کی طویل سزا کاٹ کر اور خطیر جرمانہ اداکرکے آیا ہے ، کیا وہ دونوں ایک دوسرے کے ساتھ خوشگوار ازدواجی زندگی بسر کرسکیں گے اور انھیں بزور طاقت ایک دوسرے کے ساتھ رہنے پر مجبور کرنا عقلمندی کی بات ہوگی ؟
(۷) اس طرح کے قوانین عورت کے لئے مشکلات پیدا کریں گے، جو لوگ اپنی بیوی سے علاحدگی چاہیں گے اور ان کے لئے تین طلاق یا طلاق بائن کا راستہ بند ہوجائے گا، وہ بیوی کو لٹکا کر رکھیں گے، نہ اس کے حقوق ادا کریں گے اور نہ طلاق دیں گے، ایسی معلقہ عورت کی صورتِ حال مطلقہ سے بھی بدتر ہوتی ہے، کیوں کہ نہ وہ اپنے حقوق پاتی ہیں اور نہ اپنی ذات کے بارے میں آزاد ہوتی ہیں۔
(۸) یہ تو ان لوگوں کے لئے ہے، جن کے دلوں میں کچھ نہ کچھ اللہ کا خوف ہے، جن کو حلال و حرام کی فکر نہ ہو، وہ سوچیں گے کہ ساری مصیبت نکاح کرنے اور نکاح کے بعد طلاق دینے سے پیداہورہی ہے ؛ اس لئے نکاح ہی نہ کیا جائے ؛ بلکہ چوںکہ قانون بالغ مرد و عورت کو آپسی رضامندی سے ایک ساتھ زندگی گزارنے اور صنفی تعلقات قائم کرنے کی اجازت دیتا ہے، اس لئے جب تک جس کے ساتھ موافقت رہے ،زندگی اس کے ساتھ گزاری جائے، اور جب جی اُکتا جائے، نیا رفیق تلاش کرلیا جائے، طلاق کو مشکل بنانا ان اہم اسباب میں سے ہے، جن کی وجہ سے اس وقت مغربی ملکوں میں نکاح کی شرح گھٹتی جارہی ہے ، خاندانی نظام بکھرتا جارہا ہے اور اپنی پہچان سے محروم بچوں کی تعداد میں خطرناک حد تک اضافہ ہوتا جارہا ہے ؛اس لئے حقیقت یہ ہے کہ خواتین کے حقوق کی حفاظت کے نام پر بننے والا یہ قانون اپنے اثرات و نتائج کے اعتبار سے خود خواتین کے لئے نقصاندہ ہے۔
البتہ شریعت کے دائرہ میں رہتے ہوئے اس مسئلہ کو حل کرنے کی کوشش کی جاسکتی ہے اور اس کے چند اہم نکات یہ ہوسکتے ہیں:
(۱) صرف ایک ساتھ تین طلاق دینے پر ایک مناسب اور متوازن سزا تجویز کی جائے، اور وہ سزا ایسی ہو جس سے مطلقہ عورت کو فائدہ ہو ۔
(۲) بچوں کا نفقہ تو شرعاً اس کے باپ پر واجب ہے ہی، اس کے ساتھ ساتھ جب تک عورت بچوں کی پرورش کرے، اس کو سابق شوہر کی طرف سے مناسب اُجرت پرورش بھی دلائی جائے، جو فقہاء کی تصریحات کے مطابق اتنی ہونی چاہئے کہ اس کے خورد و نوش اور رہائش کا انتظام ہوجائے۔
(۳) مہر اور نفقۂ عدت جلد سے جلد ادا کروایا جائے۔
(۴) اس نوعیت کے مقدمات کے لئے فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کی جائیں، جو ایک مقررہ مدت مثلاً تین ماہ کے اندر فیصلہ سنادے۔
(۵) حکومت ایسی مظلوم عورتوں کی طرف سے وکیل کی ذمہ داری قبول کرے اور متاثرہ عورت پر اخراجات مقدمہ کا بوجھ نہ ڈالا جائے۔
ٍ یہ تو اس مجوزہ قانون کے اثرات و نتائج اور ان کے حل کے بارے میں گفتگو تھی لیکن یہ بات بھی بہت اہم ہے کہ ہندوستان کے دستور کی بنیاد کثرت میں وحدت اور اقلیتوں کی مذہبی و تہذیبی آزادی پر ہے؛اسی لئے دستور کے بنیادی حقوق کی دفعات میں اس کی ضمانت دی گئی ہے، حکومت کو ہرگز کوئی ایسا قدم نہیں اُٹھانا چاہئے ،جو دستور سے انحراف پر مبنی ہو، اس کی روح کو متاثر کرتا ہو، اوراس سے اقلیتوں میں عدم تحفظ کا احساس پیدا ہو۔
مولانا خالد سیف اللہ رحمانی
…..
تین طلاق سے متعلق بل لوک سبھا میں پاس، ترمیمات خارج، تین سال کی سزا اور جرمانہ کا بندوبست
http://dhunt.in/3jevt?s=a&ss=pd
via Dailyhunt
اپلی کیشن حاصل کریں
http://dhunt.in/DWND
…..
حکومت کا تین طلاق پر بل شریعت میں راست مداخلت: دارالعلوم دیوبند
http://dhunt.in/3jf8l?s=a&ss=pd
via Dailyhunt
….
طلاق ثلاثہ بل پر مولانا خالد سیف اللہ رحمانی کا حوصلہ افزا بیان ۔
ضرور سنین اور دوسروں سے شیئر کریں
https://youtu.be/B-Azn1i19Yw
#TripleTalaqBill
…..
طلاق ثلاثہ پربل :آزاد ہندوستان کی تاریخ کا بدترین دن: جمیعۃ علماء
http://sonews.in/XMKu
تین طلاق بل: لوک سبھا میں بحث کے دوران ایم جے اکبر اور اسد الدین اویسی کے درمیان نوک جھونک
http://dhunt.in/3jg0e?s=a&ss=pd
via Dailyhunt
اپلی کیشن حاصل کریں
http://dhunt.in/DWND
….
شہر کی سنی جماعتوں کا بعد نماز جمعہ طلاق ثلاثہ مخالف بل کے خلاف احتجاج کا فیصلہ
http://dhunt.in/3jf8o?s=a&ss=pd
via Dailyhunt
….
تین طلاق پر بل کا مقصد مسلم معاشرہ کو تباہ کرنا اور جیلوں کو مسلم مردوں سے آباد کرنا ہے : مسلم پرسنل لا بورڈ
http://dhunt.in/3jh8g?s=a&ss=pd
via Dailyhunt
اپلی کیشن حاصل کریں
http://dhunt.in/DWND
……
…..
NBT: तीन तलाक विरोधी बिल पर बोला मुस्लिम पर्सनल लॉ बोर्ड, लोकतांत्रिक तरीकों से कराएंगे खत्म
http://nbt.in/ba3TBa/baa via @NavbharatTimes: http://app.nbt.in
…..
NBT: लोकसभा में ध्वनिमत से पारित हुआ तीन तलाक बिल
http://nbt.in/FT2NtZ/baa via @NavbharatTimes: http://app.nbt.in
…..
BBC News हिंदी | एक बार में तीन तलाक़ बिल पर क्यों खफ़ा हैं राजनीतिक दल? – http://www.bbc.com/hindi/india-42494768?ocid=wshindi.chat-apps.in-app-msg.whatsapp.trial.link1_.auin
…..
بابری مسجد کی شہادت کے متعلق صحافی روچیرا گپتا کا خوفنا ک خلاصہ۔ ویڈیو
http://dhunt.in/3jbZd?s=a&ss=pd
via Dailyhunt
اپلی کیشن حاصل کریں
http://dhunt.in/DWND
….
अंजना ॐ कश्यप ने उलेमा का उड़ाया मज़ाक़ आज अकड़ी दाढ़ियों से निकल रहा है पसीना जवाब मिला तुम बाबाओ के आश्रमों से बचो!! http://www.haqeqathindi.com/in-the-news/अंजना-ॐ-कश्यप-ने-उलेमा-का-उ/
….
तीन तलाक़ बिल पर असदउद्दीन ओवैसी ने लोकसभा में सुनाई बंदर और मछलियों की कहानी!! http://www.haqeqathindi.com/in-the-news/तीन-तलाक़-बिल-पर-असदउद्दीन/
….
تین طلاق سے متعلق بل آخرلوک سبھاسے منظور، اپوزیشن کے تمام اعتراضات مسترد، اعتراض،ترمیمات اورتجاویزنظرانداز، اسٹینڈنگ کمیٹی کوبھیجنے کامطالبہ بھی تسلیم نہیں
http://sonews.in/4nLpR
…..
ملکاارجن کھڑگے نے بل کومستقل کمیٹی میں بھیجنے کامطالبہ کیا، سشمتا دیو نے پوچھے تلخ سوالات،سرکارنے کہا، جوتجاویز ہیں پارلیمنٹ میں ہی دیں
http://sonews.in/a6nE
…..
مرکزی حکومت کے طلاق ثلاثہ بل میں کئی قانونی خامیاں: اے پی سی آر نے کی بل کی سخت مخالفت
http://sonews.in/Q3G1s
…..
تین طلاق: ملک میں لاکھوں ہندوبہنوں اورگجرات کی بھابھی کو بھی انصاف ملنا چاہیے، بحث کے دوران اویسی کاسخت حملہ
http://sonews.in/fRmAc
….
तीन तलाक़ पर लोकसभा में पास हुआ बिल सिर्फ ओवैसी और बीजू जनता दल के साँसद ने जताया विरोध!! http://www.haqeqathindi.com/national/तीन-तलाक़-पर-लोकसभा-में-पास/
….
जानिए क्या है तीन तलाक़ पर लोकसभा में पास होने वाला क़ानून!! http://www.haqeqathindi.com/national/जानिए-क्या-है-तीन-तलाक़-पर-ल/
….

….
لوک سبھا مین طلاق ثلاثہ بل پر اسدالدین اویسی نے کی زوردار تقریر
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2052616791639576&id=1715704431997482
….
ترک صدر رجب طیب اردغان نے بشار الاسد کو بتایا دہشت گرد ، کہا : ان کے ساتھ کام کرنا ناممکن
http://dhunt.in/3jh3s?s=a&ss=pd
via Dailyhunt
اپلی کیشن حاصل کریں
http://dhunt.in/DWND
…..
رضا اکیڈمی اور آل انڈیا علما کونسل سمیت متعدد مسلم تنظیموں کی تین طلاق بل کی مخالفت ، احتجاج کا فیصلہ
http://dhunt.in/3jh8f?s=a&ss=pd
via Dailyhunt
اپلی کیشن حاصل کریں
http://dhunt.in/DWND
……
آج کچھ درد مرے دل میں سوا ہوتا ہے…….
ہم بے کار لوگ ہیں…… ہماری تنظیمیں ناکارہ…….. ہمارے رہنما بے عمل بلکہ بدعمل ہیں…… ابھی ہمیں اور برے دنوں کا انتظار کرنا چاہیئے…..
جب پارلمنٹ میں شریعت مخالف بل پیش ہورہا تھا اس وقت کہاں تھے مسلم ممبران پارلمنٹ……. مولانا اسرار الحق جو اخبارات میں لمبے لمبے مضامین لکھتے ہیں ‘ ان کی خدمت میں یہ ناچیز عرض کرتا ہے کہ……
” حضرت اخبارات میں مضا.مین لکھنے کا کام ہم جیسے ٹٹ پونچیوں کے لئے چھوڑ دیجئے…… آپ تو عزت ماب ایم پی ہیں….. آپ کو تو ایوان میں گرجنا چاہیئے……. آج اتنا اہم بل پیش ہورہا تھا مگر مسلمان آج ایوان میں آنجناب کے رخ زیبا کی زیارت سے بھی محروم رہے…… افسوس! !
مولانا اجمل بھی ندارد رہے….. جن کو آسامی مسلمانوں نے اپنے سروں پر بیٹھا کر لیڈر بنایا ہے……. شاید کسی خانقاہ میں ضرب الا اللہ لگارہے ہوں……..
بظاہر یہ بات درست لگتی ہے کہ اب پرانی باتوں تو دہرانے سے کوئی فائدہ نہیں……… مگرہم جب تک اپنے رہنماوں کے اندر احتساب کا خوف نہیں پیدا کریں گے یہ آئندہ بھی ہوتا رہے گا……..
مسلم ممبران پارلمنٹ کو چاۂئے کہ وہ قوم کو جواب دیں کہ اس دن ایوان سے کیوں غیر حاضر رہے….. اس سے زیادہ کیا ضروری کام تھا…… ورنہ قوم کے غضب کا سامنا کرنے کے لئے تیار رہیں.ـ
اس سلسلے میں مسلم تنظیموں کو بھی جواب دینا چاہئے سب کو معلوم تھا کہ یہ بل پیش ہونے والا ہے اسکے لئے پہلے سے تیاررہنا چاہیئے تھا…. حکومت سے ملاقات ‘ اپوزیشن اراکین کی ذہن سازی اور اس بل کے کمزور پہلووں کی نشاندہی ‘ اس بل کی دستور سے ٹکرانے والی دفعات کی صراحت اگر ڈھنگ سے کی گئی ہوتی تب بھی یہ بل ممکن تھا کہ اکثریت کے زور پر پاس ہوجاتا مگر حکومت کو ایک مضبوط مخالفت کا سامنا کرنا پڑتا اور کچھ بہتر ترمیمات بھی منظور ہوجاتیں…… آگےراجیہ سبھا کا راستہ حکومت کے لئے اور کٹھن ہوجاتا…… اس کوتاہی کے لئے احقر خود کو بھی ذمہ دار سمجھتا ہے…..
فی الحال یہ بل اپنی تمام تر خرابیوں کے ساتھ لوک سبھا سے پاس ہو چکا ہے…… اب بھی وقت ہے راجیہ سبھا میں پیش ہونے سے قبل مسلم تنظیمیں تیاری کر رکھیں……..
آگے ایک بار پھر عدالت جانا پڑسکتا ہے…….. پچھلی غلطیوں سے سبق لیتے ہوئے اس بار ساری تنظیمیں متحدہ موقف عدالت میں پیش کریں…… مضبوط وکیل کی خدمات حاصل کریں…. وکیل اگرمسلم ہوتو بہتر ہے…..
تلخ نوائی کے لئے بغیر کسی معذرت کے……..
محمود دریابادی
……..
سیاسی مقاصد کی تکمیل کیلئے عجلت میں لایا گیا یہ بل ان لوگوں نے تیار کیا ہے جنہیں مسلم سماج کے انداز و مزاج، مسائل و مشکلات، سہولتوں اور دشواریوں کا اندازہ نہیں ہے، انہیں ایک کریمنل لا بنانا تھا، یہی سرکار والا تبار کا آدیش تھا انہوں نے سخت قسم کا قانون ڈرافٹ کردیا، انہوں نے یہ بھی نہیں سونچا کہ دستور کی آرٹیکل ۱۴-۱۵ کی خلاف ورزی ہوگی، جب تین طلاق بے اثر ہے، تو پھر جیل کی سزا کیوں؟ انہوں نے یہ بھی نہیں سونچا کہ جب دوسرے مذہب کے ماننے والوں کیلئے بیوی کو چھوڑدینے کی سزا ایک سال ہے، تو مسلمانوں کو نہ چھوڑنے پر تین سال کی سزا کیوںکر دیجاسکتی ہے؟ کیا یہ قانون سازی میں مذہب کی بنیاد پر تفریق نہیں ہے اور کیا یہ آئین کے مطابق ہے؟
۔۔۔امیر شریعت مولانا محمد ولی رحمانی
(جنرل سکریٹری مسلم پرسنل لا بورڈ)
……..
شریعت میں مداخلت افسوس ناک
مسلم قوم کے لیے بیداری کا وقت
(پارلیمنٹ میں بھاجپا حکومت کے تین طلاق مخالف بل پر ایک فکر انگیز تحریر)
از قلم :
حبیب الرحمٰن الاعظمی ابراہیم پوری
فاضل دارالعلوم دیوبند
استاذ تفسیر وحدیث جامعۃ الزاہدات /اتراری خیرآباد/مئو (یوپی)
کفار شرعی احکام میں دخل اندازی کرکے اسلام پر انگلی اٹھارہے ہیں
مسلم خواتین کی مظلومیت کا پروپیگنڈہ کرکے دینی تعلیمات میں نقص وعیب بیان کررہے ہیں اور موجودہ
حکومت اپنی ناکامیوں کو طلاق ثلاثہ مخالف بل پاس کرکے کامیابی میں بدلنا چاہتی ہے جب کہ ملک کی بے شمار غیر مسلم خواتین اعلی ذات سے لے کر پسماندہ ودلت تک مظلوم ہیں اور ناقابل یقین مظالم کا شکار ہیں .ان کی ہمدردی کہاں گئی.
صرف مطلقہ مسلم خواتین کے نام کو اچھال کر مسلم طبقہ کو لوگوں میں بدنام کرنا اور سیاسی نفع پانا ہی مقصد ہے .جس کے پس پردہ خلوص کی معمولی مہک بھی نہیں
ورنہ طلاق ثلاثہ پر سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے جس میں تین طلاق کو غیر مؤثر اور بے عمل کہا گیا ہے، جب کہ شرعی حکم کے اعتبار سے یہ مؤثر اور نکاح کو فورا ختم کرنے والی چیز ہے، اس کو انجام دینے والا عدالت کے اس فیصلے کے بعد بھی مجرم اور سخت سزا کا مستحق کیسے ہوگیا، اور حکومت سارے مسائل سے پہلو تہی کرتے ہوئے اس کو اتنی جلدی پارلیمنٹ میں پاس کرنے کی عجلت میں کیوں ہے .اور مسلم علماء ، مسلم تنظیموں اور آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی تجاویز و اعلانات پر ذرا بھی توجہ کیوں نہ کی گئی.؟؟
قوم مسلم کے لیے نت نئے مسائل سر ابھارے کھڑے ہیں اور حالات ابتر ہی ہوتے جارہے ہیں.گائے اور لوجہاد کے نام پر ہجومی تشدد، قتل و فساد ،نوٹ بندی وسروس ٹیکس کے بعد کی معاشی دشواریاں، الزام دہشت گردی، مقدمہ بابری مسجد ، اور روزانہ کے شرور وفتن یہ سب ایک سیلاب کے مانند اہل اسلام کو بہالیجانا چاہتے ہیں،
ایسے میں جامع ومؤثر حکمت عملی کے ساتھ متحدہ طور پر میدان میں آنے اور دین وشریعت پر پختگی کے ساتھ عمل کرنے اور گناہ وحرام خوری سے توبہ و رجوع الی اللہ کے ساتھ حقوق العباد کی ادائیگی کی فکر کرنے اور اسلامی محاسن کو غیروں کے سامنے بیان کرنے اور اپنی قوت دفاع کو مضبوط کرنے کے ساتھ باطل کے اعتراضات کا دنداں شکن جواب دینے کی ضرورت ہے .اور اپنے عملی اقدامات سے یہ بتانے اور عیاں کرنے کی ضرورت ہے کہ عورت کی عزت وسربلندی اسلامی احکام پر چلنے ہی میں ہے اور شریعت اسلامیہ نے ہی عورت کو حقیقی تحفظ دیا ہے .
اور آج بھی عورت کو صرف اسلام کے دامن رحمت میں ہی حقیقی عزت مل سکتی ہے .
اللہ ہمارا حامی وناصر ہو
حسبنا اللہ ونعم الوکیل
اللھم انا نجعلک فی نحورھم
ونعوذبک من شرورھم.
حبیب الاعظمی فاضل دیوبند
کاشانہ رحمت ابراہیم پور اعظم گڑھ
28/12/2017 . مطابق7/ربیع الثانی1439ھ ، شب جمعہ
…….
لکیرکاہے پیٹ رہے ہیں بھائی؟!
نایاب حسن
یہ ایک روشن اورناقابلِ انکارحقیقت ہے کہ تین طلاق کامعاملہ بی جے پی کے لیے سیاسی فائدے کا موضوع ہے، اسی طرح، جس طرح بابری مسجد -رام جنم بھومی کامعاملہ، گجرات الیکشن کے نتائج سے اسے پتاچل گیاہے کہ مودی لہرکی ہوانکل چکی ہے اورلوگ ترقی و روزگارجیسے بیسک ایشوزمیں مودی کی ناکامی کومحسوس کرنے لگے ہیں،لہذا اب چوں کہ اگلے سال، ڈیڑھ سال کے اندرہی کئی ریاستوں اور پھر جنرل الیکشن کادورآنے والاہے؛ اس لیے بابری مسجدکے ساتھ ساتھ یہ تین طلاق والی “تھیوری”بھی بڑی عیاری کے ساتھ “اپلائی “کی گئی ہے،تاکہ دوسرے اہم مسائل میڈیاکی سرخیوں اورعوام کے ذہنوں سے غائب ہوجائیں، ساراملک اس حقیقت سے باخبر ہے کہ بیویوں کوچھوڑنے کے سانحات مسلمانوں سے زیادہ برادرانِ وطن کے مابین رونماہوتے ہیں اورملکی اعدادوشمارکے مطابق مسلمانوں میں طلاق کی شرح نہایت ہی معمولی ہے، مگرشاید بی جے پی کویوں لگتاہے کہ اس معاملے کواچھالنے سے انتخابات میں اسے فائدہ ہورہاہے (ممکن ہے اندرخانہ اس نے سروے وغیرہ بھی کروایاہو) اس لیے وہ گزشتہ دوسال کے عرصے سے اس پرخاص فوکس کیے ہوئی ہے، حال ہی میں سپریم کورٹ نے اس مسئلے پر ایک مقدمے کی سماعت کرتے ہوئے ایک مجلس کی تین طلاق کوسرے سے ناقابلِ عمل قراردیاتھا، یعنی اگرکوئی شخص ایک ساتھ تین طلاق دیتاہے، تووہ بالکل ہی نافذنہیں ہوں گی،ایک بھی نہیں،تب حکومت نے بھی کہاتھاکہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد وہ اپنے طورپرکوئی قانون سازی نہیں کرناچاہتی، پھر اب مسلم خواتین کے تحفظ کے زیرِ عنوان تین طلاق کوناقابلِ ضمانت جرم قراردینے والااورطلاق دینے والے کے لیے تین سال کی سزاتجویزکرنے والا یہ بل آخرکیوں پیش کیاگیا ہے؟ ویسے اس کی اطلاع تو مودی نے گجرات الیکشن کے دوران ہی ٹوئٹرکے ذریعے دے دی تھی کہ اگرکوئی شخص اپنی بیوی کو تین طلاق دے گا تواسے تین سال کی سزاہوگی ـ
آج پارلیمنٹ میں یہ بل پیش ہوا، حزبِ مخالف میں سے زیادہ ترممبران نے اس بل کو ملتوی کرنے، سٹینڈنگ کمیٹی کے حوالے کرنے اور اس کے اطراف وعواقب پرمکمل بحث ونقاش اور متعلقہ فریقوں سے بات چیت کے بعداسے پاس کرنے کی بات کی،بحث کے دوران آسام سے کانگریس کی ایم پی سمترا دیونے حکومت کواچھی طرح گھیرا، انھوں نے کانگریس کے موقف کی حمایت کرتے ہوئے موجودہ بل کے حوالے سے حکومت سے چھ اہم سوالات پوچھے کہ جب سپریم کورٹ نے پہلے ہی ایک نشست کی تین طلاق کوکالعدم قراردے دیاہے تواس پرجیل بھیجنے کاکیامطلب ہے؟اسی طرح جب شوہرجیل میں ہوگا تو اس کے بیوی بچے کاکیاہوگا؟سزاکے بعددونوں کی قانونی حیثیت میاں بیوی کی ہوگی یانہیں؟ تین سال جیل فرقہ وارانہ فسادپھیلانے، دوگروپوں میں نفرت وغیرہ کے جرم میں ہوتی ہے، کیاحکومت تین طلاق کواس کے برابرجرم مان رہی ہے؟ حکومت اس سے قبل میریٹل ریپ پرقانون بنانے سے اس لیے منع کرچکی ہے کہ اس سے بہت سے خانگی مسائل پیداہوجائیں گے، اب تین طلاق پرتین سال کی سزاکاقانون بنانے سے کوئی مسئلہ کھڑانہیں ہوگا؟ جس طرح تب قانون کے غلط استعمال کاخدشہ تھا، اسی طرح اب بھی ہے، مجلس اتحاد المسلمین کے سربراہ نے بھی زورداراندازمیں بحث میں حصہ لیا اور اس بل کی قانونی خامیوں کواجاگرکیا، بی جے پی کی ایم پی میناکشی لیکھی نے اس بل پربولنے کے دوران پورے مسلم پرسنل لا کو “ریفریش “کرنے کی بات کرتے ہوئے “مولویوں “کوخاص طورسے ریمانڈپرلیاـ
بہرکیف ان سب ڈراموں کے بعد یہ بل لوک سبھامیں پاس ہوچکاہے اوریہ ہوناہی تھاـ اس کے تمام پہلووں سے قطعِ نظر بی جے پی کااصل مقصدآنے والے انتخابات میں روایتی ووٹرس پراپنی گرفت برقراررکھنا اورحتی الامکان مسلمانوں (کم ازکم خواتین) میں کچھ نئے “امکانات “کی تلاش ہے، بابری مسجدکیس کی سماعت بھی دوتین ماہ تک کے لیے ٹال دی گئی ہے اورقوی امکان ہے کہ یہ ٹال مٹول کم ازکم 2019تک توجاری رہے گی، ادھرکل اورآج کے دن بھی تین طلاق کی آڑمیں مین سٹریم میڈیاسے دواہم خبریں اوجھل رہیں، ایک تو مشہورومعروف مالیگاؤں بم بلاسٹ کے ملزم کرنل پروہت اورسادھوی پرگیہ پرسے “مکوکا “کے ہٹنے کی خبرتھی اوردوسری بڑی خبریہ تھی کہ یوپی میں یوگی آدتیہ ناتھ کی سرکار نے خود یوگی اوردیگر چودہ نیتاؤں کے خلاف صوبے کے مختلف حصوں میں کیے گئے بیس ہزار مقدمات کوخارج کرنے کاحکم دے دیاہے، اس کی اطلاع خودیوگی نے یوپی اسمبلی میں دی ہے،یہ اعلان عین اس وقت کیاگیاہے، جب یوگی حکومت خود یوپی میں آرگنائزڈکرائم کے خلاف ایک قانون بنانے جارہی ہے،ان کاکہناہے کہ ان کے خلاف یہ کیسز سیاسی سازش کے تحت کیے گئے ہیں، اب خودہی وکیل، خودہی مدعاعلیہ اورخودہی منصف بھی ہیں، سووہ جوچاہیں کرسکتے ہیں ـ
یہ دونوں خبریں ایسی تھیں کہ انھیں قومی سطح پر ہیڈلائنزمیں آناچاہیے تھا، مگرمودی اینڈکمپنی نے میڈیاکوایسا موضوع تھمادیاکہ یہ خبریں بس سوشل میڈیا اورچند ایک اخباروں تک محدودہوکررہ گئیں ـ
جہاں تک تین طلاق بل کی بات ہے، تواسے پاس کرنے کی پوری پلاننگ پہلے سے تھی؛کیوں کہ حکومت کی غالب نمایندگی تو پارلیمنٹ میں ہے ہی، اس کے علاوہ اس نے چالاکی یہ بھی کی کہ کسی بھی متعلقہ(مسلم) گروپ کواس حساس مسئلے میں بات چیت کی دعوت نہیں دی، بورڈنے اس پر کچھ مستعدی دکھائی بھی، توبس میڈیاکی حدتک، وہ بھی ایک دودن پہلے ـ
بل پاس ہونے کے بعد سوشل میڈیاپرسرگرم مسلم نوجوانوں کی(عام طورپر)عجیب صورتِ حال ہے، میرے ہم نسل زیادہ تراحباب کے ری ایکشنزسے یوں لگ رہاہے گویاوہ اپناآپاکھوچکے ہیں، امت کے مجموعی شعوری انتشار وکشمکش کاصاف نمونہ ہم اپنے طرزِ عمل سے پیش کررہے ہیں، عام طورپرکسی بھی سماجی یاسیاسی معاملے میں ہمارے جذبوں کاابال اتناشدیدہوتاہے کہ کسی دوسرے آپشن یاسوچنے کے کسی اور طوروطرز کاوہم بھی نہیں ہوسکتا،یہ پورے برصغیرکے مسلمانوں کامعاملہ ہے، ماضی بعیدمیں اس خطے کے مسلمان ایسے تھے یانہیں، مجھے نہیں معلوم، مگر بیسویں صدی میں بعض خاص سیاسی مکاروں کے ذریعے مسلم سماج، معاشرت اورفکر کاغالب حصہ نری جذباتیت میں ڈھال دیاگیا، جس کے سحرسے پتانہیں ہم کب تک نکل سکیں گے ـ
فی الوقت ہمیں توبہرحال کسی کوہیرواورکسی کوزیروثابت کرنے میں اپنی توانائی صرف کرنے سے گریزکرناچاہیے کہ اس سے ہاتھ کچھ نہیں آناہے، البتہ ہمارے نمایندہ اداروں کوچاہیے کہ وہ آپس میں سرجوڑکر اور منتخب ماہرینِ قانون کی مددلے کر اس بل کا بھرپور جائزہ لیں اور قانونی طور پر اس بل کو چیلنج کیا جائے؛ کیوں کہ یہ ایک حقیقت ہے کہ یہ بل خامیوں کا پلندہ ہے اور اس سے بی جے کا مقصد صرف اور صرف سیاسی ”انٹریسٹ” حاصل کرنا ہے.
………………….

ڈاکٹر تسلیم رحمانی کےفیس بک سے

Lok Sabha passes Muslim women (Protection of Marriage rights) Bill 2017 by Voice vote today . bill is full of lacuna and if passed by Rajya sabha and become an Act may be declared ultra virus by supreme Court of India constitution bench owing to of time due to its own discrepancies. provided AIMPLB takes some expert technical and legal help . I suggest many organizations shall challenge the Act with different objections.
……
طلاق سے متعلق
حکومت
کا مجوزہ قانون
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=1588652591192328&id=120477478009854