کفرو گمراہی کی طرف مائل ہونے سے ڈریں

عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُكْثِرُ أَنْ يَقُولَ: يَا مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ، ‏‏‏‏‏‏ثَبِّتْ قَلْبِي عَلَى دِينِكَ، ‏‏‏‏‏‏فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏آمَنَّا بِكَ وَبِمَا جِئْتَ بِهِ فَهَلْ تَخَافُ عَلَيْنَا؟ قَالَ: نَعَمْ، ‏‏‏‏‏‏إِنَّ الْقُلُوبَ بَيْنَ أُصْبُعَيْنِ مِنْ أَصَابِعِ اللَّهِ يُقَلِّبُهَا كَيْفَ يَشَاءُ،

سیدنا حضرت انس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اکثر یہ دعا پڑھتے تھے «يا مقلب القلوب ثبت قلبي علی دينك» اے دلوں کے الٹنے پلٹنے والے میرے دل کو اپنے دین پر ثابت رکھ، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم لوگ آپ پر اور آپ کی لائی ہوئی شریعت پر ایمان لے آئے کیا آپ کو ہمارے سلسلے میں اندیشہ رہتا ہے؟ آپ نے فرمایا: ہاں، لوگوں کے دل اللہ کی انگلیوں میں سے دو انگلیوں کے درمیان ہیں جیسا چاہتا ہے انہیں الٹتا پلٹتا رہتا ہے۔ حضور ﷺ فرماتے ہیں کہ کوئی دل ایسا نہیں ہے جو اللہ تعالیٰ کی انگلیوں میں سے دو انگلیوں کے درمیان نہ ہو، وہ جب تک چاہتے ہیں اس کو حق پر قائم رکھتے ہیں، اور جب چاہتے ہیں اس کو حق سے پھیر دیتے ہیں۔

وہ قادر مطلق ہے جو چاہتا ہے کرتا ہے اس لئے جن لوگوں کو دین پر قائم رہنے کی فکر ہوتی ہے وہ ہمیشہ اپنے اللہ سے استقامت کی دعا مانگتے ہیں، حضور اکرم ﷺ ہمیشہ استقامت کی دعا مانگا کرتے تھے۔ اسی لئے نبی کریم ﷺکثرت سے یہ دعا مانگا کرتے تھے:

یا مقلب القلوب ثبت قلوبنا علی دینک

یعنی اے دلوں کے پھیرنے والے ہمارے دلوں کو اپنے دین پر قائم رکھ۔

آج جس دور سے ہم گزررہے ہیں یہ انتہا ئی پرفتن دورہے۔ گمراہ کن نظریات و افکار چاہے ان کا تعلق عقائد سے ہویااعمال سے، ایمان سے ہو یا اسلام سے، مسائل سے ہو یا احکامات سے، ظاہرسے ہو یا با طن سے، یہ سب خوب عروج پا رہے ہیں۔ اس لئےانسان اللہ سے دعا کرتا ہے کہ ہمارے ایمان کو سلامت رکھنا کیونکہ اس کی توفیق تیرے ہی ہاتھ میں ہے۔ نبی اکرم ﷺ کس قدر بڑے پیغمبر تھے پھر بھی اللہ سے ایمان کی سلامتی کی دعا کرتے رہتے تھے۔ ظاہر ہے کہ دنیا میں چاروں طرف بیشمار دنیاوی رنگینیاں اور شیطانی بہکاوے ہیں انسان کسی بھی وقت پھسل سکتا ہے۔ لیکن اگر دست بدعاپھیلائے رکھے کہ اے رب ! تو جو کہ وہاب یعنی سب کچھ عطا کرنے والا ہے ہمیں اپنے فضل و کرم سے ایمان کی سلامتی عطا کر دے تو پھر کوئی مشکل ہے اور نہ کوئی پریشانی۔ پھر انسان دعا کرتا ہے اے ہمارے رب ! بیشک تو ہم سب کو ایک مقرر دن ضرور اپنے حضور جمع کرنے والا ہے۔ اس دن کے آنے میں کوئی شک نہیں اور وہ دن ایسا ہوگا کہ جس دن ہر انسان کا حساب کتاب لیا جائے گا۔ کیونکہ ہم مسلمان ہیں اور ہمارا روز قیامت پر پکا یقین ہے۔ اللہ کا وعدہ بڑا پکا وعدہ ہوتا ہے اللہ تعالیٰ ہمیں اس دن کی تیاری کے لئے ہمت، طاقت اور راہنمائی عطا کرے۔

اخروی فلاح اُسی شخص کو حاصل ہو گی جو صراطِ مستقیم پر ہو گا۔جو شخص ہدایت کو پا لیتا ہے وہ حقیقی کامیابی سے ہمکنار ہو جاتا ہے۔ اس کے مدمقابل کوئی شخص خواہ کتنا بھی مادی عروج کیوں حاصل نہ کر لے‘ اگر وہ نعمتِ ہدایت سے محروم ہے تو اس کی عاقبت اور انجام انتہائی دردناک ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ کے کلام کے مطالعے سے ہمیں بہت سے ایسے لوگوں ـ کا پتا چلتا ہے جو نعمتِ ہدایت سے محروم ہونے کی وجہ سے ذلت اور رسوائی کے گڑھے میں گر گئے۔ فرعون اور نمرود حاکم تھے لیکن ہدایت سے محروم ہونے کی وجہ سے نشانِ عبرت بن گئے‘ ہامان اعلیٰ عہدے دار تھا لیکن اس کا عہدہ ومنصب اس کے کسی کام نہ آیا‘ قارون بہت بڑا سرمایہ دار تھا لیکن اپنے سرمائے کے باوجود ذلت اور رسوائی اس کا مقدر بن گئی۔ شداد جاگیر دار ہونے کے باوجود ناکام اور نامراد رہا‘ ابولہب مکہ کا، سردار اور بڑے قبیلے سے تعلق رکھنے کے باوجود ہدایت سے محروم ہونے کی وجہ سے ناکام ونامراد ہو گیا اور اللہ تبارک وتعالیٰ نے قرآن مجید میں پوری ایک سورت اس کے کردار کی مذمت میں نازل فرما دی۔ اس کے مدمقابل دنیا میں ہدایت کے راستے پر چلنے والے لوگ نہ صرف یہ کہ اخروی سربلندی کو حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے بلکہ دنیا میں بھی اللہ تبارک وتعالیٰ نے ان کو نیک نامی عطا فرمائی اور ان کے کردار اور عمل کو آنے والی نسلوں کے لیے ایک نمونہ بنا دیا۔

ہدایت ملنا بہت بڑی چیز ہے لیکن اس کا فائدہ تبھی ہے جب یہ باقی بھی رہے۔ اگر ساری زندگی کوئی ہدایت پر رہے لیکن مرتے وقت ہدایت چھن جائے تو ایسی ہدایت کا کوئی فائدہ نہیں۔ حضرت سہل بن سعد رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’اِنَّمَا الْاَعْمَالُ بِالْخَوَاتِیمِ‘‘ اعمال کا دارومدار خاتمے پر ہے۔(بخاری، کتاب القدر، باب العمل بالخواتیم، ۴ / ۲۷۴، الحدیث: ۶۶۰۷)

اسی لئے بڑے سے بڑا مومن بھی اپنے خاتمے کے بارے میں خوف کرتا رہے اور لمحہ بھر کے لئے بھی برے خاتمے سے بے خوف نہ ہو۔ اِس لئے اس قرآنی دعا:

رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوْبَنَا بَعْدَ اِذْ ھَدَيْتَنَا وَھَبْ لَنَا مِنْ لَّدُنْكَ رَحْمَۃً۝۰ۚ اِنَّكَ اَنْتَ الْوَھَّابُ۝۸

اور نبی ﷺ نے جو دعا بتلائی ہے اس کو بکثرت پڑھتے رہنا چاہئیےاور یہ دعا بھی

‏‏‏‏ يَا مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ، ‏‏‏‏‏‏ثَبِّتْ قَلْبِي عَلَى دِينِكَ،

خاتمہ بالخیر کیلئے مفید ہے۔

یہ دعائیں بہت اہم ہے اور ان دعا ؤں کوبرابر کرتے رہنا چاہیے۔ بہت سے لوگوں نے ہدایت اختیار کرنے کے بعد گمراہی اختیار کرلی فتنہ گروں کے اتباع میں لگ گئے اور فتنہ میں پڑگئے اور ایمان کھو بیٹھے اور ہدایت سے ہاتھ دھو بیٹھے۔صحیح مسلم میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ بلاشبہ بنی آدم کے دل سب کے سب رحمان کے قبضہ میں ہیں وہ جیسے چاہے پھیر دے۔ پھر آپ نے یہ دعا کی:

” اَللّٰھُمَّ مُصَرِّفَ الْقُلُوْبِ صَرِّفْ قُلُوْبَنَا عَلٰی طَاعَتِکَ

(اے اللہ ! دلوں کے پھیرنے والے ہمارے دلوں کو اپنی فرمانبرداری پر لگائے رکھ)

ہدایت کی نعمت یقینا جملہ نعمتوں پر فوقیت رکھتی ہے۔ سورہ فاتحہ میں اللہ تبارک وتعالیٰ نے اسی نعمت کی طلب کا ذکر کیاہے۔ کتاب وسنت میں ہدایت کی اہمیت بہت زیادہ اجاگر کیا گیا ہے لیکن بدقسمتی سے انسانوں کی ایک بڑی تعداد اس کی اہمیت کوپہچاننے سے قاصر ہے اور متعدد وجوہات کی وجہ سے انسان راہ ہدایت سے بھٹک جاتا ہے۔

انسان کی گمراہی کا ایک بڑا سبب بری صحبت بھی ہے۔ بہت سے لوگ سیدھے راستے سے فقط بری صحبت کی وجہ سے بھٹک جاتے ہیں۔ بری صحبت کی وجہ سے انسان کے افکار، نظریات اور اعمال میں منفی تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں۔ اللہ تبارک وتعالیٰ قیامت کے دن ایسے لوگوں کی ناکامی کا ذکر سورہ فرقان کی آیات نمبر 27سے 29میں کچھ یوں فرماتے ہیں: اور جس دن دانتوں سے کاٹے گا ظالم اپنے ہاتھوں کو‘ کہے گا: اے کاش میں اختیار کرتا رسول کے ساتھ راستہ۔ ہائے بربادی! کاش میں نہ بناتا فلاں کو دلی دوست۔ بلاشبہ یقینا اس نے گمراہ کر دیا (اس) ذکر (یعنی قرآن) سے اس کے بعد کہ جب وہ آیا میرے پاس ‘‘۔اولادوں کو گمراہی سے بچانے کے لیے والدین پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے بچوں کی صحبت پر نظر رکھیں تاکہ بچہ غلط صحبت کی وجہ سے گمراہی کا شکار نہ ہو جائے۔

اسی طرح انسان کی خواہشات بھی کئی مرتبہ اس کو راہِ ہدایت سے بھٹکا دیتی ہیں اور انسان اپنی خواہشات کی تکمیل کے لیے جائز اور ناجائز راستے میں تفریق کیے بغیر اپنی خواہشات کی تکمیل کے لیے ہر قسم کے ذرائع استعمال کرنے پر آمادہ وتیار ہو جاتا ہے۔اسی طرح بہت سے لوگ صراطِ مستقیم کی اہمیت سے لا علمی کی وجہ سے غافل ہوتے ہیں۔ دنیاوی معاملات میں اس حد تک پڑجاتے ہیں کہ دینی حقائق کو یکسر نظر انداز کر دیتے ہیں۔ اسلام ہمیں توازن کا حکم دیتا ہے اور بیک وقت دین ودنیا میں ترقی کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔ دنیاوی معاملات کو ترجیح دیتے ہوئے دینی معاملات کو یکسر نظر انداز کر دینے والے لوگ آخرت میں ناکام اور نامراد ٹھہریں گے۔گمراہی کے ان اسباب کو اگر اچھے طریقے سے سمجھ لیاجائے تو یقینا انسان گمراہی کے راستے سے محفوظ ہو کر صراطِ مستقیم پر چل سکتا ہے‏‏‏‏ يَا مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ، ‏‏‏‏‏‏ثَبِّتْ قَلْبِي عَلَى دِينِكَ، ۔ اللہ تبارک وتعالیٰ ہم سب کو گمراہی سے بچ کر صراطِ مستقیم پر چلنے کی توفیق دے۔ آمین!

Dars e Hadees Hadees 38 Be Afraid of Disbelief and Misguidance کفرو گمراہی کی طرف مائل ہونے سے ڈریں ویڈیو

Please watch full video, like and share Dars e Hadees Hadees 38 Be Afraid of Disbelief and Misguidance کفرو گمراہی کی طرف مائل ہونے سے ڈریں. Subscribe UmarGallery channel.
Video length: 10:14

https://youtu.be/KqOEHS5mOxE