سچا اور کامل مسلمان

عبد الله بن عمرو رضي الله عنهما، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: (المسلم من سلم المسلمون من لسانه ويده) متفقعليه.

ترجمہ: سید ناعبد اللہ بن عمر ورضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی نے فرمایا: ’’مسلمان وہ ہے، جس کے ہاتھ اور زبان سے (دوسرے مسلمان) محفوظ، متفق علیہ

مسلمان کبھی پختہ اسلام والا ہو تا ہے اور کبھی کمزور اسلام والا ہو تا ہے، جس طرح مومن بسا اوقات ایمان میں مضبوط ہو تا ہے اور کبھی کمزور ایمان والا ہو تا ہے۔

پس جو مسلمان اسلام میں پختہ اور کامل و مکمل ہو، وہی سچا مسلمان ہے اور اس کا اسلام حقیقی اسلام ہے، جسے اللہ پسند کر تا ہے اور جس سے راضی ہو تا ہے۔ہر کلمہ گو مسلمان اور مومن ہے لیکن جو شخص کلمہ پڑھ کے یعنی کلمہ اسلام کلمہ طیبہ پڑھ کہ پھر اس پر عملکرتا ہے، اللہ کے حکم اور اس کے رسول کے مبارک ارشادت کے مطابق اپنی زندگی بسر کرتا ہے، تو وہ ہی مومن کامل کہلاتا ہے، اور جو شخص اپنے ایمان اور کلمہ طیبہ کے تقاضوں کو پورا نہیں کرتا تو مسلمان اور مومن تو وہ بھی ہے لیکن وہ کامل مسلمان اور کامل مومن نہیں ہے۔

اس حدیث میں نبی ﷺ نے ہمیں یہ بتلایا ہے کہ بے شک حقیقی مسلمان وہ ہے، جواپنی زبان اور ہاتھ کو محفوظ رکھے اور اپنی زبان اور ہاتھ سے مسلمانوں کو تکلیف نہ دے، نہ انھیں گالی دے اور نہ ان کی غیبت کرے اور نہ انھیں زبان سے تکلیف دے، نہ انھیں مارے اور نہ ان کی بے ادبی کرے اور نہ ان کی شان میں کوئی گستاخی کرے اور نہ اپنےہاتھ سے ان پر کوئی زیادتی کرے۔

ایک حدیث میں ہے کہ مومن وہ ہے جس سے دوسرے اہل ایمان کی جانیں اور اموال محفوظ و مامون ہوں۔ (بحوالہ نسائی،)ایمان کے لحاظ سے کامل مومن وہ ہے جس کا خُلق سب سے بہتر ہے۔

مومن پر مومن کے سات حقوق واجب ہیں جو اللہ کی طرف سے عائد کیے گئے ہیں۔

1: اس کی نگاہوں میں اس کے لئے عزت و تکریم ہو۔

2: دل میں محبت ہو۔

3: اسے اپنے مال سے حصہ دے۔

4: اس کی غیبت نہ کرے۔

5: اگر وہ بیمار ہو تو اس کی بیمار پُرسی کرے۔

6: اس کی وفات کی صورت میں اس کے جنازے میں شریک ہو۔

7: اس کی موت کے بعد اسے بہتر کلمات سے یاد کرے۔

یعنی کامل مسلمان وہ ہے جس کی زبان سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں یعنی نہ وہ انہیں گالیاں دے، نہ ان پر لعنت بھیجے، نہ ان کی غیبت کرے اور نہ ہی ان کے مابین کسی قسم کا شر و فساد پیدا کرنے کی کوشش کرے اور اسی طرح وہ اس کے ہاتھ سے بھی محفوظ رہیں بایں طور کہ وہ ان پر کوئی ظلم نہ کرے، ناحق اُن سے ان کے مال نہ لے اور اس طرح کی کوئی بھی زیادتی ان کے ساتھ نہ کرے۔ اور حقیقی مہاجر وہ شخص ہے جو اللہ تعالی کی حرام کردہ (امور) کو چھوڑ دے۔

یہ اس شخص کی صفات ہیں، جس کا اسلام مکمل ہو۔ اور مکمل ہونے کا مطلب یہ کہ مسلمان اس کی زبان اور ہاتھ سے محفوظ رہیں۔ اور جو کوئی مسلمانوں کو اپنی زبان یا اپنےہاتھ سے تکلیف دے تو وہ اسلام میں ناقص اور ایمان میں کمزور ہے اور اللہ تبارک و تعالی کے نزدیک محبوب و پسندیدہ نہیں ہے۔

Hadith 03 Hadees 03 سچا اور کامل مسلمان بسلسلہ چالیس احادیث ویڈیو

Please watch full video, like and share Hadith 03 Hadees 03 سچا اور کامل مسلمان بسلسلہ چالیس احادیث. Subscribe UmarGallery channel.
Video length: 05:59

https://youtu.be/ssPmreuBQ6g

‫سچا اور کامل مسلمان

‫سچا اور کامل مسلمان

عبد الله بن عمرو رضي الله عنهما، قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : ((المسلم من سلم المسلمون من لسانه ويده)) متفقعليه.


ترجمہ: سید ناعبد اللہ بن عمر ورضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی نے فرمایا: ’’مسلمان وہ ہے، جس کے ہاتھ اور زبان سے (دوسرے مسلمان) محفوظ، متفق علیہ
مسلمان کبھی پختہ اسلام والا ہو تا ہے اور کبھی کمزور اسلام والا ہو تا ہے ، جس طرح مومن بسا اوقات ایمان میں مضبوط ہو تا ہے اور کبھی کمزور ایمان والا ہو تا ہے۔
پس جو مسلمان اسلام میں پختہ اور کامل و مکمل ہو ، وہی سچا مسلمان ہے اور اس کا اسلام حقیقی اسلام ہے ، جسے اللہ پسند کر تا ہے اور جس سے راضی ہو تا ہے۔ہر کلمہ گو مسلمان اور مومن ہے لیکن جو شخص کلمہ پڑھ کے یعنی کلمہ اسلام کلمہ طیبہ پڑھ کہ پھر اس پر عملکرتا ہے، اللہ کے حکم اور اس کے رسول کے مبارک ارشادت کے مطابق اپنی زندگی بسر کرتا ہے ، تو وہ ہی مومن کامل کہلاتا ہے، اور جو شخص اپنے ایمان اور کلمہ طیبہ کے تقاضوں کو پورا نہیں کرتا تو مسلمان اور مومن تو وہ بھی ہے لیکن وہ کامل مسلمان اور کامل مومن نہیں ہے۔
اس حدیث میں نبی ﷺ نے ہمیں یہ بتلایا ہے کہ بے شک حقیقی مسلمان وہ ہے ،جواپنی زبان اور ہاتھ کو محفوظ رکھے اور اپنی زبان اور ہاتھ سے مسلمانوں کو تکلیف نہ دے ، نہ انھیں گالی دے اور نہ ان کی غیبت کرے اور نہ انھیں زبان سے تکلیف دے، نہ انھیں مارے اور نہ ان کی بے ادبی کرے اور نہ ان کی شان میں کوئی گستاخی کرے اور نہ اپنےہاتھ سے ان پر کوئی زیادتی کرے۔
ایک حدیث میں ہے کہ مومن وہ ہے جس سے دوسرے اہل ایمان کی جانیں اور اموال محفوظ و مامون ہوں۔(بحوالہ نسائی،)ایمان کے لحاظ سے کامل مومن وہ ہے جس کا خُلق سب سے بہتر ہے۔
مومن پر مومن کے سات حقوق واجب ہیں جو اللہ کی طرف سے عائد کیے گئے ہیں۔
1:اس کی نگاہوں میں اس کے لئے عزت و تکریم ہو۔2:دل میں محبت ہو۔3:اسے اپنے مال سے حصہ دے۔4:اس کی غیبت نہ کرے۔5:اگر وہ بیمار ہو تو اس کی بیمار پُرسی کرے۔6:اس کی وفات کی صورت میں اس کے جنازے میں شریک ہو۔7:اس کی موت کے بعد اسے بہتر کلمات سے یاد کرے۔
یعنی کامل مسلمان وہ ہے جس کی زبان سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں یعنی نہ وہ انہیں گالیاں دے، نہ ان پر لعنت بھیجے، نہ ان کی غیبت کرے اور نہ ہی ان کے مابین کسی قسم کا شر و فساد پیدا کرنے کی کوشش کرے اور اسی طرح وہ اس کے ہاتھ سے بھی محفوظ رہیں بایں طور کہ وہ ان پر کوئی ظلم نہ کرے، ناحق اُن سے ان کے مال نہ لے اور اس طرح کی کوئی بھی زیادتی ان کے ساتھ نہ کرے۔ اور حقیقی مہاجر وہ شخص ہے جو اللہ تعالی کی حرام کردہ (امور) کو چھوڑ دے۔
یہ اس شخص کی صفات ہیں، جس کا اسلام مکمل ہو۔ اور مکمل ہونے کا مطلب یہ کہ مسلمان اس کی زبان اور ہاتھ سے محفوظ رہیں۔ اور جو کوئی مسلمانوں کو اپنی زبان یا اپنےہاتھ سے تکلیف دے تو وہ اسلام میں ناقص اور ایمان میں کمزور ہے اور اللہ تبارک و تعالی کے نزدیک محبوب و پسندیدہ نہیں ہے ۔