سنی سنائی بات آگے پھیلانا

 از قلم:… قاری محمد اکرام چکوالی
سورۃ الحجرات سے نو نصیحتیں1:… فَتَبَيَّنُوْٓا : تو خوب تحقیق کرلیاکرو
”اے ایمان والوں !اگر کوئی شریرآدمی تمہارے پاس کوئی خبر لا وے تو خوب تحقیق کر لیا کرو،کبھی کسی قوم کو نادانی سے کوئی ضررنہ پہنچا دو، پھر اپنے کیے پرپچھتانا پڑے۔“ (سورۃالحجرات :آیت 6)رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو آدمی کوئی ایسی بات بیان کرے جس کے بارے میں وہ جانتا ہے کہ یہ جھوٹی ہے تو دو جھوٹوں میں سے ایک جھوٹا وہ بھی ہے۔“
انسان کو اللہ تعالی نے سننے،سمجھنے اور دیکھنے کی بھر پور صلاحیتوں سے نوازا ہے، یہ صلاحتیں خدائی عطیہ اور انعام ہیں اس لئے ان کا استعمال بھی جائز اور درست طریقے سے کرنا چاہیے، لیکن دیکھنے سننے اور سمجھنے کی ان تمام صلاحیتوں کے باوجود بہت سی باتیں اور خبریں جاننے میں انسان دوسروں کی اطلاع کا محتاج اور ضرورت مند ہوتا ہے ،اس اعتبار سے دیکھا جائے تو انسان کی صلاحیتوں کو اللہ تعالی نے بعض حکمت اور مصلحت کے پیش نظر محدود بھی رکھا ہے۔خبریں اور اطلاعات سچی بھی ہوتی ہیں، اور جھوٹی بھی ،قابل اعتبار بھی اور ناقابل اعتبار بھی ،خبر دینے والے جھوٹے بھی ہوتے ہیں اور سچے بھی ،بعض لوگ جھوٹے نہیں ہوتے لیکن مزاج میں غلو اور مبالغہ ہوتا ہے وہ لفظوں کے ایسے جادوگر اور بازی گر ہوتے ہیں کہ ان کی باتیں سننے والے کو رائی کاپہاڑ محسوس ہوتا ہے – بعض حضرات اپنی تقریروں اور تحریروں میں بھی واقعات اور حالات کا تجزیہ پیش کرنے میں مبالغہ اور غلو سے کام لیتے ہیں اورشرع میں تحریر کا حکم بمنزلہ تقریرکے اور مطالعہ کا حکم مثل استماع کے ہے، جس چیز کا تلفظ وتکلم اور استماع گناہ ہے ،ا س کا لکھنا اور چھاپنااور مطالعہ کرنا بھی گناہ ہے ۔تحریر کا حکم زبان کی طرح ہے، کیوں کہ قلم سے جو گناہ سرزد ہوگا وہ زبان کے اعتبار سے زیادہ سنگین ہوگا، کیوں کہ تحریری بات محفوظ ہوتی ہے ۔
کسی بات کا قلم سے لکھنا بعینہ وہی حکم رکھتاہے جو زبان سے کہنے کاہے،جس بات کا زبان سے ادا کرنا ثواب ہے اس کا قلم سے لکھنا بھی ثواب ہے اور جس کا بولنا گناہ ہے اس کا قلم سے لکھنا بھی گناہ ہے،بلکہ لکھنے کی صورت میں ثواب اورگناہ دونوں میں ایک زیادتی ہو جا تی ہے، کیوں کہ تحریر ایک قائم رہنے والی چیز ہے،مدتوں تک لوگوں کی نظر سے گزرتی رہتی ہے، اس لیے جب تک وہ دنیا میں موجود رہے گی اور لوگ اس کے اچھے یابرے اثر سے متاثر ہوتے رہیں گے اس وقت تک کاتب کے لیے اس کا ثواب یا عذاب جاری رہے گا۔(الطرائف والظرائف)
بعض لوگ بے بنیاد خبروں کو سامنے رکھ کر امت کو مایوس کردیتے ہیں اور حالات کی سنگینی کو کچھ زیادہ ہی بڑھا چڑھاکر اور نمک مرچ لگا کر پیش کرتے ہیں۔جھوٹ بولنا اور جھوٹی خبریں پھیلانا آج کے دور کا فیشن بن گیا ہے _ میڈیا نے اسے انتہا پر پہنچا دیا ہے _ اینکروں کی دوڑ لگی ہوئی ہے _ ہر ایک زیادہ سے زیادہ جھوٹی خبریں پھیلانے کے معاملے میں سبقت لے جانا چاہتا ہے _ سوشل میڈیا نے جلتی پر تیل کا کام کیا ہے _ ہر شخص کے ہاتھ میں موبائل ہے _ فیس بک اور واٹس ایپ وغیرہ پر جو مواد بھی ان تک پہنچتا ہے وہ بغیر تحقیق کے اور بغیر یہ دیکھے کہ وہ صحیح بھی ہے یا نہیں ، فوراً اسے فارورڈ کرنے لگتے ہیں ۔دورحاضر کے موجودہ تمام اخبارات کے صدہا تجربات نے اس بات کو ناقابل انکار کر دیا ہے کہ بہت سے مضامین اور واقعات اخبارات میں شائع ہوتے ہیں ، لیکن جس شخص کی طرف سے شائع کیے جاتے ہیں ،اس غریب کو خبر تک نہیں ہوتی اور یہ صورت کبھی تو قصداً کی جاتی ہے او رکبھی سہواً وخطا ہو جاتی ہے ، اس لیے اگر کسی اخبار میں کسی شخص کے حوالے سے کوئی مضمون یاو اقعہ نقل کر دیا جائے تو شرعا اس کو ثابت نہیں کیا جاسکتا۔ ( الطرائف والظرائف)
حضرت حسن بصری رحمہ اللہ کہتے ہیں: “مسلمان معاملات واضح ہونے تک خاموش رہتا ہے”، چنانچہ ایک مسلمان کیلئے یہ بہت بڑی سعادت ہوگی کہ جھوٹی خبریں اور افواہیں پھیلانے سے بچ جائے۔
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت فرماتے ہیں:”جو شخص اپنے بھائی کا عیب چھپائے،اللہ تعالیٰ اس کے عیوب قیامت کے دن چھپائیں گے اور جو شخص اپنے بھائی کے عیب کھولتا ہے،اللہ تعالیٰ اس کے عیب کھول دیتے ہیں،یہاں تک کہ اس کو گھر کے اندر بیٹھے ہوئے رسواکر دیتے ہیں۔“ (الترغیب والتر ہیب ص:104)رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ بیہودہ بات کو چھوڑ نا ان چیزوں میں سے ہے،جو انسان کے اسلام کو آراستہ کر نے والی ہیں۔(مشکوٰۃ)رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اپنے بھائی مسلمان کی مصیبت کے وقت خوشی ظاہر نہ کر،(ایسانہ ہو)کہ خداوند کریم اس پر رحم فرمائے اور تجھ کو اس میں گرفتار کرے۔(مشکوٰۃ)
اس لئے بے سروپا خبروں کو مت پھیلائیں کہ قرآنی آداب اور تعلیمات کو ملحوظ خاطر رکھیں۔اللہ تعالٰی ہم سب کو سچ اور حق بولنے سچ سمجھنے سچ کو پھیلانے اور سچ کی تشہیر کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین!