سبق نمبر 8: وضو کی فرضیت و اہمیت

عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ: ‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ‏‏‏‏ مِفْتَاحُ الصَّلَاةِ الطُّهُورُ، ‏‏‏‏‏‏وَتَحْرِيمُهَا التَّكْبِيرُ، ‏‏‏‏‏‏وَتَحْلِيلُهَا التَّسْلِيمُ.

سیدنا حضرت علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: نماز کی کنجی طہارت، اس کی تحریم تکبیر کہنا، اور تحلیل سلام پھیرنا ہے۔

تحریم سے مراد ان سارے افعال کو حرام کرنا ہے جنہیں اللہ تعالیٰ نے نماز میں حرام کیا ہے، اسی طرح تحلیل سے مراد ان سارے افعال کو حلال کرنا ہے جنہیں اللہ تعالیٰ نے نماز سے باہر حلال کیا ہے، یہ حدیث جس طرح اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ نماز کا دروازہ بند ہے جسے انسان وضو کے بغیر کھول نہیں سکتا اسی طرح اس پر بھی دلالت کرتی ہے کہ اللہ اکبر کے علاوہ کسی اور دوسرے جملہ سے تکبیر تحریمہ نہیں ہوسکتی اور سلام کے علاوہ آدمی کسی اور چیز کے ذریعہ نماز سے نکل نہیں سکتا۔

قرآن حکیم میں وضو کی فرضیت کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

یٰٓاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اِذَا قُمْتُمْ اِلَی الصَّلٰوةِ فَاغْسِلُوْا وُجُوْهَکُمْ وَاَیْدِیَکُمْ اِلَی الْمَرَافِقِ وَامْسَحُوْا بِرُئُوْسِکُمْ وَاَرْجُلَکُمْ اِلَی الْکَعْبَیْنِ. (المائدہ، 5: 6)

مفہوم آیت: اے ایمان والو! جب تم نماز ادا کرنے کا ارادہ کر کے اٹھو تو اپنے چہرے اور کہنیوں تک اپنے ہاتھ دھو لو اور اپنے سروں کا مسح کرو اور اپنے پاؤں (بھی) ٹخنوں تک (دھو لیا کرو) ۔ اگر تمہیں پانی نہ ملے تو پاک مٹی سے تیمم کرو اور اپنے چہرے اور ہاتھوں کا اس (مٹی) سے مسح کر لو۔ اللہ تم پر کوئی تنگی مسلط نہیں کرنا چاہتے لیکن تمہیں پاک صاف کرنا چاہتے ہیں اور یہ کہ تم پر اپنی نعمت کو ایسے طریقے پر مکمل کرے کہ مزید کی گنجائش نہ رہے تاکہ تم شکر گزار بنو۔ (سورۃ المائدۃ: رقم الآیت: 6)

اللہ تعالیٰ نے اہل اسلام پر جتنی عبادات ضروری اور فرض قرار دی ہیں ان میں سے سب سے اہم نماز والی عبادت ہے اور نماز پڑھنے کے لیے ضروری ہے کہ نمازی حدثِ اصغر (بے وضو ہونے) اور حدثِ اکبر (جنابت، حیض اور نفاس) سے پاک ہو، بغیر طہارت کے نماز پڑھنا جائز نہیں اور نہ ہی ایسی نماز قبول ہوتی ہے۔

فقہائے کرام رحمۃ اللہ علیہم فرماتے ہیں کہ فرض کا جاننا اور معلوم کرنا فرض ہوتا ہے اور واجب کا جاننا واجب ہوتا ہے، سنت کا جاننا سنت اور مستحب جاننا مستحب ہوتا ہے۔

اورفرض وہ حکمِ شرعی ہے جو دلیل قطعی (قرآنی حکم اور حدیث متواتر) سے ثابت ہو یعنی ایسی دلیل جس میں شبہ کی کوئی گنجائش نہ ہو جیسے نماز، روزہ، حج اور زکوٰۃ۔ یہ وہ بنیادی ارکان ہیں جن کا ادا کرنا ضروری ہے اور ادا کرنے والا ثواب کا مستحق ہوتا ہے۔ اگر کوئی مسلمان ان کی فرضیت کا انکار کرے تو وہ دائرہ اسلام سے خارج ہو جاتا ہے۔ ان کو بغیر عُذر ترک کرنے والا فاسق اور سزا کا حقدار ہوتا ہے۔

جب کہ “واجب” ظنی دلیل سے ثابت شدہ عمل کو کہا جاتا ہے، نیز فرض کا منکر کافر ہوجاتا ہے، واجب کے انکار پر کفر کا حکم نہیں لگتا۔ فقط واللہ اعلم

فرض: وہ کام جس کا کرنا ضروری ہو اور اس کا ترک کرنا لازماً منع ہو اس کا ثبوت بھی قطعی ہو اور اس کے فعل کے لزوم پر دلالت بھی قطعی ہو، اس کا انکار کفر اور اور اس کا ترک کرنے والا عذاب کا مستحق ہو خواہ دائما ترک کیا جائے یا احیاناً (کبھی کبھی)۔

پھر اسکی دو قسمیں ہیں:

(۱) فرض عین

(۲) فرض کفایہ

٭…فرض عین وہ ہے جسکا کرنا ہر ایک پر فرض ہے جیسے پنج وقتی نمازاور جمعہ کی نماز وغیرہ۔

٭…فرض کفایہ وہ ہے جسکا کرنا ہر ایک پرضروری نہیں بلکہ بعض لوگوں کے اداکرنے سے ادا ہوجائیگا، اور اگرکوئی ادانہ کرے تو سب گناہ گار ہونگے۔ اسی طرح درج ذیل امور کے لیے وضو کرنا فرض ہے:

٭…نماز پڑھنے کے لیے۔

٭…نماز جنازہ پڑھنے کے لیے۔

٭…سجدہ تلاوت کے لیے۔

٭…قرآن مجید کو چھونے کے لیے۔

٭…کعبۃ اللہ کے طواف کے لیے۔

وضو کے چار فرائض ہیں :

٭…چہرے کا دھونا: چہرے کی گولائی، لمبائی کے حدِ طول کے لحاظ سے پیشانی کی سطح کے شروع ہونے کی جگہ سے لے کر ٹھوڑی کے نیچے تک ہے اور عرض (چوڑائی) کے لحاظ سے وہ تمام حصہ جو دونوں کانوں کی لَو کے درمیان ہے۔

٭…دونوں ہاتھوں کا کہنیوں تک دھونا

٭…چوتھائی سر کا مسح کرنا

٭…پاؤں کا ٹخنوں سمیت دھونا۔

مسلم، الصحیح، کتاب الطھارۃ، باب استحباب اطالۃ الغرۃ والتحجیل فی الوضو، 1: 216، رقم: 246

وضو کے واجب ہونے کی درج ذیل شرائط ہیں :

٭…بالغ ہو۔

٭…مسلمان ہو۔

٭…پانی کی اتنی مقدار پر قادر ہونا جو وضو کے لیے کافی ہو۔

٭…حدث (ناپاکی) کا پایا جانا، حدث سے پاک نہ ہو۔

٭…حیض و نفاس سے پاک ہو۔

٭…وقت تنگ نہ ہو۔

اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کلیمُ اللہ علیہ الصلوٰۃُ والسّلام سے فرمایا: اے موسیٰ اگر بے وُضو ہونے کی صورت میں تجھے کوئی مصیبت پہنچے تو خود اپنے آپ کو ملامت کرنا۔

(شُعَبُ الْاِیمان ج۳ص۲۹رقم۲۷۸۲)

حضرت عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی: اے اللہ کے نبی! مجھے وضو کے متعلق بتلائیے! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص ثواب کی نیت سے وضو کرتا ہے وضو کرتا ہے اس دوران جب کلی کرتا ہے، ناک میں پانی ڈالتا ہے اسے اچھی طرح سے صاف کرتا ہے ان اعمال کی وجہ سے اللہ تعالیٰ اس کے منہ اور نتھنوں کے گناہ معاف فرما دیتے ہیں ۔ اس کے بعد جب وہ اللہ کے حکم کے مطابق چہرہ دھوتا ہے تو داڑھی کے کناروں سے اس کے چہرے کے گناہ جھڑ جاتے ہیں ۔ اس کے بعد جب وہ کہنیوں سمیت بازو دھوتا ہے تو ہاتھوں کے پوروں سے وضو کے پانی کے ساتھ اس کے ہاتھوں کے گناہ جھڑ جاتے ہیں ۔ پھر جب وہ سر کا مسح کرتا ہے تو بالوں کے سِروں سے اس کے سر کے گناہ وضو کے پانی کے ساتھ ہی جھڑ جاتے ہیں ۔

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے جسموں کو (حدث اصغر، حدث اکبر اور گناہوں سے) پاک رکھو۔ جو شخص رات کو باوضو سوتا ہے اس کے جسم کے ساتھ لگنے والے کپڑے میں ایک فرشتہ رات گزارتا ہے۔ جب یہ شخص نیند میں کروٹ بدلتا ہے تو فرشتہ اس شخص کے لیے اللہ سے دعا کرتے ہوئے عرض کرتا ہے کہ اے اللہ اپنے اس بندے کی بخشش فرما کیونکہ یہ رات کو پاک ہو کر سویا تھا۔

(المعجم الکبیر للطبرانی، رقم الحدیث: 13620)

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’میرا حوض مقامِ عدن سے لے کر ایلہ تک کے فاصلہ سے زیادہ بڑا ہے۔ اس کا پانی برف سے زیادہ سفید، شہد ملے دودھ سے زیادہ میٹھا اور اس کے برتنوں کی تعداد ستاروں سے زیادہ ہے۔ میں دوسرے لوگوں کو اس حوض سے اس طرح روکوں گا جیسے کوئی شخص اپنے حوض سے پرائے اونٹوں کو روکتا ہے۔ صحابہ کرام نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اﷲ علیک وآلِک وسلم! کیا آپ ہمیں اس دن پہچان لیں گے؟ فرمایا: ہاں تم میں ایک ایسی علامت ہے جو دوسری کسی امت میں نہیں ہوگی۔ تم جس وقت حوض پر میرے پاس آؤ گے۔ تو تمہارے چہرے اور پاؤں آثارِ وضو کی وجہ سے سفید اور چمک دار ہوں گے۔

وضو حفظانِ صحت کے زرّیں اُصولوں میں سے ہے۔ یہ روزمرہ زندگی میں جراثیم کے خلاف ایک بہت بڑی ڈھال ہے۔ بہت سی بیماریاں صرف جراثیموں کی وجہ سے پیدا ہوتی ہیں ۔ یہ جراثیم ہمیں چاروں طرف سے گھیرے ہوئے ہیں ۔ ہوا، زمین اور ہمارے اِستعمال کی ہر چیز پر یہ موذی مسلط ہیں ۔ جسمِ انسانی کی حیثیت ایک قلعے کی سی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہماری جلد کی ساخت کچھ ایسی تدبیر سے بنائی ہے کہ جراثیم اُس میں سے ہمارے بدن میں داخل نہیں ہو سکتے البتہ جلد پر ہو جانے والے زخم اور منہ اور ناک کے سوراخ ہر وقت جراثیم کی زد میں ہیں ۔ اللہ ربّ العزت نے وضو کے ذریعے نہ صرف ان سوراخوں کو بلکہ اپنے جسم کے ہر حصے کو جو عام طور پر کپڑوں میں ڈھکا ہوا نہیں ہوتا اور آسانی سے جراثیم کی آماج گاہ بن سکتا ہے، انہیں وضو کے ذریعے وقتاً فوقتاً دھوتے رہنے کا حکم فرمایا۔ انسانی جسم میں ناک اور منہ ایسے اَعضاء ہیں جن کے ذریعے جراثیم سانس اور کھانے کے ساتھ آسانی سے اِنسانی جسم میں داخل ہو سکتے ہیں ، لہٰذا گلے کی صفائی کے لیے غرارہ کرنے کا حکم دیا اور ناک کو اندر ہڈی تک گیلا کرنے کا حکم دیا۔ بعض اَوقات جراثیم ناک میں داخل ہو کر اندر کے بالوں سے چمٹ جاتے ہیں اور اگر دن میں وقتًا فوقتًا اُسے دھونے کا عمل نہ ہو تو ہم صاف ہوا سے بھرپور سانس بھی نہیں لے سکتے۔ اس کے بعد چہرے کو تین بار دھونے کی تلقین فرمائی ہے تاکہ ٹھنڈا پانی مسلسل آنکھوں پر پڑتا رہے اور آنکھیں جملہ اَمراض سے محفوظ رہیں ۔ اِسی طرح بازو اور پاؤں دھونے میں بھی کئی طبی فوائد پنہاں ہیں ۔ وضو ہمارے بے شمار اَمراض کا ازخود علاج کر دیتا ہے جن کے پیدا ہونے کا ہمیں اِحساس تک نہیں ہوتا۔ طہارت کے باب میں طبِ جدید جن تصورات کو واضح کرتی ہے اِسلام نے اُنہیں عملاً تصورِ طہارت میں سمو دیا ہے۔

آخر میں اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ ہمیں ہر وقت باوضو رہنے اور اس کے فضائل وفوائد حاصل کرنے کی اللہ تبارک وتعالیٰ توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

Lesson 08 وضو کی فرضیت و اہمیت Obligation and Importance of Ablution Dars e Hadees Umar gallery ویڈیو

Please watch full video, like and share Lesson 08 وضو کی فرضیت و اہمیت Obligation and Importance of Ablution Dars e Hadees Umar gallery. Subscribe UmarGallery channel.
Video length: 11:06

https://youtu.be/H6Z_FlQ1LfE