حسن وجمال کے پیکر

عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحْسَنَ النَّاسِ وَجْهًا، وَأَحْسَنَهُمْ خَلْقًا، لَيْسَ بِالطَّوِيلِ الْبَائِنِ وَلَا بِالْقَصِيرِ (متفق عليه)

سیدُنا حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ’’رسول اللہ!ﷺلوگوں میں چہرہ مہرہ کے اعتبار سے سب سے خوب صورت او ر(بقیہ جسمانی ساخت) کے اعتبار سے سب سے حسین وجمیل تھے آپ ﷺ نہ بہت لمبے تھے اور نہ ناٹے(قد) کے تھے۔(متفق علیہ)

حضورسرورکائنات، فخر موجودات، خاتم پیغمبراں، نبی آخرالزماں، جناب محمد رسول اللہ ﷺ کو اللہ رب العزت نے جس طرح کمال سیرت میں سب سے منفرد ویکتا بنایا اسی طرح حسن صورت میں بھی آپ کو بے مثل بے مثال پیدا فرمایا۔آپ ظاہری و باطنی حسن و جمال کے اس مرتبہ کمال پر فائز ہیں جہاں سے ہر حسین کو آپ سے حسن کی خیرات مل رہی ہے۔

حضور نبی اکرم ﷺ صوری و معنوی ہر لحاظ سے اجمل و اکمل، احسن و افضل، احسب و انسب اور اعلیٰ و ارفع ہیں۔ آپ ﷺ کے زندہ معجزوں کی تعداد بے شمار ہے لیکن آپ ﷺ کی زندگی کے ہر پہلو اور ہرہر گوشہ تمام و کمال محفوظ رہنا خود ایک عظیم معجزہ ہے۔ آپ ﷺ کے اقوال وافعال، وضع و قطع، شکل و شباہت، رفتار و گفتار، مذاقِ طبیعت، اندازِ گفتگو، طرزِ زندگی، طریقِ معاشرت، اکل و شرب، نشست و برخاست اور سونے جاگنے کی ایک ایک ادا محفوظ ہے۔صحابہ کرام رضی اللہ عنہم جو، خلوت و جلوت، روز و شب، یُسر و عُسر اور سفر و حضر میں آپ ﷺ کے روئے رخشاں و تاباں کے رخشندہ انوار سے اپنے قلب و نظر کو منور کرتے رہے، اولین مرحلے پر وہی مجاز ہیں کہ آپ ﷺ کے وجود اقدس کی تجلیات کو نثر و نعت میں پیش کر کے اپنی ارادت و عقیدت کو عنبر افشاں الفاظ کے لطیف و نظیف پیرہن میں سمو سکیں صحابہ کرام رضون اللہ علیہم اجمعین نے آپ کے حلیہ مبارکہ کی مختلف تشبیہات اور استعارات کے ذریعہ بیان کرنے کی کوششیں کی ہیں۔ یہ سچ ہے کہ وہ تشبیہات ذات مصطفی کی کماحقہ تمثیل پیش کرنے سے قاصر ہیں مگر ان کو پڑھ کر بے چین دل کو سکون وقرار ضرور مل جاتا ہے،

حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں ایک مرتبہ چاندنی رات میں مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی زیارت کا موقع ملا۔ آپ ﷺ نے سرخ رنگ کی پوشاک زیب تن کر رکھی تھی۔ میں کبھی آپ کے رخِ انور پر نظر ڈالتا کبھی چاند کی طرف دیکھتا۔ کافی دیر یہی سلسلہ جاری رہا اور بار بار تجزیہ کے بعد بالآخر اس نتیجے پر پہنچا کہ آپ ﷺ چودھویں کے چاند سے زیادہ دلربا اور حسین و جمیل ہیں۔ (ترمذی 2811)

کیونکہ چاند کا نور سورج کے نور سے مستعار ہے اس لیے اس میں کمی زیادتی ہوتی رہتی ہے حتیٰ کہ کبھی تو بالکل بے نور ہو جاتا ہے جبکہ حضور انور ﷺ کے رخِ انور کا نور دن رات میں کسی وقت جدا نہیں ہوتا۔کیونکہ چاند کے برعکس یہ آپﷺ کا ذاتی وصف ہے۔

حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے مرضِ وصال کے زمانے میں ہم حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کی امامت میں نماز ادا کر رہے تھے۔ کہ اچانک نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اپنے حجرہ مبارک کا پردہ اٹھایا اوراپنے غلاموں کی طرف دیکھا تو ہمیں یوں محسوس ہوا گویا کہ آپ کا چہرہ انور قرآن مجید کا ورق ہے (بخاری680) امام نووی لکھتے ہیں:

جس طرح قرآن کریم کلام الہی ہونے کے سبب حسی اور معنوی نور پر مشتمل ہونے کی وجہ سے دیگر کلاموں پر فوقیت رکھتا ہے اسی طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم بھی اپنے حسن و جمال،چہرہ انور کی نظافت و پاکیزگی اور تابانی میں یکتا و تنہا ہیں (شرح النووی علی مسلم، ج4 ص 142)

حقیقت یہ ہے کہ ذاتِ خداوندی نے اُس عبدِ کامل اور فخرِ نوعِ اِنسانی کی ذاتِ اَقدس کو جملہ اَوصافِ سیرت سے مالا مال کر دینے سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شخصیت کو ظاہری حُسن کا وہ لازوال جوہر عطا کر دیا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا حسنِ صورت بھی حسنِ سیرت ہی کا ایک باب بن گیا تھا۔ سرورِکائنات حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حسنِ سراپا کا ایک لفظی مرقع صحابۂ کرام اور تابعینِ عظام کے ذریعے ہم تک پہنچا ہے، جس سے پتہ چلتا ہے کہ اللہ ربّ العزت نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو وہ حسن و جمال عطا کیا تھا کہ جو شخص بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پہلی مرتبہ دور سے دیکھتا تو مبہوت ہو جاتا اور قریب سے دیکھتا تو مسحور ہو جاتا۔

حضرت امّ معبد خزاعیہ رضی اللہ عنہا ایک بدوی خاتون تھیں، جنہوں نے صحرا میں خیمہ لگا رکھا تھا،ان کے شوہر حضرت ابو معبد رضی اللہ عنہ بھی وہیں تھے۔ چند اونٹ اور بکریاں ان کا کل سرمایہ تھا اور بکریوں کا دودھ ان کی گزر بسر کا اصل ذریعہ تھا۔ سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت کے موقع پر ان کے خیمے کے آگے سے گزرے تو چند لمحے وہاں بھی قیام فرمایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چند ارشادات سن کر حضرات ام معبد نہایت متاثر ہوئیں، اس وقت ان کے شوہر خیمے میں موجود نہ تھے، وہ آئے تو خالی برتنوں کو دودھ سے بھرے ہوئے پایا اور ام معبد سے پوچھا: یہ دودھ کہاں سے آیا؟ انہوں نے جواب دیا: ایک شخص کی برکت کا نتیجہ ہے جو ابھی ادھر سے گزرا ہے۔ ابو معبدنے تعجب سے سوال کیا: وہ ایسا کون بابرکت شخص ہے، ذرا اس کے بارے میں کچھ بیان تو کرو۔ اس پر ام معبد نے زبان کو حرکت دی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں چند لمحوں میں جو کچھ معلوم ہو سکا تھا، اس طرح بیان کرنا شروع کیا کہ فصاحت و بلاغت کا دریا بہا دیا۔ انہوں نے اپنے ما فی الضمیر کا پوری روانی سے اظہار کیا۔ الفاظ نہایت جچے تلے اور ادب و احترام کے سانچے میں ڈھلے ہوئے تھے۔ ان عربی الفاظ کا ترجمہ ملاحظہ ہو۔

میں نے ایک معزز شخص کو دیکھا جن کی نفاست نمایاں۔ ۔ ۔ چہرہ روشن اور خلقت و بناوٹ میں حسن۔ ۔ نہ موٹاپے کا عیب۔ ۔ نہ دبلاپے کا نقص۔ ۔ خوش رُو۔ ۔ خوبصورت۔ ۔ آنکھیں کشادہ اور سیاہ۔ ۔ پلکیں لمبی۔ ۔ آواز میں کھنک۔ ۔ گردن صراحی دار۔ ۔ داڑھی گھنی۔ ۔ بھویں کمان دار اور جٹی ہوئی۔ ۔ خاموشی میں وقار کا مجسمہ۔ ۔ گفتگو میں صفائی اور دلکشی۔ ۔ سراپا حسن۔ ۔ جمال میں یگانہ روزگار۔ ۔ دور سے دیکھو تو حسین تر۔ ۔ قریب سے دیکھو تو شیریں تر اور جمیل ترین۔ ۔ ۔ بات چیت میں مٹھاس۔ ۔ نہ زیادہ باتیں کریں اور نہ ضروررت کے وقت خاموش رہیں۔ ۔ ۔ گفتگو اس انداز کی جیسے پروئے ہوئے موتی۔ ۔ اگر دو شاخوں کے درمیان ایک شاخ ہوتو وہ دیکھنے میں ان تینوں شاخوں سے زیادہ تروتازہ دکھائی دیں۔ ۔ ۔ قدروقیمت میں سب سے بہتر نظرآئیں۔ ۔ ۔ ان کے کچھ جانثار بھی ساتھ تھے جو انہیں گھیرے ہوئے تھے۔ ۔ ۔ وہ بولتے تو سب خاموش ہوجاتے۔ ۔ ۔ کوئی حکم دیتے تو اس کی تعمیل کے لیے ٹوٹ پڑتے۔ ۔ ۔ سب کے مخدوم سب کے مطاع۔ ۔ ترش روئی سے پاک اور قابل گرفت باتوں سے مبرا۔صلی اللہ علیہ وسلم۔

ابو معبد بولے: خدا کی قسم یہ شخص وہی قریشی معلوم ہوتے ہیں ؛جن کا ذکر میں مکہ میں سن چکا ہوں، میں ارادہ کرچکا ہوں کہ ان کی صحبت کا شرف حاصل کروں۔ اگر کوئی ذریعہ میسر آیا تو ضرور ان کی خدمت میں حاضری دوں گا۔

یہ عرب کی ایک بدوی خاتون کا اندازِ بیان ہے جس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حلیہ مبارک اور سراپا کی تصویر کشی کی گئی ہے۔ اندازہ فرمائیے، کیا حسن کلام ہے، کیا فصاحت و بلاغت ہے، کیا ادبیت ہے، کیا زبان کا نکھار ہے۔

نبی کریمﷺکو دیکھنے والے جب آپ ﷺ کے روئے مبارک کی زیارت سے مشرف ہوتے تو بے ساختہ کہہ اٹھتے کہ آپ ﷺ چاند سے کئی گنا بڑھ کر صاحبِ جمال اور جاذبِ نظر ہیں۔ آپ ﷺ کا حسن قامت بھی اپنی مثال آپ تھا۔ اس لحاظ سے بھی آپ ﷺ تمام انسانوں سے زیادہ حسین و جمیل اور شکیل و رعنا تھے۔

آپ ﷺ کی رنگت، آپ ﷺ کے جسم اطہر کی لطافت و نظافت اور اس حسین پیکر کے بدنِ اَطہر سے پھوٹنے والی عنبریں خوشبو سے بھی اپنے مشامِ جاں کو معطر ہوتا ہوا محسوس کریں گے۔ آپ ﷺ کے موئے مبارک گہرے سیاہ، حسین و جمیل، خم دار اور گیسو مبارک کانوں کی لَو سے بڑھے ہوتے۔ اس باب کے مطالعہ سے آپ یہ بھی جان سکیں گے کہ حضور نبی اکرم ﷺ کے سر انور اور ریش مبارک میں کتنے بال سفید تھے۔جب آپ اپنے بالوں کو جھٹکتے تو آپ ﷺ کا روئے مبارک روشن تر اورتابناک تر ہو جاتا۔ جب آپ ﷺ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی محفل میں صبح صادق یا شام کے وقت تشریف لاتے تو آپ ﷺ کی جبینِ مبارک یوں ضو فشاں ہوتی جیسے روشن چراغ چمک رہا ہو۔ آپ ﷺ کے چشمانِ مقدسہ سیاہ، پلکیں دراز اور پتلیاں گہری سیاہ تھیں جن میں کبھی کبھی سرخ رنگ کے ڈورے بھی دکھائی دیتے۔آنکھیں اس حد تک سرمگیں تھیں کہ جب بھی کوئی عاشق آپ ﷺ کے چہرے کی طرف دیکھتا تو اسے محسوس ہوتا کہ چشمان مقدسہ میں سرمہ لگا ہوا ہے۔ آپ ﷺ کی بصارت اس حد تک تیز تھی کہ رات کے گھنے اندھیرے میں بھی آپ ﷺ اسی طرح دیکھتے جس طرح دن کے اجالے میں دیکھتے ہیں۔ آنے والی سطور میں آپ حضور ﷺ کی دلنشیں آواز، آپ ﷺ کی دیدہ زیب ریش مبارک، آپ ﷺ کے موتیوں سے بھی روشن تر مقدس دانت، آپ ﷺ کے مشک بار رخسار، سینہ مبارک، بطن اقدس، نازک گردن، خوبصورت شانے اور بغلیں، آپ ﷺ کی کلائیاں، ہاتھ، ہتھیلیاں، انگلیاں اور قدمین مبارک کی زیارت سے بھی آپ کی چشمِ تصور بہرہ یاب ہوگی۔ حضور نبی اکرم ﷺ کے جسمِ اَطہر کے کس کس عضوِ مبارک اور وصفِ منور کا بیان کیا جائے! گویا آپ ﷺ حسن و جمال کا ایک جہانِ بے پایاں تھے۔

دنیا بھر کے درختوں سے قلم بنا دیےجائیں، سمندروں اور دریاؤں کے پانیوں کو روشنائی میں تبدیل کر دیا جائے اور بنی نوعِ انسان کے ساتھ جنات بھی مل جائیں اور سب مل کر محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے حسن و جمال کی عظمتوں اور تابانیوں کو احاطہ تحریر میں لانا چاہیں تو فنا ہو جائیں، روشنائی ختم ہو جائے اور خود لکھنے والے بھی لکھتے لکھتے راہیِ ملکِ عدم ہو جائیں۔ مگر یہ ممکن نہیں کہ مصطفی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے لامحدود حسن اور آپ کی سیرت و صورت کے کمالِ حسن کا حق ادا ہو سکے۔نہ کسی قلم میں اتنی سکت ہے کہ آپ کے حسن و جمال کا احاطہ کر سکے اور نہ کسی زبان میں یہ فصاحت و بلاغت کے آپ کے جمال کو بیان کرنے کا حق ادا کرسکے۔ اللہ تعالی نے اپنے حبیب مکرم صلی اللہ علیہ والہ و سلم کے ظاہر و باطن کو وہ عظمتیں اور وسعتیں عطا کی ہیں کہ کسی بشر کے لیے ان کی حقیقت تک رسائی ممکن نہیں۔ جس طرح آپ کا حسن سراپا معجزہ ہے اسی طرح آپ کا پیکرِ ذات بھی ایک معجزہ ہے۔حسن کی تمام ادائیں آپ کی ذات میں جمع ہیں اور جہاں کہیں بھی حسن و کمال پایا جاتا ہے وہ ذات پاک مصطفی کا فیضان ہے۔

لا یمکن الثناء كما كان حقہ۔ ۔ بعد اَز خدا بزرگ توئی قصہ مختصر

Dars e Hadees Hadith 26 Hadees 26 Husn o Jamal Ky Pekar Figure of Beauty Umar Gallery ویڈیو

Please watch full video, like and share Dars e Hadees Hadith 26 Hadees 26 Husn o Jamal Ky Pekar Figure of Beauty Umar Gallery. Subscribe UmarGallery channel.
Video length: 13:37

https://youtu.be/hK1P_AoP8IM