اوریا مقبول جان

من ندیدیم کہ سگے پیش سگے سر خم کرد
اوریا مقبول جان جمعـء 19 جون 2015

انسانی تاریخ میں کہے جانے والے چند بڑے اقوال میں سیدنا عمرؓ کا قول ’’مائوں نے لوگوں کو آزاد جنا تھا‘ تم نے انھیں غلام بنانا کہاں سے سیکھ لیا‘‘، انسانیت کے آسمان پر صدیوں سے کہکشاں کی طرح جگمگا رہا ہے۔ چودہ سو سال پہلے کہا جانے والا یہ قول یقیناً اسلام کی تعلیمات اور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تربیت کا نتیجہ ہے‘ ورنہ عرب کے بادیہ نشین‘ قبائلی معاشرے میں گندھے ہوئے عمرؓ ابن خطاب کو انسانی معراج کی بلندیوں کا کہاں علم تھا۔
ایک ایسا معاشرہ جس میں انسانوں پر انسانوں کی بادشاہت ہر سطح پر موجود ہو‘ گھروں میں غلام اور کنیزیں‘ معاشرے میں اکھڑ اور مفرور سردار اور علاقوں پر ظالم بادشاہ اور فرمانروا۔ ایسے معاشرے میں صرف 23 سال کی تربیت کا یہ عالم کہ خطبہ حجتہ الوداع میں میرے آقا‘ سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ اعلان کریں کہ ’’آج تمہاری جاہلیت کے نسل‘ رنگ اور عصبیت کے بت میرے پائوں تلے کرچی کرچی ہو چکے‘‘۔
اگر کوئی سیاح 612 عیسوی کے لگ بھگ جزیرہ نمائے عرب کا دورہ کرتا جب ابھی رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت نہیں ہوئی تھی اور اپنے ذہن میں عرب کے معاشرے کا ایک نقشہ بٹھا لیتا۔ اس نقشے کو بیان کرنے کی ضرورت اس لیے نہیں کہ دنیا اس تہذیب و تمدن سے الگ تھلگ‘ جنگ و جدل اور عصبیت میں رچے ہوئے عرب معاشرے کو خوب جانتی ہے۔ دنیا کے نقشے پر نہ وہ ایک عظیم سلطنت تھے اور نہ ہی علوم و فنون سے آراستہ کوئی قوم۔ سیاح 23 سال کے بعد واپس لوٹتا تو دم بخود رہ جاتا۔ حیرت سے ان انسانوں کو دیکھتا جنھیں وہ صرف دو دہائیاں پہلے انسانیت کے نچلے ترین درجے پر دیکھ کر گیا تھا‘ آج یہ لوگ کیسے پوری دنیا کے لیے انسانی اخلاقیات اور احترام آدمیت کے مشعل بردار بن چکے ہیں۔
اسے یقیناً اپنی آنکھوں پر یقین نہ آتا۔ اس لیے کہ یہ انفراسٹرکچر اور عمارات کی تبدیلی نہیں تھی‘ انسانوں کی تبدیلی تھی۔ آپ کسی بھی شہر میں ہزاروں لاکھوں مزدور لگا کر بڑے بڑے پلازہ‘ عالیشان عمارتیں‘ بہترین پل‘ دلکشا باغات اور حیرت انگیز سہولیات فراہم کر سکتے ہیں اور یہ سب 23 سال کے عرصے بلکہ اس سے بھی کم میں ممکن ہے۔ محنت سے آپ ایک پورا شہر نیا آباد کر سکتے ہیں لیکن آپ ایک ایسا معاشرہ تخلیق کر دیں جس میں غرور و نخوت میں ڈوبے ہوئے عرب معاشرے میں حضرت عمرؓ جیسا فرد پوری زندگی ایک حبشی غلام حضرت بلالؓ کو سیدنا بلال یعنی میرے آقا بلال کہہ کر پکارے۔
جہاں رسول اکرمؐ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک بستی سے گزریں اور ایک شخص اپنے غلام پر سختی کر رہا ہو اور آپ فرمائیں دیکھو جتنا اختیار تمہیں آج اس غلام پر حاصل ہے‘ اللہ کو روز قیامت اس سے کئی گنا اختیار تم پر حاصل ہو گا تو وہ تھر تھر کانپنے لگے اور فوراً یہ پکار اٹھے ’’میں نے اللّہ کی رضا کے لیے اس غلام کو آزاد کیا۔ عصبیت سے بھرے معاشرے میں کوئی سوچ سکتا تھا کہ خانہ کعبہ کی چھت پر کھڑے ہو کر لوگوں کو اللہ کے گھر کی جانب بلانے کا اعزاز ایک حبشی غلام سیدنا بلالؓ کو حاصل ہو گا۔ کسی نے کبھی تصور بھی کیا تھا کہ لوگوں میں آخرت کی جوابدہی کا احساس اس قدر پختہ ہو جائے گا اور افراد اللہ کے سامنے جانے سے اس قدر ڈریں گے کہ ان کی خواہش یہ ہو گی کہ ان کے گناہوں کی سزا انھیں یہیں مل جائے۔
کسی کو علم نہیں تھا کہ مائدؓ نے زنا کا ارتکاب کیا۔ آپؐ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے مائد ہلاک ہو گیا۔ فرمایا اللہ سے معافی طلب کرو‘ وہ غفور و رحیم ہے۔ دوسری دفعہ پھر دہرایا ’’مائد ہلاک ہو گیا‘‘، وہی جواب ملا‘ تیسری دفعہ دہرایا اور کہا میں اپنے جرم کی سزا یہیں بھگتنا چاہتا ہوں‘ اللہ کے سامنے پیش ہونے سے ڈرتا ہوں۔ سنگسار کر دیے گئے تو آپؐ نے فرمایا مائد نے ایسی توبہ کی ہے کہ اگر پورے مدینے پر تقسیم کر دی جائے تو کافی ہے۔
غرور و نخوت سے بھرپور معاشرہ جس کی حالت یہ کہ جب ابوجہل بدر کے میدان میں معاذ و معوذ کے ہاتھوں زخمی ہو کر گر پڑا اور موت کی گھڑیاں گن رہا تھا تو عبداللہ بن مسعودؓ اس کے سینے پر چڑھ گئے۔ یہ وہی عبداللہ بن مسعود جن کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جائو مکہ کے بازار میں جا کر قرآن سنانا شروع کرو۔ ان کو اللہ نے خوش الحانی بخشی تھی۔ آپؐ ان سے رمضان میں قرآن پاک سنا کرتے تھے اور فرماتے تھے اللہ نے تمہیں حضرت دائود علیہ السلام کے مضامیر میں سے ایک مضامیر عطا کیا ہے۔
انھوں نے قرآن سنانا شروع کیا تو ابوجہل کے حکم سے لوگوں نے انھیں تھپڑ مارنا شروع کر دیے لیکن آپ بازار کے آخر تک قرآن سناتے گئے۔ آج وہ عبداللہ بن مسعود ابوجہل کے سینے پر سوار ہوئے تو سرداری زعم میں بولا، مجھے آج یہ دن بھی دیکھنا تھا۔ پھر کہنے لگا دیکھو آج اگر میرا سر قلم کرو تو گردن کے نیچے سے کاٹنا تا کہ کٹے ہوئے سروں میں پڑا ہوا معلوم ہو کہ سردار کا سر ہے۔
ایسے معاشرے میں خوف خدا کا تصور جاگزیں کرانا، لوگوں کو انسانوں کی غلامی سے آزاد کر کے اللہ کی غلامی کا اسیر بنانا اور پھر اعلان کرنا کہ تم میں سے کسی کالے کو گورے پر اور گورے کو کالے پر، کسی عربی کو عجمی پر اور کسی عجمی کو عربی پر کوئی فضیلت نہیں۔ ہاں فضیلت اس کو ہے جو اللہ سے تم سب سے زیادہ ڈرتا ہے۔ یہ تھا معاشرہ جس سے ایسے افراد نے جنم لیا جو پڑوسی کی ناراضی سے ڈرتے تھے۔ یتیم، مسکین، لاچار اور بیوہ کا حق ادا نہ کرنے سے ڈرتے تھے۔ ایسے معاشرے میں ہی یہ قول تاریخ کی راہداریوں میں گونجتا ہے کہ ’’مائوں نے لوگوں کو آزاد جنا تھا، تم نے انھیں غلام بنانا کہاں سے سیکھ لیا۔‘‘
چودہ سو سال پہلے جس معاشرے نے جنم لیا تھا وہ معاشرہ زیادہ آزاد اور انسانی غلامی سے دور تھا یا آج کا جمہوریت اور جمہوری اقدار کا امین معاشرہ۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ترتیب دیے گئے اور تربیت سے نکھرے ہوئے گروہ کو اگر ایک پارٹی تصور کر لیا جائے تو ان میں ہر کوئی صرف اور صرف اللہ اور اس کے رسول کے احکامات کا پابند تھا۔
ان کے گلے میں صرف اللہ کی غلامی اور سید الانبیاء کی فرمانبرداری کا طوق ہے۔ اب ذرا اس جمہوری اقدار کے معاشرے میں قائم پارٹیوں، گروہوں، انجمنوں، یونینوں اور ایسوسی ایشنوں کو دیکھیے تو آپ حیرت میں گم ہو جائیں گے۔ امریکا اور یورپ سے لے کر ترقی پذیر جمہوری ممالک تک سب جگہ یہ گروہ بدترین غلامی کی مثال ہے۔ مغرب میں جو گروہ پارٹی فنڈنگ کرتا ہے اس کی مرضی کی پالیسی پارلیمنٹ یا کانگریس میں چلتی ہے۔ کوئی اس کے خلاف بات کرنے کی جرأت نہیں کرتا۔ جس تنظیم کے بورڈ آف گورنرز یا ڈونرز بورڈ کے افراد جس قدر سرمایہ فراہم کریں گے وہ تنظیم اسی قدر ان کی رائے کا احترام اور ان کی پالیسیوں پر عمل پیرا ہو گی۔
ہمارے جمہوری معاشرے کا کیا کہنا۔ پارٹی کے لیڈر دن میں اتنا اللہ کا ذکر نہیں کرتے جتنا میرے قائد، میرے لیڈر، یا میرے رہنما کا ذکر کرتے ہیں۔ وہ جرم کرے، کرپشن کرے، بددیانتی کرے، کسی کو قتل کرے یا قتل کروائے، کسی کو بھری محفل میں ذلیل و رسوا کر دے، وہ قائد ہی رہتا ہے اس کے سامنے زبان نہیں کھولی جا سکتی۔ سب سے اہم بات یہ کہ ان تمام افراد کو پتہ ہوتا ہے کہ وہ بددیانت ہے، چور ہے، ظالم ہے لیکن مسلسل جھوٹ بول کر اس کا دفاع کرتے ہیں۔ یہ وہ غلامی ہے جو بظاہر نظر آتی ہے۔ کبھی ان گروہوں، پارٹیوں، انجمنوں اور ایسوسی ایشنوں میں شامل ہو کر دیکھیں آپ کو انسانوں کی انسانوں پر حکومت اور بدترین غلامی کی وہ صورت نظر آئے گی کہ آپ کانپ اٹھیں۔ اقبالؔ نے اسی غلامی کو کتے کی زندگی سے بھی بدتر تعبیر کیا ہے۔ اقبالؔ فرماتے ہیں۔
آدم از بے بصری بندگیٔ آدم کرد
گوہرے داشت ولے نذر قباد و جم کرد
یعنی درخوئے غلامی ز سگان خوار تر است
من نہ دیدم کہ سگے پیشِِ سگے سر خم کرد
انسان اپنی بصیرت کی کمی کی وجہ سے انسان کی غلامی کرتا ہے۔ اسے اللہ نے آزادی کی نعمت عطا کی لیکن وہ اسے بادشاہوں کے سامنے بیچ دیتا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ غلامی تو کتے کی زندگی سے بھی بدتر ہے۔ میں نے آج تک کسی کتے کو دوسرے کتے کے سامنے سر خم کرتے نہیں دیکھا۔

اب دعائے نیم شب میں کس کو میں یاد آؤں گا (آخری حصہ)
اوریا مقبول جان پير 15 جون 2015

امی نے اپنے چند ڈبے زیورات ایک بڑے سے ٹرنک میں واپس رکھ لیے اور ابا جی حسب معمول اپنی تسبیح اٹھا کر چھت پر چلے گئے۔ ان کا معمول تھا کہ رات دیر گئے چھت پر بچھے ایک کھجور کے تنکوں والے مصّلے پر لیٹے تسبیح ہاتھ میں گھماتے اور ستاروں کی گردشوں میں کھوئے رہتے۔ کبھی کبھی میں نے اپنے والد کو طویل سجدوں میں روتے اور اللہ سے دیر تک گفتگو کرتے دیکھا۔ وہ اپنی دن بھر کی کہانیاں میری ماں کو آ کر سناتے جو اس دوران اسی چھوٹے سے صحن میں کبھی کپڑے دھو رہی ہوتی، کھانا پکانے میں مصروف ہوتی یا پھر ہمارے کپڑوں کی پیوندکاری میں مگن، مگر رات کو اللہ سے گفتگو میں ان کی باتیں کچھ اور ہوتیں جو میرے پلے نہ پڑتیں۔ میٹرک کے بعد کا یہ وہ زمانہ تھا جب میں نے ہر قسم کی کتابوں کا مطالعہ شروع کر دیا۔ ایک تو فراغت اور دوسرا گھر کے نزدیک میونسپل کمیٹی کی کنگز لائبریری تھی۔
امام مسجد کے نواسے اور پوتے کے دل میں الحاد نے جنم لینا شروع کیا تو میری ماں پریشان ہو گئی۔ بارہ سال کی عمر، جو پڑھتا ذہن پہ نقش ہو جاتا اور امی کے سامنے آ کر اگل دیتا۔ وہ مجھے حیرت سے تکتی رہتیں۔ اسی دوران میں نے دیکھا امی پریشان سی رہنے لگی ہیں۔ تسبیح اب ان کے ہاتھ میں بھی آ گئی تھی۔ نہیں معلوم کیا کچھ پڑھتیں اور پھر ایک گلاس پانی پر پھونک مار کر مجھے پینے کو دیتیں۔ دہریت کا خمار چڑھے تو آدمی ایسی تمام چیزوں کے اثرات پر یقین کھو دیتا ہے۔ میں پانی پی لیتا اور مسکراتے ہوئے امی سے کہتا، امی آپ اتنی محنت کیوں کرتی ہیں، ان چیزوں کا کوئی اثر تھوڑا ہوتا ہے۔ امی سمجھتیں مجھ پر کوئی آسیب آ گیا ہے۔ کسی نے مجھ پر جادو کر دیا ہے۔
دیکھو اللہ کو ہی نہیں مانتا۔ والد سے شکوہ کرتیں تو وہ خاموشی سے مسکرا دیتے۔ بس اتنا کہتے، کہیں نہیں جاتا، بھاگنے دو اسے جتنا چاہے بھاگ لے، واپس آئے گا، میں نے اسے درود شریف کی لوریاں دے کر پالا ہے۔ لیکن ماں کے دل کو قرار کہاں۔ ایک دن مجھے ساتھ لیا، بس پر سوار ہوئیں اور گکھڑ کے قریب ایک گاؤں میں لے گئیں جہاں ایک بابا، جادو، نظر اور جنات کا علاج کرتا تھا۔ عورتوں کا ایک ہجوم اس کی چار پائی کے ارد گرد اور وہ چادر تان کر لیٹا ہوا۔ اچانک اس کے اندر کوئی روح حلول کرتی اور وہ موٹی موٹی آواز میں بولنے لگتا، ہر کوئی اپنی حاجت بیان کرتا، وہ ایک مہنگا سا نسخہ بتاتا، لوگ ساتھ کھڑے آدمی کو پیسے دیتے اور باہر چلے جاتے۔ میں نے دیکھا امی یقین و بے یقینی کے عالم میں آ گئیں ہیں۔ سب دیکھ کر باہر نکل آئیں، بس پر سوار ہوئیں اور مجھے لے کر گھر آ گئیں۔ سارا رستہ چپ۔ گھر آئیں اور بس اتنا کہا، ایسا مت ہو جانا کہ نانا دادا اپنی قبروں میں شرمندہ ہو جائیں۔
میں کالج داخل ہو گیا۔ ابا جی نے گجرات سے بیس کلو میٹر کے فاصلے پر وزیر آباد کے نزدیک ایک فیکٹری میں ملازمت کر لی۔ بڑھاپا، روزانہ دو بسیں بدل کر دفتر پہنچنا، بیمار ہوئے، میری صابر و شاکر ماں نے صرف اتنا کہا، ہمیں آپ کا سایہ سر پر چاہیے، رزق تو اللہ دیتا ہے۔ اللہ کچھ لوگوں کے فقرے عرش معلیٰ تک جانے سے پہلے ہی قبول کر لیتا ہے۔ میری ماں نے یہ فقرے منہ سے نکالے ہی تھے کہ درسی ادارہ گجرات کے یونس بٹ نے گھر کے دروازے پر دستک دی، ان کے ساتھ ان کے بڑے بھائی صادق بٹ بھی تھے۔ کہنے لگے ہم آپ کو لینے آئے ہیں۔ درسی ادارے کا اکاؤنٹنٹ چھوڑ کر چلا گیا ہے، آپ وہاں آ جائیں۔ یہ ادارہ میرے گھر سے چند قدم کے فاصلے پر تھا۔ زندگی کسی حد تک ڈگر پر آ چکی تھی، لیکن پھر بھی تنخواہ قلیل تھی اور اب تو ہم آٹھوں بہن بھائی کالج اور اسکول جانے لگے تھے۔ گھروں کے کرائے بڑھنے لگے تھے اور ہر چند سالوں بعد جب کوئی مالک مکان کرایہ بڑھانے کو کہتا تو ہم مزید چھوٹے گھر میں منتقل ہو جاتے۔
ایک دفعہ ہم شاہدولہ روڈ پر منتقل ہوئے۔ یہ جگہ ذرا دور تھی۔ ہمارا سامان گدھا گاڑیوں پر منتقل ہوا۔ اس دوران وہ سارے برتن جو امی نے سوکھے ٹکڑے، پرانے جوتے اور کپڑے دے کر خریدے تھے، ٹوٹ گئے۔ برتنوں کے ٹکڑے اٹھا اٹھا کر پھینکتی جاتیں اور کہتیں، چونکہ اب ہمارے گھر کوئی مہمان ہی نہیں آتا، اس لیے اللہ نے یہ فالتو برتن بھی ہم سے لے لیے۔ تسلیم و رضا کی کونسی ایسی منزل ہے جو میں نے اپنی ماں سے نہ سیکھی ہو۔ ہر حال میں خوش رہنا، ہر بڑے سے بڑے نقصان میں اللہ کی جانب سے حکمت اور خیر کا پہلو نکالنا۔ دست سوال تو بہت دور کی بات ہے، بندوں کے سامنے اپنی خواہش کا اظہار تک نہ کرنا۔ ہم سب بہن بھائیوں کو اللہ تبارک و تعالیٰ نے وافر رزق اور نعمتوں سے نوازا ہے۔ گزشتہ چھتیس سال سے میں نوکری کر رہا ہوں۔ ان چھتیس سالوں میں ایک لمحہ بھی ایسا نہیں کہ میری ماں نے کبھی مجھ سے کوئی فرمائش کی ہو، کسی لباس، آسائش کا سامان، یہاں تک کہ کسی موسم کے پھل کی بھی۔ یہ صرف میرے ساتھ ہی نہیں، کسی بہن بھائی سے بھی انھوں نے کوئی فرمائش نہ کی۔
کالج کے موسم کی ہوا میں آوارہ گردی کے جراثیم ہوتے ہیں۔ چھوٹے شہروں میں شام ڈھلے منڈلیاں لگنا شروع ہوتی ہیں۔ ٹیلی ویژن نے یہ سب ختم کر دیا تھا لیکن ہمارے گھر میں تو ٹیلی ویژن تھا ہی نہیں۔ ایک ریڈیو تھا جو ابا جی کے پلنگ کے ساتھ طاق میں پڑا رہتا۔ شام کو چھت پر جا کر اس کا ایریل سیدھا کرنا میری ذمے داری ہوتی۔ میں نے رات دیر سے گھر آنا شروع کر دیا۔ والد ناراض تھے، لیکن امی مجھے ان کی ڈانٹ سے بچا لیتیں۔ ان کی ناراضگی کا اظہار یہ تھا کہ وہ خود اٹھ کر دروازہ نہ کھولتے، میرے دروازہ کھٹکھٹانے پر آواز آتی، آ گیا ہے تمہارا لاڈلا۔ امی دروازہ کھولتیں اور اس وقت چولہا جلا کر روٹی پکا کر دیتیں۔
کبھی ایسا نہ ہوا کہ میری لیے پکا کر رکھ دی ہوں۔ امی کی آنکھ سے میں نے ان تمام مصائب و آلام میں کبھی آنسو بہتے نہیں دیکھے۔ البتہ اتوار کی شام وہ اپنا تمام کام جلد سمیٹ کر میرے والد کی پائنتی آ کر بیٹھ جاتیں۔ ریڈیو سے بانو قدسیہ کا ڈرامہ آتا۔ امی پورے ڈرامے کے دوران آنسو بہاتی رہتیں۔ مجھے بانو قدسیہ پر بہت غصہ آتا کہ یہ کیسی عورت ہے جو میری ماں کو ہر ہفتے رلاتی ہے۔ جب بانو آپا سے ملاقات ہوئی تو میں نے یہ گلہ کیا۔ کہنے لگیں اگر تمہاری ماں میرے ڈراموں کے بہانے نہ روتیں تو تم لوگوں کو صبر اور شکر کے معنی کیسے پتہ چلتے۔
پنجاب یونیورسٹی میں داخل ہوا۔ ہاسٹل میں رہنا۔ اخراجات کا طوفان۔ میرے والد ہر ماہ لاہور آتے اور مجھے دو سو روپے دے جاتے۔ باقی میں اخبار میں مضامین لکھ کر پورا کرتا۔ مجھے حیرانی ہوتی جس شخص کی تنخواہ ڈھائی سو روپے ہے وہ دو سو روپے مجھے دے کر باقی بچوں کو کیسے پالتا ہے۔ لیکن میرے متوکل باپ نے کبھی یہ عقدہ مجھ پر نہ کھولا۔ بلوچستان یونیورسٹی میں استاد ہو گیا۔ یونیورسٹی میں گھر ملا۔ میں نے امی سے کہا کہ سب بہن بھائیوں اور ابا جی کو ساتھ لے کر میرے پاس آ جائیں۔ بولیں یہ اولاد اللہ نے ہمیں پالنے کے لیے دی ہے، تمہیں نہیں۔ یہ ہمارا بوجھ ہے۔ سختی سے منع کر دیا اور اپنی روز مرہ معمولات میں مصروف ہو گئیں۔
سول سروس کا امتحان پاس کیا، اکیڈمی جانے سے پہلے گجرات ابا جی اور امی کے پاس گیا۔ ابا جی بہت خوش تھے۔ گلے ملے تو دیر تک درود پاک کا ورد کرتے رہے۔ امی ساتھ کھڑی تھیں۔ کہنے لگیں یہ نوکری صحیح ہے، لیکن مجھے تو تمہارے پیدا ہونے سے پہلے خواب میں کچھ اور دکھایا گیا تھا۔ میں نے کریدا۔ پورا خواب بیان کیا تو میں نے کہا، امی یہ تو بہت بڑی منزل ہے، بڑی آزمائش ہے، بہت کٹھن راستہ ہے۔ میری ماں نے زندگی کا نچوڑ میرے سامنے رکھ دیا۔ کہنے لگیں۔ کیا ہم خود رستہ منتخب کرتے ہیں، خود اس پر چلتے ہیں۔ جو اللہ اس راستے پر ڈالتا، اس پر چلنے کا حوصلہ بھی دیتا ہے۔
اچھے دن آ گئے، امی کو بیٹیاں بھی ایسی ملیں کہ انھیں ہاتھ کا چھالا بنا کر رکھتیں۔ خدمت میں حد سے گزر جانے والی۔ لیکن امی کے لباس سے سادگی گئی اور نہ رہن سہن میں بناوٹ آئی۔ 1999ء میں ابا جی چلے گئے۔ وہ ابا جی جن کی زندگی سے میں نے ایک عشق سیکھا اور وہ تھا عشق رسولؐ۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ و سلم کا نام آتا تو آنسوؤں کی جھڑی لگ جاتی، حالت غیر ہو جاتی، کبھی کبھی تو ہچکیوں کی آواز اتنی بلند ہوتی کہ امی آ کر سنبھالتیں اور کہتیں، پڑوس میں آواز جائے گی۔ مدینے جانے کی خواہش ان کے دل میں مچلتی تھی۔
ہمارے حالات بہتر ہوئے تو ان کی صحت نے وہاں جانے کی اجازت نہ دی۔ میں عمرے پر گیا، واپس آیا میں نے کہا کہ آپ کا سلام روضہ رسولؐ کے سامنے عرض کر دیا تھا، گھنٹوں روتے رہے اور اس دن کے بعد سے مجھے اوریا صاحب کہنے لگے کہ میں مدینے سے ہو کر آیا ہوں۔ 2010ء میں امی کو عمرے پر لے کر گیا۔ مکے سے مدینہ جانے سے پہلے مجھے ایک جانب لے گئیں اور کہنے لگیں تمہارے باپ کو مدینے جانے کا کتنا شوق تھا، ہر ماہ تھوڑے سے پیسے جمع کرتے، میں خرچ کروا دیتی۔ پنشن آئی، اکٹھے دس ہزار روپے ملے، بہت خوش تھے کہ اب تو مدینے سے بلاوا آ ہی گیا ہے لیکن میں نے سارے پیسے تیری پڑھائی پر لگوا دیے۔

اب دعائے نیم شب میں کس کو میں یاد آؤں گا (1)
اوریا مقبول جان جمعـء 12 جون 2015

امام مسجد کی بیٹی‘ امام مسجد کی بہو‘ میں زندگی بھر اپنی ماں کے بارے میں یہی سوچتا رہا کہ کوئی اس قدر صابر و شاکر زندگی بھی گزار سکتا ہے کہ انتہائی عسرت‘ تنگدستی اور بیماری میں بھی ایک حرفِ شکایت زبان پر نہ آئے‘ نہ دنیا کی بے مرّوتی کا کوئی گلہ اور نہ پروردگار عالم سے کوئی شکوہ۔ مسجد کے منبر و محراب اور راہداریوں کے ارد گرد پلنے والوں کو شاید درس ہی صبر اور شکر کا ملتا ہے۔
مسجد بھی ایک چھوٹے سے گاؤں چک نمبر155 کی جسے پنواں کہتے ہیں۔ والد کا خط پر لکھا ہوا پتہ مجھے آج بھی یاد ہے۔ پنواں‘ ڈاکخانہ خاص‘ براستہ چک جھمرہ‘ لائل پور۔ نہروں کا جال بچھایا جانے لگا تو میرے نانا کے سُسر حافظ محمد اسحاق کو ان کے والد جو ان کے مرشد بھی تھے‘ انھوں نے حکم دیا‘ کھیت کھلیان بعد میں‘ پہلے وہاں اللہ کے گھر کی بنیاد رکھو۔ وہ درویش علی پور سیداں سے بوریا بستر سمیٹ کر اس بے آباد جنگل نما علاقے میں آ بسا۔ دور تک پھیلے کیکر اور ببول کے درختوں اور جھاڑیوں کے درمیان تھوڑی جگہ صاف کی‘ کچی اینٹوں کا فرش بنایا‘ ایک چھوٹے سے چبوترے پر کھڑے ہو کر اذان دی اور لوگوں کو اللہ کے گھر کی جانب بلانے لگا۔
ساتھ ہی اپنے رہنے کے لیے ایک گھر بنایا جس کا ایک چھوٹا سا دروازہ مسجد کی پہلی صف کے آخر میں کھلتا تھا۔ 25 اکتوبر 1936ء کو دنیا سے رخصت ہوئے تو گاؤں اور مسجد کی آبادی بہت بڑھ چکی تھی۔ گاؤں والوں نے مسجد کے برابر دفن کر دیا اور ان کے داماد مولوی احمد حسن صدیقی جو اس وقت ایک اسکول میں استاد تھا‘ اسے حافظ محمد اسحاق کی یہ وصیت سنائی کہ اللہ نے مجھے کوئی بیٹا دیا ہوتا تو اسے حکم دیتا کہ سب دنیا داری چھوڑ کر مسجد کو آباد رکھنے کا فریضہ سرانجام دے‘ لیکن تم داماد ہو اس لیے تم سے درخواست ہے۔ داماد نے سر تسلیم خم کیا‘ پتوکی کے اسکول میں نوکری چھوڑی‘ میری ماں سمیت پانچ اولادوں اور اپنی بیوی کو لے کر مسجد کی بغل میں بنے گھر میں آباد ہو گئے۔
میری ماں اور ان کا بھائی اسکول میں تھے‘ فوراً ان کے بستے سمیٹے اور روانہ ہو گئے۔ ایک ایسے گاؤں کی سمت جہاں نہ اسکول اور نہ اسپتال۔ اپنے بچوں کو خود گھر پہ پڑھانا شروع کر دیا۔ دیے کی روشنی‘ ستاروں کی چھاؤں‘ بیلوں کی گھنٹیوں کی آوازیں‘ چکی کی گِھرِ گِھرِ کی صدائیں اور پرندوں کے غول‘ یہ سب کچھ میں نے اپنے بچپن میں بھی اس گاؤں میں دیکھا ہے۔ لگتا تھا سب کچھ اس جگہ آ کر تھم سا گیا ہے۔ 1936ء میں بھی ایسا ہی ہو گا۔ والدہ تقریباً دس سال کی ہوئیں تو اللہ نے ان کی ماں کو اپنے پاس بلا لیا۔ ایک بھائی اور تین چھوٹی بہنیں۔ نانا نے میری ماں سے کہا بیٹا‘ یہ گھر اب تم ہی سنبھالو گی۔ چھوٹی سی یتیم بچی نے دوپٹہ سر کے گرد کس کر باندھا اور جو اس کی ماں روز کیا کرتی تھی وہ سب کرنے لگی۔
بھینسوں کا دودھ دھونا‘ لسی بلو کر مکھن نکالنا‘ اوپلے تھاپنا‘ آگ جلا کر کھانا پکانا‘ ساتھ بہتے پانی کے راجباہ سے پانی لانا‘ چاول چھڑنا‘ روئی کو چرخے پر کاتنا اور گھر میں آئی ہوئی بچیوں کو قرآن پڑھانا لیکن اللہ نے اس صابر و شاکر عورت کے بہت سے امتحان لینا تھے۔ اس زمانے میں کوئی بیمار پڑتا تو دور دور تک اسپتال نہ تھا۔ حکیم کی دوا اور باقی اللہ سے دعا کے سوا اور کوئی وسیلہ نہ تھا۔ پہلے بڑا بھائی بیمار ہوا اور دیکھتے دیکھتے قبر میں اتر گیا اور پھر تھوڑے تھوڑے وقفے سے تینوں بہنیں‘ وہ بہنیں جنھیں اپنے ہاتھ سے پالا تھا۔ نانا نے دوسری شادی کی‘ اللہ نے پھر دو بھائی محبت کے لیے دے دیے لیکن ایک اور درویش صفت انسان کا گھر میری ماں کے صبر آزما سفر کا انتظار کر رہا تھا۔ امرتسر کی جامع مسجد خیر دین کے خطیب مولوی خدا بخش کا بیٹا مقبول احمد عباسی‘ چھ ماہ کا تھا کہ 1908ء میں باپ کا سایہ سر سے اٹھ گیا۔
میری دادی نے گوٹا بُن کر اولاد کو پڑھایا۔ پاکستان ہجرت کی تو کلیم داخل کرانے والوں نے میرے والد سے پوچھا کوئی گھر تھا وہاں‘ کہا ہاں تھا‘ کہنے لگے لکھ کر دے تا کہ تمہیں اچھا سا گھر الاٹ کر دیں۔ بولے وہ میرا تو نہ تھا‘ وہ تو مسجد کا تھا۔ آفیسر کے زور دیتے ہوئے کہا‘ لکھ دو سب ایسے ہی لکھ رہے ہیں۔ کہنے لگے یہ تو جھوٹ ہے اور پھر کرایے کے گھر میں اٹھ آئے اور دنیا سے جاتے ہوئے بھی ایک انچ ٹکڑا زمین ترکے میں نہ چھوڑی۔ کس قدر آسان سفر ہوتا ہے ایسے لوگوں کا کہ دنیا سے جاتے ہیں تو کاندھوں پر کوئی بوجھ تک نہیں ہوتا۔ بیس سال ماں کی خدمت میں شادی نہ کی‘ ایک دن ماں نے مجبور کیا تو دونوں ماں بیٹا چک نمبر155‘ پنواں پہنچے اور 13 اپریل 1955ء کو میری ماں کو بیاہ لائے۔ بائیس سال کا فرق‘ لیکن گاؤں کی زندگی سے شہر کی خوشحالی۔ سرکاری ملازمت‘ ابا جی میونسپل کمیٹی لائل پور میں اکاؤنٹنٹ تھے۔
رزق حلال کی دولت سے مالا مال میرا گھر میری ماں کے لیے اجنبی نہ تھا‘ اسے تو ایسی عسرت اور تنگدستی میں زندگی گزارنے کی عادت تھی۔ یہاں تو تھوڑی سی خوشحالی بھی ساتھ تھی۔ ابا جی گجرات میونسپل کمیٹی آ گئے۔ گرمیوں کی چھٹیاں ہوتیں تو وہ ہمیں وزیر آباد کے ریلوے اسٹیشن سے ٹرین پر بٹھاتے اور نانا چک جھمرہ اتار لیتے۔ ایک سال ہم پنواں جاتے اور دوسرے سال ہم جھنگ‘ جہاں ہمارے تایا ڈاکٹر تھے۔ بس ہمارے لیے یہی دو صحت افزا مقام تھے۔ شادی کے تیرہ سال بعد ابا جی ریٹائرڈ ہو گئے۔ میں اس وقت صرف بارہ سال کا تھا اور ہم آٹھ بہن بھائی تھے۔
اب میری ماں کی وہ ٹریننگ کام آنا شروع ہوئی کہ کیسے عسرت و تنگدستی میں گھر کو چلایا جاتا ہے اور کیسے ان تھوڑی سی نعمتوں پر بھی اللہ کا ایسے شکر ادا کیا جاتا ہے جیسے دو جہان کی نعمتیں میسر آ گئی ہوں۔ مٹی کے تیل کا چولہا آسان تھا لیکن خرچ زیادہ‘ امی نے برادے والی انگیٹھی پر کھانا پکانا شروع کر دیا اور بہانہ یہ لگایا کہ تیل کی بدبو روٹیوں میں آ جاتی ہے۔ میں کالج داخل ہوا۔ یونیفارم کی پینٹ سلوانا تھی۔
امی کو مردانہ کپڑے سینا نہیں آتے تھے۔ پڑوس میں محمد حسین برف والے کی بیٹی پینٹ اور ٹی شرٹ سی لیتی تھیں۔ امی نے تین دن میں اس سے سب سیکھ لیا اور پھر ہمارے گھر میں ہم بھائیوں کے کپڑے بھی سیئے جانے لگے۔ تنخواہ بہت کم تھی تو اماں لنڈے جاتیں اور ایک ڈھیر بڑی بڑی شرٹوں اور پینٹوں کا لے آتیں اور پھر انھیں خود چھوٹا کر کے نئے سرے سے ہمیں سی دیتیں۔ لنڈے سے سویٹر لاتیں‘ انھیں ادھیڑ کر اون کے گولے بناتیں اور پھر خود سلائیوں سے کر سویٹر بن دیتیں کہ کہیں میرے بیٹوں کو لوگ یہ نہ کہیں کہ لنڈے کے کپڑے پہن کر آئے ہیں۔ خشک روٹی کے ٹکڑے‘ پرانے جوتے اور ردی اخبار اور بوتلیں جمع کرتی جاتیں۔
جب کافی ہو جاتیں تو گلی میں آنے والے ہرکارے کو بیچتیں اور چند گلاس‘ چائے والے پیالے یا کھانے کی پلیٹیں لے لیتیں۔ یہ سب برتن تو مہمانوں کے لیے ہوتے۔ ہمارے لیے سلور اور اسٹیل کے برتن کہ جنھیں وہ روز دھو کر ایسے چمکاتیں کہ نئے معلوم ہوتے۔ ابا جی کے کپڑے خود سیتیں‘ وہ عموماً سفید شلوار قمیض پہنتے۔ ریٹائرمنٹ سے پہلے دھوبی کے پاس صرف انھی کے کپڑے جاتے جو کلف لگا کر آتے۔ امی نے کلف لگانا بھی سیکھ لیا۔ ابا جی نے کہا رہنے دو‘ دھوبی کے پاس دے آتا ہوں‘ کہنے لگیں پتھر پر مار مار کر دھوتا ہے‘ کپڑے کی ساری آن بان ختم ہو جاتی ہے۔ ریٹائرمنٹ ہوئی تو ابا جی کی پنشن ابھی شروع نہیں ہوئی تھی۔
کوئی نئی نوکری بھی نہ تھی۔ اس زمانے میں شادی کے جوڑوں کے دوپٹوں پر اصلی چاندی کا گوٹہ لگا ہوتا‘ امی نے اتارا‘ اسے آگ میں جلایا اور ساتھ ساتھ ابا جی کو تسلیاں دیتی جاتیں‘ اب میری عمر تھوڑی رہ گئی ہے ایسے کپڑے پہننے کی۔ گوٹا بازار میں بکنے لگا۔ گوٹا ختم ہو گیا‘ پینشن شروع نہ ہوئی اور ادھر سب کی پڑھائی سر پر۔ گھر میں پرانی کورس کی کتابیں نکالیں‘ لئی بنائی‘ سب گھر والے ان کے لفافے بناتے اور میں اور میرا بھائی انھیں دکانوں پر بیچ آتے۔ ایک دن میں بازار گیا تو سب نے کہا کہ ابھی ہمارے پاس لفافے ہیں۔
میں مایوس واپس لوٹا تو میرے متوکل باپ نے کہا‘ آج اللہ خود کوئی بندوبست کر دے گا۔ ایک گھنٹے بعد ڈاکیا منی آرڈر لے کر آ گیا کہ پنشن آ گئی ہے۔ میری خطاطی اچھی تھی‘ میٹرک کے بعد لوگوں نے اّبا جی کو مشورہ دیا کہ اسے سائن بورڈ لکھنے کا کام سکھائیں تا کہ آپ کے لیے آمدن کا ذریعہ بنے۔ والد مجھے ظفر یاد پینٹر کے پاس چھوڑ آئے۔ اس رات میں نے پہلی دفعہ اپنی اس سرتاپا ادب اور خدمت ماں کو اپنے باپ سے گلہ کرتے دیکھا۔ امی کا زیور جو چند ڈبے تھے‘ سامنے پڑے تھے اور میرے والد انھیں بار بار بند کرتے جاتے کہ رکھو اپنے پاس‘ اللہ بندوبست کر دے گا‘ جائے گا یہ کالج۔
(جاری ہے)

بلوچستان؛ بہت کچھ جاننا ضروری ہے
اوریا مقبول جان جمعـء 5 جون 2015

سبّی شہر سے جو راستہ مری قبائل کے ہیڈ کوارٹر کاہان کی طرف جاتا ہے، اس پر چند کلومیٹر کے بعد میدانی علاقہ ختم ہو جاتا ہے اور اونچے نیچے پہاڑ آ جاتے ہیں۔ ان پہاڑوں کے دامن میں سیلاچی قبیلے کا مسکن تلّی واقع ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں سے ایک راستہ کاہان کی جانب نکلتا ہے اور دوسرا راستہ کٹ منڈائی سے ہوتا ہوا ہرنائی کے سرسبز و شاداب علاقے تک جاتا ہے۔
انگریز نے جب ریلوے لائن بچھائی تو وہ سبی سے ہرنائی اور پھر وہاں سے کوئلے کی کانوں کے علاقے شاہرگ سے گزرتی کوئٹہ جاتی۔ اس ریلوے لائن پر کئی سو فٹ اونچا پل تھا جو دو پہاڑوں کے بیچ بنایا گیا تھا۔ ٹرین ایک پہاڑ کے اندر بنائی گئی سرنگ میں داخل ہوتی، باہر نکلتی تو وہ اسی پل پر آتی اور پھر دوسرے پہاڑ میں بنائی گئی سرنگ میں داخل ہو جاتی۔
1896ء میں بنائے جانے والے اس پل کو انگریز انجینئرنگ کا ایک معجزہ تصور کرتے تھے۔ زلزلے نے یہ پل اور سرنگیں تباہ کیں تو پھر بولان کے علاقے میں نئی ریلوے لائن بچھائی گئی اور کوئٹہ کے راستے چمن (افغان بارڈ) اور تفتان (ایران بارڈر) تک آمد و رفت کا سلسلہ شروع ہوا۔ پرانی ریلوے لائن تباہ ہو گئی لیکن سبی سے ہرنائی تک پٹٹری سلامت رہی اور یہی وہاں کے لوگوں کا واحد ذریعہ آمد و رفت تھا اور آج بھی ہے۔ یہ دنیا کی چند خوبصورت ریلوے لائنوں میں سے ایک ہے جو بیجی دریا کے ساتھ ساتھ پہاڑوں کو کاٹ کر بنائی گئی ہے۔
ہرنائی سے سبی تک زمینی راستہ تلّی کے اسی مقام سے شروع ہوتا ہے جہاں سے کاہان کو راستہ جاتا ہے۔ ہرنائی بنیادی طور پر ایک پشتون آبادی کا شہر ہے۔ جب کہ پورا راستہ بلوچ مری قبائل سے آباد ہے۔ اسی علاقے میں خجک کے مقام پر انگریزوں کی مری قبائل کے ساتھ جنگ ہوئی تھی۔ پہلی جنگ میں انگریزوں کو ذلت آمیز شکست ہوئی، پھر رابرٹ سنڈیمن کی فارورڈ پالیسی‘‘ (یعنی قبائل کو اپنا ہمنوا بنانا) کا نفاذ ہوا، تو مری قبائل کو بھی ساتھ ملا لیا گیا۔1880ء کے آس پاس انگریز نے اس علاقے میں اپنے قدم جمائے اور اس نے سبی ہرنائی کو ریل کے ذریعے تو منسلک کیا، لیکن سڑک نہ بنائی اور مریوں کو ان پہاڑوں کے درمیان محصور کیے رکھا۔
وہ اگر سبی میں اپنے مویشی بیچنے بھی آتے تو ان کو باقاعدہ عارضی رہائش کا پرمٹ جاری کیا جاتا۔ یوں وہ پہاڑ جنھیں کٹ منڈائی کا علاقہ کہتے ہیں، کئی سو سال قدیم تہذیب پر رکا ہوا ایک خطہ بن گیا جہاں نہ سڑک تھی، نہ بجلی، نہ اسکول، نہ ڈسپنسری۔ ٹرین وہاں سے گزرتی تو ایسے لگتا جیسے انسانوں کے کسی سفاری پارک سے گزر رہی ہو جہاں تہذیب ایک ہزار سال پرانے ماحول پر ساکت و جامد ہو گئی ہو۔ انگریز چلا گیا لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ سبی وہ واحد ضلع تھا جہاں ایک انگریز ڈپٹی کمشنر آرتھگنٹن ڈیوی (Arthington Devi) جو آزادی کے کئی سال بعد تک اس عہدے پر فائز رہا۔
پاکستان بننے کے بعد جب کبھی بلوچستان میں حالات خراب ہوتے، سب سے پہلے سبی ہرنائی ٹرین نشا نہ بنتی۔ ذوالفقار علی بھٹو نے جب بلوچستان حکومت ختم کر کے آرمی ایکشن شروع کیا تو اس ٹرین کو چلانا اور بھی مشکل ہو گیا۔ اس دوران کوشش کی گئی کہ سبی، ہرنائی روڈ کو تعمیر کر لیا جائے۔ فوجی انجینئروں کے ذریعے تھوڑی دور تک روڈ بنی اور پھر اس کا راستہ مری علاقے کوہلو کی جانب موڑ دیا گیا اور ہرنائی کے پشتون سڑک کے رابطے سے محروم ہی رہے۔ یہ الگ بات ہے کہ مری بلوچ علاقوں میں بھی بنائی جانے والی روڈ چند سال ہی چل سکی۔ زیادہ تر آمد رفت سرکاری گاڑیوں کی رہی اور پھر مدتوں تک یہ خطّہ پھر ایک محصور علاقہ بن گیا۔
1994ء میں جب میں وہاں ڈپٹی کمشنر کی حیثیت سے گیا تو مرحوم سکندر جمالی چیف سیکریٹری اور ذوالفقار مگسی چیف منسٹر تھے۔ اس دوران یہ بات زور شور سے زیر بحث آئی کہ ہرنائی جو ایک سرسبز علاقہ ہے اور جہاں دنیا بھر کے پھل اور سبزیاں کاشت ہوتی ہیں اگر انھیں سبی کے راستے بذریعہ سڑک ملایا جائے تو سندھ کے بازاروں تک انکو رسائی حاصل ہو جائے گی اور یوں یہ علاقہ بہت جلد ترقی کرے گا۔ یہ بلوچستان کا ایک چھوٹا سا اکنامک کاریڈور تھا۔114 سا ل کی بندش کے بعد، میں نے اس سڑک پر کام کا آغاز کرایا۔ نواب خیر بخش مری افغانستان سے واپس آ چکے تھے۔
ان کے دونوں بیٹے سرکار میں وزیر تھے اور چونکہ یہ علاقہ بجارانی مریوں کا تھا اس لیے یہاں زیادہ مزاحمت نہ ہوئی۔ سڑک مری قبائل کے تعاون سے ہی بننا شروع ہوئی۔
تقریباً 80 کلومیٹر تک روڈ مکمل ہو کر سانگان کے علاقے تک پہنچی تو اچانک نواب خیر بخش مری کے گیزینی مری قبائل کے لوگوں نے اسے روک دیا، اس لیے کہ اس کے بعد پشتون علاقہ شروع ہو جاتا تھا۔ لیویز وغیرہ کی مدد سے سڑک تو بنا دی گئی اور اس پر چند سرکاری گاڑیوں نے سفر بھی کر لیا، لیکن مری قبائل کی بلوچ سرزمین سے ہرنائی کے پشتونوں کو راستہ نہ مل سکا اور وہ آج بھی برف پوش پہاڑوں سے ہوتے، کوئٹہ اور پھر بولان یا پھر مستونگ کے ذریعے ملک میں اپنے پھل اور سبزیاں لے جاتے ہیں۔
کوئٹہ میں ہمیشہ پانی کی قلت رہی ہے۔ زیر زمین پانی بہت نیچے ہے۔ اس لیے اسے پینے کا پانی مہیا کرنے کے لیے بار بار منصوبے بنائے جاتے تھے۔ ان میں سے ایک منصوبہ برج عزیز ڈیم کا بھی تھا۔ پشتون علاقوں پشین، قلعہ عبداللہ اور چمن سے ایک برساتی نالہ کوئٹہ تک آتا ہے اور پھر کوئٹہ سے افغانستان میں داخل ہو جاتا ہے اور وہاں سے نوشکی کے علاقے کے قریب بلوچ قبائل مینگل، مجالدینی اور بادینی کی زمینوں کو سیراب کرتا ہوا ایک بڑی جھیل زنگی ناوڑ میں ضم ہو جاتا ہے۔ برج عزیز وہ مقام ہے جہاں سے یہ نالہ افغانستان میں داخل ہوتا ہے۔
وہاں پر بند باندھ کر کوئٹہ کے شہریوں کو پینے کا پانی مہیا کرنے کا منصوبہ80ء کی دہائی کے آخر میں بنایا گیا۔ اس منصوبے کے بعد اس قدر شور مچا کہ دونوں جانب آستینیں چڑھ گئیں، بیان بازی کا آتشیں سلسلہ ایسا جاری ہوا کہ کوئٹہ شہر آگ اور خون میں لت پت ہو گیا۔ اسی دوران یورپی یونین نے بلوچستان کے لیے امداد کے طور پر ایک زرعی کالج کی منظوری دی۔ کالج پشتون علاقے میں بنے یا بلوچ علاقے میں، اس پر اس قدر ہنگامہ کھڑا ہوا کہ کوئٹہ شہر بار بار کرفیو کی زد میں آنے لگا۔
لورالائی کے قریب چمالنگ ایک علاقہ ہے جس کا کوئلہ کوالٹی کے اعتبار سے انتہائی اچھا اور پنجاب کے نزدیک ہونے کی وجہ سے سستا پڑتا ہے۔ اس پر پشتون لونی اور بلوچ مری قبائل کا ایسا جھگڑا کھڑا ہوا کہ بیچارے ٹرک، ڈرائیور مارے جانے لگے۔ یہ تمام جھگڑے افغانستان میں روس کے آنے اور بلوچستان میں افغان مہاجرین سے پہلے بھی سلگتے تھے لیکن بعد میں تو بھڑک اٹھے۔
افغانستان سے آنے والے مہاجرین کے بارے میں یوں تو لوگ یہ کہتے ہیں کہ ہم انھیں پہچانتے ہیں لیکن انھوں نے جس طرح بلوچستان میں جائیدادیں بنائیں، یہاں اپنے ہم قبیلہ پشتونوں سے شادیاں کیں۔ بلوچستان کے چپے چپے میں موجود باغات سنوارنے کا کام کیا، مزدوری کی، گھر بنانے کے کام سے لے کر تندور لگانے تک سب کام کیے۔ یوں وہ اس معاشرے کی ضرورت بن گئے۔ لیکن 80ء کی دہائی میں ایک زمانہ ایسا آیا کہ یہ سلگتی ہوئی آگ پورے بلوچستان میں پھیل گئی۔ وہ راستے جو بلوچ علاقوں سے گزرتے تھے وہاں سے پشتونوں کے لیے سفر مشکل ہو گیا اور وہ تمام مزدور جو باغات اور دیگر جگہوں پر بلوچ علاقوں میں کام کرتے تھے واپس اپنے پشتون علاقوں میں لوٹ گئے۔
دنیا بھر کی خفیہ ایجنسیوں کا ایک حربہ ہے اور یہ بہت ہی کامیاب نسخہ ہے کہ کسی بھی خطے میں موجود اختلافات جنھیں (Fault Lines) کہا جاتا ہے ان کو ابھار کر خونریزی کروائی جائے ا ور مقصد پورا کیا جائے۔ جیسے شیعہ سنی اور عرب عجم کا جھگڑا عراق میں کامیاب رہا، اسی طرح پہلے پنجابی اور بلوچستان کی دیگر اقوام کے درمیان نفرت کا بیج کامیاب رہا، اب پشتون بلوچ ’’فالٹ لائن‘‘ کا آغاز کیا گیا ہے۔ اس کو ابھار نے، اس کو شدید کرنے میں ایسے وہ تمام لوگ اکھٹے ہو چکے ہیں جو اس مملکت خدادا پاکستان کے آغاز ہی سے مخالف ہیں اور جن کو اسلام کے نام پر بنا ہوا یہ ملک ایک آنکھ نہیں بھاتا ہے۔
آپ کو بہت جلد اخبارات، رسائل اور ٹی وی ٹاک شوز میں ایسے لوگ نظر آنا شروع ہو جائیں گے جن کا تو اب اس ملک میں قومیتی ’’فالٹ لائن‘‘ پر سیاست کرنا اور رنگ، نسل اور زبان پر انسانوں کو تقسیم کرنا ہے، کہ یہی ایجنڈا ان تمام ممالک کا ہے جو پاکستان کی تباہی پر متفق ہیں۔ احتیاط لازم ہے اور بہت کچھ جاننا ضروری ہے امن و امان کے لیے اٹھایا گیا ایک چھوٹا سا غلط قدم اس آگ کو مزید ہوا دے سکتا ہے۔

بلوچستان؛ یہ آگ تو تم نے خود لگائی ہے
اوریا مقبول جان پير 1 جون 2015

نسل، رنگ اور زبان کی عصبیت کو اجاگر کرنے کا فریضہ ایک خاص مقصد کے تحت اس مملکت خداداد پاکستان کے پچاس سال تک ترقی پسند اور سوویت یونین کے ٹوٹنے کے بعد سیکولر کہلانے والے دانشور، انتہائی جانفشانی اور محنت سے ادا کرتے رہے ہیں۔ سیاسی محاذ پر ان ’’عظیم دانشوروں، کی آواز وہ سیاسی پارٹیاں اور گروہ بنتے رہے، جنھیں مسلمانانِ ہند نے قائداعظم کی سربراہی میں بدترین شکست سے دوچار کیا تھا۔ جب سے پاکستان تخلیق ہوا، ان تمام دانشوروں کی ایک مخصوص حکمت عملی تھی۔کسی ایک قوم کو ظالم اور باقی تمام اقوام کو مظلوم ثابت کر کے نفرت کا بیج بویا جاتا۔1971ء سے پہلے اس نفرت کو علاقائی رنگ دیا گیا۔
مشرقی پاکستان کے لوگوں کے دلوں میں تاثر جاگزیں کرایا گیا کہ مغربی پاکستان ان کو لوٹ کر کھا رہا ہے۔ پھر پورے مشرقی پاکستان میں مغربی پاکستان اور وہاں کی فوج کو قابل نفرت بنا دیا گیا۔ بنگلہ دیش بھارتی فوج کی مدد سے بن گیا اور آپ آج بھی کسی سیکولر اور نسلی تعصب کے علمبردار دانشور کی تحریر اٹھا لیں، وہ معاشی تجزیے پیش کرے گا کہ دیکھو ہم سے آزاد ہو کر بنگلہ دیش کتنی ترقی کر گیا۔کوئی ان سوالوں کا جواب نہیں دیتا کہ 1971ء کے بعد تقریباً دس لاکھ بنگالی عورتیں بھوک اور افلاس کے ہاتھوں دنیا بھر کے بازاروں میں بیچی گئیں، نوے لاکھ بنگلہ دیشی بھارت میں چند سو روپے کی مزدوری کرنے کے لیے در بدر ہیں۔ دنیا کے ساحلوں پر بھٹکتے اور امان تلاش کرتے روہنگیا مسلمانوں کے ساتھ پچیس فیصد بنگلہ دیشی بھی تھے۔کیا یہ سب 1971ء سے پہلے بھی تھا۔ کوئی اس سوال کا جواب نہیں دے گا بلکہ وہ دوسرے صوبوں میں نفرت کا اگلا بیج بونے کی کارروائی میں لگا ہو گا۔
نفرت کا اگلا بیج پنجابیوں کو بحیثیت قوم ظالم اور باقی تین اقوام کو مظلوم ثابت کرنے کا بویا گیا۔ بلوچ، پختون اور سندھی مظلوم ہیں اور پنجابی ان کے حقوق غصب کر رہا ہے۔ نسل، رنگ اور زبان کے تعصب کا ایک لگا بندھا اصول ہے۔ یہ بڑے تعصب سے ہوتا ہوا چھوٹے سے چھوٹے تعصب کی صورت ظاہر ہو جاتا ہے۔ تعصب جس قدر چھوٹے گروہ تک پہنچے گا، اسی قدر خوفناک اور خونریز ہو جائے گا۔ مثلاً آپ اگر پنجابی اور سرائیکی کشمکش کا مسئلہ حل کر لیں تو پھر یہ برادری تک آ نکلتا ہے۔ آرائیں اور کشمیری لاہور میں لڑتے ہیں تو چیمے اور چٹھے گوجرانوالہ میں۔ یہاں تک کہ آخر کار چھوٹے سے چھوٹے گھرانے تک ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہو جاتے ہیں۔ یہ تعصب وہاں زیادہ شدید اور خون آشام ہو جاتا ہے جہاں ایک سے زیادہ زبانیں بولنے والے اور ایک سے زیادہ نسلوں کے لوگ آباد ہوتے ہیں۔
بلوچستان اس نفرت، تعصب اور اس سے پیدا ہونے والے خونی تصادم کی بدترین مثال ہے۔ پشتون، بلوچ اور بروہی وہاں کئی سو سال سے اپنے اپنے مخصوص قبائلی علاقوں میں باہمی برداشت اور یگانگت کی بنیاد پر آباد چلے آ رہے ہیں۔ ایک بہت ہی قلیل تعداد کوئٹہ شہر میں ہزارہ قوم کی بھی تھی جو ایک صدی قبل وہاں آباد ہوئی اور پھر افغان جنگ کے دوران ہزاروں کی تعداد میں ہزارہ یہاں آ بسے۔ ان کے ساتھ ساتھ پنجابی اور یو پی کے اردو سپیکنگ افراد انگریز کے تعمیراتی کاموں، کوئلے کی کانوں اور چھاؤنیوں کے ساتھ منسلک کاروبار کی وجہ سے کوئٹہ، سبی اور لورالائی میں آباد ہو گئے۔ مدتوں سے یہ لوگ ایک ساتھ رہ رہے تھے۔ لیکن 1917ء میں جب سوویت یونین میں کمیونسٹ انقلاب آیا تو 1920ء میں آذربائیجان کا شہر باکو جو روس کا حصہ تھا، وہاں قومیتوں کی ایک عالمی کانفرنس بلائی گئی جس کا مقصد برصغیر پاک و ہند میں قومی تعصب کو ابھار کر انگریز حکومت کا خاتمہ کرنا تھا۔
اس کانفرنس میں جسے ’’مشرقی عوام کی کانگریس‘‘ “Congress of the People of East” کہا جاتا ہے۔ اس میں بلوچستان کے ایک وفد نے میر مصری خان بلوچ کی سربراہی میں شرکت کی۔ میر مصری خان کانگریس کے فوراً بعد افغانستان چلا گیا، تا کہ وہاں کی حکومت سے اپنے علاقے کی آزادی کی تحریک کے لیے مدد حاصل کر سکے۔ باکو کی یہ کانفرنس شدید اختلافات اور تکرار کا شکار رہی۔ آرمینیا کے عیسائیوں نے انور کمال پاشا کے خلاف تقریریں کیں اور مسلمان وفود جو یوں تو قومیت کے نام پر آئے تھے مگر انھوں نے سوویت یونین کے مسلمانوں کے قتل عام پر شدید احتجاج کیا۔ لیکن اس کانگریس کے بعد کمیونسٹ روس کی ایک پالیسی واضح ہوگئی کہ لوگوں کو نسل، رنگ اور علاقے کے تعصب میں الجھا کر ایک دوسرے سے دست و گریبان کرنا ہے۔
وہ جو طبقاتی کشمکش سے انقلاب کا نعرہ لے کر اٹھے تھے، جن کے ہاں مزدور ایک طبقہ ہوتا ہے، انھوں نے دنیا بھر اور خصوصاً برصغیر اور پھر پاکستان میں مظلوم قومیتوں کا نعرہ مستانہ دے کر ایک ایسی خونریزی کو جنم دیا جو آج تک قائم ہے۔ یہ وار چونکہ کاری تھا اور حربہ آزمایا ہوا تھا، اس لیے سوویت یونین کے خاتمے کے بعد نسل، رنگ اور زبان کے تعصب کا پرچم مغرب کے حکمرانوں کی ان کے پروردہ سیکولر دانشوروں، ان کی امداد پر پلنے والی این جی اوز اور ان کے ہم زبان سیاست دانوں نے اٹھا لیا۔
بلوچستان میں بیج بہت گہرا تھا۔ اس لیے کہ علاقے کی پسماندگی اور مرکز کی عدم توجہی نے اس نفرت کے لیے بہترین فضا مہیا کی تھی۔ بنگلہ دیش کی تخلیق کے بعد ایسی سیاست کو ایک کامیاب تجربہ سمجھا گیا اور پنجابی قوم کو بحثیت ظالم اور غاصب بنا کر پیش کیا گیا جب کہ بلوچستان میں رہنے والے پختون، بلوچ اور براہوی کو ’’برادر اقوام‘‘ کا درجہ دیا گیا۔ ان برادر اقوام میں وہ پنجابی شامل نہ تھے جن کی تین نسلوں کی قبریں بھی وہاں تھیں اور جو ان تمام زبانوں پر عبور رکھتے تھے جو وہاں بولی جاتی ہیں۔ مقصد صاف واضح تھا کہ پنجابی قوم سے نفرت کو اس حد تک آگے بڑھایا جائے کہ خونریزی کرنا یا کروانا آسان ہو جائے۔ یہی وجہ ہے کہ 1974ء میں سندھ سے تعلق رکھنے والے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے اپنی ذاتی انا اور ہٹ دھرمی پر بلوچستان کی حکومت توڑی، آرمی ایکشن کیا، لیکن آپ اس زمانے میں کی گئی بلوچ رہنماؤں کی تقریریں اٹھا لیں، دیواروں پر وال چاکنگ دیکھ لیں آپ کو گالی صرف ’’پنجابی استعمار‘‘ کے خلاف ملے گی باقی سب برادر اقوام تھیں۔
’’برادر اقوام‘‘ کا یہ نعرہ بیچ چوراہے میں پھوٹ گیا جب افغانستان میں روسی افواج داخل ہوئیں اور پختون مہاجرین نے بلوچستان کا رخ کیا۔ عام بلوچ کے لیے تو یہ لوگ ایک نعمت سے کم نہ تھے۔ انھوں نے ان کی بے آباد زمین آباد کیں، انھیں اپنی محنت سے مالا مال کیا لیکن وہ جن کی سیاست کا دارومدار تعصب پر تھا، انھوں نے ہر طرف نفرت کی آگ لگائی۔ کالا باغ کی طرح برج عزیز ڈیم پر لڑائی کا آغاز ہوا ۔ یہ کوئٹہ کو پینے کا پانی مہیا کرنے کا منصوبہ تھا۔ اس پر ایسی لڑائی ہوئی کہ کوئٹہ شہر میدان جنگ بن گیا۔ کوئٹہ میں زرعی کالج بننا تھا جسے غیر ملکی امداد حاصل تھی، اس پر لڑائی ہوئی، کوئی کہتا بلوچ علاقے میں بناؤ اور کوئی پشتون علاقے میں۔ امداد رخصت ہو گئی اور کالج آج تک نہ بن سکا۔ 1988ء میں جب میں اسسٹنٹ کمشنر کوئٹہ تھا تو پورا شہر دو ٹرانسپورٹر رہنماؤں عبدالوہاب پیرعلی زئی (پشتون) اور میر فیروز لہڑی (بروہی، بلوچ) میں اس طرح تقسیم ہوا کہ پورا ایک ماہ کرفیو لگانا پڑا۔
خوفزدہ پشتون بلوچ علاقوں سے کوچ کر گئے اور وہاں تندور جو پشتون چلاتے تھے بند ہو گئے۔ کوئٹہ شہر ایسا میدان جنگ بنا کہ دونوں جانب کے سیاسی رہنما قتل ہونے لگے۔ اب معاملہ پنجابی کا نہیں تھا۔ اقتدار جمہوری طور پر ’’برادر اقوام‘‘ کے پاس تھا اس لیے وہ آپس میں لڑ پڑیں۔ جب پرویز مشرف کے زمانے میں نواب اکبر بگٹی اور بگٹی قبائل کے خلاف مشرف کی ذاتی انا اور ہٹ دھرمی کی بنیاد پر ایکشن شروع ہوا تو ایک دفعہ پھر ’’پنجابی استعمار‘‘ کے نعرے کی گونج سنائی دینے لگی۔ کوئٹہ شہر سے خوفزدہ پنجابی ہجرت کرنے لگے۔ کتنے مارے گئے، کوئٹہ شہر میں بلوچ اور پشتون لڑائی کو وہاں پر موجود پنجابی آبادی پرامن رکھتی تھی۔ جب نواب اکبر بگٹی جاں بحق ہوئے، فساد پھیلا تو ہر خاص و عام جانتا ہے کہ کس طرح قندھار کے اندر بیٹھ کر کوئٹہ میں جائیدادیں خریدیں گئیں اور آج کوئٹہ مکمل طور پر ایک پختون شہر بن چکا ہے جس کا میئر بھی پختون ہے۔
مستونگ کا لک پاس وہ راستہ ہے جو پشتون آبادی کو کراچی سے ملاتا ہے۔ ان کی ٹرانسپورٹ یہیں سے گزرتی ہے، پھل جاتے ہیں، ہوٹل چلتے ہیں۔ مستونگ کا سانحہ ایک خاص منصوبے سے کیا گیا ہے تا کہ اس راستے پر گزرنے والوں کو خوف میں مبتلا کیا جائے۔ یہ کسی ’’ناراض بلوچ‘‘ کا نہیں بلکہ ان قوتوں کا کام ہے جو 1920ء سے آج تک اس دھندے میں مصروف ہیں۔ کیا بلوچستان کے بچے بچے کو یہ حقیقت معلوم نہیں کہ بھارت 1974ء سے افغانستان میں موجود گروہوں کو مالی اور عسکری مدد فراہم کرتا ہے۔
پہلے یہ رہنما سوویت یونین میں شاہزادوں کی طرح رہتے تھے اور اگر شیر محمد مری بیمار ہوتا تو بھارت جا کر علاج کراتا۔ اب یہ انگلینڈ اور سوئٹزرلینڈ میں رہتے ہیں اور سب جانتے کہ سرمایہ کون دیتا ہے۔ نسل، رنگ اور زبان کے نام پر انسانوں کے گلے کاٹو، شناختی کارڈ دیکھ کر بولان کے علاقے میں میں لوگوں کو بسوں سے اتار کر قتل کرنے کی رسم کا آغاز کرو تو میرے ملک کے ’’عظیم دانشور‘‘ اور سیاسی لیڈر انھیں ’’ناراض‘‘ رکھتے ہیں، دہشت گرد نہیں۔ کیا دہشت گردی کی تعریف صرف یہی ہے کہ اس کے چہرے پر داڑھی ماتھے پر محراب اور ٹخنوں سے اونچی شلوار ہو۔

ضمیر کی موت اور پارٹی وفاداری
اوریا مقبول جان جمعـء 29 مئ 2015

اٹھارویں ترمیم کے آئینی مراحل سے جمہوری پارلیمانی آسمان پر چمکنے والے رضا ربانی کی ایک تقریر کو اس ملک کے دانشوروں اور تجزیہ نگاروں نے اِس طرح سراہا جیسے ان کی یہ تقریر ایتھنز کی جیوری کے سامنے سقراط کی تقریر کے ہم پلہ ہو۔ ان کی یہ تقریر فوجی عدالتوں پر لائی جانے والی آئینی ترمیم کے بارے میں تھی، جس میں انھوں نے فرمایا تھا کہ میں آج اپنی پوری سیاسی زندگی میں سب سے زیادہ شرمندہ اور غمزدہ ہوں۔
میرا ووٹ میری پارٹی کی امانت تھی، اس لیے میں یہ ووٹ اسے دے رہا ہوں لیکن میرا ضمیر اس کی اجازت نہیں دیتا۔ جمہوری، پارلیمانی، سیکولر اور سیاسی پارٹیوں سے آراستہ اس نظام کا کمال یہ ہے کہ یہاں ضمیر ہمیشہ پارٹی، پارٹی لیڈر اور پارٹی مفادات کے سامنے شکست کھا جاتا ہے اور اس شکست کو جمہوری نظام کی فتح اور بالادستی کا نام دیا جاتا ہے اور جو شخص اس ضمیر کی موت کا اعلان کرتا ہے اسے عظیم رہنما اور جمہوریت کی مسند اعلیٰ پر سرفراز تصور کیا جاتا ہے۔
یہ پارٹی سسٹم اس جمہوری نظام کا کیوں جزو لاینفک سمجھا جاتا ہے۔ پورے جمہوری نظام کو سیاسی پارٹیوں کا یرغمال کیوں بنایا جاتا ہے۔ سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ آپ امریکا، برطانیہ، یورپ اور یہاں تک کہ بھارت تک اس جمہوری نظام میں سرگرم سیاسی پارٹیوں کے منشور اٹھا کر دیکھ لیں، آپ کو ان میں بہت کم نظریاتی فرق نظر آئے گا۔ جب کہ نظریاتی اساس پر قائم سیاسی پارٹیاں دنیا کے ان جمہوری ملکوں میں ایک کونے میں پڑی ہوئی معلوم ہوتی ہیں جن کا پرچم چند دیوانے اٹھائے پھرتے ہیں۔
تمام بڑی سیاسی پارٹیاں ایک طرح کے گروہ ہیں جو سرمایہ، قبیلہ برادری اور جتھے کی بنیاد پر قائم کیے جاتے ہیں۔ سب کے منشور ایک جیسے ہوتے ہیں اور سب کے لیڈر بھی ایک طرح کے راگ الاپتے ہیں۔ مغربی ممالک میں وقت کے ساتھ ساتھ ایک تصور بہت مضبوط ہوا ہے کہ کوئی اپنی پارٹی چھوڑ کر کسی دوسری پارٹی میں نہیں جا سکتا۔ شکست و فتح، دونوں صورتوں میں وہ سیاسی ورکر یا لیڈر پارٹی کے ساتھ منسلک رہتا ہے اور اپنی باری کا انتظار کرتا ہے۔ انگلینڈ میں مشہور سیاسی رہنما چرچل کی ایک مثال ایسی ہے جس نے اپنی پارٹی چھوڑ کر دوسری پارٹی میں شمولیت اختیار کی تھی اور جنگِ عظیم دوئم کے ہنگاموں میں اس کی یہ حرکت نمایاں نہیں ہو سکی تھی۔
چھوٹے ملکوں کی جمہوریتوں میں تو پارٹی بدلنا شیروانی بدلنے کے برابر سمجھا جاتا ہے۔ بلکہ جو کوئی پارٹی بدلتا ہے اس کے ساتھ یہ خبر بھی میڈیا نشر کرتا ہے کہ وہ اپنے لاکھوں ساتھیوں سمیت پارٹی میں شامل ہوا ہے۔ قبیلے، گروہ، جتھے اور برادری ان ملکوں میں مضبوط ہیں اور ان کا ملغوبہ ایک سیاسی پارٹی ہوتی ہے جو جمہوری نظام کو چلاتی ہے۔ دنیا بھر میں عموماً ہر ملک میں دو یا تین سیاسی پارٹیاں ہوتی ہیں جو میدان سیاست پر چھائی ہوتی ہیں، باقی چھوٹی چھوٹی درجنوں پارٹیاں ہر ملک میں موجود ہوتی ہیں لیکن ان کی حیثیت ایک خاص طبقے، گروہ یا علاقے سے آگے نہیں بڑھتی۔
غیر سیاسی انتخاب، جمہوری نظام میں گالی کیوں ہے؟ آزاد امیدوار تھالی کا بینگن کیوں ہے؟ جیتنے کے بعد بھی وہ اس تلاش میں رہتا ہے کہ اسے کوئی صاحبِ اقتدار پارٹی اپنا لے اور اس کا الیکشن میں جیتنا کام آ جائے۔ کس قدر مضحکہ خیز بات ہے کہ یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ سیاسی پارٹیاں لوگوں کی سیاسی تربیت کرتی ہیں۔ دنیا کے کسی بھی ملک کے بڑے سے بڑے سیاسی لیڈر کی زندگی اور سیاست کو اٹھا کر دیکھ لیں آپ کو وہ ایک سطحی سی شخصیت نظر آئے گا۔ کیا بارک اوباما، جارج بش، ٹونی بلیئر، گورڈن براؤن، منموہن سنگھ، نریندر مودی، نواز شریف اور زرداری اعلیٰ سطح کے مفکرین تھے جنہوں نے اپنی اپنی قوموں کو سیاسی فکر اور سوچ عطا کی۔ ہر گز نہیں۔ وہ تو اس سیکولر سیاسی جمہوری پارلیمانی نظام کے سانچے میں ڈھلے ہوئے روبوٹ تھے جن کی تمام تر صلاحیتیں اس حد تک محدود ہوتی ہیں جنھیں موجودہ کمپوٹر سسٹم کی زبان میں پروگرامڈ (Programmed) کہا جا سکتا ہے۔
اس سیکولر، جمہوری، سیاسی، پارلیمانی نظام کے بنائے گئے پروگرام کے باہر جس نے بھی سوچنے کی کوشش کی، موت اس کا مقدر بنا دی گئی۔ مصر کے صدر مرسی اس کی تازہ ترین مثال ہے۔ آپ ایک سیاسی پارٹی بنا کر، سیاسی جمہوری نظام کا حصہ بن کر اس کے حدود و قیود سے تجاوز کرنے کی کوشش کر کے دیکھیں، آپ کو نشانِ عبرت بنا دیا جائے گا۔ اس لیے کہ یہ سیکولر، سیاسی، جمہوری نظام کارپوریٹ سرمائے نے اپنے مقاصد کے لیے تخلیق کیا ہے۔ عوام کے لیے تجربہ گاہ نہیں بنایا۔ یہ نظام تو انھوں نے اپنے مفادات کے لیے تخلیق کیا ہے اور انھیں اس نظام کے چلا نے کے لیے سیاسی بونے چاہیں، جن کے نزدیک، ضمیر، اخلاق، سچ، اور اعلیٰ اقدار پر پارٹی مفادات مقدم اور محترم ہوں اور وہ ایسا کرنے کو جمہوریت کی بقا اور روح سمجھیں۔
دنیا بھر کی جمہوریتیں، سیاسی پارٹیوں کے ذریعے چلائی جاتی ہیں۔ اس لیے کہ وہ لوگ جنہوں نے اس نظام کی لگامیں اپنے ہاتھ میں رکھنا ہے ان کے لیے ایک ایک فرد کو خریدنے کے بجائے پوری پارٹی کو خرید نا انتہائی آسان اور سہل ہوتا ہے۔ پوری دنیا میں پارٹی فنڈنگ ایک ایسا تصور ہے جس کے تحت دنیا بھر کا سرمایہ دار اپنے کالے، نیلے پیلے اور سفید دھن کے تحفظ کے لیے اپنے سرمائے کا ایک حصہ ان سیاسی پارٹیوں کی نذر کرتا ہے۔
اربوں ڈالر ان پارٹیوں کے اکاؤنٹ میں چلے جاتے ہیں۔ یہ اربوں ڈالر اگر ان پارٹیوں کے پاس نہ ہوں تو کوئی الیکشن تو دور کی بات جمہوریت کے بارے میں سوچنے کا بھی تصور نہیں کر سکتا۔ ہر ملک میں چند ہفتوں کے لیے الیکشن کا ایک خوبصورت میلہ سجتا ہے، اپنے اپنے ماحول کے مطابق جلسوں، ریلیوں، جلوسوں، رقص و سرود اور میلوں ٹھیلوں کے ذریعے عوام کو یہ باور کرایا جاتا ہے کہ ان کے ووٹ سے یہ حکومت بننے جا رہی ہے اور عوام ہی اصل طاقت ہیں جو سیاست دانوں کو حکمران بناتے ہیں۔
چند ہفتے عوام اس خوبصورت فریب میں مبتلا رہتے ہیں۔ کبھی ایک پارٹی اقتدار کی راہداریوں میں جاتی ہے اور کبھی دوسری۔ لیکن ان سب کے آقا، مربی، فنانسر اور ان کی لگامیں اپنے ہاتھوں میں رکھنے والے ایک ہی ہوتے ہیں۔ اسی لیے جب کوئی پارٹی مفادات، پارٹی ڈسپلن یا پارٹی گائیڈ لائن کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اپنے ضمیر کی آواز پر لبیک کہتا ہے تواسے غدار، جمہوریت دشمن، لوٹا، مفادات کا غلام قرار دیا جاتا ہے۔
پوری کی پوری پارٹی کو بیچ دیا جائے تو وہ عین جمہوریت، لیکن ایک فرد بکے تو یہ جمہوریت کی توہین ہوتی ہے۔ اس کی سب سے کریہہ مثال یہ ہے کہ امریکا کے سرمایہ داروں نے32 ہزار ارب ڈالر کیمن جزیر ے میں اس لیے رکھے ہیں تا کہ ٹیکس سے بچا جا سکے لیکن امریکی جمہوریت میں دونوں پارٹیوں کا کوئی ایک رکن بھی آواز بلند نہیں کرتا سب کے سب پارٹی ڈسپلن کے پابند ہیں اور یہی اس جمہوری، سیاسی، پارلیمانی نظام کا کمال ہے۔
اخلاق، اقدار، روایات، سچ، ضمیر اور دیانت صرف اور صرف عام آدمی کے لیے۔ بڑا آدمی ضمیر کی آواز پر ایک تقریر کر کے خاموش ہو جاتا ہے۔ وہ نہ سینیٹ کی نشست چھوڑتا ہے اور نہ ہی پارٹی۔ اسے اپنے ضمیر کی آواز کو سلانے کا یہ صلہ ملتا ہے کہ اس ملک کے دانشور اسے عظیم جمہوری رہنما کا لقب دیتے ہیں اور اس ملک کی دونوں پارٹیاں اسے سینیٹ کی چیئرمین شپ سے نواز دیتی ہیں۔ صرف ایک لمحے کو سوچئے اگر وہ ضمیر اور سچ کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے پارٹی سے اختلاف کرتا، پارٹی چھوڑ دیتا، سینیٹ کی نشست سے استعفیٰ دے دیتا تو آج گمنامی کے اندھے کنویں میں اس کا نام و نشان تک مٹ چکا ہوتا ۔

سیکولر قومی ریاستیں اور مظلوم انسان
اوریا مقبول جان جمعـء 22 مئ 2015

انسانی تہذیب کی ارتقاء اور معاشرتی ترقی کی داستان بیان کرنے والے دانش ور، موجودہ سیکولر قومی ریاستوں کو ترقی کی معراج سمجھتے ہیں۔ یہ قومی ریاستیں پہلی جنگِ عظیم کے آس پاس دنیا کے نقشے پر اس طرح ابھریں جیسے جھیل کا پانی خشک ہو جائے تو مٹی کی تہہ میں دراڑیں پڑ جاتی ہیں۔ پہلی جنگِ عظیم سے پہلے کی دو تین صدیاں پانچ قوموں کی دنیا بھر پر یلغار کی صدیاں ہیں۔
ان میں تین اقوام، برطانیہ، فرانس اور اسپین تو وسیع علاقوں پر قابض رہیں جب کہ ہالینڈ اور پرتگال نے نسبتاً کم علاقے اپنے زیرنگیں کیے۔ان تمام اقوام نے آسٹریلیا سے لے کر امریکا کے مغربی ساحلوں تک ہر جگہ کبھی تجارت اور کبھی براہِ راست جنگ کے ذریعے علاقوں پر قبضہ کیا، ان کے وسائل کو لوٹا، وہاں سے انسانوں کی کثیر تعداد کو غلام بنا کر اپنے ملکوں میں لے جایا گیا اور اس لوٹ مار سے اپنے چھوٹے چھوٹے مغربی ممالک کو دنیا کے ترقی یافتہ ملکوں میں تبدیل کر لیا ۔
جب یورپ کے یہ چھوٹے چھوٹے ملک دنیا بھر کی لوٹ مار سے ترقی کی منازل طے کر گئے تو پھر ایک خاص منصوبے کے تحت انسانوں کو سیکولر قومی ریاستوں میں تقسیم کر کے زمین پر مصنوعی لکیریں کھینچ دی گئیں۔ یہ لکیریں آج بھی مصنوعی ہیں، اگر ان لکیروں کے دونوں جانب چاک و چوبند افواج کے مسلح دستے نہ کھڑے ہوں اور ایک جانب سے دوسری جانب جانے والوں کو زبردستی نہ روکیں۔جنگِ عظیم اوّل ختم ہوئی تو ان تمام سیکولر قومی ریاستوں کی ایک انجمن بنائی گئی جسے لیگ آف نیشنز کہتے تھے۔
اس ادارے کا بنیادی مقصد ان مصنوعی لکیروں کے تقدس، حرمت اور قانونی حیثیت کو ایک مسلمہ اصول کی حیثیت سے تسلیم کروانا تھا۔ اسی اصول کے تحت1920ء میں پاسپورٹ کا ڈیزائن، لیگ آف نیشنز میں پیش ہوا۔1924ء تک ویزا ریگولیشن بنائے گئے اور پھر بارڈر سیکیورٹی فورسز نے ہر سیکولر قومی ریاست کی لکیریں جنھیں عالمی سرحدیں کہا گیا تھا، ان کے تحفظ کے لیے بندوقیں تان لیں۔پوری دنیا انسانوں کے ایک بڑے چڑیا گھر میں تبدیل کر دی گئی۔ ہر ملک ایک بہت بڑا پنجرہ تھا، جس میں قید انسان اگر بغیر اجازت دوسرے پنجرے کی طرف گئے ،تو قید کر دیے گئے ، واپس دھکیل دیے گئے یا گولیوں سے بھون دیے گئے۔
ان پنجروں کو سیکولر بنیادوں پر اس لیے استوار کیاگیا، یا پھر یہ حدود سیکولر بنیادوں پر اس لیے زمین پر کھینچی گئیں، تاکہ انسانوں میں موجود نسل، رنگ ، زبان اور علاقے کا نفرت انگیز تعصب ابھر کر سامنے آئے اور وہ اپنے ساتھ بسنے والے انسانوں سے اس قدر نفرت کریں کہ ان کو قتل کرنے، ان کے گھر اجاڑنے، کھیتوں کو آگ لگانے اور شہر برباد کرنے میں بھی سکون حاصل کریں۔ سیکولر قومی ریاستوں کے اس جذبہ نفرت و تعصب کا اظہار پہلی دفعہ جنگ عظیم اوّل میں ہوا۔
کروڑوں لوگ لقمۂ اجل بن گئے۔ سرحدوں کی حرمت اور تقدس کی قسمیں کھائی گئیں، لیکن صرف تیس سال بعد جنگِ عظیم دوم میں ایک بار پھر کروڑوں انسانوں کا خون بہایا گیا، ہزاروں شہر راکھ کا ڈھیر بنا دیے گئے، کروڑوں بے گھر اور خانماں برباد ہوگئے۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ قومی ریاستوں کو سیکولر کیوں رکھا گیا۔ اس لیے کہ اگر کہیں بھی انسانی اقدار، انسانی جان کا احترام اور انسانیت کی مدد کے اصول دستیاب ہیں تو وہ مذاہب میں ملتے تھے۔
عسیائیت ہو یا یہودیت، بدھ ہو یا جین مت، ہندو ازم ہو یا اسلام، ان سب کی کتابوں اور ان کی صدیوں کی تعلیمات میں انسانوں کی مدد اور خیر خواہی کا درس ضرور موجود ہے۔ کم ازکم اپنے ہم مذہب بھائی کے لیے تو ہر مذہب میں ہمدردی پائی جاتی ہے۔لیکن سیکولر قومی ریاست کا کمال یہ تھا کہ جرمن اور فرانس دونوں ایک کا کیشئن نسل سے تھے، ایک مذہب کے پیر وکار تھے، مدتوں ایک ہی رومی سلطنت کا حصہ تھے، لیکن سرحدوں کے تحفظ نے انھیں درندہ بنا دیا۔
سرحدوں کے تقدس اور سیکولر قومی ریاستوں کے تحفظ سے جنم لینے والی درندگی کی مثال اس وقت بحرہند کے سمندروں میں برما سے بھاگے ہوئے روہنگا مسلمانوں کی بھٹکتی ہوئی کشتی میں سوار عورتیں، مرد اور بچے ہیں۔ تھائی لینڈ کے ساحلوں سے گذرتے ہوئے یہ لوگ بھوک اور پیاس سے تڑپ رہے تھے، جب بی بی سی کے ایک صحافی نے ان کی فلم بندی کی ۔ یہ وہ مسلمان ہیں جنھیں برما اپنا شہری تصور نہیں کرتا۔ بنگلہ دیش جن پر اپنے دروازے بند کر چکا۔ پیاس میں تڑپتے ہوئے بچے، بھوک سے نڈھال مرد اور عورتیں، جزائر انڈیمان کے نزدیک چودہ مئی کو انھیں دیکھا گیا۔
انڈونیشیا کی حکومت نے کہا کہ ان کو ساحل پر اترنے میں مدد دینے والے کو گرفتار کر لیا جائے گا۔ یہ ایک کشتی تھی جس میں370مرد اور بچے سوار تھے۔اس وقت تقریباً اس طرح کی تیس کشتیاں جن میں دس ہزار لوگ سوار ہیں، سمندر میں سرگرداں ہیں کہ کسی ملک کی سرزمین انھیں پناہ دے۔ سات دن بعد اس ایک کشتی کے تین سو ستر مسافروں کو ملائیشیا نے اس شرط پر اترنے دیا کہ انھیں واپس ان کے ملک برما بھیجا جائے گا۔
وہ برما جو انھیں اپنا شہری ہی تسلیم نہیں کرتا اور جہاں ان کا قتل عام ہو رہا ہے۔ حیران کن بات یہ ہے کہ جب برما کے ان روہنگا مسلمانوں کو ملائیشیا کے ساحل پر اتارا گیا تو اس میں بنگلہ دیش کے لوگ بھی شامل تھے۔ وہ بنگلہ دیش جسے ساٹھ کی دہائی میں پاکستان کے عظیم دانش ور یہ کہتے تھے کہ مغربی پاکستان ان کے وسائل کو لوٹ رہا ہے۔
1971ء میں آزادی کے بعد اس بنگلہ دیش کی حالت یہ ہوئی کہ تقریباً نوے لاکھ بنگالی بھارت میں معمولی نوکری کرنے کے لیے غیر قانونی طور پر آباد ہیں اور دس لاکھ بنگالی عورتیں دنیا کے بازاروں میں بیچی جا چکی ہے۔ ان بھٹکتی ہوئی کشتیوں میں نامعلوم کتنے بنگلہ دیشی ہوں گے جو خوف اورمعاشی مجبوری کے ہاتھوں پناہ ڈھونڈ رہے ہوں گے۔
دوسرا تماشہ اس سمندر میں لگا ہوا ہے جو مصر، لیبیا، تیونس، الجزائر، شام اور مراکش کو ایک جانب سے چھوتا ہے اور دوسری جانب اسپین، اٹلی، یونان اور یورپ کے ساحلوں پر ختم ہوتا ہے۔ یہ وہ سمندر جس کے ساتھ آباد ممالک سے کبھی امریکا اور یورپ کے سفاک انسانی اسمگلر افریقی غلاموں کو زنجیروں میں جکڑ کرلے جایا کرتے تھے اور اپنے ملکوں میں بیچ دیتے تھے۔ آج یورپی یونین نے اقوام متحدہ سے اجازت مانگی ہے کہ افریقہ اور مشرقِ وسطی سے آنے والی کشتیوں پر فوجی طاقت استعمال کرنے کی اجازت دی جائے۔
اس سال اقوام متحدہ کے اندازوں کے مطابق ساٹھ ہزار افراد نے اس سمندر کو عبور کر کے یورپ میں داخل ہونے کی کوشش کی جن میں سے تیس ہزار کے قریب افراد سمندر کی لہروں کی نذر ہوگئے۔ جب کے International organization for migration کے مطابق2014میں تین ہزار دوسو اناسی(3279) افراد یہ سمندر عبور کرتے ہوئے لقمۂ اجل بن گئے۔ یہ سب لوگ شام ،لیبیا، صومالیہ، اوسیٹریا، نائیجریا اور دیگر ممالک سے ہیں۔ یہ وہ تمام ممالک ہیں جنھیں سیکولر قومی ریاستوں کے نام پر تقسیم کیا گیا۔ افریقہ کے نقشے کو ایسے کاٹا گیا جیسے میز پر کیک رکھ کر کاٹا جاتا ہے۔
پھر ان ممالک پر خانہ جنگی مسلط کی گئی۔ انھیں معاشی طور پر لوٹ کر قحط کا شکار کیا گیا اور آج وہاں کے عوام اپنے ملکوں سے خوف ، بدامنی اور بھوک کی وجہ سے بھاگ رہے ہیں۔ ایک زمانہ تھا جب ان ممالک سے انسانوں کو ایسے پکڑا جاتا تھا جیسے جنگلوں میں جانوروں کو جال لگا کر پکڑا جاتا ہے۔پھر ان کو زنجیروں سے باندھ کر غلام بنا کر لے جایا جاتا تھا۔ ان لوگوں کی محنت سے امریکا کے مسس سپی کی زمینیں آباد ہوئیں اور یورپ کے شہروں کی رونقیں ان کے خون پسینے کی بدولت ہیں۔ آج یہ لوگ اسی یورپ کی جانب جاتے ہیں تو انھیںسمندر کی لہروں میں غرق کر دیا جاتا ہے۔ سیکولر قومی ریاستوں کا یہ خوفناک منظر، انسانی تاریخ کا سب سے بڑا المیہ ہے۔
لیکن کیا ستاون اسلامی ملکوں میں بسنے والے مسلمانوں کو اندازہ ہے کہ اگر روز حشر اللہ نے یہ سوال کر لیا کہ جس دن ہزاروں روہنگا مسلمان بھوک اور پیاس سے مجبور ہو کر سمندر میں دم توڑ رہے تھے اور تم آرام دہ کمروں میں بیٹھے، شاندار مرغن کھانوں سے لطف انداز ہو رہے تھے۔ جب ان کے بچے بھوک سے بلک رہے تھے اور تم اپنے بچوں کو زندگی کو آسائشوں سے بہرہ مند کر رہے تھے۔ ایسے میں حشر کی گرمی اور میزان عدل کی موجودگی میں ہم ڈیڑھ ارب مسلمانوں کے پاس کوئی جواب ہوگا۔سوچئے تو شاید اس بات کا جواب بھی مل جائے کہ ہم پر عذاب کیوں نازل ہوتے ہیں۔

گوادر۔ چاہ بہار، بلوچستان۔ عراق، کراچی۔ بیروت
اوریا مقبول جان پير 18 مئ 2015

کاروباری اور معاشی مسابقت موجودہ دور کی سب سے تلخ حقیقت ہے۔ گزشتہ چند صدیوں سے جس طرح انسان نے دوسرے انسان کے منہ سے نوالہ چھیننے کی کوشش کی ہے اس کی مثال انسانی تاریخ میں اس قدر کریہہ اور ظالمانہ نہیں ملتی۔ بادشاہوں کی افواج آتی تھیں، شہر لوٹ کر چلی جاتی تھیں، لوگ پھر اپنے کاروبار زندگی میں مصروف ہو جاتے تھے۔ کئی بادشاہ علاقے فتح کرتے تھے، انھیں اپنی قلمرو میں شامل کرتے تھے اور پھر وہاں کے لوگوں کو بہتر انصاف اور اچھی زندگی کی ضمانت دیتے، اس لیے کہ اگر وہ ایسا نہ کرتے تو رعایا ان کے خلاف ہو جاتی۔
یہ رعایا جلوس اور ہڑتالیں تو نہ کرتی مگر جب بھی کوئی دوسرا بادشاہ ان کے ملک پر حملہ آور ہوتا تو وہ اس کا ساتھ دیتی اور یوں ایک بدترین غیر ملکی فاتح کی جگہ نسبتاً بہتر غیر ملکی فاتح حکومت کرنے لگتا۔ لیکن آج کے دور کی معیشت اور کاروباری مسابقت کی جنگ نے اتنے ملک برباد کیے ہیں، اتنے شہر اجاڑے ہیں، اسقدر قتل و غارت کا بازار گرم کیا ہے کہ کروڑوں انسان لقمہ اجل بن چکے ہیں۔ ایک ملک یا علاقے نے خود کو ترقی دینا ہو، اسے معاشی طور پر مستحکم کرنا مقصود ہو تو اس کے مقابلے پر آنے والے ملک، شہر یا علاقے کو بدترین خانہ جنگی کا شکار کیا جاتا ہے، اسے قتل و غارت کے طوفان میں غرق کیا جاتا ہے، اس پر عالمی دباؤ کے تحت ایک جنگ مسلط کی جاتی ہے اور کبھی کبھی اس پر حملہ کر کے، اس کے وسائل کو قابو میں لے کر اسے مستقل لوٹا جاتا ہے۔ یہ ہے موجودہ صدی کا معاشی، اقتصادی اور کاروباری میدان کا ’’عالمی اخلاقی اصول‘‘۔
اسی ’’عالمی اخلاقی اصول‘‘ کے تحت پاکستان اور چین کے معاشی راہداری منصوبے کی مخالفت میں علاقائی گدھ اکٹھا ہونا شروع ہو گئے ہیں تا کہ اس منصوبے کے پرندے کو پرواز سے پہلے ہی گلا گھونٹ کر مار دیا جائے۔ پاک چین راہداری کے خلاف ہلاکت انگیز منصوبے کا آغاز 2002 میں ہی کر دیا گیا تھا، جب پاکستان نے گوادر کی بندر گاہ پر چین کی مدد سے کام شروع کیا تھا۔ اس پورے خطے میں بھارت کا سب سے مستحکم دوست ایران ہے۔ یہ دوستی افغانستان میں بھارتی اثر و نفوذ کی ایرانی پالیسی سے جڑی ہوئی ہے۔ جب بھی افغانستان میں پاکستان کے لیے نرم گوشہ رکھنے والی حکومت آئی، بھارت نے ایران کے ساتھ مل کر اسے غیر مستحکم کرنے کی کوشش کی اور اس کے مخالفین کو اسلحہ، ٹریننگ، یہاں تک کہ افرادی قوت تک فراہم کی۔
افغانستان میں پاکستان مخالف حکومت کا قیام بھارت اور ایران کا مشترکہ ہدف ہے۔ گوادر میں چین نے بندر گاہ کا کام شروع کیا تو بھارت نے گوادر سے صرف بہتر کلو میٹر کے فاصلے پر چاہ بہار کے ایرانی شہر میں ایک گہرے پانیوں کی بندر گاہ پر کام شروع کر دیا۔ ایران کی یہ پہلی گہرے پانیوں کی بندر گاہ بنائی جا رہی تھی۔ اس سے پہلے ایران کے پاس بندر عباس کی ایک بندر گاہ تھی جو صرف دس ہزار ٹن کارگو کی اہلیت رکھتی تھی جب کہ زیادہ تر جہاز 25 ہزار ٹن کارگو والے ہوتے ہیں۔ اس لیے زیادہ ترایرانی جہاز دبئی میں مال اتارتے پھر چھوٹے جہازوں میں ایران لے کر آتے۔ بندر عباس ویسے ہی ہرمز کی تنگ پٹی پر واقع ہے اور امریکی جنگی بیڑے بھی وہاں گھومتے رہتے ہیں، اس لیے ایران کو بھارت نے مدد فراہم کی تا کہ وہاں چاہ بہار بندر گاہ بنے اور گوادر کا توڑ کیا جاسکے۔
کچھ عرصہ امریکی پابندیوں کی وجہ سے بھارت نے کام روکے رکھا۔ لیکن جیسے ہی 2012 میں گوادر پورٹ کا انتظام سنگا پور سے لے کر چین کو دیا گیا، بھارت نے امریکا کی پابندیوں کی پروا کیے بغیر چاہ بہار بندر گاہ پر کام دوبارہ شروع کردیا۔ یہ منصوبہ ایران کے راستے افغانستان اور وسطی ایشیا کی ریاستوں کو ملانے کا ہے۔ اس کے لیے بھارت نے کثیر لاگت سے افغانستان میں دلٓارم شہر سے ایرانی سرحدی شہر زرنج تک موٹروے بنا دی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ چاہ بہار سے نو سو کلو میٹر ریلوے لائن بچھائی جا رہی ہے جو بامیان کے افغان صوبے تک جائے گی جہاں ہزارہ قبائل آباد ہیں اور جو ہمیشہ ایران کے اتحادی رہے ہیں۔ وہاں کی ’’آئرن اور‘‘ ’’ORE IRON‘‘کو بھارت کی اسٹیل ملز تک پہنچایا جائے گا۔
پاکستان اور چین کے درمیان موجودہ معاہدے کے بعد اس مسابقت میں بہت تیزی آئی ہے۔ بھارتی کابینہ نے چاہ بہار بندر گاہ کے لیے 85.12 ملین ڈالر منظور کیے ہیں جس سے اس کے انفراسٹرکچر کو بہتر بنایا جائے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ بھارت ہر سال 22 ملین ڈالر اس بندر گاہ کے انتظام پر خرچ کرے گا۔ سات مئی 2015 کو ایرانی وزیر ٹرانسپورٹ عباس احمد اخوندی اور بھارتی وزیر جہاز رانی و ٹرانسپورٹ نے ایک معاہدے پر دستخط کیے ہیں جس کے تحت بھارت دس سال کے لیے یہ بندر گاہ استعمال کرے گا اور دس سال بعد اس پر کی گئی تمام تعمیرات اور مشینری ایرانی ملکیت تصور ہو گی۔ بھارت وہاں ایک کثیر المقاصد کارگو ٹرمینل بنا رہا ہے اور ساتھ ساتھ عارضی مال رکھنے کی بہت بڑی گودی بھی۔
اس بھارت ایران معاہدے کا سرپرست امریکا ہے جو 24 نومبر کو ایران کے چھ ممالک کے ساتھ ایٹمی توانائی معاہدے کے بعد ایران کو اس خطے میں اپنا چوکیدار سمجھنے لگا ہے۔ اس بات کا اندازہ اس سے لگائیے کہ نومبر سے اب تک ایران سے جو تجارتی پابندیاں اٹھی ہیں تو صرف چھ ماہ میں ایران نے سات ارب ڈالر کی تجارت کی ہے۔ امریکا نے افغانستان میں قائم اپنی ٹوڈی حکومت کو بھی اس معاہدے کا حصہ بننے کو کہا۔ افغانستان نے پہلے بھارت سے بامیان میں جاحی گاک کے لوہے کے ذخائر کا معاہدہ کیا اور اب ایران میں افغانستان کے سفیر شائدہ محمد ابدالی نے ریلوے لائن اور ایران سے تین ارب ڈالر کی تجارت کے معاہدات مکمل کر لیے ہیں جن پر چند روز میں دستخط ہو جائیں گے۔
چار ممالک کا میڈیا اس بھارت، ایران اور افغانستان معاشی راہداری کے فوائد پر رطلب اللسان ہے۔ اسرائیل کے اخبار یروشلم پوسٹ میں شیلم کالج کے پروفیسر اور عبرانی (Hebrew) یونیورسٹی کے فیلوز مستقل مضامین لکھ رہے ہیں کہ اس منصوبے سے ایران عالمی تجارتی برادری کا حصہ بنے گا اور دنیا کے لیے کم خطرناک ہو جائے گا۔ اس کے بعد مغربی میڈیا، اور پھر بھارتی اور ایرانی میڈیا۔ آپ ان کے ٹیلی ویژن کھول لیں، ان کے اخبارات اٹھا لیں، ویب سائٹس پر چلے جائیں آپ کو ایک ہی بحث ملے گی کہ گوادر کی بندر گاہ اور پاک چین معاشی راہداری سے پہلے چاہ بہار افغانستان راہداری پر تجارت شروع کر دی جائے تو پھر چین اور پاکستان کا خواب چکنا چور ہو جائے گا۔
یوں تو ایک سیدھا سادا کاروباری عمل لگتا ہے اور اسے ایسا ہی بنا کر پیش کیا جا رہا ہے۔ لیکن کاروبار، معیشت اور سرمائے کی ہوس نے موجودہ دور میں جو بھیانک جرائم کیے ہیں ان کی ایک جھلک پاکستان کی سرزمین پر نظر آ رہی ہے۔ بالکل ویسے ہی جیسے دبئی میں امریکی، یورپی اور اسرائیلی سرمایہ کاری شروع ہوئی تو سب نے یہ طے کیا کہ اگر بیروت زندہ سلامت اور ہنستا بستا رہا تو دبئی اس کے سامنے نہیں چل سکے گا۔ پہلے حزب اللہ اور اسرائیل کی جنگ شروع کروائی گئی۔ حزب اللہ کے حسن نصراللہ تو بیروت میں جنگ کے دوران لاکھوں لوگوں کے ہجوم سے خطاب کرتے رہے لیکن اسرائیلی بم عام شہریوں، عمارتوں، پلوں اور سڑکوں پر برستے رہے اور بیروت ملبے کا ڈھیر بنا دیا گیا۔اس کے بعد پورے لبنان کو شیعہ سنی لڑائی میں اسقدر الجھایا گیا کہ وہ آج تک امن کو ترس رہا ہے۔
یہی تجربہ عراق میں دہرایا گیا تا کہ وہ ایرانی فوجی طاقت اور معاشی قوت کے مقابلے میں ابھر نہ سکے۔ افغانستان میں امن کی راہ کو مسدود کرنے کے لیے امت مسلمہ کے اسی اختلاف کو ابھارا گیا۔ پچانوے فیصد افغانستان پر طالبان کی حکومت قائم ہوئی، پرامن بھی تھی اور اسے پاکستان نے تسلیم بھی کر لیا تھا لیکن ایک معمولی سی اقلیت کو اسلحہ، سرمایہ یہاں تک کہ افرادی قوت دے کر ان کے خلاف کھڑا کیا گیا۔ آج پاکستان اس کا تختہ مشق ہے۔ بھارت اور امریکا کے کاسہ لیس صرف ایک ہی مقصد لے کر اکٹھے ہیں کہ اگر چاہ بہار معاشی راہداری نے پھلنا پھولنا ہے تو پاکستان کو پرامن نہیں رہنے دینا۔پاکستان کے دشمن یہاں صرف بدامنی چاہتے ہیں، سب بے چینی اور قتل و غارت کا خواب دیکھ رہے ہیں۔ پاکستان میں بہتے خون میں کسی ایرانی کو اس بات سے کوئی غرض نہیں ہو گی کہ ان کے ہم مسلک کا خون بہہ رہا ہے، کسی بھارتی کو اس بات پر خوشی نہیں ہو گی اگر پاکستان میں شیعہ سنی آپس میں متحد ہو جائیں۔
پاکستان میں بسنے والے شیعہ اور سنی دونوں کوپاکستان سے باہر بسنے والے ہم مسلک حکومتوں کے پرچم دفن کرنا ہونگے۔ جو اس ملک کی سرزمین پر بیٹھ کر صرف مسلک کی بنیاد پر کسی دوسرے ملک کی خیرخواہی اور سلامتی کی بات کرتا ہے وہ اس ملک میں اپنی ہی قبر کھود رہا ہے۔ اس لیے کہ اگر یہ ملک عدم استحکام کا شکار ہوا تو باچا خان کو بھارت تحفہ تو دے سکتا ہے، اس کے پرچم برداروں کو پناہ نہیں دے گا، علماء کو دیوبند اور بریلی میں تقریر کے لیے تو بلا لے گا مگر اپنی سرزمین پر آباد نہیں ہونے دے گا۔ اس طرح ایران بھی مشہد کی زیارت کے لیے راستہ کھولے رکھے گا مگر کسی پاکستانی کو ایرانی قبرستان میں دفن ہونے کی اجازت تک نہ دے گا کہ اس نے تو عراق کی جنگ میں مارے جانے والے پاکستانیوں کو بھی خارجی قبرستان میں دفنایا تھا۔ اس سے پہلے کہ کراچی بیروت، بلوچستان، لبنان اور پاکستان کو عراق بنانے کا خواب دیکھنے والے کامیابی کی طرف بڑھیں، ہمیں اس کاروباری مسابقت کے عفریت کو روکنا ہو گا۔

جدید نظام تعلیم، جعلی ڈگریاں اور کارپوریٹ اخلاقیات
اوریا مقبول جان پير 25 مئ 2015

دنیا بھر میں رائج جدید نظام تعلیم جسے مغربی تہذیب کی سب سے بڑی کامیابی تصور کیا جاتا ہے، اس کا کمال یہ ہے اس نے طالب علم کا رشتہ استاد سے صرف علم کی ترسیل تک محدود کر دیا ہے جب کہ اس ساری تعلیم کا دار و مدار کمرہ امتحان، سوالنامہ، قابلیت اور اہلیت ناپنے کے پیمانے اور اس کے نتیجے میں ملنے والی ڈگری کو علم کی معراج تصور کیا جاتا ہے۔ اس ڈگری کی قدر و قیمت بھی کسی طالب علم کے علمی مرتبے کی اس وقت تک پہچان نہیں بنتی جب تک اس ڈگری کو مارکیٹ میں سرمائے میں تولا نہ جائے۔ ڈگری کی اہمیت اور قدر و منزلت سرمائے سے منسلک ہے۔ آپ انسانی معاشرت، ادبی تاریخ، مابعد الطبیعاتی فلسفہ جیسے اعلیٰ موضوعات پر بہترین یونیورسٹیوں سے ڈگری لے کر آ جائیں، دنیا بھر میں جوتیاں چٹخاتے پھریں گے، جب کہ اس کے مقابلے میں مارکیٹنگ جیسے سطحی مضمون میں معمولی سا ڈپلومہ بھی آپ کو لکھ پتی بنا سکتا ہے۔
دنیا کی تاریخ میں بیس سے زیادہ تہذیبوں نے اپنے نظام تعلیم بنا کر رائج کیے۔ ان سب میں علم کا مقصد بنیادی طور پر علم کا حصول تھا اور ایک استاد اس بات کا اعلان کرتا تھا کہ میں نے اپنے اس شاگرد کو مکمل علم سکھا دیا ہے اور اب یہ اس سے انسانیت کو فیضیاب کر سکتا ہے۔ دنیا میں کسی بھی تہذیب کے مدرسوں میں پہلی، دوسری اور تیسری پوزیشن کی جنگیں طلبا کے اعصاب پر سوار نہیں کی جاتی تھیں۔ استاد، شاگرد اور تعلیمی ادارے کا تعلق آخری عمر تک قائم رہتا۔ جدید مغربی نظام تعلیم سے قبل دنیا کی تمام بڑی بڑی ایجادات، تصنیفات اور علمی موضوعات پر کام تعلیمی اداروں میں ہوا۔ لیکن جدید مغربی نظام تعلیم نے کاغذ کے اس ٹکڑے جسے ڈگری، ڈپلوما یا سرٹیفکیٹ کہتے ہیں، اس کے حصول کے بعد طالب علم کو مارکیٹ کے کھلے سمندر میں پھینک دیا گیا جہاں وہ اپنے حاصل کیے گئے علم کو مارکیٹ کی اخلاقیات کے تابع کر کے استعمال کرتا ہے۔
مارکیٹ کا تعلق بھی کسی تعلیمی ادارے سے نہیں بلکہ ڈگری، ڈپلوما اور سرٹیفکیٹ تک محدود ہے اور ان ڈگریوں کی اصل کو جانچنے کے لیے بھی ایک ادارہ یا کئی ادارے موجود ہیں جو کسی استاد سے یہ سوال نہیں کرتے کہ تمہارا یہ شاگرد علمی استعداد میں کیسا تھا بلکہ ڈگری پر لگی مہر، دستخط اور ریکارڈ کے درست ہونے کی تصدیق کرتے ہیں۔ یہ ہے جدید نظام تعلیم کا شاندار خوبصورت کاغذ جسے ڈگری کہتے ہیں اور ان کے گرد گھومتا ہے جدید تصورِ علم، ڈگریوں کی مارکیٹ میں کھپت اور قیمت اور اس پر مبنی جدید معاشرہ۔
چونکہ پوری دنیا کا کارپوریٹ کلچر اپنی بددیانتی، بے ایمانی، دھوکے اور فراڈ کی وجہ سے پہچانا جاتا ہے، اس لیے یہ کیسے ہو سکتا تھا کہ اس کے تعلیمی نظام میں کام کرنے والے دیانت اور ایمانداری کے پرتو ہوں۔ اسی لیے جہاں دنیا بھر میں یونیورسٹیوں کا جال بچھا ہوا ہے جو تعلیم کے بعد ڈگریاں دیتی ہیں وہیں ان سے کہیں زیادہ ایسے ادارے موجود ہیں جو جعلی ڈگریاں بناتے اور بیچتے ہیں۔ امریکا میں انھیں ’’ڈپلوما ملز Diploma Mills‘‘ کہا جاتا ہے۔ چونکہ بددیانت کارپوریٹ معاشرے کو ان جعلی ڈگریوں کی ضرورت ہے، اس لیے امریکا میں ایجوکیشن ایکٹ 1965ء کے تحت اعلیٰ تعلیم کو دیکھنے، جانچ پڑتال کرنے، اداروں کے معیار کو پرکھنے کا کوئی مربوط نظام موجود نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکا میں جعلی ڈگری بیچنے والی یونیورسٹیوں کا بازار لگا ہوا ہے۔ جنوری 2010ء میں سی این این نے جارج گولن George Gollin کا تفصیلی انٹرویو کیا۔ یہ شخص امریکا کی ہائر ایجوکیشنل کونسل کا رکن ہے۔
اس نے کہا کہ امریکا میں ہر سال ایک لاکھ جعلی ڈگریاں بیچی جاتی ہیں جن میں سے 35 ہزار کے قریب ایم اے اور ڈاکٹریٹ کی ڈگریاں ہوتی ہیں۔ جعلی ڈگری بنانا اور بیچنا اسقدر آسان ہے کہ آپ کو صرف ایک ویب سائٹ بنانا ہوتی ہے، جہاں ایسے ڈپلوما اور ڈگریاں بنا کر بیچے جا سکیں، جن پر اصل کا گمان ہو اور ایسی یونیورسٹیاں کاغذی طور پر تخلیق کی جائیں جو اصلی معلوم ہوں۔ ان ڈگریوں کے خریدار ہر قسم کے ہوتے ہیں۔ نوکری لینے والے، نوکری میں پروموشن لینے والے، دوستوں پر رعب ڈالنے والے، سیاست میں الیکشن لڑنے کے لیے اپنا پروفائل بہتر بنانے والے۔ گولن نے “Saint Rigis” کی مثال دی جس نے نو ہزار چھ سو ڈگریاں بیچ کر سات ملین ڈالر کمائے۔ اس نے مثال دی کہ ایک امریکی نے نیوکلئر انجینئرنگ کی ڈگری ایسے ہی ایک ادارے سے حاصل کی اور وہ اب ایک نیو کلئر پلانٹ کے کنٹرول روم میں کام کر رہا ہے۔
اس وقت امریکا میں چار سو ڈپلوما ملز کام کر رہی ہیں اور تین سو جعلی ڈگری بنانے والی ویب سائٹس آزادانہ اپنا کاروبار کر رہی ہیں۔ یہ کاروبار پانچ سو ملین ڈالر پر محیط ہے۔ اسی طرح یورپ کے جعلی تعلیمی ادارے اور ویب سائٹس 50 ملین ڈالر لے کر ہر سال 15 ہزار افراد کو تعلیمی اسناد دیتی ہیں۔ دنیا کے ہر شعبہ میں اور ہر بڑے ملک میں یہ جعلی ڈگری کے حامل کام کر رہے ہیں۔ ان میں ڈاکٹر بھی ہیں اور انجینئر بھی، نفسیات دان بھی اور سائنس دان بھی۔ ایسے ڈپلوما اور ڈگری بیچنے والوں پر جب مقدمہ چلا تو ان کے دلائل اس پورے موجودہ نظام تعلیم کارپوریٹ معاشرے کی ہنسی اڑا رہے تھے۔ ان کے وکیلوں نے کہا ’’ہم نے کبھی کسی یونیورسٹی ڈگری کی نقل نہیں بنائی یہ الگ بات ہے کہ ہماری ڈگریاں اصل سے ملتی جلتی ہیں، ہم نے کسی کے جعلی دستخط نہیں بنائے، ہمارے اپنے دستخط کرنے والے ہیں۔ ہمارے پاس چار لاکھ ایسے ڈیزائن ہیں جو اصلی ڈگریوں سے بھی زیادہ خوبصورت اور جاذب نظر ہیں‘‘۔
امریکا کا 1980ء کا “Dipscam” آج بھی جعلی ڈگریوں کا سب سے بڑا سکینڈل تصور کیا جاتا ہے۔ اسی زمانے میں امریکا کی ریاست وائمنگ “Wyoming” ان ڈپلوما ملز کی آماجگاہ تھی۔ اسی دور میں ٹیکساس کے ایک سرکاری وکیل نے اپنی بلی کولبی نولن “Colby Nolan” کے لیے ایسی ہی ایک یونیورسٹی ٹرنٹی ساوتھرن یونیورسٹی سے ایم بی اے کی ڈگری حاصل کی۔ اس بلی نے بی اے کی ڈگری کے لیے درخواست جمع کروائی لیکن یونیورسٹی نے اس کی اعلیٰ کارکردگی کی بنیاد پر اسے ایم بی اے کی ڈگری دے دی۔ 2004ء میں امریکا کی ہوم لینڈ سیکیورٹی کی رکن لارا کولاہان Laura Collahan سے استعفے لے لیا گیا، کیونکہ اس کی ڈاکٹریٹ کی ڈگری ایسی ہی ایک جعلی یونیورسٹی ’’ہملٹن یونیورسٹی،، سے تھی جب کہ اصل یونیورسٹی کا نام اس سے ملتا جلتا ’’ہملٹن کالج،، تھا۔ 1980ء سے لے کر آج تک ان ڈپلوما ملز کا دھندا پورے یورپ اور امریکا میں چل رہا ہے۔
وہ امریکا اور یورپ جو شک کی بنیاد پر لوگوں کو سالوں قید میں ڈال دیتا ہے۔ جعلی کرنسی، جعلی ویزوں اور جعلی پاسپورٹ پر بدترین سزائیں دیتا ہے۔ دہشت گردی کے خلاف ایسے قانون بناتا ہے کہ عام آدمی کا بھی جینا مشکل ہو جائے وہاں ایسی ویب سائٹس اور ایسی یونیورسٹیوں کو کیوں چلنے دیا جاتا ہے، ان کے لیے سخت قانون کیوں نہیں بنائے جاتے۔ اس لیے کہ یہ جعلی ڈگریاں اور ڈپلومے نوے فیصد سے زیادہ امریکی اور یورپی حاصل کرتے ہیں اور پھر جب امریکی اور یورپی کمپنیاں افریقہ، ایشیا، مشرق وسطیٰ اور مشرق بعید میں کام کرنے آتی ہیں تو اپنے ساتھ ایسے ہی جعلی ڈگری اور ڈپلوما والے افراد کو لے کر آتی ہیں۔ اصل ڈگری والے امریکا اور یورپ میں کام کریں گے اور جعلی ڈگری والے ایشیا اور افریقہ میں۔ یہ ہے معیار۔ جنوری 1997ء میں ایشیائی ترقیاتی بینک ہیڈ کوارٹر منیلا میں مجھے بحیثیت ایم ڈی واسا بلوچستان کے لیے ایک اعلیٰ سطح کے “Contract Negociation” میں جانے کا اتفاق ہوا۔
یہ کوئٹہ میں پانی اور سیوریج کے لیے ایک کنسلٹنٹ مقرر کرنے کے لیے میٹنگ تھی۔ یہ میٹنگ سات روز تک چلنا تھی لیکن وہ امریکی فرم جس کے ساتھ معاہدہ ہونا تھا اس کے نمایندے نے دو روز بعد کی ٹکٹ بک کروائی ہوئی تھی۔ میں نے حیران ہو کر بینک کے ڈائریکٹر سے سوال کیا، اس نے ایسا کیوں ہے۔ کہنے لگا آپ آج ہی دستخط کر دو اور باقی چھ دن عیاشی کرو، سب پاکستانی ایسا ہی کرتے ہیں۔ میں نے انکار کیا اور فرم سے اس کے اسٹاف کے پروفائل مانگ لیے جنہوں نے پاکستان میں کام کرنا تھا۔ تین دن کمپیوٹر پر بیٹھنے کے بعد مجھے علم ہوا کہ ان میں نوے فیصد اسی طرح کی جعلی ڈگریوں والے ہیں۔ پانچویں روز جب میں نے اس امریکی فرم کے نمایندے کے سامنے یہ سارا کچا چٹھا رکھا تو اس کا فقرہ تھا۔
“It is commercial suicide working with this man” (اس شخص کے ساتھ کام کرنا تجارتی خود کشی ہے) اور یہ کہتا ہوا میٹنگ چھوڑ کر چلا گیا۔ میں ناکام واپس آیا، لیکن ایک کامیابی تھی کہ میرا ملک ایک بدترین قرض سے بچ گیا۔ ان جعلی ڈگریوں اور ڈپلوموں کی کھپت ہمارے جیسے ملکوں میں ہے اور اس کو خریدنے والے امریکی اور یورپی شہری ہیں۔ کس قدر بودا اور ناکارہ ہے یہ نظام تعلیم جو علم کو پہلے کاغذ کے خوبصورت ٹکڑے سے ناپتا ہے اور پھر مارکیٹ میں اس کی قیمت کے مطابق اس کی عزت کرنا سکھاتا ہے۔ انسانی تہذیب و تاریخ میں اس سے بدترین نظام تعلیم بھی کبھی رائج رہا ہے؟

کیا ہے تو نے متاعِ غرور کا سودا
اوریا مقبول جان پير 11 مئ 2015

کس قدر حیرت اور تعجب کی بات ہے کہ ہم جسے حقائق کی دنیا کہتے ہیں اور جس میں کامیابی و ناکامی پر قوموں کے عروج و زوال کی داستانیں رقم کرتے ہیں میرا اللہ اسے ’’متاعِ غرور‘‘ یعنی دھوکے کا سامان کہتا ہے۔ یہ دنیا اگر کسی سیاستدان، بادشاہ، سائنسدان، دانشور یا کالم نگار نے تخلیق کی ہوتی تو میں یقیناً اسے حقائق کی دنیا تسلیم کر لیتا اور اپنا تمام ماتم دنیا میں کامیابی اور ناکامی سے منسلک کر دیتا۔ لیکن میں کیا کروں، میرا کامل ایمان ہے کہ یہ دنیا اللہ تبارک و تعالیٰ نے تخلیق کی ہے اور وہ اس دنیا کی اس سے زیادہ تعریف نہیں فرماتا کہ یہ دھوکے کا سامان ہے۔ سید الانبیاء ﷺ نے اس دنیا میں رہنے، زندگی بسر کرنے یا ایک معلوم وقت گزارنے کے لیے اس دنیا کی جو تعریف کی ہے اور جس طرح اس کی بے وقعتی کی طرف اشارہ کیا ہے اس سے خوبصورت اس دنیا کو بیان ہی نہیں کیا جا سکتا۔
آپؐ نے اسے ’’عابر السبیل‘‘ یعنی عارضی پڑاؤ، ٹرانزٹ لاؤنج “Transit Lounge” کہا ہے۔ اس دنیا میں آنے سے پہلے بھی صدیوں پر محیط ہماری زندگی تھی اور اس دنیا سے جانے کے بعد بھی ایک لامتناہی زندگی ہمارا مقدر ہے اور ہم ایک تھوڑے سے وقفے کے لیے اس عارضی پڑاؤ یا ٹرانزٹ لاؤنج میں آئے ہیں۔ اللہ نے ہمارا یہ سفر اور یہ عارضی پڑاؤ ایک خاص مقصد کے لیے تخلیق کیا ہے۔ وہ فرماتا ہے کہ ’’ہم نے موت اور حیات کو تخلیق کیا ہے تا کہ دیکھیں کہ تم میں سے اچھے اعمال کون کرتا ہے‘‘ (الملک)۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ اچھے اعمال کی تعریف میں نہ عبادات آتی ہیں اور نہ ہی دنیا کی مادی کامیابی۔ عبادات تو ایک فرض ہے کہ جسے آپ نے اللہ کے حکم کے مطابق ادا کرنا ہے جب کہ ’’اچھے اعمال‘‘ تو آپ کا وہ تمام طرز عمل ہے جو آپ اس ’’عارضی پڑاؤ‘‘ میں اختیار کرتے ہیں۔
آپ جھوٹ نہیں بولتے، دھوکا نہیں دیتے، وعدہ خلافی نہیں کرتے، غیبت نہیں کرتے، قتل نہیں کرتے، ملاوٹ نہیں کرتے، لوگوں کا مال ہڑپ نہیں کرتے، اپنے کمائے ہوئے مال سے قرابت داروں، یتیموں، بیواؤں، مسکینوں اور ضرورت مندوں کی مدد کرتے ہیں، آپ والدین کی خدمت کرتے ہیں اور ان کے سامنے اف تک نہیں کرتے، آپ اولاد کی نیک اور صالح اصولوں پر پرورش کرتے ہیں، آپ زنا نہیں کرتے، آپ غیر فطری فعل سے نفرت کرتے ہیں، غرض اعمال صالح کی ایک طویل فہرست ہے جو اللہ اور اس کے رسولﷺ نے بتائی ہے اور اسے ہی دنیا میں کامیابی اور ناکامی کا معیار بتایا ہے۔ آج اس ہنستی بستی دنیا کے ہر معاشرے میں انھی اچھے اعمال کو ہی معاشرے کی کامیابی کا معیار سمجھا جاتا ہے۔
دنیا کا کوئی صاحب عقل شخص کسی معاشرے یا سوسائٹی کی خوبصورتی کی تعریف کرتا ہے تو وہ کبھی یہ نہیں کہتا کہ وہاں بلب کتنے بنتے تھے، کاریں کتنی تھیں، پل کس قدر تھے، بلند و بالا عمارتیں کتنی تھیں، بلکہ وہ معاشرے کی خوبصورتی کا معیار اس ماحول کی انسانی اقدار سے لیتا ہے۔ وہاں چوری، ڈاکہ، زنا بالجبر، دھوکا، فریب، جھوٹ، قتل، اغوا اور دیگر جرائم کسقدر کم ہیں، وہاں انسان نے انسانوں کی فلاح کے ادارے کس قدر قائم کر رکھے ہیں۔ وہ اپنے بوڑھوں، معذوروں، یتیموں اور بیواؤں کا کس طرح خیال رکھتے ہیں۔ تاریخ اس بات پر شاہد ہے کہ انسان آج کے اس ترقی یافتہ دور سے کہیں زیادہ بہتر طریقے سے یہ اچھے اعمال ان معاشروں میں کرتا تھا جنہوں نے موجودہ شہری زندگی یعنی ’’اربن لائف‘‘ کی شکل تک نہیں دیکھی تھی اور آج بھی دنیا بھر کے دیہی معاشرے انسانی ہمدردی اور اچھے اعمال میں ترقی یافتہ دنیا سے کہیں آگے ہیں۔
دنیا کی کسی سائنسی اور مادی ترقی کا کوئی تعلق انسان کی اخلاقی اور معاشرتی ترقی سے نہیں ہے بلکہ دنیا میں کارپوریٹ کلچر نے بدترین اخلاقیات کی بنیاد رکھی ہے۔ اپنی کاروباری سلطنت کی وسعت کے لیے انھوں نے جنگیں کیں، ملکوں پر قبضے کیے، دھوکے اور فراڈ سے مال بیچ کر کمپنیوں کے سرمائے میں اضافہ کیا، اسی زمین پر کروڑوں لوگوں کا خون بہایا اور آج بھی بہایا جا رہا ہے۔ پوری انسانی تاریخ میں اس قدر انسان قتل نہیں ہوئے جتنے موجودہ مادی ترقی کی دوڑ میں ہوئے۔ جنگ عظیم اول سے لے کر عراق کی جنگ تک کیا ٹیکنالوجی انسانوں کی فلاح، امن اور سکون کے لیے استعمال ہوئی۔ ہر گز نہیں۔ بلکہ یہ صرف اور صرف انسانوں کو صفحہ ہستی سے مٹانے کے لیے استعمال ہوئی۔
کیا ہم کسی عارضی پڑاؤ یا ٹرانزٹ لاؤنج میں مستقل پڑاؤ کا رویہ رکھتے ہیں۔ کیا ہم کسی ایئر پورٹ، ریلوے اسٹیشن، یا بس اڈے پر کچھ دیر کے لیے رکیں اور ہم سب کو علم ہو کہ ہماری بس، ٹرین یا جہاز نے کسی بھی وقت آ جانا ہے اور ہم نے چند لمحے اس ٹرانزٹ لاؤنج میں گزارنے ہیں تو ہمارا رویہ کیا ہو گا۔ ہم زیادہ سے زیادہ ایک دوسرے کو آرام پہنچانے کی کوشش کریں گے، کسی چیز کو اپنی مستقل ملکیت تصور نہیں کریں گے، ہم بس، ٹرین یا جہاز پر سوار ہوتے ہوئے پریشان نہیں ہوں گے، اس لیے کہ ہمیں یقین ہو گا کہ اگلی سواری پر میرے باپ بھائی، بیوی بچوں اور دوستوں نے بھی میرے ساتھ آ کر مل جانا ہے اور جو پہلے چلے گئے ہیں، میں ان سے جا کر ابھی ملاقات کر لوں گا۔
ہمیں ٹرانزٹ لاؤنج میں کونسے لوگ زیادہ اچھے لگتے ہیں، وہی جو ہم پر سب سے زیادہ مہربان ہوں، جو اپنی جگہ ہمارے لیے چھوڑ دیں، اپنا آرام ہمارے لیے قربان کر دیں۔ دنیا میں بڑے سے بڑے مادہ پرست کو بھی جب اور جہاں اس بات کا یقین ہو جائے کہ وہ یہاں صرف چند لمحوں کے لیے آیا ہے اور پہلی فلائٹ پر چلا جائے گا تو اس کا رویہ بدل جاتا ہے۔ وہ مستقل رہائش کے بندوبست اور سامان نہیں کرتا۔ ’’متاع غرور‘‘ اور عابر السبیل‘‘ یہ دو تصورات ہیں جو انسانی دنیا کو خوبصورت بناتے اور انسانی کامیابی کے اصول متعین کرتے ہیں۔ دنیا کے ہر مہذب معاشرے میں ہر جائز و ناجائز طریقے سے دولت کما کر اپنی معاشی سلطنت بڑھانے والا محترم نہیں گردانا گیا بلکہ اپنی معاشی سلطنت مستحق افراد میں بانٹنے کے بعد اس عارضی پڑاؤ سے چلے جانے والا قابل احترام تصور ہوا ہے۔
دنیا کی اس حیثیت کو اگر ہم سمجھ لیں تو پھر ہمارے لیے اللہ کی ذات کا تصور اور کامیابی کا معیار سمجھنا آسان ہو جائے گا۔ اللہ انسانوں کو اپنی ہر نعمت ایک امتحان کے طور پر عطا کرتا ہے۔ امتحان یہ کہ وہ اس نعمت پر اس کا شکر ادا کرتے ہوئے اس سے کس طرح خلق خدا کی خدمت کرتے ہیں اور پھر ایسا کرنے پر اس کا وعدہ ہے کہ وہ نعمتوں میں اضافہ کرتا چلا جاتا ہے۔ مسلمانوں معاشروں اور حکومتوں میں جب یہ چلن عام رہا ان پر نعمتوں کی بارش ہوتی رہی۔ لیکن یہی چلن جب دوسروں نے اختیار کر لیا تو نعمتوں کا رخ ان کی جانب موڑ دیا گیا۔ اللہ کے ہاں کسی بھی معاشرے پر رحمتوں کی بارش ان کی ٹیکنالوجی میں ترقی کی بنیاد پر نہیں بلکہ اچھے اعمال کی صورت میں ہوتی ہے جو اس دنیا میں انسان کو بھیجنے کا مقصد ہیں۔ خالصتاً مادہ پرستی کی کوکھ سے ظلم، زیادتی، ناانصافی اور جبر برآمد ہوتا ہے جس کا تجربہ آج پوری دنیا کو ہے۔
انسان کی ساری ترقی کا صرف اور صرف ایک ہی اعلیٰ اور ارفع مقصد ہوتا ہے اور وہ ہے پرسکون زندگی۔ اگر وہی حاصل نہ ہو سکے تو ساری جدوجہد ناکام۔ کیا پوری انسانیت کی جدوجہد ناکام نہیں۔ کیا پوری انسانیت بے چینی، بے اطمینانی، خوف، غربت، افلاس، جنگ، جہالت، ظلم اور قتل و غارت سے عبارت نہیں۔ ہر معاشرے کی اپنی بے چینی اور اضطراب ہے۔ ترقی یافتہ ملکوں کا اپنا اور ترقی پذیر اور پسماندہ ملکوں کا اپنا۔ اس لیے کہ موجودہ دنیا کے ہر تجزیہ نگار، معیشت دان، سیاسی ماہر نے ترقی کا ایک ہی پیمانہ بنا رکھا ہے۔ یعنی مادی ترقی، معیشت، ٹیکنالوجی اور مادی سہولیات میں ترقی۔ یہ ہے متاع غرور کا سودا۔
دھوکے کے سامان سے محبت، دھوکے کے سامان کو ترقی کی معراج سمجھنا۔ یہ دھوکے کا سامان ہر کسی کو اس کے مزاج، حیثیت اور مقام کے مطابق دھوکا دیتا ہے۔ ٹرانزنٹ لاؤنج میں بیٹھے لوگ اپنی فلائٹ کے لیے زیادہ بے چین ہوتے ہیں، انھیں جلد اپنی منزل پر پہنچنے کی دھن مضطرب کر رہی ہوتی ہے۔ ہمیں یقین ہی نہیں کہ ہماری کوئی منزل ہے، ہم تصور کیے بیٹھے ہیں کہ ہماری فلائٹ کینسل ہو چکی ہے۔ ہم ٹرانزٹ لاؤنج سے اسقدر محبت کرتے ہیں کہ ہمیں اسی کے اجڑنے پر اپنی زندگی اجڑنے کا گمان ہونے لگتا ہے۔ اس سے زیادہ دھوکے کا سامان اور کیا ہو سکتا ہے۔ اقبال نے اس قرانی اصلاح کا کیا خوب شعری اظہار کیا ہے؎
کیا ہے تونے متاعِ غرور کا سودا
فریب سود و زیاں لا الہ الا اللہ

برصغیر کے مسلمانوں میں سیکولرازم اور مادہ پرستی کی ابتداء
اوریا مقبول جان پير 4 مئ 2015

اللہ تبارک و تعالیٰ نے جہاں جہاں نور ایمان اور ہدایت کا ذکر فرمایا ہے تو اسے اپنا خاص فضل کہا ہے۔ ہدایت کسی شخص کی کوششوں اور کاوشوں کا نتیجہ نہیں ہوتی۔ اللہ ہدایت کسی کے مالی حالات اور دنیاوی جاہ و جلال کو دیکھ کر عطا نہیں کرتا۔ اسے اس بات سے کوئی غرض نہیں ہوتی کہ اس کے لیے لڑنے والے، آواز بلند کرنے والے، اس کے نام کا غلغلہ چار دانگ عالم میں پھیلانے والے فاقہ مست، بے سروسامان ہیں یا ان کے پاس وسائل دنیا کی بھرمار ہے۔
اس کا دعویٰ ہے کہ وہ بہت سوں کو ہدایت بخشتا ہے اور بہت سوں کو گمراہی کے اتھاہ سمندر میں پھینک دیتا ہے۔ لیکن اس کے لیے اس کا ایک قاعدہ ہے اللہ فرماتا ہے ’’اللہ کو اس بات سے عار نہیں کہ وہ مچھر یا اس سے بھی کمتر کسی چیز کی مثال بیان فرمائے۔ جو مومن ہیں وہ یقین کرتے ہیں کہ وہ ان کے پروردگار کی طرف سے سچ ہے اور جو کافر ہیں وہ کہتے ہیں کہ اس مثال سے اللہ کی مراد ہی کیا ہے۔ اس سے اللہ بہتوں کو گمراہ کرتا ہے اور بہتوں کو ہدایت بخشتا ہے اور گمراہ بھی کرتا ہے تو صرف نافرمانوں کو (البقرہ 26) اسی آیت کے ساتھ ہی اللہ نے نافرمانوں کی تعریف کی ہے اور بتایا کہ ان کی نشانیاں کیا ہیں۔
اللہ فرماتا ہے ’’جو اللہ سے اقرار کو مضبوط کرنے کے بعد توڑ دیتے ہیں اور جس رشتہ قرابت کے جوڑے رکھنے کا اللہ حکم دیتا ہے اور اس کو قطع کر دیتے ہیں اور زمین میں خرابی کرتے ہیں، یہی لوگ نقصان اٹھانے والے ہیں (البقرہ 27) اسی لیے اللہ نے نور ہدایت کو اسباب دنیا سے علیحدہ کر دیا اور کامیابی کو بھی اس دنیا کے جاہ و جلال اور کروفر سے مختلف چیز قرار دیا بلکہ ہر اس شخص کو اپنے غضب کا نشانہ بنایا جسے اپنے وسائل، طاقت اور قوت پر اسقدر بھروسہ تھا کہ اس پر گمان ہونے لگا کہ اسے دنیا کی کوئی طاقت شکست نہیں دے سکتی۔ فرعون کے غرقابِ نیل ہونے کا قصہ اللہ کی ان نشانیوں میں سے ایک ہے جس میں وہ دعویٰ کرتا ہے کہ میں نے بنی اسرائیل کو فرعون کے بدترین مظالم سے نجات دلائی۔ اس فرعون سے جو تمہارے بیٹوں کو قتل کر دیتا اور بیٹیوں کو زندہ رکھتا۔ اللہ نے انسانی تاریخ میں بار بار یہ ثابت کیا کہ وہ کیسے بے سروسامان لوگوں کو ہدایت دیتا ہے اور کیسے وسائل سے مالا مال افراد کو گمراہی کی اتھاہ گہرائیوں میں چھوڑ دیتا ہے۔
برصغیر پاک و ہند میں مسلمانوں نے کئی سو سال حکومت کی۔ اللہ نے انھیں فتح و نصرت سے بھی سرفراز کیا اور پورے علاقے میں ان کی دھاک کو بھی قائم رکھا۔ مغلیہ سلطنت مسلمانوں کے عروج کا زمانہ تھا سرمایہ، دولت، علم، اسباب سب ان کے پاس جمع تھے۔ مغلیہ دور کا سب سے مستحکم اور شاندار زمانہ جلال الدین اکبر کا طویل دور اقتدار سمجھا جاتا ہے۔ 13 سال کی عمر میں برسراقتدار آنے والا اکبر ایک سیدھا سادا خوش عقیدہ مسلمان تھا۔ نماز باجماعت کی پابندی تو ایک طرف وہ خود اذان دیتا، امامت کراتا اور مسجد میں اپنے ہاتھ سے جھاڑو دیتا۔ صدر الصدور شیخ عبدالغنی کے علم کا وہ معتقد تھا اور اکثر حدیث سننے ان کے گھر جاتا، اپنے بیٹے شہزادہ سلیم کو ان کی شاگردی میں داخل کیا تاکہ عبدالرحمن جامی کی ’’چہل حدیث‘‘ ان سے پڑھے سلطان الہند خواجہ اجمیری چشتی سے ایسی روحانی عقیدت اس میں پیدا ہوئی کہ کئی دفعہ فتح پور سیکری اور آگرے سے پیدل اجمیر گیا۔
شیخ سلیم چشتی کی قربت کی خاطر تمام تخت و تاج فتح پور سیکری منتقل کیا اور وہاں ایک پرانے سے حجرے میں اکثر اوقات مراقبوں، دعاؤں اور عبادتوں میں گزارتا۔ یہیں اس نے ایک نئی عمارت تعمیر کی جس کا نام عبادت خانہ رکھا اور ہر جمعے کی نماز کے بعد وہ یہاں آ کر بیٹھتا اور وقت کے مشائخ، علماء، فضلا اور مقربین مذہبی مسائل پر آزادانہ بحث کرتے۔ اس بحث کا دائرہ بہت وسیع ہوتا تھا۔ اس میں دنیا بھر کے مذاہب اور ادیان پر گفتگو ہوتی۔ انھی دنوں یورپ میں تحریک احیائے علوم چلی تھی جس نے وہاں کے رہنے والوں میں ترقی اور علم کی تلاش کی ایک نئی روح پھونک دی تھی۔
اسپین سے مسلمانوں کے علمی ورثے سے فیض یاب ہونے کے بعد یورپ نے اپنے اندر جو تبدیلی پیدا کی وہ انھیں مذہب سے آہستہ آہستہ دور لے گئی اور پھر انھوں نے اس بات پر کامل یقین کرلیا کہ دنیا کی تمام تر ترقی صرف اور صرف اسباب کی محتاج ہے اور یہ اسباب بھی انسان خود پیدا کرتا ہے۔ اس کے لیے کسی غیر مرئی یا بلند و بالا طاقت کی مدد کی ضرورت نہیں ہوتی۔ یہ نظریات اکبر کے دربار کی گفتگو میں بھی عام ہونے لگے، ابو الفضل اور فیضی جیسے نورتن جو اپنی آزاد خیالی کی وجہ سے مشہور تھے اس کے قریب آتے گئے۔ سر تھامس رو نے 1613ء میں جو سفرنامہ مرتب کیا ہے اس میں دربار اکبری کی ان تمام بحثوں کا تذکرہ ملتا ہے۔
ان تمام بحثوں کے نتیجے میں اکبر کے دل میں یہ خیال مضبوط ہو گیا کہ سچائی کسی ایک مذہب کا اجارہ نہیں بلکہ ہر مذہب میں اچھی اچھی باتیں موجود ہیں، اس لیے اسلام کو دیگر مذاہب پر کوئی برتری نہیں دی جا سکتی۔ بادشاہ کے دل میں اس تصور کے آتے ہی ہندو پنڈتوں اور عیسائی پادریوں نے اسلام اور شعائر اسلام پر آزادانہ گفتگو شروع کر دی۔ حیرت کی بات ہے کہ اس سب کا آغاز بے لاگ تحقیق اور آزادی اظہار کے نام پر ہوا۔ بادشاہ اور اس کے مشیر ہر مذہب کو اپنے علم اور اپنی عقل کی کسوٹی پر پرکھتے اور جو چیز ان کی عقل میں نہ آتی اسے فوراً رد کر دیتے۔ عقل کی اس کسوٹی پر رد ہونے والی چیزوں میں روزِ آخرت، حساب کتاب، وحی، رسالت اور سب سے بڑھ کر اللہ کی حاکمیت جیسے عقائد شامل تھے۔
یہ وہ صورت حال تھی جس سے برصغیر پاک و ہند کے مسلمانوں میں سیکولرازم اور مادہ پرستی کی بنیاد پڑی۔ سیکولرازم کا کمال یہ ہے کہ یہ دنیا کے ہر مذہب کو اپنے نظریات کے لیے اسقدر خطرہ تصور نہیں کرتا جس قدر اسلام کو تصور کرتا ہے۔ کیونکہ باقی تمام مذاہب ہیں جب کہ اسلام ایک مکمل نظام زندگی اور طرز معاشرت، سیاست اور معاشیات کا درس دیتا ہے۔ اس کے بتائے ہوئے نظام زندگی پر حملہ تو اتنا آسان نہیں کہ کوئی اور بہتر متبادل میسر نہیں۔ اسی لیے اس کے بنیادی عقائد اور شخصیات کو نشانہ بنا کر سیکولرازم اور مادہ پرستی کی راہ ہموار کی جاتی ہے۔ اس دربار کا نقشہ ایک مورخ اور بہت بڑے عالم دین نے یوں کھینچا ہے۔ ’’اکبر کے دربار میں یہ رائے عام تھی کہ ملت اسلام جاہل بدووں میں پیدا ہوئی تھی، یہ کسی مہذب و شائستہ قوم کے لیے موزوں نہیں۔
نبوت، وحی، حشر و نشر، دوزخ جنت، ہر چیز کا مذاق اڑایا جانے لگا، قرآن کا کلام الٰہی ہونا مشتبہ، وحی کا نزول عقلاً مستعبد، مرنے کے بعد ثواب و عذاب غیر یقینی، البتہ تناسخ پر یقین ممکن، معراج کو علانیہ محال قرار دیا جاتا، ذات نبویؐ پر اعتراضات کیے جاتے۔ خصوصاً غزوات پر کھلم کھلا حرف گیریاں کی جاتیں۔ دنیا پرست علماء نے اپنی کتابوں کے نسخوں میں نعت لکھنی چھوڑ دی تھی۔ دیوان خانہ شاہی میں کسی کی مجال نہ تھی کہ نماز پڑھ سکے‘‘۔ یہی حالات تھے جب اکبر نے یہ حکم دے دیا تھا کہ نئی مسجدیں تعمیر نہ ہوں، پرانی مسجدوں کی مرمت نہ ہو، یہاں تک کہ اس کے آخری ایام حکومت میں لاہور شہر میں کوئی مسجد نہ رہی تھی اور مسجدوں کو اصطبل بنا دیا گیا تھا۔ یہ وہ تمام حالات اور ایسے سوالات ہیں جو آج بھی کسی مادہ پرست سیکولر محفلوں کے بحث مباحثے میں آپ کو نظر آئیں گے۔
کسی سیکولر دانشور کے مضمون کو اٹھائیے، کسی ویب سائٹ پر چلے جائیے۔ آپ کو اگر کسی مذہب پر اعتراض نظر آئیں گے تو صرف اور صرف اسلام پر۔ اکبر کے اسی سیکولر ماحول سے دین الٰہی نے جنم لیا۔ جس کے نظریات کو بیان کرنے کے لیے ایک الگ مضمون چاہیے لیکن اللہ اپنے بندوں کو ہدایت مہیا کرنے کا بندوبست ضرور کرتا ہے۔ اللہ نے اس طوفانی یلغار کے مقابلے میں ایک عظیم شخصیت کو کھڑے ہونے کی توفیق عطا فرمائی جن کا نام مجدد الف ثانی تھا۔ پورے برصغیر میں پیران طریقت بھی موجود تھے اور علمائے عظام بھی، لیکن یہ سب کے سب وقت کی مصلحت میں خاموش تھے۔ یہ سب بھی دنیا کے اسباب کو ترقی کی معراج سمجھنے لگ گئے تھے۔ صرف دو لوگوں کا ذکر ملتا ہے جو اس گمراہی کے خلاف سینہ سپر ہوئے۔ ایک مخدوم موسیٰ پاک شہید کے بھائی شیخ عبدالقادر گیلانی اور دوسرے اجمیر شریف کے متولی شیخ حسین اجمیری۔ دونوں کے نصیب میں قید کی صعوبتیں آئیں۔
مجدد الف ثانی کو اپنے زمانے میں علماء، شیوخ اور دانشوروں نے معاملہ شناسی سے عاری، دنیا کے حالات سے بے خبر، مصلحت کے مخالف اور عقل و ہوش سے بے بہرہ قرار دیا۔ ان کا تمسخر اڑایا گیا۔ انھیں وقت کے تقاضوں سے ہم آہنگ نہ ہونے کا طعنہ دیا گیا۔ لیکن تاریخ شاہد ہے کہ اللہ نے نصرت مجدد الف ثانی کے دست حق پرست پر رکھ دی تھی اور اکبر کا دین الٰہی اپنے تمام تر اسبابِ دنیا کے باوجود اس کی موت کے ساتھ اپنی موت مر گیا۔ اللہ کے بندوں کی ایک اور پہچان ہے جو مجدد الف ثانی کے کردار میں نظر آتی ہے۔ اللہ فرماتے ہیں ’’اللہ کے راستے میں جو ملامت تمہیں ملتی ہے یہ تو اللہ کا فضل ہے‘‘۔ اسی لیے وہ اس ملامت پر اور اپنا تمسخر اڑانے پر، اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں اور اپنے راستے پر مستقل گامزن رہتے ہیں کہ انھیں اس بات پر یقین ہوتا ہے کہ ہدایت اللہ کے ہاتھ میں ہے اور کامیابی بھی اسی کی عطا ہے۔

فضائے بدر پیدا کر
اوریا مقبول جان جمعـء 1 مئ 2015

اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ جو اس کی جانب ہدایت کے لیے رجوع کرتا ہے، اپنے گناہوں، گزشتہ خیالات اور نظریات پر نادم ہوتا ہے تو وہ اسے نور ہدایت سے بھی سرفراز کرتا ہے اور اس کی عزت و توقیر کی حفاظت بھی۔
ڈاکٹر غلام جیلانی برق بھی ان خوش نصیب لوگوں میں سے ایک تھے جو اپنی ابتدائی زندگی میں مادہ پرست افکار اور جدید علّت و معلول پر مبنی علوم کی چاہ میں اسلام کی بنیادی اساس سے ہٹ گئے اور انھوں نے اپنی کتاب ’’دو اسلام‘‘ تحریر کی، جس کی وکالت میرے دوست کالم نگار نے بار بار کی۔ موصوف کا دعویٰ تھا، بلکہ چیلنج تھا کہ برق صاحب آخری وقت تک اپنے ان ہی خیالات پر قائم رہے۔ میرا اللہ جب اپنے ہدایت یافتہ لوگوں کی عزت کی حفاظت کرنا چاہتا ہے تو ایسی پیش بندیاں ان لوگوں سے کروا دیتا ہے کہ بعد میں آنے والے دانشوروں کا منہ بند ہو جائے۔
برق صاحب کی اس کتاب کے جواب میں مولانا مسعود احمد بی ایس سی نے ایک کتاب ’’تفہیم الاسلام‘‘ لکھی جو 1967ء میں پہلی بار شائع ہوئی۔ اس کتاب کی اشاعت کے بعد ڈاکٹر غلام جیلانی برق اور مولانا مسعود احمد کے درمیان خط و کتابت کا آغاز ہوا۔ یہ خطوط ا ن کی کتاب ’’تفہیم الاسلام‘‘ کے دوسرے ایڈیشن کے صفحات 575 سے579 تک میں دیے گئے (یہ خطوط ڈاکٹر برق صاحب کی تحریر کے عکس کے طور پر شائع کیے گئے ہیں)۔ یہ دوسرا ایڈیشن1972ء میں شائع ہوا، اس وقت برق صاحب حیات تھے۔
برق صاحب کے تمام خطوط کو عبدالعزیز ساحر صاحب نے مرتب کیا ہے اِس کتاب کا عنوان ہے ’’ڈاکٹر غلام جیلانی برق کے خطوط ‘‘یہ کتاب حسنین پبلی کیشنز لاہور نے چھاپی ہے اور اس کے صفحات135، 136 اور 137 پر یہ خطوط موجود ہیں۔ میں خط یہاں نقل کر رہا ہوں۔ ان خطوط میں برق صاحب کی ’’دو اسلام ‘‘کے بارے میں ندامت کا اظہار بھی ہے اور اس کی اشاعت پر پابندی کا اعلان بھی۔
پہلا خط: کیمبل پور۔16 مئی1971ء ۔ آقائے محترم۔ السلام علیکم ورحمتہ اللہ! آج ہی آپ کی گراں قدر تصنیف تفہیم اسلام‘‘ ملی اور ملتے ہی چند صفحات پڑھ ڈالے۔ دو اسلام کے بڑے بڑے عیوب تین ہیں۔ اول۔ اس کے پہلے ایڈیشن میں متعدد علمی اغلاط ہیں (مثلاً احادیث کا ترجمہ وغیرہ) جنھیں بڑی حد تک دوسرے ایڈیشن میں نکال دیا گیا، لیکن اب بھی باقی ہیں۔
دوم: میرا یہ موقف کہ احادیث کی تدوین و تسوید اڑھائی سو برس بعد ہوئی تھی سروپا غلط ہے۔ یہ غلطی دوسرے ایڈیشن میں بھی موجود ہے۔ میں نے تو اس کی تلافی کر دی ہے کہ ’’تاریخ تدوین حدیث‘‘ لکھ کر ثابت کیا ہے کہ حضور پر نور صلی اللہ علیہ و سلم کی حیات مبارکہ میں ہی تقریباً چالیس ہزار احادیث محفوظ ہو چکی تھیں۔ لیکن یہ کتاب شاید ہی کبھی چھپے۔
آج سے تین برس پہلے لاہور کا ایک بھوکا اور بے سروسامان طابع و ناشر یہ کتاب لے گیا اور میرے انتہائی اصرار کے باوجود نہ تو تا حال کتابت کروائی اور نہ مسودہ واپس کیا۔ تیسرا عیب یہ ہے کہ دو اسلام کی زبان غیر سنجیدہ، غیر علمی، اور سخت جانبدارانہ ہے۔ اللہ مجھے معاف کرے۔ میں آپ کی زبان، اندازِ تحریر، اسلوب بیان اور متانت سے بہت متاثر ہوا ہوں۔ پوری کتاب پڑھنے کے بعد میں شاید پھر آپ کو خط لکھوں، سردست میں اس تخلیق پر آپ کی خدمت میں مبارک باد پیش کرتا ہوں۔ والسلام۔ مخلص۔ برق
دوسرا خط: کیمبل پور26 نومبر1971ء، السلام و علیکم و رحمتہ اللہ، یاد آوری اور تہنیت عید کا شکریہ۔ آپ کی قابلِ قدر کتاب ’’تفہیم اسلام‘‘ کے متعلق میں کچھ عرصہ پہلے اپنے تاثرات کا اظہار کر چکا ہوں۔ اصل چیز وہ جذبہ ہے جو کسی کتاب کی تخلیق کا باعث بنتا ہے۔ ظاہر ہے کہ آپ کا مقصد ان اثرات کو مٹانا ہے جو میری کتاب سے پیدا ہوئے۔ اس للہیت پر پہلے بھی مبارک باد پیش کر چکا ہوں اور پھر پیش کرتا ہوں۔ میری آزردگی کا نہ تو سوال پیدا کرتا ہے اور نہ وہ قابلِ التفات ہے۔ والسلام۔ مخلص۔ برق۔
تیسرا خط: کیمبل پور۔14 نومبر1972ء۔ قابلِ صد احترام۔ السلام وعلیکم یاد آوری کا شکریہ: میں نے ناشرین ’’دو اسلام‘‘ کو تاکید کی ہے کہ وہ اس کا آئندہ کوئی ایڈیشن شائع نہ کریں۔ تاریخ تدوین حدیث گم ہو گئی تھی۔ ساری نہیں بلکہ تینتیس اوراق۔ وہ مجھے دوبارہ لکھنے پڑے۔ ماخذ کی دوبارہ تلاش کی اور مسودے کو مکمل کر کے پھر ارسال کیا۔ اب اس کی کتابت ہو رہی ہے۔ دعا فرمائیں اس کی اشاعت میں آئندہ کوئی رکاوٹ پیش نہ آئے۔ والسلام۔ مخلص۔ برق
غلام جیلانی برق صاحب کے ان خطوط میں ’’دو اسلام‘‘ کے لکھنے پر ندامت بھی ہے اور اللہ سے معافی کی طلب بھی اور اس کتاب کو نہ چھاپنے کا اعلان بھی۔ پھر اس کے بعد انھوں نے اپنی کتاب دو اسلام کے ردّ میں تاریخ تدوین حدیث لکھی اور اس کے دیباچے میں برملا اعتراف کیا ’’جو لوگ اس موضوع پر میری پہلی تحریروں سے آشنا ہیں، وہ یقینا یہ اعتراض کریں گے کہ میرا موجودہ موقف پہلے موقف سے متصادم ہو رہا ہے۔
ان کی خدمت میں گزارش ہے کہ انسانی فکر ایک متحرک چیز ہے جو کسی ایک مقام پر مستقل قیام نہیں کرتی اور سدا خوب سے خوب ترکی تلاش میں رہتی ہے۔ انسان صداقت تک پہنچتے پہنچتے سو بار گرتا ہے۔ میں بھی بار بار گرا اور ہر بار لطف ایزدی نے میری دستگیری کی، کہ اٹھا کر پھر ان راہوں پر ڈال دیا جو صحیح سمت جا رہی تھیں۔ یکم نومبر1969ء۔
ڈاکٹر غلام جیلانی برق کو تو اللہ نے ہدایت سے سرفراز کر دیا۔ انھوں نے اپنی غلطیوں کا ازالہ بھی کر دیا۔ لیکن دنیا کی طلب میں سرگرداں اور بنیادی اخلاقیات سے عاری پبلشرز آج بھی ان کی وہ کتاب ’’دو اسلام‘‘ چھاپے چلے جا رہے ہیں جس پر وہ انھیں خود منع کر گئے تھے۔ وہ لوگ جو گمراہی اور ظلمت کے شیدا ئی ہوتے ہیں وہ آج بھی برق صاحب کی ان کتابوں سے اپنے لیے جواز تلاش کرتے ہیں جو انھوں نے اپنے زمانۂ جاہلیت میں لکھی تھیں۔ لیکن میں کیا کروں کہ میں اپنے اس کالم نگار دوست سے اُس وقت سے محبت کرتا چلا آیا ہوں جب وہ اسلام کی سچی تصویر اپنے کالموں میں پیش کرتا تھا۔
اس کے قلم کی کاٹ میرے لیے جذبے کا باعث تھی۔ لیکن میرا دکھ اور المیہ یہ ہے کہ میرا یہ دوست ان دنیا پرست لوگوں سے متاثر ہو گیا ہے جو اگر رسولﷺ کی زمانے میں بھی ہوتے تو اعتراض کرتے کہ دیکھو دو گھوڑے، چھ زرہیں اور آٹھ شمشیریں لے کر آپ کافروں کے ایک ہزار کے لشکر کے سامنے میدانِ بدر میں جا رہے ہو، وہ کیل کانٹے سے لیس ہیں۔ یہ تو نعوذ بااللہ سراسر خود کشی ہے۔
وہ اگر عمر ابن خطاب کے زمانے میں ہوتے تو کہتے نہ تمہارے اسلحہ ہے، نہ افرادی قوت، گھروں میں تمہارے فاقے پڑے ہوئے ہیں اور تم ایران اور روم پر حملے کرنے جا رہے ہو، دیوانے تو نہیں ہو گئے، پہلے ترقی کر لو کم از کم اپنے زمانے کی سائنس اور ٹیکنالوجی ہی حاصل کر لو۔ تم تو ہر لحاظ سے پسماندہ ہو اور شکست تمہارا مقدر ہو گی۔ میرے اس کالم نگار دوست کو خوب علم ہے کہ جب بھی مسلمانوں پر زوال آیا، ان پر دنیا کی قومیں بھیڑیوں کی طرح چڑھ دوڑیں اس وقت وہ دنیا کی امیر ترین اور مہذب ترین قوموں میں شمار ہوتے تھے۔ بغداد دولت، تہذیب، علم، سائنس اور ٹیکنالوجی کا گہوارہ تھا جب ہلاکو نے اسے تاراج کیا۔
ہندوستان کو سونے کی چڑیا کہا جاتا تھا، جب انگریز اس پر قابض ہوئے۔ اسپین پورے یورپ میں تہذیب کا سرچشمہ تھا جب ازابیلا اور فرڈیننڈ نے اس کی اینٹ سے اینٹ بجا دی۔ وہ کون سی قوت تھی جو فاقہ کش بدر کے صحابہ اور عمر ابن خطاب کے مفلوک الحال سپاہیوں کو فتح نصیب کرتی تھی۔ وہ اللہ پر توکل اور اِس کی نصرت پر بھروسہ تھا۔ جنید بغدادی سے کسی سے سوال کیا۔ تصوف کیا ہے۔ فرمایا توکّل ہی تصوف ہے۔
جب بغداد، اسپین اور ہندوستان برباد ہوئے تو مسلمانوں سے یہ توکّل ختم ہو چکا تھا۔ ان کا بھروسہ اسبابِ دنیا پر تھا۔ ایسی قوم کو ہزار نیک لوگوں کی دعائیں بھی تباہی سے نہیں بچا سکتیں۔ اللہ اسی قوم کا بازو پکڑتا ہے جو صرف اور صرف اس پر توکل کرتی ہے۔ ہاں اور اسے بھروسہ ہوتا ہے تو مومن کی پامردی پر اور پامردی اسباب سے مختلف چیز ہے۔ اقبال نے کہا تھا۔
اللہ کو پامردیٔ مومن پہ بھروسہ
ابلیس کو یورپ کی مشینوں کا سہارا
کاش میرا دوست، صداقت کی اس منزل کی جانب لوٹ جائے جس پر وہ پہلے کھڑا تھا۔ اللہ اس کی نصرت کرے اور اسے یقین آ جائے کہ۔
فضائے بدر پیدا کر فرشتے تیری نصرت کو
اتر سکتے ہیں گردوں سے قطار اندر قطار اب بھی
فضائے بدر اسباب کی محتاج نہیں ہوتی۔ اسباب تو تھوڑی سی متاع ہوتی ہے جو اللہ کے حضور لے جا کر عرض کیا جاتا ہے کہ اے اللہ ہم کمزور ہیں جو تھا جمع کر لیا اور یقین یہ ہے کہ صرف اور صرف تو ہی فتح دے سکتا ہے۔

عشق نہ ہو تو شرع و دیں بتکدہ ٔ تصورات
اوریا مقبول جان پير 27 اپريل 2015

ہم لوگ بھی کس قدر ظالم ہیں کہ اسلام کی تشریح اپنی مرضی سے کرنے اور اسے اپنے موجودہ ماڈرن، سیکولر اور مغربی تصورات سے ہم آہنگ کرنے کے لیے ایسی شخصیات کا انتخاب کرتے ہیں جن کی ایک عمر جہالت اور گمراہی میں گزری، انھوں نے اسلام کو ویسے ہی مغرب زدہ معانی پہنانے کی کوشش کی جیسی گزشتہ تین سو سالوں سے مغرب زدہ دانشور کر رہے ہیں۔ لیکن چونکہ عظیم لوگ مسلسل علم کی جستجو میں بغیر کسی تعصب کے لگے رہے تو اللہ نے ان پر حقیقت کے در وا کر دیے اور ہدایت کی روشنی عطا کر دی۔ ایسے ہی ایک شخص کا نام ڈاکٹر غلام جیلانی برق ہے۔ مدرسے کی دینی تعلیم سے جدید علوم کے سفر تک غلام جیلانی برق نے بہت سی منازل طے کیں۔ ان کا زمانہ مسلم امت پر ادبار اور مایوسی کا زمانہ تھا۔
1901ء میں پیدا ہونے والے ڈاکٹر برق کے سامنے جنگ عظیم اول ہوئی، خلافت عثمانیہ ٹوٹی، پوری مسلم امہ پر مغربی طاقتوں کی حاکمیت اور بالادستی قائم ہوئی۔ غلامی کے اس بدترین دور میں برق صاحب کو بھی اسی نہج پر سوچنے پر مجبور کیا جیسے موجودہ دور کے مرعوب مسلمان سوچتے ہیں اور یہ تصور کر لیتے ہیں کہ انسان کی زندگی کا صرف اور صرف ایک مقصد ہے اور وہ ہے مادی ترقی۔ انھوں نے اسلام کے تصور سے روحانیت، دعا، اللہ کی نصرت اور دیگر الٰہی تصورات کی نفی کے لیے اپنی زندگی وقف کر دی اور پھر انھوں نے ’’دو اسلام‘‘ ’’دو قرآن‘‘ اور ’’ایک اسلام‘‘ جیسی کتابیں تحریر کیں۔ وہ حدیث کے منکرین میں شامل ہوئے اور ان کا تعلق غلام احمد پرویز سے بہت گہرا ہوگیا۔
وہ مدتوں ایک ایسے اسلام کا تصور پیش کرتے رہے جو سرسید سے لے کر جاوید غامدی تک ہر دور کے سیکولر اور مادہ پرست انسانوں کو بہت پسند آتا ہے۔ لیکن شاید ان کے نیک والد کی شبانہ روز دعاؤں کا نتیجہ تھا کہ اللہ نے ڈاکٹر غلام جیلانی برق کو ہدایت کے نور سے سرفراز فرمایا اور انھوں نے اپنے والد کی بیان کردہ رسول اکرم ﷺ کی حدیث ’’یہ دنیا مردار سے زیادہ نجس اور اس کے متلاشی کتوں سے زیادہ ناپاک ہیں‘‘ کے دفاع میں ایک پوری کتاب ’’من کی دنیا‘‘ 1960ء میں تحریر کی۔ اس کے بعد وہ ہمیشہ اپنی سابقہ کتابوں پر نادم رہے اور اکثر کہا کرتے تھے میرا سارا کام دور جاہلیت میں لکھا گیا تھا۔
مجھے ان کے بڑھاپے اور ہدایت سے مزین زمانہ میسر آیا۔ یہ زمانہ ان کی ندامت اور شرمندگی اور اللہ سے روحانی تعلق کا زمانہ تھا۔ اسی لیے میں نے کبھی ان کے علم اور ان کی شخصیت کو ان کی گزشتہ کتابوں ’’دو قرآن‘‘ یا ’’ایک اسلام‘‘ کے حوالے سے نہیں جانچا بلکہ میرے نزدیک من کی دنیا لکھنے والا ایک روحانی غلام جیلانی برق محترم اور معزز رہا۔ وہ میرے لیے محترم تھے کہ انھوں نے من کی دنیا لکھ کر مادیت پرست دانشوروں، کالم نگاروں اور عالموں کے منہ بند کر دیے۔ وہ لوگ جو آج ان کی کتاب ’’دو اسلام‘‘ کا حوالہ دیتے ہیں ان کے لیے برق صاحب کی آخری عمر میں تحریر کی گئی کتاب ’’من کی دنیا‘‘ کے اقتباسات لکھ رہا ہوں۔ میں نے ان میں ایک حرف کی بھی تبدیلی نہیں کی۔
’’قوت کے دو ماخذ میں، کائنات اور دل۔ کائنات کی تسخیر علم سے ہوتی ہے اور دل کا جنریٹر عبادت اور تقویٰ سے چلتا ہے، اور مسلمان وہ ہے جو ان دونوں طاقتوں کا مالک ہو۔ روح کی قوت قومی بقا کی ضامن ہے۔ اگر یہ ختم ہو جائے تو پھر صرف مادی طاقت، خواہ وہ کتنی ہی مہیب کیوں نہ ہو، ہمیں نہیں بچا سکتی۔ قیصر و کسریٰ کی عظیم مادی طاقت کو مٹھی بھر عربوں کی روحانی طاقت نے پیس ڈالا اور ہماری تاریخ ایسے واقعات سے لبریز ہے اور جب خود مسلمان اس سرچشمہ قوت سے محروم ہو گئے تو ان کی عظیم امپائر اور مہیب عسکری قوت انھیں زوال سے نہ بچا سکی۔ آج برتری کا واحد معیار مادی اسباب و وسائل کی کثرت ہے۔ جس قوم کے پاس کائناتی قوت کے ذخائر زیادہ ہوں گے وہ زیادہ طاقتور سمجھی جائے گی۔ اگر کل دنیا میں کوئی ایسی قوم پیدا ہو جائے جو عظیم کائناتی علم اور عشق گیر جذبے سے مسلح ہو تو مجھے یقین ہے کہ روس اور امریکا خوف سے کانپ اٹھیں گے اور عالم انسانی کی قیادت اس کے حوالے ہو جائے گی۔ یہ اعزاز پاکستان کو بھی مل سکتا ہے بشرطیکہ اہل پاکستان علم و عشق کی توانائیوں سے مسلح ہو جائیں‘‘۔
ڈاکٹر غلام جیلانی برق کی زندگی کے آخری پچیس سال روحانیت کے سال تھے۔ انھیں اپنی تمام لکھی ہوئی کتابوں پر ندامت رہی۔ انھوں نے ’’میرے گیت‘‘ کے نام سے تقریباً ساٹھ اشعار نما فقرے تحریر کیے جن کا آغاز یوں ہوتا ہے ’’اے رب میں حریم دل میں ایمان کی جوت جگا کر اندھیروں کو باہر دھکیل رہا ہوں تا کہ تو اس میں بس سکے، ’’جب احساس ندامت سے میرا آنسو ٹپکا تو کہیں سے آواز آئی، آنسو بہائے جا کہ روح کی برکھا یہی ہے‘‘۔
وہ خود لکھتے ہیں کہ جب میں روحانیت کے سفر پر نکلا تو لوگوں نے مجھے بہت طعنے دیے یہاں تک لکھا کہ ’’اللہ کی شان، جو برق سیف و سناں کی طرف دعوت دیا کرتا تھا۔ وہ آج عجمی، فلاطونی اور مردہ تصوف کی تبلیغ کر رہا ہے‘‘۔ برق صاحب کی یہ کتاب ان تمام مادہ پرست افراد کے منہ پر طمانچہ ہے جو یہ تصور لیے ہوتے ہیں کہ یہ دنیا صرف دو اور دو چار کی دنیا ہے۔ انھوں نے صرف مسلمانوں ہی نہیں بلکہ دنیا بھر کے مذاہب کے افراد کے روحانی تجربات ،حتٰی کہ جدید مغرب کے اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد، الیگزینڈر کانن، ولسن چیمبر، ای سی رینڈل، جیسے دو درجن جدید مفکرین کے روحانی تجربات کو بھی کتاب کا حصہ بنایا ہے۔ اپنی کتاب کے آخر میں انھوں نے ان تمام جدید مفکرین کی کتب کے نام بھی دیے ہیں تا کہ وہ لوگ جن کو صرف مغرب کی یونیورسٹیوں کے پڑھے ہوئے لوگوں کے لکھے ہوئے پر یقین آتا ہے، وہ ان کتب کو پڑھ لیں اور جان لیں کہ صرف مادہ پرستی اور دنیا کے وسائل پر بھروسہ کرنا انسان کا بدترین تجربہ ہوتا ہے۔
پوری کتاب روحانی طاقتوں کے تصرفات پر ہے۔ تیسری آنکھ کیسے کھلتی ہے۔ کیسے انسان ہوا میں پرواز کر سکتا ہے۔ اور مختلف وظائف میں کیا تاثیر ہوتی ہے۔ برق صاحب نے رسول اللہ ﷺ کی زندگی سے ثابت کیا کہ کس طرح مخصوص الفاظ کا ایک مخصوص ارتعاش (Resonance) ہوتا ہے جو کائنات پر اثر انداز ہوتا ہے۔ انھوں نے اعداد کے علم سے اس بات پر بھی گفتگو کی ہے کہ اللہ کے تمام نام اپنا ایک الگ اثر رکھتے ہیں اور ان کے ورد سے کائنات پر عجیب و غریب اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ اس کتاب کا ایک مضمون ’’اقبال اور دل کی دنیا‘‘ اس قدر خوبصورت ہے کہ ہر پیرا آنکھوں میں آنسو بھر لاتا ہے۔
انھوں نے اقبال کے ممدوحین کا خصوصی ذکر کیا ہے۔ یہ ممدوحین سید الانبیاء ﷺ سے لے کر بو علی قلندر پانی پتی تک ہیں۔ سیدنا علی ؓ، سیدہ فاطمہ الزہرہؓ اور سیدنا امام حسینؓ کے بارے میں اقبال کے اشعار اور ان سے روحانی فیض اس کتاب کا حاصل ہے۔ برق صاحب کا قرآن کا علم اس کتاب میں یوں جھلکتا ہے اور ایسے لگتا ہے کہ وہ نیت باندھ کر یہ کتاب اس لیے لکھنے بیٹھے تھے جیسے وہ اپنے دور کے مادہ پرست دانشوروں کو اسلام کی روحانی روشنی دکھا رہے ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ انھوں نے کتاب کے سرورق پر اقبال یہ شعر تحریر کیا ہے۔
عقل دل و نگاہ کا مرشد اولیں ہے عشق
عشق نہ ہو تو شرع و دیں بتکدۂ تصورات
غلام جیلانی برق کی اس کتاب ’’من کی دنیا‘‘ کا یہ اقتباس اس دانشور کالم نگار دوست کی نذر کر رہا ہوں جس نے ان کی زمانہ جاہلیت کی کتاب سے ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ دنیا صرف اور صرف مادہ پرستی ہے۔ ڈاکٹر غلام جیلانی برق صاحب نے کس خوبصورتی سے اس دنیا کو اپنے نیک اور دیندار باپ کی بیان کردہ حدیث کے مطابق صرف اور صرف مادہ اور نجس ثابت کیا ہے ۔
’’دولت فراہم کرنے کے لیے ہر انسان کا قدم اس تیزی سے اٹھ رہا ہے، گویا کتے اس کا پیچھا کر رہے ہیں۔ اس راہ میں نہ وہ کسی رکاوٹ کی پروا کرتا ہے اور نہ کسی عصبیت کو خاطر میں لاتا ہے۔ آج کراچی میں تو کل لندن اور پرسوں واشنگٹن۔ سفر عین راحت اور کلفت عین مسرت۔ اگر کسی چیز میں دو سال بعد چار آنے کا فائدہ دیکھے تو اسے آج خرید کر گوداموں میں بھر لیتا ہے۔ جس بچے نے سولہ سال بعد ایم اے کر کے نوکری کرنا ہو اسے سولہ سال تک درس گاہوں میں بھیجتا اور اس کے مصارف برداشت کرتا ہے۔ عارضی جسم کی عارضی ضروریات کے لیے تو ہماری دوڑ دھوپ کا یہ عالم ہے، لیکن جس روحانی جسم نے ان گنت صدیوں تک زندہ رہنا ہے۔ اس کی پروا نہیں، آخر منصوبہ بندی کی یہ کونسی قسم ہے؟ کیا شب و روز کے چوبیس گھنٹوں میں سے روحانی نشوونما کے لیے آپ ایک گھنٹہ بھی نہیں نکال سکتے۔ کیا روح کی زندگی سے آپ کو اتنی چڑ ہے؟ کیا آپ کو جنت کی بہاروں سے اتنی نفرت ہے؟‘‘۔ اس مادہ پرستی کے بدترین انجام پر برق صاحب نے اقبال کا یہ شعر درج کیا ہے
دوزخ کی کسی طاق پہ افسردہ پڑی ہے
خاکسترِ اسکندر و دارا و ہلاکو

ایک ہی خاندان
اوریا مقبول جان جمعـء 24 اپريل 2015

برصغیر پاک وہند پر اپنی حکمرانی کو مسلّط اور مستحکم کرنے کے لیے انگریز نے دو ادارے قائم کیے۔ ایک سول سروس اور دوسرا فوج۔یہ دونوں ادارے شروع دن ہی سے کسی نہ کسی شکل میں ایسٹ انڈیا کمپنی کی تجارتی سرگرمیوں اور علاقائی فتوحات کے لیے سرگرم رہے۔1757میں بنگال کی فتح کے ساتھ ہی انتظامی امور کے لیے ایک مختصر سا نظام وجود میں آیا۔ آہستہ آہستہ یہ دونوں ادارے یہاں کے حالات، ماحول، تہذیب وثقافت اور انگریز کی حکمرانی کے اہداف کے مطابق بنتے اور سنورتے رہے۔
ان دونوں اداروں میں انگریز نے کچھ اداراتی اخلاقیات اور ایک مخصوص گروہی تہذیب کو فروغ دیا۔ سول سروس اور فوج، دونوں کے افسران اپنے رہن سہن، بول چال، تہذیبی اقدار، اخلاقی سوچ، لباس، یہاں تک کہ بہت حد تک بولنے کے انداز تک سے پہچانے جاتے تھے اور آج بھی ان کا یہ نقش اور ٹھپہ قائم نظر آتا ہے۔
سول سروس تو اس قدر سیاسی اور انتظامی تبدیلیوں کی زد میں آئی کہ اپنا وہ حلیہ برقرار نہ رکھ سکی، لیکن فوج نے چونکہ پہلے دن سے لے کر آج تک انگریز کے بنائے ہوئے قواعد و ضوابط میںکسی قسم کی کوئی تبدیلی نہیں کی، اسی لیئے آپ کو انگلستان کا ریٹائرڈ جنرل، کرنل یا بریگیڈیر اور بھارت، پاکستان یا بنگلہ دیش کا ریٹائرڈ آفیسر ایک طرح کی عادات و خصائل کا حامل نظر آئے گا اور آپ اسے فوراً اس کی چال ڈھال سے پہچان لیں گے کہ یہ ایک ریٹائرڈ فوجی ہے۔ آج سے تیس سال قبل تک یہ پہچان سول سروس کے ساتھ بھی وابستہ تھی اور ان سول افسران کی بھی دوران ملازمت اور بعداز ملازمت زندگی پہچانی جاتی تھی۔
ان دونوں اداروں کو انگریز نے سرکار کا وفادار بنانے اور انگریزی تہذیب و ثقافت سے مرعوب رکھنے کے لیے انھیں چند سبق ازبر کروائے۔ ان میں سب سے پہلا سبق انگریزی تھی۔ غلط بولو، بری بولو، لیکن انگریزی بولو۔اسی لیے پورے برصغیر کی فوج کی ایک مخصوص انگریزی نکل کر سامنے آئی۔
دوسری جانب سول سروس میں چونکہ عام آدمی سے تعلق پڑتا تھا اس لیے علاقائی زبان کو ایک اختیاری ذمے داری کے طور پر سیکھنا ان کے لیے لازمی قرار دیا گیا، لیکن افسران کی دفتری اور ماحولیاتی زبا ن انگریزی ہی رہی۔ یوں وہ کھاتے پیتے، سوتے جاگتے، خواب دیکھتے اور گفتگو کرتے اس بات کا خیال رکھتے کہ کہیں انھیں عام آدمی نہ تصور کرلیا جائے۔
علاقائی زبان سیکھنے پر علیحدہ الاؤنس دیا جاتا۔ تمام ضلعی انتظامیہ کے دفاتر میں ایک شعبہ انگریزی کا ہوتا او ردوسرا علاقائی زبان کا جسے ورنیکلر کہتے۔ اس ورنیکلر میں بھی زیادہ تر فارسی زبان استعمال ہوتی اس لیئے کہ صدیوں سے برصغیر کی دفتری زبان فارسی تھی اور قدیم ریکارڈ اسی زبان میں تھا۔ ان دونوں اداروں کے افسران کو زندگی گذارنے کے جو اصول سکھائے گئے وہ خالصتاً سیکولر اورریاستِ انگریزسے وابستہ تھے۔
یہی وجہ تھی کہ ایک مقامی ڈپٹی کمشنر اپنے ہی قبیلے، قوم یا مذہب کے افراد پر لاٹھی چارج کر لیتا، جیل بھیج دیتا، یہاں تک کہ گولی بھی چلادیتا۔ اس کے نزدیک اس بات کی کوئی اہمیت نہ تھی کہ سامنے والا شخص کس قدر حق پر ہے، یہ جلوس، جلسہ یا پھر لوگوں کا علم بغاوت دراصل حاکم کے خلاف ہے، جس کا وہ ملازم ہے خواہ وہ انگریز قابض ہی کیو ں نہ ہو۔ اس کے نزدیک امنِ عامہ کا قیام اس کی بنیادی ذمے داری تھی اور باغی کو کچلنا فرض اولین خواہ وہ اس کی طرح کلمہ پڑھتا ہو یا بھگوت گیتا۔
اس کے جذبات ہو سکتا ہے ہجوم کے ساتھ ہوں لیکن نوکری کرنے کی ایسی غلامانہ صفت اس کے اندر کوٹ کوٹ کر بھر دی گئی تھی کہ وہ اپنی مرضی کے خلاف ان پر گولی تک چلانے کے احکامات صادر کر دیتا تھا۔ یہی حال فوج کا تھا۔ اس کے نزدیک سرحدی تحفظ، علاقائی سالمیت اور بغاوت کا قلعہ قمع سب سے اہم تھا اور یہی ذمے داری اس کے وجود کا جواز تھی۔
اسی لیے مسلمان کو مسلمان پر، ہندو کو ہندو اور سکھ کو سکھ پر گولی چلانے یا اس سے جنگ کرنے میں ذرا سا بھی تامل نہ ہوتا۔ تاجِ برطانیہ سے وفاداری اس وقت کے ایک فوجی کی معراج تھی۔ اور وہ اپنی زبان بولنے والوں، بلکہ اپنے قبیلے والوں سے بھی لڑنے کے لیے میدان میں اتر آتا۔ اس لیے کہ اسے اس بات کا درس دیا گیا تھا کہ وردی پہننے کے بعد تم نے ایک نیا قبیلہ، گروہ یا برادری کو اختیار کر لیا ہے، اب تمہارا مرنا جینا انھیں کے ساتھ ہے۔
یہی وجہ ہے کہ آہستہ آہستہ سول سروس اور فوج کے افسران کی آپس میں ہی رشتے داریاں ہونے لگیں۔ وہ جو برادری، نسل رنگ سے باہر نہیں نکلتے تھے انگریز کی غلامی کے بالا دست رشتے میں پیوست ہونے لگے۔
ان دونوں اداروں نے اس برصغیر میں اپنے اور عوام کے درمیان مناسب فاصلہ رکھنے کے لیے ایک اور طبقہ ’’زرعی اور سیاسی اشرافیہ‘‘ کو تخلیق کیا۔ وہ لوگ جنھیں ہزاروں ایکڑزمینیں عطا کی گئیں۔
یہ زمینیں خالصتاً وفاداری کے صلے میں دی گئیں۔ جس نے جنگوں میں جتنے زیادہ کڑیل جوان انگریز کی فوج میں بھرتی کروائے تھے، وہ اتنا ہی بڑا، خان، نواب، چوہدری، وڈیرہ اور تمن دار بنا دیا گیا۔ ان سب کی اولادوں کو انگریزی تہذیب اور سول سروس اور فوج کی طرح اپنے رنگ میں رنگنے کے لیے لاہور میں چیف کالج کھولا گیا جسے ایچیسن کالج کہا جاتا ہے۔ یہاں اس سیاسی اشرافیہ کو وہی سب کچھ سکھایا گیا جو سول سروس اور فوج کو سکھایا جاتا تھا۔
یوں ان لوگوں کا رہن سہن، عادات و اطوار او ر سوچ سب کی سب ایک جیسی ہوگئی۔ کتنے ایسے عہدے تخلیق کیے گئے جو انتظامی امور میں سول سروس کی مدد کرتے اور مراعات یافتہ زندگی گذارتے۔ آنریری مجسٹریٹ سے لے کرنمبر دار تک ان سب پر اس سیاسی اشرافیہ کے فرزندان فائز ہوتے اور ڈپٹی کمشنر صاحب بہادر کے دفتر اور گھر پر لہرائے جانے والے برطانوی پرچم کی بالا دستی کے لیے کام کرتے۔انھیں بھی انگریز سرکار کی حکومت کی رٹ قائم کرنے کے لیے اپنی قوم، اپنی نسل یہاں تک کہ اپنے ہم مذہب لوگوں کو دبانے، انھیں انگریز کا وفادار بنانے اور یہاں تک ان کے خلاف مخبری کر کے سزا دلوانے میں بھی کوئی شرم محسوس نہ ہوتی۔ یہ سب وہ ایک اعلیٰ مقصد کے لیے کر رہے ہوتے جسے ریاست یا حکومت کی رٹ کہا جاتا ہے۔
یہ تیسرا طبقہ جسے سیاسی اشرافیہ کہا جاتا تھا اقتدار کے ایوانوں میں ان دونوں طبقات کا شریک ہو گیا، لیکن اس کی حیثیت مرعوب سی رہی۔ ڈپٹی کمشنر کی ایک رپورٹ کسی خان، وڈیرے یا چوہدری کی ساری وفاداریوں پر پانی پھیر سکتی تھی۔وقت کے ساتھ ساتھ اس طبقے نے جب اپنی وسیع جائیدادوں اور سرکاری دفاتر میں اثرورسوخ سے لوگوں کو اپنا مطیع بنا لیا اور انگریز کو یہ یقین ہو گیا کہ اب اس سیاسی اشرافیہ نے عوام کواچھی طرح جکڑ لیا ہے اور عوام انھیں چھوڑ کر ادھر ادھر نہیں جا سکتے، تو اس نے لوکل کونسل،لیجس لیٹیو کونسل وغیرہ کے انتخابات شروع کروا دیے، تا کہ لوگوں کو اس فریب میں مبتلا کیا جائے کہ یہ جو وزیراعلیٰ ہے، یہ تمہارے ووٹ سے برسراقتدار آیا ہے۔
یہ سیاسی اشرافیہ، فوج اور سول سروس کے ساتھ رشتے داریوں کے بندھن میں بند ھنے لگی اور یوں اس برصغیر میں ایک ایسا وسیع خاندان وجود میں آگیا جو سید،مرزا، جاٹ، گجر، خٹک، آرائیں، گبول وغیرہ تو نسلاً تھے لیکن ان کی رشتے داریاں اسی اشرافیہ سے باہر نہیں ہوتی تھیں۔ باپ جرنیل تو بیٹا ڈپٹی کمشنر اور داماد اسمبلی کا رکن۔ عرب انساب کے بہت ماہر ہوا کرتے تھے۔ برصغیر میں یہ کام مراثی کرتے تھے جو لوگوں کے شجرۂ نسب کو یاد رکھتے۔ آج اگر کوئی انساب کا ماہر اس ملک میں ان تینوں گروہوں کا شجرہ نسب ترتیب دے تو حیران رہ جائے، یہ سب تو ایک ہی دوسروں میں نسلوں سے جڑے ہوئے ہیں۔
ان کے دکھ سکھ سب مشترک ہیں۔ یہ ایک دوسرے کا تحفظ کرتے ہیں۔ ان سب کا مفاد ایک ہے۔ ان سب کی صفوں میں اگر کوئی نیچ ذات کا کمی کمین اپنی محنت سے آملے تو چند ہی سالوں میں ایسا کندن بن کر نکلتا ہے کہ پہنچنانا مشکل ہو جاتا ہے، اور ایک دو نسلوں بعد تو وہ اشرافیہ کی ویسی ہی علامت بن جاتاہے۔ ڈیڑھ سو سالوں سے یہی ایک خاندان ہے جس کی اس ملک پر حکومت ہے۔ گنتی کے یہ چند لوگ اٹھارہ کروڑ عوام پر آج بھی حکمران ہیں۔

شیطان بزرگ سے دوستی‘ مرگ بر امریکا کی رخصتی (2)
اوریا مقبول جان پير 13 اپريل 2015

آیت اللہ خمینی کی قیادت بہت جاندار، معاملہ فہم، دور بین اور اسلامی تصورات ریاست و حکومت کی امین تھی۔ انھوں نے اپنے روایتی فقہی پس منظر سے بلند ہو کر حکومتی کاروبار کو چلانے کی کوشش کی۔ ان کے کچھ اقدامات تو ایسے تھے کہ جن کی مثال ہماری ایک ہزار سال کی فقہی اختلافات کی تاریخ میں نہیں ملتی۔ ہماری تاریخ تو یہ ہے کہ خانہ کعبہ میں چار مختلف مسالک کے چار مصلے بچھائے گئے تھے اور حنفی،مالکی، شافعی اور حنبلی امام علیحدہ علیحدہ جماعت کرواتے تھے۔
ان چاروں کو ایک امام پر شاہ فیصل مرحوم نے متفق کیا۔ لیکن آیت اللہ خمینی کا یہ فتویٰ کہ کسی بھی مسلک کے امام کے پیچھے نماز پڑھنا جائز ہے، ایک بہت بڑا قدم تھا، یہی وجہ ہے کہ آج آپ کو سنی مسلک کے کچھ لوگ تو حرم میں علیحدہ نماز پڑھتے نظر آئیں گے لیکن شیعہ مسلک کا کوئی فرد اس اتحاد امت کا وہاں تماشہ نہیں بناتا البتہ بوہری اپنی نماز علیحدہ کرواتے ہیں۔ ایران کے آئین کی ترتیب و تدوین کے لیے بھی مختلف ممالک اور مختلف مسالک کے علماء سے مشاورت کی گئی۔ آیت اللہ خمینی نے تین نعرے ایرانی عوام کو دیے۔ دو نعرے عالمی سیاست پر مشتمل تھے۔ مرگ بر امریکا، مرگ بر اسرائیل اور تیسرا نعرہ مسلکی تھا، مرگ بر ضد ولایت فقہیہ۔
عالمی سیاست کے یہ دونوں نعرے آیت اللہ خمینی کی دور بین نگاہوں اور اسلامی فکر سے جنم لینے والی بصیرت کا نتیجہ تھے۔ یہی وجہ ہے کہ جب روسی افواج افغانستان میں داخل ہوئیں تو جہاں پاکستان وہاں کے مہاجرین کا میزبان بنا، وہیں ایران بھی افغان مہاجرین کا بوجھ برداشت کرتا رہا۔ افغان مجاہدین کی قیادت بیک وقت پاکستان اور ایران سے رابطے میں رہتی۔ روس کے جانے کے بعد اور پھر سوویت یونین کے ٹوٹنے کے بعد جب آزاد ہونے والی چھ مسلمان ریاستوں، پاکستان، ترکی، افغانستان اور ایران پر مشتمل ایک تنظیم ای سی او بنی تو ایران اس میں سب سے زیادہ متحرک تھا، بلکہ اس کا ہیڈ کوارٹر بھی تہران میں تھا۔
امریکا اور اسرائیل سے دشمنی ایرانی سیاست پر چھائی ہوئی تھی۔ ایرانی انقلاب، ایرانی قوم کی اسلامی شناخت بنانے کی طرف گامزن تھا۔ اس میں پہلی رکاوٹ وہ مجاہدین خلق کے کمیونسٹ تھے جو صرف شاہ ایران اور امریکی دشمنی کے تحت ملاؤں سے آن ملے تھے۔ وہ حکومت میں بھی شامل تھے اور پارلیمنٹ میں بھی۔ امریکا کو آیت اللہ خمینی نے پورے ایران میں ایک گالی بنا دیا تھا۔ مجاہدین خلق سے جان چھڑانا مقصود تھی۔ ان کے بارے میں یہ پراپیگنڈہ کیا گیا کہ ان کے روابط امریکا اور عراق سے ہیں۔ پھر ایک دن فتویٰ آ گیا کہ یہ سب منافقین اور واجب القتل ہیں۔ ہزاروں قتل کر دیے گئے۔ مسعود رجادی کو عراق نے پناہ دے دی۔ بالکل اسی طرح جیسے بیس سال قبل اس نے آیت اللہ خمینی کو پناہ دی تھی۔
ایران نے اپنے انقلاب کو دوسرے اسلامی ممالک میں پھیلانے کی کوشش کی لیکن تھوڑے عرصے بعد اسے احساس ہو گیا کہ صدیوں سے قائم مسلک کی دیواریں کس قدر مضبوط ہیں۔ ایران، عراق جنگ شروع ہوئی تو اس آٹھ سالہ جنگ نے صدیوں پرانی عرب و عجم کی عصبیت کو زندہ کر دیا۔ ایران چونکہ یہ جنگ بالکل اکیلے لڑ رہا تھا، اس لیے ایرانیوں کے اندر اس جذبے نے شدت اختیار کر لی کہ عرب ایک دفعہ پھرہم پر حملہ آور ہیں۔ آپ حیران ہوں گے کہ دوسرے ملکوں سے کچھ رضا کار یہ جنگ لڑنے گئے جنھیں ایران کے ساتھ مسلک کی عقیدت تھی۔ لیکن جنگ میں مارے جانے کے بعد انھیں علیحدہ قبرستانوں میں دفن کیا جاتا۔ جھنگ کا ایک شخص اپنے بیٹوں کو جو عراق جنگ میں جاں بحق ہوئے تھے تہران کے قریب بہشت زہرا قبرستان میں دفن کرنا چاہتا تھا، اسے اس کی اجازت نہ دی گئی کہ تمہارے لیے وہ خارجی قبرستان ہے۔
وہ اپنے دونوں بیٹوں کی نعشیں پاکستان لے آیا۔ ایرانیت غالب آنے لگی۔ بلکہ مکمل طور پر سر اٹھا چکی تھی لیکن چونکہ قیادت مذہبی اور مسلکی تھی، اس لیے ایران کے اثرونفوذ کو مسلک کے راستے بڑھانے کی طرف توجہ دی جانے لگی۔ آیت اللہ خمینی کے زمانے میں ہونے والی تمام عالمی کانفرنسیں،سفارت خانوں کی تقریبات میں تمام مسالک کے افراد مدعو ہوتے، لیکن اب یہ اپنے مسلک تک محدود ہونے لگے۔ افغانستان میں مجاہدین کے درمیان خانہ جنگی کا آغاز ہوا،کئی سال خونریزی میں گزرے۔ اس خونریزی کے ردعمل میں طالبان نے عروج پکڑا۔ ملا محمد عمر نے نوے فیصد افغانستان بغیر لڑائی لڑے اپنے امن کے جھنڈے تلے جمع کرلیا۔ پاکستان نے طالبان کی حمایت کی، بلکہ ان کی حکومت کو تسلیم کرلیا۔
ایسے میں ایران نے اپنے اثرونفوذ کو قائم رکھنے کے لیے شمالی اتحاد کی ہر طرح سے مدد کی بلکہ شمالی اتحاد کی تمام قیادت ایران اور تاجکستان کے توسط سے بھارت کے ساتھ رابطے میں رہی۔ شمالی اتحاد سے تعلق کی جڑیں اسقدر مضبوط تھیں کہ گیارہ ستمبر کے واقعے کے بعد جہاں ہر پڑوسی ملک نے امریکا کی حمایت کا اعلان کیا، وہاں ایران نے درپردہ شمالی اتحاد کے ذریعے اپنے اثرونفوذ کو قائم رکھنے کی کوشش کی۔ یہی وجہ ہے کہ جب وہاں پاکستان یہ چاہ رہا تھا کہ شمالی اتحاد کی پاکستان مخالف حکومت نہ بنے، ایران نے پوری کوشش سے اس حکومت کے قیام کو ممکن بنایا۔ افغانستان صدیوں ایران کا حصہ رہا ہے اور پاکستان اس کا مستقل پڑوسی، لیکن خالصتاً ایرانی مفاد کے مطابق فیصلہ کیا گیا۔ اس دوران پاکستان گوادر بندر گاہ پر کام شروع کر چکا تھا تاکہ وسط ایشیا تک رسائی کا اہتمام ہو سکے۔ ایسے میں بھارت کو کئی ارب ڈالر کی سرمایہ کاری سے چاہ بہار بندر گاہ سے افغانستان کے صوبے ہلمند تک سڑک بنانے کی اجازت دی گئی تاکہ گوادر ایک بے معنی حیثیت اختیار کر جائے۔
ایرانی غلبے اور ایرانیت کے اثرونفوذ کو اگلی رسائی اس وقت ملی جب امریکا کے ہاتھوں صدام حسین کی شامت آئی۔ صدام کی فوج تو پل بھر میں غائب ہو گئی، لیکن عراقی عوام امریکا کے خلاف لڑنے لگے۔ ایسے میں اپنے زیراثر افراد کو اس جنگ سے دورکرنے کے لیے ایران نے مقتدیٰ صدر کو امریکا مخالفت سے دور کر دیا۔ عراق میں امریکا کے خلاف کسی جہاد کا اعلان نہ ہوا۔ یوں ساری جنگ سنی مسلک کے چند شہروں تک محدود ہو کر رہ گئی جنھیں امریکا نے القاعدہ کہہ کر تباہ و برباد کر دیا۔ صدام کے زمانے میں ایران اور عراق کی فوجی طاقت برابر تھی۔ عراق تباہ ہوا، آئین رکھا گیا، نئی حکومت آئی جو ایران کی دست نگر تھی۔ اب تو ان کی فوج کے پاس چند ٹینک رہ گئے تھے اور ایئر فورس کے پاس تو ایک جہاز تک نہ تھا۔
یوں عراق میں ایرانی اثرونفوذ بالکل اسی مقام پر آ گیا جیسا یزدگرد کے زمانے میں تھا یعنی دجلہ و فرات کے درمیان کا علاقہ اسے کے محلات پر مشتمل تھا۔ ایران کو شام، لبنان، بحرین اور کویت تک ایک محفوظ راستہ مل گیا جو عراق سے ہو کر جاتا تھا۔ یہ گزشتہ دس سالوں میں اس کے امریکا کے ساتھ درپردہ رابطوں کا نتیجہ تھا جسے ایرانی اسلامی انقلاب کے بانی آیت اللہ خمینی نے شیطان بزرگ کہا تھا۔لیکن اس ساری کشمکش میں جو عرب و عجم کی لڑائی کے طور پر پیدا ہوئی تھی شیطان بزرگ امریکا کا ایک بہت بڑا خواب پورا ہو رہا تھا۔ شیعہ سنی لڑائی۔ یہ خواب شیطان بزرگ امریکا گزشتہ پچیس سال سے دیکھ رہا ہے۔ اس کشمکش کے نتیجے میں عراق کی سنی اقلیت سے دولت اسلامیہ نے جنم لیااور یمن کی زیدی اقلیت نے حوثی بغاوت کا راستہ اختیار کیا۔
دو ملک ایسے تھے جہاں اقلیت واضح اکثریت پر حکمران تھی، بحرین اور شام۔ دونوں جگہ اقلیت کی حکومت کے خلاف لوگ اٹھ کھڑے ہوئے، اس ساری کشمکش اور لڑائی میں جہاں مسلم امہ کا خون بہہ رہا تھا، دنیا کی پانچ بڑی طاقتیں اور امریکا مل کر ایران کے ساتھ مذاکرات کر رہی تھیں۔ یہ مذاکرات ایران کے ایٹمی پروگرام کو عالمی ضابطوں کے ماتحت کرنا تھا جس کے بدلے میں ایران کو پرامن توانائی کی ضروریات کے لیے ایٹمی ٹیکنالوجی کا حصول آسان ہوجائے گا لیکن اصل مسئلہ وہ پابندیاں ہیں جو ایران سے اٹھیں گی تو وہ اپنی معیشت کو مضبوط کر سکے گا۔ یوں 38 سال بعد ایران، امریکا اور مغربی قوتیں، مشرق وسطیٰ میں شانہ بشانہ کھڑی ہوں گی۔ یہ دراصل گزشتہ دس سالوں کا خفیہ معاشقہ تھا جو واضح اعلان کی صورت سامنے آیا ہے۔ اوباما کی تقریر کی سرخوشی بہت کچھ بتا رہی ہے۔
ایران کی قیادت محتاط ہے۔ یہ احتیاط اس لیے کہ گزشتہ چالیس سال سے ایرانیوں کی زبان پر ایک ہی نعرہ تھا ’’مرگ بر امریکا،، چار نسلیں اس نعرے کے سائے میں پل کر جوان ہوئیں ہیں۔ انھیں اس بات کا احساس دلایا گیا کہ دنیا میں سب سے بڑا شیطان امریکا ہے اور اس سے شدید نفرت کی جائے۔ امریکی دوستی مشرق وسطیٰ میں ایرانی اثرونفوذ بڑھانے میں مدد تو دے گی لیکن اندرون ایران، عام آدمی کے جذبات کیا ہوں گے اسے ایران کی مذہبی قیادت خوب جانتی ہے۔ انھیں خوف ہی اس بات کا ہے کہ وہ مرگ بر امریکا کا نعرہ جو کل شاہ کے خلاف استعمال کرتے تھے، آنے والے کل یہ ان کے خلاف استعمال نہ ہونے لگے۔ ایرانیوں کو انقلاب کا تجربہ تو ہے۔ (ختم شُد)

مسلماناں بخویشاں درستیزند
اوریا مقبول جان پير 20 اپريل 2015

سوئٹزر لینڈ کے شہر جنیوا کی جھیل کے کنارے امریکی اور اس کے پانچ اتحادی مارچ کے آخری ہفتے میں ایرانی قیادت کے ساتھ ایٹمی پروگرام پر مذاکرات کر رہے تھے اور دوسری جانب عراق کے تیل کی دولت سے مالا مال شہر تکریت سے اسلامی ریاست کا قبضہ چھڑوانے کے لیے امریکا، عراق اور ایران کے پاسداران شانہ بشانہ لڑ رہے تھے۔ اس دوران امریکی ’’عادت‘‘ کے مطابق ایک دوستانہ ڈرون حملہ ہوا جس میں ایرانی پاسداران کے دو اہم ارکان علی یزدانی اور ہادی جعفری مارے گئے۔ ایرانی میڈیا ایک دم سیخ پا ہو گیا اور اپنے اتحادی امریکا کے خلاف زہر اگلنے لگا۔
تکریت کے خلاف کارروائی کا آغاز عراقی حکومت کی مرضی سے 21 مارچ کو شروع ہوا اور اسی دن سے امریکی طیاروں اور ڈرونز نے تکریت پر اپنی پروازیں شروع کیں۔ ایرانی پاسداران کمانڈروں کے جسد خاکی تہران پہنچے تو جنازے پر ایک جم غفیر امڈ آیا۔ امریکی ایئر فورس کی سینٹرل کمانڈ نے اعلان کیا کہ 22 مارچ سے 24 مارچ 2015ء کے دوران تکریت پر کوئی فضائی حملہ نہیں کیا گیا، بلکہ پہلا حملہ 23 مارچ کی رات کو ہوا۔ تکریت پر زمینی حملہ عراقی افواج اور ایران کے تحت منظم کردہ ملیشیا کے باہم اشتراک سے شروع ہوا جس کی سربراہی ایرانی پاسداران کا سربراہ جنرل قسیم سلیمانی کر رہا تھا۔ عراقی فوج نے امریکا کو ایران کی مرضی سے اپنے ساتھ ملایا تا کہ فضائی مدد حاصل کی جاسکے۔
امریکی افواج کی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ جنرل لائڈ آسٹن نے سینیٹ کو بتایا کہ یہ حملے دونوں کی مرضی سے شروع کیے گئے۔ تکریت کی یہ لڑائی جو تیل کے ذخائر کے قبضے کی لڑائی ہے، اسے اب مکمل طور پر مسلکی تنازعے میں بدل دیا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس حملے کے بعد تین گروہ جو ایرانی مدد سے وہاں لڑ رہے ہیں ان کے ترجمان نعیم العبیدی نے کہا کہ امریکی ہمارے لوگوں پر ’’غلطی‘‘ سے بم برسا رہے ہیں اور اسلامی ریاست کے لوگوں پر ’’غلطی‘‘ سے امداد۔ یہ وہی عبیدی ہے جس نے بدر ملیشیا، قدس ملیشیا اور اخوان حزب اللہ ملیشیا کے ساتھ مل کر امریکی افواج سے معاہدہ کیا تھا کہ وہ تکریت کو آزاد کروانے کے لیے ان کی فضائی مدد کرے۔
یہ وہی ملیشیا ہے جو وہاں موجود اسلامی ریاست (آئی ایس) کے خلاف لڑرہی ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بانکی مون نے ان لوگوں کے بارے میں اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ ملیشیا جس علاقے میں داخل ہوتے ہیں وہاں لوگوں کو پکڑتے ہی قتل کر دیتے ہیں، عمارات کو بلڈوز کر دیتے ہیں اور اپنے علاقوں میں لوگوں کو اغوا کرتے ہیں۔ اسی طرح کے الزامات ایرانی اور عالمی میڈیا کی طرف سے اسلامی ریاست کی طرف بھی لگائے جاتے ہیں۔
مشرق وسطیٰ میں یہ سب کب سے ہو رہا ہے اور کون اس جنگ کو مسلک کی جنگ میں تبدیل کر کے مسلمانوں کا خون بہا رہا ہے۔ یہ بہت تکلیف دہ موجودہ تاریخ ہے۔ دیگر عرب ممالک کی طرح جب شام کے اقلیتی ڈکٹیٹر بشار الاسد کے خلاف وہاں کی اکثریت اٹھ کھڑی ہوئی تو اس کی آمریت کو بچانے کے لیے ایران اور حزب اللہ نے صرف اسلحہ نہیں بلکہ افرادی قوت تک وہاں پہنچانا شروع کی۔ دوسری جانب سعودی عرب نے وہاں کے لڑنے والوں کو سرمایہ اور اسلحہ دینا شروع کیا۔ محمد علی مرادی جو ایک 45 سالہ افغان تھا، ایران کے ایک قید خانے میں منشیات اسمگل کرنے کے جرم میں قید کاٹ رہا تھا، اسے اس شرط پر رہا کیا گیا کہ وہ شام میں جا کر بشار الاسد کی فوج کے ساتھ لڑے گا۔ شام میں ایران کے پاسداران نے ایک ملیشیا ترتیب دیا تھا جسے ’’لیوا فاطمیون‘‘کہا جاتا ہے۔
محمد علی مرادی کو 600 ڈالر ماہانہ دیے جاتے تھے۔ مرادی نے اپنے خاندان کے لوگوں کو بتایا کہ اسے ایران میں مختصر ٹریننگ دی گئی اور بتایا گیا تمہیں سیدہ زینب، سیدہ رقیہ اور حجر بن عدی کے مزارات کے تحفظ کے لیے بھیجا جا رہا ہے۔ وہاں وہ ان افغان ہزارہ لوگوں کے ساتھ شریک ہو گئے جو شام میں آباد تھے اور اب بشار الاسد کی حکومت کے ساتھ مل کر باغیوں سے جنگ کر رہے تھے۔ اسی جولائی 2014ء میں ایرانی میڈیا پر ایک پاکستانی نوجوان جاوید حسین کا جنازہ دکھایا گیا جسے قم کے شہر میں میں دفن کیا گیا۔ یہ پاکستانی نوجوان شام میں باغیوں کے خلاف لڑنے گیا تھا۔ اسی جولائی میں ایرانی میڈیا پر ایرانی پائلٹ شجاعت علمداری مورجانی کی نماز جنازہ بھی دکھائی گئی جو عراق میں ’’باغیوں‘‘ سے لڑتا مارا گیا تھا اور اسے شیراز میں دفن کیا گیا۔
اس وقت فارسی زبان میں کئی سو ویب پیجز ایسے ہیں جو نوجوانوں سے یہ اپیل کر رہے ہیں کہ شام میں جا کر لڑو۔ ’’لیوا فاطمیون‘‘کے ویب پیج پر ایسے افغان افراد جو ہزارہ قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں، ان کی تصاویر ہیں جو شام میں لڑتے ہوئے مارے گئے۔ گزشتہ ایک سال سے شام کی اس جنگ میں بہت تیزی آ گئی ہے۔ جہاں مغرب سے ہزاروں لوگ اسلامی ریاست کے ساتھ جنگ کرنے کے لیے وہاں پہنچے ہیں، وہیں ایران کے ذریعے شام اور عراق کی حکومتوں کا ساتھ دینے والے دیگر ملکوں کے لوگ بھی وہاں جا رہے ہیں۔ گیارہ اپریل کو ایرانی میڈیا اور عالمی پریس میں سات پاکستانیوں کے جنازوں کی خبر بھی نشر ہوئی جو شام میں مارے گئے اور ان کا جنازہ قم میں پڑھا گیا۔
اس جنگ میں پڑوسی ملکوں کی مداخلت کا آغاز اس وقت ہوا جب ایران نے قدس فورس کے نام پر 500 پاسداران کو سمارا‘ بغداد اور کربلا کی حفاظت کے لیے بھیجا، آج اس نے پورے مشرق وسطیٰ کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ اب اس جنگ کے دو بنیادی میدان ہیں، ایک تکریت اور دوسرا یمن ۔ دونوں میں لڑائی کی وجہ نہ شیعہ تعصب ہے اور سنی تعصب بلکہ دونوں کی وجہ تیل کی دولت اور تیل کی سپلائی لائن ہے۔ لیکن ایران ہو یا سعودی عرب دونوں اس امت کے نوجوانوں کو مقدسات کے نام پر اس جنگ میں کودنے کو کہہ رہے ہیں۔ اس وقت تک ایران کے گیارہ اعلیٰ افسران عراق میں جنگ کے دوران مارے جا چکے ہیں۔
کیپٹن علی رضا موشجاری (جون 2014ء سمارا)، کرنل کمال شیر خانی (جون 2014ء سمارا) کرنل شجاعت علمداری مورجانی (جولائی 2014ء سمارا)، بریگیڈر جنرل حامد تقادی (28 دسمبر 2014ئ، سمارا)، کمانڈر مہدی نورزئی (10 جنوری 2015ئ، سمارا)، حسین شاکری، (23 جنوری 2015ء سمارا)، کمانڈر رضا حسین مقدم (7فروری 2015ء سمارا)، محمد ہادی ذلفگاری (15 فروری 2015ء سمارا)، کمانڈر قدس فورس صادق ہادی گولدارہ (20 مارچ 2015ء تکریت) اور علی یزدانی اور ہادی جعفری جن کے بارے میں کہا گیا کہ یہ مارچ 2015ء کے ڈرون حملے میں مارے گئے۔ اسی طرح جولائی 2014ء میں حزب اللہ کا کمانڈر ابراہیم الحج شام میں مارا گیاجو وہاں شامی فوج کے ساتھ بغاوت کو کچلنے کے لیے حزب اللہ کو شریک کر رہا تھا۔
یہ وہ لوگ ہیں جن کے مرنے کا سوگ اور ان کی قربانیوں کو اجاگر خود ایرانی، عراقی، شامی اور دیگر میڈیا نے خود کیا ہے۔ کتنے مزید ایسے ہوں گے جو دیگر مسلمان ملکوں سے اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر اورشوق شہادت سے سرشار ہو کر عراق اور شام کی سرزمین پر پہنچے ہوں گے، دل میں یہ مقصد لیے کہ ہم نے وہاں کربلا، نجف، دمشق اور کاظمین کا تحفظ کرنا ہے ۔لیکن اب کوئی یہ نہیں بتاتا کہ یمن میں کونسے مقدسات ہیں جن کے تحفظ میں لوگ وہاں لڑنے جا رہے ہیں۔ تکریت میں کس کا مزار ہے جس کو بچانا مقصود ہے۔
اس امت کی موجودہ دور میں بدقسمتی یہ ہے کہ اس پر حکمران اپنی سلطنت کو بچانے کے لیے مقدسات کا نام استعمال کرتے ہیں۔ ایک جانب یہ آواز بلند کی جاتی ہے کہ حرمین شریفین کی تحفظ کے لیے امت اکٹھی ہو جائے اور دوسری جانب مزارات کے نام پر دوسرا گروہ دنیا بھر سے لوگوں کو اکٹھا کر رہا ہے۔ سید الانبیاء ﷺ نے خانہ کعبہ کی طرف اشارہ کر کے فرمایا ’’اے کعبہ تو دنیا میں سب سے مقدس اور محترم مقام ہے لیکن ایک مسلمان کی جان اس کعبے سے بھی زیادہ محترم اور مقدس ہے‘‘۔ اقبال نے آخری عمر میں رسول اکرم کے حضور بہت سی رباعیاں تحریر کیں جو انھوں نے حج کے ارادے سے لکھی تھیں کہ یہ توشہ وہ رسول اکرمؐ کے حضور پیش کرنا چاہتے تھے۔ ان رباعیات میں اپنی عرضداشت کے ساتھ انھوں نے اس امت کا حال بھی لکھا ہے۔ اقبال نے فرمایا
مسلمان بخویشاں در ستیزند
بحز نقش دوئی دردل نہ ریزند
بنالندار کسے خشتے بگیرد
ازاں مسجد کہ خوداز وے گریزند
(مسلمان آپس میں ایک دوسرے سے دست و گریبان ہیں، ان کے دلوں میں اختلاف کے سوا کچھ نہیں۔ اگر کوئی مسجد کی ایک اینٹ اٹھا کر لے جائے تو آسمان سر پر اٹھا لیتے ہیں لیکن اس مسجد میں داخل ہونا پسند نہیں کرتے)

گروہوں میں منقسم ہونے کا عذاب
اوریا مقبول جان جمعـء 3 اپريل 2015

شام، عراق اور اب یمن۔ ہر کوئی ایک ہی دلیل لے کر سامنے آتا ہے کہ علاقائی سرحدوں اور ریاست کی خود مختاری کا تحفظ سب سے اہم ہے۔ ہم اپنی یا اپنے دوستوں کی سرحدوں کا آخر دم تک دفاع کریں گے۔ یہ سرحدیں کب بنیں، یہ حکومتیں کب قائم ہوئیں اور ان کے دفاع اور سلامتی کو کب سے تقدس کا درجہ دیا گیا؟۔ کیا یہ سب تقسیم خود بخود ہو گئی تھی۔
کیا پہلی جنگِ عظیم کے بعد اچانک مصر، اردن، شام، عراق، لبنان، ایران، سعودی عرب اور دیگر خلیجی ریاستوں کے لوگ اٹھ کھڑے ہوئے تھے، انھیں اپنے علاقوں کی حدود کا بھی پتہ تھا اور ان کے ذہنوں میں وطن کا تصور بھی بہت مضبوط تھا، پھر انھوں نے خود ہی اپنے گرد لکیریں کھینچ لیں اور کہنے لگے، کہ لو اب ہمیں ہمارا وطن مل گیا ہے، اب ہم اس کے دفاع پر اپنی جان تک قربان کر دیں گے۔ تاریخ کا ایک معمولی سا طالب علم بھی جانتا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کی تقسیم قطعاً رنگ، نسل، زبان اور علاقے کے بنیاد پر بھی نہیں کی گئی بلکہ اس کا مقصد سیاسی اور معاشی کنٹرول تھا۔
وہ لوگ جنھیں اللہ کی بتائی ہوئی دو قومی تقسیم حزب اللہ اور حزب الشیاطین بالکل پسند نہیں، انھیں بھی اس بات کا ادراک ہے کہ تیونس سے لے کر عراق تک یہ سارے کا سارا خطہ عربی زبان، عربی تہذیب و ثقافت اور عرب روایات کا کئی صدیوں سے امین رہا ہے۔ یہ پورا خطہ سوائے لبنان اور اردن کو چھوڑ کر سب کا سب قبائلی روایات کا بھی امین ہے۔
اگر قبائل پر ہی تقسیم شروع کر دی جائے تو بھی اس خطے میں ہزاروں ملک بنانے پڑیں گے۔ یہ پورے کا پورا خطہ مدتوں ایک خلافت کی مرکزیت پر قائم رہا۔ مصر کی فاطمی حکومت ضرور قائم رہی، بغداد میں آل بویہ بھی برسراقتدار رہے، ہلا کو بھی آتا رہا اور چنگیزخان بھی۔ لیکن کچھ عرصے کے ان طوفانوں کے بعد مسلمان پھر کسی نہ کسی طور مرکزیت پر جمع ہو جاتے تھے جسے وہ خلافت کہتے تھے۔ اجتماعیت اور مرکزیت ہی دین کا مدعا ہے۔
آخری مرکزیت خلافتِ عثمانیہ تھی جسے پہلی جنگِ عظیم کے بعد پارہ پارہ کر دیا گیا۔ لیکن وہ اتحادی ممالک جنہوں نے اس اتحاد کو پارہ پارہ کیا تھا، یہ نہیں چاہتے تھے کہ اب مسلمان دوبارہ کسی مرکزیتِ کی طرف لوٹیں۔ کیونکہ ایک کمزور سی مرکزیت بھی مسلمانوں کو جسد واحد ہونے کا احساس دلاتی رہتی ہے۔ اسی لیے جدید قومی سیکولر ریاستوں کے تصور کے ساتھ قابض اتحادی افواج نے پورے خطے کو چھوٹی چھوٹی ریاستوں میں تقسیم کر دیا۔
یہ تقسیم کا عمل بھی کئی سالوں میں جا کر مکمل ہوا۔ پہلے دو تین ممالک کو خود مختاری دے کر ان پر اپنی مرضی کا حکمران مسلط کیا جاتا۔ انھیں بتایا جاتا کہ ان ملکوں کا جغرافیہ اور سرحدیں اب تمہاری غیرت و حمیت ہیں۔ لوگوں کے ذہنوں میں اس وطن کا شعور جھنڈوں، قومی ترانوں اور مرتب کردہ آئینوں کے ذریعے راسخ کروایا جاتا اور پھر کسی دوسرے ملک کو آزاد کر کے وہی تجربہ دہرایا جاتا۔ لبنان کی مثال کمال کی ہے۔ پہلے آئین تحریر کیا گیا۔ جس میں لازمی قرار دیا گیا کہ عیسائی صدر ہو گا۔
سنی وزیر اعظم اور شیعہ اسمبلی کا اسپیکر، پھر سرحدیں کھینچی گئیں، ترانہ اور جھنڈا وجود میں لایا گیا۔ شریف مکہ کے تین بیٹوں میں تین ملکوں کو تقسیم کر دیا گیا، عراق، شام اور اردن۔ ایک اور چیز ان قومی ریاستوں کو بنانے اور مستحکم کرنے کے لیے اختیار کی گئی اور وہ تھی کرنسی، یعنی کاغذ کے نوٹ۔ ہر ملک میں اک سینٹرل بینک قائم ہوا۔ اس سے پہلے سونے اور چاندی کے سکے چلتے تھے، جن پر حکمران اپنی مہر اس لیے ثبت کرتے تھے تا کہ ان کے اصل ہونے کا یقین ہو جائے۔
ورنہ ایک ملک کا سکہ دوسرے ملک میں قابل قبول ہوتا تھا کیونکہ سونے اور چاندی کا وزن برابر ہوتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے زمانے میں بھی عرب دنیا کا اپنا کوئی سکہ وجود نہیں رکھتا تھا بلکہ رومی اور ایرانی سکے ہی بازار میں مستعمل تھے۔ جنگِ عظیم اوّل کے بعد پورا عرب علاقہ تقسیم کر دیا گیا، اور دو درجن سے زیادہ عرب ممالک وجود میں آ گئے۔ اب اگر کوئی شخص اس تقسیم کے بعد یہ نتیجہ نکالتا ہے کہ یہ سب تو نسل، رنگ اور علاقے کے ساتھ وابستہ جذبات تھے جنہوں نے ملک تقسیم کر دیے اور ان کی حرمت کو مقدم کر د یا تو اس شخص کے استدلال پر ماتم ہی کیا جا سکتا ہے۔
عرب و عجم کی تقسیم البتہ صدیوں پرانی تھی اور مدتوں انسان اسی لسانی اور نسلی تقسیم پر ایک دوسرے کا خون بہاتا رہا۔ اسلام کا بنیادی مقصد اور منشاء ہی اس تقسیم پر ضرب لگانا تھا۔ اسی لیے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ و سلم نے خطبہ حجتہ الوداع میں واضح اعلان فرمایا ’’کسی عربی کو عجمی پر اور کسی عجمی کو عربی پر فضیلت حاصل نہیں۔‘‘ پھر کسی قدر اطمینان سے کہا کہ ’’تمہاری جاہلیت کے تعصبات کے بت میرے پاؤں تلے کرچی ہو گئے‘‘۔
اس کے باوجود بھی اگر کسی ذہن میں یہ تصور جاگتا ہے کہ اسلام دنیا کو دو دھڑوں حزب اللہ اور حزبِ الشیاطین میں تقسیم نہیں کرتا بلکہ اس کا مقصد موجود دور کی سعودی، عراقی، شامی، یمنی اور لبنانی ریاستیں ہیں ریاست کے لیے کیونکہ مذہب نہیں بلکہ دیگر تعصبات کا تڑکا ضروری ہے، تو ایسے افراد کے لیے دعا ہی کی جا سکتی ہے۔ وہ عرب اور عجم کی جنگ جو اسلام سے پہلے بھی خونریزی اور قتل و غارت کا باعث تھی، آج ایک بار پھر اپنے خونی پنجے گاڑ رہی ہے۔
لیکن بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ اس جنگ میں عجم یعنی ایران کی سرزمین پر آگ نہیں لگی ہوئی۔ بلکہ کمال ہوشیاری سے اس جنگ کو مسلک کا تڑکا لگا کر عرب دنیا تک محدود کر دیا گیا ہے۔ عراق، شام، بحرین، یمن، سب جگہ عرب مسلمانوں کا خون بہہ رہا ہے اور اس گروہی اختلاف کو دو قوتیں آگ دکھا رہی ہیں۔ ایک وہ عرب حکمران جو قومی اور علاقائی ریاستوں پر مسلط ہیں اور اپنے اقتدار کا دفاع کر رہے ہیں اور دوسرا ایران جو سعودی عرب کے ساتھ ایک سرد جنگ کا شکار ہے جس کی بنیاد عرب و عجم جھگڑا ہے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ وہ عرب جو ایرانی بالادستی اور ایرانی افکار و خیالات تسلیم کر لیتے وہ ان کے دوست ہوتے باقی دشمن۔ یہی رویہ حضرت عمرؓ کے زمانے میں فتح اِیران سے پہلے تک تھا اور یہی آج دوبارہ ایران میں لوٹ آیا ہے۔
یہ دونوں قوتیں جس جنگ کو ہوا دے رہی ہیں، اس کا نتیجہ صرف اور صرف یہ نکل رہا ہے کہ ایسے تمام گروہ شدت سے قوت پکڑ رہے ہیں جو ایران اور سعودی عرب دونوں سے نفرت کرتے ہیں۔ عراق اور شام میں جنم لینے والی صورت حال نے وہاں آئی ایس کو جنم دیا جس نے سو سال پرانی قومی ریاستوں کی سرحدوں کو بھی ختم کر کے رکھ دیا۔ ایسے تمام گروہ جو القاعدہ کے نام پر وہاں کام کر رہے تھے، آئی ایس کے پرچم تلے جمع ہو گئے۔ یمن کی صورتِ حال اس سے مختلف نہیں۔
شمال میں حوثی قبائل ہیں جو زیدیہ عقیدے سے تعلق رکھتے ہیں۔ جب کہ جنوب میں القاعدہ کا سب سے منظم مرکز موجود ہے جسے تباہ کرنے کے لیے امریکا ڈورن حملوں کو جار ی رکھے ہوئے تھا۔ موجود صورت حال میں حوثی قبائلی کو ایران نے مدد کی تو وہ اسلحہ اور سرمائے سے مسلح ہو کر صنعاء پر قابض ہو گئے۔ فوج چونکہ قبائل میں تقسیم تھی اس لیے درمیان کے علاقے میں اپنا کنٹرول واپس لینے کی جدوجہد میں مصروف ہے۔ اس جنگ نے القاعدہ کو جنوب سے مغرب اور شمالی کی جانب اپنے کنٹرول کو وسعت دینے کا راستہ دے دیا، ایسے حالات میں سعودی بمباری ایک اور انسانی المیے کو جنم دے گی۔
یہ بمباری سعودی عرب میں موجودہ شیعہ آبادی کو اپنے ساتھ ملانے اور سعودی عرب کو غیر مستحکم کرنے سے تو شاید روک پائے لیکن اس کے نتیجے میں القاعدہ کا عروج ایک لازمی نتیجہ ہے، اور پھر القاعدہ آخر کار اسلامی ریاست یا داعش میں ڈھل جاتی ہے جو پھر بھی سعودی عرب کے لیے خطرہ بنے گی۔ یہ سب یمن کا سیاسی، عسکری اور علاقائی تجزیہ ہے۔ لیکن وہ لوگ جو قرآن حکیم کی حکمت اور رسول اللہ صلی علیہ و سلم کی ہدایت کی روشنی میں حالات کو پرکھتے ہیں انھیں اس بات پر ذرا برابر بھی شک نہیں کہ یہ دورِ فتن ہے۔
آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے اس دور کے بارے میں فرمایا ’’ایک ایسا فتنہ عرب کو گھیر لے گا جو بہرا، گونگا، اندھا ہو گا۔ جو کوئی اسے جھانک کر دیکھے گا وہ اسے اچک لے گا، اس فتنے میں زبان کو بے مہار چھوڑ دینا تلوار کے وار کی طرح ہو گا۔ (سنن ابن داؤد)۔ بہرا، گونگا اور اندھا فتنہ وہ ہوتا ہے جس میں حق واضح نہ ہو۔ آج کے دور کی اس لڑائی میں یوں ہی لگتا ہے کہ حق واضح نہیں ہے۔ کیوں؟ اس لیے کہ گروہوں کی لڑائی کو اللہ نے اپنا عذاب بتایا ہے۔
سورہ الانعام کی 65 ویں آیت میں جہاں اللہ فرماتا ہے کہ میں قادر ہوں کہ تم پر آسمانوں سے یا تمہارے پاؤں کے نیچے سے عذاب نازل کروں، وہیں تیسری جگہ فرماتا ہے ’’یَلْبِسَکُمْ شِیَعًا‘‘ ’’یعنی تمہیں گروہوں میں بانٹ کر ایک دوسرے سے لڑا کر طاقت کا مزا چکھائیں‘‘۔ یہ خانہ جنگی فتنہ بھی ہے اور عذاب بھی۔
لیکن یمن میں خیر کا ایک پہلو ہے اور وہ یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے یمن میں دو خزانے رکھے ہیں، ایک کو یرمو ک کے دن ظاہر کر دیا تھا جب قبیلہ ’’ازد‘‘ والے لوگوں کا تہائی تھے اور دوسرا خزانہ بڑی جنگِ عظیم (جو آخری زمانے میں ہو گی) میں ظاہر فرمائیں گے، ستر ہزار فوجیوں کی تلواروں سے جن کا پٹہ سونے کا ہو گا (کتاب الفتن نعیم بن حماد) اس فتنے سے خیر نے بر آمد ہونا ہے اور حق نے بالاخر غالب آنا ہے۔

یہ مسالک کی جنگ نہیں ہے
اوریا مقبول جان پير 30 مارچ 2015

بے نظیر بھٹو کی وزارت عظمیٰ کا دوسرا دور تھا۔ وزیراعظم سیکریٹریٹ میں وزارت خارجہ کی جانب سے ایک انتہائی سینئر آفیسر اسپیشل سیکریٹری کی حیثیت سے تعینات ہوتا ہے۔ بے نظیر کے اس دور میں ظفر ہلالی اسپیشل سیکریٹری تھے جو آجکل مشہور تجزیہ نگار بھی ہیں۔ ظفر ہلالی کا خاندان سفارت کاری کے حوالے سے مشہور ہے۔ ان کا خاندان ایران سے قاچار بادشاہت کے زمانے میں ہجرت کر کے ہندوستان آیا۔ ایران میں یہ خاندان دربار سے اعلیٰ سطح پر منسلک تھا۔ خود بے نظیر بھٹو کی والدہ نصرت اصفہانی کا تعلق بھی ایران سے تھا۔
ظفر ہلالی کے بقول‘ ایک دن بے نظیر نے انھیں بلایا اور کہا کہ ایرانی سفیر کو بلاؤ اور اسے بتاؤ کہ ان کا سفارت خانہ جس قسم کا لٹریچر اور کیسٹ وغیرہ پاکستان میں تقسیم کر رہا ہے‘ اس سے ہمارے لیے بہت مشکلات پیدا ہو رہی ہیں۔ ظفر ہلالی نے ایرانی سفیر محمد مہدی اخوندزادہ بستی کو بلایا۔ اخوند زادہ انقلاب ایران کے بعد 1981ء میں پہلی دفعہ بھارت میں ایرانی سفارت خانے میں متعین کیا گیا۔ بنیادی طور پر اس کی تعلیم سول انجینئرنگ ہے جو اس نے بنگلہ دیش سے حاصل کی۔ ایران میں سول سروس میں بھرتی کے لیے کسی قسم کی پبلک سروس کمیشن نہیں ہے اور نہ ہی کوئی مقابلے کا امتحان ہوتا ہے۔ انتظامی عہدوں اور وزارت خارجہ میں بھرتی براہ راست قُم میں موجود رہبری کونسل کرتی ہے۔
نوکری کے لیے انقلاب کے ساتھ وفاداری کو شرط اول کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ اخوندزادہ اس شرط پر پورا اترتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ جب مجاہدین خلق کو غدار اور منافق قراردے کران کے قتل کا فتویٰ دیا گیا تو بہت سے لوگ جان بچا کر بھاگ کھڑے ہوئے۔ جو گرفتار ہوئے انھیں قتل کر دیا گیا۔ یہ وہی مجاہدین خلق تھے جن کے ساتھ مل کر 1979ء میں انقلاب لایا گیا تھا۔ انقلاب کے فوراً مجاہدین خلق کے سربراہ مسعود رجاوی کے بھائی پروفیسر کاظم رجاوی کو جنیوا میں اقوام متحدہ کے ہیڈ کوارٹر میں ایران کا سفیر مقرر کیا گیا۔
قتل کاحکم آیا تو پروفیسر کاظم رجادی کو قتل کرنے کے لیے گروہ تیار کیا گیا۔ 24اپریل 1990ء کو دن دھاڑے پروفیسر کاظم رجاوی کو قتل کر دیا گیا۔ اس قتل کی تمام تفصیلات سوئٹزر لینڈ کے تفتیشی مجسٹریٹ جیکوز انٹین Jacques Anteen کے فیصلے میں موجود ہیں۔ اس قتل میں تیرہ ایرانی لوگ ملوث تھے جن میں دو کے پاس سفارتی پاسپورٹ اور باقی افراد کے پاس سرکاری پاسپورٹ تھے۔ یوں وہ سفارتی استثناء کا سہارا لیتے ہوئے پروفیسر کاظم رجاوی کو قتل کرنے میں کامیاب ہو گئے اور انھی پاسپورٹوں کی وجہ سے فرار بھی آسانی سے ہو گئے۔
محمد مہدی اخوندزادہ بستی 1993ء سے 1998ء تک پانچ سال پاکستان میں سفیر رہا۔ ظفر ہلالی نے جب اس کے سامنے ایرانی لٹریچر کی تقسیم پر پاکستانی حکومت کے تحفظات کا اظہار کیا توانھوں نے الٹا سوال کر دیا کہ آپ کے اندازے کے مطابق پاکستان میں کتنے لوگ ہیں جو ایران کے کہنے پر ہتھیار اٹھا سکتے ہیں۔ ظفر ہلالی نے کہا مجھے کیا معلوم۔ مہدی اخوند زادہ نے کہا کہ پچھتر ہزار افراد ہمارے کہنے پر ہتھیار اٹھا سکتے ہیں لیکن ہم آپ کو ایک برادر ملک سمجھتے ہیں اس لیے آپ کے لیے مسائل پیدا نہیں کرنا چاہتے۔ ظفر ہلالی نے یہ قصہ میرے پروگرام سچوئشن روم میں سنایا جسے چینل 24 کی ویب سائٹ پر دیکھا جا سکتا ہے۔
مسلم امہ کی بدقسمتی یہ ہے کہ علاقائی، نسلی اور تاریخی تعصبات کو ہم مسلک کا تڑکا لگا کر اپنا مفاد حاصل کرتے ہیں۔ مشرق وسطیٰ میں صدیوں سے دو طاقتیں برسرپیکار رہی ہیں‘ ایک ایران یا فارس اور دوسرا روم۔ جزیرہ نما عرب کے ساحلی علاقے جو اب چھوٹی چھوٹی ریاستوں میں تقسیم ہیں‘ وہاں فارس کے حکمرانوں کے زیر اثر قبائلی رہنما برسراقتدار تھے۔ یزد گرد کاوہ فقرہ تاریخ کا حصہ ہے جو اس نے حضرت عمرؓ کے زمانے میں حملہ آور افواج کے وفد سے کہا تھا۔ ’’اے گوہ کا گوشت کھانے اور اونٹنیوں کا دودھ پینے والے عربو! تمہارا دماغ تو نہیں چل گیا جو کیہان کے تخت کی آرزو کر رہے ہو۔ تمہارے قبائل میں سے اگر کوئی سرکشی کرتا تو ہم اپنے سرحدی حاکم سے کہتے اور وہ تمہارا دماغ سیدھا کر دیتا‘‘۔
آج بھی جب ایک عام ایرانی عراق میں دجلہ و فرات‘ ازبکستان میں سمرقند و بخارا‘ افغانستان میں ہرات‘ تاجکستان میں دوشنبے اور قلاب اور آذربائیجان میں باکو جسے شہروں کو دیکھتا ہے تو اسے اپنی عظمت رفتہ یاد آ جاتی ہے۔ سائرس اعظم اور نوشیروان کے قصے اس کی روزہ مزہ گفتگو کا حصہ ہیں۔ فردوسی کا شاہ نامہ اسی محبت کی داستان ہے اور اسی المیے کا نوحہ ہے کہ کیسے عرب کے ان خانہ بدوشوں نے ان کی عظیم سلطنت کو تاخت و تاراج کر دیا۔ اسی لیے وہاں کا اجتماعی شعور اپنی عظمت رفتہ کو حاصل کرنے کے لیے تڑپ رہا ہوتا ہے۔ ایرانی انقلاب کے بعد بھی ایرانی سفارت خانوں نے جس قدر توانائی فارسی شناسی اور فرہنگ یعنی اپنی ثقافت کی ترویج پر صرف کی اتنی کسی اور کام پر نہیں کی۔
دوسری جانب عربوں کی ایک ہزار سالہ حکمرانی نے قدیم ایران کے اہم ترین علاقوں کی زبان تک تبدیل کر دی۔ یزد گرد کا قادسیہ دریائے دجلہ کے کنارے تھا۔ اب وہاں لوگوں کی مادری زبان تک عربی ہو چکی ہے۔ ایران کی عظمت رفتہ کو زندہ کرنے کا اور کوئی راستہ باقی نہیں سوائے اس کے کہ اپنے حامی لوگوں کو ساتھ ملا کر عرب و عجم کی لڑائی کو ہوا دی جائے۔ بشارالاسد علوی ہے‘ جس کے عقائد کی بنیاد پر تمام اثنا عشریہ انھیں اپنے سے الگ تصور کرتے ہیں لیکن سیاسی اور علاقائی صورت حال میں اس کا ساتھ دینا عرب علاقوں میں اپنا اثر و نفوذ اور اختیار بڑھانے کے لیے ہے۔
اسی طرح زیدیہ فرقے کے حوثی حضرت زید بن علی کے ماننے والے ہیں جن کے عقائد وہاں کے سنی عوام سے بہت ملتے ہیں۔ بلکہ زید بن علی نے حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ کے بارے میں اپنی یہ رائے دی تھی کہ میں نے اپنے گھرانے میں ان کے بارے میں ہمیشہ اچھی بات ہی سنی۔ لیکن یمن کے حوثیوں کا ساتھ مسلک کی وجہ سے نہیں بلکہ عرب و عجم کی کشمکش میں دیا جا رہا ہے۔ دوسری جانب سعودی عرب اپنے ارد گرد کے تمام علاقوں‘ بحرین‘ کویت‘ یمن اور خصوصاً اپنے مشرقی علاقوں کیف وغیرہ پر اپنا مکمل کنٹرول چاہتا ہے۔ اس کے نزدیک یہاں کی شیعہ اکثریت اس کے اقتدار کے لیے خطرہ ہے۔
اس کا اقتدار جو امریکی اشیر باد کا مرہون منت ہے‘ اسے صرف شیعہ آبادی سے ہی نہیں بلکہ ہر اس سنی آبادی کی تحریک سے بھی خطرہ ہے جو بادشاہت کے خلاف ہو۔ اسی لیے جب مصر میں اخوان المسلمون کی حکومت آئی تو سعودی عرب نے وہاں کی فوج کو اکسایا‘ اس نے اقتدار پر قبضہ کیا اور پھر فوج کو دس ارب ڈالر تحفے میں دیے تا کہ ان لوگوں کا قتل عام کرے جن کے نظریات بادشاہت کے خلاف ہیں۔ اپنے اقتدار کو خطرہ ہو تو ایران اور سعودی عرب کو نہ مسلک یاد آتے ہیں اور نہ ہی عرب و عجم۔ شام اور عراق میں بننے والی اسلامی ریاست کے خلاف دونوں متحد ہیں۔ ایران کے رضاکار وہاں جا کر لڑ رہے ہیں اور سعودی عرب شام کی آزاد فوج کو سرمایہ فراہم کر رہا ہے تا کہ وہ داعش اور بشار الاسد دونوں سے لڑے۔
یہ نسل‘ رنگ‘ علاقے اور اقتدار کی لڑائی ہے جسے مسلک کا تڑکا لگا کر لڑا جا رہا ہے۔ لیکن مجھے حیرانی ان علمائے کرام پر ہوتی ہے جو اپنے تعصب میں اس لڑائی کو ہوا دینا چاہتے ہیں۔ جن کا رزق مسلکوں میں لڑائی سے وابستہ ہے۔ مسلک کو اس لڑائی سے علیحدہ کرنے کا ایک ہی راستہ ہے کہ تمام شیعہ علماء حوثی قبائل کے خلاف ویسے ہی فتویٰ دیں جیسے انھوں نے داعش کے خلاف دیا کہ یہ باغی ہیں اور ریاست ان سے جنگ کرے اور سنی علماء اسی طرح سعودی عرب کے خلاف فتویٰ دیں جیسے وہ امریکا کے خلاف دیتے ہیں کہ کسی دوسرے کے علاقے پر بمباری کر کے انسانی جانوں کو ہلاک کرنا قتل کے مترادف ہے۔ اگر ایسا نہ کیا گیا تو پھر نسل ‘ زبان اور علاقے کی یہ جنگ جسے مسلک کا تڑکہ لگ چکا ہے پوری امت کو ایسا اپنی لپیٹ میں لے گی کہ کوئی شہر بھی اس سے محفوظ نہ ہوگا۔

آل پاکستان نفاذِ اُردو کانفرنس
اوریا مقبول جان جمعـء 27 مارچ 2015

مسلمانوں کے برصغیر میں آنے سے قبل پورا خطہ صدیوں سے چھوٹی چھوٹی خود مختار ریاستوں کا ایک مجموعہ تھا جس پر مختلف راجے حکومت کیا کرتے تھے۔ پٹنہ کے قریب پاٹلی پتر میں موریہ خاندان کی حکومت کی مختصر تاریخ ہے جس میں اِردگرد کی ریاستوں کو فتح کر کے ایک مرکزیت قائم کرنے کا پتہ ملتا ہے۔
پورے جزیرہ نماء ہند پر اسی موریہ خاندان کے اشوک نے کسی حد تک ایک مرکزی حکومت قائم کی۔ یہ مرکزیت بھی کلنگہ کی جنگ کے بعد وجود میں آئی جس میں اس نے دس لاکھ لوگوں کو قتل کیا اور تخت پر قابض ہونے کے لیے اپنے نوے کے قریب بھائیوں کو موت کے گھاٹ اتارا۔ اس تمام ظلم کے بعد وہ پھوٹ پھوٹ کر رویا، مہینوں چین سے نہ سویا، ہندو مت ترک کیا ، بدھ ہو گیا اور مہاتما بدھ کی تعلیمات پر مبنی ایک منصف معاشرہ قائم کرنے میں کامیاب ہوا۔
اپنی تمام افواج کو ختم کر دیا۔ شہروں میں مہا میر مقرر کیے، جو انسان ہی نہیں بلکہ جانوروں کے ساتھ زیادتی پر بھی سزائیں دیتے۔ دیکھتے دیکھتے پورا ہندوستان بغیر کسی جنگ لڑے اس کا مطیع ہو گیا۔لیکن وہ کئی لاکھ فوجی جنھیں اس نے بے روزگار کر دیا تھا، ایک دن اس کی قائم کردہ موریہ سلطنت کے خاتمے کا باعث بن گئے۔
اس کے بعد ہندوستان پھر ریاستوں میں تقسیم ہو گیا۔ کچھ عرصہ بعد متھرا میں گپتا خاندان کی شمالی ہندوستان میں تھوڑی سی مرکزیت نظر آتی ہے۔پورا ہندوستان نہ اپنی زبان کی وجہ سے ایک تھا اور نہ ہی رسم و رواج کے ناتے۔ البتہ ایک چیز تھی، ہندومت جس نے ان تمام ریاستوں کو ایک لڑی میں پروئے رکھا۔ امرناتھ یاترا کشمیر میں ہے تو گنگا کا مقدس مقام بنارس میں۔ شیو کے آنسو کٹاس اور پوشکر میں گرتے ہیں تو مہا شیو راتری انھی جگہوں پر منائی جاتی ہے۔
اجنتا اورایلورا کے غار جنوب میں ہیں تو برہما کا سب سے بڑا مندر سومنات کے نزدیک ہے۔ غرض ہندومت کی عبادت گاہوں اور مقدس مقامات کا ایک جال پورے ہندوستان میں بچھا ہوا ہے،جس کی وجہ سے صدیوں ہندوستان ایک اکائی رہا۔ سنسکرت مقدس مذہبی زبان تھی اور اس میں علم کا ایک خزانہ بھی موجود تھا۔ مسلمانوں نے جب دنیا بھر کے علوم کے تراجم شروع کیے تو سب سے پہلے ہند سے کتابیں لا کر ترجمہ کی گئیں۔
لیکن بنگال، دکن، بہار، اڑیسہ،پنجاب، کشمیر اور دیگر علاقوں کے لوگ جب آپس میں ملتے، خواہ وہ تجارت کی غرض سے یا پھر ہردوار اور کنبھ کے مقدس میلوں پر تو آہستہ آہستہ ان کے درمیان ایک زبان نے جنم لینا شروع کر دیا۔ بڑے بڑے پنڈتوں اور علم کی دنیا پر قابض برہمنوں نے اسے سنسکرت کی بگڑی ہوئی شکل کہنا شروع کیا۔لیکن عام آدمی کیا کرتا۔ اس نے تو تجارت کرنا تھی، میل ملاپ رکھنا تھا۔ اس نے شاستر تھوڑا پڑھنے تھے کہ خالص سنسکرت جانتا۔
اس نے خود ہی ایک زبان ایجاد کر لی جو شروع شروع میں پراکرت کہلاتی رہی۔ مسلمان فاتحین آئے تو برصغیر کے ایک وسیع حصے میں مرکزیت آگئی۔ دہلی سلطنت کا صدر مقام بن گیا اور بادشاہوں کی وجہ سے فارسی دفتر اور عدالت کی زبان ہوگئی۔ التمش نے جب آج سے آٹھ سو سال قبل قاضی عدالتیں قائم کیں تو قوانین کی عربی کتاب کا ترجمہ فارسی میں کیا۔
غوری،خلجی، لودھی خاندانوں سے شیر شاہ سوری اور پھر مغلیہ خاندان کے چکا چوند کر دینے والے دورِ حکومت تک دفاتر اور عدالتوں کی زبان فارسی رہی، یہاں تک کہ مہاراجہ رنجیت سنگھ کے پچاس سالہ دور میں بھی دفتری اور عدالتیِ زبان فارسی ہی رہی۔ اس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ مسلمان حکمرانوں نے برصغیر کے ہر گاؤں میں اتالیق مقرر کر رکھے تھے، جو ہر بچے کو فارسی اور حساب پڑھاتے اور مسلمان کو قرآن اور ہندو کو وید کی تعلیم دیتے۔
یوں برصغیر میں انگریز کی آمد تک شرحِ خواندگی نوے فیصد تک تھا۔ مگر اس فارسی کے پہلو بہ پہلو وہ زبان جو کئی سو سال پہلے پراکرتوں کی صورت میں رابطہ کے طور پر استعمال ہوتی تھی پوری قوت سے پروان چڑھتی گئی۔مسلمانوں کی حکومت کی وجہ سے اس زبان میں عربی، فارسی اور ترکی کے بیش بہا الفاظ شامل ہوگئے۔
وہ تمام اصناف جو ہندوستان کے لیے اجنبی تھیں، یہاں لکھی جانے لگیں، جیسے غزل، نظم، رباعی، مثنوی، مرثیہ، داستان، ناول اور افسانہ۔ غرض ایک ہزار سال پہلے امیر خسرو نے جس زبان میں گیت لکھے تھے اس لیے کہ وہی دراصل اس پورے خطے میں بولی اور سمجھی جاتی ، یہ اُردو اب ایک ایسی زبان بن کر ابھر چکی تھی جس کا دامن میر تقی میر سے لے کر غالب تک جیسے شعراء میر امن اور رجب علی بیگ سرور جیسے نثرنگار، انیس، دبیر جیسے مرثیہ نویس اور دیگر اصناف میں لکھنے والوں سے مالا مال تھا۔ فارسی دفتری زبان تھی۔ لیکن محبت کرنے ، گیت گانے اور کہانی سنانے کی زبان اُردو ہو گئی۔
یہی وجہ ہے کہ جب انگریز برصغیر پر حکمران ہوا تو اس نے دفتری زبان تو انگریزی کر دی لیکن ہر دفتر میں ورنیکلر کے نام پر ایک شعبہ کھولا جس میں اُردو میں دفتری کام کیا جاتا تھا۔ ڈپٹی نذیر احمد کہ جنہوں نے توبۃ النصوح، مراۃ العروس اور بنات النعش جیسے ناول تحریر کیے تھے، انھیں بلایا گیا اور ان سے تمام انگریزی قوانین کا ترجمہ کروایا گیا۔
یوں ضابطہ فوجداری، ضابطۂ دیوانی اور تعزیرات ہند عام آدمی کی سہولت کے لیے وجود میں آگئے۔ عرضی نویسوں، وثیقہ نویسوں اور اہلمدوں کی ایک کھیپ تھی جو اُردو میں عدالتی کام سرانجام دیتی تاکہ لوگوں کو انصاف فراہم کرنے میں رکاوٹ پیدا نہ ہو۔ لیکن سرکاری ملازمتیں انگریزی بولنے والوں تک محدود کر دی گئیں۔ انگریز نے مسلمانوں کا اتالیق کا سسٹم ختم کر دیا۔ چند سرکاری اسکول کھولے گئے۔ یوں برصغیر میں شرح خواندگی نوے فیصد سے گر کر پندرہ فیصد تک آگئی۔
تعلیم کے اس دوغلے نظام نے ایک ایسا طبقہ پیدا کیا جو انگریزی میں تعلیم یافتہ تھا۔ اسی کو اپنا اوڑھنا بچھونا سمجھتا تھا اور وہی اسی کی تہذیبی اساس تھی۔ سول سروس، فوجی اور نواب، خان وڈیرے جنھیں انگریز اپنی سرپرستی میں قائم کالجوں میں تعلیم دلواتا، اس طبقے میں شامل تھے۔ یہ مٹھی بھر لوگ اس برصغیر کی تقدیر کے مالک بن بیٹھے اور انھوں نے یہ تصور مضبوط کر دیا کہ ترقی صرف اور صرف انگریزی زبان میں علم حاصل کرنے سے ہو سکتی ہے۔
یہ انسانی تاریخ کے پانچ ہزار سالہ تجربے کے برعکس تصور تھا۔ انسان کی پانچ ہزار سالہ تاریخ گواہ ہے کہ دنیا میں کوئی ایک قوم بھی ایسی نہیں جس نے کسی دوسرے کی زبان میں علم حاصل کرکے ترقی کی ہو۔ انگریزی دونوں ملکوں کے آزاد ہونے کے بعد بھی دفتری اور قانونی زبان کے ساتھ ساتھ ذریعہ تعلیم بھی بنا دی گئی۔ کیونکہ دونوں ملکوں کے اقتدار پر وہ لوگ قابض ہوگئے تھے جنھیں انگریز اقتدار اور انگریز تہذیب کی لوریاں دے کر پالا گیا تھا۔
دونوں ملکوں میں انگریزی کو تہذیب وترقی کی علامت بتایا گیا اور اُردو سرکاری اور نجی سرپرستی، دونوں سے محروم ہوگئی۔لیکن اس زبان نے جو لوگوں کے درمیان واحد رابطے اور تعلق کا ذریعہ تھا وہ کمال دکھایا کہ دونوں کا تمام میڈیا اس کے سامنے جھکنے پر مجبور ہو گیا۔ پاکستان میں تو دو انگریزی چینل چلے لیکن بری طرح ناکام ہوگئے۔فلم، ریڈیو، اخبار سب جگہ جہاں گفتگو ذریعہ اظہار تھی اُردو پروان چڑھتی رہی۔ چاہے امیتابھ بچن اس میں لاکھ سنسکرت کے الفاظ ڈال کر ہندی بنائے کوئی دوسرا ایسی ہندی بولنے کو تیار نہیں ہوتا۔
لیکن اقتدار پر قابض انگریز صفت مرعوب کالوں نے انگریزی کو ذریعہ تعلیم بنانے سے دونوں ملکوں کو جہالت کے اندھیروں میں غرق کر دیا۔بھارت میں ہر سال22کروڑ بچے پاٹھ شالا یعنی اسکولوں میں داخل ہوتے ہیں اور صرف چالیس لاکھ گریجویٹ بنتے ہیں۔ آج ساٹھ سال بعد بھارت کے تعلیمی نظام کے سربراہ سوچ رہے ہیں، کہ اگر انگریزی ان پر تھوپی نہ جاتی تو پورا بھارت خواندہ ہوتا۔
عدالتی نظام میں انگریزی کی وجہ سے ایک کروڑ مقدمات زیر التوا ہیں اس لیے کہ عام آدمی وکیل کے بغیر عدالت تک رسائی ہی نہیں رکھ پاتا ہمارا حال بھارت سے بھی بدتر ہے۔دنیا میں پاکستان کے علاوہ تین اور ملک ایسے ہیں جو انگریزی کے جال میں پھنسے اور آج پچھتاتے ہوئے واپس قومی زبانوں کی جانب لوٹ رہے ہیں۔ اس لیے کہ انھیں احساس ہو گیا ہے کہ ان کی پوری قوم بحیثیت مجموعی تخلیقی صلاحیت سے محروم ہو کر نقالچی بن گئی ہے۔
ایک سنگاپور، دوسرا بھارت اور تیسرا سری لنکا۔ ہم وہ چوتھا ملک ہیں جو اس جہالت کے راستے پر رواں دواں ہے۔ ہم وہ بدنصیب ہیں جن کا آئین ہمیں قومی زبان میں تعلیم دینے کا پابند کرتا ہے، لیکن ہم پر مسلط سول سروس اور اشرافیہ کا انگریزی دان طبقہ یہ ہونے نہیں دیتا۔ اس سلسلے میں 28مارچ صبح دس بجے آرٹس کونسل راولپنڈی میں آل پاکستان نفاذ اُردو کانفرنس منعقد ہو رہی ہے۔ اللہ ہمیں جہالت کے اندھیروں سے بچنے اور اس قوم کو بچانے کی توفیق عطا فرمائے۔

سول سوسائٹی کی خارجہ پالیسی پر کنٹرول کی جنگ
اوریا مقبول جان پير 23 مارچ 2015

سول سوسائٹی۔ کیسا عجیب و غریب تصور ہے۔ یعنی پورا معاشرہ جاہل، فرسودہ، دقیانوسی، ظالم اور غیر مہذب ہے، لیکن ہم مہذب، انسان دوست اور تہذیب یافتہ ہیں۔ جدید مغربی تہذیب نے جہاں اپنا ایک معاشرتی علم تخلیق کیا وہیں اس جدید معاشرتی علم نے انسانوں کو نئی اصلاحات بھی سکھائیں۔ یہ جدید معاشرتی علم، نفسیات، معاشیات، سیاسیات، بشریات، سماجیات اور اس جیسے دیگر مضامین پر بحث کرتا ہے۔
معاشیات والے کہتے ہیں کہ ہر تبدیلی کا محرک معاشی جذبہ ہوتا ہے جب کہ نفسیات میں فرائڈ جیسے لوگ ہر عمل کے پیچھے جنسی جذبات کو کار فرما دیکھتے ہیں۔ جدید مغربی تہذیب کا تخلیق کردہ یہ معاشرتی علم تحقیق کے جوہر سے مالا مال ہے لیکن اپنی اس تحقیق کی ایک مخصوص طریقے سے توجیہہ کرتا ہے۔ اس کے نزدیک انسانی معاشرہ جس طرح مادی اور سائنسی طور پر ترقی کرتے آج اس مقام پر پہنچا ہے، اسی طرح انسانی اقدار جیسے سچ، ایمانداری، ایفائے عہد، انسان دوستی، غیبت، جھوٹ سے بچنا، قتل کی ممانعت جیسی اخلاقی اقدار بھی وقت کے ساتھ ساتھ انسان نے خود ہی تخلیق کر لیں۔ کچھ رسومات کو مذہب کا درجہ دے دیا گیا۔ اسی طرح ہر خطے کا اپنا ایک مذہب یا عقیدہ پیدا ہوگیا۔
بااثر طبقات نے مذہبی رہنماؤں کا درجہ حاصل کر لیا اور رسوم مذہبی روایات بن گئیں۔ اس جدید معاشرتی تعلیم نے لوگوں کو یہ تصور دیا کہ آج بھی اگر کچھ نئی رسومات مدتوں جاری رہیں تو مذہب کا درجہ حاصل کر لیتی ہیں۔ اسی لیے دنیا بھر میں کارپوریٹ کلچر جہاں ایک طرح کے لباس، ایک طرح کی خوراک، ایک طرح کا میوزک اور ایک ہی طرح کے فیشن کو عام کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے، وہیں اس کارپوریٹ کلچر کے تین بڑے نمایندے پوری دنیا میں ایک عالمی ثقافت کو جنم دینے میں بھی مصروف عمل ہیں۔ ان میں دو نمایندے، نصاب تعلیم اور میڈیا ہیں۔ نصاب تعلیم بچپن میں ایک طرح کے ہیروز، ایک طرح کی کہانیاں اور ایک طرح کا معاشرتی ماحول بچوں کو سکھا رہا ہے۔
سنڈریلا، سنووائٹ سے لے کر الیگزینڈر اور کنگ لیئر تک سب ایک ہی رنگ ہے جب کہ میڈیا کارٹونوں سے شروع ہوتا ہے، مِکی ماؤس، ٹام اینڈ جیری اور پنک پنتھر سے شروع ہوتا ہے اور ویلنٹائن ڈے، مدرز ڈے تک پوری زندگی کے ماحول کو تبدیل کر دیتا ہے۔ لیکن تیسری نمایندہ قوت سول سوسائٹی ہے جو ایسے رسوم کو رائج کرتی ہے جو انسانوں میں موجود مختلف مذاہب کا نعم البدل یا متبادل ہیں۔ جیسے مسلمان مرنے والوں کے لیے فاتحہ پڑھتا ہے۔ہندو پراتھنا کرتا ہے اور عیسائی گرجاگھر میں عبادت، لیکن کمال ہے کہ اب ہر کوئی مرنے والوں کی یاد میں شمعیں جلا رہا ہے۔ یعنی پہلے لوگوں کو اس بات سے غرض ہوتی تھی کہ ان کے پیارے اگلے جہان چلے گئے ہیں تو وہاں ان کے سکھ، چین اور مغفرت کے لیے دعا بہت ضروری ہے، ان کے نام پر نیکی یا رفاہی کام کیا جائے تا کہ اس کا اجر انھیں اگلے جہان پہنچتا رہے۔
ہر مذہب کے ماننے والوں نے اپنے پیاروں کے لیے دعائیں بھی کیں اور رفاہی ادارے بھی کھولے لیکن اب شمعیں جلانے اور ایک منٹ خاموشی اختیار کرنے کی رسوم نے ان سب آنے والوں کا رشتہ اگلے جہان سے ختم کر دیا۔ یہ تمام رسوم صرف ایک نہیں کئی مذاہب کا متبادل بن کر سامنے آ گئیں۔ سول سوسائٹی صرف رسوم تک محدود نہیں بلکہ وہ تمام اخلاقیات اور قوانین جو اس دنیا کو مذاہب نے عطا کیے ہیں یہ ان سب کے مقابلے میں اپنی اخلاقیات اور قوانین کا نظام دیتی ہے۔ مثلاً دنیا بھر کی سول سوسائٹی انسانی حقوق کے نام پر ہم جنس جوڑوں کے ایک ساتھ رہنے بلکہ شادی کرنے کی وکالت کرتی ہے۔
کوئی بھی لڑکا اور لڑکی اپنی مرضی سے یہاں تک کہ شادی شدہ مرد اور عورت کا بیرونی تعلق بھی قابل دست اندازی پولیس نہیں، لیکن اگر شادی شدہ مرد زبردستی اپنی بیوی سے حقوق زوجیت ادا کرنے کو کہے تو وہ جنسی تشدد کے زمرے میں آئے گا۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں عورتوں کے حقوق کی ایک بہت بڑی این جی او آج سے کچھ سال قبل اقوام متحدہ کی راہداریوں میں یہ اعداد و شمار تقسیم کر رہی تھیں کہ پاکستان میں اسی فیصد کے قریب عورتیں جنسی تشدد کا شکار ہوتی ہیں کیونکہ ان کے خاوند ان کو حقوق زوجیت ادا کرنے پر مجبور کرتے ہیں۔
دنیا بھر کے مذاہب کا سب سے اہم قانون قصاص یعنی قتل کے بدلے قتل کا قانون ہے۔ تینوں ابراہیمی مذاہب اس پر متفق ہیں جب کہ باقی تمام مذاہب میں بھی انسانی جان کی حرمت کا تحفظ دینے کے لیے قاتل کو موت کی سزا کا قانون موجود ہے۔ لیکن سول سوسائٹی دنیا کا وہ واحد عجوبہ ہے جو قاتل کی جان کی حرمت کا نعرہ لگاتی ہے اور اب یہ نعرہ اسقدر طاقتور ہو چکا ہے کہ اسے دنیا میں ڈیڑھ سو سے زائد ممالک میں مقبولیت کا شرف حاصل ہو چکا ہے اور اقوام متحدہ اس کی سب سے بڑی وکیل بن گئی ہے۔ یہ تمام تصورات جن میں پھانسی کی سزا، جنسی زندگی کی پاکیزگی، غیر فطری زندگی گزارنے سے اجتناب شامل ہیں، کسی بھی معاشرے کے خالصتاً داخلی، تہذیبی اور مذہبی معاملات ہیں لیکن سول سوسائٹی کا کمال دیکھیں کہ اسے خارجہ پالیسی اور عالمی ایجنڈے کا حصہ بنا دیا گیا ہے۔
پھانسی کی سزا پر عمل درآمد ایسے ہی ہے جیسے آپ دنیا کے اندر اس نئے رائج ہونے والے سول سوسائٹی کے مذہب کا انکار کر رہے ہوں اور یہ انکار عالمی اصولوں کی خلاف ورزی ہے، جیسے ایٹم بم بنانا یا کسی سرحد کی خلاف ورزی کرنا۔ ایٹمی صلاحیت حاصل کرنے پر بھی پابندیاں لگتی ہیں اور پھانسی کی سزا پر عمل درآمد کرنے سے بھی پابندیاں لگنے کا خطرہ سروں پر منڈلاتا رہتا ہے۔ یہ ہے سول سوسائٹی جو اس وقت حکومت پاکستان سے خارجہ پالیسی پر اپنے کنٹرول کی جنگ لڑ رہی ہے۔ یہ مٹھی بھر لوگ جو بینر اٹھا کر سڑکوں میں نظر آتے ہیں ان میں اکثر ایسے ہیں جو کسی این جی او کی ملازمت اور ڈونر کی امداد اپنی جیب میں رکھے ہوئے ہیں۔ انھیں مغربی سفارت خانے اور عالمی ڈونرز گزشتہ تیس سال سے مسلسل سرمایہ فراہم کرتے چلے آئے ہیں۔ خارجہ پالیسی پر ان کے کنٹرول کی جنگ پاکستان کے دفاعی حلقوں سے تصادم لے کر آتی ہے۔
پاکستان پوری دنیا کے دو سو کے قریب ممالک میں سول سوسائٹی کا سب سے بڑا اور اہم ہدف ہے۔ اس لیے کہ اس کی تخلیق اسلام کے نام پر ہوئی ہے جب کہ باقی 199 ملک رنگ، نسل، زبان اور علاقے کی بنیاد پر وجود میں آئے۔ اس سول سوسائٹی کے نمایندہ لکھاریوں کو دیکھ لیں گزشتہ پچاس سالوں سے پاکستان کے ٹوٹنے کا خواب دیکھ رہے ہیں۔ افغانستان جہاں 30 سال سے جنگ جاری ہے جہاں پشتون، ازبک، تاجک، ترک جیسی کئی نسلیں اور زبانیں موجود ہیں، وہاں کوئی نہیں کہتا کہ یہ ملک ٹوٹ جائے گا لیکن پاکستان کی سول سوسائٹی کے لکھاری اپنے تجزیوں اور ان کے لاڈلے سیاسی رہنما اپنی تقریروں میں اس ملک کے ٹوٹنے کی بشارتیں دے رہے ہوتے ہیں۔
اسی لیے مجھے سات سالہ بچے عمیر کے قاتل شفقت حسین کے ساتھ سول سوسائٹی کی ہمدردی پر بالکل حیرت نہیں ہوئی۔ کس ڈھٹائی سے ایک تئیس سالہ شخص کی پرانی تصویریں دکھا کر میڈیا کے ذریعے لوگوں کو بے وقوف بنایا گیا۔ جعلی پیدائشی سرٹیفکیٹ بنایا گیا۔ مقصد کیا تھا؟ مقصد یہ تھا کہ دنیا پر یہ ثابت کیا جائے کہ پاکستان میں پولیس والے، جج، وکیل اور دیگر سب کے سب اندھے تھے، یہاں تک کہ ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کے جج بھی جو چودہ سالہ بچے کو اپنے سامنے دیکھ کر بھی اس کا بیان ریکارڈ کرتے ہوئے اس کی عمر 23 سال لکھتے رہے۔ مجسٹریٹ، سیشن جج، ہائی کورٹ، سپریم کورٹ، بلکہ پورے کا پورا عدالتی نظام ایک مذاق بنانا مقصود ہے اور ایک ایسے موڑ پر جب پاکستان یہ طے کر چکا ہے کہ دہشت گردی رنگ، نسل، زبان، علاقے یا مذہب کے نام پر ہو، وہ دہشت گردی ہے۔
ایسے میں پھانسی کی سزا ان کے عالمی مذہب کے ایجنڈے کی توہین ہے۔ اس لیے یہ انھیں ناقابل قبول ہے۔ ویت نام سے لے کر افغانستان اور عراق تک ایک کروڑ کے قریب انسانوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ بوسنیا میں مسلمانوں کا قتل عام کیا گیا لیکن آج اگر کسی عدالت میں ان قاتلوں کو پیش بھی کیا جائے تو ان کی جان کی حرمت انھیں یاد آ جاتی ہے۔ وہ وقت قریب ہے جب قوم فیصلہ کرے گی کہ اٹھارہ کروڑ لوگ سول یعنی مہذب ہیں یا ڈونرز کے سرمائے پر عیش و عشرت کی زندگی گزارنے والے معدودے چند لوگ۔ فیصلے میں زیادہ دیر نہیں ہے

خوف، نفرت، تعصب، ہیجان اور افراتفری
اوریا مقبول جان جمعـء 20 مارچ 2015

میرے سامنے ایک غیرملکی سفارت خانے اور اس کے ایک ملکی امدادی ادارے کے وہ تازہ ترین اشتہارات ہیں جن میں پاکستان بھر میں کام کرنے والی این جی اوز سے درخواستیں طلب کی گئیں ہیں تا کہ ان کو مختلف پروجیکٹ کے لیے فنڈز فراہم کِئے جائیں۔ ہر شعبہ کے حوالے سے درخواست دینے کی علیحدہ آخری تاریخ ہے۔ سفارت خانے کا پبلک افیئرز آفس تعلیمی شعبے میں درخواستیں مانگ رہا ہے تواس کا امدادی ادارہ کاروباری مہارتیں پیدا کرنے اور خواتین کو معاشی طور پر خود مختار کرنے کے لیے فنڈز مہیا کرنے پر تیار ہے۔
یہ صرف ایک سفارت خانے کی بات نہیں، پاکستان میں موجود ہر مغربی ملک کے سفارت خانے نے اعلانیہ یا خاموشی سے پاکستان میں اپنے مقصد کی این جی اوز کو رقم فراہم کرنے کا ٹھیکہ لے رکھا ہے۔ آپ درخواست جمع کرائیں۔ آپ کی این جی او کے مقاصد اگر ان سفارت خانوں کے مقاصد کو پورا کرتے ہوں تو آپ پر ڈالروں، پاؤنڈوں اور یوروز کی بارش شروع ہو جائے گی۔ سفارت خانوں کے علاوہ پوری دنیا میں ڈونرز کا ایک جال بچھا ہوا ہے، کئی سو فاؤنڈیشن ہیں جو پاکستان میں لوگوں کو اپنے ایجنڈے کے مطابق سرمایہ فراہم کرتی ہیں۔
پاکستان میں یہ تمام ڈونرز علی الاعلان اخبارات میں بھی اور انٹرنیٹ پر بھی درخواستیں طلب کرتے ہیں، اس کے بعد ملک بھر سے سرمائے کی طلب میں حواس باختہ لوگ اپنی این جی اوز رجسٹرڈ کرواتے ہیں۔ پھر ان تمام ڈونرز کے مطابق پراجیکٹ ترتیب دیتے ہیں، اس کے بعد اپنی درخواستیں جمع کرواتے ہیں اور انھیں کروڑوں کے حساب سے سرمایہ فراہم ہو رہا ہے۔ مثلاً یورپی کمیشن نے پراجیکٹ کے لیے امداد کی زیادہ سے زیادہ شرح سات لاکھ پچاس ہزار یورو رکھی ہے جب کہ کسی بھی این جی او کو کم سے کم ملنے والی امداد پانچ لاکھ یورو ہے۔ یہ تمام امداد کس قسم کی این جی اوز کو دی جاتی ہے۔
یہ ہے اصل سوال اور اس سوال کے جواب میں ہی وہ راز پنہاں ہے جس نے پاکستان کے معاشرے کو خوف، نفرت، تعصب اور افراتفری کا شکار کر رکھا ہے۔ سب سے زیادہ امداد Advocacy یعنی وکالت، حمایت اور (Awareness) یعنی آگاہی اور شعور کے لیے کام کرنے والی این جی اوز کو دی جاتی ہے۔ یہ شعور اور وکالت بھی جن شعبوں میں دی جاتی ہے، ان میں سب سے پہلے نمبر پر حقوق نِسواں اور پھر اقلیتوں کے حقوق والی تنظیمیں آتی ہیں۔ آگاہی اور شعور کی بہترین مثال یہ ہے کہ آپ بھوکے کو بار بار اس بات کا احساس دلائیں کہ تمہیں بھوک لگتی ہے، تم کھاؤ گے نہیں تو تمہاری صحت خراب ہو جائے گی اور تم مر جاؤ گے، لیکن اسے کبھی روٹی فراہم نہ کرو۔ کیونکہ روٹی فراہم کرنا ان تمام این جی اوز کے نزدیک محتاجی کو عام کرنا ہے، جسے وہ اپنے زبان میں (Dependence) کہتی ہیں۔
اس لیے وہ کہتی ہیں کہ اگر لوگوں کو اپنے حقوق اور محرومی کا شعور دے دیا جائے تو وہ خود آگے بڑھ کر اسے حاصل کر لیتے ہیں۔ گزشتہ تیس سال سے یہ سفارت خانے اور ڈونرز اس ملک میں اربوں روپے کا سرمایہ ان این جی اوز کو فراہم کر چکے ہیں اور اس تمام سرمایہ کاری پر حکومتِ پاکستان کو کسی بھی قسم کا کوئی اختیار حاصل نہیں اور نہ ہی وہ ایسی کسی قسم کی فنڈنگ کو روکنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ ان گزشتہ تیس سالوں سے اس وافر سرمائے کی فراہمی نے ان تمام این جی اوز کے کرتا دھرتا افراد کو ملا کر ایک سول سوسائٹی تخلیق کر دی ہے جو ایسے وقت میں سڑکوں پر نکلتی ہے جب ان تمام ڈونرز کا ایجنڈ انھیں نکلنے پر مجبور کرتا ہے۔
یہ ان تمام افراد اور اداروں کے خلاف آواز بلند کرتی ہے جو اس ایجنڈے کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔ یہ پاکستان کے ہر اہم ادارے سے اتنی دیر تک محبت کرتی ہے جب تک وہ ان کے ایجنڈے کے مطابق کام کرتا ہے لیکن جیسے ہی ان اداروں کا کوئی بھی عمل ان کے ایجنڈے سے مختلف ہو جائے تو یہ این جی اوز پاکستان کی سلامتی تک داؤ پر لگاتے ہوئے پاکستان کے ہر ادارے کی تضحیک کرتی ہے اور انھیں پاکستان کی تباہی اور بربادی کا ذمے دار قرار دیتی ہے۔
یہ سول سوسائٹی شعور اور وکالت کے نام پر لوگوں میں خوف، نفرت، تعصب اور ہیجان کیسے پیدا کرتی ہے۔ اس کا اندازہ اس کے کام کرنے کے طریق ِکار سے ہو جاتا ہے۔ پاکستان میں روزانہ ہزاروں ایف آئی آر درج ہوتی ہیں جن میں ہزاروں بے گناہ مجرم جیل کی سلاخوں کے پیچھے چلے جاتے ہیں۔ ان میں کئی بے گناہ افراد جھوٹے گواہوں اور انصاف کی عدم فراہمی کی وجہ سے پھانسی کے گھاٹ تک بھی جا پہنچتے ہیں، لیکن یہ سول سوسائٹی صرف توہین رسالت کے ایسے مجرم کے لیے سڑکوں اور چوراہوں پر آئے گی جو کسی اقلیتی فرقے سے تعلق رکھتا ہو۔
توہین رسالت کے زیادہ تر مقدمے مسلمانوں کے خلاف درج ہوتے ہیں لیکن عیسائیوں یا ہندووں کے مسئلے کو خصوصاً اچھالنا دراصل اس پوری کمیونٹی کے اندر خوف، نفرت، تعصب اور ہیجان پیدا کرنا ہوتا ہے۔ تا کہ ان کا بچہ اس بات پر یقین کر لے کہ یہ زیادتی صرف ان کے ساتھ ہو رہی ہے۔ آپ حیران ہوں گے کہ1972ء میں ذوالفقار علی بھٹو نے تمام رفاہی تعلیمی ادارے قومی ملکیت میں لے لیے تھے۔ اس سے پہلے مسلمان رفاہی ادارے بھی ملک بھر میں تعلیمی ادارے چلاتے تھے اور عیسائی مشنری بھی، لیکن پاکستان کی تاریخ میں یہ واحد استثناء ہے کہ کسی مسلمان رفاہی ادارے کو اس کے تعلیمی ادارے واپس نہیں کیے گئے لیکن تمام عیسائی مشنری تنظیموں کو ان کے تعلیمی ادارے واپس کر دیے گئے اور آج یہ ادارے اس ملک میں اپنی مرضی کی تعلیمی پالیسی اور مخصوص نصابِ تعلیم کے تحت چل رہے ہیں۔
اس سول سوسائٹی نے کبھی عیسائی اقلیت کے ساتھ اس بہترین سلوک کا ذکر تک نہیں کیا، اس لیے کہ کہیں اس اقلیت میں یہ احساس پیدا نہ ہو جائے کہ تمہیں مسلمانوں سے بھی بہتر سلوک سے نوازا گیا۔ اس لیے بھی کہ ایسا کرنے سے ’’آگاہی اور وکالت‘‘ کے اس ایجنڈے کی تکمیل نہیں ہوتی۔ ملک میں بھٹہ کے مزدور ہر رنگ نسل اور مذہب سے تعلق رکھتے ہیں اور بدترین غلامی کا شکار ہیں۔ اکثر ایسے واقعات ہوتے رہتے ہیں جب انھیں مالکان اپنے تشدد کی انتہا پر پہنچتے ہوئے زندہ جلا دیتے ہیں۔ خوفزدہ یہ لوگ کچھ بھی نہیں کر پاتے۔ لیکن مسئلہ اچھالنا ہو تو کسی بھی اقلیت کو سامنے رکھ کر اچھالا جاتا ہے۔
توہین قرآن پر گوجرانوالہ میں ایک شخص کو ڈنڈے مار کر مار دیا گیا لیکن کوئی سول سوسائٹی حرکت میں نہ آئی، کیونکہ اس کے منہ پر داڑھی تھی اور وہ مسلمان تھا۔ اس شخص کے کیس کو اچھالنے سے ان کا ’’آگاہی اور وکالت‘‘ کا ایجنڈا پورا نہیں ہوتا تھا۔ پاکستان کی عدالتوں میں روز خواتین بھاک کر شادی کرتی ہیں۔ میری عدالت میں چار جوڑوں نے پسند کی شادی کی۔ چاروں عورتوں کو ان کے آشناؤں نے بیچ دیا اور وہ بچیاں بدترین زندگی گزار رہی ہیں۔ ان چار مردوں کے خلاف کوئی سول سوسائٹی کبھی نہیں اٹھے گی کہ اس سے عورتوں کے حقوق کی وکالت کا ایجنڈا پورا نہیں ہوتا۔ ایجنڈا تو اس وقت پورا ہوتا ہے اگر لڑکی والدین سے نفرت کر کے بھاگے۔
پاکستان سارے کا سارا غربت و افلاس کی تصویر ہے، کچی آبادیوں کی ایک قطار ہے جس میں ہر رنگ نسل، زبان اور مذہب کے لوگ آباد ہیں لیکن سول سو سائٹی کو یہ سب بلا رنگ نسل و مذہب نظر نہیں آتا۔ کسی مخصوص مذہب کے حوالے سے ہیجان پھیلانا ان کا خاصہ ہے۔ گوجرہ میں گھر جلائے جائیں تو سول سوسائٹی کا احتجاج سالوں پر محیط ہوتا ہے، لیکن بلدیہ ٹاؤن کی فیکٹری میں250 انسان جل جائیں تو ایک پلے کارڈ بھی مجرموں کے خلاف نظر نہیں آتا۔ اس لیے کہ اس سے ایجنڈے کی تکمیل نہیں ہوتی۔
گزشتہ تیس سالوں سے اس سول سوسائٹی نے اقلیت کے ذہنوں میں ہتھوڑے مارنے کی طرح بار بار یہ بات ذہن نشین کروائی ہے کہ ظلم صرف تم پر ہوتا ہے۔ اٹھارہ کروڑ لوگ تمہارے خون کے پیاسے ہیں۔ تمہیں اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کرنا ہو گی اور دیکھو پوری دنیا کی عالمی طاقتیں تمہارے ساتھ ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہزارہ قبیلے کے مسلمان سو کے قریب لاشیں ساتھ رکھ کر احتجاج کرتے ہیں اور صبر کا دامن نہیں چھوڑتے، لیکن یوحنا آباد کے لوگ جنھیں سول سوسائٹی نے اپنے پراپیگنڈے سے خوف، نفرت، تعصب اور ہیجان کا شکار کیا ہے وہ دو انسانوں کو زندہ جلا دیتے ہیں۔ مقدمہ کس کے خلاف درج ہونا چاہیے؟۔

حادثہ وہ جو ابھی پردۂ افلاک میں ہے
اوریا مقبول جان پير 16 مارچ 2015

خاندانِ بنو عباس کا سورج بام عروج پر تھا۔ یہی زمانہ تھا جب مسلمانوں نے دنیا بھر کے علوم کو عربی زبان میں ترجمہ کرنا شروع کیا۔ یہ ایک بہت محنت طلب اور صبر آزما کام تھا، لیکن لگن کا یہ عالم تھا کہ دنیا کے کسی کونے میں بھی کوئی کتاب میسر آتی مسلمان اسے حاصل کرنے جا پہنچتے۔ لوگوں کو اس جنون کا علم ہوا تو انھوں نے کتب کو سونے کے بھاؤ ان کے ہاتھ فروخت کرنا شروع کر دیا اور یہ بلاتامل خرید لیتے۔ سرکاری سرپرستی کا یہ عالم تھا کہ مامون الرشید کے زمانے میں ایک مترجم کی ماہانہ تنخواہ تیس ہزار دینار (یعنی سونے کے سکے) تھی۔
ترجمے کی اس تحریک کا آغاز عباسی خلیفہ المنصور (754-775ء) کے زمانے میں ہوا۔ پہلی دو کتب جن کا ترجمہ کیا گیا وہ سنسکرت میں تھیں جنھیں ہندوستان سے منگوایا گیا تھا۔ ایک فلکیات پر کتاب تھی اور دوسری برہم گپت کی سوریا سدھانتا تھی۔ اس کا ترجمہ ابراہیم الفرازی نے زیج السند ہند الکبیر کے نا م سے کیا۔ بیت الحکمت قائم کیا گیا جو نہ صرف ایک یونیورسٹی تھی بلکہ دار ترجمہ، لائبریری اور لیبارٹری کی وسعت بھی اپنے دامن میں سمیٹے ہوئے تھی۔ یہیں قرآن، حدیث و فقہ کے ساتھ ساتھ یہ تمام جدید علوم پڑھائے جاتے تھے۔ یونانی فلسفہ تھوڑا بہت سریانی زبان میں ترجمہ ہو چکا تھا، اسے عربی میں منتقل کیا گیا اور پھر اصل یونانی ماخذ کو بھی ترجمہ کر کے دنیا کو اس قدیم علم سے آشنا کیا گیا۔ یونانی فلسفے نے اس دور کے مسلمانوں میں عقلیت پسندی کا ایک دروازہ کھول دیا۔ ایسی علمی بحثوں کا آغاز ہوا جو آج تک ہمیں گھیرے ہوئے ہیں۔
فلسفہ کے بنیادی سوالوں نے ان عقلیت پسندوں کو ایک کسوٹی عطا کر دی جس پر وہ قرآن و سنت کے احکامات کو پرکھنے لگے۔ جو عقل کی اس کسوٹی پر پورا اترتا اسے تسلیم کرتے اور باقی کو متروک سمجھ کر رد کر دیتے۔ عباسی خلفاء ان عقلیت پسندوں جنھیں معتزلہ کہتے تھے، ان کے زیراثر تھے۔ اس زمانے میں جس فتنے نے سر اٹھایا وہ خلق قرآن تھا۔ قرآن کو اللہ کی ایک مخلوق ثابت کرنے میں عقلیت پسندوں کی ایک گہری سازش چھپی ہوئی تھی کہ اس طرح وہ اس کی حیثیت ثانوی کر دیں گے اور جس طرح ہر تخلیق میں روز بروز تبدیلی ہوتی رہتی ہے اسی طرح اس میں بھی ایک راستہ نکل آئے گا۔ ایسے میں اس وقت کے دو جلیل القدر فرزندوں نے ثابت قدم رہ کر اپنی قربانی سے اس فتنے کا راستہ روکا۔ ایک امام احمد بن حنبلؒ اور دوسرے شیخ نعیم بن حمادؒ۔ امام احمد بن حنبلؒ کا تذکرہ تو مسلسل چلا آیا ہے کہ ان کے نام سے ایک مسلک کی بنیاد ہے، لیکن شیخ نعیم بن حمادؒ کا تذکرہ تاریخ کی بھول بھلیوں میں کہیں گم ہو گیا ہے۔
سیدنا عمرؓ کے زمانے میں احنف بن قیسؓ نے جب خراسان فتح کیا تو اس معرکے میں عرب کے قبیلے الخراعی نے شجاعت کے جوہر دکھائے۔ خراسان یزدگرد کی آخری پناہ گاہ تھی۔ وہ اس کے شہر مرو شاہجان میں چھپا بیٹھا تھا۔ خراسان فتح ہوا تو الخراعی قبیلے کو یہاں آباد ہونے کے لیے کہا گیا جن کی موجودگی سے آج پورے افغانستان، ترکستان اور بقیہ خراسان میں اسلام کی مشعل روشن ہوئی۔ اسی قبیلے کے ایک گھر میں دوسری صدی ہجری میں نعیم بن حماد پیدا ہوئے۔ علم کی طلب انھیں بغداد لے آئی جہاں امام عبداللہ بن مبارک ان کے ابتدائی اساتذہ میں سے تھے۔ آپ نے امام ابو حنیفہ کے تلامذہ سے براہ راست علم حاصل کیا، لیکن حدیث کے بارے میں ان کے بہت بڑے کام کی ایک وجہ بنی۔
آپ نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب میں دیکھا کہ فرما رہے تھے ’’تم وہی ہو نہ جو ہماری احادیث کو نظرانداز کر دیتے ہو۔‘‘ نعیم بن حماد نے گھبرا کر کہا یارسول اللہؐ! آپ مجھے مختلف ابواب میں احادیث عطا کر دیجیے تا کہ میں آپؐ کے ارشادات سے ہر بات اخذ کر لیا کروں۔ خواب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نعیم بن حماد کو سینے سے لگایا اور اس کی برکت دیکھئے کہ احادیث کا مجموعہ یعنی المسند تصنیف کرنیوالے پہلے شخص تاریخ میں نعیم بن حمادؒ ہی ہوئے۔ باقی تمام مسندات ان کے بعد تصنیف ہوئیں۔ احادیث کو رجال کی کسوٹی پر پرکھنے اور احادیث کی درجہ بندی کا کام ان کے بعد شروع ہوا جس عمل کے امام دراصل امام بخاری تھے۔ اسی لیے نعیم بن حمادؒ کی مسند میں معلق، مرسل، منقطع، صحیح، حسن، مدلس، مرسل، موضوع، متروک اور منکر سب طرح کی احادیث جمع ہیں۔
بغداد میں معتزلہ کا عروج ہوا تو نعیم بن حماد مصر چلے گئے۔ مامون الرشید کے بعد معتصم خلیفہ بنا تو علماء کو خلق قرآن کا قائل کرنے کے لیے تشدد کا نشانہ بنایا جانے لگا۔ اسی فتنے کے ڈر سے علماء کی اکثریت خاموش ہو گئی لیکن امام احمد بن حنبلؒ اور شیخ نعیم بن حماد کی استقامت بلا کی تھی۔ نعیم بن حماد کو مصر سے امام شافعی کے مشہور شاگرد یوسف بن یحییٰ ال بویطی کے ساتھ بیڑیوں میں جکڑ کر بغداد لایا گیا۔ خلق قرآن کے حق میں بیان نہ دینے پر نعیم بن حمادؒ کو سامرا کے قید خانے میں قید کر دیا گیا جہاں وہ سات سال قید رہے اور وہیں ان کا انتقال ہو گیا۔ آپ نے وصیت کی کہ مجھے بیڑیوں سمیت دفن کیا جائے کہ میں اپنے مخالفین کی اللہ کے حضور اسی حالت میں مخاصمت کرنا چاہتا ہوں۔ جیل حکام نے انھیں اسی طرح بیڑیوں کے ساتھ گڑھے میں ڈال دیا۔ نہ کفن دیا گیا اور نہ ہی نماز جنازہ پڑھی گئی۔
نعیم بن حماد کو امام العلامات کہا جاتا ہے۔ ان کا سب سے بڑا کام یہ ہے کہ انھوں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ان احادیث کو ایک جگہ جمع کیا ہے جو آخری زمانے یعنی قیامت سے پہلے کے زمانے کے بارے میں آپ نے ارشاد فرمائیں۔ اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں حذیفہ بن یمانؓ ایسے صحابی تھے جنہوں نے دور فتن کے بارے میں رسول اللہؐ سے سب سے زیادہ علم حاصل کیا۔ حضرت حذیفہ بن یمانؓ فرماتے ہیں ’’لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خیر کے بارے میں سوال کرتے اور میں شر کے بارے میں سوال کرتا۔ اس خوف سے کہ کہیں شر مجھے پکڑ نہ لے (بخاری و مسلم) یہی کیفیت محدثین میں نعیم بن حمادؒ کی ہے۔ آپ نے وہ تمام روایات ایک کتاب میں جمع کر دی ہیں جو آخرالزمان یا دور فتن کے بارے میں ہے۔ اس حدیثوں کے مجموعے کو ’’کتاب الفتن‘‘ کا نام دیا گیا۔
حیرت کی بات ہے کہ تمام احادیث کی کتب کے تراجم ہوئے لیکن کتاب الفتن صرف عربی میں شایع ہوتی رہی اور اب تو عربی میں بھی ناپید ہو گئی۔ آخری دفعہ مصر سے پچاس سال قبل شایع ہوئی۔ العلم ٹرسٹ نے آج سے دو سال قبل اس کے ترجمے کے کام کا آغاز کیا۔ احادیث کے ترجمے میں احتیاط کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے اسے ماہر علماء کی جانچ پرکھ سے گزارا گیا اور اب نعیم بن حمادؒ کی کتاب الفتن ترجمے کے ساتھ چھپ کر مارکیٹ میں آ گئی ہے جسے علم و عرفان پبلشرز اردو بازار لاہور نے بڑی محنت سے طبع کیا ہے اور اس کی تمام آمدنی کو العلم ٹرسٹ کے لیے مخصوص کیا گیا ہے۔ آج کے دور فتن میں احادیث کی اس کتاب کی جس قدر ضرورت تھی وہ علماء اور اہل نظر سے پوشیدہ نہیں۔
کتاب کو طباعت کے مرحلے سے گزارنے کے دو مقاصد ہیں۔ ایک یہ کہ اسماء الرجال کے ماہر اساتذہ اس کی احادیث کو رجال کی کسوٹی پر پرکھ کر ترتیب دیں اور دوسرا کتاب الفتن میں درج حضرت حذیفہ بن یمانؓ کی حدیث کہ آخری دور میں یہ فتنے ایسے لمبے ہو جائیں جیسے گائے کی زبان لمبی ہوتی ہے۔ ان فتنوں میں اکثر لوگ تباہ ہو جائیں گے۔ البتہ وہ رہیں گے جو پہلے سے ان فتنوں کو پہچانتے ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس دور فتن میں فتنوں کو پہنچاننے کی توفیق عطا فرمائے۔ کتاب الفتن کو اردو میں ترجمہ کر کے شایع کرنے کا العلم ٹرسٹ کا یہی مقصد اور مدعا ہے۔ بقول اقبال
حادثہ وہ جو ابھی پردۂ افلاک میں ہے
عکس اس کا مرے آئینۂ ادراک میں ہے

کارپوریٹ سرمایہ، بکی ہوئیں جمہورتیں، لائف اسٹائل
اوریا مقبول جان جمعـء 13 مارچ 2015

جنگ، خوف، دہشت، بدامنی، قتل و غارت اور لوٹ مار کے اس عالمی منظر نامے میں کیا کسی کو اندازہ ہے کہ گذشتہ ایک سال قبل یعنی صرف2013میں ارب پتی افراد میں210افراد کا اضافہ ہوا اور یوں ان کی کل تعداد ایک ہزار چار سو چھبیس(1,426) ہوگئی ہے۔ جن کی مجموعی دولت پانچ ہزار چا سو ارب ڈالر ہے۔
یہ تمام ارب پتی ڈالروں کے ارب پتی ہیں جو عالمی سطح پر نظر آتے ہیں۔ ارب پتیوں کی یہ تفصیل ہر سالForbesمیگزین میں شایع ہوتی ہے۔ یہ اعداد و شمار بھی2013کے بار ے میں ایک تفصیلی مضمون(Inside 2013 billionaires list) میں دیے گئے ہیں جسےL.K.Rollنے تحریر کیا ہے ۔2014کے بارے میں ابھی تک رپورٹ آنا باقی ہے۔
یہ ارب پتی افراد ہر دوسرے دن کسی نہ کسی فیشن میگزین، ٹی وی کے ٹاک شو یا کسی دوسرے ایسے میڈیا کے واسطے سے نمایاں ہوتے رہتے ہیں اور ان کے خوبصورت اور متمول لائف اسٹائل کے بارے میں گفتگو بھی ہوتی رہتی ہے۔ ان میں سے چند ایک کے خیراتی کاموں کو بھی دنیا بھر کا میڈیا یوں اچھال کر پیش کرتا ہے جیسے یہ ان کے خون پسنے کی کمائی تھی جو انھوں نے عوام پر لٹادی۔ لوٹ مار کی کمائی کو عوام کی فلاح و بہبود پر خرچ کر کے لوگوں کے دلوں میں جگہ بنانے کا تصور صدیوں سے عام ہے۔
ایسے ڈاکوؤں کو لوگ بہت پسند کرتے تھے جو امیروں کو لوٹتے اور غریبوں میں تقسیم کرتے۔ برصغیر پاک و ہند کا کردار سلطانہ ڈاکو اسی کی ایک مثال ہے۔
لیکن موجودہ دور کے کارپوریٹ کلچر کے نمایندہ افراد کا کمال یہ ہے کہ وہ پوری دنیا میں غربت، بھوک، بیماری، افلاس اور بے روز گاری کے ذمے دار ہیں، لیکن اس کے باوجود وہ اپنی مصنوعات کے ذریعے انھی مفلوک الحال لوگوں کو لوٹ کر اپنے خزانے بھرتے ہیں، امیر سے امیر ترین ہوتے ہیں اور اگر کوئی ان سرمایہ داروں میں سے غریبوں سے لوٹی ہوئی دولت کا کچھ حصہ خیرات پر خرچ کر دے تو وہ عظیم ترین انسان کہلاتا ہے۔ سلطانہ ڈاکو کم از کم امیروں کو لوٹ کر غریبوں پر خرچ کرتا تھا،غریبوں کو لوٹ کر،انھی کا مال انھیں کو خیرات کر کے عزت نہیں کماتا تھا۔
دولت کمانے کی یہ دوڑ اب اس قدر خوفناک ہوتی جا رہی ہے کہ دنیا بھر کے ایک فیصد امیر افراد کے پاس اس وقت ایک سو دس ہزار ارب ڈالر کا سرمایہ ہے جو دنیا کے پچاس فیصد غریب ترین افراد کے کل سرمایہ سے پینسٹھ گنا زیادہ ہے۔ دنیا بھر میں2008 میں مالی بحران آیا۔ عام آدمی جس نے بینکوں میں اپنی بچت رکھی ہوئی تھی، یا جائیداد خرید کر سرمایہ کاری کی تھی وہ لٹ گیا لیکن اس ایک فیصد سرمایہ داروں کے منافع میں حیران کن اضافہ ہوتا رہا۔
کارپوریٹ منافع بڑھتا رہا، ان کے سربراہوں(CEOs) کی تنخواہوں میں ہو شربا اضافہ ہوتا رہا اور اسٹاک ایکسچینج کا حال یہ ہے کہDow Jones ،117سال کی تاریخ میں سب سے زیادہ بلندیوں پر جاپہنچا۔ یہ وہ چند لوگ ہیں جن کی دولت اکثر حکومتوں کے کل سرمائے سے بھی زیادہ ہے۔ جولائی2013کے(Bloomberg) کے مطابق پوری یورپی یونین کے دس امیر ترین افراد کی دولت یورپی یونین کے تمام ممالک نے جو سرمایہ معاشی بحالی کے لیے خرچ کیا اس سے زیادہ ہے۔
ان دس افراد کے پاس دو سو سترہ ارب یورو تھے جب کہ یورپی یونین کے تمام ممالک اپنی معاشی بحالی کے لیے صرف200 سو ارب یورو نکال سکے۔OXFAMکی وہ مشہور رپورٹ(Working for the few) حیران حقائق بیان کرتی ہے۔(1)دنیا کی آدھی دولت صرف ایک فیصد لوگوں کے پاس ہے۔(2) ان ایک فیصد افراد کے پاس110ہزار ارب ڈالر ہیں۔(3) دنیا کے 85فیصدغریب افراد کی کل دولت110ہزار ارب ڈالر سے بھی کم ہے۔ گذشتہ 30سال سے جن ملکوں میں غریب اور امیر کا فرق بڑھا ہے، ایسے ملکوں میں دنیا کے ستر فیصد افراد رہتے ہیں۔یعنی غریب ملکوں میں چند لوگوں کو امیر بنانے کا عمل زیادہ تیز ہوا ہے۔
دنیا کے ان ایک فیصد امیر افراد نے دنیا بھر میں ایک ایسا جمہوری نظام دنیا پر مسلط کر رکھا ہے جسے ان تمام افراد نے خریدا ہوا ہے۔ یہ سرمایہ دار سیاست دان نہیں بلکہ پار ٹی فنڈنگ کے ذریعے پوری کی پوری پارٹی خرید لیتے ہیں اور پھر پارٹی وفاداری کو جمہوریت کی معراج سمجھا جاتا ہے ہر کوئی بکی ہوئی پارٹی کی پالیسیوں کا پابند ہوتا ہے۔ آکسفیم کی یہ رپورٹ بتاتی ہے کہ1930کے معاشی بحران کے بعد ان تمام افراد نے جو صرف ایک فیصد ہیں، ہر ملک کی سیاسی پارٹیوں کی پالیسیوں کو اپنی دولت سے خریدا ہوا ہے۔ یہ پالیسیاں ان پارٹیوں کے منشور کا حصہ بنتی ہیں اور نافذ ہوتی ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ ان تمام ممالک میں مزدورکی تنخواہ کی اوسط چیونٹی سے بھی کم رفتار سے بڑھائی جاتی ہے۔ جہاں سستا مزدور ملے، وہاں فیکٹریاں لے جانے کی اجازت ہوتی ہے۔ دنیا کے ہر بڑے سرمایہ دار کو چھوٹے ملکوں میں کارخانے لگا کر ان کی دولت اپنے ملک میں لے جانے کا اختیار ہوتا ہے۔ دنیا کے ہر ملک میں قانون ایسے بنائے جاتے جن سے(Corporate tax Loopholes) یعنی ٹیکس چوری کرنے کے آسان راستے نکل سکیں۔ یہی سرمایہ دار ایک غیر فطری معاشی بحران پیدا کرتے ہیں اور پھر حکومتیں بچت کی طرف چل پڑتی ہیں اور یہ بچت صحت، تعلیم، صاف پانی اور دیگر سہولیات میں ہی ہوتی ہے۔
آکسفیم کی یہ رپورٹ بھارت کی مثال دیتی ہے جو اس بدترین سرمایہ داری کی غلیظ ترین شکل ہے۔ جہاں ایک ارب بیس کروڑ آبادی کے ملک میں صرف ایک درجن افراد کے پاس250ارب ڈالر کی دولت ہے اور باقی تمام بھارت ایک بہت بڑی جھونپڑ پٹی ہے، اور ساتھ ہی دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت بھی، جو اپنی جی ڈی پی کا صرف ایک فیصد صحت پر خرچ کرتی ہے۔ یہ سرمایہ دار جنہوں نے بھارت کی جمہوری پارٹیوں کو خریدا ہوا انھوں نے1985 میں مورثی ٹیکس ختم کر وایا،1993 میں ویلتھ ٹیکس کو نہ ہونے کے برابر کروایا اور اب وہاں براہِ راست ٹیکس صرف37.7فیصد ہیں، باقی سب غرباء کی جیب سے وصول ہوتے ہیں۔
دنیا کے ہر ملک میں ان سرمایہ داروں نے جمہوری اداروں سے معاشی رازداری کے قوانین منظور کروا رکھے ہیں۔ کسی کے بینک اکاؤنٹ، بیرون ملک دولت اور دیگر سرمایہ کے ادھر ادھر کرنے کوخفیہ رکھنے کے قانون منظور ہیں۔ آف شور(Off shore) کمپنیاں جن پر کسی ملک کا قانون لاگو نہیں ہوتا وہاں صرف امریکی سرمایہ داروں کے19ہزار ارب ڈالر پڑے ہیں۔ زیمبیا وہ ملک ہے جہاں سے سرمایہ دار کمپنیاں سالانہ دس ارب ڈالر کا تا نبہ لے کر جاتی ہیں لیکن اس ملک کو اس کے صرف چوبیس کروڑ روپے ملتے ہیں، اور اس ملک میں69فیصد لوگ ایسے ہیں جن کی آمدن ایک ڈالر روزانہ سے بھی کم ہے۔
یہ تمام کارپوریٹ سرمایہ دار دو طریقوں سے لوٹ مار کو مستحکم کرتے ہیں، ایک پوری کی پوری جمہوریت کو خرید کر۔ اس سے لوگوں کو یہ یقین دلا یا جاتا ہے کہ یہ تو تمہاری اپنی منتخب کردہ حکومت ہے۔
آمریت ہو تو لوگ احتجاج بھی کریں۔ جمہوریت اور جمہوری حکمران تو عوام کے نمایندہ ہیں، ان کے ذریعے لوٹنا کس قدر آسان اور خوبصورت ہے۔ دوسرا میڈیا کے ذریعے ایک لائف اسٹائل کو جنم دے کر لوگوں کو اپنی مصنوعات کا عادی کرنا تا کہ سرمایہ غریب آدمی کی جیب سے نکل کر ان تک چلا آئے۔
یہ لائف اسٹائل میڈیا کے ذریعے لوگوں کے ذہن میں راسخ کیا جاتا ہے۔ آپ اپنی25سال پرانی شاپنگ لسٹ نکالیں، اب پچاس فیصد سے زیادہ اشیاء خریدتے تک نہیں تھے۔ میڈیا پوری دنیا کو ایک لائف اسٹائل کا غلام بناتا ہے۔ جس سے اربوں ڈالر کی انڈسٹری چلتی ہے۔ ایک چھوٹی سی مثال دیکھیں، دنیا بھر کے ڈاکٹر اس بات پر متفق ہیں کہ مسواک ٹوتھ پیسٹ سے بہتر ہے کیوں کہ ٹوتھ برش میں جراثیم کی ایک(Repository) یعنی ذخیرہ جمع ہوتا ہے لیکن لائف اسٹائل کی بات ہے کہ میڈیا ٹوتھ پیسٹ ہی استعمال کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔
وہ بھی کسی غریب ملک کی بنائی ہوئی ٹوتھ پیسٹ نہیں بلکہ ملٹی نیشنل کارپوریشن کی بنی ہوئی۔ کیا ہر ملک اتنی بھی اہلیت نہیں رکھتا کہ ٹوتھ برش اور ٹوتھ پیسٹ بناسکے۔ یہی حال برگر، پیزا، جوتے اور دیگر اشیاء کا ہے۔ ایک جانب دنیا بھر کے غریب لوگ ہیں جن کو ان اشیاء کا لائف اسٹائل کے نام پر عادی کیا جاتا ہے اور پھر ان کی جیب سے سرمایہ ایک فیصد لوگوں کی جیب میں جاتا ہے اور یہ ایک فیصد سرمایہ دار دنیا بھر کی جمہورتیں خرید لیتے ہیں۔

اسلام اور قومیت
اوریا مقبول جان پير 9 مارچ 2015

بحیثیت مسلمان آپ دنیا کے کسی بھی ملک میں رہتے ہوئے آپ کسی بھی قسم کا مذہبی، خاندانی، معاشرتی اور فلاحی کام کر رہے ہوں، آپ نے اس کام کے فروغ کے لیے انجمن بنائی ہو، آپ پر کوئی اعتراض نہیں کرے گا۔ آپ پانچ وقت جوق در جوق نماز پڑھیں حتیٰ کہ جمعہ کو صفیں مسجد کے باہر بھی بچھا لیں، آپ میلاد کانفرنس کرائیں یا توحید کانفرنس، آپ دس دن محرم کی مجالس منعقد کروائیں اور ربیع الاول کا پورا مہینہ نعت خوانی کی مجالس کا اہتمام کریں، رمضان کی تراویح ہو یا عید کی نمازیں، آپ کے تمام اعمال ایک مذہبی رسم کے طور پر مغرب کے ہر گلی کوچے میں قابل قبول ہیں۔
اس لیے کہ جدید مغربی تہذیب، مذہبی عبادات کو بھی صدیوں سے اختیار کردہ ثقافتی رسوم کے طور پر سمجھتی ہے، اسی لیے مسلمانوں کی مساجد، سکھوں کے گوردوارے، ہندوؤں کے مندر اور یہودیوں کے سائنا گوگ وہاں کی اکثریت یعنی عیسائیوں کے گرجوں کے ساتھ ساتھ نظر آتے ہیں۔ لیکن یہ تمام ممالک سب کچھ اس وقت برداشت کرتے ہیں یا اس کی اجازت دیتے ہیں جب آپ خود کو ان کی قومیت میں ضم کر لیں۔ آپ جرمن، برٹش، فرنچ یا نارویجن مسلمان کہلانے لگیں۔ آپ کا اس سرزمین، ان کے سیاسی نظام، ان کے معاشی و معاشرتی اصولوں اور ان کے پاسپورٹ سے تعلق اور احترام کا رشتہ قائم ہو جائے۔ اس کے بعد تو حجاج کرام کے قافلے وہاں سے چلتے ہیں، ان ممالک کے سفارت خانے اپنے مسلم ہم وطنوں کے لیے سہولیات بہم پہنچاتے ہیں۔
بڑے بڑے ٹور آپریٹر وہاں اپنا قانونی کاروبار کرتے ہیں اور لوگوں کو حج اور عمرہ کے لیے بھیجتے ہیں۔ آپ کسی بھی قسم کی رفاہی تنظیم بنا لیں، وہاں سے فنڈ اکٹھا کریں، سیلاب زدگان، زلزلہ زدگان، یتیموں اور بیواؤں کی مدد کے لیے پیسے اکٹھا کر کے مسلمان ملکوں کو بھیجیں، آپ پر کوئی انگلی نہیں اٹھائے گا۔ لیکن اس سارے کرم اور مہربانی کے باوجود یہ دو الفاظ دنیا کے کسی بھی ’’مہذب‘‘ ملک اور مغربی معاشرت سے برداشت نہیں ہوتے، ایک خلافت اور دوسرا جہاد ہے۔ یہ دونوں الفاظ کس راستے کی نشاندہی کرتے ہیں اور کس تصور قومیت کو اجاگر کرتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ سول سروسز اکیڈمی کے میرے جبراً استاد مکرم نے انھی دونوں تصورات کی نفی ایک بار پھر زور و شور کے ساتھ کی ہے۔ کبھی کبھی مجھے ان کی اس منطق پر حیرت ہوتی ہے۔ آپ دین کی اصطلاحات کا دامن بھی ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہتے اور مغرب کی تراشیدہ اصطلاحات سے بھی آپ کو رغبت ہے۔ کمال کی بات یہ ہے کہ آپ فرماتے ہیں کہ مسلمانوں میں اخوت کا رشتہ تو ہے قومیت کا نہیں۔ یعنی مسلمان آپس میں بھائی تو ہیں لیکن ضروری نہیں کہ وہ اپنی رنگ، نسل، زبان علیحدہ ہونے کے باوجود ایک قوم بھی بن جائیں اور ان کا سب کا ایک خلیفہ بھی ہو۔
جناب علامہ صاحب، کہ جوانی میں انھیں اسی نام سے پکارا جاتا تھا، کاش آپ اس مسلم امہ کے ایک ہونے کے تصور کے اس تاریخ معجزے کا غور سے مطالعہ کر لیتے۔ مغرب کے تمام علوم اس بات پر متفق ہیں کہ دنیا میں سب سے طاقتور چیز ثقافت یا طرز معاشرت ہے۔ آدمی صدیاں لگا دیتا ہے لیکن اپنی ثقافت کو نہیں بھولتا، اس ثقافت میں سب سے اہم چیز مادری زبان ہوتی ہے۔ پنجاب کا سکھ ہو یا بنگال کا بنگالی، کئی نسلیں یورپ میں گزارنے کے باوجود اپنی مادری زبان سے آشنا رہتا ہے۔ کبھی اسلامی تاریخ کے اس معجزے پر انھوں نے غور کیا ہے کہ اسلامی ریاست میں آنے سے قبل، شام، عراق، لبنان، مصر، لیبیا، سوڈان، مراکش، اردن، تیونس میں نہ لوگوں کی مادری زبان عربی تھی اور نہ ہی کاروباری اور علاقائی زبان۔ یہاں امریکیوں کی طرح کسی نے نسل کشی بھی نہیں کی تھی جیسے انھوں نے وہاں کے مقامی ریڈ انڈین کو مار مار کر ناپید کر دیا تھا۔
اس زمانے میں جدید ذرایع ابلاغ بھی نہیں ایجاد ہوئے تھے کہ لوگ ان کو دیکھ دیکھ کر زبان اختیار کر لیتے۔ تعلیمی نظام کی جڑیں بھی اس طرح گہری نہیں تھیں کہ طرز تعلیم انگریزی میں کر دو تو یہ لوگوں کی مجبوری بن جائے۔ تاریخ رعایا پر مسلمان خلفاء کے جبر کی بھی کوئی گواہی نہیں دیتی۔ متعصب ترین مورخ بھی خلفائے راشدین اور بعد کے حکمرانوں پر یہ تہمت نہیں لگاتے کہ انھوں نے زبردستی اپنا دین نافذ کیا، اپنی زبان لاگو کی ہو یا اپنا کلچر کسی پر تھوپا ہو۔ لیکن یہ سب کے سب ملک آج عرب ورلڈ کا حصہ ہیں۔ ان کو یاد تک نہیں کہ ان کے آباؤ اجداد کی مادری زبانیں کونسی تھیں۔ یہ ان لوگوں کا کمال تھا جو خالصتاً سید الانبیاء ﷺ کی تربیت سے بہرہ مند ہوئے تھے۔
اخوۃ کا یہ رشتہ ایسا تھا جس نے ’’الکفر ملۃ واحدہ‘‘ کو تحلیل کر کے رکھ دیا۔ ایران میں بھی صفوی حکمران اگر ایک خاص مقصد کے لیے فارسی زبان کو زبردستی قائم نہ کرتے اور بقول ایرانی مفکرین اگر فردوسی کا شاہنامہ نہ لکھا جاتا تو فارسی آج ختم ہو چکی ہوتی۔ برصغیر میں بھی اسلام خلجیوں، غوریوں، غزنویوں اور مغلوں کی وجہ سے آیا جو اپنی بادشاہت کی سرفرازی کا مقصد لے کر آئے تھے اس لیے یہاں بھی وہی قومی ریاست بن سکی، اسلامی ریاست وجود میں نہ آئی۔ لیکن جہاں آپﷺ کے ساتھی پہنچے اور انھوں نے وہاں حکومت قائم کی وہاں کا رنگ، ڈھنگ اور بول چال تک سب اس زبان میں ڈھل گئی جسے وہ قرآن کی زبان قرار دیتے تھے۔ یہ ہے تاریخ کی وہ گواہی۔
قومیں جغرافیے کی لکیریں کھینچنے سے صرف آج کے دور میں بنا کرتی ہیں جنھیں قومی افواج سرحد کی حفاظت کا تصور دے کر ایسے قائم رکھتی ہیں جیسے چڑیا گھر میں جانور۔ اگر یہ قومیں اتنی ہی موثر ہوتیں تو قومی افواج کا تصور نہ ہوتا بارڈر پر پہرے داران ان قومیتوں کا تحفظ کرتے ہیں۔ یہ وہ اسلامی اخوت ہے جو قوموں کے نسلی، علاقائی اور زبانی امتیازات تک ختم کر دیتی ہے۔ اسی اخوت کی کوکھ سے مسلمانوں کی مرکزیت یعنی خلافت نے جنم لیا۔ حیرت کی بات ہے کہ دین کی تشریح سیدنا ابوبکرؓ سے لے کر حضرت علیؓ تک کے خلفائے راشدین کو معلوم نہ تھی اور میرے جبراً استاد کو اب سمجھ آئی کہ خلافت کی مرکزیت دین کا منشاء نہیں ہے۔
ایران جیسی عظیم سلطنت کو اتنی دور سے سنبھالنا اور وہ بھی ذرایع آمد و رفت کے اس دور میں اتنا آسان نہ تھا، مصر بھی ہزاروں سال علیحدہ بادشاہت کے طور پر رہ رہا تھا۔ حضرت عمرؓ ان دونوں خطوں کو قومی ریاستیں کہہ کر علیحدہ کر دیتے اور کہہ دیتے تم تو اصل میں بھائی بھائی ہو لیکن تمہارے ملک چونکہ صدیوں سے علیحدہ رہے ہیں اس لیے تمہاری ریاست، حکومت اور خلافت بھی علیحدہ کر دیتا ہوں، تم جانو اور تمہارا ملک۔ شاید وہاں کوئی ’’اعوارد‘‘ رسالہ نہیں نکالتا تھا ورنہ ضرور یہ اعتراض اٹھاتا۔ حیرت ہے چودہ سو سال گزرنے کے بعد یہ اعتراض اٹھایا جا رہا ہے کہ خلافت کی مرکزیت دین کا منشاء نہیں تھی۔ گویا موصوف تمام خلفائے راشدین سے زیادہ دین کی سمجھ رکھتے ہیں۔
شاید ان سے زیادہ اس دین کو جارج بش اور ٹونی بلیئر سمجھتے ہیں جو مسلمانوں میں ذرا سی بھی اخوت کی جھلک دیکھتے ہیں تو پکار اٹھتے ہیں They want Khilfa Back (یہ تو دوبارہ خلافت نافذ کرنا چاہتے ہیں)۔ ایسے میں سب مسلمانوں کے خلاف اکٹھے ہو جاتے ہیں۔ رسول اکرمﷺ کی دو احادیث پوری دنیا کو دو اقوام میں تقسیم کرتی ہیں۔ ایک ’’الکفر ملۃ واحدہ‘‘ پورا کفر ایک قوم ہے ’’اور دوسرا آپؐ نے مسلمانوں کے بارے میں ایک لفظ استعمال کیا ’’جسد واحد‘‘ یعنی ایک جسم۔ ایک جسم میں تمام نظام مربوط ہوتے ہیں، ایک اعصابی نظام، ایک انہضام، ایک دل، ایک دماغ۔ اس جسد واحد یا ایک جسم کے دو دماغ نہیں ہو سکتے۔ اسی لیے آپ ﷺ نے فرمایا کہ جب دو خلیفوں میں بیعت ہو جائے تو دوسرے والے کو قتل کر دو‘‘۔
اسی تصور کی نفی کرنے اور اسی جسد واحد کو توڑنے کے لیے ہی تو قومی ریاستیں وجود میں لائی گئیں تھیں۔ لیکن مسلمان دنیا کی وہ واحد قوم ہے جو ان ریاستوں کی سرحدوں کو پامال کرتے ہوئے اپنے مظلوم بھائیوں کی مدد کے لیے نکلتی ہے۔ اسی تصور جہاد کو ختم کرنے کے لیے ہی تو امت کے تصور کی نفی کی جاتی ہے۔ کیا میرے موصوف استاد نے سورہ انساء کی 75 آیت نہیں پڑھی۔ ’’آخر کیا وجہ ہے کہ تم اللہ کی راہ میں ان بے بس مردوں، عورتوں اور بچوں کی خاطرنہ لڑو، جو کمزور پا کر دبا لیے گئے ہیں اور فریاد کر رہے ہیں کہ خدا یا ہم کو اس بستی سے نکال جس کے باشندے ظالم ہیں اور اپنی طرف سے ہمارا کوئی حامی و مدد گار پیدا کر دے‘‘۔ کیا یہ آیت کافی نہیں کشمیر اور فلسطین کے مسلمانوں کی حالت زار اور مسلم امہ کی ذمے داری بیان کرنے کے لیے۔ یہاں مسلم اخوۃ بھی شاید نہ روک سکے لیکن جدید قومی ریاست ضرور آڑے آئے گی۔ اسی لیے یہ تصور مغرب کو بھی بہت پیارا ہے اور میرے استاد کو بھی۔

کتا کنویں سے نکالو
اوریا مقبول جان جمعـء 6 مارچ 2015

پاکستان کی تاریخ انکوائری کمیشنوں سے عبارت رہی ہے۔ شاید ہی کوئی ملک ایسا ہو جس نے عوامی دباؤ کو ختم کرنے کے لیے مسائل حل کرنے کے بجائے انھیں سرد خانے میں ڈال کر اعلیٰ سطح کے کمیشن بنا دیے ہوں ہم اس فن میں یدِ طولیٰ رکھتے ہیں۔
پاکستان کے ابتدائی سالوں میں ایسے کمیشنوں کی تعداد بہت کم تھی، لیکن اب تو یوں لگتا ہے جیسے ہر بڑے المیے اور اہم مسئلے کا حل ہی ایک کمیشن کی تشکیل میں پوشیدہ ہے۔ یہ کمیشن بڑے بڑے سانحات پر بھی بنے اور تبدیلی کے خواہشمند حکمرانوں نے ریفامز لانے کے لیے بھی بنائے۔
لیکن ان تمام کمیشنوں کی رپورٹوں کا مقدر تقریباً یکساں ہے۔۔ الماریوں کی زینت۔۔ کچھ کھلی الماریوں میں پڑی رہتی ہیں اور دو چار اخبار نویس ان پر تبصرہ کرتے رہتے ہیں اور کچھ ایسی ہیں جنھیں ایک راز سمجھ کر سربمہر کر دیا جاتا ہے اور پھر ایک دن انھیں کوئی چرا لے جاتا ہے اور شایع کر دیتا ہے۔ کچھ دن ان پر بھی تبصرے چلتے ہیں اور پھر مستقل خاموشی چھا جاتی ہے۔
گزشتہ 60 سالوں کے دوران بننے والے ان کمیشنوں کی رپورٹوں کو اگر ایک دفعہ سنجیدگی سے پڑھ لیا جائے تو اس ملک کو ایک بہتر راستے پر ڈالنے کے لیے مزید کسی رہنمائی کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔ کونسا ایسا شعبہ ہے جہاں انتہائی محنت اور جانفشانی سے رپورٹیں نہ مرتب کی گئی ہوں۔
صرف اسلامی نظریاتی کونسل کی رپورٹیں پڑھ لی جائیں اور ان کی پاکستان کے تمام قوانین پر شِق وار بحث دیکھ لی جائے تو آدمی حیرت میں گم ہو جاتا ہے۔ کونسل کی یہ رپورٹیں آئین کے مطابق پارلیمینٹ میں پیش ہونا چاہیں تھیں، لیکن اب تو انھیں ڈھونڈنا تک مشکل ہو چکا ہے۔
کمیشنوں کی یہ رپورٹیں اگر منظر عام پر آ بھی جائیں تو ہمارے حکمران اسقدر بے حس واقع ہوئے ہیں کہ نہ تو انھوں نے کبھی ان کے مندرجات پر غور کیا، نہ ہی اس سے کچھ سبق سیکھا، اور نہ ہی ان کے بتائے گئے خطرات سے بچنے کے لیے کوئی تدبیر کی۔ عدلیہ، انتظامیہ، پولیس، صحت، تعلیم، زراعت غرض کونسا شعبہ ایسا ہے جس کے بارے میں کروڑوں روپے خرچ کر کے کمیشن نہ بٹھائے گئے ہوں، اعلیٰ سطح کے تحقیقی گروہ نہ بنائے گئے ہوں، لیکن ان سب کا لکھا بس الماریوں کی زینت ہے۔
انکوائری کمیشن کی اس تاریخ میں ایک تازہ ترین کمیشن ’’ایبٹ آباد کمیشن‘‘ ہے۔ اس کی وجہ تسمیہ یہ تھی کہ ایک رات اچانک امریکی ہیلی کاپٹر پاکستان کی حدود میں داخل ہوئے، ایبٹ آباد کے ایک گھر میں امریکی دستے اترے، انھوں نے دنیا کے سب سے مطلوب فرد، اسامہ بن لادن پر گولیوں کی بوچھاڑ کی، جاتے ہوئے اس کی لاش اور گھر میں موجود اہم سامان ساتھ لے گئے۔ دو مئی2011ء ۔ یہ ایک بہت حیران کن دن تھا۔
کمیشن بنا، سپریم کورٹ کا ایک سنیئر جج اس کا سربراہ، ایک ریٹائرڈ انسپکٹر جنرل پولیس، ایک ریٹائرڈ سفارت کار اور ایک ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل اس کے ممبران تھے۔ رپورٹ مرتب کر دی گئی۔ رپورٹ سربمہر کر دی گئی، سرد خانے میں چلی گئی۔ لیکن8 جولائی 2013ء کو الجزیرہ چینل نے وہ رپورٹ اپنی ویب سائٹ پر شایع کر دی۔ یہ رپورٹ پاکستان میں ہونے والی خونریزی، دہشت گردی اور فرقہ وارانہ قتل و غارت کے بنیادی عوامل پر ایک ایسے زاویے سے بحث کرتی ہے جو ہماری اس دہشت گردی کی جنگ میں کبھی بھی واضح نہیں کیا گیا۔ حتیٰ کہ سانحہ پشاور کے بعد بلائی جانے والی آل پارٹیز کانفرنس، مشترکہ اعلامیہ، نیشنل ایکشن پلان اور اس کے نتیجے میں ہونے والی اکیسویں ترمیم کی بحث میں بھی اس بنیادی نقطے پر کسی نے گفتگو تک نہیں کی۔
دنیا میں کوئی خلفشار، کوئی دہشت گردی حتیٰ کہ ریاستی جبر سے آزادی کی تحریک بھی کبھی اس قدر طویل نہیں چل پاتی، اگر اسے بیرونی مدد یا اشیر باد حاصل نہ ہوں۔ بیرونی مدد اور اشیر باد کے بھی اب ہزار طریقے ایجاد ہو چکے ہیں۔ سرمایہ اور اسلحہ فراہم کرنا ایک عام سی بات ہو کر رہ گئی ہے۔ اب تو بڑی طاقتیں چھوٹے ملکوں کے اندر باقاعدہ اپنی انٹیلی جنس ایجنسیوں کا نیٹ ورک بناتے ہیں اور وہ براہ راست اس سارے کھیل کی نگرانی کرتے ہیں۔ اس کا آغاز امریکی سی آئی اے نے سب سے پہلے لاطینی امریکا کے ممالک میں شروع کیا اور وہاں کے عوام کو آگ اور خون میں نہلا دیا گیا۔
اسی طرح افریقہ کے ممالک میں اس کی لگائی گئی آگ آج تک ایک الاؤ کی طرح روشن ہے اور روزانہ ہزاروں لوگ اس میں لقمۂ اجل بن جاتے ہیں۔ ان تمام ممالک میں سی آئی اے کے نیٹ ورک کی کارستانیاں پڑھ لیں، لاپتہ افراد، قتل و غارت گری، قبائلی اور نسلی فسادات، لگتا ہے پورا ملک اس آگ کی لپیٹ میں ہے جب کہ ان ممالک میں پس پردہ سی آئی اے کا کوئی نام تک نہیں لیتا۔ سب کہتے ہیں یہ تو ہمارا اپنا قصور ہے۔
پاکستان میں بھی دہشت گردی کے خلاف بننے والے نیشنل ایکشن پلان بناتے وقت کسی نے اس بنیادی نکتے پر غور ہی نہیں کیا کہ ایبٹ آباد کمیشن اس ملک میں سی آئی اے کے ایک وسیع نیٹ ورک کی نشاندہی کر چکا ہے۔ اس نیٹ ورک کی موجودگی میں دہشت گردی کا خاتمہ ایسے ہی جیسے کنویں سے سو ڈول پانی نکال لیا جائے لیکن کتا نہ نکالا جائے۔
یہ رپورٹ اپنے صفحہ332 اور پیرا گراف786 میں تحریر کرتی ہے ’’اگر پاکستان نے اپنے زیر نگیں علاقوں میں امن اور اختیار قائم کرنا ہے تو اسے فوری طور پر سی آئی اے اور دیگر بیرونی ملکوں کے خفیہ اور عسکری نیٹ ورک ختم کرنے ہوں گے‘‘۔ رپورٹ کے پیرا 531 میں درج ہے کہ ’’سی آئی اے پاکستان میں مختلف طریقوں سے نیٹ ورک چلاتی ہے اور اس نے این جی اوز، ٹھیکیداروں، ملٹی نیشنل کمپنیوں، سفارت کاروں کے بھیس میں عہدیداروں اور تکنیکی ماہرین کے ذریعے ایک وسیع جال پھلا رکھا ہے اور اس بات کی شہادتیں وزارت دفاع نے مہیا کی ہیں‘‘ رپورٹ کے پیرا گراف 572 میں درج ہے ’’کمیشن نے معلومات حاصل کیں کہ امریکیوں نے اسلام آباد میں389 گھر کرائے پر لیے ہوئے ہیں۔
جب وزارت سے پوچھا گیا کہ امریکیوں کے پاکستان آنے جانے کی کوئی پالیسی موجود ہے تو جواب ملا کہ2000ء میں تجارتی مقاصد کے لیے ویزا پابندیاں نرم کی گئی تھیں اور اب نسبتاً کوئی روک ٹوک نہیں ہے۔ ’’رپورٹ کے پیرا گراف516 میں پاکستان کے سفیر حسین حقانی کا ذکر ہے، جنہوں نے امریکیوں کو بے تحاشا ویزے جاری کیے۔
جس کی وجہ سے سی آئی اے کو پاکستان میں اپنا نیٹ ورک بنانے میں مدد ملی‘‘۔ اسی لیے اپریل2011ء میں جب امریکا میں خفیہ ایجنسیوں کی کانفرنس ہوئی جنھیں (Spymasters) کہا جاتا ہے تو امریکی سی آئی اے کے نمایندے نے کھلم کھلا کہا کہ ہم نے پاکستان میں اپنا نیٹ ورک بنا لیا ہے اور وہ اسقدر مضبوط ہے کہ ہمیں اب آئی ایس آئی کی بھی ضرورت نہیں رہی۔ یہ نیٹ ورک2011ء تک مضبوط اور مستحکم ہو چکا تھا۔
اگر سی آئی اے کا طریق کار پوری دنیا کے ممالک میں دیکھ لیں اور خصوصاً مسلم ممالک میں تو بات واضح ہو جائے گی کہ آج ہم جس عذاب میں مبتلا ہیں اس کی وجہ یہی نیٹ ورک ہے۔ لبنان میں ساٹھ کی دہائی میں سی آئی اے کا ہیڈ کوارٹر بنا اور اس کے بعد لبنان میں شیعہ سنی اور عیسائی ایک دوسرے کی لاشیں گرانے لگے۔ بحرین اور یمن میں یہ لوگ داخل ہوئے اور قتل و غارت گری کا آغاز ہوا۔ عراق میں شیعہ سنی ایک محلے میں ساتھ ساتھ رہتے تھے لیکن آج وہاں مسلم امہ کی سب سے بڑی شیعہ سنی جنگ برپا ہے، جہاں دنیا بھر سے لڑنے مرنے والے اکٹھا ہو رہے ہیں۔ سی آئی اے کا پاکستان میں نیٹ ورک تنہا نہیں بلکہ وہ بھارتی خفیہ ایجنسی را، افغان ایجنسی خاد اور اسرائیلی ایجنسی موساد کی سرپرست کے طور پر بھی کام کرتی ہے۔
اس حقیقت سے پاکستان کی ہر خفیہ ایجنسی آگاہ ہے، ہر کوئی جانتا ہے کہ پاکستان سے کس طرح نوجوان دبئی جاتے ہیں، وہاں سے بھارتی قونصل جنرل ان کا بھارت کا ویزا جاری کرتا ہے، وہ ٹریننگ لے کر واپس آتے ہیں، افغانستان میں کس طرح انھیں پناہ ملتی ہے۔ یہ انٹیلیجنس کی دنیا میں ایک خبر نہیں بلکہ ایک حقیقت ہے کہ بھارت کا CIT-X پلان کس قدر تفصیل سے پاکستان میں دہشت گردی کا سرچشمہ ہے اور اسے یہاں موجود سی آئی اے کے نیٹ ورک کی پشت پناہی حاصل ہے۔
کیا یہ سب کچھ پاکستان کے دہشت گردی کے خلاف نیشنل ایکشن پلان میں ایک دفعہ بھی زیر بحث آیا۔ کسی نے کہا کہ تباہی کا اصل ذمے دار کون ہے۔ نصاب بدلو، لاؤڈ اسپیکر پر پابندی لگاؤ، لٹریچر ضبط کرو، اسکولوں کی دیواریں بلند کرو، یہ سب پانی کے ڈول ہیں جو کنویں سے نکالے جا رہے ہیں۔ جب کہ کتا تو کنویں میں موجود ہے، اسے نکالے بغیر کچھ بھی ممکن نہیں، نہ امن، نہ سکون اور نہ خوشحالی۔

محمود غزنوی، سومنات اور گورے کی بددیانتی
اوریا مقبول جان جمعـء 17 اپريل 2015

سول سروس کے امتحان میں تاریخِ پاک و ہند اور تاریخِ اسلام میرے اختیاری مضامین میں شامل تھے۔ یہ دونوں تاریخیں ایسی ہیں جن میں گذشتہ دو تین سو سالوں میں انگریز نے ایک خاص مقصد سے اسقدر جھوٹ کا اضافہ کیا ہے کہ اگر آج کوئی سچ بولنا بھی چاہیے اور تاریخ کے اصل مآخذ سامنے لا کر بتائے کہ انگریز کس قدر بددیانت اور جھوٹا ہے تو اکثریت یہ کہہ کر ماننے سے انکار کر دے گی کہ ہم نے جو کورس کی کتابوں میں پڑھا ہے اور جو اپنے بزرگوں کے منہ سے سنتے آئے ہیں، کیا یہ سب جھوٹ ہے۔
تاریخ پاک و ہند پر تو گورے نے خاص کرمفرمائی کی ہے اور مسلمانوں کے ہر اس کرِدار کو مسخ کرنے کی کوشش کی جس سے ذراسی مذہبیت جھلکتی تھی۔ یوں بھی ہندوستان مسلمانوں سے پہلے کئی ریاستوں میں بٹا ہوا علاقہ تھا، اس لیے اس کی تاریخ کی گہرائی میں اترنے کے لیے آپ کو ایک ایسی عمر چاہیے جو صرف کتابوں میں ہی بسر ہو۔سول سروس کے امتحان کی تیاری کے دوران میں ایک ایسی مورٔخ سے روشناس ہوا جس میں تعصب نام کی کوئی چیز نہ تھی۔
اس کی کتاب(A History of India) میرے لیے ایک حیران کن تجربہ تھی۔ پینگوئن والوں نے اسے 1966 میں چھاپا تھا۔ اس کی مولف اس زمانے میں دہلی یونیورسٹی میں تاریخ کی پروفیسر تھی۔1931میں پیدا ہونے والی رو میلا تھاپر (Romila Thaper)نے پنجاب یونیورسٹی سے ایم اے کیا اور پھر یونیورسٹی آف لندن سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔ امریکا، برطانیہ، فرانس اور دیگر ممالک کی یونیورسٹیوں میں وہ پڑھاتی رہی۔
اسے2005ء میں پدمابھوشن ایوارڈ دیا گیا تو اس نے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ میں اپنے علمی کام پر سرکاری سرپرستی نہیں چاہتی۔ رومیلا تھاپر نے برصغیر پاک وہند کی تاریخ میں گورے کی بددیانتی کی ایک بہت بڑی مثال اپنی کتاب سومنات: تاریخ کی بہت سی آوازیں (Somantha: the many voices of history) میں پیش کی ہے۔
اس کتاب میں اس نے قدیم سنسکرت اور فارسی کے تاریخی شواہد سے ثابت کیا ہے کہ محمود غزنوی کی سومنات کے عظیم مندر کی تباہی، اس کے بہت بڑے بت کو توڑنا، اس کے اندر سے سونا اور دولت کا نکالنا اور اس دولت کو لوٹ کر غزنی لے جانا، یہ ساری کہانی انگریز دور میں تراشی گئی۔ انگریز دور میں ہی محمود غزنوی کو بت شکن کا لقب دے کر مسلمانوں کے ہاں اس کے کردار کی عظمت اور ہندوؤں کے ہاں کردار کشی کی گئی۔اس تاریخی بددیانتی کا آغاز برطانوی پارلیمنٹ کی1843کی اس بحث سے ہوتا ہے جسے(The proclamation of gates) یعنی دروازوں کی برآمدگی کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔
یہ بحث گورنر جنرل لارڈ ایلن برو(Ellen brough) کے اس اعلان کے بعد شروع ہوئی،جس میں اس نے کہا تھا کہ محمود غزنوی کے سومنات کے عظیم مندر سے صندل کی لکڑی کے تاریخی دروازے اکھاڑ کر غزنی میں نصب کیئے گئے تھے، یہ دروازے ہندوستان کا اثاثہ ہیں اور انھیں واپس لایا جائے۔پارلیمنٹ کی بحث کے دوران یہ ثابت کیا گیا کہ سومنات کے مندر کی تباہی دراصل ہندو قوم کی بہت بڑی توہین ہے، اس لیے دروازوں کو واپس لاکر ان کی عزت بحال کی جائے۔
انگریز کا اس بحث سے ایک ہی مقصد تھا کہ ہندو قوم کو افغانستان میں ہونے والی جنگ میں ساتھ ملایا جائے اور پورے ہندوستان پر یہ ثابت کیا جائے کہ انگریز کا افغانستان پر کس قدر کنٹرول ہے۔ یوں ایک مقامی فوجی بھرتی کے ساتھ افغانستان پر حملہ کیا گیا۔غزنی میں موجود دروازوں کو اکھاڑا گیا ۔ جب انھیں ہندوستان لایا گیا تو ان پر کنندہ آیاتِ قرآنی نے بھانڈا پھوڑ دیا کہ ان کا سومنات تو دور کی بات ہندو مذہب سے بھی کوئی تعلق نہیں۔ یہ دروازے آج بھی آگرہ کے قلعے کے اسٹور روم میں پڑے ہوئے ہیں۔
برصغیر کی تقسیم کے بعد اسی انگریز کے جھوٹ کو متعصب ہندوؤں نے اپنے لیے مشعلِ راہ بنایا اور تقسیم کے فوراً بعد ہی سومنات کا مندر دوبارہ تعمیر کرنے کی تحریک شروع کردی۔ اس کا سرغنہ کے ایم منشی تھا، جس نے گجرات کی تاریخ لکھی جس میں اس نے سومنات کو پورے برصغیر کے ہندو مذہب کی عظیم علامت اور بیرونی حملہ آوروں کے مقابلے میں بھارت کی جدوجہد کا استھان قرار دیا۔
تمام ہندو قوم پرستوں کے نزدیک اس کا دوبارہ تعمیر کیا جانا، محمود غزنوی کے حملوں کا منہ توڑ تاریخی جواب ہوگا۔ انگریز کی تحریر کردہ اسی تاریخ کی بنیاد پر جذباتی مسلمانوں نے بھی محمود غزنوی کو بت شکن کا لقب دے کر ایک اس واقعے کے دفاع پر زمین و آسمان کے قلابے ملائے جس کی حیثیت بہت ہی معمولی تھی۔
رومیلا تھاپر کہتی ہے کہ جب میں نے اصل سنسکرت میں لکھے تاریخی مآخذ کا مطالعہ شروع کیا تو میں حیران رہ گئی کہ وہاں سومنات نام کا شہر تو ملتا ہے لیکن وہاں کسی بڑے مندر کا کوئی تذکرہ نہیں ملتا۔ جب کہ محمود غزنوی کے ہندوستان آنے سے بہت پہلے جین مت کے تاریخی مواد سے پتہ چلتا ہے کہ انھوں نے سومنات پر حملہ کیا اور ایک مندرکو تباہ کیا۔
اس مندر کی تباہی کو وہ مہاویرکی شیو کے اوپر فتح کی علامت کے طور پر بیان کرتے ہیں۔ رومیلا تھا پر حیرانی کے ساتھ تحریر کرتی ہے کہ میں نے جین تاریخ اور سنسکرت کے تاریخی مواد کو بہت تفصیل سے جانچا اور پرکھا اور ڈھونڈنے کی کوشش کی کہ کہیں محمود غزنوی کے مندر پر حملے اور اس کی لوٹ مار کا تذکرہ ملے، لیکن مجھے اس کا بالکل ذکر تک نہ ملا۔
جب کہ آج کے ہندو اس واقعہ کو اس قدر شدید درد اور کرب سے بیان کرتے ہیں جیسے یہ ان کی تاریخ کی بدترین کہانی ہو۔ محمود غزنوی کی آمد اور لڑائی کو جین اور سنسکرت کے تاریخی مآخذ ایک چھوٹے سے واقعہ کے طور پر لیتے ہیں جب کہ اس واقعہ کے سو سال بعد وہ بالکل خاموش ہو جاتے ہیں، جیسے یہ کوئی واقعہ ہی نہ تھا۔ جب کہ اس مندر کی آرائش اور اس کے ساتھ ساتھ ایک مسجد کی تعمیر کے بارے میں جین اور سنسکرت کے مورخین بہت کچھ تحریر کرتے ہیں۔
سومنات کا شہر ہندو آبادی اور مسلمان تاجروں کا شہر تھا، جہاں ہندو راجہ نے عرب کے تاجروں کو مسجد بنانے کے لیے زمین بھی دی تھی۔ رومیلا تھا پر کہتی ہے کہ سومنات کے ایک بوہرہ مسلمان تاجر کے بارے میں ایک کتبہ اسے ملا ،جو سومنات شہر کے دفاع میں مارا گیا۔
یہ تاریخی بددیانتی کب شرو ع ہوئی۔1872میں انگریز سرکار کی سرپرستی میں دو مورخیںH.M.Elliotاور Ed.John Dowsonنے ایک تاریخ مرتب کی جس کا نام تھا(History of India as told by its own historians)اِس کتاب کو تحریر کرنے کا بنیادی مقصد یہ ثابت کرنا تھا کہ ہندوستان ایک منقسم ملک ہے، یہ لوگ ہر وقت آپس میں دست و گریبان رہتے ہیں، اپنے خلاف ہونے والے حملوں کا دفاع نہیں کر سکتے۔
مسلمان حملہ آور خونخوار ہیں، مذہبی شدت پسند ہیں اور ہندوستان صرف انگریز ہی پر امن اور مستحکم رکھ سکتا ہے۔ برصغیر پاک وہند کے ہر نصاب تعلیم کی کتابوں میں، دانشوروں کی گفتگو میں اور عام لوگوں کی کہانیوں میں اسی کتاب کی جھوٹی داستانیں آج بھی گونجتی رہتی ہیں۔ محمود غزنوی لٹیرا تھا، اورنگ زیب ظالم تھا، مسلمانوں نے ہندوؤں پر ظلم کیا، ان کے مندر تباہ کیئے، انار کلی ایک جیتا جاگتا کردار تھی، اکبر بہت روادار تھا، ایسی کتنی کہانیاں ہیں جو اس برصغیر میں گردش کر رہی ہیں۔
لیکن برصغیر کی تاریخ میں کوئی یہ نہیں پڑھاتا کہ مندروں کو تباہ کرنا اور ان کو لوٹنا ہندوستان کے راجاؤں کا صدیوں سے دستور رہا ہے۔’’ چھولا ‘‘اور’’ چالوکا‘‘ کا خاندان جو برصغیر کے مختلف علاقوں پر حکمران تھے، ان کی تاریخی روایات(Epigraphic account) بتاتی ہیں کہ وہ حملہ کرتے اور مندروں کو لوٹتے اور تباہ کرتے تا کہ اپنی دھاک قائم کر سکیں۔642عیسوی میں نرسمہاومِن جو ’’پالوا‘‘ بادشاہ تھا اس نے ’’چالو کا‘‘ کے دارالحکومت واپتی کو فتح کیا تو گنیش کے مندر کو تباہ کر کے مورتی وہاں سے لے گیا۔
اس کے پچاس سال بعد’’ چالو کا‘‘ کا بادشاہ ونادتیا نے مختلف علاقوں کو فتح کیا، گنیش کی مورتی بھی واپس لے کر آیا اور دیگر مندروں کو تباہ کر کے گنگا اور جمنا کی بھی کئی مورتیاںدکن لے کر آیا۔ اسی طرح کی تباہی راشترا کوتا کے بادشاہ گوندا نے پھیلائی جس نے نویں صدی عیسوی میں کنچی پورم فتح کیا اور سری لنکا سے تمام مندروں کے بت اٹھا کر شیو کے مندر میں رکھ دیے۔ اجنتا اور الورا کی بدھ عبادت گاہوں کو ختم کیا گیا اور اس میں شیو اور گنگا کی مورتیاں رکھ کر انھیں مندر بنا دیا گیا۔ کوئی نہیں بتاتا کہ تاریخ میں دوسروں کی عبادت گاہ کو تباہ کرنے کا آغاز سکندر اعظم نے ایران میں پرسی پولس کی عبادت گاہ تباہ کر کے کیا تھا۔
سومنات کی تباہی کی کہانی بھی ویسی ہی ہے جیسے انگریز مورخین نے تاریخ میں یہ بددیانتی کی اور تحریر کیا کہ اسکندریہ میں دنیا کی سب سے قدیم لا ئبریری کو حضرت عمرؓ کے زمانے میں جلایا گیا۔ حالانکہ یہ لائبریری ان کی آمد سے چھ سو سال قبل مسیح میں جلا دی گئی تھی او ر اسے روم کے بادشاہ کے حکم پر جلایا گیا تھا۔
انگریز مورخین نے یہ جھوٹ تحریر کیا اور پھر جس کسی کو بھی حضرت عمر سے بغض تھا اس نے اس واقعہ کو تاریخ کا حصہ بنا لیا۔ اسی طرح جس کسی کو اسلام سے بغض تھا اس نے محمود غزنوی اور سومنات کے قصے کو ایسا لکھا کہ جھوٹ بھی سچ محسوس ہو۔

یہ جنگ تو برپا ہونا تھی
اوریا مقبول جان پير 6 اپريل 2015

کیا یہ سب خاندان جو جزیرہ نمائے عرب کے شمالی کونے میں واقع ایک بے آب و گیاہ علاقے میں آباد ہو گئے یا کر دیے گئے، ان کے پاس دولت، جائیداد، کاروبار یا عیش و عشرت کی کمی تھی۔ کیا ان کا بچپن یا ان کے باپ دادا کا بچپن اس سرزمین پر گزرا تھا کہ انھیں پل پل اس کے گلی کوچوں کی یاد ستاتی تھی اور وہ اپنے آبائی گھروں میں جا کر آباد ہونا چاہتے تھے، اپنے قدیمی گلی محلوں میں کھیلنا کودنا چاہتے تھے۔ ایسا تو ہرگز نہ تھا۔
یہ سب لوگ جو انگلینڈ، یورپ کے دیگر ممالک اور امریکا کی ترقی یافتہ آبادیاں چھوڑ کر یہاں آباد ہوئے، اپنے اپنے علاقوں کے متمول ترین لوگ تھے، خوبصورت گھروں میں رہتے شاندار گاڑیوں میں سفر کرتے اور وسیع کاروبار کے مالک ہوتے تھے۔ ان ملکوں میں امن، خوشحالی اور سلامتی بھی تھی۔ قانون کی حکمرانی اور انسانی حقوق کی پاسداری بھی لیکن جہاں وہ جا کر آباد ہو رہے تھے وہاں تو نہ پانی، نہ سبزہ، سڑکیں نہ عمارات، ایک بے آباد سرزمین اور وہاں پر آباد عرب ان کی جان کے دشمن۔ اس کے باوجود وہ اپنا سب کچھ بیچ کر فلسطین کے علاقے میں جا کر آباد ہو گئے۔ یہ آباد نہیں ہوئے بلکہ انھیں جنگ عظیم اول کے بعد اتحادی افواج کے سرکردہ ملک برطانیہ نے آباد کیا۔ یہ وہ قصہ ہے جو آج بحرین، شام، ایران، یمن، لبنان اور دیگر عرب ممالک میں جنگ و جدل کی بنیاد ہے۔
ایک شخص تھا سر مارک سائیکس (Sir Mark Sykes) اس کا والد انگلینڈ کا ایک مالدار شخص تھا۔ وہ اپنے باپ کے ساتھ سردیوں میں خلافت عثمانیہ کے تحت مشرق وسطیٰ کے علاقوں میں نکل جاتا۔ اپنے اس سفر سے جو اس نے معلومات اکٹھا کیں ان سے اس نے کتابیں لکھنا شروع کر دیں جو خلافت عثمانیہ، مشرق وسطیٰ اور اسلام کے متعلق تھیں جن میں Dar-ul-Islam اور The Caliph’s Heritage بہت مشہور ہوئیں۔ 1897ء میں وہ فوج میں بھرتی ہوگیا، لیکن اپنے مزاج کی وجہ سے وہاں زیادہ دیر نہ رک سکا۔ اسے آئرلینڈ کے چیف سیکریٹری کا پارلیمنٹری سیکریٹری مقرر کیا گیا۔ یہاں اس نے ترکی، مشرق وسطیٰ اور دیگر اسلامی ممالک پر نظر رکھنے والوں کا ایک گروہ ترتیب دیا۔
جنگ عظیم اول کا آغاز ہوا تو اسے لڑنے کے لیے محاذ پر نہیں بھیجا گیا، بلکہ اسے لارڈ کچنر (Kichner) کے دفتر میں خصوصی حیثیت سے تعینات کیا گیا۔ وہ جلد ہی مشرق وسطیٰ کے بارے میں اتھارٹی سمجھا جانے لگا۔ اس نے تاریخ میں پہلی دفعہ جنگ کے دوران قدیم یونانی نام، شام کے لیے Mesopomsa, Palutine, Syria وغیرہ استعمال کرنا شروع کیے۔ اسی نے ترکوں کے خلاف حجاز میں شریف مکہ کی قیادت میں ابھرنے والی خانہ جنگی کے لیے چار رنگوں (سبز، سرخ، سیاہ اور سفید) پر مشتمل ایک جھنڈا بنا کر دیا۔ یہ چاروں رنگ آج بھی اردن، عراق، شام اور مصر کے جھنڈوں میں شامل ہیں۔ مارک سائیک کے جنگ کے نوٹس پڑھنے والے ہیں۔ اس نے کہا تھاکہ ہمیں سب سے زیادہ خطرہ پین اسلام ازم سے ہے۔ پین اسلام ازم کے کینسر کو ختم کرنے کے لیے خلافت عثمانیہ کے ٹکڑے ٹکڑے کر کے چھوٹی چھوٹی ریاستوں میں تقسیم کرنا ضروری ہے۔
خلافت عثمانیہ کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے کے ساتھ ساتھ اس نے یورپ میں موجود صیہونی یہودیوں سے ملاقاتیں شروع کیں اور انھیں تاج برطانیہ کی مکمل حمایت کا یقین دلایا۔ اسی دوران نومبر 1914ء کو برطانیہ نے خلافت عثمانیہ کے خلاف جنگ کا اعلان کر دیا۔ اس کے چار دن بعد برطانوی کابینہ میں ڈیویڈ لائڈ جارج نے یہودیوں کی فلسطین میں آباد کاری کے منصوبہ کا خاکہ پیش کیا۔ مارک نے فرانس کے سفارت کار فرانکوئس پی کوٹ (Francois Picot) کے ساتھ مل کر برطانیہ کا فرانس کے درمیان ایک خفیہ معاہدہ کروایا جسے Asia Minor Agrement کہتے ہیں۔ اس کے تحت خلافت عثمانیہ کے حصے بخرے ہوں گے تو کون کونسا علاقہ کس ملک کے پاس جائے گا۔
برطانیہ کے پاس دریائے اردن اور سمندر کے درمیان کا علاقہ جس میں آج کل اسرائیل واقع ہے اور جنوبی عراق جب کہ فرانس کے پاس جنوب مشرقی ترکی، شمالی عراق، شام اور لبنان اور روس کے پاس استبنول وغیرہ آنے تھے۔ یوں حیفہ اور ہیبرون کا علاقہ برطانیہ کے ہاتھ آ گیا جہاں انھوں نے صیہونی یہودیوں کے ساتھ معاہدہ کر کے انھیں وہاں آباد کرنا تھا۔ سائیکس اور پائی کوٹ نے اپنی مرضی سے پورے مشرق وسطیٰ کے نقشے پر لکیریں کھینچی جنھیں آج اردن، لبنان، عراق، شام، یمن، سعودی عرب اور دیگر ریاستیں کہتے ہیں۔ آپ حیران ہوں گے کہ اس کے ساتھ ہی صیہونی میمورنڈم جنوری 1915ء میں برطانوی کابینہ میں پیش کیا گیا۔ یورپ کے یہودی استقدر بااثر تھے کہ کابینہ نے ان کے میمورنڈم پر غور کیا اور 1916ء میں بالفور ڈیکلریشن وجود میں آیا جس کے الفاظ تھے۔
”His Majesty’s Government View with favour the establihment of a national Home for Jewish people, and will use their best endeavours to facilitate the achievemt of their object”
(تاج برطانیہ اور اس کی حکومت یہودیوں کے ایک قومی گھر کے قیام کو اچھی نظر سے دیکھتی ہے اور وہ اس کے حصول کے لیے اپنی تمام کوششیں بروئے کار لائے گی۔‘‘)
پھر اس کے بعد دنیا بھر سے یہودی اپنی جائیداد فروخت کر کے اس دشت میں جا کر آباد ہونے لگے جہاں انھیں کوئی پہچانتا تک نہ تھا۔ جہاں چاروں جانب ان کے دشمن تھے۔ کیا یہ سب کسی نسل، رنگ، زبان اور علاقے کے جذبات تھے جو انھیں وہاں لے کر آئے۔ ہرگز نہیں۔ وہ اپنے مذہب کے مطابق انسانی تاریخ کی آخری اور سب سے بڑی جنگ لڑنے کے لیے وہاں جمع ہوئے ہیں جس کے بعد ان کا مسیحا آئے گا اور انھیں داؤد اور سلیمان جیسی عظیم عالمی حکومت قائم کر کے دے گا۔ یہ جنگ انھوں نے مسلمانوں سے لڑنا ہے۔ کیا ہم تیار ہیں۔ کیا ہم ویسے ہی گھر بار چھوڑ کر ایک جگہ اکٹھا ہونے کے قابل ہیں۔ ہمارے رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بھی تو فرمایا تھا ’’ایک زمانہ میں تم یہودیوں سے جنگ کرو گے اور تم یہودیوں پر غلبہ پاؤ گے۔ (متفق علیہ)
لیکن اس وقت سے پہلے کتنا کچھ ہے جو سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اور وہ وقوع پذیر ہو چکا۔ آپؐ نے فرمایا ’’اسلام کی کڑیاں ضرور ایک ایک کر کے ٹوٹیں گی۔ جب ایک کڑی ٹوٹے گی تو لوگ اس کے بعد والی کڑی کو پکڑ لیں گے۔ اس میں سب سے پہلے جو کڑی ٹوٹے گی وہ اسلامی نظام عدالت (خلافت) کی کڑی ہو گی اور سب سے آخری کڑی نماز ہو گی (شعب الایمان)۔ خلافت ٹوٹ گئی، اب قومی ریاستیں ہیں، لیکن میرے آقاؐ نے خبر دے دی تھی ’’جزیرۃ العرب اس وقت تک خراب نہ ہو گا جب تک مصر خراب نہ ہو جائے‘‘ (الفتن) فرمایا۔ ’’عنقریب تم افواج کو پاؤ گے شام، عراق اور یمن میں‘‘ (للبیہقی) پھر فرمایا ’’جب شام میں فساد ہو تو تمہاری خیر نہیں (مسند احمد بن حنبل) اس حدیث پر غور کریں ’’قیامت قائم نہ ہو گی جب تک کہ اہل عراق کے اچھے لوگ شام کی طرف منتقل نہ ہو جائیں اور اہل شام کے شریر لوگ عراق کی طرف منتقل نہ ہو جائیں، تم شام کو لازم پکڑے رہنا (مسند احمد بن حنبل)۔
احادیث کی ایک طویل فہرست ہے جس میں اس امت کو خبردار کیا گیا۔ اس دور فتن کے بارے میں کہ جب یہ امت ایسے عذابوں کا شکار ہو گی جیسے تسبیح کا دوڑا ٹوٹ جائے اور دانے اوپر نیچے گرنے لگتے ہیں۔ ہم حالت جنگ نہیں حالت عذاب میں ہیں۔ یہ حالت عذاب ہماری تطہیر کرے گی۔ اس لیے کہ آخری بڑی جنگ سے پہلے دنیا نے دو خیموں میں تقسیم ہونا ہے۔ ایک جانب مکمل ایمان اور دوسری جانب مکمل کفر۔ نفاق کا خاتمہ ہو گا۔ نفاق حکومتوں میں ہو یا افراد میں سب ختم ہو جائے گا۔ تقسیم واضح ہوتی جائے گی۔ اس لیے کہ حالت جنگ میں کسی ایک جانب ہونا پڑتا ہے۔ منافق دونوں اطراف کی تلواروں کی زد پر ہوتے ہیں۔

ادہ پرستی اور ٹیکنالوجی کی پوجا
اوریا مقبول جان جمعـء 8 مئ 2015

ٹیکنالوجی اور مادہ پرستی کے مقابلے میں آپ اللہ کی نصرت اور تائید کی گفتگو کر کے دیکھیں، ٹیکنالوجی اور مادہ پرستی کے بت کے پجاری یوں پنجے جھاڑ کر آپ کے پیچھے پڑ جائیں گے جیسے آپ نے ان کے خدا کو برا بھلا کہہ دیا ہو۔ گزشتہ دنوں توکّل علی اللہ اور جذبۂ ایمانی پر گفتگو شروع ہوئی تو مخالفت میں کتنے لکھاری میدان میں کود پڑے۔ یہ وہ لوگ ہیں کہ جو کبھی بھی اپنے اس ٹیکنالوجی کے بت کی شکست برداشت ہی نہیں کر سکتے۔
اگر کوئی عالمی طاقت کسی نہتی قوم سے شکست کھا جائے تو پہلے تو اس شکست کو شکست ہی تسلیم نہیں کریں گے۔ ڈھیلا سا منہ بنا کر کہیں گے وہ عالمی طاقت خود وہاں سے جانا چاہتی تھی، اس بے آب و گیاہ علاقے میں انھوں نے کیا لینا۔ اگر کوئی پوچھ بیٹھے کہ پھر وہاں لینے کیا آئے تھے، اپنے فوجی مروانے؟ اپنی شاندار ٹیکنالوجی کا مذاق اڑوانے؟ ایسے میں جواب دیں گے، کیا حاصل کر لیا اس قوم نے بڑی طاقت سے لڑ کے، خود کو ہی تباہ کروا لیا۔ ایسی جیت کا کیا فائدہ۔ چرچل کا برطانیہ تباہ ہو جائے لیکن وہ جنگ جیت جائے تو چرچل ہیرو۔ وہاں کوئی یہ گفتگو نہیں کرتا کہ ایسی لڑائی اور جیت کا فائدہ جس میں ملک ہی تباہ ہو جائے۔ آخر ’’حکمت عملی‘‘ بھی کوئی چیز ہوتی ہے۔
ان کے نزدیک کسی ایسی طاقت کی فتح نا مکمن ہے، جس کی قوت انسانی ذہن کے ادراک میں نہ آ سکے۔ جہاں کوئی کمزور فتح یاب ہونے لگتا ہے تو اسے اللہ کی نصرت سے تعبیر نہیں کرتے بلکہ ’’شاندار حکمتِ عملی‘‘ کا نتیجہ قرار دیتے ہیں۔ کس قدر حیرت کا مقام ہے کہ غزوہ احد میں وہ شکست کو اللہ کی طرف سے مسلمانوں کا امتحان تصور نہیں کرتے بلکہ کہتے ہیں کہ اس کی وجہ صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی جنگی حکمت عملی پر صحابہ کا عمل نہ کرنا ہے۔ لیکن میرا اللہ جو دلوں کے بھید جانتا ہے اور جسے علم ہے کہ دلوں میں کونسا کوڑھ چھپا ہوا ہے اس نے ٹیکنالوجی اور مادہ پرست لوگوں کا قرآنِ پاک میں کیسا منہ توڑ جواب دیا ہے۔
اُحد کی شکست کے بعد چند مسلمان جو نئے نئے داخلِ اسلام ہوئے تھے یہ سوچنے لگے تھے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و سلم ہمارے درمیان موجود ہیں اور پھر بھی ہمیں شکست ہو گئی۔ ایسے میں اللہ تبارک و تعالی نے سورۃ آل ِعمران میں اس شکست کی وجوہات پر کئی آیات نازل کیں۔ اللہ فرماتا ہے‘‘ اس لیے کہ تم میں سے کچھ لوگ دنیا کے طالب تھے اور کچھ آخرت کی خواہش رکھتے تھے، تب اللہ نے تمہیں کافروں کے مقابلے میں پسپا کر دیا تا کہ تمہاری آزمائش کرے، اور حق یہ کہ اللہ نے پھر بھی تمہیں معاف کر دیا کیونکہ مومنوں پر اللہ بڑی نظر عنایت رکھتا ہے (آل عمران 152)اللہ نے اُحد کی شکست کی ایک ہی وجہ بتائی اور وہ تھی چند مسلمانوں کی طلبِ دنیا کی خواہش کی لغزش تھی۔ ایک اور جگہ کسقدر واضح طور پر اللہ نے اُحد کی لڑائی کے بارے میں بتایا کہ مسلمانوں پر یہ مصیبت اللہ کی اجازت سے نازل ہوئی۔
اللہ فرماتا ہے ’’جو نقصان لڑائی کے دن تمہیں پہنچا وہ اللہ کے اذن سے تھا اور اس لیے تھا کہ اللہ دیکھ رہا ہے کہ تم میں سے مومن کون ہیں اور منافق کون (آل عمران166) اُحد کے اس معرکے کے بعد مسلمانوں کا ایمان اللہ کی ذات پر اور مستحکم ہوگیا تھا اور اسی پختہ ایمان کے ساتھ ہی وہ اگلے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی سربراہی میں کفار مکہ کا پیچھا کرنے کے لیے جمرا الاسد تک گئے تھے۔
اُحد کی شکست کے بعد نازل ہونے والی تمام آیات اللہ کا یہ اصول بتاتی ہیں کہ فتح و نصرت نہ افرادی قوت سے ہے اور نہ ہی ٹیکنالوجی سے بلکہ صرف اور صرف اللہ کی مہربانی ہے۔ اسی شکست کے بارے اللہ فرماتا ہے کہ انسان کی موت سے حفاظت بھی اللہ کی مرضی و منشاء پر ہی منحصر ہے۔ اُحد کے بعد منافقین یہ طعنہ دیتے تھے کہ اگر یہ شہید ہونے والے لوگ جنگ کے لیے نہ نکلتے تو آج زندہ ہوتے۔ اللہ نے انھیں اسی سورۃ آل عمران میں جواب دیا ہے۔ ’’کہہ دو کہ، اگر تم گھروں میں ہوتے تب بھی جن کا قتل ہوتا مقدر میں لکھا جا چکا تھا وہ خود باہر نکل کر اپنی اپنی قتل گاہوں تک پہنچ جاتے (آل عمران 155)‘‘
ٹیکنالوجی اور مادہ پرستی کے پجاریوں کو اگر آپ قادسیہ میں دنیا کی سپر پاور ایران کی چند فاقہ کش مگر اللہ پر توکل رکھنے والوں کے ہاتھوں شکست کی داستان سنائیں، مصر، شام اور اسپین کی فتح کے قصے بتائیں تو کہیں گے کہ یہ سب پرانے زمانے کی باتیں ہیں۔ ہوتے ہوں گے معجزے، کون سا ہم نے دیکھے ہیں۔ تم آج کے دور کی بات کرو۔ لیکن آج کے دور میں افغانستان ان کے گلے کی ایسی ہڈی ہے کہ انھیں اپنے آپ کو تسلی دینے کے لیے سو سو وضاحتیں کرنا پڑتی ہیں۔ کیسے مان لیں یہ طاقت کے پجاری کہ صرف سو سال کے اندر تین عالمی طاقتوں نے یہاں شکست کھائی ہے۔
انگریز جس نے شکست کھائی اس کے مؤرخین اور جرنیل تک تسلیم کرتے ہیں، لیکن یہ ٹیکنالوجی کے پجاری وضاحتیں دیتے پھرتے ہیں۔ انگریز تو وہاں چلا گیا تھا، فتح بھی حاصل کر لی تھی۔ لیکن پھر حکمتِ عملی کے طور پر افغانستان کو بفرزون بنا کر وہاں سے نکل آیا۔ انگریز تو وہاں رہنا ہی نہیں چاہتا تھا۔ روس اور افغانستان کی جنگ میں ان لکھاریوں کو سجدہ کرنے کے لیے امریکا کا بہت بڑا بت مل گیا تھا اور وہ آج بھی کہتے پھرتے ہیں کہ اگرا سٹنگر میزائل نہ ہوتے اور امریکی امداد نہ ہوتی تو روس کو یہ نہتے افغان شکست نہ دے سکتے تھے۔
ان کے اس امریکا بہادر کی یہ ٹیکنالوجی اس وقت فتح کیوں نہ حاصل کر سکی جب وہ ماوزئے تنگ کے مقابلے میں چیانک کائی شیک کی مدد کو آئی تھی اور ذلیل ہو کر نکلی تھی۔ ویت نام میں اس ٹیکنالوجی کو کیا زنگ لگ گیا تھا؟ساٹھ ہزار لاشیں اٹھا کر چوہے کی طرح بھاگے۔ نیپام بموں سے لے کر ڈیزی کٹر تک سب کچھ تو تھا۔ ایک ایسا ہی طاقت کا پجاری لکھاری اکثر طعنے دیتا رہتا ہے کہ تم لوگ اسپرو کی گولی تک ایجاد نہیں کر سکتے اور امریکا سے لڑنے چل پڑتے ہو۔ کوئی پوچھے ذرا وہ تاریخ ہی بتا دیں جب ویتنام نے اسپرو کی گولی ایجاد کی تھی اور پھر اس کے نتیجے میں امریکا کو شکست دی تھی۔ افغانستان میں فتح ان فرزانوں کی تھی جن کا توکل صرف اللہ پر تھا۔ ایسی فتح کہ جس کے نتیجے میں ایک عالمی طاقت ریزہ ریزہ ہو گئی۔
اگر امریکا کی مدد یا ٹیکنالوجی نے ہی جیتنا ہوتا تو آج سارا لاطینی امریکا، امریکا کا غلام ہوتا۔ وہاں بدترین شکست اس کا مقدر ہوئی۔ افغانستان میں تیسری شکست کھانے والی طاقت خود امریکا ہے۔ جو اپنے 48 حواریوں کے ساتھ افغانستان میں داخل ہوا۔ کوئی پڑوسی ساتھ نہیں۔ دوست ملک پاکستان سے57 ہزار امریکی جہاز اڑے اور افغان سرزمین پر انھوں نے بم برسائے۔
لیکن جیت کس کا مقدر ہوئی۔ یہ آج کا سب سے کڑوا سچ ہے۔ برابری کی سطح پر قطر میں آج مذاکرات کون کر رہا ہے اور ہر روز بھیک کون مانگ کر رہا ہے، روز امریکا کی جھڑکیاں، طعنے اور کبھی کبھی گالیاں کون سن رہا ہے۔ صرف گریبان میں جھانکنے کی ضرورت ہے۔ ملا محمد عمر نے کہا تھا ’’افغانستان گوند کا تالاب ہے‘‘ آپ طاقت کے بل بوتے پر اس میں چھلانگ تو لگا دیتے ہو لیکن موت تمہارا مقدر ہوتی ہے۔
شاید کوئی نئی تحقیق کرنے والا برآمد ہو جائے جو ثابت کرنے پر تل جائے کہ افغانستان کو ہمیشہ شکست ہی ہوئی ہے۔ طاقت اور ٹیکنالوجی کے پجاریوں کا بس نہیں چلتا کہ تاریخ کو ایک نئے انداز سے تحریر کریں، اور بتائیں کہ محمود غزنوی اور شہاب الدین غوری نے ہندوستان میں ذلت آمیز شکست کھائی تھی۔
یزدگرد نے خود اپنا علاقہ حضرت عمرؓ کے زمانے میں مسلمانوں کو دے دیا تھا، کیونکہ وہ اپنی قوم سے ناراض، تھا جنہوں نے اس کے باپ کو قتل کر دیا تھا۔ شیوا جی کے پاس چار لاکھ کی عظیم فوج تھی، دیکھو تاریخ نے کس قدر جھوٹ لکھا ہے کہ صرف 35 ہزار سپاہیوں کے ساتھ احمد شاہ ابدالی نے اسے شکست دے دی تھی اور مرہٹوں کا غرور خاک میں ملایا تھا۔ کیا ایسا ممکن ہے، انسانی عقل اس کو مان سکتی ہے۔ ہو سکتا ایسی تاریخ کل لکھی جائے تا کہ ان ٹیکنالوجی اور مادہ پرستی کے پجاریوں کو چین کی نیند نصیب ہو سکے۔ اس لیے کہ انھیں چین اسی وقت نصیب ہوتا ہے جب کوئی مسلمانوں کی ذلت و رسوائی کی داستان بیان کرے اور ان کی ناکامی کی کہانی انھیں سنائے۔
یہی لکھاری ہی تو ہیں جو طویل بحثیں کرتے ہیں۔ کالم لکھتے ہیں کہ نصاب سے جہاد کی آیات خارج کرو۔ ظاہر بات ہے اگر بچپن سے جہاد سے محبت کا درس نہ ہو گا تو کس کو حیدر کِرارؓ کی شجاعت یاد ہو گی اور کون نشان حیدر سے محبت کرے گا، اور کس کا خون یہ ترانہ سن کر جوش مارے گا ’’اے راہ حقِ کے شہیدو وفا کی تصویرو‘‘ اور کسی کو علم تک نہ ہو گا کہ ’’علی تمہاری شجاعت پہ جھومتے ہوں گے‘‘ کا اشارہ کس جانب ہے۔
جب قوم کے بچے بوڑھے، جوان جہاد کے درس سے نا آشنا ہوں گے تو کس قدر آسان ہو گا پوری قوم کو یہ قائل کرنا کہ بھارت پانچ گنا بڑی طاقت ہے اور ہم کس قدر بے وقوف ہیں کہ وسائل کی اس دنیا میں بے سر و سامانی کے عالم میں بھارت کے مقابل میں کھڑے ہیں۔ جذبہ ایمانی اور توکل علی اللہ جیسی باتیں لوگوں کے دماغ سے نکل جائیں گی اور ٹیکنالوجی کے یہ پجاری کس قدر مسرت سے ناچیں گے۔ لیکن میرا اللہ یہ نہیں چاہتا: اس لیے کہ اسے شرک سخت ناپسند ہے خواہ وہ اس کے ساتھ ٹیکنالوجی کو شریک کر کے ہی کیا جائے۔

شیطان بزرگ سے دوستی، مرگ بر امریکا کی رخصتی (1)
اوریا مقبول جان جمعـء 10 اپريل 2015

ایران کے شہر طوس میں سنگلاخ پتھروں سے بنی دیواروں پر شاہنامہ فردوسی کے کردار رستم و سہراب مجسموں کی صورت تراشے گئے ہیں۔ یہ فردوسی کے مقبرے کی دیواریں ہیں۔ یوں تو اس شہر میں اسلامی تاریخ کے کتنے عظیم لوگوں کے مزار ہیں، لیکن فردوسی سے ایرانیوں کی خصوصی محبت نے باقی مزاروں کے نام ونشان تک باقی نہیں رہنے دیے۔
ان کی حالتِ زار دیکھ کر رونا آتا ہے، جیسے امام غزالی کا مزار۔ وہ امام غزالی کہ جن کا اس امت پر ایک احسان اتنا بڑا ہے کہ اگلی کئی صدیاں اس کی زیرِ بار رہیں گئیں۔ ان کا زمانہ وہ تھا جب تراجم کی وجہ سے مسلمانوں میں یونانی فلسفہ اور اس سے پیدا ہونے والی تشکیک نے راستے بنالیئے تھے۔ ہر حکم، آیت، یاحدیث کو عقل، دلیل اور منطق کی کسوٹی پر رکھ پرکھا جانے لگا تھا۔ ایسے میں انھوں نے تہافتہ الفلاسفہ لکھی اور اسلامی فلسفہ میں الہیات کے باب کا اضافہ کیا۔
ایسا نہ ہوتا تو اس امت کے علماء اور دانشور بھی مغرب کے فلسفیوں کی طرح صدیوں منطق کی گتھیوں میں الجھے رہتے۔لیکن ایرانیوں کے نزدیک فردوسی محترم ہے کیونکہ اس کا احسان فارسی تہذیب و ثقافت، ادب وزبان پر بہت گہرا ہے۔ تمام مورٔخ مانتے ہیں کہ اگر فردوسی نہ ہوتا تو اِیران میں فارسی زبان کا فروغ آہستہ آہستہ ختم ہو جاتا۔ جس طرح قدیم ایرانی سلطنت پر عربی معاشرت و تہذیب اثر انداز ہو رہی تھی، یہاں تک دجلہ و فرات کی سرزمین جہاں کبھی ایرانی بادشاہوں کا ہیڈ کوارٹر قادسیہ واقع تھا۔
اب وہاں کے لوگوں کی مادری زبان تک عربی ہو چکی تھی، ایسے میں بچے کچھے ایران میں فارسی زبان کو سنبھالے اور بچائے رکھنا، یہاں کے ادیبوں اور شاعروں کا کمال ہے، جن میں فردوسی سرفہرست ہے۔ پورے کا پورا شاہنامہ ایرانی تاریخ، تہذیب و ثقافت اور زبان وادب کی قصیدہ گوئی ہے۔ اس کا یہ مصرعہ ایرانی معاشرے کے ضرب المثل ہے’’ گرایراں نہ مانندتنِ من مابعد‘‘(اگر ایران نہیں رہتا تو میرا وجود بھی باقی نہ رہے)
فارسی تہذیب وثقافت سے محبت اور اس پر فخر کی جڑیں اسقدر مضبوط ہیں کہ جب1979میں ایران میں انقلاب آیا تو جہاں عورتوں کو حجاب پہننے کا حکم دیا گیا، وہیں ایران کے ہر چورا ہے پر لگے مختلف مجسموں کو بھی گرانے کے احکامات جاری کردیے گئے۔لیکن ایرانی قوم نے حجاب تو پہن لیئے، داڑھیاں بھی رکھ لیں، لیکن مجسمے نہیں گرنے دیے۔
اسی لیئے آپ کو ایران کے ہر شہر میں حافظ، سعدی، رومی، فردوسی، اقبال اور دیگرمشاہیر کے مجسمے چوراہوں میں نصب نظر آئیں گے۔ دنیا میں چند سفارت خانے ایسے ہیں کہ جو دوسرے ملکوں میں اپنی زبان سکھانے کا خصوصی اہتمام کرتے ہیں۔ ان میں برطانیہ، فرانس، جرمنی اور ایران سرفہرست ہیں۔ فارسی شناسی ایرانی سفارت خانوں کا اہم ترین کام ہے جسے یہ سفارت خانے انقلابِ اسلامی سے پہلے بھی اورآج بھی انتہائی ذمے داری سے ادا کرتے چلے آرہے ہیں۔
فارسی زبان و ادب اور تہذیب و ثقافت سے ایرانیوں کا یہ والہانہ عشق ہی تھا کہ یہ زبان اپنے اردگرد کے ممالک پر بھی چھائی رہی۔ مغل نسلاً ترک تھے، لیکن ان کے گھر بار اور سرکار کی زبان فارسی رہی یہاں تک کہ رنجیت سنگھ کے دربار کی زبان بھی فارسی تھی۔ برصغیر پاک وہند میں تمام مدارس میں دینی، سیاسی اور دیگر علوم کی کتابیں بھی فارسی میں لکھی جاتی رہیں۔
ایرانیوں نے بحیثیت قوم جس طرح خود کو عربی ثقافت اور تہذیب کے مقابلے میں اپنی علیحدہ شناخت قائم رکھی،یہ انھی کا کمال ہے۔ ورنہ شام، مصر، اردن، عراق، لبنان، تیونس، مراکش، سوڈان اور لیبیا جیسے ممالک میں کبھی عربی نہیں بولی جاتی تھی، لیکن آج یہ سب کے سب عرب دنیا کا حصہ ہیں۔ وہاں کے باسی بھول بھی گئے کہ صدیوں پہلے ان کی مادری زبان کیا ہوتی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ ایک عام ایرانی بھی اپنی تہذیب و ثقافت پر اس قدر فخر کرتا ہے کہ اسے دنیا کی تمام تہذبیں ہیچ لگتی ہیں۔
یہاں تک کہ اگر کسی دوسرے ملک میں کوئی اچھا فارسی شاعر پیدا ہو جائے تو وہ اسے کھینچ تان کر ایران میں لے آتے ہیں۔ ہمدان کے شہر میں آپ چلے جائیں تو لوگ آپ کو ایک قصہ ضرور سنائیں گے کہ علامہ اقبال کے والد یہاں زرد چوبہ یعنی ہلدی کا کاروبار کرتے تھے اور اقبال یہیں پیدا ہوئے اور جوان ہونے کے بعد یہاں سے ہندوستان گئے۔
آپ ان سے بحث کریں کہ ایسا نہیں ہے، وہ تو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے تو وہ کہیں گے کہ میں مان ہی نہیں سکتا کہ جس شخص نے اپنا بچپن ایران میں نہ گذارا ہو وہ اتنی اچھی فارسی شاعری کر سکے۔ایران کے مفاد کو مقدم رکھنا، ایران تہذیب کی بالادستی اور قدیم ایرانی بادشاہت کے اثر روسوخ کو قائم رکھنا، ہر ایرانی کا خواب ہے۔ انقلابِ ایران کے بعد اسے مذہب اور مسلک کا تڑکا ضرور لگا، لیکن معاشرت سے ایرانی تفاخررخصت نہ ہو سکا۔
انقلاب اِیران ایک ایسا بڑا واقعہ ہے جس کی تاریخ میں بہت کم نظیر ملتی ہے۔ انقلاب ایران، فرانس، روس اور چین یہی چند انقلاب ہی تو ہیں۔ایران پورے خطے میں امریکا کا چوکیدار اور پولیس مین تھا اور کئی دہائیوں تک رہا۔
سرد جنگ کے زمانے میں کچھ دیر کے لیے کیمونسٹ انقلابیوں نے مصدق کی حکومت کو قائم توکر لیا تھا، لیکن تھوڑے ہی عرصے بعد امریکا نے شاہ رضا پہلوی کو پوری طاقت اور قوت کے ساتھ واپس تخت پر بٹھادیا۔ اپنا سب سے بڑا سفارت خانہ وہاں قائم کیا۔سی آئی اے کی سب سے بڑی قوت یہاں پر بٹھائی گئی۔
شاہ کے اقتدارکو مستحکم کرنے کے لیے اس کی فوج کو بہترین جنگی ساز و سامان سے لیس کیا گیا۔ تو انائی پیدا کرنے کے لیے ایٹمی ری ایکٹر قائم کیے گئے، اور عوام کو دبانے کے لیے سی آئی اے نے ساواک جیسی ظالم خفیہ ایجنسی قائم کی۔ شاہ کے اقتدار میں آنے کے بعد دوقوتیں اس کے خلاف آواز بلند کرتی رہیں۔ ایک کیمونسٹ انقلابی اور دوسرے چند علمائے کرام، علماء میں ڈاکٹر شریعتی کے لٹریچر نے ایرانی نوجوانوں کو آتش فشاں بنا کر رکھ دیا تھا۔
کیمونسٹ انقلابی’’ تودہ ‘‘پارٹی جیسی خفیہ تنظیم کے تحت منظم تھے اور ظاہری طور پر مجاہدین خلق کے پرچم تلے نظر آتے تھے۔ علامہ اقبال کی انقلابی شاعری ایرانی نوجوانوں میں جوش وجذبہ بھردیا تھا۔ ایرانی انقلاب کا سب سے مقبول نعرہ ’’مرگ برامریکا‘‘ تھا جسے’’ مرگ برشاہ‘‘ کے ساتھ ملا کر لگایا جاتا تھا۔ مدتوں ساواک کے نشانے پر دوطرح کے لوگ آتے رہے، ایک وہ جو بال بڑھائے، جینز جاگر پہنے کا رل مارکس کی گفتگو کرتے تھے یا پھر وہ جو مدرسوں اور اما م بارگاہوں جنھیں ایرانی حسینیان کہتے ہیں وہاں جانا شروع ہوگئے تھے۔
ان دونوں قوتوں کا نعرہ مشترک تھا ’’مرگ برامریکا‘‘۔ مذہبی قیادت شروع میں بٹی رہی۔ بہت سے علماء ایسے تھے جو اس بات پر ہی خوش ہو جاتے تھے کہ شاہ ایران نے خصوصی اہتمام کے ساتھ انتہائی قیمتی قالین مشہد میں امام رضاکی مسجد میں ڈلوائے ہیں۔ لیکن وہ جو انقلاب کی سوچ رکھتے تھے، وہ جلا وطن آیت اللہ خمینی کی قیادت میں جمع ہو چکے تھے۔ آیت اللہ خمینی اس وقت عراق میں تھے اور صدام حسین نے انھیں شاہ اِیران کے مقابلے میں خصوصی پناہ دے رکھی تھی۔
ایرانی مذہبی قیادت اپنے اندر ایک شاندار تنظیم رکھتی ہے۔ دنیا میں شاید ہی کوئی سیاسی پارٹی بلکہ حکومت بھی اتنی منظم ہو جتنی ایران کی مذہبی قیادت منظم ہے۔ ہر کوئی اپنے علم، صلاحیت اور کردار سے منزلیں طے کرتا مرجع کے مقام تک پہنچتا ہے۔ کتنے مرتبے ہیں جن پر لوگ راستے میں فائز ہوتے ہیں۔ لیکن سب کے سب مرجع کے حکم کے سامنے سرتسلیم خم کرتے ہیں۔ دنیا کی تاریخ اس بات پر شاہد ہے کہ جب بھی کسی ملک میں انار کی پھیلتی ہے، حکومت کے خلاف لوگ اٹھ کھڑے ہوتے ہیں، ہنگامے زور پکڑتے ہیں۔
شہر تشدد کی لپیٹ میں آجاتے ہیں، حکومتی اقتدار ڈولنے لگتا ہے، انتظامیہ کی گرفت ختم ہو جاتی ہے تو ایسے میں اقتدار پر صرف وہ گروہ قبضہ کر سکتا ہے جو منظم ہو۔غیر منظم بکھرے ہوئے ہجوم کی طرح سرتسلیم خم کر لیتے ہیں۔شاہ ایران کا زوال قریب ہوا تو ایران کی مذہبی قیادت نے منظم ہونے کی وجہ سے اس سارے انقلاب کی باگ دوڑ اپنے ہاتھ میں لے لی۔ آیت اللہ خمینی فرانس منتقل ہوگئے اور پھر جب ایک دن واپس ایران لوٹے تو لاکھوں کا جم غفیر تہران شہر میں’’مرگ بر امریکا‘‘ اور ’’مرگ برشاہ‘‘ کا نعرہ لگاتا ہوا باہر نکل آیا۔ شاہ رخصت ہوگیا۔
اقتدار مذہبی قیادت کے ہاتھ میں آیا اور مجاہدین خلق اس میں برابر کی شریک ہوئی۔آیت اللہ خیمنی نے مذہبی قائد اور سربراہ ہونے کی حیثیت سے اقتدارحاصل کرنے کے بعد پوری قوم کو ایک نعرہ دیا کہ امریکا’’ شیطانِ بزرگ‘‘ ہے یعنی سب سے بڑا شیطان ہے۔ اِدھر یہ نعرہ گونجا اور اُدھر انقلابی دستوں نے تہران کے امریکی سفارت خانے پر قبضہ کر کے عملے کو یرغمال بنا لیا۔
(باقی آیندہ۔۔۔)

اسلام ترا دیس ہے تو مصطفوی ہے
اوریا مقبول جان پير 16 فروری 2015

اسلام کا المیہ یہ ہے کہ جس کسی نے اس پر انگلی اٹھائی،اس میں اختلاف پیدا کرنے کی کوشش کی،فرقہ بندی اور گروہی اختلافات کا آغاز کیا،اس نے کبھی اسلام کے عقائد پر طعن زنی نہیں کی،کبھی قرآن و سنت کے اصولوں پر بحث کو نہیں چھیڑا بلکہ اسلام کو رسوا کرنے کے لیے ہمیشہ تاریخ کا سہارا لیا۔ اس امت کے سب سے بڑے اختلاف شیعہ سنی مسالک کو لے لیجیے،اس کی بنیاد عقائد نہیں،تاریخ ہے۔ آج بھی اسلام کو بدنام کرنا ہو تو مسلمانوں کی تاریخ اور کردار پر انگلی اٹھائی جاتی ہے۔
ڈاکٹروں کی اکثریت اگر ناکام اور بددیانت ہو تو کوئی میڈیسن کے علم کو بے کار نہیں کہتا،یہاں تک کہ جمہوریت کی کوکھ سے بدترین آمر اور بددیانت وزراء بھی جنم لے لیں پھر بھی کوئی جمہوری نظام کو برا نہیں کہتا بلکہ افراد پر الزام رکھتا ہے۔ لیکن یہ سلوک صرف اسلام کے ساتھ ہے کہ کوئی مسلمان اگر ناپسندیدہ عمل کر دے تو بڑے سے بڑا دانشور بھی پکار اٹھتا ہے، ’’یہ ہے ان کا اسلام‘‘۔
مغرب نے جہاں دین کو پرکھنے کے لیے ہمیں بددیانت اور متعصب تاریخ دانوں کی تاریخ پر بھروسہ کرنے کی عادت ڈالی ہے،وہیں انھوں نے ہمیں اپنی اصطلاحات سے دور کر کے اپنے جدید مغربی سیکولر تہذیب کے اداروں،قومی ریاست،سیکولر جمہوریت اور عالمی اداروں یعنی اقوام متحدہ جیسے تصورات کو اسلام کے ماضی سے ثابت کرنے کی کوشش بھی کی ہے اور اس کے لیے صرف اور صرف تاریخ کا سہارا لیا ہے۔
ایسی ہی ایک تازہ ترین کوشش ایک ایسے صاحب علم کی جانب سے کی گئی جن کا مجھے ایک سال کے لیے جبراً شاگرد ہونا پڑا۔ میں نے ’’جبراً‘،کا لفظ اس لیے استعمال کیا ہے کہ جب اکتوبر 1984ء میں سول سروس کا امتحان پاس کرنے کے بعد میں ٹریننگ کے لیے سول سروس اکیڈمی میں آیا تویہ صاحب ہمیں اسلامیات، جسے انگریزی میں اسلامک اسٹڈیز کہتے ہیں، پڑھاتے تھے۔ ان کی جوانی ادھیڑ عمر میں داخل ہو رہی تھی اور میں عنفوان شباب میں تھا۔ ان صاحب نے اپنے تازہ مضمون ’’اسلام اور ریاست ایک جوابی بیانیہ‘،میں قرآن و سنت سے نہیں بلکہ مسلمانوں کی تاریخ سے قومی ریاست کے موجودہ تصور کو اسلامی ثابت کرنے کی کوشش کی ہے اور مغربی جمہوریت کی اساس،عالمی اقوام متحدہ جیسی اسلامی اقوام متحدہ کا تصور پیش کیا ہے۔
موصوف لکھتے ہیں ’’جن ملکوں میں مسلمانوں کی اکثریت ہے،وہ اپنی ایک ریاست ہائے متحدہ قائم کرلیں‘‘، پھر کہتے ہیں ’’نہ خلافت کوئی دینی اصطلاح ہے اور نہ عالمی سطح پر اس کا قیام اسلام کا حکم ہے‘،اور آخر میں تاریخ کا سہارا لیتے ہوئے دین کی تشریح یوں پیش کی ہے،’’پہلی صدی ہجری کے بعد ہی جب مسلمانوں کے جلیل القدر فقہا ان کے درمیان موجود تھے،ان کی دو سلطنتیں،دولت عباسیہ اور دولت امویہ اندلس کے نام پر قائم ہو چکی تھیں،اور کئی صدیاں قائم رہیں،مگر ان میں سے کسی نے اسے اسلامی شریعت کے کسی حکم کی خلاف ورزی قرار نہیں دیا‘‘۔
ان صاحب نے جس طرح پوری امت مسلمہ کی تاریخ کو اپنے اس فقرے میں سمو کر ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ نسلی جانشینی کے ساتھ قائم ہونے والی ملوکیت جو بعد میں عباسی اور اموی،ان کے علم کے مصداق،’’قومی ریاستوں‘‘کی صورت وجود میں آ گئی تھیں وہ شرعی تھیں۔ لیکن اپنے اس تصور کے ساتھ ہی انھوں نے چودہ سو سال کے مسلم فقہا کو بھی شریک کر لیا ہے۔ انھیں تاریخ کی کتابوں سے سیدنا امام حسینؓ کی کربلا سے لے کر امام احمد بن حنبل تک کی قربانیوں،زید بن علی، امام نفس ذکیہ کی شہادتوں کو اپنے اس فقرے سے رد کرنے کا کوئی حق نہیں۔
کاش وہ فقہہ کی وہ کتابیں اٹھا کر دیکھ لیتے تو انھیں سنیوں میں خلافت اور شیعوں کی امامت کی مرکزیت ضرور نظر آتی۔ ان تمام فقہی کتابوں کا ماخذ دونوں مسالک نے قرآن و سنت سے لیا ہے۔ مسلمانوں نے چودہ سو سال میں ایک دن کے لیے بھی ’’سلطان متغلب‘،یعنی جو طاقت کے زور سے حکمران بن جائے،اس کو جائز قرار نہیں دیا۔ اس کے خلاف اٹھتے رہے،آواز بلند کرتے رہے۔ پوری مسلم تاریخ ہے ان قربانیوں کی ایک لازوال داستان ہے۔ فقہہ تو میرے ’’استاد مکرم‘،ان صاحب کا میدان ہے لیکن میں جسارت کر رہا ہوں انھیں چند اشارے دینے کی جو ہمارے فقہا ایک امارت،ایک خلافت اور ایک مسلم امت کے حق میں شرعی حیثیت میں آغاز سے ہی دیتے چلے آئے ہیں۔
میں جناب حامد کمال الدین مدیر ایقاظ کا ممنون ہوں،جنہوں نے اس سلسلے میں میری رہنمائی کی۔ سیاست شرعیہ پر سب سے پہلے چوتھی صدی ہجری میں الماوردی نے قلم اٹھایا جو اپنے وقت کے قاضی القضاۃ تھے۔ وہ کہتے ہیں ’’جمہور کا مذہب رہا ہے کہ ایک زمانے میں دو اماموں کو مقرر کرنا شرعاً جائز نہیں کیونکہ نبی اکرمﷺ نے فرمایا ’’جب دو امیروں کی بیعت ہو جائے تو ان میں ایک کو قتل کر دو (ادب الدنیاوالدین) ماوردی آگے چل کر تفصیل سے لکھتے ہیں ’’اگر دو مختلف ملکوں میں دو امیروں کو امامت سونپی جائے تو ان دونوں کی امامت منعقد نہ ہو گی کیونکہ ایک وقت میں امت کے دو امام جائز نہیں (احکام السلطانیہ)۔
ذرا اس تصور خلافت کے مآخذ یعنی رسول اللہﷺ کے ارشاد کو دیکھئے۔ یہ حدیث متفق علیہ ہے۔ آپﷺ نے فرمایا: ’’بنی اسرائیل کے معاملات سیاست انبیاء چلاتے تھے،جیسے ہی کوئی نبی دنیا سے جاتا اس کا جانشین نبی ہوتا۔ اب ’’یقیناً میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے،ہاں خلفاء ہوں گے اور کثرت سے ہوں گے‘‘۔ امام نووی نے اس کی شرح میں اجماعِ امت کا مذہب بیان کیا ہے۔ آپ لکھتے ہیں۔ ’’علماء کا اتفاق ہے کہ ایک زمانے میں دو خلیفے نہیں ہو سکتے خواہ دارالاسلام کا رقبہ بہت زیادہ وسیع ہو یا نہ ہو (شرح مسلم)۔
ابن حزم پانچویں صدی ہجری کے فقیہہ ہیں۔ ان کے نزدیک ’’مسلمانوں پر ایک وقت میں پوری دنیا کے اندر دو امام ناجائز ہیں،خواہ وہ امام اکٹھے ہوں یا متفرق۔ یہ نہ دو الگ الگ جگہوں پر جائز ہیں اور نہ ایک جگہ میں‘،(مراتب الاجماع۔ ابن حزم)۔ حنفی،مالکی،شافعی اور حنبلی تمام مستند فقہی کتابوں میں ایک امت،ایک امیر اور ایک خلیفہ پر ہی اتفاق ہے۔ حنفی فقہ کی کتب (الاشباہ و النظائر لا بن نجیم) اور (غمز عیون البصائر،للحموی) کے مطابق امام ایک زمانے میں متعدد ہونا جائز نہیں جب کہ قاضی متعدد ہونا جائز ہے۔ مالکی فقہہ کی کتاب (حاشیۃ الدسوقی) کے مطابق امام کا متعدد ہونا منع ہے‘‘۔ شافعی مسلک کی کتاب (اسنی المطالب فی شرح روض الطالب) نے تو بات اور واضح کر دی ’’دو یا دو سے زیادہ اماموں کی امارت کا انعقاد جائز نہیں،چاہے خطے میں الگ کیوں نہ ہوں،چاہے خطے دور دور کیوں نہ ہوں۔
حنبلی مسلک کی کتاب (مطالب اولی النھی) کے مطابق ’’متعدد امام ہونا جائز نہیں‘‘۔ یہ تمام کتب ان مسالک کی بنیادی کتب ہیں اور چودہ سو سالہ فقہی اجماع پر بنیاد رکھتی ہیں۔ لیکن کیا کریں وحدت ملت اسلامی نہ دنیا بھر کے کفر کو اچھی لگتی ہے اور نہ ہی ان مسلمانوں کو جو اس امت کو ایک دیکھنا نہیں چاہتے۔ وہ قومی ریاستیں جو جنگ عظیم اول کے بعد عالمی طاقتوں نے بزور بنائیں،پھر لیگ آف نیشنز کا انھیں ممبر بنا کر 1920ء میں پاسپورٹ کے ڈیزائن کو منظور کیا۔
1924ء میں ویزا ریگویشن بنائے اور پوری دنیا خصوصاً مسلم امہ کو رنگ،نسل و زبان اور علاقے میں تقسیم کر دیا،اس امت کو اگر کوئی متحد دیکھنے کا خواب دیکھتا ہے تو جارج بش اور ٹونی بلیئر جیسے پکار اٹھتے ہیں یہ تو خلافت واپس لانا چاہتے ہیں (The want khalafa Back) یہ تھے وہ الفاظ جو دونوں نے اپنی پارلیمنٹ یا کانگریس میں ادا کیے۔ ملت کفر کو احساس ہے کہ مسلمانوں کو صرف خلافت متحد کر سکتی ہے لیکن میرے’’استاد مکرم‘‘کے نزدیک نہ یہ اسلامی اصطلاح ہے اور نہ مسلمانوں کی تاریخی علامت۔ شاید مسلمان علماء فقہا اور ظالم بادشاہوں کے سامنے کلمہ حق کہنے والے مسلم امہ کے شہیدوں کی تاریخ سے اسقدر لا علمی کسی اور نے برتی ہو گی۔ صاحب بصیرت اقبال یاد آتے ہیں،جب یہ قومی ریاستیں بن رہی تھیں تو اقبال پکار اٹھے تھے ؎
ان تازہ خداؤں میں بڑا سب سے وطن ہے
جو پیرہن اس کا ہے وہ مذہب کا کفن ہے
یہ بت کہ تراشیدہ تہذیب نوی ہے
غارت گر کا شانہ دین نبوی ہے
بازو ترا توحید کی قوت سے قوی ہے
اسلام ترا دیس ہے تو مصطفوی ہے

یہی اللہ کا دستور ہے
اوریا مقبول جان جمعرات 12 فروری 2015

پاکستان کے نظامِ انصاف کا کمال یہ ہے کہ جس جرم کی نوعیت، اس کے مجرم اور اس سے متعلق ہر کردار کو شہر، گلی اور محلے کا بچہ بچہ بخوبی جانتا ہو گا اسے عدالت میں ثابت کرنا اب دنیا کا ناممکن ترین کام بن چکا ہے۔ اسی لیے کہ جس شخص کی جانب بھی انگلی اٹھتی ہے کہ اس نے قتل کیا ہے، چوری کی ہے، بھتہ لیا ہے، یا رشوت اور کمیشن حاصل کیا ہے، وہ سینہ تان کر کہتا ہے کہ ایسے الزامات تو لگتے رہتے ہیں، جائو جا کر عدالت میں ثابت کرو، یا پھر ایک دن فخر سے سینہ پھلا کر کہے گا کہ مجھے عدالت نے باعزت طور پر بری کر دیا ہے۔
یہ صورت حال بڑی بڑی سیاسی قیادت، یا انتظامی اشرافیہ تک محدود نہیں بلکہ آپ ایک پٹواری، تھانیدار، کسٹم انسپکٹر، انکم ٹیکس کے اہلکار، یہاں تک کہ دفتر کے کلرک تک کو اپنے ہاتھ سے رشوت دے کر بھی اسے اس ملک کے نظامِ انصاف میں رشوت خور ثابت نہیں کر سکتے، اگر آپ نے درخواست جمع کروا بھی دی، تو الٹا آپ یہ طعنہ لے کر واپس لوٹیں گے کہ یہ شخص جھوٹے الزامات لگاتا ہے، کارِ سرکار میں مداخلت کرتا ہے، بلکہ عدالت کا وقت ضایع کرتا ہے۔
کسی بھی سرکاری دفتر کے آس پاس سائلین کا ایک ہجوم ہوتا ہے۔ اگر کہیں آپ انھی سائلین میں سے ہیں تو آپ تک یہ بات بہ آسانی پہنچ جائے گی کہ کس میز پر بیٹھے ہوئے شخص کو کتنے روپے دیے جائیں تو کام باآسانی اور جلدی ہو جائے گا۔ بہت سے ایسے دفاتر ہیں جہاں آپ کو سائل بن کر لائن میں کھڑے ہونے یا اس کلرک، اہلکار یا آفیسر سے ملنے کی زحمت بھی گوارا نہیں کرنا پڑتی، بلکہ اس کے کارندے آپ کا یہ کام بحسن و خوبی سرانجام دیں گے۔
اپنی مناسب سی اجرت حاصل کریں گے اور باقی پیسے سے کام کرنے والے افسران کی جیب گرم کریں گے۔ ایسے کارندے آپ کو ائیرپورٹ پر کسٹم حکام کی چیرہ دستیوں سے بچانے کا ذمے لیتے ہوئے، پٹواری سے زمین کے کاغذات یا انتقال کروانے کے لیے مستعد، پاسپورٹ کے دفاتر کے آس پاس، انکم ٹیکس، اکائونٹ جنرل، کنٹونمنٹ آفس غرض ہر دفتر میں نظر آتے ہیں۔
سائل انھیں مطلوبہ رقم تھماتے ہیں اور اپنا کام نکلوا کر باہر آ جاتے ہیں۔ یہ سائل ان افسران کو بھی جانتے ہوتے ہیں اور ان کلرکوں سے بھی آشنا ہوتے ہیں جن کے کارندے نے ان کے جائز کام کے لیے بھی رشوت طلب کی تھی، لیکن اگر ان افسران یا کلرکوں میں سے کسی کے خلاف کرپشن کا کوئی مقدمہ درج ہو جائے، کوئی غصے میں بپھرا ہوا سائل درخواست جمع کروا دے تو ان تمام افراد میں سے کوئی وہ سچ بولنے بھی عدالت کے سامنے نہیں آئے گا جو وہ روز اپنے گھر والوں، دوستوں، عزیزوں اور رشتے داروں کے سامنے بولتا رہتا ہے۔
ہر کسی کے سامنے بیان کرتا ہے کہ میں نے اتنے پیسے دے کر یہ کام کروایا ہے، لیکن گواہی نہیں دے گا۔ کیا ہم ایک خوفزدہ معاشرے میں ڈھل چکے ہیں۔ ہم میں سے صاحب حیثیت شخص، جس کے پاس وسائل کی کمی نہیں، وہ بھی اگر اپنے مکان کی رجسٹری کرواتے وقت رشوت دیتا ہے تو اس اہلکار کے خلاف گواہی کے لیے عدالت نہیں جاتا۔ اس کے کسی عزیز کا نام اگر تھانیدار غلط طور پر ایف آئی آر میں داخل کر لے تو اسے نکلوانے کے لیے اسے جو رشوت دینا پڑتی ہے اس کی رپورٹ تک کہیں درج نہیں کرواتا۔ ہر کسی نے یہ تصور بنا لیا ہے کہ معاشرہ اب انتہائی بددیانت ہو چکا ہے، اس لیے اب ہمیں ایسے ہی گزارا کرنا ہے۔
یہ تو ان لوگوں کا حال ہے جن کے جائز کام سرکار کے دفاتر میں رکے ہوئے ہوں اور انھیں یہ کام نکلوانے کے لیے پیسے لگانے پڑتے ہیں۔ لیکن ایک ایسا طبقہ بھی ہے جنہوں نے اپنے ناجائز کاموں کے لیے ایک نظام وضع کر رکھا ہے۔ اس نظامِ کے تحت نیچے سے لے کر اوپر تک ہر کسی کا حصہ مقرر ہے۔ ہر کسی کو اپنے مقام اور مرتبے کے مطابق حصہ پہنچ جاتا ہے اور اس ناجائز کام کی فائل ایک میز سے دوسری میز تک پر لگا کر اڑتی پھرتی ہے، اگر ہم خوف زدہ معاشرہ میں نہیں ڈھل چکے تو کیا ہم اک بددیانت معاشرہ بن چکے ہیں۔
بددیانتی بھی ایک معاشرے کو خوفزدہ بناتی ہے۔ دنیا کے بڑے سے بڑے عہدے پر فائز بددیانتی پر مائل شخص کو ہمیشہ ایک خوف ضرور سوار رہتا ہے۔ پکڑے جانے کا خوف۔ لیکن بہترین معاشرہ وہ ہوتا ہے کہ جب کوئی پکڑا جائے تو پھر انصاف کا نظام اس قدر بامقصد اور با معنی ہو کہ وہاں خوفزدہ وہی پکڑے جانے والا شخص نظر آئے گا اور لوگ اس کے خلاف گواہی دینے پر ایک دوسرے سے بازی لے جائیں گے۔ اس کا اپنا گروہ، قبیلہ، سیاسی پارٹی یہاں تک کہ خاندان تک اس کے خلاف کھڑا ہو جائے، اسے بددیانت، چور، قاتل، بھتہ خور کہے۔ کوئی اس کے دفاع کے لیے ٹیلی ویژن پر نہ آئے کوئی اس کی وکالت میں ریلیاں نہ نکالے، کوئی اس کے لیے پریس کانفرنس نہ کرے۔
ہم بددیانت بھی ہیں اور خوفزدہ بھی لیکن یہ دنوں مرض جو ہمیں لا حق ہو چکے ہیں کتنی آسانی سے دور ہو سکتے اگر ہم میں ایک صفت پیدا ہو جائے جو قرآن کے انسان مطلوب سے اللہ چاہتا ہے۔ قرآن کی آیات انصاف اور عدل کے جس اصول پر بنیاد رکھتی ہیں ان میں اہم ترین یہ ہے کہ کسی قوم کی دشمنی تمہیں اس بات پر مجبور نہ کر دے کہ تم عدل کا دامن ہاتھ سے چھوڑ دو اور دوسرا یہ کہ حق کی گواہی دیتے رہو خواہ وہ تمہارے عزیزُ اقربا کے خلاف کیوں نہ ہو۔
ہماری خرابی کی بنیادی وجہ اور ہمیں خوفزدہ اور بددیانت بنانے میں اسی ایک کوتاہی، خرابی اور بیماری کا دخل ہے۔ ہم اس شخص کو چور، ڈاکو، قاتل، بھتہ خور اور بددیانت کہہ ہی نہیں سکتے جو ہمارے خاندان، قبیلے، برادری، پیشہ ورانہ گروہ یا سیاسی پارٹی سے تعلق رکھتا ہو۔ ڈاکٹروں، انجینئروں، کلرکوں غرض ہر قسم کی انجمنیں اپنے چوروں کا دفاع کرتی ہیں۔ بدقسمتی کا عالم یہ ہے کہ ہر مسلک کے ماننے والے بھی اپنے مسلک کے مجرموں کا دفاع کرتے ہیں۔ نسل، رنگ اور زبان سے تعلق رکھنے والے اپنے مجرموں کا دفاع کرتے ہیں۔
یہ ہے وہ بیماری جس کی علامت یہ ہے کہ ہمارے دل پتھر کے ہو چکے ہیں۔ صرف دو سال قبل ہمیں ٹیلی ویژن چینلوں پر دکھائے گئے وہ منظر بھول چکے جب ایک فیکٹری سے آگ کے شعلے بلند ہو رہے تھے اور مائیں، بہنیں، باپ بھائی چیخیں مارتے، غش کھاتے پکار رہے تھے کہ کہ کوئی ہمارے بچے اور بچی کو اس آگ سے باہر نکالے۔ میڈیکل سائنس اس بات پر متفق ہے کہ سب سے تکلیف دہ موت جل کر مرنے کی موت ہوتی ہے کیونکہ درد بنیادی طور پر جلد میں ہوتا ہے۔ درد کے(ain centers) جلد میں ہیں اس لیے اس کا جلنا سب سے تکلیف دہ ہوتا ہے۔ یہ ڈھائی سو لوگ، بیس کروڑ لوگوں کے سامنے جل مرے۔ لیکن یہ بیس کروڑ اپنے اپنے گھروں میں ان مناظر کو ٹیلی ویژن پر چلنے والی ایک شاندار فلم کی طرح تماشہ کے طور پر دیکھتے رہے۔
لیکن پورے ملک میں کسی ایک کا بھی ضمیر نہ جاگا، کسی نے پکار کر یہ نہ کہا کہ پورے کراچی کو معلوم ہے، بچہ بچہ جانتا ہے کہ کون ظالم ہے، کون بھتہ خور ہے، کون قاتل ہے۔ آج اگر گھروں میں خفیہ کیمرے لگا کر دیکھیں، تو اندازہ ہو جائے گا کہ ہر گھر اپنے لٹنے کے بعد آپس میں ایک دوسرے کو کہانی سنا رہا ہوتا ہے کہ اسے کس نے لوٹا، وہ مجبوراً کس کو بھتہ دیتا ہے۔ سب آنسو بہاتے ہیں اور پھر ایک دوسرے سے عہد لیتے ہیں کہ باہر مت بتانا وہ لوگ بہت ظالم ہیں۔ ایسے معاشرے جہاں انسانوں پر اس قدر بھیانک ظلم پر بھی لوگوں کا ضمیر نہ جاگے، وہ حق کی گواہی دینے کے لیے کھڑے نہ ہوں، وہ اپنے خوف اور تعصّب کے خول سے باہر نہ نکلیں تو پھر کیا ان معاشروں پر اللہ عادل حکمران بھیجتا ہے؟ نہیں وہ بدترین، اور ظالم حکمران مسلط کرتا ہے۔ یہی اس کا دستور ہے۔

سول سوسائٹی کی جنت و جہنم
اوریا مقبول جان اتوار 8 فروری 2015

ایک زمانہ تھا جب لوگ اپنے کسی پیارے کے اس دنیا سے چلے جانے کے بعد فوراً دستِ دعا بلند کرتے تھے، اللہ سے اس کی مغفرت کے لیے دعا کرتے، اس کے درجات کی بلندی کی استدعا کرتے اور اسے جنت الفردوس میں مقام عطا کرنے کے لیے اللہ کے سامنے درخواست گزار ہوتے۔ یہ کیفیت صرف مسلمانوں کی ہی نہیں تھی بلکہ تمام مذاہب کے ماننے والے اپنے پیارے کو آیندہ دنیا کے سفر پر روانہ کرتے تو اس کی یاد میں جو بھی تقریب منعقد ہوتی وہ دعائوں اور رب کے حضور التجائوں سے آغاز اور انجام پاتی۔
ہم میں سے ہر کسی کا یہ ایمان تھا کہ مرحوم جس دنیا میں چلا گیا ہے وہاں اسے ہماری نعرہ بازی، جلسوں اور پوسٹر بازی سے زیادہ ہماری دعائوں کی ضرورت ہے۔ کوئی مظلوم کسی ظالم کے ہاتھوں قتل ہوتا، کوئی وطن کی حفاظت میں جان دیتا، یا چوروں ڈاکوئوں سے لڑتا زندگی کی بازی ہارتا، ہم ایسے شہیدوں کے لیے دعائیہ تقریبات منعقد کرتے کہ ہمارا ایمان تھا کہ یہ لوگ تو اللہ کے ہاں بخشے جا چکے ہیں لیکن ان کے لیے دعائے مغفرت کرنے سے ہمارے اپنے گناہ کم ہوں گے اور ہماری بھی بخشش کا سامان مہیا ہوگا۔ یہ وہ زاد۔ راہ تھی جو ہم اپنے پیاروں کو دیا کرتے تھے۔ کسی کی یاد میں قرآن پڑھ کر اور کسی کی برسی پر دعائوں کے نذرانے دے کر۔ لیکن جس طرح ’’سول سوسائٹی‘‘ کے نام پر اس ملک سے اور بہت سی اقدار چھینی جا رہی ہیں، اب یہ قدر بھی موم بتیاں روشن کرنے میں بدل گئی۔
موم بتیاں کب سے روشن ہونا شروع ہوئیں، انھیں کیوں روشن کیا جاتا تھا اور اب اسے ایک معاشرتی رواج کیوں دیا جا رہا ہے۔ دنیا میں یہودیوں نے سب سے پہلے مٹ زاوہ (MITZAWAH) کے نام پر موم بتیاں روشن کرنا شروع کیں ، اسے خواتین روشن کرتیں اور اس کا مقصد عورت کے اس ازلی ابدی گناہ کی تلافی کرنا تھا جس کا ماخذ یہودی اپنی کتاب تا عود کے پیرا 31۔ب سے لیتے ہیں، ’’اے عورت تم سے ایک جرم سرزد ہوا تھا جس کی پاداش میں ہمیں جنت سے نکلنا پڑا۔ تم سانپ کی دلکشی پر فریفتہ ہو گئیں اور اس کے بہکاوے میں آ گئیں اور پھر تونے ہمارے باپ آدم کو بھی اس میں شریک کرلیا۔
یوں تمہاری وجہ سے اس زمین بلکہ ہماری زندگیوں میں بھی اندھیرا چھا گیا۔ اس لیے اب تمہیں موم بتیاں روشن کر کے دنیا میں روشنی کو واپس لانا ہو گا‘‘۔ موم بتی کو روشن کرنے اور عورت کی غلطی کی تلافی وہ یوم سبت یعنی ہفتے کے دن کے تہوار کے طور پر کرتے ہیں۔ یہ موم بتیاں جمعہ کی شام یعنی ہفتے کی رات کو روشن کی جاتی ہیں۔ عورتیں دو موم بتیاں جلاتی ہیں، ایک تورات کے باب Exodus8:20 کے مطابق جب یہودیوں کو اپنے وطن سے دربدر کیا گیا تھا اور دوسری تورات کی پانچویں کتاب Deuteronmy کے فقروں 5:12 کے مطابق جن میں یوم سبت منانے کے لیے کہا گیا ہے۔
عورتیں موم بتیاں جلا کر اپنی آنکھوں کو ہاتھ سے ڈھانک لیتی ہیں۔ پھر شکر ادا کرتی ہیں کہ خدا نے ہمیں مقدس بنایا اور ہمیں سبت کی شمعیں جلانے کا حکم دیا۔ یہودیوں کا ایک اور تہوار ’’ہنوکا‘‘ HANUKAH ہے جو یہودی مہینے کزلیو KISLEV کی 25 تاریخ کو آٹھ دن کے لیے منایا جاتا ہے۔ یہ تہوار 165 قبل مسیح میں یہودیوں کی یونانی اور شامی فوجوں پر فتح کے جشن کے طور پر منایا جاتا ہے۔ اسے ’’چنوہا‘‘ CHANUH یعنی روشنیوں کا تہوار بھی کہا جاتا ہے۔ ان آٹھ دنوں میں یہودی مسلسل موم بتیاں روشن کرتے ہیں۔ موم بتیاں جلانا ان کے لیے ان تہواروں تک ہی محدود نہیں، بلکہ مرنے والے کی موت کی سالگرہ کے دن بھی موم بتیاں جلائی جاتی ہیں۔
اس خاص موم بتی کا نام YAHRTZEIT رکھا گیا ہے۔ کسی سانحے، تشدد یا بربریت میں مرنے والوں کی یاد میں موم بتیاں جلانے کا رواج بھی یہودیوں نے شروع کیا۔ جنگ عظیم دوم کے بارے میں یہودی دعویٰ کرتے ہیں کہ ان کے ساٹھ لاکھ افراد قتل کیے گئے تھے۔ ان ساٹھ لاکھ یہودیوں کے قتل کی یاد میں ہر سال ،،یوم نشوہا،، YOM-E-NASHOAH منایا جاتا ہے اور ہر گھر، عبادت گاہ اور یہودی عمارت پر موم بتیاں روشن کی جاتی ہیں۔ موم بتی جلا کر مرنے والوں کی یاد منانے کی یہ رسم یہودیوں نے خود ایجاد کی اور اس کا ان کے دین سے کوئی تعلق نہ تھا اور نہ اس کے بارے میں کوئی احکامات موجود تھے۔
ان کی دیکھا دیکھی اس رسم کو عیسائیت نے بھی اپنا لیا حالانکہ اس کا کوئی حکم نہ انجیل میں موجود تھا اور نہ ہی قدیم روایات میں اس کا تذکرہ ہے۔ اس کا آغاز مشرقی آرتھو ڈوکس چرچ نے اپنی عبادت سے کیا جس میں پورے کا پورا مجمع ہاتھ میں موم بتی پکڑے کھڑا ہوتا ہے۔ قربان گاہوں پر موم بتیاں روشن کی جانے لگیں، مشرقی کیتھولک، اورینٹل کیتھولک بلکہ رومن کیتھولک سب کے سب موم بتی کو مسیح کی روشنی سے تعبیر کرنے لگے۔ اس رواج کو مقدس بنانے کے لیے کہا گیا کہ چرچ میں جلائے جانے والی موم بتیوں میں کم از کم 51 فیصد موم شہد کی مکھیوں کے چھتے سے حاصل کیا جائے۔
ایسٹر کے موقع پر ایک خاص موم بتی روشن کی جاتی ہے جسے پاشل PASCHAL کہا جاتا ہے۔ اسے مسیح کے ایسٹر کے دن دوبارہ زندہ ہونے کی علامت کے طور پر جلایا جاتا ہے۔ لیکن ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے حادثے کے بعد موم بتیاں جلانے کو ایک عالمی رسم بنانے کی کوشش کی گئی۔ یہ رسم عام آدمی نے قبول نہیں کی بلکہ ہمارے معاشرے کی ایک نئی ایجاد سول سوسائٹی نے کی۔ یہ سول سوسائٹی کیا ہے۔ اس کا تاثر پوری دنیا کے غریب معاشروں میں ایسا ہے جیسے ساری قوم جاہل، ان پڑھ گنوار، ظالم، متشدد اور بیہودہ ہے اور یہ چند فیشن زدہ۔ مغرب سے مرعوب اور اپنی زبان و تہذیب سے نا آشنا لوگ ہی ہیں مہذب اور انسان دوست ہیں۔
یہ سول سوسائٹی روسی کیمونسٹ حکومت کے خاتمے کے بعد کارپوریٹ سرمائے سے بننے والی جمہوری حکومتوں نے دنیا کے غریب ملکوں میں ایک عالمی کلچر کے فروغ کے لیے بنائی تا کہ ان کا مال بک سکے۔ پہلے کسی ملک میں حکومت ہوتی تھی اور دوسرے عوام۔ دنیا کی تمام حکومتیں اور عالمی انجمنیں حکومتوں کو قرض دیتی تھیں تا کہ وہ عوام پر خرچ کریں۔ لیکن اسّی کی دہائی میں ان حکومتوں کو کک بیک اور عالمی رشوت خوری کے ذریعے کرپٹ کیا گیا اور پھر ایک وسیع پراپیگنڈے سے بدنام کیا گیا تا کہ مغربی حکومتیں اور عالمی انجمنیں غریب ملکوں میں براہ راست لوگوں کو امداد دیں۔ اس کے لیے این جی اوز بنائی گئیں۔
ہر ملک کے سفارت خانے نے مدد دینے کی کھڑکی کھول لی، عالمی ادارے بھی انھی این جی اوز کو گرانٹ دینے لگے۔ یہ لاکھوں روپے تنخواہ، پر تعیش دفاتر اور بڑی بڑی ائرکنڈیشنڈ گاڑیوں میں گھومنے والے انھی این جی اوز کے ملازم تھے یا پھر ان کے کرتا دھرتا۔ ان تمام مفت خوروں نے ملکر ایک گروہ تشکیل دیا جس کا نام سول سوسائٹی ہے۔ یہ دنیا کے ہر غریب ملک میں پایا جاتا ہے۔ افریقہ میں اس کی بہتات ہے۔ یورپ میں عوام سڑکوں پر نکلتی ہے لیکن افریقہ اور ایشیا میں سول سوسائٹی۔ عالمی امداد پر پلنے والے اس گروہ کا ایجنڈا بھی وہی ہے جس کی بنیاد پر انھیں سرمایہ فراہم کیا جاتا ہے۔
اس کی سب سے آسان پہچان یہ ہے کہ یہ لوگ آپ کو کبھی بھی مغرب میں توہین رسالت کے واقعہ یا کارٹون چھپنے پر سڑکوں پر نظر نہیں آئیں گے لیکن کسی بھی شاتم رسول کی یاد میں شمعیں جلانے ضرور آ جائیں گے۔ یہ کسی بھتہ خور اور قاتل کے قتل کے خلاف بینر نہیں اٹھائیں گے خواہ وہ بلدیہ ٹائون میں 272 افراد کو زندہ جلا دے، لیکن کسی مولوی کے ایک بیان پر رات دن احتجاج کریں گے۔ افغانستان اور عراق میں امریکی افواج لاکھوں لوگوں کا قتل عام کر دے، انھیں کبھی دکھ نہیں ہوتا لیکن ایک امریکی کو اغوا کر کے قتل کر دیا جائے تو ان کو انسانیت یاد آ جاتی ہے۔
یہ ان کا حق ہے جس کو چاہیں روئیں یا جس پر چاہیں نہ روئیں لیکن دکھ یہ ہے کہ ان کی وجہ سے قوم پہلے اپنے شہیدوں کو، بے گناہ مر جانے والوں کو، یا پھر اپنی کسی محبوب شخصیت کی یاد منانے کے لیے اکٹھا ہوتی تو اپنے پروردگار سے دست بددعا ہوا کرتی تھی لیکن شاید ہم اب ان لوگوں کے لیے دعا کرنا بھی بھول جائیں گے۔ بس موم بتی جلائی، تصویر بنوائی اور آرام سے سو گئے۔
صوفیاء اور اہل نظر کا عقیدہ ہے کہ ہر جمعہ کی رات ارواح اکٹھا ہوتی ہیں تو اگر کسی کی اولاد یا چاہنے والے نے اس کے لیے مغفرت کی دعا کی ہوگی، کوئی تلاوت اس کے نام سے کی ہوگی، کوئی نیکی کا کام یا رفاہِ عامہ کا کام اس کے نام منسوب کیا ہو گا تو یہ اسے تحفے یا اجر کے طور پر ملتا ہے۔ ان ارواح کے ہجوم میں سب سے شرمندہ اور پژمردہ وہ روح ہوتی ہے جس کی اولاد یا پیار کرنے والے اسے ایسا تحفہ نہیں بھیجتے۔ ہم نے زندوں کو تو مایوس کیا تھا اب ہم نے مردوں کو بھی مایوس کرنا شروع کر دیا ہے۔ اب ہمارے مُردوں کے نصیب میں سول سوسائٹی کی جنت یا جہنم ہے۔

وہ میرا یار
اوریا مقبول جان جمعرات 5 فروری 2015

عطاء الحق قاسمی صاحب سے میرا تعلق، دوستی اور محبت کا رشتہ چالیس سال سے بھی پرانا ہے۔ ان کے نام کے ساتھ میں نے صاحب کا لفظ حفظ مراتب یا احترام کی وجہ سے نہیں، بلکہ اپنی اور ان کی عمر میں پورے تیرہ سال کے فرق کی وجہ سے لگایا ہے۔ اس لیے کہ اس ساٹھ سالہ زندگی میں وقت نے تھپیڑے مار مار کے ایک حقیقت سے آشنا ضرور کیا ہے کہ ’’بزرگی بہ عقل‘‘ نہیں ہوتی بلکہ عقل مندی الٹا ذلت و رسوائی کا باعث بنتی ہے۔ اب رہ گئی ’’بزرگی بہ سال‘‘، تو کوشش کرتا ہوں کہ اپنے بڑوں کو عزت دوں کہ کل میں نے بھی بوڑھا ہونا ہے، ورنہ عطاء الحق قاسمی کے تعلق کے چالیس سال جس بے تکلفی، یارانہ پن اور پھکڑ گفتگو سے بھرپور ہیں اگر اس کا علم دنیا والوں کو ہو جائے تو عطاء الحق قاسمی تو شاید بچ نکلے، میں واجب القتل ہو جاؤں گا۔
عطاء الحق قاسمی سے میرے تین رشتے علاقائی نوعیت کے ہیں اور دنیا میں علاقے اور نسل کا تعصب سب سے گہرا ہوتا ہے۔ میرے دادا مولوی خدا بخش مرحوم 1908تک اسی مسجد خیردین امرتسر کے خطیب رہے ہیں جس کی خطابت کی کرسی پر قاسمی صاحب کے والد مولانا بہاؤ الحق قاسمی متمکن رہے۔ یہ الگ بات ہے کہ نہ میرے دادا اور نہ ہی عطاء الحق قاسمی کے والد عالم بالا میں ہماری کرتوتوں سے خوش ہو رہے ہونگے۔ یہ تو وہ رپورٹس ہیں جو فرشتے ان تک روزانہ پہنچاتے ہیں ورنہ اگر ہم نے ایک دوسرے کی شکایتیں اپنے مرحوم بزرگوں تک پہنچانا شروع کر دیں تو بیشک ہم اپنی حرکتوں میں ایک لفظ بھی مبالغہ نہ کریں ہمیں ننگِ اسلاف کا تمغۂ حسن کارکردگی ضرور مل سکتا ہے۔
دوسرا رشتہ یہ کہ عطاء کے آباؤ اجداد بھی کشمیر کی وادیوں سے اتر کر امرتسر میں آباد ہو گئے تھے جب کہ میرے اجداد تو مسلسل اپنے مرشدوں کے حکم پر دعوتِ دین کی خاطر مختلف علاقوں کی خاک چھانتے کشمیر میں آ کر آباد ہو گئے اور پھر ان کے روحانی پیشواؤں نے انھیں میدانوں کا رخ کرنے کو کہا اور وہ بھی کشمیر سے براستہ سیالکوٹ، مکیریاں، امرتسر میں جا کر آباد ہو گئے۔ یہ الگ بات ہے کہ عطاء الحق قاسمی ابھی تک نون لیگ کے مقبوضہ کشمیر میں رہائش پذیر ہے اور مجھے وزیرستان کے قبائلیوں کی صحبت میں آزاد کر دیا ہے۔
تیسری نسبت امرتسر ہے جسے ہم دونوں کے گھر والے امبرسر کہتے تھے۔ امبرسر ایسا شہر تھا جس کا طلسم میں نے اپنے گھر میں مدتوں دیکھا ہے۔ ہر کوئی اس جادو میں گرفتار۔ طلسم ہوشربا کی طرح ہمارے گھر میں اس شہر کی داستانیں سنائی جاتی تھیں۔ میرے والد تو گجرات سے لاہور آتے تو مجھے کھانا بھی اسی ہوٹل میں کھلاتے جس پر امرتسری دال چاول یا امرتسری ہریسہ لکھا ہوتا۔
یوں تو یہ تین تعلق ہی کسی شخص سے اپنا رشتہ جوڑنے کے لیے کافی ہیں بلکہ آج کے دور میں تو ’’کشمیر‘‘ کا تعلق ہی اتنا مضبوط ہے کہ باقی کسی بھی رشتے کا ذکر کرنا کفران نعمت بلکہ سورج کو چراغ دکھانے کے مترادف ہو گا۔ یہ الگ بات ہے کہ ان دنوں کشمیریوں کے چراغِ رخ زیبا بھی گلی گلی عشاق کی تلاش میں سرگرداں پھر رہے ہیں۔ لیکن میرے ان رشتوں کا ذکر تک بھی کبھی میری اور عطاء الحق قاسمی کی دوستی کے چالیس سالوں میں نہیں آیا۔
مجھے تو اس دوستی کا وہ پہلا دن بھی یاد ہے جب 1972میں گجرات کے حلقۂ ارباب ذوق کے تحت عطاء الحق قاسمی کے ساتھ شام منانے کا اہتمام کیا گیا تو لاہور سے سواریوں والی بس میں ایک قافلہ گجرات آیا جس کی سرکردگی احمد ندیم قاسمی کر رہے تھے اور ان میں خالد احمد، گلزار وفا چوہدری اور دیگر کے ساتھ ساتھ امجد اسلام امجد بھی موجود تھے۔ میں نے امجد اسلام امجد کا نام اس لیے علیحدگی کے ساتھ لیا ہے کہ عطاء الحق قاسمی اور امجد اسلام امجد کی دوستی ان دنوں اتنی گاڑھی تھی کہ اسے آسانی سے شک کی نگاہ سے دیکھا جا سکتا تھا۔
یونان کے فلسفوں کے دور میں ہوتے تو شہر والے ان کے مجسمے بنا کر چوراہوں میں نصب کرتے اور بعد میں آنے والے فرائیڈ جیسے نفسیات دان اور جنسی مریض اس پاکیزہ دوستی سے بھی بے ہودہ نفسیاتی تھیوریاں نکال لیتے۔ امجد اسلام امجد نے جو مضمون گجرات میں عطاء کی شان میں پڑھا اس سے میں اس کے جس پہلو سے متاثر ہوا وہ لطیفہ بازی تھی۔ یوں میرا عطاء الحق قاسمی اور امجد اسلام امجد سے لطیفے بازی کا ایک ایسا رشتہ استوار ہوا جو شاعری سے زیادہ مستحکم اور دیرپا تھا۔
شاعری بھی اپنی بے نیازی میں خدائی صفت سے ہم آہنگ ہے۔ کتنے گمنام چلے جاتے ہیں اور کئی ہیں کہ مقبولیت ان کے دروازے سے ہٹتی ہی نہیں لیکن شاعری جس قدر عطاء الحق قاسمی کو راس آئی ہے ولی دکنی سے لے کر آیندہ آنے والی کئی صدیوں تک شاید کسی اور کو راس آئے۔ میر تقی میر تو ’’اپنا دیواں بغل میں داب کے میرؔ‘‘ کی دہائی دیتے رہے لیکن لکھنؤ سے دلی اور دلی سے لکھنؤ سے آگے کہیں اور نہ جا سکے لیکن عطاء الحق قاسمی نے جو دیوان بغل میں دابا تو پھر اس چھوٹی سی دنیا جسے کرۂ ارض کہتے ہیں اس کا کوئی ملک ایسا نہیں جہاں اردو سمجھنے والے بستے ہوں اور عطاء الحق قاسمی نے وہاں شعر نہ سنائے ہوں بلکہ یہ کرۂ ارض چھوٹا پڑ گیا اور اسے ایک ہی شہر میں بار بار اور صد بار جانا پڑا۔
اس قدر مختصر دیوان کی یہ معجزاتی کرامت شاید ہی کسی اور شاعر کو میسر آئی ہو۔ یوں لگتا ہے یہ دیوان نہیں ایک طلسماتی قالین ہے جس پر بیٹھ کر عطاء دنیا جہان میں گھوم آیا ہے۔ میرا اس سے تعلق مشاعروں کے حوالے سے بھی رہا ہے۔ وہ زمانہ تھا جب شاعری ہی میرا اوڑھنا بچھونا تھی۔
ہم نے ایک ساتھ کئی مشاعرے پڑھے اور پرانے ڈپٹی کمشنروں کی طرح میں نے کئی مشاعرے کروائے بھی لیکن اگر سچ بتاؤں تو اس سارے تعلق میں مشاعرے کے دوران پڑھی جانے والی شاعری کی حیثیت اسٹیج کی چند منٹ کی زبردستی کے سوا کچھ نہ تھی جب کہ مشاعرے سے پہلے اور اس کے بعد کی طویل نشستیں اور مشاعرے کے دوران بزرگ ترین شعرائے کرام اور نوآموز شعرأ کی اسٹیج پر کارکردگیاں ایک تفننِ طبع کا باعث بنتیں۔
ان حرکتوں سے عطاء الحق قاسمی کے فقرے پھوٹتے، لطیفے جنم لیتے اور ضبط کے عالم کی وہ ہنسی جو اسٹیج پر بمشکل چھپائی جا سکتی، آج بھی یادوں کے دریچوں سے جھانکتی ہے تو بے اختیار مسکرا اٹھتا ہوں بلکہ اردگرد دیکھے بغیر زوردار قہقہہ لگا دیتا ہوں۔ کیسا تعلق ہے کہ اگر محفل میں یاد آ جائے اور آدمی بے اختیار ہو جائے تو لوگ پکارنے لگیں ’’پاگل ای اوئے‘‘۔
میں سوچ رہا ہوں کہ میں ایک سنجیدہ سی تحریر لکھنے والا ہوں۔ اس لہجے میں کیوں لکھے جا رہا ہوں کہ جس طرز تحریر میں عطاء الحق قاسمی نے اپنا سکہ کئی دہائیوں سے منوا رکھا ہے۔ میں کوشش بھی کروں تو ان کی مزاحیہ تحریر جیسی ایک تحریر بھی نہ لکھ سکوں، حالانکہ میں انھیں بار بار پڑھ چکا ہوں اور لوگ کہتے ہیں کہ کسی کی تحریر پڑھنے سے اور بار بار پڑھنے سے آدمی ویسا ہی اسلوب اپنانے کے قابل ہو جاتا ہے لیکن میں جب بھی ان کے مزاح، سفرنامے یا ڈرامے پڑھتا ہوں تو ہر دفعہ ایک قسم کے احساس کمتری کا شکار ہو جاتا ہوں کہ یہ لکھتے لکھتے آدمی بوڑھا ہو جاتا ہے لیکن ایسی تحریر نہیں لکھ پاتا۔
ہر بار انھیں پڑھنے پر اپنی کمزوری اور کمتری کا احساس مزید شدید ہو جاتا ہے۔ میں عموماً تقریبات میں فی البدیہہ گفتگو کرتا ہوں لیکن عطاء الحق قاسمی کے معاملے میں یہ تحریر اس لیے لکھی کہ احتیاط بہت ضروری تھی، کہیں ایسا نہ ہو جاتا کہ جوشِ خطابت میں کوئی ایسی بات منہ سے نکل جاتی اور اگلے دن اخبارات میں ہم دونوں قابل گردن زدنی قرار پاتے۔ ایسا دور تو ہم نے سوچا تک نہ تھا۔
کیسے کیسے اختلافات ہوتے تھے، ایک دوسرے کے نظریات کی بیخ کنی کرنے کے لیے دنیا جہان کا علم اکٹھا کیا جاتا تھا۔ بحثوں کا وہ عالم کہ یوں لگتا تھا ابھی پستول نکل آئیں گے لیکن اچانک پاک ٹی ہاؤس کی میز پر بیٹھے ہوئے کسی ایک شدید بحث کرنے والے شخص کی آواز گونجتی ’’یار سنو! میں اس نکتے کا جواب تمہیں بعد میں دوں گا، پہلے یہ بتاؤ تمہارے کپ میں چینی کتنی ڈالوں۔‘‘
(عطاء الحق قاسمی کی 72 ویں سالگرہ کی تقریب منعقدہ الحمراء حال میں پڑھا گیا)
یہی ایک راستہ ہے نجات کا
اوریا مقبول جان پير 2 فروری 2015

اس پورے خطے میں شاہ ایران امریکا کا کانسٹیبل اور اس کے مفادات کا واحد پہریدار سمجھا جاتا تھا۔ ایک ایسا مطلق العنان بادشاہ جس کی جمہوریت، آزادی اظہار یہاں تک کہ دین کی بھی اپنی تعبیرات تھیں۔ جمہوریت تو بقول اس کے ایران میں قائم تھی، الیکشن ہوتے تھے، پارلیمنٹ وجود رکھتی تھی، منتخب وزیراعظم تھا۔ دین کے بارے میں بھی وہ ایک مرنجاں مرنج اور تہواروں والا تصور رکھتا تھا۔
محرم کے دنوں میں ذکر حسین، مجالس اور پورے ملک میں سوگ کی کیفیت کے ساتھ ساتھ جابجا ،،حسینیان،، (امام بار گاہ کا ایرانی نام) کا سرکاری سرپرستی میں قیام، امام رضا کے روضے پر حاضری، وہاں شاندار قالین اور فانوس تحفے میں دینا، کسی بھی مرجع کو جھک کر آداب کرنا، یہ سب وہ بصد خلوص و احترام کرتا تھا۔
اس زمانے میں روس کا کیمونزم زندہ و بیدار تھا، اس لیے ایران میں ،،دہشت گرد،، کا اس زمانے کا ایک مخصوص حلیہ تھا۔ وہ جینز اور جاگرز پہنتا ہو، اس نے لمبے لمبے بال بڑھائے ہوں، سگریٹ کے مرغولوں اور کافی کے تلخ گھونٹوں کے ساتھ انقلاب کی گفتگو کرتا ہو۔ ان کیمونسٹوں کے خلاف ایک عمومی تاثر یہ بھی تھا کہ یہ لوگ اللہ کو نہیں مانتے، مذہب کا انکار کرتے ہیں، کبھی ان کو محرم کی مجلس یا خوشی کی شیرینی بانٹتے نہیں دیکھا گیا۔
مدتوں ان لوگوں کو پکڑ پکڑ کرنا معلوم مقام پر موجود قید خانوں میں رکھا جاتا جو امریکی سی آئی اے کی تربیت یافتہ خفیہ ایجنسی ساوک کے تحت قائم کیے گئے تھے۔ مجھے ایران کے دفتر خارجہ کے پہلو میں بنے ہوئے ایسے ہی ایک عقوبت خانے میں جانے کا اتفاق ہوا ہے جسے اب ایک عجائب گھر بنا دیا گیا ہے۔ اسے ’’موزہ عبرت‘‘ کہتے ہیں۔ موزہ فارسی میں عجائب گھر کو کہتے ہیں۔ تشدد کے جو آلات میں نے وہاں دیکھے اور جو طریقے وہاں مستعمل تھے انھیں دیکھ کر بدن میں جھرجھری دوڑ جاتی ہے۔
یہی شاہ ایران جب اپنے اقتدار اور امریکی حمایت کی معراج پر تھا تو اس کے خلاف ایران کے مذہبی عناصر کی ایک واضح اکثریت بھی ہو گئی۔ ڈاکٹر علی شریعتی کی تحریریں اور تقریریں ایران میں اس مروجہ مذہبی رجحان کو بدلنے کا راستہ دکھا رہی تھیں۔ شریعتی کا وہ مضمون ،،تشیع صفوی و تشیع علوی،، عام ایرانی نوجوان کے دلوں کی دھڑکن تھا۔ اس مضمون میں انھوں نے بتایا کہ حضرت علیؓ اور ان کے پیروکاروں کا اسلام، قیام، جدوجہد اور باطل سے ٹکرانے کا اسلام ہے اور اس تشیع کا رنگ سرخ ہے جب کہ اس وقت ایران کا تشیع صفوی ہے جو صفوی بادشاہوں کا مسلک ہے جس میں گریہ اور مفاہمت ہے اور اس کا رنگ سیاہ ہے۔
کچھ عرصے بعد ایران میں شدت پسند اور دہشت گرد کی دو صورتیں ہو گئیں، ایک وہ جو پہلے بیان کی گئی اور دوسری وہ افراد جنھوں نے داڑھی رکھی ہو، بار بار مسجد یا حسینیان جاتے ہوں، گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر شریعتی کی تحریروں یا علامہ اقبال کی شاعری کا حوالہ دیتے ہوں۔ اب ان لوگوں کی پکڑ دھکڑ کا سلسلہ بھی شروع ہوگیا۔
شاہ ایران نے اپریل 1978ء میں آرمی کی اکیڈمی کی سالانہ پاسنگ آؤٹ پریڈ سے خطاب کرتے ہوئے عجیب رعونت سے کہا کہ میرے دور میں جمہوری اداروں کو استحکام آیا اور لوگ ووٹ کے ذریعے کتنے عرصے سے حکمران منتخب کر رہے ہیں، یہاں سفید انقلاب آ چکا ہے جس کے ذریعے ایک ایسی مڈل کلاس وجود میں آ چکی جو انقلاب کے راستے کی سب سے بڑی رکاوٹ ہے اور ہمارے ساتھ ساڑھے سات لاکھ مستعد فوج ہے جو ہر قسم کی لوٹ مار، تشدد، غنڈہ گردی اور دہشت گردی سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
شاہ ایران کے امریکی سرپرست بھی یہی سمجھ رہے تھے۔ امریکا کی اٹھارہ کے قریب مختلف سرکاری اور نجی تنظیموں نے یہ رپورٹ مرتب کی تھی ایران انقلاب کے راستے سے کوسوں دور ہے۔ ایرانی قوم ایک جمہوری، سیکولر اور آزاد خیال مزاج رکھتی ہے اس لیے وہاں ایسا تصور بھی ممکن نہیں۔
اس کے بعد کی کہانی ہر کسی کو معلوم ہے لیکن اس زمانے میں شاہ ایران اس کی ساوک کے دستے اور پولیس اپنی جہالت اور حکم کی تعمیل اور بجا آوری میں ایسے اقدامات کرتے جا رہے تھے جس نے مختلف گروہوں اور نظریوں میں بٹی ہوئی ایرانی قوم کو صرف اور صرف شاہ ایران اور اس کے سرپرست اعلیٰ امریکا کے خلاف متحد کر دیا۔ اقدامات پر غور کیجیے، جس کے گھر سے شریعتی کی کوئی کتاب، کارل مارکس کا کیمونسٹ مینی فیسٹو یا معاشیات کی کتاب داس کیپٹل برآمد ہو جاتی اس کتاب کے وزن کے مطابق سزا سنائی جاتی۔
ایک چھوٹے سے علمی کتابچے پر پانچ سال سزا ملتی اور اگر کسی کے گھر سے زیادہ کتابیں برآمد ہو جاتیں تو اس کا اتہ پتہ تک معلوم نہ ہوتا کہ وہ کہاں چلا گیا۔ نکارا گوا، چلی اور ہنڈراس میں بھی اسی طرح امریکیوں نے اپنی پٹھو حکومتوں کو سبق سکھایا تھا کہ اگر لٹریچر پر پابندی لگا دو تو پورے ملک میں امن ہو جائے گا۔ شاہ ایران نے بھی یہی کیا، کتب خانوں کے مالک اور پبلشرز ایسی کسی کتاب کو رکھنے سے بھی تھر تھر کانپنے لگے۔ لیکن جو لوگ ان کتابوں پر پابندی لگانے والے تھے اور جو اس حکم کو نافذ کرنے والے تھے ان کا علم اتنا تھا کہ ایک دفعہ انھوں نے ایک گھر میں چھاپہ مارا، وہ کسی کیمونزم سے عقیدت رکھنے والے نوجوان کا گھر تھا۔ اس کے پاس تو بہت کتابیں تھیں، یوں بہت بڑا دہشت گرد اور انقلابی سمجھا گیا۔
اس نے اپنے کمرے میں ویتنام کے رہنما ہو چی منہ کی تصویر لگا رکھی تھی۔ ساوک کے افسر نے اسے دو تین ٹھڈے مارے اور تصویر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کم ازکم اپنے اس بوڑھے باپ کا ہی کچھ خیال کر لیتے۔ ایران اور اس جیسے تمام ممالک، جہاں کسی بھی پرتشدد تحریک کا آغاز ہوا ہو وہاں سب سے پہلے لٹریچر پر حملہ کیا گیا اور وہ بھی انتہائی بھونڈے طریقے سے۔ زار روس کے زمانے میں کمیونسٹ لٹریچر ضبط ہونے لگا تو لوگوں کے ہاتھ سے لکھ کر اور کاربن کاپیاں کر کے لٹریچر تقسیم کرنا شروع کر دیا۔ حکومت مخالف تحریک، شدت پسندی یا دہشت گردی کتنی ہی کمزور ہو اس میں جان ہمیشہ ایسی کارروائیاں ڈالتی ہیں۔
مسئلہ یہ ہے کتابوں پر پابندی کی فہرستیں وہ مرتب کرتے ہیں جنھوں نے کتاب چھو کر بھی نہیں دیکھی ہوتی، بیورو کریٹ، پولیس والے، ایجنسیوں کے اہلکار۔ ایک ہزار سالوں سے شیخ عبدالقادر جیلانی کی کتاب غنیۃ الطالبین چھپتی چلی آ رہی ہے، کیا اس سے شیعہ سنی فسادات ہوئے، شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی کی کتاب تحفہ اثنا عشریہ دو سو سالوں سے چھپ رہی ہے، کیا وہ وجہ فساد ہے، اعلیٰ حضرت احمد رضا بریلوی کے فتاویٰ نے دہشت گردی کی آگ کو بھڑکایا ہے۔
یہ ایجنڈا کس کا ہے کہ کتب فروش جن کتابوں میں لفظ توحید، جہاد، باطل سے جنگ اور طاغوت جیسے لفظ بھی شامل ہوں انھیں اپنی دکانوں سے اٹھا رہے ہیں۔ ایک جہالت ہے، مدت ہوئی لاہور کے ایک اخبار میں شبلی نعمانی کی سیرت النبی قسط وار چھپنا شروع ہوئی۔ ایک تھانیدار نے قابل اعتراض مواد سمجھ کر مقدمہ درج کر لیا اور پھر علامہ شبلی نعمانی کی تلاش میں چھاپے مارنے شروع کر دیے۔
حکام کے سامنے اپنے نمبر بنانے والے افسران کو علم تک نہیں کہ وہ جو کروڑوں موبائل لوگوں کے ہاتھوں میں ہیں جن پر جی پی آر ایس اور وائی فائی میسر ہے، وہاں ہزاروں ایسی ویب سائٹس ہیں جہاں فرقہ وارانہ نفرت پر مبنی لٹریچر صرف چند سیکنڈ میں موبائل کی اسکرین پر آ جاتا ہے۔ یہی نہیں بلکہ ان تمام علماء کی شدت انگیز تقریریں بھی چند سیکنڈ میں ڈاؤن لوڈ ہو جاتی ہیں۔ بالکل ویسے ہی جیسے ایران میں کتابوں پر پابندی لگی تو کیسٹوں نے طوفان برپا کر دیا، لیکن یہاں تو کیسٹ خریدنے کی بھی ضرورت نہیں۔
تاریخ شاہد ہے کہ ایسی شدت پسندی، قتل و غارت یا دہشت گردی جسے علمی بنیادی میسر آ جائے اسے طاقت سے نہیں علم سے ہی ختم کیا جاتا ہے۔ موجودہ فرقہ واریت کی تعریف کون کرے گا۔ بحرین اور یمن کے دہشت گرد ایران اور عراق کے لیے انقلابی ہیں اور عراق اور شام کے دہشت گرد دیگر کے لیے انقلابی۔ ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے دین کی تعبیر کا کام علماء کے سپرد کر دیا ہے جو ہمیں زیادہ سے زیادہ سنی، شیعہ، دیوبندی، بریلوی بنا سکتے ہیں۔
جس دن پہلا فرقہ واریت کا قتل ہوا تھا اگر اس دن اس ملک کے نصاب تعلیم میں قرآن عربی کے ساتھ پڑھایا جاتا تو کسی کو اس کی تعبیر ڈھونڈنے کے لیے مولوی کے پاس نہ جانا پڑتا۔ وارث شاہ، غالب، رحمن بابا اور شاہ لطیف کی شاعری کے مطالب ڈھونڈنے کوئی کسی دوسرے کے پاس جاتا ہے۔ ہم فزکس، کیمسٹری، بیالوجی کے لیے انگریزی زبان سیکھتے ہیں لیکن قرآن ترجمہ سے پڑھتے ہیں۔ ہم پر قرآن کی ہیبت طاری ہوتی ہے اور نہ ہی ہم پر اس کے مطلب واضح۔ قرآن سے نصاب کی سطح پر رابطہ یہی ایک راستہ ہے نجات کا۔
وہ سیکولر دانشور جو یہ تصور لگائے بیٹھے ہیں کہ ہم اس تازہ جنگ سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اس ملک کے لوگوں کے آئیڈیلزم سے مذہب نکال دیں گے، انھیں اندازہ تک نہیں کہ ان کے یہ مشورے ہمیشہ تاریخ کا کوڑا دان بنے ہیں۔ مذہبی آئیڈئلزم کا اس ملک میں یہ حال ہے کہ لوگ فرقہ واریت تک بھول جاتے ہیں۔ کوئی یہ نہیں کہتا کہ یہاں چرچل، ڈیگال کیوں نہیں آتا۔ مسلک کوئی بھی ہو، سب یہی کہتے ہیں یہاں خمینی کیوں نہیں آتا۔

عالمی جنگ یا معرکۂ حق و باطل
اوریا مقبول جان جمعرات 29 جنوری 2015

چاروں جانب ایک افراتفری ہے، حالات میں ایک تیزی ہے، ایسے لگتا ہے دنیا پر حکمران طاقتیں جلداز جلد بہت سے کام کرنا چاہ رہی ہیں۔ اتنے محاذ تو پہلے کبھی نہ کھولے گئے تھے۔ دنیا میں دو عالمی جنگیں ہوئیں، لیکن وقت کے ساتھ ساتھ ملک اس میں شامل ہوتے گئے اور جنگ کے شعلے پھیلتے گئے۔لیکن اس وقت تو ایسے لگتا ہے جیسے ہندؤوں کے دیوتا ہنومان کی طرح جس نے اپنی دم میں آگ باندھی تھی اور دم کو گھما کر راون کی ساری سلطنت لنکا کو جلا کر خاکستر کر دیا تھا۔
ایسے حکمران کئی ہنومان ہیں جو اپنی دموں میں آگ باندھ کر انھیں لہرائے جا رہے ہیں۔ گزشتہ پانچ سال سے اس دنیا کو آگ اور خون میں نہلانے کی تیاریاں ہو رہی ہیں۔ 2008 میں جب سودی معیشت کا بلبلہ پھٹا تو عالمی سطح پر ایک ایسا بحران آیا کہ بڑی بڑی معیشتیں اور عالمی طاقتیں چیخ اٹھیں۔ وہ وال اسٹریٹ جو کبھی حکومتوں کو خریدا کرتی تھی، اس نے امریکی حکومت سے اپنی زندگی کی بھیگ مانگ لی۔فرمائش کی گئی کہ لوگوں کے پیسوں سے سات سو ارب ڈالر اسے دے دیے جائیں تو وہ سنبھل سکتی ہے۔
بینکوں کی سود کمانے کی خواہیش دم توڑ گئیں اور شرح سود صفر تک جا پہنچی۔ ایسے میں زوال کھاتی معیشت اور افغانستان و عراق میں شکست کھاتی فوجی قوت نے Randکارپوریشن کو ایک ذمے داری سونپی۔ اسے صرف ایک سوال دیا گیا کہ اس بحران سے کیسے نکلا جائے۔ تجویز بھی صرف ایک ہی دی گئی، اور وہ یہ کہ ایک بہت بڑی عالمی جنگ ہی امریکی معیشت کو چار چاند لگا سکتی ہے۔ میدان ِ جنگ پہلے سے گرم ہے، بس ذرا اس کو وسعت دینے کی ضرورت ہے۔
افغانستان اور عراق کے ساتھ جنگ کو دو ملکوں کے ساتھ جنگ بنا کر نہیں پیش کیا گیا تھا بلکہ دہشت گردی کے خلاف ایک عالی جنگ کہا گیا تھا۔اگرچہ جنگ کرنے والوں نے دہشت گردی اور شدت پسندی کے ساتھ کبھی اسلام کا لفظ استعمال نہیں کیا، لیکن اس جنگ میں قتل صرف اور صرف لاکھوں مسلمان ہی کیے گئے۔ رینڈ کارپورشن نے یہ مشورہ دیا کہ اس جنگ کو پھیلا دو۔ تین ملک ایسے ہیں جن کی معیشت مضبوط ہے، جنگوں کا بوجھ اٹھا سکتی ہے۔ بھارت، چین اور روس۔ تینوں ممالک میں کروڑوں کے حساب سے مسلمان بستے ہیں۔
لیکن ان ملکوں کے ساتھ اس جنگ کولڑے گا کون؟۔ تجویز دی گئی کہ دو ملک ایسے ہیں، ایک پاکستان اور دوسرا افغانستان۔ ایک ملک میں عسکری اور انتظامی صلاحیت ہے اور دوسرے میں دیوانوں، فررزانوںاور جہادیوں کی کمی نہیں۔2010کے آغاز میں اس تجویز کو سرکاری پالیسی کا حصہ بنایا گیا اور پھر دو اعلان سامنے آئے، ایک یہ کہ امریکی اور اتحادی افغانستان سے چلے جائیں گے اور دوسرا یہ کہ اگلے دس سال امریکا اپنا سرمایہ اور وقت بحرہند اور بحرا الکایل کے ممالک میں صرف کرے گا جو فلپائن سے لے کر برما تک پھیلے ہوئے ہیں۔ اس کے بعد سے پاکستان اب عالمی سفارت خانوں میں انڈوپاک ریجن کے طور پر نہیں جاناجاتا بلکہ افغان پاک ریجن ہو چکا ہے۔
اس ریجن یا علاقے میں ایسی حکومتوں کے لیے راہ ہموار کی جارہی ہے جو خطے کے تینوں ممالک میں پھیلے مسلمانوں میں جہاد کی روح پھونکیں اورایک نہ ختم ہونے والے جنگ شروع کریں جس سے روس، چین اور بھارت متاثر ہوں اور وہ اسلحہ اور دیگر سہولیات کے لیے سات سمندر پار امریکا کے محتاج ہو جائیں۔ ان ممالک میں لڑنے والے مسلمانوں کو بھی اسلحہ فراہم کرنے والے امریکی اسلحہ ساز فیکٹریوں سے اسلحہ خریدیں اور یوں امریکا کا ملٹری انڈسٹریل کمپلیکس رات دن ترقی کرنے لگے۔ جس سال یہ رپورٹ منظر عام پر آئی، دو ملکوں نے اس پر شدید احتجاج کیاتھا۔ ایک چین اور دوسرا فرانس لیکن میڈیا پر مخصوص قبضے کی وجہ سے یہ دونوں احتجاج دب کر رہ گئے۔
چند سال پہلے یہ رپورٹ فقط ایک تجویز نظر آتی تھی جس کے کچھ حصے منظر عام پر آئے تھے، لیکن آج یوں لگتا ہے اس پر مکمل عمل درآمد ہو نے والاہے اور ایک بہت بڑے اسٹیج کے لیے تیاریاں مکمل ہو رہی ہیں۔ ایک بہت بڑی عالمی جنگ کا اسٹیج۔ عرب دنیا میں گزشتہ چند سالوں سے جو عرب بہار کے نام تحریکیں برپا ہوئیں اور پھر ان کے انجام نے جس افراتفری نے جنم لیا اس نے پورے خطے میں اسلحے کی دوڑ کو تیز کر دیا۔ شام، عراق،لیبیا، سودی عرب، یمن، بحرین، نائجیریا، صومالیہ، ہر طرف بندوقیں تنی ہوئیں ہیں، اور ان ملکوں میں سے کوئی بھی اسلحہ نہیں بناتا، سب امریکا اور حواریوں سے خریدتے ہیں۔
روس کے ساتھ مغرب کے تعلقات بہتر تھے اور مغربی طاقتیں بھی اس کی بہت عرصہ ناز برداری کرتی رہیں۔ لیکن اب یہ ایک دوسرے کے آمنے سامنے آکھڑے ہوئے ہیں۔ آج سے صرف چند سال پہلے اگر کسی کو یہ بتایا جاتا کہ امریکا کے علاقے ٹیکساس اور اوکلوہاما میں موجود تیل کے ذخائر کو مارکیٹ میں لے آیا جائے گا جنھیںShaleآئل کہتے ہیں، تو کوئی یقین تک نہ کرتا۔ کیونکہ اس تیل کو زمین سے نکالنے میں اسقدر لاگت آتی ہے کہ اگر تیل ستر ڈالر فی بیرل نہ بکے تو نقصان کا خدشہ ہوتا ہے۔ لیکن چونکہ جنگ میں مخالفین کو مالی طور پر کمزور کرنے اور اتحادیوں کے سرمائے میں اضافے کی ضرورت ہوتی ہے۔
اس لیے امریکا اب تیل پیدا کرنے والا سب بڑا ملک بن چکا ہے۔ تیل کی قیمتیں گرنے سے جو کچھ ہوا،اس سے آیندہ کے منظر نامے کا پتہ چلتا ہے۔ بھارت ہر سال تیل پر دس ارب ڈالر کی سبسڈی دیتا ہے اب یہ اس کی بچت ہے۔ چین کا معاملہ یہ ہے کہ اگر تیل کی قیمتوں میں ایک ڈالر کی کمی ہوتی ہے تو اس کی بچت میں2ارب ڈالر کا اضافہ ہوگا۔ امریکا میں ہر شہری کی بچت دوگنی ہو جائے گی۔لیکن روس، ایران،وینزویلا اور سعودی عرب کی معیشتیں خطرات کا شکار ہوں گی۔ ان میں سعودی عرب خطرے سے سنبھل سکتی ہے لیکن روس کا روبل تو بری طرح اپنی قیمت کھو چکا ہے۔ ایران کو اپنی معیشت بچانے کے لیے امریکا اور مغربی طاقتوں سے اتحاد کرنا پڑرہا ہے تا کہ پابندیاں ختم ہوں اوروینز ویلا تو شاید دیوالیہ ہو جائے۔ تیل سے پیدا ہونے والے اس بحران میں جنگوں کی آگ بھی سلگنے لگی ہے۔
چین اور بھارت دو حکومتیں سب سے زیادہ فائدہ اٹھائیں گی اور ہنومان اپنی دم میں آگ باندھ کر بھارت پہنچ گیا ہے۔ ساری بچت اسلحے کی خریداری پر خرچ ہوگی۔ دوسری جانب پاکستان کا خوف اسے چین لے گیا ہے اور چین کا خوف اسے یاد دلا رہا ہے کہ یہ ساری منصوبہ بندی تو اس کے خلاف پانچ سال سے چل رہی ہے۔ لیکن چین کی تاریخ تو تجارت سے بھری پڑی ہے، لڑائی سے اس کا دور کا واسطہ نہیں ، بس دیوار چین بناؤ اور خود کو محفوظ کر لو۔ امریکا کے ساحلوں سے لے کر ملیشیا، انڈونیشیا، تھائی لینڈ اور دیگر ممالک میں چند فیصد چینی بستے ہیں جو نوے فیصد سے زیادہ کا روبار پر چھائے ہوئے ہیں ۔فرانس نے ذرا سا اس جنگ سے باہر ہونے کے لیے ہاتھ پاؤں مارے ہی تھے کہ کارٹونوں کے واقعے کے بعد پورے یورپ کو وہاں اکٹھا کر دیا گیا۔ یورپ کیوں نہ اکٹھا ہوتا، جس دولتِ اسلامیہ سے جنگ کا میدان سجایا جار ہا ہے۔
اس میں یورپ کے ممالک کے مسلمان لڑنے جار ہے ہیں اور تشویش کا عالم یہ ہے کہ وہاں پر بسنے والے مسلمانوں کو بحیثیت مجموعی شدت پسند اور دہشت گرد کہا جا رہا ہے۔ جرمنی کی چانسلر نے جب یہ کہا کہ اسلام کا تعلق جرمنی سے بھی ہے توDEGIDAتحریک پچیس ہزار افراد کو سڑکوں پر لے آئی اور نعرہ یہ تھا کہ یورپ اور اسلام دو مختلف نام ہیں۔ تمام اسٹیج سج چکا ہے اور اب لبنان کے قریب اسرائیل کے سپاہیوں پر میزائل سے حملہ ایک بار پھر حزب اللہ اسرائیل جنگ کی یاد تازہ کر رہا ہے۔ دبئی میں سرمایہ کاری شروع ہوئی تو سب نے مل کر سوچا کہ کونسا شہر ایسا ہے جو دبئی کی اس سرمایہ کاری کا مقابلہ کر سکتا ہے ۔ سب اس نتیجے پر پہنچے کہ بیروت ہے۔عربوں کی عیاشی کا سب سامان بھی موجود ہے اور زبان کا مسئلہ بھی نہیں۔ پھر کیا تھا دو سرائیلی سپاہی حزب اللہ کے قبضے میں آئے اور جنگ شروع ہوگئی۔
حزب اللہ کے سب ٹھکانے تو محفوظ رہے جو اسرائیل کی سرحد پر واقع تھے، حسن نصراللہ بھی ہزاروں لوگوں کی ریلیاں بھی کرتا رہا، کوئی القاعدہ یا طالبان ہوتا تو ڈرون سے اڑا دیا جاتا، لیکن بیروت شہر کی اینٹ سے اینٹ بجا دی گئی۔ حالانکہ بیروت شہر میں تو عام شہری رہتے تھے۔اسرائیل کو ایک بار پھر اس جنگ میں براہ راست دھکیلنے کا مقصد شام اور عراق میں جنگ کے شعلوں کو بھڑکانا ہے۔ بشارالاسد پر حملہ ہو یا دولتِ اسلامیہ پردونوں صورت اسرائیل کی خوشی۔ کیا یہ صرف ایک عالمی جنگ کا آغاز ہو گا یا آخری معرکۂ حق و باطل۔ہر کسی کا ایمان اسے روشنی دکھا سکتا ہے۔

جمہوری نظام کی جبری مشقت
اوریا مقبول جان اتوار 1 مارچ 2015

گزشتہ دو سو سال سے پوری دنیا میں جس طرز معاشرت کا غلبہ ہے اس کا جنم علم کی ایک مخصوص قسم کی کوکھ سے ہوا ہے جسے سوشل سائنسز کہتے ہیں۔ اپنے آغاز میں علم انسانی تہذیب اور معاشرت کی تاریخ مرتب کرنے تک محدود تھا۔ یہ تاریخ عموماً واقعاتی ہوتی لیکن جب اس کے ساتھ ایک دوسرے علم کا تڑکا لگا تو اس میں سے اتنی شاخیں پھوٹیں کہ گننا مشکل ہو گیا۔ یہ دوسرا علم تھا فلسفہ۔ فلسفہ جس کے پانچ بنیادی سوال، میں کون سے شروع ہو کر یہ کائنات کیا، کیسے، کیوں کب اور کدھر جا رہی ہے نے تاریخ کے واقعات کی توجیہات کرنا شروع کیں تو فلسفہ تاریخ نے انسانی تجربات کے عوامل، نتائج اور ان کے خدوخال سے پولیٹکل سائنس، سوشیالوجی، سائیکولوجی انتھرو پالوجی اور ایسی کئی سوشل سائنسوں نے جنم دیا۔
ان سب کا بنیادی تصور یہ تھا کہ جس طرح انسان مادی طور پر ارتقاء کی منازل سے گزر رہا ہے، پہاڑوں کی غاروں سے بلند و بالا عمارتوں تک آ پہنچا ہے اسی طرح اس کی اخلاقیات، طرز حکومت اور تصور عبادت بھی ارتقاء کر رہا ہے اور یہ سب کچھ انسان نے حالات سے سیکھ سیکھ کر بہتر بنایا ہے۔ انسان سے بالاتر کوئی ہستی ایسی نہیں جس نے اسے مذہب، اخلاق، خاندانی و معاشرتی زندگی کے اصول بتائے ہوں۔ اللہ، بھگوان، یزدان اور دیگر تصورات سب انسانی ذہن کی تخلیق ہیں۔ ہر معاشرے نے اپنی ضروریات کے مطابق اپنا خدا تخلیق کیا اور اپنے ہی مرتب کیے ہوئے اصولوں کو مذہب کا نام دے کر الہامی بناتے ہوئے معاشرے پر نافذ کر دیا ہے۔
ہزاروں سالہ انسانی تاریخ کی ان توجیہات کی بنیاد پر ان علوم کی کوکھ سے سیکولرزم نے جنم لیا اور پھر اس کے بیج سے جس تناور معاشرتی درخت نے اپنی شاخیں پھیلائیں اسے جدید مغربی تہذیب (Modern Westeran Civilization) کہتے ہیں۔ اس تہذیب کی بنیادی علامتوں میں جدید سیکولر قومی جمہوری ریاستوں کا قیام، سیکولر اخلاقیات کا پھیلاؤ، حقوق نسواں کی تحریکیں اور ’’انسان عظیم ہے خدایا،، کا فلک شگاف نعرہ شامل ہے۔ اس تہذیب نے جس سرمائے سے ترقی کی وہ بینکاری نظام کا سود اور کاغذ کے نوٹ کا مصنوعی تصور زر ہے۔ اس مصنوعی دولت کے انباروں نے دنیا بھر کے وسائل اس جدید مغربی تہذیب کے قبضے میں دے دیے۔
1694ء میں بینک آف انگلینڈ نے پہلا کاغذ کا نوٹ چھاپا اور پھر سو سال تک انگلینڈ نے صرف اپنی بحری عسکری طاقت میں اضافہ کیا اور اس کے بعد دنیا پر چڑھ دوڑی۔ انھوں نے شروع میں کسی سائنسی ترقی کی طرف توجہ نہ دی بلکہ صرف اور صرف فوجی قوت کو مضبوط بنایا۔ اس کے بعد کے اگلے سو سال اسی مصنوعی کاغذی دولت اور اس سے پیدا کی گئی عسکری طاقت نے دنیا بھر کے وسائل پر قبضہ کر لیا۔ چند لاکھ ڈالروں کی لاگت سے بہترین سیاہی اور کاغذ پر اربوں ڈالر چھاپے جاتے ہیں اور ان سے بزور مسلمان ملکوں کا تیل خرید لیا جاتا ہے۔
آج اگر تیل پاکستانی روپے میں فروخت ہونا شروع ہو جائے تو ایک روپے میں سو ڈالر بکنے لگیں۔ اسی مصنوعی کاغذی دولت سے دنیا کی پنتالیس ہزار کارپوریشنیں چلتی ہیں جن کو پانچ سو بنیادی (CORE) کارپوریشنیں کنٹرول کرتی ہیں اور ان کو صرف بیس بینک سرمایہ فراہم کرتے ہیں۔ ریاستوں سے بھی طاقتور اس سودی نظام نے اپنے تحفظ کے لیے ایک سیاسی نظام بھی وضع کیا۔ جسے سیکولر جمہوریت کہتے ہیں۔ اس نظام کو ترتیب دینے، اس کی نوک پلک سنوارنے کے لیے ان سوشل سائنسز کے علم نے بہت بڑا کردار ادا کیا۔
جمہوری نظام کی اساس اس بنیادی نکتے پر رکھی گئی کہ طاقت اور قوت کا سرچشمہ عوام ہیں۔ وہی اس زمین کے مالک اور بادشاہ ہیں، انھیں کا کام ہے کہ قانون مرتب کریں اور اپنی سماجی زندگی کی اخلاقیات طے کریں۔ یوں اس بنیادی تصور نے سب سے پہلے جس تصور کا خاتمہ کیا وہ انسان سے بالاتر کسی ہستی کی بادشاہت کا تھا۔ ’’الملک‘‘ یعنی حقیقی حکمران جو اللہ کی صفت تھی اب عوام کی عطا کر دی گئی۔ لوگوں کو اس فریب میں مبتلا کرنے کے بعد اگلا سوال یہ پیدا ہوتا تھا کہ ان لوگوں کو کنٹرول کیسے کریں، یہ تو ہر ملک میں کروڑوں کی تعداد میں ہیں۔ یہاں سے منتخب نمایندوں کا تصور پیدا ہوا، پارلیمنٹ، کانگریس، اسمبلی جیسے ادارے وجود میں آئے۔
لوگوں کو یہ خوبصورت خواب دکھایا گیا کہ تم جو ووٹ دیتے ہو اس کے ذریعے یہ لوگ ان اداروں میں جاتے ہیں اور وہاں اپنے لیے صدر یا وزیراعظم منتخب کرتے ہیں، ان سب کو اصل میں تم منتخب کرتے ہو، یہ سب کچھ تمہارے ووٹوں کی وجہ سے ہوتا ہے۔ اصل میں تم حاکم ہو، کوئی رکن اسمبلی، صدر یا وزیراعظم حاکم نہیں۔ عوام کو اس خواب کی لذت میں گم کرنے کے بعد کس قدر آسان تھا کہ ان دو سو یا تین سو اراکین پارلیمنٹ یا کانگریس کو کنٹرول کر لیا جائے تو پھر نظام سیاست و حکومت مٹھی میں آ جائے گا۔
اس نظام سیاست و حکومت کو کنٹرول کرنے کے لیے ایک بہترین طریقہ نکالا گیا۔ سیاسی پارٹیاں، پارٹی پالیٹکس۔ دنیا میں کوئی جمہوری نظام ایسا نہیں جو سیاسی پارٹیوں کے بغیر چلتا ہو۔ یہ تمام سیاسی پارٹیاں جو دنیا کے ہر ملک میں پائی جاتی ہیں اپنے آپ کو نظریاتی پارٹیاں کہتی ہیں۔ لیکن امریکا، برطانیہ اور بھارت سے لے کر پاکستان جیسے کسی بھی ملک کی سیاسی پارٹیوں کے منشور اٹھا لیں، سوائے چند ایک شقوں کے ان میں کوئی زیادہ اختلاف نظر نہیں آئے گا۔ یہ نظریاتی گروہ نہیں ہیں بلکہ سیاسی لیڈروں کے جتھے میں جنہیں ایک جگہ اس لیے جمع کیا جاتا ہے کہ انھیں براہ راست یک مشت سرمایہ فراہم کیا جاسکے۔ یہی سرمایہ ہے سیاسی پارٹیوں کے الیکشن، کنونشن، ہڑتالوں، دھرنوں اور جلسوں پر خرچ ہوتا ہے۔
پارٹی لیڈروں کی آمد و رفت سے لے کر پارٹی دفاتر کے اخراجات سب اسی سے ادا ہوتے ہیں۔ دنیا کی تاریخ کا سب سے زیادہ سرمایہ امریکی سینیٹ کے گزشتہ مڈٹرم الیکشن پر صرف کیا گیا۔ اس کا تخمینہ تقریباً 5 ارب ڈالر تھا۔ گزشتہ امریکی صدارتی الیکشن میں Duke انرجی، AT&T اور بینک آف امریکا نے ریپبلکن اور ڈیمو کریٹ دونوں پارٹیوں کے کنونشنوں کے لیے 6 کروڑ ڈالر فی پارٹی فراہم کیے۔ دنیا کی ہر سیکولر جمہوریت میں سیاسی پارٹیاں اسی طرح سرمایہ حاصل کرتی ہیں اور حکومت میں آ کر سرمایہ فراہم کرنے والے گروہوں کے مفادات کا تحفظ کرتی ہیں۔ یوں سرمایے سے پوری کی پوری پارٹی مکمل طور پر خرید لی جاتی ہے۔ اسی لیے اگر آپ آج نان پارٹی الیکشن کی بات کریں تو ہر کوئی سانپ کی طرح پھنکارتا ہے کہ یہ آمریت کی طرف ایک قدم ہے۔ لیکن پارٹی آمریت کو دنیا بھر میں پارٹی وفاداری سے تعبیر کیا جاتا ہے۔
اس جمہوری نظام میں سب سے برا شخص وہ سمجھا جاتا ہے جو پارٹیاں بدلتا رہتا ہے۔ کہا جاتا ہے اس کا کوئی دین ایمان نہیں۔ اس لیے کہ اس نظام میں پارٹی اراکین کے ’’دین ایمان‘‘ کو ایک ساتھ فنڈز فراہم کرنے والوں کے ہاتھ فروخت کیا جاتا ہے۔ ان سب کی حیثیت بھٹے پر کام کرنے والے ان مزدوروں کی طرح ہے جن سے جبری مشقت لی جاتی ہے۔ بھٹے کا مالک ایک کاغذ پر لکھی تحریر کے بدلے ان کے خاندان کے تمام افراد کو خرید لیتا ہے۔ ان کی ذاتی، سیاسی اور معاشرتی زندگی سب اس کے قابو میں ہوتی ہے۔ اسی طرح ایک سیاسی پارٹی کا سربراہ اپنے تمام اراکین کا بلاشرکت غیرے مالک بن جاتا ہے۔
کوئی رکن اس کی سوچ کے خلاف کوئی بات تو کہہ کر دیکھے، اس کے مخالف کی شادی بیاہ میں شریک ہو کر دکھائے، اس کی اولاد اور گھرانے کی تعریف نہ کرے، پھر دیکھو۔ یہ سب کے سب اراکین چابی سے چلنے والے ان کھلونوں کی طرح بنا دیے جاتے ہیں کہ جس میں جتنی چابی بھرو گے وہ اتنا ہی بولے گا ورنہ لاکھ سوال کرو چپ سادھ لے گا۔ اسی لیے دنیا بھر میں پارٹی چھوڑنے کی سزا سب سے المناک ہے۔ جمہوری نظام کی اس منڈی میں سودے اجتماعی ہوتے ہیں۔ پورے ریوڑ کی بولی لگتی ہے۔ گستاخ بھیڑوں کی کیا مجال کہ اپنی بولی خود لگائیں۔ جنہیں گلی محلوں، علاقوں اور قصبوں میں الیکشن کے دوران ووٹ خریدتے ہوئے شرم دامن گیر نہیں ہوتی، انھیں ایسا ووٹ سینیٹ کے الیکشن میں بیچتے کیوں شرم آئے گی۔

نہ مصطفیٰ نہ رضا شاہ میں نمُود اس کی
اوریا مقبول جان جمعـء 27 فروری 2015

کسی قوم کی ترقی اور عروج کی داستان تحریر کرنا ہو تو اس کا کمزور ترین پہلو بھی یوں اجاگر کیا جاتا ہے کہ لوگ یہ سمجھنے لگ جائیں کہ اگر صرف یہی ایک خاصیت ہم پیدا کر لیں تو ترقی ہمارے قدم چوم لے گی۔ لیکن اگر زوال کی تاریخ مرتب کرنا ہو تو اس قوم کی شاندار خصوصیت کو بھی اس کا جرم بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔
زوال میں سخاوت بے و قوفی بن جاتی ہے اور عروج میں ایک اعلیٰ انسانی قدر ۔گذشتہ ڈیڑھ دو سوسال سے جدید مؤرخین اور تجزیہ کاروں نے یہ فیشن اختیار کر لیا ہے کہ دنیا کی کسی بھی قوم کے زوال میں اہم ترین محرّک ،مذہب کو ثابت کیا جائے۔ یوں تو براہ راست مذہب کو برائی کا سرچشمہ نہیں کہا جاتا، لیکن اس کے نمایندہ افراد کو تضحیک کا نشانہ بنا کر مقصد پورا کر لیا جاتا ہے۔
جیسے یہ کہا جائے کہ، اسلام میں تو کوئی برائی نہیں، اصل میں ملّا، مولوی، عالم اور آخر کار سارے مسلمان ہی نکمے، ناکارہ اور بے کار ہیں۔ سیکولر، جمہوری، قومی ریاستوں کے وجود میں آنے کے بعد علمی سطح پر یہ نظریہ راسخ کروادیا گیا ہے کہ دنیا میں دراصل قتل و غارت گری کا منبع اور مآخذ صرف اور صرف مذہب ہے۔
ہر مؤرخ ،تجزیہ کار اور دانشور یہی دلیل زور و شور سے دیتا ہے۔لیکن اگر کوئی سوال اٹھائے کہ جدید سیکولر جہوری اور قومی ریاستیں وجود میں آنے کے بعد ان قوموں نے دو عالمی جنگیں لڑیں اور کروڑوں لوگوں کو قتل کیا تو تاریخ کے اس سب سے بڑے قتل عام کے وقت مذہب ریاست کے کاروبار سے بہت دور تھا اور مذہبی رہنماؤں کا تو وجود ہی بے ضرر کیڑے مکوڑوں کی حیثیت تک محدود ہو چکا تھا،ایسے میں قتل کا ذمے دار کون تھا۔ تو جواب گول کر دیا جاتا ہے۔
جنگ عظیم اوّل جس کے بعد مسلم امّہ ٹکڑوں میں بانٹ دی گئی اور صرف خلافت عثمانیہ ہی نہیں بلکہ لفظ خلافت بھی مسلمانوں کی روز مرہ لغت سے خارج ہو گیا۔ اس کے غبار سے ایک شخصیت ابھری جسے مصطفیٰ کمال المعروف اتا ترک کہتے ہیں۔ ایک طویل عرصے تک مسلم امہ کے تن مردہ میں جان ڈالنے اور ترکی کو جدید دنیا کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کا اسے ہیرو بنا کر پیش کیا جاتا تھا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب مسلمان اپنی مرکزیت یعنی خلافت کی بقا کے لیے پریشان تھے۔ برصغیر جو خود انگریز کا غلام تھا، وہاں سے پہلی منظم سیاسی تحریک ابھری تھی جسے تحریک خلافت کہا جاتا ہے۔
جس کے بارے میں گاندھی جیسے لیڈر نے بھی کہا تھا کہ اگر اسے اپنی زندگی میں کسی تحریک پر فخر کرنا پڑے تو میں تحریک خلافت پر کروں گا، کہ اس نے یہاں کے رہنے والوں کو سیاسی شعور عطا کیا تھا۔ ایسے دور میں خلافت کے ادارے کو مضموم قرار دینے، امتِ مسلمہ کے تصور کے مقابلے میں ترک قومیت کا تصور اجاگر کرنے اور یورپ کی تہذیبی اساس کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنانے کو ترقی کی معراج سمجھنے والے اتاترک کو ہیرو بنا کر پیش کیا جاتا رہا اور آج بھی کبھی کسی کی طبیعت میں انگڑائی اٹھتی ہے تو وہ اتاترک کی عظمت کے گیت گانے کے سا تھ ساتھ خلافت عثمانیہ کے زوال کو مذہبی طبقے کی بالادستی اور مذہب کے ساتھ نتھی کردیتا ہے۔
دراصل اس خلافت عثمانیہ کے خلاف نفرت مسیحی یورپ کے رگ وپے میں ازل سے رچی ہوئی ہے۔ اس لئیے کہ اس کے بطن سے صلاح الدین ایوبی نے جنم لیا تھا۔ مسلمانوں کی مرکزیت کی علامت یعنی’’ خلافت‘‘ کو متنازعہ بنانے کے لیے ایران کے صفوی حکمران شاہ اسمعیل سے جنگ کرائی گئی۔ لیکن جنگِ چلدران میں شکست کے بعد مصر میں خلافت عثمانیہ مستحکم ہوئی تو 1453 سے1683تک پوری دنیا میں خلافتِ عثمانیہ کے ہم پلہ کوئی اور طاقت وجود ہی نہیں رکھتی تھی۔ ایک ایسی بحری طاقت جس کا مقابلہ کرنے کی کسی میں تاب نہ تھی۔
ایک ایسا اقتصادی نظام جو کارپوریٹ استحصال سے پاک تھا۔ جس کے بارے میں تمام ماہرِ معاشیات متفق ہیں کہ خلافت عثمانیہ کا بازار آزاد معیشت کا آخری بازار تھا جو سود اور’’ مڈ ل مین‘‘ کے تسلط سے آزاد تھا۔’’ مجلہ عدلیہ‘‘ وہ انصاف کا نظام جس میں چیف جسٹس جسے شیخ الاسلام کہتے تھے، اس کے سامنے سلطان تک جوابدہ تھا اور بادشاہ کی معزولی کے لیے بھی چیف جسٹس کے فیصلے کی ضرورت تھی۔ خلافت عثمانیہ کی فضائیہ کی بنیاد 1909میں رکھ دی گئی تھی یعنی جہاز ایجاد ہونے کے پانچ سال بعد۔ اور اس کی بحریہ تو بہت قدیم تھی۔
یہ تھی وہ خلافت عثمانیہ جس کی خلافت کے خلاف پہلے مشرقی یورپ کے علاقوں میں قوم پرستوں کو اکسایا گیا اور آسٹریا نے ان قوم پرستوں کی مدد کر کے بلقان کی ریاستوں کو علیحدہ کروالیا اور پھر اسی قوم پرستی کی لہر کو لارنس آف عربیہ کے ذریعے عربوں تک پھیلا دیا گیا اور جنگ عظیم اوّل میں شکست کے بعد خلافتِ عثمانیہ مصطفیٰ کمال اتا ترک کی قیادت میں ختم کر دی گئی۔ شکست تو جرمنی کو بھی ہوئی، جنگ عظیم دوم میں جاپان اور اٹلی کو بھی ہوئی، لیکن کوئی وہاں شکست کی وجہ مذہب کو نہیں بتاتا۔ وہاں تو ترقی بھی ہوئی تھی۔ تمام دنیاوی علوم بھی پڑھائے جاتے تھے۔
پرنٹنگ پریس تو گٹن برگ نے قائم ہی جرمنی میںکیا تھا۔ اسے کسی مولوی نے نہیں روکا تھا۔ وہاں تو لاؤڈ اسپیکر کا جھگڑا بھی نہیں تھا۔ کفر کے فتوے بھی نہیں لگتے تھے لیکن پھر بھی جرمنی، اٹلی اور جاپان کو ذلت آمیز شکستوں کا سامنا کرنا پڑا۔ ان کی شکست کے اسباب لکھتے ہوئے تو کسی کو اس رنگ آمیزی کی ضرورت نہیں پڑتی۔اس لیے کہ وہ تما م کی تمام ریاستیں سیکولر قوم پر ستانہ ریاستیں تھیں۔ اور خلافت عثمانیہ رنگ ونسل سے بالا تر مسلم امہ کی مرکزیت کی علامت تھی۔اسی لیے اسے مردود قرار دیتے ہیں اور پھر اس کی ناکامی کو مذہبی طبقوں کے ساتھ منسلک کرنے سے اصل مقصد اسلام کو بدنام کرنا ہوتا ہے۔
کیا خلافت کا نظام ہی خلافتِ عثمانیہ کے زوال کا سبب تھا جسے اتا ترک نے تبدیل کیا۔ خلافتِ عثمانیہ کا زوال عین اس دن شروع ہو گیا تھا جب یورپ کی دیکھا دیکھی سلطان محمود ثانی نے1839سے لے کر 1876تک آئین اور آئینی اصلاحات کے راستے کا آغاز کیا۔ اس نے مغربی طرز پر ایک جدید فوج مرتب کی۔1856میں خط ہمایوں کے ذریعے آرمینیاء کے عیسائی دانشوروں کی مدد سے 150شقوں پر مرتب کردہ ایک قانون بنایا گیا جسے’’ نظام نامہ ملتِ آرمینیان‘‘ کہا جاتا ہے۔
عیسائیوں کو خصوصی حقوق دیے گئے۔1860ء میں اللہ اور اس کے رسول سے جنگ کا اعلان کرتے ہوئے سودی بینکاری کا آغاز کیا گیا۔ مغربی جامعات میں پڑھنے والے چند افراد کے ایک گروہ نے ایک اساسی آئین مرتب کیا جس کے تحت خلافت عثمانیہ نہیں بلکہ حکومت کو آئینی بادشاہت کا درجہ دے دیا گیا جو ماڈرن سیکولر ریاست کی طرز پر تھی۔
اس آئین کے مطابق مسائل کا حل آئینی بادشاہت میں تھا، جیسے برطانیہ، بلجیم، ڈنمارک، سویڈن وغیرہ میں ہوتی ہیں ۔بادشاہ مرادپنجم ذہنی معذور تھا۔ اس کو عہدے سے ہٹایا گیا تو اس کے جانشین عبدالحمید ثانی کو اس شرط پر بادشاہت سنبھالنے کی دعوت دی گئی کہ وہ آئینی بادشاہت کو قبول کر ے گا، جس پر اس نے23نومبر1876پر عمل شروع کیا اور ایک مغربی طرزِ کی پارلیمان بھی بنا دی۔
خلافت سے آئینی بادشاہت کے سفر کے بعد جو خلافت عثمانیہ پر بیتی وہ ایک تاریخ ہے۔ روس اس پر چڑھ دوڑا، جنگ میں شکست پر قبرص کو پٹے پر برطانیہ کو دینا پڑا۔ اس کے بعد اتحادی افواج نے پوری کی پوری سلطنت عثمانیہ کو ایسے تقسیم کیا جیسے میز کو کیک پررکھ کر کاٹا جاتا ہے۔ ہرنسل رنگ اور علاقے کی بنیاد پر مملکتیں وجود میں آگئیں۔
ایسے میں ترک قومیت کے نعرے پر اتاترک نے بھی اپنے لیے یاپھر ترک قوم کے لیے ایک ماڈرن سیکولر قومی ریاست تشکیل دے دی۔لیکن یہ صرف اسی وقت ممکن ہو سکا جب تقریباَ پچاس سال پہلے خلافت عثمانیہ اپنے اصل رستے سے بھٹک کر آئینی بادشاہت، جمہوریت، سیکولرزم اور نسلی برتری کی بھول بھلیوں میں کھوگئی تھی۔ اتا ترک خلافت نہیں آئینی بادشاہت ختم کرسکا، اور اسے پورے مغرب نے ہیرو بنا کر پیش کیا اور کوشش کی کہ مسلم امہ اس سے اپنی امیدیں وابستہ کر لے ۔ اسی لیے تو اقبال نے کہا تھا۔
نہ مصطفی نہ رضا شاہ میں نمُود اس کی
کہ رُوحِ شرق بدن کی تلاش میں ہے ابھی
رُوحِ شرق جس بدن کی تلاش میں ہے، وہ اتا ترک کا نعم البدل نہیں بلکہ وہ امام مہدی ہے جو اس امت کو ایک بار پھر متحد کرے گا جس کے بارے میں اس امت کا ہر مسلک متفق ہے۔ جس کے بارے میں میرے آقا سیّد الابنیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ وہ خلافتِ علی منہاج النبوہ قائم کرے گا اور کوئی جھونپڑی ایسی نہ ہو گی جس میں اسلام داخل نہ ہوجائے ( مفہوم حدیث) اس امت کو کسی اتاترک کی نہیں اسی مہدی کا انتظار ہے۔

سودی معیشت کا کارپوریٹ کلچر اور اس کا لٹریری فیسٹیول
اوریا مقبول جان پير 23 فروری 2015

اگر بڑی بڑی نئے ماڈل کی چمکدار گاڑیوں سے اترتے ہوئے ڈیزائنر ملبوسات زیب تن کیے لوگ الحمرا لاہور کی روشوں پر چلتے ہوئے ہاتھوں میں انگریزی زبان میں چھپا ایک ادبی تقریب کا بروشر تھامے ایک ایسی زبان بولتے نظر آئیں جسے آپ نہ انگریزی کہہ سکیں اور نہ ہی اردو، پنجابی تو خیر ان کو چھو کر بھی نہیں گزری ہوتی کہ اس کے بولنے سے ایک میلے پن کا تصور انھیں گھیر لیتا ہے، تو یوں سمجھیں آپ لاہور لٹریری فیسٹیول کے دنوں میں اس جگہ کو دیکھ رہے ہیں۔
کارپوریٹ سرمائے کی چکاچوند سے یہ میلہ اب ہر سال لگتا ہے جس کا ماحول پیرس کی کسی کیٹ واک سے مختلف نہیں ہوتا۔ فرق صرف یہ ہے کہ وہاں کارپوریٹ کلچر کی اشرافیہ کے ملبوسات کی نمائش چند مشہور چہروں کے ذریعے کروائی جاتی ہے اور یہاں اسی کارپوریٹ کلچر کی اشرافیہ کے لیے تخلیق کیے گئے ادب کو چند مشہور چہروں کی موجودگی اور ملبوسات کی رنگا رنگی سے مقبول بنانے کی بھونڈی سی پیش کش کی جاتی ہے۔ نہ فیشن شو میں کیٹ واک کرتی خوبصورت ماڈلز نے جو ملبوسات زیب تن کیے ہوتے ہیں وہ عام آدمی کے ذوق کی چیز ہوتے ہیں اور نہ ہی ان کو استعمال کرنے کی وہ استطاعت رکھتا ہے۔
اسی طرح جو ادب ایسے لٹریری فیسٹیول میں پیش کیا جاتا ہے یا جس پر بحث کی جاتی ہے، اس کا بھی عام آدمی سے دور کا واسطہ نہیں۔ اس کا تعلق تو گزشتہ تیس سال میں پاکستان میں او لیول اور اے لیول سے جنم لینے والی ایک محدود تعداد سے ہے۔ ایک ایسی نسل جس کا اس زمین سے رشتہ صرف لاؤنج یا ڈرائنگ روم میں چھابے لٹکانے، اجرک کو فریم کروانے، یا گاؤں میں بسنے والی کسی خاتون کی کڑھائی کو جدید فیشن کے ملبوسات پر لگا کر اسے ایک علاقائی تعلق سے نوازنے تک محدود ہے۔ جو اپنے گزشتہ ماضی کی کہانیاں ایسے پڑھتے ہیں جیسے امریکا پر قابض نو آبادیاتی گورے ریڈ انڈین کے قصے پڑھا کرتے تھے۔
نو آبادیاتی گورے خودکو غیر متعصب ثابت کرنے کے لیے ان کے بارے میں نظمیں، افسانے اور ناول بھی تحریر کرتے تھے، ہالی ووڈ ان پر فلمیں بناتا تھا لیکن یہ سب کا سب صرف اور صرف تفنن طبع کے لیے ہے یا پھر کسی افسانے، ناول، ڈرامے یا تحقیق میں رنگ بھرنے کے لیے ہوتا ہے۔ میرے ملک میں لکھنے والوں کی ایک ایسی ہی نسل پیدا ہو گئی ہے جو یوں تو بہت محدود ہے لیکن یہ نسل ان لوگوں کو بہت بھاتی ہے جن کا ایجنڈا اور مقصد صرف ایک ہے کہ دنیا میں مشرق سے لے کر مغرب تک بظاہر ایک ہی طرح کا کلچر پروان چڑھے جسے وہ عرف عام میں لائف اسٹائل کہتے ہیں۔
اگر دنیا میں ہر ملک کے شہروں میں بسنے والے افراد ایک طرح کا پیزا، برگر اور چکن نہیں کھائیں گے، ایک طرح کی جینز، شرٹ اور کوٹ نہیں پہنیں گے، شیمپو، صابن، ٹوتھ پیسٹ استعمال نہیں کریں گے تو ان کارپوریٹ کمپنیوں کا مال نہیں بکے گا۔ ایسا سب کچھ کرنے کے ساتھ ساتھ ان کو ایک طرح کا ادب بھی تخلیق کرنے کی ضرورت ہے۔ ایسا ادب جس کے تلازمے، استعارے اور صنف کی ساخت تک مغرب سے درآمد کی گئی ہو، لیکن اس میں کہانی کسی پسماندہ بستی کی سنائی جائے۔
یہ سب بھی قاری کو حیرت کے جہان میں لے جانے کے لیے کیا جاتا ہے کیونکہ جس نے اس ناول یا افسانے کو پڑھنا ہے ان کے نزدیک، غربت، بھوک، بیماری، اوپلے، میلے دانت، پھٹے پاؤں، سب ایک انوکھے ماحول کی چیزیں ہیں۔ ایسا ادب ایک خاص مقصد اور خاص تصور کے ساتھ تخلیق کیا جاتا ہے افسانوں، ناولوں، ڈراموں اور کہانیوں میں مخصوص تصور سے کردار تخلیق کیے جاتے ہیں۔ جس کے خلاف نفرت پیدا کرنا ہو، اسے منفی طور پر پیش کیا جائے، جیسے گزشتہ دو سو سالوں میں جب سے انگریز یہاں آیا، فورٹ ولیم کالج کی بنیاد رکھی، ایسے ہزاروں ادیب وجود میں آئے جو یہاں کے صدیوں سے قابل احترام کرداروں کو منفی انداز میں پیش کرتے رہے اور کیا خوبصورت دعویٰ کرتے تھے کہ ہم تو حقیقت نگاری کرتے ہیں۔
ایک مولوی شیطان ہے اور ایک طوائف فرشتہ۔ کیا زمینی حقائق ہیں۔ پہلے یہ حقیقت نگاریاں علاقائی زبانوں میں ہوتی تھیں، لیکن اب اس کی ضرورت نہیں رہی۔ اب مال خریدنے کے لیے ایک ایسی کلاس وجود میں آ گئی ہے جو رہتی تو اپنے اپنے ملکوں میں ہے لیکن زندگی یعنی لائف اسٹائل عالمی یعنی انٹرنیشنل رکھتی ہے۔ ویسا ہی کھانا پینا، اوڑھنا، بچھونا اور اب تو ذریعہ تعلیم اور زبان بھی ویسی ہی ہوگئی ہے، ادب باقی رہ گیا تھا اب وہ بھی عالمی زبان کا اسیر ہوگیا۔ اب لاہور کے بارے میں جاننا ہو تو استاد دامن پڑھنے کے بجائے رڈ یار کپلنگ کی روایت تھامے کوئی لاہور میں پیدا ہونے والا پنجابی پڑھو جو انگریزی میں لکھتے لکھتے زیادہ معتبر ہو چکا ہے۔ یہ عام آدمی کے لیے نہیں بلکہ ان چند ہزار لوگوں کے لیے ہے جو اس طرح کے فیسٹیول کو آباد کرتے ہیں، وہ ان کے لیے لکھتا ہے۔
جان پر کنز نے جب اپنی مشہور کتاب Confession of an Economic Hitman لکھی تو دنیا میں تہلکہ مچ گیا۔ پچیس سال تک اس کتاب کو کسی پبلشر نے چھاپنے کی جرات تک نہ کی۔ اس لیے کہ اس نے مجبور اور چھوٹی معیشتوں کو تباہ و برباد کرنے کی سودی بینکاری اور عالمی قرضوں کے نظام سے پردہ اٹھایا تھا۔ وہ کہتا ہے کہ جہاں ہم بڑے بڑے سودی مالیاتی ادارے وسائل سے مالا مال ملکوں کو بڑے بڑے تعمیراتی منصوبوں جیسے موٹروے، ائر پورٹ، میٹرو، ڈیم وغیرہ کے لیے قرضے دے کر ان کی معیشتیں اپنے ہاتھ میں لیتے ہیں، وہیں ہم ان معاشروں کے محدود طبقے کو پر تعیش زندگی گزارنے کے لیے وسائل بھی مہیا کرتے ہیں جو ان وسائل سے ہمارا ہی مال بالآخر خریدتے ہیں۔
وہ کہتا ہے جب میں افریقہ اور لاطینی امریکا کے ممالک میں معاشی قرضوں کے لیے حکومتوں سے مذاکرات کرتا تھا تو میں یہ دیکھ کر حیران رہ جاتا کہ جن ملکوں کا ہم نے قرضوں سے خون نچوڑ رکھا ہے، جہاں غربت، افلاس، بھوک، بیماری اور جہالت گردش کر رہی ہے وہاں شہروں میں عالمی ریستورانوں، اور عالمی برانڈ کی دکانوں میں بھی بے تحاشہ اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ ان سب کے خریدار ان کمپنیوں کے وہ اعلیٰ عہدیدار ہوتے تھے جو وہاں کے وسائل لوٹنے کے لیے قائم ہوتیں یا پھر ان این جی اوز کے اہلکار جنھیں دنیا بھر کی حکومتیں سرمایہ فراہم کرتی ہیں۔
ان دونوں طبقات کے لیے علیحدہ اسکول، علیحدہ اسپتال، علیحدہ کلب کھولے جاتے ہیں، یہ علیحدہ قسم کے شاپنگ مالوں میں خریداری کرتے ہیں اور ان کے ادب اور موسیقی کے لیے بھی علیحدہ فیسٹیول منعقد ہوتے ہیں۔ یہ فیسٹیول ایک عالمی کارپوریٹ معاشرے کی تصویر ہوتے ہیں لیکن ان میں علاقائی زبانوں، موسیقی اور ادب کو بھی نمایندگی دی جاتی ہے، جیسے کسی عجائب گھر کی گیلریوں میں ایک گیلری علاقائی ثقافت کے لیے مخصوص کر دی جائے۔
لاہور کے لٹریری فیسٹیول کی کہانی بھی ایسی ہی ہے۔ اس سارے انگریزی ماحول میں اردو اور دیگر زبانوں کا حال اس پنجرے کے بندر کی طرح تھا جو ان کی ڈگڈئی پر ناچتا ہو۔ کیا دیر، سوات، اٹک، اوکاڑہ، دادو، شکار پور، خضدار اور سبی میں ایسا ہی ادب تخلیق ہو رہا ہے۔ ہزاروں لکھنے والے اپنی انتہائی شاندار کاوشیں جو ان کے دکھوں سے بھرپور اور ان کی زندگی سے عبارت ہوتی ہیں، لے کر منوں مٹی تلے سو جاتے ہیں۔ گزر گیا وہ زمانہ جب پاک ٹی ہاؤس میں مفلوک الحال ادیب بھی عزت سے اپنی تصنیف ملک کے عظیم ادیبوں کو سنا سکتا تھا۔
جب ساری زندگی ساہیوال میں گزارنے والا مجید امجد پاکستان کے ہر بڑے ادبی رسالے میں فخر کے ساتھ چھاپا جاتا تھا۔ ایسا ادب آج بھی تخلیق ہو رہا ہے لیکن پاکستان کے اس ادب کی سودی معیشت سے جنم لینے والے کارپوریٹ کلچر کے اس لٹریری فیسٹیول کو ضرورت نہیں۔ ایسے لکھنے والے، دھرتی، دکھ اور بیماری کی بات کرتے ہیں اور وہ بھی اپنی زبان اور لہجے ہیں لیکن ان کے تو مقاصد ہی اور ہیں۔ کارپوریٹ کلچر کو ایک مرنجان مرنج ماحول اور ایسا ادب چاہیے ہوتا ہے جو عالمی زبان اور تہذیب کی اخلاقیات کا درس دیتا ہو۔
کیا کوئی ادارہ پیرس شہر میں انگریزی زبان میں لٹریری فیسٹیول منعقد کرنے کی فضول خرچی کر سکتا ہے یا پھر لندن شہر میں فرانسیسی زبان میں لٹریری فیسٹیول سجانے کی…یہ صرف مجبور معیشتوں اور سودی عالمی بینکاری سے جنم لینے والے مقروض معاشروں میں ہوتا ہے۔ جس قوم کو تباہ کرنا ہو، سب سے پہلے اس کی زبان اس سے چھینی جاتی ہے، پھر اسے جدھر چاہے مرضی ہانک دو، وہ شکایت تک نہیں کرتی۔

کیا معرکہ حق و باطل قریب ہے
اوریا مقبول جان اتوار 25 جنوری 2015

ملکہ سباء کی سرزمین اور عرب دنیا کا غریب ترین ملک ’’یمن‘‘ دنیا کی تاریخ میں ہمیشہ اہم رہا ہے۔ عاشقِ رسولﷺ حضرت اویس قرنی کا مسکن اور وہ خطہ جس کے بارے میں سید الانبیاء ﷺ نے فرمایا ’’بہترین ایمان یمن میں ملے گا اور شاندار حکمت بھی وہاں کی‘‘۔ احادیث کی تمام کتب میں جہاں کہیں قیامت کے قرب میں دور فتن کا تذکرہ ہے وہاں ہادی برحق ﷺ نے دو خطوں کو بہت اہمیت دی ہے، ایک شام اور دوسرا یمن۔
حضرت عبداللہ ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’اے اللہ ہمارے شام میں برکت عطا فرما، اے اللہ ہمارے یمن میں برکت عطا فرما، لوگوں نے کہا یا رسول اللہ ہمارے نجد میں بھی، آپ نے فرمایا، اے اللہ ہمارے شام میں برکت عطا فرما اور ہمارے یمن میں بھی۔ لوگوں نے پھر کہا ہمارے نجد میں بھی، راوی کا کہنا ہے کہ میرا خیال ہے تیسری بار رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ وہاں زلزلے آئیں گے اور فتنے ہوں گے اور وہاں شیطان کا سینگ ظاہر ہوگا۔ (بخاری، مسند احمد)۔
شام تو گزشتہ تین سالوں سے اس جنگ میں داخل ہو چکا ہے جس کا تذکرہ کتب احادیث میں ملتا ہے اور اب یمن نے انگڑائی لے لی ہے۔ ایک حیران کن ترتیب زمانی ہے جو ہو بہو ویسی ہی ظہور پذیر ہوتی جا رہی ہے جیسی کتب احادیث میں بتائی گئی ہے۔ سب سے پہلے عراق کی جنگ ہے اور اس کے نتائج سے دوسری جنگیں نکل رہی ہیں۔
حضرت عبداللہ بن عمروؓ سے روایت ہے کہ وہ وقت قریب ہے جب بنو قنطورا یعنی اہل مغرب تمہیں عراق سے نکال دیں گے، میں نے پوچھا ہم دوبارہ واپس آ سکیں گے، حضرت عبداللہ نے فرمایا، آپ ایسا چاہتے ہیں، میں نے کہا ضرور، انھوں نے فرمایا ہاں عراق واپس لوٹ آئیں گے اور ان کے لیے خوشحال اور آسودگی کی زندگی ہوگی (الفتن۔ نعیم بن حماد)۔ اسی جنگ کے بارے میں ایک اور روایت، آپ ﷺ نے فرمایا، قیامت اس وقت تک نہیں آئے گی جب تک فرات سے سونے کا پہاڑ نہ نکلے، لوگ اس پر جنگ کریں گے اور ہرسو میں سے ننانوے مارے جائیں گے۔ ہر بچنے والا سمجھے گا کہ شاید میں ہی اکیلا بچا ہوں (مسلم)۔
عراق پر جنگ جس طرح مسلط کی گئی اور جس طرح تمام اہل مغرب نے مل کر وہاں کی ہر بستی میں مسلمانوں کا قتل عام کیا اور انھیں ہجرت پر مجبور کیا، اس کی کہانی بار بار بیان ہو چکی۔ اس کے بعد کی ترتیب کے مطابق، مصر میں انتشار اور خرابی کا ذکر ہے اور ٹھیک اسی ترتیب سے یہ واقعہ ظہور پذیر ہوا۔ حضرت وہب ابن منبہ فرماتے ہیں کہ جزیرۃ العرب اس وقت تک خراب نہ ہو گا جب تک مصر خراب نہ ہو جائے (السنن الواردہ فی الفتن)۔ حضرت اسحٰق ابن ابی یحییٰ الکعبی حضرت اوزاعی سے روایت کرتے ہیں، انھوں نے فرمایا کہ جب پیلے جھنڈوں والے مصر میں داخل ہو جائیں تو اہل شام کو زمین دوز سرنگیں کھود لینی چاہئیں (السنن الواردۃ فی الفتن)۔
مصر ہی عرب بہار میں سب سے پہلے متحرک ہونے والے ملکوں میں سے تھا۔ وہاں سے حسنی مبارک کے اقتدار کا خاتمہ التحریر اسکوائر کے اجتماعات کے بعد ہوا۔ پیلے جھنڈے وجود میں آئے جن پر چار انگلیوں کے نشان تھے، اخوان المسلمون کی حکومت بنی اور پھر دوبارہ وہاں جنرل سیسی کے ذریعے آگ اور خون کی ہولی کھیلی گئی۔ یہی دور تھا جب شام کے صدر بشار الاسد نے اپنے خلاف بغاوت کو کچلنے کے لیے بے دریغ قتل عام شروع کیا اور طیاروں سے بمباری شروع کی جس سے اس وقت تک اندازاً چار لاکھ کے قریب لوگ داعی اجل کو لبیک کہہ چکے ہیں۔
کس قدر اہم ہدایت دی گئی تھی اس حدیث میں کہ شام کے لوگوں کو زمین دوز سرنگیں کھود لینی چاہئیں۔ شام آخری جنگ میں جسے رسول اللہ ﷺ نے ملحمۃ الکبریٰ کہا ہے مسلمانوں کا ہیڈ کوارٹر ہو گا اور اسی جگہ مغرب سے جنگ برپا ہو گی۔ اس جنگ میں مسلمانوں کی نصرت یمن سے کی جائے گی۔ حضرت کعب سے روایت ہے، انھوں نے فرمایا ،،جب رومی جنگ عظیم (ملاحم) میں اہل شام سے جنگ کریں گے تو اللہ تعالیٰ دو لشکروں کے ذریعے اہل شام کی مدد کرے گا۔
ایک مرتبہ ستر ہزار سے اور دوسری مرتبہ اسی ہزار ،اہل یمن کے ذریعے، جو اپنی بند تلواریں لٹکائے ہوئے آئیں گے۔ وہ کہتے ہوں گے کہ ہم پکے سچے اللہ کے بندے ہیں۔ ہم اللہ کے دشمنوں سے جنگ کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان لوگوں سے طاعون، ہر قسم کی تکلیف اور تھکاوٹ اٹھا لیں گے( الفتن، نعیم بن حماد)۔ مغرب کی طاقتوں سے یہ جنگ اعماق اور دابق کے مقام پر لڑی جائے گی۔ یہ دونوں قصبے شام کے شہر حلب سے پنتالیس کلو میٹر کے فاصلے پر ترکی کے قریب ہیں۔
رسول اکرمﷺ نے فرمایا ہے ’’اہل روم اعماق اور دابق کے مقام پر پہنچ جائیں گے۔ ان کی طرف ایک لشکر مدینہ سے پیش قدمی کرے گا جو اس زمانے کے بہترین لوگوں میں سے ہو گا۔ جب دونوں لشکر آمنے سامنے ہوں گے تو رومی کہیں گے تم ہمارے اور ان لوگوں کے درمیان سے ہٹ جائو جو ہمارے لوگوں کو قید کر کے لائے ہو، ہم انھی لوگوں سے جنگ کریں گے، مسلمان کہیں گے نہیں اللہ کی قسم ہم ہر گز تمہارے اور اپنے بھائیوں کے درمیان سے نہیں ہٹیں گے۔
اس پر تم ان سے جنگ کرو گے۔ اب ایک تہائی مسلمان بھاگ کھڑے ہوں گے جن کی توبہ اللہ کبھی قبول نہیں کرے گا، ایک تہائی شہید کر دیے جائیں گے، باقی ایک تہائی فتح حاصل کرینگے (مسلم، ابن حبان) سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اس پیش گوئی کے پورا ہونے کے آثار کس قدر واضح نظر آرہے ہیں۔ پورا مغرب شام میں جنگ کرنے کے لیے متحد ہورہا ہے اور بہانہ وہی لگایا جارہا ہے کہ ہمارے یورپ کے لوگ قید کرکے لائے گئے ہیں۔ ہم ان لوگوں سے لڑیں گے، لیکن اگر جنگ شروع ہوگئی تو پھر اہل مغرب کے مقابلے میں سب مسلمان متحد ہوجائیں گے۔
یہی وجہ تھی کہ میں انتظار میں تھا کہ کب یمن میں امریکا کی قائم کردہ پٹھو حکومت ختم ہوتی ہے۔ کیونکہ اس آخری جنگ میں شام کی نصرت میں یمن سے بھی لوگ جائیں گے اور خراسان کے سیاہ جھنڈوں والے تو پہلے ہی افغانستان میں امریکا کو شکست فاش دے چکے۔ اب تو بس اتحادی فوجیوں کی جانب سے جنگ کا نقارہ بجنے کی دیر ہے۔ پھر دیکھیں امت کس طرح ایک جگہ اکٹھی ہوگی اور اس کا ذکر ہادی برحق صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وضاحت سے کردیا ہے۔
یمن وہ سرزمین ہے جہاں سیدنا علی بن حسینؓ جنھیں امام زین العابدین کہا جاتا ہے ان کے فرزند ارجمند حضرت زید بن علیؒ کے ماننے والے زیدیہ فرقے کے افراد مقیم ہیں۔ حضرت زید بن علیؒ وہ شخصیت ہیں جنہوں نے اموی حکمران کے خلاف علم جہاد بلند کیا تھا۔ وہ کوفہ پہنچے تو کوفہ والوں نے ان کے ساتھ وہی کیا جو ان کے دادا سیدنا امام حسینؓ اور مسلم بن عقیلؓ کے ساتھ کیا تھا۔ چالیس ہزار افراد نے ان کے ساتھ مل کر جہاد کرنے کی بیعت کی، لیکن جب وقت آیا تو وہ سب اکٹھے ہوکر آئے اور پوچھا، تم کس چیز کی دعوت دیتے ہو، فرمایا اللہ کے رسول کی سنت کو زندہ کیا جائے۔
اس پر ان لوگوں نے سوال اٹھایا ابو بکرؓ اور عمرؓ کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے، کہنے لگے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صحبت میں انھوں نے زندگی گزاری اور میں نے اپنے گھر والوں سے ان کا ذکر ہمیشہ خیر اور بھلائی سے سنا۔ یہ سننا تھا کہ وہ لوگ اٹھ کر چلے گئے۔ جب زید بن علیؒ جہاد کے لیے علم بلند کررہے تھے تو امام ابو حنیفہؒ نے ان کے بارے میں کہا تھا ،،زید کا اس وقت اٹھ کھڑا ہونا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بدر میں تشریف آوری کے مشابہ ہے‘‘۔
امام ابو حنیفہؒ کا یہ قول کس قدر درست ثابت ہوا کہ زید بن علیؒ جب خروج کے لیے نکلے تو ان کے ساتھ بھی تین سو تیرہ افراد تھے۔ وہی تعداد جتنی بدر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھی۔ حضرت زید بن علی کے ماننے والے زیدیہ کہلاتے ہیں۔ وہ اپنے عقائد کو حضرت زید کے اس خطبے سے اخذ کرتے ہیں۔‘‘میں ان لوگوں سے بری ہوں جو اللہ کو مخلوق جیسی ہستی سمجھتے ہیں اور ان جبریوں سے بھی بری جو اپنی ساری بداعمالیوں کی گٹھری اللہ پر لاد کر کہتے ہیں کہ سب اللہ کرتا اور کراتا ہے اور ان لوگوں سے بھی بری جنہوں نے بدکاروں کے دلوں میں یہ امید پیدا کردی ہے کہ خدا انھیں یوں ہی چھوڑ دے گا اور میں ان دین باختوں سے بھی بری جو حضرت علیؓ کو دین سے خارج اور ان رافضیوں سے بھی جدا جو ابوبکرؓ اور عمرؓ کی تکفیر کرتے ہیں۔‘‘
یہی ہے ایک امت کا عقیدہ، اسی لیے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا بہترین ایمان یمن میں ملے گا۔‘‘ یہ لوگ اس طوق غلامی کو اتار پھینکیں گے جو امریکا اور اس کے حواریوں نے انھیں پہنایا تھا۔ حالات کی ترتیب تو ویسی ہی ہے جیسی احادیث میں رقم ہے لیکن دیکھنا صرف یہ ہے کہ کب مغرب یلغار کرتا ہے اور پھر کب یہ امت ایک ہوجاتی ہے۔

ابلیس کو یورپ کی مشینوں کا سہارا
اوریا مقبول جان جمعرات 1 جنوری 2015

پرچم اتار دیا گیا۔ دوسری جنگِ عظیم کے بعد فاتح اقوام کے سب سے بڑے اتحاد اور دنیا کی طاقتور ترین فوجی قوتوں کا پرچم۔ وہ قوتیں جو آج سے تیرہ سال قبل دھاڑتی، چنگھاڑتی ہوئی اس کمزور، وسائل اور ٹیکنالوجی سے محروم ملک، افغانستان میں داخل ہوئی تھیں۔
دنیا بھر کے لیے ایک لکیر کھینچ دی گئی تھی کہ اگر تم ہمارے ساتھ اس کمزور ملک سے جنگ کرنے کے لیے تیار نہیں ہو تو پھر ہمارے دشمن ہو۔ 2001ء کی سردیاں اس ملک کے لیے عذاب کی صورت بنا دی گئیں۔ دنیا بھر میں سے تین ملک ایسے تھے جو اس ملک پر برسرِ اقتدار طالبان کی حکومت کو تسلیم کرتے تھے۔ جن میں سے ایک پڑوسی پاکستان بھی تھا۔ باقی پڑوسی ایران اور تاجکستان تو ویسے ہی ان کے خلاف شمالی اتحاد کو ہر طرح کی مدد دیتے ہوئے جنگ میں شریک تھے۔
لیکن جس پڑوسی نے انھیں ایک قانونی حکومت تسلیم کیا تھا، اسی پڑوسی کی سرزمین ان پر حملے کے لیے استعمال ہوئی۔ دنیا نے اس ملک کو دہشت گردی کا مبنع قرار دیا اور پھر دو سو کے قریب ممالک میں سے اڑتالیس ممالک نے اپنی فوجیں وہاں اتار دیں۔ دشمن پڑوسیوں میں گھرا ہوا یہ ملک، ایک جانب پاکستان جہاں سے57 ہزار دفعہ امریکی جہاز اڑے اور انھوں نے اس سرزمین پر بم برسائے، دوسری جانب تاجکستان جس نے قلاب والا زمینی راستہ دیا تا کہ نیٹو افواج شمالی اتحاد کے جلو میں اندر داخل ہو سکیں اور تیسری جانب ایران جس کے پاسداران شمالی اتحاد اور حزبِ وحدت کے ساتھ اس ملک پر چڑھ دوڑے۔ تیرہ سال قبل اس دنیا میں ٹیکنالوجی کے بت کی پرستش کرنے والے کیسی کیسی داستانیں سنایا کرتے تھے۔ پہلے چند ماہ تو ایسے تھے کہ ہر کوئی بلند آواز میں پکار رہا تھا، دیکھو ٹیکنالوجی نے آج اُس قوم کو شکست دے دی ہے۔
جس سے کوئی نہ جیت سکا۔ کوئی ان کے بھاگنے کے قصے سناتا اور کوئی کہتا کہ یہ تو چند ہزار لوگ تھے جنھیں کچھ طاقتوں نے اکٹھا کیا تھا، وہ پیچھے ہٹ گئیں تو دیکھو کیسے بھگوڑے ہو گئے ہیں یہ سب کے سب۔ اب افغانستان میں ایسے لوگوں کی کوئی گنجائش نہیں ہو گی۔ یہ اب دوبارہ واپس نہیں آ سکتے۔ اس کے بعد کے تیرہ سال آگ اور خون کے ساتھ کھیلتے ہوئے سال ہیں۔ ایک لاکھ چالیس ہزار فوجی جو دنیا کی بہترین ٹیکنالوجی سے لیس ہتھیاروں کے ساتھ یہاں خون کی ہولی کھیلتے رہے۔ ایسے ٹینک جو اپنے اندر سے ایک ایسے مقناطیسی ردّ عمل کا دائرہ بنا سکتے تھے جن سے میزائل بھی واپس لوٹ جاتا تھا۔
آسمانوں سے پہرہ دیتے جہاز۔ فضا کی بلندیوں پر موجود ایک ایک لمحے کو ریکارڈ کرتے اور معلومات فراہم کرتے سٹلائٹ۔ ان سب کے باوجود کوئی ایک دن بھی ایسا نہیں گزرا کہ جب نیٹو افواج یا ان کی بنائی ہوئی افغان فوج نے یہ دعویٰ کیا ہو کہ ہمارا پورے افغانستان پر کنٹرول ہو گیا ہے۔ بلکہ حقیقت یہ تھی کہ سوائے چند شہروں کے چند میل علاقوں کے پورے افغانستان میں امریکی یا نیٹو افواج کو کسی قسم کی کوئی دسترس تک حاصل نہ تھی۔ آخری سال تو شکست کے بدترین سالوں میں سے ایک تھا۔ یکم جنوری2014ء سے31 دسمبر تک9167 افراد اس جنگ کا شکار ہوئے۔ جن میں3,188 ایسے تھے جو اس بری طرح زخمی ہوئے کہ ناکارہ ہو کر رہ گئے۔
بوکھلاہٹ میں الزامات حقانی نیٹ ورک پر لگائے گئے جس کے خلاف اس دوران شمالی وزیرستان میں آپریشن جاری تھا۔ کون ٹیکنالوجی کی شکست مانتا ہے اور وہ بھی نہتے افغانوں کے ہاتھوں جن کا سارا تکیہ ہی تائید الٰہی پر تھا۔ کیا کبھی امریکا اور نیٹو کے اتحادیوں نے سوچا بھی ہو گا کہ اسقدر عظیم فوجی قوت کے باوجود ان کے تین ہزار چار سو اٹھاسی3488 سپاہی مارے جائیں گے۔ یہ وہ گنتی ہے جو وہ خود مانتے ہیں۔ جب سے سی آئی اے بنی ہے اس کے نوے کے قریب اہم ایجنٹ مختلف ممالک میں مارے گئے ہیں، جن میں سے گیارہ اس افغان جنگ میں قتل ہوئے۔ افغانستان ایک ایسا ڈراونا خواب تھا جس کے اختتام کی تقریب 28 دسمبر کو منعقد ہوئی۔ نیٹو افواج کے کمانڈر جنرل جان ایف کیمپبل (Joh F. Campbell) نے کہا ’’ہم اپنا طالبان کے خلاف جنگ کا ایجنڈا ادھورا چھوڑ کر جا رہے ہیں۔ لیکن ہم بھاگ نہیں رہے‘‘۔ کیا خوبصورت فقرہ ہے (“We are not walking away”) یہ تسلی افغان قوم کو نہیں بلکہ اس افغان حکومت کو دی جا رہی جسے امریکیوں نے خود وہاں پر مسلط کیا ہے۔
جمہوری حکومت اور جمہوریت کے قیام کا کیا خوب تصور ہے کہ ایک ملک پر حملہ کرو، وہاں افواج اتارو، لوگوں کو قتل کرو، خود ایک آئین تحریر کرو، اپنی نگرانی میں الیکشن کراؤ اور بولو کہ ایسے زندگی گزار تے ہو تو ٹھیک ورنہ تمہیں دہشت گرد کہہ کر مار دیں گے۔ اسی لیئے اس ’’ٹوڈی‘‘ حکومت کو تسلی دی جا رہی ہے کہ ہم بھاگ نہیں رہے۔ لیکن اس اتوار کو امریکی صدر اوباما نے اپنے تحریری بیان میں کہا ہے کہ ’’ہم نے ایک محتاط طریقے سے اس جنگ کا خاتمہ کیا ہے جب کہ افغانستان آج بھی ایک خطرناک علاقہ ہے‘‘۔ اس ملک میں تین لاکھ پچاس ہزار افغان فوجیوں کو بھرتی کیا گیا ہے جن کی ٹرنینگ کے لیے12 ہزار نیٹو کے فوجی یہاں پر موجود رہیں گے۔ اس تقریب میں افغانستان کے نیشنل سیکیورٹی ایڈوائزر محمد حنیف اعتماد نے کہا کہ آپ ہمیں ایسے وقت میں چھوڑ کر جا رہے ہیں۔
جس وقت ہم انتہائی مشکلات میں ہیں۔ ہمیں کبھی بھی نیٹو افواج کی اتنی ضرورت نہیں تھی جتنی آج ہے۔ جس وقت یہ تقریب ٹیلی ویژن پر نشر ہو رہی تھی تو اس دوران افغان افواج کے افسران کے انٹرویو بھی نشر کیے جا رہے تھے۔ یہ افسران کہتے تھے کہ تیرہ سالوں سے ہم ایک ایسی جنگ کے عادی ہو چکے ہیں جو نیٹو کی تکنیکی اور فوجی مدد کے بغیر لڑی ہی نہیں جا سکتی۔ ہمیں ہوائی جہازوں کی بمباری اور ٹینکوں کی یلغار میں آگے بڑھنے کے سوا کچھ نہیں آتا۔ ہم ان کے بغیر ایک قدم بھی نہیں چل پاتے جب کہ ہمارے دشمن طالبان اس تمام تر ٹیکنالوجی سے بے نیاز جس طرف سے چاہیں ہم پر حملہ آور ہو جاتے ہیں۔ اب جب کہ یہ سپورٹ (مدد) ختم ہو رہی ہے، ہم بہت مشکل میں ہو ں گے۔
جھنڈا اتار دیا گیا۔ وہ فتح کرنے آئے تھے اور اپنے زخم چاٹتے رخصت ہوئے۔ یہ تیسری دفعہ ہو رہا ہے کہ عالمی طاقتوں کا غرور خاک میں مل رہا ہے۔ یکم جنوری1842ء برطانوی افواج، وہ برطانیہ جس کی علمداری میں سورج غروب نہیں ہوتا تھا، اس پر کابل میں حملہ ہوا۔ تقریباً سترہ ہزار فوجی تھے جن میں اکثر انڈین اور ایک رجمنٹ ’’44th‘‘برطانوی سپاہیوں پر مشتمل تھی ان سب کو غلزئی قبائل نے قتل کر دیا تھا اور ایک ڈاکٹر ولیم برائڈن کو زندہ چھوڑا تا کہ وہ جا کر اس عالمی طاقت کے کار پردازوں کو بتائے کہ افغان قوم کیا ہے اور آیندہ کابل کی طرف رخ مت کرنا۔ یہ ڈاکٹر گھوڑے پر سوار ہو کر 13جنوری کو جلال آباد پہنچا اور برطانیہ کے چہرے پر عبرت کا نشان تحریر ہو گیا۔
دوسری دفعہ یہ پرچم عظیم کیمونسٹ ریاست سوویت یونین کا تھا جو1988ء میں ایسے اترا کہ خود اپنی ریاست تک متحد نہ رکھ سکا۔ ٹیکنالوجی کے بت ٹوٹتے ہیں لیکن ان کی پوجا کرنے والے نئے بت تراش لیتے ہیں لیکن وہ جنھیں صرف اللہ کی نصرت اور تائید پر بھروسہ ہوتا ہے وہ بار بار ثابت کرتے ہیں کہ اس دنیا میں اصل طاقت کا سرچشمہ تو صرف اللہ کی ذات ہے اقبال نے کہا تھا۔
اللہ کو پامردیٔ مومن پہ بھروسہ
ابلیس کو یورپ کی مشینوں کا سہارا

کیا جنگ مقدر ہو چکی؟
اوریا مقبول جان جمعرات 15 جنوری 2015

فرانس کے شہر پیرس میں اظہارِ رائے کے تحفظ کے لیے ہونے والا یک جہتی کا مظاہرہ ایک معمول کا واقعہ نہیں۔ یہ لوگ کسی سے یک جہتی کے لیے جمع نہیں ہوئے تھے بلکہ یہ اس اتحاد کا آغاز ہے جس نے ایک دن پوری مسلم امت سے جنگ میں کودنا ہے۔ ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے حکمران پیرس کی سڑکوں پر ایسے مارچ کر رہے تھے جیسے آج سے چند صدیاں بیشتر یورپ کی گلیوں میں صلیبی جنگوں میں جانے والے رضا کار لوگوں کے جلوس پر جوش تالیوں میں شہروں کی گلی کوچوں میں گزرا کرتے تھے۔
کیا یہ سب کچھ آنے والے زمانوں کا پیش خیمہ ہے جس کی بشارت سیّدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے دی ہے، فرمایا ’’پھر رومی اپنے بادشاہ سے کہیں گے کہ ہم عرب والوں کے لیے آپ کی جانب سے کافی ہیں۔ چنانچہ وہ ایک عظیم جنگ کے لیے اکٹھے ہوں گے اور اسّی (80) جھنڈوں کے تحت آئیں گے اور ہر جھنڈے کے تحت بارہ ہزار سپاہی ہو ں گے (مستدرک و صحیح ابن حباّن)۔ یہ جنگ کب برپا ہونی ہے، اس کا علم صرف اور صرف اللہ کی ذات کو ہے۔ لیکن دنیا میں چھڑنے والی جنگوں کا آغاز اگر دیکھیں تو ان کے پس منظر میں آپ کو اسی طرح کے واقعات نظر آئیں گے۔
کوئی معمولی سا واقعہ جنگ کا بہانہ بنتا ہے اور جنگ شروع ہو جاتی ہے۔ جنگ کے بادل چھٹ جاتے ہیں، لاکھوں لوگ قتل ہو جاتے ہیں، ہزاروں گھر برباد اور شہر کھنڈر بن جاتے ہیں، کسی کے سینے پر فتح کا تمغہ سجتا ہے اور کسی کے سر پر ذلت کا تاج۔ اس سارے کھیل کے ختم ہونے کے بعد جب لوگ اطمینان کا سانس لیتے ہیں، تو کہانیاں منظر عام پر آنے لگتی ہیں۔ یہ تو فلاں ملک کی سازش تھی، یہ آگ تو جان بوجھ کر لگائی گئی تھی۔ یہ سب تو ایک جھوٹے پراپیگنڈے کی وجہ سے ہوا۔ اس جنگ سے تو فلاں نے اپنا مفاد حاصل کرنا تھا۔ پیرس کے ایک غیر مقبول جریدے کے قتل کیے جانے والے چند صحافیوں اور کارٹون بنانے والوں کو ایک ایسی تحریک کی شکل دینا جو پوری دنیا کو دو خیموں میں تقسیم کر دے، یہ ایک ایسا واقعہ ہے جس کی گرد سے عالمی جنگ کے شعلے اٹھتے نظر آ رہے ہیں۔
1096ء میں شروع ہونے والی پہلی صلیبی جنگ میں حصہ لینے والے آج کے دور کے اتحادیوں کی طرح منافق نہیں تھے۔ انھوں نے آزادی اظہار، سیکولرزم اور جمہوریت کا لبادہ نہیں اوڑھا ہوا تھا۔ ستمبر 1096ء میں جب کاؤنٹ بوہمنڈ آف ٹیرانٹو نے نارمن صلیبی فوجیوں کو مارچ کرتے ہوئے دیکھا جو شہر کے بیچوں بیچ جلوس کی صورت جا رہے تھے تو اس نے اپنا سرخ لباس پھاڑ پھینکا، کیتھڈرل سے جا کر صلیب اٹھائی اور کہا، میں بھی ’’فرینک ہوں، اور کہا یہ میرے سب بھائی شہید ہو کر میرے بغیر ہی جنت میں چلے جائیں گے، اور ان کے ساتھ روانہ ہو گیا۔ ستمبر 1096ء سے لے کر2 اکتوبر1187ء تک، وہ دن جب صلاح الدین ایوبی فاتح کی حیثیت سے یروشلم میں داخل ہوا، پورا یورپ اسی طرح جلوسوں کی صورت شہروں میں نکلتا اور اپنے صلیبی جنگجوؤں کے ساتھ یک جہتی کا اظہار کرتا۔ انھیں خوبصورت انداز سے محاذ ِ جنگ کے لیے رخصت کیا جاتا۔ یہ لوگ واضح تھے، اپنے مقصد کا برملا اظہار کرتے تھے۔
1099ء میں جب انھوں نے یروشلم فتح کرنے کے بعد مسلمانوں کا قتل عام کیا، تو انھوں نے اس پر فتح کے شادیانے بجائے، کسی نے انسانی حقوق، نظام کی تبدیلی، آمریت سے نجات کے نعرے میں پناہ نہیں ڈھونڈی۔ صاف صاف کہا ہم تمہارے دشمن ہیں اور تم ہمارے دشمن ہو۔ لیکن آج تو امن اور اظہار رائے کی آزادی کا نعرہ بلند کیا گیا ہے۔ یہ نعرہ اس پیرس میں لگایا گیا جہاں آج سے چند سال پہلے عدالت نے ایک ایسے اشتہار پر پابندی لگائی تھی، جس میں ماڈل حضرت عیسیٰ کے آخری کھانے (Last Supper) کی نقالی کر رہا ہوتا ہے۔
2005ء میں عدالت نے ایک ادارے (Aides haute Garonne) کو اس لیے سزا سنائی کہ اس نے ایڈز کی روک تھام کے لیے ایک تقریب منعقد کی جس کے معلوماتی کتا بچے پر ایک عیسائی راہبہ (Nun) کی ایسی تصویر تھی جس کے اسکارف کے ساتھ دو گلابی کنڈوم لٹکے ہوئے تھے۔1994ء میں اسی فرانس کی ایک عدالت نے ایک اخبار (Le quotidian de Paris) کو مجرم قرار دیا کیونکہ اس میں ایک ایسا مضمون چھپا تھا جس میں پوپ اور ان ریاستوں کے خلاف گفتگو کی گئی تھی جو کتیھو لک نظریات پر کاربند تھیں۔ خود یہ میگزین چارلی ہیبڈو اپنے ایک کارٹونسٹ کو صدر سرکوزی کی بیوی کے قابل اعتراض کارٹون بنانے پر نوکری سے بھی نکال چکا ہے اور معافی بھی مانگ چکا ہے۔ فرانس کا یہ صدر سرکوزی جب وہاں وزیر داخلہ ہوتا تھا، اس نے ایک رسالے پیرس میچ کے ڈائریکٹر کو نوکری سے اس لیے نکلوایا تھا کہ اس نے اسی کی بیوی سیسلیا کی نیویارک کے کسی آدمی کے ساتھ قابلِ اعتراض تصویریں شائع کی تھیں۔
لیکن یہاں مسئلہ آزادی اظہار کے تحفظ کا نہیں۔ اگر آزادی اظہار کا تحفظ یورپ کے ممالک کو اتنا ہی عزیز ہوتا تو کوئی وہاں یہودیوں، اسرائیل یا ہولوکوسٹ پر چند سطریںِ ہی لکھ کر دکھاتا۔ اخبار تو ایک منظم ادارہ ہے، آپ سوشل میڈیا پر چند سطریں لکھ کر دیکھیں کیسے آزادی اظہار کا گلا گھونٹنے کے لیے بے تاب انتظامیہ آپ کا گلا گھونٹ دے گی۔ جہاں ایک بارہ سالہ بچے کو اس لیے سزا سنا دی گئی کہ اس نے ہٹلر کی تعریف اور یہودیوں کے خلاف بلاگ بنایا تھا۔
مسئلہ ابھی تو عالمی جذبات کی گرد میں لپٹا ہوا ہے۔ لیکن وہ جن کی زندگی جنگ و جدل اور سازشوں کے تانے بانے بنتے گزری ہے ان میں سے چند لوگ زبان کھول رہے ہیں کہ یہ سب کیوں برپا ہوا۔ پال کریگ رابرٹس (Paul Craig Roberts) جو صدر ریگن کے زمانے میں اسسٹنٹ سیکریٹری تھا اور آج کل وال اسٹریٹ جنرل کا ایسوسی ایٹ ایڈیٹر ہے۔ اس نے لکھا ہے کہ میں امریکا اور اس کی سی آئی اے کو خوب جانتا ہوں۔ وہ کہتا ہے کہ امریکا نے نیٹو کے ممالک پر روس سے کاروباری تعلق رکھنے پر پابندی لگا رکھی ہے جس سے فرانس کی معیشت بری طرح خسارے کا شکار ہو رہی ہے، یہی وجہ ہے کہ فرانس کے صدر نے اس واقعہ کے چند دن پہلے اعلان کیا تھا کہ روس پر سے پابندیاں ہٹا دی جائیں گی۔
یہ فرانس کا امریکا کی ان دیکھی غلامی سے آزادی کا اعلان تھا۔ لیکن چارلی ہیبڈو کے حق میں اظہار یک جہتی اسے ایک ایسی جنگ میں واپس گھسیٹ لائے گی جہاں اس کے لیے امریکا کے اشاروں پر ناچنے کے سوا اور کوئی راستہ نہیں ہو گا۔ اسی لیے اس مارچ میں مسلمان ممالک سے بھی وہی سربراہانِ مملکت گئے ہیں جو امریکی اثر و رسوخ کے تحت ہیں یا پھر جن کی حکومتوں کی بقا امریکا فوج اور سیاسی مدد کے بغیر ممکن نہیں۔ ابھی تو قتل کی تحقیق کا آغاز ہے اور ابھی سے مقصد کا سراغ نظر آ رہا ہے۔
نیویارک ٹائمز اپنی اشاعت میں لکھتا ہے کہ ان کارٹوٹسٹ اور صحافیوں کا قتل دراصل شام اور عراق میں قائم خلافتِ اسلامیہ کے ایما پر ہوا ہے۔ وہ تین بندوق بردار جو پیرس کے واقعہ میں ملوث بتائے جاتے ہیں ان میں سے ایک احمدی کوبلی کی موت کے دو دن بعد وڈیو منظر عام پر لائی گئی ہے جس میں وہ خلافتِ اسلامیہ کے جھنڈے کے ساتھ بیٹھا ہے۔ اس کے سوالات اور جوابات پڑھیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ کس طرح ایک جنگ کی تیاریاں مکمل ہو چکی ہیں۔ اس ویڈیو میں وہ ایک سوال کے جواب میں کہتا ہے کہ اخبار پر حملے کرنے والے اور ہم سب ایک گروہ کا حصہ ہیں۔ کچھ کام ہم ساتھ کرتے ہیں اور کچھ علیحدہ علیحدہ، لیکن میں نے ابوبکر البغدادی کو اپنا امیر مانا ہوا ہے۔ جس دن صبح نیویارک ٹائمز میں یہ مضمون چھپا اسی شام کو امریکی سینیٹر جان میکین نے اس واقعہ کو بنیاد بنا کر خلافت اسلامیہ کے خلاف کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
امریکا کا سب سے قابل اعتماد اور حکومتی پالیسیوں کا آئینہ دار رسالہ ’’فارن پالیسی‘‘ اس واقعے کے بعد ایسے مضامین شائع کر رہا ہے جن سے ایک نئی جنگ کے آغاز کی بو آ رہی ہے۔ یہ جنگ خوفناک بھی ہو سکتی ہے اور فیصلہ کن بھی۔ امریکا کے بارے میں یہ رسالہ لکھتا ہے کہ پراپیگنڈہ کی جنگ میں بھی امریکا خلافت اسلامیہ کو نہیں ہرا سکتا۔ اس لیے کہ مغرب کو علم تک نہیں کہ وہاں کا مذہب، ثقافت اور حالات کیا ہیں۔ اس کام کے لیے عرب ریاستوں اور مسلمانوں کو آگے آنا ہو گا۔ جنگ میں کودنا ہو تو سب سے پہلے یہ دیکھا جاتا ہے کہ دشمن کس قدر متحد ہے اور مسلمانوں کا اتحاد دیکھنا ہو تو ایک ہی ٹیسٹ ہے اور وہ یہ کہ امت ابھی تک وہ سیدالانبیاء کے نام پر اور اُن کی شان پر جان قربان کرنے کو تیار ہے یا نہیں۔ یہ وہ واحد محبت ہے جس میں کوئی فرقہ بندی اور مسلکی اختلاف نہیں۔ اسی لیے خاکے دوبارہ شائع کیے گئے ہیں تا کہ دیکھا جا سکے کہ اس امت میں غیرت کہاں تک باقی ہے۔ یہ صرف یک جہتی کا مظاہرہ نہیں، آنے والے خوفناک دِنوں کا آغاز ہے۔
نوٹ:سود کے متبادل نظام پر بحث کے لیے تقریب آج 16جنوری2015ء، پنجابی انسٹیٹیوٹ، قذافی اسٹیڈیم، لاہور میں تین بجے سہ پہر منعقد ہو گی۔ آپ کا انتظار رہے گا۔

…ایک تھا رنجیت سنگھ
اوریا مقبول جان جمعرات 8 جنوری 2015

مغلیہ سلطنت کمزور ہونے لگی تو ہندوستان پر مکمل قبضے کے خواب نے تمام ہندو راجوں کو متحد کیا اور ان کا اقتدار پورے ہندوستان پر اس حد تک قائم ہو گیا کہ مغل بادشاہ شاہ عالم کے بارے میں یہ کہاوت مشہور ہو گئی، ’’شاہ عالم۔ از دلّی تا پالم‘‘، پالم وہ جگہ ہے جہاں آجکل دلّی ائرپورٹ ہے۔ ایسے میں شاہ ولی اللہ کی دعوت پر احمد شاہ ابدالی افغانستان کی سر زمین سے جانبازوں کے ہمراہ حملہ آور ہوا اور مرہٹوں کی شکل میں تمام ہندؤں کی متحدہ فوج کو شکست دے کر ہندوستان کو ’’ہندو توا‘‘ بنانے کا خواب چکنا چور کرنے کے بعد واپس افغانستان چلا گیا۔
اس کے جانے کے بعد پورے برصغیر میں مرکزیت کا تقریباً خاتمہ ہو گیا۔ ہر کوئی اپنے اپنے علاقے کا بالا دست حکمران بنتا چلا گیا۔ جس خطے میں سب سے زیادہ افراتفری تھی وہ پنجاب تھا۔ سکھ اکبر کے زمانے سے جتھوں کی صورت مسلح جدوجہد کر رہے تھے اور بہت حد تک گوریلا جنگ میں منظم ہوچکے تھے۔ ان کے ہاں ہر علاقے، خاندان یا برادری کے حساب سے گروہ ترتیب پا چکے تھے جنھیں ’’مسل‘‘ کہا جاتا تھا۔ پورے پنجاب میں سکھوں کی بارہ مسلیں تھیں اور سب کی سب خود مختار بلکہ ایک دوسرے سے برسر پیکار تھیں۔ ان بارہ مسلوں میں سے ایک مسل گوجرانوالہ کے قریب آباد تھی جس کے سربراہ کے گھر1780ء میں ایک بچہ پیدا ہوا۔ سترہ سال کا ہوا تو باپ نے اسے دوسری مسلوں کے ساتھ جنگوں پر روانہ کرنا شروع کر دیا۔
صرف تین سال کے بعد یعنی بیس سال کی عمر میں وہ مسل کا سربراہ بن گیا۔ خوش قسمت اور ذہین شخص رنجیت سنگھ سربراہ بنتے ہی ایک بہت بڑی سلطنت کا خواب دیکھنے لگا۔ اپنے اس ارادے کی تکمیل کے لیے اس نے پیش قدمی شروع کر دی اور پھر وہ ہریانہ سے ملتان، پشاور اور کشمیر تک کے علاقے کا طاقتور ترین حکمران بن گیا۔ مہاراجہ رنجیت سنگھ۔ برصغیر کی تاریخ میں سکھوں کا وہ سردار جس نے ان کی سلطنت کی بنیاد رکھی جو پچاس سال تک قائم رہی۔
سکھوں کے اس عظیم حکمران کی ساری تربیت جنگ و جدل اور ماڑ دھاڑ میں ہوئی تھی۔ اس کی پیدائش سے پہلے ہی ایسٹ انڈیا کمپنی اپنے ہمراہ ایک برطانوی منظم فوج بھی لے کر آئی تھی۔ برطانیہ کی اس منظم فوج سے پہلے برصغیر میں مختلف لوگوں کو پانچ ہزاری یا دس ہزاری منصب دیے جاتے تھے، جو جنگ کے وقت اپنے منصب کے مطابق افراد فراہم کرتے تھے۔ باقاعدہ منظم فوج کا کوئی رواج نہ تھا۔ رنجیت سنگھ کو بہت شوق تھا کہ اس کی بھی ایک ایسی ہی ماڈرن اور منظم فوج ہو۔ اس مقصد کے لیے اس نے فرانس اور اٹلی سے فوجی نظم و ضبط کے ماہر چار جرنیل (1) و نیچورا (Vanchoora)، (2) الارڈ (Allard)، (3) ایوی ٹیبل (Avitabile) اور (4) آگسٹ کورٹ (August Court) بلوائے۔
انھوں نے سکھوں کی ایک فوج منظم کی جسے خالصہ فوج کہا جاتا تھا اور اس کا ہیڈ کوارٹر لاہور سے چند کلو میٹر دور شالا مار باغ کے قریب اس جگہ تھا جسے ’’بدھو کا آوا‘‘ کہتے تھے۔ فوج کو منظم کرنے اور اسی پر اپنی حکمرانی کی مکمل بنیاد رکھتے ہوئے وہ یہ بھول گیا کہ رعایا کے چلانے کے لیے ایک اچھی انتظامیہ اور عدلیہ کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ اس کے نزدیک مملکت میں پیدا ہونے والے ہر مسئلے کا حل فوج کا استعمال کر کے نکالا جا سکتا تھا۔ وہ چھوٹے چھوٹے انتظامی امور کے لیے بھی فوج کو بھیجتا۔ مالیہ وصول کرنا ہو، کہیں ڈکیتی ہو جائے۔
قبائلی تصادم ہو، ہر جگہ فوجی افسران جاتے اور معاملات سنبھالتے۔ انصاف کے لیے کوئی منظم نظام نہیں تھا بلکہ جگہ جگہ فوجی عدالتیں لگتیں اور فوری طور پر انصاف فراہم کر دیا جاتا۔1811ء میں جب یہ فوج ترتیب دی گئی تو اس کی تعداد صرف چار ہزار تھی جبکہ1839ء تک یہ چالیس ہزار ہو گئی، جس کے ساتھ ایک لاکھ گھڑ سوار دستے اور توپ خانہ بھی شامل تھا۔ ان اخراجات کو پورا کرنے کے لیے فوجی عدالتیں اکثر لوگوں کو بھاری جرمانے کرتیں۔ چھوٹے سے چھوٹے جرم پر بھی جائیداد قرق کرنے کا حکم دے دیا جاتا۔ برصغیر کی تاریخ میں سب سے زیادہ مالیہ اسی دور میں وصول کیا گیا۔
یہ پیداوار کا چالیس فیصد تک تھا۔ ان یورپی جرنیلوں نے کٹر سکھ حکمران کو سیکولر حکومتی چہرہ بنانے کا درس دیا۔ اسی لیے1831ء میں جب اس نے برطانوی گورنر جنرل لارڈ ولیم بینٹنگ سے ملنے کے لیے اپنا وفد بھیجا تو اس میں ہری سنگھ نلوا (سکھ) فقیر عزیز الدین (مسلمان) اور دیوان موتی رام (ہندو) شامل تھے۔ لیکن خالصہ فوج کے اکثر سپاہی چونکہ سکھ تھے اس لیے ان کے انتظامی معاملات اور عدالتی فیصلے مسلمانوں کے خلاف بلکہ بعض دفعہ ان کے لیے ہتک آمیز ہوتے۔ فوج کو اپنے اس کردار نے یہ احساس دلا دیا کہ اصل میں وہی حکمران ہیں اور انھوں نے ملکی معاملات میں دخل اندازی شروع کر دی۔ رنجیت سنگھ پر چونکہ اتفاق رائے تھا، اس لیے اس کے زمانے میں دخل اندازی زیادہ نہ ہو سکی۔
لیکن جب اس کا بیٹا کھڑک سنگھ تخت پر بیٹھا تو سکھ دو بڑے سیاسی گروپوں میں تقسیم ہو گئے۔ ڈوگرے اور سندھنا نوالے، سدھنا نوالہ گروپ کا سردار دھیان سنگھ فوج کے ہیڈ کواٹر ’’بدھو کے آوے‘‘ میں گیا اور ان کو خفیہ اطلاع دی کہ کھڑک سنگھ پنجاب کو انگریزوں کے ہاتھ فروخت کرنا چاہتا ہے۔ پورے پنجاب میں ایک پراپیگنڈا مہم شروع کر دی گئی اور صرف تین ماہ بعد فوج نے کھڑک سنگھ کو غدار قرار دے کر تخت سے اتار دیا اور اس کے بیٹے نونہال سنگھ کو جو لڑ کپن میں فوج میں بھرتی ہو گیا تھا اور فوج اُسے اپنا نمائندہ سمجھتی تھی، اُسے تخت پر بٹھا دیا۔ یوں سکھ فوج نے دو اختیار اپنے قبضے میں لے لیے۔ ایک مہاراجہ اور وزیر کی تقرری اور دوسرا یہ فیصلہ کرنا کہ غدار کون ہے اور محب وطن کون۔ لیکن ایک سال بعد ہی نونہال سنگھ ایک حادثے میں مارا گیا تو سندھنا نوالوں نے کھڑک سنگھ کی بیوہ چاند کور تخت پر بٹھا دیا۔
دھیان سنگھ کہاں چین سے بیٹھ سکتا تھا۔ اس نے رنجیت سنگھ کے بیٹے شیر سنگھ کو ساتھ ملایا اور فوج کے ہیڈ کوارٹر ’’بدھو کے آوے‘‘ پہنچ گیا اور جرنیلوں نے شیر سنگھ کی حمایت کر دی۔ چاند کور کو اقتدار پر صرف دو ماہ ہوئے تھے کہ ستر ہزار فوج لاہور کے شہریوں پر ٹوٹ پڑی۔ کشت و خون کا بازار گرم ہو گیا۔ آخر شہریوں کی جانیں بچانے کے لیے چاند کور کو شیر سنگھ کے حق میں دستبردار ہونا پڑا۔ شیر سنگھ نے تین سال حکومت کی، لیکن چونکہ اسے اقتدار فوج نے دلوایا تھا اس لیے اس کے سارے فیصلے فوج کے ہیڈ کوارٹر یعنی ’’بدھو کے آوے‘‘ میں ہونے لگے۔
جس کو قتل کرنا ہوتا اُسے انگریز کا ایجنٹ یا غدار کا لقب دینا کافی تھا۔ ڈوگرا گروپ فوج کی آشیر باد سے حکمران تھا اور سندھنا والے معتوب۔ انھوں نے یکے بعد دیگرے مہاراجہ شیر سنگھ اور دھیان سنگھ کو قتل کیا اور بدلے میں ہیرا سنگھ نے سندھنا نوالوں کے کئی افراد کو قتل کر دیا اور سیدھا فوج کے ہیڈ کوارٹر بدھو کے آوے پہنچ گیا اور عرض کی سندھنا نوالے غدار ہیں اور اگر اسے اقتدار دے دیا جاوے تو وہ سپاہی کی تنخواہ نو روپے سے بڑھا کر بارہ روپے اور گھڑ سوار کی تیس روپے ماہوار کر دے گا۔
ایک بار پھر فوج لاہور پر حملہ آور ہو گئی۔ پوری رات توپ خانے سے گولہ باری کے بعد جب فوج صبح شہر میں داخل ہوئی تو لاشوں کے انبار لگے ہوئے تھے۔ رنجیت سنگھ کے چھ سالہ بیٹے دلیپ سنگھ کو تخت پر بٹھا دیا گیا اور ہیرا سنگھ کو وزیر۔ ہیرا سنگھ نے فوج کی مراعات میں اضافہ کیا۔ ڈھائی روپے تنخواہ اور بڑھا دی، لیکن ایک دن جرنیل اس کے ایک مشیر سے ناراض ہو گئے اور اسے اقتدار سے علیحدہ کر کے گرفتار کرنا چاہا، مگر وہ بھاگ نکلا اور فوج نے اس کا تعاقب کر کے مار دیا اور اس کے ماموں جواہر سنگھ کو تخت پر بٹھا دیا۔
اب بدھو کے آوے والوں کے مطالبات بہت بڑھ گئے۔ جواہر سنگھ نے سارا خزانہ بلکہ محل کے سونے کے برتن تک ڈھلوا کر کنٹھے بنوائے اور سکھ فوج میں تقسیم کر دیے، جو ٹیکس اکٹھا ہوتا خرچ کر دیا جاتا مگر مطالبات بڑھتے گئے آخر ایک دن جواہر سنگھ کو ہیڈ کوارٹر یعنی بدھو کے آوے میں طلب کیا گیا۔ اس کی بہن رانی جنداں اپنے بیٹے دلیپ سنگھ کو ساتھ لے کر سفارش کے لیے آئی، مگر سکھ جرنیلوں نے بہن کے سامنے بھائی کو قتل کر دیا۔
اب نو سالہ دلیپ سنگھ حکمران تھا اور رانی جنداں سرپرست، لیکن کوئی بھی فوج کے ڈر سے وزیر نہیں بننا چاہتا تھا، جس کو کہا جاتا وہ کانوں کو ہاتھ لگا کر بھاگ جاتا۔ گلاب سنگھ اور تیج سنگھ جیسے ’’بدھو کے آوے‘‘ والوں کے وفادار بھی انجام سے ڈر کر بھاگ گئے۔ کمسن دلیپ سنگھ کو کچھ ناموں کی پرچیاں دی گئیں اور قرعہ نکال کر زبردستی لال سنگھ کو وزیر بنایا گیا۔
خزانہ خالی ہو چکا تھا۔ توشہ خانہ کے برتن بھی بیچے جا چکے تھے، لیکن بدھو کے آوے میں بیٹھی خالصہ فوج کے مطالبات بڑھتے جا رہے تھے۔ رانی جنداں کے پاس بلیک میلنگ سے نجات کا ایک ہی راستہ تھا کہ خالصہ فوج کو انگریز کی فوج کے ساتھ لڑا دیا جائے۔ پراپیگنڈے کا وہ طریقہ جو خالصہ فوج استعمال کر تی تھی، اس نے بھی شروع کیا اور سرگوشیوں کو مہم چلائی کہ انگریز پنجاب پر حملہ کرنا چاہتے ہیں۔ عام سپاہی کو انگریز کی طاقت کا اندازہ نہ تھا۔
اس لیے وہ مرنے مارنے پر تیار تھا، لیکن جرنیلوں کو اندازہ تھا اور وہ لڑنا نہیں چاہتے تھے۔ انھوں نے مخالفت کی، رانی جنداں نے پراپیگنڈا عام فوجیوں تک پھیلا دیا۔ اب بدھو کے آوے میں بیٹھے جرنیلوں کے لیے کوئی راستہ نہ تھا، ’’طاقتور‘‘ خالصہ فوج جب لڑنے نکلی تو عوام نے، جس کا انھوں نے پہلے ہی بھرکس نکال دیا تھا، ان کا ساتھ نہ دیا۔ شکست فاش ان کا مقدر بنی۔ سکھ حکمرانی کا دور تمام ہوا، اور ان کے پاس ماضی کو یاد کرنے کے لیے بس ایک نعرہ باقی رہ گیا’’ راج کرے گا خالصہ‘‘۔۔۔
نوٹ: فیس بک پر میرا پیج www.facebook.com/oryamj.۔اس کے علاوہ میرا کسی بھی پیچ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

یہ تو نسلی انتقام ہے
اوریا مقبول جان جمعرات 25 دسمبر 2014

بدترین نسلی، قبائلی اور علاقائی تعصب وہ ہوتا ہے جس کا جواز لوگ مذہب میں تلاش کریں اور اپنے انتقام کو ایک اعلیٰ اور ارفع مقصد تصور کریں۔ افغانستان میں مقیم ،،ہزارہ،، قبائل کی جب وہاں کی پشتون برسراقتدار اشرافیہ سے نسلی اور قبائلی جنگ شروع ہوئی تو ایک دوسرے نے قتل و غارت گری کا جواز مسلک میں ڈھونڈنا شروع کیا۔ ہزارے چونکہ اقلیت میں تھے اس لیے ان پر عرصہ حیات تنگ کر دیا گیا۔ کچھ بھاگ کر کوئٹہ آ گئے اور کچھ ایران چلے گئے۔
لیکن اس نسلی اور قبائلی تعصب کی آگ کئی دہائیوں کی پرامن خاموشی میں بھی اندر ہی اندر سلگتی رہی۔ جیسے ہی اس مسلکی اختلاف نے دوبارہ سر اٹھایا تو لوگوں کو اپنے باپ دادا سے سنی ہوئی کہانیاں یاد آ گئیں اور وہ پھر اس تعصب کے انتقام میں دیوانے ہو گئے، آرمینیاء کے عیسائی اور آذر بائیجان کے مسلمانوں کی بھی یہی کہانی ہے، نسلا ایک دوسرے سے مختلف تھے، ایک دوسرے کی جان کے پیاسے تھے، جب دونوں کے مذہب بھی جدا ہو گئے تو اندر چھپے انتقام کو ایک ارفع مقصد میسر آ گیا۔ بوسنیا کے سرب اور مسلمان دونوں نسلی اور قبائلی اعتبار سے علیحدہ تھے۔ صدیوں ایک دوسرے سے جنگ میں مصروف رہے۔
خلافت عثمانیہ اور سوویت روس کی طاقت کی وجہ سے امن قائم رہا، لیکن جیسے ہی طاقت کا یہ شکنجہ ڈھیلا ہوا، تاریخ کا بدترین قتل عام ہوا۔ نسلاً سرب وزیراعظم، میلا سووچ، جو عیسائی تھا، اس نے یورپی یونین کے سربراہوں کے سامنے کھڑے ہو کر کہا کہ کیا تم چاہتے ہو کہ یورپ کے عین بیچوں بیچ بوسنیا کی ایک مسلمان ریاست قائم ہو جائے۔ وجہ صرف بوسنیا سے نسلی اختلاف تھی جسے مذہب کا سہارا لے کر لوگوں کو ساتھ ملایا جا رہا تھا۔ تازہ ترین نسل کشی روہنگیا نسل کے مسلمانوں کی برما میں کی گئی، اس کی بنیادی وجہ یہی تھی کہ روہنگیا مسلمان انگریز کے زمانے سے ہجرت کر کے وہاں آباد ہوئے تھے، اور کچھ چین میں بدترین غربت کی وجہ سے وہاں آ گئے تھے۔ یہ برما میں آباد لوگوں سے زبان اور نسل کے اعتبار سے مختلف تھے۔ ان کی نسل کشی کی داستانیں تو انتہائی لرزہ خیز ہیں۔ بوڑھے مردوں اور عورتوں کو چھوڑ دیا جاتا تھا اور نوجوانوں لڑکوں اور بچوں کو قتل کیا جاتا، یا پھر زندہ جلا دیا جاتا تھا۔
یہ سب اس لیے کیا جاتا کہ ان کی نسل اور زبان اور تھی لیکن ان کے مسلمان ہونے نے مٹی پر تیل کا کام کیا۔ وہ بدھ بھکشو جو سرمنڈا کر گیروے کپڑے پہنے امن کے پجاری بنے بیٹھے تھے، سفاک قاتل بن گئے۔ دنیا کے کسی بھی خطے کی تاریخ اٹھا لیں آپ کونسل، رنگ، زبان اور علاقے کے تعصبات سے پیدا شدہ نفرتوں اور قتل و غارت میں اس وقت شدید اضافہ نظر آئے گا جب دونوں جانب کے لوگ مذہب یا مسلک کی آڑ لے لیں۔ سانحہ پشاور پر طالبان کے نمایندے محمد خراسانی کی رسول اکرمﷺ کے دور کے بنو قریظہ کے واقعہ سے اپنے انتقام کو جواز دینے کی کوشش بھی اسی نسلی انتقام کو مذہبی جواز دینا ہے۔ یہ ایک ایسا فعل ہے جسے کم سے کم تو ہین رسالتؐ کہا جاسکتا ہے۔ اسلام کی چودہ سو سال تاریخ میں کسی گروہ، فرقے، مسلک یا فقہہ نے اس واقعہ کو جواز بنا کر قتل و غارت کو جائز قرار نہیں دیا۔ بنوقریظہ کے جس واقعہ کے بارے میں آج دلیل دی جا رہی ہے وہ رسول اکرم ﷺ کی زندگی کا واقعہ ہے۔
آپؐ جب مدینہ تشریف لائے تو میثاق مدینہ کے تحت یہودی قبائل کے ساتھ معاہدے کیے جس میں یہ تحریر تھا کہ فریقین ایک دوسرے کے خلاف معاندانہ کارروائی نہیں کریں گے اور ایک دوسرے کے خلاف دشمنوں کی امداد نہیں کریں گے۔ معاہدے کی خلاف ورزی کرنے والا پہلا قبیلہ بنو نضیر تھا جس نے آپﷺ کے قتل کی سازشیں کیں، قریش مکہ کو مسلمانوں کے بارے میں خفیہ اطلاعات پہنچائیں اور جنگ پر اکسایا۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے انھیں کہا کہ اب آپ لوگ ریاست مدینہ کے اندر نہیں رہ سکتے، اس لیے شہر چھوڑ دو ورنہ جنگ کے لیے تیار ہو جاؤ، وہ لوگ اپنا سب سامان اٹھا کرشام کی جانب روانہ ہو گئے۔ اس واقعے کے بعد رسول اللہﷺ نے دوبارہ یہودی قبائل کو معاہدے کی دعوت دی اور انھوں نے معاہدے کی تجدید کی۔
اس میں یہ قبیلہ بنو قریظہ بھی شامل تھا۔ جس نے دوبار یہ معاہدہ کیا۔ اس کے بعد جنگ احزاب ہوئی تو بنو نضیر جو شام کی جانب چلا گیا تھا اس نے عرب کے تمام قبائل کو مسلمانوں کے خلاف اکٹھا کر لیا اور وہ مدینہ پر حملہ آور ہو گئے۔ اس دوران حیَّی بن احطب جو بنو نضیر قبیلے کا تھا اس نے بنو قریظہ کو قائل کر لیا کہ وہ بھی مسلمانوں سے معاہدہ توڑ لیں، یوں انھوں نے معاہدہ توڑا اور جنگ میں شامل ہو گئے۔ ان عہد توڑنے کے بارے میں اللہ نے قرآن میں یوں فرمایا ہے ،،جب کہ وہ تم پر بالائے شہر اور پائیں شہر کی جانب سے چڑھ آئے اور جب تمہاری آنکھوں میں اندھیرا چھا گیا اور جب کہ دل منہ کو آنے لگے اور تم اللہ کے متعلق طرح طرح کی بدگمانیاں کرنے لگے،، (احزاب: 10)۔ یہ وہ رات تھی جب ایک طرف سے قریش مکہ اور ان کے ساتھی اور دوسری جانب سے مدینے کے اندر سے بنو قریظہ مسلمانوں کی جانب بڑھ رہے تھے۔
جیسے ہی جنگ احزاب ختم ہوئی، مسلمانوں نے بنو قریظہ کا محاصرہ کر لیا اور 25 دن تک یہ محاصرہ رہا۔ جس پر انھوں نے اپنے حلف کے شریک سعد بن معاذ کے بارے میں کہلا بھیجا کہ وہ جو فیصلہ کریں گے، ہمیں منظور ہے۔ عرب میں حلف کے تعلق کو خونی رشتوں کی طرح سمجھا جاتا تھا۔ عرب میں جنگ کے دوران بدعہدی کی صرف ایک سزا رائج تھی اور وہ یہ کہ تمام جنگ کے قابل مردوں کو قتل کر دیا جائے۔ سعد بن معاذ نے وہی سزا تجویز کی۔ یہ سزا ایک ثالث نے تجویز کی تھی اور عرب کی روایات کے مطابق تھی۔ اسے چودہ سو سال سے آج تک کسی نے رسول اکرمﷺ کی طرف سے دی جانے والی سزا قرار نہیں دیا۔ دوسری بات یہ کہ یہ جنگ میں بدعہدی کی بنیاد پر دی جانے والی سزا تھی۔ اگر یہ جنگ کی بالعموم سزا ہوتی تو بدر کے قیدیوں سے لے کر فتح مکہ کے بعد بھی نافذ ہوتی۔ انتقام کی آگ انسان کو کس قدر دیوانہ بنا دیتی ہے۔
کیا آرمی پبلک اسکول کے طلبہ یا ان کے والدین نے محمد خراسانی کے طالبان کے ساتھ کوئی معاہدہ کیا تھا جسے توڑا تھا۔ کیا ان بچوں نے یا ان کے والدین نے طالبان کو ثالث مقرر کیا تھا۔ یہ خالصتاً قتل ہے اور سفاکانہ قتل اور اس قتل کو مذہبی جواز نہیں مل سکتا۔ ہاں قبائل، نسلی اور علاقائی تعصب میں انتقام کی آگ نے آپ کو ایسا کرنے پر مجبور کیا۔ اس میں سفاکی یہ ہے کہ اس میں چن چن کر بچوں کو منتخب کیا گیا۔ اس کا جواز میرے آقا سید الانبیاء کی سنت میں تلاش کرنا ایک ایسا فعل ہے جو کم سے کم توہین رسالتؐ ہے۔
جس امت نے گیارھویں صدی عیسویں میں صلاح الدین ایوبی جیسا شخص پیدا کیا ہو جس کو پورا مغرب یہ کہہ کر سلام پیش کرے کہ اس نے دنیا کو جنگ کی اخلاقیات سکھائیں تھیں۔ جو عورتوں، بچوں، بوڑھوں اور گھر میں بیٹھے پرامن شہریوں پر ہاتھ نہیں اٹھاتا تھا۔ اس نے یہ تمام اخلاقیات کہاں سے سیکھیں۔ یقیناً میرے آقا سید الانبیاءﷺ سے۔ صدیوں سے مسلمانوں نے جنگ کی یہ اخلاقیات قائم رکھیں۔ یہ اخلاقیات نہیں تو پھر یہ سب عصبیت ہے، انتقام ہے ویسی ہی عصبیت، ویسا ہی انتقام جیسا بلوچستان میں بی ایل اے یا دیگر علیحدگی پسند لے رہے ہیں، ویسا ہی انتقام جو بنگالیوں نے بہاریوں کو قتل کر کے مکتی باہنی بنا کر لیا۔ نسلی، قبائلی، علاقائی تعصب بدترین ہو جاتا ہے جب اس کا جواز مذہب میں ڈھونڈا جانے لگے۔

ہوئے تم دوست جس کے
اوریا مقبول جان پير 12 جنوری 2015

مسلم امہ کی چودہ سو سالہ تاریخ میں دینی مدرسے کا تصور سب سے پہلے برصغیر میں انگریز گورنر جنرل وارن ہیسٹنگز نے 1781 میں کلکتہ مدرسہ کھول کر پیدا کیا۔ اس سے قبل بغداد کے دارالحکومت سے شروع ہونے والی مدارس کی تحریک جو 1100 سے 1500 تک طلیطلہ کے تراجم کی انتھک کوششوں سے ہم آہنگ ہو کر دنیا بھر کے علوم کی قائد بنی، اس کے زیر اثر قائم ہونے والے تمام مدارس علم میں کوئی تحصیص نہیں کرتے تھے۔ ان کے نزدیک سید الانبیاء ﷺ کی حدیث کے مصداق علم مومن کا گمشدہ مال تھا۔
اس امت کے تمام مدارس میں قرآن و سنت اور فقہ کے علاوہ جو علوم پڑھائے جاتے تھے ان میں علم طب، علم الادویہ، علم ریاضی، علم طبیعات، علم فلکیات، فلکیاتی جدول، امراض عین، علم المناظر، علم کیمیا، علم فلسفہ، علم تاریخ، علم موسیقی اور دیگر کئی علوم شامل تھے۔ اس تصور کو برصغیر کے مسلم مدارس نے بھی انگریز کی آمد تک قائم رکھا ۔ مدرسہ رحیمیہ اور مدرسہ فرنگی محل کے نصاب ان ھی علوم پر مبنی تھے۔ یہی تعلیمی ادارے تھے جس سے علم حاصل کر کے لوگ طبیب بنتے تھے اور گاؤں گاؤں جا کر حکمت اور طب کا پیشہ اختیار کرتے تھے۔
آج بھی ان گھرانوں میں علم طب اور علم الادویہ کی کتابوں کے وہ نسخے مل جائیں گے جو ان مدرسوں میں پڑھائے جاتے تھے۔ ان ہی تعلیمی اداروں سے استاد پیدا ہوتے اور ہر گاؤں میں اتالیق مقرر ہوتے تھے۔ ایک ایسا غیر رسمی تعلیمی نظام پورے برصغیر پر رائج تھا جس کے نتیجے میں اس خطے میں شرح خواندگی 95 فیصد سے زیادہ تھی۔ ہزاروں صفحات پر مشتمل گورنمنٹ کالج لاہور کے پہلے پرنسپل G.W.Leitner جی ڈبلیو لائٹنر کی کتاب Indiginous Education in Punjab اس بات کی گواہی ہے کہ مغلیہ دور میں ہر گاؤں کی سطح تک بنیادی تعلیم کا تصور کس قدر مستحکم تھا۔
شرح خواندگی یہ نہیں تھی کہ اپنا نام لکھ اور پڑھ سکتا ہو بلکہ ہر پڑھے لکھے شخص کو فارسی پڑھنا، لکھنا آتی تھی، حساب کتاب پر دسترس تھی اور اسے قرآن یا وید پڑھنا آتی تھی۔ یہ سب اساتذہ جو گاؤں گاؤں پھیلے ہوئے تھے ان ھی مدارس سے پڑھ کر نکلے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ 1906ء کے تمام اضلاع کے گزٹیر اٹھا کر دیکھ لیں آپ کو ضلعوں میں عمومی شرح خواندگی 90 فیصد کے لگ بھگ نظر آئے گی۔ یہی حال 1911ء کی مردم شماری کی رپورٹ کا ہے۔ یہ تعلیم اور خواندگی کا جال ان ھی مدارس سے فارغ التحصیل افراد نے پھیلایا تھا۔
پورے برصغیر میں جو سول سروس تھی جس میں مالیہ وصول کرنے والے، زمین کی پیمائش کرنے والے جریب کش، کوتوال، عدالتوں کے قاضی، خزانے کے متولی، عمارتیں تعمیر کرنے والے انجینئر جنھوں نے تاج محل اور شالیمار جیسے شاہکار تخلیق کیے، یہ سب کے سب ان ھی مدارس سے علم حاصل کر کے ان عہدوں تک پہنچتے تھے۔ ایک مربوط تعلیمی نظام کے بغیر یہ لوگ آسمان سے نازل نہیں ہوتے تھے۔ اس دور میں برصغیر میں آنے والے ہر سیاح نے صرف اور صرف ایک چیزکی بے حد تعریف کی ہے اور وہ تھی اس خطے میں عام آدمی کی زندگی میں علم اور ادب کے علاوہ فلسفہ اور سیاسی امور کی اہمیت۔ 1643ء میں جو کتاب یورپ میں چھپ کر عام ہوئی وہ سر تھامس رو کا سفرنامہ تھا۔
اس کا ایک نسخہ پنجاب آرکائیوز میں موجود ہے جس کی ورق گردانی آپ کو بتا دے گی کہ پورے ہندوستان میں ان تعلیمی اداروں کا کیسا جال بچھا ہوا تھا۔ صرف ٹھٹھہ جیسے دور دراز علاقے میں چار سو کالج قائم تھے۔ البتہ فرق ایک تھا اور وہ یہ کہ آج کے دور کی طرح امتحانات کے ذریعے پاس کرنے اور ڈگری دینے کا رواج نہ تھا۔ وہاں استاد اپنے شاگردوں کو روز پرکھتا تھا اور پھر ایک دن اعلان فرما دیتا تھا کہ اب میرا یہ شاگرد علم میں طاق ہو گیا ہے۔ چند بڑے بڑے سوالات یاد کر کے امتحان دے کر ڈگری حاصل نہیں کی جاتی تھی۔
1781 میں کلکتہ مدرسہ قائم کرنے سے پہلے انگریز نے اس علاقے میں 1757سے مسلمانوں کے تمام تعلیمی اداروں پر پابندی لگا دی۔ اب وارن ہیسٹنگز نے اس ،،دینی مدرسے،، کی بنیاد رکھی جسے صرف اور صرف دینی تعلیم کے لیے مختص کیا گیا۔ اس مدرسے کے فارغ التحصیل طلبہ کو اسی طرح کی ذمے داریوں کا درس دیا گیا جیسا یورپ میں تحریک احیائے علوم کے بعد چرچ کے پادریوں کو دیا جاتا ہے یعنی پیدا ہونے پر بپتسمہ دے دو، شادی پر جوڑے کو قانونی حیثیت دے دو، مرنے کے بعد رسومات ادا کر دو اور اتوار کی عبادت کی قیادت کرلو۔
یہ چار ذمے داریاں بالکل اسی نوعیت کے حساب سے برصغیر کے علماء کو سونپ دی گئیں اور مسلمانوں کے قدیم مدارس کی طرز پر عیسائی مشنری اسکول کھولے گئے۔ 1810 میں کلکتہ میں پہلا مشینری اسکول کھلا جس کے نصاب میں بائبل کی اخلاقیات ،،Biblical Ethics،، اور عیسائی تعلیم کے ساتھ تمام دنیاوی علوم پڑھائے جاتے تھے۔ انگریزی کو ذریعہ تعلیم بنایا گیا اور تمام سرکاری نوکریوں کے لیے انگریزی لازم قرار دے دی گئی۔ پورے ملک کے تمام تعلیمی اداروں سے قرآن و سنت خارج کر دیا گیا اور اسے اسلامیات کے ایک اختیاری مضمون کی حیثیت دے دی گئی کہ جو کوئی اس کو پڑھنا چاہے پڑھ لے۔
تعلیم صرف اسکول اور کالج تک محدود ہو گئی اور اس کے بعد کے نوے سالوں میں وہ زوال آیا کہ 1947 میں انگریز جب برصغیر کو چھوڑ کر گیا تو شرح خواندگی 14 فیصد سے زیادہ نہ تھی۔ اس دور زوال میں مسلمان مدارس نے وہ ذمے داری بخوشی قبول کر لی جو انگریز نے دی تھی اور ایک ایسی کھیپ تیار کرنا شروع کر دی جو کم از کم قرآن و سنت کے علم کو محفوظ رکھیں اور اسے کونے کونے تک پہنچائیں۔ مغربی تعلیم کی یلغار اور انگریز حکومت کے مقابلے میں اپنے دینی علم کا تحفظ ان مدارس کا بنیادی مقصد بن گیا اور جس لگن اور ایمانداری سے انھوں نے یہ فریضہ نبھایا اس کی مثال نہیں ملتی۔
بلوچستان کے قمر دین کاریزیا بسیمہ جیسے دور افتادہ گاؤں ہوں، سندھ میں مٹھی اور ڈیپلو کے ریگستان ہوں، پنجاب میں بھکر، راجن پور یا میانوالی کا بے سرو سامان قصبہ ہو یا سرحد کی بلند چوٹی پر آباد کوئی بستی۔ پانی، بجلی، سیوریج، تعلیم، صحت اور دیگر سہولیات سے بے نیاز ان مدارس کا پڑھا ہوا ایک شخص صبح منہ اندھیرے مسجد کا دروازہ کھولتا ہے، صفیں درست کرتا ہے، چبوترے پر اذان دیتا ہے اور ان میں پانچ وقت نماز پڑھاتا ہے۔ اکثر جگہ اس کی گزر بسر صرف اور صرف لوگوں کے گھروں سے کھانا یا شادی اور موت کی رسومات پر نذرانے کے سوا کسی اور چیز پر منحصر نہیں ہوتی۔
پورے ملک کے طول و عرض میں پھیلے ہوئے یہ لوگ جو دانستہ یا نادانستہ طور پر اللہ اور اس کے رسولﷺ کے نام کو زندہ رہنے کی واحد علامت ہیں۔ یہ اگر موجود نہ ہوں تو لوگ اذان دینے اور نماز پڑھانے والے کو ڈھونڈتے پھرتے ہیں۔ انھوں نے یہ ذمے داری گزشتہ دو سو سال سے اس طرح نبھائی ہے کہ آج تک کسی مسجد کے دروازے پر تالہ نہیں لگا کہ مولوی ہڑتال پر ہے۔ کبھی کوئی نماز لیٹ نہیں ہوئی۔
یہ ہیں وہ لوگ جواس ملک کے کوچے کوچے اور قریے قریے میں موجود ہیں۔ جہاں سرکار کا نام و نشان نہیں وہاں بھی موجود ہیں۔ کسی گاؤں میں چلے جائیں آپ کو سرکار کا اسپتال ویران نظر آئے گا، وہاں کا اسکول بے آباد ہو گا، نہ ڈاکٹر کا کہیں پتہ چلے گا اور نہ ہی استاد کا لیکن وہاں ایک ہی آباد اور روشن مقام ہوگا اور وہ اللہ کا گھر جس کی رکھوالی ایک مفلوک الحال درویش مولوی کر رہا ہوتا ہے۔
اس مولوی سے دشمنی کی اور کوئی وجہ نہیں، بس صرف ایک ہے کہ یہ اللہ کے نام کا دانستہ یا نادانستہ طور پر نمائندہ بن چکا ہے اور اپنا فرض نبھا رہا ہے۔ لیکن جب بھی میرے ملک کے ،،عظیم،، دانشوروں کو موقع ہاتھ آتا ہے وہ ان مدارس کو سرکاری کنٹرول میں کرنے کا نعرہ بلند کرنے لگتے ہیں۔ کبھی کسی نے سوچا ہے اس کے بعد کیا ہو گا۔ وہی جو تمام اداروں کے ساتھ ہو رہا ہے۔
مولویوں کا تنخواہیں بڑھانے کے لیے اور دیگر مراعات کے لیے احتجاج شروع ہو گا، دھرنے، مساجد پر تالے اور درس و تدریس کا خاتمہ۔ وہی حال جو ہم نے اپنے باقی تمام محکموں کا کیا ہے۔ مجھے اپنے ان عظیم دانشوروں کی یہ منطق اچھی لگتی ہے کہ تمام مدارس کو سائنسی اور جدید علوم پڑھانے چاہئیں تا کہ روحانی اور مادی ترقی ساتھ ساتھ ہو لیکن کیا یہ منطق کالجوں یونیورسٹیوں اور اے لیول وغیرہ پر لاگو نہیں ہوتی کہ انھیں بھی قرآن و حدیث پڑھایا جائے تا کہ معاشرہ میں ایک ہی طرح کا نظام تعلیم اور ایک طرح کے انسان جنم لیں۔
ان اداروں میں تو جو تھوڑا بہت اسلام موجود ہے، یہ لوگ اس کو بھی نکالنے کا نعرہ لگاتے ہیں۔ اصل مقصد صرف یہ ہے کہ تعلیم سے اللہ اور اس کے رسول کو دیس نکالا دے دو۔ اسے امن کی شرط کہا جا رہا ہے۔ یورپ نے 1900 تک دین کو تعلیم سے نکال دیا تھا۔ کیا وہاں امن آ گیا؟ اس کے بعد اس نے دو عالمی جنگیں لڑیں اور کروڑوں انسانوں کا خون بہایا۔ شاید تاریخ کسی کو یاد نہیں یا وہ یاد کرنا نہیں چاہتا۔

دورنگی چھوڑ کر یک رنگ ہو جا
اوریا مقبول جان اتوار 28 دسمبر 2014

یہ قوم بھی کس قدر بدقسمت ہے کہ یہاں قومی اتفاق رائے پیدا کرنے کے لیے گزشتہ چند سالوں سے وہ لوگ مل کر بیٹھ رہے ہیں جن کے لیے زندہ رہنے کا جواز ہی قومی اختلاف رائے ہے۔ جن کی سیاست کی آبیاری ہی اختلاف سے ہوتی ہے۔
یوں لگتا ہے آل پارٹیز کانفرنس نہیں بلکہ کوئی بہت بڑا سیمینار، ورکشاپ یا کانفرنس ختم ہوئی ہے۔ جس طرح ایسے تمام سیمیناروں، ورکشاپوں یا کانفرنسوں کے آخر میں ایک ورکنگ گروپ بنا دیا جاتا ہے جو چند گھنٹے بیٹھ کر سفارشات مرتب کرتا ہے اور پھر ایسی ناقابل عمل اور دور ازکار قسم کی سفارشات کا اعلان کر دیا جاتا ہے۔ جیسے آبادی کے مسئلے پر کانفرنس ہو تو پہلی سفارش یہ ہوتی ہے کہ ،،پاکستان کی آبادی کم کرنے کے لیے عملی اقدام کیے جائیں،،۔
یہ عملی اقدام بھی کیا خوبصورت لفظ ہے جو ہمارے حکمرانوں، دانشوروں اور ارباب حل و عقد نے ایجاد کیا ہے۔ ایسے بہت سے الفاظ ہیں جو مسائل کے حل کے لیے منعقد آل پارٹیز کانفرنس یا پھر اس جیسے اجلاسوں، سیمیناروں وغیرہ نے ایجاد کر لیے ہیں، جیسے ،،ٹھوس سفارشات،، ،،فوری سدباب،، ،،تمام توانائیاں بروئے کار لا کر،، وغیرہ وغیرہ۔ کانفرنس سیمینار یا ورکشاپ کے لوگوں سے تو گلہ نہیں کہ ان کی دال روٹی اور دھندا ہی یہی ہے۔
کسی نے ڈونرز کے پیسے کو حلال کرنا ہوتا ہے تو کوئی اپنے ادارے کی ٹوپی میں کامیاب کانفرنس جیسا سرخاب کا پر لگانا چاہتا ہے۔ لیکن یہ تمام سیاسی پارٹیوں کے رہنما، جن میں ہر کوئی برسراقتدار آ کر اس قوم کے مسائل حل کرنے کے نعرے پر سیاست کر رہا ہوتا ہے، ووٹ مانگ رہا ہوتا ہے، اکٹھے ہو کر جو ،،ٹھوس سفارشات،، مرتب کرتے ہیں، جو ،،عملی اقدامات،، تجویز کرتے ہیں یا جس ،،حکمت عملی،، کا اعلان کرتے ہیں۔ ان رہنماؤں کی گزشتہ کارکردگی دیکھی جائے تو یوں لگتا ہے یہ سب سفارشات کسی خلائی مخلوق کے لیے ہیں جو اچانک کسی سیارے سے اترے گی، اس ملک کا انتظام سنبھالے گی اور ان سفارشات پر عمل درآمد شروع کر دے گی۔
پشاور کا سانحہ جسے ہر کوئی پاکستان کا ،،نائن الیون،، کہہ رہا ہے، اسی سے اندازہ ہو جاتا ہے کہ ان تمام رہنماؤں کو مسئلے کا کتنا ادراک ہے۔ نائن الیون کے بعد امریکا نے اپنا ایک دشمن وضع کیا تھا جو اس سے ہزاروں میل دور ایک مفلوک الحال ملک تھا۔ وہ یہ جنگ اپنے شہروں، قصبوں یا پہاڑوں میں لڑنے نہیں جا رہا تھا۔ اس کے ساتھ 48 ملک آ ملے تھے تو اس نے فضائی بمباری سے اس ملک کو تہس نہس کر دیا تھا۔ اسے اس ملک یعنی افغانستان پر بم برسانے کے لیے اس کے پڑوسی یعنی ہماری سرزمین میسر آئی تھی جہاں سے ستاون ہزار دفعہ جہاز اڑے تھے اور انھوں نے وہاں بم برسائے تھے۔
نائن الیون کے بعد امریکی صدر جارج بش کو ایک لمحے کے لیے پالیسی کا اعلان کرنے یا عوام کو ساتھ ملانے کے لیے اپوزیشن یا فوج سے مشاورت کی ضرورت نہیں پڑی تھی۔ ان تیرہ سالوں میں ایک گھنٹے کے لیے بھی امریکی فوج امریکا میں کسی آپریشن کے لیے کسی شہر یا علاقے میں نہیں بھیجی گئی۔ وہاں کی سول انتظامیہ کو اپنی طاقت اور قوت کا اندازہ تھا اور اس حماقت پر بھروسہ بھی۔ پاکستان اپنی یہ جنگ کونسے ملک پر مسلط کرے گا جو اس سے ہزاروں میل دور بھی ہو اور کمزور بھی ہو اور دنیا اس ملک پر حملہ کرنے کے لیے بھی اس کا ساتھ دے لیکن ہم نے بھی لفظ ایجاد کرنے اور تشبیہات تراشنے کا ٹھیکہ لے رکھا ہے۔
کیا سیاست دان اور کیا دانشور، جس کو کیمرہ اور مائیک میسر آتا ہے ایسی ہی اصلاحات ایجاد کرتا رہتا ہے۔ پاکستان کے اس ،،نائن الیون،، کے بعد جو قومی اتفاق رائے پیدا ہوا اس کی ہنڈیا بیچ چوراہے میں پھوٹنے لگی ہے۔ ہر سیاست دان نے اپنے اپنے چوراہے میں اس ہنڈیا کو پھوڑنا شروع کر دیا ہے۔ رحمان ملک نے کہا، اگر فوجی عدالتوں سے کسی بے گناہ کو سزا ہوئی تو پارلیمانی ایکشن کمیٹی ختم ہو جائے گی۔
گویا گناہ گار اور بے گناہ کا فیصلہ پارلیمانی ایکشن کمیٹی کرے گی نہ کہ فوجی عدالت۔ فاروق ستار نے کہا اگر کسی سیاسی مجرم کو فوجی عدالت نے سزا سنائی تو سپریم کورٹ جائیں گے۔ گویا قتل کرنے، اغوا برائے تاوان یا کسی بھی قسم کی دہشت گردی کے مقدمے کو فوجی عدالت سے بچانا ہے تو فوری طور پر کسی سیاسی جماعت کی ممبر شپ حاصل کر لینی چاہیے۔ یہی ،،اتفاق رائے،، آصف زرداری نے بے نظیر کی برسی والے دن تقریر کرتے دکھایا۔
سفارشات کا سب سے مضحکہ خیز حصہ وہ ہے جس پر حکومت نے عملدرآمد کرنا ہے۔ کام کرنے کی صلاحیت اور گزشتہ کارکردگی کو دیکھ کر آئندہ کے لیے سفارشات مرتب کی جاتی ہیں۔ لیکن حیرت میں ڈوب جائیے کہ یہاں ہم کیا کچھ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں اور ہمارے معیارات کتنے بلند ہیں۔ یہ حکومت مدارس کی رجسٹریشن کرنے اور ان کے نصاب تعلیم کو درست کرنے کا عزم رکھتی ہے۔ وہ حکومت جو گزشتہ چالیس سالوں سے پرائیویٹ اسکولوں کو رجسٹرڈ کر رہی ہے۔
ہر صوبے میں ہزاروں پرائیویٹ اسکول ہیں جو کم از کم تین حکومتی اداروں کے تحت رجسٹرڈ ہوتے ہیں۔ آج کسی بھی صوبے کے محکمہ تعلیم کے اعلیٰ ترین عہدیدار سے پوچھ لیں، ان اسکولوں میں کیسا نصاب تعلیم پڑھایا جا رہا ہے، بچوں سے کتنی فیسیں لی جا رہی ہیں، اساتذہ کی تنخواہوں کا کیا حال ہے، عمارتیں کیسی ہیں، ان کی لائبریریاں اور لیبارٹریز کس طرح کی ہیں۔ آپ کو کوئی تسلی بخش جواب نہیں ملے گا۔ آپ حیرت میں گم ہو جائیں گے کہ یہ تمام محکمے گزشتہ تیس سال سے مسلسل ان اسکولوں کو رجسٹرڈ کر رہے ہیں اور انھیں خبر تک نہیں کہ وہاں کیا ہو رہا ہے۔
ایسی حکومت جب مدرسوں کی رجسٹریشن کا دعویٰ کرتی ہے۔ اور ٹیلی ویژن اسکرینوں پر بیٹھے دانشور جب زور دے کر کہتے ہیں کہ یہ فوراً کرو تو ہنسی آ جاتی ہے۔ بے بسی کے عالم میں آخر کار تجویز یہ دی جاتی ہے کہ فوج کے ذریعے یہ کام کروا لیا جائے۔ کیا انھیں پرویز مشرف کے زمانے میں سیلز ٹیکس کی رجسٹریشن کا حشر یاد نہیں جو فوج کے ذریعے کروایا گیا تھا۔ وہ تو بیچارے کاروباری اور دکاندار قسم کے لوگ تھے جو جھگڑوں سے دور بھاگتے ہیں، وہ اٹھ کھڑے ہوئے تھے۔
یہاں تو بریلوی، دیوبندی، شیعہ، اہل حدیث، سب اپنی ،،قوت ایمانی،، کا مظاہرہ کرنے کے لیے تیار بیٹھے ہیں۔ اس ملک میں چار ایسے ادارے ہیں جو این جی اوز کو رجسٹرڈ کرتے ہیں۔ ان کے پاس ہزاروں این جی اوز رجسٹرڈ ہیں۔ آپ ان اداروں کے سربراہوں سے سوال پوچھ کر دیکھ لیں کہ ان این جی اوز کے فنڈز کہاں سے آتے ہیں، کہاں خرچ ہوتے ہیں، ان کا دائرہ کار کیا ہے۔ آپ کو یقیناً مایوسی ہو گی۔ اس کے باوجود ہمارا حوصلہ دیکھیں ہم مدرسوں پر ہاتھ ڈالنے جا رہے ہیں۔
ایک اور ٹھوس سفارش یہ بھی ہے کہ دہشت گردوں کی مالی معاونت روکی جا ئے گی۔ حیرت ہے جس ملک میں 45 کے قریب سفارت خانوں میں امداد حاصل کرنے کے لیے کھڑکیاں کھلی ہوں۔ جہاں ڈونرز فنڈز قائم ہوں، وہاں مالی معاونت روکی جا سکے گی۔ جہاں روز کروڑوں ڈالر ہنڈی کے ذریعے اس ملک میں آتے جاتے ہوں اور ہر بڑے صاحب اقتدار کے کاروباری وسائل بھی اسی ہنڈی کے ذریعے سے پورے ہوتے ہوں، وہاں مالی معاونت پر کنٹرول کی سفارش عجیب لگتی ہے۔
آپ ایک ایک ٹھوس سفارش اٹھائیں اور پھر دیکھیں اس کے ساتھ ہم آئندہ دنوں میں کیا سلوک کریں گے تو ہمیں مایوسی گھیر لیتی ہے۔ ہم سمجھتے ہیں ہمارے مسئلے کا کوئی حل نہیں۔ حل ہے، اگر ہم منافقت ترک کر دیں۔ اگر ہم جو سوچ رہیں اور ہمارے جو دلوں میں چھپا ہے اسے زبان پر لے آئیں۔ ہم فیصلہ کر لیں کہ ہمیں اس ملک کو کیسا بنانا ہے۔ ایک سیکولر قومی ریاست یا ایک خالص اسلامی فلاحی مملکت۔ ہماری خرابیوں کی جڑ یہ ہے کہ ہم اسلامی فلاحی مملکت میں سیکولرزم ڈھونڈتے ہیں اور سیکولر قومی ریاست میں اسلامی اقدار تلاش کرتے ہیں۔ ایسے نہیں چل سکتا۔ سیکولر قومی جمہوری ریاست بنانا ہے تو پھر اللہ کو خوش رکھنے کے خواب دیکھنا چھوڑ دو جیسے دنیا کی ایسی تمام ریاستیں کر رہی ہیں۔
ویسا ہی کرو، شہادت کی آرزو اور جنت کی تمنا چھوڑو اور قومی سوچ اپناؤ۔ اگر یہ نہیں تو پھر اسلام کی بنیاد پر آگے بڑھنا چاہتے ہو تو کم از کم جو کچھ اس آئین میں درج ہے وہ فوراً نافذ کر دو۔ نیک نیتی کے ساتھ اور شاید ایک دن سب کچھ گنوانے کے بعد آپ کو یہی حل ہی نظر آئے گا۔ اس لیے کہ سیکولر قومی ریاست کے علمبرداروں کو جو بندوق آج میسر ہے اس کا رخ وقت کی عالمی سیاست کے ساتھ بدلتا ہے۔ جب کہ پاکستان میں بسنے والے اٹھارہ کروڑ عوام کی خواہشوں اور امنگوں کا مرکز کچھ اور ہے۔ ان کے خواب اسلام سے وابستہ ہیں۔ چلو کچھ دن لڑائی لڑ کر دیکھ لو۔ ابھی تو آغاز ہے اور ،،قومی اتفاق رائے،، کی ہنڈیا بیچ چوراہے میں پھوٹنے لگی ہے۔

جدید سیکولر نظامِ تعلیم کی تاریکیاں
اوریا مقبول جان جمعرات 22 جنوری 2015

جدید سیکولر نظامِ تعلیم کے تحت پوری دنیا میں اس وقت جتنے اسکول ، کالج اور یونیورسٹیاں کام کر رہی ہیں، اگر ان کی تعداد کا شمار کیا جائے تو یو ں لگے گا جیسے آج کا دور صرف اور صرف انسانوں کو علم باٹنے کا فریضہ بحسن و خوبی انجام دے رہا ہے۔
اس علم کی روشنی سے جو انسان برآمد ہو رہے ہیں انھوں نے اپنے ارد گرد ایک چکا چوند انسانی بستی آباد کر لی ہے۔ ایک ایسی دنیا جس میں پُر آسائش گھر ہیں، تیز رفتار گاڑیاں، ٹرینیں اور جہاز ہیں، آسمان کو چھوتی عمارتیں ہیں، کمپیوٹر، انٹرنیٹ، ٹیلی ویژن، غرض آسائش کا ہر سامان میسر ہے۔ بیماری کے علاج کے لیے اسپتال اور ہمہ وقت مستعد صحت کا عملہ ہے، صاف پانی، بجلی، گیس اور دیگر سہولیات بہم پہنچانے کے لیے ایک شاندار خدماتی نظام کار موجود ہے۔
ہزاروں بلکہ لاکھوں لوگ دن رات مختلف کار خانوں اور فیکٹریوں میں اس دھن میں مگن رہتے ہیں کہ نئی سے نئی چیز مارکیٹ میں لائی جائے جس کو لوگ پسند کر یں۔ ان تمام تر آسائشوں اور مادی سہولتوں کے باوجود آج کا انسان انسانی تاریخ کا سب سے غیر مطمئن اور نا آسودہ انسان ہے۔ گذشتہ دوتین صدیوں میں اس نے جو بھی علم سیکھا اور اس دنیا میں جو معراج حاصل کی اس نے اس کی مادی زندگی کو تو پرُ آسائش بنایا لیکن اس کی روح کو بے منزل، بے راہ رو اور بھٹکتا ہوا چھوڑ دیا۔ حیرت کی بات ہے کہ اس بے منزل اور بے سکون انسان کے درد کا مداوا موجودہ جدید سیکولر نظامِ تعلیم کے کسی بھی سبق میں موجود نہیں۔
زیادہ سے زیادہ نفسیات کا مضمون ہے اور وہ بھی شعور اور لاشعور کی بھول بھلیوں سے ہوتا ہوا بالآخر چند سکون بخش ادویات یا جسم کی اینٹھین دور کرنے والی ورزشوں پر ختم ہو جوتا ہے۔ کتھارسس، یعنی دل کی بھڑاس نکالنا ہی علاج کا بہترین ذریعہ ہے اور مادی دنیا کی طرف کارآمد طور پر لوٹ جانا دماغی صحت کی علامت سمجھتا جاتا ہے۔لاکھوں بلکہ کروڑوں کتابوں پر مشتمل جدید سیکولر نظامِ تعلیم میں انسان کی روح کے متعلق مبلغ علم کی یہ کل کائنات ہے۔
اخلاقیات، معاشرت، انسانی رشتے، تہذیبی اقدار اور ذہنی سکون، یہ سب کے اس جدید سیکولر نظامِ تعلیم میں دو اور دو چار کی طرح معاشرے میں ہونے والی کاروباری، معاشی اور سیاسی ترقی یا تبدیلی کے ساتھ منسلک کر دیے گئے ہیں۔ اسی لیے جدید تعلیمی نظام کا موضوع انسان نہیں بلکہ اس کا موضوع مادی ترقی اور دولت کا حصول ہے۔
جب سے یہ دنیا تخلیق ہوئی ہے، انسانی تاریخ نے تقریباً دودرجن کے قریب مختلف تہذیبیں دیکھی ہیں جو بامِ عروج پر پہنچیں۔ ان تمام تہذیبوں نے ترقی کے اعلیٰ ترین معیار قائم کیے اور ان کے نقوش آج بھی زمین کے سینے پر ثبت ہیں۔ مصر، چین، بابل، یونان ایران، سندھ اور دیگر تہذیبوں نے علم وفن میں جو ترقی حاصل کی اس کی نظیر نہیں ملتی۔ ان تمام تہذیبوں نے علم سیکھنے اور سکھانے کے لیے ادارے بھی قائم کیے۔ لیکن کسی بھی تہذیب کے تعلیمی اداروں کا بنیادی مقصد موجودہ جدید سیکولر نظامِ تعلیم کی طرح مادہ پرستی اور شکم و شہوت پرستی نہیں تھا۔ ہر تہذیب نے اپنے علمی اداروں میں اعلیٰ ترین اخلاقی معیارات سکھانے اور صرف اور صرف علم حاصل کرنے کے بلند ترین مقصد کو آگے رکھا۔لیکن جدید سیکولر تعلیمی نظام کا اولین اور بنیادی مقصد روٹی کمانا ہے۔
علم، حقیقت اور کائنات کے رازوں سے آگاہی ہرگز نہیں۔اسی لیئے موجودہ نظامِ تعلیم ڈگری یا سند کے حصول کے گرد گھومتا ہے اور ہر یونیورسٹی کی ڈگری یا سند کی مارکیٹ میں الگ الگ قیمت ہے۔ اگر کوئی شخص یہ تصور کرتا ہے کہ پورا نظام علم کی اعلیٰ ترین اقدار اور اس کے حصول پر قائم ہے تو اس سے بڑا مذاق کوئی نہیں۔ اگر دنیا بھر کی حکومتیں یا کارپوریٹ سرمایہ دار یہ اعلان کر دیں کہ ہم یونیورسٹی سے حاصل ہونے والی ڈگریوں یا اسناد پر لوگوں کو ملازمت نہیں دیں گی تو صرف چند ماہ کے اندر یہ تمام تعلیمی ادارے ویران ہو جائیں اور علم کے حصول کے دھوکے میں آباد کی گئی یہ تمام بستیاں تباہ و برباد ہو جائیں۔
یہ جدید سیکولر نظام تعلیم کیا مقاصد حاصل کرنا چاہتا ہے اور کیوں ہماری ضرورت بنا دیا گیا ہے؟ ۔اس تعلیم کو نوکری یا پیسہ کمانے کے ساتھ وابستہ کر کے ہمیں وہ تمام تہذیبی اور ثقافتی اقدار بھی پڑھائی جاتی ہیں جس کے نتیجے میں ہم بچپن ہی سے مغربی سرمایہ دارانہ نظام کے سامنے اپنی شکست تسلیم کر لیتے ہیں۔ دس سال کی عمر تک بچہ اپنے دماغ کی دیوار پر ایک اجنبی ماحول کے نقوش بناتا ہے اور یہ نقوش دائمی ہوتے ہیں۔ اس نظامِ تعلیم میں پڑھنے والا بچہ سنڈریلا، سانتا کلاز، سنووائٹ اور انگوروں کی فصل پکنے پر شراب کشید کرنے کے گیت اس کے دماغ پر نقش ہوتے ہیں۔
ابتدائی کلاسوں میں پڑھائی جانے والی تمام کتابوں میں جو ثقافت اور تہذیب ان کو ازبر کروائی جاتی ہے اس کا ایک نتیجہ نکلتا ہے کہ اسے سرسوں کا ساگ، مکئی کی روٹی، چکی کی گھر گھر اور صحراؤں کی بانسری کی آواز سے کوئی رغبت نہیں رہتی بلکہ وہ ان سب کو ایک کمترین اور کمزور درجے کی تہذیب سجھ کر مسترد کردیتا ہے۔ اس پورے تعلیمی نظام کا بنیادی مقصد صرف اور صرف ایک ’’یک رخا‘‘ آدمی (One dimensional man) پیدا کرنا ہے جو خالصتاً مغربی کارپوریٹ تہذیب کا وفادار ہو۔ وہ اس کے ساتھ جذباتی طور پر وابستہ ہو جاتا ہے اور اس پر کسی قسم کی تنقید یا نقائص ڈھونڈنے کے لیے عقل استعمال نہیں کرتا بلکہ اس کا دفاع کرتا ہے اور جذباتی طور پر کرتا ہے۔ جب کہ اپنی ساری منطق اور سارا علم دین کی تنقید اور اس میں نقائص ڈھونڈنے میں لگاتا ہے۔
یہ جدید سیکولر تعلیمی نظام جس تہذیب کا اسے غلام بناتا ہے وہ تین چیزوں کی مرکب ہے، سیکولر ازم، سرمایہ داری اور جمہوریت۔ ان تینوں تصورات سے جس تہذیب نے جنم لیا ہے وہاں انسانی ترقی کا معیار علم یا سائنس نہیں بلکہ وہ کام، فن یا علم ہے جس سے سرمایہ حاصل کیا جا سکے۔ ایسی تمام محنت جس سے دولت حاصل نہیں ہوتی وہ اس تہذیب میں قابل عزت نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس تہذیب میں ایک عورت جو گھر میں چوبیس گھنٹے بچوں کو پالتی اور اس گھر کو اپنی محنت سے جنت کا نمونہ بناتی ہے اس کی کوئی عزت یا حقوق نہیں جب کہ بازار میں کھڑے ہو کر جسم بیچنے والی عورت کو عزت کے لفظ ’’سیکس ورکر‘‘ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے اور اس کی فلاح کے منصوبے بنائے جاتے ہیں۔
اس جدید سیکولر تعلیمی نظام کا نتیجہ یہ ہے کہ علمی کام کرنے والے، سائنس دان یا دیگر فنون سے تعلق رکھنے والے افراد اپنے شوق سے یہ کام کرنا چاہیں تو کریں ورنہ معاشرتی طور پر تو عزت اسی علم اور اسی ڈگری کی ہے جسے مارکیٹ میں بیچ کر سرمایہ حاصل کیا جاسکے۔اس جدید مغربی تہذیب کا کمال یہ ہے کہ سرمایہ اور عزت کمانے کے لیے بعض اوقات نہیں بلکہ اکثر اوقات آپ کو علم ، ڈگری اور سند کی بھی ضرورت نہیں ہوتی۔ اس معاشرے میں فٹ بال کا کوچ برکلے یا کسی بھی بڑی یونیورسٹی کے وائس چانسلر سے سوگنا زیادہ کماتا ہے۔ سٹے بازی سے زیادہ سرمایہ کہیں نہیں ہے۔
عریانی و فحاشی کی صنعت ایک سال میں جتنا سرمایہ کما لیتی ہے دنیا کی کوئی ملٹی نیشنل کمپنی بھی نہیں کما سکتی۔ آج کے دور کی مغربی سیکولر تہذیب کے سب سے بڑے مفکر جان رالز نے اپنی کتاب(Theory of justice) میں اس تہذیب کا نقشہ کھینچا ہے اور اسے جدید مغربی تہذیب پر اتھارٹی سمجھا جاتا ہے وہ لکھتا ہے کہ انسان کی زندگی کے صرف چار مقاصد ہیں’’آمدنی، دولت، قوت اور اقتدار‘‘ یہی چار مقاصد میں جو جدید سیکولر نظام تعلیم کے ذریعے لوگوں کے دلوں میں راسخ کرائے جاتے ہیں۔ اسی لیئے اقبال نے کہا تھا۔
یورپ میں بہت روشنیٔ علم و ہنر ہے
حق یہ ہے کہ بے چشمۂ حیواں ہے یہ ظلمات

رَبّنا، رَبّنا، رَبّنا
اوریا مقبول جان اتوار 21 دسمبر 2014

درویش کی محفل میں سناٹا تھا۔ شاید اس قیامت کے دکھ کے بعد لوگ بات کرنا بھول گئے تھے۔ ہر کوئی صاحب اولاد ہوتا ہے اور ہر کسی کو بچوں میں اپنی اولاد کے چہرے نظر آتے ہیں۔ ایسا تو شاید ہی انسانی تاریخ میں کسی ہلاکو نے بھی نہ کیا ہو کہ بچوں کو علیحدہ کر کے، ان کے معصوم چہروں پر نظر پڑنے کے باوجود بھی ان پر گولیوں کی بوچھاڑ کر دی گئی ہو۔ دنیا کی جنگوں کی تاریخ میں بم برستے رہے، شہر اجڑتے رہے، لوگ مرتے رہے لیکن ایسا کبھی نہ ہوا تھا کہ تاک کر بچوں کے اسکول کو نشانہ بنایا جائے، یا پھر وہاں گھس کر یہ وحشیانہ کھیل کھیلا جائے۔
سنتے آئے تھے کہ منگول اور ایشائے کوچک سے آنے والے منگول نسل کے لوگوں سے پہلے دنیا میں بہت سی وحشیانہ سزاؤں کا رواج نہیں تھا، کھال میں بھس بھرنا، سلائیاں پھیر کر اندھا کرنا، ٹکڑے ٹکڑے کر کے کسی کو موت کی جانب لے جانا، لیکن ان وحشیانہ سزاؤں کے موجدوں نے بھی کبھی بچوں کو علیحدہ کر کے نہیں مارا۔ بچے ماں باپ کی آغوش میں ایک ساتھ ضرور مارے گئے ہوں گے، بے خبری میں ان پر بم ضرور برسے ہوں گے، اچانک ان کو اکٹھے کسی افتاد کا سامنا ضرور کرنا پڑ گیا ہو گا جیسے ڈوبنا، آگ لگنا، یا اسکول میں زلزلہ آ جانا۔
ایسے میں موت کی آغوش میں جاتے ہوئے یہ ایک دوسرے کا ہاتھ ضرور تھام لیتے ہوں گے، ایک دوسرے کو تسلی کے لفظ ضرور بول لیتے ہوں گے۔ زندگی میں سب سے خوفناک منظر میں نے ان چھ تصویروں میں دیکھا تھا جو ایک فلسطینی بچے اور اس کے باپ کا منظر تھا۔ یہ منظر ایک فوٹوگرافر نے کیمرے کی آنکھ میں چند تصویروں کے ذریعے محفوظ کر لیا تھا۔
فلسطینی باپ اور بچہ اچانک اسرائیلی گولیوں سے بچنے کے لیے ایک دکان کے چھجے تلے پناہ لیتے ہیں دوسری تصویر میں بچہ سہما ہوا باپ سے لپٹا ہے، تیسری تصویر میں باپ اسے تسلی دے رہا ہے، چوتھی تصویر میں گولی بچے کو لگی ہے، پانچویں تصویر میں بچہ باپ کی گود میں درد سے کراہ رہا ہے اور چھٹی تصویر میں بچہ مر چکا ہے اور باپ بے بسی کی تصویر ہے۔
ان چھ تصویروں میں جو کیفیت تھی اس نے مجھے سالوں مضطرب اور بے چین رکھا، بلکہ آج بھی وہ تصویریں یاد آ جاتی ہیں تو جی سنبھل نہیں پاتا۔ لیکن اس سانحے میں تو بچوں کو اپنے باپ کی گود بھی میسر نہ تھی کہ موت کے وقت اس آغوش کی گرمی اور محبت حاصل کر لیتے۔ اس المیے کا تصور ہی کیا، صرف اس بات کا سوچ میں لانا کہ چند لوگ اسلحے تانے ایک ہال میں داخل ہوتے ہیں جہاں بچے اپنے آپ میں مگن ہیں اور پھر اچانک سارا منظر خوفناک وحشت میں بدلنے لگتا ہے۔ اس پہلے لمحے کے آگے سوچنے کی ہمت نہیں پڑتی۔ میں نے اب تک جو انسانی تاریخ پڑھی ہے، اس سے درد ناک واقعہ نہیں پڑھا۔
خاندان کے خاندان قتل ہوئے، مارے گئے، ہلاک ہوئے، لیکن ایک ساتھ، ہر کوئی بے بس اور مجبور۔ لیکن یہاں تو بے بسی خاص طور پر ان معصوم بچوں کے مقدر میں آئی۔ بچے یرغمال بنائے گئے، ان کو اغوا برائے تاوان کے لیے لے جایا گیا، پھر سرمایہ نہ ملنے پر قتل کیا گیا۔ ان سارے معاملات میں بچوں کے دل میں ایک امید ضرور موجود رہتی ہے کہ شاید کوئی انھیں رہائی دلا دے۔
روس میں باسلان کے اسکول میں جب چیچن گھس آئے تھے تو 280 کے قریب بچے مارے گئے تھے۔ مگر وہ سب روسی فوج اور چیچن جنگجوؤں کی لڑائی کے دوران مارے گئے۔ ایسے ماحول میں بھی ایک امید ضرور ساتھ چلتی ہے کہ جنگ ختم ہوئی تو ہم زندہ سلامت باہر نکل جائیں گے لیکن اس سانحے میں تو ان بچوں نے صرف موت ہی دیکھی، نہ کوئی آس، امید، نہ تسلی و تشفی اور نہ کسی مہربان کی گود۔ بس خوفناک آنکھوں اور شعلہ اگلتی بندوقوں کا سامنا تھا۔
درویش کی محفل میں سناٹا تھا۔ سب دم بخود تھے۔ کسی کو اس بات کا اندازہ تک نہیں تھا کہ انسان اس قدر خونخوار اور ظالم بھی ہو سکتا ہے۔ اس سید الانبیاءﷺ کے ماننے والے جس نے اذیت دینے والے مشرکین مکہ کو جنگ بدر کے بعد جب قید کیا تو ان کو رسیوں سے باندھا ہوا تھا۔ رسیاں سخت تھیں، رات کو قیدیوں کی کراہنے کی آواز آئی تو بے چین ہوگئے، صحابہ سے کہا اگر تم کہو تو ان کی رسیاں ڈھیلی نہ کر دیں۔
اپنی دسترس میں آئے ہوئے لوگوں پر اسقدر رحم، دسترس میں بھی وہ لوگ جو چند گھنٹے پہلے جنگ لڑ چکے تھے، جو تیرہ سال مکے میں اذیتوں کے پہاڑ کھڑے کر چکے ہیں۔ محمد خراسانی کی ای میل جو اس ملک میں ہر صحافی کو بھیجی گئی۔ پڑھتا ہوں تو سوچتا ہوں، کیا پورے قرآن پاک اور سید الانبیاءﷺ کی سیرت میں ان لوگوں کو کوئی رحم، عفو و درگزر اور بچوں پر شفقت کا ایک واقعہ بھی یاد نہیں آیا۔ اللہ اور اس کے رسولؐ کا کونسا حکم ہے جو انتقام کی اجازت دیتا ہے۔
انتقام تو عصبیت اور قبائلیت کی صفت ہے جسے مٹانے کے لیے میرے آقاؐ اس دنیا میں تشریف لائے اور پھر حجتہ الوداع کے دن فرمایا ،،تمہاری جاہلیت اور عصبیت کے بت میرے پاؤں تلے کرچی کرچی ہو چکے،،۔ جس عصبیت کے بت میرے آقا ؐکے پاؤں تلے کرچی کرچی ہو جائیں، کیا اس عصبیت کے انتقام کا تمہیں آخرت میں اجر ملے گا۔ ہر گز نہیں۔ چلو تم نے پشتون روایات کے تحت بدلہ لے لیا ہے لیکن شاید بھول گئے، کیا پشتون روایات میں بچوں اور عورتوں سے کبھی بدلہ لیا گیا۔
درویش کی محفل کا سناٹا قائم تھا کہ میں نے سوال کیا، کب تک؟، فرمایا سورہ تغابن کی وہی آیت دہراؤ ،،کوئی مصیبت آ ہی نہیں سکتی مگر اللہ کا اذن نہ ہو،، (تغابن 11)۔ پوچھا کیا یہ واقعی مصیبت ہے؟۔ بولے سورہ الانعام کی وہی آیت دہراؤ جو بار بار لکھتے رہتے ہو ،،کہہ دو، وہ قدرت رکھتا ہے اس پر کہ تم پر عذاب بھیجے تمہارے اوپر سے اور تمہارے پاؤں کے نیچے سے یا تم کو آپس میں گروہوں میں بانٹ کر لڑا دے اور ایک گروہ کو دوسرے گروہ کی طاقت کا مزا چکھا دے،، (الانعام 65): سوال کیا، بہت ہوگیا یہ عذاب، بہت چکھ لیا مزا ایک دوسرے کی طاقت کا، کوئی راہ نجات۔ بولے جب سید الانبیاء صلی اللہ علیہ و سلم پر جب اس آیت کا نزول ہوا تو آپ نے ہاتھ دعا کے لیے بلند کر دیے، اور کہا۔ اے اللہ، اے قادر مطلق، میں پناہ مانگتا ہوں ترے چہرے کے تقدس کی اس عذاب سے جو تو ہمیں گروہوں میں بانٹ کر ہمیں لڑا کر ہم پر نازل کرتا ہے،،۔
فرمایا، تم لوگوں نے کبھی اپنے آقاؐ کی اس صفت پر عمل کیا۔ کبھی پوری قوم گڑگڑا کر اللہ کے حضور روئی، سجدہ ریز ہوئی، معافی کی طلبگار ہوئی۔ کبھی کہا کہ اے اللہ ہم اس عذاب کے متحمل نہیں ہو سکتے، ہم پر رحم فرما۔ کبھی دیوانہ وار اللہ سے گڑگڑانے کے لیے باہر نکلے جیسے شمعیں روشن کرنے نکلتے ہو۔ ایک دفعہ نکل کے تو دیکھو، ایک دفعہ اسے آزماؤ تو سہی۔ وہ رب ہے، رحیم ہے، کریم ہے۔ اس کا دعویٰ ہے میں دلوں کو جوڑتا ہوں، اس کا دعویٰ ہے میں بھوک میں کھانا اور خوف میں امن بخشتا ہوں۔
وہ تو انتظار کرتے ہوئے پکارتا ہے کہ کوئی قوم یونس ؑ کی طرح کی قوم کیوں نہ ہو گئی کہ ہم سے معافی مانگتی اور ہم اسے معاف کر دیتے،،۔ میں درویش کے چہرے پر سناٹے سے دیکھتا رہا۔ باہر شمعیں روشن کرنیوالے اپنے دکھ کا اظہار کر رہے تھے۔ میری آنکھوں کے آنسوؤں میں شمعوں کی لو ٹمٹمانے لگی، صرف پروردگار سے ایک التجا کی، اللہ ان شمعیں جلانے والے ہاتھوں کو اپنی بار گاہ میں ایسے اٹھنے کی توفیق دے جو تیری ناراضگی کو ختم کر سکے، جو اس خوف کے موسم میں امن واپس لا سکے۔ بیشک صرف تو ہی ہے جو خوف میں امن دیتا ہے۔

جمہوریت یا شورائیت
اوریا مقبول جان اتوار 14 دسمبر 2014

دنیا کے تمام ملکوں کے جمہوری نظام صرف اور صرف ایک چیز پر قائم ہیں اور وہ ہے رائے یعنی ووٹ۔ اس نظام کی بنیادی اکائی ایک ووٹر یعنی رائے دینے والا ہے۔ تصور یہ عام کیا گیا ہے کہ اسی کے ووٹ سے حکومت کا نظام کار چلتا ہے۔ برسراقتدار آنے والا طبقہ جو اچھائی اور برائی کرے گا اس کا خمیازہ اس ووٹ دینے والے کو ہی بھگتنا ہوگا اور یہ سب کچھ اس لیے خاموشی سے برداشت کرنا ہوگا کہ اسی نے تو رائے یا ووٹ دے کر ان لوگوں کو اقتدار کی کرسی پر بٹھایا تھا۔
حیرت کی بات ہے کہ اسلام کا بھی تمام سیاسی اور معاشرتی نظام صرف اور صرف رائے پر قائم ہے۔ پھر دونوں میں فرق کیا ہے۔ کیسے کیسے عظیم اسکالرز مدتوں اس بات پر اپنے علم اور دلیل کی محنت صرف کرتے رہے اور یہ ثابت کرنے کی کوشش میں لگے رہے کہ شورائیت کا جو تصور اسلام نے دیا ہے، اصل میں وہی جمہوریت ہے۔ اس سے پہلے کہ ہم ان دونوں کے فرق پر بات کریں ہم رائے کے بارے میں انسانوں کے عمومی مزاج اور احتیاط کو دیکھتے ہیں۔
دنیا میں انسان کسی بھی جگہ یا علاقے میں بستے ہوں انھیں کسی بھی معاملے میں مشورہ یا رائے درکار ہو تو وہ کسی ایسے شخص کی تلاش کرنے نکلتے ہیں جو اس معاملے کی تھوڑی بہت شدھ بدھ ضرور رکھتا ہو، اور اگر کوئی اس کا ماہر مل جائے تو پھر اس کی رائے کو اور اہمیت دی جاتی ہے۔ بیٹی یا بیٹے کی شادی کرنے سے لے کر مکان بنانے، کاروبار شروع کرنے، کنواں کھودنے، اسکول بنانے، حتیٰ کہ زندگی کا کوئی بھی کام کرنا ہو، اس کے آغاز میں جو رائے لی جاتی ہے، جو مشورہ طلب کیا جاتا ہے وہ کسی طور پر بھی رائج جمہوری طریق کار کی ووٹنگ سے ملتا جلتا نہیں ہے۔
اگر جمہوری طریقے سے رائے طلب کرنا ہی بہترین طرز زندگی ہوتا اور اکثریت کی رائے ہی برحق اور صحیح ہوتی تو انسان یقیناً ایسے ہی فیصلے کرتا۔ پورے خاندان میں بچوں کی شادی کے لیے ریفرنڈم کراتا، فیکٹری کا مالک تمام مزدوروں کو جمع کرتا اور فیکٹری کی توسیع کے لیے ووٹ مانگتا اور ان کی رائے پر عمل کرتا۔ یوں دنیا کے ہر کاروبار میں یہی اصول کارفرما ہوتا۔ پل بنانے کے لیے ایک انجینئر، مستری اور عام آدمی کی رائے برابر ہوتی۔ ایسا نہیں ہوتا بلکہ ایسا کرنے والے کو انتہائی بے وقوف سمجھا جاتا ہے۔ اس کی ناکامی کے بعد صرف ایک ہی فقرہ اسے سننے کو ملتا ہے، کسی جاننے والے سے مشورہ ہی کر لیا ہوتا۔
انسانی معاشرے کی اسی خصوصیت کو اسلام کے نظام شورائیت میں اہمیت حاصل ہے۔ اسلام کے ہاں وہی کلیہ اہم ہے جو اللہ نے انسانوں کے مزاج اور فطرت میں دویعت کر دیا ہے یعنی رائے سے پہلے صاحب الرائے کو دیکھو، پرکھو۔ یوں تو یہ پرکھ پرچول انسانی معاشرے میں روز مرہ کی چیز ہے، لیکن موجودہ ماڈرن زندگی میں تو رائے دینے والے کی پرکھ پرچول ایک سائنسی طریق کار بن چکا ہے۔ دنیا کے ہر بڑے ادارے کا نظام، رائے دینے والے یعنی Consultants کے بغیر نا مکمل ہے۔
تمام حکومتوں نے بڑے بڑے تھنک ٹینک قائم کر رکھے ہیں جو ہر معاملے میں اپنی صائم رائے دیتے ہیں لیکن ان تمام افراد کو کسی بھی جمہوری طریق کار یا ووٹنگ کے ذریعے منتخب نہیں کیا جاتا بلکہ اس کے لیے ان کی علمی استعداد اور تجربے کو دیکھا جاتا ہے لیکن اس پورے جمہوری نظام کی جو جڑ ہے، یعنی حکومت اور صاحبان اقتدار منتخب کرنے کے لیے، رائے دینے یعنی ووٹ دینے والوں کے بارے میں یہ تصور ہے کہ ہر شخص کو ووٹ دینے کا حق حاصل ہے یعنی ہر فرد صاحب الرائے ہے۔ جمہوری نظام کا یہ دعویٰ بھی غلط ہے۔
دنیا کا ہر جمہوری ملک ووٹر یا رائے دینے کے لیے ایک شرط کم از کم لگاتا ہے اور وہ عمر کی شرط ہے۔ دنیا بھر میں جتنے بھی نظام تعلیم رائج ہیں ان میں ایک سولہ سال کا بچہ میٹرک، او لیول یا دیگر سند حاصل کر کے کافی علم اور سمجھ بوجھ حاصل کر لیتا ہے لیکن وہ ووٹ یا رائے دینے سے محروم ہے جب کہ ایک 80 سال کا بوڑھا، جس کی یادداشت تک کھو چکی ہو، جو فالج زدہ ہو، اسے جمہوری طور پر رائے دینے کا مکمل حق حاصل ہے۔
اسلام کی شورائیت صرف ایک عمر کی شرط عائد نہیں کرتی بلکہ اس کا ایک معیار ہے کہ کون اس قابل ہے کہ رائے دے سکے۔ عموماً یہ کہا جاتا ہے کہ ان معیارات کو کون پرکھے گا۔ یہ سوال بھی انسانی فطرت کے بالکل برعکس ہے۔ کیا کسی گلی، محلے، دفتر یا ادارے میں پرکھنے کی ضرورت پڑنی ہے کہ کون ایماندار، نیک، صاحب علم، شریف اور باکردار شخص ہے۔ ہر کسی کی انگلی اسی شخص کی جانب اٹھتی ہے جو ان خصوصیات کا حامل ہوتا ہے۔ کسی نے اپنے ذاتی معاملے میں مشورہ کرنا ہو تو وہ صاحب الرائے کو پاتال میں سے بھی ڈھونڈ نکالتا ہے، اسے کسی قسم کی ووٹنگ نہیں کروانا پڑتی۔
لوگ سوال کرتے ہیں کہ یہ سب تو ایک خیالی دنیا کی باتیں ہیں، صدیوں پرانے معاشرے کے قصے ہیں، آج کے دور میں جہاں دنیا اس قدر ترقی کر گئی ہے، بڑے بڑے شہر آباد ہو گئے ہیں وہاں ایسے صاحب الرائے کیسے تلاش کریں گے، کون تلاش کرے گا۔ اس تیز رفتار ترقی یافتہ دور میں کروڑوں لوگ دنیا کی بڑی بڑی فیکٹریوں اور کارپوریٹ اداروں میں کام کرتے ہیں، روزانہ کروڑوں نئی ملازمت بھی حاصل کرتے ہیں اور اتنے ہی نکالے بھی جاتے ہیں۔ تعلیم کی شرط تو چھوڑ دیں۔
کیا ایک بنیادی شرط یہ نہیں ہوتی کہ وہ ایماندار ہوں اور ان کا کردار کرپشن اور بددیانتی سے پاک ہو، دنیا میں ایسی کارپوریشن بھی ہیں جو سو کے قریب ممالک میں لاکھوں لوگوں کو ملازم رکھے ہوئیں ہیں اور ان ملازمین کا پہلا معیار ایمانداری اور دیانت ہے۔ کوئی بھی کارپوریشن تعلیم پر سمجھوتہ کر لیتی ہے لیکن دیانت پر نہیں کرتی۔ ان سب نے ایک نظام وضع کیا ہے کہ دیانت اور ایمانداری کو کیسے پرکھا جاتا ہے۔ ہر ادارے میں نظام ایک تجربے کے بعد آیا، لوگوں نے اپنے اداروں کو بے ایمانی سے پاک کرنے کے لیے مربوط نظام بنائے۔
سوال پیدا ہوتا ہے کہ اٹھارہ کروڑ لوگوں پر پھیلے ہوئے ملک میں یہ کیسے شروع کیا جائے۔ عمر کی شرط لگا کر پچاس فیصد افراد کو تو آپ نے پہلے ہی فارغ کر دیا ہے۔ آپ کو ایک شرط نہیں بلکہ ووٹ یا رائے دینے کے لیے بہت سی شرائط عائد کرنا ہونگی، جن میں سب سے بنیادی شرط تعلیم جسے کم از کم میٹرک رکھا جا سکتا ہے۔ اس کے بعد آپ رائے کے قابل فرد کو پرکھنے کے لیے ایک امتحان بھی رکھ سکتے ہیں جس کے بعد اس ملک میں رائے دینے والوں کو ایک ووٹنگ کارڈ جاری کیا جاسکتا ہے۔
تعلیم صرف ایک بنیادی شرط ہے جس سے آغاز ہو، اس کے بعد دیگر شرائط کے لیے ایک طریق کار وضع کیا جائے اور ایسے ادارے ترتیب دیے جائیں جو صاحب الرائے یا ووٹر کے کردار، اخلاق، دیانت اور علم کی جانچ پڑتال کریں اور ان کی رپورٹ اگلے مرحلے میں ووٹنگ کارڈ کی ضمانت ہو۔ ہو سکتا ہے ایک وقت ایسا جائے کہ اس ملک کی اکثریت ہی اہل الرائے کے منصب کے قابل ہو۔ مغربی جمہوری نظام کی دوسری اہم ترین شرط سیاسی پارٹیاں ہیں۔ یہ سیاسی پارٹیاں اس لیے بنائی جاتی ہیں کہ ان کے ذریعے کارپوریٹ سرمایہ دار آسانی کے ساتھ پارٹی فنڈنگ کر سکتے ہیں۔ پورا جمہوری نظام اس سرمائے سے چلتا ہے۔
اسلام میں معاشرے کو اس طرح کے طبقات میں تقسیم کرنے کا کوئی تصور نہیں۔ اسلام میں اہل الرائے جب کسی شخص کو خلیفہ بنا دیتے ہیں تو پھر ہر خاص و عام کو اس کی بیعت کرنا ہوتی ہے۔ اس معاملے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس قدر سخت ہدایت ہے کہ ،،اگر دو خلیفوں کی لوگوں میں بیعت ہو جائے تو بعد والے کو قتل کر دو،،۔ یعنی اسلام اس طرح کی پارٹی بازی، گروہ بندی اور تفریق کو پسند نہیں کرتا۔ پارٹی سیاست کا وجود ہی اقربا پروری، کرپشن اور بددیانتی کی جڑ ہے۔
پارٹی سیاست نہ ہو تو لوگ خالصتاً صلاحیت اور دیانت کو دیکھ کر رائے دیں گے۔ شرط یہ ہے کہ آپ رائے دینے والوں کا معیار صحیح مقرر کرلیں۔ آرٹیکل 62 اور 63 کی شرط اسمبلی کے اراکین نہیں ووٹر کے لیے ہونا چاہیے۔ بنیاد غلط ہو گی تو اوپر بھی یہ سوال اٹھتا رہے گا کہ کون ثابت کرے کہ صادق اور امین کون ہے۔ اپنے گھر، فیکٹری یا دفتر میں ملازم رکھنے کے لیے کیا کبھی کسی کو یہ کہنے کی ضرورت پڑی کہ کون ثابت کرے کہ صادق اور امین کون ہے، اس وقت تو وہ بڑی تسلیاں اور تحقیق کر رہا ہوتا ہے۔

اکثریت کی آمریت
اوریا مقبول جان جمعـء 12 دسمبر 2014

انسان کو رنگ ، نسل ، زبان اور علاقے میں تقسیم کر کے قومی ریاستوں کے قیام کے ساتھ ساتھ جس تصور نے دنیا بھر میں مقبولیت حاصل کی وہ جمہوریت یا عوام کے ووٹوں سے منتخب ہو کر آنے والی حکومت کا دلآویز نقشہ تھا۔ لوگوں کو ایک ایسا شاندار اور خوش کن قسم کا نعرہ دیا گیا جس نے انھیں یقین دلادیا کہ ان کے ووٹ سے جو لوگ برسرِ اقتدار آتے ہیں وہ انھی کے نمایندے ہوتے ہیں اور انھی کے مفاد کے لیے کام کرتے ہیں۔
یہ سب بیسویں صدی کے آغاز کی باتیں ہیں۔ وہی آغاز جس کی پہلی دہائی ایک عالمی جنگِ عظیم میں صرف ہوئی اور کروڑوں لوگوں کی جان لے گئی۔لیکن اس پہلی جنگ عظیم میں وہ عالمی طاقتوں جنہوں نے پوری دنیا کو اپنی کالونی بنا رکھا تھا، انھوں نے باقی ماندہ دنیا کو بھی فتح کر لیا اور پھر اسے اپنی بادشاہت میں شامل نہ کیا، بلکہ اس کے حصے بخرے کر دیے۔ یہ حصے بخرے انھوں نے رنگ، نسل، زبان اور علاقے کی بنیاد پر کیے۔
یہ باقی ماندہ دنیا کون سی تھی؟ یہ باقی ماندہ دنیا مسلمانوں کی حکومتِ عثمانیہ، افریقہ کا براعظم، جنوبی امریکا اور مشرقِ بعید تھا۔ جو عالمی طاقتیں اس وقت بامِ عروج پر تھیں، ان میں برطانیہ، فرانس، جرمنی، اٹلی، اسپین، ہالینڈ اور پرتگال شامل تھے۔ امریکا عالمی طاقت تھا مگر دور دراز بھی تھا اور اس جنگ سے نسبتاً الگ بھی۔ اس جنگ کے بعد دنیا کا بیشتر حصہ قومی ریاستوں میں تقسیم کر دیا گیا اور ایک عالمی تنظیم بنائی گئی جس کا نام تھا ’’لیگ آف نیشنز‘‘ یعنی’’ جمعّیتِ اقوام‘‘۔ دنیا کو قومی ریاستوں میں تقسیم کر کے بنی نوع انسان کو ایک دوسرے کے خون کا پیاسا بنانے کا تصور چونکہ اسلام کی بنیادی روح کے منافی تھا اسی لیے اس تصور کے خلاف جو طاقتور ترین آواز بلند ہوئی وہ علامہ اقبال کی تھی۔ انھوں نے کہا کہ اسلام کا پیغام انسانوں کی وحدت اور یگانگت ہے ، اقوام کی جمعیت کا نہیں۔
اس دور میں اقوام کی صحبت بھی ہوئی عام
پوشیدہ نگاہوں سے رہی وحدتِ آدم
تفریقِ ملّل، حکمتِ افرنگ کا مقصود
اسلام کا مقصود فقط ملتِ آدم
مکّے نے دیا، خاکِ جنیوا کو یہ پیغام
جمعّیتِ اقوام کہ جمعّیتِ آدم
انسانوں کو رنگ ، نسل، زبان اور علاقے میں تقسیم کر کے ان کو آپس میں لڑانے کا یہ قومی ریاستوں کا کھیل صرف تیس سال بعد ہی دنیا کو ایک اورخونی عالمگیر جنگ کا تحفہ دے گیا۔ یہ جنگ تو خوفناک بھی تھی اور تباہ کن بھی۔ وہ جنگ جس میں پہلی دفعہ دو شہروں پر ایٹم بم برسائے گئے۔ دنیا کا کون سا خطہ تھا جو اس کی لپیٹ میں نہ آیا ہو۔ لیکن1915سے1945 ان تیس سالوں میں ان قومی ریاستوں کو خونخوار بنانے اور اپنی اپنی سرحدوں میں خونی پنجوں کو تیز کرنے میں جس تصور نے جلتی پر تیل کا کام کیا وہ جمہوریت تھی۔
لوگوں کے اندر چھپی عصبیت اس جمہوری نظام میں کھل کر سامنے آ گئی۔ جرمنی کی جنگِ عظیم اول کی شکست نے ہٹلر کے جذبۂ انتقام کو عوام میں بے حد مقبول کیا اور وہ اپنی قوم کے دلوں کی دھڑکن بن گیا۔ الیکشنوں میں وہ عوام کی واضح اکثریت سے جیتا اور اس نے جمہوریت کی روح یعنی ’’ اکثریت کی آمریت‘‘ کا کریہہ چہرہ دنیا کے سامنے پیش کر دیا۔ یہودی اقلیت پر جس وقت پوری جرمن قوم اپنے جمہوری قائد ہٹلر کی سربراہی میں بھیڑیوں کی طرح ٹوٹ پڑی تھی تو اس وقت ہٹلر کے اس ظلم کا دفاع کرنے والی ایک واضح اکثریت اس قوم میں موجود تھی جو چیخ چیخ کر کہتی تھی اس یہودی اقلیت کو نیست ونابود کر دو۔ اکثریت کی آمریت کا یہ روپ دنیا کی ہر جمہوریت میں نظر آتا ہے۔
امریکا میں پولیس کے ہاتھوں سیاہ فام افراد کی ہلاکت اور اس پر سیاسی قیادتوں اور میڈیا کی المناک خاموشی کیا اکیسویں صدی کا تازہ ترین المیہ نہیں ہے کہ دو سو کے قریب سیاہ فام امریکی اسی اکثریت کی آمریت میں پولیس کے تشدد کی وجہ سے جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں اور وہاں اس بات کا رونا بھی سیاہ فاموں کو خود ہی رونا پڑ رہا ہے۔ برطانیہ کی برٹش نیشنل پارٹی کے ہاتھوں اقلیتوں پر تشدد ہو یا بھارت کی بی جے پی کے ہاتھوں پورے ملک کے مسلمان اور عیسائی خوفزدہ ہوں ، یہ سب اس جمہوری نظام کے تحائف ہیں جو دنیا کو مل رہے ہیں۔پورے کا پورا نظام صرف ایک فقرے پر قائم ہے۔ ’’Majority is authority ‘‘ یعنی ’’ اکثریت ہی حق ہے‘‘۔ اقلیت میں جو بھی چیخے ، چلائے ، شور مچائے اسے کہا جائے کہ جاؤ اپنی اکثریت ثابت کرو اور پھر جو چاہے کر لینا۔ ابھی تو ہم اکثریت میں ہیں اورہماری ہی بات چلے گی۔ اس جمہوری تصورِ حکومت ہی کے خلاف سب سے توانا آواز علامہ اقبال کی تھی۔
تو نے کیا دیکھا نہیں مغرب کا جمہوری نظام
چہرہ روشن، اندروں چنگیز سے تاریک تر
اس پورے نظام کی خرابی یہ ہے کہ اس میں جمہوری طور پر اکثریت سے جیتنے والے رہنما کا دفاع کرنے والے دیوانے اور فرزانے اس کے ہر ظلم کا دفاع دیدہ دلیری سے کرتے ہیں اور اس کی ہر زیادتی کے حق میں دلیلیں لے کر آتے ہیں۔ ذوالفقار علی بھٹو جب بلوچستان میں اپنی ذاتی انا کی تسکین کے لیے عطا اللہ مینگل کی مخالف حکومت ختم کرکے آرمی آپریشن شروع کرواتے ہیں، ہزاروں بلوچوں کا قتل عام کرتے ہیں، تو اس کا دفاع کرنے والے 1973 سے لے کر آج تک اسی جوش اور جذبے کے ساتھ ان کے ہر عمل کو جائز قرار دیتے ہیں۔ ان کے دور میں تیس کے قریب سیاسی رہنماؤں کا قتل ہو یا پاکستان میں پہلی دفعہ لاپتہ افرادکی رسم کا آغاز دلائی کیمپ کے ذریعے کیا جائے، پیپلز پارٹی کے جیالوں کے لیے یہ سب سراہنے کی باتیں ہیں۔
کسی بھی آمر یا ڈکٹیٹر کے ظلم کو صرف چند ہی دفاع کرنے والے میسر آتے ہیں اور وہ بھی اس کی زندگی تک یا اقتدار تک اس کا دم بھرتے ہیں۔ لیکن جمہوری ڈکٹیٹروں یا ’’ اکثریت کی آمریت‘‘ کے ذریعے برسر اقتدار آنے والے رہنماؤں کا دفاع کرنے والے تو ہر دور میں میسر آتے ہیں اور وہ مسلسل اس طرح اس کا دفاع کرتے رہتے ہیں کہ انصاف کے تمام معیارات زمین بوس ہو جاتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں جو بھی فوجی آمر آیا اس نے اپنی ایک سیاسی جماعت بنائی تاکہ اس کا جمہوری طور پر دفاع کرنے والے بھی موجود رہیں۔ ایوب خان نے کنونشن مسلم لیگ بنائی، جس کا جنرل سیکریٹری ذوالفقار علی بھٹو تھا، ضیاالحق کی مسلم لیگ کو نواز شریف، اور جونیجو میسر آئے اور پرویز مشرف کی مسلم لیگ کو چوہدری شجاعت اور پرویز الٰہی۔ لیکن فوجی آمر اور سیاسی رہنماؤں کا یہ تعلق اقتدار کی چوکھٹ تک رہتا ہے جیسے ہی آمر گیا یہ اس کا نام تک نہیں لیتے۔ مگر جمہوری سیاسی نظام میں سیاسی پارٹیاں اپنے لیڈروں کی مدح سرائی میں اپنے رہنماؤں کے ظلم اور بربریت کی مسلسل اور مستقل وکالت کرتی رہتی ہیں یہاں تک کہ اس کی موت کے بعد بھی۔
یہ ہے وہ تمام پس منظر جس میں ماڈل ٹاؤن میں مرنے والے افراد ہوں یا فیصل آباد میں سنسناتی گولیوں کا نشانہ بننے والا حق نواز۔ آج اس ان مظالم کی دلیل دینے والے بھی موجود ہیں اور اپنے رہنماؤں کو پاک صاف اور معصوم ثابت کرنے والے بھی۔ یہ صرف اسی جمہوری نظام کا ہی خاصہ ہے کہ تعصبات کو اس سطح پر لے جایا جاتا ہے کہ کراچی میں سیاست دانوں کے مداحین کو بخوبی علم ہوتا ہے کہ ہمارے لیڈروں کے اشارے پر افراد قتل کرتے ہیں ، تشدد کرتے ہیں،اغوا برائے تاوان میں شریک ہوتے ہیں لیکن پھر بھی وہ انھی کا دفاع کرتے ہیں، انھی سے محبت کرتے ہیں، انھی پر جان نچھاور کرنے کو تیار ہوتے ہیں۔
یہی حال باقی تمام ملک اور صوبوں کا بھی ہے۔ کوئی سیاسی پارٹی کا کارکن کبھی بھی اپنے لیڈر کو اس لیے چھوڑ کر علیحدہ نہیں ہوا کہ اس کے لیڈرنے اپنے مخالفین کو قتل کروایا تھا۔ ان پر مقدمے بنائے اور ان کا جینا دوبھر کر دیا تھا۔ وہ کارکن سب جانتا ہوتا ہے لیکن اسے محلے ، گلی، شہر، اخبار یا ٹیلی ویژن پروگرام میں جہاں کہیں بھی موقع مل جائے اپنے لیڈر کا دفاع کرتا ہے، اس کی کرپشن، بددیانتی، مخالفین پر ظلم و تشدد سب کے باوجود بس یہی کہتا ہے میری جان بھی اپنے لیڈر پر نثار ہے۔

سودی آقا، جمہوری غلام
اوریا مقبول جان اتوار 7 دسمبر 2014

یہ سب سرمایہ کہاں سے آتا ہے۔ دولت کی یہ ریل پیل جو سیاسی جماعتوں کے اجتماعات میں نظر آتی ہے‘ کیا یہ ان تمام لیڈروں کی ذاتی جمع پونجی ہے۔ کسی کنجوس کا نقشہ پشتو کے اس محاورے میں خوب کھینچا گیا ہے،’’ وہ تو کسی کو اپنا بخار بھی نہیں دیتا‘‘۔ سیاسی پارٹیوں میں موجود ان رہنماؤں کی اکثریت بھی ایسی ہے کہ روز مرہ زندگی میں وہ کسی غریب‘ مسکین‘ نادار یا اپنے مفلوک الحال ہمسائے پر چند روپے خرچ نہیں کرتے‘ لیکن جلسوں‘ جلوسوں‘ فلیکس ‘پرچموں کی تنصیب اور پارٹی پبلسٹی پر لاکھوں‘ کروڑوں بلکہ اب تو اربوں روپے خرچ ہو رہے ہوتے ہیں۔ ان سب کا خرچہ کون اٹھاتا ہے۔ یہ ہُن ان پر کون برساتا ہے۔
کیا ان کو یہ سرمایہ وہ دکاندار فراہم کرتا ہے جو صبح سے شام تک دکان پر بیٹھ کر رزق کماتا ہے یا وہ کار خانہ دار ان کی جھولی میں کروڑوں روپے ڈالتا ہے جس نے محنت سے فیکٹری لگائی ہے۔ یہ سب مل بھی جائیں تو اس ’’شاندار جمہوری نظام‘‘ کا خرچہ نہیں اٹھا سکتے۔ اس لیے کہ پارٹی چلانا‘ مسلسل دورے‘ جلسے‘جلوس‘ لٹریچر‘ میڈیا کے اشتہارات وغیرہ جیسے اخراجات ایک اندھا کنواں ہیں جس میں مسلسل نوٹ ڈالنے پڑتے ہیں اور واپس صرف اسمبلی کی رکنیت اور اس ملک کے غریب عوام کی قسمتوں سے کھیلنے کا اختیار ملتا ہے، یہ وہ اختیار ہے جس سے اس دولت کے ڈھیر میں اضافہ ہوتا ہے اور پھر اسے پارٹی فنڈنگ کے لیے استعمال کیا جاتا اور ذاتی سلطنت کی وسعت کے لیے بھی ۔
یہ سرمایہ کہاں سے آتا ہے؟ یہ سرمایہ یقیناً ان اٹھارہ کروڑ عوام کی جیبوں سے آتا ہے اور ان معصوموں کو اس کا علم تک نہیں ہوتا کہ یہ انھیں سے لوٹی ہوئی دولت ہے جو انھیں ہی بے وقوف بنانے پر استعمال ہو رہی ہے۔ دنیا کی ہر جمہوریت کے پیچھے سودی بینکاری نظام کی پیدا کردہ مصنوعی دولت کار فرماہے اور یہی صورت حال پاکستان کے ’’معزز جمہوری نظام‘‘ کی بھی ہے۔ جمہوریت اور سودی نظام کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔
سودی نظام ایک مصنوعی دولت تخلیق کرتا ہے اور پھر اس کے تحفظ کے لیے ایک ایسے سیاسی نظام میں سرمایہ لگاتا ہے جو بظاہر ایسے لگے جیسے عوام کے ووٹوں سے منتخب ہو کر آیا ہے لیکن اسمبلیوں اور سینیٹ میں وہ ان بینک مالکان کا تحفظ کرتا ہے جنہوں نے پارٹی فنڈنگ کے ذریعے ان کے انتخابات کا خرچہ اٹھایا تھا۔ سودی نظام کا آغاز اسٹیٹ بینک سے ہوتا ہے۔
یہ ملک میں موجود سونے کے ذخائر‘ سیکیورٹی یا Good will کے مطابق نوٹ چھاپتا ہے جس پر یہ عبارت تحریر کرتا ہے کہ وہ ’’عندالطلب کو مطالبے پر ادا کرے گا‘‘ اس وقت پاکستان کے پاس تمام سونا‘ بانڈ‘ سیکیورٹی وغیرہ ملا کر کل 318 ارب روپے کی مالیت بنتی ہے لیکن 1700 ارب روپے کی مالیت کے نوٹ چھاپ رکھے ہیں اور ان پر یہ وعدہ درج ہے کہ ہم عندالطلب کو اس کے بدلے سونا‘چاندی‘ چاول‘ گندم ادا کریں گے۔ پھر سود خور بینکوں کا مرحلہ آتا ہے۔ پاکستان میں اس وقت 97 فیصد سے زیادہ بینکاری پرائیویٹ سرمایہ داروں کے ہاتھ میں ہے۔ واحد سرکاری بینک نیشنل بینک ہے۔ بینکوں کو ایک خاص شرح ’’ریزرو‘‘ نوٹ رکھ کر مصنوعی دولت تخلیق کرنے کا اختیار ہے۔
یہ وہ سرمایہ اپنی خط و کتابت Transaction سے تخلیق کرتے ہیں۔ یعنی ایک کاغذ یا ڈرافٹ جس پر ایک کروڑ روپیہ لکھا ہوا ہے وہ چینی والے سے کھاد والے‘ فرنیچر والے‘ دوائی والے ‘ آٹے والے سے ہوتا ہوا بینکوں تک پہنچتا ہے اور بینک مالا مال ہو جاتے ہیں۔ معیشت کی زبان میں اسے M2 کہتے ہیں اور بینکوں کو اصل سرمائے سے چالیس گنا زیادہ مصنوعی دولت تخلیق کرنے کا اختیار ہے۔ اس وقت ملک میں یہ مصنوعی دولت نوہزار آٹھ سو اٹھائیس (9828)ارب روپے کے برابر ہے۔ یعنی اصل دولت یا سیکیورٹی جو تین سو اٹھارہ ارب ہے اس پر مصنوعی دولت نو ہزار آٹھ سو اٹھائیس ارب روپے بنائی جا چکی ہے۔
کیا یہ دولت ان ظالم‘ خون چوسنے والے سود خور بینکوں نے کسی سرمایہ کاری کی صورت میں پیدا کی ہے‘ کیا انھوں نے کہیں کوئی ملیں یا کار خانے لگائے ہیں۔ نہیں۔ انھوں نے اپنا تمام سرمایہ ان جمہوری حکومتوں کی عیاشیوں اور اللے تللوں کے لیے انھیں قرض دیا ہے۔ ان میں تمام نجی بینک بھی شامل ہیں اور اسلامی بینکوں نے بھی اس بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے کے لیے سکوک جاری کیے ہیں‘ جن پر وہ بھی اسی سودی شرح پر رقم وصول کررہے ہیں اور وہ اسے بڑی سہولت اور آسانی سے حلال منافع قرار دیتے ہیں۔ اس وقت حکومت پاکستان پر ملکی بینکوں کا کل قرضہ دس ہزار ارب روپے ہے۔ جسے Domestic Debt کہتے ہیں۔
اس سال حکومت نے اس قرض پر ایک ہزار پانچ سو ارب روپے سود ادا کرنا ہے۔ حکومت بینکوں سے یہ قرضہ تین طریقوں سے لیتی ہے۔ -1 پاکستان انوسٹمنٹ بانڈ۔-2 اجارہ سکوک۔ -3 مارکیٹ لٹریری بانڈ۔ اکتوبر 2014 تک ان بینکوں نے حکومت کو گیارہ ہزار چار چھہتر 11476 ارب روپے کا قرض دے رکھا تھا۔ اس میں اسلامی بینکوں کے 319 ارب روپے کے سکوک بھی شامل ہیں۔ یہ ہے ان بینکوں کی کل سرمایہ کاری۔ حکومت کو قرض دیتے ہیں اور حکومت پوری قوم کو مقروض بناتی ہے اور پوری قوم یہ قرض اپنے خون پسینے کی کمائی سے ٹیکسوں کی صورت میں ادا کرتی ہے۔
یہ بینک کوئی پبلک لمیٹڈ کمپنیاں نہیں بلکہ افراد اور خاندانوں کی ملکیت ہیں۔ مثلاً ایک بینک کے شیئر ہولڈرز میں ایک بھائی %22‘ دوسرا بھائی22 فیصد‘ باپ 20 فیصد‘ ان کی کمپنی %17 جب کہ اسٹیٹ بینک صرف %10ہے یعنی جو منافع حکومت ان کو ہر سال ادا کرتی ہے وہ ان مالکان کو گھر بیٹھے اس سودی نظام کی بدولت ملتا رہتا ہے۔ لوگوں پر ٹیکس لگائیں‘ قیمتیں بڑھائیں‘ ظلم کریں ان سرمایہ داروں کو سود ادا کرتے رہیں۔
میں ایک اور بڑے نجی بینک کے مالکان کا ذکر نہیں کرنا چاہتا کہ لوگ اسے سیاسی گفتگو نہ بنالیں‘ ورنہ وہ اس بینک کے شیئر ہولڈرز کی لسٹ دیکھ لیں اور پھر سوچیں کہ اس نے بھی حکومت کو 431 ارب روپے قرضہ دیا ہوا ہے اور وہ اس کا سود گھر بیٹھے وصول کر کے مالا مال ہوتے جا رہے ہیں۔ یہ سب پرائیویٹ بینک مالکان اسی طرح مصنوعی دولت تخلیق کرتے ہیں اور ان کو ایسا ہی جمہوری نظام چاہیے جو ان سے دولت قرض لے کر عوام کو مقروض کرے اور عوام پر ٹیکس لگا کر ان کی تجوریاں بھرے۔
اس وقت پاکستان کا ہر بچہ96776چھیانوے ہزار سات سو چھہتر روپے سے زیادہ کا مقروض ہے ۔کیا کوئی کسی کو مرضی کے بغیر مقروض کر سکتا ہے ہر گز نہیں ۔لیکن جمہوری نظام کی ایک شاندار منطق ہے کہ کیونکہ عوام نے ہمیں ووٹ دے کر منتخب کیا ہے اس لیے انھوں نے ہمیں یہ اختیار بھی دیا ہے کہ ہم ان کے نام پر قرضہ حاصل کریں اور ان کو مقروض بنائیں۔
دنیا میں جن ملکوں نے بھی قرضہ واپس کرنے سے انکار کیا انھوں نے کہا کہ یہ ڈکٹیٹروں نے لیا تھا اس لیے ہم واپس نہیں کریں گے‘ جیسے ارجنٹائن جیسے ملک۔ لیکن کوئی جمہوری ملک اپنے جمہوری حکمرانوں کے لیے گئے قرضوں کا انکار نہ کر سکا‘ اس لیے کہ یہ سب بینک کہتے ہیں کہ ان سیاسی رہنماؤں کو لوگوں نے ووٹ دے کر منتخب کیا تھا‘ یہ تمہارے جائز حکمران تھے اب تم ان کا لیا ہوا قرض ادا کرو۔ یہ ہے سودی معیشت اور جمہوریت کا گٹھ جوڑ۔ اسی لیے وہ مصنوعی دولت جو تخلیق کی جاتی ہے پارٹی فنڈنگ کے نام پر دنیا بھر میں جمہوری نظام کی بقا کے لیے خرچ کی جاتی ہے۔
اسی سے بڑے بڑے پارٹی کنونشن ہوتے ہیں‘ چھپتا ہے‘میڈیا پر اشتہارات دیے جاتے ہیں‘ جلسے اور جلوس نکالے جاتے ہیں‘ وہ تمام رنگا رنگی جو امریکی انتخابات سے لے کر پاکستانی سیاست تک نظر آتی ہے‘ سب اسی سرمایے کی مرہون منت ہے۔ اسی لیے‘ امریکا کے سرمایہ داروں نے 32 ہزار ارب ڈالر چوری کر کے کیمن جزیرے کے بینکوں میں رکھا ہے لیکن کوئی کانگریس میں آواز تک نہیں اٹھاتا، ویسے ہی پاکستان کے سرمایہ داروں نے جو اربوں ڈالر سوئٹزر لینڈ کے بینکوں میں رکھا ہوا ہے اس پر بھی کوئی شور نہیں مچاتا۔
گراموفون ریکارڈ کی کمپنی کے اشتہار پر ایک لاؤڈ اسپیکر کے سامنے کتا بیٹھا ہوتا ہے اور آواز کو غور سے سن رہا ہوتا ہے اور اس پر لکھا ہوا تھا His Majesty’s Voice یعنی ’’اس کے آقا کی آواز‘‘۔ اس جمہوری نظام کے آقا وہ کارپوریٹ کلچر کے سودی بینکار ہیں‘ انھی کے دم سے یہ رونق بازار ہے۔ اسے کون اجڑنے دے گا۔ یہ ایک رقص ہے جوعوام کے خون پسینے کی کمائی سے سود ادا کرکے سر بازار کیا جا رہا ہے۔

ایک سوال
اوریا مقبول جان جمعـء 5 دسمبر 2014

علم سیاسیات ایک ایسا علم ہے جو موجودہ قومی ریاستوں کے تصور کے بعد سے ایک اہم مضمون کی حیثیت اختیار کر گیا ہے۔ یونیورسٹیوں کی ڈگری یافتہ تعلیم کی دنیا میں اسے ایک سائنس کی حیثیت حاصل ہے، اسی لیے اسے پولٹیکل سائنس کہا جاتا ہے۔
فنِ حکمرانی اور رموز سیاست پر اس سے پہلے بہت کچھ لکھا گیا۔ لیکن ان موضوعات کا زیادہ تر تعلق تاریخ اور فلسفہ کی کتب سے تھا۔ لیکن قومی ریاست چونکہ موجودہ جدید مغربی تہذیب کی ایک ایسی تخلیق تھی جس کو قائم رکھنے، اس کی سرحدوں کو تقدس دینے اور اس کے خدوخال کو واضح کر کے اسے سائنسی طور پر انسانوں پر مسلط کرنا ضروری تھا، اس لیے اس کے لیے ایک ’’سائنس‘‘ تخلیق کی گئی۔ جسے پولٹیکل سائنس کہتے ہیں۔
اس علم میں ریاست، حکومت، طرزِ حکمرانی اور دیگر معاملات پر بحث کی جاتی ہے۔ اسی علم کے زیر اثر دیگر علوم کی بھی درجہ بندی کی گئی ہے، مثلا سیاسی معاشیات، سیاسی اخلاقیات اور سیاسی فلسفہ و نفسیات وغیرہ۔ یہ تمام موضوعات بھی اب علیحدہ علیحدہ مضمون بن چکے ہیں اور ان پر یونیورسٹیاں ڈگری عطا کرتی ہیں۔ ریاستی قوانین بھی علمِ سیاسیات کا اہم ترین موضوع ہے، اسی طرح بین الاقومی تعلقات بھی علمِ سیاسیات کی ایک شاخ تھی جو اب یونیورسٹیوں کا ایک جاندار اور پھلتا پھولتا علمی میدان ہے۔
علمِ سیاسیات کا بنیادی موضوع ریاست ہے اور اسی کے اردگرد یہ سارا علم یا ساری سائنس گھومتی ہے۔ دنیا میں علم سیاسیاست کی کوئی بھی کتاب نکال کر اس میں ریاست کی تعریف ڈھونڈ لیں، یہ آپ کو ایک ہی ملے گی۔ علم سیاسیات یا پولٹیکل سائنس ریاست کو چار اجزائے ترکیبی کا مجموعہ بتاتا ہے۔ جہاں اور جب یہ چاروں اجزاء جمع ہو جائیں ریاست خود بخود وجود میں آ جاتی ہے۔ نمبر1 علاقہ: یعنی اس کرہ ارض پر ریاست کے پاس چھوٹے سے چھوٹا علاقہ ضرور ہونا چاہیے، ورنہ یہ ایک خواب سے زیادہ کچھ نہیں۔ نمبر 2 عوام: وہ علاقہ جس پر یہ ریاست قائم ہو خواہ وہ ایک بے آب و گیاہ میدان، یا لق دق صحرا ہی کیوں نہ ہو، اس میں چند انسان ضرور آباد ہونے چاہیں۔
سمندر دنیا کے رقبہ کا تین چوتھائی ہیں، وہاں آبی حیات بھی موجود ہے لیکن ریاست کا درجہ حاصل نہیں کر پاتے البتہ ان کے درمیان تھوڑی سی خشکی پر انسان بسنے لگیں تو مناکو جیسی سلطنت وجود میں آ جاتی ہے۔ نمبر3 اقتدارِ اعلیٰ: یہ ایسا تصور ہے جسے پولٹیکل سائنس میں قومی ریاستوں کو سیکولر بنیادوں پر استوار کرنے کے لیے ڈالا گیا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ریاست خود مختار ہے، اپنے فیصلے کرنے میں آزاد ہے، اور اس پر کسی قسم کا کوئی دباؤ نہیں۔ اسی اقتدار اعلیٰ کے احترام اور اس کے تحفظ کی جنگ تو آج دنیا میں ہر جگہ نظر آتی ہے اور نمبر 4 ہے حکومت: یعنی ریاست کے نظم و نسق کو چلانے کے لیے ایک حکومت ہونی چاہیے۔
حکومت کو ریاست کا نمایندہ ادارہ کہا گیا ہے یعنی(Organ of state)۔ یہ چاروں اجزائے ترکیبی جب بھی اور جہاں بھی وجود میں آ جائیں تو ریاست وجود میں آ جاتی ہے۔ اسے اقوام متحدہ اپنی ممبر شب دے یا نہ دے، اسے دنیا کے بڑے بڑے ممالک، حتیٰ کہ اسے اُس کے پڑوسی بھی تسلیم کریں یا نہ کریں، پھر بھی ریاست اپنا وجود رکھتی ہے اور سیاسیات کے کسی بھی تصور کے تحت اس کے ریاست ہونے سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔
قومی ریاستوں کے تصور اور موجودہ علمِ سیاسیات کے رنگ میں رنگے ہوئے اسلامی مذہبی مفکرین نے بھی اسلام کے تمام قوانین اور مسلمانوں کی تمام اجتماعی ذمے داریوں کو ریاست کے قیام کے ساتھ مشروط کر دیا ہے۔ نیکی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے کا کام اگر بزور ِقوت کرنا مقصود ہے تو ریاست کا حکم نامہ یا دخل ضروری ہے۔ مسلمانوں پر جہاد فرض ہے، لیکن کوئی گروہ خود جہاد کا اعلان نہیں کر سکتا، بلکہ ریاست کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ جہاد کا اعلان کرے، لوگوں کو جہاد کے لیے بلائے اور انھیں مختلف محاذوں پر بھیجے۔ یہی منطق القاعدہ اور طالبان کے خلاف استعمال کی جاتی ہے۔
اسی طرح کسی ریاست کے ایک محلے، گاؤں یا علاقے میں تمام لوگ مل کر اگر یہ فیصلہ کر لیتے ہیں کہ ہم اپنے درمیان ہونے والے تمام جھگڑوں کا فیصلہ اسلامی قوانین کے مطابق کریں گے تو پھر بھی یہ تما م اسلامی مفکرین کھڑے ہو جاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ایسا کرنا فتنہ پیدا کرنا ہے اور چونکہ ریاست کی صورت میں ایک نظمِ اجتماعی قائم ہو چکا ہے اس لیے ملک میں دو قوانین نہیں ہو سکتے۔ سوات کے صوفی محمد کے خلاف یہی دلیل دی جاتی ہے۔ رویت ہلال یعنی عید کے چاند میں بھی امت کے درمیان اختلاف بنیادی طور پر اسی قومی ریاست کو اسلام کے تصورِ امت کے ساتھ گڈ مڈ کرنے سے پیدا ہوا ہے۔
یہ علماء و فقہا کہتے ہیں کہ ہر ریاستی سرحد میں مسلمانوں کا ایک نظم اجتماعی قائم ہے۔ اس لیے سرحد کے اس طرف پاکستان میں عید ہو گی اور ایک قدم اٹھا کر دوسری طرف ایران یا افغانستان میں داخل ہو جاؤ تو وہاں روزہ ہو گا۔ پوری دنیا میں بسنے والے ڈیڑھ ارب مسلمانوں کو ایک امت، ایک قوم یا ایک ملت نہیں مانا جاتا۔ اگر ایسا مان لیا جائے تو امریکا کے شہر ہوائی یا آسٹریلیا کے سڈنی میں بھی اگر چاند نظر آ جائے تو پوری امت عید ایک ساتھ کر سکتی ہے۔ یہ امت آسکر کی تقریب، مائیکل جیکسن کی تدفین اور گیارہ ستمبر کو ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے گرنے کے مناظر تو ایک ساتھ دیکھ سکتی ہے لیکن چاند ایک ساتھ نہیں دیکھ سکتی، کیونکہ قومی ریاستوں میں مسلمانوں کا نظمِ اجتماعی وجود میں آ چکا ہے اور ہر ملک کا علیحدہ علیحدہ مفتی چاند دیکھنے پر مامور ہے۔ اس امت میں آج کے دور کا بڑا اختلاف نہ فقہ پر ہے اور نہ اجتہاد کی بنیادوں پر بلکہ اس امت میں موجودہ دور کا اختلاف قومی ریاستوں کی تخلیق پر ہے۔
چودہ سو سال اس امت پر نظمِ اجتماعی ایک اسلامی خلافت کے طور پر قائم رہا۔ کوئی تاریخ اٹھا کر بتا سکتا ہے کہ صرف عراق اور ایران کی جنگ میں جتنے لوگ قتل ہوئے ہیں کیا مسلمانوں کی چودہ سو سال کی اجتماعی تاریخ میں مسلمانوں کی آپس کی لڑائیوں میں اتنے قتل ہوئے ہوں گے۔ ہرگز نہیں، مسلمانوں نے آپس میں ایک دوسرے کا خون قومی ریاستوں کے وجود میں آنے کے بعد جس بے دردی سے بہایا اس کی مثال نہیں ملتی۔ تاریخ میں کبھی بھی امت میں شرعی قوانین کے نفاظ یا اسلامی معیشت کے اصولوں پر ایک لمحہ کے لیے بھی اختلاف نہیں رہا ۔ ہاں ان قوانین کی تصحیح اور نوک پلک سنوارنے کی تحریکیں ضرور چلتی رہیں۔
جو لوگ مسلمانوں کو ایک چاند دیکھنے پر متفق ہوتا نہیں دیکھنا چاہتے وہ کیسے چاہیں گے کہ اس امت میں کوئی ایسی آواز اٹھے جو ان قومی ریاستوں کی سرحدوں سے بالا تر ہو۔ ایسا کوئی نہیں ہونے دے گا۔ جو سرحدیں مغرب نے کھنچیں ہیں ان کے اندر چڑیا گھر کے جانوروں کی طرح پڑے رہیں، یہ عراق ہے، یہ شام، یہ سعودی عرب ، یہ مصر اور یہ ایران۔ خبر دار ان سرحدوں کو چھیڑنے کی کوشش مت کرنا۔ یہ بہت مقدس ہیں۔ جنوبی افریقہ کو پچاس سال تک اقوامِ متحدہ نے قبول نہیں کیا تھا، تو کیا وہ ریاست کے درجے سے خارج ہو گئی۔ سیاسیات کے علم کے تمام اصولوں کے مطابق دولتِ اسلامیہ ایک ریاست ہے اور مسلمانوں کے نظمِ اجتماعی کے دعویداروں کے مطابق بھی ریاست کا درجہ حاصل کر چکی۔ لیکن نہ اقوام متحدہ اسے کبھی مانے گی اور نہ ہی آج کے قومی ریاستوں کے مسلمان حکمران۔ ایران میں38 سال قبل اسلامی انقلاب آیا تھا اور آج تک قائم ہے۔
سیاسیات کے اصولوں کے مطابق قائم ایرانی ریاست اور اسلام کے نظم اجتماعی کے عین مصداق1988ء میں ایک حکم نامہ جاری کیا گیا کہ ایران کی جیلوں میں قید مجاہدین خلق کے جتنے بھی لوگ ہیں وہ ملحد اور منافق اور واجب القتل ہیں۔ ان سے پوچھا جائے کہ وہ اپنے خیالات سے توبہ کرتے ہیں تو ٹھیک ورنہ انھیں قتل کر دیا جائے۔ اس کے بعد جنہوں نے توبہ نہیں کی تھی ان قیدیوں کو پھانسی دے دی گئی۔ ان میں عورتیں اور نوجوان لڑکے بھی شامل تھے۔
یہ سب لوگ کلمہ گو مسلمان تھے لیکن اسلام کے نظم اجتماعی کے تصور اور موجود سیاسیات میں ریاست کے تصور نے انقلابیوں کو ایسا کرنے کا جائز اختیار دے دیا تھا کہ انھیں ریاست کا باغی قرار دے کر پھانسی پر چڑھا دے۔ کیا اس امت کے مفتیانِ کرام، ماڈرن مسلم فلاسفر اس سوال کا جواب دے سکتے ہیں کہ سیاسیات کے اصولوں کے مطابق قائم ریاست اور اسلام کے نظم اجتماعی کے اصولوں پر موجود حکومت کہیں اور کسی جگہ اور کسی بھی فقہ کے تحت اگر قائم ہو جائے تو کیا اسے وہ تمام اختیار حاصل نہیں ہو جاتے، جو ایرانی انقلابیوں کوحاصل تھے۔

پرانے شکاری نیا جال لائے
اوریا مقبول جان اتوار 30 نومبر 2014

آج سے چالیس سال پہلے امریکی اسی طرح ایران کی وکالت کیا کرتے تھے۔ اس زمانے میں شاہ ایران رضا شاہ پہلوی کو خطے کا امریکی پولیس مین کہا جاتا تھا۔ لیکن انقلاب ایران کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ امریکی اسی لہجے اور اسی زبان میں ایران کے بارے میں گفتگو کرتے نظر آ رہے جیسی وہ شاہ ایران کے زمانے میں کیا کرتے تھے۔
ایرانی بھی پچاس اور ساٹھ کی دہائیوں میں امریکا کے ساتھ اپنی گرم جوش محبتوں کی یاد میں کھوئے ہوئے نظر آتے ہیں۔ لیکن ان دونوں کا حال اس جوڑے کا سا ہے جو ساری دنیا میں اپنے خراب تعلقات کا ڈھنڈورا پیٹ کر ایک دوسرے سے علیحدہ ہو جائے اور پھر حالات و واقعات انھیں خفیہ میل ملاپ پر مجبور کرتے رہیں لیکن دوبارہ ملنے سے اس لیے ہچکچا رہے ہوں کہ لوگ کیا کہیں گے۔ لیکن اب لوگوں کی باتوں کی پرواہ کرنے کا وقت گزر گیا۔ خطرہ بہت بڑا آن پڑا ہے۔ اب دونوں نے کھل کر پرانی محبتوں کو ایک بار پھر سے زندہ کرنے کا ارادہ کرلیا ہے۔
دونوں کے خفیہ معاشقے اور از سر نو میل ملاپ کا آغاز افغانستان میں ملا محمد عمر کی سربراہی میں طالبان کی حکومت کے قیام کے بعد ہوا تھا۔ ایران پر معاشی پابندیاں تھیں کہ 1998ء میں ایرانی حکومت نے تیل اور گیس کے شعبے میں سرمایہ کاری کے لیے لندن میں کانفرنس بلائی جس کے نتیجے میں ایک فرانسیسی کمپنی نے ایران کے ساتھ دو ارب ڈالر کا معاہدہ کیا۔ امریکی صدر بل کلنٹن پہلے بہت چیخا اور پھر اس نے کمپنی کے لیے پابندیاں ختم کر دیں۔ پھر تو تانتا بندھ گیا‘ ہالینڈ، ناروے‘ اٹلی اور ملائشیا کی کمپنیاں ایرانی تیل اور گیس میں سرمایہ کاری کرنے لگیں۔
ایسی ہی ایک کانفرنس اب فروری 2015ء میں دوبارہ لندن میں ہونے جا رہی ہے۔ لیکن اس کانفرنس سے ایک سال پہلے ہی (P5+1) یعنی فرانس‘ امریکا‘ روس‘ چین‘ برطانیہ اور جرمنی گزشتہ جنوری میں ایران کو سات ارب ڈالر کی تجارت پر سے پابندیاں اٹھا چکے ہیں اور اس سال نومبر میں اس معاہدے کو مستقل شکل دے دی گئی ہے۔ یہ امریکا اور ایران کے گزشتہ پندرہ سالہ خفیہ معاشقے اور میل ملاپ کا نتیجہ ہے۔ اس لیے کہ اگر ایران افغانستان میں امریکی جارحیت کو مستحکم کرنے کے لیے طالبان مخالف شمالی اتحاد کا ساتھ نہ دیتا تو امریکا شاید ہی زمینی طور پر افغانستان میں داخل ہونے کا سوچتا۔
یہی صورت حال عراق میں بھی تھی۔ عراق کی افواج کو مکمل طور پر تباہ کرنے کا ایک مقصد یہ تھا کہ اسرائیل کے مقابلے میں کوئی قابل ذکر فوج موجود نہ رہے‘ جب کہ دوسرا مقصد ایران کو ایک کمزور‘ دست نگر اور ایران کا محتاج عراق مہیا کرنا تھا تا کہ ایران سے شام تک ایک پٹی ایسی تخلیق کر دی جائے جس سے بوقت ضرورت کام لیا جا سکے۔ اسی لیے شدید عراق کی جنگ اور گرم گرم تقریروں کے باوجود بھی ایران پر سے پابندیاں بھی نرم ہوتی رہیں اور کاروبار بھی چلتا رہا۔
انعامات کی بارش کا ایک اور دھماکا ہونے جا رہا ہے۔ امریکا ہر سال اسرائیل اور امریکا کے تعلقات پر ایک خصوصی اجلاس بلاتا ہے جسے بہت اہمیت کا حامل سمجھا جاتا ہے۔ اس سال اس اجلاس کا نام تھا National Summit to Re-asses The US-Israel:Special Relationship اس کانفرنس کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ اسرائیل کو اس بات پر قائل کرنا کہ اگر ایران ایٹمی پروگرام جاری بھی رکھے تو دنیا اور خصوصاً اسرائیل کے لیے خطرہ نہیں ہے۔
امریکا اسرائیل تعلقات کے اہم ترین فرد پال پلر Paul Piller نے اپنا طویل مقالہ پڑھا جس کا عنوان تھا Can We Live With Nucelear Iran ۔ پال پلر 1978ء سے سی آئی اے سے وابستہ ہے اور وہ ان چند امریکیوں میں سے ہے جن پر اسرائیلی اعتماد کرتے ہیں۔ اس مضمون کے علاوہ اس کی گفتگو ایرانی مزاج اور وہاں کے رہنمائوں کے رویے پر بیش بہا عبور سے پُر تھی۔ جس نے بھی ایران میں چند دن یا سال گزارے ہوں اسے اس بات کا اندازہ ہو جاتا ہے کہ ایرانی اپنی گفتگو کے آغاز اور انجام میں بہت سے مرصع اور مسجع فقرے استعمال کرتے ہیں اور نیا نیا آدمی ان سے بہت متاثر ہوتا ہے۔
ایسے تمام فقرے رسمی ہوتے ہیں اور ان کا کوئی مطلب نہیں لینا چاہیے۔ وہ کہتا ہے ایرانی مزاج کو سمجھو۔ پال پلر نے اسرائیلیوں کو قائل کرنے کے لیے ایک مخصوص لفظ کا بھی استعمال کیا کہ ایرانیوں کو حالات کے مطابق اپنے خیالات چھپانے کی بھی اجازت ہوتی ہے۔ پال پلر نے پاکستان اور بھارت کی بھی مثال دی ہے اور کہا کہ ان دونوں کے ایٹمی پروگرام زیادہ خطرناک ہیں۔ خصوصاً پاکستان کا پروگرام کیونکہ اس کے ساتھ کئی گنا بڑی طاقت بھارت ہے اور وہ خطرے میں بھی ہے جب کہ ایران کا کوئی پڑوسی بھارت جیسا نہیں۔
اس نے ایران کے اسرائیل کے خلاف بیانات کو ان کے اسلامی انقلاب کی داخلی مجبوری قرار دیا ہے اور کئی ایسے مواقع بتائے جب عالمی سطح پر ایران نے اسرائیل کے معاملے میں خاموشی اختیار کیے رکھی۔ یہ اچانک تعلقات میں گرم جوشی اور محبتوں کا سر عام اظہار کرنے کی ضرورت کیسے آن پڑی۔ صدام حسین کی حکومت ختم کرنے کے بعد امریکیوں نے اربوں ڈالر خرچ کر کے 8 لاکھ افراد پر مشتمل ایک وفادار عراقی فوج بنائی جسے وہ اپنا سرمایہ خیال کرتے تھے۔ لیکن داعش کے بیس سے پچیس ہزار افراد اس قدر پیش قدمی کریں کہ چالیس فیصد عراق اور شام کا کافی علاقہ ان کے قبضے میں آجائے اوباما اور امریکیوں کے لیے یہ ایک ڈرائونا خواب ہے جس نے ان کے تمام عزائم چکنا چور کر دیے ہیں۔
سی آئی اے کی جانب سے تمام میڈیا پر ایک پراپیگنڈہ جنگ کا آغاز کیا گیا۔ پہلے کہا گیا داعش امریکی ہیں‘ پھر کہا گیا اسرائیل نے بنائی ہے۔ ادھر اسرائیل نے الزام لگایا کہ سعودی عرب ان کو تین سو بلین ڈالر دے چکا ہے‘ ترکی پر الزامات کی بوچھاڑ ہے کہ وہ انھیں مدد فراہم کرتا ہے لیکن اب یہ پراپیگنڈہ ناکام ہو گیا۔ اسے ناکام کرنے میں ان لوگوں کا بہت بڑا کردار ہے جو امریکا‘ کینیڈا‘ آسٹریلیا اور یورپ کے ممالک سے جوق در جوق عراق اور شام میں لڑنے چلے آئے۔ یہ وہ لوگ تھے جو اس منفی پراپیگنڈے کی اصلیت جانتے تھے۔ انھیں پتہ تھا کہ ایسی سازشی تھیوریاں کہاں بنتی ہیں‘ کون بناتا ہے اور کیسے انھیں مقبولیت ملتی ہے۔
اب امریکا کے لیے کوئی اور راستہ باقی نہ تھا۔ مقابلہ کرنا ہے تو کھل کر سامنے آنا ہو گا۔ اس کے لیے امریکا کو سب سے قابل اعتماد ملک ایران نظر آیا۔ سعودی عرب اور دیگر خلیجی ریاستیں بھی ساتھ ہیں لیکن مسلکی حوالے سے ان کے عوام کی ہمدردیاں داعش کے ساتھ ہو سکتی ہیں اس لیے کسی ایسے ملک کی تلاش تھی جہاں مسلک مختلف ہو اور جو داعش کے لیے خطرناک حد تک مہلک ثابت ہو سکے اور اس کے عوام بھی اس کا ساتھ دیں۔ اس کے لیے لبنان کے حزب اللہ‘ شام کے بشار الاسد‘ عراق کی امریکی پٹھو حکومت اور ایران ایک ایسا مضبوط اتحاد بنتا تھا جس کو داعش کے خلاف مسلکی سپورٹ بھی حاصل ہوگی اور حکومتی بھی جب کہ سعودی عرب اور دیگر خلیجی حکمران اپنی کمزور حکومتوں کو بچانے اور اس پھیلتے ہوئے طوفان کو روکنے کے لیے ان کے ساتھ اکٹھا ہو چکے ہیں۔
ایران کے خلاف پابندیاں نرم کرنے کے لیے سعودی وزیر خارجہ نے اہم کردار ادا کیا۔ اسرائیل کی انٹیلی جنس ایجنسی موساد کے سابق سربراہ افراہیم ہیلوی (Efraim Halevy) اور موجود سربراہ تیمر پارڈو Tamir Pardo نے مشترکہ طور پر کہا ہے کہ اگر ایران ایٹم بم بنا بھی لے تو وہ اسرائیل کے لیے خطرہ نہیں‘ جب کہ موساد کے مشہور زمانہ سربراہ میئر دیگان Mier Degan نے کہا کہ میں نے اپنی زندگی میں اس سے احمقانہ بات نہیں سنی کہ اسرائیل‘ ایرانی تنصیبات پر حملہ کرے۔ یہ بدلتی صورت حال ہے۔
ایران سے محبتوں کا وہ عالم جو مشرق وسطیٰ اور بحیرہ عرب میں ساٹھ کی دہائیوں میں تھا۔ مشرق وسطیٰ اور بحیرہ عرب میں امریکا کے پرانے پولیس مین کو پھر تاج وفاداری پہنایا جا رہا ہے۔ ایسے میں مجھے وہ دن بہت شدت سے یاد آ رہا ہے جب میں 2008ء میں ایرانی بندر گاہ چہار بہار پر بیٹھا ایک بلوچ ڈاکٹر سے گفتگو کر رہا تھا۔ یہ ان چالیس لاکھ کے قریب بلوچوں میں سے چند پڑھے لکھے لوگوں میں سے تھا ورنہ باقی سب بلوچ تو ایرانی قومیت کے محکوم۔ اس نے بھارت کے ان انجینئروں اور اعلیٰ سرمایہ داروں کو بتایا جو اس بندر گاہ سے افغانستان اور وسطیٰ ایشیا تک سڑک بنا چکے تھے۔ کہنے لگا یہاں تو بلوچستان یونیورسٹی کا وائس چانسلر بھی حیدر آباد دکن کا ایک بھارتی ہے۔ آنے والے کل میں ہم کہاں کھڑے ہوں گے۔
اس امریکا کے ساتھ جو ہم پر بھروسہ نہیں کرتا یا اس بھارت سے تجارتی معاہدے کر رہے ہوں گے جس نے ایسے ہی معاہدوں سے بنگلہ دیش کو کنگال کیا۔ ہمیں احساس تک نہیں کہ داعش کے 25 ہزار لوگ اتنا بڑا خطرہ نہیں جتنا بڑا خطرہ ہمارا ایٹمی پروگرام ہے اور ہمارے حق میں اسرائیل کی موساد کا کوئی سربراہ کبھی بیان نہیں دے گا… اور بھارت…

شکست خوردگی کی علامت
اوریا مقبول جان جمعـء 28 نومبر 2014

ایک تمسخر ہے، ہر کوئی ہنسی اڑا رہا ہے۔ تمسخر اڑانے والوں میں ہر رنگ، نسل، زبان، علاقے اور مذہب کے لوگ شامل ہیں۔ ہو سکتا ہے ان میں اکثریت مسلمانوں کی ہی ہو جنہوں نے کاغذ کے جعلی اور جھوٹے نوٹوں میں آنکھ کھولی ہو، اپنے اردگرد کرنسی کی گرتی، چڑھتی، سنبھلتی قیمتوں کو دیکھا ہو، اسکول، کالج اور یونیورسٹی میں معاشیات کا مشکل اور محنت سے سمجھ میں آنے والا مضمون پڑھا ہو، افراطِ زر، ارتکاز دولت، مارکیٹ فورسزز جیسے گنجلک موضوعات کو سمجھنے میں برسوں لگائے ہوں۔
ان سب لوگوں کے لیے یقینا یہ تمسخر، بلکہ ہنسی ٹھٹھے کی بات ہے کہ جب ایک ایسی ریاست، دولت اسلامیہ، جسے امریکا، یورپ، چین روس اور بلاشرکتِ غیرے تمام مسلمان ممالک ایک دہشت گرد تنظیم کا غاصبانہ قبضہ سمجھتے ہوں، وہ سونے اور چاندی کی کرنسی کا اعلان کر دے۔ دنیا میں عالمی برادری کی گزشتہ دو تین ہزار سال کی تاریخ میں کسی ایک گروہ کے خلاف آج تک ایسے اکٹھا نہیں ہوئی کہ کوئی ایک ملک بھی اس کی مخالفت نہ کرے۔ مسلمانوں کی فرقہ بندی یا گروہ بندی کے آغاز سے لے کر آج تک کبھی ایسا نہیں ہوا کہ شیعہ، سنی، بریلوی، دیوبندی، اہل حدیث، اقامتِ دین کی علمبردار اخوان المسلمون، حزب التحریر اور جماعتِ اسلامی سب کے سب اس گروہ کے خلاف متحد ہو ں۔
آج سب اسے مسلمانوں کو رسوا کرنے کا ایک ذریعہ سمجھتے ہیں۔ یہ تمام لوگ جو صبح چند خبریں اور شام کو چند تبصرے سن کر اپنے علم کی کمند عالمی سیاست پر ڈالتے ہیں تو انھیں دولتِ اسلامیہ مسلمانوں کو بدنام کرنے کی ایک بہت بڑی سازش محسوس ہوتی ہے۔ کیوں نہ ہو، ایسا پہلی دفعہ ہوا ہے کہ پوری امت کی حکومتیں اس ایک نکتے پر متفق ہیں۔ کبھی ایران اور سعودی عرب بھی کسی فتنے کے خلاف بیک وقت اکٹھا ہوئے ہیں۔ لوگ یقینا حیرت میں گم ہیں کہ یہ ایسا کیا ہو گیا ہے کہ کل تک یہ دونوں ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے لیے ریال اور تمن خرچ کر رہے تھے۔ اور اب یہ دونوں ملک اس ایک خطرے یعنی دولتِ اسلامیہ کے خلاف متحد ہی نہیں شیر و شکر ہو گئے ۔ روس، چین، امریکا، بھارت، اسرائیل سب کے سب اس گروہ کے خلاف ہیں۔
جہاں دنیا بھر کے میڈیا میں ان لوگوں کو ظالم، حیوان، مجرم، اغوا کار اور لٹیرے ثابت کیا جا ر ہا ہے وہیں ایک تمسخر ان اصطلاحات کا بھی اڑایا جاتا ہے جو یہ لوگ استعمال کرتے ہیں۔ خلافت، امیر المومنین یا خلیفہ المسلمین کے الفاظ پہلی جنگ عظیم کے بعد پوری مسلم امہ کی لغت سے خارج ہو چکے ہیں۔ یہاں تک کہ وہ اسلامی جماعتیں جو اسلامی ملکوں میں اسلام کی نشاۃِ ثانیہ اور ریاست مدینہ کی طرز کی حکومت کے نفاذ کے نعرے لگاتی ہیں ان کے اکابرین بھی خلافت، یاامیر المومنین جیسے الفاظ استعمال کرتے ہوئے ایسے شرماتے ہیں کہ کہیں اس مہذب اور ماڈرن معاشرے میں اس طرح کے الفاظ استعمال کر کے خفت کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ تمام اسلامی تحریکیں جو اسلامی ممالک میں جدوجہد کر رہی ہیں، وہ سب کی سب جمہوریت، پارلیمنٹ، آئین، وزارت عظمیٰ اور صدارت جیسے الفاظ بول کر موجودہ جدید مغربی تہذیب کے ساتھ اپنا رشتہ مستحکم کر چکی ہیں۔ ان سب کے ہاں خلافت وغیرہ اب صرف ایک مثالیے کی حیثیت رکھتی ہے۔
جدید مغربی تہذیب کی تراکیب اور مغربی معاشرے سے اس قدر خوفزدہ ہیں یہ تمام قیادتیں کہ اگر ایران میں انقلاب بھی آ جائے تو صدر، وزیر اعظم اور پارلیمنٹ جیسے الفاظ ہی گونجتے ہیں، مصر میں صدر مرسی کی صدارت، ترکی کی جسٹس اینڈ ڈیلویلپمنٹ پارٹی، تیونس کی النہضہ، سب کی سب اقتدار حاصل کرنے کے باوجود بھی خلافت اور امارت جیسی تراکیب اور اصطلاحات استعمال کرنے سے شرماتی ہیں۔ کیوں؟ اس لیے کہ انھیں اس بات کا ڈر ہے کہ ان کا تمسخر اڑایا جائے گا، انھیں دقیانوس، فرسودہ اور جمہوریت دشمن قرار دے کر مطعون کیا جائے گا۔ آپ فوجی طاقت سے برسر اقتدار آ کر صدام حسین کی طرح صدر کہلائیں، آبادیوں پر زہریلی گیس پھینکیں، آپ دہشت گرد نہیں ہیں، آپ بشار الاسد کی طرح صدر کہلائیں، چار لاکھ معصوم شہریوں کو قتل کر دیں آپ دہشت گرد نہیں۔
آپ قاتل ہوں، آپ کے ہاتھ خون میں رنگے ہوں، آپ کو بھارت کے عوام وزیر اعظم منتخب کر دیں، آپ دنیا کے باعزت ترین شہری بن جاتے ہیں۔ لیکن دہشت گردی اور قتل و وحشت صرف ایک لفظ کے ساتھ وابستہ کر دی گئی ہے اور وہ ہے خلافت۔ لیکن جس تصور کا ان دنوں سب سے زیادہ مذاق اڑایا جا رہا ہے وہ دولتِ اسلامیہ کے سونے اور چاندی کے دینار و درھم جاری کرنے کا فیصلہ ہے۔ دنیا بھر کے اخبارات ایسے کارٹونوں سے بھرے ہوئے ہیں۔ کہیں کبوتر کی چونچ میں لفافے دے کر دکھایا گیا ہے کہ یہ داعش کی میل سروس ہے اور کہیں گھوڑوں کو پر لگا کر جہاز بنایا گیا ہے۔ درھم و دینار کا تمسخر کیوں؟ اور سونے اور چاندی کے سکوں کی ہنسی کیوں اڑائی جا رہی ہے۔ اس لیے کہ موجودہ جدید مغربی تہذیب کی ترقی اور غلبے کا راز ایک جعلی اور جھوٹی کاغذ کی کرنسی میں پوشیدہ ہے۔
اس جعلی اور جھوٹی کرنسی کی بنیاد پر بینکاری کے سودی نظام کا محل تعمیر کیا گیا ہے۔ ایک زمانے تک اس مصنوعی سرمایے کے بدلے میں حکومتوں کے پاس سونے کے ذخائر ضروری تھے۔ لیکن1971ء سے اسے ملکوں کی ساکھ (Good will) کے ساتھ منسلک کر دیا گیا۔ دنیا میں ایک بینک آف انٹرنیشنل سیٹلمنٹ بنایا گیا جو کرنسی کی حیثیت متعین کرتا ہے اور ان کاغذ کے جعلی نوٹوںکو اس قابل بناتا ہے کہ دنیا کی مارکیٹ سے جو چاہیں خرید لیں۔ اگر آج عرب دنیا اپنا تیل پاکستانی روپے میں فروخت کرنا شروع کر دے تو ایک روپے کے سو امریکی ڈالر ملنا شروع ہو جائیں۔ ان کاغذ کے نوٹوں پر عدم بھروسے کا عالم یہ ہے کہ اس وقت چین دنیا بھر سے دھڑا دھڑ سونا خرید رہا ہے تا کہ کل اگر یہ نوٹ بے کار ہوں تو سونا تو موجود رہے۔ یہی حال بھارت کا ہے۔ ایسے میں دولت اسلامیہ جو روز انہ 80 لاکھ ڈالر کا تیل فروخت کر رہی ہے اگر اس نے تیل کی قیمت سونے اور چاندی کے درہم و دینار میں طلب کر لی تو یہ ساری سودی عمارت دھڑام سے گر جائے گی۔ ایسے میں سب کے سب اکٹھے ہیں، مشرق سے مغرب تک ہر کوئی، اس ’’فتنے‘‘ سے ڈرا رہا ہے۔
جب کہ مقابلہ کرنے والوں کا عالم یہ ہے کہ پیٹر گلبرتھ جیسے سفارتکار اور پینٹا گون، سی آئی اے کے افسران سمجھتے ہیں کہ ہم ان پر قابو نہیں پا سکیں گے۔ ایسا کیوں ہے۔ اس لیے کہ عراق میں ان سے لڑنے کے لیے اربوں ڈالر لگا کر جو فوج منظم کی گئی تھی وہ دنیا بھر کی ان تمام افواج کی طرح بددیانت اور کرپشن کے الزامات لیے ہوئے ہے۔ نیویارک ٹائمز کے ڈیوڈ کرک پٹرک (David Kirkpatrick) نے ان تمام جرنیلوں کی کہانیاں لکھی ہیں جو اپنا اسلحہ داعش کے لوگوں کو بیچ دیتے ہیں۔
امریکا کا فراہم کردہ اسلحہ بلیک مارکیٹ میں فروخت کر دیا جاتا ہے جسے داعش کے لوگ خرید لیتے ہیں۔ پہلے نوری المالکی کے کمانڈروں نے کمایا اور اب عبادی نے اپنے جرنیل لگائے ہیں جو اس بہتی گنگا میں ہاتھ دھو رہے ہیں۔ فوج کو دیا جانے والا آدھے سے زیادہ امریکی اسلحہ سپاہیوں تک پہنچنے سے پہلے ہی مارکیٹ میں فروخت ہو جاتا ہے۔ اسی لیے اب دولت اسلامیہ سے لڑنے کے لیے ایران، شام اور لبنان سے مختلف ملیشیا بلوائے گئے ہیں جو خالصتاً فرقہ وارانہ بنیادوں پر جنگ کر رہے ہیں۔ یہ جنگ کب تک چلتی ہے اور کہاں تک چلتی ہے اس کا اندازہ لگانا مشکل ہے لیکن یہ کہاں تک پھیل سکتی ہے اس کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے جن لوگوں کو یہ غلط فہمی ہے کہ داعش ایک عراقی اور شامی ابال ہے جو سنی علاقوں سے برآمد ہوا اور نوری المالکی کی بدترین حکومت اور ظلم کی وجہ سے یہ ریاست قائم ہوئی انھیں اس طرف بھی غور کر لینا چاہیے کہ اس وقت یورپ کے 24 ممالک ایسے ہیں جہاں سے لوگ ان کے ساتھ آ کر شامل ہوچکے ہیں، اور یہ سب انتہائی پڑھے لکھے لوگ ہیں اور ان میں اکثریت عربوں کی نہیں ہے۔
داعش آج سے سات سال پہلے جب وجود میں آئی تو اس نے اپنے ایک بریگیڈ کا نام غازی عبدالرشید بریگیڈ رکھا تھا اور اس کی تعارفی ویڈیو میں لال مسجد اور جامعہ حفصہ پر کیے جانے والے آپریشن کے مناظر دکھائے گئے تھے۔ جس داعش کو یہ سب ممالک دہشت گرد قرار در ہے ہیں اس سے 80 ڈالر فی بیرل کا تیل سستے داموں 60 ڈالر فی بیرل خریدنے کے لیے مرے جا رہے ہیں۔ دنیا بھر کی تیل کمپنیاں ان سے تیل خریدتی ہیں اور بریف کیسوں میں ڈالر پہنچاتی ہیں۔ ایک جانب دولت کمانے کی ہوس اور دوسری جانب کرپٹ اور بددیانت فوج، انجام صاف ہے اور نوشتۂ دیوار تو ہر کسی نے پڑھ لیا ہے۔ شکست خوردگی کی سب سے بڑی علامت تمسخر ہوتی ہے جو اڑایا جا رہا ہے۔
نوٹ:وہاڑی کے ایک صاحب اپنی مرحومہ بیٹی کے علاج کے سلسلے میں مقروض ہو گئے ہیں۔ وہ قرضِ حسنہ چاہتے ہیں جنھیں قسط وار واپس کر سکیں۔ فون نمبر تحریر کر رہا ہوں ، خود تسلی فرما لیں۔

اُس کھیت کے ہر خوشۂ گندم کو جلا دو
اوریا مقبول جان جمعـء 21 نومبر 2014

عالمِ بالا میں آج اقبال کس قدر سکھ کا سانس لے رہے ہوں گے کہ وہ2014ء میں پاکستان میں موجود نہیں تھے۔ ورنہ ان کی اس نظم پر ان پر امنِ عامہ خراب کرنے، لوگوں کو جلاؤ گھیراؤ پر اکسانے اور منتخب جمہوری حکومت کے خلاف سازش کرنے کے الزامات کے تحت دہشت گردی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج ہو چکا ہوتا۔
وزراء پریس کانفرنسیں کر تے۔ تجزیہ نگار اور اینکرپرسن رات گئے ٹیلی ویژن اسکرینوں پر بیٹھے تبصرے کرتے، اس ملک میں جو غم و غصہ ہے، نفرت ہے، حکومت کے خلاف جو ہنگامے ہیں اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ علامہ اقبال نے یہ نظم لکھ کر لوگوں کو اکسایا ہے۔ ایف ائی آر میں یہ اشعار تو خاص طور پر درج کیے جاتے ۔
اٹھو! میری دنیا کے غریبوں کو جگا دو
کاخِ امراء کے در و دیوار ہلا دو
جس کھیت سے دہقاں کو میسر نہ ہو روزی
اس کھیت کے ہر خوشۂ گندم کو جلا دو
دنیا بھر کا مزا حمتی ادب اسی غم و غصے سے بھرا ہوا ہے اور یہ وہ ادب ہے جو دنیا بھر میں تبدیلی اور انقلاب کا راستہ متعین کرتا ہے۔ دنیا کا ہر شعلہ بیان مقرر اسی لہجے میں گفتگو کرتا ہے جو لہجہ لوگوں کے دلوں کی آواز ہوتا ہے۔ اگر لوگوں کی زندگی عیش و آرام اور سکون و اطمینان سے گزر رہی ہو تو انھیں دھیمے لہجے اور ہنس مکھ باتیں کرنے والے پسند آتے ہیں۔ لیکن اگر لوگوں کے دلوں میں اپنی محرومیوں کی وجہ سے نفرتوں کے طوفان ابل رہے ہوں تو پھر وہی مقر ر زیادہ مقبول ہوتا ہے ۔
جس کا لہجہ تلخ اور زورِ بیان شعلے اگل رہا ہو۔ وہی تقریر اور شاعری عوامی پذیرائی حاصل کرتی ہے جو لوگوں کے جذبات کی عکاس ہو۔ صاحبانِ اقتدار ایسے شاعر اور ایسے مقرر سے خوفزدہ ہوتے ہیں اور اسی کو اپنی بادشاہت کے لیے خطرہ تصور کرتے ہیں، جس کے لہجے کی گونج لوگوں کو اپنی آواز محسوس ہو اور جو ان کی نفرتوں کو اپنے شعروں اور تقریر کے لہجے میں سمو دے۔ میر تقی میر سے لے کر آج کے دور تک شاعری کے محاسن اور شعری تنوع کے لحاظ سے اگر اُردو شاعری کی تاریخ مرتب کی جائے تو نقاّد اور شعری ذوق رکھنے والے حبیب جالب کا ذکر تک نہیں کرتے، لیکن جالب کی پذیرائی کا یہ عالم ہے کہ وہ عام انسانوں کا مقبول ترین شاعر ہے۔ جب وہ اپنی خوبصورت آواز میں یہ اشعار پڑھتا تو لوگ جھوم اٹھتے۔
کھیت وڈیروں سے لے لو۔ ملیں لیٹروں سے لے لو
ملک اندھیروں سے لے لو۔ رہے نہ کوئی عالی جاہ
پاکستان کا مطلب کیا۔ لا الہٰ الا اللہ
جالب تو خود ایک سیاسی جدوجہد کا نقیب بھی تھا۔ ایوب خان کے خلاف مادرِ ملت کا پرچم بردار ’’ایسے دستور کو، صبح بے نور کو، میں نہیں مانتا، میں نے جانتا‘‘ گاتا ہوا۔ ذولفقار علی بھٹو کی جمہوری آمریت کے تشدد کے خلاف ’’لاڑکانے چلو، ورنہ تھانے چلو‘‘ پڑھتا ہوا، اور ضیاء الحق کے مارشل لاء کے سامنے ’’ظلمت کو ضیاء کیا کہنا‘‘ لہک لہک کر گاتا ہوا۔ اس کے دور میں کئی شاعر ادیب زندہ تھے اور خوبصورت شاعری بھی کرتے تھے، لیکن جیل کی سلاخیں اور پولیس کی لاٹھیاں صرف اور صرف حبیب جالب کا مقدر بنیں۔ اس لیے کہ حکمران طبقوں کو خوب اندازہ ہوتا ہے کہ کون سی آواز ان کے لیے خطرہ ہے۔ ٹوبہ ٹیک سنگھ کی1970ء کی کسان کانفرنس میں عبدالحمید بھاشانی کی صدارت میں جب فیض احمد فیض نے یہ اشعار پڑھے تو حکومت کے ایوانوں میں ہنگامہ صرف انھی اشعار پر برپا ہوا۔ حکمرانوں کا غصہ کسی دوسرے مقرر کی تقریر پر نہ نکلا بلکہ فیض احمد فیض مطعون ٹھہرے
ہر اک اوللامر کو صدا دو۔ کہ اپنی فردِ عمل سنبھالے
اٹھے گا جب جامِ سرفروشاں۔ پڑیں گے دار و رسن کے لالے
کوئی نہیں ہو گا کہ جو بچالے، جزا سزا سب یہیں پہ ہو گی
یہیں سے اٹھے گا شورِ محشر، یہیں پہ روزِ حساب ہو گا
اور پھر اس شعر نے تو وہاں آگ لگا دی۔ لوگوں کے دلوں میں یہ شعر ایسا سمایا کہ اس کے بعد آنے والے سالوں میں لوگوں کے دلوں کی دھڑکن بنا رہا۔
اے خاکِ نشینوں اٹھ بیٹھو، وہ وقت قریب آ پہنچا ہے
جب تخت گرائے جائیں گے، جب تاج اچھالے جائیں گے
سارے حکمران ایک کمزور سے شاعر یا ایک عام سے مقرر سے اس قدر خوفزدہ کیوں ہوتے ہیں؟ کیا ایک چھوٹے سے گھر میں رہنے والا، بے سر و سامان شاعر لاکھوں لوگوں کو آگ لگانے، جلانے، گھیراؤ کرنے پر مجبور کر سکتا ہے؟ کیا ایک شعلہ بیان مقرر لوگوں کو کسی ہنگامہ آرائی پر اُکسا سکتا ہے؟ یہ ہے وہ بنیادی سوال جو آج تک کسی صاحبِ اقتدار کی عقل میں نہیں آیا۔ لوگوں کو اگر کسی اسپتال سے فائدہ پہنچتا ہو، بیماروں کو وہاں سے شفا میسر ہو تو وہ اسے آگ نہیں لگائیں گے، بلکہ آگ لگانے والوں کو بھی روکیں گے۔ جس تھانے، کچہری اور سرکاری دفتر سے لوگ روز دھتکار ے جاتے ہوں، انھیں دھکے اور ٹھڈے پڑتے ہوں۔
جہاں ٹاؤٹ اور رشوت خور ان کی جیبوں سے جمع پونجی تک نکال لیتے ہوں۔ تو ایسے میں ان لوگوں کے دلوں میں ایک ہی خواہش آگ بن کر کھول رہی ہوتی ہے کہ کوئی اس دفتر کو آگ لگا دے جہاں روز میرے جیسے عام آدمی کی تذلیل ہوتی ہے۔ اس کی نفرت جب کسی شاعر کی زبان میں ڈھلتی ہے یا کسی مقرر کے لہجے میں گونجتی ہے تو پھر اس جیسے ہزاروں بلکہ لاکھوں بھوکے، ننگے اور اس ظالمانہ نظام تلے کچلے ہوئے لوگ ایک ایسا ہجوم بن جاتے ہیں۔
ایسا ہجوم جس نے تاریخ میں ایسے ایسے طوفان اٹھائے ہیں کہ لکھتے ہوئے قلم کانپ اٹھتا ہے۔ کیا صرف روسو اور والٹیئر کی تحریروں نے وہاں لاکھوں لوگوں کے گلے کٹوائے تھے؟ ہرگزنہیں! بلکہ حقیقت یہ ہے کہ غربت و افلاس اور بے روزگاری نے لوگوں کے ہاتھ میں وہ تیز دھار چھرے پکڑا دیے تھے جن کو چلانے والے ہاتھ غصے اور نفرت سے ابل رہے تھے۔ شاعر اور ادیب لوگ تو بس ان جذبوں کی زبان بن جایا کرتے ہیں اور حکمرانوں کو صرف انھی کی زبانیں خاموش کرنے سے غرض ہوتی ہے۔ وہ یہی تصور کر لیتے ہیں کہ اگر یہ زبان خاموش ہو گئی تو سب جگہ چین ہو جائے گا۔
گزشتہ دنوں فیروز پور روڈ لاہور کی ٹریڈ ایسوسی ایشن کے ایک اخباری اشتہا ر نے مجھے چونکا دیا۔ شیخ رشید کے’’ نکلو، مرو، مارو، جلاؤ گھیراؤ‘‘ کے الفاظ کے جواب میں چھپا تھا، پاکستان کے تاجر، صنعت کار، پاکستان کے دشمنوں کے خلاف سیہ پلائی ہوئی دیوار ثابت ہوں گے‘‘ کاش یہ سب عالیٰ دماغ لوگ تاریخ پڑھ لیتے یا پھر وقت کی نبض ہی دیکھ لیتے۔ کیا کبھی تاریخ میں ستائے ہوئے عوام کے سامنے ستانے والوں کا اتحاد بھی کامیاب ہوا ہے۔ لوگوں کے ہجوم کے سامنے یہ سب خس و خاشاک کی طرح بہہ جاتے ہیں۔ دنیا بھر میں تاجر، صنعت کا ر یا سرمایہ دار طبقات ہمیشہ ریاست کی طاقت اور پالتو غنڈوں کے ذریعے اپنی لوٹ مار سے بنائی ہوئی دولت کا تحفظ کرتے رہے ہیں۔
لوگ اس اسپتال، اسکول، سرکاری دفتر، مل اور کارخانے کی حفاظت کرتے ہیں جو ان کے دکھوں کا مداوا ہو، جہاں ان کی عزتِ نفس مجروح نہ ہو اور جو انھیں زندگی کی سہولیات مہیا کرتا ہو۔ ماہرینِ عمرانیات کہتے ہیں کہ ریاست سے محبت اس کے روّیے سے پیدا ہوتی ہے۔ تین اہم کام ہیں جو ریاست کرے تو اس سے محبت پیدا ہوتی ہے۔
بیروز گار ہوں تو روز گار فراہم کرے، ظلم ہو تو انصاف فراہم کرے اور بیمار ہوں تو علاج کروائے ۔ لیکن زمینی حقیقت یہ ہے کہ آپ بے روز گار ہوں اور اگر گھر والے مدد کو موجود نہ ہوں تو آپ خودکشی کر سکتے ہیں، آپ کا رشتے دار قتل ہو جائے تو تھانے میں الٹا آپ پر کیس بن جا تا ہے، چار بھائی ہوں تو بدلہ لے لیں گے، آپ بیمار ہوں تو گھر والوں کے پاس علاج کے پیسے ہیں تو ٹھیک ورنہ آپ اپنے پیاروں کی لاش اسپتال سے لائیں گے۔
ایسے میں لوگوں کی محبتیں ریاست کے بجائے گھر کی جانب منتقل ہو جاتی ہیں۔ کیونکہ مصیبت میں آپ کے کام گھر آتا ہے حکومت نہیں۔ ایسے میں لوگ مین ہول کا ڈھکن، اسٹریٹ لائٹ کا لیمپ یا دفتر کی اسٹیشنری چرا کر گھر لاتے ہیں کہ کل اس گھر نے ہی تو ان کا ساتھ دینا ہے دوسری جانب حکومت و ریاست کا ہر ادارہ لوگوں کی نفرت، غصے اور ہیجان کا نشانہ بن جاتا ہے۔

تقسیم واضح ہو رہی ہے
اوریا مقبول جان اتوار 16 نومبر 2014

یہ وہ سرزمین ہے جس کے بارے میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا کہ ’’اور بچا کر لے گئے ہم اسے (ابراہیمؑ) اور لوطؑ کو اس سرزمین کی طرف جس میں ہم نے تمام جہانوں کے لیے برکتیں رکھی ہیں (انبیاء:71)۔ یہ سرزمین شام ہے جسے بلادالشام یا اخباد الشام کہا جاتا تھا۔ یہ خطہ دریائے فرات سے ارض فلسطین تک پھیلا ہوا ہے جس میں موجودہ دورکے اسرائیل‘ لبنان‘ اردن اور شام کے ممالک آتے ہیں۔ یہ تقسیم جنگ عظیم اول کے بعد عالمی طاقتوں کی قائم کردہ قومی ریاستوں کی وجہ سے وقوع پذیر ہوئی۔
سید الانبیاءﷺ نے یہیں سے آسمانوں کی طرف اپنے معراج کے سفر کا آغاز کیا تھا۔ اس سے پہلے مکہ سے اس سرزمین تک کے سفر کو اللہ نے دو مسجدوں مسجد حرام اور مسجد اقصیٰ کے درمیان کا سفر بتاتے ہوئے فرمایا ’’پاک ہے وہ ذات جو لے گئی اپنے بندے کو راتوں رات مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک‘ وہ کہ ہم نے جس کے ماحول کو برکت دی ہے (بنی اسرائیل)۔ پیغمبروں کی سرزمین۔ تین ابراہیمی مذاہب کا روحانی مرکز۔ قدیم رومی سلطنت نے اس کو 64 قبل مسیح میں فتح کیا اور پھر مدتوں یہ اس کے ایک مرکزی حصے کے طور پر جانا جاتا رہا۔
اس سے پہلے ایک طویل عرصہ یہ سکندر یونانی کے جرنیل سیلوکس (Seleucis) کے زیر تسلط رہا۔ جس سرزمین پر حضرت دائود ؑ اور حضرت سلیمان ؑ کی عظیم بادشاہت قائم ہوئی۔ بنی اسرائیل پر نعمتوں اور نوازشات کا نزول بھی اسی سرزمین پر ہوا اور ان پر عذاب کے کوڑے بھی یہیں برسے۔ یہ خطہ ازل سے اہمیت کا حامل ہے اور سید الانبیاء کی بشارتوں کے مطابق قیامت سے قبل ہونے والی جنگ عظیم میں بھی مسلمانوں کی فتح و نصرت کی علامت ہو گا۔
رسول اکرمﷺ کی حیات طیبہ میں کسی عالمی طاقت سے جو دو لڑائیاں ہوئیں وہ اسی شام کے علاقے میں برپا ہوئیں اور قیصر روم کی افواج سے ہوئیں۔ فتح مکہ کے بعد جب آپؐ نے ارد گرد کے حکمرانوں کو دعوتی پیغامات بھیجے تو ہرقل کے عیسائی حاکم کے نائب شرجیل بن عمرو غسانی نے آپؐ کے سفیر حضرت حارث ؓ بن عمیر کو راستے میں شہید کر دیا۔ آپ نے اس عالمی طاقت روم سے سفیر کی ہلاکت کا بدلہ لینے کے لیے اپنے آزاد کردہ غلام حضرت زیدؓ بن حارث کی سربراہی میں لشکر روانہ کیا اور اسے خود مدینے سے باہر چھوڑنے آئے۔ شارف کے مقام پر لڑائی ہوئی۔ حضرت زید بن حارثؓ شہید ہوئے تو علم حضرت جعفرؓ کے سپرد ہوا۔ آپ کا داہنا ہاتھ کٹ گیا تو اسے بائیں ہاتھ سے پکڑا‘ بایاں بھی کٹ گیا تو سینے پر شہادت تک سنبھالے رکھا۔ اس کے بعد عبداللہ بن رواحہؓ علمبردار ہوئے وہ بھی شہید کر دیے گئے۔
اس کے بعد خالد بن ولیدؓ نے علم سنبھالا‘ بے جگری سے لڑے‘ نو تلواریں ٹوٹیں اور اپنی فوج کو بچا کر لے آئے۔ اسی معرکے میں حضرت جعفر کو طیار اور خالد بن ولید کو سیف اللہ کا لقب حاصل ہوا۔ آپؐ نے واپس آنے والوں کے بارے میں فرمایا یہ کراری ہیں‘ یعنی یہ دوبارہ لڑنے جائیں گے۔ رجب 9 ہجری کو اطلاع ملی کہ قیصر اپنی فوجیں لے کر مدینہ پر حملہ آور ہونے کے لیے آ رہا ہے۔ وہ جس کی آدھی دنیا پر حکومت تھی جو ایران کو تازہ تازہ شکست دے چکا تھا۔ حضورؐ نے طے کیا کہ اسے عرب کی سرزمین میں گھسنے سے پہلے ہی دفاعی مقابلہ کرتے ہوئے روک دیا جائے۔
یہ غزوہ تبوک کا وہ منظر ہے جس میں مسلمانوں نے ایثار اور انفاق کی مثالیں قائم کیں۔ حضرت ابوبکر صدیقؓ اپنے گھر کا پورا سامان اسی غزوہ کے لیے اٹھا لائے۔ تیس ہزار جانثار سید الانبیاءؐ کی سربراہی میں روانہ ہوئے لیکن روم کی فوج نہ آئی۔ اس لیے کہ ان کو کسی نے اطلاع دی تھی کہ نعوذ باللہ مدینہ کے نبیؐ کا انتقال ہو گیا ہے اس لیے یہ حملہ کرنے کا بہترین وقت ہے۔ اطلاع غلط ثابت ہونے پر وہ آگے روانہ نہ ہوئے۔ اس کے باوجود بھی رسول اکرمﷺ نے وہاں ایک ماہ تک فوجی کیمپ قائم رکھا۔ یہ تھی شام کی اہمیت۔ اسی لیے حضرت عمرؓ کے زمانے میں 15 ہجری میں اسے فتح کرنے کے لیے لشکر روانہ کیا گیا۔
یہ جنگ یرموک تھی جس کے نتیجے میں بلاد شام مسلمانوں کی ریاست میں شامل ہوا۔ اس جنگ میں اہل بیت رسولﷺ سے پہلے شہید نے جان جان آفرین کے سپرد کی۔ یہ تھے نواسہ رسول حضرت علی بن العاصؓ۔ ان کی عمر اس وقت بائیس برس تھی۔ یہ آپؐ کی بیٹی سیدہ زینب کے صاحبزادے ہونے کی وجہ سے علی زینبیؓ بھی کہلاتے تھے۔ اس نواسہ رسول کی شہادت اور شوق شہادت پر علامہ اقبال نے بانگ درا میں ایک نظم ’’جنگ یرموک کا ایک واقعہ تحریر کی ہے
صف بستہ تھے عرب کے جوانان تیغ بند
تھی منتظر حنا کی عروس زمین شام
اک نوجوان صورت سیماب مضطرب
آکر ہوا امیر عساکر سے ہم کلام
اے بوعبیدہ رخصت پیکار دے مجھے
لبریز ہو گیا مرے صبر و سکوں کا جام
بیتاب ہو رہا ہوں فراق رسول میں
اک دم کی زندگی بھی محبت میں ہے حرام
جاتا ہوں میں حضور رسالت پناہ میں
لے جاؤں گا خوشی سے اگر ہو کوئی پیام
بولا امیر فوج کہ وہ نوجواں ہے تو
پیروں پہ تیرے عشق کا واجب ہے احترام
پہنچے جو بار گاہ رسول امیں میں تو
کرنا یہ عرض میری طرف سے پس از سلام
ہم پر کرم کیا ہے خدائے غیور نے
پورے ہوئے جو وعدے کیے تھے حضورؐ نے
شام کی یہ فتح مسلمانوں کی شجاعت اور نواسہ رسولﷺ حضرت علی بن العاص کی شہادت کی یادگار ہے۔ شام کی یہ سرزمین جس میں اللہ نے عالمین کے لیے برکت رکھی آج جنگ و جدل اور خاک و خون میں غلطاں ہے۔ اسی سرزمین پر اسرائیل بھی اپنے مظالم جاری رکھے ہوئے ہے اور لبنان بھی خون آشامی اور خوف میں زندہ ہے لیکن دمشق اور حلب کے وہ علاقے جن کے بارے میں رسول اکرمؐ نے فرمایا تھا کہ یہاں مسلمانوں اور دجال کے ساتھ آخری معرکہ ہو گا۔ یہیں غوطہ کے پاس سیدنا امام مہدی کا ہیڈ کوارٹر ہو گا۔ یہیں حضرت عیسیٰ کا نزول ہو گا اور وہ دجال کو قتل کریں گے۔
یہ سب علاقے گزشتہ دو سالوں سے ایک مستقل لڑائی کا شکار ہیں۔ یہی علاقہ ہے کہ جہاں مسلمانوں کو ایک ملت واحد سمجھ کر ان پر حملہ کیا جاتا ہے۔ انھیں اکٹھا نہیں ہونے دیا جاتا۔ اسی شام کے علاقے کو جنگ عظیم اول کے بعد چھوٹی چھوٹی قومی ریاستوں میں تقسیم کر کے ان پر اپنے ٹوڈی‘ بدترین ظالم حکمران مسلط کیے گئے۔ جس جگہ سے میرے اللہ نے نصرت کا پرچم بلند کرنا ہو‘ کیسے ہو سکتا ہے کہ وہاں دجال کی طاقتیں اور یاجوج و ماجوج کا نظام حملہ آور نہ ہو۔
سید الانبیاءﷺ نے فرمایا ’’قیامت سے پہلے یہ واقعہ ضرور ہو کر رہے گا کہ اہل روم اہل اسلام سے اعمان یا دابق (حلب کے آس پاس) جنگ نہ کرلیں (مسلم): ایک اور جگہ فرمایا ’’ہجرت کے بعد ہجرت ہو گی پس بہترین شخص وہ ہو گا جو اس جگہ ہجرت کر کے جائے گا جہاں حضرت ابراہیم نے ہجرت کی (یعنی شام) ( ابو دائود)۔ زمانہ آخر کی جنگوں کے دوران حضرت عیسی علیہ السلام کے نزول کی حدیث صحیح مسلم میں یوں ہے ’’رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ ’’دمشق کے مشرقی جانب سفید مینار پر حضرت عیسیٰ ابن مریم نازل ہوں گے ‘‘ پھر فرمایا ’’وہ دجال کو تلاش کریں گے حتی کہ باب لُد پر اسے پا لیں گے اور قتل کر دیں گے( ابن ماجہ)۔
احادیث کا ایک طویل باب ہے جس میں شام کی فضیلت اور اس کے لیے برکت کی دعائیں ہیں۔ یہ بابرکت سرزمین ایک بار اور شاید آخری بار ایک آخری معرکے میں داخل ہو رہی ہے۔ جو سیدنا امام مہدی کا ہیڈ کوارٹر اور ان کا مرکز خلافت ہو گا لیکن اس عظیم جنگ سے پہلے رسول اللہ ﷺکے مطابق دنیا دو خیموں میں تقسیم ہو جائے گی‘ ایک جانب پورا کفر اور دوسری جانب پورا ایمان یعنی نفاق نہیں ہو گا۔ تقسیم واضح ہوتی جا رہی ہے۔ ایک طرف امریکا‘ اسرائیل اور اس کے حواری اور دوسری جانب نہتے‘ یہ مزید واضح ہو جائے گی کہ اب وقت قریب آ پہنچا ہے۔

صرف چند لمحوں کے لیے سوچیے
اوریا مقبول جان پير 19 جنوری 2015

سرمائے کی ہوس اور اقتدار کی منافقت کا یہ عالم ہے کہ وہ تمام ممالک جو اس وقت عراق اور شام میں قائم ہونے والی دولت اسلامیہ کے خلاف جنگ کے بنیادی ستون ہیں،جن کی سرحدیں اس نئی قائم ہونے والی ریاست کے ساتھ ہیں۔ ایک ایسی ریاست جسے دہشت گردی کی علامت اور دنیا بھر کی تہذیب کے لیے خطرہ قرار دیا جا رہا ہے،یہی ممالک دولت اسلامیہ کے تیل کی فروخت میں سب سے اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
دولت اسلامیہ نے جب عراق کے تیل کے ذخائر پر قبضہ کیا تو سب سے پہلے اس تیل کو سستے داموں خریدنے کی ہوس ایرانی اور کُرد اسمگلروں کے دلوں میں پیدا ہوئی۔ صرف چند دن کے بعد 6 نومبر 2013ء کو تیل سے بھرے ہوئے ہزاروں ٹینکروں کی قطاریں ایران کی سرحد پر پرویز خان کے علاقے میں موجود تھیں۔ اس کے بعد کُرد حکومتی اہلکاروں،ایرانی اسمگلروں اور ایرانی حکومت کے کسٹم حکام اور پاسداران میں نجانے کیا سمجھوتہ طے پایا کہ کئی دنوں سے رکے ہوئے ان ٹینکروں نے اپنی منزلوں کی جانب روانگی اختیار کرلی۔
کہا جاتا ہے کہ آغاز کے ان دنوں میں دولت اسلامیہ کو روزانہ دس لاکھ ڈالر تیل کی فروخت سے ملتے تھے جن کی تعداد میں اب کئی گنا اضافہ ہو چکا ہے۔ پہلا آئل ٹینکر جون کے وسط میں ’’توز فرماتو‘،کے شہر پہنچا تھا۔ یہ ایک ترک اور کُرد آبادی کا شہر ہے۔ یہاں اس ٹینکر کو اسمگلروں نے خریدا اور پھر آگے روانہ کر دیا۔ شروع شروع میں یہ ٹینکر بہت کم تھے لیکن جیسے ہی تعداد بڑھی کُرد انتظامیہ نے پابندیاں لگانا شروع کر دیں۔
اب دولت اسلامیہ نے براہ راست اسمگلروں کو تیل بیچنا شروع کر دیا،اب اسمگلروں نے کُرد انتظامیہ سے رابطہ کیا،معاملات طے ہوئے،انتظامیہ نے خود تیل خریدنا شروع کیا اور پھر اسے اربیل اور سلیمانیہ میں موجود دو غیر لائسنس یافتہ ریفانری پلانٹ میں صاف کر کے اس کا کاروبار شروع کر دیا۔ یہ تمام کاروبار حکومت نہیں کر رہی بلکہ حکومتی اہلکاروں کی اشیر باد سے ہو رہا ہے جس سے اسمگلر اور بددیانت حکومتی اہلکار فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ ہوس زر کا کوئی مذہب اور کوئی نسل نہیں ہوتی۔ یہ اسمگلر کُرد ہو گا لیکن تیل کسی ترک اسمگلر کو بیچنے میں نہیں ہچکچائے گا۔
تیل دولت اسلامیہ کا ہے لیکن خریدار سب کے سب اس کے مخالف،اس سے جنگ کرنے والے۔ پیش مرگہ کے وہ کُرد جنگجو جو دولت اسلامیہ کے ساتھ لڑائی میں مصروف ہیں اور انھیں امریکا اور مغرب کی مکمل حمایت حاصل ہے وہ بھی اس بہتے تیل کی گنگا میں ہاتھ دھو رہے ہیں اور ایران،اردن،شام کی حکومتیں بھی آنکھیں بند کر کے اس تیل کی ترسیل کو یقینی بنا رہی ہیں۔ حیران کن بات یہ ہے کہ اس تیل کو اسمگل کرنے والوں کے نام پوری دنیا کو معلوم ہیں۔
سب جانتے ہیں کہ دولت اسلامیہ کی معیشت کا دارومدار اسی تیل کی فروخت پر ہے۔ اس کے باوجود بھی دولت کمانے کی ہوس کسی بھی ملک کو یہ فروخت روکنے پر مجبور نہیں کر پاتی۔ کرکوک اربیل روڈ پر بے شمار چھوٹی چھوٹی ریفائنرز بن چکی ہیں جہاں یہ تیل پہنچتا ہے اور پھر آگے اسمگل ہوتا ہے۔ سلیمانیہ کا باقی یٰسین اس سارے کاروبار کا بادشاہ تصور ہوتا ہے۔ اس کے گروہ میں کُرد اور ایرانی اسمگلر شامل ہیں۔
ایرانی اسمگلروں کو اپنے پاسداران کی حمایت حاصل ہے اور کُردوں کو اپنی تنظیم پیش مرگہ کی۔ یہ سارے ملیشیا کے لوگ ایک چیک پوائنٹ پر دولت اسلامیہ کے سپاہیوں سے جنگ میں مصروف ہوتے ہیں اور دوسرے چیک پوائنٹ پر ان کا تیل خرید رہے ہوتے ہیں۔ وہ تمام حکومتیں جو چیخ چیخ کر داعش کو دہشت گرد کہہ رہی ہیں انھی کی زمین پر اس کا تیل خریدنے اور انھیں سرمایہ فراہم کرنے کے لیے استعمال ہو رہی ہے۔
دوسری منافقت یہ ہے کہ وہ مغربی تہذیب جس کے لیے دولت اسلامیہ کو سب سے بڑا خطرہ تصور کیا جا رہا ہے۔ پوری دنیا میں یہ پراپیگنڈہ عام کیا جا رہا ہے کہ مسلم ممالک میں دہشت گردی اور شدت پسندی کی وجوہات میں معاشی ناہمواری،جمہوریت کا فقدان،اسکولوں کے نصاب تعلیم جو جہاد کا درس دیتے ہیں اور سخت متعصبانہ قوانین ہیں۔ ان وجوہات کی وجہ سے شدت پسندی کو فروغ مل رہا ہے۔ پورا مغرب مسلمان ملکوں کو یہ درس دے رہا ہے کہ اپنا نصاب سیکولر کُرد اپنی حکومتیں جمہوری بناؤ،اپنے پسماندہ لوگوں کو معاشی طور پر مستحکم کرو،اپنی خواتین کو برابری کے حقوق دو۔
اگر تم یہ سب کر لو گے تو تمہارے اندر سے دہشت گردی اور شدت پسندی ختم ہو جائے گی۔ ان کی بولی بولنے والی ہزاروں این جی اوز اور ان عالمی طاقتوں کی امداد کے لالچ میں دیوانے ہوئے حکمران روز ان اقدامات کا رونا روتے رہتے ہیں۔ اخبارات اور میڈیا میں ’’دانشوروں‘‘کے مضامین اور گفتگو صرف چند باتوں پر مرکوز ہے،نظام تعلیم سے مذہب نکالو،مدرسوں کو ٹھیک کرو،عورتوں کو میدان عمل میں لاؤ،دہشت گردی کا یہی توڑ ہے۔ لیکن کوئی اس بات کا جواب نہیں دے پاتا کہ گزشتہ ایک سو سال کی انسانی جنگوں میں کسی اور جنگ میں اس جوق در جوق رضاکارانہ طور پر اتنے جہادی نہیں گئے جتنے عراق اور شام میں دولت اسلامیہ کے لیے لڑنے گئے ہیں۔
افغانستان میں بھی جتھے بنائے گئے،تنظیمیں بنیں،ان کو امریکا اور دیگر حواریوں نے مدد فراہم کی،ویت نام میں بھی چین اور روس کی مدد شامل تھی۔ لیکن یہاں سب سے حیرت انگیز بات یہ ہے کہ کسی بیرونی ملک سے لڑنے کے لیے جانے والوں میں اکثریت یورپی ممالک کے افراد کی ہے۔ وہ مغربی ممالک جہاں یہ سب پہلے کبھی نہیں ہوا تھا۔ ایسے ممالک جہاں سیکولر نظام تعلیم رائج ہے،جمہوریت بھی مستحکم ہے،معاشی ناہمواری بھی نہیں،وہاں تو کوئی مدرسہ بھی قائم نہیں ہے پھر ان لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ اپنی پر آسائش زندگیاں چھوڑ کر شام اور عراق میں لڑنے جا رہے ہیں۔
داعش کے آغاز میں یعنی آج سے چھ ماہ قبل 30 اگست 2014 کو ’’اکانومسٹ‘‘نے ان افراد کی تعداد بتائی تھی جو یورپی ممالک سے لڑنے عراق اور شام گئے ہیں۔ جریدے کے مطابق بلجیئم سے 250،ڈنمارک سے100،فرانس سے 700،آسٹریلیا سے 250،ناروے سے50،ہالینڈ سے120،آسٹریا سے60،آئر لینڈ سے30،برطانیہ سے 400،جرمنی سے 270 اور امریکا سے 70 افراد اپنی پر تعیش زندگی چھوڑ کر شام چلے گئے۔ اس وقت ان کی تعداد کئی گنا بڑھ چکی ہے۔ دنیا کی اب تک ہونے والی جنگوں میں کسی بھی جنگ میں یورپ سے اس قدر تعداد رضاکار جنگجوؤں کی روانہ نہیں ہوئی اور نہ ہی اس قدر زیادہ ملکوں سے لوگ کسی ایک جگہ لڑنے گئے ہیں۔
یورپی ممالک سے ایسے جہاد مارچ کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔ اب یہ مغربی ملک کونسا مدرسہ بند کریں گے اور کونسا نصاب تعلیم تبدیل کریں گے اور عورتوں کو اور کتنے زیادہ حقوق دیں گے کہ شدت پسندی کم ہو۔ یہ سب جنگ پراپیگنڈے سے جیتنا چاہتے ہیں۔ لیکن دسمبر کے آخری ہفتے میں جرمنی کے صحافی جو رگن ٹوڈن ہومز نے برطانوی اخبار Independent میں اپنے دولت اسلامیہ کے سفر کی روداد بیان کی ہے۔
یہ 74 سال جرمن صحافی واحد مغربی صحافی ہے جو اب تک وہاں پہنچا ہے۔ اس کے انکشافات ایسے ہیں کہ جو مغرب کے لیے کڑوی گولیاں سمجھی جا رہی ہیں۔ انھیں پہلے اس بات پر یقین نہیں آتا تھا کہ ہمارے سیکولر معاشرے سے اس قدر جہادی کیسے پیدا ہو سکتے ہیں،اب وہ ٹوڈن ہومز کی اس بات پر کیسے یقین کرلیں جو اس نے سی این این پر انٹرویو دیتے ہوئے کہی ہے۔ اس نے کہا کہ ’’وہ وقت دور نہیں جب داعش مغرب کے ساتھ بقائے باہمی کے لیے مذاکرات کرے گی اور مغرب کو دنیا میں امن قائم رکھنے کے لیے اور کوئی راستہ نہیں ہوگا‘‘۔
یہ غور کرنے کا مقام ہے،سوچنے کی گھڑی ہے۔ مغرب شاید سوچ رہا ہے کہ شدت پسندی اور دہشت گردی ہماری پالیسیوں اور طاقت کے استعمال سے پیدا ہوئی ہے لیکن اس نے بندوق ہمارے ہاتھ میں پکڑا دی ہے۔ خون بھی ہماری زمینوں پر بہتا ہے اور شدت پسندی بھی یہاں جنم لیتی ہے۔ ہم کب تک قتل کرنے اور قتل ہوتے رہیں گے۔ چند لمحوں کے لیے اپنے مسلک،اپنی نسل،اپنے عقیدے اور اپنی تعلیم کے تعصب کو پس پشت ڈال کر سوچئے ضرور۔ صرف چند لمحوں کے لیے۔

چہرہ روشن، اندروں چنگیز سے تاریک تر
اوریا مقبول جان اتوار 23 نومبر 2014

وہ لوگ جو آج بھی اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ جمہوریت میں عوام کے خوابوں کو تعبیر مل سکتی ہے‘ ان کی زندگی سنور سکتی ہے‘ وہ خوشحال ہو سکتے ہیں‘ انھیں دنیا کی سب سے کامیاب جمہوریت‘ ریاستہائے متحدہ امریکا کے 2014ء میں ہونے والے مڈٹرم الیکشن میں خرچ ہونے والے سرمائے اور سرمایہ فراہم کرنے والے افراد کو ایک نظر دیکھ لینا چاہیے۔
یہ امریکی تاریخ کے سب سے مہنگے الیکشن تھے جن پر چار ارب ڈالر لاگت آئی۔ سیاست دانوں کو خریدنے اور ان کے الیکشن پر سرمایہ لگانے کی دوڑ تو پہلے ہی سے تھی لیکن 2010ء میں امریکی سپریم کورٹ نے یہ فیصلہ دیا کہ کوئی بھی سرمایہ دار کسی بھی سیاسی پارٹی یا امیدوار کے الیکشن میں پیسہ دے سکتا ہے اور وہ اسے خفیہ بھی رکھ سکتا ہے اور حکومت کو کوئی حق حاصل نہیں کہ وہ پارٹیوں کے فنڈز اور اخراجات کے معاملے میں کسی بھی قسم کی کوئی تحقیق کرنے کی مجاز ہو۔
یہ فیصلہ امریکی تنظیم Citizen United کی جانب سے دائر کردہ ایک درخواست پر کیا گیا جسے ڈیوڈ بوسی (David Bossie) نے داخل کیا تھا۔ فیصلے کے بعد ہونے والے الیکشن سرمائے کی بہتات اور اراکین کانگریس کی خرید و فروخت کا بازار بن گئے۔ دنیا کے دس بڑے امیر آدمیوں میں سے دو بھائی Charls (چارلس) اور David (ڈیوڈ) ریپبلکن پارٹی سے تعلق رکھتے ہیں جو کوچ (Koch) برادران کے نام سے پہچانے جاتے ہیں۔ انھوں نے اپنی پارٹی کے فنڈ میں 30 کروڑ ڈالر دیے اور اپنی پارٹی کے الیکشن کی مہم میں میڈیا کو 44 ہزار اشتہارات دیے۔
میڈیا اور سرمائے کے اس گٹھ جوڑ نے سینیٹ پر ریپبلکن پارٹی کا اقتدار مستحکم کر دیا۔ یہ دونوں بھائی تیل کی صنعت سے وابستہ ہیں اور ان کا سب سے بڑا مفاد اس وقت کینیڈا اور امریکا کے درمیان تیل کی ترسیل کی وہ پائپ لائن ہے جسے AL پائپ لائن کہتے ہیں۔ اس پائپ لائن پر بہت سے ماحولیاتی اعتراضات ہوئے اور بارک اوباما نے جنوری 2012ء میں اس پائپ لائن کے پراجیکٹ کو ملتوی کر دیا تھا۔
کانگریس میں ریپبلکن کی اکثریت کے بعد اب جمہوری طور پر وہ تمام اعتراضات دم توڑ جائیں گے اور اگر یہ پائپ لائن بن گئی تو دونوں بھائیوں کی آمدنی میں تیس ارب ڈالر کا اضافہ ہو گا۔ کیسا سستا سودا ہے یہ جمہوریت اور جمہوری نظام۔ 30 کروڑ ڈالر خرچ کرو‘ شاندار میڈیا کے ذریعے پراپیگنڈہ کرو‘ لوگوں کو صرف چند گھنٹوں کے لیے بے وقوف بنائو کہ تم ہی اصل حاکم ہو اور تیس ارب ڈالر کمائو یعنی 30 گنا زیادہ منافع۔
اسی جمہوریت اور جمہوری نظام کا ایک اور مکروہ چہرہ امریکی عوام سے کیا گیا تازہ ترین سروے ہے۔ یہ سروے ثابت کرتا ہے کہ کس طرح آپ لوگوں کے ذہنوں کو یرغمال بنا کر اکثریت کو قائل کرسکتے ہو کہ ظلم اور بربریت جائز ہے یعنی اکثریت اگر معصوم لوگوں کو قتل کرنا جائز قرار دے تو پھر چونکہ یہ ایک جمہوری فیصلہ ہے‘ اس لیے اس پر عملدرآمد کو یقینی بنایا جانا چاہیے۔ یہ سروے Gallup Daily Tracking نے کیا ہے۔
اس کے مطابق %65 امریکی عوام نے کہا ہے کہ امریکا ان ملکوں پر ڈرون حملے کرے جہاں مشتبہ دہشت گرد موجود ہیں جب کہ 41 فیصد نے کہا کہ وہ ملک جہاں ایسے دہشت گرد بستے ہیں جو امریکی شہری ہیں تو ان پر بھی ڈرون گرائے جائیں۔ امریکا میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر ڈرون حملوں کے حق میں 25 فیصد لوگ تھے جب کہ 13 فیصد یہاں تک حامی تھے کہ اگر کوئی مشتبہ دہشت گرد امریکی ہے اور امریکا میں ہی رہتا ہے تو اس پر بھی ڈرون سے حملہ کیا جائے۔ یہ ہے وہ نفسیات جو امریکی عوام کی بنا دی گئی ہے۔ یہ نفسیات کس نے بنائی ہے۔
یہ سروے پارٹیوں کے لیڈران کے بارے میں بتاتا ہے کہ ریپبلکن کے 79 فیصد ممبران ڈرون حملوں کے حق میں ہیں جب کہ ڈیمو کریٹس کے 55 فیصد ممبران کسی بھی ملک میں کسی بھی دہشت گرد کے خلاف ڈرون حملوں کی حمایت کرتے ہیں۔ یہ حمایت کیسے پیدا ہوئی۔ یہ اجتماعی سوچ کس طرح پیدا کی گئی کہ کسی کو اس بات کا اندازہ تک نہیں کہ ان حملوں میں نوے فیصد سے زیادہ معصوم عورتیں‘ مرد اور بچے لقمہ اجل بنتے ہیں۔ ایف بی آئی (FBI) کے اسپیشل ایجنٹ کولن رائولی (Coleen Rowley) نے موجودہ امریکی جمہوری نظام کی اس شدت پسندی کا ایک شاندار نفسیاتی تجزیہ کیا ہے۔
اس کا مضمون اس عنوان سے ہے کہ ’’امریکی سر قلم کرنے سے نفرت کرتے ہیں جب کہ ڈرون حملوں سے محبت کیوں؟‘‘۔ وہ حیران ہے کہ فوجی ماہرین یہ تصور کرتے ہیں کہ ڈرون حملوں سے شدت پسندی میں اضافہ ہوتا ہے جب کہ سیاسی لیڈران اور جمہوریت کے نظام کی اساس‘ اس کا میڈیا عوام کو قائل کر چکا ہے کہ ڈرون حملے دنیا میں امن قائم کرنے کا ذریعہ ہیں۔ وہ اس کی چار وجوہات بیان کرتا ہے۔ پہلی یہ کہ اس جمہوری سیاست نے امریکی عوام کو یہ سکھایا ہے کہ تم اسقدر برتر اور اعلیٰ ہو کہ تم ایک جانب اور پوری انسانیت دوسری جانب۔ تمہارا ایک آدمی بھی مارا جائے تو دوسروں کے ایک لاکھ بھی مارکر انتقام لیا جا سکتا ہے۔ یہ دنیا کی بدترین نسل پرستی ہے۔
دوسری وجہ یہ کہ سر قلم کرنے کی ویڈیو امریکی میڈیا کے ذریعے گھر گھر پہنچائی جاتی ہے اور عوام کو ایک خوف کا شکار کیا جاتا ہے جب کہ آج تک کسی ڈرون حملے میں مرنے والے بچوں‘ بوڑھوں اور عورتوں کے ٹکڑے ٹکڑے ہوتے جسم دنیا اور خصوصاً امریکا کے کسی بھی میڈیا پر نہیں دکھائے گئے۔ اگر یہ ایک دفعہ دکھا دیے جائیں تو امریکی عوام ایک نفسیاتی شرمندگی کا شکار ہو جائیں۔ اس لیے کہ جن لوگوں نے عملی طور پر ڈرون کو کنٹرول کیا ہے ان میں سے کئی خود کشی کی کوشش کر چکے ہیں یا پھر نفسیاتی مریض بن چکے ہیں۔
تیسری وجہ وہ یہ بتاتا ہے کہ ڈرون حملوں کی حمایت امریکا کی امن کمیٹی ’’Peace Committee‘‘ کرتی ہے۔ اس کے ارکان ایک مقصد کے تحت برین واش کیے ہوئے ہیں‘ ان کا علم واجبی اور محدود ہے اور انھیں اندازہ تک نہیں کہ امریکا کی طرف سے لڑی جانے والی جنگوں کے نتیجے میں القاعدہ‘ طالبان اور اب داعش جیسی تنظیمیں وجود میں آئی ہیں‘ جو ان جنگوں میں ہونے والے معصوم شہریوں کے قتل عام کا ردعمل ہیں۔ چوتھی اور اہم ترین وجہ یہ ہے کہ امریکا خواہ ویت نام میں جائے یا عراق اور افغانستان میں‘ اس کے اسلحہ ساز فیکٹریوں کا کاروبار چمکنے لگتا ہے‘ اس کے ساتھ ساتھ ان علاقوں پر قابض ہو کر وہاں کے وسائل کو استعمال کرنے کے لیے کمپنیاں وہاں جاتی ہیں۔
اس سے امریکی معیشت میں بہتری آتی ہے‘ لوگوں کو نئی نوکریاں ملتی ہیں۔ عام امریکی کو علم تک نہیں ہوتا کہ امریکا کسقدر مقروض ہوا۔ اسے تو روز بروز بڑھتی ہوئی تنخواہ اور نئی نئی نوکریوں سے غرض ہوتی ہے۔ سرمایہ دار دن دوگنی اور رات چوگنی دولت بناتے ہیں اور پھر اس دولت کو پارٹیوں کو فنڈ دینے میں لگا کر پوری جمہوری سیاست کو اپنے قبضے میں لے لیتے ہیں۔ دنیا کی سب سے کامیاب جمہوریت یوں چند سرمایہ داروں کے اشارے پر ناچتی اور انسانی لاشوں سے کاروبار سیاست و معیشت چمکاتی ہے۔
اسی جمہوری نظام کا تسلسل ہمارے پڑوس میں دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت بھارت میں نظر آتا ہے۔ اس تسلسل نے وہاں امبانی، متل‘ ٹاٹا اور برلا تو پیدا کیے لیکن عام آدمی کو بیت الخلا جیسی ضرورت مہیا نہ کر سکی۔ نریندر مودی کے الیکشن کارپوریٹ سرمائے کا کھلا اظہار تھا۔ اس سرمائے کے شکنجے میں ویسے ہی نعرے پلتے ہیں ایک بھارتی مرے تو ہزار مخالف مارو‘ سبق سکھائو۔ کیا کسی کو پاکستان کی سیاست میں سرمائے کی بہتات سے آنے والے دنوں کا چہرہ نظر نہیں آ رہا۔ ایک بدترین متعصب‘ خونریز اور خون چوسنے والا کریہہ چہرہ۔ بقول اقبال۔
تو نے کیا دیکھا نہیں مغرب کا جمہوری نظام
چہرہ روشن اندروں چنگیز سے تاریک تر

ڈوبتی کشتی کے مسافر
اوریا مقبول جان جمعرات 18 دسمبر 2014

چراغ جب بجھنے لگتا ہے تو آخری بار اپنے پاس موجود تیل سے شعلے کو یوں بھڑکاتا ہے کہ پورے ماحول میں روشنی چھا جاتی ہے۔ ٹمٹماتی لو کے عادی لوگ ایک دم چونک پڑتے ہیں، لیکن یہ روشنی صرف چند سیکنڈ کے لیے ہوتی ہے، پھر اس کے بعد گھپ اندھیرا چھا جاتا ہے۔ گزشتہ تقریباً ایک صدی سے دنیا کی سیاست، معیشت اور طرزِ زندگی پر راج کرتے امریکا نے2008ء کے معاشی بحران کے بعد اپنے قدموں میں جو لڑکھڑاہٹ پائی، اسے ہزار جتن سے سنبھالنے کی کوشش کی لیکن سنبھل نہیں پا رہی۔
بیسویں صدی کے آغاز سے بھی چند سال پہلے اس نے دنیا پر سیاسی، معاشی اور فوجی بالادستی کا آغاز کر دیا تھا۔ فلپائن کو اسپین کی غلامی سے نجات دلانے کے بہانے1998ء میں داخل ہوا، وہاں اپنے اڈے قائم کیے، پورے ملک کو خانہ جنگی کا تحفہ دیا اور اپنے فوجیوں کی عیاشی کے لیے منیلا کو دنیا بھر کے لیے قحبہ گری اور جسم فروشی کا مرکز بنا دیا۔ اس کے بعد اس دنیا کا کونسا خطہ ہے جہاں اس معاشی اور سیاسی عفریت نے اپنے پنجے نہیں پھیلائے۔1917ء میں روس میں کیمونسٹ انقلاب آیا تو امریکا نے دنیا کو اس کی دست برد سے بچانے کا ٹھیکہ لے لیا۔ ابھی تو جنگِ عظیم اوّل ختم ہوئی تھی۔
اپنے ارد گرد جنوبی امریکا کے ممالک پر امریکا کی خونخوار نظریں جمی ہوئی تھیں۔1930ء کا معاشی بحران پوری دنیا کے لیے خوفناک تھا، لیکن امریکا کے پاؤں نہ ڈگمگائے۔ جنگِ عظیم دوم تک اس کی معاشی، سیاسی اور فوجی طاقت میں بے پناہ اضافہ ہو چکا تھا۔ وہ ایک عفریت بن چکا تھا۔ جاپان پر ایٹم بم گرا کر اس نے دنیا کو خوفزدہ کیا اور یورپ کوتباہ حالی سے بچانے کے لیے مارشل پلان کے ذریعے امداد دے کر نیٹو کی پابندیوں میں جکڑ لیا۔ پورا مغرب امریکی معیشت کا غلام بن گیا۔ اس غلامی کی تصویر دنیا کے سامنے اسوقت آئی جب فرانس کے صدر نے1971ء میں امریکی صدر نکسن سے مطالبہ کیا کہ اس کے بینکوں میں جو فرانس کے دو ارب ڈالر پڑے ہوئے ہیں اس کے بدلے میں سونا دیا جائے کہ یہ ایک معاہدے کا حصہ ہے جو جنگِ عظیم دوئم کے بعد 1945ء میں برٹن ووڈ میں ہوا تھا اور یہ کہا گیا تھا کہ تمام ممالک اپنی کرنسی کی مالیت کے برابر سونا اپنے پاس محفوظ رکھیں گے تا کہ مانگنے پر ادا کیا جا سکے۔
اس مطالبے پر صدر نکسن نے زور کا قہقہ لگایا اور کہا تم کیا سمجھتے ہو یہ وعدہ پورا کرنے کے لیے کیا گیا تھا۔ اس کے بعد امریکا نے سونا کے متبادل یعنی گولڈ اسٹینڈرڈ کو ختم کر دیا اور اس کی جگہ ’’حکومتی ساکھ (Good will of Country) کا لفظ ایجاد کیا گیا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب اسی معاشی قوت کے بل بوتے پر امریکا نے پوری دنیا کو ایک ہیجانی جنگ کا شکار کر رکھا تھا۔یہ جنگ کیمونسٹ شدت پسندی کے خلاف تھی۔ مشرق میں دیت نام سے شروع ہو کر مغرب میں چلّی تک کتنے ملک تھے جو اس شدت پسندی کی جنگ میں خون میں نہا رہے تھے۔ امریکی اسلحہ ساز فیکٹریاں دن دوگنی اور رات چوگنی ترقی کر رہی تھیں اور خانہ جنگی کے شکار ممالک کے وسائل امریکا اور اس کے حواریوں کے ہاتھ کوڑیوں کے مول بک رہے تھے۔
ان وسائل میں ایک اہم اور شاید سب سے بڑا اثاثہ تیل ہے جو دنیا بھر کی توانائی کی ضروریات پوری کرتا ہے۔ مسلم امہ کی قسمت ہے کہ اس اثاثے کا بڑا حصہ اس کے پاس ہے۔ اسی تیل کی قیمتوں کے اتار چڑھاؤ سے عالمی معیشت کی ترقی وابستہ ہے۔ اس کی خرید و فروخت سے وابستہ کرنسی کی ساکھ مضبوط ہوتی ہے اور اس کی ترسیل کو یقینی بنانے کے لیے جنگ کے میدان کھولے اور سمیٹے جاتے ہیں۔
کیمونسٹ روس کے زوال کے بعد جو میدان سجایا گیا وہ اسلامی شدت پسندی کا تھا جسے دہشت گردی کا نام دیا گیا۔ کیمونسٹ روس کے ہم خیال ممالک یا علاقوں میں لڑی جانے والی جنگ اور اس جنگ میں ذرا برابر بھی فرق نہیں۔ نہ تکنیک مختلف ہے اور نہ ہی حربے۔ اس جنگ میں بھی افواج کو امریکا میں تربیت دی جاتی، ان سے مراسم بڑھائے جاتے اور پھر ان کے جرنیلوں کے ذریعے چلی اور نکاراگوا جیسے بے شمار ملکوں میں فوجی انقلاب لایا جاتا، ہزاروں افراد لاپتہ ہوتے، لاکھوں قتل کیے جاتے۔
اذیت رسانی اور ٹارچر کے طریقوں کی تربیت باقاعدہ سی آئی اے ہیڈ کوارٹر میں دی جاتی۔ اس جنگ میں کیمونسٹ گوریلوں کا خوف پوری دنیا پر مسلط کیا گیا تھا اور آج کل اسلامی شدت پسندی کے خلاف جنگ میں اسلامی دہشت گردوں سے دنیا کو ڈرایا جاتا ہے۔ کیمونسٹ گوریلوں کو سوویت روس یا دیگر ہم خیال ممالک سے امداد ملتی تھی لیکن اسلامی دہشت گرد تو نیٹو کے مقابلے میں بالکل اکیلے ہیں۔ بہت سی تھیوریاں پیش ہوئیں، ہم نے خود انھیں پروان چڑھایا ہے، ان کو منشیات کے کاروبار سے پیسہ ملتا ہے، چند ممالک اپنے مسلکی مفاد کی خاطر انھیں سرمایہ فراہم کرتے ہیں۔ دنیا نے یہ ساری منطقیں تسلیم کر لیں اور طے کر لیا کہ دنیا کے امن کو اسلامی دہشت گردی سے خطرہ ہے۔ افغانستان اور عراق میں افواج اتریں، پڑوسی ملکوں نے اس خطرے سے بچنے کے لیے امریکا کی امداد کی اپنی زمین امریکا کے لیے پیش کی۔13 سال کی اس جنگ نے جہاں لاکھوں انسانوں کا خون کیا وہیں دنیا کی معیشت کے پاؤں بھی ڈگمگا دیے۔
شروع شروع میں عراق کے تیل اور عرب ریاستوں کی اسلحے کی خریداری نے اسے سہارا دیا لیکن2008ء میں یہ ایسے ڈوبی جیسے شدید طوفان میں نرم شاخیں ڈوبتی ہیں۔ امیدیں قائم تھیں مشرقِ وسطیٰ میں جنگ جاری تھی، شام اور عراق کی خانہ جنگی امریکی معیشت کا خواب پورا کر سکتی تھی۔ لیکن دس ارب ڈالر کی سرمایہ کاری سے پانچ لاکھ عراقی فوج جسے امریکا دنیا کی بہترین تربیت یافتہ فوج تصور کرتا تھا صرف دس بارہ ہزار افراد کے ہاتھوں ذلت آمیز شکست کھا گئی اور ایسے افراد کے ہاتھ تیل کے کنویں لگے جہاں سے بیس لاکھ ڈالر کا تیل روزانہ مارکیٹ میں آنے لگا۔ لیکن یہ کیا ہو گیا، تیل کی قیمتیں اچانک گرنے لگیں۔ کیا اس لیے کہ وہ لوگ تیل سستا بیج رہے ہیں۔
نہیں۔ بلکہ امریکا نے اپنی گرتی ہوئی معیشت کو سنبھالنے کے لیے اپنے ترکش کا آخری تیر چلایا ہے، ترپ کا آخری پتہ کھیلا ہے۔ ترکش کا یہ آخری تیر صرف معیشت کو سنبھالنے کے لیے ہی نہیں بلکہ اس جنگ میں تھوڑی سی مخالف قوتوں کی معیشت تباہ کرنے کے لیے بھی چلایا گیا ہے۔
امریکا کی سرزمین میں تیل کے ذخائر کی بہت بڑی مقدار موجود ہے جسے Shale تیل کہا جاتا ہے۔ اس تیل کو امریکا نے برے وقتوں کے لیے سنبھال کر رکھا ہوا تھا۔ اس لیے کہ اس کو نکالنے کے لیے جو لاگت صرف ہوتی ہے اور جس طرح کی ٹیکنالوجی کا استعمال درکار ہوتا ہے اس سے تیل کی قیمت میں منافع کی امید بہت کم رہ جاتی ہے۔ اس کے باوجود اوکلو ہاما کے وہ تیل کے کنویں اور شمالی ڈکوٹا اور ٹیکساس کے تیل کے سرمایہ کار اس تیل کو نکال کر مارکیٹ میں لا رہے ہیں۔ انھوں نے تقریباً بیس ہزار کے قریب ایسے کنویں کھودے ہیں جو سعودی عرب کے کنوؤں کی تعداد سے دس گناہ زیادہ ہیں۔ اس قدر تیل مارکیٹ میں آنے سے تیل کی قیمت 40 فیصد کم ہو گئی ہے۔
جون میں ایک بیرل تیل کی قیمت110 ڈالر تھی جو گر کر68 ڈالر ہو چکی ہے، جسے امریکا پچاس ڈالر کی قیمت پر لانا چاہتا ہے تا کہ مرتی ہوئی معیشت کو پاؤں پر کھڑا کیا جائے اور ان ملکوں کو تباہی کی طرف دھکیلا جائے جن کا سارا دارومدار تیل کی برآمد پر ہے۔ ان میں روس ہے جس کی کرنسی روبل 30 فیصد گر چکی، ایران جس کو اپنا بجٹ مستحکم رکھنے کے لیے تیل136 ڈالر بیرل کی قیمت چاہیے، اس نے یکم دسمبر کو روٹی کی قیمت میں30 فیصد اضافہ کیا، نائجیریا جس نے دو دسمبر کو تمام سبسڈی ختم کر دی اور وینز یلا نے28 نومبر کو تنخواہوں میں کمی کا اعلان کر دیا۔
Shale تیل کے مارکیٹ میں آنے سے وہ تمام عرب ریاستیں بھی متاثر ہوں گی لیکن اس کا ایک فائدہ یہ تصور کیا جا رہا ہے کہ دنیا بھر کا جی ڈی پی بڑھ جائے گا، معیشت مستحکم ہو گی۔ یہ ایک ایسا جواء ہے کہ اگر مارکیٹ نے تیل کی قیمت پچاس ڈالر فی بیرل سے نیچے گرا دی تو یہ دنیا ایک بہت بڑے بحران کا شکار ہو جائے گی جو اس پوری سودی معیشت کی عمارت کو دھڑام سے گرا دے گا۔ ایسے میں وہ تمام منصوبے، فتح کے وہ تمام افسانے، امریکا اور نیٹو کی دہ بالا دستیاں سب خواب ہو کر رہ جائیں۔
چاروں جانب بحران ہے، خوف سے بھاگتے امریکا اور نیٹو کو اس معاشی معجزے کا یقین ہے۔ یہ ڈوبتی کشتی ہے جس پر ہم ایک دفعہ پھر سوار ہونے جاتے رہے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ امریکا، افغانستان اور بھارت سے مل کر ہماری بقا ہے، ہم امن کی زندگی گزار سکیں گے۔ لیکن شاید اس سے بڑا سراب اور کوئی نہیں۔ ڈوبتی معیشت اور ہچکولے کھاتی کشتی پر سوار ہونا۔ چلو چند سال بعد اس کا ماتم کریں گے۔
نوٹ: درویش خدامست، نسیم انور بیگ کی سوانح پر ملک بھر کے دانشوروں اور ان کی محفل کے خوشہ چینوں نے جو کچھ تحریر کیا، اس کتاب کی رونمائی 21 دسمبر کو گیارہ بجے دن قائداعظم لائبریری میں ہو گی۔ درویش کی یاد میں محفل بپا ہو گی۔

پیکیج ڈیل
اوریا مقبول جان جمعـء 20 فروری 2015

پاکستان سے جا کر برطانیہ میں آباد ہونے والے افراد اپنے ساتھ یہاں کے سیاسی اختلافات اور مذہبی تعصبات بھی لے کر گئے ہیں۔ سیاسی اختلافات کی گہرائی اتنی شدید نہیں، اس لیے کہ وہاں پر موجود پاکستانی بڑی آسانی سے اپنے لیڈر اور پارٹی کو بدل لیتے ہیں۔ کوئی توقعات پر پورا نہ اترا تو دوسرے سے امیدیں لگا لی جاتی ہیں۔ نہ وہاں برداری کا اثر و رسوخ اتنا موجود ہے اور نہ ہی کسی پارٹی کی ہار جیت کے ساتھ علاقے میں چودھراہٹ وابستہ ہے اسی لیے وہاں سیاسی چپقلش گہری نہیں ہے۔ لیکن مذہبی تعصبات تو ایسے لگتا ہے، وہاں جا کر انھیں مہمیز لگ جاتی ہے۔ جو کچھ وہ یہاں نہیں کر پاتے برطانیہ کی اظہارِ رائے کی آزادی کے پرچم تلے کر گزرتے ہیں۔ ہر فقہ اور ہر مسلک کی مسجد آپ کو وہاں نظر آئے گی۔
ہر پیر کا ایک آستانہ بھی برطانیہ کے کسی شہر میں ضرور موجود ہو گا بلکہ بعض کے آستانے تو کئی شہروں میں ملیں گے۔ علمائے کرام بھی سب کے سب پاکستان سے درآمد کیے جاتے ہیں اور خطبہ بھی اُردو، پشتو، سندھی یا پنجابی میں دیا جاتا ہے۔ مجمع گرمانے اور مسلکی اختلاف سے لوگوں کے جسموں میں بجلی دوڑانے کا جو فن ان علماء نے یہاں سیکھا اور استعمال کیا ہوتا ہے اس کا مکمل اور پرُ جوش اظہار برطانیہ کی ان مساجد میں ہوتا ہے۔ برمنگھم جیسے شہر میں ڈیڑھ سو سے زیادہ مساجد ہیں اور کسی کا مولوی دوسرے کے مولوی سے ہم آہنگی نہیں رکھتا۔ یہ مسلکی اختلاف اسقدر وسیع ہے کہ پورے برطانیہ میں ہر سال دو سے تین عیدیں ہوتی ہیں اور کوئی آپس میں متحد ہونے، اتحاد علماء کا گروہ بنانے یا آپس میں مل بیٹھ کر اس اختلاف کو دور کرنے کی کوشش نہیں کرتا۔ برطانیہ میں ہر مسلک نے اپنا ایک ٹی وی چینل بھی کھول رکھا ہے۔
ان چینلوں پر ہونے والے پروگرام اسقدر بے باک ہوتے ہیں کہ اگر پاکستان میں ان میں سے ایک پروگرام بھی نشر ہو جائے تو آگ لگ جائے۔ ان پروگراموں کا سب سے خطرناک حصہ وہ لائیو کالز ہیں جو لوگ وہاں پر بیٹھے علماء کرام سے سوالات کی صورت پوچھتے ہیں۔ دوسری جانب سے ٹیلیفون پر بات کرنے والا پوری آزادی سے جس کسی فرقے کی مقدس ہستی کو جو کچھ کہہ کر فون بند کرتا ہے یا عجیب و غریب لہجے میں سوال کرتا ہے۔ ایسا بارہا اور بار بار ان چینلوں میں ہوا جس کی ریکارڈنگ یوٹیوب پر دیکھی جا سکتی ہے۔ وہاں لاکھوں کے قریب پاکستانی رہتے ہیں جو اپنی کمائی سے ان علمائے کرام اور ان کی مساجد کا خرچہ اٹھاتے ہیں، بلکہ ان علماء کے پاکستان میں مراکز، مساجد اور مدرسوں کے لیے بھی رقم مہیا کرتے ہیں۔
وہاں رہنے والے پاکستانی گرم جوش اور ایمان افروز تقریر سنتے ہیں، کفر کے فتوے اور الزامات بھی ان کے کانوں سے ٹکراتے ہیں لیکن اس کے باوجود وہاں کوئی سپاہ محمد اور لشکر جھنگوی نہیں بن سکا۔ کسی نے جتھوں کی صورت منظم ہو کر اپنے مخالف کو قتل کر کے جنت کمانے کی نہیں سوچی، وہاں کسی کو لاؤڈ اسپیکر ایکٹ نافذ کر کے مساجد میں صرف عربی میں خطبہ دینے کی پابندی عائد نہیں کرنا پڑی۔ کبھی کسی نے ایک لمحے کے لیے بھی غور کیا ہے کہ اگر مسالک کی لڑائی اور فرقہ واریت کے مواد کی فراہمی قتل و غارت کی بنیاد ہوتی تو یہ لٹریچر سب سے آزادانہ طور پر برطانیہ میں ملتا ہے اور ہر کوئی انٹرنیٹ کے ذریعے گھر بیٹھے وہ تمام مواد پڑھ بھی سکتا ہے اور تمام تقریریں سن بھی سکتا ہے۔
پھر وہاں سے اگر کوئی جہادی پیدا بھی ہوا تو اس کا تعلق فرقہ واریت سے ہر گز نہ تھا بلکہ وہ تو خود برطانیہ اور امریکا بلکہ پورے مغرب کے خلاف جہاں کہیں بھی مسلمان لڑ رہے تھے ان کے ساتھ شانہ بشانہ لڑنے کے لیے پہنچ گیا۔ یورپ، جہاں سے لوگ جہاد کرنے افغانستان، عراق اور شام جا سکتے ہیں اور جذبۂ ایمانی سے سر فروشی بھی سینوں میں موجود ہے، وہاں فرقہ وارانہ قتل و غارت کیوں نہیں ہوتی۔ یہ ہے وہ بنیادی سوال جو ہمارے ملک میں انتظامیہ نے کبھی بھی اپنے سامنے نہیں رکھا، اس لیے کہ اس کا صرف اور صرف ایک ہی جواب ہے کہ انتظامیہ مکمل طور پر ناکام ہو چکی۔ برصغیر پاک و ہند میں صدیوں سے ایک محفل کا اہتمام کیا جاتا رہا ہے جسے مناظرہ کہتے ہیں۔ یہ مناظرے اب مکمل طور پر ختم تو نہیں ہوئے لیکن بہت محدود ہو کر رہ گئے ہیں۔
ان میں ایک مسلک کا عالم دوسرے مسلک کے عالم کے آمنے سامنے بیٹھ کر لاکھوں لوگوں کے سامنے گرما گرم بحث کرتا اور پھر ہار جیت پر مناظرے کا فیصلہ ہوتا۔ انگریز نے بھی عیسائی پادریوں کو برطانیہ سے بلایا اور مناظروں کا اہتمام کروایا۔ پہلا مسلمان عیسائی مناظرہ کلکتہ میں1815ء میں ایک عیسائی مشنری اسکول میں منعقد ہوا۔ پیر مہر علی شاہ صاحب اور مرزا غلام احمد قادیانی کے مناظرے تو مشہور ہیں۔ اس دور میں کفر کے فتوے لگانے والے بھی زندہ تھے اور گرم جوش تقریر یں بھی کرتے تھے۔ ان کی کتابیں بھی موجود تھیں جن کو آج کے مولوی اٹھا اٹھا کر دکھاتے ہیں کہ یہ دیکھو کیا لکھا ہے، کیسی دلا آزاری کی باتیں ہیں۔ لیکن ان سو ڈیڑھ سو سالوں میں کیا کبھی ایسے جھتے بنائے گئے کہ ایک دوسرے فرقے کے لوگوں کو قتل کیا جائے اور جنت حاصل کی جائے۔ حالانکہ جتھے اس وقت بھی بنتے تھے، مسلح جدو جہد بھی ہوتی تھی، آزاد ہند فوج بھی بنتی تھی اور بھگت سنگھ بم دھماکے بھی کرتا تھا۔ لیکن یہ سب جھتے انگریز حکمرانی کے خلاف آزادی کی جدوجہد کے لیے بنائے جاتے تھے، مسلکی اختلاف کی بنیاد پر ایک دوسرے کو قتل کرنے کے لیے نہیں بنتے تھے۔
فرقہ وارانہ فساد تھے لیکن وہ بھی کبھی کبھار اور وہ بھی کسی موقع پر شرارت کی وجہ سے لیکن ان پر حکومت چند گھنٹوں میں قابو پا لیتی تھی۔ کبھی لٹریچر پر پابندی یا لاؤڈ اسپیکر پر صرف عربی خطبہ دینے کی پابندی کی ضرورت محسوس نہ کی گئی۔ مناظرے ہوتے رہے، لوگ لاکھوں کی صورت اپنے اپنے مسلک کے علماء کا ساتھ دینے ایک ہی پنڈال میں جمع ہوتے رہے۔ کبھی کسی نے یہ سوال کسی اعلیٰ سطح کا اجلاس اور ایکشن پلان بناتے وقت اپنے سامنے رکھا کہ اس فرقہ وارانہ شدت پسندی اور جہادی تصورات کے مقبول ہونے کی وجہ جمعہ کا خطبہ، لاؤڈ اسپیکر کا استعمال یا لٹریچر نہیں بلکہ اس کے علاوہ بھی کچھ اور ہے۔ اس ’’کچھ اور‘‘ کو اہل اقتدار خوب سمجھتے ہیں اور جانتے ہیں۔
اس ’’کچھ اور‘‘ کو وہ تمام علماء کرام بھی اچھی طرح جانتے ہیں اور انھیں علم ہے کہ یہ سب کیوں، کس نے اور کب شروع کروایا۔ کون اس کو سرمایہ فراہم کرتا ہے، کون پناہ گاہیں مہیا کرتا ہے، کہاں سے اسلحہ آتا ہے، کس کس ملک میں جا کر قاتلوں کو پناہ ملتی ہے۔ لیکن ان سب نے جو جن بنائے تھے، وہ بوتل سے باہر آ چکے ہیں، اور انھی علماء اور اسی انتظامیہ کی گردن پر سوار ہو چکے ہیں۔ اب ان جتھوں کی قیادت علماء کے ہاتھ میں نہیں بلکہ علماء کی قیادت ان کے ہاتھ میں آ چکی ہے۔ رہا مسئلہ انتظامیہ کا تو جب بندوق کسی گروہ کے فرد کے ہاتھ میں تھما دی جاتی ہے تو پھر اس بات کا ذمے کوئی نہیں لے سکتا کہ وہ آپ کی جانب رخ نہیں کرے گی۔
کوئی اس ’’ کچھ اور‘‘ وجہ پر غور کرنے کو تیار نہیں۔ کوئی یہ الزام لگاتا ہے کہ جمعہ کا خطبہ گمراہ کرتا ہے اور دوسرا یہ کہتا ہے عدالتیں فیصلہ نہیں کرتیں۔ کیسے کیسے ’’عظیم عقل و فہم‘‘ کے مالک دانشور، انتظامی آفسر ایسے ممالک کی مثال لے کر آتے ہیں جن کا نفرت سے نام کبھی لینا گوارا نہیں کرتے اور یہ دلیل دیتے ہیں، کہ دیکھو وہاں ایک ہی جمعہ کا خطبہ ہوتا ہے جو سرکاری طور تقسیم کر دیا جاتا ہے، اس کے علاوہ کچھ کہنے کی اجازت نہیں ہے۔ ان صاحبانِ علم کو مشورہ دیتے ہوئے کم از کم ایک بار یہ سوچ لینا چاہیے تھا کہ ان ممالک میں پابندی صرف جمعہ کے خطبہ پر نہیں ہے بلکہ ہر ذریعہ اظہار پر ہے، صرف علماء پر نہیں ہر کسی پر ہے۔ سعودی عرب، ایران اور متحدہ عرب امارات کی مثالیں جس زور شور سے دی جا رہی ہیں اور جس طرح صرف خطبہ جمعہ پر پابندی کو خالصتاً علیحدہ کر کے پیش کیا جا رہا ہے اس سے اگر کوئی گروہ اپنا خاص مقصد حاصل کرنا چاہتا ہے تو اسے اندازہ تک نہیں کہ وہ کیا بیج بو رہا ہے جس کی فصل بہت تلخ بھی ہو سکتی ہے۔
جن ملکوں میں مسجد کے مولوی کا گلا گھونٹا گیا ہے وہاں ہر آواز کا گلہ بھی ساتھ ہی گھونٹا گیا ہے تا کہ معاشرے میں سختی کی کوئی تفریق نہ ہو۔ سعودی عرب، ایران، اور دیگر عرب ممالک میں کوئی صحافی کسی اخبار یا ٹیلی ویژن پر حکومت سے پوچھے بغیر ایک لفظ بھی بول سکتا ہے، کوئی سیاسی پارٹی حکومتی مرضی کے بغیر بنائی نہیں جا سکتی ہے یہ ایک پیکیج ڈیل ہے۔ یہ پابندی معاشرے کے ہر طبقے پر لگتی ہے تو قابل قبول بنتی ہے ورنہ ایک طبقہ اپنے لیے اس امتیازی سلوک کا رّدعمل ضرور دکھاتا ہے۔
اگر جمعے کے خطبوں، لٹریچر، مسلکی نعروں اور تقریروں سے قتل و غارت برپا ہوتا تو برطانیہ میں لوگ ایک دوسرے کو مسلسل قتل کر رہے ہوتے، وہاں سے عراق، افغانستان اور شام میں جا کر نہ لڑتے۔ دنیا میں جہاں بھی دہشت گردی پر قابو پایا گیا وہاں قوت بازو کے ساتھ اس بات پر بھی غور کیا گیا کہ ہم کہاں غلطی کر رہے ہیں۔ کیا ہماری غلطیوں سے لوگ نفرت کے الاؤ میں تو نہیں جل رہے۔

ہوئے کس درجہ فقیہان حرم بے توفیق
اوریا مقبول جان اتوار 9 نومبر 2014

مسلم امہ کی اس سے بڑی بدقسمتی کیا ہو گی کہ تین ایسے گروہوں میں تقسیم ہو چکی ہے جن کے عمل اور رویوں سے ٹھیک وہی مقاصد نکل رہے ہیں جو اس امت کو تقسیم کرنے والے چاہتے تھے۔ پہلے دو گروہ وہ ہیں جنہوں نے اپنے اوپر مسلط کیے ہوئے جدید مغربی تہذیبی نظام کو دل سے خواہ تسلیم نہ کیا ہو لیکن اس کے اندر زندہ رہنے‘ اس سے تمام تر فوائد اٹھانے اور اس کے تمام جائزو ناجائز اداروں کو تسلیم کرنے کا ڈھنگ سیکھ لیا ہے۔
اپنے اس رویے اور طرز زندگی کے لیے ان کے پاس دلائل کا انبار بھی ہے اور شرعی و فقہی جواز بھی۔ ان میں سب بڑا گروہ وہ ہے جو تزکیہ نفس کا علمبردار ہے اور تبلیغ کو ’’تامرون باالمعروف ‘‘یعنی نیکی کا حکم دینا اور ’’نہی عن المنکر‘‘ یعنی برائی سے روکنا جیسے اعلیٰ ارفع فریضے کا نعم البدل سمجھتا ہے۔ حج کے بعد دنیا میں سب سے بڑا مسلمانوں کا اجتماع رائے ونڈ میں ہوتا ہے۔ یہ ایک ایسا روح پرور ماحول ہوتا ہے کہ ہر کوئی اس کے روحانی کیف میں سکون محسوس کرتا ہے۔ دعوت اسلامی بھی اپنے مسلک کے مطابق گزشتہ کئی سالوں سے ایسا ہی ایک تبلیغی اجتماع منعقد کروا رہی ہے۔
ان کے افراد بھی ذاتی کردار کی پاکیزگی اور روحانی بالیدگی پر زور دیتے ہیں اور تزکیہ نفس کو اپنا مقصد گردانتے ہیں۔ ان اجتماعات کا ماحول بھی روح پرور ہوتا ہے اور روحانی بالیدگی کا باعث بنتا ہے۔ اسی طرح خانقاہوں پر بیٹھے افراد اپنی دعا‘ تسلی اور تشفی سے کتنے پریشان حال لوگوں کے لیے لمحاتی سکون کا باعث ہیں۔ غربت‘ پریشانی اور بیماری کے مارے لوگ جب ارد گرد اپنے دکھوں کا کوئی مداوا نہیں پاتے تو کسی خانقاہ کے سجادہ نشین کے پاس‘ کسی صاحب دعا کے سامنے یا کسی اہل نظر کے روبرو اپنا دکھڑا بیان کر کے بوجھ ہلکا کر لیتے ہیں۔ ک
ہیں کسی کامل کی دعا ان کے لیے مسائل میں آسانی کا باعث بن جاتی ہے۔ یہ سب کمال کے لوگ ہیں۔ انھیں اس بات سے کوئی غرض نہیں کہ معاشرے میں کیا ہو رہا ہے‘ ہم کونسے نظام میں جی رہے ہیں کونسا طرز حکومت ہم پر مسلط ہے‘ کیسی تعلیم ہمیں دی جا رہی ہے اور وہ کیسے نوجوان بنا رہی ہے۔ انھیں بس اپنے کام سے غرض ہوتی ہے۔ لوگوں کا تزکیہ کرنا‘ انھیں ازسرنو صحیح اور راسخ العقیدہ مسلمان بنانا ان کا مقصد ہے۔ دوسرا گروہ ان علمائے کرام اور فقیہائے ملت کا ہے جنہوں نے یہ یقین کر لیا ہے کہ ہم پر جو نظام مسلط ہو چکا ہے‘ اس نے تو آیندہ صدیوں میں بھی تبدیل نہیں ہونا۔
اس لیے اس نظام کی چھتری تلے اپنے زندہ رہنے کے لیے تھوڑی سی گنجائش پیدا کی جائے۔ یہ گروہ بھی دو حصوں میں منقسم ہے۔ ایک جدیدیت اور مغربیت سے متاثر علماء کرام ہیں‘ جو مغرب ہی کو اصل اسلام گردانتے ہیں اس کی ہر خوبی کو عین اسلام کے مطابق ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان کی روشن خیالی اسقدر بڑھ جاتی ہے کہ ان مغرب زدہ مفکرین سے بھی دو ہاتھ آگے نکل کر ہر بے راہ روی کو بھی اجتہاد کی بنیاد سے جائز قرار دے دیتے ہیں۔
علماء کا دوسرا گروہ وہ ہے جو اس جدید مغربی تہذیب کے قائم کردہ اداروں کو یا تو مشرف بہ اسلام کرنا چاہتا ہے اور اگر ایسا ممکن نہ ہو تو اس کے اندر رہ کر زیادہ سے زیادہ حلال و حرام کی تمیز بتا دیتا ہے تا کہ لوگ اپنے طور پر سکون کی نیند سو جائیں کہ ہم نے حرام نہیں کھایا اور مغرب کے لوگ بھی مطمئن رہیں کہ ان کا پورے کا پورا نظام صحیح و سالم زندہ و پایندہ ہے اور سرمایہ دارانہ نظام پوری آب و تاب سے چمک رہا ہے۔ لیکن اس نظام میں مسلمان گاہکوں کے لیے حلال کا ایک گوشہ مخصوص ہے۔
اس کی تازہ ترین مثال یہ ہے کہ اس سرمایہ دارانہ نظام نے مسلمان گاہکوں کی ترغیب کے لیے ایمسٹرڈیم کے بازار حسن میں ’’حلال طوائفوں‘‘ کا بھی اشتہار شایع کیا یعنی ایسی عورتیں جو سئور نہیں کھاتیں‘ شراب نہیں پیتیں‘ حجاب کرتی ہیں اور اگر آپ نکاح کرنا چاہیں تو کر لیں اور اگر مرضی ہو تو طلاق دے دیں لیکن اس بازار سے منہ نہ موڑیں اور اس کی قیمت بھی ادا کرتے رہیں۔ موجودہ دور کے اس نازک ترین موڑ پر جب سب کچھ مغرب زدہ ہو چکا ہے اور ہم نہیں بلکہ ہمارے اکثر صاحبان علم نے بھی طے کر لیا کہ انھوں نے اس نظام کو نہیں بدلنا اور اسی میں زندہ رہنا ہے تو مصر اور سعودی عرب کے بعض علماء نے ’’نکاح المسیار‘‘ کا تحفہ عطا کیا جس کے تحت نہ شوہر پر نان نفقہ کی ذمے داری ہے اور عورت کو گھر میں لا کر رکھنے کی۔
اس میں رخصتی نہیں ہوتی بلکہ میاں بیوی راز داری کے ساتھ ایک طے شدہ مقام پر جمع ہو سکتے ہیں۔ یہ کیوں کیا گیا۔ اس لیے ان ممالک میں گھروں اور دفاتر میں غیر ملکی خواتین ملازمین کا آنا جانا بہت بڑھ گیا تھا۔ بیویاں انھیں سوکن کے روپ میں دیکھنا نہیں چاہتی تھیں اور مردوں کی جنسی ہوس انھیں ایک آسان شکار تصور کرتی تھیں۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا اس مغرب زدہ مخلوط معاشرت کے خلاف آواز اٹھائی جاتی لیکن اس کے لیے ایک شرعی حیلے کے ساتھ جواز فراہم کیا گیا۔ یہ ہے وہ اصول جس کی بنیاد پر اسلامی جمہوریت‘ اسلامی ثقافتی مرکز‘ اسلامی معاشیات اور پھر اسلامی بینکنگ وجود میں آئی۔
سود پر بنی ہوئی عمارت اور سرمائے کے کاروبار اور مکمل طور پر جھوٹی اور جعلی کرنسی کی مدد سے بنائے گئے نظام میں حلال کا راستہ نکالا گیا۔ ان سب افراد کو معلوم ہے کہ تمام کا تمام بینکاری نظام اسلامی معیشت کے اصولوں کی ضد کے طور پر خالصتاً سودی بنیادوں پر استوار ہے۔ اس میں دراصل ایک غیر فطری سرمایہ تخلیق ہوتا ہے جس سے اس دنیا میں تمام جمہوری‘ معاشرتی‘ تعلیمی اور استحصالی معاشی نظام تخلیق ہوتا ہے لیکن سب اس بڑے نظام کے خلاف جدوجہد نہیں کرتے بلکہ اس کے اندر ایک حلال اور حرام کا معیار مقرر کرتے ہوئے کسی فرد کا سرمایہ پاک کرنے کا راستہ بناتے ہیں۔
وہ اسے شرعی حیلہ کہتے ہیں۔ ایک بہت بڑے مفتی صاحب نے لیزنگ میں عام بینکوں اور اسلامی بینکوں میں فرق کا جو موازنہ کیا اسے بیان کرتا ہوں اور لوگوں پر چھوڑتا ہوں کہ کیسے پورے لیزنگ کو مسلمان کیا گیا ہے۔ کہتے ہیں کنونشنل یا عام بینکاری میں اگر گاڑی چوری ہو جائے تو بینک ذمے داری نہیں لیتا جب کہ اسلامی بینک اس کی پوری ذمے داری لیتا ہے۔ اس لیے کہ کنونشنل بینک تو صاف سود کہہ کر زائد رقم اقساط میں لیتے ہیں اور اسلامی بینک اسے کرائے کا نام دیتے ہیں دوسرا نکتہ یہ کہ عام بینک فوراً قسطیں لینی شروع کر دیتا ہے جب کہ اسلامی بینک جب گاڑی مل جائے تو قسطیں شروع کرتا ہے۔ یعنی زائد رقم چند ماہ کے بعد شروع کرنے سے شرعی اور حلال ہو جاتی ہے۔
آخری نکتہ کمال کا ہے کہ عام بینک انشورنس کرواتا ہے تا کہ گاڑی کے مالک کا نقصان پورا ہو۔ جب کہ ایک اسلامی بینک شرعی انشورنس یعنی تکافل کرواتا ہے۔ دنیا میں سرمایہ دارانہ نظام نے بینکوں کے ساتھ انشورنس کا نظام اسی لیے بنایا تھا کہ اگر بینکوں یا کمپنیوں میں سرمایہ ڈوبنے لگے تو ان کی مدد کے لیے انشورنس کمپنیاں آ جائیں یعنی ہر صورت میں عوام کے پیسے کو لوٹا جائے اور سرمایہ دار کا پیسہ محفوظ رہے۔ اس نکتے سے اس پہلے نکتے کی بھی نفی ہوتی ہے کہ اسلامی بینک گاڑی چوری ہونے پر ذمے دار ہوتا ہے‘ وہ بھی انشورنس کے پیسے سے ادائیگی کرتا ہے حیلے کو شرعی حیثیت فقہہ میں دی گئی اور اس میں حرام اور حلال حیلے کی تمیز کی گئی۔
یہی وجہ ہے کہ وہ سارا سرمایہ دارانہ نظام قائم رہتا ہے اور وہ سود جس کے خلاف اللہ اور اس کے رسول نے جنگ کا اعلان کیا اس کے بڑے بڑے اشتہارات تبلیغی جماعت کے اجتماع کے ارد گرد بھی لگے ہوتے ہیں اور صوفیاء کے مزاروں کے سامنے بھی‘ کسی بڑے مدرسے کے روبرو بھی اور کسی بڑی کانفرنس کے بیچوں بیچ بھی۔ لیکن ذرا بھر بھی کراہت نہیں ہوتی۔ ہم نے ایک مکمل ناجائز نظام کے اندر اپنے لیے حلال خوراک کا بندوبست کر کے جینا سیکھ لیا ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’اللہ تعالیٰ یہود پر لعنت فرمائے۔ جب ان پر مردار کی چربی حرام کی گئی تو وہ چربی پگھلاتے اور بیچ ڈالتے اور پھر اس کی قیمت کھا جاتے‘‘ (نسائی)۔ تیسرا گروہ وہ ہے جس نے تزکیہ نفس اور ذاتی کردار کو تو اہمیت نہ دی لیکن خود پر مغرب کے خلاف جہاد فرض کر لیا۔ تربیت کے فقدان نے ان میں اغوا برائے تاوان سے لے کر عصبیت تک قتل و غارت کو ایسا فروغ دیا کہ مغرب کیا خوفزدہ ہوتا‘ پوری امت خوفزدہ ہو گئی۔ اس گروہ کے درست اور حق پر ہونے کے لیے بھی شریعت سے جواز ڈھونڈے گئے۔ اقبال نے خوب کہا تھا
خود بدلتے نہیں قرآں کو بدل دیتے ہیں
ہوئے کس درجہ فقیہان حرم بے توفیق

اقامتِ دین، جمہوریت اور مذہبی جماعتوں کا المیہ (2)
اوریا مقبول جان جمعـء 7 نومبر 2014

اقامتِ دین، اسلامی نظام کا قیام، شریعت کا نفاذ یا نظام مصطفیٰﷺ ایسے تمام نعرے مذہبی جماعتیں، اپنی الیکشن کی مہم، رکنیت سازی یا عمومی گفتگو میں لگاتی ہیں۔ یہ سب گزشتہ چھ دہائیوں سے انتخابی سیاست کر رہی ہیں۔ ان کے ہاتھوں میں وزارتوں کے قلمدان بھی رہے اور صوبائی حکومتیں بھی۔ اس پورے عرصے میں کبھی ان تمام جماعتوں نے نفع و نقصان کا گوشوارہ مرتب کرنے کی کوشش کی ہوتی تو انھیں اندازہ ہو جاتا کہ انھوں نے کیا کھویا اور کیا پایا ہے۔ تعجب کی با ت یہ ہے کہ لادینیت اور سیکولرزم کے اس طوفان میں نوجوانوں کی ایک کثیر تعداد اسلام کی جانب بھی راغب ہو رہی ہے۔
آج سے چالیس سال قبل یونیورسٹیوں کے مخلوط ماحول میں شاید ہی کوئی لڑکی حجاب پہنے نظر آتی تھی لیکن اب آپ کو جابجا ایسی لڑکیاں نظر آئیں گی بلکہ ایک اندازے کے مطابق سرکاری یونیورسٹیوں میں تیس فیصد لڑکیاں حجاب پہنتی ہیں۔ ایک زمانے میں تعلیمی اداروں میں اکا دکاّ داڑھی والے نوجوان نظر آتے تھے اور ان کی داڑھی بھی مختصر سی ہوتی لیکن اب ایسے نوجوانوں کی بھی کثیر تعداد ان اداروں میں موجود ہے جو عمامہ، شلوار قمیض اور لمبی داڑھی سمیت اس مخلوط تعلیم میں اپنی انفرادیت برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ ان نوجوانوں کی اکثریت نے دین کے ساتھ یہ تعلق اپنے تجسس اور کوشش سے استوار کیا ہے۔
گیارہ ستمبر کے ہنگام میں جس پڑھی لکھی نسل نے مغرب کا کریہہ چہرہ اپنی انٹرنیٹ تک رسائی سے دیکھا، وہ اسلام کو سیکھنے کی جستجو میں لگ گئی۔ ان کے پاس ان مذہبی جماعتوں کے رہنماؤں کا کوئی علمی کام مشعل راہِ کے طور موجود نہ تھا۔ جماعتِ اسلامی ان میں سے ایک مختلف حیثیت رکھتی ہے کہ مولانا سیّد ابوالعلیٰ مودودی کا علمی ورثہ آج بھی ان کے کام آ رہا ہے۔ جب کہ دیگر مذہبی جماعتیں اپنے مسلکی اور فقہی علماء کے ذخیرۂ علم پر بھروسہ کرتی ہیں۔ یہ تمام کام بھی تقریباً چالیس سال پرانے ہیں اور موجودہ دور میں جو علمی کام میسر ہے وہ ذاتی نوعیت کا ہے۔
اجتماعی سطح پر دین کے کام سے جتنی یہ مذہبی جماعتیں آج دور ہیں اس کی مثال گزشتہ تاریخ میں نہیں ملتی۔ جہاں علمی کام میں تنزل آیا وہیں ان کی قیادتوں کے معیار اور علمی حیثیت بھی اس قابل نہ رہی کہ ان کی جانب ایک علم دین کے ماہر یا عالم کی حیثیت سے رجوع کیا جا سکے۔ سب کے سب سیاسی رہنما بن گئے۔ مولانا فضل الرحمن ہوں یا سراج الحق، انس نورانی ہوں، صاحبزادہ حامد رضا یا علامہ ناصر عباس، کسی کے کھاتے میں کوئی ایسی تحریر موجود نہیں جو موجودہ مسائل کے تناظر اور اسلام کے حوالے سے لکھی گئی ہو۔
انھیں آئین کی دفعات یاد ہوتی ہیں، جمہوریت کی تاریخ ازبر ہوتی ہے، آمریت کے شب خون اور اس کے اثرات پر ان کے پاس دلائل موجود ہوتے ہیں لیکن نہ یونیورسٹی میں پڑھنے والے کسی نوجوان کے ذہن میں اٹھنے والے سوالوں کا جواب ان کے پاس ہوتا ہے اور نہ ہی مدرسہ کے فارغ التحصیل، درسِ نظامی پڑھے ہوئے شخص کو یہ قائل کر سکتے ہیں کہ اسلام کا آفاقی نظام موجودہ دور کی ضروریات کیسے پوری کر سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تمام کی تمام تحریکیں عملاً اس صورت میں ڈھل چکی ہیں جس میں دینی قیادت اور ہے اور سیاسی قیادت اور۔ وہی جنگ جو یہ جماعتیں صدیوں سے لڑتی چلی آئی ہیں کہ جو دینی معلامات میں رہنما ہے وہی سیاسی معاملات میں بھی قائد ہو گا۔ لیکن اب خود ان کے سیاسی قائد اور ہیں اور دینی قائد اور۔ یہ ہے اس انتخابی عمل کا بھیانک نتیجہ جس نے ان مذہبی جماعتوں کو ٹھیک اسی رنگ سے رنگ دیا ہے جو جمہوری نظام کی عین منشا ہے، فرق صرف یہ ہے کہ ان کے قائدین چہرے مہرے سے شرعی وضع قطع رکھتے ہیں، عبادات میں پہل کرنے والے ہیں اور ذاتی کردار میں بہتر ہیں۔
لیکن کیا اس جمہوری نظام کی گندگی اور غلاظت، الزامات کی صورت میں ان کے وزیروں اور مشیروں کے سر پر نہیں تھوپی گئی۔ کیا ان کا روّیہ خالصتاً ان تمام وزیروں کا جیسا نہیں تھا جو اپنے حلقے کی اسکیموں، وہاں کے افراد کی خوشنودی اور ان کے لیے نئی نئی ملازمتوں کے لیے کوشاں رہتے تھے۔ دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیں کہ کیا اس سارے عمل میں اقامتِ دین کا کام پسِ پشت نہیں چلا گیا۔ کیا اقامتِ دین کی آواز بلند کرنے والا کوئی شخص کوئی ایسا عہدہ قبول کر سکتا ہے جس میں اسے ایک ایسا بجٹ بنانا پڑے جس میں سود ایک جزولاینفک ہو۔ لیکن یہ بلوچستان میں بھی ہوا اور خیبر پختونخوا میں بھی۔ یہ تو جان بوجھ کر گلے میں ڈالا گیا طوق تھا، دین کی کوئی تعبیر اسے مصلحت یا مجبوری کا نام نہیں دے سکتی۔ بلوچستان کی اسمبلی میں1988ء سے لے کر آج تک جمعیت العلماء پاکستان کئی دفعہ واحد اکثریتی پارٹی کے طور پر انتخاب جیتتی رہی ہے لیکن سیاسی مصلحت اور عوامی مفاد اسے سیکولر، قوم پرست اور بعض دفعہ دین سے متنفر افراد کے ساتھ اتحاد کر کے اقتدار کو بحال رکھنے پر مجبور کرتا ہے۔
اس اقتدار کے بعد وہ سارے کام انھوں نے کیے جو انتخابی سیاست میں جیتنے والے دیگر وزیر بھی کرتے تھے۔ لیکن کیا یہ سب کرنے کے بعد سیاست میں کامیابی ان کے ہاتھ آئی۔ روز بروز ان کے ووٹروں کی تعداد کم ہوتی گئی۔1970ء سے لے کر آج تک اپنے ہم خیال ووٹروں کا جائزہ لے لیں اور ان ووٹروں کو نکال دیں جو وہ وقتاً فوقتاً سیاسی مصلحت کے طور پر برادری والے یا قبیلے والے امیدوار کھڑا کر کے حاصل کرتے ہیں تو آپ کو انداز ہو جائے گا کہ آپ کسی مقام پر کھڑے ہیں۔ آپ نے صرف کھویا ہی کھویا ہے۔
جمہوریت کی جس ٹرین پر یہ مذہبی جماعتیں سوار ہیں اس کا ایندھن کارپوریٹ سرمایہ ہے۔ سیاسی پارٹیاں اسی لیے بنائی جاتی ہیں، تا کہ ان میں انوسٹمنٹ کی جا سکے۔ اوباما کو اگر 6.8 ارب ڈالر نہ ملتے تو اس کی پارٹی الیکشن جیتنے کا تصور بھی نہیں کرتی، یہی حال تمام ممالک کی سیاسی پارٹیوں کا ہے۔ اسی لیے جمہوری نظام میں غیر جماعتی انتخابات گالی بنا دیے گئے ہیں کیونکہ اس طرح پارٹی فنڈنگ کا تصور ختم ہو جاتا ہے۔ اس سرمائے سے جو راستہ جیت کی طرف جاتا ہے وہ میڈیا کا ہے۔
اس وقت دنیا کا 97 فیصد میڈیا تین بڑی کمپنیوں کی ملکیت ہے جن کی کوئی محبت ان مذہبی سیاسی پارٹیوں سے نہیں ہے۔ جب تک آپ اس نظام کا پرچم اٹھا کر جمہوری انتخابی راستے پر گامزن ہیں وہ آپ کو برداشت کریں گے ورنہ حزب التحریر جیسی تنظیم جو ریاست کے قیام سے پہلے ہتھیار اٹھانا حرام سمجھتی ہے اس کو دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کر کے اکثر مسلم ممالک میں پابندی لگوا دی گئی۔ کیونکہ نہ تو وہ اس جمہوری نظام کا حصہ ہے اور نہ ہی انتخابی سیاست کی حمایتی۔ لوگ سوال کرتے ہیں کہ پھر کیا یہ مذہبی جماعتیں بھی وہی راستہ اختیار کریں اور خود پر پابندی لگوا کر بیٹھ جائیں اور جو تھوڑا بہت دین کا کام ہو رہا ہے وہ بھی ختم ہو جائے۔
کیا ان سب جماعتوں کا مقصد رضائے الٰہی کا حصول ہے؟کیا یہ سب اقامتِ دین اور نفاذِ شریعت کے اعلیٰ مقصد کے لیے وجود میں آئی تھیں؟ کیا ان کے نزدیک انتخابی جمہوریت صرف ایک مصلحتی راستہ ہے اور ہرگز منزل نہیں؟ تو پھر ان تمام جماعتوں کو ایک دفعہ پھر غور کرنا چاہیے کہ کہیں ان کی منزل کھوٹی تو نہیں ہو رہی۔ ان کی سیاسی قیادتیں نہ خالصتاً مذہبی اور فقہی سوالات کا تسلی بخش جواب دینے کے قابل ہے اور نہ مغرب کی یلغار اور سیکولر ازم کے طوفان سے اٹھنے والی تشکیک کو حل کرنے کے لیے کوئی تسلی بخش گفتگو کر سکتی ہیں۔ جہالت کا ایسا راج ہو تو پھر پیپلز پارٹی، نون لیگ یا تحریکِ انصاف کے لیڈروں سے کیا گلا کہ انھیں سیاست بازی کے سوا کچھ نہیں آتا۔ کیا ان جماعتوں کے پاس بھی صرف کھوکھلی نعرہ بازی کے سوا کچھ رہ گیا ہے۔
جو افراد اس دینی اور فقہی سوالوں کا جواب چاہتے ہیں وہ شدت پسند مسلکوں کے ہاتھ چڑھ جاتے ہیں اور جو سیکولر یلغار کا سامنا کرنا چاہتے ہیں وہ معذرت خواہ اور مغرب سے متاثر علماء کی گود میں جا بیٹھتے ہیں۔ اس لیے کہ ان جماعتوں کے رہنماؤں کے پاس علم رہ گیا اور نہ تزکیہ، برداشت رہ گئی نہ حسنِ خلق۔ بس سیاست کی جادو نگری میں ایک رقص ہے جس میں سب رقصاں ہیں اور کسی کو اندازہ تک نہیں کہ وہ کتنے بڑے علمی ورثے سے جنم لینے والی تحریکوں کو تباہ کر رہے ہیں۔ ایسا تصور کر لیا گیا ہے کہ اگر ہماری جماعت ختم ہو گئی تو ملک میں کوئی اسلامی انقلاب کا نعرہ لگانے والا باقی نہ رہے گا۔
کیا اللہ نے انقلاب لانے کی ذمے داری آپ کو سونپ دی ہے۔ اس نے تو یہ ذمے داری پیغمبروں کو بھی نہیں سونپی تھی۔ انھیں بھی یہی کہا تھا کہ جو ہے کھول کھول کر بیان کر دو، ہدایت دینا ہمارا کام۔ جو سچ ہے کھول کر بیان کرو، خواہ اس میں جان چلی جائے یا آپ کی تنظیم۔۔۔ اصل سرخروئی تو آخرت میں ہو گی، ورنہ پارلیمنٹ کی سیٹیں، وزارتیں اور حکمرانی جیسے لالچ تو آپ کی منزل پہلے ہی کھوٹی کر چکے ہیں۔۔۔۔ ختم شد
نوٹ: اس موضوع پر یہ سب انتہائی درمندی سے لکھا تھا۔ میں غلط بھی ہو سکتا ہوں، لیکن جس شدت سے مجھے جماعت اسلامی کے تیار کردہ سیاسی کارکنان نے سوشل میڈیا پر ملعون قرار دیا۔ اس کا مجھے بالکل دکھ نہیں۔ میرے ذہن میں جو آیا کھول کر بتا دیا۔
اقامتِ دین‘ جمہوریت اور مذہبی جماعتوں کا المیہ (1)
اوریا مقبول جان اتوار 2 نومبر 2014

نظام کے تسلسل‘ جمہوریت کی بقاء اور انسانی آزادی کے تحفظ کی جتنی آوازیں آج پاکستان کی مذہبی جماعتوں کی جانب سے اٹھ رہی ہیں اس کا شاید ہی اندازہ آج سے بیس پچیس سال پہلے کسی نے کیا ہو۔ یہاں تک کہ سید ابو الاعلیٰ مودودی کی قائم کردہ جماعت اسلامی بھی اس ہر اول دستے کی سرخیل ہے۔
مولانا مودودی موجودہ دور میں مسلم امہ کی وہ آواز تھے جنہوں نے اپنے ارد گرد موجود جدید تہذیبی نظام کو ایک جہل مرکب جانتے ہوئے اسلام کے انقلابی پیغام کی جانب لوگوں کو بلایا تھا۔ سیکولر اخلاقیات اور جدید مغربی اصطلاحات پر قائم شدہ ریاست کے مقابلے میں ایک اسلامی ریاست کا خاکہ دیا تھا۔ اپنے اس سارے کام اور جماعت اسلامی کی جدوجہد کو اقامت دین کا نام دیا تھا۔ اس آواز نے دنیا بھر میں لوگوں کو متاثر کیا اور ہر جگہ اسلامی تحریکوں نے ایک نئی شکل میں ترتیب پانا شروع کیا۔
جماعت اسلامی سے قبل برصغیر میں سیاسی منظرنامے پر جمعیت العلمائے ہند‘ مجلس احرار اور خاکسار جیسی سیاسی مذہبی پارٹیاں اپنے مخصوص مسلکی تصور کے ساتھ سیاسی جدوجہد میں شریک تھیں۔ انگریز کے بنائے گئے جمہوری نظام حکومت‘ بقول اقبال ’’الیکشن، ممبری‘ کونسل‘ وزارت‘‘ میں حصہ لیتی تھیں اور اکثر ناکام ہو کر زمانے کے تنزل کا گلہ کرتی تھیں۔
حیرت اس بات پر تھی کہ دین کے معاملے میں اپنے مدرسے یا دارالعلوم کا مہتمم مقرر کرنے کے لیے تو کبھی مدرسے میں موجود طلبہ اساتذہ سے رائے نہیں لی جاتی تھی‘ کوئی سیکرٹ بیلٹ باکس رکھ کر یہ نہیں پوچھا جاتا تھا کہ کون اس ادارے کو بہتر طور پر چلا سکتا ہے جب کہ انتخاب کے ایسے میدان میں ایک نیک پارسا اور متقی شخص کو اتار دیا جاتا تھا جہاں ایک شریف‘ ایماندار اور نیک شخص کا ووٹ اور ایک اسمگلر‘ ڈاکو‘ شراب خانہ‘ جواء خانہ اور ناچ گھر چلانے والے کا ووٹ برابر ہوتا ہے۔ دونوں صاحب الرائے ہیں۔ دونوں کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ ریاست چلانے کے اہم ترین کام میں برابر کی رائے دے۔
مذہبی جماعتوں نے اس ’’شاندار‘‘ اور ’’مساوات انسانی‘‘ پر مبنی نظام کو وقتی مصلحتوں کے تحت اپنے اوپر جائز قرار دیا اور آج تک اس بات کا ماتم کرتی ہیں کہ چونکہ لوگوں کی اکثریت نہیں چاہتی اس لیے یہاں اللہ کا قانون نافذ نہیں ہو سکتا۔ جماعت اسلامی نے بھی اسی راستے کو وقتی مصلحت کے تحت اختیار کیا اور 1970ء کے پہلے عام انتخابات میں بدترین شکست کا سامنا کیا۔
ایسا ہی کچھ حال دیگر مذہبی جماعتوں کا تھا جن کے مسلکی پیروکار انھیں مسجد میں نماز‘ نکاح پر خطبہ اور موت پر دعائے مغفرت تک تو اپنا قائد تسلیم کرتے تھے لیکن انھوں نے جب خود کو ’’اہل الرائے‘‘ کی منصب پر سرفراز دیکھا تو فیصلہ دے دیا کہ ہمیں نظام کار حکومت چلانے کے لیے کسی متقی‘ پرہیز گار یا ایماندار شخص کی ضرورت نہیں۔
یہ ایک ایسا عوامی فیصلہ تھا جس کی گونج آج بھی سنائی دیتی ہے۔ یہاں تک کہ کوئی بھی غیر ملکی فرد‘ حکمران یا وفد آئے ہمارے تخت حکومت پر بیٹھے لوگ یہ دلیل دیتے ہیں کہ پاکستان تو ایک روشن خیال ملک ہے جس کے عوام کی اکثریت نے ہر بار مذہبی جماعتوں کو مسترد کیا ہے۔ یہ ہے وہ انجام جو اب تک کی جمہوری جدوجہد کے پھل کے طور پر ملا ہے اور اس نظام کے تسلسل میں اگلے سو سال بھی اسی بدترین انجم کی پیش گوئی کی جا سکتی ہے۔
اقامت دین یعنی دین کو قائم کرنے کا دعویٰ لے کر اٹھنے والی جماعت اسلامی کے بانی سید ابوالاعلیٰ کو اس بات کا ادراک ہو گیا تھا اور ان کی بصیرت افروز نگاہوں نے یہ تسلیم کر لیا تھا کہ اس جمہوری نظام اور انتخابی تسلسل سے دین کے غلبے کی راہ ہموار نہیں ہو سکتی۔ 1976ء کی ایک شام‘ عصر کی محفل میں کہا ’’اسلامی انقلاب برپا کرنے کے لیے انتخابات ہی واحد راستہ نہیں ہیں بلکہ اور بھی بہت سے ذرایع ہیں جن سے کام لیاجا سکتا ہے‘‘ تھوڑی دیر خاموش رہے اور پھر کہا ’’آبادی کی کثیر تعداد آپ کی ہم خیال ہو تو اسلامی نظام کا راستہ روکنا ممکن نہیں رہے گا۔
حکمران رکاوٹ بنیں تو ان پر موثر دبائو ڈال کر جھکنے پر مجبور کیا جا سکتا ہے۔ ماضی قریب میں انگریز کو عوامی رابطے Mass Contact کے ذریعے ہندوستان چھوڑنے پر مجبور کیا گیا صرف انتخابات پر انحصار نہیں کیا گیا‘‘ یہ انھوں نے ایک دفعہ نہیں بار بار کہا ‘‘(ہفت روزہ زندگی 5 اپریل 1976ء)۔ یہ تھا ایک ایسا لمحہ جو ہر صاحب علم پر کسی ایسے موقع پر آتا ہے جب اسے اس بات کا ادراک ہو جاتا ہے کہ بس میں موجود تمام مسافروں کے دلوں میں منزل بھی ایک ہے لیکن بس غلط راستے پر ڈال دی گئی ہے۔ ایسے میں وہ فوراً غلطی کا احساس کرتے ہوئے بس کا رخ موڑنے کی کوشش کرتا ہے‘ اور اگر بس کا سٹئرینگ اس کے ہاتھ میں نہ ہو تو آواز ضرور بلند کرتا ہے۔
سید مودودی نے آواز بلند کی لیکن جماعت اسلامی کی بس اسی راستے پر گامزن فراٹے بھرتی رہی۔ یہی حال باقی مذہبی جماعتوں کا بھی رہا۔ اسمبلی میں چند سیٹیں اور کبھی کبھار چند وزارتیں لیکن اس مختصر سی کامیابی کی جو قیمت ان سب نے چکائی وہ کسی المیے سے کم نہیں۔آج اس ملک میں مذہبی‘ سیاسی جمہوری پارٹی تو آپ کو مل جائے گی لیکن اقامت دین کی جدوجہد والا گروہ ملنا نا ممکن ہوتا جا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ لوگ جن کے دلوں میں صرف اور صرف اللہ کا خوف ہونا چاہیے تھا۔
تعجب ہے کہ وہ اس بات کے ڈر سے اس نظام کی مخالفت نہیں کرتے کہ کوئی طالع آزما نہ آ جائے۔ جو عمر بھر اسٹیٹس کو (Status quo) کی مخالفت کرتے رہے آج اسی کے سب سے بڑے وکیل بن بیٹھے۔ وہ دل جہاں اللہ کا خوف ہونا چاہیے تھا وہاں ’’طالع آزما‘‘ کا خوف بیٹھا ہے۔ جمہوریت اور جمہوری نظام کی بنیاد انسانی آزادی کے خمیر سے اٹھی ہے۔ لفظ انسانی آزادی اسلامی تعلیمات کے بالکل برعکس لفظ العبد‘ یعنی بندے کے مقابل تخلیق کیا گیا۔
انسانی آزادی کے تصور کے تحت ہر شخص اپنے تمام فیصلے کرنے میں مکمل طور پر آزاد اور خود مختار ہے جب کہ لفظاً العبد‘‘ یعنی بندہ اسے اللہ کی غلامی میں قید ایک فرد کو ظاہر کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تمام مذہبی جماعتیں اگر اپنی سب سے بڑی کامیابی 1973ء کے متفقہ آئین کو ہی تصور کر لیں تو اللہ کا کوئی بھی قانون اس وقت تک قابل نفاذ نہیں ہو سکتا جب تک پارلیمنٹ کی اکثریت اسے منظور نہیں کرتی۔
یہی وہ اکثریت ہے جو انسان کو اللہ کے برابر بلکہ اس سے برتر مقام پر لا کر کھڑا کر دیتی ہے۔ جب آپ یہ تصور کر لیتے ہیں کہ اصل طاقت عوام کے پاس ہے تو پھر آپ کی تمام سرگرمیوں کا مرکز رضائے الٰہی کا حصول نہیں بلکہ ووٹ کا حصول بن جاتا ہے۔ ایسے میں آپ وہ نیکیاں جو لوگ اللہ کو خوش کرنے کے لیے خاموشی سے کرتے ہیں تا کہ آخرت میں اس کا اجر پائیں‘ آپ اسے ووٹ حاصل کرنے کا ذریعہ بنا لیتے ہیں۔ آپ خدمت خلق کے کاموں میں بھی اس لیے بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں کہ آیندہ آنے والے الیکشنوں میں آپ کی پوزیشن مستحکم ہوگی۔
ووٹ حاصل کرنے کی اس دوڑ میں آپ ووٹنگ کو شورائیت کے ہم پلہ کھڑا کر دیتے ہیں۔ کیا اسلامی تاریخ‘ خلفائے راشدین کے سنہری دور یا کسی بھی اسلامی مفکر کے خیالات کے مطابق ایک عابد و زاہد‘ یا عالم و باقر کی رائے ایک اسمگلر‘ چور‘ ڈاکو‘ زانی اور قاتل کے برابر ہو سکتی ہے۔ کس قدر مضحکہ خیز ہے یہ ووٹنگ کا نظام جس میں ووٹ دینے کے لیے کم از کم ایک پابندی ضرور ہے کہ کم سے کم عمر 18 سال ہونی چاہیے۔ جب سب کی رائے برابر ہے تو پھر 15 سال کے ذہین بچے کے ووٹ پر کیوں پابندی ہے اور کیا 90 سال کا ایک فاتر العقل شخص اس قابل ہوتا ہے کہ مستند رائے دے سکے۔
کیا کسی نے یہ آواز بلند کی کہ یہ اسلام کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہے۔ اگر 18 سال کی عمر کی پابندی ہو سکتی ہے ووٹ یا رائے دینے کے لیے تو پھر تعلیم‘ کردار اور اخلاق کی اسلام پابندیاں عائد کرتا ہے۔ کسی نے آواز اٹھائی کہ ووٹ بنائے‘ یا رائے دینے کے حق کے لیے صرف بلوغت شرط نہیں ہونا چاہیے اور بھی شرطیں رکھی جا سکتی ہیں۔
(جاری ہے)

آئے عشاق گئے وعدۂ فردا لیکر
اوریا مقبول جان جمعـء 31 اکتوبر 2014

یہ جنگ تو پاکستان اور بھارت کے درمیان لڑی گئی تھی۔ ایک جانب بھارتی افواج تھیں اور ان کی تیار کردہ مکتی باہنی اور دوسری جانب پاکستان فوج اور ان کے ساتھ لڑنے والے بنگالی جو اس مملکتِ خداداد پاکستان کی بقا کی جنگ لڑ رہے تھے۔ پورا ملک دو قسم کے دانشوروں میں تقسیم ہو چکا تھا۔ ایک وہ جو گزشتہ پچیس سالوں سے اس کوشش میں مصروف تھے کہ کس طرف قومتیوں کے درمیان نفرت کو گہرا کیا جائے تا کہ وہ لوگ جو پنجابی، سندھی، بنگالی، بلوچ اور پٹھان نسلی امتیاز کو بھلا کر ایک کلمے پر متحد ہوئے تھے ایک دوسرے سے متنفر ہو جائیں۔
یہ ایک جنگ تھی اور آج بھی جاری ہے۔ اس جنگ میں آج بھی لوگ جانوں کا نذرانہ دے رہے ہیں اور اس مملکتِ خداداد پاکستان سے محبت کا حق ادا کر رہے ہیں۔ اس ملک سے محبت کا قرض ایک اور جانثار پروفیسر غلام اعظم نے اپنی جان بنگلہ دیش کے عقوبت خانے میں جانِ آفرین کے سپرد کر کے ادا کر دیا۔ تاریخ کا کیا عجب مذاق ہے کہ اس شہید پاکستان کی موت کا تمسخر بھی اڑایا جا رہا ہے۔ وارث میر ان چند لوگوں میں سے ایک تھے جو اس جنگ کے دوران ڈھاکا گئے اور واپسی پر انھوں نے اکتوبر 1971ء میں اپنے سفر نامے پر مبنی کالم لکھنا شروع کیے۔ میں یہاں اس سفر نامے کے چنداقتباسات درج کر رہا ہوں۔
’’ایک طالب علم بولا ہمارے لیڈروں کا المیہ یہ رہا ہے کہ انھوں نے مغربی پاکستان یا پنجاب کے عام مسلمانوں کا ذکر برائی کی علامت کے طور پر کیا، حالانکہ یہ برائی ملک کے دونوں حصوں کے عوام پر مسلط ہے‘‘۔۔۔’’یہ بات تسلیم کرنی پڑتی ہے کہ کم ازکم تعلیمی اور رہائشی سہولتیں حاصل کرنے کی دوڑ میں مشرقی پاکستان کے طلبہ کہیں آگے تھے بلکہ مغربی پاکستان کے طلبہ بجا طور پر شکوہ کر سکتے ہیں‘‘۔۔۔’’یہ بات عام سننے میں آئی کہ عوامی لیگ کی دہشت گردی میں ڈھاکا یونیورسٹی کے طلبہ پیش پیش تھے اور فوج کی کارروائی کے دوران ایسے طلبہ کی اکثریت سرحد عبور کر چکی ہے اور انھی طلبہ کو چند روز تربیت دینے کے بعد بھارتی فوج پاکستان سرحدوں پر پھینک دیتی ہے‘‘۔۔۔’’اس ہال میں عوامی لیگ کے حامی طالب علموں نے اپنی ہی ہم جماعت غیر بنگالی لڑکیوں پر وہ ظلم و ستم ڈھائے ہیں کہ ان کا ذکر تو درکنار تصور کرتے ہی یونیورسٹی کی ملازمت چھوڑ کر بھاگ جانے کو جی چاہتا ہے‘‘۔۔۔’’اساتذہ ہمارے منہ پر کہہ دیتے ہیں کہ ہمارا منصوبہ غیر بنگالیوں کی نسل کو ختم کرنا ہے اور آپ غیر بنگالی ہیں‘‘۔۔۔’’ مشرقی پاکستان کی نئی نسل کے ذہنوں کو متاثر کرنے میں نیشنلسٹ مسلمان اساتذہ کے علاوہ ہندو اساتذہ نے جو کردار ادا کیا وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں‘‘۔
ایک جگہ وارث میر نے پروفیسر گوبند چندر دیو کا ذکر کیا ہے جو اس نفرت کی فلسفیانہ اساس مہیا کرتا تھا۔’’ان کی سرگرمیاں بہت ہی علمی اور پر اسرار تھیں۔ وہ دوسرے تیسرے مہینے کسی نہ کسی’’ تعلیمی مصروفیت‘‘ کے بہانے بھارت کا چکر ضرو ر لگاتے تھے‘‘۔پاکستان کے دونوں حصوں میں غلط فہمیوں کو بڑھانے کی کوششوں کا سراغ لندن کے تعلیمی اور تحقیقی اداروں میں55ء اور56ء کے سالوں کے مطالعے سے لگایا جا سکتا ہے۔ سندھ یونیورسٹی کے ایک استاد نے لندن کے ایک تعلیمی ادارے کو درخواست دی کہ وہ انھیں پاکستان میں بیٹھ کر’’ ادائیگیوں کے توازن‘‘ پر تحقیقی مقالہ لکھنے کی اجازت دیں۔ جواب آیا، اجازت ہے لیکن مقالہ مغربی اور مشرقی پاکستان کی ادائیگیوں کے توازن پر لکھنا ہو گا۔ اپریل 1971ء کے آغاز میں نیویارک کی سڑکوں پر بنگلہ دیش کی حمایت میں ایک جلوس نکالا گیا۔
اس جلوس کے شرکاء میں یہیودیوں کی تعداد بہت زیادہ تھی۔ انھوں نے ایک بے تکلف یہودی دوست سے پوچھا: ’’ہمیں خفیہ طور پر ہدایت دی گئی ہے کہ بنگلہ دیش تحریک کا زیادہ سے زیادہ ساتھ دو۔‘‘ ’’اندرا گاندھی کا فرمانا تھا کہ میری رائے میں مجیب الرحمن کی ہم سے زیادہ دوستی ہے‘‘۔ چیف منسٹر بہار کا بیان تھا: نتائج کچھ بھی ہوں، میں بنگلہ دیش کے لیے اسلحہ فراہمی سے پیچھے نہیں ہٹوں گا۔‘‘۔۔۔’’اس وقت تو ہم تھرا گئے جب جلسے کے بعد ہمیں وہ سلاٹر ہاؤس دکھایا گیا جہاں غیر بنگالیوں کو ذبح کیا جاتا اور ایک بڑی میز پر لٹا کر ان کے جسم سے خون نچوڑ کر برے بڑے برتنوں میں جمع کیا جاتا۔‘‘ ’’عومی لیگ کی بغاوت کے بعد کپتیا ڈیم کے غیر ملکی انجینئروں کو قیامت صغریٰ کا سامنا کرنا پڑا۔ اس علاقے میں آباد تمام خاندانوں کے مردوں کو ان کے اہل خانہ کے سامنے گولی سے اڑا دیا گیا اور عورتیں پاگلوں کی طرح گلی کو چوں میں چیختی چلاتی اور بھاگتی پھرتی تھیں۔ محمد پور اور میر پور کے کیمپوں میں کٹے پھٹے جسموں والی عورتیں مکتی باہنی کے دہشت پسندوں کی غیر انسانی کارروائیوں کی درد ناک کہانیاں سناتی تھیں۔‘‘
وارث میر کا یہ آنکھوں دیکھا حال ہے جو ان دنوں کا ہے جب یہ جنگ مشرقی پاکستان کے کوچہ و بازار میں لڑی جا رہی تھی یہ وہی جنگ ہے جس کے جرائم کے ٹربیونل نے پروفیسر غلام اعظم کو پہلے موت کی سزا سنائی اور پھر ان کی ضعیف العمری کی وجہ سے اسے نوسے سالہ قید میں بدل دیا۔ شاید ہی کسی قوم نے اپنے ساتھ محبت کرنے والوں کے ساتھ یہ سلوک کیا ہو کہ جو پاکستان میں بسنے والے اٹھارہ کروڑ لوگوں نے ان شہیدوں کے ساتھ کیا۔ جو لوگ آج سوات ، باجوڑ، اور شمالی وزیر ستان کے آپریشن کے حق میں لکھ اور بول رہے ہیں، یہی لوگ بنگلہ دیش کے جنگلی جرائم کے ٹربینونل کے حق میں بھی دلائل دے رہے ہیں۔
کل خدانخواستہ اگر ایسا ہی ٹربیونل ان آپریشنوں کے با رے میں قائم ہوا تو کیا ان کا قلم ایسی ہی گوہر افشانیاں کرے گا۔ یقینا کرے گا۔ اس لیے کہ یہ اور ان کی قبیل کے دنیا بھر کے دانشوروں کو اس مملکتِ خداداد پاکستان سے ایک ضد ہے۔ یہ ضد اور نفرت اس لیے ہے کہ یہ ان کے بتائے گئے اور بنائے گئے اصولوں کے خلاف رنگ، نسل اور زبان کے نظریے کی موت بن کر طلوع ہوا تھا۔
اس نظریے اور اس ملک سے محبت کے شہید پروفیسر غلام اعظم کو میں نے پاکستان ٹوٹنے سے پہلے کئی بار دیکھا اور سنا۔ اپنی بنگالی طرز کی میٹھی اُردو میں ان کی گفتگو دلوں میں اتر جاتی تھی۔ یہ وہ زمانہ تھا جب پاکستان کے یہ نام نہاد دانشور یہ ثابت کرنے میں لگے ہوئے تھے کہ مشرقی پاکستان پر مغربی پاکستان کا غاصبانہ قبضہ ہے اور یہ لوگ بنگالیوں کے وسائل پر عیش کر رہے ہیں۔ یہ وہ دور تھا جب دانشوروں نے بنگالیوں کے منہ میں ایک فقرہ ڈالا تھا کہ ’’ہمیں اسلام آباد، لاہور اور کراچی کی سڑکوں سے پٹ سن کی خوشبو آتی ہے‘‘ ایسے میں پروفیسر غلام اعظم جیسی چند آوازیں ہی تھیں جو ان نفرتوں کے ماحول میں محبتوں کی خوشبو بکھیرتی تھیں۔ اس کے بعد کی کہانی خونچکاں بھی ہے اور دلگداز بھی۔ تقریباً تیس سال کا عرصہ گزرنے کے بعد کوئٹہ میں میری ان سے لاتعداد ملاقاتیں رہیں۔
وہ چند دن کے لیے وہاں آئے ہوئے تھے لیکن ان شخص کی شخصیت اور گفتگو کا سحرایسا تھا کہ ان کے پاس سے اٹھنے کو جی نہیں چاہتا تھا۔ تحریکِ پاکستان کا یہ قافلہ سالار جس نے آسام کے ریفرنڈم میں حصہ لیا، پاکستان مسلم لیگ کے ہر وال دستوں میں شامل رہا، کس فخر سے بتا رہا تھا کہ جب ڈھاکا کی سرزمین پر پاکستان نے بھارت سے کرکٹ میچ جیتا تو کسقدر جشن کا سماں تھا۔ اسٹیڈیم کے باہر لوگوں نے ستر بیل ذبح کیے تھے۔ پاکستان سے یہ محبت آج بھی بنگلہ دیش میں رچی بسی ہے۔ اسی لیے بیت المکرم میں اس شہید پاکستان کا جنازہ تاریخی ہوا۔ اس لیے کہ بنگلہ دیش کے ان دانشوروں کے جھوٹ کا خمیازہ اس طرح بری طرح بھگتا ہے کہ وہ1971ء کے بعد بدترین حالات کا شکار ہوئے۔ 1971ء سے پہلے ایک بنگالی بھی بھارت نوکری کرنے نہیں گیا تھا، اسے اپنے ملک میں ہی روزگار میسر تھا۔
آج نوے لاکھ بنگالی دربدر کی ٹھوکریں کھاتے بھارت میں غیر قانونی تارکینِ وطن ہیں۔1971ء سے پہلے ایک بنگالی عورت بھی دنیا کے بازاروں میں نہیں بکی تھی، آج دنیا بھر کے قابل اعتماد ادارے محتاط اندازے کے مطابق بتاتے ہیں کہ دس لاکھ بنگلہ دیشی عورتیں دنیا کے بازاروں میں بیچی گئیں۔ دانشوروں کے ’’محروم‘‘ مشرقی پاکستان میں اس کا تصور تک نہ تھا۔ اس وقت بیس لاکھ کے قریب بنگلہ دیشی صرف پاکستان میں رزق کی تلاش میں نوکریاں کر رہے ہیں۔ لیکن آج بھی یہ دانشور بنگلہ دیش کو جمہوریت اور ترقی کا ماڈل بنا کر پیش کرتے ہیں۔ کوئی ان محروم بنگالیوں سے سوال نہیں کرتا جنہوں نے پاکستان سے علیحدگی کی اتنی بڑی سزا بھگتی ہے کہ آج ان کا ملک بھارت کی ایک محکموم کالونی ہے جس کی حیثیت کشمیر سے بھی بدتر ہے۔
وہاں حکم چلتا ہے تو بھارت سرکار کا۔ کیا یہ سزائیں، پھانسیاں اور جیلیں بنگلہ دیش کی حکومت خود دے رہی، وہ حکومتیں جو ان سیاسی رہنماؤں کے ساتھ سیاسی اتحاد کر کے الیکشن میں حصہ لیتی رہی ہیں۔ یہ لوگ اس دھرتی کے بیٹے ہیں لیکن ان پر فرد جرم بھارت کی طرف سے عائد کی گئی ہے۔ کیا یہ دانشور اس ملک ِ پاکستان کے باقی صوبوں کو بھی ویسے ہی انجام تک پہنچانا چاہتے ہیں۔ ان کی آج تک تصورِ پاکستان سے نفرت ختم ہی نہیں ہوتی۔ انھیں ہر وہ شخص مجرم لگتا ہے جو پاکستان سے محبت کرتا ہے، مار کھاتا ہے، جان دیتا ہے اور ہر وہ شخص ہیرو ہے جو یہاں پر رہنے والوں کے دلوں میں نفرت کے بیج بوتا ہے۔ لیکن پروفیسر غلام اعظم جیسے روشن چراغ عشاق کا وہ قافلہ ہیں جو آج 43 سال بعد بھی اپنی جان کا نذارانہ دے کر ثابت کرتے ہیں کہ ابھی محبت کی لو زندہ ہے۔

خون خاک نشیناں (2)
اوریا مقبول جان اتوار 26 اکتوبر 2014

بلوچستان میں بسنے والے پنجابیوں کی اکثریت اگر مزدور پیشہ ہے‘ رزق کی تلاش میں بے گھر ہونے والے ہیں تو پھر انھیں اسقدر قابل نفرت کیوں بنا کر پیش کیا گیا کہ بندوقوں کا رخ ان ریاستی اداروں کی طرف نہیں ہوتا جن سے نفرت ہے بلکہ کسی دکان میں کام کرتے حجام‘ کسی بس میں سفر کرتے مسافر‘ یا کسی فیکٹری میں موجود مزدور کو پہچان کر نشانہ بنایا جاتا ہے۔ بلوچستان سے ہزاروں بلوچ اور پشتون پنجاب کے شہروں میں آباد ہیں۔
لاہور میں باقاعدہ پشتون خواہ ملی عوامی پارٹی کی تنظیم ہے جس کا سربراہ سلیم کاکڑ پشین کے نزدیک ایک گائوں کلی فیضو کا رہنے والا نوجوان ہے۔ کیا ایسی کسی لسانی پارٹی کا تصور بھی کوئی پنجابی کسی دوسرے صوبے خصوصاً بلوچستان میں کر سکتا ہے۔ ہر بڑے شہر میں بلوچستان سے آئے ہوئے بلوچوں نے بلوچ سجی کے نام پر کھانے پینے کی دکانیں کھولی ہوئی ہیں‘ جہاں پنجابی انتہائی شوق سے جاتے ہیں۔
حاجی فیروز خان لہڑی اور اس جیسے بلوچ ٹرانسپورٹرز اور وہاب پیر علی زئی جیسے بلوچستان کے پشتون ٹرانسپورٹرز کی کئی سو بسیں اور ٹرک روز پنجاب کے علاقوں سے گزرتے ہیں اور انھیں ایک دن کے لیے بھی کسی سیکیورٹی کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی۔ ان میں روزانہ بلوچستان کے ہزاروں بلوچ‘ بروہی اور پشتون سفر کرتے ہیں۔ روزانہ ہزاروں ٹرک چمن اور تفتان کی سرحدوں اور بلوچستان کے باغات سے روانہ ہوتے ہیں۔ رحیم یار خان سے لے کر اٹک تک پھیلی سڑکوں پر بلوچستان سے آنے والے پشتون اور بلوچ افراد کے ہوٹل دن رات چلتے ہیں۔
یہ سب اس معاشرے میں عام آدمی کی حیثیت سے ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں‘ ایک دوسرے کا دکھ بانٹتے ہیں۔ اس لیے کہ وہ جانتے ہیں کہ تلاش رزق میں گھر بار چھوڑنا کسقدر اذیت کی بات ہوتی ہے۔ میں جب بھی کسی ایسے سرراہ ہوٹل پر رکتا ہوں تو وہاں کام کرنے والے بلوچستان کے لوگوں سے مستونگ‘ کوئٹہ یا پشین کی بات چھیڑ دوں تو ان کی آنکھیں نم ہو جاتی ہیں اور دیر تک وہ وہاں کے قصے سنتے سناتے رہتے ہیں۔ ایسا ہی حال بلوچستان جا کر رزق کمانے والے ان مزدوروں کا بھی ہوگا جو بار بار اس لیے مارے جاتے ہیں کہ ان کی زبان پنجابی ہے۔
نواب اکبر خان بگٹی کی محفل میں بیٹھے ہوئے ایک دفعہ اسی طرح پنجابی استعمار پر گفتگو طول پکڑ گئی۔ کہنے لگے بلوچستان میں پولیس کی اکثریت پنجابیوں کی ہے۔ میں نے کہا آپ نے استادوں کو واپس بھیجا تھا‘ اچھا ہوتا‘ استاد رکھ لیتے اور پولیس والوں کو واپس بھیج دیتے۔ کہنے لگے‘ ان کے رویے کی وجہ سے یہاں پنجابی کے خلاف نفرت پیدا ہوتی ہے۔ میں نے کہا یہ پنجابی پولیس جو پنجاب میں پنجابیوں کے ساتھ کرتی ہے اس کا یہاں سوچ بھی نہیں سکتی۔ پنجاب میں ان کے ظلم کے قصے بیان کیے جائیں تو لوگ ہلاکو اور چنگیز خان کو بھول جائیں۔
یہ تیس برس پرانی بات ہے‘ اب تو پولیس بھی بلوچ‘ بروہی اور پشتون لوگوں پر مشتمل ہے۔ پورے بلوچستان میں سب سے زیادہ غصہ ایف سی کے خلاف پایا جاتا ہے۔ اس کی بہت سی وجوہات ہیں۔ سب سے پہلی وجہ یہ کہ اسے ایک سندھ سے تعلق رکھنے والے وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے عطاء اللہ مینگل کی حکومت سے سیاسی انتقام لینے کے لیے مرکز کے ماتحت کیا تھا۔ ورنہ اس سے پہلے یہ مقامی انتظامیہ کے ماتحت ہوتی تھی۔
کرنل امان شاہ جو پشین کے ایک معزز خاندان سے تعلق رکھتے تھے اور بلوچستان میں ہوم سیکریٹری کے عہدے پر تعینات رہے‘ بتایا کرتے تھے کہ جب وہ ژہوب ملیشیا کے کمانڈنٹ تھے تو وہاں کا مقامی تحصیلدار ان کی گشت کی ڈیوٹیاں لگایا کرتا تھا اور وہ اس پر عمل درآمد کرتے تھے لیکن عطاء اللہ مینگل کی سیاسی حکومت کو ناکام بنانے کے لیے ذوالفقار علی بھٹو کا یہ پہلا سوچا سمجھا اقدام تھا۔ نفرت کی دوسری وجہ ان کا اسمگلنگ کی روک تھام کی ڈیوٹی پر مامور ہونا۔
اسمگلنگ بلوچستان کی معیشت میں ایک اہم کردار رکھتی ہے اور اس کا پورے ملک کی معیشت میں اتنا تھوڑا حصہ ہے کہ تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ لیکن یہ وہاں کی بے روز گاری کو کم کرتی ہے۔ ایک عام آدمی چند ہزار روپے کی اشیا اسمگل کر کے اپنا رزق بنا لیتا ہے۔ یہ ان سمندری راستوں اور ایئر پورٹوں پر براہ راست ہونے والی اسمگلنگ سے انتہائی کم ہے۔ اسی اینٹی اسمگلنگ ڈیوٹی نے ایف سی کو براہ راست عام آدمی کے لیے نفرت کی علامت بنایا۔ تیسری وجہ ذوالفقار علی بھٹو ہی کے زمانے میں 1974میں ہونے والے آپریشن میں ایف سی کا کردار تھا۔ یہ سارے کا سارا آپریشن ایف سی کے بل بوتے پر کیا گیا۔
مری علاقے میں کاہان سے کٹ منڈائی اور سانگان تک‘ درہ بولان‘ مستونگ کے لک پاس سے لے کر خضدار کے وڈھ تک ہر جگہ ایف سی نے پہاڑوں پر اپنے مورچے بنائے‘ قلعے تعمیر کیے‘ چیک پوسٹیں لگائیں۔ ایک سندھ سے تعلق رکھنے والے وزیر اعظم کی ذاتی انا اور سیاسی عدم برداشت نے بلوچستان کو آگ اور خون کی وادی میں دھکیل دیا۔ یہ بلوچستان پر پہلا سب سے بڑا آپریشن تھا۔ لیکن اس میں حصہ لینے والی ایف سی میں اس وقت بھی اور آج بھی غالب اکثریت پشتونوں کی ہے۔
وہاں مختلف یونٹوں میں کوٹہ مقرر ہے کہ اس میں کس قبیلے کے پشتونوں کو بھرتی کیا جائے گا۔ لیکن اس سب کے باوجود جب بھی در و دیوار پر گالی لکھی گئی تو وہ پنجابی استعمار کے خلاف‘ انتقام میں بندوق اٹھی تو پنجابی مزدور‘ خاکروب‘ نان بائی اور حجام پر۔ بے گھر اور بے دخل بھی وہی ہوئے۔ مستونگ میں زمرد خان 1974کے آپریشن میں بلوچ اور پشتون رہنمائوں کے ساتھ شانہ بشانہ تھے‘ تمام صعوبتیں‘ تشدد اور جیلیں انھوں نے برداشت کیں۔ ان کا قلات پبلشرز تمام بلوچ رہنماؤں کی سیاسی سرگرمیوں کا جناح روڈ کوئٹہ پر مرکز تھا۔
وہ اور ان کے بھائی صدیق صاحب مستونگ کی خاک میں دفن ہوئے لیکن آج ان کا خاندان اپنا گھر بار چھوڑ کر لاہور میں ایک کرائے کے مکان میں تلاش رزق کے لیے رہ رہا ہے۔ یہی نہیں بلکہ جس پشتون‘ بلوچ یا بروہی شخص کو اپنے دشمن قبیلے سے مارے جانے کا خوف ہوتا ہے تو وہ بلوچستان سے دور پنجاب کے شہروں میں آرام اور سکون سے رہ رہا ہوتا ہے۔ کون ہے جس نے اس خوف میں پناہ کے دن پنجاب کے شہروں میں نہیں گزارے۔ کیا کوئی پنجابی یہ تصور بھی کر سکتا ہے کہ اپنے دشمنوں سے بچنے کے لیے کسی دور دراز بلوچ یا پشتون علاقے میں بے خوفی سے رہ سکے۔
بلوچستان کے معاملے پر اور بلوچوں کے حقوق پر میں گزشتہ دس سال سے لکھ رہا ہوں۔ میں نے ان کے قبائلی پس منظر میں بے شمار ڈرامے بھی تحریر کیے ہیں۔ میں ان کی جدوجہد کو گزشتہ ساٹھ سال کی زیادتیوں کا نتیجہ سمجھتا ہوں۔ لیکن کیا یہ حقیقت نہیں کہ لاپتہ افراد کا سلسلہ صرف بلوچستان تک محدود نہیں۔ پنجاب‘ خیبر پختونخوا اور سندھ کا کون سا علاقہ ہے جہاں سے لوگ نہ اٹھائے گئے اور پھر سالوں ان کا پتہ تک نہ چلا ہو۔
خیبر پختونخوا میں تقریباً تیرہ سے زیادہ علاقوں میں فوجی آپریشن ہوا۔ آپریشن کرنے والوں کو بھی معلوم ہے کہ مخالف کون ہے اور جن کے خلاف آپریشن ہو رہا ہے وہ بھی جانتے ہیں کہ مقابل پہ کون ہے۔ لیکن بلوچستان میں ایسا کیوں ہے بلکہ صرف بلوچستان میں ہی نہیں ہر صوبے میں ایسا ہے کہ گالی پنجابی کو دی جاتی ہے۔ اس سے پہلے یہ گالی مغربی پاکستان کو دی جاتی تھی۔ مشرقی پاکستان میں کوئی پنجابی کی بات نہیں کرتا تھا‘ سب مغربی پاکستان کو استعمار کا نام دیتے تھے۔
یہ صرف اس لیے کیا جاتا ہے کہ تمام قوموں کے پسے ہوئے‘ غریب‘ مفلوک الحال اور ظلم سہتے ہوئے لوگ ایک دوسرے کے دکھ جان کر متحد نہ ہو جائیں۔ یہ متحد ہو گئے تو ان چوہدریوں‘ وڈیروں اور سرداروں کا کیا بنے گا جن کی سیاست کی بنیاد ہی نفرت ہوتی ہے جو ایک نسل‘ علاقے یا قبیلے کا خوف اور نفرت پیدا کر کے اپنے قبیلے کو خوفزدہ رکھتے ہیں تا کہ وہ ان کے پروں کے نیچے متحد ہو جائیں۔
کیا یہ وہی سردار نہیں جو یکم جنوری 1876 میں خان آف قلات کے دربار میں رابرٹ سنڈیمن کے ساتھ مل گئے تھے تو خان آف قلات کے ساتھ صرف اس کے بیٹے اور دو سردار رہ گئے تھے۔ آج یہ بلوچستان کے حقوق کے علمبردار ہیں۔ خوف سے سہما بلوچ اور پشتون صدیوں سے ان کے ظلم سہتا رہا اور اب ان کے اقتدار کو طول دینے کے لیے اپنے جیسے غریب لوگوں پر بندوق تانتا ہے۔ کل اگر کوئی اور رابرٹ سنڈیمن آ گیا تو کیا یہ کردار پوری قوم کا سودا نہیں کریں گے۔
(ختم شُد)

خونِ خاک نشیناں (1)
اوریا مقبول جان جمعـء 24 اکتوبر 2014

بلوچستان میں پنجابیوں سے نفرت کا بیج کس نے بویا، کس کی سیاست نے اسے پالا پوسا اور پروان چڑھایا۔ کون لوگ تھے جنہوں نے وہاں بسنے والے لاکھوں لوگوں کے دلوں میں یہ تصور پختہ کیا کہ اس مملکتِ خداداد پاکستان میں صرف پنجابی ہی ایسی قوم ہے جو تمہارے وسائل کو لوٹ رہی ہے اور تمہارے علاقوں پر قبضہ کرنا چاہتی ہے۔1980ء کے آغاز میں جب میں بلوچستان یونیورسٹی میں ایک استاد کی حیثیت سے وہاں پہنچا تو یہ نفرت درو دیوار سے عیاں تھی۔
کوئٹہ شہر چونکہ محمود خان اچکزئی صاحب کی پختونخواہ پارٹی کے کارکنوں کے نزدیکیِ علاقوں میں سے تھا، اس لیے شہر کی ہر دیوار پر ان کی پارٹی کی طرف سے ’’پنجابی استعمار‘‘ کے خلاف بڑے بڑے نعرے درج تھے۔ افغانستان میں روس کی افواج کو داخل ہوئے ابھی صرف چند ماہ ہی ہوئے تھے۔ اسی لیے وہاں سے افغان مہاجرین کی آمد کا سلسلہ بہت کم تھا۔ ابھی صرف کچھ بڑے بڑے دولتمند افغان کوئٹہ میں آ کر آباد ہوئے تھے۔ بلوچستان کے بلوچ علاقوں میں گھومتے ہوئے مجھے کبھی کسی دیوار پر ’’پنجابی استعمار‘‘ کے خلاف نعرے نظر نہیں آئے تھے۔ البتہ لوگ جب بھی گفتگو کرتے وہ پنجابی کے خلاف ایک عداوت کا اظہار ضرور کرتے۔
لیکن بروہی علاقے میں یہ عداوت اور نفرت بہت واضح تھی۔ میں اکثر سوچتا کہ بلوچ علاقے جن میں نصیر آباد، مری، بگٹی، سبی، مکران اور لس بیلہ اور گوادر جیسے شہر موجود ہیں وہاں لوگوں میں اسقدر پنجابیوں سے نفرت نہیں پائی جاتی، جب کہ اکثر دیہی پشتون علاقوں میں بھی پنجابی سکون کے ساتھ ساتھ رہ رہے ہیں۔ پھر کوئٹہ اور چند بروہی علاقوں میں نفرت شدید کیوں ہے۔ یہ نفرت بھی زیادہ تر سیاستدانوں کی تلخ گفتگو میں ملتی یا پھر یونیورسٹی اور کالج کے طلبہ کی حد تک جو اپنے آپ کو بلوچستان کی آزادی کا ہراول دستہ سمجھتے تھے۔ روزمرہ زندگی میں، کاروبار کرتے ہوئے، پڑوس میں زندگی گزارتے ہوئے یہاں تک کہ کبھی کبھار رشتہ داری کرتے ہوئے بھی اس کا اظہار نہ ہوتا۔ لیکن جیسے ہی کسی میڈیکل کالج یا انجینئرنگ یونیورسٹی کی سیٹ کا مقابلہ ہوتا تو تین صدیوں سے رہنے والے پنجابی بھی خوفزدہ سے ہو جاتے۔
میں نے ان خوفزدہ پنجابی لڑکوں کو ان داخلوں میں انٹرویو کے وقت بار بار سہمے ہوئے دیکھا ہے۔ یہی حالت نوکریوں کے دوران انٹرویو یا امتحان میں ہوتی۔ لیکن جب یہ ملازم ہو جاتے تو ایک دوسرے میں شیر و شکر ہو جاتے۔ کوئٹہ کے رہنے والے پنجابی جو کئی پُشتوں سے وہاں رہ رہے ہیں، ان کی اکثریت، پشتو، بروہی اور کسی حد تک فارسی ایسے بولتے ہیں جیسے یہ ان کی مادری زبان ہو۔ ان کے لباس، و ضع قطع اور یہاں تک کہ کھانوں وغیرہ سے بھی آپ کو یہ احساس نہیں ہو پاتا کہ یہ پنجابی ہیں۔ اس چوبیس سالہ عرصے میں جب میں وہاں مکین تھا، میں نے کسی ایک شخص کو بھی دھوتی کرتہ یا سر پر صافہ وغیرہ پہنے نہیں دیکھا۔ ان کی شادیوں تک میں بھنگڑا نہیں بلکہ پشتون ڈانس اتنٹر اور بلوچی ڈانس چاپ یا لیوا ہوتا تھا۔ وہ مخصوص کھانے جو پنجابیوں کے لیے مخصوص ہیں، نہ بازار میں میسر تھے اور نہ ان کے گھروں میں۔ چند پنجابی تھے جو کوئلے کی کانوں کے کاروبار کی وجہ سے بلوچستان کے پشتون اور بروہی علاقوں میں صاحب حیثیت اور مال دار نظر آتے، لیکن وہ بھی اپنا یہ کاروبار کسی علاقائی سردار، ملک، وڈیرے یا ٹکری کی آشیرباد اور مدد کے بغیر نہیں کر سکتے تھے۔
پورے صوبے میں پنجابیوں کی اکثریت مزدوری کرنے والے افراد کی تھی جو پنجاب کی غربت اور بے روزگاری سے تنگ آ کر وہاں رزق کمانے گئے تھے۔ ان میں حجام، مستری، مزدور، دھوبی، ترکھان، لوہار اور خاکروب شامل تھے۔ ان میں سے کوئی ایک بھی ایسا نہ تھا جو بلوچستان کے وسائل پر قبضہ کرنے کی اہلیت اور استطاعت رکھتا ہو۔ ایک بہت بڑی تعداد ان اساتذہ کی تھی جو اپنے گھر بار چھوڑ کر ایک مشن اور لگن کے ساتھ بلوچستان کے دور دراز علاقوں میں مدتوں سے علم کی شمع روشن کیے ہوئے تھے۔ ایسے علاقے جہاں پانی بھی میسر نہ تھا، جہاں بیمار پڑ جاؤ تو دوا بھی نہ ملتی تھی، وہاں یہ استاد ایک بوریا نشین درویش کی طرح اپنے گھر بار سے دور بلوچ، بروہی اور پشتون بچوں کو پڑھا رہے ہوتے۔
آج آپ کسی پچاس ساٹھ سال کے بلوچستان کے پڑھے لکھے شہری یا دیہاتی شخص کے سامنے ان استادوں کا تذکرہ چھیڑو تو اس کی آنکھوں میں آنسو آجائیں گے، وہ بے اختیار کہہ اٹھے گا ہم نے ان کو یہاں سے بھیج کر بہت بڑی غلطی کی۔ دوسری بڑی تعداد ان پنجابی نرسوں کی آج بھی وہاں موجود ہے جو ایسی جگہوں پر جا کر لوگوں کو صحت کی سہولیات فراہم کر رہی ہوتی ہیں جہاں بلوچ وزیر اعلیٰ اور پشتون گورنر بھی شاید زندگی میں نہ گیا ہو۔ جہاں کوئی بلوچ، پشتون یا بروہی ڈاکٹر بھی عیش و عشرت کی زندگی چھوڑ کر نہیں جاتا۔ ان نرسوں کو ان علاقوں میں تنہا زندگی گزارنے کی وجہ سے جس طرح کے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے، میں اسے بیان کرنے لگ جاؤں قلم سے سیاہی کی جگہ آنسو ٹپکنے لگیں۔ کیا یہ سب لوگ بلوچستان کے وسائل اور اقتدار پر قبضہ کرنے گئے تھے۔ اس کے باوجود پنجابی کو بلوچستان میں قابل نفرت کس نے بنایا کہ پاکستان میں67 سالہ تاریخ میں شناختی کارڈ دیکھ کر لوگوں کو قتل کرنے کی رسم کا آغاز بلوچستان کے علاقے درہ بولان کے پیر غیب سے ہوا تھا۔
جن دنوں بلوچستان کے پشتون علاقوں میں محمود خان اچکزئی صاحب کی پشتونخوا پارٹی پنجابی استعمار کے خلاف نعرے لکھ رہی تھی، انھی دنوں افغان مہاجرین کی آمد کی وجہ سے بلوچ خوفزدہ تھے، اور انھوں نے دیواروں پر افغان بھگوڑوں کے خلاف نعرے لکھنے شروع کر دیے۔ لیکن یہ افغان مہاجر اسقدر محنتی تھے کہ وہ پورے بلوچستان میں ایک سستے مزدور کی حیثیت سے مقبول ہو گئے۔ بلوچ اور بروہی علاقوں کی وہ بے آب و گیاہ زمینیں ان کی محنت سے آباد ہونے لگیں۔ گوادر سے لورالائی تک کوئی باغ ایسا نہ تھا جہاں یہ آباد نہ ہوئے ہوں۔ افغانستان سے آنے والے مال کے کاروبار پر ہزارہ برادری اور پشتونوں کی اجارہ داری تھی۔ کوئٹہ شہر میں یہ گنے چنے لوگ تھے جو اس کاروبار سے وابستہ تھے۔ مہاجر ین کی آمد کا سلسلہ شروع ہوا تو چمن کی سرحد سے روزانہ ہزارہ برداری کے افراد اور پشتون کوئٹہ میں آ کر آباد ہونے لگے، یہاں تک ہزارہ برادری کا اپنا ایک علاقہ ہزارہ ٹاؤن کی حیثیت سے کوئٹہ کے مغرب میں آباد ہو گیا جب کہ مشرق میں پشتون آباد کے نام سے مہاجر پشتونوں کا شہر آباد ہو گیا۔
پشتون اور ہزارہ یہاں کے لوگوں سے کاروباری اور خاندانی رشتوں کی وجہ سے ایسے ضم ہوئے کہ یہ تصور تک ختم ہو گیا کہ کون یہاں پانچ سال سے ہے اور کون پانچ سو سال سے کسی نے ان کو وسائل پر قابض، استعماری قوت یا ظالم کی حیثیت سے پیش نہ کیا۔ یہ الگ بات کہ ہزارہ ایک اور طرح کی قبائلی اور مسلکی جنگ میں الجھ کر مارے جانے لگے۔ لیکن پنجابی کا نام آج بھی وہاں نفرت کی علامت ہے۔ مدتوں اسے سرداروں نے نفرت کی علامت بتایا۔
وہ سردار جو اپنے زیرِ سایہ لوگوں کو آگ میں پھینک دیا کرتے تھے، (چاکر چاکرانی کا قصہ سب کو یاد ہو گا)۔ ان کی زبانیں مستقل یہی زہر اگلتی رہیں کہ پنجابی بلوچستان کے وسائل کو لوٹ کر یہاں قبضہ کرنا چاہتا ہے۔ یوں انھوں نے اپنے قبیلے کے لوگوں کے دلوں میں پنجابیوں کا خوف بٹھا کر ان کو مرغی کے چوزوں کی طرح پروں میں سمیٹ لیا اور اپنی طاقت میں اضافہ کیا۔ اس لیے خواہ ایوب خان خیبر پختونخوا سے اور ذوالفقار علی بھٹو سندھ سے اقتدار میں آئے اور بلوچستان پر آرمی ایکشن کریں، گالی پنجابی کو دی جاتی رہی۔ وہ پنجابی جو نہ وہاں قبائلی طور پر منظم ہو سکتا تھا اور نہ ہی اس کی یہ روایت ایسی تھی۔ وہ تو اس دھرتی پر پنجاب کی غربت سے تنگ آ کر مزدوری کرنے گیا تھا۔ (جاری ہے۔)
نوٹ:ایک صاحب جگر کی بیماری کی وجہ سے ایک مستقل اذیت اور غربت کا شکار ہیں۔ روز مرہ کی زندگی سے رشتہ جاری رکھنا بھی مشکل ہے۔ میں موبائل نمبر لکھ رہا ہوں۔ کوئی صاحب ان کی مدد فرما کر اللہ کے ہاں اپنا اجر محفوظ کر سکتے ہیں۔

آگ گھروں تک آ پہنچی ہے
اوریا مقبول جان پير 20 اکتوبر 2014

افغانستان اور عراق پر قبضہ کرنے کے بعد امریکا اور اس کے حواری اپنے ایک خواب کی تکمیل کے لیے منصوبہ بندیوں میں لگ گئے۔ امت مسلمہ کو ایک بار پھر کسی اور بنیاد پر تقسیم کیا جائے۔ ایک ایسی تقسیم اور تفریق کہ جس آگ کے شعلے صدیوں نہ بجھائے جا سکیں۔ جنگ عظیم اول کے بعد جہاں دنیا بھر میں قومی ریاستوں کا فیشن عام کیا گیا تو مفتوحہ مسلم علاقوں میں پہلے اپنے منظور نظر افراد کو مسلم اجتماعیت کی علامت خلافت عثمانیہ کے خلاف ابھارا اور پھر زمین پر نسل اور زبان کی بنیاد پر لکیریں کھینچ کر پچاس کے قریب قومی ریاستیں وجود میں لائی گئیں۔
اقوام متحدہ میں ان سرحدوں کو مقدس اور محترم بنانے کی قسمیں کھائی گئیں۔ افغانستان اور عراق پر حملوں اور قبضے کے بعد جب یہ سرحدیں پامال ہوئیں تو جہاں ان عالمی طاقتوں کو یہ احساس ہوا کہ ان دونوں ملکوں میں ان کے خلاف لڑنے والے لوہے کے چنے ہیں تو ایک خوف یہ بھی سوار ہوا کہ ان کے مقابل جان دینے کے لیے اور ان سے لڑنے والے تو ہر مسلمان ملک سے جوق در جوق ان دونوں ملکوں میں اکٹھے ہو رہے ہیں‘ تو کہیں یہ سرحدیں بے معنی ہو کر نہ رہ جائیں۔ اس لیے بہتر ہے کہ خود ہی ایک نیا نقشہ ترتیب دے دو‘ سو سال پرانی سرحدوں کو توڑ کر نئی سرحدیں تخلیق کر دو۔
2006ء اس سلسلے کا بہت اہم سال تھا جب اس منصوبہ بندی پر کام مکمل ہوا مشہور زمانہ رینڈ کارپوریشن کی رپورٹ “Building Modrate Muslim Network” (ماڈریٹ مسلمانوں کے نیٹ ورک کی تشکیل) سامنے آئی۔ دو سو صفحات پر مشتمل اس رپورٹ میں پوری ملت اسلامیہ میں موجود گروہی تقسیم کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اور دوست دشمن کی پہچان واضح کی گئی۔ اس کے بعد ان تمام حلقوں میں یہ بات زیر بحث آنے لگی کہ امت مسلمہ کو نئے سرے سے کیسے تقسم کیا جا سکتا ہے۔ کونسی ایسی نفرتیں ہیں جنھیں ابھارا جا سکتا ہے۔
جون 2006ء میں ان نفرتوں اور اختلافات کی بنیاد پر امریکا کی افواج کے رسالے US Armed Forces Journal میں امریکی فوج کے کرنل رالف پیٹرز کا مضمون Blood Borders چھپا جس میں اس نے مشرق وسطیٰ کا نیا نقشہ مرتب کیا۔ یہ نقشہ ملت اسلامیہ کو نسلی اور مسلکی اختلاف کی بنیاد پر تقسیم کر کے بنایا گیا تھا۔ اس میں سب سے زیادہ توسیع ایران کو دی گئی جو کابل کے دروازہ تک اور عراق میں بغداد شہر تک پہنچ گیا۔
عربی بولنے والے شیعوں کی علیحدہ سلطنت‘ مکہ اور مدینہ کی مقدس ریاست، چھوٹا سا سنی عراق‘ آزاد بلوچستان اور آزاد کردستان۔ افغانستان اور پاکستان کے پشتونوں کا علیحدہ ملک اور پاکستان صرف پنجاب اور سندھ پر مشتمل۔ اس نقشے کو ہر کسی نے دیوانے کا خواب قرار دیا۔ لیکن گزشتہ چھ سالوں میں صرف اسی نقشے کو ذہن میں رکھ کر پورے علاقے میں نفرت کے سیلاب کو عام کرنے کے لیے کام کیا گیا۔ اس کے لیے کوئی زیادہ محنت درکار نہیں ہوتی۔ لوگوں میں اختلافات موجود ہوتے ہیں صرف ایک گروہ کو زبردستی اقتدار پر قابض کر کے دوسرے گروہ پر ظلم اور زیادتی کی کھلی چھٹی دے دی جاتی ہے۔ پھر اسی ظلم و زیادتی سے وہ خانہ جنگی جنم لیتی ہے کہ سالوں اس آگ پر قابو نہیں پایا جا سکتا۔
عراق وہ سرزمین ہے جہاں سے مسلمانوں میں مسلکی اختلاف کا آغاز ہوا۔ اسلام سے پہلے بھی یہ علاقہ عرب اور عجم کے جھگڑوں کا مرکز رہا ہے۔ اختلاف کی چنگاریاں موجود تھیں بس ذرا ہوا دینے کی ضرورت تھی‘ مسلکی آگ بھی اور نسلی منافرت بھی۔ ابھی تو چنگاریاں سرد بھی نہیں ہوئی تھیں۔ امریکی پشت پناہی سے صدام حسین کا ظالمانہ دور جس میں کردوں اور شیعوں پر عرصہ حیات تنگ کیا گیا۔
ایران کے ساتھ آٹھ سالہ طویل جنگ‘ پورا عراق خوف و دہشت کے سائے میں تھا۔ صدام کا تختہ الٹا تو پہلے براہ راست امریکیوں نے پورے عراق میں قتل و غارت کا بازار گرم کیا اور پھر صدام کی سنی حکومت کے مقابلے میں ایک ایسی حکومت قائم کی جو تمام گروہوں کی نمایندہ نہ تھی۔ ان کی علامتی موجودگی نے عراقی شیعوں کو مرکزی کردار مہیا کر دیا۔ ابھی صدام حسین دور کے مظالم کی یاد تازہ تھی۔
اب نوری المالکی کی حکومت کے ہاتھ میں ایک ہتھیار آ گیا تھا‘ جس شہر پر حملہ کرنا ہے‘ وہاں کی سنی اقلیت کے خلاف ایکشن کرنا ہے‘ بس القاعدہ کا نام لو اور ٹوٹ پڑو۔ پانچ سال یہ سب القاعدہ کے نام پر ہوتا رہا اور دنیا بھر کا میڈیا اسے دہشت گردی کے خلاف جنگ قرار دیتا رہا لیکن جب اس کے نتیجے میں دولت اسلامیہ عراق و شام (داعش) نے جنم لیا تو ساری دنیا کا وہی میڈیا اب یہ تجزیہ نگاری کر رہا ہے کہ نوری المالکی کی حکومت نے فلاں فلاں ظلم کیے‘ ایسی زیادتیاں کیں جس کے نتیجے میں سنی علاقوں میں ستائے ہوئے لوگ داعش کے ساتھی بن گئے اور اسے کامیابیاں ملتی چلی گئیں لیکن داعش سے ایک ایسی غلطی سرزد ہوئی جو اس ساری پلاننگ کے برعکس تھی۔ عالمی طاقتیں نقشہ اپنا مرتب کرنا چاہتی تھیں‘ لیکن انھوں نے سرحدیں خود متعین کرنا شروع کر دیں۔
اب اس لڑائی کی آگ کو تیز کرنا مقصود تھا۔ دنیا بھر کا میڈیا داعش کے حملوں کے دوران ہونے والی بربریت اور ظلم کی داستانوں سے بھر گیا۔ انتقام کی آگ میں سلگتے ہوئے داعش کے لوگوں نے سنی علاقوں میں موجود شیعہ اور یزدی اقلیتوں کو قتل کیا‘ گھر سے بے گھر کیا‘ ان کے سر قلم کیے۔ اس خون خرابے میں سب سے بدترین روپ اس عراقی فوج کا سامنے آیا جسے اربوں ڈالر لگا کر امریکا نے منظم کیا تھا۔ صرف چند گھنٹوں میں اس نے ہتھیار ڈال دیے اور اپنا جدید ترین اسلحہ بھی داعش کے ہاتھ جانے دیا۔
فوج ناکام ہوئی تو پوری مغربی دنیا اور اس کے حواریوں پر یہ خوف سوار ہوا کہ کہیں اس خانہ جنگی کے نتیجے میں کوئی ایسا گروہ برآمد نہ ہو جائے جو اتحاد پر اکٹھا کر لے۔ یہ اتحاد کتنا آسان تھا کہ ایسی تمام حکومتیں اور طاقتیں جو امریکی اور مغربی پشت پناہی سے مسلمانوں کو تقسیم کر کے حکومت کر رہی ہیں ان کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں۔ ایسے میں امریکا‘ سعودی عرب‘ خلیجی ریاستیں اور ایران متحد ہو گئے۔ زمینی فوج بھیجنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔ ٹھکانوں پر فضائی حملوں کے ساتھ ساتھ داعش کے مقابلے میں حکومتی سرپرستی میں شیعہ ملیشیا منظم کرائے گئے تا کہ شیعہ سنی لڑائی کو تیز کیا جائے۔
اس وقت عراق میں چار شیعہ ملیشیا داعش سے لڑ رہے ہیں‘ آسیاب اہل حق‘ بدر بریگیڈ‘ مہدی آرمی اور کتیب حزب اللہ۔ اس ساری لڑائی میں وہ ایلیٹ آرمی خاموش تماشائی ہے۔ ادھر داعش کے ہاتھ میں آنے والے تیل کے کنوئوں کی روزانہ آمدنی تیس لاکھ ڈالر ہے۔ یہ تیل ویسے ہی غیر قانونی طور پر فروخت ہوتا ہے جیسے ایران گزشتہ تیس سالوں میں پابندیوں کے باوجود تیل فروخت کر رہا ہے۔ داعش سنی عقیدے کا استعمال کر رہی ہے اور یہ چاروں شیعہ نظریات پر منظم ہیں۔
29 جون 2014ء کو قائم ہونے والی دولت اسلامیہ کے مظالم اور دہشت گزشتہ تین مہینوں سے پریس کی زینت ہیں لیکن چند دن پہلے ایمنسٹی انٹرنیشنل نے شیعہ ملیشیائوں کی رپورٹ بھی شایع کی ہے۔ یہ رپورٹ بھی اتنی ہی خوفناک ہے۔ بغداد سمارا اور کرکوک کے علاقے میں سنی اقلیت ویسے ہی گھر چھوڑ کر بھاگ رہی ہے جیسے داعش کے علاقوں سے شیعہ اقلیت۔ اس رپورٹ کا نام Absolute Impunity, Militia Rule in Iraq ہے۔ اس میں قتل‘ گھر کو جلانا‘ لوگوں کو بے گھر کرنا اور اغوا برائے تاوان کے قصے درج ہیں۔ جس نے دونوں جانب کے مظالم کی تفصیلات درج نہیں کیں کہ اس سے اختلاف کو ہوا ملتی ہے اور آگ مزید بھڑک سکتی ہے۔
دونوں جانب صرف قتل و غارت ہے‘ خونریزی ہے اور بدترین تشدد میں آگ اور خون کا کھیل ہے لیکن اس خوف سے یہ سب لکھ رہا ہوں کہ یہ آگ صرف عراق تک محدود نہیں رہنے والی۔ یہ آگ پوری امت کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔ کوئی گلی اور محلہ اس سے محفوظ نہیں رہے گا۔ یہ آگ امریکی غلامی میں لڑی جانے والی دہشت گردی کی جنگ سے زیادہ خوفناک ہو گی۔ نہ حکومتوں کو اس کا ہوش ہے اور نہ علمائے امت کو۔ حکومتیں امریکی غلامی میں ڈوبی ہیں اور علماء اپنے عماموں کے پیج سنبھالے ہوئے ہیں۔ انھیں اندازہ تک نہیں کہ آگ ان کے دروازوں کے باہر آ پہنچی ہے جس میں سب جل کر خاکستر ہو جائے گا۔ خاک و خون میں لتھڑے عمامے اور جلے ہوئے گھر۔

دو میدانِ جنگ
اوریا مقبول جان جمعـء 17 اکتوبر 2014

تینوں ابراہیمی مذاہب کے ماننے والے اس بات پر ایمان رکھتے ہیں کہ اس دنیا کے خاتمے سے پہلے ایک انتہائی خونریز جنگ برپا ہو گی اور اس کے بعد اللہ ایک ایسی حکومت قائم کر دے گا جو دنیا کو عدل و انصاف سے بھر دے گی۔ تینوں اس بات پر بھی یقین رکھتے ہیں کہ اس جنگ میں فتح کا سہرا کسی مسیحا کے ماتھے پر سجے گا۔ عیسائی حضرت عیسیٰ کے لوٹ آنے پر ذرا مختلف انداز میں یقین رکھتے ہیں جب کہ مسلمانوں کے ہاں ایک امیر، خلیفہ یا رہنما یا امام کی صورت میں مہدی کا ظہور ہے جو مسیحِ دّجال سے جنگ کرے گا۔ دّجال کا مطلب جھوٹا ہوتا ہے اور مسلمان احادیث کی روشنی میں یہ تصور بھی رکھتے ہیں کہ اس جھوٹے مسیح یعنی دّجال سے آخری جنگ کے لیے اللہ حضرت عیسیٰ کو دوبارہ دنیا میں نازل فرمائے گا۔
جب کہ یہودیوں کے مسیحا کا تصور ان کی روایات کے مطابق ایک ایسے شخص کا ہے جسے اللہ دوبارہ اس دنیا میں یہودی عالمی سلطنت کے قیام کے لیے بھیجے گا۔ تینوں مذاہب ایک خوفناک جنگ کی تیاریوں میں مدتوں سے مصروف ہیں۔ لیکن ان میں دو مذاہب عیسایت اور یہودیت کے نزدیک میدانِ جنگ، بیت المقدس، یروشلم یا بیت اللحم اور اس کے گرد و نواح کے علاقے ہیں۔ جب کہ مسلمانوں کے نزدیک میدانِ جنگ دو ہیں۔ ایک یروشلم کے اردگرد شام، لبنان، اردن اور عراق جب کہ دوسرا میدانِ جنگ ہندوستان ہے۔ یہ دونوں ایک ہی وقت میں ظہور پذیر ہو گے۔ رسول اللہ صلی علیہ و سلم نے فرمایا ’’تم میں سے ایک لشکر ضرور ہند پر حملہ کرے گا۔
جس کو اللہ فتح دے گا۔ یہ لشکر ہند کے حکمرانوں کو زنجیروں میں جکڑ کر لائے گا۔ اللہ اس لشکر کے گناہ معاف کر دے گا۔ پھر جب یہ لوگ واپس لوٹیں گے تو شام میں عیسیٰ ابنِ مریم کو پائیں گے۔ (الفتن۔ نعیم بن حماد)۔ یہ حدیث دونوں جنگوں کا ایک ہی زمانے اور وقت میں ہونے کا پتہ دیتی ہے۔ ان دونوں جنگوں کے میدان میں لڑنے والوں کے لیے بشارتیں بھی کتبِ احادیث میں پائی جاتی ہیں۔ ’’حضرت ثوبانؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’میری امت کی دو جماعتوں کو اللہ نے جہنم کی آگ سے محفوظ فرمایا ہے‘‘ ایک وہ جماعت جو ہندوستان سے جنگ کرے گی اور دوسری وہ جماعت جو عیسیٰ ابنِ مریم کے ساتھ ہو گی۔ (نسائی۔ کتاب الجہاد، مسندِ احمد)۔
اس مقدس جنگ کا سب سے پہلے آغاز پوپ اربن دوم نے25 نومبر1095ء کو کونسل آف کلیر مونٹ میں اپنی تقریر سے کیا۔ اس نے انتہائی جو شیلے انداز میں اعلان کیا کہ مسلمان ایک وحشی قوم ہے اور ان کو قتل کرنا ایک مقدس مذہبی فریضہ ہے۔ یروشلم کو کافروں سے آزاد کرانا اور ایشائے کوچک کو اس ’’گند‘‘ سے صاف کرنا ہم پر فرض ہے۔ کس قدر شرم کی بات ہے کہ یسوع کا مزار مسلمانوں کے قبضے میں ہے‘‘۔ اس کے صرف چھ ماہ بعد1096ء کے موسمِ بہار میں ساٹھ ہزار فوجیوں کے پانچ لشکر مسلمانوں سے جنگ کے لیے روانہ ہو گئے۔ ایسے لگتا تھا پورا یورپ مسلمانوں سے جنگ کے لیے نکل کھڑا ہوا ہے۔
اس کے بعد کی کئی صدیاں کشت و خون کی صدیاں ہیں۔ لیکن پوپ اربن کی تقریر کا ایک اور حصہ بہت عجیب ہے۔ اس نے یورپ کے تمام عیسائیوں کو پکارتے ہوئے کہا کہ ’’اگر باہر کا کوئی شخص تمہارے کسی رشتے دار کو قتل کر دے تو کیا تم اس کا انتقام نہیں لو گے۔ کیا تم اپنے خداوند، اپنے مصلوب یسوع کا انتقام نہیں لو گے‘‘۔ اس کی نیت یہودیوں پر حملہ کرنے کی نہیں تھی، لیکن اس سے پہلے کہ یورپ کے مسلمانوں کے لیے لشکر ترتیب دیتے وہ اپنے اندر بسنے والے یہودیوں پر ٹوٹ پڑے۔ صلیبی جنگجوؤں نے یہودیوں کا قتلِ عام کیا، سینا گو گوں کو مسمار کیا، تورات کے نسخوں کو جلایا اور انھیں ڈرایا کہ یا تو عیسایت قبول کر لو،، یا پھر موت قبول کر لو۔ ایسے میں پوپ کے کہنے پر بیشتر بشپوں نے یہودیوں کو گرجا گھروں میں پناہ دی۔ لیکن یہ حربے کچھ دیر تک ہی کامیاب رہے، پھر صلیبی جنگوں کے خاتمے پر پوپ نے سولہویں صدی میں یورپ میں یہودیوں کی نسل کشی کی حمایت کر دی۔
اس کے بعد کی تین چار صدیاں ایسی گزریں کہ یہودی کبھی ایک شہر سے نکالے جاتے اور کبھی دوسرے سے۔ ہر عیسائی اپنی تقریروں اور تحریروں میں اسپین میں ازابیلا اور فرڈینیڈ کی جنگ کا حوالہ دیتا۔ وہ اس معرکے کو عیسائی غلبے کی علامت سمجھتے، جس کے نتیجے میں اسپین کو مسلمانوں اور یہودیوں، دونوں سے پاک کر دیا گیا تھا۔ لیکن یورپ میں چرچ کے اقتدار نے جو مظالم عام آدمی پر ڈھائے، اور جس کے طرح ان کے مذہبی رہنماؤں نے اپنے ہی لوگوں کو کافر کہہ کر زندہ آگ میں جلایا، اس سے ایک ایسی نفرت پھوٹی جس نے مسیحی چرچ کے اقتدار کو زمین بوس کر دیا۔ انقلاب فرانس کے بعد ان کا اقتدار گرجا گھروں تک محدود ہو گیا۔ ایسے میں یہودی اپنی اس مقدس جنگ کو یاد کرنے لگے جو انھیں ارضِ مقدسہ واپس دلائے گی اور وہاں ان کی حضرت داؤد علیہ السلام اور حضرت سلیمان علیہ السلام جیسی عالمی حکومت قائم ہو گی۔ صہیونیت ایک نظریہ بن کر ابھری اور اس نے جلد ہی پوری یہودی قوم کو جذباتی طور پر اپنا ہمنوا بنا لیا۔
باقی اقوام کو یہودی دانشوروں اور مفکروں نے سیکولر نظریات کی بنیاد پر رنگ، نسل، زبان اور علاقے میں ایسا الجھایا کہ وہ جو کبھی مسلمانوں اور یہودیوں کو قتل کر کے ان سے اس دنیا کو پاک صاف کرنے کا دعویٰ لے کر اٹھے تھے آپس میں اس طرح لڑے کہ جنگ عظیم اوّل اور جنگ عظیم دوم میں کروڑوں لوگوں کا خون بہا کر تھک ہار کر بیٹھ گئے۔ اس دوران معیشت اور میڈیا پر قابض یہودیوں کو ارض مقدس کی جنگ یاد آئی اور وہ آہستہ آہستہ وہاں جا کر آباد ہونے لگے: ان کا یورپ کے مسیحیوں سے ایسا گٹھ جوڑ ہوا کہ سب نے مل کر انھیں ایک ریاست تحفے میں دے دی۔ لیکن اس کے ساتھ ہی انھوں نے مسلمانوں کی سرزمین پر ایسی لکیریں بھی کھنچیں کہ وہ 51 ریاستوں میں تقسیم کر دیے گئے۔ ان ریاستوں کی سرحدوں کو محترم اور مقدس بنا دیا گیا تا کہ یہ کبھی ایک ملت کی صورت اکٹھے نہ ہو سکیں۔
تینوں مذاہب آج بھی اس آخری جنگ کا انتظار کر رہے ہیں اور تیاری بھی۔ تقریباً 919 سال قبل جس آخری جنگ کی طرف پیش قدمی کا اعلان پوپ اربن نے کیا تھا اور 118 سال قبل جس عالمی ریاست کے قیام کے لیے ہزال نے دنیا بھر کے یہودیوں کو اکٹھا کر کے مشہور عالم پروٹوکولز تحریر کیے تھے، اب یوں لگتا ہے اپنے آخری مراحل میں داخل ہو چکی ہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے اس دوران مسلمانوں کے مرکز کا تذکرہ بھی کیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا جنگ عظیم میں مسلمانوں کا خیمہ شام کے شہروں میں سب سے اچھے شہر دمشق کے قریب ’’الغوطہ‘‘ کے مقام پر ہو گا (سننن ابوداؤد، مستدرک)۔ اس ہیڈ کوارٹر پر فاتح مسلمان خراسان سے آئیں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’جب کالے جھنڈے مشرق سے نکلیں گے تو ان کو کوئی چیز نہیں روک سکے گی حتیٰ کہ وہ ایلیا (بیت المقدس میں نصب کر دیے جائے گے (مسند احمد)۔ یہ جنگ تو برپا ہو چکی، اور اس کے لیے دنیا بھر سے لوگ وہاں پہنچ رہے ہیں۔
لیکن سب حیران ہیں کہ ایسے وقت میں جب افغانستان اور پاکستان کے وہ علاقے جو خراسان کہلاتے ہیں، وہاں سے لوگ اس آخری جنگ کے لیے روانہ ہو رہے ہیں۔ ادھر پورا یورپ اور امریکا ان کے خلاف متحد ہو رہا ہے اور بقول بارک اوباما، اس جنگ میں فتح بہت مشکل ہے، ہو سکتا ہے ہمیں تیس سال لگ جائیں۔ ایسے ماحول میں بھارت پاکستان کی سرحدوں پر حملہ آور کیوں ہے۔ یہ ہے وہ دوسرا میدانِ جنگ جس کی ہادی برحق صلی اللہ علیہ و سلم نے خبر دی ہے۔ نریندر مودی کی اٹھان بالکل ویسی ہی ہے جیسے جرمنی میں ہٹلر کی ہوئی تھی۔ جمہوری طور پر منتخب، نسلی تعصب کا علمبردار اور پڑوسی اقوام کو ختم کرنے کا عزم لیے ہوئے۔ ہٹلر کے اس جنون کی قیمت جرمنی کو بھگتنا پڑی تھی اور نریندر مودی کے جنون کی قیمت بھارت بھگتے گا۔ اس لیے کہ میرا ایمان ہے اور میرے ایمان کی وجہ ہے کہ اس جنگ میں فتح کی بشارت میرے آقا صلی اللہ علیہ و سلم نے دی ہے۔ مجھے حیرت ان لوگوں پر ہوتی ہے جو دیکھ رہے ہیں کہ دنیا کی تمام اقوام ان سے لڑنے کے لیے پر تول رہی ہیں، ان پر حملہ آور بھی ہیں، اور یہ سب وہ اپنی الہامی کتابوں کی رواتیوں پر یقین کر کے ایک ہزار سال سے کر رہی ہیں۔ ایسے میں ہم عزت کی زندگی نہیں ذلت کی موت چاہتے ہیں۔
یہ جنگ کون جیتے گا
اوریا مقبول جان اتوار 12 اکتوبر 2014
شیئر
ٹویٹ
تبصرے
مزید شیئر

theharferaz@yahoo.com
یروشلم پر یہ قیامت خیز دن تھا۔ 28 اگست 70ء‘ جب یہودی آخری بار رومنوں سے آزادی حاصل کرنے کے لیے لڑے تھے۔ ان کی یہ لڑائی 62ء میں شروع ہوئی‘ جب شہنشاہ روم نے فلسطین کے علاقے میں نااہل اور رشوت خور گورنر لگانا شروع کیے۔ ایلی بی نس بحری قزاقوں سے بھتہ وصول کرتا۔ اس کے بعد آنے والا کیسئس فلورس بھی اسی روش پر قائم رہا۔ ان کی مال و دولت کی ہوس اسقدر بڑھی کہ انھوں نے یہودیوں کے ہیکل کے خزانے سے بھی رقم طلب کرلی۔
اگلے دن یہودی مسلح ہو کر شہر میں نکل آئے اور رومن سپاہیوں سے گتھم گتھا ہوگئے۔ یوں لگتا تھا یہودیوں نے خود کشی کا ارادہ کر لیا ہے۔ وہ سمجھتے تھے کہ اب رومن اپنی عیاشی اور بدعنوانی کی وجہ سے کمزور ہو چکے ہیں اس لیے مقدس یروشلم پر آزاد حکومت کا خواب پورا کیا جا سکتا ہے۔ لیکن 70ء کے آغاز میں جب ولیسپا سیٹن شہنشاہ بنا تو اس نے بیٹے طیطس کو یہودیوں سے لڑائی کے لیے بھیجا‘ جس نے فروری میں شہر کا محاصرہ کر لیا۔ وہ بڑی بڑی منجنیقوں سے ہیکل کے صحن میں پتھر پھینکتے۔ آخر کار 28 اگست کو وہ ہیکل کے صحن میں داخل ہوگئے۔
اس وقت وہاں چھ ہزار یہودی موجود تھے۔ ان میں سے ہر ایک بہادری سے جان دینے کے لیے آگے بڑھ رہا تھا۔ عام یہودی باہر‘ شرفا اندرونی صحن اور مذہبی رہنما ’’ربائی‘‘ مخصوص حصے میں لڑتے لڑتے جان دیتے رہے۔ رومن سپاہیوں نے ہیکل کو آگ لگا دی۔ بچے کھچے یہودی اس آگ کی لپیٹ میں آ گئے یا رومن سپاہیوں کی تلواروں سے کٹ مرے۔ پھر شہر بھر کے یہودیوں نے ہتھیار ڈال دیے۔ اس کے بعد یہودی قوم پوری دنیا میں بکھر گئی۔ دنیا کا کوئی براعظم ایسا نہیں جہاں یہ لوگ جا کر آباد نہ ہوئے ہوں۔ لیکن یورپ میں مسیحی حکومتوں میں ان پر عرصۂ حیات جس طرح تنگ کیا گیا کہ اس کی مثال نہیں ملتی۔
دو ہزار سال پر محیط یہ دربدری‘ تشدد‘ قتل اور انسانیت سوز سلوک سے عبارت ہے۔ لیکن ان دو ہزار سالوں میں ہر یہودی کے دل میں اس آرزو کا چراغ جلتا رہا کہ ایک دن ہم نے اپنی ارض مقدس میں واپس جانا ہے اور قیامت کے آنے سے پہلے وہاں اپنے مسیحا کا انتظار کرنا ہے جو ہماری ویسی ہی حکومت دوبارہ قائم کریگا جیسی حضرت سلیمان ؑ کے دور میں تھی۔ ہمیں دیگر تمام مذاہب کے افراد سے جنگ کرنا ہے اور اپنے دین کو غالب کر کے ایک عالمی ریاست قائم کرنا ہے۔
دنیا کے جس شہر میں بھی یہ یہودی قیام پذیر ہوئے‘ اپنی کاروباری فطرت اور محنت کی وجہ سے وہاں کے صاحب حیثیت لوگوں میں شمار ہونے لگے۔ امریکا تو ان کے لیے ایک نعمت کے طور پر ثابت ہوا۔ انھیں نہ کوئی وہاں یورپ کی طرح نفرت کی نگاہ سے دیکھتا تھا اور نہ ہی انھیں سیاست اور معیشت پر چھا جانے میں کوئی رکاوٹ تھی۔ پوری دنیا میں جب رنگ‘ نسل‘ زبان اور علاقے کی بنیاد پر قومی ریاستیں وجود میں آنے لگیں تو ہزاروں سال ساتھ رہنے کے باوجود‘ ویسا رنگ‘ ویسی زبان اور اسی علاقے میں نسل در نسل رہنے والے یہ یہودی وہاں کے لوگوں کے لیے اجنبی تھے۔
وہاں رہتے رہتے ان کی اکثریت سیکولر ہوگئی تھی۔ لیکن قومیت کے نعرے نے اسقدر زور پکڑا کہ 1882ء میں زار روس کے حکم پر ان کی پہلی نسل کُشی ہوئی۔ اس دوران لیون پینسکر نے اپنی مشہور کتاب autoemencipation لکھی۔ یہ خود بھی ایک سیکولر یہودی تھا لیکن نسل کشی کے بعد اس نے اس نظریے کو فروغ دیا کہ باوقار زندگی گزارنے کے لیے یہودی قومیت کی بنیاد پر وطن حاصل کرنا ضروری ہے۔ اس نے کہا ’’زندہ لوگ ہمیں مردہ سمجھتے ہیں اور مقامی ہمیں پردیسی‘ امیر ہمیں بھکاری کہتے ہیں اور غریب ہمیں استحصال کرنے والے لکھ پتی سمجھتے ہیں جب کہ محب وطن ہمیں بے وطن کہتے ہیں‘‘۔
یہی نظریات تھے جنہوں نے سیکولر اور آزاد خیال یہودیوں کو بھی ایک لڑی میں پرو دیا۔ ہر کوئی ان بشارتوں کے بارے میں سوچنے لگا کہ جب یروشلم میں ان کے مسیحا کی حکومت قائم ہو گی۔ اسی سال یعنی 1882ء میں یعنی ٹھیک ایک ہزار آٹھ سو بارہ سال بعد بہت سے یہودی اپنا کاروبار سمیٹ کر فلسطین میں جا کر آباد ہوگئے۔
یہ پہلے یہودی تھے جو وہاں اس تصور کے ساتھ گئے کہ ہم نے ایک وطن حاصل کرنا ہے اور وہی وطن جس سے ہم دو ہزار سال پہلے در بدر ہوئے تھے اس کے ساتھ ساتھ وہ ایک عقیدہ بھی لے کر گئے تھے کہ ہم نے اس یروشلم میں ایک بہت بڑی جنگ لڑنا ہے اور ایک ایسی ریاست قائم کرنا ہے جو حضرت داؤد اور حضرت سلیمان جیسی عالمی حیثیت رکھتی ہو گی۔ جسے وہ ’’Ruling State of the World‘‘ دنیا پر حاکم ریاست کا نام دیتے ہیں۔ یہیں ان کا مسیحا آئے گا اور ان کی الہامی کتابوں کے مطابق ان سے کیا گیا وعدہ سچا ہو گا اور وہ دنیا کی ایک حاکم قوم بن جائیں گے۔
1882ء میں چند ہزار یہودیوں کی یروشلم اور ارض مقدسہ میں آباد کاری کے بعد کی تاریخ پوری دنیا میں آباد یہودیوں کو ایک منزل اور ایک سرزمین پر جمع کرنے کی تاریخ ہے۔ ہر کوئی اپنی اپنی کاروباری دنیا میں مگن تھا۔ انھوں نے وہاں اپنے گھر بسا لیے تھے۔ ان کی پندرہ بیس نسلیں ان ملکوں میں زندگی گزار چکی تھیں۔ جنگ عظیم دوم کے بعد تو وہ ان ملکوں میں بہت مستحکم ہو چکے تھے۔ انھوں نے ہولوکوسٹ کی خوفناک کہانیاں سنا کر یورپ میں ایسے سخت قوانین تک بنوا لیے تھے کہ یہودیوں کے خلاف بات کرنا سنگین جرم ہو چکا تھا۔ وہ کاروبار اور میڈیا کے تو بلا شرکت غیرے مالک بن چکے تھے۔
حکومتیں اور سیاست ان کی انگلیوں پر ناچتی تھی اور آج بھی وہ اس کا رخ متعین کرتے ہیں لیکن اس سب کے باوجود 1882ء کے بعد سے وہ فلسطین کی جانب چلتے رہے جسے وہ ’’ایلیاہ‘‘ کہتے ہیں‘ یعنی اللہ کے راستے کا سفر۔ یہ سب اپنی پر آسائش رہائش گاہیں اور شاندار کاروبار چھوڑ کر ایک ایسے خطے میں جا کر آباد ہونے لگے جو پسماندہ تھا‘ ریگستان تھا‘ ان کے لیے مکمل طور پر اجنبی ہو چکا تھا۔ جہاں ہر وقت موت کے سائے سروں پر منڈلاتے تھے۔ جس قوم پرست سیاست کا بیج بو کر انھوں نے امت مسلمہ کو تقسیم کیا تھا ’ وہی عرب نیشنلزم انھیں فلسطین کی سرزمین پر برداشت نہیں کر رہا تھا۔ اس کے باوجود وہ پیرس‘ لندن‘ نیو یارک‘ واشنگٹن اور ایسے خوبصورت علاقوں سے اس بے آب و گیاہ سرزمین پر جا کر آباد ہونے لگے اور آج بھی ان کی اس مقدس سرزمین کی جانب ہجرت جاری ہے۔
14 مئی 1948ء کو تل ابیب میوزیم میں جب ڈیوڈ بن گوریان نے اسرائیلی ریاست کا اعلان کیا اسے اس وقت ایک شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔ یورپ بھی ان کا کوئی خیرخواہ نہ تھا‘ بلکہ جنگ عظیم دوم کے بعد ایک بار پھر درپردہ یہودی دشمنی ابھر آئی تھی۔ 29 جون 1946ء کو برطانیہ نے یہودی ایجنسی پر چھاپہ مار کر 2718 صہیونیوں کو گرفتار کر لیا تھا تا کہ فلسطین میں یہودی زیادہ طاقتور نہ ہو جائیں۔ ایسے میں یہودیوں نے اپنا دوسرا چہرا‘ امریکا استعمال کیا جس نے اسرائیل کی ریاست کے قیام کی راہ ہموار کی اور 1948ء کی جنگ میں مدد دی۔ عرب قوم پرستی کو ذلت آمیز شکست ہوئی اور اسرائیل مستحکم ہو گیا۔
یہ ملک کیوں بنایا گیا۔ یہ لوگ وہاں کیوں اپنی شاندار رہائش گاہیں اور کاروبار چھوڑ کر آباد ہو رہے ہیں۔ کیا وہ وہاں ایک پکنک منانے آئے ہیں۔ کیا اسرائیل ایک صحت افزا مقام ہے۔ وہاں آنے والے بچے بچے کو اس کا علم ہے کہ وہ ایک عالمی صہیونی ریاست کے قیام کی جنگ لڑنے کے لیے یہاں آیا ہے۔ ان کے آبائو اجداد کو بھی اس کا علم تھا۔ لیکن کیا ہمیں اس بات کا تھوڑا سا بھی ادراک ہے۔ کیا ہم جانتے ہیں کہ یہ جنگ مصر‘ ایران‘ عراق‘ سعودی عرب اور پاکستان سے نہیں مسلمانوں سے لڑی جائے گی۔ یہ کسی قوم ملک یا نسل کے ساتھ جنگ نہ ہو گی۔ پوری مسلم امہ کے ساتھ برپا ہونے والی جنگ ہو گی۔ اس کا ادراک اور تیاری دوسری جانب تو موجود ہے۔
باراک اوبامہ جو مصر کے جامعہ الازہر میں آیا تو اس نے کسی ایران‘ پاکستان یا مصر کا ذکر نہ کیا بلکہ مسلم امہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ تم اپنے اندر سے دہشت گردی کا خاتمہ کرو۔ ہم سمجھیں یا نہ سمجھیں وہ ہمیں ایک امت کی طرح اپنا ہدف جانتے ہیں۔ کیا ہمیں احساس ہے‘ ہمیں اس کا تھوڑا سا بھی ادراک ہے۔ ہم جن کو سید الانبیاء فتح کی بشارت دے چکے ’’ایک زمانہ میں تم یہودیوں سے جنگ کرو گے اور تم یہودیوں پر غلبہ پائو گے۔ یہودی جس پتھر کے پیچھے چھپے گا وہ پکارے گا یہ دیکھو اے مسلم‘ یہ یہودی میرے پیچھے چھپا ہے دوڑو اور اسے قتل کر دو‘‘ (متفق علیہ) وہ پتھر مسلم کہہ کر پکارے گا عراق‘ مصری‘ شامی‘ پاکستانی یا لبنانی نہیں۔ یہ جنگ ایک مسلم امہ جیتے گی رنگوں‘ نسلوں اور زبانوں میں بٹی ہوئی قوم نہیں۔

حکومت، علمائے کرام، سول سوسائٹی، میڈیا اور عدم برداشت
اوریا مقبول جان جمعـء 14 نومبر 2014

صرف مغرب کے سنجیدہ لکھنے والے ہی نہیں بلکہ وہ لوگ جو ایک روشن خیال، مرنجان مرنج اور موجودہ مغربی تہذیب سے متاثر اسلام کو مسلمانوں کے لیے ترقی کا راستہ تصور کرتے ہیں، اس بات پرحیران ہیں موجودہ دور میں بہت سے مفکرین کی محبوب’’ اسلامی جمہوریت‘‘ کے ماڈل ترکی سے ایک ہزار کے قریب افراد جہاد کرنے کے لیے شام میں نئی قائم شدہ خلافت کے پاس جا پہنچے ہیں۔ یہ تمام کے تمام مرد ہیں اور ان میں وکیل، تاجر، یونیورسٹیوں کے طلبہ، اور سرکاری محکموں اور نجی کمپنیوں کے ملازمین شامل ہیں۔ ان میں سے اکثریت شادی شدہ افراد کی ہے۔ ان کی اوسط تعلیم عام ترکی کے عوام سے کہیں زیادہ ہے، جب کہ ان کی اوسط عمر27سال ہے۔
ترکی جس میں جمہوری نظام کا تسلسل 1951سے چلا آرہا ہے اور یہ سمجھا جا رہا تھا اب یہاں شدت پسندی کا خاتمہ ہو چکا، کیونکہ دنیا میں ماہرین نے یہ تاثر عام کیا ہے کہ جہاں جمہوریت یا پھر ’’ اسلام جمہوریت‘‘ ہو وہاں شدت پسندی نہیں پنپ سکتی۔ گذشتہ پندرہ سالوں سے جاری دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ترکی کے عوام میں سے کسی گروہ نے القاعدہ یا کسی جہادی گروہ کا ساتھ نہیں دیا۔ اس کے بارے ایک یہ بھی دلیل دی جاتی ہے کہ چونکہ وہاں 2002 سے ایک روشن خیال اسلام کی نمایندہ پارٹی بر سرِ اقتدار ہے، جو اپنے بیانات اور عالمی سطح پر اپنے موقف کی وجہ سے مسلمانوں کے اندر پیدا ہونے والے غم و غصہ کو کم کر دیتی ہے۔
برما کے مسلمان ہو ں یا اسرائیل جارحیت، ترکی کا موقف ایسا ہوتا ہے کہ ترکی کے مسلمان مطمئن ہو جاتے ہیں اور وہاں سے کوئی شدت پسندی کی طرف مائل نہیں ہوتا۔ اس سب کی ایک بہت بڑی وجہ یہ بھی تصور کی جاتی ہے کہ ترکی میں ایک مضبوط سول سوسائٹی موجود ہے۔ یہ سول سوسائٹی بھی ایک عجیب مخلوق ہے۔ یہ جن مسلمان ملکوں میں موجود ہے وہاں اس کو ایک خاص ایجنڈے کے ساتھ منظم کیا گیا ہے۔ دنیا بھر کے ممالک انھیں مختلف پراجیکٹس کے نام پر رقوم فراہم کرتے ہیں۔ اس سول سائٹی کا اصل کام ان موضوعات پر آواز اٹھانا ہوتا ہے ۔
جن سے اسلام یا مسلمانوں کی تضحیک کا پہلو نکلتا ہو اور ان سیکولر قوم پرست تنظیموں کی جماعت سڑکوں پر نکلنا ہوتا ہے جو معاشرے میں انتشار پیدا کر کے لوگوں کو اسلام نہیں بلکہ قومیت کے نام پر اکٹھا کریں۔ ترکی جیسی حکومت کا المیہ یہ ہوتا ہے کہ وہ اس سول سوسائٹی کے لیے بھی قابلِ قبول ہوتی ہیں کہ وہ اس مغربی جمہوریت کے سانچے میں ڈھلی ہوئی ہے جو ان کو قبول ہے لیکن انھیں ووٹ ایسے لوگوں نے دیے ہوتے ہیں جو اسلام کی اصل روح یعنی خلافت راشدہ کے آئیڈیل میں دیکھنا چاہتے ہیں۔ اسی لیے جب ترکی کی حکومت کسی طور پر بھی جہادی گروہوں کے خلاف کارروائی نہیں کرتی، عالمی سطح پر دہشت گردی کے خلاف جنگ میں حصہ نہیں لیتی یا پھر ایسے قوانین منظور کرنے کی کوشش کرتی ہے جو مغربی طرز زندگی کے خلاف ہیں تو یہ سول سوسائٹی سڑکوں پر نکل آتی ہے۔
اس کی تازہ ترین مثال اس وقت سامنے آئی جب داعش نے شام کے شہر کوبانی پر حملہ کیا تو ہزاروں لوگ سڑکوں پر نکل آئے۔ ہنگامے پھوٹ پڑے اور پچاس کے قریب لوگ مارے گئے۔ مطالبہ یہ تھا کہ ترکی کی حکومت شام میں داعش کے خلاف کردوں کی حمایت کرے۔حکومت مجبور ہو کر کردوں کو امداد بھی دینے لگی اور ٹرنینگ بھی۔لیکن کبھی بھی ترکی کی اس سول سوسائٹی نے ترکی کی حکومت کو نہیںکہا کہ افغانستان اور عراق میں مسلمانوں پر ہونے والے ظلم کے خلاف وہاں کے عوام کا ساتھ دے۔ بلکہ ترکی کی یہ ’’ اسلامی جمہوریت‘‘ جو آجکل ہمارے بہت سے اقامتِ دین کے اسلامی رہنماؤں کی آئیڈیل ہے اس کی افواج نیٹو کے ساتھ مل کر افغانستان میں موجود رہیں اور اپنے مسلمان بھائیوں کے خلاف جنگ میں برابر شریکِ بھی رہیں۔
دنیا کے سنجیدہ تجزیہ نگار اس نتیجے پر پہنچے ہیں اور دنیا بھر کا پریس ان تجزیات سے بھرا پڑا ہے کہ ترکی کی سول سوسائٹی اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں جب ایک ایسا رویہ اختیار کرتی ہے جس کے نتیجے میں حکومت کمزور پڑجاتی ہے تو پھر وہاں شدت پسندی کو عروج حاصل ہوجاتا ہے۔ اس لیے کہ وہ لوگ جنہوں نے اس حکومت کو ووٹ دیے ہوتے ہیں وہ اسلام کی ایک ایسی تصویر چاہتے ہیں جو دنیا بھر کے مظلوم مسلمانوں کی آواز بھی ہو اور ملک میں بھی معذرت خواہانہ رویہ نہ رکھے۔ یہی مایوسی انھیں شدت پسند بھی بناتی ہے اور جہادی بھی۔ کسی بھی ملک میں ایسا روّیہ پوری قوم کو دو گروہوں میں تقسیم کر دیتا ہے۔ ایک طرف سول سوسائٹی اور این جی اوز ہوتی ہیں جو ہر اس موقع کو ضایع نہیں ہونے دیتیں جو اسلام اور مسلمانوں کے خلاف ہو اور دوسری جانب وہ شدت پسند لوگ ہوتے ہیں جو مذہبی گروہوں کے بدترین ظلم پر بھی مذہبی لوگوں کا دفاع کرتے پھرتے ہیں۔
پاکستان مکمل طور پر اس طرح کے دو گروہوں پر تقسیم ہو چکا ہے۔ ایک طرف سول سوسائٹی اور این جی اوز ہیں جو بلوچستان کے لیے تو آواز اٹھاتی ہیں، کسی خاتون پر تشدد کے خلاف باہر نکل آتی ہیں، کسی مدرسے میں ہونے والے واقعے پر احتجاج کرتی ہیں لیکن جہاں کہیں عام مسلمانوں پر ظلم و تشدد اور بربریت ہوتی ہے ان کی زبانیں کنگ ہو جاتی ہیں۔ یہ عراق اور افغانستان میں امریکا نواز حکومت کے ظلم پر بھی خاموش رہتی ہیں اور کشمیر میں ایک لاکھ شہدا کے قتل پر بھی لیکن دوسری جانب اگر ایک شدت پسند گروہ کوڑے بھی لگادے تو مہینوں احتجاج جاری رہتا ہے۔میڈیا ان کے فنا نسزز، کارپوریٹ سرمائے سے چلتا ہے اس لیے ان کا ساتھ دیتا ہے۔
ان کے دباؤ میں حکومت خاموش رہتی ہے اور جواب میں وہ شدت پسند گروہ اٹھ کھڑے ہوتے ہیں جو کوٹ رادھا کرشن جیسے بہیمانہ اور ظالمانہ واقعہ کا بھی دفاع کرنے لگتے ہیں یا پھر اس پر بدترین خاموشی اختیار کرتے ہیں۔ پسند کی شادی کرنے پر قتل ہونے والے جوڑے پر سول سوسائٹی شور مچاتی ہے اور دوسرا گروہ خاموش اور معذرت خواہانہ رویہ اختیار کرتا ہے۔
جب کہ ایسی ہزاروں مثالیں موجود میں جن میں پسند کی شادی کے بعد لڑکوں نے لڑکیوں کو بازار حسن میں بیچ دیا یا ان سے دھندا کروایا۔ اس ظلم پر سول سوسائٹی چپ سادھ لیتی ہے اور دوسرے گروہ کو اس کاعلم تک نہیں ہوتا۔ دونوں گروہ اس حدتک ایک دوسرے کے آمنے سامنے ہیں کہ ایک کا سچ دوسرے کا جھوٹ اور دوسرے کا سچ پہلے کا جھوٹ ثابت کرنے میں ساری توانائیاں صرف کرنے میں مصروف ہیں اور تماشہ وہ مظلوم عوام ہیں جو ان دونوں کے لیے بُز کشی کے کھیل میں درمیا ن میں پڑی ہوئی بکری کی طرح ہیں جس کو ہر کوئی اپنے ایجنڈے کے لیے استعمال کرنا چاہتا ہے۔
کوٹ رادھا کشن میں عیسائی جوڑے کا دل د ہلا دینے والا واقعہ اگر بڑے مدرسوں کے مہتم علماء کو دہلا نہیں سکا، ان کی نیندوں کو اس نے حرام نہیں کیا تو یہ بہت بڑا المیہ ہے۔ اس لیے کہ اس واقعہ میں ان کے تیار کردہ مساجد کے امام کا بھی کردار تھا جو لاؤڈ اسپیکر پر خلق خدا کو اکٹھا کرتے رہے۔
کیا اس رویے کے بعد ایک عام شخص اسلام کی حقانیت کے لیے ان کے دروازے پر دستک دے گا؟ ان علماء کرام کو سب سے پہلے اس جوڑے کے حق میں سڑکوں میں نکلنا چاہیے تھا کہ سیّد الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا’’ مسلمانوں کے درمیان بسنے والے غیر مسلموں کا میں ضامن ہوں‘‘۔ یہ علمائے کرام نکل پڑتے تو کسی سول سوسائٹی کو بات کرنے کی راہ نہ رہتی۔ دوسری جانب انھی دنوں میں ایک معروف نجی یونیورسٹی کے ایک استاد جو مقبول سیاسی والدین کے فرزند ہیں، ان پر اپنی ایک طالبہ کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کا الزام لگا تو سول سوسائٹی اور تجزیہ نگار جنسی طور پر ہراساں کرنے کی تعریف کرنے میں مصروف ہوگئے۔
انھیں اس طالبہ سے کوئی دلچسپی نہ رہے بلکہ اس بات پر بحث کرتے رہے کہ یہ جنسی تشدد بنتا ہے یا نہیں۔ جس پر وفاقی محتسب نے اسے نوکری سے نکالنے کے لیے کہا گیا، جب کہ یونیورسٹی کی انتظامیہ کی انکوائری کہتی ہے کہ یہ ایک استاد کے مقام سے گری ہوئی بات ہے اس لیے کہ تم اپنی شاگرد سے معافی مانگ لو۔ ایسا کوئی واقعہ کسی مدرسے میں ہوا ہوتا تو ایک ماہ تک ٹی وی ٹاک شو چلتے رہتے۔
یہ ہے ہمارا المیہ اور یہ ہے ہمارے درمیان تقسیم۔ آج اگر یہ چاروں گروہ، علمائے کرام، میڈیا، سول سوسائٹی اور حکومت ساتھ مل کر سامنے نہ آئے تو یاد رکھیں ابھی صرف داعش کے پوسٹر لگے ہیں۔ کل کیا ہوگا، اس کا منظر صاف نظر آ رہا ہے۔ وہ ترکی جس میں خوشحالی بھی ہے اور جمہوریت بھی وہاں سے لوگ جہاد کا علم لے کر اٹھ سکتے ہیں تو ہمارے ہاں زمین تو بہت ہموار ہے، غربت، افلاس، بیماری، بھوک، ننگ اور بے روزگاری۔

عالمی تجزیہ نگاروں کا مبلغ علم
اوریا مقبول جان جمعرات 9 اکتوبر 2014

برطانوی شہزادہ چارلس اپنی بیوی کامیلا پارکر کے ساتھ بادشاہی مسجد کی عمارت کے نقش و نگار اور فن تعمیر کے بارے میں سوالات کرتے کرتے اچانک مجھ سے پوچھنے لگا، ’’اس قدر متحمل مزاج، ادب اور فن کے دلدادہ مسلمان آج کل اسقدر شدت پسند کیوں ہیں کہ خود کش حملوں پر اتر آئے ہیں‘‘۔ میں نے مختصر طور پر جنگ عظیم اوّل سے اسرائیل کے قیام اور عراق، افغانستان تک وجوہات گنوائیں اور بتانے کی کوشش کی کہ یہ ایک ردِّ عمل ہے۔
شہزادہ ہلکا سا مسکرایا اور مجھے کہا ’’کیا تم نے (Assisains) کے بارے میں کچھ پڑھا۔ پرنس چارلس کے لیے یہ بات تعجب کا باعث تھی کہ مجھے ایران کے قلعہ الموط کے حسن بن صباح کی تحریک کا پورا علم تھا۔ وہ شخص جس نے اپنی ایک خیالی جنت تخلیق کی تھی، جو چاہِ نخشب سے چاند نکالتا تھا۔ اپنے ماننے والوں کو حشیش پلاتا اور عین نشے کے عالم میں اس کے ساتھی ان کو اٹھا کر لے جاتے اور جنت میں چھوڑ دیتے۔ جہاں وہ حوروں، غلمانوں اور دیگر چیزوں کو دیکھتے۔ نشہ ٹوٹنے سے پہلے وہ انھیں واپس لے آتے۔ اس کے بعد حسن بن صباح ان سے کہتا، اب تم نے جنت دیکھ لی ہے۔ تم فلاں آدمی کو قتل کرو، اگر قتل کر دیا تو میری خوشنودی اور اگر مارے گئے تو شہید ہو کر جنت میں داخل ہو جاؤ گے۔
یوں نشے کے عالم میں لا کر ’’ برین واش‘‘ کرنے کا یہ طریقہ اس نے شروع کیا۔ میں نے پرنس چارلس سے سوال کر دیا کہ اس طرح کے ایک گروہ (Cult) کا اسلام کی چودہ سو سالہ تاریخ میں کیا کہیں کوئی اور جگہ اثر نظر آتا ہے۔ مسلمان جنگوں میں نکلتے رہے، مظالم کے سامنے سینہ سپر ہوتے رہے، شہید ہوتے رہے، کیا کوئی حسن بن صباح کو اپنا ہیرو مانتا ہے۔ ایسے گروہ تو موجودہ مغربی دنیا میں عام ہیں۔ بلکہ اکثر مافیا کے سربراہ باقاعدہ ہپناٹزم کو سائنسی طریقے پر استعمال کرتے ہیں اور وہ ادویات جنھیں (Hypno drugs) کہا جاتا ان کے استعمال کے بعد ترغیبات سے لوگوں کو جان کی بازی لگانے پر مجبور کرتے ہیں۔
ان میں ہر مذہب کے پیرو کار شامل ہوتے ہیں۔ کیا ان گروہوں کی وجہ سے تمام عیسائی، یہودی، یا ہندو شدت پسند ہو جائیں گے۔ شہزادہ خاموش ہو گیا اور بات کا رخ بدلتے ہوئے سامنے نظر آنے والی رنجیت سنگھ کی سمادھی کے بارے میں سوال کرنے لگا۔ گیارہ ستمبر کے واقعے کے بعد پوری دنیا کے میڈیا نے خود کش حملوں کا ماخذ حسن بن صباح کی تحریک سے نکالا تھا۔ بلکہ کئی سو سال بعد یکدم اس گروہ پر بے شمار کتابیں مارکیٹ میں آنے لگی تھیں۔ انگریزی اخبارات کے مضامین سے اپنی علمی قابلیت بڑھانے والا ہر وہ شخص کس قدر یقین سے یہ بات کہہ دیتا تھا کہ یہ سب خود کش حملہ آور اسی طرح ’’برین واش‘‘ ہوتے ہیں جیسے (Assisains) کرتے تھے۔ لیکن عراق اور افغانستان میں امریکی فوج کی ہزیمت نے اس نظریے کا بھرم توڑ دیا۔
ایسا ہی ایک نظریہ شام اور عراق میں قائم ہونے والی اسلامی ریاست اور داعش کے بارے میں اخبارات اور رسائل میں آجکل پیش کیا جا رہا ہے۔ اس ضمن میں27 ستمبر کو ٹائمز رسالے میں ایک تفصیلی مضمون لکھا گیا۔ کہا یہ جا رہا ہے کہ داعش دراصل اسلامی تاریخ میں ابھرنے والے ایک گروہ قرامطہ کے نقشِ قدم پر چل رہی ہے۔ یہ اور ایسے بہت سے تجزیے اب میڈیا کی زینت بنتے رہیں گے۔ لیکن آئیں تاریخ کے تناظر میں دیکھیں کہ قرامطہ کون تھے۔
چھٹے امام حضرت جعفر صادق کے انتقال کے بعد امامت پر اختلاف ہوا۔ ان کے پانچ صاحبزادے تھے۔ عبداللہ اور اسماعیل بڑے تھے۔ جو ان کی پہلی بیوی فاطمہ کی اولاد سے تھے جو سیدنا امام حسنؓ کی پڑپوتی تھیں۔ انھوں نے ان کی زندگی میں دوسری شادی نہیں کی۔ ان کے باقی تین صاحبزادے موسیٰ، اسحاق اور محمد ان کی دوسری بیوی حمیدہ کے بطن سے تھے جن کا تعلق سوڈان سے تھا۔ اہل تشیع کی ایک واضح اکثریت نے حضرت موسیٰ کاظم کو اپنا امام تسلیم کر لیا کیونکہ وہ کہتے تھے کہ ان کے بارے میں امام جعفر صادق کی وصیت موجود ہے۔ لیکن ایک گروہ نے نص اور نسب کو بنیاد بناتے ہوئے ان کے بڑے بیٹے اسماعیل کو اپنا امام تسلیم کیا۔اسی زمانے میں ایک گروہ قرامطہ کے طور ابھرا۔ انھوں نے جنوبی عراق اور ایران کے بڑے حصے میں اپنی دعوت کو پھیلایا اور ایک فوج ترتیب دی۔
ان کا سب سے اہم مرکز بحرین تھا۔ یہیں انھوں نے الحسہ کو اپنا مرکز بنایا۔ ان کی تحریک متشدد تھی اور اپنے رہنما ابو طاہر الجنابی کی سرگردگی میں انھوں نے خانۂ کعبہ پر حملہ کر دیا۔ وہ حجاج کے قافلوں پر حملہ کرتے اور انھیں قتل کر دیتے۔ وہ حاجیوں کے روپ میں خانہ کعبہ میں داخل ہوئے۔ انھوں نے وہاں بیس ہزار حجاجِ کرام کا قتل عام کیا۔ زم زم کے کنویں کو مسمار کر دیا اور حجر اسود کو اٹھا کر لے الحسہ گئے۔ ان کی طاقت اومان، یمن، اور خلیج فارس تک پھیلی ہوئی تھی۔ عباسی خلفاء ان کے علاقوں میں بے بس تھے۔ یہی وجہ ہے کہ تقریباً ایک دہائی سے زیادہ عرصے کے بعد حجرا سود کو بہت زیادہ سرمایہ تاوان کے طور پر ادا کر کے واپس لایا گیا۔ ان کے ہاں پارسی مذہب کی روایات اور اسلام میں مہدی کی آمد کے تصورات کو اس طرح گڈ مڈ کیا گیا تھا کہ931 عیسوی میں جب زرتشت کی موت کے پندرہ سو سال پورے ہوئے تو ان کے رہنما ابو طاہر نے ایک ایرانی نوجوان کو گروہ کی قیادت سونپ دی، جس کے بارے میں یہ جھوٹا دعویٰ کیا گیا کہ یہی وہ مہدی ہے جس کا انتظار کیا جا رہا تھا۔
اس نے جھوٹا مہدی بنتے ہی اسلامی قوانین منسوخ کر دیے، نماز پر پابندی لگا دی، آگ کی پرستش کو جائز قرار دیا، اور انھی قرامطیوں کو قتل کرنا شروع کر دیا جنہوں نے اسے جھوٹامہدی بنایا تھا۔ اس نے ایک نئے دین کا آغاز کیا جسے وہ آدم علیہ اسلام کا دین کہتا تھا جس میں بقول اس کے سارے دین شامل تھے۔ اس نے اسیّ (80) دن حکومت کی اور بالآخر قرامطیوں نے ابوطاہر کی سربراہی ہی میں خود ہی اپنے بنائے ہوئے جھوٹے مہدی کو قتل کر دیا۔ آخرِ کار عباسی خلیفہ نے فاطمی حکومت اور بربر قبائل کی مدد سے قرامطیوں کو بدترین شکست سے دو چار کیا۔
قرامطیہ کی تاریخ پر نظر دوڑانے کے بعد اور پھر ان کا موازنہ عراق اور شام میں بننے والی اسلامی ریاست کے جنگجوؤں سے کرتے ہوئے لکھے جانے والے مضامین پڑھتے ہوئے مجھے پرنس چارلس بہت یاد آیا۔ اسے کس قدر یقین تھا کہ مسلمانوں میں جو شدت پسندی آئی ہے اس کا کوئی تعلق اسرائیل کے صابرہ و شطیلہ کے کیمپوں کے مظالم سے نہیں، بوسینا میں پانچ سال قتل عام سے نہیں، کشمیر میں ایک لاکھ شہدا سے نہیں، عراق اور افغانستان میں لاکھوں انسانوں کو شہید کرنے، گھر مسمار کرنے، لوگوں کو دربدر کرنے سے نہیں ہے، بلکہ یہ تو چند ہزار لوگ ہیں جنھیں ایک خاص گروہ (Cult) مختلف طریقوں سے قائل کر کے، مسحور کر کے خواب دکھا کر ’’برین واش‘‘ کرتا ہے اور انھیں موت کی جانب دھکیلتا ہے۔
کس قدر طاقتور ہوتا ہے یہ میڈیا کا سحر اور اس کا پراپیگنڈہ۔ آجکل بھی جو تجزیہ داعش اور قرامطہ کے حوالے سے کیا جا رہا ہے اس کی بنیاد ایک ٹوئیٹر پیغام ہے جو ابوتراب المقداسی کے نام سے مشہور کیا گیا ہے کہ ہم خانہ کعبہ پر بھی ایک دن کنٹرول حاصل کر لیں گے۔ جسے سعودی عرب کی خفیہ ایجنسیوں نے ہزار رنگ سے پیش کیا ہے۔ لیکن حیرت اس بات کی ہے کہ وہ جو دنیا بھر کے میڈیا پر عا لمی حالات و واقعات کے دریا میں غوطہ زن خود کو عظیم ماہرین خیال کرتے ہیں، کیسے حکومتوں اور حکمرانوں کو ایک ایسا راستہ دکھاتے ہیں جس کا نتیجہ تباہی ہوتا ہے۔ یہ راستہ کیا ہے، جنگ میں کود پڑو تباہ و برباد کر دو، قابو پا لو، کمر توڑ دو، یہ مٹھی بھر لوگ ہیں ان کی اوقات ہی کیا ہے۔ لیکن پھر نہ حکومتیں اس دلدل سے نکل سکتی ہیں اور نہ عوام اس عذاب سے۔

تماشا دکھا کر مداری گیا
اوریا مقبول جان پير 6 اکتوبر 2014

سکندر جسے یورپ کے متعصب مورخین نے ایک عظیم فاتح اور حکمران کے طور پر اس کے نام کے ساتھ اعظم (The Great) لکھا اور مغرب کی بالادستی کی علامت کے طور پر پیش کیا۔ یہ شخص تاریخ کے ظالم ترین لوگوں میں سے ایک تھا۔ مقدونیہ سے خاندانی تعلق کی وجہ سے اس کا باپ ہمیشہ یونان کی حکمت و علم سے مرعوب رہا۔ یونان کی شہری ریاستیں چونکہ تمام شہریوں کو ایک جمہوری اسمبلی کا درجہ دیتی تھیں‘ اس لیے وہ سکندر کے باپ کو اس کی خواہش کے باوجود اپنا شہری تسلیم نہ کر سکیں۔
مقدونیہ کے اس بادشاہ مزاج شخص نے گھوڑے دوڑائے‘ علم کے مرکز تھیبس پر قبضہ کیا اور یوں وہ وہاں کا بلا شرکت غیرے عظیم شہری بن گیا۔ یہی شہریت سکندر کے ورثے میں آئی۔ دنیا فتح کرنے کا جنون سکندر پر سوار ہوا تو وہ اپنی مختصر سی فوج لے کر ارد گرد کے علاقوں پر چڑھ دوڑا۔ یہ دنیا کا پہلا حکمران تھا جو امن کے معاہدے کرتا‘ موقع کا انتظار کرتا اور پھر اس شہر کو فتح کر لیتا جسے وہ معاہدے کے تحت دوست بنا چکا تھا۔ اس کی جنگوں کا عرصہ سالوں پر محیط تھا کیونکہ جنگ ابھی تیر‘ تلوار اور گھوڑوں سے آگے نہیں نکلی تھی۔
لوگ جنگ پر نکلتے تو مہینوں ان کی خبر نہ ہوتی۔ کوئی راہ چلتا مسافر آ کر خیر خیریت بتاتا یا پھر کوئی قاصد فتح و شکست کے بارے میں اطلاع دیتا۔ سکندر مشرقی یورپ کے کسی علاقے میں مصروف تھا کہ تھیبس کے شہر میں کسی مسافر نے یہ اطلاع پہنچائی کہ سکندر کسی جنگ میں مارا گیا۔ شہر کے لوگ سقراط کے زمانے سے آزادی اظہار کی عادت کا شکار تھے۔ شہر میں ایک خوشی کی لہر دوڑ گئی اور شہریوں نے سب سے پہلے میدان میں جمع ہو کر نعرے بازی کی اور پھر شہر کی دیواروں پر ایسے نعرے لکھے جن کا مفہوم تھا کہ ’’سکندر چلا گیا‘‘۔
سکندر واپسی کے سفر پر روانہ تھا کہ اس کو اس ’’وال چاکنگ‘‘ کی خبر ملی۔ اس نے آتے ہی پورے شہر کا محاصرہ کر لیا۔ تمام شہریوں کو شہرسے باہر نکلنے کا حکم دیا اور پھر نومولود بچے سے لے کر بوڑھے تک ہر کسی کو قتل کر وا دیا۔ سکندر کا شاہانہ اور ظالمانہ مزاج آج بھی آپ کو ہر ایسے حکمران میں ملے گا جو یہ تصور کر بیٹھتا ہے کہ لوگوں پر حکمرانی صرف اس کایا اس کے خاندان کا حق ہے۔ دنیا بدل جائے‘ لوگ شعور کی منزلیں طے کر لیں‘ اظہار کے نت نئے طریقے ایجاد کرلیں‘ لیکن ایسے حکمرانوں کی خواہشِ حکمرانی اور طرز بادشاہت میں فرق نہیں آتا۔
فرق صرف اتنا آیا ہے کہ وہ سکندر کی طرح لوگوں کی زبانیں خاموش کرنے پر قادر نہیں رہے۔ البتہ غصے میں تلملاتے ہوئے اور نفرت میں ابلتے ہوئے فقرے ان کے منہ سے ضرور نکل جاتے ہیں۔ شاید وہ سوچتے ہوں کہ کاش وہ سکندر کے عہد میں حکمرانی کی مسند پر بیٹھتے اور پھر دیکھتے کہ کون سی زبانیں ہیں جو ان کے خلاف زہر اگلتی ہیں اور کون سے ہاتھ ہیں جو وال چاکنگ کرتے ہیں۔
نوے کی دہائی‘ بلوچستان میں پشتون بلوچ تصادم کی دہائی تھی۔ وہ قوم پرست بلوچ اور پشتون جو 1974 میں ذوالفقار علی بھٹو کے آرمی ایکشن کے دوران متحد تھے‘ آج ایک دوسرے سے لڑ رہے تھے۔ میدان جنگ کوئٹہ تھا کہ یہاں دونوں بکثرت آباد تھے۔ ذرا سی بات پر آپس میں بندوقیں تن جاتیں اور لاشیں گرنے لگتیں۔ کوئٹہ بار بار کرفیو کی زد میں آتا۔ دونوں جانب بڑے بڑے جلسے ہوئے اور ان میں ایسی آتش فشاں قسم کی تقریریں ہوتیں کہ یوں لگتا کہ جیسے ابھی دونوں جانب سے لشکر برآمد ہوں گے اور پورا صوبہ خون میں نہا جائے گا۔ شہر حقیقی طور پر بیروت کی طرح دو حصوں میں تقسیم ہو گیا تھا۔
پشتون بلوچ علاقوں میں جانے سے گریز کرتے اور بلوچ پشتون علاقوں میں۔ زرعی کالج کی جگہ کے تنازع نے زور پکڑا تو ہر کوئی کہتا اس کو ہمارے علاقے میں بناؤ۔ یوں بلوچستان اس درسگاہ سے محروم رہ گیا۔ برج عزیز ڈیم بھی پاکستان کے کالا باغ ڈیم کی طرح ثابت ہوا۔ اس سیلابی پانی پر بننے والے ڈیم پر حق ملکیت جتانے کا جھگڑا اتنا طول پکڑا کہ وہ صوبہ جہاں پانی کی ایک ایک بوند بھی قیمتی تھی آج تک اپنے سیلابی پانی کو ذخیرہ بنانے کا کوئی منصوبہ نہ بنا سکا اور سیلابی پانی آج بھی پہاڑوں اور میدانوں سے تیزی سے گزرتا ہوا وسیع ریگستانوں کی نذر ہو جاتا ہے۔
انھیں دنوں میں یادش بخیر نواب محمد اسلم رئیسانی نے سیاست میں قدم رکھا‘ نوجوان ڈی ایس پی اور پھر بی ڈی اے کی جنرل مینجری کی نوکری چھوڑ کر سیاست میں آنے والا یہ شخص اپنے ذہن میں بہت سی اخلاقی قدروں کو لئیے ہوئے تھا۔ پشتون بلوچ جھگڑوں سے دور وہ الیکشن جیت گیا۔ مستونگ کی نشست سے اسے ہر قومیت کے فرد نے ووٹ ڈالے۔ اکثر اوقات وہ ان قوم پرست رہنماؤں کے بیانات اور تقریروں پر بات کرتا اور کڑھتا رہتا۔ وزیر خزانہ کی حیثیت سے وہ ایک دن بہت پریشان اور مضطرب حالت میں میرے کمرے میں آیا۔ ہاتھ میں پکڑی تسبیح کو پریشانی کے عالم میں گھماتا جا رہا تھا۔
سلیمانی چائے بلوچستان میں پسند کی جاتی ہے۔ کہا سلیمانی چائے پلاؤ اور پھر وہ پھٹ پڑا۔ کہنے لگا یہ تمام بلوچ اور پشتون قوم پرست لیڈر جو جلسوں میں ایک دوسرے کا خون پینے کے دعوے کرتے ہیں۔ ان کی تقریریں سن کر لوگ ایک دوسرے کو قتل کرتے اور گھر اجاڑتے ہیں۔ اسمبلی کی کنٹین میں کس طرح خوش گپیوں میں مصروف ہو کر ایک دوسرے کو کیک‘ پیسٹریاں اور سموسے کھلا رہے ہوتے ہیں۔ یہ ایک دوسرے کے ’’خاص‘‘ بندوں کو میرٹ کے بغیر نوکریاں دیتے ہیں۔
ان کی اسکیمیں منظور کرتے ہیں ان کے ذاتی فوائد کے لیے آگے بڑھ کر ایک دوسرے کا ساتھ دیتے ہیں۔ لیکن جب اسمبلی کے ہال میں مائیک پر کھڑے ہوتے ہیں تو ان کے منہ سے نفرت کی جھاگ نکل رہی ہوتی ہے۔ اس زمانے کا اصول پرست نواب اسلم رئیسانی پریشان بھی تھا اور مضطرب بھی لیکن جمہوری پارلیمانی سیاست کی راہداریوں نے اسے ایسا بنا دیا کہ یقین نہیں آتا۔ نفسیات دان کہتے ہیں کہ انسان پر سب سے زیادہ اثر اس کے گروہ (PEER) کا ہوتا ہے اور پھر آہستہ آہستہ وہ ان کے رنگ میں ڈھلنے لگتا ہے لیکن اس جمہوری پارلیمانی تاریخ کا اس قوم پر ایک بہت بڑا احسان گزشتہ دنوں ہوا ہے۔
یہ احسان ایسا ہے جس نے پوری قوم کی آنکھوں پر پڑے دبیز پردے اتار پھینکے ہیں۔ دنیا کی کسی پارلیمنٹ نے آج تک کئی ہفتے صرف اس بات پر بحث نہیں کی ہوگی کہ ان کے اپنے مفادات تباہ ہو رہے ہیں۔ وزارت اطلاعات یقیناً انعام کی مستحق ہے کہ اس نے لوگوں کو سیاست کا وہ روپ براہ راست دکھا دیا جو اسلم رئیسانی جیسے ممبران اسمبلی صرف اسمبلی کی کنٹین میں دیکھا کرتے تھے۔
قوم کو پچاس سال سے دست و گریباں کرنے والے‘ ایک دوسرے پر گالیوں کی بوچھاڑ اور نسلوں کو طعنے دینے والے‘ غدار کے لقب اور بددیانت کے تمغوں سے سجانے والے یوں اکٹھے ہوئے جیسے سیلاب کے دوران خونخوار جانور بہتے ہوئے تختے پر اکٹھے ہو جاتے ہیں۔ سیلاب اب تھما نہیں تھا کہ انھیں احساس ہونے لگا کہ یہ کیا ہو گیا۔ لوگوں نے ہمیں دیکھ لیا‘ سن لیا۔ اب یہ جان گئے ہیں کہ ہم تو شکار کے معاملے میں ایک دوسرے سے لڑتے ہیں لیکن اپنے لیے متحد ہو جاتے ہیں۔ اب ہر کوئی علیحدہ علیحدہ شکار کو پھر گھیرنے کی تگ و دو میں لگ گیا ہے۔
الزامات دوبارہ زبانوں سے اچھل رہے ہیں لیکن شاید اب تک لوگوں کی آنکھوں اور ذہن میں کئی ہفتے چلنے والے پارلیمنٹ کے اجلاس میں اتحاد و یگانگت کی گفتگو گونج رہی ہے۔ اسی لیے اب ان سیاست دانوں کا لہجہ شاہانہ نہیں ملتجیانہ ہو چکا ہے۔ ورکروں سے معافی مانگتا ہوں‘ ہمارے خاندان کی قربانیاں ہیں۔ خدا کے لیے ہمیں بھولنا مت۔ لیکن شاید اب لوگ بھولیں گے بھی نہیں۔ انھیں گزشتہ پچاس سال میں اپنے بے وقوف بننے پر شرمندگی انھیں بھولنے ہی نہیں دے گی۔

سازشی تھیوریاں۔ خوف اور میڈیا
اوریا مقبول جان جمعـء 3 اکتوبر 2014

دنیا بھر کا میڈیا جن تین بڑی کمپنیوں میں تقسیم ہے ان میں ایک کمپنی روپرٹ مرڈوک (Rupert Murdoch) کی نیوز کارپوریشن ہے۔ اس شخص نے اپنے زیر سایہ کام کرنے والے افراد کو جو پالیسی گائڈ لائن دی ہے اس کے چار نکات ہیں۔ سب سے پہلے یہ کہ دنیا بھر میں موسیقی کو الیکٹرانک اور ہیجان انگیز کر دو۔ اس لیے کہ دھیمے سروں اور روایتی سازوں سے مرتب کی جانے والی موسیقی سکون بخشتی ہے، انسان کو ایک ایسے کیف میں لے جاتی ہے جہاں وہ زندگی کا خوبصورت پہلو دیکھتا اور اس سے لطف اندوز ہوتا ہے۔ جب کہ الیکٹرانک اور تیز سروں کی موسیقی ہیجان پیدا کرتی ہے اور آدمی کے اندر چھپے غصے، انتقام، جوش اور سفلی جذبات کو بھڑ کاتی ہے۔
دوسری بات یہ کہ دنیا میں کہیں پر بھی کوئی تحریک چلے، گروہ آپس میں لڑیں، جنگ چھڑ جائے، فساد برپا ہو، ان کی رپورٹنگ کرتے ہوئے ایک سازشی تھیوری کے عنصر کو نمایاں کیا جائے۔ جسے عرف عام میں (Conspiracy) کہتے ہیں۔ اس کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ اگر کہیں عوام کی خواہشات سے کوئی تحریک جنم لیتی اور کامیاب بھی ہو جاتی ہے تو لوگوں کے اندر یہ اعتماد کبھی بھی پیدا نہیں ہوتا کہ انھوں نے حالات کا رخ خود بدل دیا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ جہاں کہیں بھی فساد برپا ہوتا ہے، تو لوگ اس کو ختم کرنے کے لیے اس لیے کوشاں نہیں ہوتے کہ وہ ہمت ہار چکے ہوئے ہیں۔ انھیں سازشی عناصر کی ریشہ دوانیوں کا درس اسقدر پڑھا یا جاتا ہے کہ وہ یقین کر لیتے ہیں کہ اس میں لڑنے والوں کا تو کوئی قصور ہیں نہیں، یہ تو امریکا، برطانیہ یا ایجنسیاں پوری منصوبہ بندی سے لڑوا رہی ہیں۔
تیسری گائڈ لائن یہ ہے کہ کسی بھی ملک میں اگر کوئی ایسی قیادت ابھرے جسے لوگ پسند کرنے لگیں، اسے قبولیت کی سند حاصل ہو جائے تو اس کے کر دار کو مشکوک کر دو۔ اسے کبھی کسی بیرونی طاقت کا ایجنٹ قرار دو یا کسی لابی کا پروردہ۔ اس کی اخلاقیات کے بارے میں معمولی سی بات بھی ملے تو اچھا لو۔ اگر کوئی گروہ ایسا ہو جو عوام میں پذیرائی حاصل کر رہا ہو تو اس کے بارے میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور قتل و غارت کے افسانوں کو شہرت دو۔ جب کہ چوتھی بات یہ کہ خواہ فیشن ہو یا فلم و ڈرامہ، بڑے بڑے لوگوں کی کہانیاں ہوں یا سوشل لائف کے قصے ان سب میں جنس کو نمایاں کرو۔ جنسی بھوک اور ہیجان ایسی چیز ہے جو سیاسی، معاشرتی اور اخلاقی سوچ کی جانب راغب نہیں ہونے دیتی۔
یہ چاروں اصول آپ کو دنیا کے اکثر میڈیا ہاؤسز میں پیش کیے جانے والے پروگراموں میں نظر آئیں گے۔ آج کے چوبیس گھنٹے چلنے والے الیکٹرانک اور اخبارات کے کالم نگاروں نے لوگوں کے دلوں میں یہ بات اتاری ہی نہیں بلکہ دماغوں میں ٹھونس دی ہے کہ اس ملک میں جتنی بھی تحریکیں چلتی ہیں، جتنے فساد ہوتے ہیں، جو بھی قتل و غارت ہے وہ اوّل تو عالمی سازش کا حصہ ہیں یا پھر مقامی ادارے ان میں ملوث ہوتے ہیں۔ یہ قصہ صرف میرے ملک کا نہیں دنیا میں جہاں کہیں بھی میڈیا کی گرفت میں آئے ہوئے انسان جاگنے کی کوشش کرتے ہیں۔
ان کے ہاں کسی رہنما کے روپ میں امید انگڑائی لینے لگتی ہے تو عظیم دانشوروں، تجزیہ نگاروں اور سیاسی پنڈتوں کی فوج ظفر موج ایسے شاندار طریقے سے کہانی کے اسکرپٹ بیان کرتی ہے کہ یوں لگتا ہے کہ گلی میں ناراض ہو کر ٹائر جلانے والا شخص بھی براہِ راست امریکی سی آئی اے سے ہدایات لے رہا تھا۔ ایک زمانے میں کارپوریٹ دنیا کا چکا چوند چہرہ، یہی میڈیا جب کمیونسٹ دنیا کے ساتھ سرد جنگ لڑ رہا تھا تو ہر ملک میں جہاں کہیں ایسا لیڈر جنم لیتا جسے عوامی پذیرائی حاصل ہوتی تو اس کے ڈانڈے سی آئی اے اور امریکا سے ملا دیے جاتے۔ جہاں ایسی آزادی یا آمریت کے خلاف تحریکیں چل رہی ہوتیں ان کے گوریلوں کی انسانیت سوز مظالم کی داستانیں اس قدر خوفناک بنا کر پیش کی جاتیں کہ پورے مغرب کے عوام سہم کر رہ جاتے۔
لیکن ان کے مقابلے میں ریاستی مظالم پر پردہ ڈالا جاتا، قتل ہونے، تشدد سے معذور ہونے اور لاپتہ افراد کا ذکر تک اخبارات میں نہ آتا۔ کمیونزم رخصت ہوا تو اب یہی انداز اسلام اور اسلامی دنیا کے بارے میں اپنایا گیا ہے۔ گزشتہ بیس سالوں سے جو مضامین اور سازشی تھیوریاں لکھی گئی ہیں ان سے اسلام اور مسلمان نکال کر کمیونزم اور کمیونسٹ شدت پسند لکھ دیا جائے تو نفسِ مضمون پر کوئی فرق نہ پڑے گا۔ یہ تھیوریاں خود خفیہ ایجنسیاں اپنے مخصوص لکھنے والوں کے ذریعے بھی پھیلاتی ہیں تا کہ لوگوں پر ان کا خوف اور دبدبہ قائم رہے۔
لیکن موجودہ تاریخ کے دو مواقع ایسے ہیں جب یہ سب کے سب ناکام ہوئے۔ پہلا انقلابِ ایران تھا۔ اپریل1978ء میں اٹھارہ خفیہ ایجنسیوں نے امریکی صدر جمی کار ٹر کو یہ رپورٹ دی کہ ایران میں انقلاب کا دور دور تک کوئی خطرہ نہیں۔ لیکن اسی ماہ تہران یونیورسٹی سے چند سو طلبہ کے مظاہروں کا آغاز ہو گیا۔ ایک سال بعد جب ایرانی انقلاب آیا تو حیرت میں گم میڈیا کے پاس اور کوئی راستہ نہ تھا کہ ان انقلابیوں کو خونخوار بنا کر پیش کیا جائے۔
امریکی سفارت خانے کے محاصرے سے لے کر انقلابی عدالتوں کے تخت روزانہ قتل، ’’ تودہ‘‘ پارٹی اور مجاہدین خلق کو منافقین کہہ کر قتل کر نا ، اقلیتی فرقے بہائیوں کی نسل کشی اور ملک سے فرار، ایسے کتنے قصے تھے جو بڑھا چڑھا کر اخباروں کی زینت بنائے گئے۔ اس زمانے کے تجزیہ نگار ایک اور تھیوری بھی پیش کرتے کہ آیت اللہ خمینی کو دراصل امریکا کی پشت پناہی حاصل ہے تا کہ ایران کو یورپی گروپ سے الگ کیا جائے اور ممکنہ مشرق وسطی کے تصادم کے دوران وقت آنے پر استعمال کیا جائے۔ لیکن وقت نے اس سارے افسانے کو اس لیے گرد میں دبا دیا کہ ریاست مستحکم ہو گئی۔
ایسی ہی کیفیت عراق اور شام میں ابھرنے والی قوت داعش اور قائم ہونے والی دولت اسلامیہ کی ہے۔ صدر اوباما بالکل صدر جمی کارٹر کی طرح اس گروہ کے بارے میں لاعلم تھا۔ گزشتہ ہفتے اس نے ایک ہفتہ وار ریڈیو انٹرویو میں کہا کہ ہماری کسی بھی خفیہ ایجنسی کو اندازہ تک نہ تھا کہ یہ گروہ اس قدر کامیابی حاصل کر سکتا ہے۔ اوباما نے قومی انٹیلی جنس سروس کے سربراہ جیمز آر کلیپر جونیئر (James R Clapper Jr.) کے اس اعتراف کا ذکر کیا کہ امریکا کی کسی بھی خفیہ ایجنسی کو یہ ادراک تک نہ تھا کہ داعش اسقدر کامیابی حاصل کر لے گا اور دوسری حیرت یہ کہ اربوں ڈالروں سے تیار کردہ عراقی فوج اسقدر خوفزدہ اور کمزور ثابت ہو گی۔
اس کے بعد الزامات کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ خفیہ ایجنسیوں کی طرف سے جاش ارنسٹ (Josh Earnest)، ریڈیوCBS کے ’’ساٹھ منٹ‘‘ پروگرام میں غصے سے بول اٹھا، یہ تو سیاسی قیادت کی ناکامی ہے جو جنوری 2014ء میں جب داعش نے شام کے شہر رقاء پر قبضہ کیا تو عراق میں نوری المالکی کو کہتی رہی کہ اپنی حکومت میں سینّوں کو شامل کرو تا کہ داعش کے خطرے کا سدباب کیا جا سکے۔ لیکن نہ اوباما کو سنبھلنے کا موقع ملا اور نہ ہی نوری المالکی کو۔ دونوں کا اتحاد اس وقت حیران رہ گیا جب جنوری2014ء ہی میں داعش نے فلوجہ، رمادی کے علاوہ ترکی کی سرحد کے قریب چند شہروں پر بھی قبضہ کر لیا۔ ابھی تک امریکا اور عراق اسے معمول کی دہشت گردی سمجھ رہے تھے اور اسے ایسا گروہ تصور کرتے تھے جو دھماکے کر کے پناہ گاہوں میں چھپ جاتے ہیں۔ لیکن جون 2014ء میں جب موصل میں عراق کی عالمی معیار کی ایلیٹ فوج اپنی وردیاں اتار کر میدان سے بھاگی تو ایک دم پوری دنیا کے کان کھڑے ہو گئے۔
سب سے پہلے قوم پرست کردوں کی تنظیم ’’ پیش مرگا‘‘ کو ان کے خلاف اٹھایا گیا اور ان کے شہر کر کوک کو ان کے لیے یروشلم بنا کر پیش کیا گیا۔ داعش کو روکنے کے لیے قوم پرست افواج آگے بڑھیں تو دونوں جانب سے قتل و غارت کا سلسلہ شروع ہوا۔ اس دوران داعش کی قتل و غارت اخبارات کی شہہ سرخیاں بن گئی۔ لیکن23 اگست 2014ء کو ’’پیش مرگا‘‘ کا25 عرب اور ترک باشندوں کو قطار میں کھڑے کر کے گولیاں مارنے کے واقعے کو نظر انداز کر دیا گیا۔ ابھی تو صرف الزمات چل رہے ہیں۔ دنیا کے ہر بڑے اخبار میں روز کوئی نہ کوئی مضمون اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ غلطی کہاں ہوئی۔ کوئی کہتا ہے کہ بقا کے قید خانے میں جب سنی اور شیعہ تقسیم کی بنیاد پر قیدیوں سے علیحدہ سلوک روا رکھا گیا تو یہ گروہ پیدا ہو گیا۔ کوئی نورالمالکی کی اقلیت کُش پالیسیوں کو اس کا ذمے دار ٹھہراتا ہے۔ لیکن میڈیا کا سب سے زیادہ زور دنیا کو خوفزدہ کرنے پر ہے۔ قتل و غارت، سر کاٹنے اور اقلیتوں پر ظلم کی داستانیں بیان ہو رہی ہیں۔
دوسری جانب ان کے ٹھکانوں پر حملے شروع کر دیے گئے ہیں۔ خطرہ زیادہ ہے اس لیے کہ ایران کا انقلاب تو عالمی سرحدوں کو قبول کرتا تھا، لیکن یہ گروہ تو ان سرحدوں کو پامال کر چکا۔ تمام سازشی تھیوریاں اپنے جوبن پر ہیں۔ کوئی کہتا ہے یہ اسرائیلی موساد کے ایجنٹ ہیں، امریکا نے انھیں بنایا ہے، القاعدہ کے توڑ کے طور پر بنایا گیا ہے۔ لیکن خوف بہت شدید ہے۔ مغرب، امریکا، عرب ریاستیں اور ایران سب مشترک ہیں اس خوف میں۔ سب مشترک ہیں انھیں ختم کرنے کے لیے۔ اس خوف کے دو نتائج ہی نکلتے ہیں یا تو ایسے گروہ کی ریاست کامیاب ہو جاتی ہے جیسے ایران یا پھر یہ لوگ ایک مستقل دہشت گرد گروہ میں تبدیل ہو جاتے ہیں اور دنیا اگلی کئی دہائیاں ان کو بھگتتی رہتی ہے۔
خاص ہے ترکیب میں قوم رسول ہاشمیؐ
اوریا مقبول جان پير 29 ستمبر 2014

فلپائن کے شہر منیلا کے علاقے پاسک میں ایشیائی ترقیاتی بینک کی کئی منزلہ عمارت میں ہزاروں کمرے ہوں گے لیکن اس کے کمرے کے دروازے کے اوپر شاندار ٹائل پر خوبصورت رنگوں میں بسم اللہ الرحمن الرحیم لکھی ہوئی تھی۔ کتنے مسلمان ملکوں کے نسل در نسل خاندانی مسلمان وہاں کام کرتے ہیں لیکن اس ماحول میں رنگے ہوئے۔ عالمی طور پر وضع کردہ اصطلاحات میں رچی بسی گفتگو کرتے اور ویسی ہی زندگی بسر کرتے ہوئے مگر وہ تو ایک امریکی تھا ایک کٹر عیسائی خاندان میں پلا بڑھا۔ امریکی ریاست ایریزونا کا رہنے والا۔ وہ ریاست جو بلوچستان کی طرح بے آب و گیاہ پہاڑوں پر مشتمل ہے۔ جہاں پانی کی اہمیت نے اس شعبے کے ماہرین کو اپنا اثاثہ بنایا ہوا تھا۔ وہ بھی ایک ایسا ہی ماہر تھا جس کی مانگ ہر ایسے خطے میں تھی جہاں پانی کو ذخیرہ کر کے آیندہ آنے والی نسلوں کے بہتر مستقبل کے لیے منصوبہ سازی کی جاتی تھی۔ قسمت اسے صومالیہ لے گئی۔ وہاں اسے یہ دیکھ کر حیرت ہوئی کہ یہ مسلمان عجیب قوم ہے‘ کہ بھوک اور پیاس سے نڈھال ہوتی ہے‘ فاقوں پر فاقے چل رہے ہوتے ہیں لیکن جہاں وہ پانچ وقت اللہ کے حضور سر بسجود ہوتے ہیں وہیں وہ اس پروردگار سے کوئی شکایت نہیں کرتے بالکل مسلسل اس کے شکر گزار ہوتے ہیں۔
یہ رویہ اسے اسلام کے نزدیک لے آیا۔ وہ مسلمان ہوا تو اس کی زندگی میں جو تبدیلی آئی وہ صرف اسی شخص کی زندگی میں آ سکتی ہے کہ جو سمجھتا ہے کہ ایک صحیح مسلمان اسی وقت بنا جا سکتا ہے جب آپ ان اصطلاحات کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنا لیں جو اسلام کا جداگانہ خاصہ ہیں۔ وہ کہتا تھا جب تک میں امریکی اور مغربی اصطلاحات استعمال کرتا رہوں گا میں کبھی بھی اپنی زندگی کو اسلام کے سانچے میں نہیں ڈھال سکتا۔ اس لیے کہ اسلام کی دی گئی اصطلاحات ایک مختلف طرز زندگی اور مخصوص روحانی اور ایمانی کیفیت کو ظاہر کرتی ہیں۔ وہ ہمیشہ لفظ اللہ استعمال کرتا اور امریکی انگریزی میں پروان چڑھنے کے باوجود کبھی گاڈ (God) کا لفظ استعمال نہ کرتا۔ میں اس کے گھر گیا تو اس کی بیٹی کی سالگرہ تھی۔ کوئی اہتمام نہ تھا۔ میں نے دس سالہ معصوم لڑکی سے سوال کیا تو اس نے جواب دیا ’’اس میں کیا خاص بات ہے کہ میں پیدا ہوئی‘‘۔ میں نے کہا تحفے ملتے ہیں۔ اس کا جواب تھا میرے ماں باپ اکثر مجھے تحفے دیتے ہیں‘ میرے مانگنے پر بھی اور میری کسی کامیابی پر بھی‘ بلکہ اکثر مجھ سے محبت کے اظہار کے لیے بھی‘ تو پھر کسی ایک دن تک مصنوعی خوشی کو محدود کرنے میں کیا فائدہ۔
دس سالہ بچی کے منہ سے یہ جواب صرف اس کے والدین کی تربیت کا نتیجہ تھا جنہوں نے اسے اسلامی اصطلاحات کے معانی و مفاہیم کے تناظر میں پالا تھا۔ ڈیوڈ جس نے اپنا اسلامی نام دائود رکھا تھا اور جس نے مجھے اس سمت سوچنے کا راستہ دکھایا کہ روز مرہ زندگی میں اصطلاحات استعمال کرنے سے طرز زندگی میں کتنا فرق آ جاتا ہے اور اسلام تو ہے ہی ایک جداگانہ طرز زندگی کا نام‘ جسے اقبال نے کس خوبصورتی سے بیان کیا۔
اپنی ملت پر قیاس اقوام مغرب سے نہ کر
خاص ہے ترکیب میں قوم رسول ہاشمی
اصطلاحات روز مرہ زندگی میں استعمال کرنے سے کیا فرق پڑتا ہے۔ کوئی بھی لسانیات کا ماہر اس کی اہمیت سے انکار نہیں کر سکتا۔ انسان اپنی زندگی میں جو لفظ استعمال کرتا ہے وہ اس کی شخصیت اور رویوں پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ آپ اپنی زندگی میں کسی لڑکے یا لڑکی کو کتنی آسانی سے ’’آئی لو یو‘‘ کہہ دیتے ہیں لیکن اگر آپ کو کسی سے ’’میں تم سے عشق یا محبت کرتا ہوں یا کرتی ہوں‘‘ کہنا پڑ جائے تو آپ سو بار سوچیں گے کہ یہ کتنا عامیانہ لفظ ہے‘ کیا مجھے ایسا کہنا زیب بھی دیتا ہے یا نہیں۔ اس لیے کہ اس کے پیچھے آپ کے معاشرے کے وہ رویے ہوتے ہیں جو آپ کو مدتوں شرم و حیا اور دوسری صنف سے گفتگو کے آداب سکھاتے ہیں۔ یہ تو معاشرت کی بات ہے۔ اب ذرا اسلام کے معیارات اور اصطلاحات کے استعمال سے زندگی پر پڑنے والے اثرات دیکھتے ہیں۔ ہمارے معاشرے میں مغربی تہذیبی اثرات کی وجہ سے ایسے بہت سے فقرے عام ہو گئے ہیں جو ہم بغیر کسی جھجھک کے آسانی کے ساتھ بول جاتے ہیں۔ مثلاً We are too close, we are physical, I have an affair یہ تمام انگریزی جملے ہم جسمانی تعلق کے ڈھکے چھپے اظہار کے لیے استعمال کرتے ہیں اور اپنی طرز پر ادائیگی سے اگلے تک مطلب بھی پہنچا دیتے ہیں لیکن اگر ہمیں اپنے اس تعلق کے لیے لفظ زنا استعمال کرنا پڑ جائے تو اس کے ساتھ جو تصور گناہ وابستہ ہے وہ ہمیں شرمندگی کی اتھاہ گہرائیوں میں لے جاتا ہے۔
اسی طرح ہم کسی ایسے شخص کو عیاش کہہ لیتے ہیں‘ یہ تک کہہ لیتے کہ وہ فلرٹ ہے‘ کوئی زیادہ انگریزی دان ہو تو Debosh کہہ دے گا لیکن اس کے جرم کی نوعیت دیکھتے ہوئے اسے زانی کہہ کر نہیں پکارتے ہیں حالانکہ وہ اسی فعل کا ارتکاب کر رہا ہوتا ہے۔ اس لیے کہ ہم اس احساس گناہ سے بچنا چاہتے ہیں جو اسلام ہمارے ذہن میں صرف ایک اصطلاح کے استعمال سے ڈالتا ہے اسی طرح کرپشن‘ کک بیک اور بددیانتی جیسے لفظ ہم روز استعمال کرتے ہیں۔ ہم ایسے پٹواری‘ تھانیدار‘ انجینئر یا اعلیٰ ترین افسر کو بددیانت اور کرپٹ تو کہہ دیتے ہیں لیکن اسے راشی نہیں کہتے کہ ہمارے ذہنوں میں سید الانبیاء کی وہ حدیث گونجنے لگتی ہے کہ ’’رشوت لینے اور دینے والا دونوں جہنمی ہیں‘‘۔
دنیا کا ہر بینکار یہ بخوبی جانتا ہے اور اس کا ادراک رکھتا ہے کہ وہ جو بھی زائد رقم اپنے کھاتے داروں کو دے رہا ہے وہ سود ہے لیکن وہ اسے منافع کہہ کر لوگوں کو قائل کرتا ہے اور لوگ بھی وصول کرتے ہیں لیکن اگر وہ لفظ سود یا رباء استعمال کرے تو اسے اندازہ ہو جائے کہ لوگ کیسے اس کاروبار سے منہ پھیرتے ہیں۔ لفظ سود کا اصل ترجمہ انگریزی میں USURY ہے۔ یہ سود کا نظام اس قدر مکار ہے کہ اسے علم ہے کہ دنیا کا کوئی مذہب اسے جائز تصورنہیں کرتا اس لیے اس سود کو ایک نیا نام دیا گیا جسے interest کہتے ہیں۔
پاکستان کے آئین میں انسانی اخلاق اور صاف و شفاف کردار کو ثابت کرنے کے لیے صرف دو اسلامی اصطلاحات ’’صادق‘‘ اور ’’امین‘‘ استعمال ہوئی ہیں جس پر آج تک بحث چلتی ہے۔ کوئی سیاست دان انھیں ماننے کو تیار نہیں۔ کتنے بڑے بڑے دانشور اور تجزیہ نگار اپنے تعصب اور نفرت کا اظہار ان الفاظ سے کرتے ہیں۔ کیا کسی حکمران‘ ممبر اسمبلی یا سینیٹر کو سچا اور امانت دار نہیں ہونا چاہیے۔ آپ کوئی بھی لفظ بول لیں‘ راست گو کہہ لیں Truthful کہہ لیں‘ Trustee کہہ لیں وہ ماننے کو تیار ہیں لیکن جیسے ہی لفظ ’’صادق‘‘ اور ’’امین‘‘ استعمال ہوتا ہے تو چیخیں نکل جاتی ہیں۔ اس لیے کہ ان دونوں الفاظ سے وہ معیارات ذہن میں آتے ہیں جو قرآن اور حدیث طے کرتی ہے۔
آئین میں یہ صرف دو اصطلاحات استعمال ہوئی ہیں تو وہ پورا تہذیبی نظام خوفزدہ ہے جو اپنی بددیانتی‘ جھوٹ‘ مکر و فریب‘ ریا کاری‘ خیانت‘ کرپشن‘ رشوت خوری اور اقربا پروری جیسے جرائم کو اصطلاحات کی آڑ میں چھپا کر ایک طرز زندگی مہیا کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم اپنے جج کو قاضی نہیں کہتے کہ پھر ہمیں معیار مدینہ سے لانا پڑے گا‘ ہم اپنے حکمران کو امیر یا خلیفہ نہیں کہتے کہ پھر لوگ ان سے ویسا ہی طرز عمل طلب کریں گے جو ان عہدوں پر سید الانبیاء کے صحابہ نے اختیار کیا تھا۔ یہی وہ مقصد ہے جس کے لیے آئین کی ایک کتاب تحریر کی جاتی ہے تا کہ لوگ انھی اصطلاحات میں سوچنا اور زندگی گزارنا شروع کریں۔
دنیا کا کوئی آئین ایسا نہیں جس کی ہزاروں مختلف توجیہات نہ ہوں۔ ہر کسی کی اپنی توجیہہ ہوتی ہے لیکن وہ نافذ ہوتا ہے۔ بس ایک ادارے کو اس کی توجیہہ کرنے کا اختیار دے دیا جاتا ہے جیسے سپریم کورٹ لیکن آپ کہیں کہ قرآن کو آئین بنا دو تو آواز اٹھتی ہے کونسی توجیہہ نافذ کریں۔ کتنا آسان ہے کہ ایک ادارہ بنا دو جسے توجیہہ کا اختیار دے دو لیکن یہ کوئی نہیں کرے گا۔ وہ تمہیں اپنی اصطلاحات میں قید رکھنا چاہتے ہیں۔ ایسے میں کوئی اسلام کی اصطلاحات کا استعمال کرنے لگے تو اسے دقیانوس‘ فرسودہ‘ غیر ترقی یافتہ اور دیگر القاب سے نوازا جاتا ہے۔ اصل خوف یہ ہے کہ اگر اصطلاحات استعمال ہونا شروع ہو گئیں تو معیار زندہ ہو جائیں گے۔

اصطلاحات کا خوف
اوریا مقبول جان جمعـء 26 ستمبر 2014

کیا عجب ملاپ ہے، گٹھ جوڑ ہے، مقصد کی ہم آہنگی ہے۔ جدید مغربی تہذیب کی تخلیق کردہ قومی ریاستوں کی انجمن، اقوام متحدہ میں بھی اس کی گونج سنائی دی ہے۔ پہلے بان کی مون گرجے کہ دنیا کو اسلامی شدت پسندوں سے خطرہ ہے، انسانی حقوق کی پامالی ہو رہی ہے۔ اس کے بعد دنیا پر خود کو بلا شرکت غیرے حکمران تصور کرنے والے امریکا کا صدر اوباما اس شدت پسندی پر دنیا کو متحد ہو کر مقابلہ کرنے کے لیے آواز دیتا دکھائی دیا۔
لیکن اپنی اس تقریر سے صرف ایک دن پہلے، خطے کے چھ عرب ممالک کے ساتھ مل کر، اس نے اس گروہ کے خلاف کارروائی کا آغاز کر دیا تھا جس نے جدید مغربی تہذیب کے تصور ِ قومی ریاست و حکومت کے برعکس اسلامی ریاست اور خلافت کے لفظ استعمال کیے تھے۔ کیسا گٹھ جوڑ ہے کہ تمام عرب ریاستیں اور امریکا جو شام کی بشار الاسد کی حکومت کو ظالم قرار دیتے تھے، ابھی اسی کے باغیوں کے ٹھکانوں پر بم برسا رہے ہیں۔ وہ ایران جو ان عرب ریاستوں کے خلاف نبرد آزما تھا، وہ بھی اس گروہ کے خلاف کارروائی کرنے میں شریک ہے، اور اس کا قلع قمع چاہتا ہے۔ آخر اس لفظ خلافت کے ادا ہوتے ہی ایسا طوفان کیوں کھڑا ہو جاتا ہے۔
مغربی سانچے میں ڈھلا ہوا کوئی بھی نظام حکومت بنا لو اور اس کا نام اسلامی جمہوریہ رکھ لو، دنیا کے کسی خطے میں خوف کی لہر نہیں دوڑتی۔ انقلابِ ایران بھی نظام حکومت پر مغربی اصلاحات کی چھاپ کی وجہ سے آج تک قابلِ قبول ہے۔ صدر، پارلیمنٹ، اسپیکر، الیکشن، یہ سب کیا ہے۔ کیا خلیفہ المسلمین یا امیر المومنین کا لفظ استعمال کرتے ہوئے شرم آتی ہے، پسماندگی کا احساس ہوتا ہے، دقیا نوسی کی چھاپ لگ جاتی ہے۔ نہیں اس لیے کہ لوگوں کے ذہن میں پرکھنے کے معیار بدل جاتے ہیں۔ جب حکمران کو صدر یا وزیر اعظم کہا جاتا ہے تو معیار چرچل، نکسن یا ڈیگال ذہنوں میں گونجتے ہیں۔ لیکن اگر خلیفہ یا امیر کہا جائے تو ابوبکرؓ، عمرؓ، عثمانؓ اور علیؓ کی طرزِ حکومت اور دورِ خلافت معیار بن جاتا ہے۔ پھر لوگ اسی معیار پر حکمرانوں کو تولنے لگتے ہیں۔
برداشت تو جمہوری طور پر منتخب صدر مرسی بھی نہیں ہوتا اور کہاں لفظ خلیفہ استعمال کرنے والا ابوبکر البغدادی۔ دنیا بھر میں گزشتہ ایک صدی سے سیکڑوں ایسی تنظیمیں بنیں جو مسلح تھیں، جو اپنے خطوں کو آزاد کروانے کے لیے مسلح جنگ لڑتی رہیں۔ وہ بے تحاشا قتل بھی کرتے تھے، اغوا برائے تاوان سے پیسے بھی کماتے تھے، بستیوں کو آگ بھی لگاتے تھے، ایک خاص علاقے پر کنٹرول حاصل کر کے حکومت کا اعلان بھی کرتے تھے۔ لیکن کبھی اقوام متحدہ کے ایوانوں میں ایسی صدا نہیں گونجی کہ سب مل کر ان کو نیست و نابود کر دو۔ ان قوم پرست مسلح تنظیموں کے تو ہیڈ کوارٹر برطانیہ، امریکا اور فرانس میں قائم ہوتے رہے ہیں۔
ان کے وہ لیڈر جن کے حکم پر ان کے علاقوں میں قتل و غارت برپا ہوتی تھی، وہ مزے سے لندن، پیرس اور نیویارک سے بیٹھ کر احکامات جاری کرتے تھے آئرلینڈ کی مسلح جدوجہد کا سب سے زیادہ چندہ امریکا سے اکٹھا ہوتا تھا۔ کیا کسی کو سوویت یونین انقلاب کی ریڈ آرمی کے ہاتھوں یوکرین کے ان پچاس ہزار شہریوں کا قتل عام یاد نہیں جنھیں ہاتھ باندھ کر گولیوں سے بھون دیا گیا تھا اور کیا ان ظالمانہ کارروائیوں کا سربراہ یقیناً مغرب کے ممالک میں پنا ہ کے نام پر عیش کی زندگی نہیں گزارتا رہا۔ لیکن اس سب کو آزادی کی جدوجہد اور انقلاب کے لوازمات کے طور پر قبول کر لیا جاتا ہے۔ لیکن ابوبکر البغدادی جب عراق اور شام کے وسیع علاقے میں برطانیہ سے بھی رقبے میں بڑی حکومت قائم کر کے اسے خلافت کا نام دیتا ہے تو جہاں مغرب اس سے خوفزدہ ہو کر متحد ہو جاتا ہے وہیں مسلمانوں میں ہی نہیں بلکہ غیر مسلموں کے ہاں بھی اسے پرکھنے کا معیار بدل جاتا ہے۔
وہ اسے خلفائے راشدین کے معیار پر پرکھنے لگتے ہیں۔ وہ اس سے رحمدلی اور اقلیتوں کے تحفظ کی توقع کرتے ہیں، وہ اسے انتقام سے بالاتر حکومت کا سربراہ دیکھنا چاہتے ہیں۔ یہ ہے صرف ایک اصطلاح (Terminolgy) کو بدلنے یا استعمال کرنے کا فرق۔ اس فرق کو مغرب والے ہم سے بہت بہتر جانتے ہیں جنہوں نے آج سے نوے سال قبل اس خلافت کو توڑ کر قومی ریاستیں قائم کی تھیں۔ وہ جانتے ہیں کہ یہ لفظ مسلمانوں کی مرکزیت کی علامت ہے۔ ایک ایسی طاقتور مرکزیت، جو دنیا کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال سکتی ہے اور اس مرکزیت کا تصور صرف اور صرف روزمرہ زندگی میں اسلام کی اصطلاحات کے نفاذ سے جنم لیتا ہے۔
مسلمانوں کو ان اصطلاحات سے دور کرنے کے لیے گزشتہ تین صدیوں سے محنت کی گئی ہے۔ پوری مسلم امہ تقریباً سو سے زیادہ سالوں تک مغربی قوتوں کی غلام رہی ہے۔ اس دوران پوری دنیا سے عیسائی مشنریاں یہاں مختلف داؤ پیچ کے ساتھ تبلیغ کے