یہ لوگ مرنے کے بعد بھی

یہ لوگ مرنے کے بعد بھی
جاوید چوہدری  جمعرات 23 فروری 2017

شاون تھامس امریکی فوج سے تعلق رکھتا تھا‘ وہ 2 فروری 2017ء تک افریقہ کے ملک نائیجیریا میں تعینات رہا‘ وہ مقامی فوجیوں اور شہریوں کو دہشتگردوں سے لڑنے کی ٹریننگ دیتا تھا‘ تھامس دہشتگردوں سے نبٹنے کا ایکسپرٹ تھا‘ وہ سات مرتبہ افغانستان اور عراق میں تعینات رہا اور اس نے اس تعیناتی کے دوران بہادری کے بے شمار تمغے حاصل کیے‘ وہ دو فروری کو نائیجیریا میں روڈ ایکسیڈنٹ میں ہلاک ہو گیا۔
شاون تھامس کی بیوہ ٹی جے تھامس کو امریکی روایات کے مطابق نائیجیریا بلایاگیا‘ خاوند کی شناخت کرائی گئی‘ لاش کو تابوت میں بند کیا گیا‘ تابوت امریکی پرچم میں لپیٹا گیا اور وہ تابوت مسافر بردار جہاز میں سوار کرا دیا گیا‘ شاون تھامس کی لاش 17 فروری کو نارتھ کیرولینا پہنچی‘ جہاز رن وے پر اترا‘ ٹیکسی کرتا ہوا ٹنل تک آیا‘ مسافروں نے سیٹ بیلٹس کھولنی شروع کیں۔
اچانک جہاز میں پائلٹ کی آواز گونجی ’’خواتین وحضرات! میری آپ سے درخواست ہے آپ اپنی اپنی نشستوں پر تشریف رکھیں‘ ہم پہلے جہاز میں سوار ایک انتہائی اہم شخص کو نیچے اتاریں گے اور ہم سب اس کے بعد اتریں گے‘‘ لوگ حیرت سے دائیں بائیں دیکھنے لگے‘ لوگوں کی حیرت بجا تھی‘ امریکا دنیا کے ان چند ملکوں میں شمار ہوتا ہے جن میں کوئی شخص وی آئی پی نہیں ہوتا‘ صدر ہو یا ٹام‘ ڈک اور ہنری تمام لوگ برابر ہوتے ہیں چنانچہ ایسے ملک میں جہاز کے مسافروں کو کسی وی آئی پی کے لیے نشستوں پر بیٹھے رہنے کا حکم دینا واقعی عجیب تھا‘ لوگ حیرت سے ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے۔

پائلٹ کی اناؤنسمنٹ کے بعد امریکن آرمی کے سات باوردی جوان آئے‘ جہاز کا کارگو کا حصہ کھولا‘ شاون تھامس کا تابوت اتارا‘ تابوت کو جنازے کی گاڑی پر رکھا اور گاڑی کواسمارٹ سا سیلوٹ کیا‘ جہاز کا دروازہ کھلا‘ ایک اسمارٹ سارجنٹ تھامس کی بیوہ کے قریب آیا‘ سیلوٹ کیا اور اس سے جہاز سے اترنے کی درخواست کی‘ تابوت اور بیوہ کو دیکھ کر جہاز میں سراسیمگی پھیل گئی‘ مسافروں نے اونچی اونچی آواز میں رونا شروع کر دیا‘ یہ ساتھ ساتھ ’’امریکن ہیروز آر نیور بریڈ الون‘‘(امریکی ہیرو کبھی اکیلے دفن نہیں ہوتے) بھی گا رہے تھے۔
جہاز میں سوار ہر شخص کی آنکھ نم تھی اور وہ اونچی اونچی آواز میں تھامس کی قربانی کو خراج تحسین پیش کر رہا تھا‘ لوگ بیوہ کی طرف محبت‘ شفقت اور ممنونیت سے دیکھ رہے تھے‘ جہاز کے تمام مسافر آنسوؤں کے ساتھ آنجہانی تھامس کو ’’ٹریبوٹ‘‘ دے رہے تھے‘ یہ بیوہ کی طرف ہاتھ بھی ہلا رہے تھے‘ تھامس کی جنازہ گاڑی آہستہ آہستہ ائیر پورٹ سے باہر جا رہی تھی‘مؤدب باوردی جوان گاڑی کے پیچھے پیچھے چل رہے تھے۔
یہ لوگ جب نظروں سے اوجھل ہو گئے تو پائلٹ نے مسافروں کو اترنے کی اجازت دے دی‘ جہاز میں ایک خاتون رپورٹر بھی سوار تھی‘ خاتون نے اپنے موبائل سے واقعے کی ویڈیو بنائی اور یہ ویڈیو ’’فیس بک‘‘ پر چڑھا دی‘ یہ ویڈیو پچھلے چاردن سے سوشل میڈیا پر ’’وائرل‘‘ ہے‘ دنیا بھر کے پچاس لاکھ سے زائد لوگ یہ ویڈیو دیکھ چکے ہیں‘ یہ دیکھنے والے لوگ بھی آنجہانی تھامس کی خدمات کو سراہ رہے ہیں۔
قوم اگر زندہ ہو تو یہ اپنے شہداء کو اس شان سے رخصت کرتی ہے‘ ریاست ہزاروں میل دور روڈ ایکسیڈنٹ میں مرنے والے سپاہی کو بھی پرچم میں لپیٹتی ہے‘فوجی اعزاز کے ساتھ تابوت کو جہاز میں سوار کرتی ہے‘ وہ تابوت مسافروں کو روک کر نیچے اتارا جاتا ہے‘ لاش کو ائیر پورٹ پر سیلوٹ کیا جاتا ہے‘ بیوہ کو وی آئی پی کا درجہ دیا جاتا ہے‘ مسافر تہنیتی گیت گاتے ہیں اور آخر میں فیس بک پر فوٹیج دیکھنے والے بھی آنجہانی کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں‘ یہ وہ رویہ‘ یہ وہ روایات ہیں جو سپاہیوں کو میدان میں پسپا نہیں ہونے دیتیں‘ یہ سپاہیوں کو وطن کی محبت میں لڑنے اور مرنے کا حوصلہ دیتی ہیں۔
یہ وطن کے لیے جان قربان کرنے والوں کو پیغام دیتی ہیں تم اکیلے نہیں ہو‘ پوری قوم تمہارے ساتھ کھڑی ہے‘ تم جیتے تو ہم سب جیتیں گے‘ تم ہارے تو ہم سب ہاریں گے‘ تم زندہ رہے تو ہم سب زندہ رہیں گے اور تم مر گئے تو ہم سب مریں گے اور تم دفن ہوئے تو تم اکیلے دفن نہیں ہو گے‘ ہم سب تمہارے ساتھ دفن ہوں گے اور یہ روایات انھیں بتاتی ہیں‘ ہم تمہارے بعد تمہارے بچوں‘ تمہارے والدین اور تمہاری بیوہ کو اکیلا نہیں چھوڑیںگے‘ یہ ہماری نظروں میں صدر سے بڑے وی وی آئی پی ہوں گے‘ یہ روایات جوانوں کو لڑنے اور خون کے آخری قطرے تک مقابلے کا حوصلہ دیتی ہیں۔
ہم پاکستانی بدقسمتی سے ان روایات میں مار کھا رہے ہیں‘ ملک میں صرف پاک فوج شہداء اور ان کے لواحقین کا خیال رکھتی ہے‘ یہ ان کے بچوں کو تعلیم‘ صحت اور روزگار بھی دیتی ہے‘ یہ انھیں گھر بھی فراہم کرتی ہے اور یہ انھیں عزت بھی دیتی ہے جب کہ سول محکموں کے حالات بہت خراب ہیں‘ یہ محکمے ڈیوٹی کے دوران شہید ہونے والے ملازمین کے واجبات تک ادا نہیں کرتے‘ شہداء کی بیوائیں اور یتیم بچے گلیوں میں رل جاتے ہیں‘ آپ کو فائر بریگیڈ‘ محکمہ انہار‘ واپڈا‘ ریلوے اور سوئی سدرن گیس کے دفاتر میں ایسے بدنصیبوں کی سیکڑوں فائلیں ملیں گی جو فرائض کی ادائیگی کے دوران فوت ہوئے اور محکمے نے ان کی فائل بنا کر دفتروں میں ذلیل کر دی۔
ہماری پولیس کی حالت زیادہ خراب تھی‘ میں اکثر آئی جی اسلام آباد کے دفتر کے سامنے خواتین کو بیٹھے دیکھتا تھا‘ یہ پولیس کے ان اہلکاروں کی بیوائیں ہوتی تھیں جو ڈیوٹی کے دوران شہید ہوئے اور محکمے نے ان کے لواحقین کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہ دیکھا اور ان کی بیوائیں درخواستوں کے پلندے اٹھا کر دفتروں میں ماری ماری پھرنے لگیں‘ آپ قوم کا کمال دیکھئے۔
یہ ان دربدر بیواؤں کے باوجود پولیس سے توقع کرتی ہے یہ دہشت گردوں کو بھی روکے گی‘ یہ مجرموں کو بھی نتھ ڈالے گی‘ یہ امن و امان کو بھی مثالی بنائے گی اور یہ سڑکیں‘ گلیاں اور بازار بھی کھلے رکھے گی‘ یہ کیسے ممکن ہے؟ آپ خود فیصلہ کیجیے پولیس اہلکار جب روز اپنے ساتھیوں کے بچوں اور بیواؤں کو دفتروں میں رلتا دیکھیں گے تو کیا یہ قوم کے لیے جان دیں گے؟ کیا یہ وکٹ سے باہر نکل کر کھیلیں گے اور کیا یہ جماعت الاحرار‘ چھوٹو گینگ اور کراچی کے مافیاز کا مقابلہ کریں گے؟ جی نہیں‘ ہرگز نہیں۔
پنجاب حکومت نے بہرحال پہل کی‘ میاں شہباز شریف نے 13 فروری کے خودکش حملے میں شہید ہونے والے پولیس اہلکاروں اور افسروں کے لواحقین کے لیے شاندار پیکیج کا اعلان کیا‘ ڈی آئی جی احمد مبین اور ایس ایس پی زاہد گوندل کے لواحقین کو پانچ پانچ کروڑ روپے اور ایک ایک کنال کا تعمیر شدہ گھر دیاجائے گا‘ خاندان کو شہید افسروں کی ریٹائرمنٹ کی عمر تک تنخواہ اور دیگر مراعات بھی ملتی رہیں گی۔
تنخواہ میں ترقیاں بھی شامل ہوں گی اور پنشن بھی‘ افسروں کی بیوہ یا کسی ایک بچے کو سترہ گریڈ کی ملازمت بھی دی جائے گی‘ بچے ملک یا بیرون ملک جہاں تعلیم حاصل کرنا چاہیں تمام اخراجات حکومت برداشت کرے گی جب کہ دونوں افسروں کی بیٹیوں کو شادی کے وقت جہیز کی رقم بھی دی جائے گی‘ میاں شہباز شریف خودکش حملے میں شہید ہونے والے پانچوں پولیس اہلکاروں کے گھر بھی گئے اور ان کے لواحقین کے لیے بھی بھاری مراعات کا اعلان کیا۔
پولیس اہلکاروں کے لواحقین کو باقی تمام مراعات کے ساتھ ایک ایک کروڑ روپے اور دس دس مرلے کا گھر ملے گا‘ وزیراعلیٰ کا یہ فیصلہ قابل تحسین ہے‘ سندھ کی حکومت نے بھی تین دن بعد اس فیصلے کی تقلید کی‘ 16 فروری کو سیہون شریف کے خودکش حملے میں پولیس کانسٹیبل عبدالحلیم بھی شہید ہو گیا تھا‘ یہ کانسٹیبل سیکیورٹی گیٹ پر ڈیوٹی دے رہا تھا‘ وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے شہید کانسٹیبل اور دوسرے شہداء کے لواحقین کے لیے 15 لاکھ امداد کا اعلان کیا تھا۔
آصف علی زرداری نے شہید کانسٹیبل کے لیے امداد کروڑ روپے کرا دی‘ یہ اچھی بات ہے لیکن میری سندھ حکومت سے درخواست ہے آپ شہید کانسٹیبل کے لواحقین کو کروڑ روپے کے ساتھ ساتھ وہ ساری مراعات بھی دیں جو وزیراعلیٰ پنجاب نے شہید اہلکاروں کے خاندانوں کو دیں‘ میری خیبرپختونخوا حکومت سے بھی درخواست ہے منگل کے دن پولیس کے چار اہلکاروں نے تنگی میں تین خودکش حملہ آوروں کا مردانہ وار مقابلہ کیا۔
یہ اہلکار اگر ہمت اورجرات کا مظاہرہ نہ کرتے تو تنگی میں سو ڈیڑھ سو لوگ شہید ہو جاتے چنانچہ حکومت کو ان اہلکاروں کو آؤٹ آف دی وے ترقیاں بھی دینی چاہئیں اور نقد انعام بھی‘ یہ انعام مستقبل میں پولیس کی حوصلہ افزائی کرے گا‘ پولیس کا ہر اہلکار بھی دہشت گردوں کا ڈٹ کر مقابلہ کرے گا‘ میری وفاقی حکومت سے درخواست ہے آپ پنجاب کے شہید اہلکاروں جیسی مراعات پورے ملک کی پولیس کے لیے طے کر دیں۔
پولیس اہلکار جہاں بھی شہید ہوں ان کے لواحقین کو سانحہ لاہور میں شہید ہونے والے اہلکاروں جتنی مراعات مل جائیں‘ صوبے پولیس کے تمام اہلکاروں کی بھاری انشورنس بھی کرائیں‘ یہ انشورنس بھی دہشت گردی کی جنگ جیتنے میں اہم کردار ادا کرے گی اور آخری درخواست، قوم بھی ان لوگوں کو وہ عزت دے جو امریکی قوم تھامس جیسے سپاہیوں کو دیتی ہے‘ ہم نے جس دن یہ کرنا شروع کر دیا آپ یقین کریں یہ لوگ اس دن دہشت کی آگ کو اپنے سینے سے بجھانا شروع کر دیں گے‘ یہ اپنے لہو سے ہمارے گھروں اور ہمارے بچوں کی حفاظت کریں گے۔
آپ فیصلہ کیجیے یہ لوگ اگر ہماری بے حسی کے باوجود جانیں دے رہے ہیں تو ہم جب انھیں عزت دیں گے‘ ہم جب ان کے بچوں کے سروں پر ہاتھ رکھ دیں گے تو یہ ہمارے لیے کیا کیا کریں گے‘ مجھے یقین ہے یہ لوگ پھر مرنے کے بعد بھی قوم کی حفاظت کریں گے‘ یہ ہمارے دروازوں کا پہرہ دیں گے۔