نہ دن ہوتے ہیں اور نہ راتیں

نہ دن ہوتے ہیں اور نہ راتیں
جاوید چوہدری  اتوار 30 اکتوبر 2016

امریکیوں کی دو عادتیں حیران کن ہیں‘ پلاننگ اور یکجہتی‘ یہ مستقبل کی پچاس سال پہلے پلاننگ کر لیتے ہیں‘ آپ دوسری جنگ عظیم کے بعد کا زمانہ دیکھ لیجیے‘ دنیا جنگ عظیم کے بعد مکان‘ فیکٹریاں‘ ریستوران‘ ہوٹل اور کلب بنا رہی تھی جب کہ امریکا نے پچاس ریاستوں کو آپس میں ملانے کے لیے ’’ہائی ویز‘‘ بنانا شروع کر دیے۔
آپ کمال دیکھئے‘ دنیا کی سب سے بڑی ہائی وے اس وقت امریکا میں ہے‘ یہ ہائی وے 48 ہزار کلو میٹر لمبی ہے‘ یہ شمالی اور جنوبی امریکا کے تمام بڑے شہروں‘ ریاستوں اور ملکوں کو آپس میں ملاتی ہے‘ یہ موٹروے پین امریکن ہائی وے کہلاتی ہے اور یہ امریکا کی 50 ریاستوں کو لاطینی امریکا کے 15 ممالک سے جوڑتی ہے‘ یہ ہائی وے دوسری جنگ عظیم کے بعد 1950ء میں شروع ہوئی۔
دنیا کی تمام قوموں نے اس منصوبے کو پاگل پن قرار دیا لیکن امریکا اس پاگل پن پر ڈٹا رہا یہاں تک کہ جب یورپ نے 25 ممالک کو آپس میں جوڑنے کا فیصلہ کیا تو امریکا کو اس وقت پورے براعظم کو جوڑے ہوئے 30 سال ہو چکے تھے اور جب چین نے اقتصادی راہداری شروع کی تو پین امریکن ہائی وے کو مکمل ہوئے 70 برس گزر چکے تھے‘ آپ امریکی پلاننگ کی دوسری مثال لیجیے‘ امریکا نے1950ء ہی میں پورے ملک میں پارکنگ ایریاز اور پارکنگ پلازہ بنانا شروع کر دیے۔
یہ وہ زمانہ تھا جب بڑے شہروں میں پچاس ساٹھ سے زائد گاڑیاں نہیں ہوتی تھیں‘ نیویارک شہر میں اس وقت اڑھائی ہزار گاڑیاں تھیں‘ سڑکیں بھی سنگل تھیں‘ ٹریفک سگنل بھی نہیں تھے اور گاڑیوں کی اسپیڈ بھی تیس کلو میٹر فی گھنٹہ تھی لیکن امریکی حکومت نے اس وقت ملک بھر میں پارکنگ پلازہ بھی بنانا شروع کر دیے اور یہ قانون بھی بنا دیا تمام کمرشل بلڈنگز اور فلیٹس پلازوں میں پارکنگ ضرور ہو گی‘ دنیا نے اس وقت بھی امریکا کا مذاق اڑایا لیکن آج جب پوری دنیا ٹریفک اور پارکنگ کے خوفناک بحران کا شکار ہے۔
امریکا دنیا کا واحد ملک ہے جس میں یہ مسائل صرف مسائل ہیں‘ یہ بحران نہیں بنے‘ امریکا کے ہر شخص کو پارکنگ بھی ملتی ہے اور نوے فیصد ملک میں ٹریفک بھی بلاک نہیں ہوتی‘ یہ کیا ہے؟ یہ وژن ہے‘ امریکا نے 70 سال قبل یہ جان لیا تھا ٹریفک‘ پارکنگ اور ہائی ویز اکیسویں صدی کے بڑے مسائل ہوں گے چنانچہ اس نے 1950ء میں ان پر کام شروع کیا اور باقی دنیا سے پہلے ان مسائل کا مستقل حل نکال لیا۔
آپ اب یکجہتی کی طرف آئیے‘ امریکا دو سمندروں بحرالکاہل اور بحراوقیانوس کے درمیان واقع ہے‘ یہ دونوں سمندر ہر سال درجنوں خوفناک سونامی اور طوفان پیدا کرتے ہیں‘ یہ طوفان امریکا کی پانچ پانچ ریاستوں کو ہلا دیتے ہیں لیکن یہ طوفان امریکیوں کو زیادہ جانی نقصان نہیں پہنچا پاتے‘ کیوں؟ وجہ بہت دلچسپ ہے‘ امریکا نے دو سو سال قبل جان لیا‘ قدرتی آفتیں قدرتی ہوتی ہیں۔
یہ تمام انسانوں کے لیے ہوتی ہیں اور جب تک تمام انسان ان آفتوں کے خلاف اکٹھے نہ ہوں ان سے نبٹنا ممکن نہیں ہوتا چنانچہ امریکی حکومت نے آفتوں کے مقابلے کے لیے پوری قوم کو ون یونٹ بنانا شروع کر دیا‘ امریکی محکمہ موسمیات جب کسی ریاست یا شہر میں طوفان کی پیش گوئی کرتے ہیں تو حکومت سب سے پہلے اس طوفان کا نام رکھتی ہے‘ آپ نے قطرینہ‘ سینڈی اور ریٹا سنے ہوں گے‘ یہ کیا ہیں‘ یہ طوفان اور سونامیوں کے نام ہیں اور یہ نام امریکیوں نے ان کے آنے سے پہلے رکھ دیے تھے۔
امریکا یہ نام میڈیا میں جاری کر دیتا ہے اور میڈیا انھیں گھر‘ گھر پہنچا دیتا ہے یوں پوری قوم اس عفریت سے نبٹنے کے لیے اکٹھی ہو جاتی ہے اور یہ وہ اپروچ ہے جس کی وجہ سے امریکا دنیا میں قدرتی آفات میں سب سے کم جانی نقصان اٹھانے والا ملک ہے‘ قطرینہ امریکا کی تاریخ کا پانچواں خوفناک ترین طوفان تھا‘ یہ طوفان اگست 2005ء میں آیا۔
سات ریاستوں کے ڈیڑھ سو شہر اور قصبے متاثر ہوئے‘108 ارب ڈالر کا نقصان ہوا لیکن اموات صرف1836 تھیں‘ کیوں؟ کیونکہ لوگ آفت کے لیے تیار تھے‘ آپ 11 ستمبر2001ء کے واقعے کو بھی لے لیجیے‘ امریکا نے اس واقعے کو نائین الیون کا نام دیا‘ ملک کے اندر اور باہر اتنی پبلسٹی کی کہ پوری دنیا سول ایوی ایشن کے رولز اور اپنی طرز رہائش بدلنے پر مجبور ہو گئی۔
یہ مسائل سے نبٹنے کا امریکی انداز ہے‘ ہم پاکستانی یہ انداز مس کر رہے ہیں‘ ہم لوگ مسائل کو وقت سے پہلے دیکھ پاتے ہیں اور نہ ہی ان کے حل کی منصوبہ بندی کرتے ہیں‘ ہم مسائل کے خلاف اکٹھے بھی نہیں ہوتے چنانچہ ہمارے مسائل بحران بنتے رہتے ہیں اور یہ بحران مسلسل بڑھتے چلے جا رہے ہیں‘ ہم نے سوچے سمجھے بغیر 1970ء کی دہائی میں افغان وار میں چھلانگ لگا دی تھی‘ امریکا نے اس جنگ کو جہاد قرار دیا‘ ہم نے مان لیا‘ امریکا نے ہتھیار اور ڈالر دیے‘ ہم نے لے لیے‘ امریکا نے ملک بھر سے مجاہد بھرتی کرنے کا حکم دیا۔
ہم نے ہر نوجوان کے ہاتھ میں رائفل پکڑا دی اور امریکا نے افغان مہاجرین کو پناہ دینے کا اشارہ کیا‘ ہم نے اپنی سرحدیں کھول دیں‘ ہم نے اس وقت ایک لمحے کے لیے نہیں سوچا یہ جنگ جب پاکستان میں داخل ہو گی تو ہم اس سے کیسے نبٹیں گے‘ امریکا جب پیچھے ہٹ جائے گا تو ہم پچاس لاکھ مہاجرین کو کہاں سے کھلائیں گے‘ یہ جنگ جب ہماری ثقافت کو متاثر کرے گی تو ہم اس کے اثرات سے کیسے نکلیں گے‘ ہم آج جن لوگوں کو ٹرینڈ کر رہے ہیں ہم ان سے اسلحہ کیسے واپس لیں گے اور ہم جس امریکی جنگ کو ’’جہاد‘‘ اور جس نظریہ ضرورت کو اسلام قرار دے رہے ہیں ہم اس سے جان کیسے چھڑائیں گے؟
یہ سارے سوال 1990ء میں سانپ بن کر ہمارے سامنے کھڑے ہو گئے اور ہمارے پاس ان لوگوں کو افغان وار کے بعد مقبوضہ کشمیر میں ’’پارک‘‘ کرنے کے سوا کوئی آپشن نہ بچا‘ ہم نے یہ آپشن اڈاپٹ کیا اور یہ ہماری دوسری غلطی تھی‘ پھر نائین الیون ہو گیا اور ہم نے غلطیوں کی ماں سے شادی کر لی‘ ہم نے 30 سال کی تاریخ کو ’’ری ورس‘‘ کر دیا‘ ہم نے اپنے پیدا کردہ افغان مجاہدین کو دہشتگرد بھی قرار دے دیا اور ان کے خلاف امریکا کے اتحادی بھی بن گئے‘ ہم نے اس ’’ری ورسل‘‘ کے وقت بھی یہ نہیں سوچا تھا دوست جب دشمن بنتے ہیں تو یہ نسلیں تباہ کر دیتے ہیں اور پھر ہماری نسلیں تباہ ہوئیں۔
جنرل پرویز مشرف نے دوسری خوفناک غلطی کشمیری جہاد کے خاتمے کی شکل میں کی‘ اس غلطی کے دو انتہائی خطرناک نتائج نکلے‘ کشمیر کے لیے جانیں دینے والوں کو محسوس ہوا ’’ہم استعمال ہوتے رہے تھے اور ہم جب استعمال ہو چکے تو ہمیں مونگ پھلی کے چھلکے کی طرح پھینک دیا گیا‘‘ یہ احساس ملک کو دو ایسے خوفناک دشمنوں کے نرغے میں لے گیا جو کبھی ہمارے ’’قومی اثاثے‘‘ ہوتے تھے‘ ہمارے ایک طرف افغان مجاہدین تھے اور دوسری طرف کشمیری مجاہدین۔
دوسرا نتیجہ سفارتی تھا‘ جنرل مشرف کے ایک اعلان سے افغانستان اور مقبوضہ کشمیر میں امن ہو گیا جس کے بعد دنیا نے اس افغان اور بھارتی لیڈر شپ پر یقین کر لیا جو مسلسل یہ کہتی تھی خطے میں دہشتگردی کی ہر واردات کے پیچھے پاکستان ہوتا ہے‘ دنیا نے اس یقین کے بعد ’’ڈو مور‘ ڈومور‘‘ کرنا شروع کر دیا یہاں تک کہ اب بھارت اور افغانستان میں سائیکل کا ٹائر بھی پھٹے تو پوری دنیا ہمیں شک کی نظروں سے دیکھنے لگتی ہے اور دنیا اس میں بجا بھی ہے‘ دنیا کو اس نہج تک ہم خود لائے ہیں‘ دنیا کے اس پرسیپشن نے ہمیں سفارتی تنہائی میں دھکیل دیا‘ ہم اکیلے ہوتے چلے گئے۔
ہم کوئٹہ جیسے واقعات پر دل گرفتہ ہو جاتے ہیں‘ ہم سو پچاس لاشیں اٹھاتے وقت سنجیدہ بھی ہو جاتے ہیں لیکن یہ سنجیدگی چند دن قائم رہتی ہے اور پھر ہم ہوتے ہیں اور شہر آرزو ہوتا ہے‘ آرزوؤں کا یہ شہر اگلے واقعے تک آباد رہتا ہے‘ پھر ایک اور واقعہ ہوتا ہے اور ہم دوبارہ گریہ و زاری شروع کر دیتے ہیں‘ گریہ و زاری اور غیر سنجیدگی کا یہ سلسلہ کب تک چلے گا‘ ہمیں آج یہ فیصلہ کرنا ہو گا۔
ہمیں ماننا ہو گا ہم پلاننگ کر رہے اور نہ پوری قوم کو تیار کر رہے ہیں‘ ہمیں یہ بھی ماننا ہو گا یہ مائینڈ سیٹ کی جنگ ہے اور یہ ایک آدھ سال میں ختم نہیں ہو گی‘ ہمیں کم از کم دس سال لڑنا ہو گا‘ ہمیں ملک میں ایمرجنسی بھی ڈکلیئر کرنا ہو گی‘ ہمیں ملک کے تمام حساس مقامات کی سیکیورٹی کے ’’ایس او پیز‘‘ بھی بنانا ہوں گے‘ ہمیں سیکیورٹی کو نصاب کا حصہ بھی بنانا ہو گا‘ ہمیں سیکیورٹی گارڈز پرائیویٹ ہوں یا سرکاری ان کو ٹریننگ بھی دینا ہو گی۔
ہمیں لڑنے والی پولیس اور ایف آئی آر والی پولیس کو بھی الگ الگ کرنا ہو گا‘  ہمیں بڑے شہر ملٹری پولیس کے حوالے کرنا ہوں گے‘ ہمیں مذہب کو افراد تک محدود کرنا ہو گا اور ہمیں سول اور ملٹری کی خلیج مکمل ختم کرنا ہو گی۔ ہمیں یہ بھی ماننا ہو گا ہم نے 40 سال پلاننگ کے بغیر گزار دیے۔
ہم نے اگر اب بھی منصوبہ بندی نہ کی اور ہم نے اگر اب بھی پوری قوم کو تیار نہ کیا تو ہم تیاری کے قابل رہیں گے اور نہ ہی منصوبہ بندی کے‘ کیوں؟ کیونکہ قدرت بے حس قوموں سے دن بھی چھین لیتی ہے اور راتیں بھی چنانچہ ہمیں اپنے دشمن امریکا سے سیکھنا ہو گا‘ ہمیں ماننا ہو گا دشمن انسان کا بہترین استاد ہوتا ہے اور ہم امریکا کے پیدا کردہ مسائل کو امریکی اپروچ ہی سے حل کر سکتے ہیں اور وہ اپروچ ہے یکجہتی اور پلاننگ۔