نوے فیصد

نوے فیصد
جاوید چوہدری  اتوار 21 فروری 2016

’’تھینک یو گاڈ‘‘ سرگوشی آواز میں تبدیل ہو گئی اور آواز نے مجھے چونکا دیا، میں نے اس کی طرف دیکھا، وہ آنکھیں بند کر کے تسبیح کر رہی تھی، اس کے چہرے پر سفید دودھیا جھریوں کا جال بچھا تھا، میں نے اس سے پہلے کسی چہرے پر اتنی جھریاں نہیں دیکھی تھیں، شکنیں ہی شکنیں، جھریاں ہی جھریاں لیکن ان جھریوں، ان شکنوں میں بھی ایک تقدس تھا، اس کے چہرے پر نور بھی تھا اور کشش بھی اور یہ کشش اور یہ نور دیکھنے والے کی نظروں کو جکڑ لیتا تھا، میں بھی دیر تک اسے دیکھتا رہا۔
ٹرین چل رہی تھی، کھڑکیوں کے منظر  بدل رہے تھے، پہاڑ جھیلوں میں گر رہے تھے، جھیلیں جنگلوں میں بدل رہی تھیں، جنگل دریاؤں میں تبدیل ہو رہے تھے، دریا آبشار بن رہے تھے، آبشاریں کھیتوں میں ڈھل رہی تھیں، کھیت دیہات اور گاؤں بن رہے تھے اور گاؤں شہروں کی شکل میں تبدیل ہو رہے تھے اور یہ سب مل کر نیلے آسمان میں جذب ہو رہے تھے، ہم جرمنی سے سوئٹزرلینڈ میں داخل ہو رہے تھے، ٹرین کی کھڑکیاں عظیم فوٹوگراف بن چکی تھیں، اپریل کا مہینہ تھا، سورج کی کرنوں میں تندی آ چکی تھی، ریلوے لائین کے دونوں طرف پھول ہی پھول اور سبزہ ہی سبزہ تھا، ہمارا ڈبہ نوجوان سیاحوں سے بھرا تھا، یہ لوگ جرمنی کے کسی غیر معروف شہر سے ٹرین میں سوار ہوئے تھے۔
یہ مہینوں کے جگراتے کا شکار تھے چنانچہ یہ ٹرین میں سوار ہوتے ہی آڑھے ترچھے ہو کر لیٹ گئے، ان کے رک سیک پورے ڈبے میں بکھرے پڑے تھے اور ہم دونوں ان بکھرے رک سیک اور سوئے نوجوانوں میں بے وقوفوں کی طرح باہر دیکھ رہے تھے، وہ میرے سامنے کی نشست پر بیٹھی تھی، وہ ننوں کے سیاہ لباس میں ملبوس تھی، سر پر اسکارف تھا، چہرے پر بزرگی کی جھریاں تھیں اور ہاتھ میں پتھر کی موٹی تسبیح۔ میں آپ کو یہ بھی بتاتا چلوں ،تسبیح ہم دونوں میں ’’کامن‘‘ تھی، میرے ہاتھ میں بھی تسبیح تھی، میں بھی اس کی طرح ورد کر رہا تھا مگر میرے ورد اور اس کے ورد میں فرق تھا۔

وہ عبرانی زبان میں بدبدا رہی تھی اور میں عربی میں اللہ تعالیٰ کا ذکر کر رہا تھا، یہ تسبیح مجھے پروفیسر احمد رفیق صاحب نے 1993ء میں دی تھی، اللہ تعالیٰ کا لاکھ لاکھ کرم ہے، یہ تسبیحات اس وقت سے میرے شب و روز کا حصہ ہیں، اللہ نے رحم فرمایا اور میں پچھلے 22 برسوں سے بلاناغہ یہ تسبیحات کر رہا ہوں، میں دنیا کے جس کونے میں بھی رہا اور جس حالت میں بھی رہا میری تسبیح جاری رہی، میں اللہ سے رابطے میں رہا، مجھے کبھی اس کی نعمتوں کے شکر اور اپنی کوتاہیوں، خامیوں اور گناہوں پر توبہ کے بغیر نیند نہ آئی، میں ڈسپلن میں رہنے والا جانور ہوں اور اس ڈسپلنڈ جانور کو اپنی تسبیح کے ڈسپلن پر سب سے زیادہ ناز ہے، پروفیسر احمد رفیق میرے پیر یا استاد نہیں ہیں، یہ میرے محسن ہیں، یہ ان کا احسان تھا انھوں نے عین جوانی میں میرے ہاتھ میں تسبیح پکڑا دی اور میں اللہ کے ذکر کی کشتی میں بیٹھ کر زندگی کے مشکل اور بپھرے دریاؤں سے گزرتا چلا گیا، میں آج بھی دن میں درجنوں مرتبہ پروفیسر صاحب کے لیے دعا کرتا ہوں اور ان کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔
میں ٹرین کی طرف واپس آتا ہوں، ہم دونوں میں تسبیح کامن تھی، اس بزرگ نن کی انگلیاں بھی تسبیح پر چل رہی تھیں اور میں بھی تسبیح رول رہا تھا، وہ بھی غیر شعوری انداز سے میری تسبیح کی طرف دیکھ رہی تھی اور میری نظریں بھی باہر کے مناظر سے پھسلتی ہوئیں اس کی تسبیح پر آ کر رک جاتی تھیں، ہم دو مختلف تہذیبوں، مذاہب اور عمر کے لوگ تھے لیکن تسبیح نے ہم میں ایک تعلق سا پیدا کر دیا، ہم اجنبی ہونے کے باوجود اجنبی نہیں رہے۔
اس نے اچانک اوپر دیکھا، تھینک یو گاڈ کا نعرہ لگایا اور دوبارہ تسبیح رولنے لگی، میں نے مسکرا کر اس کی طرف دیکھا اور سرگوشی کی ’’آج موسم کتنا اچھا ہے‘‘ اس نے ہاں میں گردن ہلائی اور جواب دیا ’’ہم جنت میں رہ رہے ہیں اور جنت کے سارے موسم شاندار ہوتے ہیں‘‘ میرے ہاتھ میں گفتگو کا سرا آ گیا، میں نے اس سے پوچھا ’’کیا آپ جنت پر یقین رکھتی ہیں‘‘ اس کی آنکھوں کی مسکراہٹ میں اضافہ ہو گیا، اس نے سینے پر پھونک ماری، دائیں ہاتھ سے ماتھے اور بالائی جسم پر کراس کا نشان بنایا اور آہستہ آواز میں بولی ’’انسان جب کھلی آنکھوں سے کسی چیز کو دیکھ لے تو پھر انکار کی گنجائش نہیں رہتی‘‘ مجھے یہ فقرہ سمجھنے میں تھوڑی دیر لگ گئی، مجھے محسوس ہوا، وہ شاید یہ بتانا چاہتی ہے۔
اس نے جنت اپنی آنکھوں سے دیکھی ہے لہٰذا اسے جنت کے وجود پر پورا یقین ہے، میں نے اس سے پوچھا ’’کیا آپ نے جنت دیکھی ہے‘‘ اس نے مسکرا کر جواب دیا ’’دیکھی کیا مطلب، میں جنت روز دیکھتی ہوں‘‘ میں نے پوچھا ’’کیا مطلب‘‘ اس نے تسبیح اکٹھی کی، بیگ کھولا، تسبیح باہر کی جیب میں رکھی اور ہنس کر بولی ’’میں اس دنیا کو جنت اور اپنے اس جنم کو جنتی سمجھتی ہوں‘‘ مجھے اس کا تصور عجیب لگا، میں نے اس سے وضاحت چاہی، اس نے جواب دیا ’’میں عیسائیوں کے ایک ایسے گروپ سے تعلق رکھتی ہوں جو اس دنیا کو جنت سمجھتا ہے، ہمارا خیال ہے۔
ہم اللہ کے نیک لوگ ہیں، اللہ تعالیٰ نے ہماری نیکیاں اور ہماری اچھائیاں دیکھ کر ہمیں اپنی تخلیق کردہ خوبصورت ترین جگہ پر بھجوا دیا، ہم اللہ تعالیٰ کے منتخب کردہ لوگ ہیں اور یہ زمین اللہ کی چنی ہوئی جگہ ہے اور ہم منتخب کردہ لوگ اللہ کی چنی ہوئی جگہ کو انجوائے کر رہے ہیں‘‘ وہ خاموش ہو گئی، یہ میرے لیے ایک نئی بات، ایک نیا زاویہ تھا، میں نے زندگی کو اس سے پہلے کبھی اس زاویئے سے نہیں دیکھا تھا لہٰذا میں حیرت سے اس کی طرف دیکھنے لگا، وہ میری پریشانی بھانپ گئی، وہ مسکرائی اور پھر بولی ’’ہم لوگوں کا خیال ہے، ہم جب مرنے کے بعد اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش ہوں گے تو اللہ ہم سے پوچھے گا۔
میں نے تمہیں اپنی جنت میں بھجوایا تھا، تم ستر سال میری جنت میں رہے، اب بتاؤ تم نے وہاں کیا کیا اور اس کے ساتھ ہی ہمارا امتحان شروع ہو جائے گا‘‘ وہ دوبارہ رک گئی، میں نے لمبا سانس لیا اور عرض کیا ’’لیکن آسمانی مذاہب کا تصور مختلف ہے، یہ سمجھتے ہیں، یہ دنیا ایک عارضی امتحان گاہ ہے، انسان پرچہ حل کر کے واپس اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش ہو گا اور اللہ تعالیٰ پرچہ دیکھ کر مارکنگ کرے گا، پاس ہونے والے جنت میں چلے جائیں گے اور فیل شدہ دوزخ کا رزق بن جائیں گے۔
بات ختم‘‘ وہ مسکرائی اور بولی ’’ہم بھی اسی تصور پر ایمان رکھتے ہیں بس ہماری تشریح ذرا سی مختلف ہے‘‘ میں نے عرض کیا ’’مثلاً‘‘ وہ بولی ’’مثلاً کیا جنت میں ظلم ہوگا؟‘‘ میں نے انکار میں سر ہلا دیا، وہ بولی ’’کیا اللہ تعالیٰ نے ہمیں زمین پر ظلم سے پرہیز کا درس نہیں دیا، کیا یہ ہمیں اپنی اس جنت میں ظلم سے باز رہنے کا حکم نہیں دیتا‘‘ میں خاموش رہا، وہ بولی ’’آپ دنیا کا کوئی مذہب کھول کر دیکھیں، آپ کو خدا اس مذہب کے ذریعے جھوٹ، مکر، فریب، ظلم، زیادتی، منافقت، بے ایمانی، ناانصافی، اقرباء پروری اور لالچ سے روکتا نظر آئے گا، کیوں؟ کیونکہ خدا اپنی جنت میں یہ بدبودار کانٹے پسند نہیں کرتا، وہ اس جنت میں حلیمی، سادگی، انکسار، ایثار، محبت، شائستگی، رواداری، فیاضی، مہمان نوازی اور احترام کے پھول دیکھنا چاہتا ہے چنانچہ جو بھی انسان اس کی جنت سے یہ پھول توڑ کر اس میں کانٹے بونے کا گناہ کرتا ہے، خدا اس سے ناراض ہو جاتا ہے، وہ اسے واپس بلاتا ہے اور بدترین جگہ یعنی دوزخ میں پھینک دیتا ہے‘‘۔
وہ ابھی مزید بولنا چاہتی تھی لیکن میں نے اس کی بات درمیان سے اچک لی ’’لیکن جو لوگ اس کے امتحان میں پاس ہو جاتے ہیں؟‘‘ اس نے قہقہہ لگایا اور بولی ’’مجھے یقین تھا، آپ یہ ضرور پوچھیں گے کیونکہ یہ سوال جنت کے اسلامی تصور کا حصہ ہے‘‘ وہ سانس لینے کے لیے رکی اور بولی ’’ہمارا فرقہ یہ سمجھتا ہے، خدا اپنی جنت کے اصولوں کا احترام کرنے والوں کو اس جنت کے اعلیٰ ترین درجوں میں بھجوا دیتا ہے، یہ دوبارہ اسی زمین پر پہلے سے بہتر مقام پر بھجوا دیے جاتے ہیں، جسم اور خطہ بدل جاتا ہے لیکن زندگی یہیں رہتی ہے‘‘ میں نے قہقہہ لگایا اور عرض کیا ’’مگر یہ تو آواگون ہے۔
ایک کے بعد دوسرا جنم اور دوسرے کے بعد تیسرا اور آپ اس کے بعد کائنات کی آخری سانس تک مختلف شکلوں میں پیدا ہوتے رہیں‘‘ اس نے سنجیدگی سے میری طرف دیکھا اور بولی ’’ہم آواگون پر یقین نہیں رکھتے، ہم بس یہ سمجھتے ہیں، یہ دنیا ہی دراصل جنت ہے، آپ کوئی مذہبی کتاب کھول کر دیکھ لیں، آپ کو اس میں جنت کا وہی نقشہ ملے گا جو ہم اس وقت ٹرین کی کھڑکی سے باہر دیکھ رہے ہیں، یہ جنت اگر جنت نہیں تو پھر خدا ہمیں کیوں یہ حکم دیتا ہے، آپ میری بنائی دنیا کو گھوم پھر کر دیکھو، وہ ہمیں ان تمام حرکتوں سے کیوں روکتا ہے جس سے اس کی جنت کی خوبصورتی اور نظام بگڑ سکتا ہے۔
وہ ہمیں اپنی اس جنت (زمین) پر فساد پھیلانے سے کیوں باز رکھتا ہے اور یہ زمین اگر جنت نہیں ہے تو پھر اللہ تعالیٰ نے اس زمین پر اپنے مقدس ترین گھر خانہ کعبہ، ویٹی کن سٹی، دیوار گریہ اور بیت اللحم کیوں بنائے ہیں، وہ ہر وقت ہماری شہ رگ کے قریب کیوں رہتا ہے اور وہ ہر وقت ہمارے ساتھ کیوں چلتا ہے؟‘‘ وہ خاموش ہو گئی، میں نے پوچھا ’’کیا آپ لوگ عبادت کرتے ہیں‘‘ اس نے فوراً جواب دیا ’’ہاں ہم سارا دن، ساری رات عبادت کرتے ہیں، ہم جب بھی اللہ تعالیٰ کی اس جنت کو دیکھتے ہیں، ہم زور سے نعرہ لگاتے ہیں، تھینک یو گاڈ اور اس کے بعد دل ہی دل میں دہراتے ہیں یا پروردگار آپ کا بہت شکریہ، آپ نے ہمیں اپنی جنت دیکھنے اور اس میں چند برس گزارنے کا موقع دیا، یہ ہماری عبادت ہے‘‘ وہ رکی اور اس کے بعد میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بولی ’’اور ہاں ہمارے فرقے کے لوگ اللہ کی اس جنت میں سفر کرتے رہتے ہیں۔
ہم اسے دیکھتے رہتے ہیں اور اللہ کا شکر ادا کرتے رہتے ہیں کیونکہ ہمیں یقین ہے، اللہ ہم سے یہ بھی ضرور پوچھے گا، تم نے میری جنت کا کتنا حصہ دیکھا تھا اور ہم سمجھتے ہیں، اللہ جب ہم سے ہمارا یہ وائیوا لے تو ہمیں نوے فیصد سے زیادہ نمبر لینے چاہئیں‘‘ وہ رکی، بیگ کھولا، تسبیح نکالی، آنکھیں بند کیں اور تسبیح کرنے لگی، میں پریشانی میں کبھی کھڑکی سے باہر بکھری جنت کو دیکھتا اور کبھی اس بوڑھی نن کو جس کے چہرے کی جھریاں لٹھے کے شکن آلود رومال کی یاد دلاتی تھیں۔