مقامی حکومتیں کیوں ضروری ہیں؟

مقامی حکومتیں کیوں ضروری ہیں؟

تحریر یاسر محمد خان

قدیم زمانے سے چین میں تین مذاہب پروان چڑھے۔ یہ تائوازم، بدھ ازم اور کنفیوشس ازم کہلاتے ہیں۔ تائو ازم اور بدھ ازم میں ترکِ دنیا کو روحانی سکون و قرار کا سرچشمہ قرار دیا جاتا تھا۔ اُن کے بعد چین نے اپنا سب سے بڑا مذہبی راہنما کنفیوشس پیدا کیا۔ اُس نے اپنی تعلیمات میں تائوازم اور بدھ ازم کی روح شامل کرتے ہوئے انہیں دنیا میں بہترین زندگی گزارنے کے اصولوں میں ڈال لیا۔ ڈھائی ہزار سال بعد بھی چین میں کنفیوشس کو ایک مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ سونگ خاندان کی حکومت سے لے کر آج تک چینی بچوں کو جو پہلے اسباق پڑھائے جاتے ہیں، وہ کنفیوشس کے ان خیالات سے شروع ہوتے ہیں: ’’قومی زندگی کی تنظیم کرنے والے سب سے پہلے اپنی گھریلو زندگی کو باقاعدہ بنائیں۔ جو لوگ گھریلو زندگی کو منظم بنانا چاہتے ہیں، وہ سب سے پہلے ذاتی زندگی کی ترتیب و تہذیب کریں۔ وہ سب سے پہلے اپنے دلوں کو پاک صاف کریں۔ دلوں کو پاک صاف کرنے والے سب سے پہلے نیتو ںکو مضبوط بنائیں۔ نیتوں کو مخلص بنانے والے سب سے پہلے سمجھ بوجھ پیدا کریں۔ سمجھ بوجھ اشیاء کے علم کی چھان بین سے پید اہوتی ہے۔ سمجھ بیدار ہوجائے تو نیت اور ارادہ مخلص ہوجاتا ہے۔ جب نیت صاف اور ارادہ مخلص ہوجائے تو دل صاف و پاک ہوجاتا ہے۔

جب دل صاف ہوجائے تو ذاتی زندگی کی تہذیب و تربیت پوری ہوجاتی ہے۔ ذاتی زندگی کی تربیت و تہذیب ہوجائے تو گھریلو زندگی منظم اور باقاعدہ ہوجائے گی۔ جب گھریلو زندگی منظم ہوجائے تو قومی زندگی میں بھی ایک نہایت گہرا نظم آجائے گا۔ راہنما سے لے کر ایک عام آدمی کی زندگی تک ہر چیز کی بنیاد اس بات پر ہے کہ ذاتی زندگی کی ترتیب و تہذیب کی جائے۔ یہ ممکن ہی نہیں کہ بنیاد باقاعدہ اور ٹھیک نہ ہو تو ساری عمارت درست اور مضبوط ہو۔ دنیا میں ایسا کوئی درخت نہیں جس کا تنا تو کمزور اور نازک ہو اور اُس کی اوپر کی شاخیں، ٹہنیاں بے حد بھاری بھرکم اور مضبوط ہوں۔ اس کائنات کی ہر چیز کی کوئی نہ کوئی علت موجود ہے اور ہر چیز کا دوسری کے ساتھ تعلق اٹل ہے۔ اسی طرح انسانی معاشروں میں ابتدا اور انتہا دونوں موجود ہیں۔ کسی بھی انسانی ریاست کے نیچے والے حصوں میں اگر کوئی ٹیڑھ اور کجی ہے تو وہی سب سے اوپر بھی اسی طرح واشگاف انداز میں نظر آئے گی۔ آپ پانی کو بلوکر اُس میں سے مکھن نہیں نکال سکتے۔ آپ جنگلی جڑی بوٹیاں کھیتوں میں اُگاکر اُس سے پیٹ کے لیے اناج حاصل نہیں کرسکتے۔

آپ کے کھانے کے ڈونگوں میں جو کچھ ہوگا وہی اُلٹ کر پلیٹوں میں نظر آجائے گا۔ بڑے سے بڑا لیڈر بھی معاشرے کو نچلی سطح پر ٹھیک کیے بغیر ترقی اور کامیابی کے پہیے کو آگے نہیں دھکیل سکتا۔‘‘

پاکستانی تاریخ قدم قدم پر اس آفاقی اصول سے روگردانی کرتی نظر آتی ہے۔ اگر نچلی سطح پر اختیارات کی منتقلی کی بات کی جائے تو ہمیں جمہوریت کی روح کہیں بھی کارفرما نظر نہیں آتی۔ ہمارے لیڈر سارے کی ساری پاور اپنے ہاتھوں میں مرتکز کرنے کی تگ و دور میں لگے رہے۔ یوں انہوں نے آمروں کے لبادے پہن لیے۔ ہم بلدیاتی انتخابات کا معاملہ دیکھتے ہیں۔ اگر قیامِ پاکستان سے لے کر اب تک کی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو خاصی مایوسی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ پہلے 10 برس تک جمہوری حکومتیں اس درجہ کمزور رہیں کہ ان کی ساری تگ و دور اپنے وجود کو معدوم ہونے سے بچانے میں لگی رہیں۔ ایوب خان کے 10 سالوں میں بی ڈی ممبرز کا نظام وضع کیا گیا۔ مشرقی اور مغربی پاکستان میں 80 ہزار بی ڈی ممبرز چنے گئے۔ یہی ممبرز صوبائی اور قومی اسمبلیوں کا انتخابی ادارہ (الیکٹرول کالج) بن گئے۔ ہمیں ماننا پڑے گا کہ ایوب خان کے دور میں اس سسٹم نے کئی اچھے کام کیے۔ گائوں، دیہات، قصبوں، تحصیلوں اور ضلعوں میں عوامی بہبود کے ان گنت منصوبے پایۂ تکمیل کو پہنچے۔ ایوب خان کی اقتداء سے رخصتی کے ساتھ ہی یہ سسٹم بھی دھڑام سے نیچے آگرا۔ ملک کے دوسرے فوجی حکمران یحییٰ خان دوبارہ بلدیاتی اداروں کو اپنے پائوں پر کھڑا نہیں کرسکے۔ ذوالفقار علی بھٹو نے بلدیاتی اداوں کے استحکام کے لیے مثبت کوششوں سے اجتناب کیا۔ صدر ضیاء الحق نے 3 بار بلدیاتی انتخابات کروائے اور 11 سالوں میں ملک میں ترقیاتی کاموں کی نئے سرے سے داغ بیل ڈالی۔ تواتر کے ساتھ ہونے والے اس پراسیس کے نتیجے سے لیڈر شپ اُبھر کر اوپر آئی۔ بے نظیر نے اپنے والد کی طرح کا طرزِ عمل اپنایا اور اس باب میں کوئی اضافہ نہ کیا۔ نوازشریف کے پہلے دورِ حکومت میں 1991ء میں پنجاب میں بلدیاتی انتخابات ہوئے۔ دوسرے صوبے اس نوازش سے محروم رہے۔ نواز شریف کے دوسرے دور میں 1997ء کے ایک کابینہ اجلاس میں اعلان ہوا کہ 1998ء میں بلدیاتی انتخابات ملک بھر میں ہوں گے۔ 1999ء ختم ہونے پر آگیا، لیکن اس جانب حکومت نے کوئی قدم نہ اُٹھایا۔ 12 اکتوبر کے انقلاب کے بعد جنرل مشرف نے 2001ء میں مقامی حکومتوں کا نظام متعارف کروایا۔ ناظم اور نائب ناظم چنے گئے۔ انہوں نے کمشنروں اور ڈپٹی کمشنروں کی جگہ لے لی۔ اس طرح بیوروکریٹوں کی فرعونیت سے عوام کو نجات ملی۔ کئی بڑے شہروں میں ان ناظمین نے آبادیوں کا نقشہ بدل کر رکھ دیا۔ عوامی فلاح و بہبود کو چار چاند لگادیے گئے۔ 2008ء سے 2013ء کے دوران پیپلز پارٹی کے دورِ حکومت میں ناظمین کو عضو معطل بنادیا گیا۔ فنڈز روک لیے گئے۔ ترقیاتی منصوبے ادھوے چھوڑ دیے گئے۔ سڑکیں اور پل مکمل نہ ہوپائے۔ یہ سارے فنڈز قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے من پسند اراکین میں بانٹ دیے گئے۔ یوں 2009ء میں بلدیاتی ادارے توڑکر اُن کی جگہ ایڈمنسٹریٹرز مقرر کردیے گئے۔

2013ء میں اس حکومت نے اقتدار میں آکر بلدیاتی انتخابات کو سردخانے میں ڈال دیا۔ 8 نومبر 2013ء کو قومی اسمبلی نے ایک متفقہ قرارداد منظور کی جس میں ان انتخابات کو ملتوی کردیا گیا۔ عذر یہ تراشا گیا کہ 20 دنوں میں 5 کروڑ بیلٹ پیپرز چھپوانا ناممکن ہے۔ الیکشن کمیشن نے اس اعتراض کو مسترد کردیا اور صوبائی بلدیاتی انتخابات کا ایک شیڈول جاری کردیا۔ بلوچستان میں بلدیاتی انتخابات مکمل ہوچکے۔ 25 اپریل 2015ء کو 17 سال بعد 42 کنٹونمنٹ بورڈز کا الیکشن ہوگیا۔ خیبرپختونخواہ، سندھ اور پنجاب کا الیکشن ہونا ابھی باقی ہے۔ یہ سب کچھ شدید عدالتی دبائو کے نتیجے میں ہورہا ہے۔ ہماری سیاسی قیادت نے اس بھاری پتھر کو بڑی بے دلی سے اُٹھانے کا مظاہرہ کیا ہے۔ ہمارے صوبائی اور مرکزی لیڈر اپنے اختیارات نچلی سطح پر عوامی نمایندوں کو سوپنا نہیں چاہتے۔ ہماری بڑی سیاسی پارٹیاں شخصی اقتدار کی حامل نہیں۔ یہ مخصوص خاندانوں کی جاگیریں ہیں۔ ان پارٹیوں میں قیادت کے انتخاب کے لیے کبھی الیکشن نہیں ہوتے۔ یہ لیڈر ہر شے کو اپنی مٹھی میں جکڑ کر رکھنا چاہتے ہیں۔ یہ ہر اُس بلدیاتی ادارے کے دُشمن ہیں جو ان کی مرضی اور منشاء کے بغیر وجود میں آجائے۔ یہ سارے خزانوں کی کنجیاں اپنے پاس رکھنا چاہتے ہیں۔ اس مائنڈ سیٹ کو وہ ممبران اسمبلی اور مضبوط کرتے ہیں جو بھاری سرمایہ لگاکر اسمبلیوں تک پہنچتے ہیں۔ وہ مقامی سطح پر تعمیر و ترقی کے لیے سارے فنڈز اور گرانٹیں خود ہڑپ لیتے ہیں۔ اس حمام میں ننگوں کا یک جم غفیر ہے جو ہمہ وقت یہاں جمع رہتا ہے۔ یہ اقتدا رکے شجر سے گرنے والے ہر پھل کا شیرہ شیر مادر کی طرح جزو بدن بنالیتا ہے۔ یہی وجہ ہے ہماری سڑکیں ٹوٹی پھوٹی، ہمارے فٹ پاتھ کچرے کے ڈھیرے، ہمارے پارک اُجاڑ، بیابان، ہمارے پل شکستہ حال، ہماری گلیاں کیچڑ میں لت پت اور ہمارے بازار کوڑا کرکٹ کے ڈھیر بن کر رہ گئے ہیں۔ عوامی بہبود کے لیے لوکل سطح پر جو ڈھانچہ چاہیے، اُس کے نہ ہونے سے معاملات ناقابل اصلاح حدود کو پہنچ گئے ہیں۔ دہشت ناک ستم ظریفی یہ ہے کہ یہ سب غیرجمہوری روشیں ہماری جمہوری ادوار میں اپنے عروج کو پہنچ جاتی ہیں۔

کنفیوشس کے ترقی کرنے کے اصول کو چین سمیت ترقی یافتہ دنیا نے پوری طرح اپنا رکھا ہے۔ ہر ایسا ملک اپنا ایک بلدیاتی نظام رکھتا ہے۔ وقفے وقفے سے الیکشن ہوتے رہتے ہیں۔ کونسلرز چنے جاتے ہیں۔ انہی میں سے چیئرمین یا میئرز کا انتخاب ہوتا ہے۔ وہ مرکزی اور صوبائی حکومتوں سے گرانٹیں لیتے ہیں۔ عوامی بہبود کے لیے یکسوئی سے اقدامات اُٹھاتے ہیں۔ سڑکیں، گلیاں، بازار پختہ کرواتے ہیں۔ اسکول اور ہسپتال چلاتے ہیں۔ عوامی فلاح کے اداروں کو ہمہ وقت فعال رکھتے ہیں۔ مقامی سطح پر لوگوں کی زندگیوں میں سکھ بوتے اور آزار کے کانٹے نکالتے ہیں۔ کسی بھی بلدیاتی رکن پر کرپشن کا ذرا برابر بھی دھبہ لگ جائے تو وہ بررضا و رغبت استعفیٰ دے دیتا ہے۔ یہ سسٹم اپنے اپنے علاقوں کو صاف ستھ رکھنے، انہیں سرسبز و شاداب بنانے، لائبریریوں کو چلانے، کمیونٹی سینٹروں میں عوام کو راحت کے اسباب مہیا کرنے، مقامی سطح پر قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے لیے نہایت کامیابی سے استعمال ہورہا ہے۔ ہر ترقی یافتہ ملک میں یہ مرکزی اور صوبائی حکومتو ںکی بنیاد ہے۔ اسی سسٹم سے نتھر کر اعلیٰ لیڈر شپ ملکوں کی باگ ڈور سنبھال رہی ہے۔ بہترین کارکردگی دکھانے والا کونسلر سے ترقی کرکے ملک کا وزیراعظم یا صدر بن جاتا ہے۔ اُس کا عوامی بہبود کا ریکارڈ اُس کے ساتھ ساتھ اُس کا پشت بان بنا رہتا ہے۔ یوں طیب اردگان نامی ایک کونسلر اچھے کردار، بہترین وژن، اعلیٰ کارگزاری کی بنا پر ترکی کا ہردل عزیز حکمران بن گیا ہے۔ اُس نے گلیوں کوچوں کو صاف ستھرا بنائے کے جس مشن کا آغاز کیا تھا، اُسی تجربے نے اُسے سارے معاشرے کی غلاظتیں صاف کردینے کا لازوال ہنر سکھادیا۔ انڈونیشیا کا موجودہ صدر جوکو دو دو ایک بڑھی کا بیٹا ہے۔ وہ سوراکرتا شہر کا کونسلر، پھر میئر، پھر جکارتہ کا گورنر اور آخر میں ملکی صدر بن گیا۔ اُس نے انڈونیشیا کو جو ترقی دلوائی ہے اُس کی مثال ان چند برسوں میں ڈھونڈنے سے نہیں ملے گی۔ یہی وہ لوگ ہیں جنہیں گلی کوچوں نے تجربے کی کٹھالی سے گزار کر ہیرا بنادیا۔ ایک عالم کی آنکھیں ان کی چمک سے خیرہ ہوگئیں۔ ہماری جمہوریت نے عوام کی جیبوں میں کنکر پتھر بھردیے اور پھر یہ اصرار بھی کیا کہ انہیں ہی ہیرے جواہرات سمجھو۔