دوبارہ آسٹریلیا

دوبارہ آسٹریلیا
جاوید چوہدری  بدھ 15 جون 2016

بلیو ماؤنٹینز سڈنی سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے، آپ ڈرائیو کے بعد کوٹومبا (Katoomba) پہنچتے ہیں، یہ ایک چھوٹا سا پہاڑی گاؤں ہے، یہاں سے بلیو ماؤنٹینز شروع ہو جاتی ہیں، آپ بلندی پر ہوتے ہیں اور آپ کے قدموں میں ہزار فٹ گہری پیالہ نما وادی ہوتی ہے اور وادی میں گھنے جنگل ہیں، آپ کو دور دور تک درخت ہی درخت نظر آتے ہیں، سورج کی روشنی جنگل کو نیلا کر دیتی ہے اور یہ نیلا رنگ ان پہاڑیوں کو بلیو ماؤنٹینز بنا دیتا ہے، آپ جوں ہی وادی میں جھانکتے ہیں آپ کو دائیں ہاتھ پر تین بھوری چٹیل چٹانیں نظر آتی ہیں، یہ چٹانیں ’’تھری سسٹرز‘‘ کہلاتی ہیں، دنیا بھر کے سیاح ان تین بہنوں کی زیارت کے لیے یہاں آتے ہیں، آپ اگر غور سے دیکھیں تو یہ تینوں چٹانیں فضول ہی ہیں، ہمارا پورا پوٹھوہار ایسی چٹانوں سے بھرا ہوا ہے لیکن آپ جب ان چٹانوں کے ساتھ چند منٹ گزار لیتے ہیں تو یہ تینوں آپ کو اچھی لگنے لگتی ہیں، کیوں؟ شاید یہ ہی وہ جادو ہے جو انھیں پرکشش بنا دیتا ہے۔
جو انھیں یادگار بنا کر ہر سال لاکھوں لوگوں کو ان کی طرف کھینچتا ہے، میں دیر تک ’’تینوں بہنوں‘‘ کی طرف دیکھتا رہا، یہ واقعی خوبصورت تھیں، ان کی خوبصورتی کی دو بڑی وجوہات تھیں، پہلی وجہ ان کا رنگ روپ تھا، ان کا بھورا رنگ سبز جنگل اور نیلے آسمان کے درمیان بہت بھلا لگتا تھا، دوسری وجہ ان کا حدود اربعہ تھا، یہ سبز پیالے میں تین وکٹوں کی طرح کھڑی تھیں، آپ تصور کیجیے آپ کے سامنے دور دور تک سبز جنگل بکھرا ہو، جنگل کا سبز رنگ سورج کی روشنی کی وجہ سے نیلا محسوس ہو رہا ہو اور اس نیلے جنگل میں بھورے رنگ کی تین چٹانیں وکٹ کی طرح کھڑی ہوں تو آپ کو کیا محسوس ہو گا؟ آپ جو محسوس کریں گے میں اور مظہر بخاری اس وقت وہی محسوس کر رہے تھے، ہم اس وقت ایک بڑے گول پلیٹ فارم پر کھڑے تھے، ہمارے سامنے نیم دائرے میں وادی بکھری ہوئی تھی، پلیٹ فارم سے چھوٹے چھوٹے ٹریک نیچے جا رہے تھے۔
ایک ٹریک ’’تھری سسٹرز‘‘ تک بھی جاتا تھا، ہم اس ٹریک پر چل پڑے، ہم 20 منٹ کی مسافت کے بعد پتھر کی باریک سیڑھیوں پر پہنچ گئے، یہ سیڑھیاں نیچے پہلی چٹان تک جاتی تھیں، چٹان 80 میٹر گہرائی میں تھی، ہم بہت مشکل سے نیچے پہنچے، آخری سیڑھی لوہے کے معلق پل پر ختم ہوتی تھی، پل کے دونوں اطراف گہرائی تھی اور گہرائی میں جنگل تھا جب کہ پل کے آخری سرے پر ’’پہلی سسٹر‘‘ تھی، پل خوبصورت تھا، پل سے دونوں طرف کا منظر دکھائی دیتا تھا، یہ چٹانیں بنجر تھیں لیکن ان کے اوپر اس بنجر پن کے باوجود ایک تناور درخت سر اٹھا کر کھڑا تھا، بنجر چٹان کے سر پر یہ درخت کسی معجزے سے کم نہیں تھا اور یہ معجزہ بھی تصویر بن کر دل کے البم کا حصہ بن گیا، واپسی سفر زیادہ مشکل تھا، 80 میٹر چڑھائی 80 میٹر اترائی سے زیادہ مشکل تھی، ہم اوپر آنے کے بعد دوسرے ٹریک پر نکل گئے، یہ ٹریک جنگل میں دو کلومیٹر تک جاتا تھا، ٹریک کے آخر میں سو میٹر کی چڑھائی تھی، یہ چڑھائی بھی مشکل تھی اور اس مشکل چڑھائی نے سردی میں پسینہ پسینہ کر دیا۔
میں جمعہ کی رات اسلام آباد سے نکلا، انشاء اللہ رمضان کا مہینہ آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ میں گزاروں گا، فجی کے ویزے کے لیے کوشش کر رہا ہوں، ویزہ مل گیا تو فجی کے اس جزیرے میں بھی جاؤں گا جہاں ٹائم زون بدلتا ہے، اس جزیرے میں لکیر کے ایک طرف آج کا دن ہوتا ہے اور لکیر کی دوسری طرف دوسرا دن، ایک سائیڈ پر ٹوڈے لکھا ہوتا ہے اور دوسری طرف ٹومارو۔ یہ دنیا میں واحد انسانی آبادی ہے جس کے درمیان سے وقت کی لکیر گزرتی ہے باقی تمام جگہیں غیر آباد ہیں، وقت کی لکیریں شمالی قطب پر ہیں، جنوبی قطب پر یا پھر سمندر اور گلیشیئر پر ہیں۔
یہ فجی کے علاوہ کسی آبادی سے نہیں گزرتیں، میں پچھلے سال آک لینڈ سے کوئینز ٹاؤن کی طرف گیا، یہ نیوزی لینڈ کا جنوبی حصہ ہے، اس سال شمالی حصہ دیکھنے کی خواہش ہے، آسٹریلیا کے کچھ حصے بھی رہ گئے تھے، انشاء اللہ یہ بھی دیکھوں گا، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ میں جون اور جولائی میں سردی ہوتی ہے، شام پانچ بجے سورج غروب ہو جاتا ہے، رمضان بہت ٹھنڈا اور چھوٹا ہے، صبح پانچ بجے سحری ہوتی ہے اور پانچ بجے افطار۔ ہیٹر چل رہے ہیں، لوگوں نے سویٹر اور جیکٹس چڑھائی ہوئی ہیں، یہ ہم جیسے گرم علاقوں کے باسیوں کے لیے آسٹریلیا آنے کا آئیڈیل وقت ہے۔
میں جمعہ کو اسلام آباد سے نکلا، کسٹم کے اہلکار نے پاسپورٹ مانگا، میں نے دے دیا، پوچھا ’’کہاں جا رہے ہو،، میں نے عرض کیا ’’یہ معلوم کرنا امیگریشن کا کام ہے، کسٹم کا نہیں‘‘ اہلکار نے نہایت نفرت سے گھور کر دیکھا، میں خاموش کھڑا رہا، وہ پاسپورٹ کا ایک ایک ورق دیکھتا رہا، وہ مجھے گھورتا بھی رہا، آخر میں پوچھا ’’کرتے کیا ہو؟‘‘ میں نے جواب دیا ’’یہ بھی آپ کا کام نہیں ہے،، اس کی نفرت اور گھوری میں اضافہ ہو گیا، اتنے میں اس کے ایک ساتھی نے پہچان لیا، وہ بڑی محبت کے ساتھ ملا، معذرت کرنے لگا، میں نے دونوں سے عرض کیا ’’جناب پاسپورٹس اور ویزے چیک کرنا آپ کا کام نہیں ہے، آپ لوگوں کو کیوں تنگ کر رہے ہیں‘‘ ان کے پاس کوئی جواب نہیں تھا لیکن وہ یہ کام مسلسل کرتے رہے۔
بنکاک اور سڈنی میں بھی یہی سلوک ہوا، بنکاک میں پورے سامان کی تلاشی ہوئی، کیوں؟ وجہ معلوم نہیں تھی، گورے تلاشی کے بغیر جہاز میں سوار ہو رہے تھے جب کہ پاکستانیوں کے بیگ کھول کر تلاشی لی جا رہی تھی، سڈنی میں حالات زیادہ خراب تھے، چار مراحل میں انٹرویوز بھی ہوئے اور تلاشی بھی، دونوں بیگ کھول کرتلاشی لی گئی، کتنی بار آسٹریلیا آئے ہیں، تیسری بار کیوں آئے، زیادہ کپڑے لے کر کیوں نہیں آئے؟ یہاں سے کیوں خریدیں گے؟ آپ بہت ٹریول کرتے ہیں، کیوں؟ کیا پاکستان میں بھی اتنا ٹریول کرنے والے لوگ موجود ہیں؟
بیگ میں کپڑے کم اور کتابیں زیادہ ہیں، کیوں؟ سگریٹ کیوں نہیں ہیں؟ اور آپ کیسے پاکستانی ہیں جو سگریٹ نہیں پیتے، میرے لیے ہر سوال دلچسپ اور بے عزتی سے بھرپور تھا، میں سوالوں کا جواب دیتا رہا اور بے عزتی کے گھونٹ بھرتا رہا، مجھے آخر میں جانے کی اجازت دے دی گئی، میں نے جاتے جاتے پوچھا ’’یہ سلوک صرف میرے ساتھ کیوں؟‘‘ خاتون نے مسکرا کر جواب دیا ’’ہم رسک نہیں لے سکتے، آپ حالات جانتے ہیں‘‘ میں نے باہر نکلتے نکلتے سوچا ’’کیا پاکستانیوں پر کوئی ایسا وقت بھی آئے گا جب دنیا ہماری عزت کرے گی‘‘ مجھے کوئی جواب نہ ملا، پھر احساس ہوا ہماری اپنے ملک میں کیا عزت ہے جو یہاں ہو گی، اسلام آباد ائیرپورٹ پر کسٹم اہلکار گھورتا رہا اور یہاں آسٹریلین کسٹم کھا جانے والی نظروں سے دیکھتی رہی، تیرے آزاد بندوں کی نہ یہ دنیا نہ وہ دنیا۔
آسٹریلیا کیا ہے؟ آسٹریلیا سسٹم کا نام ہے، ترقی یافتہ ملکوں میں حکومتیں کام نہیں کرتیں نظام کام کرتے ہیں، حکومت کسی بھی پارٹی کی ہو اور وزیراعظم اور گورنر جنرل کوئی بھی ہو نظام دائیں بائیں نہیں ہوتا، یہ پوری توانائی کے ساتھ سرگرم رہتا ہے، اب نظام کیا ہے؟ نظام قانون ہے، میرا میزبان سگریٹ پیتا ہے، یہ سگریٹ کا ٹوٹا گاڑی سے باہر پھینکنا چاہتا تھا مگر یہ دس کلومیٹر تک ٹوٹا باہر نہ پھینک سکا، میں نے وجہ پوچھی، اس کا جواب تھا، میرے دائیں بائیں اور پیچھے ٹیکسیاں ہیں، میں اگر ان کے سامنے ٹوٹا باہر پھینک دیتا ہوں اور ان میں سے کوئی پولیس کو فون کر دیتا ہے تو پولیس مجھے دو سو ڈالر جرمانہ کر دے گی چنانچہ میں نے پہلے ان لوگوں کو جانے دیا اور پھر ٹوٹا پھینکنے کا رسک لیا، میرا میزبان گھر بنانا چاہتا ہے۔
اسے جگہ تلاش کرنے میں کئی ماہ لگ گئے، وجہ پوچھی، بتایا میں ایسی جگہ تلاش کر رہا تھا جہاں ہمسائے میں گورے نہ ہوں، میں نے پوچھا کیوں؟ اس کا جواب تھا، گورے بہت قانون پسند ہیں، میں نے اگر غلطی سے بھی کسی غلط ڈسٹ بین میں کوئی غلط چیز پھینک دی اور گورے نے دیکھ لیا تو یہ فوراً میری شکایت کر دے گا اور میونسپل کارپوریشن مجھے ہیوی جرمانے ٹھوک دے گی، میں نے پوچھا ’’لیکن گورا کیوں شکایت کرے گا‘‘ جواب ملا، سسٹم، یہ لوگ سسٹم کے اس قدر پابند ہیں کہ یہ دوسرے کی غلطی تک معاف نہیں کرتے اور وہ دوسرا خواہ ان کا عزیز یا قریبی دوست ہی کیوں نہ ہو جب کہ ان کے مقابلے میں غیرملکی، غیر ملکیوں کا خیال رکھتے ہیں، آسٹریلیا حقیقتاً میٹرو پولیٹن ملک ہے، آپ کو یہاں ہر رنگ اور نسل کے لوگ مل جاتے ہیں، دنیا میں جہاں بھی جنگ ہوتی ہے وہاں کے لوگ آسٹریلیا آ جاتے ہیں اور یہ لوگ انھیں سنبھال لیتے ہیں، آج کل شام سے دھڑا دھڑ مہاجرین یہاں آ رہے ہیں۔
یہ گرتے پڑتے انڈونیشیا پہنچتے ہیں اور پھر وہاں سے لانچوں کے ذریعے یہاں پہنچ جاتے ہیں، آدھے لوگ راستے میں مر جاتے ہیں اور جو بچ جاتے ہیں وہ نفسیاتی مریض ہو جاتے ہیں، انسان بھی کیا چیز ہے، یہ مرنا بھی دوسرے ملک میں چاہتا ہے، کاش یہ لوگ سمندروں اور سرحدوں پر مرنے کے بجائے اپنے ملک میں لڑنے اور حالات کا مقابلہ کرنے کا فیصلہ کر لیں، ان کا ملک بھی بچ جائے گا اور یہ لوگ بھی۔ دوسرا ہم مسلمان بھی کمال قوم ہیں، ہم امت کے غم میں مبتلا ہیں لیکن مشکل وقت میں کوئی مسلمان ملک کسی دوسرے مسلمان کا ہاتھ پکڑنے کے لیے تیار نہیں ہوتا، شام کے لوگ عربی ہیں لیکن یہ 22 عرب ملک چھوڑ کر دنیا کے آخری سرے پر آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ آ رہے ہیں، کیوں؟
اس کا جواب امن، آزادی اور خوشحالی ہے، ہمیں ماننا پڑے گا یہ ملک ہم سے زیادہ پرامن، آزاد اور خوشحال ہیں اور انسان کو زندہ رہنے کے لیے یہ تینوں نعمتیں درکار ہوتی ہیں اور ہم مسلم امہ اپنے شہریوں کو یہ تینوں فراہم نہیں کر پا رہے چنانچہ یہ لوگ حلال معاشروں کو چھوڑ کر حرام معاشروں میں پناہ لینے پر مجبور ہیں اور ہمیں بہرحال جلد یا بدیر انسان کی یہ مجبوریاں سمجھنا ہوں گی۔