خون کا دریا

خون کا دریا
جاوید چوہدری  منگل 17 جنوری 2017

ہم کابل سے مزار شریف کے لیے روانہ ہوں تو ہم 69 کلومیٹر بعد صوبہ پروان کے دارالحکومت چاریکار پہنچ جائیں گے‘ یہ شہر تاریخ میں دو حوالوں سے مشہور ہے‘ چنگیز خان اور خوارزم شاہ کے درمیان جنگ1221ء میں چاریکار میں ہوئی تھی‘ جنگ میںخوارزم شاہ کو شکست ہوئی اور وہ ہندوستان بھاگ آیا‘ دوسرا حوالہ انگریزوں کی افغانوں سے جنگ ہے‘ یہ جنگ بھی چاریکار میں ہوئی اور افغانوں نے1841ء میں یہاں برطانیہ کی پوری فوج کاٹ کر پھینک دی‘ صرف ایک انگریز ڈاکٹر اور ایک ہندوستانی پنڈت رام لال کشمیری بچا۔
چاریکار اس وقت پاکستان کے لحاظ سے بہت اہم شہر ہے‘ پاکستان کے زیادہ تر دشمن اس وقت چاریکار میں مقیم ہیں‘ تحریک طالبان پاکستان ہو‘ لشکر جھنگوی ہو‘بلوچستان لبریشن فرنٹ ہو یا پھر ایم کیو ایم لندن کے لوگ ہوں یہ تمام چاریکار میں ٹھکانے بنا کر بیٹھے ہیں‘ یہ لوگ چاریکار میں کیوں ہیں؟ تین وجوہات ہیں‘ پہلی وجہ‘ یہ نان پشتون علاقہ ہے‘ چاریکار میں تاجک زیادہ اور پشتون کم ہیں چنانچہ پاکستان کے باغی خود کو اس علاقے میں زیادہ محفوظ سمجھتے ہیں‘ دوسری وجہ‘یہ علاقہ افغان روس وار کے دوران شمالی اتحاد کے قبضے میں تھا‘ شمالی اتحاد بھارت نواز اور پاکستان دشمن تھا‘ بھارتی ایجنٹ آج بھی علاقے میں موجود ہیں ۔
یہ ایجنٹ ان لوگوں کو چاریکار میں ہر قسم کی مدد فراہم کرتے ہیں اور تیسری وجہ‘ یہ شہر کابل سے باہر ہونے کے باوجود وفاقی دارالحکومت سے آدھ گھنٹے کی ڈرائیو پر ہے ‘ یہ لوگ وفاقی حکومت پر نظر رکھتے ہیں اور وفاقی حکومت ان پر چیک رکھتی ہے‘اب سوال یہ ہے کیا افغان حکومت ان لوگوں کی موجودگی سے واقف نہیں؟ افغان حکومت نہ صرف ان کی موجودگی سے واقف ہے بلکہ یہ انھیں ہر قسم کی سہولتیں بھی فراہم کرتی ہے‘ یہ لوگ گھروں میں رہتے ہیں‘ ان کے باقاعدہ دفاتر ہیں‘ ان کے ٹریننگ کیمپس ہیں‘ انھیں فون اور انٹرنیٹ کی سہولت حاصل ہے‘ ان کے پاس شناختی کاغذات ہیں اور یہ لوگ ملک بھر میں ذاتی گاڑیوں پر سفر کرتے ہیں‘ افغان حکومت نے پاکستان کے انتہائی مطلوب ملا فضل اللہ کو ’’سواتی مہاجر‘‘ قرار دے رکھا ہے اور اسے ساتھیوں سمیت رہائش گاہیں اور سیاسی پناہ فراہم کر رکھی ہے۔
یہ ’’سواتی مہاجر‘‘ افغانستان میں بیویوں اور بچوں کے ساتھ مقیم ہیں اور انھیں یہاں دنیا جہاں کی سہولتیں حاصل ہیں‘ کابل شہر میں ’’نائین زیرو‘‘ کے نام سے ایم کیو ایم لندن کا مرکز بھی بن چکا ہے ‘ اس میں ایم کیو ایم لندن کے سو سے زائد ورکرز موجود ہیں‘ یہ لوگ وہاں کیوں ہیں اور یہ وہاں کیا کر رہے ہیں یہ بات اب کوئی ڈھکی چھپی نہیں رہی‘ یہ لوگ بارود ہیں اور یہ بارود بھارت افغانستان کی مدد سے پاکستان کے خلاف استعمال کر رہا ہے‘ ہمارے ستر ہزار شہری چاریکار میں موجود اس بارود کا رزق بن چکے ہیں‘ یہ ایک حقیقت ہے۔
آپ اب دوسری حقیقت ملاحظہ کیجیے‘میں آپ کو چند لمحوں کے لیے ماضی میں لے جانا چاہتا ہوں‘ آپ کو یاد ہوگا سوویت یونین نے دسمبر 1979ء میں افغانستان پر قبضہ کر لیا تھا‘ امریکا اس قبضے کے خلاف تھا‘ یہ روس کو دریاآمو کے پار ازبکستان تک محدود رکھنا چاہتا تھا‘کیوں؟کیونکہ سوویت یونین افغانستان پہنچنے کے بعد گرم پانیوں کے قریب ہو جاتا اور یہ امریکا کومنظور نہیں تھا‘ پاکستان امریکاکی مجبوری سے واقف تھا‘ یہ آگے بڑھا اور اس نے امریکا کو اپنی ’’سروسز‘‘ پیش کر دیں‘ امریکا نے ڈالر اور اسلحہ دیا‘ہم نے مجاہدین فراہم کیے اور یوں افغانستان دو سپرپاورز کا میدان جنگ بن گیا‘ یہ سلسلہ دس سال جاری رہا‘ افغان وار کے چار فریق تھے‘ روس‘ افغان ‘مجاہدین اور امریکا‘آپ بدقسمتی ملاحظہ کیجیے یہ چاروں جنگ کے آخر میں پاکستان کے مخالف ہو گئے ‘ آپ روس کی مثال لیجیے‘روس کو افغان وار میں شکست ہوئی اور یہ افغانستان خالی کرنے پر مجبور ہوگیا‘ یہ 1989ء سے پاکستان کو اپنی شکست کا ذمے دار سمجھ رہا ہے‘دوسرا فریق افغانستان اس جنگ میں مکمل طور پر تباہ ہو گیا۔
افغانوں کی دو نسلیں جنگ کے دوران پیدا ہوئیں اور یہ جنگ کی ذلت کے ساتھ جوان ہوئیں‘ افغان اپنی اس ذلت کا ذمے دار پاکستان کو گردانتے ہیں‘ یہ سمجھتے ہیں پاکستان ان کے نام پر امریکا سے ڈالر بٹورتا رہا‘ یہ ان کی لاشیں بیچتا رہا چنانچہ یہ بھی ہم سے نفرت کرتے ہیں‘ تیسرا فریق امریکا تھا‘ امریکایہ سمجھتا ہے یہ 1980ء سے پاکستان کو اربوں ڈالردے رہا ہے لیکن پاکستان اس امداد کے باوجود افغانستان میں امریکی مقاصد پورے نہیں کر رہا ہے لہٰذا یہ بھی اب ہم سے نفرت کرتا ہے اور پیچھے رہ گئے مجاہدین‘ امریکا نے 1980ء میں عربوں کے ساتھ مل کر مجاہدین کے لشکر تیار کیے‘یہ لشکر پاکستان لائے گئے‘ پاکستان ان کا میزبان تھا‘پاکستان نے اپنی سرزمین کو بھی مجاہدین کی پنیری بنا دیا ۔
پاکستانی مجاہدین عرب اور افغان مجاہدین کے ساتھ مل کر 1989ء تک روس سے لڑتے رہے‘امریکا افغان وار میں مجاہدین کا سپورٹر اور پاکستان میزبان تھا لیکن جوں ہی جنگ ختم ہوئی تو امریکا اور پاکستان دونوں نے مجاہدین کو فراموش کر دیا‘افغانستان کی صورتحال دگرگوں ہوگئی‘مجاہدین نے ایک دوسرے کے گلے کاٹنے شروع کر دیے‘ افغانستان میں1994ء میں طالبان حکومت بنی تو پاکستان نے اسے تسلیم کر لیااوریوں طالبان پاکستان بھائی بھائی ہو گئے‘ یہ تعلقات 2001ء تک چلتے رہے‘ نائین الیون کے بعد پاکستان اچانک طالبان کے خلاف امریکا کا اتحادی بن گیا‘ طالبان پاکستان کی اس شفٹنگ کو ہضم نہ کر سکے چنانچہ یہ بھی پاکستان کے دشمن ہو گئے۔
اب صورتحال یہ تھی روس پاکستان کا دشمن‘ افغان مجاہدین پاکستان کے دشمن‘ عرب مجاہدین پاکستان کے دشمن‘ طالبان پاکستان کے دشمن اور پاکستانی مجاہدین بھی پاکستان سے ناراض‘ یہ تمام ناراضگیاں اور دشمنیاں دباؤ بنیں اور یہ دباؤ افغانستان کی صورتحال کو طورخم بارڈر سے پاکستان لے آیا‘ پاکستانی مرنے لگے اور یہ مرتے چلے گئے‘ پاکستانی شہداء کی تعداد  70 ہزار ہو چکی ہے‘پاکستانی لوگ بھی اب ان شہداء کا ذمے دار پاکستان کو سمجھتے ہیں‘ہمیں یہاں یہ حقیقت بھی ماننی ہو گی سوویت یونین افغان وار کے بعد ٹوٹ گیا۔
یہ روس بن گیا لیکن یہ اپنی شکست نہیں بھولا‘ یہ 27 برس سے ان مجاہدین کو امریکا کے خلاف استعمال کرنا چاہتا ہے جنھوں نے 80 ء کی دہائی میں امریکا کے ساتھ مل کر روس کو شکست دی تھی‘ روس 1994ء سے طالبان سے رابطے کی کوشش کر رہا ہے‘ روسی حکومت نے طالبان انقلاب کے شروع میں ملا عمر کو ہر قسم کی معاونت کی پیشکش کی لیکن طالبان نے یہ آفر مسترد کردی‘ اسامہ بن لادن نے 1998ء میں خوست میں پاکستانی صحافیوں سے ملاقات کی ‘ صدر بل کلنٹن نے ملاقات سے اگلے دن خوست اور جلال آباد میں اسامہ بن لادن کے ٹھکانوں پرمیزائل داغ دیے‘ کے جی بی نے اس حملے کے فوراً بعد قندہار میں ملا عمر سے دوسری بار رابطہ کیا‘ انھیں امریکا کے خلاف مدد کی پیش کش کی لیکن ملا عمر نے اس بار بھی انکار کر دیا‘ روس نے تیسری پیشکش 1999ء میں کی‘ اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل نے امریکا کے دباؤ پر15 اکتوبر 1999ء کو طالبان حکومت کے خلاف اقتصادی پابندیاں لگا دی تھیں‘ روس نے اس وقت بھی طالبان کی طرف ہاتھ بڑھایا لیکن ملا عمر نے فیکس پھاڑ کر پھینک دی۔
روس نے چوتھی آفر نائین الیون کے بعد کی‘ امریکا نے 7 اکتوبر2001ء کو افغانستان پر حملہ کر دیا‘ کے جی بی کے اعلیٰ عہدیدار تاجکستان پہنچے‘طالبان کی سیکرٹ ایجنسی کے سربراہ احمد اللہ سے رابطہ کیا اور انھیں پیشکش کی ’’ہم آپ کو اسلحہ دیں گے‘ پیسہ دیں گے‘ ٹریننگ دیں گے اور سفارتی مدد دیں گے‘ آپ بس اپنا ہاتھ ہمارے ہاتھ میں دے دیں‘‘ لیکن طالبان نے اس بار بھی انکار کر دیا‘ احمد اللہ بعد ازاں پکتیا میں میزائل حملے میں مارا گیا‘ افغانستان میں طالبان حکومت ختم ہو گئی لیکن روس طالبان سے رابطے میں رہا‘ یہ انھیں مسلسل تعاون کی پیشکش کرتا رہا مگر یہ لوگ 2015ء تک انکار کرتے رہے ‘ طالبان 2015ء کے آخر میں روس سے ہاتھ ملانے پر مجبور ہوگئے۔
یہ صدر پیوٹن کے ڈائریکٹ ’’کانٹیکٹ‘‘ میں آ گئے‘ روس نے انھیں شمالی اتحاد سے سٹینگر میزائل خرید کر دیے‘ طالبان اب ان میزائل کے ذریعے افغانستان میں امریکی ہیلی کاپٹر گرا رہے ہیں‘ یہ سٹینگر میزائل امریکا نے افغان وار کے دوران مجاہدین کو فراہم کیے تھے ‘ یہ روس کی شکست کا باعث بنے تھے‘ روس نے ایک کروڑ ڈالر فی میزائل بولی لگا دی ہے‘ یہ سابق مجاہدین سے میزائل خریدتا ہے اور موجودہ مجاہدین کے حوالے کر دیتا ہے اور موجودہ مجاہدین افغانستان میں امریکی ٹھکانوں کو نشانہ بناتے ہیں۔
تحریک طالبان افغانستان کے سابق امیر ملا منصور بھی روسی رابطے میں تھے‘ یہ ایران جا کر روسیوں سے ملاقات کرتے تھے‘ یہ 21مئی 2016ء کو روسیوں سے مل کر ایران سے واپس آ رہے تھے اور یہ بلوچستان کے علاقے احمد وال میں امریکی ڈرون کا نشانہ بن گئے‘ یہ پاکستان کے شناختی کارڈ اور پاسپورٹ ہولڈر تھے‘ یہ پاکستانی پاسپورٹ پر 18 مرتبہ پاکستان سے باہر گئے‘ملا منصور نے 13 مرتبہ کراچی ائیرپورٹ اور ایک بار کوئٹہ ائیر پورٹ استعمال کیا‘ ملا منصور کی بیگمات اور بچے کراچی میں رہتے تھے‘ یہ لوگ شاید اب بھی کراچی میں موجود ہیں‘ طالبان دعویٰ کرتے ہیں۔
صدر پیوٹن نے ملا منصور کی ہلاکت پر لواحقین کو تعزیتی خط لکھا تھا‘ ملا منصور کی ایران میں روسیوں سے ملاقاتیں اور صدر پیوٹن کا خط ثابت کرتا ہے طالبان اب روسیوں کے کنٹرول میں ہیں‘ روس انھیں اسلحہ بھی دے رہا ہے‘ پیسہ بھی‘ ٹریننگ بھی اور سیٹلائیٹ کی سہولت بھی‘ یہ لوگ ان سہولتوں کی مدد سے افغانستان میں افغان حکومت اور امریکا دونوں کی اینٹ سے اینٹ بجا رہے ہیں‘آپ اب افغانستان کی صورتحال ملاحظہ کیجیے ۔       (جاری ہے)