جب زوال آتا ہے تو…

جب زوال آتا ہے تو…

تحریر یاسر محمد خان

’’ٹیسیٹس‘‘ (Tacitus) رومن سلطنت کا سب سے بڑا تاریخ دان مانا جاتا ہے۔ ظہورِ اسلام سے پہلے یہ ایمپائر یورپ، ایشیا اور افریقہ کے بیشتر حصے کی مالک بن چکی تھی۔ اس میں برطانیہ، جرمنی، اسپین، اٹلی، آرمینیا، شام، سعودی عرب، مصر، فلسطین جیسے ملک شامل کرلیے گئے تھے۔ یہ دنیا کی عظیم ترین تہذیبوں میں جگہ بناچکی تھی۔ ’’ٹیسیٹس‘‘ نے ایک کتاب ’’On Imferial Rome‘‘ میں اس چکاچوند تہذیب کی کہانی لکھی ہے۔ یہ کتاب صرف یورپ میں 393 مرتبہ ترجمہ ہوچکی ہے۔ اس کے صفحات ایک الف لیلوی داستان کی طرح ہمارے سامنے ایک نگارخانہ سجادیتے ہیں۔ دولت رومن سلطنت پر ہن کی طرح برس رہی تھی۔ ہر رومن ہمہ وقت زرق برق لباس پہنتا اور دنیا کی لذیذ ترین غذائیں کھاتا تھا۔ جدھر نگا اُٹھتی اُدھر محلات کی قطاری دکھائی دیتیں۔ رومن بادشاہوں کے خزانے قطار و شمار سے باہر تھے۔ سونا چاندی، ہیرے، یاقوت، الماس، زمرد چھتوں تک مالی خانوں میں بھرے رہتے تھے۔ امرا کی جاگیریں، جائیدادیں اور زمینیں ان گنت تھیں۔ رومن بادشاہوں کے شاہی اصطبل دنیا کے بہترین گھوڑوں سے بھرے ہوئے تھے۔ یہ بجلی کی رفتار سے بھاگتے اور زمینیں اُن کے دوڑنے سے تھرتھراتی تھیں۔ اس کے ساحلوں پر دنیا بھر سے پکڑے ہوئے غلاموں کی منڈیاں قائم تھیں۔ لونڈیوں کو لاکھوں کی تعداد میں بیچا اور خریدا جاتا تھا۔ دنیا کے دوردراز کونوں سے بہترین باورچی روم میں قسمت آزمانے آتے اور اپنے جوہر کے فراواں دام پاتے تھے۔

گویے اور موسیقار اُدھر کا رُخ کرتے اور ڈھیروں سونا چاند وصول کرتے تھے۔ نغمہ و سرود اس سلطنت میں ہوائوں کی طرح بہتا تھا اور رومنوں کو بے خود رکھتا تھا۔ رومن باغات اپنے رقبے میں رنگا رنگی اور ہماہمی میں جنتِ نگاہ کا درجہ رکھتے تھے۔ ان گنت خوش الحان پرندے یہاں سُر بکھیرتے اور رومنوں کی شراب نوشی کا نشہ در آتشہ کردیتے تھے۔ رومن سینٹ میں دنیا کے عظیم ترین مقرر موجود تھے جن کی تقریریں تاریخ کے صفحات میں نقش ہوچکی ہیں۔ رومن تہذیب نے اپنے سے پہلے والی یونانی تہذیب کو مات دے دی تھی۔ اس سلطنت کی حدود لامحدود، دولت قطار و شمار سے باہر اور مادّی ترقی نے بلند ترین اُفق کو چھولیا تھا۔

٭ پاکستان نے اس ورلڈ کپ میں 4 ارب 33 کروڑ روپے صرف کیے ہیں۔ 2003ء کے ورلڈ کپ میں 3 ارب 8 کروڑ لاگت آئی تھی۔ ٭ ہمیں کھیل کود کی بھی ضرورت ہے۔ ایسے کھیل جو جسم کو مضبوط بنائیں اور ہمیں تفریح مہیا کریں۔ ٭ مذہب ہمیں جائز تفریح سے نہیں روکتا، لیکن اگر یہی تفریح ایک خوفناک ذہنی آزار بن جائے، لوگوں کی عقل و شعور کو مختل کردے تو اسے فوری طور پر روکنا ہوگا۔ ٭

اس سلطنت کا زوال اس کے عروج سے زیادہ تیز رفتاری سے آیا۔ ٹیسیٹس نے لکھا ہے کہ ہر رومن آبادی میں ایک اکھاڑہ بنایا گیا تھا۔ اُس میں رومن سلطنت کے قیدیوں کو لایا جاتا۔ انہیں کھلا پلاکر خوب موٹا تازہ کیا جاتا۔ پھر انہیں بھوکے شیروں سے لڑوایا جاتا۔ جب یہ قیدی چیختے چلاتے تو رومن خوب قہقہے لگاتے، شرابیں لنڈھاتے اور جشن مناتے تھے۔ شیر اور درندے قیدیوں کی ہڈیاں نوچتے، اُن کی تکہ بوٹی کردیتے تو مسرت کی کیفیت رومنوں کے لہو میں ناچنا شروع کردیتی۔ دو تین دہائیوں میں یہ اکھاڑے رومن زندگی کا سب سے بڑا مشغلہ بن گئے۔ ان کی تعداد لاکھوں میں جاپہنچی۔ باقاعدہ ٹکٹ فروخت ہوتے قطار اندر قطار لوگ یہاں جمع ہوتے اور پھر درندگی کا یہ میچ شروع ہوجاتا۔ وقت کے ساتھ ساتھ ان درندوں کی رو میں رومنوں میں حلول کرگئیں۔ لوگ ذرا سی بات پر درجنوں کو قتل کردیتے۔ آپس میں ہما وقت لڑتے بھڑتے رہتے۔ ہر رومن کے ساتھ اُس کے غلام بھی لڑائیوں میں مشغول ہوجاتے۔ عدم برداشت اس تہذیب کا سب سے بڑا سمبل بن گیا۔ لوگ ذہنی توازن مکمل طور پر کھو بیٹھے۔ ان کے اندر سے رحمدلی، ترس، ہمدردی مکمل طور پر ختم ہوگئی۔ یہی باہمی لڑائیاں سول وار کی شکل اختیار کرگئیں۔ رومن سلطنت میں ہر سو باغیوں کے لشکر گھومنا شروع ہوگئے۔ ملک آزاد ہوگئے۔

رومن رقبہ گھٹنا شروع ہوگیا۔ وبائوں، قحط سالیوں اور غربت نے سر اُٹھایا اور رومن زوال کو مزید تیز ترکردیا۔ لوگ ابتر حالات میں بھی نشیوں کی طرح اکھاڑوں کا رُخ کرتے۔ انسان، خون، گوشت اور ہڈیاں دیکھ کر اپنی حیوانی جبلت کو آسودہ کرتے۔ ٹیسیٹس کہتا ہے کہ یوں لگتا تھا کہ انسانوں کی مکمل ماہیت قلب ہوچکی ہو۔ وہ رومن جو کبھی تہذیب کا سمبل سمجھے جاتے تھے، دنیا بھر میں ان کے طرزِ زندگی کی کی جاتی تھی، اب انسان اُن سے یوں بھاگتے تھے جیسے وہ آدمی نہ ہوں، بلکہ کوئی بدروحیں ہوں۔ چین کے تین قبیلے نے رومن فوجوں کو شکست دے دی۔ یورپ کی گوتھ نسل کی فوجوں نے ان رومنوں کا تابوت تیار کردیا۔ عیسائیت جو اُس وقت پھل پھول رہی تھی، اُس نے آکر اِس تہذیب کے سر پر اپنی صلیب ٹھونک دی۔ یوں سارا یورپ عیسائی ہوگیا۔

پاکستان کو دیکھیے تو یہاں اکھاڑوں کی جگہ اسٹیڈیم بن گئے ہیں۔ لوگ دن دن بھر یہاں جمع ہوکر دادِ عیش دیتے ہیں۔ میچ شروع ہوتے ہی گلیاں سنسنان ہوجاتی ہیں۔ لوگ کھانا، پینا، نماز، عبادت بالکل بھول جاتے ہیں۔ ہر آدمی جو اس ناگہانی وقت پر سڑک سے گزر رہا ہو، اُس کی زبان پر یہی سوال ہوتے ہیں۔ کتنے رَن بنالیے؟ کتنی وکٹیں گرگئیں؟ ایک عجیب پاگل پن ہے جو کرکٹ نے پاکستانیوں پر مسلط کردیا ہے۔ لوگ دفتروں سے چھٹی کرلیتے ہیں۔ اسکولوں، کالجوں میں تعلیم کی گردش تھم جاتی ہے۔ کارخانوں میں گھومتے پہیے رُک جاتے ہیں۔ دکانوں میں رکھے ٹی وی کے گرد ہجوم جمع ہوجاتا ہے۔ ہوٹلوں میں تل دھرنے کی جگہ باقی نہیں رہتی۔ ہسپتالوں میں ڈاکٹر مریضوں کو چھوڑ کر میچ کا پوسٹ مارٹم کرنا شروع کردیتے ہیں۔ لوگ ایک یاک چوکے چھکے پہ ناچنا شروع کردیتے ہیں۔ کسی کھلاڑی کے آئوٹ ہونے پر یوں دکھیا ہوجاتے ہیں جیسے کسی قریبی عزیز کا انتقال ہوگیا ہو۔ آنکھیں کرکٹ کے علاوہ کچھ نہیں دیکھتیں۔ کان کمنٹری کے علاوہ کچھ نہیں سنتے۔ بیرون ملک ہونے والے میچوں کے لیے لوگ رات تین تین بجے الارم لگاکر اٹھ بیٹھتے ہیں۔ تہجد کے وقت کرکٹ کی عبادت شروع کردیتے ہیں۔ زیرلب کسی کرشمے کے انتظار میں درود و وظیفہ پڑھتے رہتے ہیں۔ لوگ ٹی وی اسکرین سے یوں چپک جاتے ہیں جیسے کسی طاقتور ساحرہ کے سحر میں آگئے ہوں۔ حوائج ضروریہ کے لیے بھی اُٹھنے کی زحمت نہیں گوارہ کرتے۔ دوران میچ کوئی بچہ رو پڑے تو اُسے یوں ڈانٹتے ہیں جیسے اُس نے کسی بڑے بوڑھے کی شان میں گستاخی کردی ہو۔ میچ میں سنسنی آنے پر دلوں کی دھڑکنیں بہت تیز ہوجاتی ہیں۔ سانس دھونکی کی طرح چلنا شروع ہوجاتے ہیں۔ بیٹھے ہوئے نہایت بے قراری کے عالم میں کمرے میں گھومنا پھرنا شروع ہوجاتے ہیں۔ لوگ صرف میچ جیتنے کے لیے منتیں مرادیں مان لیتے ہیں۔ میچ پاکستانیوں کے لیے زندگی اور موت کی جنگ بن جاتے ہیں۔ ہر بال کمان سے نکلا تیر بن جاتی ہے۔ اُٹھا ہوا بیٹ تلوار کی صورت دھار لیتا ہے۔ ہفتوں مہینوں خدا کو یاد نہ کرنے والے اُسے یاد کرکے میچ جتوانے کے لیے التجائیں کرنا شروع کردیتے ہیں۔ مسجد میں پہلی صف مکمل کرنے کے لیے نمازیوں کی تعداد کم پڑجاتی ہے۔ لوگ ایک جنون، پاگل پن اور ہذیان کا شکار ہوجاتے ہیں۔ ٹیم میچ ہار جائے تو لوگ ٹی وی توڑ دیتے ہیں۔ کھلاڑیوں کی مائوں بہنوں کے لیے مغلظات سرعام بکتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ شہروں قصبوں میں جلوس نکلتے ہیں۔ ہر زبان پر مردہ باد کا نعرہ ہوتا ہے۔ لوگ کھلاڑیوں کے پتلے نذر آتش کرتے ہیں۔ گدھوں پر پاکستانی ٹیم لکھ کر انہیں پتھروں اور ڈنڈوں سے مار دیتے ہیں۔ بے گناہ جانوروں کو اذیت ناک موت دے کر بھی خدا کے عذاب سے نہیں ڈرتے۔ ہر گلی، محلے، کوچے، دکان، دفتر، ہوٹل، کارخانے میں آتش بجنگ چہرے دکھائی دیتے ہیں۔ یوں لگتا ہے کہ کسی دُشمن ملک نے خدانخواستہ پاکستان پر قبضہ کرلیا ہو۔ سوشل میڈیا پر پاکستان کی تمام علاقائی زبانوں کی شرمناک گالیاں یوں گردش کرتی ہیں جیسے بارش کے پانیوں میں کاغذ تیر رہے ہوں۔ ایک طوفان ہے غم و غصے کا جو پاکستانیوں کے رگ و پے میں سماجاتا ہے۔ کھلاڑیوں کے گھروں میں لوگ اینٹ پتھر پھیکے جاتے ہیں اور اہلِ خانہ کو مغلظات سے نوازا جاتا ہے۔ اگر صرف دو دن بعد یہی ٹیم اگلا میچ جیت جائے تو ہر کوئی دوسرے کو مبارکباد دے رہا ہوتا ہے۔ لوگ دیوانہ وار سڑکوں پہ ناچتے ہیں۔ ڈھول کی تھاپ پر رقص کرتے ہیں۔ ٹیم کے کھلاڑیوں کے نام پر اتنے احترام سے لیے جاتے ہیں جیسے وہ کوئی فاتح ہوں جنہوں نے کوئی نیا ملک فتح کرلیا ہو۔ جیسے انہوں نے محمد بن قاسم یا صلاح الدین ایوبی کے نقش قدم پر چل کر عالم اسلام کا وقار بلند کردیا ہو۔ ہر کسی کی زبان پر داد و تحسین ہوتی ہے۔ ہر کھلاڑی کا چوکا چھکا عقیدت کے پھولوں کا حقدار قرار پاتا ہے۔ ہر بائولر کا ذکر یوں کیا جاتا ہے جیسے وہ خدائی کی قدرت کا سب سے بڑا معجزہ ہو۔ پاکستان کا سب سے بڑا ستارہ ہو۔ ٹی وی چینل پر خبرنامے کے پہلے پندرہ بیس منٹ ان خاک کے پتلوں کو دیوتا بناکر دکھانے پر صرف کرتے ہیں۔ ایک طوفان ہے بدتمیزی کا جس نے ساری پاکستانی قوم کو اپنے حصار میں کس لیا ہے۔ ٹی وی ہمیں بار بار باور کرواتا ہے کہ پاکستان کے لیے ’’اُمید کی واحد کرن‘‘ پاکستانی ٹیم ہے۔ ہر دوسرے ٹی وی اشتہار میں کرکٹ کے کھلاڑی ہیں۔ کامیاب زندگی کے زیریں اصول بتارہا ہوتا ہے۔ یہ پلاٹ بیچ رہا ہوتا ہے۔ بالوں کے لیے شیمپو تجویز کررہا ہوتا ہے۔ چہرے کو گورا بنانے والی کریموں کے کرشمے دکھارہا ہوتا ہے۔ کرکٹ کا میچ جیتنے کے بعد ساری پاکستانی قوم کی قیادت سنبھال کر ان کی تقدیروں سے کھیلنے کی کوششوں میں مشغول ہوجاتا ہے۔ ساری قوم میڈیا کے اس پاگل گھوڑے پر سوار بھاگے جارہی ہے۔ نہ ہاتھ باگ پر ہیں نہ پائوں رکاب میں ہیں۔ پیسے کے ان سوداگروں نے کھلاڑیوں کو لات و منات کے بت بنادیا ہے۔ بے راہ رو لوگ ان کے اندھے پجاری بن کے رہ گئے ہیں۔

پاکستان نے اس ورلڈ کپ میں 4 ارب 33 کروڑ روپے صرف کیے ہیں۔ 2011ء کے ورلڈ کپ میں ہم نے 3 ارب 99 کروڑ پھونکے تھے۔ 2007ء کے ورلڈ کپ میں اس غریب قوم کے 3 ارب 58 کروڑ روپے صرف کیے گئے تھے۔ 2003ء کے ورلڈ کپ میں 3 ارب 8 کروڑ لاگت آئی تھی۔ یوں ہم دیکھتے ہیں کہ ہر چار سال بعد ان سورمائوں پر اس مقروض قوم کا قیمتی سرمایہ زیادہ سے زیادہ منافع کیا جارہا ہے۔ ان کو بیرون ملک فائیو اسٹار ہوٹلوں میں رکھا جاتا ہے۔ جہاں یہ جوئے کھیلتے ہیں اور بعض شرابیں پی کر غل غپاڑہ کرتے ہیں۔ ہمارے چھ کھلاڑیوں پر سٹہ بازی کے الزامات ثابت ہوئے اور ان پر انٹرنیشنل بورڈ آف کرکٹ نے پابندی لگادی۔ غریب گھرانوں کے یہ نوجوان جب دولت دیکھتے ہیں تو ان کے ہوش و حواس گم ہوجاتے ہیں۔ لاکھوں میں تنخواہ پانے کے بعد بھی ان کی بھوک نہیں مٹتی۔ یہ میچ فکس کرلیتے ہیں۔ عالمی سطح پر کھربوں روپے کا جوا کھیلنے والوں کے ساتھ بن جاتے ہیں۔ یوں یہ طے شدہ پلان کے تحت وکٹیں گنواتے ہیں۔ غلط بائولیں کرواتے ہیں۔ کیچ چھوڑتے ہیں۔ ہارے ہوئے میچ کو جیت کر یا جیتے ہوئے میچ کو ہار کر کروڑوں روپے کمالیتے ہیں۔ کسی مضبوط ٹیم سے جیت کر جوئے میں بڑے حصے کے مالک بن جاتے ہیں یا کسی کمزور ٹیم سے ہارکر مال و دولت جیت لیتے ہیں۔ سٹے بازوں کے شہ سوار ہندوستانی ہیں جو ہر گھوڑے پر رقم لگاتے ہیں۔ گھوڑوں کو کبھی شاہی راتب ملتا ہے یا بوقت ضرورت اُن کو بھوکا رکھ کر لڑوایا جاتا ہے۔ ان میں سے بیشتر کھلاڑیوں کی بیگمات، اُن کے بھائی بہن حتیٰ کہ ماں باپ بھی دھن دولت دونوں ہاتھوں سے اکھٹا کرتے رہتے ہیں۔ ہمارے کرکٹ بورد کے کئی بڑے اہلکار جوئے کے کھیل میں ملوث ہیں۔ ہمارا چیف سلیکٹر آسٹریلیا کے جوئے خانے میں اپنی بیگم کے ہمراہ جوا کھیلتا ہوا پکڑا گیا ہے۔ ٹیم کی سیکشن میں بدترین اقربا پروری دکھائی جاتی ہے۔ ہمارے حکمرانوں کے قریبی رشتہ دار پی سی بی کو اندرون خانہ چلاتے ہیں۔ من پسند کھلاڑی شامل کرلیے جاتے ہیں جو اربوں روپے کے سٹے میں ملوث ہوکر ان قومی راہنمائوں کے لیے دولت اکھٹی کرتے ہیں۔ پنجاب کے ایک عبوری وزیراعلیٰ کو بار بار پی سی بی میں اہم منصب پر فائز کیا جاتا رہا ہے۔ عدالتی فیصلے کے باوجود ان حضرت کے پاس نجانے کونسی جادو کی جھڑی ہے کہ نگاہِ انتخاب سیدھی ان پر جاٹکتی ہے۔ ہمارے راہنمائوں اور قوم کو ہوش کے ناخن لینا چاہییں۔ ہوش و حواس گنواکر مجنون پاگلوں کا وطیرہ نہایت درجہ غیرصحت مند ہے۔ ہمیں کھیل کود کی بھی ضرورت ہے۔ ایسے کھیل جو جسم کو مضبوط بنائیں اور ہمیں تفریح مہیا کریں۔ کرکٹ پر ایک مقروض قوم کا یوں اربوں روپیہ پھونک دینا دانشمندی نہیں۔ عام کھلاڑیوں کو قومی ہیرو بناکر پیش کرنا ہمیں عقلی طور پر ایک قلاش قوم ثابت کرتا ہے۔ ہم کرکٹ کی عیاشیوں میں یادِ خدا بھول چکے ہیں۔ ٹیم کے ہارنے پر درندگی کے مظاہرے بتاتے ہیں کہ ہم خوفِ خدا کو بھی تج چکے ہیں۔ ہم زمینی توازن گنواکر حیوانوں میں جاگھسے ہیں۔ ہم ایک خطرناک بیماری mega lomania کا شکار ہوگئے ہیں۔ اس بیماری کے مریض بظاہر بڑی بڑی باتیں بناتے ہیں، درحقیقت وہ اخلاقی زوال کے پاتال کو چھولیتے ہیں۔ ٹی وی چینلوں کو چلانے والوں پر بہت بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ انہوں نے اس دماغی خلجان کو ہوا دے رکھی ہے۔ لوگوں کو مریض بناکر رکھ دیا ہے۔ ایک خطرناک نشہ ٹی وی اسکرین کے ذریعے قوم کی نسلوں میں اُتارا جارہا ہے۔ ہم اپنے معاشرتی فریضوں کو نظرانداز کرکے غلط سمت میں رواں دواں ہوگئے ہیں۔ اگر میڈیا ہمیں یہ بتارہا ہے کہ پاکستان کے لیے دنی ابھر میں اُمید کی واحد کرن اُس کی کرکٹ ٹیم ہے تو ہمیں خود کو مسلمان کہتے ہوئے شرم آنی چاہیے۔ خدا اور رسول کے بتائے نورانی راستوں کو چھوڑ کر ہم بے دین فرنگیوں کے نقش قدم پر چل نکلے ہیں۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ ملک میں ہر آبادی میں پارک ہوں، کھیل کود کے گرائونڈ ہوں، جہاں فارغ وقت میں بچے بڑے جی بھر کے کھیلیں۔ وہ دل کھول کے تفریح کریں۔ اس طرح وہ اپنے روزمردہ کام اور پڑھائی بہتر طور پر کرسکیں گے۔ کھیل کے میدان سے نکلتے ہی ہر بڑا چھوٹا اپنی ذمہ داریوں کو نبھائے۔ ملک کی تعمیر و ترقی میں اپنا رول ادا کرے۔ مذہب ہمیں جائز تفریح سے نہیں روکتا، لیکن اگر یہی تفریح ایک خوفناک ذہنی آزار بن جائے، لوگوں کی عقل و شعور کو مختل کردے تو اسے فوری طور پر روکنا ہوگا۔