بارش، سمندر اورشام

بارش، سمندر اورشام
جاوید چوہدری  جمعرات 30 جون 2016

ہم نے رات پاہیہ (Paihia) میں گزارنی تھی، یہ ٹاؤن ’’بے آف آئی لینڈز‘‘ کہلاتا ہے اور یہ شمالی جزیرے کے اہم ترین شہروں میں شمار ہوتا ہے، ہم پاہیہ پہنچے تو رات ہو چکی تھی، شہر رات کی چادر میں پناہ لے چکا تھا، سمندر کی بے پرواہ ہوائیں چادر کو گدگداتیں تو شہر کے برفیلے بدن کی لو دائیں بائیں پھیل جاتی تھی، ہم اس لو پر سفر کرتے ہوئے پاہیہ پہنچ گئے، رات ٹھنڈی بھی تھی اور اندھیری بھی اور اوپر سے بارش کا زور، ہم نے بھاگ کر ہوٹل میں پناہ لی، اگلا دن بھی بارش زدہ تھا، پورا شہر دھند میں چھپا ہوا تھا، ہم پاہیہ سے فیری لے کر جزیروں کی سیر کرنا چاہتے تھے۔
شہر کے گرد درجنوں چھوٹے چھوٹے جزیرے ہیں، ان میں سے بعض جزیروں پر تین تین ،چارچار خاندان آباد ہیں، یہ لوگ اپنی پوری زندگی جزیروں پر گزار دیتے ہیں اور صرف ضروریات کے لیے شہر آتے ہیں، جزیروں کے درمیان چٹانوں کی ایک محراب بھی ہے، یہ محراب لہروں نے پتھر رگڑ رگڑ کر بنائی، کشتیاں، موٹر بوٹس اور چھوٹی فیری محراب کے درمیان سے گزرتی ہے، یہ منظر تصویری ہے، سیاح کیمرے ہاتھ میں پکڑ کر محراب کا انتظار کرتے ہیں، ہم نے محراب سے گزرنے اور جزیروں پر جھانکنے کے لیے فیری لینی تھی لیکن بارش اور سمندر میں طوفان کی وجہ سے فیری منسوخ ہو گئی، ہم جزیروں کی سیر سے محروم رہ گئے، ہم نے یہ کمی شہر کے گرد ڈرائیو کے ذریعے پوری کی، پاہیہ کی پہاڑی پرگالف کورس ہے۔
وہاں سے شہر، سمندر اور پہاڑ تینوں نظر آتے ہیں، یہ منظر بارش میں دھل کر زیادہ خوبصورت ہو گیا تھا، ہم دیر تک اس منظر کو بارش میں دھلتے، نکھرتے اور کلکاریاں مارتے دیکھتے رہے، ساحل کے ساتھ ساتھ فٹ پاتھ تھا، میں نے بارش میں فٹ پاتھ پر واک شروع کر دی، میرے ایک طرف سمندر کی شوریدہ لہریں تھیں اور دوسری طرف ہوٹلوں اور ریستورانوں کی قطار، اوپرسر پر پہاڑی اورگالف کورس تھا اور سامنے پانی میں ڈوبے ہوئے جزیرے، میری واک کیمرا بن گئی اور یہ کیمرا دھڑا دھڑ یادداشت کے پرنٹر پر تصویریں اتارنے لگا، پاہیہ کی وہ واک جسم کے باریک سیلوں میں اتر گئی، میری ساری خالی بیٹریاں ایک ایک کر کے چارج ہو گئیں۔

ہماری اگلی منزل فن گاری تھا، یہ لکھا ون گاری (Whangarei) لیکن بولا فن گاری جاتا ہے، فن گاری کی آبشار ہمارا ٹارگٹ تھی، شہر کے مضافات میں گھنا جنگل ہے، یہ جنگل پہاڑ کی اترائیوں پر آباد ہے، درخت ہزار ہزار سال پرانے ہیں، جنگل میں دن کے وقت بھی اندھیرا رہتا ہے، اس گھنے اور اندھیرے جنگل میں ایک آبشار بہہ رہی تھی، ہم گاڑی پارکنگ میں لگا کر جنگل میں اترے تو آبشار کے پہلے نظارے نے بہت مایوس کیا، یہ ہمیں چھوٹا سا نالہ لگی لیکن ہم جوں جوں جنگل میں اترتے گئے آبشار کے بہاؤ، توانائی اور خوبصورتی میں اضافہ ہوتا چلا گیا یہاں تک کہ ہم ایک پیالہ نما جگہ پہنچ گئے، یہ تین چار سو میٹر گول پیالہ تھا، پیالے کے تین چوتھائی حصے پر جنگل تھا، آبشار اس چٹانی حصے سے نیچے گر رہی تھی۔
ہم جوں ہی وہاں پہنچے، منظر نے ہماری بینائی جکڑ لی، سو سو فٹ اونچے درختوں، پانچ پانچ میٹر گول جھاڑیوں اور سبز چمکیلی گھاس کے درمیان جنت کا ٹکڑا پڑا تھا، پانی کی سفید دھاریں گر رہی تھیں، دھاروں نے چٹان کے قدموں میں سبز رنگ کی جھیل بنا دی تھی، یہ جھیل، اس کا سبز پانی، سبز پانی کو گھیر کر کھڑا چوکس جنگل، جنگل پر تنا نیلا آسمان، آسمان سے برستی بوندیں اور بوندوں میں بہتی ہوئی ہوائیں، وہ منظر صرف منظر نہیں تھا، وہ مناظر کے مذہب کا مقدس ٹمپل تھا اور میری نظریں اس ٹمپل پر واری ہو رہی تھی، میں چند لمحوں کے لیے ساکت ہو گیا، مجھے اس لمحے محسوس ہوا میں لوہے کا ایک باریک زرہ ہوں اور یہ منظر قدرت کا مہیب مقناطیس، میں ابھی اپنے قدموں سے اکھڑوں گا، مکھی کی طرح ہوا میں اڑوں گا، تنکے کی طرح گردش کرتا ہوا نظروں سے اوجھل ہوں گا، پوری طاقت کے ساتھ چٹان سے ٹکراؤں گا اور پھر ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اس منظر کے وجود کا حصہ بن جاؤں گا، مجھے اس لمحے محسوس ہوا زمین چاکلیٹ سے بنی ہے اور یہ چاکلیٹ اس منظر کی حدت میں پگھل رہا ہے۔
آسمان بہت بڑا تمبو ہے اور تمبو کے چاروں سرے کھل گئے ہیں، مجھے محسوس ہوا سورج سورج نہیں یہ سرخ برف کاگولہ ہے اور یہ گولہ پانی بن کر اس آبشار پر برس رہا ہے اور وہ سارا جنگل، جی ہاں وہ سارا جنگل بیوہ کی سسکی ہے، ایک ایسی سسکی جو پھوار بن کر ہوا میں غسل کر رہی ہے، کیا مناظر کی کوئی خوشبو بھی ہوتی ہے؟ مجھ سے کوئی اس دن سے پہلے پوچھتا تو میرا جواب ناں ہوتا لیکن مجھے اس دن معلوم ہوا دنیا کے ہر منظر کی ایک خوشبو ہوتی ہے اور یہ خوشبو چپکے سے دیکھنے والے کے وجود کا حصہ بن جاتی ہے، میں اس دن سے پہلے بے رنگ، بے بو اور بے ذائقہ تھا، میں صرف میلا پانی تھا مگر اس منظر نے مجھے رنگ بھی دے دیا، خوشبو بھی اور ذائقہ بھی، میں میٹھا ہوگیا، میں پرپل ہو گیا، میں لیونڈر بن گیا، آبشار کے گرد پگڈنڈیاں تھیں، یہ پگڈنڈیاں جنگل کے مختلف حصوں میں نکلتی تھیں لیکن تمام حصے گھوم گھام کر اس آبشار پر آتی تھیں، حکومت نے پگڈنڈیوں کو آرام دہ بنانے کے لیے چڑھائیوں پر سیڑھیاں بنا دی تھیں، یہ لکڑی کی خوبصورت سیڑھیاں تھیں، آپ سیڑھیاں چڑھتے جائیں اور جنگل کی گہرائیوں میں اترتے جائیں، ہر گہرائی اور ہر چڑھائی پر آبشار کا رنگ اور ڈھنگ بدل جاتا تھا، یہ زیادہ خوبصورت دکھائی دیتی تھی۔
ہم اس رات واپس آک لینڈ پہنچ گئے، آک لینڈ میں قیصر رشید ہمارے منتظر تھے، یہ ملتان سے تعلق رکھتے ہیں، جوانی میں امریکا چلے گئے، لاس اینجلس سے اعلیٰ تعلیم لی، پاکستان واپس آئے ،لیکسن ٹوبیکو میں ملازمت کی، ترقی پائی، آخری سیڑھی پر پہنچے اور نوکری چھوڑ کر نیوزی لینڈ آ گئے، یہ اب پاکستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان کاروباری اور ثقافتی تعلقات پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، یونیورسٹی میں پڑھاتے ہیں، بزنس ڈویلپمنٹ پر لیکچر دیتے ہیں اور خوبصورت متحرک زندگی گزارتے ہیں، اللہ تعالیٰ نے انھیں پانچ بیٹے دیے ہیں، میں نے طویل مدت بعد کوئی خالص مردانہ گھر دیکھا، گھر میں قیصر صاحب کی بیگم کے علاوہ کوئی خاتون نہیں اور یہ خاتون بھی اب خاتون نہیں رہیں، یہ ماں بن چکی ہیں، یہ ماں کی طرح ہر شخص کا خیال رکھتی ہیں، میں نے دو دن بعد قیصر رشید کے ساتھ گزبن اور ویٹامو کیوز جانا تھا لیکن اس سے پہلے ’’پی ہا بیچ‘‘ آتی ہے، ہم نے اگلے دن آک لینڈ کے مغربی ساحل جانا تھا۔
پی ہا بیچ آک لینڈ کا مغربی ساحل ہے، ہم 24 جون کو وہاں پہنچے، یہ ایک خواب ناک ساحل ہے، میں ساحل کے ساتھ ساتھ چلتا ہوا دور نکل گیا، ساحل کے دائیں ہاتھ سبز اور شاداب پہاڑ تھا، پہاڑ پر گھر بنے ہوئے تھے، یہ مہنگے گھر ہیں اور یہ برطانوی، یورپی اور امریکی شہریوں کی ملکیت ہیں، برطانیہ کے لوگ محنت کرتے ہیں، چالیس اور پچاس سال کے درمیان اپنے گھر بیچتے ہیں، نیوزی لینڈ آتے ہیں، اپنی دولت کے ایک چوتھائی حصے سے کسی خوبصورت ساحل کے کنارے ’’ویلا‘‘ خریدتے ہیں، آدھی دولت کی سرمایہ کاری کرتے ہیں اور باقی زندگی مزے سے گزار دیتے ہیں، نیوزی لینڈ برطانوی شہریوں کو سوٹ کرتا ہے، اس کی دو وجوہات ہیں، پہلی وجہ انگریزی زبان ہے، نیوزی لینڈ برطانیہ کی کالونی تھا چنانچہ یہاں آج بھی برطانوی لہجہ رائج ہے، دوسرا یہ آج بھی ملکہ برطانیہ کو اپنی ملکہ سمجھتے ہیں چنانچہ برطانوی شہریوں کے لیے برطانیہ سے نیوزی لینڈ شفٹ ہونا اتنا ہی آسان ہے جتنا لندن سے مانچسٹر جانا اور رہنا، نیوزی لینڈ کا معیار زندگی بھی برطانیہ سے بہتر ہے، کرنسی کی وقعت آدھی ہے اور ماحول خالص دیہی ہے چنانچہ یہ ملک برطانیہ کے بوڑھوں کے لیے جنت کی حیثیت رکھتا ہے، پی ہا بیچ بھی اس جنت کا حصہ ہے۔
میں ساحل کے ساتھ ساتھ دور تک نکل گیا، آگے ساحل کنوارہ تھا، میں گیلی ریت پر چلتا گیا اور میرے پیچھے میرے پاؤں کے سیکڑوں نشان بنتے گئے، پہاڑ، پہاڑی اترائیاں، پہاڑی ٹریکس اور غار بھی ساتھ ساتھ چل رہے تھے، یہ غار پانی نے چٹانوں کو کھود کھود کر بنائے تھے، ان کے اندر سے جنگلی جانوروں کی آوازیں آ رہی تھیں، ساحل پر ان کے پنجوں کے نشان بھی تھے، ریت پر دور دور تک سپیاں اور گونگے بکھرے تھے، گیلی ریت اور اس میں پروئی سپیاں سلیٹی رنگ کی چادر پر سفید موتی محسوس ہوتے تھے، میں ان موتیوں پر پاؤں رکھتا ہوا آگے بڑھتا رہا، سپیاں میرے وزن تلے دب جاتی تھیں لیکن میں جوں ہی اگلا قدم اٹھاتا تھا وہ واپس سطح پر آ جاتی تھیں، میرے بائیں ہاتھ تاحد نظر نیلا سمندر تھا، موجیں ناراض تھیں، وہ بار بار غصے سے میری طرف دوڑتی تھیں لیکن انھیں قریب پہنچ کر مجھ پر رحم آ جاتا تھا اور وہ مجھے چھو کر واپس چلی جاتی تھیں، میں اس وقت زمین کے اس حصے میں تنہا تھا، دور دور تک کوئی بشر نہیں تھا، میں اس تنہائی سے ڈر گیا اور واپس آ گیا، عامر تحریم مجھے تلاش کر رہا تھا، ہم گاڑی میں بیٹھے اور ساحل کے دوسرے حصے میں پہنچ گئے، اس حصے میں دیوہیکل چٹانیں تھیں، ہم چٹانوں میں اتر گئے۔
چٹانوں کے درمیان ایک قدرتی ساحلی اسٹیڈیم تھا، یہ اسٹیڈیم پانی نے چٹانیں توڑ کر بنایا تھا، ہم اسٹیڈیم میں اتر گئے، ہمارے تین اطراف بلند و بالا چٹانیں تھیں اور ایک سائیڈ پر کھلا سمندر، سمندر کی موجیں چٹانوں سے ٹکرا کر اسٹیڈیم میں گھس آتی تھیں، یہ میری زندگی کا پہلا قدرتی اسٹیڈیم تھا، فلک بوس سبز چٹانیں تھیں، درمیان میں خالی جگہ تھی، نیچے گیلی ریت تھی، ریت پر سپیاں اور گونگے تھے اور سر پر نیلا آسمان تھا، ہم دونوں بڑی مشکل سے چٹانوں پر چڑھتے، لٹکتے اور سلپ ہوتے وہاں پہنچے لیکن اس جگہ کے سحر نے ہم دونوں کو جکڑ لیا، وہ جگہ حقیقتاً دل فریب تھی، ہم تھوڑا سا آگے بڑھے تو ایک اور حیرت ہمارا راستہ دیکھ رہی تھی، بلند، طویل اور ہیبت ناک چٹان کے قدموں میں بیس فٹ اونچا اور پانچ چھ فٹ چوڑا سوراخ تھا، سوراخ آر پار تھا اور اس کے ایک طرف ہم کھڑے تھے اور دوسری طرف سمندر، سمندر کی لہریں دور سے آتی تھیں، سوراخ سے ٹکراتی تھیں۔
پانی اچھل کر ہماری طرف آتا تھا اور چٹان کی دوسری طرف پہنچ کر چھوٹی چھوٹی نالیوں میں تقسیم ہو جاتا تھا، ہمارے سامنے پانی کی درجن بھر نالیاں تھیں، ان نالیوں میں اس سوراخ سے پانی آ رہا تھا، وہ منظر حیران کن حد تک خوبصورت تھا، ہم چند لمحوں کے لیے اس کی خوبصورتی میں بھی گم ہو گئے، ہم منظر کے سحر سے نکلے تو ہمیں اپنی پشت پر سمندری لہروں کی آوازیں آئیں، ہم نے پیچھے مڑ کر دیکھا، پتہ چلا اسٹیڈیم کی چٹانیں تین اطراف سے سمندر کے نرغے میں ہیں، ہمارے پیچھے بھی چٹان کی دوسری طرف سمندر ہے اور وہ سمندر بھی چٹانیں توڑ کر اسٹیڈیم میں داخل ہو رہا ہے، ہم دوسری طرف چل پڑے، وہاں چٹانیں تھیں، چٹانوں پر سمندر کے غضب ناک تھپیڑے تھے، پتھروں کے درمیان سوراخ تھے اور پانی سوراخوں میں سے اچھل کر باہر آ رہا تھا، ہم کوشش کے باوجود چٹان کے اوپر نہ چڑھ سکے۔
ہم پیچھے ہٹے تو راستہ جنگل میں اتر رہا تھا، وہ راستہ ہمیں پتھروں کے ایک بڑے پیالے میں لے گیا، پیالے کی ایک دیوار سے آبشار گر رہی تھی، یہ آبشار دھواں اڑاتی ہوئی پتھروں کے درمیان سے سمندر میں گر رہی تھی، ہمیں اس آبشار نے بھی مبہوت کر دیا، ہم آبشار سے واپس پلٹے تو زندگی کی ایک اور خوبصورت شام ہمارے سامنے بچھی تھی، آسمان پر بادل تھے، ڈوبتے ہوئے سورج نے بادلوں کو آگ لگا دی، بادلوں کی وہ آگ آہستہ آہستہ سمندر پر اتر رہی تھی، ہم پہاڑ کی چوٹی پر کھڑے ہو گئے اور ٹکٹکی باندھ کر آسمان کی آگ کو پانی میں چھلانگ لگاتے دیکھتے رہے اور پھر وہ لمحہ آ گیا، سورج نے آخری ہچکی لی اور اپنے سارے رنگوں کے ساتھ پانی میں اتر گیا، پی ہا کا پورا ساحل بھٹی میں پگھلے لوہے کی طرح سرخ ہو گیا، میں نے جھرجھری لی اور آنکھیں بند کر لیں، میں اس منظر کو ضایع کرنے کا رسک نہیں لے سکتا تھا۔