السلام علیکم..طلحہ السیف

دعاء کریں

السلام علیکم..طلحہ السیف (شمارہ 444)

ہندوستان میں انتخابات ہو رہے ہیں اور ان کے متوقع نتیجے کے طور پر موذی ہندو نریندر مودی کو وزیر اعظم کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔مودی ابھی وزیر اعظم بنا نہیں لیکن اس کا لب و لہجہ وزیر اعظم والا ہو گیا ہے۔وہ مسلسل اس طرح سے بیان بازی کر رہا ہے گویا وہ وزارت عظمی کا حلف اٹھا چکا ہے۔کانگریس میں اس کے مقابلے کا دم نہیں،اس کی حالت لگ بھگ ہماری پیپلز پارٹی والی ہے کہ پرانے پرانے پارلیمنٹیرین بھی ٹکٹوں کے معاملے میں ’’ایثار‘‘ کرتے اور انتخابات سے پہلو بچاتے نظر آ رہے ہیں۔

’’انڈین عمران خان‘‘،مسٹر عام آدمی یعنی اروند کیجروال کی کارکردگی بھی تھپڑ کھانے کے علاوہ کسی میدان میں نظر نہیں آ رہی۔سنا ہے وہ بھی کسی ہندوستانی ’’جہانگیر ترین ‘‘کے ذاتی جہاز میں جھولے لینے کی وجہ سے عوام کی نظروں میں اپنا ’’عام آدمی‘‘ کا امیج کھو بیٹھا ہے اور لوگوں کا اس کی طرف رجحان ویسا نہیں رہا جیسا دہلی کے ریاستی انتخابات کے وقت تھا۔ہندوستان کی سیاست میں مقامی صوبائی پارٹیوں کا کردار ہمیشہ سے بہت اہمیت کا حامل رہا ہے خصوصاً حکومت سازی کے وقت ان چھوٹی علاقائی پارٹیوں کو قومی اہمیت حاصل ہو جاتی ہے اور ان کا کردار فیصلہ کن ہو جاتا ہے،تب یہ چار چار سیٹوں والی پارٹیاں بھی سونے کے بھاؤ تلتی ہیں اور بڑی پارٹیوں کو منہ مانگی قیمت پر انہیں خریدنا پڑتا ہے۔اربوں روپے نقد بانٹے جاتے ہیں اور منہ مانگی وزارتیں۔یوں ان کی مدد سے کوئی بڑی پارٹی حکومت بنانے میں کامیاب ہوتی ہے۔اس وقت ان پارٹیوں کی اکثریت حالات کا رخ دیکھ کر بی جے بی کا رخ کر چکی ہے اور ان کا واضح جھکاؤ مودی کی طرف نظر آ رہا ہے۔ایسے میں مودی کو اپنے وزیرا عظم بننے کا یقین کوئی اچھنبے کی بات نہیں۔یہی یقین اس کے بیانات سے صاف چھلک رہا ہے۔

مودی نے پاکستان کے حوالے سے اپنا موقف صاف طور پر بیان کر دیا ہے۔وہ اقتدار میں آنے سے پہلے ہی پاکستان میں مخصوص اہداف پر حملوں کی بات کر رہا ہے۔وہ پاکستان سے اپنے مطلوب افراد زبردستی لینے کا دعوی کر رہا ہے اور کشمیر کے معاملے پر ہندوستان کے سرکاری موقف کو زیادہ شدت کے ساتھ پیش کر رہا ہے،حالیہ کچھ عرصے سے کشمیر میں ریاستی تشدد اور جبر میں اضافہ اسی پالیسی کا شاخسانہ ہے،ہندوستانی ریاستی ادارے اگلی حکومت آنے سے پہلے ہی نوشتہ دیوار پڑھ کر اس کی پالیسیوں پر گامزن ہو گئے ہیں اور انہوں نے کشمیر پر ظلم کا شکنجہ مزید کس دیا ہے۔نقلی مقابلوں میں کشمیری طالبعلموں کو شہید کیا جا رہا ہے۔تعلیمی اداروں میں سختی بڑھا دی گئی ہے۔پر امن مظاہرین کے خلاف طاقت کا اندھا دھند استعمال کیا جا رہا ہے۔آرمی اور نیم فوجی دستوں کی تعداد بڑھا دی گئی ہے ۔گرفتاریاں روز مرہ کا معمول بن گئیں ہیں اور آرمی کیمپوں میں پھر سے تشدد کا بازار گرم ہے۔ہندوستان کے دیگر علاقوں میں زیر تعلیم کشمیری طلبہ مسلسل بد سلوکی کا نشانہ بنائے جا رہے ہیں۔پہلے میرٹھ اور بنگلور میں کرکٹ میچ میں پاکستان کی جیت پر کشمیری طلبہ کو تشدد کا نشانہ بنا کر ان کا یونیورسٹی سے اخراج عمل میں لایا گیا اور اب گذشتہ ہفتے ’’پاکستان مردہ باد‘‘ کا نعرہ نہ لگانے پر دہلی اور گجرات کی یونیورسٹیوں میں یہی عمل دہرایا گیا۔ہندو انتہا پسند انہیں اجتماعی طور پر تشدد کا نشانہ بناتے ہیں اور پھر انتظامیہ نقص امن کا بہانہ بنا کر کارروائی بھی کشمیری طلبہ کے خلاف کرتی ہے نہ کہ اصل مجرموں کے خلاف۔یہ سارے حالات واضح اشارہ ہیں کہ ہندوستان کے لوگ کن قوتوں کو اقتدار میں لانا چاہتے ہیں اور ان کی پالیسیاں کیا ہیں۔

مودی نے بابری مسجد اور رام مندر کے معاملے میں بھی اپنا موقف واضح کر دیا ہے۔بی جے پی کی انتخابی پالیسی یہ تھی کہ الیکشن کمپین میں ایسے موضوعات کو نہ چھیڑا جائے جن سے مسلمانوں کے زخموں پر نمک پاشی ہو۔اس لئے بابری مسجد کے معاملے کو نہ اٹھانے کا فیصلہ کیا گیا۔لیکن آر ایس ایس کے سیاسی بازو سے یہ توقع رکھنا عبث ہے کہ وہ اس موضوع کو بالکل نظر انداز کر دے گا۔سب جانتے ہیں کہ بابری مسجد کی جگہ مندر بنانے کا معاملہ بی جے پی کی ترجیحات میں سر فہرست ہے۔یہ ان کی متفقہ پالیسی ہے اور ان سب کا خواب ہے کہ وہ ایسا کریں گے۔لہذا آر ایس ایس کے نظریاتی ووٹ بنک کو متحرک کرنے کے لئے نریندر مودی نے اس حوالے سے بھی اپنا موقف صاف کر دیا ہے۔انتخابات کے ساتویں مرحلے کی کمپین کے دوران لکھنو کے جلسے میں اس نے پورے اتر پردیش کو رام کی سر زمین کہا اور یو پی کے ہندوؤں سے رام کے نام پر ووٹ کرنے کی اپیل کی۔اس کے بین السطور اس نے ہندوؤں کو جو پیغام دیا وہ بالکل واضح ہے۔ہندو عقیدے کے مطابق اترپردیش کا علاقہ ایودھیا رام کی مزعومہ جائے پیدائش ہے۔اگرچہ تاریخی حوالے تمام تر ان کے اس دعوے کو مسترد کرتے ہیں لیکن ان کی ضد ہے کہ نہ صرف ایودھیا بلکہ خاص بابری مسجد والا مقام ہی ان کے رام کی جائے پیدائش ہے اس لئے وہ اس جگہ وہ مندر تعمیر کریں گے۔مودی کا پوری یو پی کو رام کی سرزمین کہنا اور پھر اسی کے نام کا ووٹ مانگنا انتہا پسند ہندوؤں کے نام واضح پیغام ہے کہ وہ اور اس کی جماعت اپنے موقف پر قائم ہیں اور اپنے مکروہ ایجنڈے کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لئے سرگرم عمل ہے۔ہندوستان کے مسلمان اور سیکولر ہندو سیاسی تجزیہ نگاروں کا اتفاق ہے کہ اس الیکشن میں بی جے پی کی طرف سے ایڈوانی ،سشما سوراج، جسونت سنگھ جیسے پرانے اور قومی سطح کے لیڈروں کو سائیڈ لائن کر کے ایک علاقائی لیڈر نریندر مودی کو کپتان کے طور پر سامنے لانا دراصل اسی رام مندر کے ایشو پر ہندوؤں کو یقین دہانی کرانے کے لئے تھا۔ایڈوانی اور اس کی پرانی ٹیم اس معاملے کو ہوا دے کر اقتدار میں آئے مگر وہ یہ کام نہ کر سکے۔اگرچہ انہوں نے دوبار اس کی حتمی تاریخ کا اعلان کیا لیکن مجاہدین کی بروقت کارروائیوں اور ہندوستانی مسلمانوں کی طرف سے سخت ردعمل کے خدشے نے انہیں ایسا کرنے سے باز رکھا،جس پر ہندو ووٹر برافروختہ ہوئے اور انہوں نے بی جے پی سے اپنی حمایت واپس لے کر اسے اقتدار سے ہٹا دیا۔کانگریس کو اقتدار میں لایا گیا تاکہ اپنی شاطرانہ چانکیائی سیاست کے ذریعے خاموشی سے یہ کام کرا دے لیکن وہ بھی ناکام رہی۔لہذا اس بار ایسے شخص کو سامنے لایا گیا ہے جو ریاستی مشینری کو اپنے مقاصد میں استعمال کرنے کا ماہر ہے،سفاک ہے،خونی درندہ ہے اور اس کے ہاتھ مسلمانوں کے خون سے رنگے ہیں۔اس کا اقتدار میں آنا اس مقصد کی تکمیل میں معاون ثابت ہو سکتا ہے اس لئے باوجود سینئر لیڈروں کی ناراضگی اور استعفوں کے سب کو پس پشت ڈال کر بی جے پی کی کمان اسی کے ہاتھ میں تھما دی گئی۔پورے ہندوستان میں آر ایس ایس کے کچھا پوش ڈنڈا بردار کارکن گھروں میں جا جا کر ہندو مذہب کے نام اور رام مندر کی تعمیر کے نام پر لوگوںکو ووٹ دینے کی ترغیب دے رہے ہیں۔اسی کے پیش نظر مودی نے بھی الیکشن کے آخری مرحلے سے قبل اپنی نیت کھل کر واضح کر دی ہے اور اپنی پارٹی کا موقف بھی کھول کر سامنے رکھ دیا ہے کہ بی جے پی بظاہر کچھ بھی کہتی رہے اور کوئی لبادہ بھی اوڑھ لے اسکی سیاست کا بنیادی عنصر رام بھگتی ہے اور وہ اسی کے نام پر اقتدار میں آنا چاہتی ہے۔

نریندر مودی نے ہندوستانی مسلمانوں کے حوالے سے بھی اپنی پالیسی واضح کر دی ہے۔ہندوستان میں مسلمان چالیس کروڑ کے لگ بھگ ہیں۔یہ انڈونیشیا کے بعد مسلمانوں کی سب سے بڑی آبادی ہے۔لیکن بد قسمتی سے یہ چالیس کروڑ لوگ ’’اقلیت‘‘ کہلاتے ہیں۔کوٹے پر ملازمتیں پاتے ہیں۔کوٹے پر ہی تعلیمی اداروں میں داخلہ حاصل کرتے ہیں۔کوٹے پر ترقیاتی فنڈ کی بھیک لیتے ہیں اور کوٹے پر ہی سیاسی جماعتوں میں نمائندگی کے مستحق سمجھے جاتے ہیں۔ہندوستان میں مسلمانوں کی آبادیاں اپنی پسماندگی،گندگی اور بنیادی سہولیات سے محرومی سے پہچانی جاتی ہیں۔مسلمان کا تعارف یا تو ایک دہشت گرد قوم کے طور پر ہے یا مظلوم قوم کے عنوان سے۔موجودہ ہندوستان کی اب تک کی چونسٹھ سالہ تاریخ میں صرف دنگوں میں مارے جانے والے مسلمانوں کی تعداد 10 لاکھ سے زائد ہے۔اس میں تقسیم ہند کے وقت کے فسادات ،حیدر آباد دکن پر فوج کشی، آسام میں 1982کے فسادات،گجرات میں 2002کے فسادات،بہار میں بھاگل پور کے فسادات،یوپی مظفر نگر کے فسادات بابری مسجد کی شہادت کے وقت ممبئی میں ہونے والا قتل عام اور ایسے کئی واقعات شامل ہیں۔ہندوستان میں ہر بڑی چھوٹی پارٹی مسلمانوں کی اس مظلومیت کو اپنے حق میں استعمال کرنے کی کوشش کرتی ہے۔اور انہی واقعات کو بنیاد بنا کر اچھے مستقبل کی نویدپر ہر ایک مسلمانوں کو الیکشن کے وقت اپنی طرف کھینچتا ہے اور پھر اقتدار میں آنے کے بعد فراموش کر دیتا ہے۔حکومت کسی کی بھی رہی ہو ہندوستانی مسلمان پر عرصہ حیات تنگ ہی رہا ہے اور وہ ہر دور میں مارا گیا ہے۔نریندر مودی بذات خود ہزاروں گجراتی مسلمانوں کا قاتل ہے اور اس نے اپنے جرم پر معذرت کرنے سے صاف انکار کر کے اپنے عزائم کا اظہار بھی کر دیا ہے۔اس نے حالیہ الیکشن کمپین میں بنگال جا کر متنازعہ موضوع کو چھیڑا اور بنگالی رفیوجی مسئلے کو ہوا دے کر مسلمانوں کے لئے مشکلات پیدا کیں۔آسام ریلی کے دوران اس نے آسامی بنگالی اختلاف کا ذکر کر کے مسلمانوں کے خلاف نفرت کے جذبات کو ابھارا اور اسکے فوری رد عمل کے طور پر دو سو سے زائد مسلمان ایک دن میں شہید کر دئیے گئے۔آسام کے بوڈو قبائل عرصہ دراز سے مسلمانوں کی جانوں کے درپے ہیں۔1982میں انہوں نے ایک ہفتے میں تیس ہزار سے زائد مسلمانوں کو شہید کر ڈالا تھا۔اس کے بعد بھی کئی بار انہوں نے مسلمانوں پر جان لیوا حملے کئے اور انہیں نشانہ بنایا۔مودی نے ایک بار پھر اس لڑائی کو بھڑکایا اور مسلمانوں کی جانیں خطرے میں ڈالیں۔ان ساری حرکتوں سے اس کا ایجنڈہ واضح ہے کہ وہ اقتدار میں آ کر کس طرح مسلمانوں کی نسل کشی کرنا چاہتا ہے۔

ہمارے ہندوستانی مسلمان بھائی اس وقت ایک خونی بھیڑئیے کے نرغے میں ہیں۔ہم ان کے لئے کچھ اور نہیں کر سکتے تو کم از کم دعاء میں تو بخل نہ کریں اور اسی کے ذریعے ہی اسلامی اخوت کا کسی حد تک مظاہرہ تو کریں۔باقی اس بات کا کوئی مودی گمان نہ رکھے کہ وہ ہندوستان سے مسلمانوں کو ختم کر دے گا۔ہمارے آقا مدنی ﷺ کی بشارت کے مطابق ہند مسلمانوں کا ہے اور مسلمان ہی ہند کے اصل فاتحین تھے اور ایک بار پھر بنیں گے۔وقت اور خون تو اس راستے میں ہمیشہ لگتا آیا ہے اب بھی لگ رہا ہے لیکن نتیجے کا ہمیں یقین ہے مودی کو نہیں۔

٭…٭…٭
بھائی ابو بکر

السلام علیکم..طلحہ السیف (شمارہ 443)

ہمارے ہاں مرکز عثمانؓ و علیؓ میں سالانہ اجتماع کے موقع پر عموماً ایک گھمبیر آواز گونجا کرتی تھی:

ہر دم اللہ اللہ کر

نور سے اپنا سینہ بھر

اور آخر میں یہ شعر ہوتا:

ابو بکر کیا ڈرنا ہے

آخر ایک دن مرنا ہے

کھل کر یہ پیغام سنا

لا الہ الا اللہ

نور سے بھرے سینے والے اور کھل کر لا الہ الا اللہ کا پیغام سنانے والے ’’ابو بکر‘‘ اب ہم میں نہیں رہے…

انا للہ وانا الیہ راجعون…

مجاہدین کے ہر دلعزیز استاذ بھائی ابو بکر صاحب دنیا سے رخصت ہوئے اور ہزاروں جاننے اور چاہنے والوں کو سوگوار چھوڑ گئے۔

بھائی ابو بکر 1996؁ء میں جہادی لشکر میں شامل ہوئے۔ان کے لئے یہ راستہ وادی پرخار ثابت ہوا اور انہیں شدید مخالفت،ایذا رسانی اور تشدد کا سامنا کرنا پڑا۔لیکن وہ آئے تو ڈٹ گئے اور پھر تقریباً ۱۸ سال انہوں نے جس استقامت کے ساتھ اپنی اس وابستگی کو برقرار رکھا یہ انہی کا کام تھا۔انہوں نے اچھی تربیت حاصل کی۔محاذوں پر وقت لگایا اور ’’استاذ‘‘ بن گئے۔اس میدان میں اللہ تعالیٰ نے جو مقبولیت اور محبوبیت انہیں نصیب فرمائی وہ بہت کم لوگوں کے حصے میں آئی۔بلا مبالغہ ہزاروں نوجوانوں نے ان سے تربیت حاصل کی۔ان کی تعلیم و تربیت کا انداز سب سے نرالا اور جدا تھا۔وہ کلاس میں ہر وقت مصروف رہتے،مصروف رکھتے اور مسلسل ترغیبی گفتگو کرتے رہتے۔وہ صرف جسم نہیں بناتے تھے اس سے بڑھ کر نظرئیے کے لئے محنت کرتے،ان کی کوشش ہوتی کہ وہ اپنے شاگردوں کو شعوری طور پر پختہ اور نظریاتی طور پر مجاہد بنائیں۔وہ اپنی اس کوشش میں کامیاب بھی رہے اور انہوں نے سینکڑوں کل وقتی ،نظریاتی اور شعوری مجاہد جہادی محاذوں کو دئیے۔کشمیر میں شہید ہونے والے جماعت کے مجاہدین کی سب سے بڑی تعداد بھائی ابو بکر کے تربیت یافتہ شاگردوں کی ہے اور یہ ان کے لئے بہت بڑا صدقہ جاریہ ہے۔اللہ تعالیٰ نے انہیں شخصی وجاہت سے بھی بہت وافر مقدار عطاء فرمائی تھی۔وہ ہزاورں کے مجمع میں منفرد نظر آتے اور الگ سے پہچانے جاتے۔چھہ فٹ سے نکلتا قد،سرخ و سفید رنگت،خوبصورت گھنی داڑھی،سر پر ہمیشہ جہادی مسنون عمامہ،بلند آواز اور ملنساری ان کا تعارف تھے۔اللہ تعالیٰ نے انہیں خوبصورت اور بولنے والی آنکھیں عطاء فرمائیں تھیں اور ان سب پر مستزاد ان کے چہرے پر عبادت اور ذکر کا نور اس قدر نمایاں تھا کہ ہر دیکھنے والا متاثر ہوتا اور اپنی طرف کھینچ لیتا۔تہجد کی نماز کے اس طرح پابند تھے کہ ایسی پابندی بہت سے لوگوں کو فرض نمازوں کی بھی نصیب نہیں، زمانہ تربیت سے لے کر زمانہ دعوت تک،سفر و حضر میں سردی گرمی میں ان کا یہ انفرادی وصف کبھی ان سے جدا نہیں ہوا۔ذکر اللہ اور اپنے دیگر معمولات کے بھی اسی شدت سے پابند تھے۔اس لئے عبادت کا نور ان کے چہرے کا ہالہ بن چکا تھا۔وہ اپنی یہ صفات اپنے شاگردوں میں منتقل کرنے کے لئے بھی پرزور محنت کرتے،زبانی ترغیب دیتے،دل پر اثر کرنے والی کتابیں پڑھ پڑھ کر سناتے اور حضرات اکابر اولیاء اللہ کے قصوں سے دلوں کو گرماتے۔

اللہ تعالیٰ نے انہیں محبوبیت بھی بہت عطا فرمائی۔ وہ اپنے بڑوں کے والہانہ انداز میں وفادار تھے۔بیعت علی الجہاد پر پختگی سے قائم تھے۔ہر طرح کے امتحانات سے گذرے لیکن ان کے پایہ استقلال میں بھی لغزش نہ آئی اور وہ جماعت کے ساتھ ایک تعصب اور شدت کے ساتھ کھڑے رہے اور ہر موقع پر اپنے تعلق کا شدت سے اظہاربھی کرتے رہے۔ بالکل اسی طرح ان کے شاگردوں اور چاہنے والوں کا رویہ ان کے ساتھ بھی اسی نوعیت کا تھا۔ وہ اپنے حلقے میں محبوبیت کے قابل رشک مقام تک پہنچے۔

وہ جماعت کی طرف سے مختلف تشکیلات پر رہے اور ہر جگہ اطاعت اور محنت کی مثال قائم کی۔عسکری میدان میں ان کی عظیم خدمات رہیں۔وہاں سے دعوت کی طرف لائے گئے تو ایک انتھک،جذباتی اور علالت کی پرواہ نہ کرنے والے داعی جہاد کے روپ میں سامنے آئے۔ان کی دعوت درد بھری ہوتی، سوز سے لبریز ہوتی،دلائل سے مبرہن ہوتی اور اپنے اندر شدت کا ایک انداز لیے ہوئے بھی۔وہ ہر مجلس میں دعوت دیتے اور بھر پور دعوت دیتے۔کافی عرصے سے مختلف مقامات پر مسلسل جمعہ کے خطبے کا معمول تھا۔دوردراز دیہاتی علاقوں میں سردی گرمی میں اپنے موٹر سائیکل پر جمعہ پڑھانے جایا کرتے۔رمضان المبارک میں فجر کی نماز کے وقت لمبا سفر کر کے بیان کے لئے تشریف لے جاتے اور لوگوں کو انفاق فی سبیل اللہ کی طرف متوجہ کرتے۔

غرضیکہ انہوں نے ایک بھر پور جہادی زندگی گزاری،ہر جہت سے فریضہ جہاد کو ادا کرنے کی محنت کی،ہر میدان میں جماعت کی خدمت کی اور اسی طرح سعادتیں سمیٹتے سمیٹتے دنیا سے رخصت ہوئے۔تادم آخر جماعت سے وابستہ رہے۔بیعت پر مضبوطی سے قائم رے۔نظریہ جہاد کی خوشبو بکھیرتے رہے اور اپنی تمام تر صلاحیتیں اسی کام پر صرف کرتے رہے اور دنیا کے امتحانات بھری زندگی سے گزر گئے۔

اب وہ اپنے مالک کے پاس ہیں اور امید ہے ان شاء اللہ اپنے اعمال اور محنتوں کا بھر پور صلہ پا رہے ہوں گے۔اللہ تعالیٰ بھائی ابو بکر کی مغفرت فرمائے۔انہیں اس محنت کا اجر اپنی شان کے مطابق عطا فرمائے اور انہیں ان لوگوں کے ساتھ ملحق فرمائے جن کی محبت کے گن وہ زندگی بھر گاتے رہے۔ان کی جدائی ان کے خاندان کے ساتھ ساتھ بلکہ شاید ان سے بڑھ کر ان کے جماعتی پسماندگان کے لئے عظیم صدمہ ہے۔اللہ تعالیٰ سب کو صبر جمیل عطا فرمائے اور ان کے بیٹوں کو اپنے عظیم والد کے نقش قدم پر چلائے۔

٭…٭…٭

گذشتہ ہفتے اس کالم میں عشر کے حوالے سے یہ بات عرض کی تھی کہ اس فریضے کی ادائیگی کو عموماً گندم کی فصل کے ساتھ متعلق کر دیا گیا دیگر اجناس میںاس کی بجا آوری کی طرف توجہ نہیں دی جاتی۔اس پر کئی قارئین کے پیغامات موصول ہوئے اور لاہور سے تو ایک صاحب نے کئی بار دفتر فون کر کے یہ پیغام لکھوایا کہ اس حوالے سے واقعی غفلت عام ہے اور عموماً ایسا ہی سمجھا جا رہا ہے جیسا لکھا گیا ہے اس لئے اس حوالے سے کچھ مسائل لکھ دئیے جائیں۔اسی طرح گذشتہ جمعہ کے خطبہ میں بھی یہ بات سامعین کے سامنے رکھی گئی تو ان میں سے بھی بعض حضرات نے نقد فرمائش کی کہ اس پر کچھ لکھ دیا جائے۔اس حوالے سے جملہ قارئین کو ایک اطلاع کہ ’’الرحمت‘‘ کی طرف سے مسائل عشر پر ایک مختصر مگرجامع رسالہ گذشتہ کئی سالوں سے مفت تقسیم کیا جاتا رہا ہے۔اس میں یہ تمام مسائل و احکام تفصیل سے آ گئے ہیں۔وہ رسالہ حاصل کر لیں۔اس کے شروع میں حضرت امیر محترم مولنا محمد مسعود ازہر صاحب حفظہ اللہ کا تحریر فرمودہ مقدمہ بھی ہے جو عشر کے حوالے سے اہل ایمان کو ان کی ذمہ داری سے آگاہ کرتا ہے۔ان کا ضرور مطالعہ کر لیں ان شاء اللہ یہ اہم ذمہ داری تفصیل سے سمجھ آ جائے گی۔ذیل میں کچھ ضروری مسائل درج کئے جاتے ہیں اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنے حقوق ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین
عشرکی مقدار

بارانی زمین کی پیداوار کا دسواں حصہ اور جس زمین کو پانی خود لگایا جائے اس کی پیداوار میں بیسواں حصہ لازم ہے۔اگر بارانی اور دوسرا پانی برابر لگایا جاتا ہے تو آدھی پیداوار میں دسواں اورآدھی میں بیسواں حصہ لازم ہو گا۔
عشر کا نصاب

عشر کے وجوب کے لئے پیداوار کا کوئی نصاب متعین نہیں بلکہ پیداوار کم ہو یا زیادہ سب پر عشر لازم ہے۔
عشر کن اجناس میں ہے اور کن میں نہیں

(۱) ہر قسم کا اناج مثلاً گندم، جو، باجرہ، مکئی، کپاس، گنا، خشخاش،تل،تمباکو وغیرہ

اس کی قلیل و کثیر مقدار میںعشر لازم ہے۔البتہ گندم کی بھوسی،کپاس کی لکڑی اور سانگلی وغیرہ میں عشر لازم نہیں۔

(۲) تمام پھل دار درختوں مثلاً آم،مالٹا،امرود وغیرہ کے پھل پر عشر لازم ہے۔اس سلسلے میں یہ بات خصوصیت کے ساتھ یاد رکھیں کہ ہمارے ہاں باغات کی فروخت کا جو طریقہ رائج ہے کہ پھل آنے کے بعد باغ فروخت کر دیا جاتا اور پھل اصل مالک کا نہیں خریدار کا ہوجاتا ہے اس میں مسئلہ یہ ہے کہ اس پھل کا عشر اصل مالک پر واجب ہوتا ہے خریدار پر نہیں۔اسی طرح اگر کسی نے اپنا کھیت فروخت کر دیا تو اگر کھیتی پکنے کے بعد بیچا ہے تو عشر بیچنے والے پر لازم ہے اور کھیتی آنے سے پہلے بیچا ہے تو خریدار پر لازم ہو گا۔

(۳) غیر پھل دار درخت مثلاً بانس وغیرہ اگر بیچنے کی نیت سے کاشت کئے ہوں تو ان میں عشر لازم ہے۔

(۴) تمام اقسام کی سبزیوں میں عشر لازم ہے،کم ہوں یا زیادہ۔البتہ اگر کسی نے اپنے گھر کے اندر تھوڑی سی سبزی اگائی ہوئی تو اس میں عشر نہیں۔اسی طرح گھر میں جو پھل دار درخت ہو اس میں بھی عشر نہیں۔

(۵) پھول جو فروخت کی نیت سے بوئے جائیں ان میں عشر لازم ہے۔

(۶)خوردرو گھاس میں عشر نہیں البتہ آمدنی کی نیت سے بویا جائے تو اس میں عشر لازم ہے۔

(۷) عشر کا جو حصہ واجب الاداء ہے اس کی قیمت دینے سے عشر ادا ہو جاتا ہے۔

(۸) تجارت کی نیت سے خریدی ہوئی زمین میں کاشتکاری کی جائے تو اس میں بھی عشر لازم ہے۔

(۹) بٹائی پر جو زمین دی جاتی ہے کہ پیداوار کا اتناحصہ مالک کا اور اتنا کاشتکار کا۔اس میں عشر مالک اور کاشتکار دونوں پر اپنے اپنے حصے کی پیداوار میں لازم ہو گا۔

(۱۰) ٹھیکے ( مزارعت) پر دی جانے والی زمین میں عشر صرف کاشتکار پر لازم ہے مالک پر نہیں۔

(۱۱) جس طرح انکم ٹیکس دینے سے زکواۃ ادا نہیں ہوتی اسی طرح زمین کی مالگزاری (پراپرٹی ٹیکس وغیرہ) ادا کرنے سے عشر ادا نہیں ہوتا۔

(۱۲) زمین کا مالک اگر نابالغ بچہ ہو تب بھی پیداوار میں عشر لازم ہے۔

(۱۳) گذشتہ زمانے کا عشر اگر کسی کے ذمہ ہو تو اس کا ادا کرنا بھی واجب ہے اگر مرتے دم تک ادا نہ کر سکا تو اس کی وصیت کرنا واجب ہے ورنہ سخت گناہگار ہو گا۔

(۱۴) عشر کے مصارف وہی ہیں جو زکوٰۃ کے ہیں۔

٭…٭…٭
’’دورنگا‘‘

السلام علیکم..طلحہ السیف (شمارہ 442)

گزشتہ دنوں ’’برطانیہ‘‘ کا ایک گزشتہ وزیر اعظم ہمارے ملک کے دورے پر آیا…

نام اس کا ہے گورڈن براؤن…

ہمارے ہاں سادہ لوگ اسے ’’گولڈن براؤن‘‘ پڑھتے ہیں۔اس طرح بولنے سے اس کے نام کا معنی بن جائے گا ’’ دورنگا‘‘…

یہ آج کل اقوام متحدہ میں کسی کام کا سفیر ہے۔ حکمران طبقے کے لوگ خصوصاً یورپی ممالک کے حکمران حکومت سے ریٹائرمنٹ کے بعد عموماً یہی پیشہ اختیار کرتے ہیں،کیونکہ ان کے پاس نہ تو اتفاق سے فاؤنڈریاں ہوتی ہیں اور نہ شوگر ملیں۔نہ بیرون ممالک سرمایہ کاری ہوتی ہے اور نہ سوئس بینک اکاؤنٹ۔البتہ کچھ لوگ ان میں ہندوستانی مزاج ہوتے ہیں اس لئے حکومت میں ہوتے ہوئے یہ سب کچھ بنانے کی کوشش کرتے ہیں مگر پکڑے جاتے ہیں اور چونکہ ان کے ہاں پولیس اور ادارے ہندوستانی نہیں ہوتے اس لئے سزا بھی پاتے ہیں اور بدنام بھی ہوتے ہیں۔بہرحال گورڈن یا گولڈن براؤن بھی حکومت سے ریٹائرمنٹ کے بعد آج کل اقوام متحدہ میں سفیر ہے۔

اقوام متحدہ کے سفیروں کے دو کام ہوتے ہیں:

(۱) گھومنا پھرنا

(۲) تجربات جھاڑنا یا بالفاظ دیگر بک بک کرنا

سو وہ بھی یہی دونوں کام کرنے پر مامور ہے۔

گزشتہ دنوں وہ اسی ڈیوٹی پر پاکستان آیا ہوا تھا اور مسلسل ایک ہی موضوع پر گفتگو کرتا رہا۔

پاکستان میں کم عمری کی شادیاں بڑا مسئلہ ہیں۔

بچیوں کی جبری طور پر جلدی شادیاں کرا دی جاتی ہیں۔

نو عمری میں ماں بننا بچیوں کے لئے نقصان دہ ثابت ہوتا ہے۔

اس سلسلے کو ختم کرنے کے لئے بھر پور اقدامات لازمی ہیں۔

اقوام متحدہ اس سلسلے میں فنڈنگ کرے گی۔

پاکستان میں نو عمری کی شادی سے پاک علاقے قائم کئے جائیں گے۔

وغیرہ وغیرہ…

وہ یہ باتیں کر کے یہاں کئی این جی اوز کے منہ کھلوا کر چلا گیا۔

اب کالی عینکوں والے طبقے کو دن رات خواب و بیداری میں اقوام متحدہ کی موعودہ فنڈنگ کے ڈالر نظر آ رہے ہیں اور وہ بھی گولڈن براؤن کی طرح اس راگنی میں مسلسل پھونکیں مارتے چلے جا رہے ہیں۔

مگر برطانیہ کے ایک نو عمر جوڑے نے طے کیا کہ وہ مسٹر گولڈن براؤن کی دو رنگی دنیا کے سامنے آشکار کریں گے۔لہذا انہوں نے بارہ تیرہ سال کی عمر میں ماں باپ بن کر دنیا میں کم عمر والدین کا نیا ریکارڈ قائم کر دیا ہے۔

اب آپ ’’چراغ تلے اندھیرا کہیں‘‘،’’دوسروں کو نصیحت خود میاں فضیحت‘‘ والی مثال دیں یا جو بھی کہنا چاہیں کہیں مسٹر نیلے پیلے کے اپنے دیس برطانیہ میں یہ واقعہ رونما ہو گیا ہے۔این جی اوز اور مغرب نواز بلکہ مغرب پرست طبقے کو تو شرم آنے سے رہی ( آپ یقین کیجیے شرم کو سب سے زیادہ شرم ان لوگوں کے پاس آنے سے آتی ہے) البتہ عام لوگوں پر یہ بات کھل گئی کہ مغرب جن معاملات میں مسلمانوں کے معاشرے پر تنقید کرتا ہے خود ان معاملات میں ہم سے زیادہ مبتلا ہے۔خواہ معاملہ دہشت گردی کا ہو،معاشرتی بگاڑ کا ہو یا کرپشن کا۔یہ الگ بات ہے کہ ان کا میڈیا ہمارے چینلوں اور اخبارات کی طرح ’’قومی مفاد‘‘ کو ایک فضول شے قرار نہیں دیتا اس لئے اپنے گند کو یوں اچھالتا نہیں۔

بات کہیں اور نکل رہی ہے اس لئے واپس گورڈن براؤن کی طرف لوٹتے ہیں۔

سو مسٹر براؤن! پاکستان میں تو بارہ سال کی شاید کوئی ماں نہیں اور نہ ہی پرائمری اسکولوں میں ولادت کا کوئی کیس آج تک سامنے آیا ہے۔اپنی اقوام متحدہ سے کہو تھوڑا فنڈ تمہارے برطانیہ کے لئے دے تاکہ وہاں اس مسئلے پر قابو پایا جا سکے اور ہاں! اگر وہاں شور مچانے والی این جی اوز نہ ہوں تو ہم سے لے جاؤ۔ایک کے ساتھ ایک مفت دیں گے اور ساتھ شکریہ بھی ادا کریں گے۔

آخری درخواست آپ سب سے یہ ہے کہ ہمارے خادم اعلی صاحب کو برطانوی ہونہاروں کے اس ورلڈ ریکارڈ کی خبر نہ دیجیے گا۔آج کل ان پر ریکارڈ توڑنے کا جو جنون سوار ہے ایسا نہ ہو کہ…

٭…٭…٭

پرویز مشرف کے دور حکومت میں ایک بات بہت مشہور تھی کہ مائیں اب نہ اپنے بچوں کو سائنسدان بنانا پسند کرتی ہیں اور نہ سیاستدان۔نہ وہ انہیں انجینئر بنانا چاہتی ہیں نہ ڈاکٹر، نہ بزنس مین اور نہ صحافی۔وہ یا تو انہیں جرنیل بنانے کے خواب دیکھتی ہیں یا جرنلوں کو انٹرٹین کرنے والا گلوکار۔کیونکہ اس دور میں صرف ان دو طبقوں کی ہی عزت باقی رہ گئی تھی باقی سب کو اس شخص نے نشان عبرت بنا دیا تھا۔اگر یہ بات سچ ہے کہ ماؤں کے خواب عزت مند طبقے بدلنے کے ساتھ بدلتے ہیں تو پھر آج کل پاکستانی ماؤں کا سب سے بڑا خواب اپنی اولاد کو کیا بنانے کا ہو گا؟…

ذرا سوچئے!… اور سوچئے…

جی ہاں! غدار…

پاکستان میں آج کل جس قدر پروٹوکول ایک ’’غدار‘‘ کو حاصل ہے، جتنی میڈیا کوریج ایک غدار کو مل رہی ہے اور جتنے سرکاری اخراجات ایک غدار پر ہو رہے ہیں اس کے پیش نظر تو یہ بات کچھ غلط نہیں لگتی۔پہلے عدالتی پیشیوں پر تو قوم دیکھا ہی کرتی تھی لیکن اتوار کے دن جناب غدار صاحب کی اسلام آباد سے کراچی منتقلی کے وقت جو منظر پیش ہوا اسے دیکھ کر مشکل ہی ہے کہ کسی دنیا پرست کے دل میں غدار بننے کا شوق نہ اٹھا ہو۔چک شہزاد سے لے کر ائیر پورٹ تک کلومیٹروں لمبا علاقہ سائیں سائیں کر رہا تھا۔ہر طرح کی ٹریفک بند تھی اور گاڑیوں کا ایک لمبا قافلہ آگے پیچھے سلامی اور پروٹوکول دیتا ہوا رواں دواں تھا اور پھر کراچی میں ائیر پورٹ سے ڈیفنس تک یہی منظردہرایا گیا۔خود پرویز مشرف بھی سوچ رہا ہو گا کہ خوامخواہ اتنا عرصہ فوج کی نوکری کی،آفیسرز کے سامنے جوتے چٹخائے،پھر حکمرانی کی سیاہی منہ پر ملی۔کیا ہی اچھا ہوتا کہ ’’ڈائریکٹ حوالدار‘‘ کی طرح ڈائریکٹ غدار بھرتی ہو جاتے اور یہ عزت و پروٹوکول پاتے۔ویسے خادم اعلی صاحب گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ دوالوں کو دعوت دے کر یہ ریکارڈ بھی اپنی حکومت کے نام درج کروا سکتے ہیں کہ دنیا میں کسی غدار کو سب سے زیادہ پروٹوکول دینے کا اعزاز اس حکومت کو حاصل ہوا ہے اس سے پہلے کسی کو نہیں ہوا۔نہ پاکستان میں اور نہ دنیا میںکہیں اور۔امید ہے کہ یہ بات اگر ان تک پہنچ گئی تو وہ ایسا کر گزریں گے اور پاکستان کے سینے پر ریکارڈ کا ایک اور میڈل سج جائے گا۔اس کے ساتھ ساتھ یہ ریکارڈ بھی درج کرایا جا سکتا ہے کہ وطن سے سچی محبت رکھنے والے لوگوں کو دنیا بھر میں سب سے زیادہ ہمارے ملک میں ہی ستایا جاتا ہے،رسوا کیا جاتا ہے،پابند کیا جاتا ہے اور سزا دی جاتی ہیں۔پورے دینی طبقے سے لے کر ڈاکٹر عبد القدیر خان تک تاریخ اس امر کی گواہ ہے۔

حضور شوق سلامت رہے ’’ریکارڈ‘‘ اور بہت

٭…٭…٭

گندم کی کٹائی کا موسم آن پہنچا ہے اور ایک فریضے کی یاد دہانی کا بھی…

’’ اور کٹائی کے دن اللہ تعالیٰ کا حق ادا کرو‘‘ (القرآن)

’’الرحمت‘‘ کی دعوتی مہمات کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے ہزاروں مسلمانوں کو اس غفلت سے بیداری نصیب فرمائی اور جن لوگوں کو معلوم بھی نہ تھا کہ کھیتی میں اللہ تعالیٰ کا حق ہے انہیں آج عشر کے مسائل زبانی حفظ ہیں۔

اگرچہ اس حوالے سے بہت محنت کی ضرورت باقی ہے…

کسان مسلمانوں کی اکثریت کا عمل اب بھی یہی ہے کہ عشر ادا نہیں کرتے،اگر کرتے ہیں تو مکمل ادا نہیں کرتے اور اس مرض میں ابتلاء تو عام ہے کہ عشر صرف گندم میں لازم سمجھتے ہیں اور کسی حد تک ادا بھی کرتے ہیں اس کے علاوہ دیگر فصلوں میں اس فریضے کی ادائیگی سے غافل رہتے ہیں۔اس لئے گندم کی کٹائی کے وقت تو مجاہدین کو بھی عشر وصول ہوتا ہے اور مدارس میں بھی لوگ دے جاتے ہیں۔کپاس، چاول،گنا،سبزیاں اور پھل وغیرہ پورا سال پیدا ہوتے رہتے ہیں ان کا عشر ادا کرنے والے نادر بلکہ کالمعدوم ہیں۔یاد رکھیے! اللہ تعالیٰ کا یہ حق زمین سے اگنے والی ہر نعمت میں ہے اور اس کے لئے نہ کوئی مدت متعین ہے اور نہ ہی سال کا کوئی خاص وقت۔اس لئے زمین سے رزق حاصل کرنے والے کسان طبقے کی ذمہ داری ہے کہ وہ عشر کے مسائل کو اچھی طرح جانے اور پھر ان کے مطابق اللہ تعالیٰ کے حق کو ادا کرنے کی فکر کرے۔مال کی برکت بھی اسی پر موقوف ہے اور آخرت کی نجات بھی۔قرآن مجید کی آیت مبارکہ کے الفاظ پر غور کریں تو کتنے تاکیدی الفاظ ہیں۔اللہ تعالیٰ کا حق کٹائی کے دن ادا کرو یعنی عجلت اور جلدی کے ساتھ۔دیگر کام بعد میں ہوتے رہیں گے،دیگر حقوق کی فکر بعد میں کی جائے گی،خود کتنا رکھنا ہے؟ کتنا فروخت کرنا ہے؟ یہ معاملات بعد میں طے ہوتے رہیں گے فوری کرنے کا کام یہ ہے کہ پیداوار ہاتھ میں آتے ہی خوش دلی سے اللہ تعالیٰ کا حق ادا کر دو۔اب جو مسلمان قرآنی حکم کے مطابق اسے اپنی سب سے پہلی ذمہ داری سمجھے گا اسے اللہ تعالیٰ کی طرف سے کس قدر برکات حاصل ہوں گی۔بندہ کو کچھ عرصہ قبل سیالکوٹ کے مضافات میں ایک بستی میں دعوتی سلسلے میں جانے کا اتفاق ہوا تھا،وہاں مسجد میں ایک بچے کو لایا گیا۔گاؤں والوں نے بتایا کہ یہ بچہ پورے گاؤں میں عشر کے کتابچے تقسیم کرتا ہے اور پھر پورا سال ہر ایک کو ترغیب دیتا رہتا ہے کہ فصل میں عشر ادا کریں۔ایک صاحب نے اسی مجلس میں بتایا کہ انہوں نے اس بچے کی دعوت پر یہ معمول بنایا ہے کہ اگر ایک مرلہ زمین پر اپنی ضرورت کے لئے لہسن بھی لگائیں تو اس میں عشر اداء کرتے ہیں۔اس سے ان کی زمین کی شرح نمو حیران کن حد تک بڑھ گئی ہے۔گاؤں کے اور زمیندار مہنگے بیج،کھادیں اور جدید زرعی سائنسی طریقے بروئے کار لا کر بھی ان کے برابر پیداوار حاصل نہیں کر سکتے۔

یہ ایک مثال ہے کہ اللہ تعالیٰ کا حق اہتمام سے ادا کرنے والا شخص دنیا میں اس قدر برکات پا رہا ہے کہ لوگ کثیر اخراجات اور سائنسی حربوں کے باوجود ان تک رسائی حاصل نہیں کر پا رہے۔سینکڑوں شہداء اور غازیوں کے گھرانے اور طلبہ منتظر ہیں۔آپ کی امانت ان تک پہچانے کے لئے تھیلے بھی آپ تک پہنچا دیے گئے ہونگے،بس انہیں اچھی طرح بھر کر لوٹائیں اور دنیا آخرت کے مزے لوٹیں۔

٭…٭…٭
صوفیاء اور شریعت

السلام علیکم..طلحہ السیف (شمارہ 441)

گذشتہ خصوصی شمارہ اللہ تعالیٰ کے خصوصی فضل و کرم سے بہت ہی خصوصی ٹھہرا۔

یہ شمارہ بغیر کسی پیشگی پروگرام اور منصوبہ بندی کے بالکل اچانک ہی تیار ہوا۔اخبار اپنے عمومی انداز میں مکمل تیار تھا کہ حکم آیا۔دو دن میں سب حضرات نے تازہ مضامین اسی موضوع پر لکھے اور ’’بہن جی‘‘ کی ایمانی یادگار تیار ہو گئی۔شمارے کے بارے میں ترغیبی مکتوب چلا اور اتنا آرڈر آیا کہ اشاعت کرنے والوں کے ہاتھ پاؤں پھول گئے۔الحمد للہ ’’بہن جی‘‘ کا درد خوب بانٹا گیا۔تین لاکھ سے زائد اخبار چلا۔اللہ تعالیٰ قبول فرمائے اور سب محنت کرنے والوں کو شایان شان اجر نصیب فرمائے۔ آمین

اس سے پہلے دو مضمون پاکستان میں پھیلائے جانے والے ’’نقلی تصوف‘‘ سے متعلق تھے جس کی اشاعت کا جھنڈا آج کل الطاف حسین ’’بھائی‘‘ کے ہاتھ میں ہے۔یہ ’’نقلی صوفیت‘‘ جس کا بنیادی نکتہ دین سے مکمل آزادی اور شریعت سے مکمل چھٹکارا ہے دراصل ہنود کی ایجاد ہے۔آپ اگر صوفیائے کرام کے مزارات پر ہونے والی خرافات ملاحظہ کریں اور پھر ہندوؤں کے مندروں پر عبادت کے نام پر کئے جانے والے اعمال کا جائزہ لیں تو سوائے اس کے کوئی فرق نہیں آئے گا کہ وہاں یہ سب کچھ سناتن دھرم کے نام پر اور یہاں پر اسلام کے نام سے ہوتا ہے باقی کوئی فرق نہیں اور اگر آپ مطالعہ کریں تو یہ عقیدہ کہ انسان مجاہد ے اور مخصوص ریاضات کے بعد اس مقام پر پہنچ جاتا ہے جہاں مذہب کے اصول و احکام کی قید و پابندی سے آزاد ہوتا ہے اور اس کا عمل خود دین بن جاتا ہے دراصل ہندو مذہب کا نظریہ ہے جو اسلام میں داخل کیا گیا ہے۔ہندوؤں کے ہاں ہر جوگی،سنت اور پنڈت ہر طرح کے اصول و قیود سے آزاد تصور کیا جاتا ہے اور وہ جو کہہ دے اسے دین کا درجہ حاصل ہو جاتا ہے،نقلی تصوف بھی اسی نظریے کا تسلسل ہے بلکہ اس نظریے پر قائم ہے۔

کیا اس نظریے کا ’’تصوف‘‘ سے کوئی تعلق ہے؟

ہمارے ہاں جن صوفیاء کرام کو عقیدت و احترام کا مقام حاصل ہے کیا ان میں سے کوئی بھی اس باطل نظریے کا حامل گذرا ہے؟

حضرت علی ہجویری،حضرت فرید الدین گنج شکر، حضرت شاہ رکن عالم،حضرت بہاؤالدین زکریا رحمہم اللہ اور ان جیسے دیگر معروف حضرات کے معارف،مکاتیب اور حالات زندگی گواہ ہیں کہ یہ حضرات شریعت کے پابند تھے اور انہوں نے لوگوں کو بھی شریعت کی طرف ہی بلایا۔تصوف کا راستہ تو زیادہ کٹھن اور دشوار گذار اسی لئے مانا گیا کہ اس میں قیود زیادہ تھیں،شریعت کے معاملات میں سختی تھی،عبادات کے ساتھ ساتھ اخلاق کے بھی بڑے کڑے اصول تھے اور مباحات کے ترک کے شدید مجاہدات تھے۔اس لئے ہر کوئی اس راستے کو اپنانے کی جرات بھی نہ کر پاتا تھا اور جو کر لیتا تھا وہ یاد الہی میں غرق ہو کر زمانے سے کٹ جاتا تھا۔صوفیائے کرام کے مجاہدات اور ان کی عملی زندگیاں ایک بہت طویل موضوع ہے۔اس پر مستقل کتابیں موجود ہیں۔اکثر اکابر صوفیائے کرام کی مستقل سوانح عمریاں بھی شائع ہو چکی ہیں۔لہذا اس وقت اس موضوع کے اصل نکتے کہ احکام شرع کی پابندی کی اسلامی تصوف میں کیا اہمیت ہے اور اس پر کس قدر زور دیا جاتا ہے اس سے متعلق صوفیائے کرام کیا فرماتے ہیں؟

اس سلسلے کے گذشتہ مضمون میں ہم نے امام زمانہ حضرت ہجویری رحمہ اللہ تعالیٰ کی مایہ ناز کتاب کشف المحجوب سے اصلی تصوف کا تعارف پیش کیا تھا۔آج انہی کے معارف سے ملاحظہ فرمائیں کہ حضرات صوفیاء کرام کے امام احکام شرع کی پابندی سے متعلق کیا فرماتے ہیں۔

علم شریعت کا حصول فرض ہے:

’’جن علوم کا سیکھنا انسان کے لئے فرض ہے اس کے دو حصے ہیں: ایک علم حقیقت اور دوسرا علم شریعت‘‘ (کشف المحجوب ۷۱)

’’دین ہو یا دنیا علم کے بغیر انسان کچھ نہیں پا سکتا۔اسی لئے حضور ﷺ نے یہ تاکید فرمائی کہ:

طلب العلم فریضۃ علی کل مسلم و مسلمۃ

یعنی علم حاصل کرنا ہر مسلمان مرد و عورت پر فرض ہے۔پھر فرمایا:

اطلبو العلم ولو کان بالصین

یعنی علم حاصل کرو اگرچہ یہ چین (نہایت دور دراز ملک) میں جا کر حاصل کرنا پڑے۔

قرآن مجید میں اللہ عزوجل کا ارشاد ہے:

انما یخشی اللہ من عبادہ العلماء

یعنی خدا کے بندوں میں سے جو علم رکھنے والے ہیں وہی خدا سے ڈرتے ہیں۔

نیز فرمایا:

لمن خاف مقام ربہ جنتان

یعنی جو شخص اپنے رب کے حضور پیش ہونے سے ڈرا اس کے لئے دو جنتیں ہیں۔

گویا خداوند تعالیٰ کا خوف جنت کی کنجی ہے اور یہ خوف علم سے پیدا ہوتا ہے۔

لیکن دین میں جس علم کے حصول کو فرض قرار دیا گیا ہے اس سے مراد دنیا جہاں کے ہر علم کا حصول نہیں ہے۔کیونکہ دنیا میں تو علوم بے شمار ہیں۔ان سب کا حصول نہ ہر انسان کے لئے ممکن ہے اور نہ اس کے لئے ضروری اور فرض ہے۔جس علم کا سیکھنا ہر ایک کے لئے فرض قرار دیا گیا ہے وہ خداوند تعالیٰ کی شریعت اور خصوصاً اس کے فرائض و واجبات کا علم ہے۔اس کے ساتھ دوسرے علوم کا اس حد تک حصول جس حد تک شریعت الہی کے احکام اور ان کے مختلف پہلو سمجھنے کے لئے درکار ہوں وہ آپ سے آپ ضروری ہو جاتا ہے۔مثلاً علم طبیعات، علم حساب،علم جغرافیہ،علم نجوم ہییت،علم سیاست و اقتصادیات،علم قانون اور علم صنعت و تجارت وغیرہ۔

کیونکہ ان کے کم از کم اصولی علم کے بغیر انسان کی انفرادی و اجتماعی اور عمرانی زندگی کے مسائل کا فہم و ادراک اور ان پر اصول شریعت کا انطباق ممکن نہیں ہے۔‘‘(کشف المحجوب ۶۶)

’’ کوئی عالم ہو یا صوفی یا فقیر شریعت کا علم سب کے لئے لازم ہے۔شریعت کے علم کے بغیر نہ کوئی عالم کہلا سکتا ہے اور نہ صوفی نہ فقیر اور نہ ان میں سے کسی چیز کا دعوی کر سکتا ہے۔‘‘ ( کشف المحجوب ۸۲)

شریعت سے ہٹی ہوئی طریقت مردود ہے:

طریقت اور تصوف کی ہر وہ صنف اور ہر وہ عمل یا طرز عمل جو شریعت کے احکام کے خلاف ہو حضرات صوفیاء کرام اسے سختی سے رد فرماتے ہیں اور باطل قرار دیتے ہیں۔حضرت ہجویریؒ نے اہل تصوف کے امام ابو محمد سہیل بن عبد اللہ تستریؒ کے حوالے سے نقل فرمایا ہے:

’’ نہ شریعت کے بغیر حقیقت کوئی شے ہے اور نہ حقیقت کے بغیر شریعت کوئی شے ہے۔دونوں لازم و ملزوم ہیں۔شریعت کے بغیر حقیقت بے دینی اور حقیقت کے بغیر شریعت نفاق و ریاکاری ہے۔‘‘(کشف المحجوب ۲۲۰)

اسی طرح محمد بن علی حکیم ترمذیؒ کے تذکرے میں لکھتے ہیں:

’’ جو شخص بندگی کے اوصاف ( شریعت) سے بے خبر ہے وہ اللہ تعالیٰ کے اوصاف ( طریقت) سے اور بھی بے خبر ہو گا۔اور جو اپنے آپ کو پہچاننے کا طریقہ نہیں جانتا وہ خداوند تعالیٰ کی معرفت کا طریقہ بھی ہرگز نہیں جانتا۔کیونکہ ظاہر باطن سے متعلق ہے اور ظاہر سے تعلق باطن کے بغیر امر محال ہے اور ظاہر میں فرمانبرداری کے بغیر باطن کا دعوی جھوٹ ہے۔جان لو کہ خداوند تعالیٰ کے اوصاف کی معرفت کا مدار بندگی کے ارکان کی صحت پر ہے اور یہ صحت( ادب و احکام شریعت کی ٹھیک ٹھیک پابندی) کے بغیر نہیں حاصل ہو سکتی۔‘‘

( کشف المحجوب ۲۲۱)

اور یہ مختصر عبارات ملاحظہ ہوں جو اس بحث میں لب لباب کا درجہ رکھتی ہیں:

’’ صحیح اور سچے صوفیاء کرام علماء حق سے بھی کچھ بڑھ کر ہی خدا کے دین کے پہرے دار تھے اور باطن ہی میں نہیں ظاہر شریعت میں بھی نہایت درجہ شریعت الہی اور سنت رسول کے پابند تھے۔‘‘ ( کشف المحجوب ۲۴۴)

’’دین کی اصل روح اور اس کی جان تو احکام الہی کی اخلاص و محبت کے ساتھ پیروی ہی ہے۔اگر اس کا انکار کر دیا تو پھر دین کہاں رہا۔لیکن اگر اس کو مانتے ہو اور یہ موجود ہے تو اسی کو ہم تصوف کہتے ہیں۔‘‘

( کشف المحجوب ۹۳)

’’ ایسے لوگ ملحد ہیں اور ان پر خدا کی لعنت ہو جو یہ کہتے ہیں کہ ولی شریعت الہی کی پابندیوں سے آزاد ہوتا ہے۔‘‘ ( کشف المحجوب ۲۶۰)

اور آخر میں حضرت ہجویریؒ کے الفاظ میں صوفی کی تعریف بھی ملاحظہ فرما لیں اور اسی کے مطابق خود فیصلہ کریں کہ دور جدید کے یہ ’’صوفی‘‘ حضرت ہجویریؒ کی بیان فرمودہ تعریف کے مطابق کس درجے اور مقام پر فائز ہیں اور اصل صوفی کون ہیں:

’’ تصوف اور صوفی دراصل لفظ ’’صفا‘‘ سے مشتق ہیں۔اس کی ضد کدر(کدورت) ہے۔پس جس شخص نے اپنے اخلاق اور معاملات کو مہذب بنایا اور اپنی طبیعت کو کدورتوں اور کھوٹ اور میل سے پاک صاف کر لیا اور اسلام یعنی حق تعالیٰ کی سچی عبودیت کا وصف اپنے اندر پیدا کر لیا تو وہ صوفی بن گیا اور اہل تصوف میں شامل ہو گیا۔گویا صفا کی اصل غیر اللہ سے دل کو منقطع اور دنیا غدار سے دل کو خالی کر لینا ہے۔‘‘

’’ اہل تصوف کے ہاں صوفیوں کی تین قسمیں ہیں:

(۱) صوفی: اس شخص کو کہتے ہیں جو اپنے آپ کو حق میں فنا کر دے اور اس کے اندر کوئی کدورت اور تیرگی باقی نہ ہو۔

(۲) متصوف: اس شخص کو کہتے ہیں جو مجاہدہ سے اس درجے کے حصول کے لئے کوشاں ہو اور اس کے تقاضوں کے مطابق اپنے آپ کو اور اپنے معاملات کو درست کرنے کی سعی میں مشغول ہو۔یعنی جو سچا صوفی بننے کی کوشش میں لگا ہوا ہو۔

(۳) مستصوف: وہ ہے جو دنیا کا مال و متاع اور مرتبہ و عزت حاصل کرنے کے لئے اہل تصوف کی وضع قطع اور طور و اطوار اختیار کیے ہوئے ہو۔مگر صفا اور تصوف کی کچھ خبر نہ ہو۔ان لوگوں کے بارے میں صوفیاء کرام نے فرمایا ہے:

المستصوف عند الصوفیۃ کالذباب وعند غیرھم کالذئاب

یعنی صوفیائے کرام کے نزدیک مستصوف مکھی کی مانند حقیر اور قابل نفرت ہیں کہ جو کچھ کرتے ہیں ہوس ہوتی ہے اور غیر صوفیاء ( عام لوگوں) کے لئے وہ بھیڑیوں کی مانند ہیں کہ ان کے دین و ایمان کو چیرتے پھاڑتے پھرتے ہیں۔( کشف المحجوب ۹۰۔۹۳)

٭…٭…٭

سلام اے عافیہ!…

السلام علیکم..طلحہ السیف (شمارہ 440)

کلمہ طیبہ ’’لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ ‘‘ کی امانت ایک بھاری بوجھ ہے…

بھاری نہ ہوتا تو پہاڑ اٹھا لیتے…

یا سمندر سنبھال لیتے…

مگر…

انہوں نے انکار کیا اور …

وہ ڈر بھی گئے…

’’نا سمجھ‘‘ اور ’’ بے خبر‘‘ انسان نے اپنا سینہ کھولا اور…

اپنے کندھے پیش کر دئیے…

کیا وہ بھی نہ اٹھا پایا؟؟…

جی نہیں …اس نے اٹھا لیا…سنبھال لیا اور پورا کر کے دکھایا…

ہاں!

یہ بات ضرور ہے کہ سارے مگر نہ اٹھا پائے…

’’پس ان میں سے بد بخت بھی ہیں اور خوش بخت بھی‘‘…

مسلمان ہونا کیا آسان کام ہے؟…

موروثی مسلمانوں کو کیا پتا؟…

لیکن اتنا تو علم ہے کہ آسان ہوتا تو پہاڑ کیوں انکار کرتے؟…

جی ہاں! آسان نہیں…

اس راہ میں وہ مشکلات ہیں کہ ان کے سامنے جگر خون ہونا یا پتہ پانی ہونا جیسے محاورے کھیل لگتے ہیں…

جو سب سے پہلے اس امانت کو اٹھانے والے بنے ان کے ساتھ کیا ہوا تھا؟…

جلتے کوئلے اور ننگی پشت…

گرم سنگریزے اور ان میں جذب ہوتے گھستے جسموں کے لوتھڑے اور خون…

خاندانی مقاطعے اور بائیکاٹ…

ماریں،اذیتیں اور گالیاں…

لیکن کیا یہ نشہ اتر گیا؟…

نہیں…ہرگز نہیں…ہاں البتہ یہ امانت اٹھانے والوں کو یہ ضرور کہنا پڑا…

یہ شہادت گہہ الفت میں قدم رکھنا ہے

لوگ آسان سمجھتے ہیں مسلماں ہونا

اور

اگر گویم مسلمانم بترسم

کہ دانم مشکلات لا الہ

مگر جب یہ طے تھا کہ یہ کلمہ بھاری ہے اور اسے پڑھنے والے کو یہ بار اٹھانا پڑے گا

تو…

سب سے پہلے اٹھایا کس نے؟

اولیت کا شرف کس کو ملا؟…

ایک عورت کو…سیدہ خدیجۃ الکبری رضی اللہ تعالیٰ عنہا…

جب یہ طے تھا کہ یہ کلمہ’’ نصرت‘‘ مانگے گا…

تو نصرت کا عہد سب سے پہلے کس نے کیا؟…

ایک عورت نے…سیدہ خدیجۃ الکبری رضی اللہ عنہا…

جب یہ حتمی بات تھی کہ اس امانت کی خاطر جان بھی جا سکتی ہے تو …

سب سے پہلے جان کس نے دے دی؟…

ایک عورت نے…سیدہ زنیرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا…

دین اسلام کو سب سے پہلے پناہ عورت کی آغوش میں ملی…

اس کی نصرت کا عہد سب سے پہلے ایک عورت نے کیا…

اس کی خاطر سب سے پہلے قربانی عورت نے دی،آنکھوں کی بھی اور پوری جان کی بھی…

عورتیں تو ہمیشہ سے ’’اولیت‘‘لیتی آئی ہیں…

اس لئے ’’عافیہ‘‘ اگر آج ہم سب سے اولیت لے گئی تو اچھنبے کی کونسی بات ہے؟

کیا انہونی ہو گئی؟…

آخر وہ سب پر ’’اولیت‘‘ لے جانے والی سیدہ خدیجہؓ کی روحانی اور مردوں میں سب پر اولیت رکھنے والے ’’صدیقؓ‘‘ کی نسبی بیٹی جو ہوئی…

سلام اے عافیہ سلام!…

٭…٭…٭

اسلام کی خاطرمردوں نے بہت قربانیاں دیں…بجا!…

بدر سے قندھار تک، احد سے برما تک…احزاب سے فلوجہ تک…طائف و حنین سے سرینگر تک اور خیبر سے غزہ تک…مقتل انہی کے خون سے معطر ہیں…بجا…بالکل بجا…

رزم گاہیں انہی کی سرفروشیوں سے زندہ اور انہی کے جذبوں سے زندہ ہیں…

وہ گھوڑے دوڑاتے ہیں،تلواریں اور توپیں چلاتے ہیں، سروںکی کھیتیاں کاٹتے ہین اور خون کی ندیاں،بہاتے ہیں…حق بالکل حق…

وہ شجاع ہیں،بہادر ہیں،جنگ آزما ہیں، مضبوط ہیں اور شہادت کے متلاشی…

بالکل درست…

لیلائے شہادت کی مانگ میں انہی کا خون سجتا ہے اور انہی کا لہو حوران بہشت کے ہاتھوں کی حناکاری کا فریضہ سر انجام دیتا ہے…کوئی شک نہیں…

عورتیں کمزور ہیں،ناتواں ہیں…یہ بھی بجا…

جنگ آزما نہیں… یہ بھی درست…

اور سب سے بڑھ کر کہ یہ ’’جہاد‘‘ ان پر فرض ہی نہیں کہ نبھانے کے لئے میدان میں آنا ان کی ذمہ داری ہو…یہ بھی بالکل سچ اور حق…

مگر اس جہاد میں مشکل کام…سب سے مشکل کام پھر بھی ان کے ذمہ ہے…

مرد تو موج میں ہیں…

لڑائی بھی اول اول مشکل، آگے چل کر مزا دیتی ہے…

فتح کا احساس لذت والی چیز ہے اور غنیمت کا مال لذیذ ترین…

اور اگر یہ نہ بھی ملے تو ’’شہادت‘‘ سے بڑھ کر لذت تو جنت کی نعمتوں میں بھی نہیں…

اور اس کے بعد حوریں،غلمان، سبز پرندے اور جنت کی سیر…

مشکل تو یہاں بھی ان بے چاریوں کے ہی حصے میں آئی…

بلبل کو دیا رونا تو پروانے کو جلنا

اور ہم کو دیا غم جو مشکل نظر آیا

یہ ماں ہے تو اس کے جوان بیٹوں کا غم…بیوی ہے تو حسین رشتے سہاگ کا غم…بہن ہے تو سر پر ہاتھ رکھنے والے بھائی کا غم…انہیں خوشی سے یہ سب کچھ قربان کرنا بھی ہے…اس غم کو سینے سے لگانا بھی ہے اور پھر گھٹ گھٹ کر اسی غم میں جینا بھی ہے اور یہی جینا جاں سے گذر جانے سے بڑا کمال ہے…

جب قربانی کے کمالات کے میدان میں سبقت ہے ہی ان کے لئے تو ’’عافیہ‘‘ بہن کا قربانی میں مردوں سے سبقت لے جانا بھی ایک منطقی بات ہے…انہونی نہیں…

اس نے قربانی دے دی اور وہ جیت گئی…

سلام اے عافیہ! سلام…

٭…٭…٭

عافیہ بہن نے بھی خوشی سے قربانی دی ہے…

’’جہاد‘‘ کا جھنڈا کوئی کسی کے ہاتھ میں زبردستی نہیں دے سکتا…یہ پہاڑ اپنی خوشی سے ہی اٹھایا جاتا ہے…

امت کو بیدار کرنے کے لئے اس کی قربانی لی گئی…

تحریض علی الجہاد کے لئے بہت سے عوامل کی ضرورت ہوتی ہے…

اور ان میں ایک’’مظلومیت کی داستان‘‘ کا ہونا بھی ہے…

ایک ایسا مظلومانہ استعارہ،جس کی طرف ’’ومالکم‘‘ کہہ کر متوجہ کیا جا سکے…

’’مدینہ‘‘ والوں کو جہاد پر اٹھانا تھا انہیں ’’مکہ‘‘ کی طرف توجہ دلا کر ’’ومالکم‘‘ کہا گیا…

ایسی ایک داستان ہر زمانے میں درکار ہوتی ہے…دلوں میں آگ لگانے کے لئے…

لیکن شجاعت و بہادری،ہمت و غیرت کی داستان بن جانا نسبتاً آسان ہے،اس لئے یہ کام مرد کر لیتے ہیں…

مظلومیت کا استعارہ بننا مشکل اور جان لیوا…اور یہ مشکل بھی ’’بہنیں‘‘ ہی اٹھاتی آ رہی ہیں…

کبھی ’’مکہ‘‘ میں…کبھی اندلس میں اور کبھی’’ دیبل‘‘ میں…

جی ہاں!عورتوں کی مظلومیت،بہنوں کی آہ و بکاء مردوں کو بیدار کرتی ہے…بھائیوں کو محمد بن قاسم بناتی ہے…

شرم کی بات تو یہ ہے ہم ابھی تک اسے آزاد نہ کرا سکے…اس جیل کی دیواروں سے سر نہ ٹکرا سکے جو ۱۱ سال سے ہماری آنکھوں میں کانٹا بن کر چبھتی ہے…

لیکن ایک بات کا یقینی علم ہے…جی ہاں بہت یقینی…

صدیقؓ کی بیٹی کی قربانی ضائع نہیں جا رہی… رنگ دکھا رہی ہے… اور اس کا حوالہ بھائیوں کے دلوں میں آگ بھڑکاتا ہے…

میں نے محض سترہ سال کے ایک انتہائی خوبصورت اور کڑیل بچے کو اس کا نام لے کر یوں تڑپتے دیکھا ہے جس طرح مچھلی پانی سے باہر آ کر تڑپتی ہے…

جس عمر میں نوجوانوں کو گیند،بلے اور موبائل سے آگے کی دنیا کا کچھ علم نہیں ہوتا اس عمر میں اس نے اس عظیم درد اور مبارک فکر اپنے دل میں جگائی…

اور پھر میں نے دیکھا کہ ’’ عافیہ‘‘ کو قید بنائے رکھنے والوں کے سب سے بڑے کیمپ کے اندر اس نوجوان کی گولیوں سے چھلنی لاش اپنی بہن کو سلامی پیش کر رہی تھی اور عافیہ کے دشمن جائے عافیت ڈھونڈتے پھر رہے تھے…

سلام اے عافیہ سلام…

٭…٭…٭
اصلی صوفیت

السلام علیکم..طلحہ السیف (شمارہ 439)

اسلام کی تعلیمات کے منافی نقلی صوفی ازم کی ترویج پرویز مشرف کے سیاہ دور میں امریکی حکم اور فنڈنگ سے شروع کی گئی۔امریکہ کے سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے اس کام کے لئے خطیر رقم مختص کی اور پاکستان میں اپنے نمائندے برائن ڈی ہنٹ کو اس مشن پر سرگرم کیا۔اندرون پنجاب اور سندھ میں امریکی سفارتکاروں نے کئی مزارات کے دورے کئے اور انہیں تعمیر نو کے نام پر بڑی بڑی رقمیں مہیا کیں۔ایک مخصوص فرقہ جو صوفیائے کرام کی تعلیمات کی طرف اپنی نسبت کرتا ہے اور اپنی گمراہیوں اور بدعات کو بزرگان دین کی طرف منسوب کرتا ہے اس کی بھر پور سر پرستی کی گئی اور ان کے ذریعے ان گمراہ کن عقائد کو پھیلایا گیا۔اس نظریے کی بنیادی باتیں یہ ہیں:

(۱) تمام مذاہب ( نعوذ باللہ) حق ہیں اور عقیدے کی بنیاد پر کسی شخص کو دوسرے پر فوقیت نہیں اور نہ ہی کوئی دین دوسرے دین سے برتر ہے۔

(۲) شریعت انسانی زندگی میں ایک زائد بوجھ کی حیثیت سے زیادہ کچھ نہیں،بس اس کی جگہ کچھ خود ساختہ اخلاق اور من گھڑت نظریات انسانی فلاح کا مدار ہیں۔

(۳) شرعی تکلیفات اور حرام و حلال کے تکلفات گذشتہ زمانوں کی باتیں تھیں اب ان کی کوئی گنجائش نہیں رہی۔اس طرح اباحیت کا ایک طوفان بد تمیزی برپا کیا جائے جس میں ہر طرح کی مادرپدر آزادی ہو اور ننگ انسانیت افعال کواس نام سے جواز فراہم کیا جائے۔

(۴)صوفیاء کرام کی تعلیمات اور تصوف کا حلیہ بگاڑ کر ایسی من گھڑت دینی تعبیرات کو رواج دیا جائے جن سے شریعت کے احکام سے جان چھڑائی جا سکے۔

(۵) عبادات کی پابندیوں سے مکمل آزادی حاصل کی جائے۔

(۶) جہاد فی سبیل اللہ کی مکمل نفی کی جائے اور جہاد مخالف نظریات و تعبیرات کو عام کیا جائے۔

(۷) بزرگوں کے مزارات پر ہونے والی خرافات اور عرس کے نام پر ہونے والی غیر شرعی رسومات کو مکمل سرکاری سرپرستی فراہم کر کے لوگوں کو ان کھیل تماشوں میں الجھا کر حقیقی دین سے دور کیا جائے۔

(۸) صلح کل اور آتشی کے نام پر کفار سے دوستی کا جواز حاصل کیا جائے۔

(۹) دین،شریعت،علم،اصول اور اسلاف کی تشریحات پر چلنے والے لوگوں کو معاشرے سے کاٹ کر انہیں توہین آمیز سلوک کا نشانہ بنایا جائے،شعائر اسلام کا مذاق اڑایا جائے تاکہ لوگ ان سے کٹ جائیں۔

(۱۰) نفاذ شریعت کے مطالبے سے جان چھڑائی جائے۔وغیرہ

یہ اور ایسے کئی باطل مقاصد کے حصول کے لئے صوفی کونسل بنائی گئی اور خود پرویز مشرف اس کا سرپرست بنا۔جب تک اس کی حکومت رہی وہ اس کام کے لئے سرگرم رہا۔اس کی ریٹائرمنٹ کے بعد یہ جھنڈا مختلف ہاتھوں سے ہوتا ہوا اب الطاف حسین تک آ پہنچا ہے۔اب وہ صوفیائے کرام کی تعلیمات کا شارح ہے اور ان کے مشن کا علمبردار۔انا للہ وانا الیہ راجعون…

کیا صوفی ازم اسلام سے ہٹ کر کوئی چیز ہے؟؟…

کیا اس کے اصول و ضوابط اور اسکی تعلیمات شریعت کے مسلمہ اصولوں کے منافی ہیں؟…

کیا تصوف شریعت سے آزادی اور تکالیف شرعیہ سے خلاصی کا نام ہے؟…

آئیے! خود حضرات صوفیاء کرام سے ہی پوچھ لیتے ہیں۔

نقلی صوفیوں کی سرگرمیوں کا سب سے بڑا مرکز لاہور ہے۔اسی لاہور میں اللہ تعالیٰ کے کئی بڑے اولیاء اور زمانے کے اکابر صوفیاء کے مزارات ہیں اور جس شخصیت کو ان میں خصوصی امتیاز حاصل ہے بلکہ یوں کہا جائے کہ جو شخصیت لاہور کا تعارف اور لاہور کی شان ہیں وہ حضرت علی بن عثمان جلابی رحمۃ اللہ ہیں جو حضرت علی ہجویری کے نام سے معروف ہیں۔آپ صوفیاء کرام کے طبقہ علیا سے تعلق رکھتے ہیں۔اہل طریقت کے امام ہیں اور آپ کی شہرہ آفاق کتاب ’’کشف المحجوب ‘‘ کو اس علم میں مستند ترین ماخذ کی حیثیت حاصل ہے۔

آئیے! ہم بھی اس موضوع پر الطاف حسین یا حسن نثار کی بجائے ان کی کتاب سے رہنمائی لیتے ہیں۔

تصوف کی حقیقت

حضرت محمد بن علی بن حسین بن ابی طالب رضی اللہ تعالی عنہم فرماتے ہیں:

’’ تصوف نیک خوئی کا نام ہے،جتنا کوئی شخص نیک خوئی میں بڑھا ہوا ہو گا،اتنا ہی تصوف میں بڑھ کر ہو گا‘‘

اخلاق کے دو اجزاء

اور اخلاق ( نیک خوئی) کے دو اجزاء ہیں۔ایک خالق کے ساتھ اخلاق، اور دوسرا مخلوق کے ساتھ اخلاق۔

(۱) خدا کے ساتھ اخلاق اور نیک خوئی برتنے کا مطلب یہ ہے کہ بندہ اس کی قضا پر راضی ہو۔اس کے کسی فیصلے پر اسے شکایت نہ پیدا ہو۔اس کا ہر فیصلہ اسے بسر و چشم اور سر بسر تسلیم ہو۔

(۲) مخلوق کے ساتھ اخلاق اور نیک خوئی یہ ہے کہ مخلوق کے ساتھ اس کے تعلق سے جو ذمہ داریاں اس پر عائد ہوتی ہیں ان کو خدا کے لئے اٹھائے اور خدا ہی کی رضا جوئی اورخوشنودی کے لئے ان کو ادا کرے۔اس کام میںکوئی اور غرض اس کے سامنے نہ ہو۔

حضرت مرتعش رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ تصوف نیک خلق کا نام ہے، اور اسکی تین قسمیں ہیں:

ایک خدائے بزرگ و برتر کے ساتھ نیک خلقی،جس کا مطلب اس کے تمام احکام کی سر موریا کے بغیر اور پورے اخلاص کے ساتھ تعمیل اور اطاعت ہے۔

دوسرے مخلوقات کے ساتھ نیک خلقی،جس کے معنی اپنے سے بزرگوں کے ساتھ عزت،اپنے سے چھوٹوں کے ساتھ شفقت اور اپنے ہم رتبہ لوگوں کے ساتھ برابری اور مساوات کا برتاؤ کرنا ہے اور اس کے بدلے میں کسی بدلے کی خواہش نہ رکھنا ہے۔

تیسری قسم نیک خلقی کی یہ ہے کہ شیطان اور خواہشات نفسانی کی پیروی ہرگز نہ کی جائے۔

حضرت جنید رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

تصوف کی آٹھ خصلتیں ہیں:

سخاوت،رضا، صبر، اشارت،غربت ( اجنبی ہو جانا)، لباس صوف،سیاحت اور فقر۔

سخاوت کا نمونہ حضرت ابراہیم علیہ السلام ہیں کہ انہوں نے اپنی جان سے لے کر اپنے بیٹے تک سب کو خدا کی راہ میں قربان کر دیا۔رضا کا نمونہ حضرت اسماعیل علیہ السلام ہیں کہ رضا الہی کے آگے بسر و چشم اپنے آپ کو ذبح کے لئے پیش کر دیا۔صبر کو نمونہ حضرت ایوب علیہ السلام ہیں کہ انہوں نے خدا کی غیرت کی خاطر اپنے وسیع کنبے اور سارے گھر بار کی اپنی آنکھوں کے سامنے تباہی اور اپنے پورے جسم میں کیڑے پڑ جانے کی تکلیف کو نہایت صبر کے ساتھ برداشت فرمایا۔اشارت کا نمونہ حضرت زکریا علیہ السلام ہیں جنہوں نے خدا کے حکم کی تعمیل میں کلام تک بند کر دیا اور کئی روز تک صرف اشاروں سے بات کرتے رہے۔غربت کا نمونہ حضرت یحیی علیہ السلام ہیں جو خدا کی رضا جوئی میں اپنے وطن میں اپنے خویشوں سے بے گانہ رہے۔صوف پوشی میں حضرت موسی علیہ السلام نمونہ ہیں جو اون کے کپڑے پہنتے تھے۔خدا کی راہ میں سیاحت کے لئے حضرت عیسی علیہ السلام نمونہ ہیں جو بس ایک پیالہ اور کنگھی لے کر گھر سے چلے لیکن جب ایک شخص کو پیالے کے بجائے چلو سے پانی پیتے دیکھا تو پیالہ بھی پھینک دیا اور جب ایک دوسرے شخص کو دیکھا کہ وہ کنگھی کے بجائے اپنے ہاتھ کی انگلیوں سے اپنے بالوں کا خلال کر لیتا ہے تو کنگھی بھی پھینک دی۔فقر کا نمونہ حضرت محمد ﷺ ہیں کہ آپ ﷺ کو خداوند تعالیٰ کی طرف سے روئے زمین کے خزانوں کی کنجیاں پیش کی گئیں کہ شان و شوکت اور آرائش کے ساتھ زندگی گزاریں لیکن آپ ﷺ نے اس کو پسند فرمایا کہ ایک روز پیٹ بھریں اور دو روز بھوکے رہیں اور آپ ﷺ نے دعا فرمائی کہ اے خدایا! مجھے فقر ہی کی حالت میں زندہ رکھ،فقر ہی کی حالت میں مجھے موت دے اور فقراء ہی کے زمرے میں میرا حشر فرما۔( کشف المحجوب ص ۹۰)

تصوف کی حقیقت آپ نے ایک حقیقی’’صوفی ‘‘ کے مبارک الفاظ میں ملاحظہ کی۔آئندہ ان کی زبانی یہ سنیں گے کہ اصل صوفی کون ہوتا ہے اور نقلی کون…

٭…٭…٭
صوفی ازم

السلام علیکم..طلحہ السیف (شمارہ 438)

بابا بلّھے شاہ کا نام تو سنا ہے ،زیادہ واقفیت نہیں…

آپ نے بھی یقیناً سنا ہو گا…

کہتے کہ صوفی تھے۔ان کا کلام بھی عام ہے،آج کل کا ’’لا مذہب‘‘ طبقہ جو بعض پیدائشی مسلمانوں، ہندوؤں،سکھوں اور نہ جانے کن کن مذاہب کا ملغوبہ ہے ،بابا بلھے شاہ کو ہی اپنا روحانی سرپرست مانتا ہے۔انہی کے اَشعار سے استدلال پکڑتا ہے اور اپنے خیالات کو انہی کی تعلیمات قرار دیتا ہے۔سکھ گلوکار ان کا کلام گاتے ہیں اور یہ سارے نقلی صوفی اس پر سر دُھنتے ہیں۔

اگر بابا جی سچے صوفی تھے تو پھر یہ ان کے ساتھ بہت برا ہو رہا ہے اور کرنے والے اپنا منہ کالا کر رہے ہیں۔ایسا معاملہ لوگوں کا کئی اور سچے بزرگوں کے ساتھ بھی ہے۔جو باتیں ان کی طرف منسوب کی جاتی ہیں، اللہ تعالیٰ کے یہ بندے اُن سے بری تھے اور ہیں۔

پچھلے دنوں بابا جی کے ساتھ پاکستان میں ایک اور بہت بڑا ظلم ہوا۔

یقین جانیے وہ ظلم دیکھ کر میرے دل میں ان کے لئے ہمدردی کے اتنے جذبات اٹھے کہ میں بیان نہیں کر سکتا۔

محبت کے نام پر ان کے ساتھ جو کیا گیا وہ تو کوئی دشمن کے ساتھ بھی نہیں کرتا، خاص طور پر کسی گزرے ہوئے انسان کے ساتھ ایسی بد سلوکی…توبہ توبہ…

پتا نہیں آپ کے علم میں اس ظلم کی داستان آئی یا نہیں؟…

کتنے بے خبر لوگ ہیں آپ…

آپ کے ملک میں اب زندوں سے بڑھ کر مردوں سے بھی بدسلوکیاں شروع ہو گئیں ہیں اور آپ سب سو رہے ہیں؟…

کہاں مر گئے بلّھے شاہ کے عاشق؟…

اس ظلم پر چیختے کیوں نہیں؟…

احتجاج کیوں نہیں کرتے؟…

االطاف حسین نے بلّھے شاہ کا کلام گایا…

پورے مخصوص انداز سے گایا…

لہک لہک کر گایا اور ہزاروں کے سامنے گایا…

کوئی ایک بھی اس بد سلوکی اور توہین پر جنبش میں نہ آیا…

تف ہے ایسے عاشقوں پر…افسوس ہے ایسے پیروکاروں پر…

میں آپ کو کیسے بتاؤں وہ ایک منٹ کتنا بھاری تھا…

وہ نغمگی،وہ ترنم،وہ غراہٹ،وہ بے سراپن اور وہ انداز آپ تک کیسے پہنچاؤں…

گر مصور صورت آں ’’ کان کھا ‘‘ خواہد کشید

لیک حیرانم کہ ’’غراہٹ‘‘ را کجا چسپاں کند

شعر کے پہلے مصرع میں ’’دلربا‘‘ کی جگہ ’’کان کھا‘‘ یا ’’دل دُکھا‘‘ لکھنا ضرورت شعری کی نہیں، ضرورت ایمانی کی مجبوری ہے۔کم از کم اتنا ایمان تو ایک شخص کے دل میں لازمی ہونا چاہیے کہ وہ الطاف حسین کو ’’دلربا‘‘ نہ کہے۔

بہرحال بابا بلّھے شاہ! ہمیں آپ سے ہمدردی ہے،آپ کے ساتھ اب حقیقت میں بہت بڑا ظلم ہوا ہے جس پر ہم شرمندہ ہیں کہ اسلامی ملک میں مردوں کے ساتھ یہ سانحہ ہرگز نہیں ہونا چاہیے…

٭…٭…٭

ایم کیو ایم نے ’’صوفی کانفرنس‘‘ کا انعقاد کیا…

کتنا حسین مذاق ہے۔ایم کیو ایم اور صوفیت…

بہرحال یہ پاکستان ہے۔یہاں سب ممکن ہے۔اس لئے یہ کانفرنس ہوئی۔

جدید زمانے کے ’’صوفیائ‘‘ کہلانے والے اس میں شریک ہوئے۔کانفرنس کا ایجنڈا شریعت کا مذاق اُڑانا،جہاد کی نفی کرنا اور صوفی اِزم کے نام پر چلنے والی ’’سو فسطائیت‘‘ کوعام کرنا تھا۔

صدارتی خطاب الطاف حسین کا تھا۔اس میں اسی ایجنڈے کے مطابق بے سری،بے تکی باتیں کی گئیں۔بابا بلّھے شاہ کے یہ اشعار دردناک بلکہ درد رساں آواز میں گائے گئے۔

پڑھ پڑھ عالم فاضل ہویوں

کدی اپنے آپ نوں پڑھیا ای ناں

( کتابیں پڑھ پڑھ کر عالم فاضل کہلائے لیکن کبھی اپنے آپ کو نہ پڑھا)

بھج بھج وڑیا مسجد مندر

کدی اپنے من وچ وڑیا ای ناں

( مسجد،مندر بھاگ بھاگ کرگھستا ہے، کبھی اپنے اندر گھس کر نہیں دیکھا)

ایوں روز شیطان نال لڑنا ایں

کدی اپنے آپ نال لڑیا ای ناں

( ایسے ہی روز شیطان کے ساتھ لڑتے ہو کبھی اپنے آپ سے لڑ کر نہ دیکھا)

ان اشعار سے استدلال یہ تھا کہ بلّھے شاہ کے ان اشعار کا کوئی حقیقی تصور ہے تو وہ الطاف حسین ہی ہے۔اس لئے اس زمانے میں صوفی ازم کے پرچار کا جھنڈا اور صوفی کانفرنس کی صدارت اسی کو زیبا ہے۔پہلے شعر میں بلھے شاہ نے کتابیں پڑھ کر عالم فاضل بننے سے منع کیا ہے، اپنے آپ کو پڑھنے کا حکم دیا ہے۔موصوف کی طالبعلمی کا زمانہ اس کا گواہ ہے کہ کتاب سے کوئی تعلق نہیں رکھا۔بس اپنے آپ کو ہی پڑھاکہ کس طرح لیڈر بن کر فساد مچا سکتا ہوں اور پھر اس میں کامیابی بھی حاصل کی۔

دوسرے شعر کے مطابق کبھی بھاگ بھاگ کر تو کجا مرے دل سے چل کر بھی مسجد کی طرف نہیں جانا ہوا، بس اپنے من میں ہی گھسے رہے اور تیسرے شعر کے مطابق شیطان سے کبھی لڑائی نہیں کی، اس سے نہ صرف پکی دوستی رکھی بلکہ اس کی ہر طرح سے اطاعت کی البتہ اس کام کو کرتے ہوئے ابتداء میں اپنے آپ سے کافی لڑنا پڑا کیونکہ اس وقت ضمیر اور ایمان زندہ ہوا کرتا تھا۔یوں ثابت ہو گیا کہ بابا بلّھے شاہ کے فکری جانشین کا منصب کسی اور کو نہیں دیا جا سکتا۔اگر کوئی دعویدار ہے تو سامنے آ کر اپنا سائز بتائے تاکہ بوری سلوائی جا سکے۔

خبر کے مطابق سوفی صاحب نے یہ اشعار سنانے سے پہلے حاضرین کی آنکھیں ایک منٹ کے لئے بند کروا دیں۔اس کا مقصد یا تو یہ ہو گا کہ لوگ ایک دوسرے کو ہنستا ہوا نہ دیکھیں یا یہ کہ آنکھیں بند کرنے سے مصیبت کا برداشت کرنا کچھ آسان ہو جاتا ہے۔ان اشعار کے انتخاب اور ان کے مطلب پر غور کرنے کے بعد یہ بات اچھی طرح سمجھ آ گئی ہے کہ بابا بلھے شاہ کا بہت بڑا فین حسن نثار، الطاف حسین پر کیوں اس قدر فدا ہے اور اس قدر مدح سرائی کیوں کرتا ہے۔اب تو یقیناً سارا بلّھے شاہی طبقہ الطاف حسین کی قیادت میں متحد ہو کر جائے گا اور اسے ہی اپنا روحانی پیشوا بنا لے گا۔ویسے ایسے’’ سوفیوں‘‘ کے لئے ایسا قائد ہی زیبا ہے۔

٭…٭…٭

پاکستانیوں نے جو بڑے بڑے گناہ ایسے کر رکھے ہیں جن کا وبال دن رات ہم پر مسلط ہے ان میں سے ایک حضرت صوفیاء کرام رحمہم اللہ تعالیٰ کی گستاخی اور تنقیصِ شان بھی ہے۔

صوفیاء کرام اس امت کے قابل احترام طبقات میں سے ہیں۔ان میں بڑے بڑے محققین علماء کرام ہیں۔یہ اللہ تعالیٰ کے سچے اولیاء اور نبی کریم ﷺ کے سچے پیروکار ہیں۔یہ مجاہد ہیں،یہ مجددین ہیں۔انہوں نے ہر زمانے میں دین اسلام کی خدمت کی،معرفت کا نور پھیلایا،مصائب برداشت کر کے اسلام کی حفاظت کی،جابر حکمرانوں کے سامنے کلمہ حق کہا، انہوں نے مجاہدات کیے،ریاضت کو اپنایا،دنیا کو چھوڑا اور لوگوں کو ترک دنیا کی تعلیم دی۔مگر ان کی تعلیمات کو جس طرح ہمارے ہاں مسخ کیا گیا اور جس طرح ان سے تمسخر کیا گیا، اس کی مثال شاید کہیں اور نہ ملے۔ان حضرات کی بعض اصطلاحات کو دھوکے کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔انہوں نے بے عملی اور دنیا پرستی پر اپنے پیرائے میں تنقید کی،ہمارے ہاں اسے علماء کرام اور علم دین پر تنقید کے لئے استعمال کیا جاتا ہے حالانکہ صوفیاء کرام خود علم شریعت کے حاملین تھے، سائنس پڑھے ہوئے نہ تھے۔صوفیاء کرام کی بعض اصطلاحات مثلاً وحدت الوجود وغیرہ ان لوگوں کی سمجھ میں نہ آئیں اور انہوںنے انہیں لا دینی کی دلیل بنا لیا۔صوفیاء کرام کے سماع کو راگ راگنی اور ان کے ہاں اصطلاح رقص کو ننگے ناچ کا مصداق بنا دیا اور ان میں مشغول ہو گئے۔صوفیاء کرام کے کلام میں ’’شراب‘‘ کا ذکر بکثرت ہے۔اس شراب محبت اور شربتِ معرفت سے’’ اُم الخبائث ‘‘ کی حلت ثابت کرنے لگے۔حاشا وکلا! صوفیاء کرام ان سے بری ہیں،ان کی تعلیمات ان سے بری ہیں۔کہاں صوفیاء کرام کی پاکیزہ زندگی اور تعلیمات اور کہاں یہ مادر پدر لا دین لوگ۔لیکن ہمارے ہاں دن رات اس جھوٹ کا پرچار ہوتا ہے۔علی الاعلان ہوتا ہے اور سرکاری سرپرستی میں ہوتا ہے۔ذرا سوچیے!پرویز مشرف،آصف زرداری،بلاول زرداری اور الطاف حسین جیسے لوگوں کو ’’صوفی‘‘ کہنا، ان کے طرز عمل کو صوفی ازم کا نام دینا اور ہیوی ویٹ سومو ریسلر عابدہ پروین کو صوفیت کا سب سے بڑا نمائندہ قرار دینا حضرات صوفیاء کرام،علم تصوف اور صوفی ازم کی کتنی بڑی توہین ہے۔حضرات صوفیاء کرام تارک الدنیا تھے یہ سب دنیا پرست،حضرات صوفیاء کرام دیندار تھے اور یہ کٹر لا دین،حضرات صوفیاء کرام مجاہد تھے یہ جہاد کے منکر، وہ مسلمانوں کے دوست تھے یہ کفار کے دوست،وہ پاکیزہ کردار تھے اور یہ سب بد اطوار،ان کی زندگیاں مساجد سے جڑیں تھیں یہ سب مسجدوں کے دشمن۔پھر یہ کس منہ سے خود کو صوفی کہتے ہیں اور صوفی ازم کا پرچار کرتے ہیں۔حضرات تابعین سے آج تک کے کس صوفی بزرگ کی تعلیمات کا رنگ ان کی زندگیوں میں ہے اور کس کے یہ متبع ہیں؟…

اصل بات یہ ہے کہ ہمارے خطے کے لوگ حضرات صوفیاء کرام سے عقیدت رکھنے والے ہیں۔ان کی باتیں مانتے ہیں اور ان کی طرف منسوب تعلیمات کو بھی بہت جلد قبول کر لیتے ہیں۔کفار یہ چاہتے ہیں کہ ہمیں ایسا اسلام دیں جو بقول اقبالؒ ’’برگ حشیش‘‘ ہو، اس میں قوت و شوکت تو دور کی بات ہے، مزاحمت اور دفاع کا پیغام بھی نہ ہو۔وہ ہمیں شرابی بنانا چاہتے ہیں، وہ ہمیں ناچ گانے میں مبتلا کرنا چاہتے ہیں۔وہ ہمیں دین کی تکلیفات و احکام سے آزاد کرنا چاہتے ہیں تاکہ ہم ان کے جیسے ہو جائیں اور ان کی طرح دین کو اپنی زندگیوں سے نکال دیں۔اسلام سے ہمارا تعلق بھی’’سنڈے سروس‘‘ تک محدود ہو جائے ،یا اتنا بھی نہ رہے، اس کے لئے انہوں نے آسان طریقہ اختیار کیا اور ان ساری باتوں کو حضرات صوفیاء کرام سے منسوب کر دیا، ان کی تعلیمات کی تشریح اس کے مطابق کر دی اور ان بد کردار لوگوں کو اس پیغام کا علمبردار اور نمائندہ بنا دیا۔یوں اب وہ اس کام پر خزانوں کے منہ کھول کر پیسہ لٹا رہے ہیں اور ان کے یہ بندر ڈالر کی ڈگڈگی پر ناچ ناچ کر اس کی ترویج کے لئے کوشاں ہیں۔پرویز مشرف اقتدار سے محروم ہو کر رسوائی اور ذلت کی کھائیوں میں جا گرا،چوہدری شجاعت اور مشاہد حسین تھک گئے اور اب الطاف حسین اور بلاول بھٹو زرداری میدان میں کود پڑے ہیں۔یہ بھی کسی دن اپنے انجام بد کو پہنچ جائیں گے اور سچا صوفی ازم قرآن و حدیث کی روشنی اور سیرت طیبہ کی خوشبو لیے اپنا فیض دنیا میں پھیلاتا رہے گا۔کیونکہ تصوف ایک سچائی ہے اور سچائی پر جھوٹ کے پردے زیادہ دیر تک قائم نہیں رہ سکتے۔

٭…٭…٭

’’جاء اعرابی‘‘

السلام علیکم..طلحہ السیف (شمارہ 437)

’’اَعرابی‘‘ یعنی دیہاتی لوگ بڑی خوبیوں کے مالک ہوتے ہیں۔

ان کی سب سے اعلیٰ صفت تو سادگی ہے۔دیگر یہ کہ مہمان نواز بھی ہوتے ہیں اور محنتی بھی۔زبان کے کھرے اور دل کے سچے بھی۔قناعت شعار بھی اور بہادر بھی۔ہمدردر بھی اور غم گسار بھی۔

غرضیکہ بڑی اچھی اچھی خوبیاں رکھتے ہیں۔

سادگی کی وجہ سے پروٹوکول اور آداب شاہی سے بھی زیادہ واقف نہیں ہوتے اس لئے جو بات کہنی ہو کھل کر کہہ ڈالتے ہیں اور جو بات پوچھنی ہو وہ بھی بالکل کھلے اور واضح الفاظ میں پوچھ لیتے ہیں،الفاظ کے انتخاب اور کلامی اونچ نیچ کی اُلجھن میں نہیں پڑتے۔

نبی کریم ﷺ کی مجلس مبارک میں ان ’’اعراب‘‘ کو ان وجوہات کی بناء پر بہت اختصاص حاصل تھا۔دین کی محبت میں دوردراز سے آتے،کھل کر سوال کرتے،جو حاجت ہوتی کھلے الفاظ میں مانگتے،اپنے تاثرات کا اظہار بھی کھل کر کرتے اور محبت کا اظہار بھی۔نبی کریم ﷺ ان سے محبت فرماتے،ان کی لا علمی اور سادگی کی وجہ سے صادر ہو جانے والی نامناسب حرکات پر بھی درگذر فرماتے،خصوصی رعایت اور نرمی کے معاملے ان کے ساتھ فرماتے،خندہ پیشانی سے ان کے سوالات کے جوابات ارشاد فرماتے اور ان کی ضروریات پوری فرماتے۔جہاں ضرورت محسوس ہوتی انہیں تنبیہ بھی فرماتے۔نبی کریم ﷺ کے اُسوہ حسنہ میں ان حضرات کے ساتھ آپ ﷺ کے معاملات میں علماء کرام اور مبلغین کے لئے بڑے اسباق ہیں۔

نبی کریم ﷺ کے زمانے کے یہ ’’اعراب‘‘ امت مسلمہ کے بڑے محسن بھی ہیں کہ ان کی بدولت دین کے بہت سے احکام ہم تک پہنچے۔نبی کریم ﷺ کی مجلس کے حاضر باش صحابہ کرام پر آپ ﷺ کا رُعب طاری رہتا تھا۔قرآن مجید میں جب آپ ﷺ کی مجلس کے آداب، آپ ﷺ کے مراتب علیا کا بیان اور خصوصاً آپ ﷺ کے سامنے آواز پست رکھنے کا حکم نازل ہوا تو صحابہ کرام بہت سے ضروری سوالات کرنے کی بھی ہمت نہ پاتے تھے اور کئی باتیں جو ان کے دل و دماغ میں مچلتی رہتیں ان کا اظہار کرنے کی بھی جرأت نہ کرتے تھے۔ایسے میں انہیں انتظار رہتا تھا کہ باہر سے کوئی اعرابی آئے اور جب کوئی ایسا فرد آ جاتا تو اسے سمجھا دیتے کہ اپنی باتوں کے ساتھ یہ بات بھی نبی کریم ﷺ سے پوچھ لیں تاکہ سب کو اس کا جواب مل جائے۔کتب حدیث میں ایسے بہت سے واقعات اور روایات جا بجا موجود ہیں کہ ’’اعراب‘‘ کے ذریعے نبی کریم ﷺ سے کوئی بات پوچھی گئی اور خود ’’اعراب‘‘ کی طرف سے کئے جانے والے بے ساختہ سوالات تو بکثرت وارد ہیں۔

آج ہم نے اسی ’’مجلس محبت‘‘ سے چند پھول قارئین کے لئے چنے ہیں۔یہ بہت کام کی باتیں ہیں۔ان میں ہمارے لئے بہت سے اسباق ہیں،بہت عظیم منافع ہیں اور سب سے بڑھ کر یہ کہ یہ محبوب ﷺ کی باتیں ہیں۔

احادیث نقل کرنے سے پہلے ’’اعراب‘‘ کی ایک اور صفت کا ذکر بھی ضروری ہے جو اوپر رہ گیا کہ یہ لوگ بڑے فصیح البیان ہوتے ہیں اور اپنے مدعا کو چند الفاظ میں بیان کرنے کی صلاحیت سے مالا مال ہوتے ہیں،خصوصاً ان کے ہاں جو ضرب الا مثال ہوتی ہیں ان کا ایک ایک جملہ پورے خطبات پر بھاری ہوتا ہے۔کتب حدیث میں ’’اعراب‘‘ کی ان باتوں میں جو ادبی چاشنی ہے اس کا اندازہ تو ان لوگوں کو ہی ہو سکتا ہے جو عربیت کے ذوق سے مالا مال ہوں اور پھر ان عبارات کو ملاحظہ کریں۔نبی کریم ﷺ نے خود کئی مقامات پر ان حضرات کی فصاحت و بلاغت کی تعریف فرمائی۔

آئیے! اب ملاحظہ کریں ’’اعراب‘‘ کے کچھ سوالات اور نبی کریم کے جوابات…

(۱) ایک اعرابی آئے اور انہوں نے پوچھا:

یا رسول اللہ ﷺ! بہترین لوگ کون ہیں؟

آپ ﷺ نے فرمایا:

وہ شخص جو جان اور مال سے اللہ تعالیٰ کے راستے میں لڑ رہا ہو اور وہ شخص جو کسی گھاٹی میں رہ کر اپنے رب کی عبادت میں مشغول ہو اور لوگ اس کے شر سے مامون ہوں ( صحیح بخاری)

(۲) ایک اعرابی آئے اور پوچھا:

یا رسول اللہ ﷺ! ایک شخص اپنے نام کے لئے لڑتا ہے،ایک شخص محض غنیمت کے حصول کے لئے لڑتا ہے اور ایک شخص محض جرأت کے اظہار کے لئے لڑتا ہے۔پس (ان میں سے ) کون اللہ کے راستے میں ہے؟

آپ ﷺ نے فرمایا:

جو شخص اس لئے لڑا تاکہ اللہ تعالیٰ کا کلمہ بلند ہو وہی اللہ کے راستے میں ہے ( ابن ماجہ)

(۳) ایک اعرابی نبی کریم ﷺ کی خدمت میں قرض کی ادائیگی کے لئے تعاون کا مطالبہ لے کر حاضر ہوا اور اس نے کچھ سختی سے بات کی،یہاں تک کہہ ڈالا کہ میں آپ کو تنگ کرتا رہوں گا جب تک آپ میرا قرض ادا نہیں کر دیتے۔نبی کریم ﷺ کے اصحاب نے اسے ڈانٹا اور اسے کہا: تیرا ناس ہو۔دیکھتا نہیں کس سے مخاطب ہے؟…

آپ ﷺ نے ان سے فرمایا:

تم لوگ ( اس ) صاحب حق کے ساتھ کیوں نہ ہوئے؟ (یعنی اس کی حمایت کیوں نہ کی؟)

پھر آپ ﷺ نے حضرت خولہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کی طرف پیغام بھجوایا کہ اگر آپ کے پاس کچھ کھجوریں ہوں تو ہمیں قرض دے دیں۔جب ہمارے پاس آئیں گی ہم لوٹا دیں گے…

انہوں نے عرض کیا:

ہاں۔میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں اے اللہ کے رسول! اور کھجوریں بھیج دیں۔

نبی کریم ﷺ نے اعرابی کا قرض بھی ادا فرمایا اور اسے کھانا بھی کھلایا۔

اس نے کہا: اللہ تعالیٰ آپ کو پورا( بدلہ) دے جیسے آپ نے مجھے پورا ( حق) دیا…

نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

یہ (اعرابی) بہترین لوگ ہیں اور بے شک کوئی بھی ایسی قوم (اُمت) بامقام نہیں ہو سکتی جس میں ضعیف اپنا حق بے دھڑک نہ لے سکے…( ابن ماجہ)

(۴) ایک درازقد جرأتمند اعرابی نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا:

اے اللہ کے رسول! ہمیں ہجرت کے بارے میں آگاہ کیجیے کہ آپ ﷺ جس جگہ پر ہوں آیا اس کی جانب ہجرت سب پر فرض ہے یا کسی مخصوص قوم پر؟…یا کسی اور متعین جگہ کی جانب ہجرت لازم ہے؟ اور کیا ہجرت کا ثواب ہمارے مرنے پر رک جائے گا؟…

نبی کریم ﷺ کچھ دیر خاموش رہے پھر فرمایا:

یہ بات کس نے پوچھی؟…

اس اعرابی نے عرض کیا! میں نے!…

نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

(تیری) ہجرت یہ ہے کہ تو ہر ظاہر اور پوشیدہ گناہ چھوڑ دے اور نماز قائم کر،زکوۃ ادا کر،پھر تو مہاجر ہے اگرچہ اپنے شہر میں مر جائے۔( کیونکہ اس وقت اصطلاحی ہجرت فرض نہ تھی)

پھر اس نے پوچھا:

اب ہمیں جنت کے کپڑوں کے بارے میں بتائیں کہ وہ( عام طریقے پر) بُنے گئے ہوں گے یا اُگیں گے؟

یہ سوال سن کر بعض لوگ ہنس پڑے…

نبی کریم ﷺ نے انہیں (تنبیہ کرتے ہوئے) فرمایا:

تم کس بات پر ہنس رہے ہو؟ کیا ایک لا علم شخص پر جو ایک صاحب علم سے سوال کر رہا ہے؟…

پھر اس سائل کی طرف جھک کر فرمایا:

جنت کا کپڑا جنت کے پھلوں سے پھوٹے گا… (مسند احمد)

ایک اعرابی آئے اور پوچھا:

یا رسول اللہ! کبائر کیا ہیں؟

آپ ﷺ نے فرمایا:

اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانا۔

اس نے پوچھا: پھر کون سا گناہ سب سے بڑا ہے؟

آپ ﷺ نے فرمایا:

والدین کو ستانا۔

اس نے پوچھا پھر کون سا ہے؟

آپ ﷺ نے فرمایا:

وہ جھوٹی قسم جس کے ذریعے کوئی شخص کسی مسلمان کا مال ہتھیا لے ( صحیح بخاری)

(۷) ایک اعرابی آئے اور عرض کیا:

مجھے کوئی دعا سکھا دیجیے!

آپ ﷺ نے فرمایا:

کہو: لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیْکَ لَہُ ، اَللّٰہُ اَکْبَر کَبِیْرَا وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ کَثِیْرَا، سُبْحَانَ اللّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ ، لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ الْعَزِیْزِ الْحَکِیْم

اس نے کہا یہ تو میرے رب کے لئے ہو گیا،اپنے لئے کیا مانگوں؟…

آپ ﷺ نے فرمایا:

کہو: اے اللہ ! مجھے بخش دے اور مجھ پر رحم فرما،مجھے سیدھی راہ پر چلا اور مجھے رزق دے

اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِی وَارْحَمْنِی وَاھْدِنِی وَارْزُقْنِی ( صحیح مسلم)

(۸) ایک بلند آواز اعرابی آئے اور پکار کر کہا۔

اے محمد (ﷺ) ایک شخص کسی جماعت سے محبت رکھتا ہے مگر ان کے ساتھ نہیں ملا (یعنی عمل میں پورا ان کی طرح نہیں، اس کا انجام کیا ہو گا؟)

آپ ﷺ نے فرمایا:

انسان انہی کے ساتھ ہو گا جن سے محبت رکھتا ہے۔(ترمذی)

صحابہ کرام فرماتے ہیں کہ ہمیں اس دن یہ بات سن کر سب سے زیادہ خوشی ہوئی اور وہ دن گویا عید کا دن ہو گیا جس میں بشارت عظمی ملی کہ انسان آخرت میں انہیں لوگوں کے ساتھ ہو گا جن کے ساتھ دنیا میں محبت رکھتا ہے۔یوں صحابہ کرام کو جنت میں نبی کریم ﷺکی معیت کے حصول کا یقین حاصل ہو گیا کیونکہ ان کی محبت سچی تھی۔اور یہ خوشی بھی امت کو ایک ’’اعرابی ‘‘ کے سوال کی بدولت ملی…

٭…٭…٭
کردار…نتیجہ

السلام علیکم..طلحہ السیف (شمارہ 436)

زمانہ قدیم سے اقوام اپنے رہنماؤں خصوصاً آزادی کے لئے جدوجہد کرنے والے لیڈروں کو بطور خاص یاد رکھتی ہیں۔ان کی یادگار تعمیر کرتی ہیں،مجسمے بنائے جاتے ہیں،مقبروں پر تقریبات ہوتی ہیں،مزاروں پر رش لگا رہتا ہے،ایام ان کے نام سے منائے جاتے ہیں،ملک کی معروف جگہوں کو ان کے ناموں سے موسوم کیا جاتا ہے۔غرض خراج عقیدت اور خراج تحسین پیش کرنے کے تمام طریقے بروئے کار لائے جاتے ہی

ں۔

اگرچہ اسلام کا یہ مزاج نہیں ہے۔اصل تعلیمات اسلام میں نہ تو مقبروں پر قبے تعمیر کرنے کی اجازت ہے اور نہ ہی ایام منانے کا ثبوت خیر القرون میںکہیں ملتا ہے،خصوصاً کسی کا دن مناتے ہوئے تمام کام کاج معطل کر کے چھٹی مارنا اور دھینگا مشتی کرتے پھرنا اسلام کے مزاج سے ہی میل نہیں کھاتا۔لیکن چونکہ اکثر بلکہ تقریباً تمام اسلامی ممالک میں اسلام نافذ نہیں اس لئے ہر جگہ’’بت‘‘سازی کا رواج ہے اور ایام کا بھی،چھٹی کا بھی اور جشن کا بھی۔

ہمارے ملک میں بھی مصور پاکستان علامہ محمد اقبال ؒ کا یوم پیدائش اور یوم وفات اسی طرح بانی پاکستان جناب محمد علی جناح کے بھی یہ دونوں دن منائے جاتے ہیں۔ان ایام میں ان شخصیات کی یاد میں تقریبات ہوتی ہیں،اخبارات کے ضمیمے نکلتے ہیں،سیمینار اور اجلاس منعقد کئے جاتے ہیں۔نظمیں پڑھی جاتی ہیں،گانے گائے جاتے ہیں،ان کے افکار کا پرچار کیا جاتا ہے اور ان کے مزارات پر عرس کا سا سماں برپا کیا جاتا ہے۔قانونی طور پر بھی ان شخصیات کو ہمارے ہاں تقدس کا رتبہ حاصل ہے اور ان کے بارے میں قولا،تحریراً کوئی نا مناسب بات کہنا قابل دست اندازی پولیس جرم ہے۔خراج عقیدت پیش کرنے کا یہ اسلوب ہمارے ہاں گذشتہ 63سالوں سے رائج ہے اور تسلسل کے ساتھ چلا آ رہا ہے۔لیکن کراچی والوں نے کمال کر دیا ہے۔انہوں نے وہ کام کیا جو شاید آج تک کسی یورپی قوم نے بھی اپنے بڑوں کو خراج تحسین پیش کرنے کے لئے نہ کیا ہو گا۔میں پچھلے دنوں کراچی میں تھا اور اس حوالے وہاں کے اخبارات میں شائع ہونے والی رپورٹوں کو دیکھ کر ششدر رہ گیا۔

اگر آپ کو بھی ’’مزار قائد‘‘ پر جانے کا اتفاق ہوا ہو تو آپ نے دیکھا ہو گا کہ بلند و بالا قبے کے نیچے فرش کے درمیان سنگ مرمر کی ایک قبر ہے جس کے چاروں طرف جالی لگی ہوئی ہے۔اس کے اردگرد فاتحہ خوانی کی جاتی ہے اور دن بھر فوجی جوانوں کی پریڈ جاری رہتی ہے۔خاص ایام میں حکمران آ کر پھولوں کی چادر بھی اس کی قبر کے تعویذ پر چڑھاتے ہیں۔لیکن یہ بابائے قوم کی قبر نہیں محض قبر کا نشان ہے۔قبر بالکل اسی کے نیچے واقع تہہ خانے میں ہے اور وہاں صرف ان کی نہیں اور دیگر پانچ چھ افراد کی بھی قبور ہیں جن کا تحریک آزادی میں اہم کردار رہا تھا۔یہ قبریں ایک بڑے ہال میں ہیں جو دیواروں میں بند ہے۔مزار کے محافظین اور خدام سے کچھ دے دلا کر معاملہ طے کر لیا جائے تو ان اصل قبروں پر فاتحہ خوانی کے لئے جایا جا سکتا ہے۔کراچی میں پڑھائی کے زمانے ایک بار رفیق مکرم مولنا مقصود احمد شہید ؒ کے ساتھ وہاں جانے کا اتفاق بھی ہوا۔ہمیں یہ حقیقت معلوم نہیں تھی،ایک استاذ محترم نے سبق میں بتائی تو شوق سیاحت میں چھٹی کے دن ادھر جا نکلے اور پچاس روپے کے ایک نوٹ کے سہارے اس ہال میں جانے میں کامیاب رہے۔کافی ہیبت ناک ماحول ہوتا ہے۔تہہ خانہ،اندھیرا،خاموشی اور قبریں۔حالت دیکھ کر اندازہ ہوتا تھا کہ لوگ اس طرف بہت کم ہی آتے ہیں اور شاید یہ علم بھی کم لوگوں کو ہی ہوتا ہے کہ وہاں اصل قبر کہاں ہے اور ایک نہیں کئی ہیں۔اس لئے لوگ اوپر ہی ’’خراج عقیدت‘‘ پیش کر کے چلے آتے۔اس زمانے میں خراج عقیدت اسی حد تک محدود تھا کہ لوگ مقبرے کو دیکھ آتے اور وہاں کھلے ماحول میں بچوں کے ساتھ بیٹھ کر کچھ کھا پی آتے۔بچے کھیل کود کر لیتے اور بس…

پھر قوم جدت پسند اور روشن خیال ہونے لگی اور اخبارات میں تسلسل کے ساتھ یہ خبریں آنے لگیں کہ ’’مزار قائد‘‘ غیر شادی شدہ جوڑوں کی ملاقاتوں کا مرکز بن چکا ہے۔یوں شرفاء نے وہاں جانا کم کر دیا اور مزار کے چاروں طرف پھیلے وسیع سبزہ زار خراج عقیدت کے اس نئے انداز کے مظہر بن گئے۔اس انداز میں بھی کوئی اچھنبے کی بات نہ تھی،قوم جس تیزی سے مغرب کی نقالی کی سمت رسے تڑوا کر دوڑ رہی ہے اس کے پیش نظر یہ تو ہونا ہی تھا۔اس لئے یہ بات بھی حلق سے اتار لی گئی۔مغربی ممالک میں بھی ایسی جگہوں پر لوگ یہ کام کیا ہی کرتے ہیں۔لیکن اب جو ہونے کی خبریں آتی ہیں شائد اب مغرب والے اس میدان میں پاکستانیوں سے پیچھے جا پڑے ہیں۔رپورٹ یہ ہے کہ ’’مزار قائد‘‘ کا وہ کمرہ جس میں اصل قبور واقع ہیں بدکاری کے لئے کرائے پر دیا جاتا ہے اور گھنٹوں کے حساب سے اس کے چارجز وصول کئے جاتے ہیں۔

بدکاری…وہ بھی قبرستان میں اور قبرستان بھی معمولی نہیں ان لوگوں کی قبریں جنہیں ہیرو کہا اور مانا جاتا ہے،جنہیںمحسن گردانا جاتا ہے اور جن کی عقیدت کے دعوے کئے جاتے ہیں۔

اس کے بعد اگر کراچی روزانہ درجنوں لاشیں نگلتا ہے،کروڑوں کا بھتہ لوٹتا ہے،درجنوں عزتیں برباد کرتا ہے،اس میں روزانہ سینکڑوں ڈاکے پڑتے ہیں تو حیرانی کی کیا بات ہے؟

٭…٭…٭

’’قبروں پر جایا کرو، بے شک وہ دنیا سے بے رغبت کرتی ہیں اور آخرت کی یاد دلاتی ہیں‘‘ ( الحدیث)

مگر جہاں قبریں آخرت کی یاد نہ دلائیں،دنیا سے بے رغبت نہ کریں بلکہ اپنے سامنے بدکاری کرنے سے نہ روک سکیں۔اس شہر بے اماں کے لئے کہاں جا کر رویا جائے اور کہاں سے امن کی بھیک مانگی جائے؟…

اور صرف ایک شہر ہی کیا…

آوے کا آوا ہی بگڑ رہا ہے…

روزانہ اخبار میں درجنوں معصوم بچیوں اور بچوں کی معصومیت کا قتل اور مسخ شدہ لاشیں…

روزانہ مال کے نام پر درجنوں قتل…

جھوٹی عزت کے نام پر قتل…

غربت و افلاس سے تنگ آ کر اپنے بیوی بچوں کا قتل…

سڑکوں پر در آتی بدکاریاں…

شراب کی بہتات…

سال بہ سال شراب کی فروخت میں ہوشربا اضافہ…

اور اب یہ رپورٹ کہ پاکستان کثرت سے شراب نوشی میں دنیا بھر میں آٹھویں نمبر پر آ گیا ہے…

ہمارے سروں پر حکمران لیڈروں کے کمروں سے شراب کی بوتلیں اور بھبھکے…

اخبارات میں شراب نوشی کے حق میں کھلم کھلا کالم اور مضامین…

گانے بجانے کے سرکاری میلے اور فیسٹیول…

حکمرانوں کے گلوکاراؤں کو علانیہ بوسے…

ہر گلی ہر کوچے میں اسلامی شعائر کی علانیہ بے حرمتی…

ہر زبان پر روشن خیالی اور جدت پسندی، لبرل ازم کے بدبودار نعرے…

قرآن و حدیث کے قوانین کے ساتھ کھلا استہزائ…

ملاوٹ اور حرام خورانی کی غلیظ مثالیں…

حرص و ہوس کا ننگا ناچ…

جہاد جیسے اسلامی فرائض کا نام لینے اور دعوت دینے پر پابندیاں اور ہر برائی کی دعوت آزاد…

مدارس اور مساجد پر شکنجہ کسنے کے دن رات منصوبے…

علماء کرام کی تذلیل…

اور بھانڈوں،میراثیوں،فنکاروں کی عزت افزائی…

دوستی کے نام پر کفر کی علانیہ غلامی اور مسلمانوں سے عداوت…

سوائے اس کے فخر کرنے کی کوئی وجہ،کوئی سبب باقی ہے کہ ہم سر سے 160اخروٹ توڑ لیتے ہیں؟…

نہ کوئی دینی فخر باقی نہ دنیوی…

اچھائیوں کا دن رات قتل اور برائیوں کی ہر زور زبردستی سے ترویج و اشاعت…

پھر جو نتیجہ نکل رہا ہے اس سے بہتر کی کیا توقع؟…

مسلمانو!

توبہ…استغفار…

اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع…

ورنہ ہم جو کچھ کر رہے ہیں اس کے نتیجے میں عذاب ہی عام ہوتے ہیں اور عقوبات فزوں تر…

٭…٭…٭

نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

’’جب میری امت پندرہ کام کرے گی تو اس پر بلا اُترے گی،پوچھا گیا :یا رسول اللہ! وہ پندرہ کام کیا ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا:

(۱) اذا کان المغنم دولا: جب غنیمت کا مال دولت سمجھا جائے،یعنی بادشاہ اور رئیس اس کو اپنے باپ کا مال سمجھیں اور غریب مسلمانوں پر شرع کے موافق تقسیم نہ کریں۔

(۲) والامانۃ مغنما: اور امانت کا مال لوٹ کا مال سمجھا جائے،لوگ امانتوں کو کھا جائیں اور صاحب مال کو واپس نہ کریں۔

(۳) والزکوۃ مغرما: اور زکواۃ کو ڈنڈ ( ٹیکس) سمجھا جائے،جب زکوۃ کے بارے میں یہ تصور ہو جائے تو لوگ زکوۃ ادا نہیں کریں گے اور اگر کریں گے تو بس برائے نام ادا کریں گے،رضا و رغبت سے ادا نہیں کریں گے۔

(۴) واطاع الرجل زوجتہ: اور آدمی اپنی بیوی کا کہا مانے۔یعنی اس کا ہر جائز و ناجائز مطالبہ پورا کرے، اور اس کی غلط سلط باتیں سن کر خاندان سے بگاڑ لے۔

(۵) وعق امہ: اور اپنی ماں کی نافرمانی کرے،یعنی ماں کے مقابلے میں بیوی کو ترجیح دے،اس کی باتیں سنے اور ماں کے ساتھ بد سلوکی کرے۔

(۶) وبر صدیقہ: اور اپنے دوست کے ساتھ حسن سلوک کرے اور اس کے ساتھ نرم مزاجی سے پیش آئے۔

(۷) وجفا اباہ: اور اپنے باپ کے ساتھ ظلم روا رکھے،اس پر ظلم و ستم ڈھائے۔

(۸) وارتفعت الاصوات فی المساجد: اور مساجد میں آوازیں بلند کی جائیں یعنی ان پاک جگہوں کا احترام دل سے نکل جائے،وہاں لوگ باتیں اور شور و شغب کرنے لگیں۔

(۹) وکان زعیم القوم ارذلھم: اور قوم کا ذلیل ان کا سردار بن جائے،یعنی کمینوں کا راج ہو جائے۔

(۱۰) واکرم الرجل مخافۃ شرہ: اورآدمی کی عزت کی جائے اس کی برائی کے ڈر سے،یعنی اس کی شرافت کی وجہ سے نہیں بلکہ اس کی شرارت کی وجہ سے لوگ اس کا اکرام کریں۔

(۱۱) وشربت الخمور: اور شرابیں پی جائیں،یعنی شراب نوشی عام ہو جائے۔

(۱۲) ولبس الحریر: اور ریشم پہنا جائے،یعنی مردوں میں ریشم پہننے کا رواج چل پڑے۔

(۱۳) واتخذت القیان: اور گانے والی باندیاں رکھی جائیں،یعنی گانے کے اسباب فراہم کئے جائیں۔

(۱۴) والمعازف: اور آلات لہو اختیار کئے جائیں۔

(۱۵) ولعن آخر ہذہ الامۃ اولھا: اور اس امت کے پچھلے،پہلوں پر لعنت بھیجیں۔یعنی لوگ سلف صالحین ،محدثین و مجتہدین کی برائی کرنے لگیں۔

تو چاہیے کہ لوگ اس وقت انتظار کریں سرخ آندھی کا یا زمین میں دھنسنے کا یا شکلوں کے بگڑنے کا۔(سنن الترمذی)

٭…٭…٭
کارنامے

السلام علیکم..طلحہ السیف (کشمیر 435)

ہر قوم کی پہچان اس کے ’’قومی سطح‘‘ پر کئے گئے کارناموں سے ہوتی ہے…

قومیں انہی کارناموں سے دنیا بھر میں جانی جاتی ہیں…ان کا نام تاریخ میں زندہ رہتا ہے…

یہ کارنامے عالمی سطح پر اس کا تعارف ہوتے ہیں، انہی کارناموں سے قوموں کے مزاج اور صلاحیتوں کا بھی اندازہ لگایا جاتا ہے۔پھر یہی کارہائے نمایاں قوموں کا فخر بھی ہوتے ہیں۔مجالس میں ان کا تذکرہ ہوتا ہے۔شاعر ان پر طبع آزمائی کرتے ہیں،ادیب نثر پارے اختراع کرتے ہیں،خطیب جوہر خطابت دکھاتے ہیں۔ہر سطح پر انہیں سراہا جاتا ہے اور جو لوگ ان میں حصہ دار ہوں انہیں ایک قومی ہیرو کا درجہ دیا جاتا ہے…

مگر ہمیں کیا ہوا ہے؟…

ہم ایسا کیوں نہیں کر رہے؟…

جو اخبار اٹھائیں،جس سے محو گفتگو ہوں،جس صاحب قلم کی تحریر پڑھیں وہی پرانی گھسی پٹی باتیں اور اتنا بڑا کارنامہ طاق نسیان میں رکھا ہوا ہے…

بجلی نہیں ہے…

امن نہیں ہے…

معیشت بد حال ہے…

گیس کے ذخائر اختتام پذیر ہیں…

روپیہ بے قدر سے بے قدر تر ہوتا جا رہا ہے…

حکمران کچھ نہیں کر رہے…

کرپشن کا زور زورہ ہے…

یہ پریشانی وہ پریشانی…

یہ بدحالی وہ بدحالی…

لوڈ شیڈنگ پر قابو نہیں پایا جا رہا…

ہسپتالوں میں دوائیں نہیں ،مریض سسک کر مر رہے ہیں…

تعلیم کا فقدان ہے…

قوم نکمی ہے،جاہل ہے،کاہل ہے…

کوئی تاریخ کو کوس رہا ہے اور کوئی مستقبل کے لئے پریشان …

کوئی حکمرانوں کے لتے لینے میں لگا ہے تو کوئی عوام کے…

کوئی قوم کو نہیں بتا رہا… نہ کوئی فخر کر رہا ہے…

نہ نظمیں لکھی جا رہی ہیں اور نہ ترانے…

بس یہی بتایا جا رہا ہے کہ ہم دنیا میں کرپشن میں چونتیسویں ،بد امنی میں نویں اور معاشی بدحالی میں چودھویں نمبر پر آ گئے ہیں…

کوئی نہیں بتا رہا کہ ہم …

دنیا میں سب سے بڑا انسانی پرچم بنانے والی قوم بن گئے ہیں…

’’لاہور میں پنجاب حکومت کے زیر اہتمام ہم نے سب سے بڑا پرچم بنانے کا عالمی ریکارڈ توڑ کر یہ کارنامہ اپنے نام کر لیا ہے‘‘…

مبارک ہو…مبارک ہو…مبارک ہو…

٭…٭…٭

مگر ٹھہریے…

مبارکباد مکمل نہیں… ساتھ ساتھ انتہائی گہرے رنج و الم کا اظہار کر کے آپ سے افسوس بھی کرتا چلوں…

وہ کام نہیں ہو سکا…

ہاں! وہ کام نہیں ہو سکا جو ہو جاتا تو آپ کے سارے غم دھل جاتے…

ساری پریشانیاں اڑ جاتیں…

بے روزگاری ختم ہو جاتی…

لوڈ شیڈنگ اڑن چھو ہو جاتی…

کرپشن کا نام و نشان باقی نہ رہتا…

غربت ڈھونڈنے پر بھی نہ ملتی…

بد عنوانی کو لوگ چراغ لے کر ڈھونڈھا کرتے…

اور بد امنی…اس کا تو نام ہی قوم بھول جاتی…

مگر افسوس وہ نہ ہو سکا…

ہمارے حکمرانوں نے پوری کوشش کی…

تمام وسائل بروئے کار لائے…

اربوں روپے جھونک دیے…

دن رات کا آرام قربان کیا…

اور وسیع تر انتظامات بھی…

مگر قوم کی بد قسمتی … کہ وہ کام نہ ہو سکا …

صرف دو چار ہاتھ ہی لب بام رہ گیا تھا…مگر کمند وہیں آن ٹوٹی…

26فروری بروز پیر…لاہور میں 2 لاکھ لوگوں نے مل کر قومی ترانہ گانے کا عالمی ریکارڈ قائم کرنا تھا مگر یہ پروگرام منسوخ کرنا پڑا…

آہ افسوس! کتنے بھوکے،بھوکے رہ گئے اور کتنے بے روزگار ، بے روزگار…

مگر کیوں؟…

وجہ یہ ہے کہ انتظام صرف دو لاکھ لوگوں کا تھا اور رجسٹریشن کرادی چار لاکھ (بے وقوفوں) نے…

یوں جگہ نہ ہونے کی وجہ سے پاکستان اور پاکستانی قوم اس تاریخ ساز عالمی کارنامے سے محروم رہ گئی…

آہ افسوس!…

٭…٭…٭

پاکستان کے سب سے بڑے صوبے’’میاں پنجاب شریف‘‘ میں دنیا کا سب سے طویل المدتی میلہ جاری ہے

اس کا نام ہے’’ یوتھ فیسٹیول‘‘ …

خوب موج میلہ ہے اور عجیب مستی…

طرح طرح کے کھیل ہیں اور نت نئے تماشے…

انہیں دیکھ کر صوبہ سندھ بھٹو زرداری کی انتظامیہ کے منہ میں بھی پانی آیا اور انہوں نے بھی ایک میلہ منعقد کر ڈالا۔جس کا عنوان ہے ’’سندھ فیسٹیول‘‘…

میاں پنجاب شریف والے فیسٹیول کی قیادت ’’میاں حمزہ شہباز شریف‘‘ اور ’’صوبہ سندھ بھٹو زرداری‘‘ والے میلے کا کپتان ’’ بلاول بھٹو زرداری‘‘ ہے…

دونوں میلوں نے قوم کی حالت بدل کر رکھ دی ہے…

شدت پسندی کی کمر ٹوٹ گئی ہے۔پنجاب میں کھیلوں میں لڑکیوں کی بھرپور شرکت اور سندھ میں اجرک کے منی سکرٹ پہنی ماڈلوں کی کیٹ واک نے ہر شدت پسند کی کمر کے دو ٹکڑے کر دیے ہیں۔آج کل ہر شدت پسند رات کو بروفن کی دو گولیوں کے بغیر سو نہیں سکتا…اور فیسٹیول منعقد کرنے والوں کے بیان کے مطابق اولین ہدف بھی ان تماشوں کا یہی تھا…

دوسرا ہدف یہ بتایا گیا تھا کہ یہ قوم کے ستے ہوئے چہروں پر مسکراہٹ لانے کی ایک کوشش ہے…

یقین کیجیے یہ ہدف بھی حرف بحرف پورا ہوا…

قوم کے اربوں روپے کے خرچ پر منعقد ہونے والے ان میلوں کے دوران جتنے لوگوں نے بھی بھوک،غربت،بجلی کی اوور بلنگ وغیرہ کے سبب خود کشیاں کیں سب کے چہروں پر ایک عجیب سی مسکراہٹ تھی جو پہلے نہیں دیکھی جاتی تھی…

سرکاری ہسپتالوں میں دواؤں کی عدم دستیابی کی وجہ سے مرنے والا ہر مریض بھی ہنستا ہوا رخصت ہو رہا ہے…

اور سرکاری اداروں میں فنڈز کی کمیابی کے سبب تنخواہ نہ پانے والے ملازمین بھی ہر وقت مسکراتے رہتے ہیں…

اور ذرا اپنا چہرہ دیکھئے! آپ بھی تو مسکرا رہے ہیں…

یوتھ فیسٹیول زندہ باد

سندھ فیسٹیول پائندہ باد

٭…٭…٭
مؤقر شہادت (آخری حصہ)

السلام علیکم..طلحہ السیف (کشمیر 434)

اگر کچھ مسلمانوں پر جب کفار کا تسلط ہو جائے، اسلامی سرزمین کفار کے قبضے میں چلی جائے یا مسلمان کفار کی قید میں آ جائیں۔ ایسے میں دوسرے مسلمانوں پر ان کے حوالے سے کیا ذمہ داری عائد ہوتی ہے؟…

کیا وہ ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہیں؟

اس آفت کو مسلمانوں کے اپنے اعمال کی سزا قرار دے کر مطمئن ہو جائیں؟

زبانی حمایت اور قراردادوں پر اکتفاء کر لیں؟…

یا کچھ اور کرنا لازم قرار دیا گیا ہے…

آئیے! قرآن و سنت سے رہنمائی لیتے ہیں:

ترجمہ:اور تم کو کیا ہوا ہے کہ خدا کی راہ میں اور اْن بے بس مردوں اور عورتوں اور بچوں کی خاطر نہیں لڑتے جو دعائیں کیا کرتے ہیں کہ اے پروردگار ہم کو اس شہر سے جس کے رہنے والے ظالم ہیں نکال کر کہیں اور لے جا۔ اور اپنی طرف سے کسی کو ہمارا حامی بنا۔ اور اپنی ہی طرف سے کسی کو ہمارا مددگار مقرر فرما۔(سورۃ نسائ)

اللہ تعالیٰ نے اس آیت مبارکہ میں مسلمانوں کو دو مقاصد کے لئے لڑنے کا حکم فرمایا ہے:

(۱) فی سبیل اللّٰہ یعنی اعلائے کلمۃ اللہ کے لئے،اللہ تعالیٰ کے دین کی سربلندی کے لئے اور اسلام کی دعوت کفار تک پہنچانے کے لئے لڑو۔

(۲) وفی نصرۃ المستضعفین: مظلوم مسلمانوں کی داد رسی کے لئے،انہیں ظلم سے نجات دلانے کے لئے،کفر کے تسلط سے چھڑانے کے لئے اور غلامی و اسیری سے نجات دلانے کے لئے لڑو۔

اور محض لڑنے کا حکم نہیں فرمایا بلکہ ’’ومالکم‘‘ کے الفاظ سے جھنجھوڑا اور خوئے غفلت پر تازیانہ برسایا کہ’’ تمہیں کیا ہو گیا کہ نہیں لڑتے‘‘۔
’’ومالکم‘‘

یہ الفاظ جہاد کے فرض ہونے کی دلیل ہیں اور مطلب یہ ہے کہ تمہارے لئے جہاد چھوڑنے کا کوئی عذر باقی نہیں ہے کیونکہ کمزور مسلمان مردوں،عورتوں اور بچوں کی مظلومیت اس حد تک پہنچ چکی ہے‘‘ (التفسیر الکبیر)

’’ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان میں جہاد پر ابھارا گیا ہے اور اس میں کمزور مسلمانوں کو ان کفار سے رہا کرانے کی بھی ترغیب ہے جو انہیں دردناک عذاب پہنچاتے ہیں اور انہیں دین سے ہٹانے کی کوشش کرتے ہیں۔بس اللہ تعالیٰ نے جہاد کو فرض فرمایا اپنے کلمہ کی بلندی۔اپنے دین کے غلبے اور اپنے کمزور مسلمان بندوں کی آزادی کے لئے،اگرچہ اس جہاد میں جانوں کا ظاہری نقصان ہو۔‘‘ (تفسیر قرطبی)

’’یعنی دو واسطے لڑائی تم کو ضرور(یعنی لازمی) ہے، ایک تو اللہ تعالیٰ کا دین بلند کرنے کو،دوسرے مظلوم مسلمانوں کو جو کافروں کے ہاتھ بے بس پڑے ہیں ان کی خلاصی کرنے کو‘‘(موضح قرآن)

’’جبکہ اعلاء کلمۃ اﷲ تو خود جہاد کا ایک مستقل محرک اورقوی داعی ہے یہ (مظلوموں کی مدد) دوسرا داعی جہاد کے لئے ارشاد ہوا، کمزوروںکی دستگیری ونصرت اورمظلوموں کی اعانت اوراُنہیں ظالم کافروں کے پنجہ سے رہائی دلانا بجائے خود مقاصد جہاد میں سے ہے۔‘‘ (تفسیر ماجدی)

’’حق پرستوں کی اسی کمزور جماعت کیلئے سرفروشان اسلام کو میدان جنگ میں آنا لازمی ہے‘‘۔ (حاشیہ حضرت لاہوری رحمہ اﷲ)

اس حوالے سے دوسری رہنما آیت سورۃ انفال میں ہے۔ملاحظہ ہو۔

ترجمہ: اور اگر وہ دین کے معاملے میں تمہاری مدد چاہیں تو تمہیں ان کی مدد کرنا لازم ہے ( الانفال72)

ایسے مسلمان جو دارالحرب میں ہیں اور انہوں نے ہجرت نہیں کی،انہیں کفار کی طرف سے ستایا جائے اور وہ اس پر مسلمانوں سے نصرت و مدد کے طالب ہوں تو مسلمانوں پر ان کی مدد کو پہنچنا لازم ہے،یہاں بھی ’’فعلیکم‘‘ کے الفاظ میں حکم دیا گیا جس کا معنی عربی گرائمر کے مطابق یہ ہے کہ ’’تم پر واجب کر دیا گیا ہے‘‘۔

اس سے اگلی آیت میں ایک جملہ ہے جس کا ترجمہ یوں ہے:

’’اگر تم ایسا نہ کرو گے تو زمین میں فتنہ اور بڑا فساد برپا ہو گا‘‘

حضرت شاہ ولی اللہؒ فرماتے ہیں کہ اس جملے کا تعلق ’’فعلیکم النصر‘‘ کے حکم سے ہے۔یعنی تم پر لازم ہے کہ فوراً مظلوم مسلمانوں کی دعوت پر لبیک کہو اور ان کی مدد کو پہنچو،اگر تم ایسا نہ کرو گے تو زمین پر فتنہ و فساد ہو گا کہ کفار دلیر و جری ہو کر ہر جگہ اسلامی سرزمینوں پر قبضہ کرتے پھریں گے اور شدید ظلم و ستم کے زور پر مسلمانوں کے ایمان کو خطرے میں ڈال دیں گے اور انہیں ارتداد پر مجبور کریں گے۔اس لئے مسلمانوں کو حکم ہے کہ باہمی تناصر کا ماحول قائم کریں اور کفار سے قطع تعلق کر لیں۔

نبی کریم ﷺ نے ایمان و اسلام کی علامات میں سے یہ بات ارشاد فرمائی ہے۔

’’مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے۔نہ اس پر ظلم کرتا ہے اور نہ اس کی مدد ترک کرتا ہے‘‘(مسند احمد)

یعنی جس طرح کسی مسلمان پر ظلم کرنا اسلام کے منافی عمل ہے اسی طرح مسلمانوں کی نصرت سے غافل رہنا اور اس سے اعراض کرنا بھی اسلامی شان کے خلاف ہے۔آقا مدنی ﷺ نے تمام مسلمانوں کو ’’جسد واحد‘‘ ایک جسم کی مانند قرار دیا اور فرمایا کہ جس طرح جسم کا کوئی عضو بھی تکلیف میں ہو تو تمام تر جسم اس کی تکلیف محسوس کرتا ہے۔اسلامی اخوت یہ ہے کہ جب کوئی مسلمان کہیں بھی تکلیف و پریشانی میں ہو تو تمام مسلمان اس کے درد اور دکھ کو اپنے اوپر محسوس کریں۔اور جس طرح جسمانی تکلیف دور کرنے کے لئے مداوا کیا جاتا ہے اسی طرح ملی درد کو بھی صرف محسوس نہ کرے بلکہ اسے دور کرنے کی محنت اور کوشش بھی کرے۔قرآن و حدیث کی انہی نصوص کو سامنے رکھ کر حضرات فقہاء کرام نے اس مسئلے کی بہت پرزور الفاظ میں وضاحت کی ہے کہ اسلامی سرزمین پر قبضہ یا حملہ ہونے کی صورت میں مسلمانوں پر کیا ذمہ داری عائد ہوتی ہے،کسی مسلمان کے کفار کی قید میں چلے جانے سے دیگر مسلمانوں پر کیا طرز عمل اختیار کرنا لازم ہو جاتا ہے اور مسلمانوں کو کفار کے تسلط سے آزادی دلانے کی شرعی حیثیت کیا ہے۔

’’ان (مظلوم مسلمانوں) کے ساتھ ہماری ولایت قائم ہے اور ان کی نصرت ہم پر واجب ہے۔یہاں تک کہ کوئی ایک مسلمان بھی ایسا نہ رہے جو (نصرت مانگنے کی صورت میں) ان کی نصرت اور آزادی کے لئے نہ نکلے…یا ہم اپنے تمام اموال خرچ کر کے انہیں چھڑائیں یہاں تک کہ کسی کے پاس ایک درہم بھی باقی نہ رہے۔یہی قول ہے امام مالکؒ اوردیگر تمام علماء کرام کا۔انا للہ وانا الیہ راجعون(کس قدر افسوس کا مقام ہے) کہ مسلمانوں نے اپنے بھائیوں کو کفار کی غلامی اور قید میں چھوڑ رکھا ہے حالانکہ ان کے پاس اموال کے خزانے ہیں،بہترین احوال ہیں اور ہر طرح کی عددی ،مادی اور معاشی قوت رکھتے ہیں۔‘‘ (القرطبی)

’’تمام اُمت مسلمہ کا یہ واضح عقیدہ ہے کہ جب کسی مسلمان ملک کی سرحد پر دشمن کے حملے کا خوف ہو اوروہاں کے مقامی باشندوں میں دشمن سے مقابلہ کی طاقت نہ ہو، اسی طرح ان کے شہر، ان کی جانیں، ان کی اولاد خطرہ میں پڑ جائیں ،تو پوری اُمت پر یہ فرض ہے کہ دشمن کے مقابلہ کے لئے سینہ سپرہوجائیں، تاکہ دشمن کی دست درازی کوروک دیا جائے اور یہ ایک ایسا مسئلہ ہے کہ پوری امت اسپرمتفق ہے اس لئے کہ مسلمانوں میں سے کسی ایک کا بھی ایک ایسا قول نہیں کہ ایسی حالت میں مسلمانوں کے لئے جہاد چھوڑ کر بیٹھے رہنا جائز ہوگا کہ دشمن مسلمانوں کاقتل عام کرتے رہیں اور ان کے اہل وعیال کو قید کر کے ان سے غلاموںجیسا برتائو کرتے رہیں‘‘۔(احکام القرآن )‘‘

’’اُس صورت میں جب کہ کفار کسی مسلم علاقے پر ہلّہ بول دیں تو اس وقت مسلمانوں کے ہر فرد پر جو قدرت و استطاعت رکھتا ہو، جہاد فرض عین ہوگا۔

دلیل اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
انفرواخفافا وثقالا (التوبۃ)

’’نکلو جہاد کے لیے ہلکے ہو یا بوجھل‘‘

(کچھ آگے چل کر اس کا حکم یوں بیان کرتے ہیں) چنانچہ اس جہاد میں غلام آقا کی اجازت کے بغیر، عورت اپنے شوہر کی اجازت کے بغیر حصہ لیں گے اور اسی طرح اولاد اپنے والدین کی اجازت کے بغیر جہاد فی سبیل اللہ کے لئے نکلے گی‘‘۔(بدائع الصنائع)

ان تمام عبارات سے یہ بات مکمل واضح ہو رہی ہے کہ کشمیر کے مسلمانوں نے ایمانی غیرت اور دینی تقاضے کی بنیاد پر کفر کی غلامی قبول کرنے کے جو انکار کیا ہے اور اپنی آزادی کے لئے ہتھیار اٹھایا ہے ان کا یہ عمل’’جہاد فی سبیل اللہ‘‘ ہے اور چونکہ انہوں نے ہم سے مدد مانگی ہے اس لئے قرآن و حدیث کی ان واضح نصوص کی رو سے ہم پر ان کی مدد لازم ہے۔ہم یہ مدد کس طرح کر سکتے ہیں اس کا منہج بھی آپ کو اسلاف کے الفاظ میں ہی بتا دیتے ہیں۔

امام قرطبیؒ لکھتے ہیں کہ’’ اگرسب لوگ جہاد سے روگردانی کرنے لگیں تو اکیلاآدمی کیا کرے؟یعنی اگراکثرلوگ جہاد چھوڑچکے ہوں (نعوذباللہ) توجوآدمی اس آیت پرعمل کرنا چاہے تواس کے لئے کیاطریقہ ہے جواب میں ارشاد فرماتے ہیں کہ وہ فدیہ دے کر کسی ایک مسلمان قیدی کو آزاد کرائے اور اگر خود جہاد کرسکتاہو توخود لڑے ورنہ جولوگ جہاد کررہے ہوں ان تک سامانِ جہاد لے جائے۔‘‘ (قرطبی)

کشمیر کی تحریک کو جہاد ثابت کرنے اور ہم پر عائد فرض کی نشاندہی کے لئے اتنی موقر شہادات کافی نہیں؟

کتنی عجیب بات ہے کہ بہت سے لوگ ابھی تک جس عظیم جہاد کی شرعی حیثیت کے بارے میں شکوک و شبہات میں مبتلا ہیں امت کے اہل علم اسے اس ’’غزوۃ الہند‘‘ کا مصداق قرار دے چکے ہیں جس کی بشارت حضرت آقا مدنی ﷺ نے دی اور حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے اس میں شرکت کی تمنا فرمائی۔لیجیے! اس موضوع پر آخری موقر شہادت…

دور حاضر کے سب سے بڑے محقق عالم دین شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر قدس سرہ اپنے رسالہ’’شوقِ جہاد ‘‘ میں تحریر فرماتے ہیں:

’’مختلف زمانوں میں متعدد غازیوں نے ہندوستان کے ساتھ جہاد کیا ہے، جو سب اس حدیث کی بشارت کے بحمداللہ مستحق ہیں اور اس وقت بھی ہندوستان کے خلاف لڑنے والے مجاہدینِ اسلام اس صحیح پیش گوئی کے حقدار ہیں کیونکہ اس وقت ہندوستانی فوجیں اور جنگجو حکام اپنی تعداد اور اسلحہ کی کثرت کے گھمنڈ میں جو مظالم نہتے مسلمانوں پر روا رکھ رہے ہیں اور زندہ مسلمانوں کو جلا رہے ہیں۔ جن میں معصوم بچے اور صنف نازک (خواتین) بیشتر ہیں اور جس طرح ان کی املاک کو نقصان پہنچایا جارہا ہے، (یہ سب) مسلمانوںکے لئے ایک بہت بڑا المیہ ہے اور اس جہاد میں شرکت ان کی مذہبی غیرت کا اولین تقاضا ہے۔‘‘

’’مجاہدین اسلام کی جس جماعت نے کشمیر، مشرقی پاکستان اور دیگر علاقوں کے مظلوم مسلمانوں کی آزادی حاصل کرنے اور اس کو برقرار رکھنے کی خاطر ہندوستان سے جہاد کیا تو اللہ تعالیٰ اس کا صلہ ان کو یوں عطاء فرمائیں گے کہ ان کو جہنم کی آگ سے رہائی اور آزادی کا پروانہ مرحمت فرمائیں گے بلکہ اس کا وعدہ وہ کرچکے ہیں۔ اب ضرورت ہے قدم بڑھانے کی اور ان شاء اللہ تعالیٰ:

اٹھیں تو گردش دوراں قدم بوسی کو حاضر ہو

بڑھیں تو لشکر کفار پر تیغ رواں ہم ہیں

(شوقِ جہاد :۲۷، ۲۸)

٭…٭…٭
مؤقر شہادت (۲)

السلام علیکم..طلحہ السیف (کشمیر 433)

محمد افضل گورو شہیدؒ ہمیں اپنی کتاب ’’آئینہ‘‘ میں جگہ جگہ واضح انداز میں دکھاتے اور سمجھاتے ہیں کہ:

’’تحریک آزادی کشمیر‘‘ محض ایک سیاسی تحریک نہیں’’شرعی جہاد‘‘ ہے،اس تحریک کی بنیاد بھی سیاسی نہیں دینی ہے اور اس کا انداز بھی جہادی ہے سیاسی نہیں۔کشمیر کے لوگ ہندوستان سے کیوں بیزار ہیں؟وہ اس سے نجات کیوں چاہتے ہیں؟محمد افضل گورو ہمیں بتاتے ہیں کہ ہندوستان کا رویہ کشمیریوں کے ساتھ حاکمانہ ہے۔وہ کشمیری قوم کو برابری کی سطح پر اپنے ساتھ تو نہیں رکھنا چاہتا اور نہ ہی جمہوری انداز میں۔بلکہ وہ اس قوم کو غلام بنا کر اپنے تسلط میں رکھنا چاہتا ہے۔ اور غلامی سے نفرت ایک ایمانی جذبہ ہے۔اس ایمانی جذبے کے تحت اہل کشمیر نے ہمیشہ غلامی کو مسترد کیا۔وہ گلاب سنگھ کی غلامی ہو، ہری سنگھ کی یا پنڈت نہرو کی۔اس لیئے جس نے بھی اور جس انداز میں بھی غلام بنائے رکھنے کی کوشش کی کشمیری عوام اس کے خلاف نکلے ہیں اور مزاحمت کی ہے۔مومن کبھی انسانوں کی غلامی پر راضی نہیں ہو سکتا چہ جائے کہ کفر کی غلامی قبول کرے۔جو دل غلامی پر رضامند ہو اس میں ایمان کی کمی ہے۔شہید افضل گورو بھی اپنی قوم کو یہی ایمانی تقاضا یاد دلاتے ہیں اور غلامی سے نفرت ان کے دل میں جگانے کی کوشش کرتے ہیں۔

’’ انسان آزاد پیدا ہوا اور اسکو آزاد رہنے کا حق اللہ پاک نے دیا ہے، غلامی ذلت اور موت ہے بلکہ موت سے بدتر۔ اہل ایمان غلام نہیں ہو سکتے اور جو غلامی پر مطمئن ہے اس میں ایمان کا آخری درجہ جو ذرہ برابر ہوتا ہے وہ بھی نہیں کیونکہ غلامی اور گناہ و بدی کی نفرت دل میں ہوناایمان کا آخری درجہ ہے۔ جب ایمان ہی نہیں تو پھر زندگی کا کیا مطلب؟ ہر چیز کی ایک حقیقت ہوتی ہے پھول کی حقیقت خوشبو، آگ کی حقیقت گرمی، برف کی حقیقت سردی۔ دین و ایمان کی بھی حقیقت ہے، حیاء اور غیرت ایمان سے ہے، سادگی ایمان سے ہے، راستے سے پتھر یا رکاوٹ ہٹانا ایمان کی آخری حقیقت ہے۔ اگر ہم بھارتی فوج کی موجودگی سے پریشان نہیں، اگرہم ان کے ساتھ دل سے ہنس کر بات کرتے ہیں اگر ہم اپنے ارادہ اور اختیار کے ساتھ ان سے مطمئن ہیں تو ہمارے دل میں ایمان کا آخری درجہ بھی موجود نہیں۔ جنہوں نے ہماری ایک نسل کو ختم کیا ہماری ماؤں، بہنوں کی عزت و عصمت تارتار کی، ہمارے گھروں باغوں ہمارے مال کو تباہ کیا، جو ہماری جان، مال اور عزت کے ساتھ کھیل رہے ہیں، ان ساتھ رہنے میں جو کراہت، بے چینی اور پریشانی محسوس نہیں کر رہا اس میں ایمان کا آخری درجہ بھی موجود نہیں۔ غداروںکے ساتھ زندہ رہنا ہی غداری ہے۔‘‘ (آئینہ ۸۶)

اس غلامی سے نجات کا راستہ کیا ہو گا؟

وہ اپنی قوم کو اخلاص کا درس دیتے ہیں،جذبہ جہاد ان کے دل میں بیدار کرتے ہیں،انہیں شہداء کرام کے مثالی کردار کی طرف متوجہ کرتے ہیں،وہ انہیں جہاد کی پوری ترتیب سمجھاتے ہیں اور یہ یقین ان کے دلوں میں بٹھاتے ہیں کہ جہاد،جہاد اور صرف جہاد ہی اس منزل کے حصول کا راستہ ہے جس کے سفر میں لاکھوں اہل ایمان اپنی جانیں وار چکے ہیں۔

ہم افضل گورو شہید سے جہاد کشمیر کا مکمل لائحہ عمل لیتے ہیں۔

سب سے پہلا قدم ہوا غلامی سے نفرت و بیزاری۔ اس کے بارے میں آپ نے ان کی دردمندانہ دعوت پڑھ لی۔اس کے بعد اس بات کا یقین کہ غلامی کی یہ زنجیر صرف اور جہاد سے ہی ٹوٹ سکتی ہے۔

’’جہاد کشمیر اب ناگزیر (Indespensable) بن چکا ہے۔ پچھلے بیس20 سالوں کے دوران بھارت کی سامراجی مکاری، چانکیا کی سیاسی پالیسی، برہمنیت و فرقہ پرستی پر مبنی بیوروکریسی، فوج، خفیہ ادارے وغیرہ ان کے پروگرام و پالیسیاں ISI، پاک فوج اور پاکستانی حکمرانوں کا منافقانہ، بزدلانہ رویہ، مسئلہ کشمیر کے متعلق ٹھوس و یقینی پالیسی کا فقدان، نام نہاد کشمیری علیحدگی پسندوں کا جہاد اور شہداء کے مقدس لہو کی توہین و تذلیل کرنا، جہاد کو گاندھی و کرزئی واد، مسخرہ پن، غنڈہ گردی کی طرف دھکیل دینا… وغیرہ وغیرہ۔

یہ سب عوامل اور حقائق سامنے آتے رہے۔ ان تمام عوامل (Factors) اور وجوہات (Reasons) اور حقائق(Facts) کا تقاضا ہے کہ اب عسکری تحریک مزاحمت (جہاد کشمیر) کو ٹھہر کر ایک نیا رخ، ایک نئی پالیسی، ایک نیا پروگرام مرتب کر کے، قابل فہم، قابل یقین، قابل عمل اور قابل حصول روڈ میپ اور خاکہ تیار کر کے، مقاصد اور اہداف کو ترتیب دے کر عملی میدان میں آنا ہوگا…

سانحہ شوپیاں، امر ناتھ زمینی معاملہ، پرامن عوامی جلسوں پر گولیاں برسانا، چھوٹے چھوٹے بچوں کو گولیوں کا نشانہ بنانا، بچوں کو P.S.A جیسے قانون کے تحت بند کرنا، پانی، جنگل وغیرہ وسائل پر فوجی غاصبانہ قبضہ وغیرہ ان سب کا اصولی، اخلاقی اور شرعی تقاضا اور مطالبہ ہے…’’جہاد‘‘…عسکری مزاحمت…مکمل مزاحمت… جب تک سامراجی، بھارتی قابض و ظالم فوج کشمیر سے نکل نہ جائے…

اس وقت کشمیر کے چپے چپے، گلی گلی، پہاڑوں و میدانوں میں بھارتی فوج نہ صرف زمین اور زمینی وسائل بلکہ ہمارے مال، جائیداد، ہمارے گھروں اور اہل خانہ پر قبضہ کیے ہوئے ہے… یہ لڑائی اب پہنچتے پہنچتے ہماری بیٹی، ماں اور بہن کی عزت وعصمت بچانے کی لڑائی بن چکی ہے، ایمان غیرت سے ہے اگر غیرت نہیں تو ایمان نہیں۔ مسلمان کی جان ایمان میں ہوتی ہے نہ کہ خون میں۔ ایک ہی راستہ عسکری مزاحمت یعنی جہاد، جہاد کی مدد کرنا، جہاد کی حوصلہ افزائی کرنا، جہاد کے لیے تیاری، جہاد کا مکمل ارادہ، جہاد کے شعبے و مرتبے کی واقفیت۔ جہاں مسلمانوں کی جان، عزت، مال وغیرہ غیر محفوظ اور خطرے و خدشات میں گھرے ہوئے ہوں وہاں دو ہی (Option) ہیں، ہجرت یا مزاحمت (جہاد) ہجرت کے لیے مدینہ نہ مدینہ والے۔ لہٰذا جہاد واحد راستہ ہے۔ جہاد کا ارادہ جہاد ہے۔ جہاد کی تیاری جہاد ہے۔ جہاد کے لیے بچوں اورجوانوں کا حوصلہ بڑھانا جہاد ہے۔ مجاہدین،شہداء اور قیدیوں کے اہل خانہ کی مدد کرنا جہادہے۔ جہاد کے لیے مال دینا جہاد ہے۔ جہاد کو جہاد سمجھنا جہاد ہے۔ مجاہدین کے لیے دعا کرنا جہاد ہے۔ ظالموں اور جابروں سے نفرت کرنا جہاد ہے… جہاد کے درجے، جہاد کے مرتبے، جہاد کے راستے، جہاد کے طریقے، جہاد کے میدان مختلف ہیں، وہ دن گئے جب جہاد کا اعلان ہوتا تھا جہاد کے لیے مجاہد کسی مقام پر جمع ہوتے تھے، جہاد کے لیے قافلے تیار ہوتے تھے۔ اب تو اہل ایمان کے لیے ہر جگہ میدان کربلا ہے، اور ہر دن عاشورہ ہے، ہر شام شامِ غریباں،حسینیؓ ادا چاہیے، حسینیؓ دل چاہیے، عشق رسول ﷺ شوق شہادت چاہیے…

قتل حسینؓ اصل میں مرگِ یزید ہے

اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد

اس وقت کشمیری لوگوں سے ان کا دین و ایمان مطالبہ اور تقاضا کر رہا ہے کہ وہ اپنی صلاحیت، طاقت، مال و جائیداد کو جہاد کے لیے وقف کریں، اپنے آپ کو فکری، روحانی اور جسمانی طور پر جہاد میں شامل کریں۔ مسلمان کی جان خون میں نہیں ایمان میں ہے۔ جنت کا مختصر، صاف ستھرا، یقینی اور سیدھا راستہ جہاد ہے۔ حضورﷺ نے فرمایا:’’ایک تیر سے تین آدمی جنت میں جائیں گے بنانے والا،دینے والا، اور چلانے والا۔‘‘ مجاہد کے گھوڑے کی لید کا وزن بھی مجاہد کے حق میں ثواب و جزا کا باعث ہوگا… جہاد عظیم عبادت ہے یہ مؤمن و ملت کو عظمت بخشتا ہے…‘‘ (آئینہ ۱۴۰)

پھر وہ جذبہ جہاد سے سرشار ہو جانے والے نوجوان کو شہداء کرام کے مقدس خون اور ان کے پاکیزہ کردار کی طرف متوجہ کرتے ہیں۔تاکہ وہ ان کا کردار بھی اپنائے اور ان کے خون کی امانت کا بھی پاس رکھے۔اس کے لئے وہ ایک کشمیری نوجوان سید آفاق شاہ شہیدؒ کو معیار اور مشعل راہ بناتے ہیں اور کشمیری نوجوان کو اس کے راستے کی طرف بلاتے ہیں۔شہید آفاق شاہؒ نے جہاد کشمیر کو ایک نئی جہت اور تحریک کشمیر میں سب سے پہلا فدائی حملہ کیا تھا۔

’’ نوجوانانِ کشمیر! ہمیں شہید آفاق شاہ کا طرز عسکریت اپنانا ہوگا۔ شہید آفاق شاہ شہید غازی بابا کا مرید او ر شاگرد ایک پراسرار 20 سال کا نوجوان شہر سری نگر کا مرد مؤمن غازی باباؒ کی پراسرار و وجدانی نظر اس نوجوان کو سیدھا جنت ’’ملا ء اعلیٰ‘‘ تک لے گئی۔ اس نوجوان نے جہاد کشمیر کی تاریخ میں ایک نئے باب، ایک نئے طریقے، ایک نئی عاشقانہ ادا کو جنم دیا، بھارتی قابض و ظالم فوج کے مرکزی ہیڈکوارٹر بادامی باغ میں 25سے 30بھارتی فوجیوں کے پرخچے اڑا دئیے اور خود سیدھا جنت میں جا پہنچا۔اس پاکیزہ 20 سال کے نوجوان نے کوئی سرحد پار نہیں کی کوئی ٹریننگ نہیں کی تھی۔ اس کے دل میں طلب و تڑپ تھی۔ اس شہر سری نگر کے نو عمر 20 سال کے نوجوان نے شہادت کے ذریعہ زندگی کی سچائیوں کو اپنے وجدانی تجربوں سے ہمیں آگاہ کیا۔

دو عالم سے کرتی ہے بیگانہ دل کو

عجب چیز ہے لذتِ آشنائی

اس نوجوان کو کشمیر میں ظالم فوجی قبضہ پسند نہیں تھا، اس نوجوان سے ملت کا غم، ملت کی توہین دیکھی نہیں جاتی تھی یہ نو جوان پاک نظر اور پاک دل کا مالک تھا۔ مرید کی طلب و تڑپ پیر و مرشد کو کھینچ لائی، یہ ایک وجدانی و روحانی معاملہ ہے۔ بہر حال غازی بابا پنے چند نوجوانوں سے مشورہ کیا ان کے دل کی کیفیت جاننی چاہی یہ معصوم20 سال کا نوجوان، اس ملت کا پھول کھڑا ہو گیا، شہادت کے مشن کے لیے اپنے آپ کو پیش کیا، اس نوجوان نے غازی بابا کو حیرت میں ڈال دیا۔

کیونکہ اس نوجوان کو عرش پر سے ملاء اعلیٰ کی روحانی طاقت و تاثیر چھو چکی تھی۔ یہ 20 سال کا نوجوان غازی بابا 35سال کا مرشد۔ آفاق شہید بابا کی طرف لپک کر گیااور آنسو جاری ہو گئے۔ مرید نے مرشد کا دامن اپنے موتیوں جیسے آنسوؤں سے تر کر دیا، مرشد بھی رو پڑا پوری مجلس رو پڑی عرش اعلیٰ پر قبولیت کا سامان پیدا ہوگیا۔ آفاق شاہ فرزندانِ ملت کا ایک فرد چھوٹی گاڑی میں سوار ہوا ظالم بھارتی سامراجی فوج کے ہیڈکوارٹر پہنچ گیا۔ ہاتھ بٹن پر زبان پر کلمہ توحید ہونٹوں پر کلمہ توحید… ایک زور دار دھماکہ 25سے 30 فوجیوں کی لاشیں زمین پر… آفاق شاہ کی روح عرش اعلیٰ پر… اللہ اکبر!بھارتی خفیہ اداروں کی نیندیں اڑ گئیں۔ بھارت نواز حکمرانوں کاچین اڑ گیا۔ ایک نئی ابتداء، ایک نئی ادا، ایک نیانعرہ…

کشمیر کے سنگ بازو! (stone-pelterr) آفاق شاہ اور اس کے مرشد غازی بابا کے مقبروں کی زیارت کرو اپنے دل کی گہرائیوں کو جانچ لو، جھنجھوڑ دو، اپنے دل، ضمیر اپنی روح کی طرف متوجہ ہو جاؤ۔‘‘(آئینہ ۸۴)

’’شہداء کی زندگی، ان کا کردار، ایثار، جذبہ قربانی جذبہ شہادت ایک ایسی زندہ عملی مثال ہے جس سے اہل ایمان کو سبق حاصل کرنا چاہیے۔ انسان کے پاس سب سے قیمتی اور پسندیدہ شے انسان کی اپنی جان ہوتی ہے جب ایک مؤمن اسی جان کو اللہ کی راہ میں خرچ کرتا ہے اس سے بڑا ایمان کی حقیقت جاننے کا کیا ثبوت ہو سکتا ہے۔ ’’اللہ پاک نے اہل ایمان کی جانوں اور مالوں کو جنت کے بدلے خریدا ہے‘‘ جب تک انسان اپنی جان اور اپنے مال کو اللہ کی راہ میں قربان کرنے کے لیے تیار نہیں ہو تا اس کے دل میں دین کا صحیح مفہوم اور معرفت حاصل نہیں ہو سکتی۔ اعتماد و اعتبار والے آدمی کے حوالے ہی قیمتی شے رکھی جاتی ہے، معرفت الہٰی اور دین کی حقیت اپنا گھر ان ہی دلوں کو بناتی ہے جن میں صرف اللہ کا خوف اور محبت موجود ہو… جذبہ جہاد و شہادت کے بغیر انسان کا دل نفاق سے پاک نہیں ہو سکتا۔‘‘ (آئینہ ۱۰۹)

وہ خود اس راستے پر شہداء کرام کے کردار سے ہی متاثر ہو کے آئے اور پھر لگے رہے تاوقتیکہ انہی کے قافلے میں شامل ہو گئے۔وہ اپنے دل میں جذبہ جہاد اور شوق شہادت کی شمع کا راز سی کو بناتے ہیں۔

’’ شہید شارق بخشی، شہید غازی بابا، شہید راشد بھائی، شہید شبیر احمد ڈار، شہید آفاق شاہ، شہید ارسلان (محمد) وغیرہم کے کردار، ایثار، قربانی، جذبہ جہاد اور شوق شہادت سے میرے دل میں رعنائی پیدا ہوئی… اخلاص سے بھرپور، شباب و کردار بے داغ…

وہی جواں ہے قبیلے کی آنکھ کا تارا

شباب جس کا ہو بے داغ ضرب ہو کاری

شہداء کے کردار کو بیان کرنا مشکل ہے ان کے کردار، ان کے جذبات واحساسات، ان کی طبیعت و رجحانات میں روحانی و وجدانی تاثیر ہوتی ہے اس تاثیر (Rffect)کو صرف محسوس کیا جا سکتا ہے، اس تاثیرکی چاشنی (Sweetness) کو الفاظ میں بیان کرنا مشکل ہے ، بقول ہلین کلر:

“The most beautiful things of life can not be seen or even touched they must be felt by heart”

اللہ پاک اس دنیا میں ہی شہداء کے دلوں کو ایمان اور یقین کی روشنی سے منور و معطر کر دیتا ہے۔ ان کی حق پر استقامت، عدل وانصاف سے محبت اور ظلم و جبر سے نفرت ان کے ایمان کی زندہ نشانی ہوتی ہے۔ ان کے دلوں میں باطل کا ڈر و خوف نہیں ہوتا کیونکہ ان کے دلوں میں صرف ایک اللہ کا خوف ہوتا ہے۔ وہ اللہ کی محبت سے سر شار ہوتے ہیں۔ ان کو اللہ کے وعدوں کا مکمل یقین ہوتا ہے وہ اس دنیا کی چیزوں کے ساتھ دل لگانا حقیر سمجھتے ہیں۔ وہ صرف اللہ کے احکام و قوانین کی پیروی کرنے میں مصروف رہتے ہیں۔ وہ اپنے حقوق سے دستبردار ہو کر صرف اللہ کے بندوں کے حقوق پورے کرنے میں اپنی طاقت و صلاحیت کو صرف کرتے ہیں… میں نے یہ کردار شہداء میں دیکھا… شہداء کا اخلاص ایسی سطح و مقام تک پہنچ چکا ہوتا ہے جہاں وہ کسی بھی نظر سے اوجھل نہیں ہو سکتا، شہادت کی تمنا سے فرد و قوم کو زندگی ملتی ہے۔‘‘(آئینہ ۱۲۴)

اس ساری دردمندانہ دعوت کا خلاصہ انہوں نے انتہائی جامع الفاظ میں اپنی قوم کے سامنے رکھ دیا ہے کہ اب وہ اس کی روشنی میں اپنے لئے راستے کا انتخاب کرے۔

’’ہمارے پاس پچھلے ۲۰ سالوں سے الحاق اور خود مختار کشمیر بذریعہ اقوام متحدہ کی قرارداد کا نعرہ سامنے رہا جو کہ نہ صرف غیر حقیقی اور غیر عملی ہیں بلکہ گمراہ کن بھی ہے پاکستان نے آج تک اپنے قبضے والے کشمیر کو اس حق کا 5%بھی نہیں دیا جس حق کے لئے وہ ہماری بات کرتا ہے لہٰذا جس طرح بھارت قابض ہے اسی طرح وہ بھی اصولی، اخلاقی اور عملی طرح قابض ہے، اب رہی ہماری تحریک کی مدد… اس کا محرک اور اصلی سبب دینی اور جذباتی و روحانی ہے جو ایک مسلم مؤمن کو دوسرے مؤمن بھائی کے لئے ہوتا ہے پاکستان کے ۱۱ ہزار سے زیادہ شہداء کی قربانی کا محرک جذبۂ دینی تھا اور دینی ہے، یہ جذبہ اور یہ وابستگی اور یہ تعلق ازلی و روحانی ہے اس میں سیاسی و جغرافیائی عناصر کا کوئی وجود ہی نہیں ہے۔ جہاں تک خود مختار کشمیر کا جھنڈا تھامنے والوں کا معاملہ ہے ان کو امریکہ و یورپ اور پاکستان سے بھی ذریعہ معاش، اسباب زندگی اور سامان عیش، نام و نمود فراہم ہوتا ہے، شہید مقبول بٹ صاحب کی فکر اور تحریک کو گاندھی واد میں تبدیل کر کے قوم کے نوجوانوں کی فکر و توانائی کو غلط راستوں پر لگا کے تحریک کو مسخ کر رہے ہیں… ہمارے پاس ایک جذبہ، ایک خواہش، ایک خواب، ایک امید ہے جس کو ہم نے آزادی نام دیا ہے، لیکن اس جذبے اور مقصد کی نہ تعریف (Definition) ہمارے پاس ہے نہ تشریح و وضاحت (Explaination) نہ اس کے لئے کو ئی روڈ میپ یا تحریکی خاکہ، نہ تحریکی آئین (Constitution) نہ کوئی سمت (Direction) نہ کوئی پروگرام و پالیسی، جو اس جذبے کی قابل فہم و یقین اور قابل عمل ترجمانی کرتا… جن کا ہونا تحریک شروع کرنے سے پہلے ضروری ہے، ہمارا سارا انحصار بیرونی طاقت و مدد پر ہے اس لئے وہ طاقت جس طرح چاہتی ہے ہمیں گھما رہی ہے… چونکہ جذبہ آزادی اتنا قوی اور مضبوط، اتنا جائز و مناسب، اتنا ضروری اور ناگزیر کہ یہ جذبہ ہی اب ہماری زندگی کا سامان زندگی بن چکا ہے، یہ جذبہ آزادی ہماری رگوں اور نسوں میں خون اور احساس کی طرح دوڑ رہا ہے، ہم اس جذبے، اس احساس اور فکر کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتے، یہ جذبہ آزادی جس کی خاطر ایک لاکھ سے زیادہ جانیں قربان ہوگئیں، ہزاروں عصمتیں تارتار ہوئیں، ہزاروں گھر لٹ گئے، ہزاروں لوگ زندانوں کی نذر ہوگئے… لیکن یہ جذبہ، یہ احساس یہ خواہش بڑھتی ہی جا رہی ہے… یہ جذبہ، یہ احساس، یہ فکر جس کا نام آزادی ہے یہ نسل در نسل منتقل ہو رہی ہے… اہل ملت اور میرے عزیز وطن کے محترم و عزیز دانشورو! اے اہل علم، اہل رائے، اہل دل! اب ان نوجوانوں کے اسی قومی و ملی جذبے و احساس کو وہ خاکہ وہ روڈ میپ وہ سمت وہ مقصد و ہدف دے دو جس پر چل کر اس قوم و ملت کا یہ نوجوان اپنے ہدف کی طرف یقین و اطمینان کے ساتھ چلتا رہے، بے یقینی، لا علمی، اضطراب میں نماز بھی ادا نہیں کی جاسکتی تو جہاد کو کیسے ادا کیا جا سکتا ہے؟ لہٰذا یقین و علم کے ساتھ ہی جہاد و تحریک جاری رہ سکتی ہے۔‘‘(آئینہ۲۱۸)

ان ساری باتوں کے بعد میرے خیال سے ان لوگوں کے پروپیگنڈے کا بطلان بہت اچھی طرح ہر مسلمان پر واضح ہو جانا چاہیے جو دن رات یہ کہتے رہتے ہیں کہ جہاد کشمیر کی بناء دینی نہیں سیاسی ہے۔اہل کشمیر خود بتا رہے ہیں کہ انہوں نے یہ تحریک ایک دینی نظریے کے تحت برپا کی ہے اور اسی فکر کو لے کر وہ ہر قربانی دے رہے ہیں۔اس سلسلے میں ایک موقر شہادت جناب سید صلاح الدین صاحب کا مظفر آباد میں افضل گورو شہیدؒ کانفرنس میں کیا جانے والا بیان بھی ہے۔انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں یہ بات واضح کی کہ تحریک آزادی کا مقصد اعلاء کلمۃ اللہ ہے۔ہم آزادی اسلام کے لئے چاہتے ہیں،ہمارا مطمح نظر یہ ہے کہ ہماری قوم آزاد ہو کر اسلام کے احکام کے تحت زندگی گزار سکے۔جن حضرات نے یہ بیان سننا ہو وہ ’’القلم‘‘ کی ویب سائٹ پر آ کر سن سکتے ہیں۔سید صاحب کشمیری قوم کے نمائندے ہیں اور ایک عملی مجاہد ہیں ،اپنی قوم کی طرف سے ان کی گواہی ایک سند کی حیثیت رکھتی ہے۔اس کے بعد اس سوال اور شبہے کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہ جاتی۔

اور پھر جب اس تحریک کا ’’دینی‘‘ہونا ثابت ہو گیا تو اس کے سلسلے میں اب ہمارا فرض کیا ہے؟

یہ قرض اگلے شمارے میں اتاریں گے ان شاء اللہ

٭…٭…٭
مؤقر شہادت (۱)

السلام علیکم..طلحہ السیف (کشمیر 432)

غدار ملت پرویز مشرف کا منحوس دور،ہمارے ملک و قوم کے لئے بڑی بڑی تبدیلیاں لے کر آیا تھا۔
کئی ایسے معاملات جو ہمارے ہاں حساس شمار ہوتے تھے اور قومی غیرت کا مسئلہ سمجھے جاتے تھے ان پر قومی پالیسی ہی یکسر تبدیل ہونے لگی اور قوم اپنے پرانے موقف سے یوٹرن لیتی نظر آئی۔ان معاملات میں سر فہرست ’’کشمیر‘‘ کا معاملہ ہے۔کشمیر میں جاری تحریک آزادی اور جہاد ہمارے ہاں غیر متنازعہ ترین مسائل میں سے تھے۔تقریباً ایک موقف کے ساتھ پوری قوم اس حوالے سے یکسو تھی۔لوگوں کے اذہان میں کسی قسم کا کوئی اشتباہ نہیں تھا،کسی سطح پر اس بارے میں کوئی بڑا اختلاف نہیں تھا۔اس تحریک کو ایک مقدس جہاد مانا جاتا تھا۔اس میں حصہ لینے والے لوگوں کو معاشرے میں بڑی قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا،ان تنظیموں کے بارے میں تقریباً ہر شخص نیک خیالات رکھتا تھا جو جہاد کشمیر میں عملی طور پر برسرپیکار تھیں۔سرکاری سطح پر بھی مسئلہ کشمیر کے حوالے سے ہمیشہ سخت موقف کا اظہار کیا جاتا تھا۔فوج میں بھی اس حوالے سے کوئی دو رائے نہیں تھیں۔صحافت بھی اس موقف کے ساتھ متفق تھی اور اہل علم کا موقف بھی اس باب میں یہی تھا۔

لیکن پرویز مشرف نے جونہی ایک سوچی سمجھی پالیسی کے تحت ہندوستان کے ساتھ’’غلامانہ‘‘ روابط کا سلسلہ شروع کیا ہر طرف بدلاؤ نظر آنے لگا۔سب سے پہلا وار ان تنظیموں کو ’’کالعدم‘‘ اور ’’دہشت گرد‘‘ قرار دے کر کیا گیا جو جہاد کشمیر میں سرگرم تھیں۔ ان پر پابندی لگائی گئی،گرفتاریاں کی گئیں، کارکنوں کو ڈرایا دھمکایا گیا۔ان جماعتوں کی دعوتی سرگرمیوں پر قدغن لگا دی گئی۔اس کے بعد میڈیا کو استعمال کر کے ان لوگوں کی کردار کشی ایک منظم مہم کی صورت میں کئی گئی جو اس حوالے سے قوم کو ایک موقف پر جوڑے ہوئے تھے۔اگلا وار یہ کیا گیا کہ سرکاری سرپرستی میں’’جہاد‘‘ کے معنی اور مفہوم کو بدلنے کی مہم چلائی گئی،برساتی مینڈکوں کی طرح ایسے دانشور ہر کونے کھدرے سے نکل آئے جنہوں نے کورس میں یہ راگ الاپنا شروع کر دیا کہ ’’جہاد‘‘ کا معنی لڑائی نہیں ہوتا وغیرہ وغیرہ۔انہیں ٹی وی چینل مہیا کیے گئے، سرکاری فنڈ دیے گئے اور ہر طرح سے اپنا نظریہ پھیلانے کا کھلا موقع فراہم کیا گیا۔خود پرویز مشرف اپنی تقریروں میں یہی بات کہتا تھا اور پھر دن رات اس کے چھوڑے ہوئے اسکالر اسی بات کو دہرا دہرا کر عوام کے ذہنوں میں بٹھاتے رہتے۔ساتھ ساتھ اس بات کا مکمل التزام کیا جاتا رہا کہ ’’کتے آزاد رہیں اور پتھر پابند‘‘ ایسی کوئی زبان یا قلم آزاد نہ ہو جو اس باطل مہم کو توڑ کر سکے اور حقیقی اسلامی موقف سے لوگوں کو آگاہ کر سکے۔اس کے علاوہ اس نے ہندوستان کو لائن آف کنٹرول پر غیر قانونی باڑ لگانے کی نہ صرف کھلی چھوٹ دے دی بلکہ اس باڑ کو ہر طرح کا تحفظ فراہم کرنے کی بھی ذمہ داری اٹھالی۔مجاہدین کے لئے سخت انتظامات کئے گئے کہ باڑ کے قریب بھی پھٹکنے نہ پائیں۔اسی طرح کشمیر میں موجود مجاہدین کی سپلائی لائن مکمل طور پر کاٹ دی گئی اور انہیں ہر طرح سے بے دست و پا کر کے بھارتی افواج کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا۔یوں اس نے اندر اس تحریک کی جڑ کاٹ دی جس نے ایک طویل عرصے سے ہمارے بدترین دشمن کو الجھا کر ہمیں اس کے برے عزائم سے محفوظ رکھا تھا۔پھر بھارت سے دوستی،اچھے تعلقات ،دائمی جنگ بندی جیسے فارمولے متعارف کرائے اور ان کے حوالے سے قوم کو سبز باغ دکھا کر پرانی پالیسی اور سوچ سے انحراف کی راہ پر لگایا۔لوگ ہر اس شخص کو دشمن اور نقصان دہ گرادننے لگے جو ہندوستان کی اصلیت آشکار کرتا اور اس پالیسی کا غلط ہونا بتاتا۔اور ایک غلیظ وار اس نے یہ کیا کہ کشمیر کے وہ لیڈر جو ’’جہاد‘‘ مخالف تھے ان کو بار بار پاکستان بلوایا،سرکاری خرچ پر سیمینار کرنے کا موقع دیا اور میڈیا تک کھلی رسائی دی۔
انہوں نے اس بات کا خوب پرچار کیا کہ جہادی سوچ اور فکر نے تحریک آزادی کشمیر کو نقصان پہنچایا ہے۔کشمیر کے عوام جہادی سوچ کے حامل نہیں نہ وہ ہندوستان سے لڑائی کے قائل ہیں۔جہادی نظریہ کشمیر میں باہر سے امپورٹ کیا گیا ہے۔کشمیری عوام مجاہدین کے ساتھ نہیں۔مسئلہ کشمیر ایک دینی نہیں محض سیاسی مسئلہ ہے اور سیاسی طریقے سے حل ہو گا وغیرہ۔پرویز مشرف کے دور حکومت میں ان لیڈروں نے پاکستان کے جتنے چکر لگائے اس سے پہلے ہندوستان نے انہیں اتنی آزادی کے ساتھ آنے جانے کی اجازت کبھی نہیں دی تھی اور نہ ہی اس کا دور گذر جانے کے بعد وہ اتنی کثرت سے آئے گئے۔یہاں تک ہوا کہ5 فروری کا دن جو 1990سے مسلسل یوم یکجہتی کشمیر کے نام سے سرکاری طور پر منایا جاتا ہے۔پرویز مشرف نے ہندوستان کے ساتھ یکجہتی کے اظہار کے لئے 2004میں اس کی تمام تقریبات معطل کر دیں اور یہ دن نہ منایا گیا۔
یہ وہ تمام اقدامات تھے جن کے ذریعے پرویز مشرف نے قوم کو اس متفقہ پالیسی سے گریز و انحراف کی راہ پر لگا دیا۔وہ خود تو آج اقتدار میں نہیں لیکن اس نے جو بری سوچ متعارف کرائی اور قوم کو اس کی طرف بلایا اس کے برے اثرات آج بھی ہر طرف پھیلے ہوئے نظر آتے ہیں۔آنے والی حکومتیں مسلسل اسی راہ پر گامزن ہیں اور اسی سوچ کو پروان چڑھا رہی ہیں۔کشمیر اور کشمیری عوام کو اسی طرح تنہا چھوڑا ہوا ہے۔جہاد کشمیر بلکہ مطلقاً جہاد کے بارے میں وہی نظریہ اور فکر پھیلائی جا رہی ہے، سرکاری پالیسیوں میں کوئی تبدیلی نہیں۔فوج اسی ڈگر پر چل رہی ہے جس پر پرویز مشرف نے اسے ڈالا۔باڑ کے بعد دیوار بنانے کی باتیں ہو رہی ہیں،پانی کے حوالے سے ہندوستان کے غاصبانہ قبضے پر مجرمانہ خاموشی جاری و ساری ہے اور عوام کو کشمیر کے حوالے سے پرویز مشرف والا سبق ہی پڑھایا جا رہا ہے۔
کیا کشمیری اپنے دیرینہ مسئلہ کا حل سیاسی طور پر حاصل کرنے کے حامی ہیں؟
کیا کشمیری لوگ ’’جہاد‘‘ نہیں کر نا چاہتے، یہ سوچ ان پر زبردستی مسلط کی گئی ہے؟
کیا کشمیری لوگ ’’جہاد‘‘ سے تھک چکے ہیں اور وہ مذاکرات کی میز پر بیٹھنا چاہتے ہیں؟
ان سوالات کے جوابات ہم سے زیادہ بہتر انداز میں کشمیری قوم کے نمائندے ہی دے سکتے ہیں اور انہوں نے دے دیا ہے۔ ہمیں پہلے ان سوالات کا سامنا نہیں تھا مگر پرویز مشرف کی محنت کی نحوست سے اب ہر سطح پر پوچھے جاتے ہیں۔گذشتہ سال دورہ تفسیر آیات جہاد کے دوران ایک عالم دین نے یہ اعتراض اٹھایا کہ ہماری معلومات کے مطابق کشمیر کے لوگ مجاہدین سے شدید متنفر ہیں، وہ نہیں چاہتے کہ مجاہدین یہاں آ کر لڑیں نہ وہ خود لڑنا چاہتے ہیں تو جو قوم آپ مدد کی خواہاں نہیں آپ اس کی نصرت کے نام پر جہاد کو کس طرح ضروری قرار دے سکتے ہیں۔اور اس اعتراض کی دلیل کے طور پر ان کے پاس انہی کشمیریوں لیڈرز کے بیانات تھے جن کا ذکر میں نے اوپر کی سطور میں کیا۔اس وقت تو ان عالم دین کو جواب عرض کر دیا وہ مطمئن بھی ہوئے اور ساتھ یہ بھی فرمایا کہ اب لوگوں کی اکثریت کا خیال یہی ہے جس کا اظہار میں نے ابھی کیا ہے۔
ہم ان باتوں کا جواب دیں تو لوگ خوامخواہ کی وکالت قرار دے کر رد بھی کر دیتے ہیں الحمد للہ اب اس کا شافی جواب کشمیریوں کی زبان و قلم سے ہی آپ کو مل جائے گا۔کشمیری قوم کے ایک مایہ ناز فرزند شہید ملت بھائی محمد افضل گورو شہیدؒ نے اپنی کتاب ’’آئینہ‘‘ میں جا بجا اس بات پر بڑے فاضلانہ انداز میں روشنی ڈالی ہے کہ مسئلہ کشمیر کی اساس سیاسی نہیں مذہبی ہے اس لئے یہ مسئلہ سیاسی انداز میں حل ہونا ممکن نہیں۔پھر ہندو کا چانکیائی سیاسی انداز ہرگز اس سوچ کے لئے کوئی گنجائش کوئی بنیاد اور کوئی دلیل باقی نہیں رکھتا۔
انہوں نے ’’جہاد‘‘ کے حوالے سے کشمیری عوام کی سوچ کو بھی بہت اچھے انداز میں واضح کیا ہے اور کردار کو بھی۔کشمیری لوگ مجاہدین سے کیسی والہانہ محبت رکھتے ہیں۔کیسی قلبی عقیدت و ارادت رکھتے ہیں اور کیسی وابستگی،اس کی جھلک آپ کو اس کتاب میں مل جائے گی۔افضل گورو شہیدؒ ایک اعلی عصری تعلیم یافتہ نوجوان تھے،وہ سیاسی تحریک سے بھی وابستہ رہے۔تقریباً ہر گھاٹ کا پانی پیا اور پھر خوب غور وفکر اور جانچ پرکھ کے بعد اس نتیجے پر پہنچے کہ ’’جہاد‘‘ اور صرف ’’جہاد‘‘ ہی اس مسئلے کا حل ہو سکتا ہے اور کوئی نہیں۔اس لئے وہ اپنی قوم سے مخاطب ہو کر انہیں پرزور انداز اور الفاظ میں یہ حقیقت سمجھانے کی کوشش کرتے ہیں۔انہی کے الفاظ میں ملاحظہ کریں:
’’وادیٔ کشمیر میں عسکری تحریک مزاحمت کو جاری رکھنا اب ناگزیر بن چکا ہے، عسکری تحریک کے ختم ہونے کا مطلب ہمارا وجود بحیثیت اہل ایمان کا خاتمہ۔ کیونکہ ہماری دینی زندگی اور ایمان کا تحفظ عسکریت کے بغیر قائم نہیں رہ سکتا، وادیٔ کشمیر میں سرکاری دہشت گردی اب ہر شعبے، محکمے، ادارے اور ہر میدان میں داخل ہو چکی ہے، عسکری مزاحمت کے لئے کوئی اٹھے یا نہ اٹھے قانون الٰہی اور قانون فطرت کا تقاضا ہے کہ یہ باطل کو زیادہ دیر برداشت نہیں کرتا۔ اگر قانون الٰہی کے مطابق باطل کا سر نہ کچلا جائے تو پھر عبادت گاہیں تک محفوظ نہیں رہ سکتیں۔ اس وقت ہمار ی جان، ہمارا ایمان، ہماری عزت و عصمت، ہمارا مال و جائیداد، ہر ایک چیز بھارتی فوجیوں کے رحم و کرم پر ہے ہمیں جہاد کو اپنی ہر صلاحیت، اپنا مال، اپنی جان اور اپنا سب کچھ دینا ہوگا۔ ہمیں جہاد کو عزت دینی ہوگی پھر جہاد ہمیں وہ کچھ دے گا جس سے ہماری جان، ایمان، مال اور عزت محفوظ ہوگی‘‘ ( آئینہ 171)
ایک اور جگہ لکھتے ہیں:
’’نوجوانانِ کشمیر! شہداء کی امانت، ان کا مشن آپ کے کندھوں پر ہے اس کو آگے لے جانا آپ پر ایسا ہی فرض بن چکا ہے جیسے نماز اور روزہ۔ بھارتی فوج کی موجودگی میں ہمارا مال، ہماری جان، سب سے بڑی چیز ایمان اور ہماری بیٹی، ماں، بہن کی عزت نہ صرف غیر محفوظ ہے بلکہ اسکا لٹنا یقینی ہے (اگر ہم کھڑے نہ ہوئے) یہ لڑائی و جنگ اب پہنچتے پہنچتے ہماری ماں بیٹی کی عزت و عصمت بچانے کے مرحلے و مقام تک پہنچ گئی ہے اب حجت قائم ہو چکی ہے۔
نوجوانانِ کشمیر! غازی بابا کے مشن کو لے کر آگے بڑھنا ہو گا ورنہ ہمارا دینی وجود اور تشخص ختم ہو جائیگا۔ یہ جنگ اب ہماری وجودی (Existential) جنگ بن گئی۔ گھر گھر کے باہر،سڑک، میدان، روڈ،جنگل، کھیت، سکول ہر جگہ ظالم و جابر فوج موجود ہے ہماری زندگی کا ہر پہلو اب اس قابض فوج کے رحم و کرم پر ہے، غفلت، بے حسی، جمود ہمارے ملی و دینی وجود کو ختم کر کے رکھ دے گی۔ ہماری آنے والی نسل کی تباہی کے ذمہ دار ہم ہونگے، سکولوں میں ایک ایسا تعلیمی نظام رائج ہے جو ہماری اخلاقی و روحانی اقدار و اصولوں کے خلاف ہے۔ یہ نسل جب ایسے نظام میں پرورش پائے گی تو ان کی سوچ، فکر، جذبہ، اٹھنا بیٹھنا غرض ہر چیز اخلاقی و روحانی اقدار و اصولوں سے خالی ہوگی۔ آنے والی نسل کو بچانے کے لیے بھی جہاد کو آگے بڑھانا ہوگا۔ زندہ رہنا ضروری نہیں زندگی کا مقصد ضروری ہے۔ مسلمان کی جان خون میں نہیں بلکہ ایمان میں ہوتی ہے۔ جب ایمان و غیرت کا شعلہ بجھ گیا پھر انسان و حیوان میں کوئی فرق نہیںرہتا۔ جب پھول میں خوشبو ہی نہیں تو پھول کا کیا فائدہ؟‘‘ ( آئینہ 83)
اور ان لوگوں کے جواب میں یہ خوبصورت اور مدلل تحریر ملاحظہ فرمائیں جو ’’عدم تشدد‘‘ کے ہندوانہ فلسفے پر عمل پیرا ہو کر اس مسئلے کے حل کے لئے کوشاں ہیں:
’’شہید مقبول بٹ کے فلسفہ مزاحمت کو گاندھی واد میں تبدیل کرنے والے ناکام ہو چکے ہیں، کشمیری نوجوان نسل نے اس فلسفے کو بہت پہلے رد کیا۔ چاہے اس فلسفے کو کتنا بھی مصنوعی رنگ دیا جائے، وہ نام نہاد مذہبی لوگ جو اس گاندھی واد کے فلسفے کو جواز اور طاقت فراہم کر رہے ہیں وہ ایک جہادی خطے میں ننگے ہو چکے ہیں اور ان شاء اللہ سر زمین چنار میں جس نے ایک لاکھ سے زیادہ شہداء کا لہو جذب کیا ہے اب اس مقدس لہو کے ساتھ بے وفائی نہیں ہو سکتی، خراسان سے مہک و خوشبو اور ربانی و روحانی ہو اکے جھونکوں سے جو شہداء کی روحوں سے اٹھ رہے ہیں وہ اس زمین کے چاروں اطراف کو معطر کر رہی ہے، باطل اگر کعبہ کا غلاف بھی اوڑھ لے حق اس کو وہاں سے بھی نکال لے گا، مذہب کے نام پر جہاد و دین کی توہین و تذلیل کرنے والے خود رسوا اور ذلیل ہونگے، باطل اور نفاق آخر اپنی ہی موت مر جاتا ہے، شہداء کے لہو کے ساتھ بے وفائی و غداری زیادہ دیر برداشت نہیں کی جا سکتی، غداروں کا وقت قریب آ رہا ہے، قوم و ملت کے حالات دنوں میں نہیں بلکہ سالوں کے حساب سے بدلتے ہیں، پچھلے 20سالوں میں وادی کشمیر کے اندر ایک ایسی نسل تیار ہو چکی ہے جن کے اندر سے دشمن کا خوف نکل چکا ہے، وہ بھارتی سامراجیت کے خلاف ایک ایسی تحریک کی شکل میں کھڑی ہوگی جہاں بھارت نواز حکمرانوں اور شہداء کے لہو سے بے وفائی، غداری اور سودا بازی کرنے والوں کانام و نشان باقی نہیں رہے گا۔‘‘(آئینہ 93)
’’آئینہ‘‘ واقعی اسم بامسمی ہے۔کیا کیا خوبیاں بیان کروں، جا بجا بکھرے موتی، سوالات کے مدلل جوابات اور سب سے بڑھ کر انداز تحریر کی پختگی اور شیرینی۔میں نے اوپر عرض کیا کہ افضل گورو شہید عصری اعتبار سے اعلی تعلیم یافتہ تھے۔ایم بی بی ایس کیا تھا،شعر و ادب کا پختہ ذوق رکھتے تھے،فلسفہ بھی خوب پڑھ رکھا تھا اور ان سب پر فائق پختہ دینی رنگ کے حامل تھے۔تو ان کی تحریر میں یہ سب چیزیں خوبصورتی کے ساتھ آ گئی ہیں۔فلسفیانہ موشگافیاں بھی ہیں،اشعار کی گلکاری بھی، برجستہ انگریزی جملے بھی اور دینی تصلب کا اظہار بھی۔بہرحال اس وقت میرا موضوع کتاب کی فنی خوبیاں اور بیانی امتیازات نہیں یہ ہے کہ ’’جہاد کشمیر‘‘ کے حوالے سے کشمیری قوم کیا سوچتی ہے اور کیا نظریہ رکھتی ہے اس پر ’’شہادت‘‘ اور گواہی قائم کی ہے افضل گورو شہیدؒ کی کتاب اور کردار نے۔امید ہے یہ ان لوگوں کے لئے کافی وشافی جواب ہونگے جنہیں اس حوالے سے کچھ شبہات ہیں۔
چند سوالات اور بھی ہیں اور چند موقر گواہیاں بھی مزید ہمارے پاس ہیں جو ان شاء اللہ اگلے حصے میں پیش کی جائیں گی۔

٭…٭…٭