قضا روزوں کا بیان

بلوغت کے بعد اگر روزے چھوٹ جائیں تو کیا کیا جائے؟

س… بچپن میں مجھے والدین روزہ رکھنے کی اجازت نہیں دیتے تھے کہ تم پر روزے ابھی فرض نہیں ہیں، میں یہ محسوس کر رہا ہوں کہ میں بالغ تھا، اور میرے خیال کے مطابق میں نے چار پانچ سال کے بعد روزے رکھنے شروع کئے۔

ج… بالغ ہونے کے بعد سے جتنے روزے آپ نے نہیں رکھے، ان کی قضا لازم ہے، اگر بالغ ہونے کا سال ٹھیک سے یاد نہ ہو تو اپنی عمر کے تیرہویں سال سے اپنے آپ کو بالغ سمجھتے ہوئے تیرہویں سال سے روزے قضا کریں۔

کئی سالوں کے قضا روزے کس طرح رکھیں؟

س… اگر کئی سال کے روزوں کی قضا کرنا چاہے تو کس طرح کرے؟

ج… اگر یاد نہ ہو کہ کس رمضان کے کتنے روزے قضا ہوئے ہیں تو اس طرح نیت کرے کہ سب سے پہلے رمضان کا پہلا روزہ جو میرے ذمہ ہے اس کی قضا کرتا ہوں۔

قضا روزے ذمہ ہوں تو کیا نفل روزے رکھ سکتا ہے؟

س… میں نے سنا ہے کہ فرض روزوں کی قضا جب تک پوری نہ کریں تب تک نفل روزے رکھنے نہیں چاہئیں، کیا یہ بات دُرست ہے؟ مہربانی فرماکر اس کا جواب دیجئے۔

ج… دُرست ہے، کیونکہ اس کے حق میں فرض کی قضا زیادہ ضروری اور اہم ہے، تاہم اگر فرض قضا کو چھوڑ کر نفل روزے کی نیت سے روزہ رکھا تو نفل روزہ ہوگا۔

کیا قضا روزے مشہور نفل روزوں کے دن رکھ سکتے ہیں؟

س… رمضان شریف میں جو روزے مجبوری کے دنوں میں چھوٹ جاتے ہیں، ان کو ہم شمار کرکے دُوسرے دنوں میں رکھتے ہیں، اگر ان روزوں کو ہم کسی بڑے دن جس دن روزہ افضل ہے یعنی ۱۴/شعبان، ۷/رجب وغیرہ کے روزے، اس دن اپنے قضا روزے کی نیت کرلیں تو یہ طریقہ ٹھیک ہے یا پھر وہ روزے الگ رکھیں اور ان چھوٹے ہوئے روزوں کو کسی اور دن شمار کریں؟ مہربانی کرکے اس کا حل بتائیے کیونکہ میں نے ۲۷/رجب کو عبادت کی اور روزے کے وقت اپنے قضا روزے کی نیت کرلی تھی۔

ج… قضا روزوں کو سال کے جن دنوں میں بھی قضا کرنا چاہیں قضا کرسکتے ہیں، صرف پانچ دن ایسے ہیں جن میں روزہ رکھنے کی اجازت نہیں، دو دن عیدین کے اور تین دن ایامِ تشریق یعنی ذوالحجہ کی گیارہویں، بارہویں اور تیرہویں تاریخ۔

روزے چھوڑدئیے تو قضا کرے ورنہ مرتے وقت فدیے کی وصیت کرے

س… میری طبیعت کمزور سی ہے، کبھی تو سارے روزے رکھ لیتی ہوں، اور کبھی دس چھوڑ دیتی ہوں، اب تک ستر (۷۰) روزے مجھ پر فرض چھوٹ چکے ہیں، میں نے حساب لگاکر بتایا ہے۔ خدا مجھے ہمت دے کہ ان کو بخوبی ادا کرسکوں، آمین۔ لیکن اگر خدانخواستہ اتنے روزے نہ رکھ سکوں تو اس کے لئے مجھے کیا کرنا چاہئے کہ مجھے کوئی گناہ نہ ہو؟ پچھلے ہفتے ایک بہن کے اس قسم کے سوال کا جواب سن مجھے بہت فکر ہوئی کہ واقعی ہم کتنے بے خبر ہیں۔

ج… جو روزے ذمہ ہیں، ان کی قضا کرنا چاہئے، خواہ چھوٹے دنوں میں قضا کرلئے جائیں، لیکن اگر خدانخواستہ قضا نہ ہوسکیں تو مرتے وقت وصیت کردینی چاہئے کہ ان کا فدیہ ادا کردیا جائے۔

“ایام” کے روزوں کی قضا ہے، نمازوں کی نہیں

س… “ایام” کے دنوں کے روزوں اور نمازوں کی قضا لازم ہے یا نہیں؟

ج… عورت کے ذمہ خاص ایام کی نمازوں کی قضا لازم نہیں، روزوں کی قضا لازم ہے۔

“ایام” کے روزوں کی صرف قضا ہے، کفارہ نہیں

س… “ایام” کے دنوں میں جو روزے ناغہ ہوتے ہیں، کیا ان کی قضا اور کفارہ دونوں ادا کرنا پڑیں گے؟

ج… نہیں! بلکہ صرف قضا لازم ہے۔

“نفاس” سے فراغت کے بعد قضا روزے رکھے

س… میری بیوی نے رمضان سے ایک ہفتہ قبل جڑواں بچوں کو جنم دیا، اس نے چلہ نہانا تھا، ظاہر ہے روزے نہ رکھ سکی، اب بتائیے کہ اگر وہ بعد میں قضا روزے نہ رکھ سکے، سستی کرے یا نہ رکھنا چاہے یا بچوں کو دُودھ پلانے کے چکر میں معذوری کا اظہار کرے تو کیا وہ روزے کا فدیہ دے سکتی ہے؟

ج… فدیہ دینے کی اجازت صرف اس شخص کو ہے جو بیماری یا بڑھاپے کی وجہ سے روزہ نہ رکھ سکتا ہو، اور نہ آئندہ پوری زندگی میں یہ توقع ہو کہ وہ روزہ رکھنے پر قادر ہوگا۔ آپ کی اہلیہ اس معیار پر پوری نہیں اُترتیں، اس لئے ان پر روزوں کی قضا لازم ہے، خواہ سردیوں کے موسم میں رکھ لیں، فدیہ دینا ان کے لئے جائز نہیں۔

نفل روزہ توڑنے کی قضا ہے، کفارہ نہیں

س…میں نے ۹/محرم الحرام کا روزہ رکھا تھا، لیکن ظہر کے بعد مجھے “قے” آنی شروع ہوگئی، اور بہت زیادہ حالت خراب ہونے لگی، اناج وغیرہ کچھ نہیں نکلا صرف پانی اور تھوک نکلا، ایسی صورت میں والد صاحب نے گلوکوز کا پانی پلوادیا، اور مجھے بھی بحالتِ مجبوری روزہ کھولنا پڑا، تو اب سوال یہ ہے کہ ایسی صورت میں قضا واجب ہوگی یا کفارہ؟ اور مجھے کوئی گناہ تو نہیں ملے گا؟

ج… صرف قضا واجب ہے، کفارہ نہیں۔ کفارہ صرف رمضان مبارک میں روزہ توڑنے سے لازم آتا ہے، اور اگر بیماری کی شدّت کی وجہ سے روزہ توڑا جائے تو رمضان کے روزے میں بھی کفارہ نہیں، صرف قضا ہے۔

تندرست آدمی قضا روزوں کا فدیہ نہیں دے سکتا

س… زید کی بیوی نے رمضان شریف کے روزے نہیں رکھے، کیونکہ بیماری اور حاملہ ہونے کے بعد سے، میری معلومات کے مطابق ایسے روزوں کی قضا ہوتی ہے۔ ایک رمضان کے بعد دُوسرے رمضان سے پہلے یہ قضا پوری کی جاتی ہے، جبکہ زید کی بیوی کہتی ہے کہ جب رمضان میں ہی روزے نہیں رکھے گئے تو عام دنوں میں کیسے رکھ سکتے ہیں؟ ان روزوں کے بدلے مسکینوں کو کھانا کھلادو۔ اس طرح انہوں نے تقریباً ۷۵روپے ایک غریب عورت کو دے دئیے، کیا یہ جائز ہے؟ کیا یہ روزوں کا بدل ہوسکتا ہے؟ کیا اس کے دینے سے روزوں کی قضا معاف ہوگئی؟ کون سے لوگ روزوں کے بدلے مسکینوں کو کھانا کھلاسکتے ہیں؟

ج… روزے کا فدیہ صرف وہ شخص دے سکتا ہے جو روزہ رکھنے پر نہ تو فی الحال قادر ہو اور نہ آئندہ توقع ہو۔ مثلاً: کوئی اتنا بوڑھا ہے کہ روزے کا تحمل نہیں کرسکتا، یا ایسا بیمار ہے کہ اس کے شفایاب ہونے کی کوئی توقع نہیں۔ زید کی بیوی روزہ رکھ سکتی ہے، محض غفلت اور تساہل کی وجہ سے نہیں رکھتی، اس کا روزے کے بدلے فدیہ دینا صحیح نہیںِ بلکہ روزوں کی قضا لازم ہے، اس نے جو پیسے کسی محتاج کو دئیے یہ خیرات کی مد میں شمار ہوں گے، جتنے روزے اس کے ذمہ ہیں سب کی قضا کرے۔

دُوسرے کی طرف سے نماز روزے کی قضا نہیں ہوسکتی

س… کیا بیوی اپنے خاوند کے قضا روزے، یا خاوند اپنی بیوی کے قضا روزے یا والدین اپنی اولاد کے قضا روزے یا اولاد اپنے والدین کے قضا روزے رکھ سکتی ہے؟

ج… کوئی شخص دُوسرے کی طرف سے نہ نماز کی قضا کرسکتا ہے، نہ روزے کی۔

غروب سے پہلے اگر غلطی سے روزہ اِفطار کرلیا تو صرف قضا لازم ہے

س… یہ آج سے تقریباً ۲۰ سال پہلے کی بات ہے، جب ہم ایک ایسی جگہ رہتے تھے جہاں بجلی نہیں تھی، اور اذان کی آواز ہم تک نہیں پہنچ سکتی تھی، رمضان شریف میں ایسا ہوتا تھا کہ محلے کے سب بچے مسجد کے پاس چلے جاتے، اذان کی آواز آتے ہی شور مچاتے اذان ہوگئی روزہ کھولو، میری عمر اس وقت دس سال کی تھی جب میں روزے سے تھی، دروازے سے باہر کھڑی ہوئی اذان کا انتظار کر رہی تھی کہ میں نے تین چار بچوں کی آواز سنی: “روزہ کھولو اذان ہوگئی” میں گھر میں آئی، امی سے کہا اذان ہوگئی۔

امی نے کھجور ہاتھ میں دیتے ہوئے کہا اتنی جلدی اذان ہوگئی؟ میں نے کہا ہاں بچے شور مچار رہے ہیں، میں نے اور امی نے روزہ کھول دیا، اس کے تین چار منٹ بعد پھر بچے شور مچاتے ہوئے بھاگے، معلوم کیا تو پتہ چلا اذان اب ہوئی ہے، وہ تو شرارتی بچے تھے جو شور مچارہے تھے، چونکہ یہ آبادی بالکل نئی تھی لوگ بھی غریب تھے، نہ لوگوں کے پاس ریڈیو تھے، نہ گھڑیاں تھی، آبادی میں بجلی نہ ہونے کی وجہ سے اذان کی آواز ہم تک نہیں آتی تھی۔

میں نے جان کر روزہ نہیں کھولا، یہ اللہ تعالیٰ کو معلوم ہے، لیکن مجھے اپنی کم عقلی پر افسوس ہوتا ہے کہ کاش میں تھوڑا سا انتظار کرلیتی یا اذان ہونے کی لوگوں سے تصدیق کرلیتی، اس بات کا احساس مجھے دُوسری بار شور سننے پر ہوا کہ یہ میں نے کیا کیا؟ اس بات کا ذکر میں نے اپنی امی سے نہیں کیا، مجھے ڈر تھا کہ وہ مجھے ڈانٹیں گی۔ لیکن میں دِل میں اللہ تعالیٰ سے بہت شرمندہ ہوئی، میں نے اللہ تعالیٰ سے معافی مانگی، یہ سب کرنے کے بعد مجھے لگتا ہے جب تک اس کا کفارہ ادا نہ کیا جائے مجھے سکون نہیں ملے گا، آپ بتائیے کہ کفارہ کس طرح ادا کیا جائے؟ اور روزے کی قضا ہوگی یا نہیں؟ اس گناہ کی سزا میرے لئے ہے یا میری امی کو بھی اس ناکردہ گناہ کی سزا ہے؟

ج… اگر غلطی سے غروب سے پہلے روزہ کھول لیا جائے تو قضا واجب ہوتی ہے، کفارہ نہیں۔ اگر آپ پر اس وقت روزہ فرض ہوچکا تھا تو آپ وہ روزہ خود بھی قضا کرلیں اور اپنی امی کو بھی رکھوادیں، اور اگر وہ فوت ہوچکی ہوں تو ان کے اس روزے کا فدیہ ادا کردیں، اور فدیہ ہے کسی محتاج کو دو وقت کھانا کھلانا، یا پونے دو کلو گندم کی قیمت نقد دے دیں۔