قرآن کریم دیکھ کر پڑھنا افضل ہے یا زبانی؟


1 ) قرآن کریم دیکھ کر پڑھنا افضل ہے یا زبانی؟
2 ) قرآن کریم میں مکہ معظمہ کو کس نام سے بیان کیا گیا ہے؟
3 ) نبی پاک صل اللہ علیہ وسلم کے سب سے چھوٹے صاحب زادے کا نام کیا تھا؟
4 ) نبوت کے دسویں سال کو نبی کریم صلی الله علیه وسلم نے کیا نام دیا تھا؟
5 ) امام غزالی رحمتہ اللہ علیہ کا لقب کیا تھا؟

جوابات:
1) دیکھ کر،
مشکوۃ شریف ۔ جلد دوم ۔ فضائل قرآن کا بیان ۔ حدیث 677
ناظرہ تلاوت زبانی تلاوت سے افضل ہے
راوی:
وعن عثمان بن عبد الله بن أوس الثقفي عن جده قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ” قراءة الرجل القرآن في غير المصحف ألف درجة وقراءته في المصحف تضعف عل ذلك إلى ألفي درجة ” . رواه البيهقي في شعب الإيمان
حضرت عثمان بن عبداللہ بن اوس ثقفی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے دادا (حضرت اوس) سے نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ آدمی کا بغیر مصحف (یعنی زبانی) قرآن پڑھنا ہزار درجہ ثواب رکھتا ہے اور مصحف میں (دیکھ کر) پڑھنے کا ثواب بغیر مصحف (یعنی زبانی) پڑھنے کے ثواب سے دو ہزار درجہ تک زیادہ کیا جاتا ہے۔
تشریح:
مطلب یہ ہے کہ مصحف (قرآن مجید) میں دیکھ کر تلاوت کا ثواب زبانی تلاوت کے ثواب سے زیادہ ہوتا ہے اور اس میں ثواب کی زیادتی کی وجہ یہ ہے کہ مصحف میں دیکھ کر کی جانے والی تلاوت میں غور و فکر اور خشوع و خضوع زیادہ حاصل ہوتا ہے مصحف شریف کی زیارت نصیب ہوتی ہے اور مصحف کو ہاتھ لگایا جاتا ہے اسے اوپر اٹھایا جاتا ہے اس طرح نہ صرف یہ کہ قرآن کریم کی عظمت و احترام کا اظہار ہوتا ہے بلکہ جیسا کہ منقول ہے کہ قرآن کریم کی زیارت بھی عبادت ہے چنانچہ اکثر صحابہ و تابعین مصحف میں دیکھ کر ہی تلاوت کیا کرتے تھے حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بارہ میں منقول ہے کہ ناظرہ تلاوت کی کثرت کی وجہ سے ان کے پاس دو قرآن خستگی کی حالت کو پہنچ گئے تھے۔
2) ام القری
أسماء مكة المكرمة في القرآن الكريم
أم القرى مكة المكرمة كثرت أسماؤها في كتاب الله، وتضمنت كتب التفسير والتأريخ عدداً كبيراً من أسمائها، وكثرة الأسماء دليل على شرف المسمى والمتدبر في آيات القرآن الكريم يجد أن مكة المكرمة ورد ذكرها بأسمائها وصفاتها في مواضع عديدة، وسيكون الحديث موجزاً عن أسمائها في كتاب الله، فمن ذلك:
مـكـة:
سميت مكة؛ لأنها تجذب إليها خيرات الدينا. أو لأنها تمك الفاجر عنها، قال تعالى: {وَهُوَ الَّذِي كَفَّ أَيْدِيَهُمْ عَنْكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ عَنْهُمْ بِبَطْنِ مَكَّةَ}”.
وقد ذكروا لمكة أسماء كثيرة مكة وبكة والبيت العتيق والبيت الحرام والبلد الأمين والمأمون وأم رحم وأم القرى وصلاح والعرش على وزن بدر، والقادس؛ لأنها تطهر من الذنوب، والمقدسة والناسة بالنون وبالباء أيضا والحاطمة والرأس وكوثاء والبلدة والبنية والكعبة”.
بـكـة:
وسميت بذلك؛ لأنها تبك أعناق الظلمة والجبابرة، بمعنى أنهم يذلون بها، ويخضعون عندها، وقيل لأن الناس يتباكون فيها أي يزدحمون “. وبكة بمعنى مكة، والعرب تبدل الميم باء، كما في لازم ولازب، قال تعالى: {إِنَّ أَوَّلَ بَيْتٍ وُضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِي بِبَكَّةَ مُبَارَكاً وَهُدىً لِلْعَالَمِينَ}.
أم القرى:
أي أصل القرى؛ لأنها أقدم القرى وأشهرها، كما في قوله تعالى {وَهَذَا كِتَابٌ أَنْزَلْنَاهُ مُبَارَكٌ مُصَدِّقُ الَّذِي بَيْنَ يَدَيْهِ وَلِتُنْذِرَ أُمَّ الْقُرَى وَمَنْ حَوْلَهَا}، وقوله: {وَكَذَلِكَ أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ قُرْآناً عَرَبِيّاً لِتُنْذِرَ أُمَّ الْقُرَى وَمَنْ حَوْلَهَا}. يقول القرطبي معللاً تسميتها بأم القرى: وبه سميت مكة أم القرى؛ لأنها أول الأرض ومنها دحيت”.
3) مؤرخین اور محدثین کا اس پر اتفاق ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی چار بیٹیاں تھی۔ بیٹوں کی تعداد میں البتہ اختلاف ہے۔ جس کی وجہ یہ ہے کہ یہ سب بچپن ہی میں انتقال فرما گئے تھے۔ اکثر کی تحقیق یہ ہے کہ تین لڑکے تھے حضرت قاسم حضرت عبداللہ حضرت ابراہیم بعضوں نے کہا چوتھے صاحبزادے حضرت طیب اور پانچویں حضرت طاہر تھے۔ بعض کہتے ہیں طیب اور طاہر ایک ہی صاحبزادے کے نام ہیں. بعض کہتے ہیں کہ حضرت عبداللہ ہی کا نام طیب اور طاہر تھا- اس طرح تین ہوئے لیکن اکثر کی تحقیق تین بیٹوں کی ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ساری اولاد حضرت ابراہیًم کے سوا حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہا سے پیدا ہوئی۔
حضرت قاسم رضی اللہ تعالی عنہ
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی اولاد میں پہلے حضرت قاسم پیدا ہوےاور بعثتِ نبوت سے پہلے ہی انتقال فرما گئے ۔دو سال کی عمر پائی انہیں کے نام سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی کنیت ابوالقاسم مشہور ہوئ ۔ مکہ میں ولادت ہوئی اور وہیں انتقال ہوا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
:زرقانی ج3 ص 24
حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالی عنہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صاحبزادہ کا نام حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالی عنہ ہے اور حضرت قاسم کی طرح ان کی والدہ کا نام بھی حضرت سیدہ خدیجہ الکبریٰ رضی اللہ تعالی عنہا ہے۔ حضرت عبداللہ اعلان نبوت کے بعد پیدا ہوئے اور ایک سال چھ ماہ آٹھ دن زندہ رہے اور طائف میں وفات پائی :امہات المؤمنین:
حضرت ابراہیم رضی اللہ تعالی عنہ
حضرت ابراہیم رضی اللہ عنہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی آخری اولاد ہیں جو حضرت ماریہ قبطیہ رضی اللہ تعا عنہا کے بطن سے پیدا ہوئے ۔یہ 8 ہجری کا واقعہ ہے حضرت ابو رافع نے حاضر ہو کر ولادت کی خوشخبری دی اس بشارت پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو رافع کو ایک غلام عنایت فرمایا ۔ ساتویں روز اس شہزادہ
رسول کاعقیقہ کیا ۔ دو مینڈھے ذبح کرائے سر منڈایا بالوں کے برابر چاندی صدقہ کی ۔ بال زمین میں دفن کئے۔ ابراہیم نام رکھا ۔ تقریباً سولہ ماہ زندہ رہ کر 10 ہجری میں انتقال فرمایا :
بنات اربع بحوالہ زادالمعادلابن قیم:
4) نبوت کے دسویں سال مقاطعہ ختم ہوا (طبقات ابن سعد: ۱/۱۳۹) اور اسی سال آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا ابو طالب کا انتقال ہوا۔ ان کے انتقال کے تقریبا ً تین یا پانچ دن بعد حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کا انتقال ہوا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سال کو عام ُالحزن قرار دیا (شرح المواہب : ۱/۲۹۱)۔ اسی سال آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا نکاح حضرت سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا سے ہوا، اور اسی سال حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نکاح میں آئیں؛ لیکن رخصتی نہیں ہوئی۔ اور اسی سال واقعہٴ طائف بھی پیش آیا (البدایہ والنہایہ: ۳/۱۳۵)۔
سوال: کیا آپ اس سوال پر روشنی ڈال سکتے ہیں کہ: “امام غزالی رحمہ اللہ کون تھے”؟
Published Date: 2015-07-24
الحمد للہ:
امام غزالی رحمہ اللہ کا نام:
محمد بن محمد بن محمد بن احمد طوسی، المعروف غزالی  ہے، آپکی پیدائش طوس کے علاقے  میں  سن 450 ہجری میں ہوئی، آپ کے والد  اون بُن کر اپنی دکان میں فروخت کیا کرتے تھے جو کہ طوس میں ہی واقع تھی۔
غزالی رحمہ اللہ کی زندگی کےمختلف مراحل کی وجہ سے ان کے بارے میں گفتگو  کافی طویل ہے، آپ نے آغاز  فسلفے سے کیا اور اس میں رسوخ حاصل کیا کی پھر  فسلفے سے بیزار ہوئے، اور اس پر رد بھی لکھا،  اس کے بعد علم  کلام کے سمندر میں غوطہ زن ہوئے، اور اس کے اصول و ضوابط اور مقدمات ازبر کیے، لیکن  اس علم کی خرابیاں، اور تضادات   عیاں ہونے پر اس سے بھی رجوع کر لیا، اور ایک مرحلہ ایسا بھی تھا کہ آپکو  “متکلم” کا درجہ حاصل تھا، اس مرحلے میں آپ نے فسلفی حضرات کی خوب خبر  لی؛ اور اسی وجہ سے آپکو “حجۃ الاسلام” کا لقب ملا، اس مرحلے میں انہوں نے فلسفی لوگوں کے نظریات کو باطل ثابت کیا،  پھر  اس کے بعد  انھوں نے علم کلام سے کنارہ کشی اختیار  کی، اور باطنیہ کے مشرب و مسلک  پر چل پڑے، ان کے علوم سیکھے، پھر ان سے بھی الگ ہو گئے، اور انکے نظریات و عقائد کی قلعی کھولتے ہوئے کتاب و سنت  کی نصوص اور احکام  شریعت  کے ساتھ ان کے کھلواڑ کا کچا چٹھا  سب کے سامنے رکھا، اور اس کے بعد آپ نےتصوف کی راہ اختیار کی۔
یہ چار ادوار  ہیں جو غزالی رحمہ اللہ کی زندگی میں آئے ہیں، اور ان کے بارے میں  سب سے اچھا تبصرہ ابو عمر ابن الصلاح رحمہ اللہ کا ہے، ان کا کہنا ہے کہ:
“ابو حامد غزالی  کے بارے میں خوب  کلام کی گئی  ہے، چنانچہ ان کی  -حق مخالف – کتابوں  کی طرف توجہ نہ دی جائے، اور انکی ذات کے بارے میں خاموشی اختیار کرتے ہوئے ان کا معاملہ اللہ کے سپرد کر دیا جائے”
دیکھیں:  کتاب: “أبو حامد الغزالي والتصوف” از عبد الرحمن دمشقیہ
منصف شخص ابو حامد غزالی کی ذہانت، فطانت، اور نادر زمانہ عبقریت  کا انکار نہیں کر سکتا، یہی وجہ ہے کہ ان کے بارے میں امام ذہبی رحمہ اللہ نے کہا:
“غزالی، بہت بڑے شیخ، بحرِ بے کنار امام ، حجۃ الاسلام، اپنے زمانے کے یگانہ روزگار جن کا لقب زین الدین، کنیت ابو حامد اور نسب محمد بن محمد بن محمد بن احمد طوسی شافعی غزالی ہے، آپکی  متعدد تصانیف ہیں، آپ انتہائی زیرک فہم کےمالک تھے، ابتدائی طور پر اپنے علاقے میں ہی  فقہی علوم حاصل کیے، اس کے بعد اپنے طالب علم ساتھیوں کیساتھ نیشاپور منتقل ہو گئے،   وہاں انہوں نے امام الحرمین کی شاگردی اختیار کی، اور فقہ میں تھوڑی سی مدت کے دوران ہی اپنی  مہارت کا لوہا منوایا، پھر علم کلام، علم جدل میں بھی مہارت حاصل کی، یہاں تک کہ مناظرین  کی آنکھوں کا مرکز بن گئے۔۔۔”
“سیر اعلام النبلاء” (9/323)
…….
http://www.darululoom-deoband.com/urdu/articles/tmp/1502709754%2002-63%20sala%20Hayat%20Nabwi%20saw%20ki%201%20jhalak_MDU_01_Jan_16.htm