تعدد ازدواج

حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی کی کتاب ’’حلال وحرام‘‘ سے ماخوذ

وقتل الزندیق بعد الاطلاع علیہ بلا استتابۃ وہو من اسرالکفر واظہر الاسلام،وکان یسمی فی زمن النبی ﷺ واصحابہ منافقا بلاقبول توبۃ من حیث قتلہ ولا بد من توبتہ لکن ان تاب قتل حداوالا کفرا(شرح الصغیر:ج۴ص۴۳۸)
چنانچہ فقہاء نے زندیق کو عام بت پرستوں اور کافروں کے حکم میں رکھا ہے، علامہ ابن نجیم نے فتح القدیر کے حوالہ سے لکھا ہے:
’’بتوں اور تصاویر کے پرستاروں میں وہ لوگ بھی داخل ہیں جو انہیں بہتر سمجھتے ہیں اور معطلہ زنادقہ، باطنیہ اورا باحیہ بھی ،شرح وجیز میں ہے کہ ہر وہ مذہب جس کے ماننے والے کی تکفیر کی جائے، اس کی عورتوں سے نکاح حرام ہے اس لئے کہ مشرک کا لفظ سب کو شامل ہے۔‘‘(البحر الرائق: ج۳ص۱۱۰)
اسی بناء پر بعض علماء نے ازراہ احتیاط اہل سنت اور معتزلہ کے درمیان معتزلہ کے اہل قبلہ میں ہونے کے باوجود مناکحت کو ناجائز قراردیا ہے۔’’المناکحۃ بین اہل السنۃ واھل الاعتزال لایجوز،کذااجاب الشیخ الامام الرستغفنی‘‘(خلاصۃ الفتاویٰ:ج۲ص۶) فتاویٰ عالمگیری میں بھی بعض ایسے فرقے مثلاً مبیضہ وغیرہ کو کافر قرار دیا گیا ہے(فتاویٰ عالمگیری:ج۲ص۸) اور حضرت شاہ ولی اللہ صاحب رحمہ اللہ تعالیٰ کی شرح مؤطا کی عبارت، جس میں ختم نبوت کے بالواسطہ انکار کرنے والوں کو زندیق قرار دیا گیا ہے،نے تو اس بات کو بالکل واضح اور بے غبار کردیا ہے کہ قادیانی بھی زندیق کے حکم میں ہیں اور ان کا حکم نکاح اور ذبیحہ کے معاملہ میں اہل کتاب کا نہیں بلکہ عام کافروں کا ہے اور یہ نہ صرف فقہاء کی تصریحات کے مطابق ہے بلکہ شریعت کی اس روح کے بھی موافق ہے کہ ایسے تمام مسائل میں ایمان کا تحفظ سب سے زیادہ اہمیت رکھتا ہے اس لئے جہاں اہل کتاب سے فتنہ کا اندیشہ ہو وہاں فقہاء نے کتابیہ سے بھی نکاح کی اجازت نہیں دی ہے۔
تعدد ازدواج
اسلام سے پہلے تعددازدواج کی کوئی تحدید نہیں تھی، اسلام نے اس کو چارتک محدود کردیا اور یہ پابندی بھی عائد کردی کہ اگر عدل وانصاف کرنے پرخود کو قادر نہ پاتا ہو تو ایک ہی بیوی پر اکتفا کرے، ایک سے زیادہ نکاح نہ کرے۔
’’ فان خفتم الاتعدلوافواحدۃ‘‘ (اگر انصاف نہ کر سکو تو صرف ایک ہی نکاح کرو)(نسائ:۳)
اس لئے اگر کوئی شخص اپنے بارے میں اس پر مطمئن نہ ہو کہ وہ اپنی تمام بیویوں کے ساتھ مساوات برت سکے گا تو اس کے لئے دوسری شادی کرنا جائز نہیں ہے۔ سیدقطب شہید نے اس سلسلہ میں علماء سلف و خلف کا مسلک نقل کرتے ہوئے لکھا ہے:
’’ اگر کوئی شخص اپنے آپ کو اس انصاف سے عاجز محسوس کرے اور اسے خوف ہو کہ وہ اس پر قادر نہ ہوسکے گا تو صرف ایک ہی نکاح درست ہے اور اس سے زیادہ نکاح جائز نہیں۔‘‘(فی ظلال القرآن:ج۱ص۸۲)
اور امام احمد بن حنبلؒ کے نزدیک تو اگر ایک عورت نکاح کے وقت یہ شرط لگا دے کہ وہ اس کی موجودگی میں دوسری شادی نہ کرے گا تو شوہر کو اس معاہدہ کی پابندی کرنی ہوگی اور اگر اس نے دوسرا نکاح کرلیا تو نکاح تو ہوجائے گا لیکن اس عورت کو علیحدگی کا اختیار حاصل ہوگا۔(فی ظلال القرآن:ج۱ص۸۲)
حقیقت یہ ہے کہ بعض حالات میںعفت و عصمت کی حفاظت، بیوائوں اور یتیموں کی پرورش اور عورتوں کی شرح پیدائش میں اضافہ اور کثرت کے حل کے لئے اس کے سوا اور کوئی چارہ نہیں رہتا کہ مردوں کو ایک سے زیادہ نکاح کی اجازت دی جائے، خود منصف مزاج علماء مغرب بھی اس کا اعتراف کرتے ہیں، مشرقی تمدن کے ماہر مستشرق عالم ڈاکٹر گستائولی بان لکھتے ہیں:
’’مغرب میں بھی… ایک ہی شادی کی رسم کا وجود صرف کتابوں میں ہے اور میں خیال کرتا ہوں کہ کوئی شخص انکار نہ کرے گا کہ یہ رسم ہماری واقعی معاشرت میں نہیں پائی جاتی ہے۔ میں نہیں جانتا کہ مشرقیوں کا جائز تعدد کس امر میں مغربیوں کے ناجائز تعدد ازدواج سے کم تر سمجھا جاتا ہے بلکہ میں کہوں گا کہ اول کو ہر طرح دوسرے پر ترجیح ہے۔‘‘(تمدن عرب: ص۳۶۶)
زنا کی شناعت
ایک طرف جہاں اسلام نے نکاح اور نکاح کی بنا پر مرد وزن کے حلال و جائز اختلاط کو صدقہ وعبادت کا درجہ دیا ہے وہیں اس کی نگاہ میں زنا بدترین گناہ ہے۔
قرآن مجید نے نہ صرف زنا سے روکا ہے بلکہ زنا کے قریب بھی جانے کو بے حیائی اور بدراہی قراردیا ۔ قرآن نے عورتوں کے لئے جن امور پر بیعت اور عہد وپیمان کو عورتوں کے لئے ضروری قرار دیا ہے ان میں سب سے اول یہی برائی ہے۔ ایک اور جگہ شرک اور قتل انسانی کے ساتھ اس برائی کی مذمت کی گئی ہے۔ حدیثوں میں حالت زنا کو ایمان کے مغائر قراردیا گیا ہے۔’’لایزنی الزانی حین یزنی وھو مومن‘‘(مشکوٰۃ عن ابی ہریرہؓ:ج۱ص۱۷)
ایک روایت میں آپﷺ نے فرمایا کہ زناچہرے کی دل کشی کو ختم کردیتا ہے اور رزق کو کاٹ دیتا ہے۔ کبرسنی کے باوجود جو زنا کا مرتکب ہو، آپﷺ نے فرمایا: وہ کبھی جنت میں داخل نہیں ہوگا اور اللہ کی رحمت کبھی اس کی طرف متوجہ نہیں ہوگی۔ ارشاد ہوا کہ جب کسی قوم میں زنا کی کثرت ہوتی ہے تو ان پر قحط سالی مسلط کردی جاتی ہے۔ یہ بھی اشاد فرمایا کہ زنا کے عموم سے کثرت سے موت واقع ہوگی’’ ولافشی الزنا فی قوم الاکثرفیہ الموت‘‘ (مشکوٰۃ عن مالکؓ:ج۲ص۴۵۹)موت سے مراد غالباً مہلک اور جان لیو اامراض کا ظہور ہے۔ چنانچہ سب جانتے ہیں کہ آتشک، سوزاک، کینسر کی بعض قسمیں اور ایک نوپیدالاعلاج خطرناک بیماری ایڈز عام طور پر اسی اجنبی بے راہ روی اور بے اعتدالی کا نتیجہ ہوتی ہے۔
اسلام نے زناکی شناعت کو دیکھتے ہوئے زنا پر نہایت سخت سزائیں مقرر کی ہیں، جو غیر شادی شدہ لڑکے اور لڑکیوں کے لئے سوکوڑے’’ فاجلدواکل واحدمنہما مائۃ جلدۃ‘‘ شادی شدہ مرد وعورت کے لئے سنگسار کردینا ہے…واقعہ یہ ہے کہ زنا ایک ایساجرم ہے جس سے پیدا ہونے والی بیماریوں کی سزاپورے سماج کو بھگتنی پڑتی ہے، جس کی وجہ سے پوری سوسائٹی میں بے حیائی عام ہوتی ہے جو ایک عورت اور مرد کے لئے نہیں بلکہ دوخاندانوں کے لئے باعث ننگ وعار ہوتی ہے، جو پیدا ہونے والی بے نسب اولاد کے ساتھ بھی ناکردہ گناہوں کی سزاکے درجہ میں ہے۔یہ قانون فطرت سے بھی بغاوت اور انسانی شرافت کے ساتھ بھی کھلواڑ ہے اور ان سب سے بڑھ کررب کائنات کی عدول حکمی اور نارضا جوئی نیز اس کے غیض و غضب کی دعوت ہے۔’’اعاذنااللّٰہ منہ‘‘
٭…٭…٭
الفقہ
حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی کی کتاب ’’حلال وحرام‘‘ سے ماخوذ
(شمارہ 479)
فعل خلاف فطرت
جنسی بے اعتدالی کی اس سے بھی بدترین شکل لواطت اور استلذاذ بالمثل ہے۔
یہ نہایت خلاف فطرت اور اسلام کی نگاہ میں مبغوض اور قبیح فعل ہے۔ قرآن کے بیان کے مطابق حضرت لوط علیہ السلام کی قوم پر محض اسی وجہ سے سخت بھیانک اور عبرت ناک عذاب نازل ہوا، زمین پر پتھر کی سخت بارش ہوئی اور اس کی سطح پلٹ کررکھ دی گئی۔ایک روایت میں آپﷺ سے مروی ہے کہ چار اشخاص کے بارے میں آپﷺ نے فرمایا کہ ان کی صبح وشام اللہ کی غضب اور ناخوشنودی کی حالت میں ہوتی ہے، ان میں ایک اس فعل کا مرتکب بھی ہے۔
اس جرم کی شناعت کی وجہ سے فقہاء مضطرب ہیں کہ آخر ایسے مجرم کو کیاسزادی جائے؟ بعض کہتے ہیں کہ پہاڑ سے گراکرہلاک کردیاجائے، بعض زانی کی سزا جاری کرنے کے قائل ہیں، بعض قتل کے اور بعض قاضی کی صوابدید پررکھتے ہیں۔
حضرت علیؓ کی ایماء پر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے غیر شادی شدہ لوطی پر زانی کی سزا سوکوڑے جاری کرائی ہے۔ خود حضورﷺ نے فاعل اور مفعول دونوں کو قتل کردینے کی ہدایت فرمائی ہے اور اکثر فقہاء کا رجحان اسی طرف ہے کہ ایسے مجرم کو قتل کردیاجائے۔ البتہ یہ’’ تعزیر‘‘ کے قبیل سے ہے اور تعزیر میں عدالت کو حالات وواقعات کے اعتبار سے کم وزیادتی کا حق حاصل ہوتا ہے۔
جن اقوام میں یہ برائی عام ہے ان کو خود قدرت جان لیوا اور عبرت ناک امراض کی صورت میں جیتے جی بھیانک سزادے رہی ہے اور آخرت کی پکڑ اس سے سوا ہے کہ ’’ ان بطش ربک لشدید‘‘
جانوروں سے تکمیل ہوس
ایسے ہی قبیح افعال میں جانوروں کے ذریعہ جنسی خواہش کی تکمیل و تسکین ہے اور واقعہ ہے کہ یہ ایسا عمل ہے کہ اس پر حیوانیت اور بہمیت کی جبین حیا بھی عرق آلود ہے… آنحضورﷺ نے اس کی شدید مذمت فرمائی ہے۔ ایک روایت میں ہے کہ جانور کے ساتھ بدفعلی کرنے والے شخص اور خود جانوردونوں کو قتل کردو۔ فقہاء نے گواس فرمان کو شدت وتوبیخ پر محمول کیا اور ازراہ تعزیر عادی مجرم کے لئے قتل کی گنجائش رکھی ہے تاہم ایسا شخص قابل سرزنش ہے اس پر اتفاق ہے۔جانور بھی ذبح کردیاجائے گا اور زندہ ومردہ اس سے کوئی نفع نہیں اُٹھا یاجائے گا۔ بعض روایات میں جانور ذبح کے بعد جلادینے کا بھی ذکر ہے لیکن ایسا کرنا واجب نہیں۔ کیونکہ اصل مقصود یہ ہے کہ برائی کے نشان کو باقی نہ رہنے دیاجائے کہ ایسا نہ کیا جائے تو انگشت نمائی ہوگی ، برائی کا ذکر پھیلے گا اور اس سے خود ایک برائی کی طرف ذہن انسانی منتقل ہوگا۔
جنسی بے راہ روی کا سدباب
شریعت نے ناجائز چیزکو روکنے اور عفت وعصمت کی حفاظت کے لئے اور شرم وحیا کی بقا کے لئے مختلف تدبیر یں کی ہیں۔ جن میں سب سے اول تو نکاح ہے لیکن اس کے علاوہ بعض اور احتیاطی تدبیریں بھی کی گئی ہیں، ان میں بدنگاہی کی ممانعت اور استیذان خاص اہمیت رکھتے ہیں۔ آپﷺ نے ارشادفرمایا:بدنگاہی آنکھوں کا زنا ہے۔ ارشاد ہوا کہ شرم گاہ کے ذریعہ تو آخری درجہ کی تصدیق ہوتی ہے ورنہ آنکھیں ،ہاتھ ،پائوں اور زبان یہ سب زنا کرتے ہیں، یعنی اس فعل زنا میں معاون ہیں۔ اس لئے کہ برائی کااولین خیال یہی نگاہ دل میں پیداکرتی ہے، اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو حکم فرمایا کہ اپنی نگاہوں کو پست رکھیں’’ قل للمومنین یغضوامن ابصارھم ‘‘ یہی حکم مسلمان عورتوں کو بھی دیا گیا کہ نگاہیں پست رکھیں اور اپنی زیبائش اور آرائش کا اظہار نہ کریں۔ آپﷺ نے نگاہ کو شیطان کے تیروں میں سے ایک زہر آلود تیر قراردیا ہے۔
عورتیں اگر بضرورت گھر سے باہرنکلیں تب بھی ان کے لئے یہ ہدایت فرمائی کہ تبرج اور آرائش کا اظہار نہ کریں، عام گزرگاہ سے بچ کر کنارے چلاکریں، مسجد میں آئیں تو ان کی صف سب سے آخری ہو، گفتگو ایسی نہ کریں جس میں لوچ ہو۔آواز میں شیرینی اور جاذبیت نہ ہو جس سے اجنبی مردوں کا دل ان کی طرف کھنچے۔اجنبی مرد وعورت کا تخلیہ نہ ہو۔ آپﷺ نے فرمایا کہ اس میں تیسرا شیطان ہوتا ہے’’ لایخلون رجل بامرأۃ الاکان ثالثھما الشیطان‘‘ اصل میں یہ ساری قدغنیں اسی لئے ہیں کہ آخری درجہ کی برائی بیک خیال نہیں آتی، یہ زہر بتدریج پروان چڑھتاہے، پہلے نگاہیں ملتی ہیں ،پھر نگاہ کا تیردل میں اترتا ہے اور دل میں آگ سلگتی ہے پھر اول زبان دامن حیا کو تار تار کرتی ہے اور اپنا مدعائے ہوس رکھتی ہیں، پھر تنہائی اور ماحول کا اختلاط اس فتنہ کی آنچ کو اور تیز کرتا ہے، زیبائش و آرائش کا اظہار ، جاہلانہ تبرج اور زبان کی حلاوت اس آتش فتنہ کو اور سلگاتی اور بڑھاتی چلی جاتی ہے ، یہاں تک کہ نوبت یہاں تک آپہنچتی ہے کہ انسان آخری درجہ کی برائی میں مبتلا ہوجاتا ہے، جب انسان بالخصوص عورت کے جسم سے ایک بار حیا کی چادراترتی ہے تو پھر اس کاآشفتہ ہوس اور وارفتۂ نفس بدن کبھی اس چادر کو اوڑھنے کے لئے تیار نہیں ہوتا۔ کل جس کی نگاہ اٹھتے ہوئے شرماتی تھی اور جس کو زبان کھولنے میں بھی حجاب آتا تھا۔ آج اسے رقص گاہوں میں تھرکنے اور ناچنے اور محفلوں میں اپنے مدح سرائوں کے سازدل کو چھیڑنے اور تارنفس کو بجانے میں لطف آنے لگتا ہے۔ اسی لئے شریعت اسلامی اس فتنہ کے آغاز ہی پر روک لگاتی ہے اور اس فتنہ چنگاری کو سلگنے اور شعلہ و آتش بننے کی اجازت نہیں دیتی ۔
جنسی بے راہ روی ہی کی ایک صورت جلق اور استمناء بالید کی ہے، اسلام کی نگاہ میں انسان کا پوراوجود اور اس کی تمام ترصلاحیتیں اللہ کی امانت ہیں، قدرت نے ان کو ایک خاص مقصد کے تحت جنم دیا ہے جو شخص جسم کے کسی حصہ کا غلط استعمال کرتا ہے وہ دراصل خدا کی امانت میں خیانت اور خلق اللہ میں من چاہے تغیر کا مرتکب ہوتا ہے۔ انسان کے اندر جو جنسی قوت اور مادئہ منویہ رکھا گیا ہے وہ بھی بے مقصد اور بلاوجہ نہیں ہے بلکہ اس سے نسل انسانی کی افزائش اور بڑھوتری مقصود ہے اور اس قسم کا عمل چاہے جلق و استمناء بالید ہو یا اغلام بازی یا خود اپنی بیوی سے لواطت ، اس مقصد کے عین مغائر اور اس سے متصادم ہے۔
اس لئے یہ عمل بھی ممنوع اور حرام ہے۔ آنحضورﷺ نے فرمایا: ایسے شخص کی طرف اللہ تعالیٰ قیامت کے دن توجہ نہیں فرمائیں گے۔ ایک اور روایت میں آپﷺ نے ایسے شخص پر اللہ اور اس کے فرشتوں کی لعنت بھیجی ہے۔ اس کی حرمت پر سورۃ المومنون کی آیت۵تا۷ سے بھی استدلال کیا جاتا ہے جس میں جنسی خواہشات کی تکمیل کے لئے دوہی راستوں کی تحدید کردی گئی ہے، ایک بیوی ،دوسرے لونڈی ، اور ظاہر ہے کہ یہ ایک تیسری صورت ہے، فقہاء احناف نے اسے قابل تعزیر جرم قراردیا ہے۔
قضاء شہوت کی نیت سے ایسا کرنا قطعاً جائز نہیں، ہاں اگر شہوت کا غلبہ ہو، زنا سے بچنے اور شہوت میں سکون اور ٹھہرائو پیدا کرنے کے لئے ایسا عمل کیا جائے تو لکھتے ہیں کہ امید ہے کہ اس پر وبال اور عذاب نہ ہوگا، چنانچہ ایسے حالات میں حضرت ابن عباسؓ،حضرت عبداللہ بن عمرؓ، مجاہدؒ،حسن بصریؒ وغیرہ سے اس کا جواز نقل کیا گیا ہے۔ اسی ضرورت کے ذیل میں علاج اور میڈیکل جانچ کی غرض سے مادئہ منویہ کا نکالنا بھی ہے، تاہم ان سب کا تعلق اتفاق سے ہے۔ عادتاً تو کسی بھی طرح اجازت نہ دی جائے گی کہ یہ نہ صرف اخلاق کو متأثر کرتا ہے اور فطرت سے بغاوت کے مترادف ہے بلکہ صحت انسانی کے لئے بھی سخت مضر ہے۔
٭…٭…٭
الفقہ
حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی کی کتاب ’’حلال وحرام‘‘ سے ماخوذ
(شمارہ 480)
ثبوتِ نسب
اسلام میں نسب کے تحفظ اور شناخت کو خاص اہمیت دی گئی ہے کہ یہی انسان اور حیوان کے درمیان ایک واضح نقطۂ امتیاز ہے، اسی مقصد کے لئے پہلے شوہر سے علیحدگی کے بعد دوسرے نکاح سے پہلے عدت گزارنے کو ضروری قراردیا گیا ہے، زنا کی حرمت میں سخت شدت برتی گئی، نسب کے تحفظ کے فقدان کی دونوں صورتیں ہوسکتی ہیں، کوئی شخص اپنے بچہ کے نسب کا انکار کردے یا کوئی بچہ اپنے کو ماں باپ کی طرف منسوب کرنے کے بجائے کسی اور کی طرف منسوب کرلے۔ آپﷺ نے ان دونوں ہی باتوں کی مذمت فرمائی۔ ارشاد فرمایا: جس نے اپنے بچہ کے نسب کی نفی کی تاکہ دنیا میں اسے ذلیل کرے، اللہ تعالیٰ آخرت میں اس کو ذلیل فرمائیں گے ۔ایک اور روایت میں ہے کہ ایسا باپ اور باپ کی نسبت کاانکار کرنے والا بیٹا دونوں ان لوگوں میں ہیں کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ نہ ان سے گفتگو فرمائیں گے اور نہ ان کو گناہوں سے پاک کریں گے اور نہ ان کی طرف نگاہ رحمت اُٹھائیں گے۔
آپﷺ نے ایک اصول مقرر فرمادیا کہ جس عورت کو ولادت ہو اس کا شوہر بچہ کا باپ ہوگا ،زانی کا بچہ سے نسب ثابت نہ ہوگا۔ ’’الولد للفراش وللعاھر الحجر‘‘(مجمع الزوائد:ج۵ص۱۳)مزاج شریعت کو سامنے رکھتے ہوئے فقہاء کاقاعدہ یہ ہے کہ ممکن حدتک بچہ کا نسب صحیح ثابت کرنے کی کوشش کی جائے گی اور کسی مسلمان کی طرف زنا یا نتیجۂ زنا ہونے کی نسبت سے بچاجائے گا۔ اسی لئے فقہاء نے زیادہ سے زیادہ مدت حمل مقرر کرنے میں غایت درجہ احتیاط بلکہ بعض فقہاء نے تو مبالغہ سے کام لیا ہے ، امام ابو حنیفہؒ کے نزدیک مدت حمل دوسال ہے۔ اس طرح شوہر کے طلاق دینے یا وفات پانے کے بعد دوسال کے اندر اندر بچہ پیدا ہوجائے تب بھی نسب ثابت ہوجاتا ہے۔
ٹیسٹ ٹیوب سے تولید
موجودہ سائنسی ترقیات اور انکشافات نے تولید و تناسل کے لئے بعض نئے مسائل کو ممکن بنادیا ہے، انہیں میں سے ایک ٹیسٹ ٹیوب کے ذریعہ تولید کا عمل ہے بنیادی طور پر ٹیسٹ ٹیوب کے ذریعہ تولید کی دوشکلیں ہیں:
اول یہ کہ اجنبی مردوعورت کے مادئہ منویہ اور بیضۃ المنی کو باہم خلط کر کے تولید عمل میں آئے۔ چاہے یہ دواجنبی مادے کسی ٹیوب میں خلط کئے جائیں یا خود اس عورت کے رحم میں یاکسی اور عورت کے رحم میں یا خود اس مرد کی قانونی اور شرعی بیوی کے رحم میں… یہ صورت بہرحال ناجائز ہوگی کہ اس کی وجہ سے نسب میں اختلاط ہوتا ہے اور زنا کی ممانعت کی اصل وجہ یہی اختلاط نسب ہے۔ اس سلسلہ میں صریح نصوص موجود ہیں: آپﷺ نے فرمایا:
’’خدا وآخرت پر ایمان رکھنے والے کسی شخص کے لئے روانہیں کہ اپنے پانی سے دوسرے کی کھیتی سیراب کرے۔‘‘
دوسری صورت یہ ہے کہ خود شوہر بیوی کے مادئہ حیات کو خلط کر کے تولید عمل میں آئے، اس کی بھی کئی شکلیں ہوسکتی ہیں:
۱)شوہر کا مادہ انجکشن وغیرہ کے ذریعہ عورت کے رحم تک پہنچا دیاجائے۔
۲) شوہر و بیوی کے مادے حاصل کئے جائیں اور کسی ٹیوب میں مخصوص مدت تک ان کی پرورش کی جائے ،پھر اسی عورت کے رحم میں اس کو منتقل کردیاجائے۔
۳)شوہر اور اس کی ایک بیوی کا مادہ حاصل کیا جائے اور اس آمیزے کو اسی شوہر کی دوسری بیوی کے رحم میں منتقل کردیاجائے۔ اس لئے کہ اس کی پہلی بیوی زچگی کی متحمل نہ ہو یا طبی اسباب کی بنا پر تولید کی اہل نہ ہو۔
راقم سطور کا خیال ہے کہ گوان صورتوں میں شوہر کے لئے جلق، عورت کے لئے دایہ کے سامنے بے ستری اور ایک گونہ استقرار حمل کے لئے غیر فطری طریق کے استعمال کی نوبت آئی ہے لیکن اگر طبی اعتبار سے عورت استقرار حمل کی صلاحیت نہیں رکھتی ہو اور حصول اولاد کا شدید داعیہ ہو تو اس کی اجازت دی جاسکتی ہے کہ یہ ایک طریقہ علاج ہے اور شریعت میں علاج کے باب میں ان امور میں نرم روی کی گنجائش موجود ہے۔ ہاں بہتر ان طریقوں سے اجتناب ہی برتنا ہے۔
یہ تو ظاہر ہے کہ اس مولود کا باپ وہی ہوگا جس کا مادہ تھا۔ ثبوت نسب کے لئے شوہر کے نطفہ سے بیوی کا حاملہ ہوجانا کافی ہے، جسمانی طورپر مباشرت ضروری نہیں۔ ہاں اگر مرد کی کی ایک بیوی کابیضۃ المنی حاصل کیا گیا اور دوسری کے رحم میں پرورش و پرداخت ہوئی اور اس نے ولادت کی تکلیف برداشت کی، تو ظاہر ہے کہ یہ دوسری عورت اس کی ماں ہوگی اس لئے کہ قرآن نے بچہ جننے والی کو ماں قراردیا ہے لیکن چونکہ اس پہلی عورت کا بیضۃ المنی بھی اس کی تکوین کے لئے اصل اور اساس بنا ہے اس لئے اس کو بھی ماں قرار دیاجانا چاہئے، فقہاء کے یہاں بعض صورتوں میں ایسی نظریں موجود ہیں کہ ایک بچہ کانسب دواشخاص سے ثابت کیاجائے۔
لعان
شریعت نے مسلمانوں کی عزت و آبرو کی حفاظت و صیانت کو واجب قراردیا ہے اور پیغمبراسلامﷺ نے اس کو خانۂ کعبہ کے ہم درجہ بتایا ہے۔ اسی لئے تجسس کو منع کیا گیا اور اسی وجہ سے بے محل شک وشبہ کو بھی ناپسند کیا گیا۔ آپﷺ نے اس بات سے منع فرمایا کہ خواتین کی لغزشوں کا پیچھا کیا جائے۔ سفر سے واپسی پر حکم فرمایا گیا کہ رات میں گھر آنے کے بجائے شہر سے باہر ٹھہرجائے اور گھر اپنی آمد کی اطلاع پہلے ہی کردے۔ اس لئے بیوی کے کردار پر اعتماد واعتبار کرنا چاہئے اوربے بنیاد شکوک سے خود کو بچانا چاہئے۔
لیکن ایسا بھی نہ ہو کہ شوہر غیرت و حیاسے بالکل محروم ہوجائے اور اپنی بیوی کے معاملہ میں ہر طرح کی بے غیرتی کو برداشت کرلے،اس لئے شریعت میں وہ تمام احتیاطی تدبیریں کی گئی ہیں جو اوپر ذکر ہوچکی ہے، لیکن اگر ان سب کے باوجود عورت سے آخری درجہ برائی یعنی زنا کا صدور ہوجائے تو اب مرد کیا کرے؟
شریعت کے عام اصول کے مطابق اسے چارگواہ فراہم کرنے چاہئیں اور اگر یہ فراہم نہ کریں تو خود کو بہتان کی سزا یعنی اسّی کوڑے کھانے کے لئے تیاررہنا چاہئے لیکن صورت حال یہ ہے کہ ایسے معاملات میں چار عینی گواہوں کی دستیابی مشکل ہے اور معاملہ صرف دوسرے کی زندگی پر الزام دھرنے کا نہیں بلکہ خود اپنی زندگی میں اعتماد و اعتبار کے باقی رہنے اور نہ رہنے کا ہے، کیونکہ شادی شدہ عورت کی بے عفتی براہ راست شوہر کی تذلیل، اس کی اولاد کے نسب کو مشکوک کرنا اور اس کے سکون کو درہم برہم کرنا ہے۔
اس لئے شریعت نے اس صورت میں ایک خصوصی استثنائی صورت پیدا کی ہے اور وہ یہ کہ شوہر اور بیوی سے الزام کے صحیح ہونے اور نہ ہونے کے سلسلہ میں چار چار دفعہ قسم کھلائی جائے، پانچویں بار مرد سے کہلایا جائے کہ اگر میں اپنی بات میں جھوٹا ہو ں تو مجھ پر خدا کی لعنت ہو، اسی طرح عورت سے چار بار قسم کھلانے کے بعد پانچویں بار کہلایا جائے کہ اگر میرا شوہراپنے دعویٰ میں سچا ہے تو مجھ پر خدا کا غضب ہو۔
٭…٭…٭