طلاقِ رجعی

طلاقِ رجعی کی تعریف

س… اسلام میں ”طلاقِ رجعی“ کی تعریف کی کیا صورت اور کیا حکم ہے؟

ج… ”رجعی طلاق“ یہ ہے کہ شوہر اپنی بیوی کو ایک مرتبہ یا دو مرتبہ صاف لفظوں میں طلاق دے دے اور اس کے ساتھ کوئی اور لفظ استعمال نہ کرے، جس کا مفہوم یہ ہو کہ وہ فوری طور پر نکاح کو ختم کر رہا ہے۔

”رجعی طلاق“ کا حکم یہ ہے کہ عدّت کے پورا ہونے تک بیوی بدستور شوہر کے نکاح میں رہتی ہے اور شوہر کو یہ حق رہتا ہے کہ وہ عدّت کے اندر جب چاہے بیوی سے رُجوع کرسکتا ہے۔ اور ”رُجوع“ کا مطلب یہ ہے کہ یا تو زبان سے کہہ دے کہ میں نے طلاق واپس لے لی یا بیوی کو ہاتھ لگادے، دوبارہ نکاح کی ضرورت نہیں۔ لیکن اگر عدّت گزرگئی اور اس نے اپنے قول یا فعل سے رُجوع نہیں کیا تو اَب دونوں میاں بیوی نہیں رہے، عورت دُوسری جگہ اپنا عقد کرسکتی ہے، اور اگر ان دونوں کے درمیان مصالحت ہوجائے تو دوبارہ نکاح کرسکتے ہیں۔ اور ”رُجوع“ کے بعد اگرچہ طلاق کا اثر ختم ہوجاتا ہے، لیکن جو طلاقیں دے چکا ہے وہ چونکہ اس نے استعمال کرلیں لہٰذا اب اس کو صرف باقی ماندہ طلاقوں کا اختیار ہوگا۔ کیونکہ شوہر کو کل تین طلاقوں کا اختیار دیا گیا، اگر اس نے ایک ”رجعی طلاق“ دے دی تو اَب پیچھے اس کے پاس دو رہ گئیں، اور اگر دو ”رجعی طلاقیں“ دی تھیں تو اَب اس کے پاس صرف ایک طلاق باقی رہی۔ اب اگر یہ شخص اپنی بیوی کو کسی وقت ایک طلاق دے دے گا تو بیوی حرام ہوجائے گی اور بغیر شرعی حلالہ کے دوبارہ نکاح بھی نہیں ہوسکے گا۔

کیا طلاقِ رجعی کے بعد رُجوع کے لئے نکاح ضروری ہے؟

س… کیا طلاقِ رجعی میں نکاح دو گواہوں کی موجودگی میں دُرست ہے؟

ج… طلاقِ رجعی میں عدّت کے اندر نکاح دوبارہ کرنے کی ضرورت نہیں، صرف رُجوع کرلینا کافی ہے۔ اور عدّت ختم ہوجانے کے بعد دو گواہوں کی موجودگی میں نکاح دُرست ہے۔

کیا ”وہ میرے گھر سے چلی جائے“ کے الفاظ سے طلاق واقع ہوجاتی ہے؟

س… دوبئی سے میں نے بیوی کے والدین کو خط لکھا ہے کہ: ”میں آپ کی بیٹی کو طلاق دینا چاہتا ہوں، کچھ گھریلو ناچاقی کی وجہ سے، اور وہ میرے گھر سے چلی جائے، میں جب آوٴں تو اس کی شکل نہ دیکھوں۔“ آپ بتائیں کہ ایسے میں طلاق واقع ہوئی کہ نہیں؟

ج… ان الفاظ سے طلاق ہوگئی، عدّت کے اندر اسی مرد سے نکاح ہوسکتا ہے۔

اگر ایک طلاق دی ہو تو عدّت کے اندر بغیر نکاح کے قربت جائز ہے

س… میرے ایک دوست نے اپنی بیوی جو ناراض ہو، کو غصّے میں، میں مسمّیٰ فلاں بن فلاں اپنی بیوی مسماة فلاں زوجہ فلاں دختر فلاں کو تحریر طور پر یہ الفاظ کہ: ”میں تم کو ایک طلاق دیتا ہوں“ لکھ کر بھیج دئیے۔ اب وہ بیوی سے دوبارہ ملاپ چاہتا ہے، شرعی طور پر وہ کیا کفارہ ادا کرے یا دوبارہ نکاح یا کیا کرنا چاہئے؟ جب اس نے یہ الفاظ لکھے دو تین دن کے بعد بیوی اس کے گھر آگئی، اب دونوں راضی ہیں لیکن ابھی تک جسمانی قرب حاصل نہیں کیا، اس لئے جلدی تفصیل لکھیں۔

ج… اگر صرف ایک طلاق لکھی تھی تو کسی کفارے کی ضرورت نہیں، عدّت ختم ہونے تک نکاح باقی ہے، عدّت کے اندر دونوں میاں بیوی کا تعلق قائم کرلیں تو طلاق غیرموٴثر ہوجائے گی۔

رجعی طلاق میں کب تک رُجوع کرسکتا ہے؟ اور رُجوع کا کیا طریقہ ہے؟

س… رجعی طلاق میں رُجوع کرنے کی میعاد ایک ماہ ہے یا زیادہ؟ رُجوع کرنے سے مراد وظیفہٴ زوجیت ادا کرنا ضروری ہے؟ اگر دونوں میں سے ایک یا دونوں اس قابل نہ ہوں تو کس طرح رُجوع کیا جائے؟

ج… رجعی طلاق میں ”عدّت“ کے اندر رُجوع کرسکتا ہے اور ”عدّت“ کے لحاظ سے مطلقہ عورتوں کی تین قسمیں ہیں:

۱:… حاملہ، اس کی عدّت وضعِ حمل ہے۔ بچے، بچی کی پیدائش سے اس کی عدّت ختم ہوجائے گی، خواہ بچے کی پیدائش جلدی ہوجائے یا دیر سے۔

۲:… دُوسری قسم وہ عورت جس کو ”اَیام“ آتے ہوں، اس کی عدّت تین حیض ہیں، جب طلاق کے بعد وہ تیسری مرتبہ پاک ہوجائے گی تو اس کی عدّت ختم ہوجائے گی۔

۳:… تیسری قسم ان عورتوں کی ہے جو نہ حاملہ ہوں اور نہ ان کو اَیام آتے ہوں، ان کی ”عدّت“ تین ماہ ہے۔

رجعی طلاق میں اگر مرد اپنی بیوی سے رُجوع کرنا چاہے تو زبان سے کہہ دے کہ میں نے رُجوع کرلیا، بس رُجوع ہوجائے گا۔ اور اگر زبان سے کچھ نہ کہا مگر میاں بیوی کا تعلق قائم کرلیا یا خواہش و رغبت سے اس کو ہاتھ لگایا تب بھی رُجوع ہوجائے گا۔

”میں نے تم کو عرصہ ایک ماہ کے لئے ایک طلاق دی“ کا حکم

س… میرے بھائی نے اپنی بیوی کو نافرمانیوں سے تنگ آکر سرزنش کے لئے مندرجہ ذیل الفاظ کہے کہ: ”میں نے تم کو عرصہ ایک ماہ کے لئے ایک طلاق دی، اب تم ایک مہینے کے بعد میرے نکاح میں واپس لوٹ سکوگے۔“ معلوم یہ کرنا ہے کہ اس طلاق کی کیا نوعیت ہے؟ کیا ایک مہینے کے بعد بیوی خودبخود میرے بھائی کے نکاح میں داخل ہوجائے گی؟ اگر نہیں تو اس کو کیا کرنا چاہئے؟

ج… طلاق عارضی اور وقتی نہیں ہوتی، اس صورتِ مسئولہ میں ایک طلاق واقع ہوجائے گی، لیکن ایک مہینے کے بعد طلاق سے رُجوع ہوجائے گا، اس لئے بیوی بدستور نکاح میں رہے گی، مگر ایک طلاق ختم ہوچکی، اب وہ صرف دو طلاق کا مالک ہے۔

طلاق لکھ کر رجسٹری کردینے سے ہی طلاق ہوجاتی ہے اگرچہ عورت کو نہ پہنچی ہو

س… زید نے ایک گھرانے میں شادی کی، شادی کے تین ماہ بعد زید کی بیوی کے بھائی اسے زید کی غیرموجودگی میں اپنے گھر لے گئے، زید نے ایک طلاق لکھ کر رجسٹری کردی، لیکن زید کے ہمدردوں نے یہ رجسٹری منسوخ کرواکے زید کے گھر واپس بذریعہ ڈاک بھجوادی جو اَبھی تک زید کے پاس محفوظ ہے۔ عرض یہ ہے کہ اس صورت میں کیا زید اپنی بیوی سے رُجوع کرسکتا ہے؟ جبکہ اس طلاق کا علم زید کی بیوی کو نہیں ہے کیونکہ رجسٹری اس تک پہنچی ہی نہیں۔

ج… اگر رجسٹری میں ایک طلاق لکھی تھی تو لکھتے ہی ایک ”رجعی طلاق“ واقع ہوگئی، بیوی تک رجسٹری کا پہنچنا یا اس کو علم ہوجانا کوئی شرط نہیں، رجسٹری عورت تک پہنچے یا نہ پہنچے اور اس کو طلاق بھیجنے کا علم ہو یا نہ ہو، طلاق واقع ہوجاتی ہے۔ مگر چونکہ مذکورہ صورت میں ایک رجعی طلاق ہوئی، لہٰذا عدّت کے اندر رُجوع ہوسکتا ہے، اور عدّت ختم ہونے کے بعد دوبارہ نکاح ہوسکتا ہے۔

غصّے میں طلاق لکھ دینے سے طلاق واقع ہوجاتی ہے، کاغذ عورت کو دینا ضروری نہیں

س… میرے ایک دوست نے غصّے کی حالت میں اپنے سسرال والوں کے سامنے اپنی بیوی کو ایک سادہ کاغذ پر لکھ کر دیا کہ: ”میں چند ناگزیر وجوہ کی بنا پر تمہیں طلاق دیتا ہوں“ لیکن چونکہ میرے دوست کا اپنے سسر سے جھگڑا ہونے پر یہ واقعہ پیش آیا لہٰذا وہ کاغذ جس پر مندرجہ بالا عبارت لکھی ہوئی تھی وہ اس کی بیوی کے ماموں نے پکڑ کر پھاڑ دیا اور بعد میں دونوں فریقوں کو سمجھاکر دُوسرے دن ہی صلح کرادی، کیا مندرجہ بالا تحریر سے طلاق ہوگئی؟

ج… اگر طلاق نامے کے الفاظ وہی تھے جو سوال میں نقل کئے گئے ہیں تو ان الفاظ سے ایک ”رجعی طلاق“ ہوئی اور چونکہ عدّت کے اندر مصالحت کرلی، اس لئے دونوں کا میاں بیوی کی حیثیت سے رہنا صحیح ہے۔

کیا طلاق کے بعد میاں بیوی اجنبی ہوجاتے ہیں؟

س… ہمارے ایک دوست نے ۲۲ ماہ قبل ایک طلاق دی تھی، اس کے دو ماہ بعد اس کی بیوی نے پردہ کرنا شروع کردیا، پھر ان کی بیوی نے یہ کہا کہ طلاق ہوگئی، کیا یہ دُرست ہے؟

ج… ایک طلاق دینے سے ایک طلاقِ رجعی واقع ہوجاتی ہے، عدّت کے اندر اندر شوہر رُجوع کرسکتا ہے، اور بغیر تجدیدِ نکاح کے میاں بیوی کا تعلق بحال ہوسکتا ہے، اور عدّت (جو کہ تین حیض ہے) گزرنے کے بعد نکاح ختم ہوجاتا ہے اور دونوں اجنبی بن جاتے ہیں، چونکہ دو مہینے میں عدّت پوری ہوسکتی ہے اس لئے اگر شوہر نے رُجوع نہیں کیا تھا اور عورت یہ دعویٰ کرتی ہے کہ ان دو مہینوں میں وہ تین مرتبہ حیض سے فارغ ہوچکی ہے تو عورت کا دعویٰ لائقِ تسلیم ہے، اور دو مہینے کے بعد عورت کا پردہ کرنا بالکل صحیح تھا، اگر دونوں فریق رضامند ہوں تو دوبارہ نکاح اب بھی ہوسکتا ہے۔

حاملہ عورت سے رجوع کس طرح کیا جائے؟

س… میں نے اپنی پانچ ماہ کی حاملہ بیوی کو غصّے کی حالت میں طلاق دے دی، اور اَبھی تک رُجوع نہیں کیا ہے، اب جبکہ ولادت قریب ہے تو رُجوع کی کیا صورت ہوگی؟

ج… اگر رجعی طلاق دی تھی تو وضعِ حمل سے پہلے رُجوع ہوسکتا ہے، وضعِ حمل کے بعد عدّت ختم ہوجائے گی اس کے بعد رُجوع کا حق نہیں ہوگا۔ البتہ دونوں کی رضامندی سے دوبارہ نکاح ہوسکے گا۔ عدّت ختم ہونے سے پہلے رُجوع کرنے کی صورت یہ ہے کہ زبان سے کہہ دیا جائے کہ میں نے اپنی بیوی سے رُجوع کیا، یا میاں بیوی کا تعلق قائم کرلیا جائے، یا رُجوع کی نیت سے اس کو ہاتھ لگادیا جائے۔

ایک یا دو طلاق دینے سے مصالحت کی گنجائش رہتی ہے

س… ہم سنتے آئے ہیں کہ جب تک تین دفعہ طلاق نہیں دی جاتی، واقع نہیں ہوتی، مگر آپ نے دو دفعہ کو مکمل طلاق قرار دے دیا، کس طرح؟

ج… طلاق تو ایک بھی واقع ہوجاتی ہے، مگر ایک یا دو طلاق کے بعد رُجوع کی گنجائش ہوتی ہے، تین طلاق کے بعد رُجوع کی گنجائش نہیں رہ جاتی۔ اس لئے عوام کا یہ سمجھنا کہ طلاق ہوتی ہی نہیں، جب تک کہ تین مرتبہ نہ دی جائے، بالکل غلط ہے۔ تین طلاق بیک وقت دینا جائز نہیں اور اگر کوئی دے ڈالے تو مصالحت کی گنجائش ختم ہوجاتی ہے۔

نوٹ:… رُجوع کی کئی صورتیں ہوسکتی ہیں، یا تو زبان سے کہہ دے کہ میں نے طلاق سے رُجوع کیا، یا میاں بیوی کے تعلقات قائم کرلیں۔ اس کے علاوہ بوس و کنار سے بھی رُجوع ثابت ہوجاتا ہے، اسی لئے طلاقِ رجعی میں دوبارہ نکاح کی ضرورت نہیں ہوتی، جب تک عورت کی عدّت ختم نہ ہوجائے۔

کیا دو مرتبہ طلاق دینے کے بعد کفارہ دے کر عورت کو اپنے گھر میں رکھ سکتا ہے؟

س… ایک شخص عاشق حسین نے اپنی بیوی کو دو مرتبہ طلاق دے دی، اب کچھ لوگ کہتے ہیں طلاق نہیں ہوئی، کیا اس کا کچھ کھانا بطور کفارہ دے کر بیوی کو گھر میں رکھ لے؟

ج… اگر صرف دو مرتبہ طلاق کا لفظ کہا تھا تو عدّت کے اندر رُجوع کرسکتا ہے اور عدّت گزرنے کے بعد دوبارہ نکاح ہوسکتا ہے، کھانا وغیرہ دینے کی ضرورت نہیں۔ لیکن اب اگر تیسری بار طلاق دے گا تو دونوں ایک دُوسرے کے لئے حرام ہوجائیں گے اور بغیر شرعی حلالہ کے دوبارہ نکاح بھی نہیں ہوسکے گا۔

زبانی طلاق دینے سے طلاق ہوجاتی ہے

س… میرے بہنوئی صاحب جو کہ ہمارے ساتھ ہی رہتے ہیں، انہوں نے ایک دن غصّے میں آکر میری بہن کو دو بار زبانی طلاق دی، آپ سے گزارش ہے کہ کیا اسلام کی رُو سے طلاق ہوگئی ہے کہ نہیں؟

ج… زبانی طلاق دینے سے بھی طلاق ہوجاتی ہے، لہٰذا آپ کی بہن کو دو طلاقیں ہوگئی ہیں، عدّت کے اندر رُجوع کرسکتے ہیں اور عدّت کے بعد دوبارہ نکاح ہوسکتا ہے۔ آئندہ اگر ایک طلاق اور دیں گے تو طلاقِ مغلّظہ ہوجائے گی اور بغیر حلالہ کے نکاح صحیح نہیں ہوگا۔

کیا دو طلاق دینے والا شخص ساڑھے تین مہینے کے بعد عورت کو دوبارہ اپنے گھر بساسکتا ہے؟

س… ایک ہفت روزہ میں ایک صاحب مذہبی کالم لکھتے ہیں، جس میں وہ لوگوں کے مسائل کے جواب دیتے ہیں۔ راولپنڈی کی ایک خاتون نے ان سے دریافت کیا کہ اس خاتون کے شوہر نے انہیں دو مرتبہ طلاق دے دی جس کے بعد وہ اپنے میکے چلی گئیں، تقریباً ساڑھے تین ماہ بعد ان کے شوہر آکر انہیں لے گئے، لیکن انہوں نے ذہنی طور پر اپنے شوہر کو قبول نہ کیا۔ وہ اس وجہ سے پریشان تھیں کہ انہیں معلوم نہیں کہ دو مرتبہ طلاق دینے سے طلاق ہوجاتی ہے یا نہیں؟ یہی ان کے سوال پوچھنے کا مقصد تھا، جواب میں ان صاحب نے لکھا کہ: ”جس چیز کو ذہن قبول نہ کرے اس میں صلاح و مشورے کی گنجائش ہے۔“ حالانکہ میری معلومات جہاں تک ہیں، ان کے مطابق دو مرتبہ طلاق دینے سے طلاق ہو تو جاتی ہے لیکن اس میں صلح کی گنجائش بہرحال موجود ہے۔

ج… اس مسئلہ کا صحیح جواب یہ ہے کہ ایک مرتبہ یا دو مرتبہ طلاق دینے سے طلاق تو ہوجاتی ہے، لیکن شوہر کو عدّت کے اندر اندر رُجوع کرلینے کا حق ہوتا ہے، اور عدّت ختم ہوجانے کے بعد تجدیدِ نکاح کی ضرورت ہوتی ہے۔ پس ان صاحبہ کے شوہر نے اگر عدّت کے اندر رُجوع کرلیا تھا تو نکاح قائم رہا، اور اگر رُجوع نہیں کیا تھا تو تجدیدِ نکاح کے بغیر دوبارہ اس شوہر کے گھر آباد ہونا جائز نہیں۔