زوجیت کے حقوق

لڑکی پر شادی کے بعد کس کے حقوق مقدّم ہیں؟

س… لڑکی پر شادی کے بعد ماں باپ کے حقوق مقدّم ہیں یا شوہرِ نام دَار کے؟

ج… شوہر کا حق مقدّم ہے۔

بغیر عذر عورت کا بچے کو دُودھ نہ پلانا ناجائز ہے

س… خداوند کریم رازق العباد ہے، اس نے بچے کا رزق (دُودھ) اس کی ماں کے سینے میں اُتارا، اگر اس کی ماں بلاکسی شرعی عذر کے جبکہ ڈاکٹر نے بھی منع نہ کیا ہو، بلکہ صرف اس عذر پر کہ وہ ملازمت کرتی ہے، بچے کو دُودھ پلانے سے کمزوری واقع ہوگی یا حسن میں بگاڑ پیدا ہوگا، بچے کو اپنا دُودھ نہ پلائے تو کیا ایسی ماں کا شمار غاصبوں میں نہ ہوگا اور کیا وہ سزاوار نہ ہوگی؟ آپ اَز رُوئے شرع فرمائیے کہ ایسی عورت کو کیا سزا ملے گی؟

ج… بچے کو دُودھ پلانا دیانتاً ماں کے ذمہ واجب ہے، بغیر کسی صحیح عذر کے اس کو انکار کرنا جائز نہیں، اور چونکہ اس کے اخراجات شوہر کے ذمہ ہیں اس لئے ملازمت کا عذر معقول نہیں، اسی طرح حسن میں بگاڑ کا عذر بھی صحیح نہیں۔

بیوی بچوں کے حقوق ضائع کرنے کا کیا کفارہ ہے؟

س… میرے بڑے بھائی جو اَب پاکستان میں عرصہ ۲۵ سال سے ہیں، ہندوستان ضلع سہارن پور میں بیوی اور ۵ بچوں کو چھوڑ آئے اور یہاں پر دُوسری شادی کی اور پاکستان میں بھی ان کی اولاد ہے۔ جب سے یہ پاکستان آئے ہیں پہلی بیوی کی کفالت کے لئے کچھ نہیں کیا، اور نہ پہلی بیوی کو طلاق دی اور نہ دوبارہ ہندوستان گئے۔ ایسی صورت میں کیا وہ بیوی ان کے نکاح میں موجود ہے؟ کیا پاکستان میں بڑے بھائی کی جائیداد میں پہلی بیوی اور بچوں کا حق ہے؟ اگر ہے تو اس کا کیا حساب ہے؟ اب بڑھاپے میں وہ پچھتا رہے ہیں اور کفارہ ادا کرنا چاہتے ہیں، ان کے لئے شرعی حکم کیا ہے؟

ج… جب پہلی بیوی کو طلاق نہیں دی تو ظاہر ہے کہ وہ ابھی اس کے نکاح میں ہے، اور بیوی بچوں کو اس طرح بے سہارا چھوڑ دینے کی وجہ سے وہ گنہگار ہوئے۔ اب اس کا کفارہ اس کے سوا کیا ہوسکتا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے بھی معافی مانگیں اور بیوی بچوں کے جو حقوق ضائع کئے ان سے بھی معافی مانگیں۔ پاکستان میں ان کی جو جائیداد ہے اس میں پہلی بیوی اور اس کے بچوں کا بھی برابر کا حصہ ہے۔

شوہر کا غلط طرزِ عمل، عورت کی رائے

س… روزنامہ ”جنگ“ صفحہ ”اقرأ“ پر مندرجہ بالا عنوان کے تحت جو واقعہ شائع ہوا تھا، پڑھ کر حیرتوں کے پہاڑ ٹوٹ پڑے، چونکہ اس قسم کے حالات سے ہم لوگ گزر رہے ہیں، تین بچے جن کی عمر اَٹھارہ اور اَٹھارہ سے زیادہ ہے، زیرِ تعلیم ہیں۔ ٹیوشنز کرکے اپنے اخراجات پورے کر رہے ہیں۔ دو بچے جن کی عمریں دس سال، گیارہ سال کی ہیں، اسکول میں زیرِ تعلیم ہیں۔ میں دِل کی مریضہ ہوں، قاعدے سے بیٹی کو میری دیکھ بھال کرنی تھی لیکن اس کو اپنی ضروریات سے اس قدر مجبور کردیا گیا کہ پیروں میں چپل اور سر پر دوپٹہ نہ رہا تو اس نے مجبور ہوکر ملازمت کرلی، حالانکہ جس سرکاری ادارے سے میرے میاں کو ریٹائر کیا گیا ہے، وہاں سے طبّی سہولتیں اب بھی بحال ہیں لیکن ہم بیمار پڑتے ہیں تو دوائیں لاکر نہیں دی جاتیں، میرا ہر ماہ چیک اَپ ہوتا ہے اسے بھی بڑی تگ و دو کے بعد لڑائی جھگڑے کے بعد کرایا جاتا ہے۔ ہم سے کہا جاتا ہے کہ علاج بند کرو، ڈاکٹر لکھ کر نہیں دیتا، حالانکہ اس سرکاری دفتر کے ڈاکٹر نے خود کہا کہ ہم ضرورت پڑنے پر ایک ماہ کی بجائے ہفتے بھر بعد بھی مریضوں کو بھیج دیتے ہیں۔ دو وقت کی روٹی دے کر وہ ہمیں اتنے طعن و تشنیع دیتا ہے کہ اب ہمارے اعصاب برداشت نہیں کرپاتے، اگر احتجاج کیا جاتا ہے تو وہ مجھے طلاق کی دھمکی دیتا ہے، ہر وقت گھر میں ہنگامہ برپا رکھتا ہے۔ بڑے بیٹے نے صرف اتنا کہہ دیا تھا کہ آپ ہماری ماں کو بلاوجہ کیوں تنگ کرتے ہیں تو چپل اُٹھاکر کان پر ماری، کان کا پردہ پھٹ گیا۔ کہتا ہے کہ اگر لڑکے بولے تو میں سڑک پر کپڑے پھاڑ کر نکل جاوٴں گا اور کہوں گا کہ میری اولاد نے مجھے مارا ہے۔ جوان بیٹی گھر میں ہے، ہم اس کی عزّت کی خاطر سب کچھ برداشت کر رہے ہیں۔ جتنا فنڈ ملا تھا امریکہ لے کر چلا گیا، ایک سال بعد واپس آیا ہے تو ہر وقت چھوڑ دینے کی دھمکی اور طلاق کی دھمکی دیتا ہے۔ میں تعلیم یافتہ ہوں لیکن گھریلو ذمہ داریاں، بیماری نے ملازمت کے قابل نہیں چھوڑا، پھر ہر وقت کی ذہنی اذیت نے اعصاب پر بہت بُرا اثر ڈالا ہے، میں زیرِ تعلیم بچوں کو اس سے بچانے کے لئے سرگرداں ہوں، لیکن کوئی حل سمجھ میں نہیں آتا۔ خودکشی کرنے سے میرے بچوں کا کیرئیر ختم ہوجائے گا، جو میرا سہارا ہے وہ بھی ختم ہوجائے گا۔ پھر جب اتنا صبر کیا ہے تو اتنا بڑا گناہ اپنے سر کیوں لوں؟ خدارا ہمیں بتائیں کہ ہم کیا کریں؟ آپ کو اللہ کا واسطہ جلد اس کا تفصیلی جواب شائع کریں۔

ج… حدیث شریف میں فرمایا ہے کہ:

”عن عبدالرحمٰن بن عوف رضی الله عنہ قال: قال رسول الله صلی الله علیہ وسلم: خیرکم خیرکم لأھلہ وأنا خیرکم لأھلی۔ رواہ البزار۔“

(مجمع الزوائد ج:۴ ص:۳۰۳)

ترجمہ:… ”تم میں سب سے اچھا وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے لئے اچھا ہو، اور میں اپنے گھر والوں کے لئے تم سب سے اچھا ہوں۔“

میاں بیوی کی چپقلش گھر کو جہنم بنادیتی ہے، جس میں وہ خود بھی جلتے ہیں اور اولاد کو بھی جلاتے ہیں، یہ تو دُنیا کی سزا ہوئی، آخرت کی سزا ابھی سر پر ہے، گھر کا سکون برباد کرنے میں قصور کبھی مرد کا ہوتا ہے، کبھی عورت کا، اور کبھی دونوں کا۔ جب دونوں کے درمیان اَن بن ہوتی ہے تو ہر ایک اپنے کو مظلوم اور دُوسرے کو ظالم سمجھتا ہے۔ گھر کی اصلاح کی صورت یہ ہے کہ ہر ایک دُوسرے کے حقوق ادا کرے، خوش خلقی کا معاملہ کرے، نرمی اور شیریں زبان اختیار کرے اور اگر کوئی ناگوار بات پیش آئے تو اس کو برداشت کرے۔ خصوصاً مرد کا فرض ہے کہ وہ صبر و تحمل کا مظاہرہ کرے، عورت فطرتاً کمزور اور جذباتی ہوتی ہے، اس کی کمزوری کی رعایت کرے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ حجةالوداع میں عورتوں کے بارے میں خصوصی تاکید اور وصیت فرمائی تھی، اس کا لحاظ رکھے۔ اکثر گھروں میں میاں بیوی دونوں اللہ کی نافرمانیاں کرتے ہیں، اس کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ ان کے درمیان نفرت اور عداوت پیدا کردیتے ہیں، اس لئے تمام مسلمان گھرانوں کو چاہئے کہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے بچیں اور گناہوں سے پرہیز کریں۔ بہت سے لوگ جانتے ہی نہیں کہ فلاں کام گناہ کا ہے، اور بعض جانتے ہیں مگر اس کو ہلکا سمجھ کر بے پروائی کرتے ہیں، پھر جب اللہ تعالیٰ وبال ڈالتے ہیں تو چِلَّاتے ہیں، لیکن گناہوں کو پھر بھی نہیں چھوڑتے۔ بزرگانِ دِین نے قرآن و حدیث سے اخذ کرکے گناہوں کی ۳۶ قسم کی نحوستیں اور وبال ذکر فرمائے ہیں، جن میں عام طور سے ہم مبتلا ہیں، ان ہی میں سے ایک آپس کی نااتفاقی بھی ہے، حق تعالیٰ شانہ ہم پر رحم فرمائیں۔

بہرحال خودکشی یا ایک دُوسرے کی شکایات یا آپس میں طعن و تشنیع تو آپ کے مسئلے کا حل نہیں، صحیح حل یہ ہے کہ:

۱:… آج سے طے کرلیں کہ گھر میں اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نہیں کریں گے۔

۲:… ایک دُوسرے کے حقوق ادا کریں گے، اور دُوسرا فریق اگر حقوق کے ادا کرنے میں کوتاہی کرتا ہے تب بھی صبر و تحمل سے کام لیں گے، اور گھر میں جھک جھک بک بک نہیں ہونے دیں گے۔

۳:… گھر میں اگر کسی بات پر رنجش پیدا ہوجائے تو آپس میں صلح صفائی کرلیا کریں گے۔

شوہر سے اندازِ گفتگو

س… اگر بیوی، شوہر کو ناحق بات پر ٹوکے اور وہ بات صحیح ہو، لیکن شوہر بُرا مان جائے تو کیا یہ گناہ ہے؟ اور وہ بات بے دھڑک اس وقت کہہ دیں یا بعد میں آرام سے کہیں؟

ج… شوہر اگر غلط کام کرے تو اس کو ضرور ٹوکا جائے مگر لب و لہجہ نہ تو گستاخانہ ہو، نہ تحکمانہ، نہ طعن و تشنیع کا، بلکہ بے حد پیار و محبت کا اور دانش مندانہ ہونا چاہئے، پھر ممکن نہیں کہ اس کی اصلاح نہ ہوجائے۔

شوہر بیوی کو والدین سے قطع تعلق کرنے پر مجبور نہیں کرسکتا

س… اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو اس کے والدین سے ملنے نہ دے تو بیوی کو کیا کرنا چاہئے؟ جبکہ والدین کے بھی تو اولاد پر بے شمار احسانات ہوتے ہیں، تو شوہر کا حکم ماننا ضروری ہے یا والدین کو چھوڑ دینا؟

ج… شوہر کو اس کا حق نہیں، اور نہ شوہر کے کہنے پر والدین سے تعلق توڑنا ہی جائز ہے، ہاں! شوہر کی ممانعت کی کوئی خاص وجہ ہو تو وہ لکھی جائے، ویسے عورت پر بہ نسبت والدین کے شوہر کا حق مقدّم ہے۔

بیوی شوہر کے حکم کے خلاف کہاں کہاں جاسکتی ہے؟

س… کیا بیوی شوہر کے حکم کے خلاف کہیں جاسکتی ہے؟

ج… نہیں جاسکتی، البتہ چند صورتوں میں جاسکتی ہے:

۱:… اپنے والدین کو دیکھنے کے لئے ہر ہفتہ جاسکتی ہے۔

۲:… دُوسرے محرَم عزیزوں سے ملنے کے لئے سال میں ایک مرتبہ جاسکتی ہے۔

۳:… باپ اگر محتاج ہو، مثلاً: اپاہج ہو اور اس کی خدمت کرنے والا کوئی نہ ہو تو اس کی خدمت کے لئے روزانہ جاسکتی ہے، یہی حکم ماں کے محتاجِ خدمت ہونے کا ہے۔

شوہر کی اجازت کے بغیر خرچ کرنا

س… کیا شوہر کے گھر کے اخراجات کے لئے دئیے ہوئے پیسوں میں سے بیوی ان لوگوں پر برائے نام کچھ خرچ کرسکتی ہے جو جان اور مال سے بیوی کے کام آتے ہوں، گو شوہر کو کچھ ناگواری ہو؟

ج… ایسے خرچ سے جو شوہر کو ناگوار ہو، احتراز کرنا چاہئے، البتہ اس کی تدبیر یہ ہوسکتی ہے کہ شوہر سے کچھ رقم اپنے ذاتی خرچ کے لئے لی جائے اور اس میں سے یہ خرچ کیا جائے۔

بیوی سے ماں کی خدمت لینا

س… باپ کی خدمت کے لئے تو اس کے کام میں ہاتھ بٹاکر اور اس کا حکم مان کر کی جاسکتی ہے، اگر ماں بوڑھی ہو اور گھر کا پورا کام کاج نہ کرسکتی ہو تو کیا بیوی سے یہ نہ کہا جائے کہ وہ ماں کے کام میں ہاتھ بٹائے؟ اس طرح ماں کی خدمت بھی ہوسکتی ہے۔ لیکن آپ پہلے فرماچکے ہیں کہ اگر بیوی ساس سے خوش نہ ہو تو اس کو الگ گھر میں لے جاوٴ۔ اس طرح تو خدمت کرنے کا ذریعہ ختم ہوجائے گا، تو کیا اس صورت میں بیوی سے یہ نہ کہا جائے کہ وہ ماں کی خدمت کرے یا اس صورت میں بھی اس کو الگ گھر میں لے جایا جائے؟ اگر ایسا ہو تو پھر ماں کی خدمت کیسے ہوگی؟ کیونکہ صرف حکم ماننے سے تو ماں کی خدمت نہ ہوگی۔

ج… بیوی اگر اپنی خوشی سے شوہر کے والدین کی خدمت کرتی ہے تو یہ بہت اچھی بات ہے، اور بیوی کے لئے موجبِ سعادت۔ لیکن یہ اخلاقی چیز ہے، قانونی نہیں۔ اگر بیوی شوہر کے والدین سے الگ رہنا چاہے تو شوہر شرعی قانون کی رُو سے بیوی کو اپنے والدین کی خدمت پر مجبور نہیں کرسکتا۔

میاں بیوی کے درمیان تفریق کرانا گناہِ کبیرہ ہے

س… شوہر کو اس کی بیوی سے بدظن کرنا کیسا فعل ہے؟

ج… حدیث میں ہے کہ: ”وہ شخص ہم میں سے نہیں جو عورت کو اس کے شوہر کے خلاف بھڑکائے۔“ (ابوداوٴد ج:۱ ص:۲۹۶) اس سے معلوم ہوا کہ میاں بیوی کے درمیان منافرت پھیلانا اور ایک دُوسرے سے بدظن کرنا گناہِ کبیرہ ہے، اور ایسا کرنے والے کے بارے میں فرمایا کہ: ”وہ مسلمانوں کی جماعت میں شامل نہیں“ جس کا مطلب یہ ہے کہ اس کا یہ فعل مسلمانوں کا نہیں۔ اور قرآنِ کریم میں میاں بیوی کے درمیان تفریق پیدا کرنے کو یہودی جادُوگروں کا فعل بتایا ہے۔

عورت کا مہر ادا نہ کرنے اور جہیز پر قبضہ کرنے والے شوہر کا شرعی حکم

س… اگر مرد، عورت کا مہر ادا کرنے سے انکار کردے اور جہیز بھی جبراً اپنے قبضے میں کرلے تو اسلامی قوانین کیا کہتے ہیں؟

ج… وہ ظالم اور جابر ہے، حکومت اس سے عورت کے یہ حقوق دِلوائے اور اس کو تعزیر بھی کرے۔

بے نمازی بیوی کا گناہ کس پر ہوگا؟

س… اللہ تعالیٰ نے قرآن میں ارشاد فرمایا ہے کہ: ”اپنے اہل و عیال کو نماز کی تاکید کرو اور خود بھی اس کی پابندی کرو۔“ اگر کوئی شخص خود پابندی سے نماز پڑھتا ہو اور اپنی بیوی کو نماز کی تاکید کرے اس کے باوجود بیوی نماز نہ پڑھے تو اس کا گناہ کس کو ملے گا؟ بیوی کو یا شوہر کو؟ مہربانی فرماکر میرے سوال کا جواب تفصیل سے دیں۔

ج… شوہر کی تاکید کے باوجود اگر بیوی نماز نہ پڑھے تو وہ اپنے عمل کی خود ذمہ دار ہے، شوہر گنہگار نہیں، مگر ایسی نالائق عورت کو گھر میں رکھا ہی کیوں جائے؟

کیا شوہر مجازی خدا ہوتا ہے؟

س… ایک ہفت روزہ میں ”مسائل“ کے کالم میں ایک عورت نے لکھا ہے کہ: ”اس کا شوہر بدصورت ہونے کی وجہ سے اسے ناپسند ہے، لہٰذا اس شخص کے ساتھ رہنے میں لغزش ہوسکتی ہے، اور وہ خلع چاہتی ہے، جبکہ اس عورت کے والدین کہتے ہیں کہ شوہر کو بدصورت کہنا گناہ ہوتا ہے۔“ تو اسے جواباً بتایا گیا کہ: ”شوہر کو خدا سمجھ لینے کا تصوّر ہندو عورتوں کا ہے، ورنہ اسلام میں نکاح طرفین کی خوشی سے ہوتا ہے اور اگر وہ عورت چاہے تو لغزش سے بچنے کے لئے خلع لے سکتی ہے، کیونکہ نکاح کا مقصد ہی معاشرتی بُرائی سے بچنا ہے۔“ اب سوال یہ ہے کہ کیا واقعی شوہر کو مجازی خدا سمجھنا ہندووٴں کا طریقہ ہے؟ اگر ایسا ہے تو میں نے اب تک اپنی اطاعت گزار بیوی پر خود کو مجازی خدا اور باحیثیت مرد حاکم سمجھ کر جو ظلم کئے ہیں کیا میں گنہگار ہوا ہوں، یا اپنی لاعلمی کی وجہ سے بے قصور ہوں، یا مجھے اپنی بیوی سے معافی مانگنی ہوگی؟ کہ خدا مجھ کو معاف کردے یا میں حق پرہوں اور یہ بات غلط ہے کہ شوہر کو مجازی خدا سمجھنا ہندووٴں کا طریقہ ہے؟

ج… اللہ تعالیٰ نے مرد کو عورت پر حاکم بنایا ہے، مگر نہ وہ حقیقی خدا ہے اور نہ مجازی خدا۔ حاکم کی حیثیت سے اسے بیوی پر ظلم و ستم توڑنے کی اجازت نہیں، نہ اس کی تحقیر و تذلیل ہی روا ہے۔ جو شوہر اپنی بیویوں پر زیادتی کرتے ہیں وہ بدترین قسم کے ظالم ہیں۔ آپ کو اپنی بیوی سے حسنِ سلوک کے ساتھ پیش آنا چاہئے اور جو ظلم و زیادتی کرچکے ہیں اس کی تلافی کرنی چاہئے۔ شوہر کو خدائی منصب پر فائز سمجھنا ہندووٴں کا طریقہ ہو تو ہو اسلام کا طریقہ بہرحال نہیں۔ البتہ عورت کو اپنے شوہر کی عزّت و احترام کا یہاں تک حکم ہے کہ اس کا نام لے کر بھی نہ پکارے، اور اس کے کسی بھی جائز حکم کو مسترد نہ کرے، اور اگر شوہر سے عورت کا دِل نہ ملتا ہو، خواہ شوہر کی بدصورتی کی وجہ سے، خواہ اس کی بدخلقی کی وجہ سے، خواہ اس کی بددِینی کی وجہ سے، خواہ کسی اور وجہ سے، تو اس کو خلع لینے کی اجازت ہے۔

نافرمان بیوی کا شرعی حکم

س… ہمارے پڑوس میں ایک کنبہ آباد ہے، ویسے تو میاں بیوی میں تعلقات نہایت اچھے تھے، میاں بے حد شریف ہے، ایک روز کسی بات پر بیوی نے ضد کی جو ناجائز قسم کی ضد تھی، میاں نے بہت صبر کیا مگر بیوی کی دوبارہ ضد پر میاں کو غصہ آگیا اور انہوں نے بیوی کو ایک تھپڑ ماردیا، بیوی نے اس پر میاں اور اس کے والدین کے لئے ”کنجر“ جیسا ناپاک لفظ استعمال کیا اور اپنے میکے چلی گئی۔ والدہ نے اس کے اس طرح آجانے پر ناراضگی کا اظہار کیا تو وہ پھر آگئی، مگر دونوں میں بات چیت نہیں ہے، اور نہ ہی بیوی میاں کو منانے کی کوشش کرتی ہے، واقعہ بالا پر قرآن و حدیث کی روشنی میں اپنی قیمتی رائے سے مستفید فرمائیں۔

ج… منہ پر تھپڑ مارنے کی حدیث شریف میں بہت سخت ممانعت آئی ہے، اس لئے شوہر نے بڑی زیادتی کی، عورت کی بے جا ضد پر شوہر کو اس طرح مشتعل نہیں ہونا چاہئے، اور اس نیک بخت نے جو تھپڑ کا جواب گندی گالی سے دیا یہ اس سے بھی زیادہ بُری بات تھی۔ عورت کے لئے شوہر کی بے ادبی جائز نہیں اور گالی گلوچ تو گناہِ کبیرہ ہے۔ حدیث میں ہے کہ: ”تین آدمی ایسے ہیں جن کی نہ نماز قبول ہوتی ہے، نہ کوئی اور نیکی، ان تین میں سے ایک وہ عورت ہے جس کا شوہر اس سے ناراض ہو۔“ ایک اور حدیث میں ہے کہ: ”فرشتے ایسی عورت پر لعنت کرتے ہیں۔“ شوہر کو چاہئے کہ بیوی کی دِلجوئی کرے اور بیوی نے اگر جذبات میں نامناسب الفاظ کہہ دئیے تو اس کو اپنے میاں سے معافی مانگ لینی چاہئے اور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں بھی توبہ کرنی چاہئے۔

نافرمان بیوی سے معاملہ

س… بیوی اگر نافرمان ہو اور زبان دراز ہو، شوہر کا کہنا نہ مانتی ہو تو اس صورت میں کیا کیا جائے؟ میں قرآن شریف اور حدیث شریف کے مطابق عمل کرچکا ہوں، آخری صورت آپ بتادیں۔

ج… اسے اوّلاً نرمی اور اخلاق سے سمجھائیے، اگر نہ سمجھے تو معمولی تنبیہ سے کام لیں، اور اگر اس پر بھی نہ سمجھے تو اختیار ہے کہ طلاق دے دیں۔

حقوقِ زوجیت سے محروم رکھنے والی بیوی کی سزا

س… اگر خاوند مسلسل نو، دس برس سے اپنی بیوی کے نان نفقہ اور جملہ اخراجات فراخ دِلی سے ادا کر رہا ہو اور بیوی نے اس سارے عرصے میں اپنے خاوند کو حقوقِ زوجیت سے محروم رکھا ہو تو اس کی شریعتِ محمدی میں کیا سزا ہے؟

ج… ایسی عورت جو بغیر کسی صحیح عذر کے شوہر کے حقوق ادا نہ کرے، اس کے لئے دُنیا میں تو یہ سزا ہے کہ شوہر اس کو طلاق دے سکتا ہے، اور آخرت میں ایسی عورت رحمت سے محروم ہوگی۔

والدہ کو تنگ کرنے والی بیوی سے کیا معاملہ کیا جائے؟

س… میں نے چند سال قبل شادی کی اور شادی کے پہلے ہفتے ہی بیگم صاحبہ اور ساس صاحبہ نے ہاتھ دِکھانے شروع کردئیے، میری ماں بہت ہی عاجز ہے، میری بیوی نے اس کے ساتھ لڑنا شروع کردیا اور اس کے بعد گھر سے زیورات اور باقی سامان چوری کرکے میری والدہ کے ذمہ لگادیا جو کہ بعد میں میری بیوی اور اس کی والدہ سے برآمد ہوا۔ اس وجہ سے میں بھی دِلبرداشتہ ہوا اور وہ بھی گھر چھوڑ کر چلی گئی۔ اس کے ڈھائی سال بعد میں نے دُوسری شادی کرلی، جس سے ما شاء اللہ ایک بچہ بھی ہے، اس کے بعد برادری والوں نے پھر صلح صفائی کروادی، جب وہ واپس آئی تو پھر اس نے کچھ عرصہ بعد وہی لڑائی جھگڑا کھڑا کردیا جس کی وجہ سے مجھے دُوسری بیوی کو الگ کرنا پڑا، اب اس سے مجھے اولاد بھی کوئی نہیں ہے، وہ میری ماں کو بہت تنگ کرتی ہے یہاں تک کہ گالیاں دیتی ہے، اور اَب میں اس کو طلاق دینا چاہتا ہوں، اور میرے والد صاحب کہتے ہیں کہ طلاق نہ دو۔ کیا شرعی طور پر اس کو طلاق دُوں یا نہ دُوں؟ اور کیا اس میں والد صاحب کی نافرمانی تو نہیں ہوگی؟ یہ جواب قرآن و سنت کی روشنی میں دیں۔ یاد رہے کہ میری والدہ بس ہر وقت روتی رہتی ہیں۔

ج… فقہاء نے یہ قاعدہ لکھا ہے کہ خدمت تو ماں کی مقدّم ہے اور حکم باپ کا مقدّم ہے، اگر آپ کے والد صاحب طلاق دینے سے مانع ہیں تو ان کا منشا بھی محض شفقت ہے، آپ والدہ کی تکلیف ان کی خدمت میں عرض کرکے ان سے طلاق دینے کی اجازت حاصل کرسکتے ہیں، یا مشورہ اور غور و فکر کے بعد والدہ کی تکلیف کا حل تلاش کرسکتے ہیں، مثلاً: اپنی اہلیہ کی رہائش کا بندوبست کرکے والدہ سے الگ کردیں۔ بہرحال جیسا کہ آپ نے لکھا ہے اگر آپ کی بیوی اطاعت شعار نہیں تو آپ اسے طلاق دے کر گنہگار نہیں ہوں گے، اِن شاء اللہ۔

آپ اپنے شوہر کے ساتھ الگ گھر لے کر رہیں

س… میں آپ کا کالم اخبار ”جنگ“ جمعہ ایڈیشن میں پابندی سے پڑھتی ہوں، اور آپ کے جواب سے بے حد متأثر ہوں۔ اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر عطا کرے۔ میری شادی کو ڈھائی سال ہوگئے ہیں، اس عرصے میں میرے سسرال والوں سے میری معمولی معمولی بات میں نہیں بنتی، ان لوگوں نے مجھے کبھی پیار محبت سے نہیں دیکھا اور میری بیٹی کے ساتھ بھی وہ لوگ بہت تنگ مزاج ہیں، بات بات پر طنز کرنا، کھانے کے لئے جھگڑا کرنا، کاروبار ہمارے یہاں مل کر کرتے ہیں اور تمام محنت میرے شوہر ہی کرتے ہیں، الحمدللہ ہمارے یہاں رزق میں بے حد برکت ہے۔ ڈھائی سال کے عرصے میں، میں کئی بار اپنی والدہ کے یہاں آگئی، اور ان لوگوں کے کہنے پر کہ اب کوئی جھگڑا نہیں ہوگا، بڑوں کا لحاظ کرتے ہوئے اپنے والدین کا کہنا مانتے ہوئے میں معافی مانگ کر دوبارہ چلی جاتی۔ تھوڑے عرصے تک ٹھیک رہتا پھر وہی حال۔ اس بار بھی میرے شوہر اور ان کے والد میں معمولی بات پر جھگڑا ہوگیا اور میں مع شوہر اپنی والدہ کے یہاں ہوں۔ میرے شوہر اور میں دونوں چاہتے ہیں کہ ماں باپ کی دُعاوٴں اور پیار محبت سے الگ مکان لے لیں، کاروبار سے الگ نہ ہوں، اس لئے کہ ماں باپ کی خدمت بھی ہو، وہ لوگ دوبارہ بلاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اب ہم کچھ نہیں کہیں گے، جیسے پہلے کہتے تھے۔ آپ بتائیے کہ جب گھر میں روز جھگڑا ہو تو برکت کہاں سے رہے گی؟ آپ ہمیں مشورہ دیں کہ کیا ہم الگ مکان لے لیں؟ ان مسائل کا حل بتائیے۔ اللہ تعالیٰ آپ کو اَجر دے گا اور میں تازندگی دُعا دیتی رہوں گی، میں بے حد دُکھی ہوں۔

ج… آپ کا خط غور سے پڑھا، ساس، بہو کا تنازع تو ہمیشہ سے پریشان کن رہا ہے اور جہاں تک تجربات کا تعلق ہے اس میں قصور عموماً کسی ایک طرف کا نہیں ہوتا بلکہ دونوں طرف کا ہوتا ہے۔ ساس، بہو کی ادنیٰ ادنیٰ باتوں پر تنقید کیا کرتی اور ناک بھوں چڑھایا کرتی ہے، اور بہو جو اپنے میکے میں ناز پروردہ ہوتی ہے، ساس کی مشفقانہ نصیحت کو بھی اپنی توہین تصوّر کرتی ہے، یہ دو طرفہ نازک مزاجی مستقل جنگ کا اکھاڑہ بن جاتی ہے۔

آپ کے مسئلے کا حل یہ ہے کہ اگر آپ اتنی ہمت اور حوصلہ رکھتی ہیں کہ اپنی خوش دامن کی ہر بات برداشت کرسکیں، ان کی ہر نازک مزاجی کا خندہ پیشانی سے استقبال کرسکیں اور ان کی کسی بات پر ”ہوں“ کہنا بھی گناہ سمجھیں تو آپ ضرور ان کے پاس دوبارہ چلی جائیں، اور یہ آپ کی دُنیا و آخرت کی سعادت و نیک بختی ہوگی۔ اس ہمت و حوصلے اور صبر و استقلال کے ساتھ اپنے شوہر کے بزرگ والدین کی خدمت کرنا آپ کے مستقبل کو لائقِ رشک بنادے گا اور اس کی برکتوں کا مشاہدہ ہر شخص کھلی آنکھوں سے کرے گا۔

اور اگر اتنی ہمت اور حوصلہ آپ اپنے اندر نہیں پاتیں کہ اپنی رائے اور اپنی ”انا“ کو ان کے سامنے یکسر مٹاڈالیں تو پھر آپ کے حق میں بہتر یہ ہے کہ آپ اپنے شوہر کے ساتھ الگ مکان میں رہا کریں۔ لیکن شوہر کے والدین سے قطع تعلق کی نیت نہ ہونی چاہئے، بلکہ یہ نیت کرنی چاہئے کہ ہمارے ایک ساتھ رہنے سے والدین کو جو اذیت ہوتی ہے اور ہم سے ان کی جو بے ادبی ہوجاتی ہے، اس سے بچنا مقصود ہے۔ الغرض اپنے کو قصوروار سمجھ کر الگ ہونا چاہئے، والدین کو قصور وار ٹھہراکر نہیں، اور الگ ہونے کے بعد بھی ان کی مالی و بدنی خدمت کو سعادت سمجھا جائے، اپنے شوہر کے ساتھ میکے میں رہائش اختیار کرنا موزوں نہیں، اس میں شوہر کے والدین کی سبکی ہے۔ ہاں! الگ رہائش اور اپنا کاروبار کرنے میں میکے والوں کا تعاون حاصل کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں۔

میں نے آپ کی اُلجھن کے حل کی ساری صورتیں آپ کے سامنے رکھ دی ہیں، آپ اپنے حالات کے مطابق جس کو چاہیں اختیار کرسکتی ہیں، آپ کی وجہ سے آپ کے شوہر کا اپنے والدین سے رنجیدہ و کبیدہ اور برگشتہ ہونا ان کے لئے بھی وبال کا موجب ہوگا اور آپ کے لئے بھی۔ اس لئے آپ کی ہر ممکن کوشش یہ ہونی چاہئے کہ آپ کے شوہر کے تعلقات ان کے والدین سے زیادہ سے زیادہ خوشگوار رہیں، اور وہ ان کے زیادہ سے زیادہ اطاعت شعار ہوں، کیونکہ والدین کی خدمت و اطاعت ہی دُنیا و آخرت میں کلیدِ کامیابی ہے۔

اولاد اور بیویوں کے درمیان برابری

س… ایک آدمی نے ایک شادی کی، اس بیوی سے اس کے تین بچے ہوئے، اس کے بعد اس نے دوبارہ شادی کی اور دُوسری بیوی سے بھی اتنے ہی بچے ہوئے، اپنے پہلے بچوں کی نسبت دُوسرے بچوں کو اچھی نگاہ سے دیکھتا ہے اور اپنے پہلے بچوں کو اچھی نگاہ سے نہیں دیکھتا، تمام اسلامی احکام کو پورا کرتا ہے اور بچوں کو برابر نہیں دیکھتا اور بیویوں کو بھی برابر نہیں دیکھتا، اس کے لئے کیا حکم ہے اور قیامت کے دن اس کی سزا کیا ہے؟

ج… دونوں بیویوں اور ان کی اولاد کے درمیان عدل اور برابری کرنا فرض ہے، حدیث میں ارشاد ہے کہ:

”عن أبی ھریرة رضی الله عنہ عن النبی صلی الله علیہ وسلم قال: اذا کانت عند الرجل امرأتان فلم یعدل بینھما جاء یوم القیامة وشقہ ساقط۔ رواہ الترمذی وأبوداود والنسائی وابن ماجة والدارمی۔“

(مشکوٰة ص:۲۷۹)

ترجمہ:… ”جس کی دو بیویاں ہوں اور وہ ان کے درمیان برابری کا برتاوٴ نہ کرے تو قیامت کے دن ایسی حالت میں پیش ہوگا کہ اس کا ایک پہلو مفلوج ہوگا۔“

البتہ اگر دونوں بیویوں کے حقوق برابر ادا کرے اور ان میں سے کسی کو نظرانداز نہ کرے مگر قلبی تعلق ایک کے ساتھ زیادہ ہو تو یہ غیراختیاری بات ہے، اس پر اس کی گرفت نہیں ہوگی۔ اسی طرح اولاد کے ساتھ برابر کا برتاوٴ ضروری ہے، لیکن محبت کم و بیش ہوسکتی ہے، جو غیراختیاری چیز ہے۔ خلاصہ یہ کہ اپنے اختیار کی حد تک دونوں بیویوں کے درمیان، ان کی اولاد کے درمیان فرق کرنا، ایک کو نوازنا اور دُوسری کو نظرانداز کرنا حرام ہے، لیکن قلبی تعلق میں برابری لازم نہیں۔

کیا مرد اپنی بیوی کو زبردستی اپنے پاس رکھ سکتا ہے؟

س… کیا شوہر اپنی بیوی کو زبردستی اپنے پاس رکھ سکتا ہے جبکہ بیوی رہنے کو تیار نہ ہو؟ یہ جانتے ہوئے بھی کہ بیوی اس کے ساتھ رہنا نہیں چاہتی، شوہر اسے جبراً رکھے ہوئے ہے، ایسے مردوں کے لئے اسلام میں کیا حکم ہے؟

ج… نکاح سے مقصود ہی یہ ہے کہ میاں بیوی ساتھ رہیں، اس لئے شوہر کا بیوی کو اپنے پاس رکھنا تقاضائے عقل و فطرت ہے، اگر بیوی اس کے ساتھ رہنا نہیں چاہتی تو اس سے علیحدگی کرالے۔

دُوسری بیوی سے نکاح کرکے ایک کے حقوق ادا نہ کرنا

س… ایک میری چچی جان ہے جو کہ بہت غریب ہے اور اس کا جو شوہر تھا اس نے دُوسری شادی کرلی ہے، وہ شوہر اپنی پہلی بیوی یعنی میری چچی کو کچھ بھی نہیں دیتا، میری عرض یہ ہے کہ یہ طریقہ صحیح ہے یا غلط ہے؟

ج… آپ کے چچا کو حقوق کا ادا کرنا فرض ہے، جس شخص کی دو بیویاں ہوں، اس کے ذمہ دونوں کے درمیان عدل کرنا لازم ہے۔

دو بیویوں کے درمیان برابری کا طریقہ

س… کوئی شخص جس کی دو بیویاں ہوں، وہ دونوں کے اخراجات بھی پورے کرتا ہو تو کیا دونوں کو وقت بھی برابر دینا ضروری ہے اور سیر و سیاحت میں بھی برابری لازمی ہے؟

ج… جس شخص کی دو بیویاں ہوں اس پر تین چیزوں میں دونوں کو برابر رکھنا واجب ہے، ایک یہ کہ دونوں کو برابر کا خرچ دے، اگر ایک کو کم اور ایک کو زیادہ دیتا ہے تو خیانت کا مرتکب ہوگا۔ دُوسرے یہ کہ شب باشی میں برابری کرے، یعنی اگر ایک رات ایک کے پاس رہتا ہے تو دُوسری رات دُوسری کے پاس رہے، البتہ یہ جائز ہے کہ باری دو دو، تین تین دن کی رکھ لے، بہرحال جتنی راتیں ایک کے پاس رہا، اتنی ہی دُوسری کے پاس رہنا ضروری ہے۔ تیسرے یہ کہ برتاوٴ اور معاملات میں بھی دونوں کو ترازو کی تول برابر رکھے، ایک سے اچھا اور دُوسری سے برُا برتاوٴ کیا تو سرکاری مجرم ہوگا اور حدیث میں فرمایا گیا ہے کہ:

”عن أبی ھریرة رضی الله عنہ عن النبی صلی الله علیہ وسلم قال: اذا کانت عند الرجل امرأتان فلم یعدل بینھما جاء یوم القیامة وشقہ ساقط۔ رواہ الترمذی وأبوداود والنسائی وابن ماجة والدارمی۔“

(مشکوٰة ص:۲۷۹)

ترجمہ:… ”جو شوہر دو بیویوں کے درمیان برابری نہ کرے وہ قیامت کے دن ایسی حالت میں بارگاہِ الٰہی میں پیش ہوگا کہ اس کا ایک پہلو خشک اور مفلوج ہوگا۔“

اور شوہر اگر سفر پر جائے تو کسی ایک کو ساتھ لے جاسکتا ہے، مگر دونوں کے درمیان قرعہ ڈال لینا بہتر ہے، جس کا قرعہ نکل جائے اس کو ساتھ لے جائے۔

ایک بیوی اگر اپنے حق سے دستبردار ہوجائے تو برابری لازم نہیں

س… مسلمان کے لئے ایک سے زیادہ بیویاں رکھنے میں سب کے ساتھ یکساں سلوک فرض ہے، لہٰذا ایک شخص پہلی بیوی کے ہوتے ہوئے دُوسری سے نکاح کرنا چاہتا ہے لیکن وہ یہ سمجھتے ہوئے کہ دونوں کے ساتھ برابری کا سلوک نہیں کرسکتا، اس لئے پہلی بیوی کو طلاق دینا چاہتا ہے۔ اس صورت میں اگر پہلی بیوی برابری کے حقوق سے دستبردار ہوکر شوہر کے ساتھ رہنا چاہتی ہے تو کیا پھر بھی مرد پر دونوں بیویوں کے ساتھ یکساں سلوک کرنا فرض ہے؟

ج… جب بیوی نے اپنا حق معاف کردیا تو برابری بھی واجب نہ رہی، اس کے باوجود جہاں تک ممکن ہو عدل و انصاف کی رعایت رکھے۔

بیوی کے حقوق ادا نہ کرسکے تو شادی جائز نہیں

س… آج کل ہمارے معاشرے میں شادی سے پہلے جنسی تعلقات قائم کرنے کا بڑا رواج ہے، ایک نوجوان شادی سے پہلے جنسی تعلقات (ہم جنس یا عورت کے ساتھ) قائم کرتا ہے اور وہ نوجوان ان جنسی تعلقات میں اس حد تک بڑھ جاتا ہے کہ وہ شادی کرنے کے قابل نہیں رہتا، اور اس طرح وہ شادی کے بعد اپنی بیوی کو وہ کچھ نہیں دے سکتا جو کچھ اسے دینے کا حق ہے، کیا ایسا شخص شادی کرسکتا ہے؟ کیا اسلام میں یہ بات جائز ہے یا نہیں؟ تفصیل سے بتائیں۔

ج… جو شخص بیوی کے حقوق ادا نہیں کرسکتا اس کے لئے خواہ مخواہ ایک عورت کو قید میں رکھنا جائز نہیں، بلکہ حرام ہے اور گناہِ کبیرہ ہے۔ اس کو چاہئے کہ اس عفیفہ کو طلاق دے کر فارغ کردے، اور اگر وہ طلاق نہ دے تو خاندان اور محلے کے شرفاء سے کہا جائے کہ وہ طلاق دِلوائیں۔ اگر وہ اس پر بھی نہ مانے تو لڑکی عدالت میں استغاثہ کرسکتی ہے، عدالت شوہر کو ایک سال کی علاج کے لئے مہلت دے، اگر وہ اس عرصے میں بیوی کے لائق ہوجائے تو ٹھیک ہے، ورنہ عدالت اس کو طلاق دینے پر مجبور کرے، اگر وہ عدالت کے کہنے پر بھی طلاق نہ دے تو عدالت اَزخود فسخِ نکاح کا فیصلہ کردے۔