رُخصتی سے قبل طلاق

رُخصتی سے قبل ایک طلاق کا حکم

س… کسی لڑکی کا نکاح ہوا ہو لیکن رُخصتی نہ ہوئی ہو، اگر لڑکا لڑکی کو صرف ایک بار کہہ دے ”طلاق دی“ اس بات کو چار ماہ سے زائد عرصہ ہوچکا ہو تو کیا طلاق واقع ہوگئی یا نہیں؟

ج… ایسی حالت میں ایک دفعہ طلاق دینے سے ”طلاقِ بائن“ واقع ہوجاتی ہے، اور ایسی عورت کے لئے طلاق کی عدّت بھی نہیں، وہ لڑکی بلاتوقف دُوسری جگہ نکاح کرسکتی ہے، اور فریقین کی رضامندی سے طلاق دینے والے سے بھی دوبارہ نکاح ہوسکتا ہے۔

رُخصتی سے قبل ”تین طلاق دیتا ہوں“ کہنے کا حکم

س… میرے ایک دوست کی شادی ہونے سے پہلے نکاح ہوا تھا، مگر اس کی شادی نہیں ہوئی، اس نے کسی کے کہنے پر طلاق دے دی ہے، اور اس لڑکی کے باپ کے پاس طلاق نامہ بھیج چکا۔ اگر وہ اسی لڑکی سے دوبارہ نکاح کرنا چاہے تو نکاح ہوسکتا ہے یا نہیں؟ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ ان کو حلالہ کرنا ہوگا، اور کچھ کہتے ہیں نہیں۔

ج… اگر اس نے ایک طلاق دی تھی تو دوبارہ نکاح ہوسکتا ہے اور اگر یوں لکھا تھا کہ: ”میں تین طلاق دیتا ہوں“ تو شرعی حلالہ کے بغیر نکاح نہیں ہوسکتا۔

س… میری منگنی ہوئی اور نکاح بھی ہوا تھا، جس کے بعد شادی نہیں ہوئی، تو اس دوران میں نے ایک کام کو نہ کرنے کا عہد کرلیا، اور اس میں، میں نے یہ جملے دہرائے کہ اگر میں نے یہ کام کیا تو یعنی طلاق کا لفظ تین مرتبہ استعمال کیا جس کے بعد میری شادی دو سال کے بعد ہوئی۔ لیکن میں نے ”بہشتی زیور“ میں مولانا اشرف علی تھانوی صاحب کا مسئلہ رُخصتی سے پہلے طلاق میں پڑھا، اس میں تھوڑی بہت گنجائش موجود تھی تو میں نے نکاح کی تجدید کرلی، مگر پھر بھی میرے دِل میں خلش ہے کہ ایسا نہ ہو کہ یہ طلاقِ ثلاثہ واقع ہوئی ہو؟ براہِ کرم قرآن و حدیث اور فقہِ حنفی کی رُو سے ہمیں جواب لکھ دیں تو نہایت مشکور ہوں گا۔

ج… آپ نے جو صورت لکھی ہے اس میں ایک طلاق واقع ہوئی تھی، کیونکہ ”طلاق“ کا لفظ تین بار الگ الگ کہا تھا، لہٰذا ایک طلاق کے واقع ہوتے ہی بیوی ”بائنہ“ ہوگئی، دو طلاقیں لغو ہوگئیں، آپ نے دوبارہ نکاح کرلیا تو ٹھیک کیا۔

س… میرا ایک لڑکی کے ساتھ نکاح ہوا، ابھی رُخصتی نہ ہونے پائی تھی کہ کچھ اختلافات کے سبب میں نے لڑکی کو ایک دفعہ لکھ دیا کہ: ”میں تمہیں طلاق دیتا ہوں۔“ لڑکی نے حقِ زوجیت ادا نہیں کیا تھا، اب لڑکی والے کہتے ہیں چونکہ حقِ زوجیت ادا نہیں ہوا تھا اس لئے طلاق وارد ہوجاتی ہے، مگر طلاق دیتے وقت مجھے اس بات کا علم نہیں تھا کہ ایسے حالات میں ایک دفعہ طلاق کہنے سے طلاق ہوجاتی ہے، تو کیا طلاق وارد ہوگی یا نہیں؟

ج… جب میاں بیوی کی ”خلوَت“ نہ ہوئی ہو، تو ایک طلاق سے بیوی نکاح سے خارج ہوجاتی ہے، اس طلاق کو واپس بھی نہیں لیا جاسکتا، خواہ مسئلے کا علم ہو یا نہ ہو، اب آپ کی بیوی آپ کے نکاح سے فارغ ہے، آدھا مہر دینا آپ پر لازم ہے، وہ لڑکی بغیر عدّت کے دُوسری جگہ عقد کرسکتی ہے اور اگر لڑکی اور لڑکی کے والدین راضی ہوں تو آپ سے بھی دوبارہ نکاح ہوسکتا ہے، اس نئے نکاح کا مہر الگ رکھنا ہوگا۔

س… عام رواج کے مطابق والدین اپنی اولاد کا بحالتِ مجبوری بچپن میں نکاح کردیتے ہیں، جو والدین میں سے کوئی ایک قبول کرتا ہے، اس طرح لڑکی اور لڑکے کا نکاح ہوجاتا ہے، لیکن لڑکا اور لڑکی جوان ہوتے ہیں تو حالات ایسا رُخ اختیار کرتے ہیں کہ نوبت طلاق تک پہنچ جاتی ہے، اور لڑکا لڑکی کو طلاق دے دیتا ہے۔ ہمیں یہ پوچھنا ہے کہ نکاح کے بعد رُخصتی نہیں ہوئی اور طلاق ہوگئی، کیا دوبارہ اس سے نکاح ہوسکتا ہے یا نکاح نہیں ہوسکتا؟ کیا اس لڑکی سے اس لڑکے کی بول چال شریعت کے لحاظ سے جائز ہے یا کہ نہیں؟

ج… اگر رُخصتی سے پہلے طلاق دی تھی تو دوبارہ نکاح ہوسکتا ہے، بشرطیکہ تین طلاقیں بیک لفظ نہ دی گئی ہوں۔ نکاح کے بغیر اس لڑکی سے بول چال دُرست نہیں، کیونکہ طلاق کے بعد وہ لڑکی ”اجنبی“ ہے۔