جہیز

موجودہ دور میں جہیز کی لعنت

س… ٹی وی پروگرام ”تفہیمِ دِین“ میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے مقرّر نے غیرمشروط طور پر جہیز کو کافرانہ رسم اور رَسمِ بد قرار دیا۔

۱:… کیا قرآن و سنت کی رُو سے جہیز کو کافرانہ رسم اور رَسمِ بد کہنا صحیح ہے؟

۲:… کیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیٹیوں کو جہیز دیا تھا؟

ج… ”جہیز“ ان تحائف اور سامان کا نام ہے جو والدین اپنی بچی کو رُخصت کرتے ہوئے دیتے ہیں، یہ رحمت و محبت کی علامت تھی، بشرطیکہ نمود و نمائش سے پاک ہو اور والدین کے لئے کسی پریشانی و اذیت کا باعث نہ بنتا ہو، لیکن مسلمانوں کی شامتِ اعمال نے اس رحمت کو زحمت بنادیا ہے۔ اب لڑکے والے بڑی ڈھٹائی سے یہ دیکھتے ہی نہیں بلکہ پوچھتے بھی ہیں کہ جہیز کتنا ملے گا؟ ورنہ ہم رشتہ نہیں لیں گے۔ اسی معاشرتی بگاڑ کا نتیجہ ہے کہ غریب والدین کے لئے بچیوں کا عقد کرنا وبالِ جان بن گیا ہے۔ فرمائیے! کیا اس جہیز کی لعنت کو ”کافرانہ رسم“ اور ”رَسمِ بد“ سے بھی زیادہ سخت الفاظ کے ساتھ یاد نہ کیا جائے․․․؟

آپ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں دریافت فرمایا ہے کہ کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی صاحب زادیوں کو جہیز دیا تھا؟ جی ہاں! دیا تھا، لیکن کسی سیرت کی کتاب میں یہ پڑھ لیجئے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی چہیتی بیٹی خاتونِ جنت حضرت فاطمة الزہراء رضی اللہ عنہا کو کیا جہیز دیا تھا؟ دو چکیاں، پانی کے لئے دو مشکیزے، چمڑے کا گدا جس میں کھجور کی چھال بھری ہوئی تھی، اور ایک چادر۔ کیا آپ کے یہاں بھی بیٹیوں کو یہی جہیز دیا جاتا ہے․․․؟ کاش! ہم سیرتِ نبوی کے آئینے میں اپنی سیرت کا چہرہ سنوارنے کی کوشش کریں۔

جہیز کا سامان استعمال سے خراب ہوجائے، اس کا شوہر ذمہ دار نہیں

س… جہیز کی مسہری اور گدا میاں بیوی کے مشترکہ استعمال میں ٹوٹ پھوٹ گئے، شوہر پورے نقصان کی تلافی کرے یا صرف اپنے حصے کی؟

ج… جہیز کی جو چیزیں جس حالت میں ہیں وہ عورت کا حق ہے، لیکن استعمال سے جو نقصان ہو، وہ شوہر سے وصول نہیں کیا جاسکتا، کیونکہ یہ استعمال عورت کی اجازت سے ہوا ہے۔

جہیز کی نمائش کرنا جاہلانہ رسم ہے

س… ہمارے قبیلے کا یہ رواج ہے کہ ماں باپ لڑکی کو جو جہیز دیتے ہیں اسے سرِعام دِکھاتے ہیں جس میں عورت کے کپڑے بھی دِکھائے جاتے ہیں، اور یہاں بہت سے مرد بھی جہیز دیکھنے کے لئے کھڑے ہوتے ہیں۔ کیا عورت کے کپڑے اور زیور نامحرَموں کو سرِ عام دِکھانا دِینِ اسلام میں جائز ہے؟

ج… لڑکی کو دئیے جانے والے جہیز کا سرِ عام دِکھانا جاہلی رسم ہے، جس کا منشا محض نمود و نمائش ہے۔ اور مستورات کے زیور اور کپڑے غیرمردوں کو دِکھانا بھی بُری رسم ہے، شرفاء کو اس سے غیرت آتی ہے۔

لڑکی کو ملنے والے تحفے تحائف اس کی ملکیت ہیں یا شوہر کی؟

س… لڑکی کو جو ماں باپ نے تحفے تحائف دئیے تھے وہ کس کی ملکیت ہیں؟ ان کی حق دار لڑکی ہے یا شوہر؟

ج… ہر وہ چیز جو لڑکی کو والدین اور شوہر والوں کی طرف سے ملی ہے وہ اس کی ملکیت ہے، شوہر کا اس میں کوئی حق نہیں ہے۔

عورت کی وفات کے بعد جہیز کس کو ملے گا؟

س… میرے دوست نے اپنی بیوی کی معذوری کے باعث دُوسری شادی کی جس کی اجازت اس نے خود دی۔ پہلی بیوی کا حال ہی میں زندگی اور موت کی کشمکش میں رہنے کے بعد انتقال ہوگیا، جس سے اس کے ۴بچے، دو لڑکے اور دو لڑکیاں ہیں۔ میرے دوست کی پہلی (مرحومہ) بیوی کے والدین اپنی بیٹی کے جہیز کی اشیاء کی واپسی کا تقاضا کر رہے ہیں، جبکہ جہیز میں کوئی قیمتی چیز نہیں تھی۔ شریعت کی رُو سے جواب عنایت فرمائیں کہ یہ حضرات اپنے مطالبے میں کہاں تک حق بجانب ہیں؟ اور میرے دوست کو ایسی صورت میں کیا کرنا چاہئے؟

ج… والدین کا جہیز کی واپسی کا مطالبہ غلط ہے۔ مرحومہ کی ملکیت میں جو چیزیں تھیں ان کو شرعی وارثوں پر تقسیم کیا جائے گا، چنانچہ مرحومہ کا ترکہ ۷۲ حصوں پر تقسیم ہوگا، ان میں سے ۱۲ – ۱۲ حصے مرحومہ کے والدین کے ہیں، اَٹھارہ حصے شوہر کے، دس دس حصے دونوں لڑکوں، اور پانچ پانچ دونوں لڑکیوں کے، نقشہ حسب ذیل ہے:

۷۲ = والد۱۲، والدہ ۱۲، شوہر ۱۸، بیٹا۱۰، بیٹا۱۰، بیٹی۵، بیٹی۵

لڑکے دونوں اپنے والد کے پاس رہیں گے، اور لڑکیاں جوان ہونے تک اپنی نانی اور نانی نہ ہو تو خالہ کے پاس رہیں گی، جوان ہونے کے بعد والد کے سپرد کردی جائیں۔

عورت، شوہر کے انتقال پر کس سامان کی حق دار ہے؟

س… میرا ایک لڑکا تھا جس کی شادی ہوئی، اور وہ اب انتقال کرگیا، بہو اپنی مرضی سے میکے چلی گئی اور جو سامان ساتھ لائی تھی وہ لے گئی، اب وہ اس سامان کا مطالبہ کر رہی ہے جو ہم نے دیا تھا، جبکہ وہ سامان ہم نے اس لئے رکھا ہوا ہے کہ میری ایک پوتی بھی ہے جو میرے پاس ہی ہے، بعد میں وہ اس کے کام آجائے گا۔ علاوہ ازیں جہاں میں نے لڑکے کی شادی کی تھی وہاں بدلے میں اپنی ایک لڑکی بھی دی تھی، اب آپ بتائیں کہ اس سامان کے بارے میں علمائے کرام کا کیا فتویٰ ہے؟ اس کے علاوہ میری زمین اور مکان بھی ہے، اسے میں کس طرح تقسیم کروں؟ نیز میری پوتی کی عمر سات سال ہے اس کو ہم اپنے پاس رکھ سکتے ہیں یا والدہ کے حوالے کردیں؟ جواب سے نوازیں۔

ج… جو سامان آپ نے شادی کے موقع پر بہو کو دیا تھا اگر اس کی ملکیت کردیا تھا تو وہ سامان اسی کا ہے، اور آپ کو اس کا رکھنا جائز نہیں، اور اگر اس کی ملکیت نہیں کیا تھا بلکہ اس کو صرف استعمال کی اجازت دی تھی تو اس کی پھر دو صورتیں ہیں۔ ایک یہ کہ وہ سامان آپ کے مرحوم بیٹے کی ملکیت تھا، اس صورت میں اس کا آٹھواں حصہ اس کی بیوہ کا ہے، نصف اس کی بیٹی کا اور باقی آپ کا، اور اگر مرحوم کی والدہ بھی زندہ ہے تو چھٹا حصہ اس کا، گویا کل ۲۴ حصے کئے جائیں گے ان میں تین بیوہ کے، ۱۲ لڑکی کے، ۴ماں کے اور ۵ والد کے۔

اور اگر سامان خود آپ کی اپنی ملکیت ہے، آپ کا بیٹا بھی اس کا مالک نہیں تھا تو بیوہ کا اس میں کوئی حصہ نہیں، آپ اس کا جو چاہیں کریں۔ آپ کی جائیداد آپ کے انتقال کے بعد دو تہائی آپ کی تینوں لڑکیوں کو ملے گی (آپ کی اہلیہ زندہ ہیں تو آٹھواں حصہ ان کو ملے گا) اور باقی آپ کے جدی وارثوں کو دی جائے گی۔ آپ کی پوتی کو کچھ نہیں ملے گا۔ اگر آپ پوتی کو بھی کچھ دینا چاہیں تو اس کی دو صورتیں ہیں، ایک یہ کہ آپ اپنی زندگی میں مناسب حصہ اس کے نام کردیں۔ دُوسری صورت یہ کہ آپ وصیت کرجائیں کہ آپ کی پوتی کو اتنا حصہ دیا جائے (تہائی مال کے اندر اندر وصیت کرسکتے ہیں)، اور اس پر گواہ بھی مقرّر کرلیں۔ اگر آپ نے ایسی وصیت کردی تو جائیداد کی تقسیم سے پہلے آپ کی پوتی کو وہ حصہ دیا جائے گا، وارثوں کو بعد میں دیا جائے گا۔

بچی کے لئے حکم تو یہ ہے کہ بالغ ہونے تک اپنی والدہ کے پاس رہے، لیکن اگر والدہ کا مطالبہ نہ ہو یا اس نے کسی ”غیرجگہ“ نکاح کرلیا ہو تو آپ رکھ سکتے ہیں۔