کار آمد نصیحتیں

(۱) تجربہ ہی سب سے بہتر استاد ہے۔
(۲) گناہ کا آغاز مکڑی کے جالے کے تار کی مانند نازک مگر انجام جہاز کے رسّے کی طرح مضبوط اور ناقابل شکست ہے۔
(۳) اللہ کے آگے سر تسلیم خم کرنے والوں کو مصیبت سے واسطہ نہیں پڑتا۔
(۴) اس سے پہلے کہ تمہیں شہوت فتنے میں ڈالے نکاح کرلو۔
(۵) سچی محبت ایک نایاب چیز ہے، مگر سچ دوستی اس سے بھی نایاب ہے۔
(۶) زہد یہ ہے کہ آدمی رغبت کے کاموں سے باز رہے۔
(۷) کمینہ کاموں سے ڈرنا ہی بہادری ہے۔
(۸) پیر ترین اقسام کے ہوتے ہیں: ۱۔حرقہ، ۲۔تعلیم ۳۔پیر صحت۔
(۹) چار شخصوں کے پاس خالی ہاتھ مت جاؤ: ۱۔فقیر۔ ۲۔عیال۔ ۳۔بیمار۔ ۴۔بادشاہ۔
(۱۰) قناعت یہ ہے کہ فضول چیزوں سے بچو اور بقدر حاجت پر اکتفاء کرو اور کھانے پینے اور رہنے کی چیزوں میں اسراف سے پرہیز کرو۔
(۱۱) وہ لوگ مبارک ہیں جو الفاظ سے نصیحت نہیں کرتے بلکہ عمل سے کرتے ہیں۔
(۱۲) بے وقوف کے ساتھ جنت میں بیٹھنے سے عقلمند کے ساتھ قید خانہ میں بیٹھنا بہتر ہے۔
(۱۳) مصائب سے نجات حاصل کرنے کے بعد ہی دوسروں سے اچھا سلوک ہوتا ہے۔
(۱۴) کوشش کرنا چاہئے کہ آدھی رات کو نوافل پڑھو اور اگر وضو نہ کرسکو تو کلمہ ہی پڑھو۔
(۱۵) خواہشات پر قابو نہ پانے والا کمزور ترین اور ضبط پر قوت رکھنے والا قوی ترین ہے۔
(۱۶) اپنے متعلق کچھ کہنا بے سود ہے، آپ کے جانے کے بعد یہ کام خود بخود ہوجائے گا۔
(۱۷) اگر تندرستی چاہتے ہو تو نیک کام کرو، نیک بننے کے لئے دانا بنو اور دانا بننا چاہتے ہو تو دین کا مطالعہ کرو اور اللہ محبت کرو، کیونکہ یہی دانائی ہے۔
(۱۸) ایسے کاموں سے بچو جس کے نتیجہ میں تمہیں نقصان کا اندیشہ ہو۔
(۱۹) کسی کے ساتھ برائی مت کرو، ورنہ اللہ تعالیٰ برائی کرنے والے پر کسی کو بدلہ لینے کے لئے مقرر کردے گا۔
(۲۰) انسان کی ترقی و تنزلی کا انحصار بیوی کی محبت پر ہے۔
(۲۱) بہادر آدمی ایک مرتبہ جبکہ بزدل آدمی کئی مرتبہ مرتا ہے۔
(۲۲) محبت کا ایک گھنٹہ سو برس کی بے محبت زندگی سے بہتر ہے۔
(۲۳) حق کی راہ میں خلق اور خلق کی راہ میں حق نہیں ہے۔
(۲۴) قدرت کی نیک ہدایات پر عمل کرنے سے دنیا ہی جنت معلوم ہوتی ہے۔
(۲۵) کفایت شعاری غریب کی ٹکسال ہے۔
(۲۶) گناہوں سے بچو تاکہ زندگی کے مصائب سے بچ سکو۔
(۲۷) چیونٹی کی طرح محنت لگن اور کفایت شعاری اپناؤ۔
(۲۸) دوست ایک ہزار بھی کم ہوتے ہیں جبکہ دشمن ایک ہی زیادہ ہوتا ہے۔
(۲۹) ہوٹل کا سب سے بڑا فائدہ گھریلو پریشانیوں سے نجات ہے۔
(۳۰) ایسے کاموں سے احتراز کرو جس سے انسانیت شرمندہ ہوجائے۔

(۳۱) خوبصورت عورت سے دیکھنے سے آنکھیں جبکہ نیک عورت کو دیکھنے سے دل خوش ہوتا ہے۔
(۳۲) سورج کی طرح موت پر بھی ٹکٹکی باندھ کر نہیں دیکھا جاسکتا۔
(۳۳) دیانت دار آدمی ہر آدمی پر اعتبار کرلیتا ہے۔
(۳۴) اپنی غلطیوں سے آگاہی دانائی کی علامت ہے۔
(۳۵) نصیحت مان کر عقلمندی کا ثبوت دینا چاہئے۔
(۳۶) استاد کے بغیر کسی کام کی تکمیل ممکن نہیں۔
(۳۷) زبان کی حفاظت بہترین فضیلت ہے۔
(۳۸) اخلاقی و مذہبی اقدار کی پاسداری سے انکار کا نام آزادی نہیں ہے۔
(۳۹) پیٹ بیماریوں کی جڑ ہے اور پرہیزگاری اس کا علاج ہے۔
(۴۰) بہترین مطالعہ انسان کا مطالعہ ہے۔
(۴۱) مہمانداری میں زیادہ خرچ کرنا فضول خرچی نہیں۔
(۴۲) اللہ تعالیٰ خوشحالی عطا فرمائے تو اپنی آرزوؤں کو کھلا نہ چھوڑ دو۔
(۴۳) سچائی کی مشعل جہاں بھی دکھائی دے فائدہ اٹھاؤ، یہ مت دیکھو کہ مشعل کس کے پاس ہے۔
(۴۴) وہ دروازے جو غرباء کے لئے بند ہوجاتے ہیں آخر کار ڈاکٹروں کے لئے کھلتے ہیں۔
(۴۵) حق کا پرستار کبھی ذلیل و خوار نہیں ہوتا، خواہ سارا زمانہ ہی اس کے خلاف کیوں نہ ہوجائے۔
(۴۶) نادان گذرے زمانہ میں مگن رہتا ہے اور کاہل آنے والے زمانہ کی امید میں خوش ہوتا ہے، جبکہ عقلمند اپنے موجودہ زمانہ کو بہتر بنانے کی سعی کرتا ہے۔
(۴۷) سچی خیر خواہی تو نصیحت میں ہے جس کو ہم اچھا نہیں سمجھتے، جبکہ خوشامد بدترین دھوکہ ہے جس پر سبھی خوش ہوتے ہیں۔
(۴۸) بد اخلاقی یہ ہے کہ تقدیر پر جھگڑو، ضد کرکے تقدیر بدلنا چاہو اور تغلب آرزو اور دعاؤں سے اس کو نپٹنے کی کوشش کرو۔
(۴۹) چھوٹے لوگ واویلا کرتے ہیں جبکہ بڑے لوگ خاموش رہتے ہیں۔
(۵۰) صادق شخص لوگوں میں گھل مل جاتا ہے اور اگر اکیلا ہو تو اللہ تعالیٰ کو یاد کرتا ہے۔
(۵۱) ضروریاتِ زندگی کی زیادہ طلب رکھنے والا قانع اور مطمئن نہیں ہوتا۔
(۵۲) بدخلق وہ ہے جو غصہ کی حالت میں اپنے نفس پر کنٹرول نہ کرسکے۔
(۵۳) دنیا میں جو آرام مجھے اپنی بیوی سے ملا ہے ایسا کسی سے نہیں ملا۔
(۵۴) عورت آدمی سے بنائی گئی ہے اور آدمی مٹی سے۔
(۵۵) اس دولت سے کوئی احمق ہی پیار کرے گا جو دنیا میں بدمست اور آخرت میں جہنم کا ایندھن بنادے۔
(۵۶) جو شخص مصیبت کا بوجھ بخوشی اٹھاسکتا ہے وہی سب سے بہتر کام کرسکتا ہے۔
(۵۷) تمہارا برا ہم نشین تمہارے اوصافِ ذلیلہ پر اور اچھا ہمنشین تمہارے اوصافِ حمیدہ پر دلالت کرتے ہیں۔
(۵۸) دنیا میں سب سے زیادہ خوش قسمت وہ شخص ہے جس کی بیوی با عصمت ہو۔
(۵۹) حکمت روح کی زندگی ہے۔
(۶۰) تعلیم کی دو قسمیں ہیں: ایک سے روزی کمائی جاتی ہے اور دوسری سے زندگی گذاری جاتی ہے۔

(۶۱) تقویٰ کا نتیجہ عظمت ہے۔
(۶۲) خدمت کا نتیجہ سیادت ہے۔
(۶۳) سکوت کا نتیجہ سلامتی ہے۔
(۶۴) دوسروں کے حالات سے عبرت حاصل نہ کرنے والوں سے سبق حاصل کرو۔
(۶۵) اچھے کو اچھا نہ جاننے والوں کو برے کی بھی پہچان نہیں ہوسکتی۔
(۶۶) دیوار پر لگا ہر پتھر خواہ وہ کس قدر جسامت کا ہو اپنی افادیت رکھتا ہے۔
(۶۷) مجھے رونا آتا ہے جب میں دنیا کو عالم کے ساتھ کھیلتا دیکھتا ہوں۔
(۶۸) انسان کی گفتگو آئینہ سے بہتر کسی بھی انسان کی تصویر کشی کرسکتی ہے۔
(۶۹) ابتداء کو اچھا بناؤ کیونکہ انجام کی خراجی کا آغاز ابتداء سے ہوتا ہے۔
(۷۰) گفتگو کا اختتام اسی وقت ہوجانا چاہئے جب سننے والا بلا سوچے سمجھے سرہلانا شروع کردے۔
(۷۱) سعادت مندی اپنے نفس کی نگرانی کرنے میں ہے۔
(۷۲) جھوٹی قسمیں کھانے اور کھلانے سے سوائے گناہ کے کچھ اور حاصل نہیں ہوتا۔
(۷۳) وہ لوگ بزدل ہی ہوتے ہیں جو بے سوچے سمجھے عمل کرتے ہیں۔
(۷۴) جس قوم کا آسمان جھک کر زمین سے آملے اور عمل کے ستارے اس کے گنبد پر چمکیں تو وہ قوم چشم زدن میں درست ہوجائے گی۔
(۷۵) مجھے میرے دوستوں سے بچاؤ! دشمنوں سے بچنے کا انتظام میں خود کرلوں گا۔
(۷۶) گفتگو کے میدان میں تمام انسان فریق ثانی ہوتے ہیں۔
(۷۷) اکثر لوگ اپنے بہترین دوستوں کی کمتری سے محفوظ ہوتے ہیں۔
(۷۸) اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے والا ہر طالب علم مفکر نہیں بن سکتا۔
(۷۹) عورت سے بے نیاز ہوکر زندگی گذارنے کا عزم ایک شدید جرم ہے، نقصان کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا۔
(۸۰) اناج بونا گویا نیکی کا بیج بونا ہے۔
(۸۱) سورج اس وقت اپنی حرارت کھو بیٹھے گا جب دنیا ایک بھی محبت کرنے والا دل نہ ہو۔
(۸۲) نکمّی سے نکمّی بات کو نج کے لئے بھی کوئی نہ کوئی حمایتی نکل آتا ہے۔
(۸۳) عورت کو ہمہ تن راستی اور صبر و قناعت ہونا چاہئے۔
(۸۴) سکون ایک قسم کی حرکت ہے، حد درجہ سست رفتار حرکت۔
(۸۵) جس عشق کا تعلق محض حسن سے ہو وہ ناپائیدار ہوتا ہے۔
(۸۶) آپس کی جان پہچان مدح و ستائش کی جڑیں کاٹ دیتی ہے۔
(۸۷) ہمارا سب سے بڑا ہتھیار محبت کا زہر ہے، خلق مشین گن، اور یہی ہتھیار ناکام نہیں ہوتا۔
(۸۸) عزت کو درخواست کرنے سے مجبور کرنے سے حاصل کیا جاتا ہے۔
(۸۹) بڑی بڑی صداقتوں کی طرح بڑے بڑے لوگ بھی سادہ ہی ہوتے ہیں۔
(۹۰) جس سے نفرت ہو اس سے ملنا اچھی بات نہیں۔

(۹۱) اپنے سے اعلیٰ کو نہیں بلکہ کم کو مد نظر رکھنا چاہئے۔
(۹۲) اپنے سے اعلیٰ لوگوں کی صحبت پسند کرنا ہی قابل فخر ہے۔
(۹۳) قریبی دوستوں کی اکثریت اگر اچھی ہو تو وہ شخص بھی اچھا ہی ہوگا۔
(۹۴) دنیا میں حقیقی خوشی ممکن نہیں، یہ تو جنت میں ملے گی۔
(۹۵) کامیابی یہ ہے کہ کم کی امید کرو اور اس کو بھی زیادہ خیال کرو۔
(۹۶) عقیدہ کی درستی کے بغیر کوئی بھی عبادت مفید نہیں۔
(۹۷) زندگی، اموال اور نفس سے رغبت باعثِ نقصان ہے۔
(۹۸) اگر تم صادق ہو تو نیکی کرنے سے پہلے ہی لطف اٹھاؤ گے۔
(۹۹) عوام کا شکر طعام اور لباس پر اور اور خواص کا شکر حقیقت و معافی پر جو دل میں ہے۔
(۱۰۰) عبادت کا منشاء یہی ہے کہ بس اللہ تعالیٰ کے غلام بن کر اس کے احکامات پر دن رات عمل پیرا ہو کر میدان میں کٹ مرو، مگر پیٹھ نہ دکھاؤ۔
(۱۰۱) فرقہ بندیوں کو چھوڑ کر کافروں کے لئے شیشہ پلائی ہوئی دیوار بن جاؤ۔
(۱۰۲) زیادہ رکھنا اور زیادہ سونا قلب کو تاریک کرتا ہے۔
(۱۰۳) دولتمندوں کی عزت کرنا تواضع اور فقراء کے ساتھ نرمی و عاجزی شریفانہ تواضع ہے۔
(۱۰۴) زمانہ کتابوں سے بہت بڑا استاد ہے۔
(۱۰۵) خوف سے محبت درست ہوتی ہے اور ادب کی رعایت سے مستحکم۔
(۱۰۶) انتقام ایک غیر انسانی لفظ ہے، مگر انسان انتقام لیتا ضرور ہے۔
(۱۰۷) ہوشیاری وہی ہے جس کو ہم غرور کا نام دے رکھا ہے۔
(۱۰۸) مجھ سے زیادہ صاحب علم قابل رشک اور کم علم قابل رحم ہے۔
(۱۰۹) برداشت اور خاموشی بڑے سے بڑے خطرے کو ٹال دیتی ہے۔
(۱۱۰) عقلمندی یہ ہے کہ خطرات سے ڈرنے کے بجائے اس کے سد باب کا انتظام کیا جائے۔
(۱۱۱) عقلمند محدود ہے جبکہ بے عقلی لا محدود ہے۔
(۱۱۲) بادشاہوں سے مت ڈرو بلکہ بادشاہوں کے بادشاہ (اللہ) سے ڈرو۔
(۱۱۳) دریاؤں سے پانی نکالنے سے پانی کم نہیں ہوتا، اس طرح علم بھی پھیلانے سے کم نہیں ہوتا۔
(۱۱۴) عقلمند اپنے عیب خود محسوس کرتا ہے۔
(۱۱۵) انسان کے بس میں نہیں کہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو شمار کرسکیں۔
(۱۱۶) مہربانیوں کو گھٹیا خیال کرنا گھٹیاپن ہے۔
(۱۱۷) یاد رکھو اسلام ہی زندگی کے ہر پہلو میں مددگار ہے۔
(۱۱۸) اپنی ہستی کو اللہ کے آگے جلاکر ہی روزِ روشن کی طرح چمک سکتا ہے۔
(۱۱۹) بوقت مصائب اللہ سے معافی مانگو، کیونکہ یہ منجانب اللہ اور اپنی ہی غلط کاریوں کے سبب ہوتے ہیں۔
(۱۲۰) جھوٹے ہمیشہ مرجھائے ہوئے جبکہ سچے تر و تازہ ہوتے ہیں۔

(۱۲۱) زندگی کو غنیمت جان کر نیک عمل کرو کیونکہ یہ عنقریب تم سے جدا ہوجائے گی۔
(۱۲۲) دولتمندی یہ ہے کہ ضروریاتِ زندگی کو محدود کرلو۔
(۱۲۳) پروانہ بننا شمع بننے سے زیادہ اچھا ہے۔
(۱۲۴) جب تمہارا رزق دوسروں سے الگ ہے تو یہ بے صبری اور بے قراری کیسی؟
(۱۲۵) تعلیم حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ کتاب ہے۔
(۱۲۶) عدل و انصاف نہ ہو تو ملک اجڑ جاتا ہے۔
(۱۲۷) دولت حاصل کرنے کے لئے علم حاصل کرنے سے علم دل میں جگہ نہیں بناتا۔
(۱۲۸) مومن کی آنکھوں سے بہنے والے آنسوؤں سے دوزخ کی آگ سرد پڑجاتی ہے۔
(۱۲۹) عمل کے بغیر علم ایسے ہے جیسے روح کے بغیر جسم۔
(۱۳۰) بری عورت سے زیادہ طاقتور کوئی اور نہیں ہوسکتا۔
(۱۳۱) قرض سے زیادہ بوجھ کوئی اور نہیں۔
(۱۳۲) دنیوی چیزوں سے احتیاج بہت ضروری ہے۔
(۱۳۳) بدخصلت انسان سے حاجت پوری کرنے کا خیال ایسا ہی ہے جیسے صحرا میں مچھلی کی امید کرنا۔
(۱۳۴) قدیم و جدید علوم کے حصول کا ایک ہی مقصد ہے کہ دین کا ادراک ہوسکے۔
(۱۳۵) انسان کی موت عام طور پر اسی شوق میں ہوتی ہے جسے وہ پسند کرتا ہے۔
(۱۳۶) مصائب پر شور و غل کرنا مناسب نہیں، کیونکہ یہ اپنے ہی گناہوں کی وجہ سے نازل ہوتے ہیں۔
(۱۳۷) استاد کے احسان کو بھولنا بھی باعثِ مصیبت ہے، جس سے برکت چلی جاتی ہے۔
(۱۳۸) غیرت مند یا تو کامیابی حاصل کرتا ہے یا شہادت۔
(۱۳۹) علماءِ دین کے پاس جب بھی جاؤ حصول علم کے لئے جاؤ۔
(۱۴۰) جس کے پاس زر و جواہر نہ ہوں وہ بے فکر اور آزاد ہوتا ہے۔
(۱۴۱) زیادہ سننا اور کم بولنا ہی دانائی ہے۔
(۱۴۲) مکھی اور مچھر بھی اُڑتے ہیں، مگر کبھی بھی عقاب نہیں بن سکتے۔
(۱۴۳) جس کی رائے اس کے غصہ کے زیر اثر ہو وہ انسان نہیں بن سکتا۔
(۱۴۴) سچے کا تھوڑا مال جھوٹے کی دولت کے انبار سے اچھا ہوتا ہے۔
(۱۴۵) سانس کی آمد و رفت کے وقت اللہ کا شکر ادا کرو۔
(۱۴۶) آدمی کی پوری زندگی چلہ کے مانند ہے۔
(۱۴۷) لطف یہ ہے کہ تم بازاروں اور شہروں میں گھومتے پھرو اور لوگوں سے تعلقات بھی بناؤ اور دل نہ ڈگمگائے۔
(۱۴۸) انصاف کے قلعہ کو نہ آگ جلاسکتی ہے اور نہ سنگ بازی ہی نقصان پہنچا سکتی ہے۔
(۱۴۹) فقیر وہ ہوتا ہے کہ عرفان کی دولت سے مالا مال ہوتا ہے اور ہمسایہ بھی بے خبر رہتا ہے۔
(۱۵۰) خاموشی کا مطلب سبھی جانتے ہیں، مگر وقت کو نہیں جانتے کہ کب اختیار کریں۔

(۱۵۱) رات کے پہلے ہی حصہ میں درود و وظائف دوسرے میں استراحت اور تیسرے میں ذکر و اذکار کرو۔
(۱۵۲) شادی کے خواہشمندوں کو یا تو سب کچھ جاننا ضروری ہے یا پھر کبھی بھی نہیں۔
(۱۵۳) سالکوں کو ثقیل خوراک ضرور کھانا چاہئے اور حلال چیز کو ثابت کرنے میں کوئی دلیل اور تاویل نہ پیش کرے۔
(۱۵۴) نصیحت سن کر آگے پہنچاتے رہو۔
(۱۵۵) وہ سالک کاذب ہے جو شہرت حاصل کرنے کے لئے عبادت کرتا ہے۔
(۱۵۶) وہ سالک ریاء کار اور منافق ہے جو شہرت کے ڈر سے عبادت ترک کردے۔
(۱۵۷) کلام اللہ شریف کی تلاوت کے بعد دن کے کام کرنا شروع کرو۔
(۱۵۸) دل اگر بدی سے پاک ہو تو اللہ تعالیٰ بھی نظر آسکتا ہے۔
(۱۵۹) ہر شخص کا محبوب اس کے دل میں ہوتا ہے۔
(۱۶۰) سیرت کی قدر کرو صورت کی نہیں۔
(۱۶۱) امت محمدؐیہ میں فقیر عین مشرب ابراہیمی ہوتا ہے اور مشرب ابراہیمی آگ میں بھی غیر اللہ کو قبول نہیں کرتا۔
(۱۶۲) برائیوں کو فوری طور پر قبول کرلینا کمزوری و تنگ نظری ہے۔
(۱۶۳) دوست اچھے شوق والے، واقف کار بہتر کردار کے مالک اور دشمن اچھے دفاع والے بنانا چاہئے۔
(۱۶۴) سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت بغیر تمام اعمال ہی بیکار ہیں۔
(۱۶۵) خوبصورتی دنیا میں نہیں تمہارے اندر ہوتی ہے۔
(۱۶۶) سچا انسان ناکام رہ کر کامیابی حاصل کرلیتا ہے۔
(۱۶۷) جھوٹا انسان کامیابی حاصل کرکے بھی ناکام رہتا ہے۔
(۱۶۸) جلانا اور پھونکنا فقیری نہیں ہے۔
(۱۶۹) مضبوط ارداہ ہی کامیابی کی دلیل ہے۔
(۱۷۰) خوشامدی تمہیں بیوقوف بناتا ہے اور تم خوش ہوتے ہو۔
(۱۷۱) عقل اجالا اور بے عقلی تاریکی ہے۔
(۱۷۲) اخلاق باختہ کتب کا مطالعہ روح کی قاتل ہیں۔
(۱۷۳) وہ تعلیم جس سے لڑکیاں روزی کمالیں مگر اچھی زندگی نہ گذارسکیں بے فائدہ ہے۔
(۱۷۴) کسی کو دُکھ دے کر سکھی نہیں رہا جاسکتا۔
(۱۷۵) بدی کے لاتعداد مواقع ہیں جبکہ نیکی کا موقع کبھی کبھار ملتا ہے۔
(۱۷۶) ایمان قوت اور لازوال طاقت ہے۔
(۱۷۷) علم کے حصول میں شرم اور ہتک محسوس مت کرو۔
(۱۷۸) آرام دہ کمروں میں بیٹھ کر باتیں کرنے والے سیاست دانوں اور دانشوروں سے زیادہ صائب الرائے کسان ہیں جو محنت اور مشقت کرتے ہیں۔
(۱۷۹) معروف و مشغول زندگی گذارنے سے مصائب میں کمی واقع ہوتی ہے۔
(۱۸۰) انقلابات کے نقصانات ہی میں سے اعلیٰ ترین لوگ سامنے آتے ہیں۔

(۱۸۱) ناکامی کے بعد ہی کامیابی کا لطف حاصل ہوتا ہے۔
(۱۸۲) غیر متزلزل اعتماد ہی سے محبت کی ابتداء ہوتی ہے۔
(۱۸۳) ہوا ایک کتب خانہ ہے جس میں سبھی کے الفاظ و اعمال لکھے ہوئے ہیں۔
(۱۸۴) خوشی تو اپنے اندر ہے اس کو باہر مت تلاش کرو۔
(۱۸۵) کم بولنا اور زیادہ بولنا دونوں ہی نامناسب ہیں۔
(۱۸۶) عورت اس تصویر کی طرح ہے کہ اگر ناقدر شناس کے ہاتھ آجائے تو قدر و قیمت کھودے جبکہ قدر شناس کے پاس آجائے تو ڈرائنگ روم کی زینت بن جائے۔
(۱۸۷) لوگوں کو فضیلت کی تمناء تو ضرور ہوتی ہے مگر حاصل کرنے کے لئے محنت نہیں کرتے۔
(۱۸۸) خوشیاں اسی وقت ملتی ہیں جب دوسروں کو خوش کیا جائے۔
(۱۸۹) آدمی کے لئے اس قدر عقل کافی ہے کہ وہ ہدایت و ضلالت، سعادت و شقاوت میں فرق محسوس کرسکے۔
(۱۹۰) نیک انسان اپنی قدر خود ہی کرواتا ہے۔
(۱۹۱) عام طور پر لوگ بہادروں اور قوی لوگوں سے زیادہ متاثر ہوجاتے ہیں۔
(۱۹۲) حکمت یہ ہے کہ طاقت رکھنے کے باوجود ظلم نہ کرے۔
(۱۹۳) جس چیز کا علم نہیں اس کو بیان مت کرو۔
(۱۹۴) بلاضرورت کسی چیز کی جستجو مت کرو۔
(۱۹۵) نا معلوم راستہ پر ہرگز سفر مت کرو۔
(۱۹۶) سیدھا راستہ اختیار ارچہ کہ طویل ہو۔
(۱۹۷) بیوہ سے شادی مت کرو، چاہے وہ حور دکھائی دے، وہ اپنے پہلے شوہر کو کبھی نہیں بھول سکتی۔
(۱۹۸) اپنے بچے اور دوسروں کی بیویاں زیادہ اچھی لگتی ہیں۔
(۱۹۹) بیلوں کی لڑائی میں ہمیشہ مینڈک مارے جاتے ہیں۔
(۲۰۰) حماقت کرکے پچھتانا دوسری بڑی حماقت ہے۔
(۲۰۱) دوسروں کی بیویوں کے چکروں میں پڑنے والوں کی اپنی بیویاں بھی درست نہیں رہ سکتیں۔
(۲۰۲) خلقِ خدا پر مہربانی کرنا اللہ کو خوش کرنا ہے۔
(۲۰۳) دوسروں کی پگڑی اچھالنے والے کی اپنی پگڑی بھی محفوظ نہیں رہ سکتی۔
(۲۰۴) بھلائی کی نتیجہ کبھی برائی نہیں ہوا کرتا۔
(۲۰۵) خوش لباسی نہیں بلکہ خوش اخلاقی اختیار کرو۔
(۲۰۶) قتل کبھی چھپ نہیں سکتا۔
(۲۰۷) سچائی کو اس طرح تلاش کرو جس طرح شکاری شکار کو تلاش کرتا ہے۔
(۲۰۸) بہادر بغیر ہتھیار کے بھی دشمنوں پر بازی لے جاتا ہے، جبکہ بزدل مسلح ہونے کے باوجود زیر ہوجاتا ہے۔
(۲۰۹) اپنے مسائل کو ہمیشہ مختلف زاویہ سے پرکھو۔
(۲۱۰) مغلوب و محکوم قوم صدیوں تک غلام کے اثر نہیں نکل سکتی۔

(۲۱۱) مسلسل عمل، لگن اور غیر متزلزل اعتماد انسان کو کامیاب ہونے میں مدد دیتا ہے۔
(۲۱۲) سو طرح کے پھولوں کو بہار دکھانے دو خوشبو وہی حاوی ہوگی جو سب سے بہتر ہوگی۔
(۲۱۳) سو طرح کے افکار کو مقابلہ کرنے دو رنگ وہی غالب آئے گا جو حقیقی ہوگا۔
(۲۱۴) اقوال اور اعمال سے ملک کے تمام طبقات کو متحد ہونے میں مدد ملتی ہے اور انتشار ختم ہوجاتا ہے۔
(۲۱۵) بہادروں کو وقتی طور پر ہار کا سمنا کرنا پڑسکتا ہے مگر دائمی شکست سے دوچار نہیں کیا جاسکتا۔
(۲۱۶) بہادروں کو منتشر کیا جاسکتا ہے مگر مٹایا نہیں جاسکتا۔
(۲۱۷) ایامِ جوانی میں کم خرچ کرنا چاہئے اور زیادہ پس انداز کرنا چاہئے۔
(۲۱۸) سچائی بوقت ضرورت پیش نہ کرنا سچائی کا انکار ہی تصور ہوگا۔
(۲۱۹) سچائی کو مت چھپاؤ چاہے نقصان کا اندیشہ ہی کیوں نہ ہو۔
(۲۲۰) ہر شخص درخت کا بیج بوسکتا ہے، مگر پھل کھانا ہر کسی کے مقدر میں نہیں ہوتا۔
(۲۲۱) علم تو عمل سے حاصل ہوتا ہے۔
(۲۲۲) نظریاتی علم جو کہ عمل کے ذریعہ حاصل ہوتا ہے اُسے دوبارہ عمل میں آنا چاہئے۔
(۲۲۳) سب سے بڑی عقلمندی عبرت پذیری ہے۔
(۲۲۴) سب سے بڑی غفلت اغماض ہے۔
(۲۲۵) ایسا عالم جو بے عمل ہو اس بیماری کی طرح ہے جو دوا رکھتا ہے مگر علاج نہیں کرتا۔
(۲۲۶) بزرگ اطاعت سے خوش ہوتے ہیں۔
(۲۲۷) ہمسر اخلاق و سلوک سے خوشی حاصل کرتے ہیں۔
(۲۲۸) خردمند لطف و کرم سے شاداں ہوتے ہیں۔
(۲۲۹) حاسد تمہارے زوالِ نعمت سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔
(۲۳۰) زبانی پکار ضائع جاسکتی ہے اعمال کی نہیں۔
(۲۳۱) نقصاندہ چیزوں سے بچنے والے کم ہیں۔
(۲۳۲) نقصان اٹھاکر شفاء حاصل کرنے والے نظر نہیں آتے۔
(۲۳۳) اللہ تعالیٰ کو صبر کرنے والے اور غصہ کا گھونٹ پینے والے پسند ہیں۔
(۲۳۴) ایک گندی مچھلی پورے تالاب کو گندہ کرتی ہے۔
(۲۳۵) ایک آزردہ دل پوری مجلس کو آزردہ کردیتا ہے۔
(۲۳۶) شہوت بظاہر شیرینی ہے مگر باعثِ ہلاکت ہے۔
(۲۳۷) کامل انسان وہ ہے جس سے اس کے دشمن بھی بے خوف ہوں۔
(۲۳۸) عالم کو احمق کی ہنسی بری طرح چکرادیتی ہے۔
(۲۳۹) قرض سے بچنا چاہئے، اگر لے ہی لو تو غفلت کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہئے۔
(۲۴۰) زبان بند کرکے آنکھوں اور کانوں سے کام لیکر سکون حاصل کیا جاسکتا ہے۔

(۲۱۱) مسلسل عمل، لگن اور غیر متزلزل اعتماد انسان کو کامیاب ہونے میں مدد دیتا ہے۔
(۲۱۲) سو طرح کے پھولوں کو بہار دکھانے دو خوشبو وہی حاوی ہوگی جو سب سے بہتر ہوگی۔
(۲۱۳) سو طرح کے افکار کو مقابلہ کرنے دو رنگ وہی غالب آئے گا جو حقیقی ہوگا۔
(۲۱۴) اقوال اور اعمال سے ملک کے تمام طبقات کو متحد ہونے میں مدد ملتی ہے اور انتشار ختم ہوجاتا ہے۔
(۲۱۵) بہادروں کو وقتی طور پر ہار کا سمنا کرنا پڑسکتا ہے مگر دائمی شکست سے دوچار نہیں کیا جاسکتا۔
(۲۱۶) بہادروں کو منتشر کیا جاسکتا ہے مگر مٹایا نہیں جاسکتا۔
(۲۱۷) ایامِ جوانی میں کم خرچ کرنا چاہئے اور زیادہ پس انداز کرنا چاہئے۔
(۲۱۸) سچائی بوقت ضرورت پیش نہ کرنا سچائی کا انکار ہی تصور ہوگا۔
(۲۱۹) سچائی کو مت چھپاؤ چاہے نقصان کا اندیشہ ہی کیوں نہ ہو۔
(۲۲۰) ہر شخص درخت کا بیج بوسکتا ہے، مگر پھل کھانا ہر کسی کے مقدر میں نہیں ہوتا۔
(۲۲۱) علم تو عمل سے حاصل ہوتا ہے۔
(۲۲۲) نظریاتی علم جو کہ عمل کے ذریعہ حاصل ہوتا ہے اُسے دوبارہ عمل میں آنا چاہئے۔
(۲۲۳) سب سے بڑی عقلمندی عبرت پذیری ہے۔
(۲۲۴) سب سے بڑی غفلت اغماض ہے۔
(۲۲۵) ایسا عالم جو بے عمل ہو اس بیماری کی طرح ہے جو دوا رکھتا ہے مگر علاج نہیں کرتا۔
(۲۲۶) بزرگ اطاعت سے خوش ہوتے ہیں۔
(۲۲۷) ہمسر اخلاق و سلوک سے خوشی حاصل کرتے ہیں۔
(۲۲۸) خردمند لطف و کرم سے شاداں ہوتے ہیں۔
(۲۲۹) حاسد تمہارے زوالِ نعمت سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔
(۲۳۰) زبانی پکار ضائع جاسکتی ہے اعمال کی نہیں۔
(۲۳۱) نقصاندہ چیزوں سے بچنے والے کم ہیں۔
(۲۳۲) نقصان اٹھاکر شفاء حاصل کرنے والے نظر نہیں آتے۔
(۲۳۳) اللہ تعالیٰ کو صبر کرنے والے اور غصہ کا گھونٹ پینے والے پسند ہیں۔
(۲۳۴) ایک گندی مچھلی پورے تالاب کو گندہ کرتی ہے۔
(۲۳۵) ایک آزردہ دل پوری مجلس کو آزردہ کردیتا ہے۔
(۲۳۶) شہوت بظاہر شیرینی ہے مگر باعثِ ہلاکت ہے۔
(۲۳۷) کامل انسان وہ ہے جس سے اس کے دشمن بھی بے خوف ہوں۔
(۲۳۸) عالم کو احمق کی ہنسی بری طرح چکرادیتی ہے۔
(۲۳۹) قرض سے بچنا چاہئے، اگر لے ہی لو تو غفلت کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہئے۔
(۲۴۰) زبان بند کرکے آنکھوں اور کانوں سے کام لیکر سکون حاصل کیا جاسکتا ہے۔

(۲۴۱) ذہین آدمی گھٹیا بات نہیں کرسکتا۔
(۲۴۲) انسان تو آنسوؤں کا اور مسکراہٹوں کے درمیان لٹکا ہوا ہے۔
(۲۴۳) جس کو بڑے آداب نہیں سکھاتے وہ زمانے سے سیکھتا ہے۔
(۲۴۴) بے گھر ہی آرام میں ہیں۔
(۲۴۵) جس شئے کا وجود نظر نہیں آتا اس کو اعتماد سے پیدا نہیں کیا جاسکتا۔
(۲۴۶) ستائے ہوئے اور ستانے والوں پر اس پورے معاشرہ کی تشکیل ہے۔
(۲۴۷) دل کو اختیار میں رکھنا بادشاہی ہے۔
(۲۴۸) دوسروں پر نکتہ چینی سہل ترین اور اپنی اصلاح مشکل ہے۔
(۲۴۹) بے ادب کی عزت نہیں ہوتی۔ (بے ادب بے مراد)
(۲۵۰) مشقت کے بجائے حدت شہوت کو صبر کے ساتھ برداشت کرنا مشکل امر ہے۔
(۲۵۱) زندگی تو بس وقت ہی وقت ہے، اگر یہ اللہ کے راستہ میں کٹ جائے تو کامیابی ورنہ ناکامی ہے۔
(۲۵۲) مضبوط قوت ارادہ کے مالک لائق صد آفرین ہیں۔
(۲۵۳) اتفاقیہ دولت ہاتھ لگ جائے تو دائمی طور پر ٹھہر نہیں سکتی۔
(۲۵۴) عورتوں کے رونے کو بند کرنا سمند کے آگے بند باندھنے کے مترادف ہے۔
(۲۵۵) بڑے آدمی کا مانگنا حکم کا درجہ رکھتا ہے۔
(۲۵۶) اعتماد و یگانگت ہی خوشیوں کا پیش خیمہ ثابت ہوتی ہیں۔
(۲۵۷) بے کار لوگ جلد ہی شیطان کے چکر میں آجاتے ہیں۔
(۲۵۸) موت در اصل ہمیشہ کی زندگی کا دوسرا نام ہے۔
(۲۵۹) عورت کا دل اس کے دماغ پر حکومت کرتا ہے۔
(۲۶۰) عورت کی عقل اس کی گدی کے پیچھے ہوتی ہے۔
(۲۶۱) عورت کا گھر تباہ کرنے والی بھی عورت ہی ہوتی ہے۔
(۲۶۲) عورت کوئی گھر نہیں ہوتا، وہ باپ کے گھر پیدا ہوتی ہے، خاوند کے گھر میں زندگی گذار دیتی ہے اور بیٹوں کے گھر میں مرجاتی ہے۔
(۲۶۳) طاقت سے جسم تو فتح کیا جاسکتا ہے دل کو ہرگز نہیں!
(۲۶۴) حوب غور و خوص کرنے والا ہی صحیح پیش گوئی کرسکتا ہے۔
(۲۶۵) خوش مزاج شخص ہی دوسروں کو خوش کرسکتا ہے۔
(۲۶۶) ناکامی جدبہ لے کر کامیابی کی امید ایک حماقت ہی کہی جاسکتی ہے۔
(۲۶۷) نفرت تو دل کا پاگل پن ہے۔
(۲۶۸) مطالعہ محض اپنے دل و دماغ کو اچھے خیالات سے معمور کرنے کے لئے کرو نہ کہ دولت کے حصول کے لئے۔
(۲۶۹) زندگی ایک دولت ہے جس میں محبت، خوشی اور تعریف کی تمام قوتیں موجود ہیں۔
(۲۷۰) جمہوری حکومت کیا ہے؟ ہر دوسرے، چوتھے یا پانچویں سال غریب اور بے بس عوام کو مجبور کرنا کہ تم کو دولت مند سرمایہ داروں میں سے کونسے لوگ حکومت کے لئے پسند ہیں؟

(۲۷۱) مالدار وہ شخص ہے جس کو خوشامد کرنے اور قرض مانگنے کی حاجت نہیں ہوتی۔
(۲۷۲) سمندر کی گہرائی ہے، مگر گھٹیا پن اور کمینہ پن کی کوئی گہرائی نہیں۔
(۲۷۳) پوچھنے والا ہی زیادہ سیکھتا ہے۔
(۲۷۴) دوسروں کی خوبیاں بیان کرکے وقت ضائع مت کرو بلکہ اس کی خوبیوں کو اپناؤ۔
(۲۷۵) مسکرانے والوں کے ساتھ سبھی مسکراتے ہیں، مگر رونے والوں کے ساتھ روتا کوئی نہیں ہے۔
(۲۷۶) اپنے آپ کو ایماندار بناکر ہی آپ یقین کرلیں کہ دنیا میں ایک بے ایمان کم ہوگیا۔
(۲۷۷) مشورے پر بلا سوچے عمل کرنا جہالت ہے۔
(۲۷۸) اپنے دوستوں کو پہچانو، یہ وصف تو جانوروں میں بھی ملتا ہے۔
(۲۷۹) انسان پیدا ہوتا ہے تو تھوڑا سا دودھ اور تھوڑا سا کپڑا ہی کافی ہوتا ہے، مگر بڑا ہونے کے ساتھ ساتھ اس کو پوری دنیا ہی اپنے لئے کم محسوس ہوتی ہے۔
(۲۸۰) بے بس دکھائی دینے والے جب ظالموں کے خلاف کمربستہ ہوجاتے ہیں تو ظالموں کے لئے راہِ فرار مسدود ہوجاتی ہے۔
(۲۸۱) محبت ہی انسانوں جانوروں میں وجہِ امتیاز ہے۔
(۲۸۲) جو شخص کسی دوسرے شخص سے فائدہ اٹھاتے وقت اس کا شکر ادا کردیتا ہے وہ گویا قرض کی پہلی قسط ادا کردیتا ہے۔
(۲۸۳) جرائم کے خاتمہ کا آغاز ہمیں اپنی ذات سے کرنا چاہئے۔
(۲۸۴) معاشرہ میں آپ کی حیثیت وہی ہے جس کا اظہار لوگ آپ کی غیر موجودگی میں کرتے ہیں۔
(۲۸۵) دوسروں کے حالات سے عبرت حاصل نہ کرنے والوں سے عبرت کا سبق لو۔
(۲۸۶) خوبصورت عورت سب کو اچھی لگتی ہے۔
(۲۸۷) تمہاری عیوب کی نشاندہی کرنے والا بہتر ہے۔
(۲۸۸) تمہارے عیوب کی پردہ پوشی کرنے والا اور بیجا تعریف کرنے والا تمہارا دشمن ہے۔
(۲۸۹) مشکل ایک ایسا بہانہ ہے جسے تاریخ تسلیم نہیں کرتی۔
(۲۹۰) ایسے دوستوں کا انتخاب کرو جس کا اظہار جو تمہاری بے جاتعریف نہ کریں بلکہ تمہاری غلطیوں کی نشاندہی کریں، یہی تمہاری عقلمندی ہے۔
(۲۹۱) جب گیان کے ذریعہ انسان الگ الگ سب ہستیوں میں ایک لافانی ہستی کو دیکھتا ہے تو اس کو سچا گیان سمجھ۔
(۲۹۲) جس میں سچ کی آمیزش ہو وہی بدترین جھوٹ ہے۔
(۲۹۳) ایک کار آمد چیز کے لئے بہت سے بیکار دوست مت بناؤ۔
(۲۹۴) غدار ہمیشہ اپنے قریب ہی ہوتے ہیں۔
(۲۹۵) معاشرہ کو تباہ کرنے والی چیزیں کم تولنا اور کم ناپنا ہیں۔
(۲۹۶) شمع کو روشن دیکھ کر پروانہ تاریکی میں جانا پسند نہیں کرتا اور روشنی کوپکڑنے کی جستجو میں جان گنوا دیتا ہے۔
(۲۹۷) وہی انسان اچھا ہے جو کسی کو تکلیف نہ دے اور خود ستائے جانے پر بھی کسی کو تکلیف نہ دے اور جو بے جا طور پر خوشی نہ کرے اور جو حسد و خوف سے بھی بلند ہو۔
(۲۹۸) مغرور شخص ہمیشہ شکی مزاج کا حامل ہوتا ہے۔
(۲۹۹) انسان کا کردار اس چیز سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ کس چیز سے خوش ہوتا ہے۔
(۳۰۰) شہرت قربانی دے کر حاصل ہوتی ہے، مکر و فریب سے ہرگز نہیں۔

(۳۰۱) غرض مند دیوانہ ہوتا ہے۔
(۳۰۲) خود غرض آدمی پاگل ہوجاتا ہے۔
(۳۰۳) قرض کی عادت کبھی نہیں چھوٹ سکتی۔
(۳۰۴) شکم سیری کی عادل دل کو سخت کردیتی ہے۔
(۳۰۵) اللہ کے پیارے بندوں کی پہچان یہ ہے کہ کیس کو تکلیف نہ دیں، خوشی اور غم میں حد اعتدال میں رہیں، متعصب نہ ہوں، قول و فعل میں تضاد نہ رکھیں، عدل کے وقت نہ دوست کے طرفدار ہوں نہ دشمن کے۔
(۳۰۶) اللہ تعالیٰ تک رسائی کے لئے دوسروں کو آرام پہنچانا ضروری ہے۔
(۳۰۷) جو مخلوق کی خدمت نہیں کرتا وہ خود غرض ہے، اس کو دنیا میں بھلائی کی امید نہیں رکھنا چاہئے۔
(۳۰۸) مرد کا امتحان عورت سے اور عورت کا مال و دولت سے ہوتا ہے۔
(۳۰۹) ایسے لوگ جو اعلیٰ قابلیت کے مالک ہوں اور بد اطوار اور بدکردار بھی ہو ان کی مثال ان سڑی گلی ہڈّیوں جیسی ہے جو چاند کی روشنی میں چمک دمک کے ساتھ بدبو اور تعفّن پھیلاتی ہیں۔
(۳۱۰) خواہش پرستی ہلاک کردینے والے دوست کی طرح اور بد عادات ایک طاقتور دشمن کی طرح ہیں۔
(۳۱۱) غصہ کرنے کا مطلب یہی ہے کہ دوسروں کی غلطیوں کا انتقام خود سے لیا جائے۔
(۳۱۲) عالم کی مثال چراغ جیسی ہے جو اندھیرے کو ختم کردیتا ہے۔
(۳۱۳) مذہبی اور اخلاقی اقدار سے فرار کسی مذہب میں نہیں ہے۔
(۳۱۴) اسی شخص کو فلاح حاصل ہوگی جو لڑائی جھگڑوں، طمع اور غصہ سے بچے گا۔
(۳۱۵) زندگی کا مزہ یہی ہے کہ ہر طرح کی مشکلات کا مردانہ وار مقابلہ کیا جائے۔
(۳۱۶) حقیقت یہ ہے کہ ہمہ وقت مکمل راحت نیکی کرنے سے حاصل ہوتی ہے۔
(۳۱۷) نیکوں کی موت ان کے لئے اور بد لوگوں کی موت دنیا کے لئے باعث راحت ہوتی ہے۔
(۳۱۸) اگر تم چاہو کہ تمہارا نام تا قیامت زندہ رہے تو مصائب پر صبر کرو۔
(۳۱۹) شیر کی ایک روزہ زندگی گیدڑ کی ہزار سالہ زندگی سے بہتر ہے۔
(۳۲۰) اگر علماء دولتمندوں کے پاس جائیں تو خدا کے دشمن اور دولتمند علماء کے پاس جائیں تو اللہ کے دوست ہوتے ہیں۔
(۳۲۱) غداروں کی موجودگی میں مضبوط قلعے بھی ریت کی دیوار ثابت ہوتے ہیں۔
(۳۲۲) صرف اللہ ڈرو اور رزق کے لئے خود کو پریشان مت کرو، اگر تمہارا رزق پہاڑ کی چوٹی یا زمین کے اندر ہے تو وہ تمہیں ہی ملے گا۔
(۳۲۳) جیسے عوام ہوتی ہے ویسے ہی حاکم بھی ہوتے ہیں۔
(۳۲۴) نصیحت کا اثر ان پر نہیں ہوتا جو ایمان سے خالی ہوں۔
(۳۲۵) ہمیشہ غیروں سے زیادہ اپنے نقصان پہنچاتے ہیں۔
(۳۲۶) جب قوت بڑھتی ہے تو حرص گھٹ جاتی ہے۔
(۳۲۷) ظاہر و باطن کو یکساں رکھو۔
(۳۲۸) معمولی سے معمولی نیکی بھی ضائع نہیں جاسکتی۔
(۳۲۹) کمینے لوگ بخل کو اختیاط اور تحمل کو ذلت سے تعبیر کرتے ہیں۔
(۳۳۰) امن کی ناکامی اور حکمرانوں کی اصلاح کے لئے صبر کی ضرورت نہیں۔

(۳۳۱) عیب جوئی خود پسندی اور ریاکاری خطرناک ترین بیماریاں ہیں۔
(۳۳۲) اللہ تعالیٰ پاک و صاف لوگوں کو پسند کرتا ہے۔
(۳۳۳) عدل و انصاف سبھی کے لئے بہتر ہوتا ہے مگر دولتمندوں کے لئے بہت بہتر۔
(۳۳۴) ماں کے قدموں کے نیچے جنت ہوتی ہے۔
(۳۳۵) نیک افراد کی مثال اس گائے کی طرح ہے کہ جس کو گھاس کھلاؤ تو دودھ دیتی ہے۔
(۳۳۶) ایک گناہ گار آدمی اس سانپ کی طرح ہے کہ دودھ بھی پلاؤ تو ڈنک ضرور مارتا ہے۔
(۳۳۷) کسی آدمی کو تعلیم دینا محض ایک فرد کو تعلیم دینا ہے جبکہ ایک خاتون کو تعلیم دینا گویا ایک خاندان کو تعلیم دینا ہے۔
(۳۳۸) مسافروں، مساکین، عزیز و اقارب اور والدین سے اچھا سلوک کرو۔
(۳۳۹) کسی بھی انسان کی گفتگو اس کی شخصیت کی آئینہ دار ہوتی ہے۔
(۳۴۰) نفسانی خواہشات پر قابو رکھنے والا فرشتوں سے بھی بہتر ہے۔
(۳۴۱) منافق کی نشانی یہ ہے کہ مال کو لالچ کے ساتھ حاصل کرکے شک کے ساتھ جمع کرتا اور ریاءکاری کے ساتھ خرچ کرتا ہے۔
(۳۴۲) مومن کی نشانی یہ ہے کہ خوف کے ساتھ کماکر شکر کے ساتھ جمع کرتا ہے اور محض اللہ کی رضاء و خوشنودی کے لئے خرچ کرتا ہے۔
(۳۴۳) جس کا دل اللہ کی طرف سے بند ہوجائے وہ قیدی ہے۔
(۳۴۴) جس کو خواہشات چاروں طرف سے گھیر لیں وہ قیدی ہے۔
(۳۴۵) ایک اچھی کتاب ہی وہ واحد چیز ہے جو زندگی کے ہر حصہ میں فیض بخش ہے۔
(۳۴۶) ہاتھ پھیلانا گویا موت کے مترادف ہے، لیکن سائل کو جھڑکنا بھی درست نہیں ہے۔
(۳۴۷) زندگی گذارنے کا سب سے بڑا فن ہر حال میں خوش رہنے میں پوشیدہ ہے۔
(۳۴۸) ماں کی خدمت کا درجہ نفلی عبادت کے برابر ہے۔
(۳۴۹) کسی بھی برتن میں اشیاء ڈالنے کی ایک حد ہوتی ہے، مگر علم کا برتن کبھی نہیں بھرتا بلکہ بڑھتا ہی رہتا ہے۔
(۳۵۰) سچ کا مقام یہ ہے کہ جو بات بات میں ہو وہی کہی جائے۔
(۳۵۱) شکر گذار دل ایک نعمت ہے۔
(۳۵۲) اللہ تبارک و تعالیٰ کا ذکر کرنے والی زبان ایک عنایت ہے۔
(۳۵۳) صبر کرنے والا جسم انسان کے لئے تحفۂ خداوندی ہے۔
(۳۵۴) ایک نیک اور فرمانبردار بیوی قدرت کا عظیم تحفہ ہے۔
(۳۵۵) ماں کی خدمت باعث جنت جبکہ بے ادبی باعثِ دوزخ ہے۔
(۳۵۶) رونے کو ہنسنے سے، جاگنے کو سونے سے، خاموشی کو بولنے سے اور کم کھانے کو زیادہ کھانے سے زیادہ رکھا۔
(۳۵۷) زندگی تو مختصر شئے ہے، اسی لئے کسی سے دشمنی روا مت رکھو۔
(۳۵۸) صرف مسکراہٹ روح کا دروازہ کھول دیتی ہے۔
(۳۵۹) بلند ارادوں سے ہر چیز حاصل ہوسکتی ہے سوائے خدائی کے۔
(۳۶۰) برائی کو برائی سے نہیں بلکہ بھلائی سے ختم کیا جاسکتا ہے۔

(۳۶۱) یاد رکھو! آزادی کی کوئی قیمت نہیں ہوا کرتی۔
(۳۶۲) دنیا سے منہ پھیرنے والوں کی دنیا غلام ہوجاتی ہے۔
(۳۶۳) اپنی خوشیوں کے لے دوسروں کی خوشیاں مت خراب کرو۔
(۳۶۴) وہ زاہد جو عالم نہ ہو اور وہ عالم جو زاہد نہ ہو دین کے لئے خطرہ بن سکتے ہیں۔
(۳۶۵) جس میں بھی جوش اور ہوش باہم یکجا ہوجائیں اس سے غلطی کا امکان نہیں۔
(۳۶۶) اللہ تعالیٰ کو اپنے قلوب میں تلاش کرو اور ادھر ادھر کچھ نہیں ملے گا۔
(۳۶۷) اللہ تعالیٰ سے آشنائی پیدا کرو، بہادر اور نڈر بن جاؤ گے۔
(۳۶۸) روکھی روٹی بھی شدید بھوک میں ایک نعمت سے کم نہیں ہوتی۔
(۳۶۹) اپنے آپ کا علم رکھنے والا ہی عالم ہے، چیزوں کو جاننے والے کو عالم نہیں کہا جاسکتا۔
(۳۷۰) طاقتور بازو سے سخاوت کرنے والا ہاتھ بدرجہا بہتر ہے۔
(۳۷۱) انسان کو ہلاکت میں ڈالنے والی چیزیں سستی اور بیکاری ہیں۔
(۳۷۲) کوئی بھی تدبیر تقدیر کے آگے کام نہیں آتی۔
(۳۷۳) اللہ کے پیغمبرؐ کے ساتھ گذارنے والے دن کی مثال یہ ہے کہ دن بھر میں کسی کو تکلیف نہ پہنچائی جائے۔
(۳۷۴) قبر کے مردوں میں کوئی امیر غریب نہیں ہوتا۔
(۳۷۵) اللہ سے دوستی کا دعویدار وہ نہیں ہوسکتا ہے جو لوگوں پر ظلم کرتا ہو۔
(۳۷۶) سونا چاندی پتھر سے ہی نکلتے ہیں، مگر ہر پتھر میں یہ خاصیت نہیں ہوتی۔
(۳۷۷) جس کے ذہن میں برائی کرنے کی خواش تک نہ ہو وہی خوب سیرت ہے۔
(۳۷۸) غفلت کا سرمہ آنکھوں سے صاف کرلو! کیونکہ آخر کار تمہیں بھی مٹی کا سرمہ بننا ہے۔
(۳۷۹) کنجوسی آخر تباہ و بربادی لاتی ہے اور ہمیشہ کا غم۔
(۳۸۰) دنیا کے بدلے آخرت کو خریدلو! سودا مہنگا نہیں ہے۔
(۳۸۱) اپنے بچوں کو ایمانداری سکھانا ہی ابتدائی تعلیم ہے۔
(۳۸۲) جاہل کوئی بھی شخص نہیں ہوتا، کسی سے کچھ نہ کچھ ضرور سیکھا جاسکتا ہے۔
(۳۸۳) پاؤں پھسل جانے سے مت ڈرو! زبان کو پھسلنا نہیں چاہئے!
(۳۸۴) جس جھوٹ سے کسی کو فائدہ ہوجائے اس سچ سے بہتر ہے جس کے بولنے سے کسی کو نقصان پہنچ جائے۔
(۳۸۵) عقلمندی تو یہ ہے کہ زیادتی پر صبر کیا جائے۔
(۳۸۶) شرم و حیاء کا احساس ہی جانور اور انسان میں فرق ہے۔
(۳۸۷) کسی نااہل کی تربیت کرنا ایسے ہی ہے جیسے کسی گنبد پر اخروٹ رکھ دیا جائے۔
(۳۸۸) ہر شخص ایک کھلی کتاب ہے، صرف پڑھنا شرط ہے۔
(۳۸۹) ہر چمکتی چیز سونا نہیں ہوتی۔
(۳۹۰) ضرورت پڑنے پر اپنے ہی کام آتے ہیں۔

(۳۹۱) کسی پر تیر چلانے سے پہلے یہ خیال ضرور رکھو کہ تم بھی اس کے نشانے پر ہو۔
(۳۹۲) مصیبت ہلاکت نہیں امتحان ہے۔
(۳۹۳) ہرگز بزرگوں، اندھو اور معذوروں سے مذاق مت کرو۔
(۳۹۴) تم اس کو جان لو کہ تم کسی کے ساتھ نہیں بلکہ اپنے ہی ساتھ بھلائی کرتے ہو۔
(۳۹۵) افواہوں پر یقین کبھی نہیں کرنا چاہئے۔
(۳۹۶) جو لوگ سمجھتے ہوئے بھی اپنی اصلاح نہ کریں تو نقصان ان کا مقدر بن جاتا ہے۔
(۳۹۷) لیٹ کر مطالعہ مت کرو، ورنہ بینائی کمزور ہوجائے گی۔
(۳۹۸) بادل کی طرح رہنا چاہئے، جو کانٹوں اور پھولوں پر یکساں برستا ہے۔
(۳۹۹) زندگی میں ہر جاندار کے ہمدردانہ جذبات کی آبیاری کرو۔
(۴۰۰) جس طرح بغیر چاند کے رات تاریک ہوتی ہے بالکل اسی طرح علم کے بغیر ذہن۔
(۴۰۱) ایک نیک انسان کو بری صحبت خراب نہیں کرسکتی، جس طرح صندل کے درخت پر ہزاروں سانپ بھی لپٹ جائیں تو اس کو زہر آلود نہیں کرسکتے۔
(۴۰۲) محبت اور نفرت کبھی چھپ نہیں سکتی۔
(۴۰۳) اپنا ذہن ہر وقت مصروف رکھو، ہوسکتا ہے کہ ماوراء الوجود خیال آجائے۔
(۴۰۴) سچ ہی کا ساتھ دو خواہ خطرات ہی کیوں نہ دکھائی دیں۔
(۴۰۵) اپنے نام و نمود کی پرواہ مت کرو، اچھے کام مسلسل کئے جاؤ، نام تمہارا اللہ مشہور کردے گا۔
(۴۰۶) اگر تم ناکامیوں کا مقابلہ کرنے کے بجائے بھاگنے لگے تو کامیابی نہیں مل سکتی۔
(۴۰۷) جس طرح تمہاری موت کا وقت معین ہے اسی طرح ہر شئے کا وقت معین ہے، چیزوں کی شکست و ریخت سے دل برداشتہ نہ ہونا چاہئے۔
(۴۰۸) دنیا سے بیزار لوگوں سے دنیا بھی بیزار ہوجاتی ہے۔
(۴۰۹) جلد بازی ہی تاخیر کا سبب بنتی ہے۔
(۴۱۰) خوشحالی حاصل کرکے اپنی خواہشات کی فہرست طویل مت کرو۔
(۴۱۱) نیکی کی تلقین کرنے والا بھی اس نیکی میں شمار کیا جاتا ہے۔
(۴۱۲) پاک چیزوں کو بنظر حقارت مت دیکھو۔
(۴۱۳) انتہائی بد اخلاق ہے وہ شخص جو جانتے بوجھتے کوتاہیوں کرے۔
(۴۱۴) تندرستی کی حفاظت کرنا اعلیٰ درجہ کی دانائی ہے۔
(۴۱۵) آدمی اس وقت بوڑھا ہوتا ہے جب حصول علم بند کردے، اگرچیکہ بیس سال کا ہو۔
(۴۱۶) معمولی معمولی شکر رنجیوں سے ملول خاطر ہونا انتہائی نامناسب ہے۔
(۴۱۷) زمانہ کبھی برا اور زمانۂ جنگ کبھی اچھا نہیں ہوتا۔
(۴۱۸) زندگی ایک پھول ہے اور محبت اس کا شہد ہے۔
(۴۱۹) خاموش رہنا ہر حال میں بہتر خیال کیا جاتا ہے، مگر بوقتِ ضرورت نہ بولنا بُرا خیال کیا جاتا ہے۔
(۴۲۰) دنیوی ترقی پر ناز کرو اور تنزلی پر ملول خاطر نہ ہوا کرو۔

(۴۲۱) فقیر کی نشانی یہ ہے کہ مال نہ ہو تو خاموش اگر مل جائے تو جب تک خرچ نہ کرلے چین سے نہیں بیٹھتا۔
(۴۲۲) اپنے علم کو دوسروں کے علم سے مضبوط کرو۔
(۴۲۳) نیکی اور بدی کا احتساب اپنے دل و دماغ میں کرو تو عقلمند کہلاؤ گے۔
(۴۲۴) تعلیمی اسناد کے حصول کے لئے اپنی صحت کو برباد مت کرو کہ جب تم ان اسناد سے فائدہ اٹھانے کے قابل ہوجاؤ تو چلنے پھرنے کے قابل بھی نہ رہو۔
(۴۲۵) معمولی معمولی باتوں پر بھی غور کرنے سے بہت بلند درجہ کے نتائج حاصل ہوجاتے ہیں۔
(۴۲۶) سخت محنت تمام مصائب اور مشکلات حل کرنا سیکھو! یہی کامیابی کی پہلی سیڑھی ہے۔
(۴۲۷) اکثر لوگ بوقت ضرورت مشکلات میں کام نہیں آتے مگر یاد رکھو یہ سچے دوست نہیں ہوتے۔
(۴۲۸) ہر کاروبار میں جائز منافع ہی کاروبار کی ترقی کا راز ہے۔
(۴۲۹) رحم اور عفو و درگذر کو ذاتیات جبکہ عدل و انصاف کو دوسروں کے معاملات میں برتو۔
(۴۳۰) خواتین محض ایک بات کا پردہ رکھ سکتی ہیں یعنی اپنی عمر کا۔
(۴۳۱) کم بولو اور سنو زیادہ! کیونکہ قدرت نے سننے کے لئے دو کان اور بولنے کے لئے صرف ایک زبان دی ہے۔
(۴۳۲) کبھی کسی پر ظاہری اور عام سی بات دیکھ کر بہتان مت لگاؤ۔
(۴۳۳) کبھی اخلاق سے گری ہوئی کتب و رسائل کا مطالعہ و مشاہدہ مت کرو۔
(۴۳۴) فارغ وقت گذارنے سے بہتر ہے کہ پڑھے لکھوں کی صحبت اختیار کرو۔
(۴۳۵) اگر تمہیں لوگ نہیں جانتے تو بری بات نہیں، بری بات تو یہ ہے کہ تم ان کے بارے میں علم نہیں رکھتے ہو۔
(۴۳۶) قناعت پسندی ہی بڑی دولتمندی ہے۔
(۴۳۷) اپنے تمام امور میں دوسرے لوگوں کے فائدہ کو ملحوظ خاطر رکھو۔
(۴۳۸) تمہیں چاہئے کہ تمہارا کوئی بھی کام خالی از نیکی نہ ہو۔
(۴۳۹) تمام باتوں میں علم حاصل ضرور کرو، مگر اپنے لئے شائستگی و خوش اخلاقی۔
(۴۴۰) ناگوار بات سن کر صبر کرو۔
(۴۴۱) اپنے احسانات اور دوسروں کی زیادتی کو یکسر فراموش کرڈالو۔
(۴۴۲) ایسی عادات اور خصائل کو اپنا جو تمہیں اچھا بنادیں، کیونکہ ظاہری تواضع اور تصنع کا نام اخلاق نہیں۔
(۴۴۳) اگر تم کسی کلیدی عہدہ پر ہو تو اپنے زیر اثر بندوں پر مکمل نظر رکھو۔
(۴۴۴) تم ماتحت ہو تو پست ہمتی کو کبھی قریب نہ آنے دو، آگے بڑھنے کے لئے کوششیں جاری رکھو۔
(۴۴۵) علم کے حصول کے لئے ایک عاشق کی طرح تمام عمر جد و جہد کرو۔
(۴۴۶) علم کے حصول کے لئے ناکامی کے ڈر سے کاوش ترک کردینا بزدلی ہے۔
(۴۴۷) صرف اللہ کی محبت اپنے اندر موجزن رکھو اور فانی و آنی جانی چیزوں سے والہانہ الفت چھوڑ دو۔
(۴۴۸) اللہ کی بندگی اس شدت سے کرو کہ گویا تمہارا آخری وقت آن پہنچا ہے۔
(۴۴۹) نیک امور کی انجام دہی اس طرح کرو گویا بہت زیادہ عرصہ زندہ رہنا ہے۔
(۴۵۰) تمہاری بلند کرداری اسی میں ہے کہ برے دوستوں میں رہ کر بھی برائی کو اختیار نہ کرو۔

(۴۵۱) بلند خیالات کو ہمیشہ ذہن میں سرگرداں رکھو، ایک وقت ایسا بھی آئے گا جب تم بلند درجہ حاصل کرلو گے۔
(۴۵۲) اپنی غلطیوں کو شمار رکتے رہنے سے غلطیوں کا اعادہ نہیں ہوا کرتا۔
(۴۵۳) وعدہ کرنا آسان اور نبھانا از حد مشکل ہے، اس لئے وہ وعدہ ہی نہ کر جس کو نبھا نہ سکو۔
(۴۵۴) کھوٹا سکہ بھی کبھی کام آجاتا ہے، ا سلئے معمولی چیزوں کو حقارت کی نظر سے مت دیکھو۔
(۴۵۵) اپنے عملی فائدہ کے حصول کے لئے پوچھنا بری بات نہیں اچھی بات ہے۔
(۴۵۶) قومی مفاد کے لئے اپنے نقصانات کی پرواہ مت کرو۔
(۴۵۷) اپنے حوصلہ کی بلندی اور پختگی کے لئے کتابوں سے دوستی رکھو۔
(۴۵۸) والدین کی جس قدر خدمت کرسکو کم ہے۔
(۴۵۹) کسی کے سامنے اور پیٹھ پیچھے ایک سے الفاظ استعمال کرو ورنہ منافق کہلاؤگے۔
(۴۶۰) فضیلت و بزرگی کٹھن منازل طے کرنے کے بعد حاصل ہوتی ہے۔
(۴۶۱) اچھی باتوں کو آنے والی نسل کے لئے ضرور جمع کرو۔
(۴۶۲) پڑھے لکھوں کی محفلوں میں بیٹھنا قابل فخر نہیں ہوتا بلکہ ان سے تحصیل علم کی ضرورت ہوتی ہے۔
(۴۶۲) علماء کرام اور بزرگانِ دین کے ارشادات کو ناکافی تصور مت کرو۔
(۴۶۳) نقصان اٹھانے سے کبھی دلبرداشتہ نہیں ہونا چاہئے۔
(۴۶۴) اپنے اور دوسروں کے تجربات سے فائدہ اٹھانا سیکھو۔
(۴۶۵) اپنی آمدنی سے بڑھ کر خرچ کروگے تو کنگال ہوجاؤ گے۔
(۴۶۶) اپنے رتبہ سے بڑھ کر دعویٰ مت کرو، ورنہ کسی وقت بھی ذلیل ہوجاؤ گے۔
(۴۶۷) صبح سورج نکلنے سے پہلے جاگو۔
(۴۶۸) ہمیشہ سب لوگوں سے کچھ نہ کچھ حاصل کرنے کی جستجو رکھو۔
(۴۶۹) اپنی جہالت اور عاجزی ےس واقف ہونا ہی بھر پور علم ہے۔
(۴۷۰) نفاس کے نقصانات کم جبکہ اتفاق کے فائدے بے شمار ہیں۔
(۴۷۱) دوباتوں کو ہمیشہ ملحوظ خاطر رکھو: ایک اللہ دوسرے موت۔
(۴۷۲) جتنی نیکی اور سلوک تم دوسروں کے ساتھ کروگے اسی قدر ملے گا۔
(۴۷۳) قابل برداشت محنت تم طویل عرصہ تک کرسکتے ہو۔
(۴۷۴) نیکوں اور آوارہ منش لوگوں کے ساتھ ایک ہی طرح کا برتاؤ مت کرو۔
(۴۷۵) ہمیشہ اپنے سے بڑی عمر کے لوگوں کی صحبت اختیار کرو، اپنے سے چھوٹوں میں بیٹھنا ذلیل کروانا ہے۔
(۴۷۶) تمہارے روحانی استاد اور اخلاقی طور پر سچے دوست تمہارے اعزاء و اقرباء سے زیادہ قابل احترام ہونے چاہئیں۔
(۴۷۷) دماغ کو اچھے کاموں میں مشغول رکھو ورنہ پھر بیکار ہوجائے گا۔
(۴۷۸) تمہیں مناسب نہیں کہ کسی کو فائدہ کے بجائے نقصان پہنچاؤ۔
(۴۷۹) جیل جانے والے کاموں سے بچنا ہی مناسب ہے۔
(۴۸۰) نیک نیتی اور خلوص قلب سے کی جانی والی محبت نعمت کا درجہ رکھتی ہے۔

(۴۸۱) اگر تم وقت کو بیکار کاموں میں ضائع کررہے ہو تو اس کا یہ مطلب ہوا کہ تم بے بہا اور انمول تحفہ کی قدر نہیں کررہے ہو۔
(۴۸۲) مطالعہ کی غرض و غایت یہ ہے کہ پڑھ کر سمجھو اور عمل کرو۔
(۴۸۳) اگر تمہیں کوئی نامناسب کام پر مجبور کرے تو صاف انکار کردو، ورنہ تمہارے کام کوئی نہیں آئے گا اور صرف بدنامی تمہارے حصہ میں آئے گی۔
(۴۸۴) ہر کام میں احتیاط پوری طرح کرو اور شک کی صورت میں نہ رہنے دو۔
(۴۸۵) اپنی زندگی اس طرح گذارو کہ موت باعث حسرت نہ ہو۔
(۴۸۶) اس دنیا میں آرام کے متلاشی مت بنو! کیونکہ آخرت کی زندگی عیش ہی عیش ہے۔
(۴۸۷) نیک کام ابتداء میں مشکل مگر بعد میں سہل نظر آتے ہیں۔
(۴۸۸) کسی خوشی کا اس شدت سے انتظار مت کروکہ ملنے پر امید کے خلاف محسوس ہو۔
(۴۸۹) اپنے تمام امور میں مضبوط قوت ارادی کو خاص طور پر بروئے کار لاؤ۔
(۴۹۰) کسی کام کو شروع کرنے سے پہلے ہر طرح کے عوامل پر گہری غور و فکر کی ضرورت ہوتی ہے، تاکہ بعد میں پچھتاوا مقدر نہ بن جائے۔
(۴۹۱) رات کو سونے سے پہلے دن کے نیک و بد کاموں کی جانچ کرلو۔
(۴۹۲) بدی کو ترک اور نیکیوں کو زیادہ سے زیادہ بڑھانے کی کوشش کرو۔
(۴۹۳) علم کو عقل، دانائی اور روشن طبع کا ذریعہ سمجھو نہ کہ محض ذریعۂ معاش۔
(۴۹۴) تھوڑی سی صحیح معلومات بہت سی غلط یا مشکوک واقفیت سے بہتر ہے۔
(۴۹۵) توکل اور ہمت کے ساتھ کوشش کرو، اپنی روش اعتدال پر رکھو، یہی سلامتی اور خوشحالی کا راستہ ہے۔
(۴۹۶) تین قوانین کی پابندی لازمی ہے: قانونِ قدرت، قانونِ شریعت اور قانونِ سلطنت۔
(۴۹۷) کسی کام کو اتنا آسان نہ سمجھو اور نہ اتنا مشکل کہ کم ہمتی سے اُسے چھوڑ ہی دو۔
(۴۹۸) بیکار وقت مت گذارو، کیونکہ جب کچھ نہیں کروگے تو بُرے خیالات ضرور تنگ کریں گے۔
(۴۹۹) کتابوں کو چرانے سے کہیں بہتر ہے کہ اپنے اندر علمیت پیدا کرو۔
(۵۰۰) جب تک مکمل علم نہ ہو کسی سے خواہ مخواہ بحث و تکرار مت کرو۔
(۵۰۱) جب تمہارا مال کسی دوست کو فائد نہ دے سکے تو وہ مال تمہارے کس کام کا؟
(۵۰۲) جب تم مالدار ہو اور کسی تنگ دست کی تنگ دستی دور نہ کرسکو تو دولتمندی کیسی؟
(۵۰۳) سب سے بڑی فضول خرچی وقت کو بیکار ضائع کرنا ہے۔
(۵۰۴) ایک خاتون کے ساتھ تو ایک شیطان ہوتا ہے، مگر خوبصورت لڑکے کے ساتھ اٹھارہ شیطان ہوتے ہیں۔
(۵۰۵) مطالعہ پہلے پہل ناگوار محسوس ہوتا ہے، مگر رفتہ رفتہ نشہ سا لگنے لگتا ہے۔
(۵۰۶) مال و دولت حاصل کرکے کنجوسی کرنے والا دھوکہ کھاتا ہے، نقصان اٹھاتا ہے۔
(۵۰۷) بزرگی اور بلند رتبہ عرم پر موقوف نہیں، یہ تو علم کے لحاظ سے ہے۔
(۵۰۸) دوسرے کی آنکھ کا تنکا تو نظر بہ آسانی آتا ہے مگر اپنی آنکھ کا شہتیر نظر نہیں آتا۔
(۵۰۹) اپنے وقت کو احتیاط سے خرچ کرو، یعنی عبادت اور اطاعت الٰہی میں۔
(۵۱۰) صبر کا انجام بہترین ہے، جبکہ غصہ بدترین انجام ہے۔

(۵۱۱) اچھی کام کرڈالو کل پر موقوف نہ رکھو! کل پر تمہارا کوئی اختیار نہیں۔
(۵۱۲) اپنے نفس کو صبر اور توکل پر مجبور کرکے ہی فضیلت حاصل کی جاسکتی ہے۔
(۵۱۳) اپنے مقصود کو حاصل کرنے کے لئے مصائب سے مقابلہ کرنا پڑتا ہے۔
(۵۱۴) تمہیں نماز کی فرصت نہیں؟ تعجب ہے!
(۵۱۵) نماز پڑھو قبل اس کے کہ تمہاری نماز پڑھی جائے!
(۵۱۶) دُکھوں کی طویل رات کے بعد ہی مسرت و شادمانی کا سورج طلوع ہوتا ہے، اس لئے صبر کرنا سیکھو۔
(۵۱۷) انتہائی درجہ کی بے حیائی نگاہوں کی آوارگی ہے۔
(۵۱۸) زمانہ کی چیرہ دستیوں سے پریشان مت ہو! یہ تمہارا امتحان ہے۔
(۵۱۹) ہر عقل والے کو قدرت نے اس طرح کی سزا دے رکھی ہے کہ اس کو قابل نفرت چیزیں بھی دیکھنا پڑیں۔
(۵۲۰) برائیاں تو تم نے کرلیں، اب نیکیوں کا بھی خزانہ جمع کرو۔
(۵۲۱) شیطان کا جال تو آنکھیں ہیں، یہ بہت ہی جلد شکست کھاجاتی ہیں۔
(۵۲۲) انسان کی فطرت یہ ہے کہ برائی تو آج کرتا ہے اور توبہ کل پر رکھ چھوڑتا ہے۔
(۵۲۳) دنیا تو ایک مردار کی مانند ہے، اس کو حاصل کرنا گویا کتوں جیسی زندگی گذارنی ہے۔
(۵۲۴) امیدیں دل کا جال اور پاؤں کی بیڑیاں ہیں، امیدوں کو دل سے نکال کر بیڑیاں کٹ سکتی ہیں۔
(۵۲۵) بے صبر بھوکا قبر کے بیحد قریب ہوتا ہے۔
(۵۲۶) انتہائی غربت نصف کفر ہے۔
(۵۲۷) خوبصورت عورت کو بھلے جنت میں چلی جائے مگر اس دیکھ کر بُرے خیال رکھنے والا ضرور دوزخ میں جائے گا۔
(۵۲۸) اپنے جسم کے لئے دنیوی غذاء اور دل کے لئے آخرت کی غذاء تلاش کرو۔
(۵۲۹) قناعت اختیار کرنے والا ہر چیز سے بے پرواہ ہوجاتا ہے اور کبھی دُکھی نہیں ہوتا۔
(۵۳۰) دنیا کے معاملات میں سے نکلنا بہت مشکل کام ہے۔
(۵۳۱) بہت سے مال سے وہ کم مال اچھا ہے جس سے تم زندگی بہتر طریقہ پر گذار سکو۔
(۵۳۲) دنیا تو ایک ویران گھر ہے، تمہیں اس کو چھوڑ ہی دینا چاہئے، پھر اس سے دل کیوں لگاتے ہو؟
(۵۳۳) آخرت کی جستجو رکھنے والا دنیا سے دل نہیں لگاتا۔
(۵۳۴) تم خود نیکی کرو، مگر دشمن سے نیکی کی امید مت رکھو۔
(۵۳۵) ہر کام میں استقلال اور ہمت کو ناکامی کے خوفناک غاروں اور اندھیرے راستوں سے بچنے کے لئے مشعل بناؤ۔
(۵۳۶) اپنی علمی معلومات کا ذخیرہ بذریعہ تصانیف جمع کرکے آئندہ نسلوں کے لئے چھوڑدو۔
(۵۳۷) ٹیپ ٹاپ کے بجائے علم و اخلاق کے ذریعہ اندرونی زیبائش کی کوشش کرو۔
(۵۳۸) کتابیں بڑی قابل قدر چیز ہیں، مگر ان کے جمع کرنے کا شوق اتنا مت رکھو جتنا کہ ان سے علم حاصل کرنے کا ہے۔
(۵۳۹) دشمن کو دوست جاننا دوست کو دشمن جاننے سے بھی بُرا ہے۔
(۵۴۰) کھانے اور پہننے میں ہمیشہ وہ ڈھنگ اختیار کرو جو نبھ سکے۔

(۵۴۱) اپنے تئیں اس سے زیادہ کبھی نہ ظاہر کرو جتنے کہ تم در اصل ہو۔
(۵۴۲) اگر واقعی تم میں کوئی خوبی ہے تو شیخی نہ بگھارو، یہ خود ہی ظاہر ہوجائے گی۔
(۵۴۳) اپنے قول کو فعل کے مطابق رکھو، ورنہ بُرے القاب سے نوازے جاؤ گے۔
(۵۴۴) صرف علم یا تجربہ سے کام نہیں چلتا، اس کے ساتھ ساتھ سلیقہ بھی ضروری ہے۔
(۵۴۵) بخیل کی ملاقات موجب ملال اور اُسے دیکھنا دل کی سنگینی میں اضافہ کرتا ہے۔
(۵۴۶) خرچ کرتے رہو اور کمی کا خوف نہ کرو، ا س لئے کہ اللہ تعالیٰ نے بندوں کے رزق بانٹ دئے ہیں۔
(۵۴۷) میں نے لوگوں کو اہل سخا کا دوست پایا، مگر دوعالم میں بخیل کا کسی کو دوست نہیں دیکھا۔
(۵۴۸) کنجوس کی ذلت کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ وہ دوسروں کے لئے مال جمع کرتا ہے۔
(۵۴۹) کنجوس اس شکاری کتے کی طرح ہے جو بھوکا ہونے کے باوجود شکار کی حفاظت کرتا ہے تاکہ اُسے دوسرے نہ کھائیں۔
(۵۵۰) صبح کو شام کی فکر نہ کرو اور شام کو دوسری صبح کی فکر نہ کرو، موت سے پہلے زندگی کو، بیماری سے پہلے تندرستی کو غنیمت سمجھو، کیونکہ پتہ نہیں کل تمہارا کیا حال ہو۔
(۵۵۱) خوشی اور غمی میں اللہ تعالیٰ کی ایسی نعمت پوشیدہ ہے جو بحر و بر میں نہیں سماسکتی۔
(۵۵۲) اخلاص یہ ہے کہ بندہ اللہ تعالیٰ سے اپنے اعمال کے اجر کا طالب نہ ہو۔
(۵۵۳) دنیا ایک لمحہ ہے، اُسے اطاعت اور بندگی میں گذار دو۔
(۵۵۴) اگر تمہیں زمانہ کوئی دُکھ دے تو سمجھ لو کہ شروع ہی سے ایسا ہوتا آیا ہے۔
(۵۵۵) مومن کو اپنی موت کا انتظار سب انتظاروں سے بہتر ہوتا ہے۔
(۵۵۶) جس نے موت پہچان لیا اس سے دنیا کے تمام دُکھ درد ختم ہوگئے۔
(۵۵۷) وہ قبریں جن کے رہنے والے منوں مٹی کے نیچے خاموش ہیں، زبانِ حال سے تمہیں یہ کہہ رہی ہیں’’اے لوگوں کے لئے دنیا جمع کرنے والے! تجھے تو مرجانا ہے، پھر یہ دنیا تو کس کے لئے جمع کرتا ہے؟‘‘
(۵۵۸) موت کسی جاہل پر جہالت کے باعث اور کسی عالم پر علم کے سبب رحم نہیں کرتی۔
(۵۵۹) جس طرح ایک برتن میں آگ اور پانی جمع نہیں ہوسکتے، اسی طرح ایک دل میں دنیا و آخرت کی محبت جمع نہیں ہوسکتی۔
(۵۶۰) کون ہے جو سمندر کی لہروں پر عمارت بنائے، یہ دنیا اسی طرح ہے، اُسے تم جائے قرار نہ بناؤ۔
(۵۶۱) دنیا تھی اور میں نہیں تھا، یہ دنیا رہے گی اور میں نہیں رہوں گا۔
(۵۶۲) بری جگہ جانے والا بدنام ہوجاتا ہے۔
(۵۶۳) دنیا شیطان کی دُکان ہے، اس میں سے کچھ نہ لو، اگر تم نے کچھ لے لیا تو شیطان تلاش کرتا ہوا تم تک پہنچ جائے گا۔
(۵۶۴) بادشاہوں کے عیش و نشاط اور نرم و نازک لباس کو نہ دیکھو! بلکہ یہ دیکھو کہ وہ دنیا سے کتنی جلدی جارہے ہیں، اور کیسا بُرا ٹھکانہ ان کو ملے گا۔
(۵۶۵) بوسیدہ ملبوسات کی وجہ سے کسی کو حقیر مت جانو! کیونکہ سب کا خالق اللہ تعالیٰ ہے۔
(۵۶۶) جس کی گفتگو حکیمانہ نہیں ہو جھوٹا ہے۔
(۵۶۷) جس کی خاموشی بوجوہِ غور و خوص نہیں، وہ بھول ہے۔
(۵۶۸) جس کی نگاہ عبرت کی نہیں ہو بیہودہ ہے۔
(۵۶۹) مال و دولت سانپ بچھو ہیں، ان کا تریاق رزقِ حلال ہے۔
(۵۷۰) جب تم غور و فکر کو اپنا شعار بنالو گے تو ہر بات میں عبرت دیکھوگے۔

(۵۷۱) تم سخت دھوپ سے بچنے کے لئے سایہ تلاش کرتے ہو، مگر دوزخ کی آگ سے بچنے کا راستہ نہیں ڈھونڈتے۔
(۵۷۲) غور و فکر ایک آئینہ کی مانند ہے، جس میں نیکیا اور برائیاں دکھائی دیتی ہیں۔
(۵۷۳) تعجب ہے ہر انسان روزانہ پاخانہ دھوتا ہے اور مقابلہ اللہ سے کرتا ہے۔
(۵۷۴) کامیابی اللہ ڈرتے رہنے میں ہی ہے۔
(۵۷۵) مغرور آدمی کی عقل رخصت ہوجاتی ہے۔
(۵۷۶) جب تم کو بن مانگے بہت کچھ مل جائے تو اللہ تعالیٰ کا شکر کرو اور قناعت اختیار کرو۔
(۵۷۷) رزق تم کو وہی ملے گا جو تمہارے مقدر میں ہے، بیجا بھاگ دوڑ کی وجہ سے اپنی آخرت خراب نہ کرو۔
(۵۷۸) رزق انسان کو بلا طلب کئے ملتا ہے، جس سے یہ بات ثابت ہے کہ رزق بندے کو تلاش کرتا ہے، اس لئے بندے کو رزق کے لئے پریشان نہ ہونا چاہئے۔
(۵۷۹) عزت بلند کرداری کی وجہ سے ہے، قیمتی ملبوسات سے نہیں۔
(۵۸۰) دنیا سے عبرت حاصل کرو اور اپنی پسند سے چھوڑو، مگر مجبوری سے حصول کی کوشش کرو اور آخرت کی وجہ سے طلب کرو، کہ وہی دائمی زندگی ہے۔
(۵۸۱) تمہارے سامنے اگر کسی کی کوئی شخص برائی کرے تو تمہیں یقین کرلینا چاہئے کہ تمہاری برائی بھی وہ شخص کسی کے آگے ضرور کرتا ہوگا۔
(۵۸۲) دولت حاصل کرکے اللہ کی راہ میں لُٹادینا ہی مومن کی نشانی ہے، یہی تقویٰ ہے۔
(۵۸۳) شک و شبہ کی باتوں سے اپنے آپ کو بچائے رکھو۔
(۵۸۴) جس شخص کی غور و فکر بڑھ جاتی ہے اُسے علم عطا ہوتا ہے اور جسے علم عطا ہوتا ہے وہ عمل کرتا ہے۔
(۵۸۵) اگر لوگ اللہ تعالیٰ کی عظمت میں غور و فکر کریں تو کبھی اللہ جل شانہ کی نافرمانی نہ کریں۔
(۵۸۶) عبرت حاصل کرنے سے علم بڑھتا ہے، ذکر سے محبت بڑھتی ہے اور غور و فکر سے خوفِ خدا بڑھتا ہے۔
(۵۸۷) نیکیوں میں غور و فکر نیکیوں کی ترغیب دیتی ہے اور گناہوں پر پشیمانی گناہ چھوڑنے پر آمادہ کرتی ہے۔
(۵۸۸) جو لوگ ہنستے ہوئے گناہ کرتے ہیں وہ روتے ہوئے جہنم میں جائیں گے۔
(۵۸۹) خوفِ خدا سے رونے والے کا ایک آنسو مسندوں جیسی طویل و عریض آگ کو بجھادے گا۔
(۵۹۰) ہر وہ دل جس میں خوفِ خدا نہیں وہ ویرانہ ہے۔
(۵۹۱) اے ظالم! تیری آنکھیں سوئیں گی مگر مظلوم کی آنکھیں جاگ کر تیرے لئے اللہ سے بد دعاء کریں گی، کیونکہ اللہ سوتا نہیں ہے۔
(۵۹۲) انسان کے گنہگار ہونے کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ جب اُسے اللہ تعالیٰ سے ڈرنے کے لئے کہا جائے تو وہ یہ کہے کہ تم اپنا خیال کرو۔
(۵۹۳) اپنے جسم کو معمولی گذر بس پر صبر کرنے والا بناؤ، ورنہ یہ تم سے تمہاری ضرورت سے زیادہ مال و دولت مانگے گا۔
(۵۹۴) تمہاری زندگی کی مدت اتنی ہی ہے جتنی اس لمحہ کی مدت ہے جس میں تم سانس لے رہے ہو۔
(۵۹۵) اپنے دشمنوں سے اپنے عیوب سنو کہ دشمن کی آنکھ ہر عیب کو ظاہر کردیتی ہے۔
(۵۹۶) نفس سرکش جانور سے بھی زیادہ لگام کا محتاج ہے۔
(۵۹۷) انسان کے تین دشمن ہیں: دنیا، شیطان اور نفس۔
(۵۹۸) دنیوی نعمتیں چھوڑے بغیر اُخروی نعمتیں حاصل نہیں ہوسکتیں۔
(۵۹۹) جس نے دنیوی خواہشات کو محبوب رکھا وہ رسوائی کے لئے تیار رہے۔
(۶۰۰) محبت محبوب کو خود پر ترجیح دینے کے مترادف ہے۔

(۶۰۱) جس نے اللہ تعالیٰ سے محبت کی وہ زندہ جاوید ہوا، جس نے دنیا سے محبت کی وہ بے آبرو ہوا۔
(۶۰۲) ایسے شخص کے پیچھے نماز نہ پڑھو جو علماء کی مجلس میں نہ جاتا ہو۔
(۶۰۳) جو بغیر کسی علم کے لوگوں کی امامت کرتا ہے وہ اس شخص کی طرح ہے جو سمندر میں رہ کر اس کا پانی ناپتا ہے اور اس کی کمی زیادتی کو نہیں سمجھتا۔
(۶۰۴) وہ شخص عجیب ہے جو برے عمل بھی کرے اور عزت بھی کروانا چاہے۔
(۶۰۵) برائی میں پھنسنے کے لئے یہی کافی ہے کہ دین میں سستی کی جائے۔
(۶۰۶) محنت سے کام کرنے والے مشکلات اور مصائب سے نہیں گھبراتے۔
(۶۰۷) خوش اخلاقی، خوش گفتاری اور خندہ پیشانی کے بغیر کوئی بھلائی ممکن نہیں۔
(۶۰۸) کاہل کے لئے کنکر بھی پہاڑ ہے اور محنتی کے لئے پہاڑ کنکر۔
(۶۰۹) فضول لوگ سبھی ایک جیسے ہی ہوتے ہیں۔
(۶۱۰) چغل خوف اپنی عادات کی وجہ سے اپنی نیکیاں ضائع کرتا ہے۔
(۶۱۱) دوزخ کی اگر تمہیں تمنا ہے تو ضرور گناہ کرو، ورنہ ترک کردو اور توبہ کرو۔
(۶۱۲) موت سے پہلے اپنے گناہوں سے توبہ کرلو، اللہ قبول کرنے والا ہے۔
(۶۱۳) حاکموں کو ہاتھوں سے برائی ختم کرنا زیب دیتا ہے۔
(۶۱۴) علماء کرام کو زبان سے برائی ختم کرنا زیبا ہے۔
(۶۱۵) عورت کو تحفظ مرد ہی دیتا ہے، چہاردیواری میں ہو یا چہاردیواری کے باہر۔
(۶۱۶) عورت کو عورت ہی اجاڑتی ہے۔
(۶۱۷) منزل کوشش کرنے والوں کو ہی ملتی ہے مگر ہر ایک کو نہیں۔
(۶۱۸) یہی خواہش رکھو کہ کوئی خواہش نہ ہو، کیونکہ خواہشات تو لامحدود ہیں۔
(۶۱۹) اچھے کاموں کی انجام دہی اگر ممکن نہ ہو تو مرجانا ہی بہتر ہے۔
(۶۲۰) آسان زندگی کے لئے وسعت نظر اور وسعت قلبی پیدا کرو۔
(۶۲۱) زیادہ بولنے سے خرابیاں جنم لیتی ہیں، اس لئے پرہیز کرو۔
(۶۲۲) بوڑھے گناہگار کو سب سے زیادہ عذاب ملے گا۔
(۶۲۳) پڑھے لکھوں کی محفل میں خاموش رہ کر علم کی باتوں پر غور کرو۔
(۶۲۴) کسی کا نام بگاڑ کر مت پکارو، اس کا دل دُکھ جائے گا۔
(۶۲۵) تمہارا دل اچھا ہے تو تمہارا قول بھی اچھا ہوگا اور اگر بُرا ہوگا تو قول کیسے اچھا ہوسکتا ہے؟
(۶۲۶) اے دوست! تم ان لوگوں میں سے نہ ہو جو علماء کا علم اور دانشمندوں کی حکیمانہ باتیں جمع کرتے ہیں، مگر عمل بے وقوفوں جیسے کرتے ہیں۔
(۶۲۷) علم عمل سے بولتا ہے اگر انسان عمل کرے تو صحیح ورنہ علم کو کر جاتا ہے۔
(۶۲۸) آدمی جب تک علم کی تلاش میں رہتا ہے وہ عالم ہوتا ہے۔
(۶۲۹) تعجب ہے اس شخص پر جو غلط دین کے بدلے میں اپنا صحیح دین بیچ دیتا ہے۔
(۶۳۰) اپنے آپ کو مصروف رکھو، ورنہ غم اور مایوسی تمہیں فناء کردیں گے۔

(۶۳۱) اپنے گھر کی باتیں باہر کے لوگوں کو نہ بتاؤ، تمہاری غیر موجودگی میں لوگ تمہارا مذاق اڑائیں گے۔
(۶۳۲) تم کہیں بھی ہو موت آکر رہے گی، خواہ پتھر کی مضبوط عمارتوں میں خود کو بند کرلو۔
(۶۳۳) آزمائے ہوئے کو بار بار مت آزماؤ۔
(۶۳۴) جب گھر میں داخل ہو تو گھر والوں کو السلام علیکم کہو۔
(۶۳۵) اگر اپنا رعب قائم رکھنا چاہتے ہو تو چشم پوشی سے کام لو۔
(۶۳۶) نصیحت ایک سچائی ہے اور خوشامد ایک بدترین دھوکہ ہے۔
(۶۳۷) کبھی کبھی رولیا کرو! کہ اس سے تمہیں چند لمحے سکون مل جائے گا۔
(۶۳۸) شکست فتح کا زینہ ہے۔
(۶۳۹) درست بات کو درست سمجھنے باوجود اس پر عمل نہ کرنا بدترین قسم کی اخلاقی بزدلی ہے۔
(۶۴۰) زیادہ اونچی آواز سے گفتگو نہ کرو بلکہ آہستہ اور سوچ سمجھ کر بولو۔
(۶۴۱) اگر کوئی تم سے معافی مانگے تو ذرا بھی تأمل نہ کرو، اُسے فوراً معاف کردو، اس سے تمہیں دلی خوشی ہوگی۔
(۶۴۲) تمہارا راز وہ ہے جو تمہارے سینے میں پوشیدہ ہے، یہ راز اگر تم نے کسی سے کہہ دیا تو پھر اس خوش فہمی میں مبتلا نہ رہو کہ وہ راز ہی رہے گا۔
(۶۴۳) نیک لوگوں کی صحبت اختیار کرو، اس لئے کہ صحبت بڑا اثر ہوتا ہے۔
(۶۴۴) اگر دنیا میں مصائب نہ ہوتے تو لوگوں کو بہادروں کے قلعے یاد نہ ہوتے۔
(۶۴۵) قدرت کا اصول اگر ایک سیکنڈ کے لئے بھی ختم ہوجائے تو پوار نظامِ شمسی درہم برہم ہوجائے۔
(۶۴۶) برے انسان کی دوستی کوئلہ کی مانند ہے جو جلتا ہے تو ہاتھوں کو جلادیتا ہے، ٹھنڈا ہوتا ہے تو ہاتھوں کو سیاہ کردیتا ہے۔
(۶۴۷) صداقت کے وجود کے لئے عقلمند بحث نہیں کرتے، یہ تو ظاہر ہو ہی جاتی ہے۔
(۶۴۸) مہمان کی طرح دنیا میں رہو۔
(۶۴۹) دنیا ایک گند ہے جس پر سونے کا ملمع چڑھادیا گیا ہے۔
(۶۵۰) چور اور ڈاکو تو سچ بول سکتے ہیں، مگر جھوٹا نہیں۔
(۶۵۱) فکر آخرت کی بیداری کے لئے مریضوں کو عبادت اور جنازوں میں جایا کرو۔
(۶۵۲) عذاب بھگتنے کی استطاعت کے برابر گناہ کرو۔
(۶۵۳) تعظیم ترین کام کمزوروں کو معاف کرنا ہے۔
(۶۵۴) تمہاری سانسیں کم اور قبری کی زندگی طویل ہے، قبر کی فکر کرو۔
(۶۵۵) وقت چلتا نہیں بھاگتا ہے۔
(۶۵۶) یہ دنیا دار العمل ہے ہمیشہ اچھا عمل کرو۔
(۶۵۷) دنیا تو آخرت کی کھیتی ہے۔
(۶۵۸) مایوسی تو خود کشی سے بھی بڑا گناہ ہے۔
(۶۵۹) اللہ کی رحمت سے ناامید تو صرف کافر ہوا کرتے ہیں۔
(۶۶۰) عالم مرنے کے بعد بھی زندہ رہتا ہے، جبکہ جاہل کی موت اس کی زندگی میں ہی ہوجاتی ہے۔

(۶۶۱) ایک ہی نظر میں قائم کی گئی رائے اکثر غلط ہوتی ہے، سوچ سمجھ کر رائے دو۔
(۶۶۲) برے خیالات ہی گناہوں کا پیش خیمہ ہوتے ہیں۔
(۶۶۳) مشورہ تم عقلمند دشمن سے بھی کرو، مگر جاہل دوست کی نصیحت پر عمل مت کرنا۔
(۶۶۴) پچھتاوے کا دُکھ شدید ہوتا ہے، ہر کام میں غور و فکر کرو تاکہ پچھتاؤ نہیں۔
(۶۶۵) علم کی زکوٰۃ دوسروں کو تعلیم دینا ہے۔
(۶۶۶) لوگوں کو علم سکھاؤ اور لوگوں سے علم حاصل کرو تمہارا علم مستحکم ہوگا۔
(۶۶۷) عیب کے کاموں سے شرم نہ کرنے والا بوڑھا جلد ہی دوزخ میں جائے گا۔
(۶۶۸) بہت زیادہ دولت انسان کی عادات کو بگاڑ دیتی ہے اور گناہ کی طرف راغب کرتی ہے۔
(۶۶۹) ہر انسان سے اللہ اتنا ہی حساب لے گا جتنی اس کو عقل دی تھی۔
(۶۷۰) ایک دل میں اللہ اور دنیا کی محبت اکٹھی نہیں رہ سکتی۔
(۶۷۱) اپنی قسمت پر راضی ہونا ہی غنیٰ ہونا ہے۔
(۶۷۲) دل دانائی کا مرکز اور کان معاون ہیں۔
(۶۷۳) بزدلی ایک ذلت جبکہ شجاعت نورانی عزت ہے۔
(۶۷۴) مشفقانہ معذرت مشکل وعدے سے افضل ہے۔
(۶۷۵) کسی کی ذلت پر خوش موت ہونا، نہ جانے کل تمہارے ساتھ کیا پیش آئے۔
(۶۷۶) بڑے شہروں میں انسان اکثر اکیلا ہوتا ہے۔
(۶۷۷) ہمت و جوانمردی ہی انسانیت ہے۔
(۶۷۸) معاشرہ میں اگر ہر آدمی ایک دھاگہ دے تو ہزاروں غرباء کے ملبوسات بن سکتے ہیں۔
(۶۷۹) بے وقوف، دروغ گو، بخیل، فاسق اور بزدلوں کی دوستی اختیار مت کرو۔
(۶۸۰) دنیا جب کسی پر مہربان ہوتی ہے تو دوسروں کی خوبیاں بھی اس پر نچھاور کردیتی ہے اور جب منہ موڑتی ہے تو اس کی خوبیاں بھی چھین لیتی ہے۔
(۶۸۱) کسی بھی انسان کو حیاء بلند جبکہ غرور ذلیل کرتا ہے۔
(۶۸۲) بدگفتاری سے دل میں غصہ کی آگ جلتی ہے، اس سے بچو!
(۶۸۳) مومن غربت و افلاس سے نہیں گھبراتا، کیونکہ سونا آگ سے نکل کر ہی کندن بنتا ہے۔
(۶۸۴) جو خرچ نہیں کرتا وہ دولتمند نہیں ہوتا۔
(۶۸۵) معالج سے مرض کی نوعیت چھپانا اپنی صحت سے غدداری ہے۔
(۶۸۶) ہر لحظہ ختم ہونے والی زندگی میں کیسے خوش رہا جاسکتا ہے۔
(۶۸۷) گذرے ایام پر ماتم مت کرو اور آنے والے دنوں کے کے لئے فکر نہ کرو، بلکہ موجودہ وقت کی قدر کرو۔
(۶۸۸) عام آدمی کے نزدیک غیر اخلاقی اور غیر قانونی کام ہی پسندیدہ ہیں۔
(۶۸۹) دشمن کو کبھی حقیر خیال مت کرو، چھوٹا ہو یا بڑا۔
(۶۹۰) جو شخص بار بار اپنی رائے کو بدل دے بہت احمق ہے۔

(۶۹۱) فراخدلی اور اخوت یہ ہے کہ اپنے دشمنوں سے مہربانی اور دوست کے ساتھ مخلص رہو۔
(۶۹۲) اس شخص سے بچو جس کا ظاہر بہت اچھا ہو اور باطن برا۔
(۶۹۳) تمہاری ہر غلطی تمہارے لئے ایک وارننگ ہے۔
(۶۹۴) ہر شخص کی زندگی میں ایسا وقت ضرور آتا ہے جب وہ خوبصورت دکھائی دیتا ہے۔
(۶۹۵) خیالات سے ارادے پیدا ہوتے ہیں، ارادوں سے عمل، عمل کی پختگی سے عادت، عادت سے کردا اور کردار پر ہی کامیابی یا ناکامی کا دار و مدار ہوتا ہے۔
(۶۹۶) جس سے محبت کی جائے اس سے نفرت نہیں کی جاتی۔
(۶۹۷) اللہ تعالیٰ نہایت رحیم و کریم ہے، مگر یاد رکھو وہ قہار و جبار بھی ہے۔
(۶۹۸) دو مسلمانوں میں صلح کرانے کے لئے انتہائی کوشش کرو، چاہے اس کے لئے تمہیں تین میل پیدل چلنا پڑے۔
(۶۹۹) سچا بات کہنا جھوٹ بولنے سے بہت آسان ہے، سچ کہو تو یہ بات یاد رکھنے کی ضرورت نہیں ہوتی کہ آپ نے کیا کہا تھا، جبکہ ایک جھوٹ کو سچ ثابت کرنے کے لئے سو جھوٹ اور بولنے پڑتے ہیں، مگر جھوٹ پھر بھی جھوٹ ہی رہتا ہے۔
(۷۰۰) کیسی عجیب بات ہے کہ لوگ پہلے تو بچوں کو بولنا سکھاتے ہیں، پھر ان کو خاموش رہنے کی ہدایت کرتے ہیں۔
(۷۰۱) اپنے دشمنوں سے مشورہ کرو تاکہ تم ان کے خیالات سے ان کی دشمنی کی وسعت معلوم کوسکو اور ان مقاصد کو جو وہ چاہتے ہیں۔
(۷۰۲) عقل ایک خدائی نعمت ہے جو تعلیم اور تجربہ سے زیادہ ہوتی ہے۔
(۷۰۳) جو شخص غیبت سنتا ہے وہ خود غیبت کرنے والا ہے۔
(۷۰۴) لوگوں پر اعتماد کیا کرو، تم ان کی دوستی حاصل کرلوگے۔
(۷۰۵) دانا وہ ہوتا ہے جو اپنے سے بڑوں کی اطاعت کرے، اپنے ہم مرتبہ لوگوں کی عزت کرے اور کم مرتبہ لوگوں کے ساتھ انصاف کرے۔
(۷۰۶) حسد ایسی وبا ہے جو ناقابل علاج ہے اور اس وقت تک نہیں جاتی جب تک حسد کرنے والا مر نہ جائے یا وہ مرنہ جائے جس سے حسد کیا ہے۔
(۷۰۷) ثبوت کی محتاج سچائی آدھی سچائی ہے۔
(۷۰۸) غصہ ایک تند و تیز آگ ہے، جو شخص اپنے غصہ کو دور کرسکتا ہے آگ کو بجھا دیتا ہے، جو ایسا نہیں کرسکتا وہ اپنے آپ کو جلالیتا ہے۔
(۷۰۹) عقلمند انسان وہ ہے جو کل کی نسبت آج مسرور ہے۔
(۷۱۰) انصاف سے بڑھ کر کوئی چیز سلطنتوں کی حفاظت نہیں کرسکتی۔
(۷۱۱) دل لگی نہ کیا کرو! اس سے نفرت پیدا ہوتی ہے۔
(۷۱۲) اللہ تعالیٰ سے ڈرو! کیونکہ تمہاری سب باتیں سنتا ہے اور تمہارے خیالات سے باخبر ہے۔
(۷۱۳) لڑکیاں حسنات ہیں اور لڑکے نعمتیں، یاد رکھو! حسنات پر ثواب ملتا ہے اور نعمتوں پر حساب ہوتا ہے۔
(۷۱۴) سچائی کی جستجو اس کی تبلیغ اور اس کی حفاظت کرو۔
(۷۱۵) سب سے بڑی کوشش یہ ہے کہ آدمی گناہوں کو چھوڑ دے۔
(۷۱۶) فکر آخرت اور خوفِ خدا کرنا علم کو زندہ کرنا ہے۔
(۷۱۷) جو شخص اس غرض سے علم حاصل کرتا ہے کہ وہ علماء کی محفل میں ان سے چھیڑ خانی کرے یا جاہلوں کی محفل میں بحث کرنے میں فتویٰ دے کر دنیا کو شیدائی بنائے، اس عالم کا مقام دوزخ ہے۔
(۷۱۸) بے حیاء آدمی دیندار نہیں ہوسکتا۔
(۷۱۹) وہ شخص کامیاب ہے جس نے صبر کرنا سیکھا۔
(۷۲۰) توبہ انسان کو ہر قصور سے بری کردیتی ہے۔

(۷۲۱) زیادہ قرض ایک مخلص انسان کو جھوٹا بنادیتا ہے اور ایک باعزت انسان کو قصور وار بنادیتا ہے۔
(۷۲۲) جاہل کے سوال کا جواب خاموشی ہے۔
(۷۲۳) دنیا ایک مکان ہے جو عقوبتوں سے گھرا ہوا ہے اور جس کے گرد خباثتوں کا ڈھیر ہے، اس کی حالت قائم نہیں، وہ لوگ جو اس کے قریب جاتے ہیں تباہ ہوجاتے ہیں۔
(۷۲۴) کتابیں علماء کے باغات ہیں۔
(۷۲۵) تم دوسروں کی عورتوں کا احترام کرو، لوگ تمہاری عورتوں کا احترام کریں گے۔
(۷۲۶) صابر درویش، تونگر شاکر سے بہتر ہے، کیونکہ اس کا خیال مال ہے اور اس کا خیال رب۔
(۷۲۷) کوئی عبادت اس سے بہتر نہیں کہ آدمی پیٹ اور شرمگاہ کو بچائے۔
(۷۲۸) دنیا ایک سانپ کی مانند ہے جو چھونے سے ملائم معلوم ہوتا ہے مگر اس کا ڈنک مہلک ہوتا ہے۔
(۷۲۹) تواضع کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ جو تم سے ملے اُسے سلام کرنے میں پہل کرو۔
(۷۳۰) جو لطف معاف کردینے میں ہے وہ بدلہ لینے میں نہیں ہے، کیونکہ معاف کردینے کا جذبہ انسانیت کا جوہر ہے۔
(۷۳۱) سورج کی طرح اپنی شخصیت بناؤ جو کرنیں بکھیرتا ہے۔
(۷۳۲) حرام باتوں سے بچو! عابد بن جاؤ گے۔
(۷۳۳) عقل کی حقیقت یہ ہے کہ لوگوں سے نیکی کے ساتھ ملا جائے، جو عقل سے محروم ہے دونوں جہاں کی خیر و خوبی سے محروم ہے۔
(۷۳۴) اگر تمہارا ملازم اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرے تو اُسے سزا دو لیکن اگر وہ تمہاری نافرمانی کرے تو اُسے معاف کردو۔
(۷۳۵) خوش قسمت ہے وہ شخص جس نے دولت ایمانداری سے حاصل کی۔
(۷۳۶) علم حاصل کرو، اگر تم امیر ہو تو یہ تمہیں سنوار دے گا، اگر تم غریب ہو تمہیں سنوارنے کے ساتھ ساتھ غذاء بھی دے گا۔
(۷۳۷) نیکی اور احسان تین باتوں کے بغیر کامل نہیں ہوتے: اول جلد دینا، دوم دئے ہوئے کو تھوڑا اور حقیر جاننا، سوم اس کا پوشیدہ رکھنا۔
(۷۳۸) اگر تم بڑے بننا چاہتے ہو تو پہلے چھوٹے بنو۔
(۷۳۹) تجربہ ایک اچھا استاد ہے، لیکن اس کا معاوضہ بہت زیادہ ہے۔
(۷۴۰) کسی کو تکلیف نہ دو، انسان کو انسان سمجھو، جانور کو جاندار۔
(۷۴۱) انسانوں کی عقلوں اور دماغوں میں صرف اتنا فرق ہے جتنا انسانوں کے چہروں میں۔
(۷۴۲) عورت اصلاح گھر کے اندر اور بچہ کی اصلاح کی ابتداء عورت سے ہوتی ہے۔
(۷۴۳) اللہ تعالیٰ نے دنیا کو امتحان گاہ بنایا ہے۔
(۷۴۴) کپڑے کو کاٹنے سے پہلے کئی بار ناپ لو! کیونکہ کاٹنے کا موقع ایک ہی ہوتا ہے۔
(۷۴۵) نیکی کرو اس وقت تک کہ موت کی آغوش میں چلے جاؤ۔
(۷۴۶) صلح اچھی چیز ہے، دشمن سے صلح کرنے میں ہمیشہ پہل کرو۔
(۷۴۷) زندگی ہمیں اس لئے نہیں عطا کی گئی کہ ہم اُسے ان اشغال میں صرف کردیں جو ہمیں موت کے وقت اس دنیا میں ہی چھوڑنے پڑیں گے۔
(۷۴۸) کسی کے عیب ہی نہیں خوبیوں کو بھی مد نظر رکھو۔
(۷۴۹) پہلوان وہ نہیں ہوتا جو کسی کو پچھاڑ دے بلکہ پہلوان تو وہ ہے جو غصہ کو پچھاڑدے۔
(۷۵۰) جو تکلیف تم خود برداشت نہیں کرسکتے وہ کسی دوسرے کو بھی نہ دو۔
(۷۵۱) عقلمند وہ ہے جو اپنی زبان کو دوسروں کی خدمت سے بچائے۔