لاوٴڈ اسپیکر کا استعمال

نماز میں لاوٴڈ اسپیکر کا استعمال جائز ہے

س… میری مسجد میں گزشتہ دنوں ایک مولانا صاحب باہر سے تشریف لائے، انہوں نے وعظ اور خطبہ وغیرہ تو لاوٴڈ اسپیکر پر دیا، مگر نماز پڑھاتے وقت کہنے لگے کہ: نماز میں اس کا استعمال ناجائز ہے، ان کی یہ منطق ہماری سمجھ سے باہر ہے کہ جس لاوٴڈ اسپیکر پر تھوڑی دیر پہلے انہوں نے قرآنِ کریم کی آیات کی تلاوت کی، جس پر وعظ و تبلیغ کی، اب وہی لاوٴڈ اسپیکر ناجائز کیسے ہوگیا؟ ہم لوگ تو بچپن سے اب تک اس پر نماز پڑھتے آرہے ہیں، اور ہم نے یہ بھی سن رکھا ہے کہ بڑے بڑے علمائے دین نے اس کو جائز قرار دیا ہے، مگر وہ مولانا صاحب اسے ناجائز کیسے کہہ رہے تھے؟ یہ بات ہماری سمجھ سے باہر ہے۔

ج… نماز میں لاوٴڈ اسپیکر کا استعمال عام اہلِ علم کے نزدیک جائز ہے۔

لاوٴڈ اسپیکر کے ساتھ مکبّر کا انتظام بھی ہونا چاہئے

س… جمعہ کی نماز میں یا علاوہ ازیں ہجوم کے وقت ضرورت کے پیشِ نظر لاوٴڈ اسپیکر پر نماز پڑھائی جاتی ہے، تو اس صورت میں پیچھے مکبّر کی ضرورت نہیں رہتی، تو کیا پیچھے مکبّر کا متعین کرنا شریعت میں جائز ہے یا نہیں؟

ج… لاوٴڈ اسپیکر کی صورت میں بھی مکبّر کا انتظام ہونا چاہئے، تاکہ اگر برقی رو چلی جائے تو وہ تکبیر کہہ سکے اور نماز میں خلل نہ ہو۔

مساجد کے باہر والے لاوٴڈ اسپیکر اذان کے ماسوا کھولنا ناجائز ہے

س… نہایت تیز بلند آواز لاوٴڈاسپیکر سے تراویح، درس اور نمازیں جو تمام محلے کے سکون، نیند، خواتین کی نمازیں، ضعفاء کی راحت کو برباد کردے، جائز ہے یا گناہ ہے؟ صرف حدودِ مسجد تک لاوٴڈ اسپیکر کے استعمال کا شرعاً جواز معلوم ہوتا ہے۔

ج… اذان کے لئے اُوپر کے اسپیکر کھولنے کا تو مضائقہ نہیں کہ باہر کے لوگوں تک اذان کی آواز پہنچانا مطلوب ہے، لیکن نماز، تراویح، درس وغیرہ کے لئے اگر لاوٴڈ اسپیکر کے استعمال کی ضرورت ہو تو اس کی آواز مسجد کے مقتدیوں تک محدود رہنی چاہئے، باہر نہیں جانی چاہئے، تراویح کے لئے اور درس وغیرہ کے لئے باہر کے اسپیکر کھولنا عقلاً و شرعاًنہایت قبیح ہے، جس کے وجوہ حسبِ ذیل ہیں:

۱:… بعض مساجد اتنی قریب قریب ہیں کہ ایک کی آواز دُوسری سے ٹکراتی ہے، جس سے دونوں مسجدوں کے نمازیوں کو تشویش ہوتی ہے، اور ان کی نماز میں خلل واقع ہوتا ہے، ایسے واقعات بھی پیش آتے ہیں کہ ایک مسجد کے مقتدی جو پچھلی صفوں میں تھے، دُوسری مسجد کی تکبیر پر رُکوع، سجدے میں چلے گئے، نمازیوں کو ایسی تشویش میں مبتلا کرنا کہ ان کی نماز میں گڑبڑ ہوجائے، صریح حرام ہے، اور اس حرام کا وبال ان تمام لوگوں کی گردن پر ہوگا جو نماز کے دوران اُوپر کے اسپیکر کھولتے ہیں۔

۲:…مسجد کے نمازیوں تک آواز پہنچانا تو ایک ضرورت ہوئی، لیکن نماز میں اُوپر کے اسپیکر کھول دینا جس سے آواز دُور دُور تک پہنچے، یہ محض ریاکاری ہے، جس سے عبادت کا ثواب باطل ہوجاتا ہے۔ رمضان مبارک میں بعض حافظ صاحبان ساری رات لاوٴڈ اسپیکر پر قرآن مجید پڑھتے رہتے ہیں، جس میں ریاکاری کے سوا کوئی بھی صحیح غرض نظر نہیں آتی۔

۳:… تراویح میں باہر کے اسپیکر کھولنے میں ایک قباحت یہ ہے کہ چلتے پھرتے اور گھروں میں بیٹھے ہوئے لوگوں کے کان میں سجدہٴ تلاوت کی آیات آتی ہیں، جن کی وجہ سے ان پر سجدہٴ تلاوت واجب ہوجاتا ہے، ان میں سے بہت سے لوگوں کو یہ معلوم بھی ہوگا کہ یہ سجدہ کی آیت ہے، پھر بھی وہ لوگ سجدہ نہیں کرتے ہوں گے، ان بے شمار لوگوں کے ترکِ واجب کا وبال بھی سنانے والوں کی گردن پر رہے گا۔

۴:… جیسا کہ سوال میں ذکر کیا گیا ہے، لاوٴڈ اسپیکر کی بلند آواز سے پورے محلے کا سکون غارت ہوجاتا ہے، بیمار آرام نہیں کرسکتے، گھروں میں خواتین کا اپنی نماز پڑھنا دُوبھر ہوجاتا ہے، وغیرہ وغیرہ، اور لوگوں کو اس طرح مبتلائے اذیت کرنا حرام ہے۔

۵:… بعض قاری صاحبان اپنے لحنِ داوٴدی سنانے کے شوق میں تہجد کے وقت بھی لاوٴڈ اسپیکر پر تلاوت یا نعت خوانی شروع کردیتے ہیں، جس کی وجہ سے تہجد کا پُرسکون وقتِ مناجات بھی شور و ہنگامے کی نذر ہوجاتا ہے، اس وقت اگر کوئی تہجد میں اپنی منزل پڑھنا چاہے تو نہیں پڑھ سکتا، اور بعض ظالم اس وقت تلاوت کا ریکارڈ لگاکر لوگوں کا سکون برباد کردیتے ہیں۔

خلاصہ یہ کہ جو لوگ اذان کے علاوہ پنج گانہ نماز میں، تراویح میں یا درس و تقریر میں باہر کے اسپیکر کھول دیتے ہیں وہ اپنے خیال میں تو شاید نیکی کا کام کر رہے ہوں، لیکن ان کے اس فعل پر چند در چند مفاسد مرتب ہوتے ہیں، اور بہت سے محرّمات کا وبال ان پر لازم آتا ہے، اور یہ سب محرّمات گناہِ کبیرہ میں داخل ہیں، اس لئے لاوٴڈ اسپیکر کی آواز حدودِ مسجد تک محدود رکھنا ضروری ہے، اور اذان کے علاوہ دُوسری چیزوں کے لئے باہر کے اسپیکر کھولنا ناجائز اور بہت سے کبائر کا مجموعہ ہے۔

کیا مسجد کا اسپیکر گلی میں لگاسکتے ہیں؟

س… ہمارے محلے میں مسجد کے اسپیکر کافی فاصلے پر گلیوں میں لگائے گئے ہیں، کیونکہ مسجد کا فاصلہ دُور ہونے کی وجہ سے آواز نہیں پہنچ سکتی، ان اسپیکروں سے صرف اذان کا کام لیا جاتا ہے، مقامی انتظامیہ کو ان اسپیکروں پر اعتراض ہے، آپ مسئلہ کی وضاحت کریں، انتظامیہ کا اعتراض صحیح ہے یا غلط؟

ج… یہ مسئلہ انتظام سے تعلق رکھتا ہے، سنتِ اذان تو مسجد کی اذان سے ادا ہوجاتی ہے، خواہ پوری آبادی اسے سنے نہ سنے، پس اگر اہلِ محلہ کو دُور لاوٴڈ اسپیکر لگانے پر اعتراض نہ ہو تو لگائے جائیں، ورنہ نہیں۔