اوقات نماز

فجر کا وقت:
:1 حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
وَقْتُ صَلٰوۃِ الصُّبْحِ مِنْ طُلُوْعِ الْفَجْرِ مَالَمْ تَطْلُعِ الشَّمْسُ۔
 صحیح مسلم ج1ص 223باب اوقات الصلوات الخمس
ترجمہ: نماز صبح کا وقت صبح صادق سے سورج کے طلوع ہونے تک ہے۔
:2 عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ رضی اللہ عنہ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہ صلی اللہ علیہ وسلم اِنَّ لِلصَّلٰوۃِ اَوَّلاً وَآخِراً۔۔۔۔۔ وَاِنَّ اَوَّلَ وَقْتِ الْفَجْرِ حِیْنَ یَطْلُعُ الْفَجْرُ وَاِنَّ آخِرَ وَقْتِھَا حِیْنَ تَطْلُعُ الشَّمْسُ۔
(جامع الترمذی ج1 ص 40,39 ابواب الصلوۃ باب نمبر 2 بلا ترجمہ،مسند احمد ج 7 ص 28 رقم الحدیث 7172)
ترجمہ: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بے شک نماز کے اوقات کے لئے اول اور آخر ہے۔ فجر کے وقت کی ابتداء طلوع فجر سے ہے اور اس کا آخر وقت طلوع آفتاب تک ہے۔
ظہر کا وقت:
:1 عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عَمْرٍو رضی اللہ عنہ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ: وَقْتُ الظُّھْرِ اِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ وَکَانَ ظِلُّ الرَّجُلِ کَطُوْلِہٖ مَالَمْ تَحْضُرِالْعَصْرُ
(صحیح مسلم ج 1 ص 223 باب اوقات الصلوات الخمس)
ترجمہ: حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ظہر کا وقت اس وقت سے ہے جب سورج ڈھل جائے اور انسان کا سایہ اس کے قد کے برابر ہو جائے (اور اس وقت ختم ہوتا ہے) جب تک کہ عصر کا وقت نہ آجائے۔
: 2 عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ رَافِعٍ مَوْلٰی اُمِّ سَلْمَۃَ رضی اللہ عنہا زَوْجِ النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وسلم اَنَّہٗ سَاَلَ اَبَاھُرَیْرُۃَ رضی اللہ عنہ عَنْ وَقْتِ الصَّلٰوۃِ فَقَالَ اَبُوْہُرَیْرَۃَ رضی اللہ عنہ اَنَا اُخْبِرُکَ صَلِّ الظُّھْرَ اِذَا کَانَ ظِلُّکَ مِثْلَکَ وَالْعَصْرَ اِذَا کَانَ ظِلُّکَ مِثْلَیْکَ
(موطا امام مالک ص 5 ص 6 وقوت الصلوۃ)
ترجمہ: حضرت عبداللہ بن رافع رضی اللہ عنہما و ام المومنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہاکے غلام ہیں۔ انہوں نے حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ عنہ سے نما ز کے وقت کے متعلق سوال کیا تو حضرت ابو ہریرۃرضی اللہ عنہ نے فرمایا میں تمہیں اس کے بارے میں بتاتا ہوںِ، نماز ظہر اس وقت پڑھو جب تمہارا سایہ تمہاری مثل ہو جائے اور عصر اس وقت پڑھو جب تمہارا سایہ تمہارے دو مثل ہو جائے۔ ان احادیث سے معلوم ہوا کہ نماز ظہر کا وقت تو زوال کے بعد شروع ہو جاتا ہے لیکن نماز مؤخر کرکے پڑھنی چاہئے اور آخرِ وقت مثلین تک ہے یعنی جب ہر چیز کا سایہ اصلی سایہ کے علاوہ دو مثل ہو جائے۔
عصر کا وقت:
نماز ظہر کا وقت ختم ہوتے ہی عصر کا وقت شروع ہو جاتا ہے اور غروب آفتاب تک باقی رہتا ہے
عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ رضی اللہ عنہ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ مَنْ اَدْرَکَ رَکْعَۃً مِّنَ الْعَصْرِ قَبْلَ اَنْ تَغْرُبَ الشَّمْسُ فَقَدْ اَدْرَکَ الْعَصْرَ۔
صحیح البخاری ج1 ص 82، باب من ادرک من الصلاۃ رکعۃصحیح مسلم ج 1 ص 221 باب من ادرک رکعۃ من الصلوۃ فقد ادرک تلک الصلوۃ)
ترجمہ: حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے سورج غروب ہونے سے پہلے عصر کی ایک رکعت پالی اس نے عصر پالی۔
مغرب کا وقت:
:1 عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرِوبْنِ الْعَاص رضی اللہ عنہ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ وَقْتُ صَلٰوۃِ الْمَغْرِبِ مَالَمْ یَغِبِ الشَّفَقُ۔
(صحیح مسلم ج۱ص223 باب اوقات الصلوات الخمس)
ترجمہ: حضرت عبد اللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نماز مغرب کا وقت اس وقت تک ہے جب تک شفق غائب نہ ہو۔
:2 عَنْ سَلْمَۃَ بْنِ الْاَکْوَع رضی اللہ عنہ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم کَانَ یُصَلِّیَ الْمَغْرِبَ اِذَا غَرَبَتِ الشَّمْسُ وَ تَوَارَتْ بِالْحِجَابِ۔
(صحیح مسلم ج1ص 228باب بیان ان اول وقت المغرب عند غروب الشمس،صحیح البخاری ج 1ص79باب وقت المغرب)
ترجمہ: حضرت سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز مغرب ادا فرماتے جب سورج غروب ہو جاتا اور پردہ میں چھپ جاتا۔
:3 حضرت جابر رضی اللہ عنہ کی طویل حدیث میں ہے:
ثُمَّ اَذَّنَ لِلْعِشَائِ حِیْنَ اُذْھِبَ بَیَاضُ النَّھَارِ وَھُوَالشَّفَقُ۔
(المعجم الاوسط للطبرانی ج5ص122رقم الحدیث 6787،مجمع الزوائد للھیثمی ج2ص42 با ب بیان الوقت، رقم الحدیث 1686)
ترجمہ: پھر عشاء کی اذان کہے جب دن کی سفیدی چلی جائے اور وہ شفق ہے۔
:4 حضرت ابو مسعود رضی اللہ عنہ کی مرفوع حدیث جس میں حضرت جبرئیل علیہ السلام کے نماز پڑھانے کا ذکر ہے۔ اس میں ہے:
وَیُصَلِّی الْمَغْرِبَ حِیْنَ تَسْقُطُ الشَّمْسُ وَیُصَلِّی الْعِشَائَ حِیْنَ یَسْوَدُّ الْاُفُقَ۔
(سنن ابی داؤد ج1ص63باب فی المواقیت،صحیح ابن حبان ص492 ذکر البیان بان المصطفی لم یسفر بصلوۃ الغداۃ رقم الحدیث 1494)
ترجمہ: اور مغرب کی نماز اس وقت پڑھتے جب سورج غروب ہو جاتا اور عشاء اس وقت پڑھتے جب افق سیاہ ہو جاتا۔
فائدہ: مندرجہ بالا احادیث سے معلوم ہوا کہ مغرب کا وقت سورج غروب ہونے سے شروع ہو جاتا ہے اور شفق ابیض (سفیدی) کے ختم ہونے تک رہتا ہے۔
عشاء کا وقت:
عشاء کا وقت شفق کے غائب ہونے سے طلوع فجر تک رہتا ہے۔
:1 امامت جبرئیل علیہ السلام والی حدیث جس میں یہ الفاظ ہیں:
وَصَلّٰی بِیَ الْعِشَائَ حِیْنَ غَابَ الشَّفَقُ۔
(سنن ابی داؤد ج 1ص62 باب فی المواقیت)
ترجمہ: اور حضرت جبرئیل علیہ السلام نے مجھے عشاء کی نماز پڑھائی جب شفق غائب ہوگئی تھی۔
:2 عَنْ عُبَیْدِ بْنِ جُرَیْجٍ اَنَّہٗ قَالَ لِاَبِیْ ھُرَیْرَۃَ رضی اللہ عنہ مَا اِفْرَاطُ صَلٰوۃِ الْعِشَائِ قَالَ طُلُوْعُ الْفَجْرِ۔
(شرح معانی الآثار ج1 ص118 باب مواقیت الصلوۃ)
ترجمہ: حضرت عبید بن جریج رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ عشاء کا آخری وقت کون سا ہے؟ فرمایا طلوع فجر۔