اذان اور اقامت

اذان کے شروع میں بسم اللہ پڑھنا

س… مسنون کام کے شروع میں برکت کے لئے تسمیہ پڑھتے ہیں، کیا اذان کے شروع میں یا نماز کی نیت باندھتے وقت تسمیہ پڑھنی چاہئے یا نہیں؟

ج… صحابہ کرام، تابعین اور تبع تابعین وغیرہم سے منقول نہیں، نہ ائمہ فقہاء اس کو ذکر کرتے ہیں، لہٰذا متوارث عمل نہ پڑھنے کا ہے۔

محراب میں کھڑے ہوکر اذان دینا

س… سوال یہ ہے کہ آج کل مسجدوں کے اندر پنج گانہ اذانیں ہو رہی ہیں، بعض مساجد میں محراب کے اندر اور بعض میں محراب کے باہر یعنی پیش امام جہاں کھڑے ہوکر نماز پڑھاتا ہے اس جگہ موٴذّن اذان دیتا ہے، یعنی پیش طاق کے اندر ہی کھڑے ہوکر اذان دیتا ہے، کیا یہ دُرست ہے؟ اور محراب کے باہر یعنی پیش طاق جہاں پیش امام فرض نماز پڑھاتا ہے اس کے برابر میں لاوٴڈ اسپیکر جو کہ امام کی حد سے آگے ہو وہاں سے بھی اذان دینا دُرست ہے یا ممنوع ہے؟

ج… جمعہ کی دُوسری اذان تو خطیب کے سامنے مسجد میں مسنون ہے، اس کے علاوہ اذانوں کا مسجد سے باہر ہونا بہتر ہے، اور مسجد میں ہونا جائز، مگر خلافِ اَوْلیٰ ہے، محراب کے برابر جو جگہ لاوٴڈاسپیکر رکھنے کے لئے بنائی جاتی ہے، اگر اس کو مسجد میں شامل کرنے کی نیت نہیں کی گئی تو اس میں اذان کہنا بلاکراہت دُرست ہے۔

مسجد میں اذان مکروہ ہے

س… ہمارے محلے میں ایک جامع مسجد ہے، جس کی تعمیر کا کام ہو رہا ہے، کچھ حصہ تعمیر ہوگیا ہے اور باقی ابھی بہت کام ہے، لیکن ابھی کچھ دن سے ایک آدمی نے یہ کہا کہ مسجد کے اندر اذان دینا جائز نہیں ہے، اس لئے اذان دینے کے لئے ایک علیحدہ کمرہ صحن میں بنایا جائے، نمازیوں نے یہ اعتراض کیا ہے کہ ابھی مسجد کا کافی کام پڑا ہے، اور دُوسری وجہ یہ ہے کہ مسجد کے صحن میں کمرہ بننے سے خوبصورتی میں بھی فرق آجائے گا، لیکن وہ آدمی بضد ہے کہ مسجد میں اذان دینا شرعاً جائز نہیں ہے، آپ اس بارے میں جلدی جواب دیں، ویسے ہر مسجد میں اذان اندر دی جاتی ہے۔

ج… مسجد میں اذان دینا مکروہِ تنزیہی ہے، وہ صاحب یہ تو صحیح فرماتے ہیں کہ اذان کی جگہ مسجد سے باہر بنائی جانی چاہئے، مگر ان کا یہ کہنا غلط ہے کہ اذان مسجد میں ناجائز ہے، ناجائز تو نہیں، البتہ مکروہِ تنزیہی ہے، اور خدا کے گھر میں کسی مکروہِ تنزیہی کا ارتکاب بھی نہیں ہونا چاہئے، ہاں! جمعہ کی دُوسری اذان اس سے مستثنیٰ ہے، کہ وہ خطیب کے سامنے مسجد میں ہوتی ہے۔

”اذان کس جگہ دی جائے؟“ پر علمی بحث

س… ایک سوال کے جواب میں آپ نے فرمایا ہے کہ مسجد میں اذان دینا مکروہِ تنزیہی ہے، اور آپ نے جواب کے اخیر میں فرمایا ہے: ”ہاں! جمعہ کی دُوسری اذان اس سے مستثنیٰ ہے، کہ وہ خطیب کے سامنے مسجد میں ہوتی ہے۔“

اس خط کے ذریعہ آپ سے یہ دردمندانہ اپیل ہے کہ آپ بلاتحقیق شرعی کبھی فتویٰ دینے کی کوشش نہ فرمائیں، اس لئے کہ آپ نے اذان کو مسجد میں مکروہِ تنزیہی لکھ دیا ہے، حالانکہ تنزیہی کی تصریح تو کسی بھی فقہ کی معتبر کتاب میں نہیں ہے، ہاں! کراہیت کے الفاظ ہیں، اور آپ نے کراہیت کا مشہور قاعدہ تو ازبر کیا ہی ہوگا کہ احناف کے نزدیک مطلق کراہیت سے کراہیتِ تحریمی مراد ہوتی ہے، نہ کہ تنزیہی، ہاں! شوافع کے نزدیک تنزیہی ہوتی ہے۔ چنانچہ علامہ عبدالغنی نابلسی حدیقہ ندیہ میں رقم طراز ہیں:

”الکراھیة عند الشافعیة اذا اطلقت تنصرف الی التنزیہیة لا التحریمة بخلاف مذھبنا۔“

ترجمہ:…”کراہیت کا لفظ جب مطلق بولا جائے تو شافعیہ کے نزدیک اس سے کراہیتِ تنزیہی مراد ہوتی ہے، نہ کہ تحریمی، بخلاف ہمارے مذہب کے (کہ ہمارے یہاں مطلق کراہت سے کراہتِ تحریمی مراد ہوتی ہے)۔“

کیا آپ کو یہ بھی معلوم نہیں کہ مکروہِ تنزیہی کا ارتکاب سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کبھی بیانِ جواز کے لئے بھی کیا کرتے تھے، مگر اذان آپ نے کبھی بھی مسجد کے اندر نہ دلوائی، اور نہ ہی خلفائے راشدین کے زمانے میں کبھی ایسا ہوا، پھر اس پر مستزاد یہ کہ آپ نے اذانِ ثانی کو مسجد میں دینا کراہیتِ تنزیہی سے بھی مستثنیٰ کردیا، اگر آپ نے بین یدی کے الفاظ سے یہ سمجھا ہے تو آپ غلطی پر ہیں، اس لئے کہ بین یدی کا معنی ہیں ”سامنے“ نہ کہ ”بیچ میں“، یا پھر خطیب سے ایک فٹ کے فاصلے پر کھڑے ہوکر اس کے منہ میں منہ ڈالا جائے، جب مسجد میں علی الاطلاق اذان کی کراہیت ہے تو آپ نے کس قرینے سے اذانِ ثانی کو مستثنیٰ قرار دیا؟ میں آپ کو بتاوٴں کہ بین یدی بھی ہونا صرف احناف ہی کے نزدیک سنت ہے، ورنہ مالکی تو اس کو بھی بدعت کہتے ہیں، چنانچہ علامہ خلیل بن اسحاق مالکی نے فرمایا ہے:

”اختلف اھل النقل ھل کان یوٴذّن بین یدیہ صلی الله علیہ وسلم او علی المنار؟ الذی نقلہ اصحابنا انہ کان علی المنار۔“

ترجمہ:…”اہل نقل کا اس میں اختلاف ہے کہ آیا اذان آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ہوتی تھی یا منارہ پر؟ جس بات کو ہمارے اصحاب (یعنی مالکیہ) نے نقل کیا ہے وہ یہ ہے کہ اذان منارہ پر ہوتی تھی۔“

علامہ یوسف بن سعید ثقفی مالکی حاشیہ جواہر ذکیہ میں فرماتے ہیں:

”الأذان الثانی کان علی المنار فی الزمن القدیم وعلیہ اھل المغرب الی الاٰن وفعلہ بین یدی الامام مکروہ ․․․․ الخ۔“

ترجمہ:…”زمانہٴ قدیم میں اذانِ ثانی منارہ پر ہوتی تھی اور اہلِ مغرب کا عمل آج تک اسی پر ہے، اور امام کے آگے اذان دینا مکروہ ہے۔“

بہرصورت! میں تفصیلی دلائل کی جانب جانا نہیں چاہتا، اس لئے تاکہ آپ میرا مسوّدہ ردّی کے ٹوکرے کا سامان نہ بنائیں، از راہِ کرم آپ مذکورہ دلائل کی روشنی میں اس حقیقتِ ثابتہ کو مان گئے ہیں کہ واقعی ہر اذان مسجد میں عند الاحناف مکروہِ تحریمی ہے تو آپ اپنا اعتذار قارئین کے سامنے پیش فرمائیں، ورنہ (مجھے احقاقِ حق مقصود ہے) بصورتِ دیگر آپ میرے سوالات کا اطمینان بخش جواب عطا فرمائیں۔

ج… اوّل چند روایات نقل کرتا ہوں:

۱:… فتاویٰ عالمگیری (ج:۱ ص:۵۵) میں فتاویٰ قاضی خان سے نقل کیا ہے:

”وینبغی ان یوٴذّن علی المأذنة او خارج المسجد ولا یوٴذّن فی المسجد۔“

ترجمہ:…”اور مناسب یہ ہے کہ اذان مأذنہ پر دی جائے، یا مسجد سے باہر دی جائے اور مسجد کے اندر اذان نہ دی جائے۔“

۲:… ہدایہ میں ہے:

”واذا اصعد الامام المنبر جلس واذّن الموٴذّنون بین یدی المنبر بذالک جری التوارث۔“

(فتح القدیر ج:۱ ص:۴۲۱)

ترجمہ:…”اور جب امام منبر پر بیٹھ جائے تو موٴذّن منبر کے آگے اذان دیں، مسلمانوں کا تعامل اسی کے مطابق چلا آیا ہے۔“

۳:… فتح الباری شرح بخاری میں ہے:

”قال المھلب الحکمة فی جعل الاذان فی ھذا المحل لیعرف الناس بجلوس الامام علی المنبر فینصتون لہ اذا خطب۔ کذا قال وفیہ نظر فان فی سیاق ابن اسحاق عند الطبرانی وغیرہ عن الزھری فی ھٰذا الحدیث ان بلالا کان یوٴذّن علی باب المسجد فالظاھر انہ کان مطلق الاعلام لا لخصوص الانصات نعم لما زید الاذان او الاول کان للاعلام۔ وکان الذی بین یدی الخطیب للانصات۔“

ترجمہ:…”مہلب کہتے ہیں: اس جگہ (یعنی منبر کے آگے) اذان کہنے میں یہ حکمت ہے کہ لوگوں کو امام کا منبر پر بیٹھنا معلوم ہوجائے، پس جب وہ خطبہ شروع کرے تو خطبہ کے لئے خاموشی اختیار کریں، مہلب کے اس قول میں نظر ہے، اس لئے کہ اس حدیث میں طبرانی وغیرہ کی روایت میں ابنِ اسحاق نے زہری سے نقل کیا ہے کہ: ”بلال مسجد کے دروازے پر اذان دیا کرتے تھے“ پس ظاہر یہ ہے کہ یہ اذان مطلقاً اعلان کے لئے ہوئی، محض لوگوں کو خاموش کرانے کے لئے نہیں۔ ہاں! جب پہلی اذان کا اضافہ کیا گیا تو پہلی اذان اطلاعِ عام کے لئے تھی، اور جو اذان خطیب کے آگے ہوتی ہے وہ خاموش کرانے کے لئے ہوتی ہے۔“

پہلی روایت سے معلوم ہوا کہ اذان کا منارہ پر یا مسجد سے باہر ہونا مناسب ہے، مسجد کے اندر اذان دینا مناسب نہیں، اور یہی مفہوم ہے کراہیتِ تنزیہی کا، کیونکہ کراہتِ تحریمی کو ”لا ینبغی“ (مناسب نہیں) کے لفظ سے تعبیر نہیں کیا جاتا، بلکہ ”لا یجوز“ (یعنی جائز نہیں) کے لفظ سے تعبیر کیا جاتا ہے، اور یہ بھی معلوم ہوا کہ جن فقہاء کی عبارت میں صرف مکروہ کا لفظ آیا ہے، ان کی مراد بھی یہی ”لا ینبغی“ (مناسب نہیں) والی کراہت ہے، کراہتِ تحریمی مراد نہیں۔

اور یہ قاعدہ اپنی جگہ صحیح ہے کہ مکروہ کا لفظ جب مطلق ذکر کیا جائے تو اس سے مکروہِ تحریمی مراد ہوتا ہے۔ لیکن یہ قاعدہ عام نہیں ہے، بلکہ بسااوقات مکروہ کا لفظ مکروہِ تنزیہی کے لئے بھی استعمال کیا جاتا ہے، اس لئے جہاں مکروہ کا لفظ مطلق ذکر کیا جائے وہاں قرائن و دلائل میں غور کرکے یہ دیکھنا ہوگا کہ یہاں مکروہِ تحریمی مراد ہے یا مکروہِ تنزیہی؟ جیسا کہ مکروہاتِ صلوٰة کے آغاز میں شیخ ابن نجیم نے البحر الرائق میں، اور علامہ شامی نے رد المحتار میں ذکر کیا ہے (دیکھئے: البحر الرائق ج:۲ ص:۲۰، رد المحتار ج:۱ ص:۶۳۹)۔

مسجد میں اذان دینے کے بارے میں کتاب الاصل (مبسوط) میں امام محمد کی تصریح حسبِ ذیل ہے:

”قلت ارأیت الموٴذّن اذا لم یکن لہ منارة والمسجد صغیر این احب الیک ان یوٴذّن؟ قال: احب ذالک الی ان یوٴذّن خارجًا من المسجد واذا اذّن فی المسجد اجزاہ۔“ (کتاب الاصل ج:۱ ص:۱۴۱)

ترجمہ:…”میں نے کہا: یہ فرمائیے کہ جب موٴذّن کے لئے منارہ نہ ہو اور مسجد چھوٹی ہو تو آپ کے نزدیک کس جگہ اذان دینا بہتر ہوگا؟ کیا وہ مسجد سے باہر نکل کر اذان دے تاکہ لوگ سنیں یا مسجد میں اذان دے؟ فرمایا: میرے نزدیک بہتر یہ ہے کہ مسجد سے باہر اذان کہے، اور اگر مسجد میں اذان دے دی جائے تب بھی اس کو کفایت کرے گی۔“

حضرت امام محمد کی اس تصریح سے ثابت ہوا کہ مسجد میں اذان دینا بہتر نہیں، لیکن اگر دے دی جائے تب بھی کوئی مضائقہ نہیں۔

دُوسری روایت سے معلوم ہوا کہ جمعہ کی دُوسری اذان منبر کے سامنے ہوتی ہے، اور اُمت کا تعامل اسی پر چلا آتا ہے، فقہاء اس منبر کی اذان کو مختلف تعبیرات سے ذکر کرتے ہیں، کبھی ”خطیب کے آگے“ کے لفظ سے، کبھی ”منبر کے پاس، اس کے قریب“ کے لفظ سے، اور کبھی ”منبر پر“ کے لفظ سے، ان تمام تعبیرات سے بشرطِ فہم و انصاف یہی سمجھا جاتا ہے کہ جمعہ کی دُوسری اذان منبر کے پاس داخلِ مسجد ہو۔

تیسری روایت سے معلوم ہوا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور حضراتِ شیخین رضی اللہ عنہما کے زمانے میں دُوسری نمازوں کی طرح جمعہ کی بھی ایک ہی اذان ہوتی تھی، چونکہ اس سے بیک وقت دو مقصد تھے، ایک تو مسجد سے باہر کے لوگوں کو وقتِ نماز کی اطلاع دینا، دُوسرے حاضرینِ مسجد کو خطبہ شروع ہونے کی اطلاع دینا، تاکہ وہ خاموش ہوکر خطبہ کی طرف متوجہ ہوجائیں، اس لئے دونوں پہلووٴں کی رعایت کرتے ہوئے یہ اذان مسجد کے دروازے پر کہلائی جاتی تھی، خلیفہٴ راشد حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے دور میں پہلی اذان کا اضافہ ہوا جو زوراء پر ہوتی تھی، اور دُوسری اذان صرف خطبہ کے لئے مخصوص ہوگئی، جو منبر کے پاس کہی جانے لگی۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ صاحبِ ہدایہ اور دیگر فقہاء نے جس توارث کا حوالہ دیا ہے اس سے وہ توارثِ قدیم مراد ہے جو دورِ عثمانی سے چلا آرہا ہے، کیونکہ توارثِ حادث خود حجت نہیں، اسے معرضِ دلیل میں پیش کرنا فقہاء کی شان سے بعید ہے، جہاں تک مجھے معلوم ہے مذاہبِ اربعہ اس پر متفق ہیں کہ جمعہ کی دُوسری اذان منبر کے سامنے ہو، جیسا کہ ہمارے شیخ حضرت العلامہ سیّد محمد یوسف بنوری نوّر اللہ مرقدہ نے معارف السنن (ج:۴ ص:۴۰۲) میں نقل کیا ہے، اگر بعض مالکیوں نے اس سے اختلاف کیا ہے، تو تعامل و توارث کے مقابلے میں ان کی رائے ہمارے لئے حجت نہیں، راقم الحروف کو کتبِ فقہ سے جو تحقیق ہوئی وہ عرض کردی گئی، اگر کسی صاحب کی تحقیق کچھ اور ہو تو وہ اپنی تحقیق پر عمل فرمائیں۔

بیٹھ کر اذان دینا خلافِ سنت ہے

س… کیا بیٹھ کر اذان دی جاسکتی ہے؟

ج… بیٹھ کر اذان کہنا خلافِ سنت اور مکروہِ تحریمی ہے، ایسی اذان کا اعادہ مستحب ہے۔

اذان میں اضافہ

س… کیا اذان کے ساتھ پہلے یا بعد میں کچھ کلمات کا اضافہ کرنے سے اذان شریعت کے مطابق ہوجاتی ہے؟

ج… شرعی اذان تو وہی ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے تواتر کے ساتھ منقول ہے، اس میں مزید کلمات کا اضافہ جائز نہیں، اور اضافہ کے بعد وہ شرعی اذان نہیں رہے گی، بلکہ ایک نئے دین کی نئی اذان بن جائے گی۔

صلوٰة وسلام کا مسئلہ

س… اذان سے قبل صلوٰة و سلام پڑھنا کیسا ہے؟ ہمارے ہاں مسجد کے نمازیوں کا کہنا ہے کہ اذان سے قبل یہ نہیں پڑھنا چاہئے، جبکہ میں یہ ضرور پڑھتا ہوں۔

ج… اذان تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بابرکت زمانے سے چلی آتی ہے، مگر اذان سے پہلے صلوٰة وسلام پڑھنے کا رواج ابھی چند برسوں سے شروع ہوا، اگر یہ دین کی بات ہوتی تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ضرور اس کی تعلیم فرماتے، اور صحابہ کرام، تابعینِ عظام اور بزرگانِ دین اس پر عمل کرتے، جب سلف صالحین نے اس پر عمل نہیں کیا، نہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی تعلیم فرمائی تو اذان سے پہلے صلوٰة وسلام پڑھنا بدعت ہوا، اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو ہمارے دین میں نئی بات نکالے وہ مردُود ہے! تمام اعمال سے مقصود رضائے الٰہی ہے، اور رضائے الٰہی اس عمل پر مرتب ہوتی ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ سلم کے ارشاد فرمودہ طریقے کے مطابق ہو، البتہ شریعت نے اذان کے بعد دُرود شریف پڑھنے اور اس کے بعد دُعائے وسیلہ پڑھنا کا حکم دیا ہے۔

اذان کا صحیح تلفظ

س… اذان میں لوگ ”اشہد“ میں ”ہاء“ کو ادا نہیں کرتے ہیں، ”حی علی الصلوٰة“ میں ”ع“ کو ادا نہیں کرتے ہیں، ”اشہد اَنّ محمد رسول اللہ“ میں ”اَنّ“ کے بعد الف کو کھینچتے ہیں، ”قد قامت الصلوٰة“ میں بڑا قاف کی جگہ چھوٹا کاف پڑھتے ہیں، یہ عام عمل ہے، صحیح مسئلہ کی وضاحت فرماکر ممنون فرمائیں۔

ج… یہ غلطیاں سنگین ہیں، ان کی اصلاح ہونی چاہئے، ”اَنّ“ کے ساتھ الف پڑھنے سے معنی بالکل ہی بدل جاتے ہیں۔

اذان کا غلط تلفظ

س… ہم مچھ میں کافی تعداد میں مسلک حنفی (بریلوی) سے تعلق رکھتے ہیں، ہماری جامع مسجد کے امام صاحب پہلے جب اذان دیتے تھے تو جیسے ہر جگہ، ہر مسجد سے جو اذان سنتے ہیں ویسی ہی اذان دیتے تھے، لیکن اب تقریباً ایک ماہ سے ہمارے امام صاحب جب اذان دیتے ہیں تو اذان کے پہلے الفاظ اس طرح پڑھے ہیں اللہ اکبر، اللہ اکبر، اللہ اکبر، اللہ کبر، آخر میں ”ر“ اور ”ل“ کو اکٹھا پڑھتے ہیں اور اللہ کا ”الف“ اُڑادیتے ہیں، ایسے پڑھتے ہیں: اللهُ اکبرَ اللهُ اکبر۔

ج… اذان میں اصل سنت تو یہ ہے کہ پہلے ”اللہ اکبر“ میں ”را“ کو ساکن پڑھا جائے، اور دُوسرے کو لفظ ”اللہ“ کے ہمزہ کے ساتھ پڑھا جائے، اور جائز یہ بھی ہے کہ پہلی تکبیر کی ”را“ پر زبر پڑھی جائے اور اسم ”اللہ“ کے ہمزہ کو حذف کرکے ”را“ کو ”لام“ کے ساتھ ملادیا جائے، اور یوں پڑھا جائے: ”اَللهُ اَکْبَرَ اللهُ اکبر“۔

”اللہ اکبر“ کے ”را“ کا تلفظ

س… اذان کے شروع میں اللہ اکبر اور اللہ اکبر دونوں ایک ساتھ ملاکر پڑھے جائیں تو کیا ”را“ کے اُوپر جو پیش ہوتی ہے وہ ”ل“ کے ساتھ ملاکر پڑھی جاسکتی ہے یا نہیں؟

ج… علامہ شامی رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ بہتر یہ ہے کہ پہلے ”اللہ اکبر“ کی ”راء“ کو ساکن پڑھا جائے، اور اگر ملاکر پڑھنا ہو تو ”را“ پر وقف کی نیت سے فتحہ پڑھا جائے، ضمہ کے ساتھ ملاکر پڑھنا خلافِ سنت ہے۔

”الصلوٰة خیر من النوم“ کے بغیر اذان

س… فجر کی اذان میں اگر ”الصلوٰة خیر من النوم“ بھول جائے تو اذان ہوگئی یا دوبارہ پڑھیں؟ اگر کوئی جان بوجھ کر چھوڑ دے تو اذان ہوگئی یا دوبارہ پڑھیں؟

ج… فجر کی اذان میں ”الصلوٰة خیر من النوم“ کہنا مستحب ہے، جان بوجھ کر تو نہیں چھوڑنا چاہئے، لیکن اگر یاد نہیں رہا یا جان بوجھ کر چھوڑ دیا تب بھی اذان ہوگئی، دوبارہ نہیں کہی جائے گی۔

”الصلوٰة خیر من النوم“ کا ثبوت

س… ابھی علامہ السید محمد صدیق صاحب کی کتاب ”کشف الاسرار“ پڑھ رہا تھا، انہوں نے مشکوٰة صفحہ:۶۳-۱۱۴ کے حوالے سے لکھا ہے کہ اذان میں ”الصلوٰة خیر من النوم“ کے الفاظ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دور سے ہیں اور تراویح بھی۔ مگر مشہور یہ ہے کہ یہ اضافہ سیّدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دور سے ہوا ہے، براہِ کرم تفصیل سے وضاحت فرمائیں تاکہ حقیقت کا لوگوں کو علم ہوسکے۔

ج… صحیح یہ ہے کہ اذانِ فجر میں ”الصلوٰة خیر من النوم“ کا اضافہ حضرت فاروقِ اعظم رضی اللہ نے نہیں کیا، بلکہ یہ متعدّد احادیث میں خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے، موٴطا امام مالک میں بلاغاً روایت ہے کہ ”موٴذّن“ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو نمازِ صبح کی اطلاع دینے کے لئے آیا تو دیکھا کہ آپ سو رہے ہیں، اس نے ”الصلوٰة خیر من النوم یا امیر الموٴمنین!“ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس کو فرمایا کہ: ”یہ فقرہ اذانِ فجر میں کہا کرو!“

حضرت شیخ مولانا محمد زکریا کاندہلوی ثم مدنی قدس سرہ ”اوجز المسالک شرح موٴطا امام مالک“ میں اس حدیث کے ذیل میں تحریر فرماتے ہیں:

”حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے اس ارشاد پر اِشکال ہوسکتا ہے، کیونکہ اس فقرے کا صبح کی اذان میں ہونا تو خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے متعدّد روایات میں ثابت ہے، پس حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ گمان نہیں کیا جاسکتا کہ ان کو اس فقرے کا اذانِ صبح میں کہا جانا معلوم نہ ہو، پس سب سے بہتر توجیہ یہ ہے کہ اس ارشاد سے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا مقصود یہ تھا کہ اس فقرے کا محل صبح کی اذان ہے، امیر کا دروازہ نہیں۔ گویا آپ نے امیرالموٴمنین کے دروازے پر اس فقرے کو دُہرانا ناپسند فرمایا، اور موٴذّن کو حکم فرمایا کہ اس فقرے کے اذانِ صبح میں کہنے پر اکتفا کیا کرے۔ اس توجیہ کو حافظ ابنِ عبدالبر اور علامہ باجی نے اختیار کیا ہے، اور علامہ زرقانی  فرماتے ہیں کہ یہی توجیہ متعین ہے، اور میرے نزدیک یہی توجیہ سب سے بہتر ہے۔“ (ج:۱ ص:۱۹۲، مطبوعہ کتاب خانہ یحیوی، سہارنپور)

اس کے بعد حضرتِ شیخ نے اور بھی متعدّد توجیہات نقل کی ہیں، بہرحال یہ طے شدہ ہے کہ اذانِ فجر میں ”الصلوٰة خیر من النوم“ کہنے کا حکم پہلی بار حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے نہیں دیا، بلکہ یہ معمول آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بابرکت زمانے سے چلا آتا ہے، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس کی تاکید فرمائی ہے۔

اسی طرح تراویح کی نماز آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے سے چلی آتی تھی، حضرت فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ نے اس سلسلے میں دو اہتمام فرمائے، ایک جماعت، دُوسرے بیس رکعات۔

اذان کے آخر میں ”محمد رسول اللہ“ پڑھنا خلافِ سنت ہے

س… ہمارے شہر کی جامع مسجد کے پیش امام صاحب جب اذان دیتے ہیں تو اذان کے آخری الفاظ ”اللہ اکبر اللہ اکبر، لا الٰہ الا اللہ“ کے ساتھ ”محمد رسول اللہ“ بھی پڑھتے ہیں، جبکہ اذان کے آخری الفاظ پورا کلمہ طیبہ کے طور پر نہیں پڑھے جاسکتے، کیا اس طرح اذان دُرست ہے؟

ج… آپ کے امام صاحب خلافِ سنت کرتے ہیں، اذان ”لا الٰہ الا اللہ“ پر ختم کی جاتی ہے۔

کیا اذان میں ”مد“ کرنا جائز ہے؟

س… موٴذّن حضرات اذان کو اتنا لمبا کرکے پڑھتے ہیں کہ مدِ متصل سے بھی بڑھاتے ہیں، کیا یہ اذان جائز ہے؟ حالانکہ ”حی علی الصلوٰة“ اور ”حی علی الفلاح“ پر کوئی مد نہیں ہے، یہ حضرات کیوں اتنا کھینچتے ہیں؟

ج… ”حی علی الصلوٰة“ اور ”حی علی الفلاح“ پر وقف کی وجہ سے مد صحیح ہے، اذان کے کلمات کو اتنا کھینچنا جائز نہیں کہ حروف و الفاظ میں خلل واقع ہوجائے۔

اذان کے ادھورے فقرے کو دوبارہ دُہرانا

س… ہمارے محلے کی مسجد کے مولانا نے ابھی چند روز قبل فجر کی اذان دیتے وقت میری نظر میں ایک غلطی کی تھی، مولانا فجر کی اذان دے رہے تھے کہ ان کو درج ذیل ادھورے جملے پر کھانسی آگئی ”الصلوٰة خیر من“، اور کھانسنے لگے، اور اس کے بعد انہوں نے نئے سرے سے دو مرتبہ اس جملے کو دُہرایا، میرے خیال میں ان جملوں کی تعداد تین ہوگئی، اب میں معلوم کرنا چاہتا ہوں کہ آیا اس میں مولانا صاحب کی غلطی ہے یا نہیں؟ اگر تھی تو پھر کیا ان کو اذان دوبارہ کہنی چاہئے تھی؟ اگر آپ کا جواب ہاں میں ہے تو اب جبکہ وہ وقت (فجر) بھی نکل گیا ہے تو آپ بتائیے کہ اس کا کفارہ مولانا صاحب کس طرح ادا کریں؟

ج… جب پورا فقرہ نہیں کہہ سکے تھے تو اس کو دُہرانا ہی چاہئے تھا، اس لئے کوئی غلطی نہیں ہوئی۔

اذان کے فقرے میں سانس لینا

س… اذان کہنے میں اگر کسی فقرے پر سانس لے لی جائے تو غلط تو نہیں؟

ج… اگر وقفہ زیادہ نہ ہو تو اذان صحیح ہے، لیکن اذان کے فقروں کو اتنا کھینچنا کہ درمیان میں سانس لینے کی ضرورت پیش آئے، صحیح نہیں۔

اذان کے وقت کانوں میں اُنگلیاں دینا

س… کیا اذان کے وقت اُنگلیاں کانوں کے اندر ہونی ضروری ہیں؟ اور یہ فرض ہے یا واجب یا سنت؟ اگر کوئی ایسے اذان دے جیسا کہ ہاتھ نماز کے وقت میں ہوتے ہیں تو اذان ہوجاتی ہے یا نہیں؟

ج… اذان دیتے وقت کانوں میں اُنگلیاں رکھنا سنت ہے، تاکہ آواز زیادہ بلند ہو، مگر اذان اس کے بغیر بھی ہوجاتی ہے۔

فجر کی اذان کے بعد لوگوں کو نماز کے لئے بلانا

س… ہمارے محلے کی مسجد میں صبح فجر کے وقت نمازیوں کی تعداد بہت کم ہوتی ہے، یہ سوچ کر میں صبح اپنے نمازی ساتھیوں کو اُٹھاتا اور اہلِ محلہ کو آواز دیتے ہوئے گزر جاتا ہوں ”چلو نماز کو“، اس طرح مسجد میں نمازیوں کی تعداد حوصلہ بخش ہوگئی اور مجھے بھی سکون ملا۔ ہمارے ساتھی بھی اس بات پر خوش ہوتے تھے کہ انہیں نماز باجماعت ساتھ پڑھنے کو مل جاتی ہے، ہوسکتا ہے کہ کچھ لوگ اس بات پر ناراض بھی ہوتے ہوں کہ انہیں صبح کو جلدی اُٹھادیا، لیکن کہتا کوئی نہیں ہے، مگر ہماری مسجد کے امام صاحب نے کہہ دیا کہ یہ تو بدعت ہے، بس اذان ہوجاتی ہے، یہ کافی ہے، جس کو آنا ہوگا اپنے آپ آئے گا، یہ سن کر میں نے اپنے ساتھیوں کو اُٹھانا چھوڑ دیا، اور انہوں نے بھی سستی اختیار کرلی ہے جس سے نمازی بہت کم ہوگئے ہیں صبح فجر کے وقت۔

ج… سوتے ہوئے کو جگانا تو بدعت نہیں، اور متأخرین نے اذان کے بعد لوگوں کو نماز کے لئے بلانے کو بھی مستحسن کہا ہے۔

مسجد میں موٴذّن نہ ہو تب بھی اذان کا اہتمام کریں

س… کیا مسجد میں نمازِ ظہر کے وقت اذان دینا ضروری ہے؟ یہاں کوئی موٴذّن مقرّر نہیں ہے جو کارکن پہلے آتا ہے اذان دے دیتا ہے، اور بعض اوقات بھول جاتا ہے، اس طرح بغیر اذان کے نماز ہوجاتی ہے، اور ہم بھروسے میں رہتے ہیں کہ اذان ہوگئی، کیا بغیر اذان کے ہماری باجماعت نماز ہوجاتی ہے؟

ج… اذان کے بغیر نماز ہوجاتی ہے، مگر خلافِ سنت ہوگی، اور ترکِ سنت کا وبال ہوگا، مسجد میں اذان کا اہتمام ضروری ہے، فقہاء نے لکھا ہے کہ جو جماعت اذان کے بغیر ہو معتبر نہیں، بعد میں آنے والوں کو چاہئے کہ اذان کے ساتھ جماعت کرائیں۔

تہجد کی نماز کے لئے اذان و اقامت

س… شبِ برات اور لیلة القدر کے موقع پر اکثر لوگ رات جاگ کر عبادت کرتے ہیں، تو کچھ حضرات کہتے ہیں کہ تہجد کی نماز باجماعت پڑھیں، تاہم میں نے انکار کیا اور کہا کہ پہلے پوچھیں گے، پھر عمل کریں گے۔ حالانکہ سعودیہ میں باجماعت تہجد ہوتی ہے جو کہ اکثر رمضان میں ہم سحری کے وقت ریڈیو پر سنتے ہیں، تو کیا تہجد کی نماز باجماعت ہوتی ہے یا نہیں؟ اگر ہوتی ہے تو اذان اور اقامت کا کیا حکم ہے؟

ج… تراویح کے علاوہ نوافل کی جماعت مکروہ ہے، اس لئے تہجد کی نماز جماعت کے ساتھ پڑھنا مکروہ ہے، اور نفلی نماز کے لئے اذان و اقامت نہیں، اذان و اقامت صرف نمازِ پنج گانہ اور جمعہ کی خصوصیت ہے۔

کسی ناگہانی مصیبت کے وقت اذان

س… اورنگی ٹاوٴن میں نہتے لوگوں پر دہشت پسندوں کا خوف کچھ اتنا غالب آیا اور خوف و ہراس اس قدر غالب ہوا کہ تمام محلہ اللہ تعالیٰ سے مدد پکارنے لگا، اور تقریباً رات کے گیارہ بجے تمام مسجدوں سے اذان دی گئی اور اس اذان کی وجہ اس کے سوائے اور کچھ بھی نہ تھی کہ اللہ پاک اپنے فضل و کرم سے اس ناگہانی مصیبت میں لوگوں کی مدد فرمائیں، مسجدوں کی مائک اس لئے استعمال کی گئی تاکہ آواز دُور دُور تک جائے، اور دہشت پسندوں کے دِل لرزجائیں۔ رحمانیہ مسجد اورنگی ٹاوٴن کے امام کا کہنا ہے کہ یہ غلط حرکت ہے، اور اذان کے بعد نماز جماعت فرض ہے، جبکہ تمام لوگ جانتے تھے کہ یہ نماز کا کوئی وقت نہ تھا، اس فعل سے کیا حرج واقع ہوا؟ مشورہ دے کر ممنون فرمائیں اس قسم کی ناگہانی بلا و مصیبت روز نازل نہیں ہوتی اس لئے اس کے رواج بن جانے کا کوئی جواز نہیں ہے۔

ج… علامہ شامی رحمہ اللہ نے لکھا ہے کہ: خیرالدین رملی کے حاشیہ بحر میں ہے کہ میں نے شافعیہ کی کتابوں میں دیکھا ہے کہ نماز کے علاوہ بھی بعض مواقع میں اذان مسنون ہے، مثلاً: نومولود کے کان میں، پریشان، مرگی زدہ، غصّے میں بھرے ہوئے اور بدخلق انسان یا چوپائے کے کان میں، کسی لشکر کے حملے کے وقت، آگ لگ جانے کے موقع پر (شامی حاشیہ درمختار ج:۱ ص:۳۸۵)، خیرالدین رملی کی اس عبارت سے معلوم ہوا کہ دہشت پسندوں کے حملے کے موقع پر اذان کہنا حنفیہ کی کتابوں میں تو کہیں مذکور نہیں، البتہ شافعیہ کی کتابوں میں اس کو مستحب لکھا ہے، اس لئے ایسی پریشانی کے موقع پر اذان دینے کی ہم ترغیب تو نہیں دیں گے، لیکن اگر کوئی دیتا ہے تو ہم اس کو ”بالکل غلط حرکت“ بھی نہیں کہیں گے، البتہ نومولود کے کان میں اذان کہنا احادیث سے ثابت ہے، اور فقہِ حنفی میں بھی اس کی تصریح ہے، اذان اگر نماز کے لئے دی جائے، لیکن بے وقت دی جائے تب بھی اس سے نماز فرض نہیں ہوتی، بلکہ نماز کا وقت آنے پر اذان کے اعادہ کا حکم دیا جائے گا، کیونکہ بے وقت کی اذان کالعدم ہے۔

سات اذانیں

س… ہمارے محلے کی مسجد میں رمضان المبارک کی ستائیسویں شب عشاء کے وقت سات اذانیں دی جاتی ہیں، آپ سے التماس ہے کہ اس فعل کی شرعی حیثیت قرآن و حدیث کی روشنی میں بیان فرمائیں۔

ج… رمضان المبارک کی ستائیسویں شب میں سات اذانیں حدیث و فقہ سے ثابت نہیں، اس لئے اس کو ”بدعت“ کہا جائے گا۔

بہت سی مساجد کی اذانوں سے راحت یا تکلیف

س… آج کل مسجدوں میں کئی کئی مائیکروفون لگے ہوئے ہیں، اور اذان ہوتی ہے تو چاروں طرف کی مسجدوں کی آواز ایک ساتھ ٹکراتی ہے، جبکہ ہم نے سنا ہے کہ ایک مسجد کی آواز اتنی ہو کہ دُوسری مسجد کے ساتھ نہ ٹکرائے، جبکہ حال یہ ہے کہ ہمارے علاقے میں کئی مسجدیں ہیں، ہر دُوسری گلی میں ایک مسجد ہے، جب اذان ہوتی ہے یا وعظ ہوتا ہے تو مسجد کے پاس گھروں میں آواز اس قدر تیز ہوتی ہے کہ بعض اوقات (نعوذ باللہ) پریشانی سی محسوس ہوتی ہے، کبھی ٹیلی فون پر بات کرتے ہیں اور اذان ہو رہی ہو تو بات کرنا دُوبھر ہوجاتا ہے، یا کسی کی طبیعت خراب ہو یا کوئی امتحان کی تیاری میں مصروف ہو تو (وعظ کی) اتنی تیز آواز ہوتی ہے کہ پڑھنا مشکل ہوجاتا ہے اور تکلیف ہوتی ہے۔ آپ یہ بتائیے کہ مسجدوں کی آوازیں اس طرح بڑھادینے سے اسلام پھیل رہا ہے یا نمازی زیادہ ہو رہے ہیں؟ کیا اسلام میں اس طرح کی ضد بحث ایک دُوسرے سے جائز ہے؟

ج… اذان تو لاوٴڈاسپیکر پر ہونی چاہئے کہ اذان کی آواز دُور تک پہنچانا مطلوب ہے، لیکن اذان کے علاوہ وعظ وغیرہ کے لئے لاوٴڈ اسپیکر کا بے ہنگم استعمال جس سے اہلِ محلہ کا سکون غارت ہوجائے، نہ دین کا تقاضا ہے، نہ عقل کا۔ وعظ کے لئے یا نماز کے لئے اگر لاوٴڈ اسپیکر کے استعمال کی ضرورت ہو تو اس کی آواز مسجد تک محدود رہنی چاہئے۔

اذان کے بعد ہاتھ اُٹھاکر دُعا مانگنا

س… اذان کے بعد ہاتھ اُٹھاکر دُعائیں مانگنا ضروری ہے یا نہیں؟

ج… اذان کے بعد کی دُعا میں ہاتھ اُٹھانا منقول نہیں، صرف زبان سے دُعائے مأثور پڑھ لے، اور دُعائے مأثور یہ ہے کہ پہلے دُرود شریف پڑھے پھر دُعائے وسیلہ پڑھے، پھر چوتھا کلمہ پڑھے، پھر یہ دُعا پڑھے: ”رَضِیْتُ بِاللهِ رَبًّا وَبِمُحَمَّدٍ صَلَّی اللهُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ نَبِیًّا وَبِالْاِسْلَامِ دِیْنًا“۔

اذان کے لئے خوش الحانی ضروری نہیں

س… زید کا سوال ہے کہ ہم خوش الحانی سے اذان نہیں پڑھ سکتے، کیوں نہ ہم ایسا کریں کہ جب ریڈیو پر اذان آئے اور ہمارے ہاں اذان کا وقت ہو بھی جائے تو ریڈیو کو اسپیکرز کے سامنے رکھ دیں اور خود علیحدہ پہلے یا بعد میں اسپیکر سے ہٹ کر اذان پڑھ لیں، کیا ایسا کرنا شرعی لحاظ سے جائز ہے؟

ج… اذان کے لئے ریڈیو کو اسپیکر کے آگے رکھنا فضول حرکت ہے، کیونکہ ریڈیو سے جو اذان نشر کی جاتی ہے، وہ اکثر پہلے سے کیسٹ کی ہوئی ہوتی ہے، اس لئے اس کا حکم اذان کا نہیں، اذان کے الفاظ صحیح ہونے چاہئیں، خوش الحانی نہ ہوئی تو ثواب میں کمی نہیں ہوگی۔

موٴذّن کی موجودگی میں دُوسرے شخص کی اذان

س… ہماری مسجد میں جمعہ کی اذان دو شخص دیتے ہیں، پہلی اذان اس مسجد کے موٴذّن صاحب دیتے ہیں، لیکن دُوسری اذان جو خطبے سے پہلے دی جاتی ہے، وہ دُوسرے صاحب دیتے ہیں، جبکہ موٴذّن صاحب موجود ہیں کیا اس اذان کو دُرست سمجھنا چاہئے؟

ج… دُرست ہے، خواہ کوئی دیدے، بشرطیکہ اس سے موٴذّن کی دِل شکنی نہ ہوتی ہو۔

داڑھی منڈے یا نابالغ سمجھ دار کی اذان

س… میرا مسئلہ یہ ہے کہ کیا نابالغ کی اذان ہوجاتی ہے کہ نہیں؟ اور نابالغ کی شریعت میں کیا عمر ہے؟ بیان کیجئے، اور دُوسرا مسئلہ یہ ہے کہ اس شخص کی اذان ہوجاتی ہے جس کی سنتِ رسول ہو، مگر پوری نہ ہو، یعنی کہ ایک مٹھ نہ ہو تو کیا اس کی اذان ہوگی یا نہیں؟ اس شخص کو نماز بھی پوری نہیں آتی اور نہ ہی قرآن پڑھا ہوا ہے؟

ج… داڑھی منڈے کی اذان و اقامت مکروہِ تحریمی ہے، اسی طرح جس شخص کی کاٹنے کی وجہ سے داڑھی ایک قبضے سے کم ہو اس کی اذان و اقامت بھی مکروہِ تحریمی ہے، اذان دوبارہ کہی جائے، مگر اقامت دوبارہ نہ کہی جائے گی۔ نابالغ لڑکا اگر سمجھ دار، ہوشیار ہو تو اس کی اذان صحیح ہے، مگر خلافِ اَوْلیٰ ہے، بلوغ کا علامتوں کے ذریعہ پتہ چل سکتا ہے، اگر بالغ ہونے کی کوئی علامت ظاہر نہ ہو تو پندرہ سال کا لڑکا اور لڑکی شرعاً بالغ تصوّر کئے جاتے ہیں۔

سولہ سالہ لڑکے کی اذان

س… اگر کسی کی عمر سولہ سال سے زیادہ ہو اور وہ نماز پڑھتا ہو تو کیا موٴذّن کی اجازت پر اذان دے سکتا ہے یا امام سے اجازت لینا بھی ضروری ہے؟

ج… موٴذّن کی اجازت کافی ہے، کیونکہ سولہ سالہ لڑکے کی اذان صحیح ہے، اور اذان کا تعلق موٴذّن سے ہے۔

اپنے آپ کو گناہگار سمجھنے والے کی اذان

س… کیا کوئی شخص جس نے مسجد میں کبھی اذان نہیں دی ہو، اور پھر ایک دن امامِ مسجد اسے اذان کے لئے کہے، جبکہ اس شخص اور امام کے علاوہ کوئی وہاں نہیں ہے، تو اس شخص کو اذان دے دینی چاہئے؟ جبکہ وہ شخص اپنے آپ کو گناہگار سمجھتا ہے، نماز وہ اس وقت پڑھتا ہے جب ٹائم ہو، دین کی طرف راغب ہے لیکن اپنے آپ کو گناہگار سمجھتا ہے۔

ج… اذان ہر مسلمان دے سکتا ہے، البتہ جو شخص کسی گناہِ کبیرہ میں مبتلا ہو، مثلاً: داڑھی منڈاتا یا کتراتا ہو، اس کی اذان مکروہِ تحریمی ہے، باقی اپنے آپ کو نیک اور پاک کون سمجھتا کرتا ہے؟ اپنے آپ کو گناہگار ہی سمجھنا چاہئے!

وقت سے پہلے اذان کا اعتبار نہیں

س… کیا وہ نماز ہوجاتی ہے جس میں اذان وقت سے پہلے دی ہو، جبکہ زیادہ سے زیادہ مقتدی نماز میں شامل ہوجائیں۔

ج… اگر اذان وقت سے پہلے ہوجائے تو وقت ہونے پر اذان دوبارہ کہی جائے، ورنہ نماز بغیر اذان کے ہوگی، اور بغیر اذان کے نماز پڑھنا خلافِ سنت اور مکروہ ہے۔

سورج غروب ہونے سے پہلے مغرب کی اذان و نماز صحیح نہیں

س… مغرب کی اذان سے پہلے سجدہ جائز ہے یا نہیں؟ اذان سے پانچ منٹ پہلے نماز کی نیت باندھ لی، بعد میں اذان ہوئی تو کیا کریں؟

ج… اگر سورج غروب ہوچکا ہو تو مغرب کی اذان سے پہلے سجدہ جائز ہے، اور اگر غروب نہیں ہوا تو جائز نہیں، جب اذان میں پانچ منٹ باقی تھے تو نماز کا وقت نہیں ہوا، لہٰذا نماز توڑ دینی چاہئے تھی۔

وقت سے قبل عشاء کی اذان

س… ہمارے علاقے میں ایک مسجد ہے اور یہاں اذانِ عشاء سات بج کر پندرہ منٹ پر ہوتی ہے، جبکہ عشاء کا وقت تقریباً سات بج کر پینتیس منٹ پر شروع ہوتا ہے، آپ بتائیں کہ وقت سے پہلے جو اذان ہوتی ہے، یہ کیسی ہے؟ اور یہاں کے امام پر کیا ذمہ داری عائد ہوتی ہے، باوجود اس کے کہ ہم اور دُوسرے احباب نے امام صاحب سے عرض بھی کیا تو بس ہمیں ٹال دیا۔

ج… جو اذان وقت سے پہلے دی جائے وہ غیرمعتبر ہے، دوبارہ وقت ہونے کے بعد اذان دینا ضروری ہے، ورنہ نماز اذان کے بغیر تصوّر کی جائے گی۔

رمضان المبارک میں عشاء کی اذان قبل ازوقت کہنا

س… رمضان شریف کے مہینے میں کچھ لوگ جلدی تراویح پڑھنے کے واسطے مغرب کے وقت میں ہی عشاء کی اذان دے دیتے ہیں، ابھی عشاء کا وقت شروع ہی نہیں ہوتا ہے اور عشاء کی اذان دے دیتے ہیں، اور اس کے بعد عشاء کی نماز پڑھتے ہیں، کیا ان کی نماز بغیر اذان کے ہوئی یا اذان ہوگئی؟ ان کا یہ فعل کیسا ہے اور دُوسروں کو کیا کرنا چاہئے، وہ لوگ دُوسری مسجدوں کا حوالہ دیتے ہیں، دُوسری مسجد ہمارے لئے حجت ہے یا نہیں؟

ج… جس اذان کا ایک جملہ بھی وقت سے پہلے کہا گیا ہو، وہ اذان کالعدم ہے، وقت ہونے کے بعد دوبارہ اذان دینا چاہئے، ورنہ نماز بغیر اذان کے ہوگی، اور جو نماز اذان کے بغیر ہو وہ خلافِ سنت ہوئی۔

بھول کر دوبارہ دی جانے والی اذان

س… اذان ہوچکی ہو اور کوئی دُوسرا شخص بھولے میں پوچھے بغیر اذان شروع کردے اور جب وہ آدھی اذان پر پہنچے اور اسے علم ہوجائے یا کوئی بتادے تو کیا اس صورت میں اذان مکمل کرے یا چھوڑ دے؟

ج… جب ایک بار اذان ہوچکی ہے تو دُوسری اذان کی ضرورت نہیں، اسے چھوڑ دے۔

ریڈیو اور ٹیلی ویژن پر اذان کا شرعی حکم

س… کہتے ہیں کہ اوقاتِ نماز کے علاوہ بے وقت اذان نہیں دینی چاہئے، یا صرف اس وقت اذان دینی چاہئے جب کوئی بچہ پیدا ہو یا کوئی بڑی آفت سے نجات پانی ہو، مثلاً: زیادہ بارش کے وقت۔ لیکن ہمارے یہاں ٹیلی ویژن پر جب لاہور میں عشاء کا وقت ہوتا ہے تو اذان پورے پاکستان میں نشر ہوتی ہے، حالانکہ جب لاہور میں عشاء کا وقت ہوتا ہے تو کراچی میں عشاء کی اذان میں تقریباً ایک گھنٹہ ہوتا ہے، اسی طرح پاکستان کے ایک شہر میں اذان کا وقت ہوتا ہے تو دُوسرے شہروں میں نہیں ہوتا، لیکن اذان سب اسٹیشنوں پر ایک ساتھ نشر ہوتی ہے، تو کیا یہ گناہ نہیں ہے؟

ج… آپ کا خیال صحیح ہے، اذان نماز کے لئے ہوتی ہے، ریڈیو اور ٹیلی ویژن پر جو اذان نشر ہوتی ہے، وہ کسی نماز کے لئے نہیں بلکہ یہ محض شوقیہ ہے، شریعت کے کسی قاعدے کے ماتحت نہیں۔

غلط اذان کا کفارہ

س… غلط اذان دینے یا اس میں غیرارادی طور پر الفاظ شامل ہونے پر کیا کرنا چاہئے؟

۱:…موٴذّن کو الگ کرنا دُرست ہے؟

۲:… ہم نے جو اَب تک غلط اذانیں (میری نظر میں) سنی ہیں، ان کا کفارہ یا کوئی گناہ ہے؟

ج… آپ نے جو صورت لکھی ہے، فقہی اصطلاح میں اس کو لحن کہتے ہیں، اور یہ ناجائز اور مکروہِ تحریمی ہے، فقہاء نے لکھا ہے کہ ایسی اذان کا سننا بھی حلال نہیں، اس لئے مسجد کی انتظامیہ کو لازم ہے کہ ایسے موٴذّن کو تبدیل کردیں۔

اور اب تک جو غلط اذانیں سنی گئیں اگر ان کی اصلاح پر آپ کو قدرت تھی تب تو گناہ ہوا، جس کا تدارک استغفار سے ہونا چاہئے، اور اگر آپ کو اصلاح پر قدرت نہیں تھی، تو آپ پر کوئی گناہ نہیں۔

اذان صحیح سمجھ نہ آرہی ہو تو جواب دیں یا نہ دیں؟

س… اگر اذان کی آواز ہوا کی وجہ سے صحیح نہ آرہی ہو، کوئی لفظ سنائی دیتا ہو اور کوئی نہیں، تو کیا کرنا چاہئے؟

ج… الفاظ سمجھ میں آئیں تو جواب دیں، ورنہ نہیں۔

ٹی وی، ریڈیو والی اذان کا جواب دینا

س… ٹیلی ویژن اور ریڈیو پر جو اذانیں ہوتی ہیں، تو کیا ان کو سن کر اذان کا جواب دیا جاسکتا ہے؟

ج… ٹی وی اور ریڈیو پر ہونے والی اذان، اذان نہیں بلکہ اذان کی آواز ہے، جسے ٹیپ کرلیا جاتا ہے اور اذان کے وقت وہی ٹیپ لگادی جاتی ہے، اس لئے اس کا حکم اذان کا نہیں، لہٰذا اس کا جواب بھی مسنون نہیں۔

دورانِ اذان تلاوت کرنا یا نماز پڑھنا

س… دورانِ اذان قرآن مجید کی تلاوت یا نماز پڑھنا دُرست ہے؟

ج… قرآن مجید بند کرکے اذان کا جواب دینا چاہئے، اور اگر نماز پہلے سے شروع کر رکھی ہو تو پڑھتا رہے، ورنہ اذان ختم ہونے کے بعد شروع کرے۔

دورانِ اذان مسجد میں سلام کہنا

س… جب موٴذّن اذان کہہ رہا ہو تو مسجد میں داخل ہوتے وقت السلام علیکم کہنا چاہئے یا خاموشی سے بیٹھ جانا چاہئے یا کہ اذان سننے کے لئے کھڑا رہنا چاہئے؟

ج… اس وقت سلام نہیں کہنا چاہئے، بلکہ خاموشی سے بیٹھ جانا چاہئے۔

خطبے کی اذان کا جواب اور دُعا

س… جمعے کے دن خطبے کی اذان کا جواب زبان سے دینا اور اس کے بعد دُعا پڑھنا دُرست ہے یا کیا حکم ہے؟

ج… خطبے کی اذان کا جواب نہیں دیا جاتا، نہ اس کے بعد دُعا ہے۔

اذان کے وقت پانی پینا

س… ایک دن مغرب کی اذان کے وقت میں پانی پینے لگا تو میرے ایک دوست نے کہا کہ اذان کے وقت پانی پینے سے سخت گناہ ہوتا ہے، میں وقتی طور پر اس کی بات مان گیا، لیکن دِل میں یہ عہد کرلیا کہ اس مسئلے کو آپ کی خدمت میں پیش کروں گا، اُمید ہے کہ آپ اسے بھی ضرور حل کرنے کی کوشش کریں گے۔

ج… مغرب کی اذان یا کسی بھی اذان کے وقت پانی پینا جائز ہے، آپ کے دوست کا خیال صحیح نہیں۔

اذان کے دوران تلاوت بند کرنے کا حکم

س… سنا ہے کہ اذان کے وقت تلاوت معطل کرکے اذان سننا چاہئے، دریافت طلب مسئلہ یہ ہے کہ مختلف مساجد سے وقفہ وقفہ سے آدھ گھنٹے تک اذان کی آوازیں آتی رہتی ہیں، تو کیا جب تک اذان کی آواز آتی رہے اس وقت تک تلاوت معطل رکھی جائے؟

ج… بہتر یہ ہے کہ اذان کے وقت تلاوت بند کردی جائے، اپنے محلے کی مسجد کی اذان کا جواب دینا ضروری ہے، جس کے بعد مختلف اذانوں کا جواب ضروری نہیں، اور بعض حضرات فرماتے ہیں کہ ان میں سے جو اذان سب سے پہلے ہو اس کا جواب دیا جائے۔

اذان کے وقت ریڈیو سے تلاوت سننا

س… ایک طرف مسجد سے تلاوت یا اذان ہو رہی ہو اور دُوسری طرف ریڈیو پر اذان یا تلاوت ہو رہی ہو، تو ہمیں ریڈیو بند کرلینا چاہئے یا نہیں؟

ج… ریڈیو کی تلاوت عموماً جو ریڈیو پر نشر کرنے سے پہلے ٹیپ کرلی جاتی ہے، تلاوت کا حکم نہیں رکھتی، اس لئے اذان سن کر اسے فوراً بند کردینا چاہئے، یوں بھی اذان سن کر تلاوت بند کردینے کا حکم ہے۔

تکبیر کہنے والا شخص کہاں کھڑا ہو؟

س… اس مسئلہ پر روشنی ڈالی جائے کہ تکبیر کہنے والے شخص کو امام کے پیچھے کس جگہ اور کس صف میں کھڑا ہونا چاہئے؟

ج… شرعاً اس پر کوئی پابندی نہیں، جہاں چاہے کھڑا ہوسکتا ہے۔

جمعہ کی نماز میں مقتدی اگر بلند آواز سے تکبیر کہے تو؟

س… جمعہ کی نماز پڑھاتے وقت امام کے ساتھ موٴذّن کے ”اللہ اکبر“ کہنے کی کیا وجہ ہے؟ اور کوئی بھولے سے موٴذّن کے ساتھ ”اللہ اکبر“ کہہ دے تو کیا کفارہ ہے؟

ج… امام کی تکبیرات پچھلے لوگوں تک پہنچانے کے لئے موٴذّن بلند آواز سے تکبیر کہہ دیتا ہے، اگر کوئی دُوسرا آدمی بھی بلند آواز سے تکبیر کہہ دے تو اس سے کوئی کفارہ لازم نہیں آتا، نہ اس میں کوئی حرج ہے، مگر بغیر ضرورت کے مقتدیوں کو بلند آواز سے تکبیر نہیں کہنی چاہئے، تاکہ بلاوجہ تشویش نہ ہو، جن حضرات کو تکبیر کہنے کے لئے مقرّر کیا جائے انہی کو تکبیر کہنی چاہئے۔

اذان کے بعد نماز کے لئے آواز لگانا

س… ہمارے محلے میں فجر کی اذان کے بعد کچھ حضرات جماعت ہونے سے دس پندرہ منٹ قبل آواز لگاتے ہیں کہ جماعت کا وقت ہوگیا ہے، مسجد میں تشریف لے آئیں، نماز سونے سے بہتر ہے، وغیرہ، وغیرہ، پوچھنا یہ ہے کہ یہ الفاظ بعد اذان کے کہنا دُرست ہیں یا نہیں؟ کیا ایسے الفاظ اور آواز لگانے سے اذان کی اہمیت کم تو نہیں ہوتی؟ اور کیا اذان کی آواز مسجد میں بلانے کے لئے کافی نہیں؟

ج… اذان کے بعد لوگوں کو نماز کے لئے بلانا ”تثویب“ کہلاتا ہے، جمہور متقدمین کے نزدیک یہ نمازِ فجر کے علاوہ دُوسری نمازوں میں مکروہ ہے، لیکن متأخرین نے تمام نمازوں میں اس کو جائز بلکہ مستحسن قرار دیا ہے، کیونکہ لوگوں کے دین میں سستی اور کمزوری پیدا ہوگئی ہے، اس لئے ان کو نماز کی دعوت دینا اچھی بات ہے۔

اکیلے فرض پڑھنے کے لئے اقامت کا کہنا مستحب ہے

س… کیا فرض نماز اکیلے پڑھتے ہوئے بھی تکبیر کہنی چاہئے؟

ج… اگر گھر پر اکیلا نماز پڑھے تو اس کے لئے اقامت مستحب ہے۔

نفل نماز کے لئے اقامت

س… یہ بتائیے کہ اگر صبح نماز پڑھنے کے بعد اسی جائے نماز پر بیٹھے پڑھتے رہیں اور اِشراق پڑھیں تو اِشراق کی نماز کے لئے دوبارہ اقامت پڑھنا چاہئے یا نہیں؟

ج… نفلی نماز کے لئے اقامت نہیں ہوتی، اذان و اقامت صرف پنج وقتہ نمازوں اور جمعہ کے لئے ہے۔

کیا منیٰ میں ہر خیمے میں اذان دی جائے؟

س… دورانِ حج منیٰ میں ہر خیمے میں علیحدہ علیحدہ اذان اور جماعت ہوتی ہے، ایک دفعہ میں اپنے دوست کے خیمے میں گیا، عشاء کا وقت تھا، انہوں نے بغیر اذان کے جماعت کرادی، اور امامت مجھے کرانی پڑی، میں نے اذان نہ دینے کا سبب دریافت کیا تو انہوں نے یہ تأویل دی کہ چونکہ اذان کا مقصد وقت کا تعین ہوتا ہے اور وہ ہم ساتھ والے خیمے سے اذان سن کر کرلیتے ہیں۔ آپ یہ بتائیں کہ کیا اس طرح بغیر اذان کے باجماعت نماز ادا کرسکتے ہیں (یاد رہے کہ منیٰ میں تین دن رہنا پڑتا ہے اور پانچ نمازیں باجماعت روزانہ ادا کرنا پڑتی ہیں)، اور کسی اور جگہ کی اذان سن کر ہم اپنی علیحدہ جماعت کراسکتے ہیں بغیر اذان کی جماعت پر میرا امامت کرانا کیسا رہا؟

ج… اگر محلے کی مسجد میں اذان ہوگئی ہو تو بغیر اذان کے جماعت کراسکتے ہیں، صرف اقامت کہہ لینا کافی ہے، یہی حکم منیٰ کے خیموں میں ہونے والی جماعتوں کا ہے کہ جب برابر والے خیمے میں اذان ہوگئی تو دُوسرے خیمے میں اذان ضروری نہیں، صرف اقامت کافی ہے۔

عورت اذان کا جواب کب دے؟

س… کیا عورتوں کو بھی اذان کا جواب دینا چاہئے؟

ج… جی ہاں! مگر حیض و نفاس والی جواب نہ دیں۔

نوزائیدہ بچے کے کان میں اذان دینے کا طریقہ

س… نوزائیدہ بچے کے کان میں اذان دینے کا طریقہ کیا ہے؟ یعنی داہنے کان میں پوری اذان اور بائیں کان میں پوری اذان و اقامت کے ساتھ یا داہنے کان میں اذان اور صرف اقامت دو بار بائیں کان میں کہہ کر پھر داہنے کان میں اذان پوری کرے؟

ج… پہلے دائیں کان میں اذان کہی جائے، پھر بائیں میں اقامت، دائیں کان میں اذان اور بائیں میں اقامت ایک ہی بار کہی جاتی ہے، دو بار نہیں۔