منتخب خزینہ ضرب الامثال

جب عشق سکھاتا ہے آدابِ خود آگاہی
کھلتے ہیں غلاموں پر اسرارِ شہنشاہی
(اقبالؔ)

(۱) آنکھوں پر پلکوں کا بوجھ نہیں ہوتا۔
قریبی رشتہ دار ناگوار نہیں ہوتا۔
(۲) دلوں کی میل پیشانی پر آئے بغیر نہیں رہتی۔
تیوروں سے دلی کیفیت معلوم ہوتی ہے۔
(۳) سچی بات سعد اللہ کہے سب کے من اترا ہے۔
سچی بات سب کو بری معلوم ہوتی ہے۔
(۴) اونٹ مکے ہی کی طرف بھاگتا ہے۔
ہر شئے اپنی اصل ہی طرف رجوع کرتی ہے۔
(۵) اللہ میاں ہم تیرے …. مرنے کو اور بہتیرے۔
اپنی جان سب کو پیاری۔
(۶) رس دے مرے تو بس کیوں دے
راستی سے کام نکلے تو کجھی کی ضرورت نہیں۔
(۷) جور و خصم کی لڑائی دودھ کی لڑائی۔
ان کی شکر رنجی میں بھی لطف ہے۔
(۸) کمبختی جو آئے اونٹ چڑھے کتا کاٹے۔
بدقسمتی میں ناممکن بھی ممکن ہوجاتا ہے۔
(۹) مونگ مونگ میں چھوٹا بڑا کون ہے۔
برادری میں سب یکساں ہیں۔
(۱۰) ماں اچھی پسنہاری،
بات نہ اچھا ہفت ہزاری
ماں غریب بھی اولاد کو پال سکتی ہے اور باپ امیر ہوکر بھی خبر نہیں لے سکتا۔
(۱۱) نیا سپاہی ہرن کے سینگ اکھاڑے
بہت کار گذاری ظاہر کرتا ہے۔
(۱۲) گھر کی کھانڈ کر کری چوری کا گڑ میٹھا
مفت کا مال زیادہ پسندیہ ہوتا ہے۔
(۱۳) مایا تیرے تین نام: پرسو، پرسا، پرسا رام
دولت سے خواہ مخواہ مرتبہ بڑھتا ہے۔
(۱۴) نردھن تیرے تین نام: لچا، غنڈا، بے ایمان
مفلسی بے عیب کو عیب دار بنادیتی ہے۔
(۱۵) چندن کی چنکی بھلی گاڑی بھرا نہ کاٹھ
تھوڑی چیز اچھی، زیادہ خراب سے بہتر ہے۔
(۱۶) خون پانی سے زیادہ گاڑھا ہوتا ہے
غیر اتنی ہمدردی نہیں کرسکتے۔
(۱۷) جس کا پاپ اسی کا باپ
ظلم ضرور ظالم کے آگے آتا ہے۔
(۱۸) عورت کا شوہر مرد، مرد کا شوہر قرض
مطلب ظاہر ہے۔
(۱۹) تو کو نہ مو کو چولہے میں جھونکو
متنازعہ چیز رائیگاں جاتی ہے۔
(۲۰) بلاؤ گے تو کیا کھلاؤگے
آؤگے تو کیا لاؤ گے
ہر حالت میں اپنا ہی مطلب مد نظر رکھنا۔

(۲۱) تو دیورانی میں جٹھانی،
تیرے آگ نہ میرے پانی
دونوں مفلسی میں ہم پلہ ہیں۔
(۲۲) جو چوری کرتا ہے وہ موری بھی رکھتا ہے
ہر شخص انجام کی فکر پہلے کرلیتا ہے۔
(۲۳) اوچھے کو ملا تیتر بہر باندھوں یا بھیتر
کمینے ایسی ہی شیخیاں مارتے ہیں۔
(۲۴) گوشت گاؤ گاہ بگاہ،
گوشت ماہی ماہ بماہ
اور گوشت بُز شام و پگاہ
حفظان صحت کے مطابق نہایت مناسب وقفے ہیں۔
(۲۵) سانپ لمبا، گوہ چوڑی،
فرق نہ رہے ایک کوڑے
حساب برابر ہوجاتا ہے۔
(۲۶) خالی تھیلہ سیدھا نہیں کھڑا رہ سکتا
روپیہ کے بغیر دنیا کا کام نہیں چل سکتا۔
(۲۷) آئی صورت سے راضی رہ منہ سے اللہ اکبر کہہ
خوش اخلاقی بہترین عبادات سے ہے۔
(۲۸) نائی دا بید قصائی ان کی سو تک کبھی نہ جائی
ان کا کام ہمیشہ غلاظت ہی سے پڑتا ہے۔
(۲۹) ایک اور ایک دو نہیں بلکہ گیارہ ہوجاتے ہیں
اتفاق میں بڑی برکت ہے۔
(۳۰) سیاہ رنگ پر کوئی رنگ نہیں چڑھ سکتا
سیاہ دل آدمی پر وعظ کا اثر نہیں ہوتا۔
(۳۱) ایک کاف اور تین گاف کسی کو نہ دو
کاف کتاب اور گاف گھڑی، گھوڑا، گاڑی۔
(۳۲) ٹیکے والا بنیا، مال والا جٹ، کنڈی والا بھٹ، تینوں کا چور چوپٹ
تینوں خطرناک ہوتے ہیں۔
(۳۳) درزی کی سوئی کبھی ٹاٹ میں کبھی تاش میں
آدمی کو برا بھلا سب پیش آتا ہے۔
(۳۴) دیوانی بیوی، خالی گھر، من میں آئے سو کچھ کر
ہر طرح نقصان کا احتمال ہے۔
(۳۵) سائیں سے سچا رہ اور بندہ سے مست ہو،
بھاؤ چاہے لمبے کیس بڑھاؤ، چاہے مونڈ منڈاؤ
حقوق اللہ و حقوق العباد ادا کرتے جاؤ۔
(۳۶) راجہ جوگی اگن جل ان کی الٹی ریت
یہ کسی کے مطیع نہیں ہوتے، ان سے جتنا قرب اتنا ہی ضرر۔
(۳۷) رانڈ گیا سگائی کو آپ لائے یا بھائی کو
ایک کے کئی حاجت مند کس کس کو ملے۔
(۳۸) گدھے ہل چلائیں تو بیل کون خریدے
کمینوں سے کام چلیں تو شریفوں کی قدر کون کرے؟
(۳۹) زردار کا سودا ہے، بے زر کا خدا حافظ،
پردار تو اڑتے ہیں بے پر کا خدا حافظ
روپیہ سب مشکلات حل کرتا ہے۔
(۴۰) جس کے ہاتھ ڈوئی اس کا سب کوئی
کھانے کے سب یار ہیں۔

(۴۱) جس کی تیغ اس کی دیغ
زبردست ہر جگہ کامیاب ہے۔
(۴۲) پنڈت اور معلچی ان کی الٹی ریت
اوروں کو دیں چاندنی آپ اندھیرے بیج
خود را فصیحت دیگراں را نصیحت چراغ تلے اندھیرا۔
(۴۳) ذکر العیش نصف العیش
عیش کا ذکر بھی آدھا عیش ہے۔
(۴۴) جس کی زبان چلے اس کے ستر ہل چلیں
زبان دراز سب پر غالب آتا ہے۔
(۴۵) تم کاٹو ناک اور کان میں نہ چھوڑوں اپنی بان
کیسی ہی تکلیف دو میری عادت نہ جائے گی۔
(۴۶) ککڑی کے چور کو پھانسی نہیں دیتے
ادنی ٰ خطاء پر اتنی سخت سزاء نہیں ملتی۔
(۴۷) آیا تو نوش نہیں تو فراموش
توکل پر گذارہ ہے۔
(۴۸) کماؤ آئے دوڑتا ٹکھٹو آئے لڑتا۔
نالائق اور نکمّے اسی طرح دباؤ ڈالتے ہیں
(۴۹) مل گئی تو روزی نہیں تو روزہ
روزگار پر ہی سب کچھ منحصر ہے۔
(۵۰) فتح یا شکست خدا کے ہاتھ مار مار تو کئے جا
کوشش میں کمی نہ کرو جو ہونا ہے سو ہوکر رہے گا
(۵۱) جس کے پاس نہیں پیسہ وہ بھلا مانس کیسا
روپئے سے ہی عزت اور نیکی حاصل ہوتی ہے۔
(۵۲) باوا بھلا نہ بھیا سب سے بھلا روپیہ
مالدار کے سب دوست اور رشتہ دار ہیں۔
(۵۳) جہاں مرغ نہیں ہوتا
وہاں کیا صبح نہیں ہوتی
کوئی کام ہو کسی پر موقوف نہیں ہو ہی جاتا ہے۔
(۵۴) بات ہو چاہے اپنی پانی مانگ نہ پی
صبر سے ہی عزت حاصل ہوتی ہے۔
(۵۵) بارہ برس کے کوبید کیا
اٹھارہ برس کے کو قید کیا
خود صاحب فہم و صاحب اختیار ہوجاتا ہے۔
(۵۶) اوچھے کے گھر کھانا، جنم جنم کا طعنہ
کم ظرف کا ادنی ٰ سلوک عمر بھر کا طعنہ ہوتا ہے۔
(۵۷) معزول ہوکر معقول بنتے ہیں
مصیبت میں عقل ٹھکانے آجاتی ہے
(۵۸) سب بات کھوٹی پہلے والی روٹی
پیٹ کی فکر سب کاموں پر مقدم ہے۔
(۵۹) نیت کھوٹی رزق نہ روٹی
بدنیتی کا نتیجہ برا ہی ہوتا ہے۔
(۶۰) عقل بڑھے سوچ سے روٹی بڑھے لوچ سے
سوچ بچار سے عقل بڑھتی ہے۔
(۶۱) کنواری کو ارمان بیاہی پشیمان
کنواری کو ہوس کہ عیش کروں، بیاہی کو پچھتاوا۔
(۶۲) نہ دیکھ پرائی چوپڑی نہ للچائے جی
روکی سوکھی کھا ٹھنڈا پانی پی۔
(۶۳) کبھی ہیرے بھی پتھروں سے ٹوٹتے ہیں
سچ کبھی جھوٹ سے شکست نہیں کھاتا۔
(۶۴) نوکری نہ کیجئے میاں گھاس کھود کھائیے
اور جائیں آس پاس آپ دور جائیے
(۶۵) کبھی پکے گھڑے میں بھی مٹی لگی ہے
بڑی عمر میں نصیحت کم مؤثر ہوتی ہے۔
(۶۶) آم کی خواہش املی سے پوری نہیں ہوتی
غیر ضروری چیز سے ضرورت پوری نہیں ہوسکتی
(۶۷) جائے جس کا پوت
کاتے جس کا سوت
غیر اولاد اپنی نہیں ہوسکتی
(۶۸) بندھ گیا سو موتی رہ گیا سو کنکر یہ
جو کام بن گیا سو غنیمت۔
(۶۹) اونٹ بوڈھا ہوگیا پر موتنا نہ آیا
پیری میں بھی عقل نہ آئی۔
(۷۰) بھڑ جہاں جائے مونڈ منڈائے
غریب بد نصیب کو ہر جگہ خسارہ ہے۔
(۷۱) بھڑ کی لات کیا عورت کی بات کیا
وہ مضر نہیں یہ قابل اعتبار نہیں۔
(۷۲) مر ہے تو نر ہے ورنہ خر ہے
عزت سب زر سے ہے۔
(۷۳) صندل کی لکڑی کو نہیں جلاتے
ہنر مند کو کوئی تکلیف نہیں دیتا۔
(۷۴) دونوں جانو بڑے گیانی
عقل مند ہمیشہ اتفاق سے رہتے ہیں۔
(۷۵) عورت ایمان، بیٹا نشان، دولت گذران
بغیر عورت ایمان نامکمل، بغیر بیٹا نشان معدوم، اور بغیر دولت گذران مشکل۔
(۷۶) آگ جلتی ہے روٹیاں پکاکر،
عورت کماتی ہے قسم کھاکر
خاوند کی زندگی میں معمولی کام نہیں کرتی اور مرنے کے بعد چکی پیستی ہے۔
(۷۷) قبر کا حال مردے کو ہی معلوم ہے
دوسرے کے اندرونی حالات کی کس کو خبر ہے؟
(۷۸) تر ہوئی آنت بجنے لگی تانت
شکم سیر ہو تو راگ رنگ سوجھتا ہے۔
(۷۹) منہ لگائی ڈومنی کنبے سمیت آئی
اوچھے کو منہ لگانے کا یہی نتیجہ ہوتا ہے۔
(۸۰) جورو زور کی نہیں تو اور کی
عورت طاقت ہی سے قابو میں رہتی ہے۔

(۸۱) گڑ نہ دے تو گڑ کی سی بات کہے
دینے کو نہیں تو شیریں زبانی میں کیا خرچ ہوتا ہے!
(۸۲) نوکر سے کوکر بھا جو سووے اپنی نیند
نوکر سے کتا بھلا جو کسی کا پابند نہیں
(۸۳) جھگڑے کے تین در: زن، زمین، زر
تینوں باعث ضرر ہیں۔
(۸۴) چودھری ہو یا راؤ،
کام نہ آئے تو بھاڑ میں جاؤ
کوئی بڑے سے بڑا ہو کام نہ آئے تو نکمّا ہے۔
(۸۵) چلنا بھلا نہ کوس کا بیٹی بھلی نہ ایک،
دنیا بھلا نہ باپ کا مالک راکھے ٹیک
تینوں کا نتیجہ تکلیف ہے، مالک لاج رکھے۔
(۸۶) چاتر تو بیری بھلا مورکھ بھلا نہ دوست
نادان دوست سے دانا دشمن اچھا ہے۔
(۸۷) دم پکڑے بھیڑ کی وار ہوئے نہ پار
ضعیف سہارے سے مطلب حل نہیں ہوتا۔
(۸۸) ٹھنڈا لوہا گرم لوہے کو کاٹتا ہے
نرم مزاج آدمی تند مماج پر غالب آتا ہے۔
(۸۹) ذات پات نہ پوچھے کو ہر کو بھیجے سوہر کا ہو
خدا کو عبادت پسند ہے ذات سے تعلق نہیں۔
(۹۰) گاڑی پیل سرکاری یاروں کی ٹٹکاری
بے پرواہی سے پرایا کام کرنا۔
(۹۱) بے فیض سے مرغی بھلی جو انڈے دیوے تیس،
سالگرام سے چکی بھلی جو دنیا کھادے پیس۔
مطلب ظاہر ہے کہ سالگرام بت کا نام جو چکی جیسا گول ہوتا ہے۔
(۹۲) جس کا بنیا ہووے یار
اس کو دشمن کیا درکار
بنیا یار بن کر اور سودی قرض دے کر فقیر کردیتا ہے۔
(۹۳) پٹھان کو پوت گھڑی میں اولیا گھڑی میں پوت
جلدی متغیر ہوجاتا ہے اس کی دوستی و دشمنی کا کوئی اعتبار نہیں۔
(۹۴) گیدڑ کے کہنے سے بیر نہیں پکتے
امیدیں حسب مراد پوری نہیں ہوا کرتی ہیں۔
(۹۵) حمایتی گدھی عراقی گھوڑی کے لات مارتی ہے
مدد پاکر کمزور بھی بڑے کا مقابلہ کرتا ہے۔
(۹۶) خدا لگتی کوئی نہیں کہتا
منہ لگتی سب کہتے ہیں
حق بات کوئی نہیں کہتا خوشامد کی سب کہتے ہیں۔
(۹۷) بال ہٹ راج ہٹ تریاہٹ نہیں ٹلتے
بچہ راجہ اور عورت جس بات پر اڑجاتے ہیں کرکے چھوڑتے ہیں۔
(۹۸) یہ سنسار کال کا کھاجا
جیسے گدا ویسے راجا
موت ادنی ٰ و اعلیٰ سب کو فناء کردے گی۔
(۹۹) بھوکا سو روکھا
تنگ حالی میں خوش اخلاقی مشکل ہے۔
(۱۰۰) گہرے گھاؤ گہرا علاج
بڑی مصیبت زیادہ کوشش سے ہی رفع ہوتی ہے۔
(۱۰۱) طیش میں عیش کہاں
غصہ سے انسان ہمیشہ مبتلائے رنج ہوتا ہے۔
(۱۰۲) حرام کھانا اور شلغم
تھوڑی سی چیز پر ایمان کھودینا۔
(۱۰۳) خلق کا حلق کس نے پکڑا
زبان خلق سے کوئی محفوظ نہیں۔
(۱۰۴) گھی گرا تھالی نہ غصہ نہ گالی
در حقیقت کچھ نقصان نہیں ہوا۔