چغل خوری کی مذمّت

عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ))لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ قَتَّاتٌ( متفق عليه )

سیدنا حذیفہ بن الیمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ !ﷺ نے فرمایا : ’’چغل خور شخص جنت میں نہیں داخل ہوگا۔‘‘
یہ حدیث ان احادیث میں سے ہے جس میں ہمیں زبان کی آفتوں سے آگاہ کیا گیاہے۔ زبان کی آ فتیں بہت قسم کی ہیں۔زبان کی اُنہی آفتوں میں سے غیبت اور چغلی کرناہے۔ امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:اس بات کو جان لو کہ یہ دونوں عادتیں بہت بری چیزوں میں سے ہیں اور کثرت سے لوگوں کے مابین عام ہوتی ہیں، یہاں تک کہ ان سے بہت کم ہی لوگ محفوظ رہتےہیں۔‘‘
مذکورہ حدیث میں ہمارے نبی اکرم ﷺ نے ہمیں ایسی بری عادت اور عظیم گناہ سے منع فرمایا ہے۔ جو کبیرہ گناہ میں شمار کی جاتی ہے اور وہ نمیمہ چُغلی ہے۔قتات نمام کو کہتے ہیں، جس کا اردو ترجمہ چغل خور ہے۔ اور نبی اکرم ﷺ نے ہمیںخبردی ہے کہ چغل خور جنت میں نہیں داخل ہوگا ۔
اس حدیث مبارک میں نبی کریم ﷺ، چغل خوری یعنی لوگوں کے درمیان بگاڑ پیدا کرنے کے مقصد سے باتیں پھیلانا والے کو سخت ترین سزا کی وعید سنا رہے ہیں کہ وہ جنت میں داخل نہ ہوگا۔ یعنی ابتدائی طور پر ایسا شخص جنت میں نہ جائے گا، بلکہ اس سے قبل بقدر گناہ اس کو عذاب کا مزہ چکھایا جائےگا۔ اس حدیث سے اس بات کا پتہ چلتا ہے کہ یہ عمل کرنے والاکبیرہ گناہ کا مرتکب ہوگا۔
چغلی کیا ہے؟حضرتِ علامہ بدرالدین عینی علیہ رحمۃُ اللّٰہِ القوی نے’’بخاری شریف‘‘کی شرح میں نقل فرمایا کہ’’ کسی کی بات کودوسرے آدمی تک پہنچانے اور فساد پھیلانے کیلئے بیان کرناہے۔یعنی چغلی خوری کا عام فہم مطلب ہے : لگائی بجھائی کرنا، یعنی ایک کی بات دوسرے تک پہنچانا اور باہم اختلاف پیدا کرنا ہے۔‘‘
چغلی کا عذاب خاتَمُ الْمُرْسَلین، رَحمَۃٌ لِّلْعٰلمین صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:جھوٹ سے منہ کالا ہوتااور چغلی سے قبر کا عذاب ہوتا ہے۔(شعب الایمان،باب فی حفظ اللسان،۴/۲۰۸،حدیث:۴۸۱۳)
حضرت سیِّدُنا کعب الاحبار رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ روایت کرتے ہیں کہ ایک دفعہ حضرت سیِّدُنا موسیٰ کلیم اللّٰہ عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَـیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے زمانے میں سخت قحط پڑگیا۔ آپ عَلَـیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام بنی اسرائیل کی ہمراہی میں بارش کے لئے دعا مانگنے چلے لیکن بارش نہ ہوئی آپ عَلَـیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے تین دن تک یہی معمول رکھا لیکن بارش پھر بھی نہ ہوئی۔ پھر اللّٰہ تبارک وتعالیٰ کی طرف سے وحی نازل ہوئی کہ اے موسیٰ! میں تمہاری اور تمہارے ساتھ والوں کی دعا قبول نہیں کروں گا کیونکہ ان میں ایک چغل خور ہے۔ حضرت سیِّدُنا موسیٰ کلیم اللّٰہ عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَـیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نےعرض کی: ’’اے پروردگارعَزَّوَجَلَّ! وہ کون ہے تا کہ ہم اسے یہاں سے نکال دیں۔‘‘ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی طرف سے جواب ملا: ’’اے موسیٰ! میں تو بندوں کو اس سے روکتا ہوں۔‘‘ حضرت سیِّدُنا موسیٰ کلیم اللّٰہ عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَـیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے بنی اسرائیل کو حکم فرمایا کہ تم سب بارگاہِ رب العزت میں چغلی سے توبہ کرو۔ جب سب نے توبہ کی تواللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے انہیں بارش عطا فرمادی۔(احیاء علوم الدین،کتاب الاذکار والدعوات)
کسی دانا کا قول ہے :چغل خوری دلوں میں دشمنی پیدا کرتی ہے اور جس نے تمہاری چغلی کی بے شک اس نے تمہیں گالی دی اور جو تمہارے سامنے کسی کی چغلی کرتاہے وہ تمہاری بھی چغلی کر تا ہوگا چغل خورجس کے سامنے چغلی کر تا ہے اس کے لئے جھوٹ بولتاہے اور جس کی چغلی کرتاہے اس سے بد دیا نتی کرتا ہے ۔ایک مرتبہ ایک صاحب نے کسی اﷲ والے سے آکرکہا، حضرت فلاں آدمی آپ کوبُرابھلاکہہ رہاتھا،آپ سن کرخاموش ہوگئے،کچھ جواب نہیں دیا،جب مجلس ختم ہوگئی، توگھرتشریف لے گئے اورایک بہت بڑاتحفہ تیارکرکے اس برائی کرنے والے کے گھربھیج دیا،لوگوں نے کہاکہ حضرت وہ توآپ کوبُرابھلاکہہ رہاتھااورآپ نے اس کے پاس تحفہ بھیجاہے،انہوں نے جواب میں فرمایا:وہ تومیرے محسن ہیں ،اس لئے کہ اس نے بُرائی کرکے میری نیکیوں میں اضافہ کردیاہے،یہ اس کامجھ پراحسان تھاکہ آخرت میں میری نیکیاں بڑھادیں،تومیں نے دنیامیں اس کے بدلے میں ہدیہ بھیج دیا۔الغرض !کسی کی بات سن کر دوسرے سےاس طور پر کہہ دینا کہ دونوں میں اختلاف اورجھگڑا ہوجائےایسا کرنا چغلی کہلاتاہے۔افسوس صد افسوس!آج ہمارے معاشرےمیں یہ مرض تیزی کے ساتھ عام ہوتا جارہا ہے۔اس لیے ہر مسلمان مرد اور عورت پر ضروری ہے کہ وہ چغلی سے سختی کےساتھ خود بچے اور دوسروں کو بھی اس سے آگاہ رکھے، کیوں کہ یہ جنت سے محرومی اورعذاب قبرکے اسباب میں سے ایک سبب ہے۔ ہم اس سے اللہ تبارک وتعالیٰ کی پناہ چاہتے ہیں۔اللہ ہمیں اورآپ کو اچھے اخلاق اور نیک اعمال کی توفیق دے، برے اخلاق اور ناپسندیدہ اعمال سے بچائے، اور ہمیں اپنا سیدھا راستہ دکھائے، آمین یارب العٰلمین۔