وُضو کی ضرورت اور فضیلت

وُضو کی ضرورت اور فضیلت

عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ تَوَضَّأَ لِلصَّلَاةِ فَأَسْبَغَ الْوُضُوئَ ثُمَّ مَشَی إِلَی الصَّلَاةِ الْمَکْتُوبَةِ فَصَلَّاهَا مَعَ النَّاسِ أَوْ مَعَ الْجَمَاعَةِ أَوْ فِي الْمَسْجِدِ غَفَرَ اللَّهُ لَهُ ذُنُوبَهُ

حضرت عثمان سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ میں نے سنا رسول اللہ ﷺ فرماتے تھے جس نے نماز کے لئے پورا پورا وضو کیا پھر فرض نماز پڑھنے کے لئے چلا لوگوں کے ساتھ یا جماعت کے ساتھ یا مسجد میں نماز پڑھی اللہ اس کے گناہ معاف فرما دے گا۔ایک دوسری روایت میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ فرمایاکہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا کہ جو مسلمان فرض نماز کا وقت پائے اور اچھی طرح وضو کرے اور خشوع و خضوع سے نماز ادا کرے تو وہ نماز اس کے تمام پچھلے گناہوں کے لئے کفارہ ہوجائے گی بشرطیکہ اس سے کسی کبیرہ گناہ کا ارتکاب نہ ہوا ہو اور یہ سلسلہ ہمیشہ قائم رہے گا۔
رسول اللہ ﷺ فرماتے تھے:

مَنْ تَوَضَّأَ لِلصَّلَاةِ

جس نے نماز کے لئے پورا پورا وضو کیا

فَأَسْبَغَ الْوُضُوئَ ثُمَّ مَشَی إِلَی الصَّلَاةِ

پھر فرض نماز پڑھنے کے لئے چلا

الْمَکْتُوبَةِ فَصَلَّاهَا مَعَ النَّاسِ

لوگوں کے ساتھ یا جماعت کے ساتھ

أَوْ مَعَ الْجَمَاعَةِ أَوْ فِي الْمَسْجِدِ

یا مسجد میں نماز پڑھی

غَفَرَ اللَّهُ لَهُ ذُنُوبَهُ

اللہ تعالیٰ اس کے گناہ معاف فرما دے گا۔
ایک حدیث میںرسول ا للّٰہ ﷺ فرماتے ہیں کہ ۔مسلمان بندہ جب وُضو کرتا ہے تو کُلّی کرنے سے مونھ کے گناہ گر جاتے ہیں اور جب ناک میں پانی ڈال کر صاف کیا تو ناک کے گناہ نکل گئے اور جب مونھ دھویا تو اس کے چِہرہ کے گناہ نکلے یہاں تک کہ پلکوں کے نکلے اور جب ہاتھ دھوئے تو ہاتھوں کے گناہ نکلے یہاں تک کہ ہاتھوں کے ناخنوں سے نکلے اور جب سر کا مسح کیا تو سر کے گناہ نکلے یہاں تک کہ کانوں سے نکلے اور جب پاؤں دھوئے تو پاؤں کی خطائیں نکلیں یہاں تک کہ ناخنوں سے پھر اس کا مسجد کی طرف کو جانا اور نماز اس سے بھی زیادہ۔(بحوالہ نسائی)
یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ وضو افضل ترین عبادتوں میں سے ہے۔ اس حدیث میں وارد وضو کے فضائل میں سے ایک یہ ہے کہ جس نے وضو کی سنتوں اور اس کے آداب کا لحاظ رکھتے ہوئے خوب اچھی طرح وضو کیا، اس کے حقوق اللہ سے متعلق تمام چھوٹے گناہ نکل جاتے ہیں، یہاں تک کہ یہ گناہ ناخنوں کے نیچے موجود جسم کے باریک ترین حصوں سے بھی نکل جاتے ہیں ۔اسی لیے بندۂ مومن کو چاہیے کہ وہ اپنے وضو کے ذریعہ اللہ عز وجل کا تقرب حاصل کرنے کی نیت کرےاور ذہن میں یہ بات رکھے کہ اللّٰہ تعالیٰ فرماتا ہے۔

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِذَا قُمْتُمْ اِلَی الصَّلٰوۃِ فَاغْسِلُوۡا وُجُوۡہَکُمْ وَاَیۡدِیَکُمْ اِلَی الْمَرَافِقِ وَامْسَحُوۡا بِرُءُ وۡسِکُمْ وَ اَرْجُلَکُمْ اِلَی الْکَعْبَیۡنِ ؕ

(اے ایمان والو جب تم نماز پڑھنے کا ارادہ کرو تو اپنے مونھ اور کُہنیوں تک ہاتھوں کو دھوؤ،اور سروں کا مسح کرو اور ٹخنوں تک پاؤں دھوؤ۔)“ (سورہ مائدہ: 6)
یہ احساس بھی ہونا چاہیے کہ وہ اپنے وضو کے ذریعے رسول اللہ ﷺ کی اتباع و پیروی کررہا ہے اور اسے اس عمل کا ثواب عطا کیا جائے گا؛ تاکہ وہ اسے بہتر طور پر انجام دے سکے۔قرآن پاک اور احادیث میں بیان کئے گئے وضو کے فضائل پڑھنے کے بعد وضو کی اہمیت اور اس سے حاصل ہونے والے اجر و ثواب کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے اور جو شخص ہمیشہ باوضو رہتا ہے تو اللّٰہ تعالیٰ اسے سات خصلتوں کی عزت بخشتا ہے۔
1وضو کے آداب اور اس کی شرطوں کو سیکھنے اور ان پر عمل کرنے کی ترغیب۔ 2وضوکی فضیلت کا بیان اور

اس کا گناہوں کا کفارہ ہونا۔ 3گناہوں کے نکلنے کے لیے شرط یہ ہے کہ وضو بہتر طریقے کیا جائے اور اسے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق انجام دیا جائے۔ 4وضو کی شرطوں، اس کی سنتوں اور اس کے آداب کو سیکھنے کی طرف توجہ دینے اور ان پر عمل کرنے کی ترغیب۔5فرشتے انکے ساتھ رہنا پسند کرتے ہیں۔اعمال لکھنے والے فرشتے اسکا سارا وقت عبادت میں لکھتے رہتے ہیں۔6بدن کے تمام حصے تسبیح کرتے ہیں۔باجماعت نماز اسکی کبھی نہیں چھوٹتی۔7فرشتے اسکی حفاظت کرتے ہیں۔اللّٰہ تعالیٰ جان نکلنے کے وقت کی مشکل کو آسان فرماتا ہے۔جب تک وضو رہے اللّٰہ تعالیٰ کی امان میں رہتا ہے۔
معاشرے میں رہتے ہوئے ہرانسان اور خاص طورپر مسلمان پر لازم ہے کہ وہ اسلامی تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے انچیزوں میں خاص طور پر پاكيزگی، صفائی اور ستھرائی کا خیال رکھے:
1 سب سے پہلے انسان اپنی ذات اور اپنے کپڑوں وغیرہ کو صاف رکھے، جس میں درج ذیل چیزوں کا اہتمام کرے:2وضو کرتے وقت مسواک اور ہو سکے تو دن میں ایک آدھ بار ٹوتھ پیسٹ بھی استعمال کیا جائے، نیز روزانہ یا کم از کم دو تین دن کے بعد غسل کیا جائے۔3 ہر ہفتے یا کم از کم چالیس دن گزرنے سے پہلے پہلے جسم پر موجود زائد بالوں کی صفائی کی جائے، ڈاڑھی اور سر کے بالوں کو بھی وقتا فوقتاً درست رکھنے کا اہتمام کیا جائے اور تیل لگانے کی بھی عادت ڈالی جائے۔4سنت پر عمل کرتے ہوئے ہفتہ یا پندرہ دن کے بعد ناخن کاٹنے کا خاص اہتمام کیا جائے، کیونکہ ناخن بڑھنے پر ان میں مٹی اور میل جم جاتی ہے، جس سے بیماریاں پھیلتی ہیں۔5 صاف ستھرے کپڑے پہننے چاہیئں، خصوصاً جب کسی مجلس میں شرکت یا نماز کے لیے جانا ہو تو صاف دھلے ہوئے کپڑے اور خوشبو کا خاص طور پر اہتمام کرنا چاہیے، تاکہ اس کی وجہ سے کسی دوسرے شخص کو تکلیف نہ ہو۔