مومن کو لعن طعن کرنا

عَنْ ثَابِتِ بْنِ الضَّحَّاكِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ))لَعْنُ الْمُؤْمِنِ كَقَتْلِهِ(( متفق عليه .

سیدنا ثابت بن ضحاک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ !ﷺ نے فرمایا : ’’مومن پر لعنت کرنا اُسےقتل کرنےکے مترادف ہے۔‘‘(متفق علیہ)
لعنت کرنا ایک عظیم گناہ اور بڑی معصیت کا کام ہے۔ بے شک ہمارے نبی کریمﷺ نے ہمیں لعن طعن کرنے سے ڈرایا ہے اور بہت ساری احادیث میں ہمیں اس سے روکا ہے او ر اُنہی احادیث میں سے یہ حدیث بھی ہے، جس میں نبی ﷺ نےفرمایا ہے کہ :’’مومن پر لعنت کرنا اُسے قتل کرنے کے مترادف ہے۔
نبی کریم ﷺ کایہ فرمان بھی ہے کہ : ’’تم اللہ کی لعنت اور اس کے غضب کے ذریعہ آپس میں ایک دوسرے کو لعنت نہ کرو۔‘‘ اسے ترمذی نے روایت کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
نبی کریمﷺ نے یہ بتلایا ہے کہ : ’’جب آدمی کسی شخص پر ناحق لعنت بھیجتا ہے تو ایسی صورت میں وہ لعنت اس پر واپس آجاتی ہے۔‘‘یعنی وہ لعنت اس کے کہنے والے پر لوٹ جاتی ہے۔ اسے ابوداؤد نے اپنی سنن میں حسن سند سے روایت کیا ہے۔اور طبرانی رحمہ اللہ نے سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے جید سند کے ساتھ روایت کیاہے کہ انھوں نے فرمایا : ’’جب ہم کسی شخص کو اپنے بھائی پر لعنت کرتے دیکھتے تو ہم اسےکبائر کا ارتکار ب کرنے والاسمجھتے۔‘‘
لعن سے مراد ہے کسی کو اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دوری کی بددعا کرنا، احادیث مبارک میں لعنت طعن کرنے سے ممانعت وارد ہوئی ہے، حضرت سمرہ بن جندب رضی عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:’’ آپس میں ایک دوسرے پر اللہ کی لعنت، غضب اور دوزخ کی پھٹکار نہ بھیجو۔‘‘
اسی طرح حضرت عبداللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:’’طعن کرنے والا، کسی پر لعنت بھیجنے والا، فحش گوئی کرنے والا اور بدتمیزی کرنے والا مومن نہیں ہے۔ (یعنی مسلمان کی یہ صفت نہیں ہے)۔‘‘
یہ ممنوعیت خاص اور معین اشخاص کے اعتبار سے ہے، پس عام اوصافِ مذمومہ سے لعنت بھیجنا جائزہے۔متعین کیے بغیر اہل معاصی پر لعنت بھیجنا جائز ہے۔جیساکہ آپﷺ نے فرمایا:اللہ سود خور پر لعنت فرمائے۔ اور آپﷺ نے تصویر بنانے والے پر لعنت فرمائی۔ اور آپﷺ نے فرمایا:اللہ تعالیٰ زمین کی حدود میں رد و بدل کرنے والے پر لعنت فرمائے۔ اور آپ ﷺنے فرمایا:اللہ تعالیٰ اس شخص پر لعنت کرے جو اپنے والدین پر لعنت بھیجتا ہے۔ اور آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ اس شخص پر لعنت فرمائے جو اللہ کے علاوہ کسی اور کیلئے جانور ذبح کرے۔ اور آپ ﷺنے فرمایا: جس شخص نے اس (مدینے) میں کوئی بدعت ایجاد کی یا کسی بدعتی کو پناہ دی ،پس اس پر اللہ کی، فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی لعنت ہو۔ اور آپ ﷺنے فرمایا: اللہ تعالیٰ یہودیوں پر لعنت فرمائے۔انھوں نے اپنے انبیا ؑ کی قبروں کو عبادت گاہ بنا لیا۔ اور آپ نے ان مردوں پر لعنت کی جو عورتوں سے مشابہت اختیار کرتے ہیں اور عورتوں پر لعنت کی جو مردوں سے مشابہت اختیار کرتی ہیں۔ یہ تمام جملے جو مذکور ہوئے ہیں صحیح احادیث میں ہیں ،ان میں سے بعض تو صحیح بخاری اور صحیح مسلم دونوں میں ہیں اور بعض کسی ایک میں ہیں ، میں نے ان کی طرف اشارہ کرنے میں اختصار سے کام لیا ہے۔
یعنی دین اسلام کسی معین کافر کو بھی گالی گلوچ اور لعن طعن کرنے سے منع کرتا ہے ۔اس سے ثابت ہوا کہ عام طور پر کسی خاص گروہ پر لعنت بھیجنا جائز ہے مگر اللہ اور رسول ﷺ سے محبت رکھنے والے کسی معین شخص پر لعنت کرنا جائز نہیں۔چوں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت کو عام کردیا ہے دنیا میں تو کافر مسلمان ، دوست اور دشمن سب کے لیے اللہ تعالیٰ کی رحمت عام ہے، پس مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ لعنت سے بددعا دینے کی عادت بنالے اور متعینہ افراد کو لعنت سے بدعا دینے لگے اور البتہ مطلقا لعنت کا جواز موجود ہے لیکن وہ بھی صرف جواز ہے ۔ اور اسے عادت بنا لینا ممنوع و ناجائز ہے ۔نہایت ہی افسوس اور تکلیف دہ بات ہے کہ بہت سارے مسلمانوں کے درمیان لعنت کرنا عام ہے۔اس لیے ہم سب پر واجب ہے کہ ہم سب لعن طعن سے اجتناب کریں، خود بھی اس سےبچیں اور دوسروں کو بھی اس سے بچنے کی سختی کے ساتھ تلقین کریں۔