طلبِ عافیت! سب سے بہتر اور جامع دعا

’عَنِ العَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رضی اللہ عنہ ، قَالَ: قُلْتُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! عَلِّمْنِی شَیْئًا أَسْأَلُہُ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ، قَالَ: سَلِ اللّٰہَ العَافِیَۃَ، فَمَکَثْتُ أَیَّامًا ثُمَّ جِئْتُ فَقُلْتُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! عَلِّمْنِيْ شَیْئًا أَسْأَلُہُ اللّٰہَ، فَقَالَ لِیْ: یَا عَبَّاسُ! یَا عَمَّ رَسُوْلِ اللّٰہِ! سَلِ اللّٰہَ العَافِیَۃَ فِيْ الدُّنْیَا وَالْآخِرَۃِ۔‘‘(ترمذی، ابواب الدعوات، ج:۲، ص:۱۹۱، ط:قدیمی)

’’حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ،ارشاد فرماتے ہیں کہ :میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ ! مجھے ایسی چیز بتائیے جو میں اللہ تعالیٰ سے مانگوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اللہ سے عافیت مانگو۔ میں کچھ دن ٹھہرارہااور پھردوبارہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں گیا اورمیں نے کہا : یا رسول اللہ ! مجھے ایسی چیز بتائیے جو میں اللہ تعالیٰ سے مانگوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے کہا : اے عباس! اے رسول اللہ کے چچا! اللہ سے دنیا وآخرت میں عافیت مانگا کرو۔‘‘
اب سوال یہ ہے کہ عافیت کے معنی کیا ہیں؟ جس کے مانگنے کا حکم دیا گیا ہے۔خیر وعافیت کا مطلب آزمائش وتکلیف کا ختم ہونا، برے انجام والے امور سے بچنا اور ہر بیمار ی سے شفا یاب ہونا ہے، اور تندرستی وصحت کو بھی عافیت کہا جاتا ہے۔عربی لغت میں عافیت اسم ہے اور یہ عفو سے نکلا ہے۔ اس کا مطلب مکمل صحت ہے اور اس کی مختلف قسمیں ہیں۔ دین کے معاملے میں عافیت سے مراد گناہوں اور بدعات جیسے امور سے بچنا اور اطاعت میں کاہلی سے چھٹکارا ہے۔ دنیا کے معاملے میں عافیت سے مراد اس کے شر اور مصائب سے اللہ کی پناہ میں آنا ہے۔ خاندان کے معاملے میں عافیت سے مراد مرض و بیماری اور گناہوں کی زیادتی سے سلامتی ہے، جب کہ مالی عافیت سے مراد نت نئی مالی آفتوں سے بچنا ہے۔عافیت کی ان تمام قسموں میں دینی عافیت انسان کے لیے سب سے نفع بخش ہے کیونکہ یہ اتنی معتبر ہے کہ اس کے مثل دنیا میں کلمہ اخلاص کے بعد کوئی نعمت نہیں۔ یہ نہ صرف بندے کے ایمان کو قائم رکھتی ہے بلکہ اللہ کی پکڑ سے بھی بچاتی ہے۔ اگر انسان کو سب عافیتوں میں سے کسی عافیت کو چننا پڑے تو دین کی عافیت کے مقابل کسی عافیت کو نہ پائے گا، جو نہ صرف اللہ کی پکڑ سے بچاتی ہے بلکہ بندوں کے شر سے بھی محفوظ رکھتی ہے۔
عافیت کی قسموں میں بدنی عافیت بھی شامل ہے، کیونکہ یہ انسان کی زندگی ہی ہے جس کی وجہ سے انسان احسن طریقے سے عبادت کرسکتا ہے، اور اپنے دیگر امور کے لیے بھی اقدامات و جدوجہد کرسکتا ہے۔ اسی طرح اس میں خاندان کی عافیت بھی شامل ہے تاکہ اللہ ان کے دین، اخلاق، صحت، احوال، رزق، مال اور دیگر دنیاوی نعمتوں میں برکت ڈالے۔عافیت بہت بڑی چیز ہے،بہت اونچی نعمت ہے، اور عافیت کے مقابلے میں دنیاکی ساری دولتیں ہیچ ہیں، کوئی حیثیت ہی نہیں رکھتیں۔ نیز وہ فرماتے تھے کہ: عافیت دل ودماغ کے سکون کو کہتے ہیں، اور یہ سکون اللہ تعالیٰ کی طرف سے حاصل ہوتاہے۔یہ دولت اللہ تعالیٰ بغیر کسی سبب اور استحقاق کے عطا فرماتے ہیں۔ عافیت کوئی آدمی خرید نہیں سکتا، نہ روپیہ پیسے سے عافیت خریدی جاسکتی ہے، نہ سرمایہ سے اور نہ ہی منصب سے کوئی عافیت حاصل کرسکتا ہے۔ عافیت کا خزانہ صرف اور صرف خدا تعالیٰ کے پاس ہے، اس کی ذات کے سوا کوئی عافیت نہیں دے سکتا۔‘‘
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خود بھی بڑی کثرت سے رب العالمین سے عافیت کی دعا مانگا کرتے تھے، احادیثِ مبارکہ میں مختلف الفاظ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے عافیت کی دعائیں مانگنا منقول ہے، ،چنانچہ ابوداؤد شریف اور دیگرحدیث کی کتابوں میں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے یہ روایت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم صبح وشام نہایت پابندی سے ان الفاظ کے ذریعہ دعا مانگتے:’’

اَللّٰہُمَّ إِنِّيْ أَسْأَلُکَ الْعَافِیَۃَ فِيْ الدُّنْیَا وَالْأٰخِرَۃِ اَللّٰہُمَّ إِنِّيْ أَسْأَلُکَ الْعَفْوَ وَالْعَافِیَۃَ فِيْ دِیْنِيْ وَدُنْیَايَ وَأَہْلِيْ وَمَالِيْ اَللّٰہُمَّ اسْتُرْ عَوْرَتِيْ۔‘‘ ب

ہتر تو یہی ہے کہ یہ پوری دعا یاد کی جائے اور صبح و شام اس کے پڑھنے کو معمول بنایا جائے، تاہم مکمل یاد نہ ہوتو کم ازکم ’’ اللّٰہُمَّ إِنِّيْ أَسْأَلُکَ الْعَافِیَۃَ فِيْ الدُّنْیَا وَالْأٰخِرَۃِ۔‘‘ ۔۔۔۔۔ ’’اے اللہ! میں آپ سے دنیاوآخرت کی عافیت طلب کرتا ہوں۔‘‘ نہایت ہی مختصر سے الفاظ ہیں، ان الفاظ کے ساتھ اس دعا کو یاد کرلینا چاہیے، اور اگر عربی الفاظ یاد نہ ہوں تو اُردو میں یہ دعا مانگ لیا کریں۔ یہ دعااللہ رب العزت کو بڑی پسند ہے، بندے اپنے پروردگار سے عافیت مانگتے رہیں، اللہ تعالیٰ اس مانگنے کو سب سے زیادہ پسند فرماتے ہیں۔لہٰذا ہم ہر لحاظ سے اللہ تعالیٰ سے عافیت مانگتے رہیں، اپنی ذات کے لحاظ سے بھی، اپنے اہل وعیال کے لحاظ سے بھی، دنیاوی واخروی زندگی کے لحاظ سے بھی۔اس لیے انسان کثرتِ مال واسباب کے بجائے اپنے رب سے عافیت اور سکون مانگے، عافیت اور سکون میسر ہو تو تھوڑا بہت بھی کافی ہوجاتا ہے اور انسان کی زندگی پُرسکون گزرتی ہے، ورنہ ساری دولت کے موجود ہوتے ہوئے انسان اس سے کچھ فائدہ نہیں اُٹھاسکتا، وہ انسان کے کسی کام کی نہیں۔ اس لیے بعض بزرگوں کا یہ قول کتابوں میں منقول ہے کہ: ’’القلیل مع العافیۃ خیر من الکثیر مع القوارع۔‘‘ ۔۔۔۔۔’’ عافیت کے ساتھ تھوڑا مال اُس زیادہ مال سے بہتر ہے جو مصیبتوں کے ساتھ ہو۔‘‘ البتہ انسان کی لالچ، طمع کے بغیر اگر اللہ تعالیٰ کچھ عطا فرمادیں تو وہ اللہ کی نعمت ہے، انسان پھر اس کا حق ادا کرے۔جی ہاں ! اللّٰہ تعالیٰ سے توبہ واستغفار کے ساتھ ساتھ عافیت کی دعا بھی مانگنی چاہیے، بلکہ اس دعا کی رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ترغیب دی ہے، کیونکہ دنیا وآخرت کی عافیت میں ساری خیریں اور بھلائیاں پوشیدہ ہیں، لہذا عافیت کی دعا نہایت جامع دعا ہے، اس کا اہتمام کرنا چاہیے۔