صفر کے مہینے کو منحوس سمجھنا

عن أبی ھریرۃ رضی اللّٰہ عنہ قال: قال النبی ا :لا عَدْوَیٰ ولا صَفَرَ ولا هَامَةَ.

سیدناحضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: چھوت چھات (بیماری کا دوسرے سے لگنے کا وہم)اور اُلو (کو منحوس سمجھنے)اور صفر (کے مہینہ کو منحوس سمجھنے) کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔ (صحیح البخاری،کتاب الطب،باب الھامۃ، رقم الحدیث: ۵۷۷۰، المکتبۃ السلفیۃ)
اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بڑے واضح انداز میں تو ہم پرستی، چھوت چھات اور صفر کے مہینے کو منحوس سمجھنے کی نفی فرمائی ہے، لہذا کسی وقت اور زمانے میں کوئی نحوست اور برائی نہیں ہے۔
ذات باری تعالیٰ حقیقی متصرف اور مسبب الاسباب ہے۔ ظاہری اسباب میں اثرانگیزی پیدا کرنے والی ذات بھی وہی ہے۔ کسی چیز، دن یا مہینے کو منحوس سمجھنا اور اس میں کام کرنے کو بُرے انجام کا سبب قرار دینا غلط، بدشگونی، توہم پرستی اور قابل مذمت ہے۔ اللہ تعالیٰ کی مشیت کے بغیر کوئی بھی چیز انسان کو نقصان نہیں پہنچا سکتی۔ نفع و نقصان کا اختیار سو فیصد اللہ کی ذات کے پاس ہے۔ جب وہ خیر پہنچانا چاہے تو کوئی شر نہیں پہنچا سکتا اور اگر وہ کوئی مصیبت نازل کر دے تو کوئی اس سے رہائی نہیں دے سکتا۔
آج کل مسلمانوں میں بھی اسلامی تعلیمات کی کمی کی وجہ سے تو ہم پرستی بہت زیادہ ذہنوں میں راسخ ہو چکی ہے، جس کی وجہ سے لوگ صفر کے مہینے کو منحوس سمجھتے ہیں۔اسلامی سال کا دوسرا مہینہ ’’صَفَرُ المُظَفَّر‘‘شروع ہو چکا ہے،یہ مہینہ انسانیت میں زمانۂ جاہلیت میں منحوس، آسمانوں سے بلائیں اترنے والا اور آفتیں نازل ہونے والا مہینہ سمجھا جاتا تھا۔زمانۂ جاہلیت کے لوگ اس ماہ میں خوشی کی تقریبات (شادی، بیاہ اور ختنہ وغیرہ )قائم کرنا منحوس سمجھتے تھے۔ اور قابلِ افسوس امر یہ ہے کہ یہی نظریہ نسل در نسل آج تک چلا آرہا ہے۔بعض لوگ صفر کے مہینے میں شادی بیاہ اور خوشی کی تقریبات منعقد نہیں کرتے، اور اعتقاد رکھتے ہیں کہ صفر میں کی ہوئی شادی صِفر (زیرو) اور ناکام ہوجاتی ہے، اور ربیع الاول کے مہینہ سے اپنی تقریبات شروع کر دیتے ہیں، اس کی وجہ بھی یہی ہے کہ صفر کے مہینے کو نامبارک اور منحوس سمجھا جاتا ہے۔اس خیال کے باطل ہونے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ نکاح ایک اہم عبادت ہے، جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور تمام انبیاء علیہم السلام کی سنت اور طریقہ ہے، نکاح کے ذریعہ سے آدمی بدنظری سے بچ جاتا ہے اور شرمگاہ کی حفاظت ہوجاتی ہے، اور حدیث شریف میں ہے کہ “بندہ نکاح کرکے اپنا آدھا دین محفوظ کر لیتا ہے‘‘۔سوچنے کی بات ہے کہ جب نکاح اتنی اہم عبادت ہے، تو اس سے کیسے منع کیاجاسکتا ہے؟لہذا اس مہینہ میں بھی نکاح کی عبادت کو انجام دینا چاہیے، تاکہ ایک باطل اور غلط عقیدہ کی تردید ہو، اور صفر میں نکاح کے جائز اور عبادت کے مٹ جانے کو زندہ کیا جاسکے۔
نحوست کی اصل وجہ زمانہ وغیرہ نہیں ہے، نہ کوئی دن منحوس ہے اور نہ کوئی مہینہ، بلکہ نحوست کی اصل وجہ انسان کے اپنے برے اعمال ہیں، جیسا کہ سورۃ الشوریٰ میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

وَمَا أَصَابَكُم مِّن مُّصِيبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ أَيْدِيكُمْ وَيَعْفُواْ عَن كَثِيرٍ.

اور جو مصیبت بھی تم کو پہنچتی ہے تو اُس (بد اعمالی) کے سبب سے ہی (پہنچتی ہے) جو تمہارے ہاتھوں نے کمائی ہوتی ہے حالانکہ بہت سی(کوتاہیوں) سے تو وہ درگزر بھی فرما دیتا ہے۔
اس لیے ماہِ صفر میں بلائیں اور آفات اترنے اور جنات کے نزول کا عقیدہ من گھڑت ہے۔ اللہ تعالیٰ کی تقدیر و تاثیر میں زمانے کو کوئی دخل نہیں، اس لیے ماہِ صفر بھی دیگر مہینوں کی طرح ایک مہینہ ہے۔ اگر ایک شخص اس مہینہ میں احکامِ شرع کا پابند رہتا ہے، ذکر اذکار کرتا ہے، حلال و حرام کی تمیز رکھتا ہے، نیکیاں کرتا اور گناہوں سے بچتا ہے تو یقیناً یہ مہینہ اس کے لیے مبارک ہے، اور دوسرا شخص اس مہینے میں گناہ کرتا ہے، جائز و ناجائز اور حرام و حلال کی تمیز مٹاتا ہے، حدود اللہ کو پامال کرتا ہے تو اس کی بربادی کے لئے اس کے اپنے گناہوں کی نحوست ہی کافی ہے‘ اپنی شامتِ اعمال کو ماہِ صفر پر ڈالنا نری جہالت ہے۔
قرآن وحدیث واضح ہوتا ہے کہ کوئی وَقْت، دن اور مہینہ بَرَکت و عظمت اور فضل والا تو ہوسکتا ہے، مگر کوئی مہینہ یا دن منحوس نہیں ہوسکتا۔ کسی دن کو نحوست کے ساتھ خاص کردینا درست نہیں، اس لیے کہ تمام دن اللہ نے پیدا کیے ہیں اور انسان ان دنوں میں افعال و اعمال کرتا ہے، سو ہر وہ دن مبارک ہے جس میں اللہ کی اطاعت کی جائے اور ہروہ زمانہ انسان پر منحوس ہے جس میں وہ اللہ کی نافرمانی کرے۔ اللہ کی معصیت اور گناہوں کی کثرت اللہ کو ناراض کرنے کاسبب ہے تو گناہ فی نفسہ منحوس ہے، کیونکہ گناہ کے سبب گنہگار اللہ کی امان سے نکل جاتا ہے اور دنیا و آخرت کے مصائب میں گِھر جاتا ہے۔ درحقیقت اصل نُحوست گناہوں اور بداعمالیوں میں ہے۔
لہٰذا ہم سب کی ذمہ داری بنتی ہے کہ ہم خود بھی اس طرح کے توہمات و منکرات سے بچیں اور حتیٰ الوسع دوسروں کو بھی اس طرح کی خرافات سے بچانے کی کوشش کریں۔