سجدہ قربِ الٰہی کا باعث ہے

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ))أَقْرَبُ مَا يَكُونُ الْعَبْدُ مِنْ رَبِّهِ وَهُوَ سَاجِدٌ، فَأَكْثِرُوا الدُّعَاءَ۔(رواه مسلم )

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ !ﷺ نےفرمایا : ’’بندہ اپنے رب سے سب سے زیادہ قریب سجدہ کی حالت میں ہوتاہے، لہذا تم )اس میں( کثرت سے دعا کیاکرو۔‘‘ (اس حدیث کو مسلم نے روایت کیا ہے)
اللہ عزوجل نے اپنے بندوں کو مختلف قسم کی نیکیوں اور طاعات کے ذریعہ اپنا تقرب حاصل کرنے کا حکم دیا ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سے قریب کرنے والے اعمال میں سب سے بڑاعمل نماز کو فرائض ونوافل کے ساتھ ادا کرنا ہے۔ جب مسلمان اپنی نماز میں داخل ہوتا ہے تو وہ اللہ تعالیٰ سے قریب ہوتا ہے۔
عبادۃ بن صامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انھوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا : ”جب بھی کوئی بندہ اللہ کے لیے سجدہ کرتا ہے، اللہ تعالی اس کے لیے ایک نیکی لکھ دیتے ہیں، اس کا ایک گناہ مٹا دیتے ہیں اور ایک درجہ بلند کردیتے ہیں۔ چنانچہ تم سجدوں کی کثرت کیا کرو“۔ اللہ تعالی کے لیے سجدہ کرنا افضل ترین طاعت اور اللہ کے تقرب کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔ کیوںکہ اس میں اللہ کے لیے انتہا درجے کا تواضع اور عبودیت ہوتی ہے اور اس میں انسان کے سب سے زیادہ باشرف اور سب سے اعلی عضو یعنی اس کے چہرے کو روندی جانے والی حقیر مٹی پر رکھا جاتاہے۔ سجدے سے مراد یہاں وہ سجدے ہیں جو نماز میں آتے ہیں، نہ کہ الگ سے سجدے۔ الگ سے سجدہ کرنا جائز نہیں ہے۔ کیوںکہ اس کی مشروعیت پر کوئی دلیل نہیں پائی جاتی۔ عبادات میں اصل ممانعت ہے۔ البتہ اس سے وہ سجدے مستثنی ہیں، جو کسی سبب کی وجہ سے ہوتے ہیں، جیسے سجدۂ تلاوت یا سجدۂ شکر۔ کیوںکہ شریعت میں ان کا ذکر ہے۔ پھر آپ ﷺ نے وضاحت کی کہ جب انسان سجدہ کرتا ہے، تو اسے کیا اجر ملتاہے اور وہ یہ ہے کہ اسے دو بہت بڑے فائدے حاصل ہوتے ہیں۔ پہلا فائدۃ: اللہ تعالی اس کی وجہ سے اس کا ایک درجہ بلند کردیتے ہیں۔ یعنی خود اللہ کے یہاں اور لوگوں کے دلوں میں اس کی منزلت بڑھ جاتی ہے ۔ آپ جب کوئی نیک عمل کرتے ہیں، تو اس میں بھی یہی ہوتاہے کہ اس کی وجہ سے اللہ تعالی آپ کا ایک درجہ بڑھا دیتے ہیں۔ دوسرا فائدۃ: اللہ تعالی اس کی وجہ سے آپ کا ایک گناہ معاف کردیتے ہیں۔ ناپسندیدہ اشیا کے زائل ہونے اور محبوب اشیا کے حصول سے انسان کو کمال حاصل ہوتاہے۔ رفع درجات کو انسان پسند کرتاہے اور گناہوں سے نفرت کرتا ہے۔ چنانچہ جب اس کا ایک درجہ بڑھتا ہے اور ایک گناہ معاف ہوتا ہے، تو اسے اپنا مطلوب مل جاتاہے اور جس بات کا اسے ڈر ہوتاہے، اس سے اس کی نجات ہوجاتی ہے ۔
پوری نماز بندۂ مومن کو اللہ سے قریب کرتی ہے، مگراسی کے ساتھ سجدہ کے دوران بندہ اللہ سے قربت کی سب سے بڑھ کر حالت میں ہوتا ہے، اس لیے کہ بندہ سجدہ میں اپنے رب کے سامنے جھکتاہے اور اس کی تسبیح وتقدیس کرتا ہے اور وہ خشو ع وعاجزی اور محتاجی کی حالت میں اپنے رب کو پکارنے والاہوتا ہے۔
اسی لیے سجدے یقینی طور پر دعا کی قبولیت کے مقامات میں سے ہیں۔ جیسا کہ نبیﷺ نے صحیح مسلم کی روایت کردہ ایک دوسری حدیث میں فرمایا : ’’سجدہ کی حالت میںخوب دعاکرو کیونکہ یہ اس بات کے زیادہ لائق ہے کہ تمہاری دعا قبول کرلی جائے۔
اس لیے سجدہ کو لمبا کرنا مستحب ہے۔، سجدہ کی حالت میں کثرت سے دعا کا اہتمام کرنا چاہیے، کیوں کہ سجد ے اور دعائیں ، دنیا اور خرت میں کامیابی اور بھلائی کے عظیم ترین اسباب میں سے ہےسیدنا ابوہریرہؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اقدسؐ نے فرمایا: ’’دراصل بندہ سجدے کی حالت میں اپنے رب سے بہت نزدیک ہوتا ہے، لہٰذا (سجدے میں) بہت دعا کرو‘‘ (مسلم)
عبدیت کی انتہاء کا نام ہےجس انتہاء پر قرب خداوندی جیسی انمول نعمت نصیب ہوتی ہے۔ چنانچہ قرآن کریم میں ہے :وَاسْجُدْ وَاقْتَرِبْ۔ سجدہ کیجیے اور قرب خداوندی کو حاصل کیجیے۔
سجدہ کرنا عبدیت اور سجدہ نہ کرنا ابلیسیت اور تکبر کی علامت ہے۔ خالق کے حکم کے مطابق سجدہ کرنا ملائکہ کا شیوہ ہے جبکہ خالق کے حکم سے دور ہو کر سجدہ نہ کرنا شیطانی طرز ہے۔ اسی سے فرمانبردار اور نافرمان میں فرق ہو جاتا ہے۔ اللہ کریم کی بارگاہ میں سجدے کرنے والے فرمانبردار اور حکم خداوندی کو پس پشت ڈال کر سجدہ نہ کرنے والے شیطان کے پیروکار ہیں۔سجدہ قرب الٰہی کا باعث ہے۔اللہ تعالیٰ جل شانہٗ تو بندے سے ہرحال میں نزدیک ہوتا ہے ،لیکن سجدے کی حالت میں بندہ اس کے بہت نزدیک ہوجاتا ہے۔سجدہ قرب الٰہی اور جنت میں جانے کا ذریعہ ہے۔سجدوں کی کثرت بہشت میں نبی کریمﷺ کی رفاقت کا باعث ہے۔