دو پسندیدہ کلمے

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ :كَلِمَتَانِ خَفِيفَتَانِ عَلَى اللِّسَانِ، ثَقِيلَتَانِ فِي الْمِيزَانِ، حَبِيبَتَانِ إِلَى الرَّحْمَنِ : سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ، سُبْحَانَ اللَّهِ الْعَظِيمِ۔ متفق عليه .

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہےکہ رسول اللہ !ﷺ نےفرمایا : ’’دوکلمے ایسے ہیں جو زبان پر ہلکے ہیں، میزان میں بھاری ہیں، رحمان کو محبوب ہیں:سبحان اللہ وبحمدہ، سبحان اللہ العظیم۔متفق علیہ
نبی کریم !ﷺ ہمیں بکثرت ذکر کرنے پر ابھارا ہے اور اس کی اہمیت وفضیلت کوبیان کیا ہے اور ہمارے لیے صبح وشام ،سونے اور جاگنے کے اذکار کو مشروع قراردیا ہے۔ بخاری شریف کی آخری حدیث ہے کہ دو کلمے ایسے ہیں جو زبان پر بہت ہلکے ہیں؛ لیکن ثواب کے اعتبار سے بہت وزنی ہیں اور اللہ کے نزدیک بہت پسندیدہ ہیں، وہ دو کلمے یہ ہیں: ”سبحان اللّٰہ وبحمدہ سبحان اللّٰہ العظیم “ ۔
بعض اذکار عام ہیں، جنھیں کسی وقت کی تعیین اور تعداد کی تحدیدکیے بغیر ہر وقت پڑھنا مسلمان کے لیے مستحب ہے ۔ اُنہی عام اذکار میں سے چند یہ ہیں :

سبحان اللہ، الحمدللہ، لا الہ الا اللہ، اللہ اکبر، لا حول ولا قوۃ الا باللہ۔

اور انہی اذکار میں سے یہ دونوں عظیم کلمات )بھی( ہیں :
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (ایک صحابی کو فرمایا: کیا میں تجھے اللہ کی پسندیدہ کلام کی خبر نہ دوں؟ (وہ صحابی کہتے ہیں) میں نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم مجھے اللہ کی پسندیدہ کلام کی خبر دیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا: بے شک اللہ کے ہاں سب سے پسندیدہ کلام سبحان اللہ وبحمدہ ہے۔
’’سبحان اللہ وبحمدہ، سبحان اللہ العظیم‘‘اور نبی کریم ﷺ نےہمیں یہ بتلایا ہے کہ یہ دونوں )اذکار( تین خوبیوں سے ممتاز ہیں : یہ دونوں) کلمے( زبان پر ہلکے ہیں، اس لیے انسان بہت آسانی بغیر کسی مشقت کے ان کو دہراسکتاہے
یہ دونوں ) کلمے میزان میں بھاری ہیں، اس کامطلب یہ ہے کہ : جوشخص ان دونوں کلمات کو کہے ، اس کے لیے ایسا عظیم اجر ہے کہ جس کے ذریعہ اللہ تعالیٰ اس کی نیکیوں کے ترازو کو بھر دے ۔یہ دونوں) کلمے( رحمان کے نزدیک محبوب ہیں۔
لفظ خفیفتان میں اس بات کا اشارہ ہے کہ ان کلمات کے الفاظ اور حروف خفیف اور خوش نما ہیں اور خفت سہولت پر دلالت کرتی ہے۔ زبان پر جاری ہونے کی سہولت کا مطلب یہ ہے کہ یہ کلمات اپنے حامل (ان کا ذکر کرنے والے) کو ثقیل چیز کی طرح تھکاتے نہیں نیز یہ بھی اشارہ ہے کہ نفس پر تمام ذمہ داریاں شاق اور ثقیل ہیں لیکن یہ کلمات آسان ہیں، اس لیے قیامت کے دن ترازو میں بہت وزنی ہوں گے۔ یعنی اللہ تبار ک وتعالیٰ انھیں پسند فرماتا ہے اور یہ اس بات کی دلیل ہے کہ یہ دونوں کلمات نہایت ہی اہمیت اور عظمت کے حامل ہیں۔
رسول اللہ ﷺ نے اس حدیث میں اس بات کی خبر دی ہے کہ ہمارے رب رحمٰن تبارک و تعالیٰ کو دو کلمے بڑے پسند ہیں کہ جن کے حروف بہت کم ہیں لیکن میزان میں بڑے وزنی ہیں اور وہ ”سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ، سُبْحَانَ اللَّهِ الْعَظِيمِ“ ہیں۔ کیوں کہ یہ کلمات اللہ تعالیٰ کی تسبیح، اور نقائص سے اس کی پاکی اور ایسی چیز سے مُنزّہ اور مبرّا ہونے کامطلب ہے: اے اللہ! میں تجھے ہر قسم کی برائی اور تمام نقائص سے پاک جانتا، مانتا ہوں۔جو اللہ تبارک وتعالیٰ کی جلالتِ شان کے شایانِ شان نہیں۔ اور اس پاکیزگی کی تاکید عظمت کے وصف کے ذریعہ کی گئی ہے۔
قرآن و حدیث میں اللہ تعالیٰ کی حمد اور پاکی بیان کرنے کا بار بار حکم دیا گیا ہے ، لہٰذا مذکورہ کلمہ ’’سُبْحَانَ اللّٰهِ وَ بِحَمْدِہٖ سُبْحَانَ اللّٰهِ الْعَظِیْمِ ‘‘ چوں کہ اللہ تعالیٰ کی حمد اور پاکی بیان کرنے پر مشتمل ہے؛ اس لیے اس کے پڑھنے سے قرآن و حدیث کے ان تمام اوامر کی بجا آوری لازم آنے کے ساتھ ساتھ ان کلمات کا کہنے والا ان تمام فضائل کا مستحق بھی بنتا ہے جو عمومی طور سے اللہ تعالیٰ کی پاکی اور حمد بیان کرنے (یعنی سبحان اللہ اور الحمد للہ کہنے) کے بارے میں وارد ہوئے ہیں،
لہٰذا انِہی تمام خوبیوں اور خصویتوںں کی وجہ سےہم کو ان دونوں عظیم کلمات کااور ان کے علاوہ دیگر مطلق اذکار کا اہتمام کرنا چاہیے، ہمیں اس کا حریص ہونا چاہیےنیز ہروقت اور ہر حال میں کثرت سے ان کاورد کرتے رہنا چاہیے تاکہ ہم بزرگ وبرتر اورمہربان رب سے عظیم ثواب پاسکیں۔