بڑائی کی حرمت اور سنگینی

بڑائی کی حرمت اور سنگینی

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ ذَرَّةٍ مِنْ كِبْرٍ(رواه مسلم .)

سیدناعبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی الله عليہ وسلم نے فرمایا: ’’وہ شخص جنت میں نہیں جائے جس کے دل میں ذرہ برابر تکبر پایاجائے ۔‘‘ اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔
یہ حدیث سننے کے بعدایک صحابی رضی اللہ عنہ نےعرض کیا کہ آدمی اس کو پسند کرتا ہے کہ اسکا کپڑا اچھا ہو، اس کاجوتا اچھا ہو(تو کیایہ بھی تکبر ہے) تو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ جمال والا ہے اور وہ جمال والے کو پسند فرماتا ہے۔ (یہ تکبر نہیں ہے) بلکہ تکبر یہ ہےکہ آدمی حق سے سرکشی کرے اور دوسرے لوگوں کو ذلیل سمجھے۔(صحیح مسلم،کتاب الایمان،باب تحریم الکبر وبیانہ، الحدیث:۹۱،ص۶۰)
دینِ اسلام بہتر اخلاق اور عمدہ خصائل والا دین ہے، اسی لیے دینِ اسلام نے تواضع اور نرم گوشہ اپنانے کا حکم دیا ہے اور غرور و گھمنڈ اور برتری اختیار کرنے سے منع فرمایا ہے۔
اس حدیث میں نبی ﷺ ان متکبرین کا طرز عمل اپنانے سے روکا ہے، جولوگوں کو حقیر سمجھتے ہیں اور ان پر برتری جتلاتے ہیں، کیوں کہ تکبر کرنے والے لوگ جنت میں نہیں داخل ہوں گے۔ہم اللہ سے سلامتی اور عافیت چاہتےہیں۔
نبی ﷺ کا فرمان ہے

لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ ذَرَّةٍ مِنْ كِبْرٍ(رواه مسلم .

اس کا مطلب یہ ہے کہ تکبر ایک نہایت خطرناک معاملہ ہے ا گرچہ یہ تھوڑا ہی کیوں نہ ہو، بلکہ ایک معمولی ذرہ ہی ہو، یعنی وہ بہت تھوڑی سی مقدار ہی میں کیوں نہ ہو۔
ایک حدیث میں نبی ﷺ نے تکبر کا معنی بتلایا ہےفرمایا :

الْکِبْرُ بَطَرُالْحَقِّ، وَغَمْطُ النَّاسِ

’تکبر حق کو ٹھکرانے ،اور لوگوں کو حقیر سمجھنے کا نام ہے۔‘‘

بَطَرُ الْحَق

کا مطلب ہے حق کو رد کر دینا

غَمْطُ النَّاسِ

کا مطلب ہےلوگوں کو حقیر جاننا۔
تکبر کہتے ہیں: اپنے کو بڑا سمجھنا اور دوسروں کو حقیر جاننا ، اور تواضع کہتے ہیں: اللہ کے واسطے اپنے کو دوسروں سے معمولی سمجھنا۔ تکبر نہایت مذموم اور بری صفت ہے ، احادیث میں تکبر پر سخت وعیدیں اور مذمتیں وارد ہوئی ہیں، ایک حدیث میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو تکبر کرتا ہے، وہ لوگوں کی نظروں میں ذلیل ومعمولی ہوتا ہے اگرچہ وہ اپنی نظر میں بڑا ہو؛ بلکہ ایسا شخص لوگوں کی نظروں میں کتا یا خنزیر بھی سے زیادہ ذلیل اور معمولی ہوجاتا ہے (مشکوة شریف، ص: ۴۳۴، مطبوعہ: مکتبہ اشرفیہ دیوبند، بہ حوالہ: شعب الایمان للبیہقی)
اور تواضع ایک اچھی صفت ہے ، احادیث میں اس کی تعریف کی گئی ہے، چناں چہ ایک حدیث میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اللہ کے لیے تواضع اختیار کرتا ہے، اللہ تعالی اسے سربلند فرماتے ہیں اور وہ اپنی نظر میں اگرچہ چھوٹا ہوتا ہے؛ لیکن لوگوں کی نظروں میں قابل اعظمت واحترام ہوتا ہے (مشکوة شریف، ص: ۴۳۴، بہ حوالہ: شعب الایمان للبیہقی) ۔
پس جب ہم نے یہ جان لیا کہ بے شک تکبرایک بڑا گناہ اور گھٹیا خصلت ہےتوہمارے لیے ضروری ہے کہ اس سے دوری اختیار کریں اور ایسےپاکیزہ اعمال بجالائیںجوہمیں تکبر سے دور رکھیں۔ فقیروں، ضعیفوں اور نوکروں وغیرہ سے محبت کریں، ان سے لطف ومہربان سے پیش آئیں، ان کا خاص خیال رکھیں، اور ان کے لیےنرم پہلو اپنائیں، کیوں کہ یہ باتیں دل کو پاک وصاف رکھتی ہیں اور نفس کو غرور و برتری اور تکبر وغیرہ سےبَری کرتی ہیں۔
اور آدمی اپنی حیثیت سامنے رکھ کر اللہ تعالی کی بڑائی اور کبریائی کا تصور کرے ، اس سے إن شاء اللہ تکبر ختم ہوگا اور تواضع وانکساری پیداہوگی۔ اور ایک علاج یہ بھی ہے کہ آدمی یہ سوچے کہ اصل اعتبار خاتمہ کا ہے، معلوم نہیں کہ اس خاتمہ کس حال پر ہوگا؟
اور تواضع حاصل کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ آدمی آخرت کو ہر وقت مد نظر رکھنے کی کوشش کرے اور اپنے خاتمہ کے سلسلہ میں فکر مند رہے۔ اور مزید تفصیل کےلئے“ اور حضرت حکیم اختر صاحب رحمہ اللہ کی کتاب ”روح کی بیماریاں اور ان کا علاج“ کا مطالعہ کیا جائے۔