کیا یہ عالمی تہذیب عالمی ہے؟

خود کو ہندوتو وادی بتانے والے شدت پسندی کا مظاہرہ کرنے اور گالی گلوج کرنے میں لگے ہیں، کیا یہ تہذیب، عالمی بن سکتی ہے؟ کوئی ضروری سوال اٹھانے کو برداشت نہیں کر پاتے ہیں، یہ کمزوری کی علامت ہے، یہ بات سامنے آ رہی ہے کہ ممتا بنرجی کی قیادت میں بنگال، بیسٹ بنگال بن چکا ہے، ان کی قیادت میں ایک نئے بنگال کی تعمیر ہو رہی ہے اور بزنس کے معاملے میں ملک بھر میں بنگال کو پہلا مقام حاصل ہو رہا ہے، یہ کوئی اور نہیں ریلائنس کے مکیش امبانی کہہ رہے ہیں، یہ کتنی بڑی خبر ہے، جب سب کچھ ہندوتو وادی کر رہے ہیں تو بنگال کیسے پہلا مقام حاصل کر رہا ہے؟  سوال یہ ہے کہ بھارت کی ترقی اور نیک نامی کے لیے ہندوتو وادی کیا کچھ کررہے ہیں؟ صرف 2024 تک ہندو راشٹر کے قیام کی بات کرنے سے ملک آگے بڑھ سکتا ہے؟ اس بحث کو لے کر میں کل نیوز نیشن پر تھا، آج کی تاریخ میں بڑا مسئلہ ،ملک کی بہتر شبیہ کا ہے، اس کے لیے کون کیا کر رہا ہے یہ دیکھنے کی بات ہے، 17/1/2018
Abdul Hameed Noumani
………………………….
ہندو دھرم کے رکشک شمبھولال کے،
اپنی ہی مذہبی بہن سے جنسی تعلقات تهے
راجسمند (15جنوری 2018)
شمبھو لال ریگر وہ شخص ہے جس نے بیتے دنوں ایک مسلمان شخص کا قتل کرکے اس کا ویڈیو بناکر سوشل میڈیا پر بڑے فخر سے پوسٹ کردیا تھا. ویڈیو میں شمبھو نے کہا تھا کہ وہ اپنی ایک ہندو بہن کو لو جہاد سے بچانا چاہتا ہے اور اس طرح مسلہ لو جہاد  کا ہوگیا تھا۔
مگر پولیس کی جانچ میں سامنے آیا ہے کی شمبھو نےجن ہندو بہنوں کو مسلمانوں سے بچانے کے لیے افرازل کا قتل کیا تھا اسی ہندو بہن سے اسکا افیر (ناجائز تعلقات) تھا
شمبھو نے راجسمند کی رہنے والی ایک لڑکی انیتا (بدلا ہوا نام) سے ناجائز تعلقات تھے، اس بات کی جانکاری افرازل کو بھی تھی۔ افرازل کے گھر میں دو لڑکے کام کرتے تھے عججو شیخ اور بللو شیخ افرازل سمیت دونوں لڑکوں کو سمبھو کے ناجائز تعلقات کے بارے میں جانکاری تھی۔
عججو اور بللو کا انیتا کے گھر آنا جانا بھی تھا۔ یہ آنا جانا شمبھو کو بہت کھٹکتا تھا، یہ بھی جان لیجئیے کہ شمبھو شادی شدہ تھا. پولس کی اور سے کورٹ میں پیش کی گئی 413 پنوں کی چارج شیٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ شمبھو پچھم بنگال سے آئے ان مزدوروں کو بھگانا چاہتا تھا، تاکہ اپنے افیئر پر پردہ ڈال سکے،ناکہ اس لیئے کی وہ اپنی ہندو بہنوں کو مسلمانوں کے پیار میں پڑنے سے بچاسکے.
حالانکہ جس طرح سے افرازل کا قتل ہوا ویڈیو بناکر وائرل کیا گیا، اور مسلمانوں کے خلاف نازیبا الفاظ کا استعمال کیا گیا، وہ خالص اسکی ذاتی خننس تھی۔افرازل کا قتل کرنے سے ایک سال پہلے سے شمبھو لال نے بھگوا آتنک وادیوں کے ویڈیو دیکھنا شروع کردیا تھا، لوجہاد ، دفعہ 370،کشمیر میں آتنک واد، مسلمانوں کی بڑھتی آبادی،رام مندر،پدماوتی، پی کے کے بارے میں اس نے کافی جانکاری انہیں ویڈیو کے ذریعے اکٹھا کی تھی۔ پولس نے شمبھو لال کے نابالغ بھانجے اور انیتا کو اصلی گواہ بنایا ہے۔
چارج شیٹ کے مطابق قتل کا لائیو ویڈیو کے ساتھ ہی شمبھو نے واردات سے پہلے اور بعد میں بھانجے سے آٹھ ویڈیو بنوایا تھا۔ ان میں جس لڑکی کا ذکر کیا جاتا تھا، وہ اسی انیتا ہی ہے۔ چارج شیٹ میں پولس نے بتایا کہ انیتا کے بیانوں کے مطابق افرازل، بللو شیخ، و عججو شیخ اس کے گھر آتے تھے. 2010 میں ببلو شیخ کے ساتھ سیدپور چلی گئی قریب 17 دن بعد انیتا کی ماں اور ماموں مالدہ پولیس کے ساتھ سیدپور گئے اور اسے راجسمند لے آئے۔لیکن بللو عججو اور افرازل کا اس کے گھر پر آنا جانا لگارہا۔ 2012 و 13 میں عججو کےساتھ انیتا واپس سیدپور چلی گئی ایک دن بلو کے موبائل سے اس نے شمبھو کے موبائل پر بات کرکے واپس راجسمند واپس آنے کی بات کہی۔اس پر شمبھولال سید پور گیا بللو کے گھر پر نا ہونے سے شمبھو رات بھر وہیں رکا، بعد میں بللو اور عججو سے فون پر اس کا جھگڑا ہوگیا. انیتا نے شمبھو کو واپس لوٹ جانے کو کہا۔
قریب پندرہ دن بعد بازار جانے کے بہانے انیتا سیدپور سے ٹرین میں بیٹھ کر راجسمند آگئی۔ شمبھو لال جس نے راج سمند میں افراز ال کو لوجہاد کے نام پر قتل کیا تھا، شمبھو لال نے انیتا کو لون دلانے کے بہانے ایک بینک منیجر کے گھر لے گیا تھا جہاں پارٹی ہو رہی تھی۔ شمبھو لال نے وہاں جاکر لڑکی سے کہا تھا کہ بینک منیجر کو خوش کردے تیرا لون پاس ہو جائے گا، شمبھو لال ریگر اس کے گھر آتا جاتا تھا اس کے اور شمبھو لال کے پیچ جسمانی رشتہ تھا۔ انیتا ان سبھی باتوں کو بھول کر نئی زندگی شروع کرنا چاہ رہی ہے لیکن پولیس اور میڈیا کے رویے سے پریشان انیتہ کو کوئی راستہ نظر نہیں آرہا ہے. ماں سے الگ رہ کر کرائے کے گھر میں پڑھائی کر رہی انیتا کی عمر صرف بیس سال ہے۔ ایسے میں‏‏ آپ خود اندازہ لگائیے کہ انیتا کے آگے کی زندگی کتنی کٹھن رہنے والی ہے۔

ہندو دھرم کے رکشک شمبھولال کا اپنی ہی بہن سے تھا افیئر(جسمانی تعلقات)۔


…….
thelallutopnews
……….
ہندو تنظیمیں کس قدر منظم اور فعال ہیں اس کا اندازہ انڈین اکسپریس کی اس خبر سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے۔ خبر چھوٹی ہے لیکن اسکی اہمیت دیکھتے ہوئے اس انگریزی اخبار نے اسے فرنٹ پیج پہ جگہ دی ہے۔ امت مسلمہ کے لئے مقام عبرت ہے کہ آج اس موڈرن انڈیا میں جہاں ایک گروہ قاتل سے نفرت دکھاتے ہوئے اسکی مذمت کر رہا ہے وہیں دوسری طرف اسی بھارت کا ایک بڑا طبقہ نہ صرف اسکی سراہنا کررہا ہے بلکہ اسکو ہر طرح کا سپورٹ بھی دے رہا ہے۔ در اصل کچھ لوگوں کی روداد مذمت ہماری آنکھوں میں دھول جھونکنے کے مترادف ہے کیونکہ یہ خبر بتا رہی ہے کہ ہندوستان کا کوئی صوبہ ایسا نہیں ہے جہاں سے شمبھولال ہتیارے کے لئے مالی امداد نہ آئی ہو۔ راجسمند سے متصل اودی پور میں آج ہندو تنظیموں نے ایک ریلی کا بھی پلان کیا ہے اور حکومت نے از راہ تمسخر وہاں دفعہ 144 لگادی ہے اور عارضی طور پر انٹرنیٹ سروس کو معطل کردیا ہے۔ اس خبر میں صرف ایک دھواں دکھایا گیا ہے اور اسکے پیچھے دہکتے اور بھڑکتے ہوئے شعلوں کو ہمیں خود محسوس کرنا ہے۔ علی سردار جعفری نے بے حسی پہ کیا خوب کہا ہے ذرا غور سے پڑھیں شاید کہ اتر جائے ترے دل میں میری بات، اس نظم کے چند اشعار یوں ہیں:
یہ دامان و گریباں اب سلامت رہ نہیں سکتے
ابھی تک کچھ نہیں بگڑا ہے دیوانوں میں آجاؤ
یہ کب تک سرد لاشیں بے حسی کے برف خانوں میں
چراغ درد سے روشن شبستانوں میں آ جاؤ
کبھی شبنم کا قطرہ بن کے چمکو لالہ و گل پر
کبھی دریاؤں کی صورت بیابانوں میں آ جاؤ
زمانہ کر رہا ہے اہتمام جشن بے داری
گریباں چاک کر کے شعلہ دامانوں میں آجاؤ
Rajasthan hacking: 516 people from across India donate Rs 3 lakh to Shambhulal Regar’s wife
http://indianexpress.com/article/india/rajasthan-hacking-516-people-from-across-india-donate-rs-3-lakh-to-shambhulal-regars-wife-4981610/